يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، سُفْيَانُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، أَبِي الْخَلِيلِ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا يَسْتَغْفِرُ لِأَبَوَيْهِ وَهُمَا مُشْرِكَانِ، فَقُلْتُ: أَيَسْتَغْفِرُ الرَّجُلُ لِأَبَوَيْهِ وَهُمَا مُشْرِكَانِ؟ فَقَالَ: أَوَلَمْ يَسْتَغْفِرْ إِبْرَاهِيمُ لِأَبِيهِ؟ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَزَلَتْ:" مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ إِلَى قَوْلِهِ تَبَرَّأَ مِنْهُ سورة التوبة آية 113 - 114"، قَالَ:" لَمَّا مَاتَ"، فَلَا أَدْرِي قَالَهُ سُفْيَانُ، أَوْ قَالَهُ إِسْرَائِيلُ، أَوْ هُوَ فِي الْحَدِيثِ:" لَمَّا مَاتَ"؟.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک آدمی کو اپنے مشرک والدین کے لئے دعا مغفرت کرتے ہوئے سنا تو میں نے کہا کہ کیا کوئی شخص اپنے مشرک والدین کے لئے بھی دعا مغفرت کر سکتا ہے؟ اس نے کہا کہ کیا حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے والد کے لئے دعا مغفرت نہیں کرتے تھے؟ میں نے یہ بات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ذکر کی تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی: « ﴿مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ﴾ [التوبة: 113] » ”پیغمبر اور اہلِ ایمان کے لئے مناسب نہیں ہے کہ وہ مشرکین کے لئے دعا مغفرت کریں۔“ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 771]
الحكم: إسناده حسن