ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَبْدُ الْمَلِكِ ، أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ الْكِنْدِيِّ ، زَاذَانَ أَبِي عُمَرَ ، عَلِيًّا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ الْكِنْدِيِّ ، عَنْ زَاذَانَ أَبِي عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا فِي الرَّحْبَةِ وَهُوَ يَنْشُدُ النَّاسَ: مَنْ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ، وَهُوَ يَقُولُ مَا قَالَ؟ فَقَامَ ثَلَاثَةَ عَشَرَ رَجُلًا، فَشَهِدُوا أَنَّهُمْ سَمِعُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ:" مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
زاذان کہتے ہیں کہ میں نے صحن مسجد میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو لوگوں کو اللہ کی قسم دے کر یہ پوچھتے ہوئے سنا کہ غدیر خم کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں کون حاضر تھا اور کس نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا فرمان سنا تھا؟ اس پر تیرہ آدمی کھڑے ہو گئے اور ان سب نے گواہی دی کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس کا میں مولیٰ ہوں علی بھی اس کے مولیٰ ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 641]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، ومتنه متواتر، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى عبدالرحيم الكندي
الحكم: صحيح لغيره، ومتنه متواتر، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى عبدالرحيم الكندي