بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 970
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 970
ابْنُ الْأَشْجَعِيِّ ، أَبِي ، سُفْيَانَ ، السُّدِّيِّ ، عَبْدِ خَيْرٍ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ الْأَشْجَعِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ السُّدِّيِّ ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّهُ دَعَا بِكُوزٍ مِنْ مَاءٍ، ثُمَّ قَالَ: أَيْنَ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ يَكْرَهُونَ الشُّرْبَ قَائِمًا؟ قَالَ: فَأَخَذَهُ" فَشَرِبَ وَهُوَ قَائِمٌ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءًا خَفِيفًا، وَمَسَحَ عَلَى نَعْلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا وُضُوءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلطَّاهِرِ مَا لَمْ يُحْدِثْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدخیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے وضو کرنے کے لئے پانی منگوایا اور فرمایا: کہاں ہیں وہ لوگ جو یہ سمجھتے ہیں کہ کسی صورت میں بھی کھڑے ہو کر پانی پینا جائز نہیں ہے؟ پھر انہوں نے وہ برتن لے کر کھڑے کھڑے اس کا پانی پی لیا، پھر ہلکا سا وضو کیا، جوتوں پر مسح کیا اور فرمایا: اس طاہر آدمی کا جو بےوضو نہ ہو، یہی وضو ہے جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسی طرح کرتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 970]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
← پچھلی حدیث (969) باب پر واپس اگلی حدیث (971) →