بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 964
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 964
أَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ الْوَكِيعِيُّ ، زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، الْوَلِيدُ بْنُ عُقْبَةَ بْنِ نِزَارٍ الْعَنْسِيُّ ، سِمَاكُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ الْوَلِيدِ الْعَبْسِيُّ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَلِيًّا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ الْوَكِيعِيُّ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عُقْبَةَ بْنِ نِزَارٍ الْعَنْسِيُّ ، حَدَّثَنِي سِمَاكُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ الْوَلِيدِ الْعَبْسِيُّ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى فَحَدَّثَنِي أَنَّهُ شَهِدَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي الرَّحَبَةِ قَالَ: أَنْشُدُ اللَّهَ رَجُلًا سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَشَهِدَهُ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ إِلَّا قَامَ، وَلَا يَقُومُ إِلَّا مَنْ قَدْ رَآهُ، فَقَامَ اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا، فَقَالُوا: قَدْ رَأَيْنَاهُ وَسَمِعْنَاهُ حَيْثُ أَخَذَ بِيَدِهِ يَقُولُ:" اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ، وَانْصُرْ مَنْ نَصَرَهُ، وَاخْذُلْ مَنْ خَذَلَهُ"، فَقَامَ إِلَّا ثَلَاثَةٌ لَمْ يَقُومُوا، فَدَعَا عَلَيْهِمْ، فَأَصَابَتْهُمْ دَعْوَتُهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے صحن کوفہ میں لوگوں کو قسم دے کر فرمایا: جس نے غدیر خم کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے میرے حوالے سے کوئی ارشاد سنا ہو تو وہ کھڑا ہو جائے، اور وہی کھڑا ہو جس نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا ہو، اس پر بارہ آدمی کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے کہ ہم نے خود دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا، اور ہم نے انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا: اے اللہ! جو علی سے دوستی کرے تو اس سے دوستی فرما، اور جو اس سے دشمنی کرے تو اس سے دشمنی فرما، جو علی کی مدد کرے تو اس کی مدد فرما، اور جو اسے تنہا چھوڑے تو اسے تنہا فرما۔ اس موقع پر تین آدمی ایسے بھی تھے جو کھڑے نہیں ہوئے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے انہیں بد دعا دی اور وہ اس کا شکار ہو گئے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 964]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، دون قوله: وانصر من نصره واخذل من خذله وهذا إسناد ضعيف لجهالة الوليد بن عتبة وسماك بن عبيد
الحكم: حسن لغيره، دون قوله: وانصر من نصره واخذل من خذله وهذا إسناد ضعيف لجهالة الوليد بن عتبة وسماك بن عبيد
← پچھلی حدیث (963) باب پر واپس اگلی حدیث (965) →