بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 681
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 681
مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، زَائِدَةُ ، عَاصِمٍ ، زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، قَالَ: اسْتَأْذَنَ ابْنُ جُرْمُوزٍ عَلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَأَنَا عِنْدَهُ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: بَشِّرْ قَاتِلَ ابْنِ صَفِيَّةَ بِالنَّارِ، ثُمَّ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا، وَحَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ"، قال عبد الله: قال أبي: سَمِعْت سُفْيَانَ يَقُولُ: الْحَوَارِيُّ: النَّاصِرُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
زر بن حبیش کہتے ہیں کہ ابن جرموز نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت مانگی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کون ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ ابن جرموز اندر آنا چاہتا ہے؟ فرمایا: اسے اندر آنے دو، زبیر کا قاتل جہنم میں ہی داخل ہو گا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہر نبی کا ایک خاص حواری ہوتا ہے اور میرا حواری زبیر ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 681]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده حسن، وانظر ما قبله
← پچھلی حدیث (680) باب پر واپس اگلی حدیث (682) →