سُفْيَانُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْحَارِثِ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَضَى مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّ الدَّيْنَ قَبْلَ الْوَصِيَّةِ، وَأَنْتُمْ تَقْرَءُونَ الْوَصِيَّةَ قَبْلَ الدَّيْنِ، وَأَنَّ أَعْيَانَ بَنِي الْأُمِّ يَتَوَارَثُونَ دُونَ بَنِي الْعَلَّاتِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا ہے کہ میت کے قرض کی ادائیگی اجراء نفاذ وصیت سے پہلے ہو گی جبکہ قرآن میں وصیت کا ذکر قرض سے پہلے ہے اور یہ کہ اخیافی بھائی تو وارث ہوں گے لیکن علاتی بھائی وارث نہ ہوں گے۔ (فائدہ: ماں شریک بھائی کو اخیافی اور باپ شریک بھائی کو علاتی کہتے ہیں۔) [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 595]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، لضعف الحارث وهو الأعور
الحكم: إسناده ضعيف، لضعف الحارث وهو الأعور