مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، الْقَاسِمَ بْنَ أَبِي بَزَّةَ ، أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَلِيٌّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ أَبِي بَزَّةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، قَالَ: سُئِلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَلْ خَصَّكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ؟ فَقَالَ: مَا خَصَّنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ لَمْ يَعُمَّ بِهِ النَّاسَ كَافَّةً، إِلَّا مَا كَانَ فِي قِرَابِ سَيْفِي هَذَا، قَالَ: فَأَخْرَجَ صَحِيفَةً مَكْتُوبٌ فِيهَا:" لَعَنَ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ سَرَقَ مَنَارَ الْأَرْضِ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ لَعَنَ وَالِدَهُ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ آوَى مُحْدِثًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوالطفیل کہتے ہیں کہ کسی نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ ہمیں کوئی ایسی بات بتائیے جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خصوصیت کے ساتھ آپ سے کی ہو؟ فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے ایسی کوئی خصوصی بات نہیں کی جو دوسرے لوگوں سے چھپائی ہو، البتہ میری اس تلوار کے نیام میں ایک چیز ہے، یہ کہہ کر انہوں نے اس میں سے ایک صحیفہ نکالا جس میں لکھا تھا کہ ”اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جو غیر اللہ کے نام پر کسی جانور کو ذبح کرے، اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جو کسی بدعتی کو ٹھکانہ دے، اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جو اپنے والدین پر لعنت کرے، اور اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جو زمین کے بیج چوری کرے۔“ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 954]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1978
الحكم: إسناده صحيح، م: 1978