أَبُو سَعِيدٍ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْحَارِثِ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لِلْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ مِنَ الْمَعْرُوفِ سِتٌّ: يُسَلِّمُ عَلَيْهِ إِذَا لَقِيَهُ، وَيُشَمِّتُهُ إِذَا عَطَسَ، وَيَعُودُهُ إِذَا مَرِضَ، وَيُجِيبُهُ إِذَا دَعَاهُ، وَيَشْهَدُهُ إِذَا تُوُفِّيَ، وَيُحِبُّ لَهُ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ، وَيَنْصَحُ لَهُ بِالْغَيْبِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چھ حقوق ہیں، جب ملاقات ہو تو سلام کرے، جب چھینکے تو جواب دے، جب بیمار ہو تو عیادت کرے، جب دعوت دے تو قبول کرے، جب فوت ہو جائے تو جنازے میں شرکت کرے اپنے لئے جو پسند کرتا ہے اس کے لئے بھی وہی پسند کرے اور اس کی غیر موجودگی میں اس کا خیر خواہ رہے۔“ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 673]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف الحارث الأعور
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف الحارث الأعور