بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
العنكبوت
سورۃ العنكبوت — 69 آیات — صفحہ 1 از 2
قرآن کریم Surah 29
الٓـمّٓ ۚ﴿۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
الف ل م
مولانا محمد جوناگڑھی
الم
احمد رضا خان بریلوی
الم
علامہ محمد حسین نجفی
الف۔ لام۔ میم۔
عبدالسلام بن محمد
الم۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
امتحان اور مومن ٭٭

حروف مقطعہ کی بحث سورۃ البقرہ کی تفسیر کے شروع میں گزر چکی ہے۔ پھر فرماتا ہے: یہ ناممکن ہے کہ مومنوں کو بھی امتحان سے چھوڑ دیا جائے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ { سب سے زیادہ سخت امتحان نبیوں کا ہوتا ہے، پھر صالح نیک لوگوں کا، پھر ان سے کم درجے والے، پھر ان سے کم درجے والے۔ انسان کا امتحان اس کے دین کے اندازے پر ہوتا ہے اگر وہ اپنے دین میں سخت ہے تو مصیبتیں بھی سخت نازل ہوتی ہیں۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:2398،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ اسی مضمون کا بیان اس آیت میں بھی ہے «أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّـهُ الَّذِينَ جَاهَدُوا مِنكُمْ وَيَعْلَمَ الصَّابِرِ‌ينَ» ۱؎ [3-آل عمران:142] ‏‏‏‏ یعنی ’ کیا تم نے یہ گمان کر لیا ہے کہ تم چھوڑ دئیے جاؤ گے؟ حالانکہ ابھی اللہ تعالیٰ نے یہ ظاہر نہیں کیا کہ تم میں سے مجاہد کون ہے؟ ‘ اسی طرح سورۃ برات اور سورۃ بقرہ میں بھی گزر چکا ہے کہ ’ کیا تم نے یہ سوچ رکھا ہے کہ تم جنت میں یونہی چلے جاؤ گے؟ اور اگلے لوگوں جیسے سخت امتحان کے موقعے تم پر نہ آئیں گے۔ جیسے کہ انہیں بھوک، دکھ، درد وغیرہ پہنچے۔ یہاں تک کہ رسول اور ان کے ساتھ کے ایماندار بول اٹھے کہ اللہ کی مدد کہاں ہے؟ یقین مانو کہ اللہ کی مدد قریب ہے۔ ‘ ۱؎ [2-البقرة:214] ‏‏‏‏ یہاں بھی فرمایا: ان سے اگلے مسلمانوں کی بھی جانچ پڑتال کی گئی، انہیں بھی سرد و گرم چکھایا گیا تاکہ جو اپنے دعوے میں سچے ہیں اور جو صرف زبانی دعوے کرتے ہیں، ان میں تمیز ہو جائے۔ اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ اللہ اسے جانتا نہ تھا وہ ہر ہو چکی بات کو اور ہونے والی بات کو برابر جانتا ہے۔ اس پر اہل سنت والجماعت کے تمام اماموں کا اجماع ہے۔ پس یہاں علم روایت یعنی دیکھنے کے معنی میں ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما «لِنَعْلَمَ» کے معنی «لِنَرَى» کرتے ہیں کیونکہ دیکھنے کا تعلق موجود چیزوں سے ہوتا ہے اور علم اس سے عام ہے۔ پھر فرمایا ہے جو ایمان نہیں لائے وہ بھی یہ گمان نہ کریں کہ امتحان سے بچ جائیں گے بڑے بڑے عذاب اور سخت سزائیں ان کی تاک میں ہیں۔ یہ ہاتھ سے نکل نہیں سکتے۔ ہم سے آگے بڑھ نہیں سکتے۔ ان کے یہ گمان نہایت برے ہیں جن کا برا نتیجہ یہ عنقریب دیکھ لیں گے۔
تفسیر احسن البیان
{سورة العنكبوت} (آیت 1) { الٓمّٓ:} حروف مقطعات کی بحث سورۂ بقرہ کے شروع میں گزر چکی ہے۔
اَحَسِبَ النَّاسُ اَنۡ یُّتۡرَکُوۡۤا اَنۡ یَّقُوۡلُوۡۤا اٰمَنَّا وَ ہُمۡ لَا یُفۡتَنُوۡنَ ﴿۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ بس اتنا کہنے پر چھوڑ دیے جائیں گے کہ "ہم ایمان لائے " اور ان کو آزمایا نہ جائے گا؟
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ ان کے صرف اس دعوے پر کہ ہم ایمان ﻻئے ہیں ہم انہیں بغیر آزمائے ہوئے ہی چھوڑ دیں گے؟
احمد رضا خان بریلوی
کیا لوگ اس گھمنڈ میں ہیں کہ اتنی بات پر چھوڑ دیے جائیں گے کہ کہیں ہم ایمان لائے، اور ان کی آزمائش نہ ہوگی
علامہ محمد حسین نجفی
کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ ان کے (زبانی) کہنے سے کہ ہم ایمان لے آئے ہیں چھوڑ دیئے جائیں گے اور ان کی آزمائش نہیں کی جائیگی؟
عبدالسلام بن محمد
کیا لوگوں نے گمان کیا ہے کہ وہ اسی پر چھوڑ دیے جائیں گے کہ کہہ دیں ہم ایمان لائے اور ان کی آزمائش نہ کی جائے گی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
امتحان اور مومن ٭٭

حروف مقطعہ کی بحث سورۃ البقرہ کی تفسیر کے شروع میں گزر چکی ہے۔ پھر فرماتا ہے: یہ ناممکن ہے کہ مومنوں کو بھی امتحان سے چھوڑ دیا جائے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ { سب سے زیادہ سخت امتحان نبیوں کا ہوتا ہے، پھر صالح نیک لوگوں کا، پھر ان سے کم درجے والے، پھر ان سے کم درجے والے۔ انسان کا امتحان اس کے دین کے اندازے پر ہوتا ہے اگر وہ اپنے دین میں سخت ہے تو مصیبتیں بھی سخت نازل ہوتی ہیں۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:2398،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ اسی مضمون کا بیان اس آیت میں بھی ہے «أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّـهُ الَّذِينَ جَاهَدُوا مِنكُمْ وَيَعْلَمَ الصَّابِرِ‌ينَ» ۱؎ [3-آل عمران:142] ‏‏‏‏ یعنی ’ کیا تم نے یہ گمان کر لیا ہے کہ تم چھوڑ دئیے جاؤ گے؟ حالانکہ ابھی اللہ تعالیٰ نے یہ ظاہر نہیں کیا کہ تم میں سے مجاہد کون ہے؟ ‘ اسی طرح سورۃ برات اور سورۃ بقرہ میں بھی گزر چکا ہے کہ ’ کیا تم نے یہ سوچ رکھا ہے کہ تم جنت میں یونہی چلے جاؤ گے؟ اور اگلے لوگوں جیسے سخت امتحان کے موقعے تم پر نہ آئیں گے۔ جیسے کہ انہیں بھوک، دکھ، درد وغیرہ پہنچے۔ یہاں تک کہ رسول اور ان کے ساتھ کے ایماندار بول اٹھے کہ اللہ کی مدد کہاں ہے؟ یقین مانو کہ اللہ کی مدد قریب ہے۔ ‘ ۱؎ [2-البقرة:214] ‏‏‏‏ یہاں بھی فرمایا: ان سے اگلے مسلمانوں کی بھی جانچ پڑتال کی گئی، انہیں بھی سرد و گرم چکھایا گیا تاکہ جو اپنے دعوے میں سچے ہیں اور جو صرف زبانی دعوے کرتے ہیں، ان میں تمیز ہو جائے۔ اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ اللہ اسے جانتا نہ تھا وہ ہر ہو چکی بات کو اور ہونے والی بات کو برابر جانتا ہے۔ اس پر اہل سنت والجماعت کے تمام اماموں کا اجماع ہے۔ پس یہاں علم روایت یعنی دیکھنے کے معنی میں ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما «لِنَعْلَمَ» کے معنی «لِنَرَى» کرتے ہیں کیونکہ دیکھنے کا تعلق موجود چیزوں سے ہوتا ہے اور علم اس سے عام ہے۔ پھر فرمایا ہے جو ایمان نہیں لائے وہ بھی یہ گمان نہ کریں کہ امتحان سے بچ جائیں گے بڑے بڑے عذاب اور سخت سزائیں ان کی تاک میں ہیں۔ یہ ہاتھ سے نکل نہیں سکتے۔ ہم سے آگے بڑھ نہیں سکتے۔ ان کے یہ گمان نہایت برے ہیں جن کا برا نتیجہ یہ عنقریب دیکھ لیں گے۔
2-1یعنی یہ گمان کہ صرف زبان سے ایمان لانے کے بعد، بغیر امتحان لئے، انھیں دیا جائے گا، صحیح نہیں۔ بلکہ انھیں جان و مال کی تکالیف اور دیگر آزمائشوں کے ذریعہ سے جانچا پرکھا جائے گا تاکہ کھرے کھوٹے کا اور مومن و منافق کا پتہ چل جائے۔
(آیت 2) { اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ يُّتْرَكُوْۤا اَنْ يَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا …:} ہجرت سے پہلے مکہ مکرمہ میں مسلمان بہت سخت حالات سے گزر رہے تھے، کفار نے ان کا جینا دوبھر کر رکھا تھا۔ انسانی فطرت کے مطابق مسلمان کبھی کبھار مصیبتوں کی تاب نہ لا کر گھبرا جاتے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے انھیں حوصلہ دینے کے لیے فرمایا: ”کیا لوگوں نے گمان کر رکھا ہے کہ وہ اسی پر چھوڑ دیے جائیں گے کہ کہہ دیں ہم ایمان لائے اور ان کی آزمائش نہیں کی جائے گی۔“ یہ استفہام انکار کے لیے ہے، یعنی ایسا نہیں ہو سکتا، بلکہ آزمائش ضرور ہو گی، تاکہ سچے کو جھوٹے سے اور مخلص کو منافق سے جدا کر دیا جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق آزمائش ایمان کے حساب سے ہوتی ہے، جتنا ایمان مضبوط ہو اتنی ہی آزمائش سخت ہوتی ہے۔ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے پوچھا: ”یا رسول اللہ! لوگوں میں سب سے سخت آزمائش کن کی ہوتی ہے؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ أَلْأَنْبِيَاءُ، ثُمَّ الصَّالِحُوْنَ، ثُمَّ الْأَمْثَلُ، فَالْأَمْثَلُ مِنَ النَّاسِ، يُبْتَلَی الرَّجُلُ عَلٰی حَسَبِ دِيْنِهِ، فَإِنْ كَانَ فِيْ دِيْنِهِ صَلاَبَةٌ زِيْدَ فِي بَلاَئِهِ، وَ إِنْ كَانَ فِيْ دِيْنِهِ رِقَّةٌ خُفِّفَ عَنْهُ، وَمَا يَزَالُ الْبَلَاءُ بِالْعَبْدِ حَتّٰی يَمْشِيَ عَلٰی ظَهْرِ الْأَرْضِ لَيْسَ عَلَيْهِ خَطِيْئَةٌ ] [مسند أحمد: 172/1، ح: ۱۴۸۵۔ ترمذي: ۲۳۹۸، و صححہ الألباني ] ”(آزمائش میں سب سے سخت) انبیاء ہوتے ہیں، پھر صالحین، پھر لوگوں میں سے جو افضل ہو، پھر جو اس کے بعد افضل ہو، آدمی کی آزمائش اس کے دین کے حساب سے ہوتی ہے، اگر اس کے دین میں مضبوطی ہو تو اس کی آزمائش میں اضافہ کر دیا جاتا ہے اور اگر اس کے دین میں نرمی ہو تو اس سے تخفیف کی جاتی ہے اور آدمی کی آزمائش جاری رہتی ہے، حتیٰ کہ وہ زمین پر اس حال میں چلتا پھرتا ہے کہ اس پر کوئی گناہ باقی نہیں ہوتا۔“ اس مضمون کی آیات کے لیے دیکھیے سورۂ آل عمران (۱۴۲ اور ۱۷۹)، بقرہ (۲۱۴)، توبہ (۱۶) اور سورۂ محمد(۳۱)۔
وَ لَقَدۡ فَتَنَّا الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ فَلَیَعۡلَمَنَّ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ صَدَقُوۡا وَ لَیَعۡلَمَنَّ الۡکٰذِبِیۡنَ ﴿۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
حالاں کہ ہم اُن سب لوگوں کی آزمائش کر چکے ہیں جو اِن سے پہلے گزرے ہیں اللہ کو تو ضرور یہ دیکھنا ہے کہ سچّے کون ہیں اور جھوٹے کون
مولانا محمد جوناگڑھی
ان سے اگلوں کو بھی ہم نے خوب جانچا۔ یقیناً اللہ تعالیٰ انہیں بھی جان لے گا جو سچ کہتے ہیں اور انہیں بھی معلوم کرلے گا جو جھوٹے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک ہم نے ان سے اگلوں کو جانچا تو ضرور اللہ سچوں کو دیکھے گا اور ضرور جھوٹوں کو دیکھے گا
علامہ محمد حسین نجفی
حالانکہ ہم نے ان (سب) کی آزمائش کی تھی جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں سو اللہ ضرور معلوم کرے گا ان کو جو (دعوائے ایمان میں) سچے ہیں اور ان کو بھی معلوم کرے گا جو جھوٹے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
حالانکہ بلاشبہ یقینا ہم نے ان لوگوں کی آزمائش کی جو ان سے پہلے تھے، سو اللہ ہر صورت ان لوگوں کو جان لے گا جنھوں نے سچ کہا اور ان لوگوں کو بھی ہر صورت جان لے گا جو جھوٹے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
امتحان اور مومن ٭٭

حروف مقطعہ کی بحث سورۃ البقرہ کی تفسیر کے شروع میں گزر چکی ہے۔ پھر فرماتا ہے: یہ ناممکن ہے کہ مومنوں کو بھی امتحان سے چھوڑ دیا جائے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ { سب سے زیادہ سخت امتحان نبیوں کا ہوتا ہے، پھر صالح نیک لوگوں کا، پھر ان سے کم درجے والے، پھر ان سے کم درجے والے۔ انسان کا امتحان اس کے دین کے اندازے پر ہوتا ہے اگر وہ اپنے دین میں سخت ہے تو مصیبتیں بھی سخت نازل ہوتی ہیں۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:2398،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ اسی مضمون کا بیان اس آیت میں بھی ہے «أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّـهُ الَّذِينَ جَاهَدُوا مِنكُمْ وَيَعْلَمَ الصَّابِرِ‌ينَ» ۱؎ [3-آل عمران:142] ‏‏‏‏ یعنی ’ کیا تم نے یہ گمان کر لیا ہے کہ تم چھوڑ دئیے جاؤ گے؟ حالانکہ ابھی اللہ تعالیٰ نے یہ ظاہر نہیں کیا کہ تم میں سے مجاہد کون ہے؟ ‘ اسی طرح سورۃ برات اور سورۃ بقرہ میں بھی گزر چکا ہے کہ ’ کیا تم نے یہ سوچ رکھا ہے کہ تم جنت میں یونہی چلے جاؤ گے؟ اور اگلے لوگوں جیسے سخت امتحان کے موقعے تم پر نہ آئیں گے۔ جیسے کہ انہیں بھوک، دکھ، درد وغیرہ پہنچے۔ یہاں تک کہ رسول اور ان کے ساتھ کے ایماندار بول اٹھے کہ اللہ کی مدد کہاں ہے؟ یقین مانو کہ اللہ کی مدد قریب ہے۔ ‘ ۱؎ [2-البقرة:214] ‏‏‏‏ یہاں بھی فرمایا: ان سے اگلے مسلمانوں کی بھی جانچ پڑتال کی گئی، انہیں بھی سرد و گرم چکھایا گیا تاکہ جو اپنے دعوے میں سچے ہیں اور جو صرف زبانی دعوے کرتے ہیں، ان میں تمیز ہو جائے۔ اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ اللہ اسے جانتا نہ تھا وہ ہر ہو چکی بات کو اور ہونے والی بات کو برابر جانتا ہے۔ اس پر اہل سنت والجماعت کے تمام اماموں کا اجماع ہے۔ پس یہاں علم روایت یعنی دیکھنے کے معنی میں ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما «لِنَعْلَمَ» کے معنی «لِنَرَى» کرتے ہیں کیونکہ دیکھنے کا تعلق موجود چیزوں سے ہوتا ہے اور علم اس سے عام ہے۔ پھر فرمایا ہے جو ایمان نہیں لائے وہ بھی یہ گمان نہ کریں کہ امتحان سے بچ جائیں گے بڑے بڑے عذاب اور سخت سزائیں ان کی تاک میں ہیں۔ یہ ہاتھ سے نکل نہیں سکتے۔ ہم سے آگے بڑھ نہیں سکتے۔ ان کے یہ گمان نہایت برے ہیں جن کا برا نتیجہ یہ عنقریب دیکھ لیں گے۔
3-1یعنی یہ سنت الٰہیہ ہے جو پہلے سے چلی آرہی ہے۔ اس لئے وہ اس امت کے مومنوں کی بھی آزمائش کرے گا، جس طرح پہلی امتوں کی آزمائش کی گئی۔ ان آیات کی شان نزول کی روایات میں آتا ہے کہ صحابہ کرام نے اس ظلم و ستم کی شکایت کی جس کا نشانہ وہ کفار مکہ کی طرف سے بنے ہوئے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دعا کی درخواست کی تاکہ اللہ تعالیٰ ان کی مدد فرمائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ' یہ تشدد و ایذاء تو اہل ایمان کی تاریخ کا حصہ ہے تم سے پہلے بعض مومنوں کا یہ حال کیا گیا کہ انھیں ایک گھڑا کھود کر اس میں کھڑا کردیا گیا اور پھر ان کے سروں پر آرا چلا دیا گیا، جس سے ان کے جسم دو حصوں میں تقسیم ہوگئے، اسی طرح لوہے کی کنگھیاں ان کے گوشت پر ہڈیوں تک پھیری گئیں۔ لیکن یہ ایذائیں انھیں دین حق سے پھیرنے میں کامیاب نہیں ہوئیں ' (صحیح بخاری) حضرت عمار، انکی والدہ حضرت سمیہ اور والد حضرت یاسر، حضرت صہیب، بلال ومقداد وغیرہم رضوان اللہ علیہم اجمعین پر اسلام کے ابتدائی دور میں جو ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے، وہ صفحات تاریح میں محفوظ ہیں۔ یہ واقعات ہی ان آیات کے نزول کا سبب بنے۔ تاہم عموم الفاظ کے اعتبار سے قیامت تک کے اہل ایمان اس میں داخل ہیں۔
(آیت 3) ➊ {وَ لَقَدْ فَتَنَّا الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ:} یعنی یہ کوئی نیا معاملہ نہیں ہے جو تمھارے ساتھ پیش آیا ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ کی یہ مستقل سنت رہی ہے اور پہلے لوگوں کی بھی آزمائشیں ہوتی رہی ہیں، خباب بن ارت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس شکایت کی، اس وقت آپ کعبہ کے سائے میں ایک چادر کا تکیہ بنائے ہوئے تھے، ہم نے آپ سے کہا: [ أَلاَ تَسْتَنْصِرُ لَنَا؟ أَلاَ تَدْعُوْ لَنَا؟ فَقَالَ قَدْ كَانَ مَنْ قَبْلَكُمْ يُؤْخَذُ الرَّجُلُ فَيُحْفَرُ لَهُ فِي الْأَرْضِ فَيُجْعَلُ فِيْهَا فَيُجَاءُ بِالْمِنْشَارِ فَيُوْضَعُ عَلٰی رَأْسِهِ فَيُجْعَلُ نِصْفَيْنِ وَ يُمْشَطُ بِأَمْشَاطِ الْحَدِيْدِ مَا دُوْنَ لَحْمِهِ وَعَظْمِهِ فَمَا يَصُدُّهُ ذٰلِكَ عَنْ دِيْنِهِ، وَاللّٰهِ! لَيَتِمَّنَّ هٰذَا الْأَمْرُ حَتّٰی يَسِيْرَ الرَّاكِبُ مِنْ صَنْعَاءَ إِلٰی حَضْرَ مَوْتَ لاَ يَخَافُ إِلاَّ اللّٰهَ وَالذِّئْبَ عَلٰی غَنَمِهِ وَ لٰكِنَّكُمْ تَسْتَعْجِلُوْنَ ] [بخاري، الإکراہ، باب من اختار الضرب و القتل و الھوان علی الکفر: ۶۹۴۳ ] ”کیا آپ ہمارے لیے مدد نہیں مانگتے؟ کیا آپ ہمارے لیے دعا نہیں کرتے؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سے پہلے لوگوں میں آدمی کے لیے زمین میں گڑھا کھودا جاتا اور اسے زمین میں گاڑ دیا جاتا، پھر آرا لایا جاتا اور اس کے سر پر رکھا جاتا اور اسے دو حصوں میں چیر دیا جاتا اور لوہے کی کنگھیوں سے اس کا گوشت ہڈیوں سے نوچ دیا جاتا اور یہ چیز اسے اس کے دین سے نہیں روکتی تھی۔ اللہ کی قسم! یہ کام ضرور مکمل ہو کر رہے گا، یہاں تک کہ سوار صنعاء سے حضر موت تک چلے گا اور اسے اللہ کے سوا کسی کا خوف نہیں ہو گا، یا اسے اپنی بکریوں کے متعلق بھیڑیے کا (خوف ہو گا)، لیکن تم بہت جلدی کا مطالبہ کرتے ہو۔“ ➋ { فَلَيَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِيْنَ صَدَقُوْا …:} ”سو اللہ تعالیٰ ہر صورت ان لوگوں کو جان لے گا جنھوں نے سچ کہا“ یہاں ایک مشہور سوال ہے کہ اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ اللہ تعالیٰ ماضی، حال اور مستقبل کی ہر بات کو جانتا ہے، پھر اس کا کیا مطلب کہ وہ سچوں اور جھوٹوں کو جان لے گا۔ مفسر ابن کثیر نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ یہاں علم سے مراد وہ علم ہے جو دیکھنے سے حاصل ہوتا ہے، عام علم تو ان چیزوں کا بھی ہوتا ہے جو وجود میں نہ آئی ہوں، مگر دیکھنے سے حاصل ہونے والا علم (یا یہ علم کہ کوئی چیز وجود میں آچکی ہے) کسی چیز کے وجود میں آنے کے بعد ہی ہوتا ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ آل عمران (۱۴۲) کی تفسیر۔
اَمۡ حَسِبَ الَّذِیۡنَ یَعۡمَلُوۡنَ السَّیِّاٰتِ اَنۡ یَّسۡبِقُوۡنَا ؕ سَآءَ مَا یَحۡکُمُوۡنَ ﴿۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور کیا وہ لوگ جو بُری حرکتیں کر رہے ہیں یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ وہ ہم سے بازی لے جائیں گے؟ بڑا غلط حکم ہے جو وہ لگا رہے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا جو لوگ برائیاں کر رہے ہیں انہوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وه ہمارے قابو سے باہر ہو جائیں گے، یہ لوگ کیسی بری تجویزیں کر رہے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
یا یہ سمجھے ہوئے ہیں وہ جو برے کام کرتے ہیں کہ ہم سے کہیں نکل جائیں گے کیا ہی برا حکم لگاتے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
جو لوگ برے کام کرتے ہیں کیا انہوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ وہ ہم سے آگے نکل جائیں گے؟ وہ کتنا برا حکم لگاتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
یا ان لوگوں نے جو برے کام کرتے ہیں، یہ گمان کر لیا ہے کہ وہ ہم سے بچ کر نکل جائیں گے، برا ہے جو وہ فیصلہ کر رہے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
امتحان اور مومن ٭٭

حروف مقطعہ کی بحث سورۃ البقرہ کی تفسیر کے شروع میں گزر چکی ہے۔ پھر فرماتا ہے: یہ ناممکن ہے کہ مومنوں کو بھی امتحان سے چھوڑ دیا جائے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ { سب سے زیادہ سخت امتحان نبیوں کا ہوتا ہے، پھر صالح نیک لوگوں کا، پھر ان سے کم درجے والے، پھر ان سے کم درجے والے۔ انسان کا امتحان اس کے دین کے اندازے پر ہوتا ہے اگر وہ اپنے دین میں سخت ہے تو مصیبتیں بھی سخت نازل ہوتی ہیں۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:2398،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ اسی مضمون کا بیان اس آیت میں بھی ہے «أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّـهُ الَّذِينَ جَاهَدُوا مِنكُمْ وَيَعْلَمَ الصَّابِرِ‌ينَ» ۱؎ [3-آل عمران:142] ‏‏‏‏ یعنی ’ کیا تم نے یہ گمان کر لیا ہے کہ تم چھوڑ دئیے جاؤ گے؟ حالانکہ ابھی اللہ تعالیٰ نے یہ ظاہر نہیں کیا کہ تم میں سے مجاہد کون ہے؟ ‘ اسی طرح سورۃ برات اور سورۃ بقرہ میں بھی گزر چکا ہے کہ ’ کیا تم نے یہ سوچ رکھا ہے کہ تم جنت میں یونہی چلے جاؤ گے؟ اور اگلے لوگوں جیسے سخت امتحان کے موقعے تم پر نہ آئیں گے۔ جیسے کہ انہیں بھوک، دکھ، درد وغیرہ پہنچے۔ یہاں تک کہ رسول اور ان کے ساتھ کے ایماندار بول اٹھے کہ اللہ کی مدد کہاں ہے؟ یقین مانو کہ اللہ کی مدد قریب ہے۔ ‘ ۱؎ [2-البقرة:214] ‏‏‏‏ یہاں بھی فرمایا: ان سے اگلے مسلمانوں کی بھی جانچ پڑتال کی گئی، انہیں بھی سرد و گرم چکھایا گیا تاکہ جو اپنے دعوے میں سچے ہیں اور جو صرف زبانی دعوے کرتے ہیں، ان میں تمیز ہو جائے۔ اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ اللہ اسے جانتا نہ تھا وہ ہر ہو چکی بات کو اور ہونے والی بات کو برابر جانتا ہے۔ اس پر اہل سنت والجماعت کے تمام اماموں کا اجماع ہے۔ پس یہاں علم روایت یعنی دیکھنے کے معنی میں ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما «لِنَعْلَمَ» کے معنی «لِنَرَى» کرتے ہیں کیونکہ دیکھنے کا تعلق موجود چیزوں سے ہوتا ہے اور علم اس سے عام ہے۔ پھر فرمایا ہے جو ایمان نہیں لائے وہ بھی یہ گمان نہ کریں کہ امتحان سے بچ جائیں گے بڑے بڑے عذاب اور سخت سزائیں ان کی تاک میں ہیں۔ یہ ہاتھ سے نکل نہیں سکتے۔ ہم سے آگے بڑھ نہیں سکتے۔ ان کے یہ گمان نہایت برے ہیں جن کا برا نتیجہ یہ عنقریب دیکھ لیں گے۔
4-1یعنی ہم سے بھاگ جائیں گے اور ہماری گرفت میں نہ آسکیں گے۔ 4-2یعنی اللہ کے بارے میں کس ظن فاسد میں یہ مبتلا ہیں، جب کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے اور ہر بات سے باخبر بھی۔ پھر اس کی نافرمانی کر کے اس کے مؤاخذہ و عذاب سے بچنا کیونکر ممکن ہے؟
(آیت 4) {اَمْ حَسِبَ الَّذِيْنَ يَعْمَلُوْنَ السَّيِّاٰتِ اَنْ يَّسْبِقُوْنَا …:} اگرچہ {” الَّذِيْنَ يَعْمَلُوْنَ السَّيِّاٰتِ “} (جو لوگ برے کام کرتے ہیں) کے الفاظ عام ہیں، جن میں مومن و کافر دونوں آ جاتے ہیں، مگر یہاں مراد کافر ہیں۔ شاہ عبد القادر لکھتے ہیں: ”پہلی دو آیتیں مسلمانوں کے متعلق تھیں جو کافروں کی ایذاؤں میں گرفتار تھے اور یہ آیت کافروں سے متعلق ہے جو مسلمانوں کو ستا رہے تھے۔“ (موضح) یعنی ایمان والوں کی آزمائشوں اور امتحانات کو دیکھ کر کیا کافروں نے یہ گمان کر لیا ہے کہ وہ ہم سے بچ کر نکل جائیں گے اور ہماری گرفت میں نہیں آئیں گے؟ اگر انھوں نے عارضی مہلت سے یہ رائے قائم کر لی ہے کہ ہم ہمیشہ مزے میں رہیں گے، کبھی اللہ تعالیٰ کے ہاتھ نہیں آئیں گے، تو انھوں نے بہت بری رائے قائم کر لی ہے، کیونکہ مومنوں کی آزمائش تو ایک وقت تک ہے اور ان کے درجات کی بلندی کا باعث ہے، جب کہ کفار کے لیے شدید عذاب تیار ہے جو مومنوں کی آزمائش کی طرح چند روزہ نہیں بلکہ دائمی ہے۔
مَنۡ کَانَ یَرۡجُوۡا لِقَآءَ اللّٰہِ فَاِنَّ اَجَلَ اللّٰہِ لَاٰتٍ ؕ وَ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جو کوئی اللہ سے ملنے کی توقع رکھتا ہو (اُسے معلوم ہونا چاہیے کہ) اللہ کا مقرر کیا ہوا وقت آنے ہی والا ہے، اور اللہ سب کچھ سُنتا اور جانتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
جسے اللہ کی ملاقات کی امید ہو پس اللہ کا ٹھہرایا ہوا وقت یقیناً آنے واﻻ ہے، وه سب کچھ سننے واﻻ، سب کچھ جاننے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
جسے اللہ سے ملنے کی امید ہو تو بیشک اللہ کی میعاد ضرور آنے والی ہے اور وہی سنتا جانتا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
جو کوئی اللہ کے حضور حاضری کی امید رکھتا ہے تو بیشک اللہ کا مقررہ وقت ضرور آنے والا ہے اور وہ بڑا سننے والا، بڑا جاننے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
جو شخص اللہ سے ملنے کی امید رکھتا ہو تو بے شک اللہ کا مقرر وقت ضرور آنے والا ہے اور وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نیکیوں کی کوشش ٭٭

جنہیں آخرت کے بدلوں کی امید ہے اور اسے سامنے رکھ کر وہ نیکیاں کرتے ہیں۔ ان کی امیدیں پوری ہونگی اور انہیں نہ ختم ہونے والے ثواب ملیں گے۔ اللہ تعالیٰ دعاؤں کا سننے والا اور کل کائنات کا جاننے والا ہے۔ اللہ کا ٹھہرایا ہوا وقت ٹلتا نہیں۔ پھر فرماتا ہے ہر نیک عمل کرنے والا اپنا ہی نفع کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ بندوں کے اعمال سے بےپرواہ ہے۔ اگر سارے انسان متقی بن جائیں تو اللہ کی سلطنت میں کوئی اضافہ نہیں ہوسکتا۔ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں جہاد تلوار چلانے کا نام ہی نہیں۔ انسان نیکیوں کی کوشش میں لگا رہے یہ بھی ایک طرح کا جہاد ہے۔ اس میں شک نہیں کہ تمہاری نیکیاں اللہ کے کسی کام نہیں آتیں لیکن بہرحال اس کی یہ مہربانی کہ وہ تمہیں نیکیوں پر بدلے دیتا ہے۔ ان کی وجہ سے تمہاری برائیں معاف فرما دیتا ہے۔ چھوٹی سے چھوٹی نیکی کی قدر کرتا ہے اور اس پر بڑے سے بڑا اجر دیتا ہے۔ ایک ایک نیکی کا سات سات سوگنا بدلہ عنایت فرماتا ہے اور بدی کو یا تو بالکل ہی معاف فرما دیتا ہے یا اسی کے برابر سزا دیتا ہے۔ ’ وہ ظلم سے پاک ہے، نیکیوں کو بڑھاتا ہے اور اپنے پاس سے اجر عظیم دیتا ہے۔ ‘ ۱؎ [4-النساء:40] ‏‏‏‏ ایمانداروں کی سنت کے مطابق نیکیاں قبول فرماتا ہے۔ ان کے گناہوں سے درگزر کر لیتا ہے اور ان کے اچھے اعمال کا بدلہ عطا فرماتا ہے۔
5-1یعنی جسے آخرت پر یقین ہے اور وہ اجر وثواب کی امید پر اعمال صالحہ کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کی امیدیں بر لائے گا اور اسے اس کے عملوں کی مکمل جزاء عطا فرمائے گا، کیونکہ قیامت یقینا برپا ہو کر رہے گی اور اللہ کی عدالت ضرور قائم ہوگی۔ -5-2وہ بندوں کی باتوں اور دعاؤں کا سننے والا اور ان کے پیچھے اور ظاہر سب عملوں کو جاننے والا ہے اسکے مطابق وہ جزا اور سزا بھی یقینا دے گا۔
(آیت 5) {مَنْ كَانَ يَرْجُوْا لِقَآءَ اللّٰهِ فَاِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ …:} اس آیت میں ایمان والوں کے لیے خوش خبری ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی ملاقات کی امید رکھتا ہے وہ اس چند روزہ آزمائش پر صبر کرنے اور زیادہ سے زیادہ نیک عمل کرنے کی کوشش کرے، تو اس کی امید ضرور پوری ہو گی، کیونکہ اللہ کا مقرر کردہ وقت ضرور آنے والا ہے اور وہ بندے کی دعا کو اور اس کے عمل کو بلکہ کائنات کی ہر آواز اور ہر کام کو سننے والا اور جاننے والا ہے۔ قرآن مجید میں دو قسم کے لوگ بیان ہوئے ہیں، ایک وہ جو قیامت پر یقین رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی ملاقات کی امید رکھتے ہیں، ان کا اس آیت میں ذکر ہے اور سورۂ کہف کی آخری آیت میں بھی، فرمایا: «{ فَمَنْ كَانَ يَرْجُوْا لِقَآءَ رَبِّهٖ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّ لَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهٖۤ اَحَدًا }» ‏‏‏‏ [ الکہف: ۱۱۰ ] ”پس جو شخص اپنے رب کی ملاقات کی امید رکھتا ہو تو لازم ہے کہ وہ عمل کرے نیک عمل اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ بنائے۔“ دونوں آیتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ملاقات کی امید اور اس کا شوق رکھنے والے کو خوش خبری ہو کہ اس کی امید ضرور پوری ہو گی اور اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے جو وقت مقرر کر رکھا ہے وہ ضرور آنے والا ہے۔ اس لیے اسے چاہیے کہ اس وقت سے پہلے ملنے والی مہلت سے فائدہ اٹھا کر اخلاص کے ساتھ اپنے رب کو راضی کرنے والے صالح اعمال کر لے۔ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللّٰهِ أَحَبَّ اللّٰهُ لِقَاءَهُ، وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللّٰهِ كَرِهَ اللّٰهُ لِقَاءَهُ، قَالَتْ عَائِشَةُ أَوْ بَعْضُ أَزْوَاجِهِ إِنَّا لَنَكْرَهُ الْمَوْتَ، قَالَ لَيْسَ ذَاكَ وَلٰكِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا حَضَرَهُ الْمَوْتُ بُشِّرَ بِرِضْوَانِ اللّٰهِ وَكَرَامَتِهِ فَلَيْسَ شَيْءٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا أَمَامَهُ فَأَحَبَّ لِقَاءَ اللّٰهِ وَأَحَبَّ اللّٰهُ لِقَاءَهُ وَإِنَّ الْكَافِرَ إِذَا حُضِرَ بُشِّرَ بِعَذَابِ اللّٰهِ وَ عُقُوْبَتِهِ فَلَيْسَ شَيْءٌ أَكْرَهَ إِلَيْهِ مِمَّا أَمَامَهُ كَرِهَ لِقَاءَ اللّٰهِ وَ كَرِهَ اللّٰهُ لِقَاءَهُ ] [بخاري، الرقاق، باب من أحب لقاء اللہ أحب اللہ لقاءہ: ۶۵۰۷ ] ”جو شخص اللہ کی ملاقات محبوب رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی ملاقات محبوب رکھتا ہے اور جو اللہ کی ملاقات ناپسند کرتا ہے اللہ اس کی ملاقات ناپسند کرتا ہے۔“ اس پر عائشہ رضی اللہ عنھا یا آپ کی کسی اور بیوی نے کہا: ”ہم تو موت کو ناپسند کرتے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بات نہیں، بلکہ جب مومن کی موت کا وقت آتا ہے تو اسے اللہ تعالیٰ کے راضی ہونے کی اور اس کے باعزت ہونے کی خوش خبری دی جاتی ہے تو اسے اس سے زیادہ کوئی چیز محبوب نہیں ہوتی جو اس کے آگے آنے والی ہے اور جب کافر کی موت کا وقت آتا ہے تو اسے اللہ تعالیٰ کے عذاب اور اس کی سزا کی خوش خبری دی جاتی ہے تو اسے اس سے زیادہ ناپسندیدہ چیز کوئی نہیں ہوتی جو اس کے آگے ہے تو وہ اللہ کی ملاقات ناپسند کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کی ملاقات ناپسند کرتا ہے۔“ عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی دعا نماز میں پڑھی، جس میں اللہ تعالیٰ سے کئی چیزیں مانگی گئی ہیں، اس میں یہ الفاظ بھی ہیں: [ وَ أَسْأَلُكَ لَذَّةَ النَّظَرِ إِلٰی وَجْهِكَ وَالشَّوْقَ إِلٰی لِقَائِكَ فِيْ غَيْرِ ضَرَّاءَ مُضِرَّةٍ وَلَا فِتْنَةٍ مُضِلَّةٍ ] [ نسائي، السھو، نوع آخر: ۱۳۰۶ ] ”(اے اللہ!) اور میں تجھ سے تیرے چہرے کو دیکھنے کی لذت کا اور تیری ملاقات کے شوق کا سوال کرتا ہوں، کسی تکلیف کے بغیر جو نقصان پہنچانے والی ہے اور کسی فتنے کے بغیر جو گمراہ کرنے والا ہے۔“ لوگوں کا دوسرا گروہ وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی ملاقات کی نہ امید رکھتا ہے نہ شوق، ان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: «{ اِنَّ الَّذِيْنَ لَا يَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا وَ رَضُوْا بِالْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَ اطْمَاَنُّوْا بِهَا وَ الَّذِيْنَ هُمْ عَنْ اٰيٰتِنَا غٰفِلُوْنَ (7) اُولٰٓىِٕكَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ }» [ یونس: ۷، ۸ ] ”بے شک وہ لوگ جو ہماری ملاقات کی امید نہیں رکھتے اور وہ دنیا کی زندگی پر خوش ہوگئے اور اس پر مطمئن ہوگئے اور وہ لوگ جو ہمار ی آیات سے غافل ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن کا ٹھکانا جہنم ہے، اس کے بدلے جو وہ کمایا کرتے تھے۔“
وَ مَنۡ جَاہَدَ فَاِنَّمَا یُجَاہِدُ لِنَفۡسِہٖ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَغَنِیٌّ عَنِ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جو شخص بھی مجاہدہ کریگا اپنے ہی بھلے کے لیے کرے گا، اللہ یقیناً دنیا جہان والوں سے بے نیاز ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہر ایک کوشش کرنے واﻻ اپنے ہی بھلے کی کوشش کرتا ہے۔ ویسے تو اللہ تعالیٰ تمام جہان والوں سے بےنیاز ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور جو اللہ کی راہ میں کوشش کرے تو اپنے ہی بھلے کو کوشش کرتا ہے بیشک اللہ بے پرواہ ہے سارے جہان سے
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو کوئی جہاد کرتا ہے تو وہ اپنے ہی لئے جہاد کرتا ہے۔ بےشک اللہ تمام جہانوں سے بے نیاز ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جو جہاد کرتا ہے تو وہ اپنے ہی لیے جہاد کرتا ہے، یقینا اللہ تو سارے جہانوں سے بہت بے پروا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نیکیوں کی کوشش ٭٭

جنہیں آخرت کے بدلوں کی امید ہے اور اسے سامنے رکھ کر وہ نیکیاں کرتے ہیں۔ ان کی امیدیں پوری ہونگی اور انہیں نہ ختم ہونے والے ثواب ملیں گے۔ اللہ تعالیٰ دعاؤں کا سننے والا اور کل کائنات کا جاننے والا ہے۔ اللہ کا ٹھہرایا ہوا وقت ٹلتا نہیں۔ پھر فرماتا ہے ہر نیک عمل کرنے والا اپنا ہی نفع کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ بندوں کے اعمال سے بےپرواہ ہے۔ اگر سارے انسان متقی بن جائیں تو اللہ کی سلطنت میں کوئی اضافہ نہیں ہوسکتا۔ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں جہاد تلوار چلانے کا نام ہی نہیں۔ انسان نیکیوں کی کوشش میں لگا رہے یہ بھی ایک طرح کا جہاد ہے۔ اس میں شک نہیں کہ تمہاری نیکیاں اللہ کے کسی کام نہیں آتیں لیکن بہرحال اس کی یہ مہربانی کہ وہ تمہیں نیکیوں پر بدلے دیتا ہے۔ ان کی وجہ سے تمہاری برائیں معاف فرما دیتا ہے۔ چھوٹی سے چھوٹی نیکی کی قدر کرتا ہے اور اس پر بڑے سے بڑا اجر دیتا ہے۔ ایک ایک نیکی کا سات سات سوگنا بدلہ عنایت فرماتا ہے اور بدی کو یا تو بالکل ہی معاف فرما دیتا ہے یا اسی کے برابر سزا دیتا ہے۔ ’ وہ ظلم سے پاک ہے، نیکیوں کو بڑھاتا ہے اور اپنے پاس سے اجر عظیم دیتا ہے۔ ‘ ۱؎ [4-النساء:40] ‏‏‏‏ ایمانداروں کی سنت کے مطابق نیکیاں قبول فرماتا ہے۔ ان کے گناہوں سے درگزر کر لیتا ہے اور ان کے اچھے اعمال کا بدلہ عطا فرماتا ہے۔
6-1یعنی جو نیک عمل کرے گا، اس کا فائدہ اسی کو ہوگا۔ ورنہ اللہ تعالیٰ تو اپنے بندوں کے افعال سے بےنیاز ہے۔ اگر سارے کے سارے متقی بن جائیں تو اس سے اس کی سلطنت میں قوت و اضافہ نہیں ہوگا اور سب نافرمان ہوجائیں تو اس سے اس کی بادشاہی میں کمی نہیں ہوگی۔ الفاظ کی مناسبت سے اس میں جہاد مع الکفار بھی شامل ہے کہ وہ بھی من جملہ اعمال صالحہ ہی ہے۔
(آیت 6) ➊ { وَ مَنْ جَاهَدَ فَاِنَّمَا يُجَاهِدُ لِنَفْسِهٖ: ”جَهَدَ يَجْهَدُ“} کا معنی کوشش کرنا ہے اور {” جَاهَدَ “} (مفاعلہ) میں مقابلے کا مفہوم بھی ہے اور مبالغے کا بھی، یعنی کسی کے مقابلے میں پوری کوشش لگا دینا۔ مومن کو اللہ تعالیٰ کے احکام پر کاربند رہنے کے لیے بہت سی چیزوں کے مقابلے میں جدوجہد کرنا پڑتی ہے، اسے اپنے نفس کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے جو ہر وقت اسے اپنی خواہش کا غلام بنانے کے لیے زور لگاتا رہتا ہے، شیطان کا بھی جس نے اس کی دشمنی کی قسم کھا رکھی ہے اور اپنے گھر سے لے کر تمام دنیا کے ان انسانوں کا بھی جو اسے راہ حق سے روکنے کی کوشش کرتے ہیں، حتیٰ کہ اسے اس کوشش میں لڑائی بھی کرنا پڑتی ہے، جس میں وہ دشمن کو قتل کرتا ہے اور خود بھی قتل ہو جاتا ہے۔ قرآن و حدیث میں جہاد کا لفظ اکثر اسی معنی میں آیا ہے۔ سب سے اونچا درجہ اس کا وہ ہے، جب وہ سب کچھ اللہ کی راہ میں لٹا کر قربان ہو جاتا ہے۔ عبد اللہ بن حُبْشی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں (لمبی حدیث ہے): [ قِيْلَ فَأَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ؟ قَالَ مَنْ جَاهَدَ الْمُشْرِكِيْنَ بِمَالِهِ، وَنَفْسِهِ، قِيْلَ فَأَيُّ الْقَتْلِ أَشْرَفُ؟ قَالَ مَنْ أُهْرِيْقَ دَمُهُ، وَعُقِرَ جَوَادُهُ ] [ مسند أحمد: 411/3، ۴۱۲، ح: ۱۵۴۰۷، قال محقق المسند إسنادہ قوي۔ أبوداوٗد: ۱۴۴۹، قال الألباني صحیح ] ”(نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے) سوال کیا گیا کہ کون سا جہاد افضل ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مشرکین کے ساتھ اپنی جان اور مال کے ساتھ جہاد کرے۔“ پوچھا گیا: ”پھر کون سا قتل سب سے اونچی شان والا ہے؟“ فرمایا: ”جس کا خون بہا دیا جائے اور اس کا عمدہ گھوڑا کاٹ دیا جائے۔“ ➋ فرمایا، جو شخص اپنے نفس یا شیطان یا کسی بھی دشمن کے مقابلے میں اپنی آخری کوشش لگا دیتا ہے اس کا فائدہ خود اس کو ہے، اللہ تعالیٰ کو نہ کسی کی عبادت سے کوئی فائدہ ہے نہ کسی کے گناہ سے کوئی نقصان، بلکہ اگر کسی کو توفیق ملی ہے تو اسے مزید اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہونا چاہیے۔ اس مضمون کی آیات کے لیے دیکھیے سورۂ حم السجدہ کی آیت (۴۶): «{ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ وَ مَنْ اَسَآءَ فَعَلَيْهَا }» ”جس نے نیک عمل کیا سو اپنے لیے اور جس نے برائی کی سو اسی پر ہو گی۔“ اور سورۂ بنی اسرائیل کی آیت (۷): «{ اِنْ اَحْسَنْتُمْ اَحْسَنْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ وَ اِنْ اَسَاْتُمْ فَلَهَا }» ”اگر تم نے بھلائی کی تو اپنی جانوں کے لیے بھلائی کی اور اگر برائی کی تو انھی کے لیے۔“ ➌ { اِنَّ اللّٰهَ لَغَنِيٌّ عَنِ الْعٰلَمِيْنَ:} ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب تعالیٰ سے بیان کیا، لمبی حدیث ہے، اس میں ہے: [ يَا عِبَادِيْ! لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ وَإِنْسَكُمْ وَجِنَّكُمْ كَانُوْا عَلٰی أَتْقٰی قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مِنْكُمْ مَا زَادَ ذٰلِكَ فِيْ مُلْكِيْ شَيْئًا، يَا عِبَادِيْ! لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ وَإِنْسَكُمْ وَجِنَّكُمْ كَانُوْا عَلٰی أَفْجَرِ قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مِنْكُمْ، مَا نَقَصَ ذٰلِكَ مِنْ مُلْكِيْ شَيْئًا ] [مسلم، البر والصلۃ، باب تحریم الظلم: ۲۵۷۷ ] ”اے میرے بندو! اگر تمھارے پہلے اور تمھارے پچھلے، تمھارے انسان اور تمھارے جنّ سب تم میں سے ایک ایسے آدمی جیسے ہو جائیں جو تم میں سے سب سے زیادہ پرہیز گار ہے تو اس سے میری بادشاہت میں کچھ بھی اضافہ نہیں ہو گا اور اے میرے بندو! اگر تمھارے پہلے اور تمھارے پچھلے، تمھارے انسان اور تمھارے جنّ سب تم میں سے ایک ایسے آدمی جیسے ہو جائیں جو تم میں سے سب سے زیادہ فاجر ہے تو اس سے میری بادشاہت میں سے کچھ بھی کم نہیں ہو گا۔“ ➍ مفسر رازی نے فرمایا، اس آیت میں خوش خبری بھی ہے اور ڈرانا بھی۔ ڈرانا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ جب سارے جہانوں سے غنی ہے تو اگر وہ تمام بندوں کو اپنے عذاب کے ساتھ ہلاک کر دے تو کوئی اسے پوچھنے والا نہیں اور خوش خبری اس لیے کہ اس نے جو کچھ پیدا کیا ہے اپنے بندوں میں سے کسی ایک بندے کو دے دے تو اس کا کچھ کم نہیں ہوتا، کیونکہ اس میں سے کسی چیز کی اسے تو ضرورت نہیں، وہ سارے جہانوں سے بے پروا ہے، پھر {”كُنْ“} کہہ کر وہ جتنا چاہے اور پیدا کر سکتا ہے، یہ بات بہت امید دلانے والی اور بہت بڑی خوش خبری ہے۔
وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُکَفِّرَنَّ عَنۡہُمۡ سَیِّاٰتِہِمۡ وَ لَنَجۡزِیَنَّہُمۡ اَحۡسَنَ الَّذِیۡ کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور جو لوگ ایمان لائیں گے اور نیک اعمال کریں گے اُن کی برائیاں ہم ان سے دُور کر دیں گے اور انہیں اُن کے بہترین اعمال کی جزا دیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جن لوگوں نے یقین کیا اور مطابق سنت کام کیے ہم ان کے تمام گناہوں کو ان سے دور کر دیں گے اور انہیں ان کے نیک اعمال کے بہترین بدلے دیں گے
احمد رضا خان بریلوی
اور جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ہم ضرور ان کی برائیاں اتار دیں گے اور ضرور انہیں اس کام پر بدلہ دیں گے جو ان کے سب کاموں میں اچھا تھا
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل بھی کئے تو ہم ان کی برائیاں دور کر دیں گے (ان کی غلطیوں کو نظر انداز کر دیں گے) اور ہم انہیں ان کے اعمال کی بہترین جزا دیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جو لو گ ایمان لائے اور انھوں نے نیک کام کیے یقینا ہم ان سے ان کی برائیاں ضرور دور کر دیں گے اور یقینا انھیں اس عمل کی بہترین جزا ضرور دیں گے جو وہ کیا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نیکیوں کی کوشش ٭٭

جنہیں آخرت کے بدلوں کی امید ہے اور اسے سامنے رکھ کر وہ نیکیاں کرتے ہیں۔ ان کی امیدیں پوری ہونگی اور انہیں نہ ختم ہونے والے ثواب ملیں گے۔ اللہ تعالیٰ دعاؤں کا سننے والا اور کل کائنات کا جاننے والا ہے۔ اللہ کا ٹھہرایا ہوا وقت ٹلتا نہیں۔ پھر فرماتا ہے ہر نیک عمل کرنے والا اپنا ہی نفع کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ بندوں کے اعمال سے بےپرواہ ہے۔ اگر سارے انسان متقی بن جائیں تو اللہ کی سلطنت میں کوئی اضافہ نہیں ہوسکتا۔ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں جہاد تلوار چلانے کا نام ہی نہیں۔ انسان نیکیوں کی کوشش میں لگا رہے یہ بھی ایک طرح کا جہاد ہے۔ اس میں شک نہیں کہ تمہاری نیکیاں اللہ کے کسی کام نہیں آتیں لیکن بہرحال اس کی یہ مہربانی کہ وہ تمہیں نیکیوں پر بدلے دیتا ہے۔ ان کی وجہ سے تمہاری برائیں معاف فرما دیتا ہے۔ چھوٹی سے چھوٹی نیکی کی قدر کرتا ہے اور اس پر بڑے سے بڑا اجر دیتا ہے۔ ایک ایک نیکی کا سات سات سوگنا بدلہ عنایت فرماتا ہے اور بدی کو یا تو بالکل ہی معاف فرما دیتا ہے یا اسی کے برابر سزا دیتا ہے۔ ’ وہ ظلم سے پاک ہے، نیکیوں کو بڑھاتا ہے اور اپنے پاس سے اجر عظیم دیتا ہے۔ ‘ ۱؎ [4-النساء:40] ‏‏‏‏ ایمانداروں کی سنت کے مطابق نیکیاں قبول فرماتا ہے۔ ان کے گناہوں سے درگزر کر لیتا ہے اور ان کے اچھے اعمال کا بدلہ عطا فرماتا ہے۔
7-1یعنی باوجود اس بات کے کہ اللہ تعالیٰ تمام مخلوق سے بےنیاز ہے، وہ محض اپنے فضل و کرم سے اہل ایمان کو ان کے عملوں کی بہترین جزا عطا فرمائے گا۔ اور ایک ایک نیکی پر کئی کئی گنا اجر ثواب دے گا۔
(آیت 7) ➊ { وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَيِّاٰتِهِمْ:} یعنی جو لوگ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے، آزمائش پر ثابت قدم رہے، مشرکین کی ایذا سے متزلزل نہیں ہوئے، پھر صالح اعمال کرتے رہے، اپنے اور اللہ اور اس کے رسول کے دشمنوں سے جہاد کرتے رہے تو ہم ان کی برائیاں ضرور دور کر دیں گے، ایمان لانے کی برکت سے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیں گے، پھر اعمال میں سے ہجرت سے پہلے کے تمام گناہ معاف کر دیں گے اور حج سے پہلے کے تمام گناہ معاف کر دیں گے۔ عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں اسلام داخل کیا تو میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: ”اپنا دایاں ہاتھ پھیلائیں، تاکہ میں آپ کی بیعت کروں۔“ آپ نے اپنا دایاں ہاتھ پھیلایا، کہتے ہیں، میں نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا تو آپ نے فرمایا: ”عمرو! تمھیں کیا ہوا؟“ میں نے کہا: ”میں چاہتا ہوں کہ شرط کر لوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کس چیز کی شرط کرو گے؟“ میں نے کہا: ”اس بات کی کہ مجھے بخش دیا جائے۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْإِسْلاَمَ يَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهُ؟ وَأَنَّ الْهِجْرَةَ تَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهَا؟ وَأَنَّ الْحَجَّ يَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهُ؟ ] [مسلم، الإیمان، باب کون الإسلام یھدم ما قبلہ …: ۱۲۱ ] ”کیا تمھیں معلوم نہیں کہ اسلام اپنے سے پہلے جو کچھ ہوا اسے گرا دیتا ہے؟ اور ہجرت اپنے سے پہلے جو کچھ ہوا اسے گرا دیتی ہے؟ اور حج اپنے سے پہلے جو کچھ ہوا اسے گرا دیتا ہے؟“ پھر توبہ سے گزشتہ گناہ معاف ہی نہیں ہوتے بلکہ نیکیوں میں بدل دیے جاتے ہیں، تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ فرقان کی آیت (۷۰) کی تفسیر۔ اس کے علاوہ وضو، نماز، روزہ، صدقہ اور جہاد غرض ہر نیکی گناہوں کے مٹانے کا باعث بنتی ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ ہود کی آیت (۱۱۴)۔ ➋ { وَ لَنَجْزِيَنَّهُمْ اَحْسَنَ الَّذِيْ كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ:} اس کے دو مطلب ہیں، ایک یہ کہ آدمی کے نیک اعمال میں سے جو اعمال سب سے زیادہ اچھے ہوں گے ان کو ملحوظ رکھ کر اسے اچھی جزا دی جائے گی۔ دوسرا یہ کہ آدمی اپنے عمل کے لحاظ سے جتنی جزا کا مستحق ہو گا اس سے زیادہ اچھی جزا اسے دی جائے گی۔ کفر کی حالت میں جو نیک اعمال کیے تھے مسلمان ہونے کے بعد ان کی جزا بھی ملے گی۔ حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے کہا: ”یا رسول اللہ! یہ بتائیں کہ وہ کام جو میں جاہلیت میں ثواب سمجھ کر کرتا تھا، یعنی صلہ رحمی، غلام آزاد کرنا اور صدقہ، تو کیا میرے لیے ان میں اجر ہے؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ أَسْلَمْتَ عَلٰی مَا سَلَفَ لَكَ مِنْ خَيْرٍ] [ بخاري، البیوع، باب شراء المملوک من الحربي و ھبتہ و عتقہ: ۲۲۲۰ ] ”تم اس تمام نیکی سمیت مسلمان ہوئے ہو جو اس سے پہلے تم نے کی۔“ پھر ایمان لانے کے بعد ہر نیکی کا بدلا دس گنا سے لے کر سات سو گنا یا اس سے بھی زیادہ تک بلکہ بلا حساب دیا جائے گا۔ دیکھیے سورۂ نساء (۴۰)، انعام (۱۶۰)، قصص (۸۴)، بقرہ (۲۶۱)، زمر (۱۰) اور مومن (۴۰)۔ ➌ رازی نے بہتر بدلے کے متعلق ایک نفیس نکتہ بیان فرمایا ہے، وہ فرماتے ہیں کہ آدمی کے اعمال یا تو دل سے تعلق رکھتے ہیں، یا آنکھ سے نظر آتے ہیں، یا کان کے ساتھ سنائی دیتے ہیں، یہ اللہ کا فضل ہے کہ ان اعمال کے بدلے میں جو آنکھوں سے نظر آتے ہیں وہ نعمتیں دے گا {”مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ“} (جو کسی آنکھ نے نہیں دیکھیں) اور کان سے سنائی دینے والے اعمال کے بدلے میں وہ نعمتیں دے گا {”وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ“} (جو کسی کان نے نہیں سنیں) اور دل کے ایمان اور حسن اعتقاد کے بدلے میں وہ نعمتیں دے گا {” وَلَا خَطَرَ عَلٰي قَلْبِ بَشَرٍ “} (جن کا خیال تک کسی بشر کے دل میں نہیں آیا)۔ ایمان اور عمل صالح کی اس سے بہتر جزا کیا ہو سکتی ہے۔
وَ وَصَّیۡنَا الۡاِنۡسَانَ بِوَالِدَیۡہِ حُسۡنًا ؕ وَ اِنۡ جَاہَدٰکَ لِتُشۡرِکَ بِیۡ مَا لَیۡسَ لَکَ بِہٖ عِلۡمٌ فَلَا تُطِعۡہُمَا ؕ اِلَیَّ مَرۡجِعُکُمۡ فَاُنَبِّئُکُمۡ بِمَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہم نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرے لیکن اگر وہ تجھ پر زور ڈالیں کہ تو میرے ساتھ کسی ایسے (معبُود) کو شریک ٹھیرائے جسے تو (میرے شریک کی حیثیت سے) نہیں جانتا تو ان کی اطاعت نہ کر میری ہی طرف تم سب کو پلٹ کر آنا ہے، پھر میں تم کو بتا دوں گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم نے ہر انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی نصیحت کی ہے ہاں اگر وه یہ کوشش کریں کہ آپ میرے ساتھ اسے شریک کرلیں جس کا آپ کو علم نہیں تو ان کا کہنا نہ مانیئے، تم سب کا لوٹنا میری ہی طرف ہے پھر میں ہر اس چیز سے جو تم کرتے تھے تمہیں خبر دوں گا
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم نے آدمی کو تاکید کی اپنے ماں باپ کے ساتھ بھلائی کی اور اگر تو وہ تجھ سے کوشش کریں کہ تو میرا شریک ٹھہرائے جس کا تجھے علم نہیں تو تُو ان کا کہا نہ مان میری ہی طرف تمہارا پھرنا ہے تو میں بتادوں گا تمہیں جو تم کرتے تھے
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے انسان کو وصیت کی ہے یعنی حکم دیا ہے کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرے اور (یہ بھی کہ) اگر وہ تجھ پر زور ڈالیں کہ تو کسی ایسی چیز کو میرا شریک بنا جس کا تجھے کوئی علم نہیں ہے تو پھر ان کی اطاعت نہ کر تم سب کی بازگشت میری ہی طرف ہے تو میں تمہیں بتاؤں گا جو کچھ تم کیا کرتے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرنے کی تاکید کی ہے اور اگر وہ تجھ پر زور دیں کہ تو میرے ساتھ اس چیز کو شریک ٹھہرائے جس کے بارے میں تجھے کوئی علم نہیں تو ان کا کہنا مت مان، تمھیں میری طرف ہی لوٹ کر آنا ہے، پھر میں تمھیں بتائوں گا جو تم کیا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انسان کا وجود ٭٭

پہلے اپنی توحید پر مضبوطی کے ساتھ کاربند رہنے کا حکم فرما کر اب ماں باپ کے سلوک واحسان کا حکم دیتا ہے۔ کیونکہ انہی سے انسان کا وجود ہوتا ہے۔ باپ خرچ کرتا ہے اور پرورش کرتا ہے ماں محبت رکھتی ہے اور پالتی ہے۔ دوسری آیت میں فرمان ہے «وَقَضَىٰ رَ‌بُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِندَكَ الْكِبَرَ‌ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُل لَّهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْ‌هُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوْلًا كَرِ‌يمًا * وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّ‌حْمَةِ وَقُل رَّ‌بِّ ارْ‌حَمْهُمَا كَمَا رَ‌بَّيَانِي صَغِيرً‌ا» ۱؎ [17-الإسراء:23-24] ‏‏‏‏ یعنی ’ اللہ تعالیٰ فیصلہ فرما چکا ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرو، اور ماں باپ کی پوری اطاعت کرو۔ ان دونوں یا ان میں سے ایک کا بڑھاپے کا زمانہ آ جائے تو انہیں اف بھی نہ کہنا، ڈانٹ ڈپٹ تو کہاں کی؟ بلکہ ان کے ساتھ ادب سے کلام کرنا اور رحم کے ساتھ ان کے سامنے جھکے رہنا اور اللہ سے ان کے لیے دعا کرنا کہا اے اللہ ان پر ایسا رحم کر جیسے یہ بچپن میں مجھ پر کیا کرتے تھے۔ ‘ لیکن ہاں یہ خیال رہے کہ اگر یہ شرک کی طرف بلائیں تو ان کا کہا نہ ماننا۔ سمجھ لو کہ تمہیں ایک دن میرے سامنے کھڑے ہونا ہے۔ اس وقت میں اپنی پرستش کا اور میرے فرمان کے تحت ماں باپ کی اطاعت کرنے کا بدلہ دونگا۔ اور نیک لوگوں کے ساتھ حشر کرونگا۔ اگر تم نے اپنے ماں باپ کی وہ باتیں نہیں مانیں جو میرے احکام کے خلاف نہیں تو وہ خواہ کیسے ہی ہوں میں ان سے تمہیں الگ کر لوں گا۔ کیونکہ قیامت کے دن انسان اس کے ساتھ ہو گا جسے وہ دنیا میں چاہتا تھا۔ اس لیے اس کے بعد ہی فرمایا کہ ایمان والوں اور نیک عمل والوں کو میں اپنے صالح بندوں میں ملا دوں گا۔ { سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میرے بارے میں چار آیتیں اتریں جن میں سے ایک آیت یہ بھی ہے۔ یہ اس لیے اتری کہ میری ماں نے مجھ سے کہا کہ اے سعد! کیا اللہ کا حکم میرے ساتھ نیکی کرنے کا نہیں؟ اگر تو نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے انکار نہ کیا تو واللہ میں کھانا پینا چھوڑ دونگی چنانچہ اس نے یہی کیا یہاں تک کہ لوگ زبردستی اس کا منہ کھول کر غذا حلق میں پہنچا دیتے تھے پس یہ آیت اتری۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:1743-44] ‏‏‏‏ (‏‏‏‏ترمذی وغیرہ)
8-1قرآن کریم کے متعدد مقامات پر اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید و عبادت کا حکم دینے کے ساتھ والدین کے ساتھ جس سلوک کی تاکید کی ہے۔ جس سے اس امر کی وضاحت ہوتی ہے کہ ربوبیت (اللہ واحد) کے تقاضوں کو صحیح طریقہ سے وہی سمجھ سکتا ہے اور انھیں ادا کرسکتا ہے جو والدین کی اطاعت و خدمت کے تقاضوں کو سمجھتا اور ادا کرتا ہے۔ جو شخص یہ بات سمجھنے سے قاصر ہے کہ دنیا میں اس کا وجود والدین کی باہمی قربت کا نتیجہ اور ان کی تربیت و پرداخت، ان کی نہایت مہربانی اور شفقت کا ثمرہ ہے۔ اس لئے مجھے ان کی خدمت میں کوئی کوتاہی اور ان کی اطاعت سے سرتابی نہیں کرنی چاہیے اور یقینا خالق کائنات کو سمجھنے اور اس کی توحید و عبادت کے تقاضوں کی ادائیگی سے بھی قاصر رہے گا۔ اسی لئے احادیث میں بھی والدین کے ساتھ حسن سلوک کی بڑی تاکید آئی ہے۔ ایک حدیث میں والدین کی رضامندی کو اللہ کی رضا اور ان کی ناراضگی کو رب کی نارضگی کا باعث قرار دیا گیا ہے۔ 8-2یعنی والدین اگر شرک کا حکم دیں (اور اسی میں دیگر معاصی کا حکم شامل ہے) اور اس کے لئے خاص کوشش بھی کریں تو ان کی اطاعت نہیں کرنی چاہیے ' کیونکہ اللہ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہیں '۔ اس آیت کے شان نزول میں حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کا واقعہ آتا ہے کہ ان کے مسلمان ہونے پر انکی والدہ نے کہا کہ میں نہ کھاؤں گی نہ پیوں گی، یہاں تک کہ مجھے موت آجائے یا پھر تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا انکار کر دے، بالآخر یہ اپنی والدہ کو زبردستی منہ کھول کر کھلاتے، جس پر یہ آیت نازل ہوئی
(آیت 8) ➊ { وَ وَصَّيْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا:} اللہ پر ایمان اور عمل صالح کی تلقین اور اس کی فضیلت بیان کرنے کے بعد ماں باپ کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا، کیونکہ انھی سے انسان کا وجود ہوتا ہے، باپ خرچ کرتا اور پرورش کرتا ہے، جبکہ ماں دودھ پلاتی اور پالتی ہے۔ قرآن مجید میں عموماً اللہ کے حق کے بعد والدین کا حق بیان ہوا ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ قَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِيَّاهُ وَ بِالْوَالِدَيْنِ۠ اِحْسَانًا اِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوْ كِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنْهَرْهُمَا وَ قُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيْمًا }» [ بني إسرائیل: ۲۳ ] ”اور تیرے رب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ اگر کبھی تیرے پاس دونوں میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ ہی جائیں تو ان دونوں کو ”اُف“ مت کہہ اور نہ انھیں جھڑک اور ان سے بہت کرم والی بات کہہ۔“ ➋ بقاعی نے پچھلی آیات کے ساتھ اس آیت کا یہ ربط نکالا ہے کہ آزمائش کی مختلف صورتوں میں سے ایک صورت یہ ہے کہ آدمی کو اس کے والدین کفروشرک پر مجبور کریں تو ایسے موقع پر اسے ثابت قدم رہنا چاہیے اور کفروشرک کا ارتکاب نہیں کرنا چاہیے۔ ➌ { وَ اِنْ جَاهَدٰكَ لِتُشْرِكَ بِيْ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا:} یعنی اگر والدین تجھ پر زور دیں کہ تو میرے ساتھ اس چیز کو شریک بنائے جس کا تجھے کوئی علم نہیں تو ان کا کہنا مت مان، یعنی جس کے شریک ہونے کی تیرے پاس کوئی دلیل نہیں، کیونکہ علم وہ ہے جس کی دلیل ہو۔ مقصد یہ ہے کہ بھلا شرک کی بھی کوئی دلیل ہو سکتی ہے، وہ تو محض توہم پرستی اور تقلید کے اندھے پن سے وجود میں آتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ والدین کے کہنے پر اللہ کے ساتھ شرک کرنا کسی صورت جائز نہیں، صرف شرک ہی نہیں اللہ اور اس کے رسول کی کوئی بھی نافرمانی ماں باپ یا کسی مخلوق کے کہنے پر جائز نہیں۔ علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لاَ طَاعَةَ لِمَخْلُوْقٍ فِيْ مَعْصِيَةِ اللّٰهِ عَزَّ وَجَلَّ ] [ مسند أحمد: 131/1، ح: ۱۰۹۹، صحیح علٰی شرط مسلم ] ”اللہ عزوجل کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی کوئی اطاعت نہیں۔“ اور ابن عمر رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ اَلسَّمْعُ وَالطَّاعَةُ عَلَی الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ فِيْمَا أَحَبَّ وَكَرِهَ مَا لَمْ يُؤْمَرْ بِمَعْصِيَةٍ، فَإِنْ أُمِرَ بِمَعْصِيَةٍ فَلاَ سَمْعَ عَلَيْهِ وَ لاَ طَاعَةَ ] [ ترمذي، الجہاد، باب ما جاء لا طاعۃ لمخلوق في معصیۃ الخالق: ۱۷۰۷، و صححہ الترمذي و الألباني ] ”سننا اور ماننا مسلمان آدمی پر فرض ہے ان حکموںمیں جو اسے پسند ہوں یا ناپسند ہوں، جب تک اسے (اللہ کی) نافرمانی کا حکم نہ دیا جائے، تو جب اسے (اللہ کی کسی) نافرمانی کا حکم دیا جائے تو نہ سننا جائز ہے نہ ماننا۔“ ➍ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے بارے میں قرآن کی کئی آیات اتریں، (ان میں سے یہ ہے کہ) سعد کی ماں نے (ان کے مسلمان ہونے پر) قسم کھا لی کہ اس سے کبھی کلام نہیں کرے گی جب تک وہ اپنے دین سے کافر نہ ہو جائے اور نہ کھائے گی نہ پیے گی۔ اس نے کہا، تم کہتے ہو کہ اللہ نے تمھیں والدین کے بارے میں وصیت کی ہے اور میں تمھاری ماں ہوں اور تمھیں یہ حکم دیتی ہوں۔ سعد نے کہا، وہ تین دن ایسے ہی رہی، حتیٰ کہ بھوک سے اس پر غشی طاری ہو گئی، تو اس کا ایک بیٹا اٹھا جس کا نام عمارہ تھا، اس نے اسے (پانی وغیرہ) پلایا تو وہ (ہوش میں آ کر) سعد پر بدعائیں کرنے لگی، اس پر اللہ عز و جل نے قرآن میں یہ آیت نازل فرمائی: «{ وَ وَصَّيْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا }» [ العنکبوت: ۸ ] اور یہ آیت: «{ وَ اِنْ جَاهَدٰكَ عَلٰۤى اَنْ تُشْرِكَ بِيْ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا وَ صَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوْفًا }» [ لقمان: ۱۵ ] [ مسلم، فضائل الصحابۃ، باب في فضل سعد بن أبي وقاص رضی اللہ عنہ: ۱۷۴۸، بعد الحدیث: ۲۴۱۲ ] ➎ { اِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ …:} یعنی دنیا کی یہ رشتہ داریاں اور والدین کے حقوق اس دنیا کی حد تک ہیں، آخر کار ماں باپ اور اولاد سب کو اللہ تعالیٰ کے حضور پلٹ کر جانا ہے، پھر اگر ماں باپ نے اولاد کو گمراہی پر مجبور کیا یا ناحق زیادتی کی تو وہ پکڑے جائیں گے اور اگر اولاد نے والدین کے جائز حقوق میں کوتاہی کی تو ان سے باز پرس ہو گی۔
وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُدۡخِلَنَّہُمۡ فِی الصّٰلِحِیۡنَ ﴿۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور جو لوگ ایمان لائے ہوں گے اور جنہوں نے نیک اعمال کیے ہوں گے اُن کو ہم ضرور صالحین میں داخل کریں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جن لوگوں نے ایمان قبول کیا اور نیک کام کیے انہیں میں اپنے نیک بندوں میں شمار کر لوں گا
احمد رضا خان بریلوی
اور جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ضرور ہم انہیں نیکوں میں شامل کریں گے
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل بھی بجا لائے ہم ضرور انہیں صالحین میں داخل کریں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے اچھے کام کیے ہم انھیں ضرور ہی نیک لوگوں میں داخل کریں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انسان کا وجود ٭٭

پہلے اپنی توحید پر مضبوطی کے ساتھ کاربند رہنے کا حکم فرما کر اب ماں باپ کے سلوک واحسان کا حکم دیتا ہے۔ کیونکہ انہی سے انسان کا وجود ہوتا ہے۔ باپ خرچ کرتا ہے اور پرورش کرتا ہے ماں محبت رکھتی ہے اور پالتی ہے۔ دوسری آیت میں فرمان ہے «وَقَضَىٰ رَ‌بُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِندَكَ الْكِبَرَ‌ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُل لَّهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْ‌هُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوْلًا كَرِ‌يمًا * وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّ‌حْمَةِ وَقُل رَّ‌بِّ ارْ‌حَمْهُمَا كَمَا رَ‌بَّيَانِي صَغِيرً‌ا» ۱؎ [17-الإسراء:23-24] ‏‏‏‏ یعنی ’ اللہ تعالیٰ فیصلہ فرما چکا ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرو، اور ماں باپ کی پوری اطاعت کرو۔ ان دونوں یا ان میں سے ایک کا بڑھاپے کا زمانہ آ جائے تو انہیں اف بھی نہ کہنا، ڈانٹ ڈپٹ تو کہاں کی؟ بلکہ ان کے ساتھ ادب سے کلام کرنا اور رحم کے ساتھ ان کے سامنے جھکے رہنا اور اللہ سے ان کے لیے دعا کرنا کہا اے اللہ ان پر ایسا رحم کر جیسے یہ بچپن میں مجھ پر کیا کرتے تھے۔ ‘ لیکن ہاں یہ خیال رہے کہ اگر یہ شرک کی طرف بلائیں تو ان کا کہا نہ ماننا۔ سمجھ لو کہ تمہیں ایک دن میرے سامنے کھڑے ہونا ہے۔ اس وقت میں اپنی پرستش کا اور میرے فرمان کے تحت ماں باپ کی اطاعت کرنے کا بدلہ دونگا۔ اور نیک لوگوں کے ساتھ حشر کرونگا۔ اگر تم نے اپنے ماں باپ کی وہ باتیں نہیں مانیں جو میرے احکام کے خلاف نہیں تو وہ خواہ کیسے ہی ہوں میں ان سے تمہیں الگ کر لوں گا۔ کیونکہ قیامت کے دن انسان اس کے ساتھ ہو گا جسے وہ دنیا میں چاہتا تھا۔ اس لیے اس کے بعد ہی فرمایا کہ ایمان والوں اور نیک عمل والوں کو میں اپنے صالح بندوں میں ملا دوں گا۔ { سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میرے بارے میں چار آیتیں اتریں جن میں سے ایک آیت یہ بھی ہے۔ یہ اس لیے اتری کہ میری ماں نے مجھ سے کہا کہ اے سعد! کیا اللہ کا حکم میرے ساتھ نیکی کرنے کا نہیں؟ اگر تو نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے انکار نہ کیا تو واللہ میں کھانا پینا چھوڑ دونگی چنانچہ اس نے یہی کیا یہاں تک کہ لوگ زبردستی اس کا منہ کھول کر غذا حلق میں پہنچا دیتے تھے پس یہ آیت اتری۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:1743-44] ‏‏‏‏ (‏‏‏‏ترمذی وغیرہ)
9-1یعنی اگر کسی کے والدین مشرک ہوں گے تو مومن بیٹا نیکوں کے ساتھ ہوگا، والدین کے ساتھ نہیں۔ اس لیے کہ گو والدین دنیا میں اس کے بہت قریب رہے ہوں گے لیکن اس کی محبت دینی اہل ایمان ہی کے ساتھ تھی بنابریں المرء مع من أحب کے تحت وہ زمرہ صالحین میں ہوگا۔
(آیت 9) {وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ …:} یعنی اگر کسی کے والدین مشرک ہوں گے تو مومن بیٹا نیکوں کے ساتھ ہو گا، مشرک والدین کے ساتھ نہیں، اس لیے کہ گو والدین دنیا میں اس کے بہت قریب رہے اور محبت بھی کرتے رہے مگر ان کی اس سے اور اس کی ان سے محبت طبعی تھی، دینی نہ تھی، جب کہ حقیقی محبت دینی محبت ہے جو والدین کی کفار کے ساتھ تھی اور اس کی اہل ایمان کے ساتھ تھی اور قیامت کے دن آدمی اسی کے ساتھ ہو گا جس سے اسے حقیقی (دینی) محبت ہو گی۔ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: ”یا رسول اللہ! آپ اس شخص کے متعلق کیا فرماتے ہیں جو کچھ لوگوں سے محبت کرتا ہے مگر ابھی ان سے نہیں ملا؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ اَلْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ ] [ بخاري، الأدب، باب علامۃ الحب في اللہ…: ۶۱۶۹ ] ”آدمی اس کے ساتھ ہو گا جس سے محبت رکھے گا۔“ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ وَ مَنْ يُّطِعِ اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ فَاُولٰٓىِٕكَ مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيّٖنَ وَ الصِّدِّيْقِيْنَ۠ وَ الشُّهَدَآءِ وَ الصّٰلِحِيْنَ وَ حَسُنَ اُولٰٓىِٕكَ رَفِيْقًا }» ‏‏‏‏ [ النساء: ۶۹ ] ”اور جو اللہ اور رسول کی فرماں برداری کرے تو یہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام کیا، نبیوں اور صدیقوں اور شہداء اور صالحین میں سے اور یہ لوگ اچھے ساتھی ہیں۔“ اس لیے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے صالحین میں داخل فرمائے گا جن کے ساتھ ملانے کی دعا اللہ کے جلیل القدر پیغمبر کرتے رہے، جیسا کہ سلیمان علیہ السلام نے دعا کی: «{ وَ اَدْخِلْنِيْ بِرَحْمَتِكَ فِيْ عِبَادِكَ الصّٰلِحِيْنَ }» [ النمل: ۱۹ ] ”اور اپنی رحمت سے مجھے اپنے نیک بندوں میں داخل فرما۔“ اور یوسف علیہ السلام نے دعا کی: «{ تَوَفَّنِيْ مُسْلِمًا وَّ اَلْحِقْنِيْ بِالصّٰلِحِيْنَ }» [ یوسف: ۱۰۱ ] ”مجھے مسلم ہونے کی حالت میں فوت کر اور مجھے نیک لوگوں کے ساتھ ملا دے۔“ ان لوگوں کو صالحین میں داخل کرنے کی اس مقام پر ایک لطیف مناسبت ہے کہ جب والدین کے شرک کا حکم دینے کی صورت میں ان کی بات نہ ماننے کا حکم دیا گیا تو ظاہر ہے اس سے والدین اور اس کے درمیان دوری اور قطع تعلق قدرتی بات ہے، اللہ تعالیٰ نے ان سے اس جدائی کے بدلے اسے صالحین میں داخل فرمایا، تاکہ اسے ان سے اُنس حاصل ہو اور اس کا دل لگا رہے۔ (ابن عاشور) اپنے عزیزوں سے جدائی کے عوض اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُنس عطا ہونے کی ایک مثال آسیہ علیھا السلام کی دعا ہے، جس نے ایمان لانے کی وجہ سے خاوند اور گھر چھن جانے پر دعا کی: «{ رَبِّ ابْنِ لِيْ عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ }» [ التحریم: ۱۱ ] ”اے رب! میرے لیے اپنے پاس جنت میں ایک گھر بنا دے۔“ اس دعا میں {” عِنْدَكَ “ } اور {” بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ “} کے الفاظ قابلِ غور ہیں، فرعون کے بدلے رب تعالیٰ کی ہمسائیگی اور گھر کے بدلے جنت کا گھر، کیا خوب جزا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ماں باپ اور دوسرے خویش و اقارب کی مزاحمت کے باوجود ایمان و عمل صالح پر ثابت قدم رہنے والوں کے لیے یہ بہت بڑا انعام ہے۔
وَ مِنَ النَّاسِ مَنۡ یَّقُوۡلُ اٰمَنَّا بِاللّٰہِ فَاِذَاۤ اُوۡذِیَ فِی اللّٰہِ جَعَلَ فِتۡنَۃَ النَّاسِ کَعَذَابِ اللّٰہِ ؕ وَ لَئِنۡ جَآءَ نَصۡرٌ مِّنۡ رَّبِّکَ لَیَقُوۡلُنَّ اِنَّا کُنَّا مَعَکُمۡ ؕ اَوَ لَیۡسَ اللّٰہُ بِاَعۡلَمَ بِمَا فِیۡ صُدُوۡرِ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
لوگوں میں سے کوئی ایسا ہے جو کہتا ہے کہ ہم ایمان لائے اللہ پر مگر جب وہ اللہ کے معاملہ میں ستایا گیا تو اس نے لوگوں کی ڈالی ہوئی آزمائش کو اللہ کے عذاب کی طرح سمجھ لیا اب اگر تیرے رب کی طرف سے فتح و نصرت آ گئی تو یہی شخص کہے گا کہ "ہم تو تمہارے ساتھ تھے" کیا دنیا والوں کے دلوں کا حال اللہ کو بخوبی معلوم نہیں ہے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
اور بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو زبانی کہتے ہیں کہ ہم ایمان ﻻئے ہیں لیکن جب اللہ کی راه میں کوئی مشکل آن پڑتی ہے تو لوگوں کی ایذا دہی کو اللہ تعالیٰ کے عذاب کی طرح بنا لیتے ہیں، ہاں اگر اللہ کی مدد آجائے تو پکار اٹھتے ہیں کہ ہم تو تمہارے ساتھی ہی ہیں کیا دنیا جہان کے سینوں میں جو کچھ ہے اس سے اللہ تعالیٰ دانا نہیں ہے؟
احمد رضا خان بریلوی
اور بعض آدمی کہتے ہیں ہم اللہ پر ایمان لائے پھر جب اللہ کی راہ میں انہیں کوئی تکلیف دی جاتی ہے تو لوگوں کے فتنہ کو اللہ کے عذاب کے برابر سمجھتے ہیں اور اگر تمہارے رب کے پاس سے مدد آئے تو ضرور کہیں گے ہم تو تمہارے ہی ساتھ تھے کیا اللہ خوب نہیں جانتا جو کچھ جہاں بھر کے دلوں میں ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اور لوگوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو (زبان سے) کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر ایمان لائے پھر اللہ کی راہ میں جب اسے اذیت پہنچائی جاتی ہے تو وہ ان لوگوں کی آزمائش کو اللہ کے عذاب کے مانند قرار دے دیتا ہے اور اگر آپ کے پروردگار کی طرف سے کوئی مدد پہنچ جائے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم (بھی) تو تمہارے ساتھ تھے کیا جو کچھ دنیا جہاں والوں کے دلوں میں ہے کیا اللہ اس کا سب سے بہتر جاننے والا نہیں ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور لوگوں میں سے بعض وہ ہے جو کہتا ہے ہم اللہ پر ایمان لائے، پھر جب اسے اللہ (کے معاملہ) میں تکلیف دی جائے تو لوگوں کے ستانے کو اللہ کے عذاب کی طرح سمجھ لیتا ہے اور یقینا اگر تیرے رب کی طرف سے کوئی مدد آجائے تو یقینا ضرور کہیں گے ہم تو تمھارے ساتھ تھے، اور کیا اللہ اسے زیادہ جاننے والا نہیں جو سارے جہانوں کے سینوں میں ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مرتد ہونے والے ٭٭

ان منافقوں کا ذکر ہو رہا ہے جو زبانی ایمان کا دعویٰ کر لیتے ہیں لیکن جہاں مخالفین کی طرف سے کوئی دکھ پہنچا کہ یہ اسے اللہ کا عذاب سمجھ کر مرتد ہو جاتے ہیں۔ یہی معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ نے کئے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَمِنَ النَّاسِ مَن يَعْبُدُ اللَّـهَ عَلَىٰ حَرْ‌فٍ فَإِنْ أَصَابَهُ خَيْرٌ‌ اطْمَأَنَّ بِهِ وَإِنْ أَصَابَتْهُ فِتْنَةٌ انقَلَبَ عَلَىٰ وَجْهِهِ خَسِرَ‌ الدُّنْيَا وَالْآخِرَ‌ةَ ذَٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَ‌انُ الْمُبِينُ» ۱؎ [22-الحج:11] ‏‏‏‏ یعنی ’ بعض لوگ ایک کنارے کھڑے ہو کر اللہ کی عبادت کرتے ہیں اگر راحت ملی تو مطمئن ہو گئے اور اگر مصیبت پہنچی تو منہ پھیر لیا۔ ‘ یہاں یہی بیان ہو رہا ہے کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی غنیمت ملی، کوئی فتح ملی تو اپنا دیندار ہونا ظاہر کرنے لگتے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے «الَّذِينَ يَتَرَ‌بَّصُونَ بِكُمْ فَإِن كَانَ لَكُمْ فَتْحٌ مِّنَ اللَّـهِ قَالُوا أَلَمْ نَكُن مَّعَكُمْ وَإِن كَانَ لِلْكَافِرِ‌ينَ نَصِيبٌ قَالُوا أَلَمْ نَسْتَحْوِذْ عَلَيْكُمْ وَنَمْنَعْكُم مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ فَاللَّـهُ يَحْكُمُ بَيْنَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَن يَجْعَلَ اللَّـهُ لِلْكَافِرِ‌ينَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ سَبِيلًا» ۱؎ [4-النساء:141] ‏‏‏‏ یعنی ’ وہ تمہیں دیکھتے رہتے ہیں اگر فتح و نصرت ہوئی تو ہانک لگانے لگتے ہیں کہ کیا ہم تمہارے ساتھ نہیں ہیں؟ اور اگر کافروں کی بن آئی تو ان سے اپنی ساز جتانے لگتے ہیں کہ دیکھو ہم نے تمہارا ساتھ دیا اور تمہیں بچا لیا۔ ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: بہت ممکن ہے کہ اللہ اپنے بندوں کو بالکل ہی غالب کر دے پھر تو یہ اپنی اس چھپی ہوئی حرکت پر صاف نادم ہو جائیں۔ یہاں فرمایا کہ یہ کیا بات ہے؟ انہیں اتنا بھی نہیں معلوم کہ اللہ عالم الغیب ہے۔ وہ جہاں زبانی بات جانتا ہے وہاں قلبی بات بھی اسے معلوم ہے۔ اللہ تعالیٰ بھلائیاں، برائیاں پہنچا کر نیک و بد کو مومن ومنافق کو الگ الگ کر دے گا۔ نفس کے پرستار، نفع کے خواہاں یکسو ہو جائیں گے اور نفع نقصان میں ایمان کو نہ چھوڑنے والے ظاہر ہو جائیں گے۔ جیسے فرمایا «وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتَّىٰ نَعْلَمَ الْمُجَاهِدِينَ مِنكُمْ وَالصَّابِرِ‌ينَ وَنَبْلُوَ أَخْبَارَ‌كُمْ» ۱؎ [47-محمد:31] ‏‏‏‏ ’ ہم تمہیں آزماتے رہا کریں گے یہاں تک کہ تم میں سے مجاہدین کو اور صابرین کو ہم دنیا کے سامنے ظاہر کر دیں اور تمہاری خبریں دیکھ بھال لیں۔ ‘ احد کے امتحان کا ذکر کر کے فرمایا کہ اللہ مومنوں کو جس حالت پر وہ تھے، رکھنے والا نہ تھا جب تک کہ خبیث و طیب کی تمیز نہ کر لے۔
10-1اس میں اہل نفاق یا کمزور ایمان والوں کا حال بیان کیا گیا ہے کہ ایمان کی وجہ سے انھیں ایذاء پہنچتی ہے تو عذاب الہی کی طرح وہ ان کے لیے ناقابل برداشت ہوتی ہے۔ نتیجتا وہ ایمان سے پھرجاتے اور دین عوام کو اختیار کرلیتے ہیں۔ 10-2یعنی مسلمانوں کو فتح و غلبہ نصیب ہوجائے۔ 10-3یعنی تمہارے دینی بھائی ہیں، یہ وہی مضمون ہے جو دوسرے مقام پر اس طرح بیان فرمایا گیا ہے کہ وہ لوگ تمہیں دیکھتے رہتے ہیں، اگر تمہیں اللہ کی طرف سے فتح ملتی ہی، تو کہتے ہیں کیا ہم تمہارے ساتھ نہیں تھے؟ اور اگر حالات کافروں کے لیے کچھ سازگار ہوتے ہیں تو کافروں سے جا کر کہتے ہیں کہ کیا ہم نے تم کو گھیر نہیں لیا تھا۔ اور مسلمانوں سے تم کو نہیں پجایا تھا۔ (الَّذِيْنَ يَتَرَبَّصُوْنَ بِكُمْ ۚ فَاِنْ كَانَ لَكُمْ فَتْحٌ مِّنَ اللّٰهِ قَالُوْٓا اَلَمْ نَكُنْ مَّعَكُمْ ڮ وَاِنْ كَانَ لِلْكٰفِرِيْنَ نَصِيْبٌ ۙ قَالُوْٓا اَلَمْ نَسْتَحْوِذْ عَلَيْكُمْ وَنَمْنَعْكُمْ مِّنَ الْمُؤْمِنِيْنَ ۭفَاللّٰهُ يَحْكُمُ بَيْنَكُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ ۭ وَلَنْ يَّجْعَلَ اللّٰهُ لِلْكٰفِرِيْنَ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ سَبِيْلًا) 4۔ النساء:141) 10-4یعنی کیا اللہ ان باتوں کو نہیں جانتا جو تمہارے دلوں میں ہے اور تمہارے ضمیروں میں پوشیدہ ہے۔ گو تم زبان سے مسلمانوں کا ساتھی ہونا ظاہر کرتے ہو۔
(آیت 10) ➊ { وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ …:} یہ وہ لوگ ہیں جو مکہ میں مسلمان ہو گئے، مگر مشرکین کے ساتھ ان کا حال یہ تھا کہ ان کی دی ہوئی ایذا پر صبر نہیں کر سکتے تھے، جب انھیں ایذا دی جاتی تو دل سے شرک کی طرف پلٹ جاتے، مگر مسلمانوں سے یہ بات چھپاتے اور ان کے ساتھ رہتے۔ یہ لوگ منافق تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں ہجرت سے پہلے یہ آیت نازل فرمائی۔ یہ ضحاک اور جابر بن زید کا قول ہے۔ (ابن عاشور) فرمایا، لوگوں میں سے کوئی وہ ہے جو کہتا ہے کہ میں ایمان لایا، پھر جب اسے اللہ کے بارے میں ایذا اور سزا دی جاتی ہے تو وہ لوگوں کی سزا اور ایذا کو اللہ کے عذاب کی طرح سمجھ لیتا ہے، حالانکہ لوگوں کی طرف سے ملنے والی ایذا اور اللہ تعالیٰ کے عذاب کی آپس میں کوئی مشابہت نہیں۔ لوگوں سے ملنے والی سزا محدود ہے جو ختم ہونے والی ہے، زیادہ سے زیادہ موت تک رہ سکتی ہے، جب کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب ہمیشہ کے لیے ہے، لوگوں سے ملنے والی سزا اس کے لیے ثواب کا باعث ہے، جب کہ اللہ کا عذاب اس کے غضب کا نتیجہ ہے، اس لیے اسے چاہیے تھا کہ اللہ کے عذاب سے بچنے کے لیے لوگوں کی ایذا اور سزا پر صبر کرتا اور ہمیشہ کی جنت کا حق دار بنتا، مگر اس نے لوگوں کی ایذا و سزا کو اللہ کے عذاب کی طرح سمجھ لیا اور دین سے پھر گیا، مگر دنیوی مفادات کی خاطر ظاہری تعلق مسلمانوں سے بھی قائم رکھا۔ ➋ { وَ لَىِٕنْ جَآءَ نَصْرٌ مِّنْ رَّبِّكَ …:} چنانچہ اگر کبھی رب تعالیٰ کی طرف سے مدد آ گئی، مسلمانوں کو فتح ہوئی تو کہہ دیں گے ہم تو تمھارے ساتھ تھے، کیا اللہ تعالیٰ اس چیز کو سب سے زیادہ جاننے والا نہیں جو تمام جہانوں کے سینوں میں ہے۔ ابن عاشور فرماتے ہیں: ”معلوم ہوتا ہے کہ مکہ میں ان لوگوں کا دل سے کفر اور ظاہر میں مسلمانوں کے ساتھ رہنا مشرکین کے ساتھ ایک قسم کا طے شدہ معاملہ تھا، کیونکہ یہ سورت مکی ہے۔“ اس مضمون کی آیت یہ ہے: «{ وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يَّعْبُدُ اللّٰهَ عَلٰى حَرْفٍ فَاِنْ اَصَابَهٗ خَيْرٌ اطْمَاَنَّ بِهٖ وَ اِنْ اَصَابَتْهُ فِتْنَةٌ انْقَلَبَ عَلٰى وَجْهِهٖ خَسِرَ الدُّنْيَا وَ الْاٰخِرَةَ ذٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِيْنُ }» [ الحج: ۱۱] ”اور لوگوں میں سے کوئی وہ ہے جو اللہ کی عبادت ایک کنارے پر کرتا ہے، پھر اگر اسے کوئی بھلائی پہنچ جائے تو اس کے ساتھ مطمئن ہوجاتا ہے اور اگر اسے کوئی آزمائش آپہنچے تو اپنے منہ پر اُلٹا پھر جاتا ہے۔ اس نے دنیا اور آخرت کا نقصان اٹھایا، یہی تو صریح خسارہ ہے۔“ ➌ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی ایذا اور مجبور کرنے کی وجہ سے کفر کا ارتکاب کرنے والوں کی دو قسمیں بیان فرمائی ہیں، ایک وہ جنھوں نے مجبوری کی وجہ سے کلمۂ کفر کہہ دیا، مگر دل سے اسلام پر مطمئن رہے، دوسرے وہ جنھوں نے شرح صدر کے ساتھ دل سے کفر اختیار کر لیا، جیسا کہ فرمایا: «{ مَنْ كَفَرَ بِاللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ اِيْمَانِهٖۤ اِلَّا مَنْ اُكْرِهَ وَ قَلْبُهٗ مُطْمَىِٕنٌّۢ بِالْاِيْمَانِ وَ لٰكِنْ مَّنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا }» [ النحل: ۱۰۶ ] ”جو شخص اللہ کے ساتھ کفر کرے اپنے ایمان کے بعد، سوائے اس کے جسے مجبور کیا جائے اور اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو اور لیکن جو کفر کے لیے سینہ کھول دے۔“ زیر تفسیر آیت میں مذکورہ لوگ وہ ہیں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے {” مَنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا “} (جو کفر کے لیے سینہ کھول دے) کے الفاظ کے ساتھ فرمایا ہے۔
وَ لَیَعۡلَمَنَّ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ لَیَعۡلَمَنَّ الۡمُنٰفِقِیۡنَ ﴿۱۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور اللہ کو تو ضرور یہ دیکھنا ہی ہے کہ ایمان لانے والے کون ہیں اور منافق کون
مولانا محمد جوناگڑھی
جو لوگ ایمان ﻻئے اللہ انہیں بھی ﻇاہر کرکے رہے گا اور منافقوں کو بھی ﻇاہر کرکے رہے گا
احمد رضا خان بریلوی
اور ضرور اللہ ظاہر کردے گا ایمان والوں کو اور ضرور ظاہر کردے گا منافقوں کو
علامہ محمد حسین نجفی
اور اللہ ضرور معلوم کرے گا کہ مؤمن کون ہیں اور منافق کون؟
عبدالسلام بن محمد
اور یقینا اللہ ان لوگوں کو ضرور جان لے گاجو ایمان لائے اور یقینا انھیں بھی ضرور جان لے گا جو منافق ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مرتد ہونے والے ٭٭

ان منافقوں کا ذکر ہو رہا ہے جو زبانی ایمان کا دعویٰ کر لیتے ہیں لیکن جہاں مخالفین کی طرف سے کوئی دکھ پہنچا کہ یہ اسے اللہ کا عذاب سمجھ کر مرتد ہو جاتے ہیں۔ یہی معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ نے کئے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَمِنَ النَّاسِ مَن يَعْبُدُ اللَّـهَ عَلَىٰ حَرْ‌فٍ فَإِنْ أَصَابَهُ خَيْرٌ‌ اطْمَأَنَّ بِهِ وَإِنْ أَصَابَتْهُ فِتْنَةٌ انقَلَبَ عَلَىٰ وَجْهِهِ خَسِرَ‌ الدُّنْيَا وَالْآخِرَ‌ةَ ذَٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَ‌انُ الْمُبِينُ» ۱؎ [22-الحج:11] ‏‏‏‏ یعنی ’ بعض لوگ ایک کنارے کھڑے ہو کر اللہ کی عبادت کرتے ہیں اگر راحت ملی تو مطمئن ہو گئے اور اگر مصیبت پہنچی تو منہ پھیر لیا۔ ‘ یہاں یہی بیان ہو رہا ہے کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی غنیمت ملی، کوئی فتح ملی تو اپنا دیندار ہونا ظاہر کرنے لگتے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے «الَّذِينَ يَتَرَ‌بَّصُونَ بِكُمْ فَإِن كَانَ لَكُمْ فَتْحٌ مِّنَ اللَّـهِ قَالُوا أَلَمْ نَكُن مَّعَكُمْ وَإِن كَانَ لِلْكَافِرِ‌ينَ نَصِيبٌ قَالُوا أَلَمْ نَسْتَحْوِذْ عَلَيْكُمْ وَنَمْنَعْكُم مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ فَاللَّـهُ يَحْكُمُ بَيْنَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَن يَجْعَلَ اللَّـهُ لِلْكَافِرِ‌ينَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ سَبِيلًا» ۱؎ [4-النساء:141] ‏‏‏‏ یعنی ’ وہ تمہیں دیکھتے رہتے ہیں اگر فتح و نصرت ہوئی تو ہانک لگانے لگتے ہیں کہ کیا ہم تمہارے ساتھ نہیں ہیں؟ اور اگر کافروں کی بن آئی تو ان سے اپنی ساز جتانے لگتے ہیں کہ دیکھو ہم نے تمہارا ساتھ دیا اور تمہیں بچا لیا۔ ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: بہت ممکن ہے کہ اللہ اپنے بندوں کو بالکل ہی غالب کر دے پھر تو یہ اپنی اس چھپی ہوئی حرکت پر صاف نادم ہو جائیں۔ یہاں فرمایا کہ یہ کیا بات ہے؟ انہیں اتنا بھی نہیں معلوم کہ اللہ عالم الغیب ہے۔ وہ جہاں زبانی بات جانتا ہے وہاں قلبی بات بھی اسے معلوم ہے۔ اللہ تعالیٰ بھلائیاں، برائیاں پہنچا کر نیک و بد کو مومن ومنافق کو الگ الگ کر دے گا۔ نفس کے پرستار، نفع کے خواہاں یکسو ہو جائیں گے اور نفع نقصان میں ایمان کو نہ چھوڑنے والے ظاہر ہو جائیں گے۔ جیسے فرمایا «وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتَّىٰ نَعْلَمَ الْمُجَاهِدِينَ مِنكُمْ وَالصَّابِرِ‌ينَ وَنَبْلُوَ أَخْبَارَ‌كُمْ» ۱؎ [47-محمد:31] ‏‏‏‏ ’ ہم تمہیں آزماتے رہا کریں گے یہاں تک کہ تم میں سے مجاہدین کو اور صابرین کو ہم دنیا کے سامنے ظاہر کر دیں اور تمہاری خبریں دیکھ بھال لیں۔ ‘ احد کے امتحان کا ذکر کر کے فرمایا کہ اللہ مومنوں کو جس حالت پر وہ تھے، رکھنے والا نہ تھا جب تک کہ خبیث و طیب کی تمیز نہ کر لے۔
1 اسکا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ خوشی اور تکلیف دے کر آزمائے گا تاکہ منافق اور مومن کی تمیز ہوجائے جو دونوں حالتوں میں اللہ کی اطاعت کرے گا، وہ مومن ہے اور جو صرف خوشی اور راحت میں اطاعت کرے گا تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ صرف اپنے حظ نفس کا مطیع ہے، اللہ کا نہیں۔ جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا۔ (وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتّٰى نَعْلَمَ الْمُجٰهِدِيْنَ مِنْكُمْ وَالصّٰبِرِيْنَ ۙ وَنَبْلُوَا۟ اَخْبَارَكُمْ) 47۔ محمد:31) ہم تمہیں ضرور آزمائینگے، تاکہ ہم جان لیں تم میں مجاہد اور صابر کون ہیں اور تمہارے دیگر حالات بھی جانچیں گے ‏،۔ جنگ احد کے بعد، جس میں مسلمان اختیار و امتحان کی بھٹی سے گزارے گئے تھے، فرمایا (مَا كَان اللّٰهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِيْنَ عَلٰي مَآ اَنْتُمْ عَلَيْهِ حَتّٰى يَمِيْزَ الْخَبِيْثَ مِنَ الطَّيِّبِ) 3۔ آل عمران:179) نہیں ہے اللہ تعالیٰ کہ وہ چھوڑ دے مومنوں کو، اس حالت پر جس پر کہ تم ہو، یہاں تک کہ وہ جدا کر دے ناپاک کو پاک سے۔
(آیت 11) {وَ لَيَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ لَيَعْلَمَنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ:} یعنی ایسی آزمائشیں بھیج کر اور ایسے حالات پیدا کر کے جن میں یہ منافق اپنے دلوں کا حال چھپائے نہیں رہ سکیں گے۔
وَ قَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّبِعُوۡا سَبِیۡلَنَا وَ لۡنَحۡمِلۡ خَطٰیٰکُمۡ ؕ وَ مَا ہُمۡ بِحٰمِلِیۡنَ مِنۡ خَطٰیٰہُمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ ؕ اِنَّہُمۡ لَکٰذِبُوۡنَ ﴿۱۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ کافر لوگ ایمان لانے والوں سے کہتے ہیں کہ تم ہمارے طریقے کی پیروی کرو اور تمہاری خطاؤں کو ہم اپنے اُوپر لے لیں گے حالانکہ اُن کی خطاؤں میں سے کچھ بھی وہ اپنے اوپر لینے والے نہیں ہیں، وہ قطعاً جھوٹ کہتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
کافروں نے ایماں والوں سے کہا کہ تم ہماری راه کی تابعداری کرو تمہارے گناه ہم اٹھا لیں گے، حاﻻنکہ وه ان کے گناہوں میں سے کچھ بھی نہیں اٹھانے والے، یہ تو محض جھوٹے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور کافر مسلمانوں سے بولے ہماری راہ پر چلو اور ہم تمہارے گناہ اٹھالیں گے حالانکہ وہ ان کے گناہوں میں سے کچھ نہ اٹھائیں گے، بیشک وہ جھوٹے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور کافر لوگ اہلِ ایمان سے کہتے ہیں کہ تم ہمارے راستہ پر چلو تمہارے گناہوں (کا بوجھ) ہم اٹھائیں گے۔ حالانکہ یہ ان کے گناہوں کو کچھ بھی اٹھانے والے نہیں وہ بالکل جھوٹے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور جن لوگوں نے کفر کیا انھوں نے ان لوگوں سے کہا جو ایمان لائے کہ تم ہمارے راستے پر چلو اور لازم ہے کہ ہم تمھارے گناہ اٹھا لیں، حالانکہ وہ ہرگز ان کے گناہوں میں سے کچھ بھی اٹھانے والے نہیں، بے شک وہ یقینا جھوٹے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
گناہ کسی کا اور سزا دوسرے کو ٭٭

کفار قریش مسلمانوں کو بہکانے کے لیے ان سے یہ بھی کہتے تھے کہ تم ہمارے مذہب پر عمل کرو اگر اس میں کوئی گناہ ہو تو وہ ہم پر۔ حالانکہ یہ اصولاً غلط ہے کہ کسی کا بوجھ کوئی اٹھائے۔ یہ بالکل دروغ گو ہیں۔ کوئی اپنے قرابت داروں کے گناہ بھی اپنے اوپر نہیں لے سکتا۔ دوست دوست کو اس دن نہ پوچھے گا۔

ہاں یہ لوگ اپنے گناہوں کے بوجھ اٹھائیں گے اور جنہیں انہوں نے گمراہ کیا ہے ان کے بوجھ بھی ان پر لادے جائیں گے مگر وہ گمراہ شدہ لوگ ہلکے نہ ہوں گے۔ ان کا بوجھ ان پر ہے۔ جیسے فرمان ہے «لِيَحْمِلُوا أَوْزَارَ‌هُمْ كَامِلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمِنْ أَوْزَارِ‌ الَّذِينَ يُضِلُّونَهُم بِغَيْرِ‌ عِلْمٍ أَلَا سَاءَ مَا يَزِرُ‌ونَ» ۱؎ [16-النحل:25] ‏‏‏‏ یعنی ’ یہ اپنے کامل بوجھ اٹھائیں گے اور جنہیں بہکایا تھا ان کے بہکانے کا گناہ بھی ان پر ہو گا۔ ‘ صحیح حدیث میں ہے کہ { جو ہدایت کی طرف لوگوں کو دعوت دے۔ قیامت تک جو لوگ اس ہدایت پر چلیں گے ان سب کو جتنا ثواب ہو گا اتنا ہی اس ایک کو ہو گا لیکن ان کے ثوابوں میں سے گھٹ کر نہیں۔ اسی طرح جس نے برائی پھیلائی اس پر جو بھی عمل پیرا ہوں ان سب کو جتنا گناہ ہو گا اتنا ہی اس ایک کو ہو گا لیکن ان گناہوں میں کوئی کمی نہیں ہو گی۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:6745] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے کہ { زمین پر جتنی خون ریزیاں ہوتی ہیں، آدم علیہ السلام کا وہ لڑکا جس نے اپنے بھائی کو ناحق قتل کر دیا تھا، اس پر اس خون کا وبال پڑتا ہے، اس لیے کہ قتلِ بےجا اسی سے شروع ہوا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3335] ‏‏‏‏ ان کے تمام بہتان، جھوٹ، افترا کی ان سے بروز قیامت بازپرس ہو گی۔

سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی تمام رسالت پہنچا دی۔ آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ { ظلم سے بچو کیونکہ قیامت والے دن اللہ تبارک و تعالیٰ فرمائے گا مجھے اپنی عزت کی اور اپنے جلال کی قسم آج ایک ظالم کو بھی میں نہ چھوڑوں گا۔ پھر ایک منادیٰ ندا کرے گا کہ فلاں فلاں کہاں ہے؟ وہ آئے گا اور پہاڑ کے پہاڑ نیکیوں کے اس کے ساتھ ہوں گے یہاں تک کہ اہل محشر کی نگاہیں اس کی طرف اٹھنے لگیں گی۔ وہ اللہ کے سامنے آ کر کھڑا ہو جائے گا پھر منادیٰ ندا کرے گا کہ اس طرف سے کسی کا کوئی حق ہو اس نے کسی پر ظلم کیا ہو وہ آ جائے اور اپنا بدلہ لے لے۔ اب تو ادھر ادھر سے لوگ اٹھ کھڑے ہوں گے اور اسے گھیر کر اللہ کے سامنے کھڑے ہو جائیں گے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میرے ان بندوں کو ان کے حق دلواؤ۔ فرشتے کہیں گے: اے اللہ! کیسے دلوائیں؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اس کی نیکیاں لو اور انہیں دو۔ چنانچہ یوں ہی کیا جائے گا یہاں تک کہ ایک نیکی باقی نہیں رہے گی اور ابھی تک بعض مظلوم اور حقدار باقی رہ جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا انہیں بھی بدلہ دو فرشتے کہیں گے: اب تو اس کے پاس ایک نیکی بھی نہیں رہی۔ اللہ تعالیٰ حکم دے گا: ان کے گناہ اس پر لاد دو۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھبرا کر اس آیت کی تلاوت فرمائی «وَلَيَحْمِلُنَّ أَثْقَالَهُمْ وَأَثْقَالًا مَّعَ أَثْقَالِهِمْ وَلَيُسْأَلُنَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَمَّا كَانُوا يَفْتَرُ‌ونَ» } ۱؎ [صحیح مسلم:2581] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم میں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اے معاذ رضی اللہ عنہ! قیامت کے دن مومن کی تمام کوششوں سے سوال کیا جائے گا یہاں تک کہ اس کی آنکھوں کے سرمے اور اس کے مٹی کے گوندھے سے بھی۔ دیکھ ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن کوئی اور تیری نیکیاں لے جائے۔ } ۱؎ [ابونعیم فی الحلیۃ:31/10:ضعیف] ‏‏‏‏
12-1یعنی تم اسی آبائی دین کی طرف لوٹ آؤ، جس پر ہم ابھی تک قائم ہیں، اس لئے کہ وہی دین صحیح ہے، اگر اس روایتی مذہب پر عمل کرنے سے تم گناہ گار ہو گے تو اس کے ذمے دار ہم ہیں، وہ بوجھ ہم اپنی گردنوں پر اٹھائیں گے۔ 12-2اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ جھوٹے ہیں۔ قیامت کا دن تو ایسا ہوگا کہ وہاں کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ وہاں تو ایک دوست، دوسرے دوست کو نہیں پوچھے گا چاہے ان کے درمیان نہایت گہری دوستی ہو۔ حتی کہ رشتے دار ایک دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائیں گے۔ اور یہاں بھی اس بوجھ کے اٹھانے کی نفی فرمائی۔
(آیت 12) ➊ {وَ قَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوا …:} اس آیت میں ایمان لانے والوں کی ایک اور آزمائش کا ذکر فرمایا ہے کہ کفار ہر طریقے سے انھیں بہکانے کی کوشش کرتے ہیں، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے کفار نے ایمان لانے والوں سے کہا، تم ہمارے راستے پر چلو، ہماری طرح بت پرستی کرو اور من مانی زندگی بسر کرو، نہ کچھ کرنے کی پابندی نہ کسی کام سے رکنے کی پابندی اور ہم پر لازم ہے کہ تمھارے گناہ اٹھائیں۔ ({” وَ لْنَحْمِلْ “} امر کا صیغہ تاکید کے لیے استعمال کیا ہے) یعنی ہم ہر صورت تمھارے گناہ اٹھائیں گے، جیسے کہا جاتا ہے، تم یہ کام کرو، تمھارا گناہ میری گردن پر۔ ➋ { وَ مَا هُمْ بِحٰمِلِيْنَ مِنْ خَطٰيٰهُمْ مِّنْ شَيْءٍ …:} اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ کفار ان کے گناہوں میں سے کچھ بھی اٹھانے والے نہیں، یقینا یہ جھوٹ بول رہے ہیں، اس وقت گناہ اٹھانا تو دور کی بات انھوں نے اپنے پیچھے چلنے والوں سے بالکل ہی لا تعلق ہو جانا ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ اِذْ تَبَرَّاَ الَّذِيْنَ اتُّبِعُوْا مِنَ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْا وَ رَاَوُا الْعَذَابَ وَ تَقَطَّعَتْ بِهِمُ الْاَسْبَابُ }» [ البقرۃ: ۱۶۶ ] ”جب وہ لوگ جن کی پیروی کی گئی تھی، ان لوگوں سے بالکل بے تعلق ہو جائیں گے جنھوں نے پیروی کی اور وہ عذاب کو دیکھ لیں گے اور ان کے آپس کے تعلقات بالکل منقطع ہو جائیں گے۔“ ان کے گناہ نہ اٹھانے کا مطلب یہ ہے کہ ایسا کسی صورت نہیں ہو سکتا کہ قیامت کے دن ان کے گناہ خود اٹھا کر انھیں گناہ سے بری کر دیں اور کہیں کہ تم جنت میں جاؤ، تمھارے گناہوں کی سزا ہم بھگتیں گے، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا: «{ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى وَ اِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَّ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى }» [ فاطر: ۱۸ ] ”اور کوئی بوجھ اٹھانے والی (جان) کسی دوسری کا بوجھ نہیں اٹھائے گی اور اگر کوئی بوجھ سے لدی ہو ئی (جان) اپنے بوجھ کی طرف بلائے گی تو اس میں سے کچھ بھی نہ اٹھایا جائے گا، خواہ وہ قرابت دار ہو۔“
وَ لَیَحۡمِلُنَّ اَثۡقَالَہُمۡ وَ اَثۡقَالًا مَّعَ اَثۡقَالِہِمۡ ۫ وَ لَیُسۡـَٔلُنَّ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ عَمَّا کَانُوۡا یَفۡتَرُوۡنَ ﴿٪۱۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہاں ضرور وہ اپنے بوجھ بھی اٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ بہت سے دوسرے بوجھ بھی اور قیامت کے روز یقیناً ان سے اِن افترا پردازیوں کی بازپرس ہو گی جو وہ کرتے رہے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
البتہ یہ اپنے بوجھ ڈھولیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ ہی اور بوجھ بھی۔ اور جو کچھ افترا پردازیاں کر رہے ہیں ان سب کی بابت ان سے باز پرس کی جائے گی
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک ضرور اپنے بوجھ اٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ اور بوجھ اور ضرور قیامت کے دن پوچھے جائیں گے جو کچھ بہتان اٹھاتے تھے
علامہ محمد حسین نجفی
(ہاں البتہ) یہ لوگ اپنے بوجھ اٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ کچھ اور بوجھ بھی۔ اور قیامت کے دن ضرور ان سے بازپرس کی جائے گی ان افترا پردازیوں کے بارے میں جو وہ کرتے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
اور یقینا وہ ضرور اپنے بوجھ اٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ کئی اور بوجھ بھی۔ اور یقینا وہ قیامت کے دن اس کے متعلق ضرور پوچھے جائیں گے جو وہ جھوٹ باندھا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
گناہ کسی کا اور سزا دوسرے کو ٭٭

کفار قریش مسلمانوں کو بہکانے کے لیے ان سے یہ بھی کہتے تھے کہ تم ہمارے مذہب پر عمل کرو اگر اس میں کوئی گناہ ہو تو وہ ہم پر۔ حالانکہ یہ اصولاً غلط ہے کہ کسی کا بوجھ کوئی اٹھائے۔ یہ بالکل دروغ گو ہیں۔ کوئی اپنے قرابت داروں کے گناہ بھی اپنے اوپر نہیں لے سکتا۔ دوست دوست کو اس دن نہ پوچھے گا۔

ہاں یہ لوگ اپنے گناہوں کے بوجھ اٹھائیں گے اور جنہیں انہوں نے گمراہ کیا ہے ان کے بوجھ بھی ان پر لادے جائیں گے مگر وہ گمراہ شدہ لوگ ہلکے نہ ہوں گے۔ ان کا بوجھ ان پر ہے۔ جیسے فرمان ہے «لِيَحْمِلُوا أَوْزَارَ‌هُمْ كَامِلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمِنْ أَوْزَارِ‌ الَّذِينَ يُضِلُّونَهُم بِغَيْرِ‌ عِلْمٍ أَلَا سَاءَ مَا يَزِرُ‌ونَ» ۱؎ [16-النحل:25] ‏‏‏‏ یعنی ’ یہ اپنے کامل بوجھ اٹھائیں گے اور جنہیں بہکایا تھا ان کے بہکانے کا گناہ بھی ان پر ہو گا۔ ‘ صحیح حدیث میں ہے کہ { جو ہدایت کی طرف لوگوں کو دعوت دے۔ قیامت تک جو لوگ اس ہدایت پر چلیں گے ان سب کو جتنا ثواب ہو گا اتنا ہی اس ایک کو ہو گا لیکن ان کے ثوابوں میں سے گھٹ کر نہیں۔ اسی طرح جس نے برائی پھیلائی اس پر جو بھی عمل پیرا ہوں ان سب کو جتنا گناہ ہو گا اتنا ہی اس ایک کو ہو گا لیکن ان گناہوں میں کوئی کمی نہیں ہو گی۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:6745] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے کہ { زمین پر جتنی خون ریزیاں ہوتی ہیں، آدم علیہ السلام کا وہ لڑکا جس نے اپنے بھائی کو ناحق قتل کر دیا تھا، اس پر اس خون کا وبال پڑتا ہے، اس لیے کہ قتلِ بےجا اسی سے شروع ہوا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3335] ‏‏‏‏ ان کے تمام بہتان، جھوٹ، افترا کی ان سے بروز قیامت بازپرس ہو گی۔

سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی تمام رسالت پہنچا دی۔ آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ { ظلم سے بچو کیونکہ قیامت والے دن اللہ تبارک و تعالیٰ فرمائے گا مجھے اپنی عزت کی اور اپنے جلال کی قسم آج ایک ظالم کو بھی میں نہ چھوڑوں گا۔ پھر ایک منادیٰ ندا کرے گا کہ فلاں فلاں کہاں ہے؟ وہ آئے گا اور پہاڑ کے پہاڑ نیکیوں کے اس کے ساتھ ہوں گے یہاں تک کہ اہل محشر کی نگاہیں اس کی طرف اٹھنے لگیں گی۔ وہ اللہ کے سامنے آ کر کھڑا ہو جائے گا پھر منادیٰ ندا کرے گا کہ اس طرف سے کسی کا کوئی حق ہو اس نے کسی پر ظلم کیا ہو وہ آ جائے اور اپنا بدلہ لے لے۔ اب تو ادھر ادھر سے لوگ اٹھ کھڑے ہوں گے اور اسے گھیر کر اللہ کے سامنے کھڑے ہو جائیں گے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میرے ان بندوں کو ان کے حق دلواؤ۔ فرشتے کہیں گے: اے اللہ! کیسے دلوائیں؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اس کی نیکیاں لو اور انہیں دو۔ چنانچہ یوں ہی کیا جائے گا یہاں تک کہ ایک نیکی باقی نہیں رہے گی اور ابھی تک بعض مظلوم اور حقدار باقی رہ جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا انہیں بھی بدلہ دو فرشتے کہیں گے: اب تو اس کے پاس ایک نیکی بھی نہیں رہی۔ اللہ تعالیٰ حکم دے گا: ان کے گناہ اس پر لاد دو۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھبرا کر اس آیت کی تلاوت فرمائی «وَلَيَحْمِلُنَّ أَثْقَالَهُمْ وَأَثْقَالًا مَّعَ أَثْقَالِهِمْ وَلَيُسْأَلُنَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَمَّا كَانُوا يَفْتَرُ‌ونَ» } ۱؎ [صحیح مسلم:2581] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم میں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اے معاذ رضی اللہ عنہ! قیامت کے دن مومن کی تمام کوششوں سے سوال کیا جائے گا یہاں تک کہ اس کی آنکھوں کے سرمے اور اس کے مٹی کے گوندھے سے بھی۔ دیکھ ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن کوئی اور تیری نیکیاں لے جائے۔ } ۱؎ [ابونعیم فی الحلیۃ:31/10:ضعیف] ‏‏‏‏
13-1یعنی یہ ائمہ کفر اور داعیان ضلال اپنا ہی بوجھ نہیں اٹھائیں گے، بلکہ ان لوگوں کے گناہوں کا بوجھ بھی ان پر ہوگا جو انکی سعی و کاوش سے گمراہ ہوئے تھے۔ یہ مضمون سورة النحل میں بھی گزر چکا ہے۔ حدیث میں ہے، جو ہدایت کی طرف بلاتا ہے، اس کے لئے اپنی نیکیوں کے اجر کے ساتھ ان لوگوں کی نیکیوں کا اجر بھی ہوگا جو اس کی وجہ سے قیامت تک ہدایت کی پیروی کریں گے، بغیر اس کے کہ ان کے اجر میں کوئی کمی ہو۔ اور جو گمراہی کا داعی ہوگا اس کے لئے اپنے گناہوں کے علاوہ ان لوگوں کے گناہوں کا بوجھ بھی ہوگا جو قیامت تک اس کی وجہ سے گمراہی کا راستہ اختیار کرنے والے ہونگے۔، بغیر اس کے کہ ان کے گناہوں میں کمی ہو۔ اسی اصول سے قیامت تک ظلم سے قتل کیے جانے والوں کے خون کا گناہ آدم ؑ کے پہلے بیٹے (قابیل) پر ہوگا۔ اس لیے کہ سب سے پہلے اسی نے ناحق قتل کیا تھا۔
(آیت 13) ➊ { وَ لَيَحْمِلُنَّ اَثْقَالَهُمْ وَ اَثْقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ:} یعنی یہ جھوٹے ہیں، ان کا بوجھ رتی برابر ہلکا نہیں کر سکتے، ہاں اپنا بوجھ بھاری کر رہے ہیں، ایک تو یہ اپنے ذاتی گناہوں کا بوجھ اٹھائیں گے اور دوسرا اس کے ساتھ ان لوگوں کے گناہوں کا بھی جنھیں انھوں نے گمراہ کیا تھا، اگرچہ ان کے بوجھ میں کوئی کمی نہیں ہو گی۔ (دیکھیے نحل: ۲۵) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَنْ دَعَا إِلٰی هُدًی كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أُجُوْرِ مَنْ تَبِعَهُ لَا يَنْقُصُ ذٰلِكَ مِنْ أُجُوْرِهِمْ شَيْئًا وَمَنْ دَعَا إِلٰی ضَلَالَةٍ كَانَ عَلَيْهِ مِنَ الْإِثْمِ مِثْلُ آثَامِ مَنْ تَبِعَهُ لَا يَنْقُصُ ذٰلِكَ مِنْ آثَامِهِمْ شَيْئًا ] [مسلم، العلم، باب من سنّ سنۃ حسنۃ أو سیئۃ…: ۲۶۷۴ ] ”جو شخص ہدایت کے کسی کام کی طرف دعوت دے اسے ان لوگوں کے اجروں جیسا اجر ملے گا جو اس کی پیروی کریں گے، یہ ان کے اجروں میں کچھ کمی نہیں کرے گا اور جو شخص گمراہی کے کسی کام کی طرف دعوت دے اس پر ان لوگوں کے گناہوں جیسا گناہ ہو گا جو اس کی پیروی کریں گے، یہ ان کے گناہوں میں کچھ کمی نہیں کرے گا۔“ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لاَ تُقْتَلُ نَفْسٌ ظُلْمًا إِلاَّ كَانَ عَلَي ابْنِ آدَمَ الْأَوَّلِ كِفْلٌ مِنْ دَمِهَا، لِأَنَّهُ أَوَّلُ مَنْ سَنَّ الْقَتْلَ ] [ بخاري، أحادیث الأنبیاء، باب خلق آدم و ذریتہ: ۳۳۳۵ ] ”کوئی جان ظلم سے قتل نہیں کی جاتی مگر آدم علیہ السلام کے پہلے بیٹے پر اس کے خون کا ایک حصہ ہوتا ہے، کیونکہ وہ پہلا شخص تھا جس نے قتل کا طریقہ شروع کیا۔“ ➋ { وَ لَيُسْـَٔلُنَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ …:} یعنی جو جھوٹی باتیں یہ بناتے ہیں کہ ہم تمھارا بوجھ اٹھا لیں گے یہ خود مستقل گناہ ہے، اس افترا کی بھی انھیں سزا ملے گی۔ جس میں ان سے کی جانے والی بازپرس بھی ہو گی، جو بجائے خود نہایت خوفناک مرحلہ ہے۔
وَ لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا اِلٰی قَوۡمِہٖ فَلَبِثَ فِیۡہِمۡ اَلۡفَ سَنَۃٍ اِلَّا خَمۡسِیۡنَ عَامًا ؕ فَاَخَذَہُمُ الطُّوۡفَانُ وَ ہُمۡ ظٰلِمُوۡنَ ﴿۱۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہم نے نوحؑ کو اس کی قوم کی طرف بھیجا اور وہ پچاس کم ایک ہزار برس اُن کے درمیان رہا آخر کار اُن لوگوں کو طوفان نے آ گھیرا اس حال میں کہ وہ ظالم تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف بھیجا وه ان میں ساڑھے نو سو سال تک رہے، پھر تو انہیں طوفان نے دھر پکڑا اور وه تھے بھی ﻇالم
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا تو وہ ان میں پچاس سال کم ہزار برس رہا تو انہیں طوفان نے ا ٓ لیا اور وہ ظالم تھے
علامہ محمد حسین نجفی
اور یقیناً ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا اور وہ اس میں پچاس سال کم ایک ہزار سال رہے پھر (آخرکار) اس قوم کو طوفان نے آپکڑا اس حال میں کہ وہ ظالم تھے۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ یقینا ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا تو وہ ان میں پچاس کم ہزار برس رہا، پھر انھیں طوفان نے پکڑ لیا، اس حال میں کہ وہ ظالم تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حوصلہ افزائی ٭٭

اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تسلی ہے۔ آپ کو خبر دی جاتی ہے کہ نوح علیہ السلام اتنی لمبی مدت تک اپنی قوم کو اللہ کی طرف بلاتے رہے۔ دن رات،پوشیدہ اور ظاہر ہر طرح آپ نے انہیں اللہ کے دین کی طرف دعوت دی۔ لیکن وہ اپنی سرکشی اور گمراہی میں ہی بڑھتے گئے۔ بہت ہی کم لوگ آپ پر ایمان لائے۔ آخرکار اللہ کا غضب ان پر بصورت طوفان آیا اور انہیں تہس نہس کر دیا تو اے پیغمبر آخرالزمان آپ اپنی قوم کی اس تکذیب کو نیا خیال نہ کریں۔ آپ اپنے دل کو رنجیدہ نہ کریں۔ ہدایت و ضلالت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ جن لوگوں کا جہنم میں جانا طے ہو چکا ہے انہیں تو کوئی بھی ہدایت نہیں دے سکتا۔ تمام نشانیاں گو دیکھ لیں لیکن انہیں ایمان نصیب نہیں ہو گا۔ بالآخر جیسے نوح علیہ السلام کو نجات ملی اور قوم ڈوب گئی اسی طرح آخر میں غلبہ آپ کا ہے اور آپ کے مخالفین پست ہوں گے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ چالیس سال کی عمر میں نوح علیہ السلام کو نبوت ملی اور نبوت کے بعد ساڑھے نو سو سال تک آپ نے اپنی قوم کو تبلیغ کی۔ طوفان کی عالمگیر ہلاکت کے بعد بھی نوح علیہ السلام ساٹھ سال تک زندہ رہے یہاں تک کہ بنو آدم کی نسل پھیل گئی اور دنیا میں یہ بکثرت نظر آنے لگے۔

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نوح علیہ السلام کی عمر کل ساڑھے نو سو سال کی تھی تین سو سال تو آپ کے بے دعوت ان میں گزرے،تین سو سال تک اللہ کی طرف اپنی قوم کو بلایا اور ساڑے تین سو سال بعد طوفان کے بعد زندہ رہے لیکن یہ قول غریب ہے اور آیت کے ظاہر الفاظ سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ آپ ساڑھے نو سو سال تک اپنی قوم کو اللہ کی وحدانیت کی طرف بلاتے رہے۔ عون بن ابی شداد کہتے ہیں کہ جب آپ کی عمر سو سال کی تھی اس وقت اللہ کی وحی آپ کو آئی اس کے بعد ساڑھے نو سو سال تک آپ لوگوں کو اللہ کی طرف بلاتے رہے اس کے بعد پھر ساڑھے تین سو سال کی عمر اور پائی۔ لیکن یہ بھی غریب قول ہے۔ زیادہ درست قول ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول نظر آتا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ ابن عمر نے مجاہدرحمہ اللہ سے پوچھا کہ نوح علیہ السلام اپنی قوم میں کتنی مدت تک رہے؟ انہوں نے کہا ساڑھے نو سو سال۔ آپ نے فرمایا کہ اس کے بعد سے لوگوں کے اخلاق اور ان کی عمریں اور عقلیں آج تک گھٹتی ہی چلی آئیں۔ جب قوم نوح پر اللہ کا غضب نازل ہوا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے اپنے نبی کو اور ایمان والوں کو جو آپ کے حکم سے طوفان سے پہلے کشتی میں سوار ہو چکے تھے بچا لیا۔ سورۃ ہود میں اس کی تفصیل گزر چکی ہے اس لیے یہاں دوبارہ وارد نہیں کرتے۔ ہم نے اس کشتی کو دنیا کے لیے نشان عبرت بنا دیا۔ یا تو خود اس کشتی کو جیسے قتادۃ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ اول اسلام تک وہ جودی پہاڑ پر تھی۔ یا یہ کہ کشتی کو دیکھ کر پھر پانی کے سفر کے لیے جو کشتیاں لوگوں نے بنائیں ان کو انہیں دیکھ کر اللہ کا وہ بچانا یاد آ جاتا ہے۔ جیسے فرمان ہے «وَآيَةٌ لَّهُمْ أَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّ‌يَّتَهُمْ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ وَخَلَقْنَا لَهُم مِّن مِّثْلِهِ مَا يَرْ‌كَبُونَ» ۱؎ [36-يس:41-42] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہماری قدرت کی نشانی ان کے لیے یہ بھی ہے کہ ہم نے ان کی نسل کو بھری ہوئی کشتی میں بٹھا دیا۔ اور ہم نے ان کے لیے اور اسی جیسی سواریاں بنا دیں۔ ‘ سورۃ الحاقہ میں فرمایا: جب پانی کا طوفان آیا تو ہم نے تمہیں کشتی میں سوار کر لیا۔ اور ان کا ذکر تمہارے لیے یادگار بنا دیا تاکہ جن کانوں کو اللہ نے یاد کی طاقت دی ہے وہ یاد رکھ لیں۔ یہاں شخص سے جنس کی طرف چڑھاؤ کیا ہے۔ جیسے «وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ وَجَعَلْنَاهَا رُ‌جُومًا لِّلشَّيَاطِينِ وَأَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابَ السَّعِيرِ‌» ۱؎ [67-الملك:5] ‏‏‏‏ والی آیت میں ہے کہ آسمان دنیا کے ستاروں کے باعث زینت آسمان ہونا بیان فرما کر ان کی وضاحت میں شہاب کا شیطانوں کے لیے رجم ہونا بیان فرمایا ہے۔

اور آیت میں انسان کے مٹی سے پیدا ہونے کا ذکر کر کے فرمایا ہے پھر ہم نے اسے نطفے کی شکل میں قرار گاہ میں کر دیا۔ ہاں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آیت میں «ھا» کی ضمیر کا مرجع عقوبت اور سزا کو کیا جائے، «وَاللهُ اَعْلَمُ» (‏‏‏‏یہاں یہ خیال رہے کہ تفسیر ابن کثیر کے بعض نسخوں میں شروع تفسیر میں کچھ عبارت زیادہ ہے جو بعض نسخوں میں نہیں۔ وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نوح علیہ السلام کا ساڑھے نو سو سال تک آزمایا جانا بیان کیا اور ان کی قوم کو ان کی اطاعت کے ساتھ آزمانا بتلایا کہ ان کی تکذیب کی وجہ سے اللہ نے انہیں غرق کر دیا۔ پھر اس کے بعد جلا دیا۔ پھر قوم ابراہیم علیہ السلام کی آزمائش کا ذکر کیا کہ انہوں نے بھی اطاعت ومتابعت نہ کی پھر لوط علیہ السلام کی آزمائش کا ذکر کیا اور ان کی قوم کا حشر بیان فرمایا۔ پھر شعیب علیہ السلام کی قوم کے واقعات سامنے رکھے پھر عادیوں، ثمودیوں، قارونیوں، فرعونیوں، ہامانیوں وغیرہ کا ذکر کیا کہ اللہ پر ایمان نہ لانے اور اس کی توحید کو نہ ماننے کی وجہ سے انہیں بھی طرح طرح کی سزائیں دی گئیں۔ پھر اپنے پیغمبر اعظم المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین اور منافقین سے تکالیف سہنے کا ذکر کیا اور آپ کو حکم فرمایا کہ اہل کتاب سے بہترین طریق پر مناظرہ کریں۔)
14-1قرآن کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ان کی دعوت و تبلیغ کی عمر ان کی پوری عمر کتنی تھی؟ اس کی صراحت نہیں کی گئی۔ بعض کہتے ہیں چالیس سال نبوت سے قبل اور ساٹھ سال طوفان کے بعد، اس میں شامل کر لئے جائیں۔ اور بھی کئی اقوال ہیں۔ واللہ اعلم۔
(آیت 14) ➊ {وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ:} سورت کے آغاز میں جو فرمایا تھا کہ ہم نے پہلے لوگوں کی بھی آزمائش کی، اس کی کچھ تفصیل کے لیے ان پیغمبروں کا ذکر فرمایا جنھوں نے لمبے عرصے تک آزمائش پر صبر کیا اور قوم کی طرف سے بے شمار اذیتوں کے باوجود ان کی خیر خواہی میں اور انھیں دعوت دینے میں کمی نہیں کی۔ مقصد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے نقشِ قدم پر چلنے والوں کو تسلی دینا ہے۔ ان واقعات کا آغاز نوح علیہ السلام سے فرمایا، کیونکہ وہ پہلے رسول ہیں جو زمین والوں کی طرف بھیجے گئے۔ نوح علیہ السلام کا ذکر قرآن مجید میں تینتالیس (۴۳) جگہ آیا، ان واقعات میں انبیاء اور اہل ایمان کی آزمائش کا ذکر بھی ہے اور اس بات کا بھی کہ کافر اس گمان میں نہ رہیں کہ وہ ہماری گرفت سے بچ نکلیں گے۔ نوح علیہ السلام کے متعلق مزید دیکھیے سورۂ آل عمران (۳۳)، نساء (۱۶۳)، انعام (۸۴)، اعراف (۵۹ تا ۶۴)، یونس (۷۱ تا ۷۳)، انبیاء (۷۶، ۷۷)، مومنون (۲۳ تا ۳۰)، فرقان (۳۷)، شعراء (۱۰۵ تا ۱۲۲)، صافات (۷۵ تا ۸۲)، قمر (۹ تا ۱۵)، حاقہ (۱۱، ۱۲) اور سورۂ نوح مکمل۔ ➋ { فَلَبِثَ فِيْهِمْ اَلْفَ سَنَةٍ اِلَّا خَمْسِيْنَ عَامًا:} نوح علیہ السلام کی اپنی قوم کو سمجھانے کی مدت ساڑھے نو سو (۹۵۰) سال تھی۔ ظاہر ہے کہ منصبِ نبوت پر سرفراز ہونے سے پہلے بھی انھوں نے عمر کا ایک حصہ گزارا ہو گا اور طوفان کے بعد بھی زندہ رہے ہوں گے۔ مفسرین کے ان کی کل عمر کے متعلق مختلف اقوال ہیں، مگر صحتِ سند کے ساتھ کوئی بات ثابت نہیں۔ یہاں ایک سوال ہے کہ نوح علیہ السلام کے اپنی قوم میں رہنے کی مدت بیان کرنے کا کیا فائدہ ہے؟ جواب یہ ہے کہ اس میں دو فائدے ہیں، ایک یہ کہ کفار کے اسلام قبول نہ کرنے اور کفر پر اڑے رہنے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دل تنگ ہوتا تھا، آپ کی تسلی کے لیے فرمایا کہ نوح علیہ السلام تقریباً ہزار برس دعوت دیتے رہے، جس کے نتیجے میں ان کی قوم میں بہت تھوڑے لوگ ہی ایمان لائے، اس کے باوجود وہ نہ اکتائے، نہ انھوں نے دعوت دینا ترک کیا، تو آپ کا زیادہ حق بنتا ہے کہ صبر کریں، کیونکہ آپ ان کے مقابلے میں بہت تھوڑا عرصہ ان میں رہے ہیں اور آپ پر ایمان لانے والے کہیں زیادہ ہیں۔ دوسرا فائدہ کفار کو تنبیہ ہے کہ انھیں عذاب میں تاخیر سے کسی دھوکے میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ اللہ تعالیٰ ہزار برس کی مہلت بھی دے دیا کرتا ہے، مگر کفر پر اصرار کرنے والی قوم پر آخر کار اس کا عذاب آ جاتا ہے، جیسا کہ نوح علیہ السلام کی قوم جب ظلم و تعدی سے باز نہ آئی تو طوفان نے انھیں آ لیا۔ {” فَاَخَذَهُمُ الطُّوْفَانُ وَ هُمْ ظٰلِمُوْنَ “} سے ظاہر ہے کہ طوفان کا باعث ان کا ظلم پر اصرار تھا، اگر وہ توبہ کر لیتے تو ان پر عذاب نہ آتا۔ ➌ بعض لوگوں کو نوح علیہ السلام کی اتنی عمر پر تعجب ہوتا ہے، مگر اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح قرآن مجید میں نوح علیہ السلام کی طویل عمر کا ذکر ہے، صحیح حدیث کے مطابق انسان کی پیدائش کی ابتدا میں اس کا قد بھی آج کے قد سے کہیں لمبا تھا۔ مدت ہائے دراز گزرنے کے ساتھ دونوں میں کمی آتی گئی۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ خَلَقَ اللّٰهُ آدَمَ عَلٰی صُوْرَتِهِ، طُوْلُهُ سِتُّوْنَ ذِرَاعًا… فَكُلُّ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَلٰی صُوْرَةِ آدَمَ، فَلَمْ يَزَلِ الْخَلْقُ يَنْقُصُ بَعْدُ حَتَّی الْآنَ ] [ بخاري، الاستئذان، باب بدء السلام: ۶۲۲۷ ] ” اللہ تعالیٰ نے آدم کو اس کی صورت پر پیدا کیا، اس کا طول (قد) ساٹھ ہاتھ تھا...... تو جو شخص بھی جنت میں جائے گا آدم کی صورت پر ہو گا۔ پھر بعد میں اب تک خلقت (کا قد) کم ہوتا چلا گیا۔“
فَاَنۡجَیۡنٰہُ وَ اَصۡحٰبَ السَّفِیۡنَۃِ وَ جَعَلۡنٰہَاۤ اٰیَۃً لِّلۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر نوحؑ کو اور کشتی والوں کو ہم نے بچا لیا اور اُسے دنیا والوں کے لیے ایک نشان عبرت بنا کر رکھ دیا
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر ہم نے انہیں اور کشتی والوں کو نجات دی اور اس واقعہ کو ہم نے تمام جہان کے لیے عبرت کا نشان بنا دیا
احمد رضا خان بریلوی
تو ہم نے اسے اور کشتی والوں کو بچالیا اور اس کشتی کو سارے جہاں کے لیے نشانی کیا
علامہ محمد حسین نجفی
پس ہم نے نوح کو اور کشتی والوں کو نجات دی اور اس (کشتی) کو تمام جہانوں کیلئے (اپنی ایک) نشانی بنا دیا۔
عبدالسلام بن محمد
پھر ہم نے اسے بچا لیا اور کشتی والوں کو بھی اور اسے جہانوں کے لیے ایک نشانی بنا دیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حوصلہ افزائی ٭٭

اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تسلی ہے۔ آپ کو خبر دی جاتی ہے کہ نوح علیہ السلام اتنی لمبی مدت تک اپنی قوم کو اللہ کی طرف بلاتے رہے۔ دن رات،پوشیدہ اور ظاہر ہر طرح آپ نے انہیں اللہ کے دین کی طرف دعوت دی۔ لیکن وہ اپنی سرکشی اور گمراہی میں ہی بڑھتے گئے۔ بہت ہی کم لوگ آپ پر ایمان لائے۔ آخرکار اللہ کا غضب ان پر بصورت طوفان آیا اور انہیں تہس نہس کر دیا تو اے پیغمبر آخرالزمان آپ اپنی قوم کی اس تکذیب کو نیا خیال نہ کریں۔ آپ اپنے دل کو رنجیدہ نہ کریں۔ ہدایت و ضلالت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ جن لوگوں کا جہنم میں جانا طے ہو چکا ہے انہیں تو کوئی بھی ہدایت نہیں دے سکتا۔ تمام نشانیاں گو دیکھ لیں لیکن انہیں ایمان نصیب نہیں ہو گا۔ بالآخر جیسے نوح علیہ السلام کو نجات ملی اور قوم ڈوب گئی اسی طرح آخر میں غلبہ آپ کا ہے اور آپ کے مخالفین پست ہوں گے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ چالیس سال کی عمر میں نوح علیہ السلام کو نبوت ملی اور نبوت کے بعد ساڑھے نو سو سال تک آپ نے اپنی قوم کو تبلیغ کی۔ طوفان کی عالمگیر ہلاکت کے بعد بھی نوح علیہ السلام ساٹھ سال تک زندہ رہے یہاں تک کہ بنو آدم کی نسل پھیل گئی اور دنیا میں یہ بکثرت نظر آنے لگے۔

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نوح علیہ السلام کی عمر کل ساڑھے نو سو سال کی تھی تین سو سال تو آپ کے بے دعوت ان میں گزرے،تین سو سال تک اللہ کی طرف اپنی قوم کو بلایا اور ساڑے تین سو سال بعد طوفان کے بعد زندہ رہے لیکن یہ قول غریب ہے اور آیت کے ظاہر الفاظ سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ آپ ساڑھے نو سو سال تک اپنی قوم کو اللہ کی وحدانیت کی طرف بلاتے رہے۔ عون بن ابی شداد کہتے ہیں کہ جب آپ کی عمر سو سال کی تھی اس وقت اللہ کی وحی آپ کو آئی اس کے بعد ساڑھے نو سو سال تک آپ لوگوں کو اللہ کی طرف بلاتے رہے اس کے بعد پھر ساڑھے تین سو سال کی عمر اور پائی۔ لیکن یہ بھی غریب قول ہے۔ زیادہ درست قول ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول نظر آتا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ ابن عمر نے مجاہدرحمہ اللہ سے پوچھا کہ نوح علیہ السلام اپنی قوم میں کتنی مدت تک رہے؟ انہوں نے کہا ساڑھے نو سو سال۔ آپ نے فرمایا کہ اس کے بعد سے لوگوں کے اخلاق اور ان کی عمریں اور عقلیں آج تک گھٹتی ہی چلی آئیں۔ جب قوم نوح پر اللہ کا غضب نازل ہوا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے اپنے نبی کو اور ایمان والوں کو جو آپ کے حکم سے طوفان سے پہلے کشتی میں سوار ہو چکے تھے بچا لیا۔ سورۃ ہود میں اس کی تفصیل گزر چکی ہے اس لیے یہاں دوبارہ وارد نہیں کرتے۔ ہم نے اس کشتی کو دنیا کے لیے نشان عبرت بنا دیا۔ یا تو خود اس کشتی کو جیسے قتادۃ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ اول اسلام تک وہ جودی پہاڑ پر تھی۔ یا یہ کہ کشتی کو دیکھ کر پھر پانی کے سفر کے لیے جو کشتیاں لوگوں نے بنائیں ان کو انہیں دیکھ کر اللہ کا وہ بچانا یاد آ جاتا ہے۔ جیسے فرمان ہے «وَآيَةٌ لَّهُمْ أَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّ‌يَّتَهُمْ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ وَخَلَقْنَا لَهُم مِّن مِّثْلِهِ مَا يَرْ‌كَبُونَ» ۱؎ [36-يس:41-42] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہماری قدرت کی نشانی ان کے لیے یہ بھی ہے کہ ہم نے ان کی نسل کو بھری ہوئی کشتی میں بٹھا دیا۔ اور ہم نے ان کے لیے اور اسی جیسی سواریاں بنا دیں۔ ‘ سورۃ الحاقہ میں فرمایا: جب پانی کا طوفان آیا تو ہم نے تمہیں کشتی میں سوار کر لیا۔ اور ان کا ذکر تمہارے لیے یادگار بنا دیا تاکہ جن کانوں کو اللہ نے یاد کی طاقت دی ہے وہ یاد رکھ لیں۔ یہاں شخص سے جنس کی طرف چڑھاؤ کیا ہے۔ جیسے «وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ وَجَعَلْنَاهَا رُ‌جُومًا لِّلشَّيَاطِينِ وَأَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابَ السَّعِيرِ‌» ۱؎ [67-الملك:5] ‏‏‏‏ والی آیت میں ہے کہ آسمان دنیا کے ستاروں کے باعث زینت آسمان ہونا بیان فرما کر ان کی وضاحت میں شہاب کا شیطانوں کے لیے رجم ہونا بیان فرمایا ہے۔

اور آیت میں انسان کے مٹی سے پیدا ہونے کا ذکر کر کے فرمایا ہے پھر ہم نے اسے نطفے کی شکل میں قرار گاہ میں کر دیا۔ ہاں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آیت میں «ھا» کی ضمیر کا مرجع عقوبت اور سزا کو کیا جائے، «وَاللهُ اَعْلَمُ» (‏‏‏‏یہاں یہ خیال رہے کہ تفسیر ابن کثیر کے بعض نسخوں میں شروع تفسیر میں کچھ عبارت زیادہ ہے جو بعض نسخوں میں نہیں۔ وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نوح علیہ السلام کا ساڑھے نو سو سال تک آزمایا جانا بیان کیا اور ان کی قوم کو ان کی اطاعت کے ساتھ آزمانا بتلایا کہ ان کی تکذیب کی وجہ سے اللہ نے انہیں غرق کر دیا۔ پھر اس کے بعد جلا دیا۔ پھر قوم ابراہیم علیہ السلام کی آزمائش کا ذکر کیا کہ انہوں نے بھی اطاعت ومتابعت نہ کی پھر لوط علیہ السلام کی آزمائش کا ذکر کیا اور ان کی قوم کا حشر بیان فرمایا۔ پھر شعیب علیہ السلام کی قوم کے واقعات سامنے رکھے پھر عادیوں، ثمودیوں، قارونیوں، فرعونیوں، ہامانیوں وغیرہ کا ذکر کیا کہ اللہ پر ایمان نہ لانے اور اس کی توحید کو نہ ماننے کی وجہ سے انہیں بھی طرح طرح کی سزائیں دی گئیں۔ پھر اپنے پیغمبر اعظم المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین اور منافقین سے تکالیف سہنے کا ذکر کیا اور آپ کو حکم فرمایا کہ اہل کتاب سے بہترین طریق پر مناظرہ کریں۔)
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 15) ➊ {فَاَنْجَيْنٰهُ وَ اَصْحٰبَ السَّفِيْنَةِ:} یہ واقعہ سورۂ ہود (۳۷ تا ۴۸) میں تفصیل کے ساتھ مذکور ہے۔ ➋ { وَ جَعَلْنٰهَاۤ اٰيَةً لِّلْعٰلَمِيْنَ:} اس جملے کے کئی مطلب ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ ہم نے اس واقعہ کو تمام جہانوں کے لیے نشانی بنا دیا کہ جو بھی اسے سنے اس سے عبرت حاصل کرے۔ دوسرا یہ کہ ہم نے اس کشتی کو تمام جہانوں کے لیے نشانی بنا دیا کہ پانی میں غرق ہونے سے بچاؤ کا یہ طریقہ ہے۔ چنانچہ اس کے بعد تمام زمانوں میں انسان نے اس کی مانند کشتیاں بنا کر غرق ہونے سے بچنے کا اور سمندر میں سفر کا بندوبست کیا۔ یہ مضمون ان آیات میں بھی بیان کیا گیا ہے: «{ وَ اٰيَةٌ لَّهُمْ اَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّتَهُمْ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِ (41) وَ خَلَقْنَا لَهُمْ مِّنْ مِّثْلِهٖ مَا يَرْكَبُوْنَ (42) وَ اِنْ نَّشَاْ نُغْرِقْهُمْ فَلَا صَرِيْخَ لَهُمْ وَ لَا هُمْ يُنْقَذُوْنَ (43) اِلَّا رَحْمَةً مِّنَّا وَ مَتَاعًا اِلٰى حِيْنٍ }» [ یٰسٓ: ۴۱ تا ۴۴ ] ”اور ایک نشانی ان کے لیے یہ ہے کہ بے شک ہم نے ان کی نسل کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا۔ اور ہم نے ان کے لیے اس جیسی کئی اور چیزیں بنائیں جن پر وہ سوار ہوتے ہیں۔ اور اگر ہم چاہیں تو انھیں غرق کر دیں، پھر نہ کوئی ان کی فریاد سننے والا ہو اور نہ وہ بچائے جائیں۔ مگر ہماری طرف سے رحمت اور ایک وقت تک فائدہ پہنچانے کی وجہ سے۔“ شاہ عبدالقادر لکھتے ہیں: ”جس وقت یہ سورت اتری ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت سے اصحاب کافروں کی ایذاؤں سے تنگ آکر جہاز پر سوار ہو کر ملک حبشہ کی طرف گئے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ ہجرت کر آئے تب وہ جہاز والے صحابہ بھی سلامتی سے آ ملے۔“ (موضح) گویا نوح علیہ السلام اور سفینۂ نوح کی تاریخ اس رنگ میں دہرائی گئی۔ تیسرا مطلب اس کا یہ ہو سکتا ہے کہ وہ کشتی صدیوں تک جودی پہاڑ کی چوٹی پر موجود رہی اور بعد کی نسلوں کو خبر دیتی رہی کہ اس سرزمین میں کبھی ایسا طوفان آیا تھا جس کی بدولت یہ اتنی بڑی کشتی پہاڑ کی چوٹی پر پہنچی۔ اب بھی اخباروں میں اس کشتی کی تلاش کے لیے مہمات روانہ ہونے کی خبریں آتی رہتی ہیں۔ اس مطلب کی تائید اللہ کے اس فرمان سے ہوتی ہے: «{ وَ حَمَلْنٰهُ عَلٰى ذَاتِ اَلْوَاحٍ وَّ دُسُرٍ (13) تَجْرِيْ بِاَعْيُنِنَا جَزَآءً لِّمَنْ كَانَ كُفِرَ (14) وَ لَقَدْ تَّرَكْنٰهَاۤ اٰيَةً فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ }» [ القمر: ۱۳ تا ۱۵ ] ”اور ہم نے اسے تختوں اور میخوں والی (کشتی) پر سوار کر دیا۔ جو ہماری آنکھوں کے سامنے چل رہی تھی، اس شخص کے بدلے کی خاطر جس کا انکار کیاگیا تھا۔ اور بلاشبہ یقینا ہم نے اسے ایک نشانی بنا کر چھوڑا، تو کیا ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا؟“ چوتھا مطلب اس کا یہ ہو سکتا ہے کہ ہم نے نوح علیہ السلام اور کشتی میں سوار لوگوں کو نجات دی اور اس نجات کو تمام جہانوں کے لیے نشانی بنا دیا، جو کئی لحاظ سے نشانی تھی، ایک یہ کہ طوفان آنے سے پہلے کشتی تیار ہو گئی، دوسرا یہ کہ نوح علیہ السلام نے اپنا اور کشتی میں موجود تمام انسانوں اور جانوروں کی خوراک کا ذخیرہ کر لیا، تیسرا یہ کہ خوراک ختم ہونے سے پہلے پہلے پانی زمین میں جذب ہو کر خشک ہو گیا، جب کہ اتنا بڑا سمندر جو پہاڑوں کی بلندی کے برابر گہرا ہو، اتنی مدت میں کبھی خشک نہیں ہوتا، اگر اتنی جلدی پانی جذب نہ ہوتا تو ان میں سے کوئی زندہ باقی نہ رہتا، چوتھا یہ کہ وہ کشتی اتنی مدت تک ہوا کے تھپیڑوں اور خطرناک بحری جانوروں کے حملوں سے بھی محفوظ رہی۔ ان تمام باتوں میں کشتی کا یا کشتی والوں کا کچھ کمال نہ تھا، یہ ہم تھے جنھوں نے ان تمام چیزوں کا اہتمام کر کے نوح علیہ السلام اور کشتی والوں کو نجات دی اور اس نجات کو تمام جہانوں کے لیے نشانی بنا دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ان چاروں مطالب میں کوئی تضاد نہیں، چاروں بیک وقت مراد ہو سکتے ہیں۔
وَ اِبۡرٰہِیۡمَ اِذۡ قَالَ لِقَوۡمِہِ اعۡبُدُوا اللّٰہَ وَ اتَّقُوۡہُ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور ابراہیمؑ کو بھیجا جبکہ اُس نے اپنی قوم سے کہا "اللہ کی بندگی کرو اور اُس سے ڈرو یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی اپنی قوم سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اوراس سے ڈرتے رہو، اگر تم میں دانائی ہے تو یہی تمہارے لیے بہتر ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور ابراہیم کو جب اس نے اپنی قوم سے فرمایا کہ اللہ کو پوجو اور اس سے ڈرو، اس میں تمہارا بھلا ہے اگر تم جانتے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور (ہم نے) ابراہیم کو (بھیجا) جبکہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس (کی نافرمانی) سے ڈرو اگر تم کچھ سمجھ رکھتے ہو تو یہ تمہارے لئے بہتر ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ابراہیم کو جب اس نے اپنی قوم سے کہا اللہ کی عبادت کرو اور اس سے ڈرو، یہ تمھارے لیے بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ریاکاری سے بچو ٭٭

امام الموحدین ابوالمرسلین خلیل اللہ علیہ السلام کا بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے اپنی قوم کو توحید اللہ کی دعوت دی ریاکاری سے بچنے اور دل میں پرہیزگاری قائم کرنے کا حکم دیا اس کی نعمتوں پر شکر گزاری کرنے کو فرمایا۔ اور اس کا نفع بھی بتایا کہ دنیا اور آخرت کی برائیاں اس سے دور ہو جائیں گی اور دونوں جہاں کی نعمتیں اس سے مل جائیں گی۔ ساتھ ہی انہیں بتایا کہ جن بتوں کی تم پرستش کر رہے ہو۔ یہ تو بےضرر اور بے نفع ہے تم نے خود ہی ان کے نام اور ان کے اجسام تراش لیے ہیں۔ وہ تو تمہاری طرح مخلوق ہیں بلکہ تم سے بھی کمزور ہیں۔ یہ تمہاری روزیوں کے بھی مختار نہیں۔ اللہ ہی سے روزیاں طلب کرو۔ اسی حصہ کے ساتھ آیت «إِيّاكَ نَعبُدُ وَإِيّاكَ نَستَعينُ» ۱؎ [1-الفاتحة:5] ‏‏‏‏ بھی ہے کہ ’ ہم سب تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد چاہتے ہیں۔ ‘ یہی آسیہ رضی اللہ عنہا کی دعا میں ہے آیت «رَ‌بِّ ابْنِ لِي عِندَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ» ۱؎ [66-التحريم:11] ‏‏‏‏ ’ اے اللہ! میرے لیے اپنے پاس ہی جنت میں مکان بنا ‘۔ چونکہ اس کے سوا کوئی رزق نہیں دے سکتا اس لیے تم اسی سے روزیاں طلب کرو اور جب اس کی روزیاں کھاؤ تو اس کے سوا دوسرے کی عبادت نہ کرو۔ اس کی نعمتوں کا شکر بجالاؤ۔ تم میں سے ہر ایک اسی کی طرف لوٹنے والا ہے۔ وہ ہر عامل کو اس کے عمل کا بدلہ دے گا۔ دیکھو مجھے جھوٹا کہہ کر خوش نہ ہو۔ نظریں ڈالو کہ تم سے پہلے جنہوں نے نبیوں کو جھوٹ کی طرف منسوب کیا تھا ان کی کیسی درگت ہوئی؟ یاد رکھو نبیوں کا کام صرف پیغام الٰہی پہنچا دینا ہے۔ ہدایت عدم ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے۔ اپنے آپ کو سعات مندوں میں بناؤ بدبختوں میں شامل نہ کرو۔ قتادہ رحمہ اللہ تو فرماتے ہیں اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مزید تشفی کی گئی ہے اس مطلب کا تقاضا تو یہ ہے کہ پہلا کام ختم ہوا۔ اور یہاں سے لے کر آیت «فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ إِلَّا أَن قَالُوا اقْتُلُوهُ أَوْ حَرِّ‌قُوهُ فَأَنجَاهُ اللَّـهُ مِنَ النَّارِ‌ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ» تک یہ سب عبارت بطور جملہ معترضہ کے ہے۔ ابن جریر رحمہ اللہ نے تو کھلے لفظوں میں یہی کہا ہے۔ لیکن الفاظ قرآن سے تو بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب کلام خلیل االرحمٰن علیہ السلام کا ہے آپ قیامت کے قائم ہونے کی دلیلیں پیش کر رہے ہیں کیونکہ اس تمام کلام کے بعد آپ کی قوم کا جواب ذکر ہوا ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 16) ➊ {وَ اِبْرٰهِيْمَ اِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ اعْبُدُوا اللّٰهَ …:” اِبْرٰهِيْمَ “} کا عطف {” نُوْحًا “} پر ہے اور یہ {” اَرْسَلْنَا “} کا مفعول ہے، یعنی ”اور ہم نے ابراہیم کو بھیجا۔“ بعض مفسرین نے اسے {”اُذْكُرْ“} کا مفعول بنایا ہے کہ ابراہیم کو یاد کر۔ اگرچہ یہ بھی ہو سکتا ہے، مگر آگے آیت (۳۶) میں {” وَ اِلٰى مَدْيَنَ اَخَاهُمْ شُعَيْبًا “} سے ظاہر ہے کہ راجح یہی ہے کہ یہ {” اَرْسَلْنَا “} کا مفعول ہے۔ ابراہیم علیہ السلام کے واقعہ کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (رکوع ۱۵، ۱۶ اور ۳۵)، آل عمران(رکوع ۷)، انعام (رکوع۹)، ہود (رکوع۷)، ابراہیم (رکوع ۶)، حجر (رکوع ۴)، مریم (رکوع۳)، انبیاء (رکوع ۵)، شعراء (۵)، صافات (رکوع ۳)، زخرف (رکوع ۳) اور ذاریات (رکوع ۲)۔ ➋ نوح علیہ السلام کے بعد ابراہیم علیہ السلام کا ذکر فرمایا، کیونکہ ان کی آزمائش بھی بہت بڑی تھی، انھیں آگ میں پھینک دیا گیا، ہجرت کرنا پڑی اور اللہ تعالیٰ نے انھیں کئی باتوں کے ساتھ آزمایا اور وہ سب میں پورے اترے۔ (دیکھیے بقرہ: ۱۲۴) ان آزمائشوں میں بہت بڑی آزمائش اس قوم کو توحید کی دعوت دینا تھی جو بت پرست تھی۔ ابراہیم علیہ السلام نے انھیں حکم دیا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس سے ڈرو، یعنی اس بات سے ڈرو کہ اگر تم نے اس کی عبادت نہ کی، اس کا حکم نہ مانا یا کسی غیر کو اس کا شریک بنایا تو وہ تمھیں عذاب دے گا۔ ➌ { ذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ:خَيْرٌ “} اصل میں {” أَخْيَرُ “} ہے جو اسم تفضیل کا صیغہ ہے، زیادہ اچھا، مگر یہاں تفضیل کا معنی مراد نہیں، کیونکہ توحید شرک سے زیادہ اچھی نہیں بلکہ توحید ہی اچھی ہے، شرک میں کسی طرح کی کوئی اچھائی نہیں۔ (سعدی) یا یہ مطلب ہے کہ تم جو کچھ بھی کر رہے ہو اورتمھارے خیال میں اس میں کسی قسم کی خیر ہے، لیکن اللہ کی عبادت اور اسی سے ڈرنا ہر حال میں اس سے کہیں اچھا ہے (اگرچہ فی الواقع بتوں کی عبادت میں کوئی خیر نہیں)۔ (آلوسی) ➍ {اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ:} یعنی اگر تمھیں کچھ بھی علم ہو۔ معلوم ہوا شرک میں وہی گرفتار ہوتا ہے جو علم سے بالکل محروم ہوتا ہے۔
اِنَّمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ اَوۡثَانًا وَّ تَخۡلُقُوۡنَ اِفۡکًا ؕ اِنَّ الَّذِیۡنَ تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ لَا یَمۡلِکُوۡنَ لَکُمۡ رِزۡقًا فَابۡتَغُوۡا عِنۡدَ اللّٰہِ الرِّزۡقَ وَ اعۡبُدُوۡہُ وَ اشۡکُرُوۡا لَہٗ ؕ اِلَیۡہِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴿۱۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تم اللہ کو چھوڑ کر جنہیں پوج رہے ہو وہ تو محض بت ہیں اور تم ایک جھوٹ گھڑ رہے ہو در حقیقت اللہ کے سوا جن کی تم پرستش کرتے ہو وہ تمہیں کوئی رزق بھی دینے کا اختیار نہیں رکھتے اللہ سے رزق مانگو اور اُسی کی بندگی کرو اور اس کا شکر ادا کرو، اسی کی طرف تم پلٹائے جانے والے ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
تم تو اللہ تعالیٰ کے سوا بتوں کی پوجا پاٹ کر رہے ہو اور جھوٹی باتیں دل سے گھڑ لیتے ہو۔ سنو! جن جنکی تم اللہ تعالیٰ کے سوا پوجا پاٹ کر رہے ہو وه تو تمہاری روزی کے مالک نہیں پس تمہیں چاہئے کہ تم اللہ تعالیٰ ہی سے روزیاں طلب کرو اور اسی کی عبادت کرو اور اسی کی شکر گزاری کرو اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے
احمد رضا خان بریلوی
تم تو اللہ کے سوا بتوں کو پوجتے ہو اور نرا جھوٹ گڑ ھتے ہو بے شک وه جنھیں تم اللہ کے سوا پو جتے ہو تمہاری روزی کے کچھ مالک نہیں تو اللہ کے پاس رزق ڈھونڈو اور اس کی بندگی کرو اور اس کا احسان مانو، تمہیں اسی کی طرف پھرنا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
تم اللہ کو چھوڑ کر محض بتوں کی پرستش کرتے ہو اور تم ایک جھوٹ گھڑتے ہو۔ بےشک یہ جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو وہ تمہاری روزی کے مالک و مختار نہیں ہیں۔ پس تم اللہ سے روزی طلب کرو اور اسی کی عبادت کرو اور اسی کا شکر ادا کرو۔ اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤگے۔
عبدالسلام بن محمد
تم اللہ کے سوا چند بتوں ہی کی تو عبادت کرتے ہو اور تم سراسر جھوٹ گھڑتے ہو۔ بلاشبہ اللہ کے سوا جن کی تم عبادت کرتے ہو تمھارے لیے کسی رزق کے مالک نہیں ہیں، سو تم اللہ کے ہاں ہی رزق تلاش کرو اور اس کی عبادت کرو اور اس کا شکر کرو، اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ریاکاری سے بچو ٭٭

امام الموحدین ابوالمرسلین خلیل اللہ علیہ السلام کا بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے اپنی قوم کو توحید اللہ کی دعوت دی ریاکاری سے بچنے اور دل میں پرہیزگاری قائم کرنے کا حکم دیا اس کی نعمتوں پر شکر گزاری کرنے کو فرمایا۔ اور اس کا نفع بھی بتایا کہ دنیا اور آخرت کی برائیاں اس سے دور ہو جائیں گی اور دونوں جہاں کی نعمتیں اس سے مل جائیں گی۔ ساتھ ہی انہیں بتایا کہ جن بتوں کی تم پرستش کر رہے ہو۔ یہ تو بےضرر اور بے نفع ہے تم نے خود ہی ان کے نام اور ان کے اجسام تراش لیے ہیں۔ وہ تو تمہاری طرح مخلوق ہیں بلکہ تم سے بھی کمزور ہیں۔ یہ تمہاری روزیوں کے بھی مختار نہیں۔ اللہ ہی سے روزیاں طلب کرو۔ اسی حصہ کے ساتھ آیت «إِيّاكَ نَعبُدُ وَإِيّاكَ نَستَعينُ» ۱؎ [1-الفاتحة:5] ‏‏‏‏ بھی ہے کہ ’ ہم سب تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد چاہتے ہیں۔ ‘ یہی آسیہ رضی اللہ عنہا کی دعا میں ہے آیت «رَ‌بِّ ابْنِ لِي عِندَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ» ۱؎ [66-التحريم:11] ‏‏‏‏ ’ اے اللہ! میرے لیے اپنے پاس ہی جنت میں مکان بنا ‘۔ چونکہ اس کے سوا کوئی رزق نہیں دے سکتا اس لیے تم اسی سے روزیاں طلب کرو اور جب اس کی روزیاں کھاؤ تو اس کے سوا دوسرے کی عبادت نہ کرو۔ اس کی نعمتوں کا شکر بجالاؤ۔ تم میں سے ہر ایک اسی کی طرف لوٹنے والا ہے۔ وہ ہر عامل کو اس کے عمل کا بدلہ دے گا۔ دیکھو مجھے جھوٹا کہہ کر خوش نہ ہو۔ نظریں ڈالو کہ تم سے پہلے جنہوں نے نبیوں کو جھوٹ کی طرف منسوب کیا تھا ان کی کیسی درگت ہوئی؟ یاد رکھو نبیوں کا کام صرف پیغام الٰہی پہنچا دینا ہے۔ ہدایت عدم ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے۔ اپنے آپ کو سعات مندوں میں بناؤ بدبختوں میں شامل نہ کرو۔ قتادہ رحمہ اللہ تو فرماتے ہیں اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مزید تشفی کی گئی ہے اس مطلب کا تقاضا تو یہ ہے کہ پہلا کام ختم ہوا۔ اور یہاں سے لے کر آیت «فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ إِلَّا أَن قَالُوا اقْتُلُوهُ أَوْ حَرِّ‌قُوهُ فَأَنجَاهُ اللَّـهُ مِنَ النَّارِ‌ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ» تک یہ سب عبارت بطور جملہ معترضہ کے ہے۔ ابن جریر رحمہ اللہ نے تو کھلے لفظوں میں یہی کہا ہے۔ لیکن الفاظ قرآن سے تو بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب کلام خلیل االرحمٰن علیہ السلام کا ہے آپ قیامت کے قائم ہونے کی دلیلیں پیش کر رہے ہیں کیونکہ اس تمام کلام کے بعد آپ کی قوم کا جواب ذکر ہوا ہے۔
17-1اوثان وثن کی جمع ہے۔ جس طرح اصنام، صنم کی جمع ہے۔ دونوں کے معنی بت کے ہیں۔ بعض کہتے ہیں صنم، سونے، چاندی، پیتل اور پتھر کی مورت کو اور وثن مورت کو بھی اور چونے کے پتھر وغیرہ کے بنے ہوئے آستانوں کو بھی کہتے ہیں۔ تحلقون افکا کے معنی ہیں تکذبون کذبا، جیسا کہ متن کے ترجمہ سے واضح ہے۔ دوسرے معنی ہیں تعملونہا وتنحتونہا للافک، جھوٹے مقصد کے لیے انھیں بناتے اور گھڑتے ہو۔ مفہوم کے اعتبار سے دونوں ہی معنی صحیح ہیں۔ یعنی اللہ کو چھوڑ کر جن بتوں کی عبادت کرتے ہو، وہ تو پتھر کے بنے ہوئے ہیں جو سن سکتے ہیں نہ دیکھ سکتے ہیں، نقصان پہنچا سکتے ہیں نہ نفع۔ اپنے دل سے ہی تم نے انھیں گھڑ لیا ہے کوئی دلیل تو ان کی صداقت کی تمہارے پاس نہیں ہے یہ بت تم نے خود اپنے ہاتھوں سے تراشے ہیں جب کہ ان کی ایک خاص شکل و صورت بن جاتی ہے تو تم سمجھتے ہو کہ ان میں خدائی اختیارات آگئے ہیں اور ان سے تم امیدیں وابستہ کر کے انھیں حاجت روا اور مشکل کشا باور کرلیتے ہو۔ 17-2یعنی جب بت تمہاری روزی کے اسباب و وسائل میں سے کسی بھی چیز کے مالک نہیں ہیں، نہ بارش برسا سکتے ہیں، نہ زمین میں درخت اگا سکتے ہیں اور نہ سورج کی حرارت پہنچا سکتے ہیں اور نہ تمہیں وہ صلاحیتیں دے سکتے ہیں، جنہیں بروئے کار لا کر تم قدرت کی ان چیزوں سے فیض یاب ہوتے ہو، تو پھر تم روزی اللہ ہی سے طلب کرو، اسی کی عبادت اور اسی کی شکر گزاری کرو۔ 17-3یعنی مر کر اور پھر دوبارہ زندہ ہو کر جب اسی کی طرف لوٹنا ہے، اسی کی بارگاہ میں پیش ہونا ہے تو پھر اس کا در چھوڑ کر دوسروں کے در پر اپنی جبین نیاز کیوں جھکاتے ہو؟ اس کے بجائے دوسروں کی عبادت کیوں کرتے ہو؟ اور دوسروں کو حاجت روا اور مشکل کشا کیوں سمجھتے ہو؟
(آیت 17) ➊ {اِنَّمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا:} قرآن مجید میں بتوں کے لیے تین الفاظ استعمال ہوئے ہیں: (1) {”صَنَمٌ“} اس کی جمع {”أَصْنَامٌ“} ہے، معنی ہے وہ بت جو قابل انتقال اور قابل فروخت ہوں، خواہ وہ پیتل یا لوہے یا چاندی کے ہوں، یا لکڑی کے یا پتھر کے اور {”صِنَاعَةُ الْأَصْنَامِ“} کا معنی ہے بت تراشی کا فن، جیسے ابراہیم علیہ السلام کا باپ بت تراش بھی تھا اور بت فروش بھی۔ (2) {”نَصَبٌ“} اس کی جمع {”أَنْصَابٌ“} ہے، معنی ہے ایسے بت یا مجسّمے جنھیں پوجا پاٹ کے لیے نصب کر دیا گیا ہو، جیسے مشرکین مکہ کے بت لات، منات، عزیٰ اور ہبل وغیرہ تھے۔ (3) {” أَوْثَانٌ “} یہ {”وَثَنٌ“} کی جمع ہے، وثن کا تعلق زیادہ تر مقامات سے ہوتا ہے، یعنی آستانے وغیرہ، خواہ وہاں بت نصب ہوں یا نہ ہوں۔ بعض دفعہ بعض مخصوص مقامات پر پتھروں، درختوں (مثلاً پیپل وغیرہ)، ستاروں (مثلاً قطب وغیرہ) یا دریاؤں (مثلاً گنگا وغیرہ) سے الٰہی صفات کا عقیدہ رکھ کر ان کی پرستش شروع کر دی جاتی ہے اور ایسے مقامات بسا اوقات کسی بزرگ یا کسی ولی یا کسی بت سے منسوب ہوتے ہیں۔ ابراہیم علیہ السلام نے جو {” اَوْثَانًا “} کا ذکر کیا تو اس سے مراد ان کی قوم کے بت خانے ہیں جن میں بت از خود شامل ہیں۔ (کیلانی) وہ قبریں بھی ”اوثان“ میں شامل ہیں جن کی عبادت کی جائے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ اَللّٰهُمَّ لاَ تَجْعَلْ قَبْرِيْ وَثَنًا يُّعْبَدُ، لَعَنَ اللّٰهُ قَوْمًا اتَّخَذُوْا قُبُوْرَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ ] [ مسند أحمد: 246/2، ح: ۷۳۷۶، عن أبي ھریرۃ رضی اللہ عنہ، قال المحقق و إسنادہ قوي۔ الموطأ: 172/1، ح: ۴۱۴ ] ”اے اللہ! میری قبر کو وثن (بت) نہ بنانا، جس کی عبادت کی جائے۔ اللہ ان لوگوں پر لعنت فرمائے جنھوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہیں بنا لیا۔“ ➋ { وَ تَخْلُقُوْنَ اِفْكًا:} یعنی تم لوگ بت نہیں گھڑتے بلکہ جھوٹ کا پلندہ گھڑتے ہو، ان بتوں اور بت خانوں سے تم کئی قصے اور کہانیاں خود گھڑ کر ان سے منسوب کر دیتے ہو۔ مثلاً اگر فلاں آستانے پر مہینے میں ایک دفعہ دودھ کا چڑھاوا نہ چڑھایا جائے تو جانور بیمار پڑ جاتے ہیں یا مر جاتے ہیں، یا فلاں آستانے کی گستاخی یا توہین کا انجام اتنا خطرناک ہوتا ہے، یا فلاں بت خانے یا مزار پر حاضری دینے سے رزق میں فراوانی ہو جاتی ہے، لہٰذا تم جو ان بتوں کو گھڑتے ہو تو ساتھ ہی جھوٹ کے پلندے بھی گھڑتے ہو، ورنہ صرف بت گھڑنے کا تمھیں کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔ (کیلانی) ➌ { اِنَّ الَّذِيْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ …:} اس آیت میں اور اس سے پہلی آیت میں ابراہیم علیہ السلام نے شرک کے ابطال پر تین دلائل قوم کے سامنے رکھے، ایک یہ کہ یہ بت تمھارے اپنے گھڑے ہوئے ہیں، گویا تم اللہ کی مخلوق ہو اور یہ تمھاری مخلوق ہیں اور الٰہ کی سب سے اہم صفت یہ ہے کہ وہ خالق ہے باقی سب اس کی مخلوق ہے اور جو مخلوق ہے وہ الٰہ نہیں ہو سکتا اور یہ الٰہ تو مخلوق در مخلوق ہیں، یہ الٰہ کیسے بن گئے؟ دوسری دلیل یہ ہے کہ ان بتوں کے نفع یا نقصان سے متعلق تمھیں خود ہی داستانیں اور قصے کہانیاں تراشنا پڑتی ہیں۔ اگر تمھارے ان قصے کہانیوں کو ان سے علیحدہ کر دیا جائے تو باقی یہ پتھر کے پتھر یا بے جان مادّے ہی رہ جاتے ہیں اور ایسے مادّے الٰہ کیسے ہو سکتے ہیں؟ تیسری دلیل یہ ہے کہ یہ تمھیں رزق کیا دیں گے، رزق تو تم خود ان کے آگے چڑھاووں اور نذروں نیازوں کی صورت میں رکھتے ہو، چاہو تو تم ان کے آگے رزق رکھ دو، چاہو تو اٹھا لو اور چاہو تو ان کے اوپر مل دو۔ لہٰذا ایسے غلط عقائد ان سے منسوب نہ کرو اور رزق مانگنا ہے تو اللہ سے مانگو اور جس کا کھاؤ اسی کا گن گاؤ، اسی کی عبادت کرو اور اسی کا شکربجا لاؤ۔ (کیلانی) شاہ عبدالقادر لکھتے ہیں: ”اکثر خلق روزی کے پیچھے ایمان دیتی ہے، سو جان رکھو کہ اللہ کے سوا کوئی روزی نہیں دیتا اپنی خوشی کے موافق۔“ (موضح) ➍ { اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ:} یعنی بالآخر تمھیں اللہ کی طرف پلٹنا ہے اور تمھارا انجام اسی کے ہاتھ میں ہے، ان بتوں کی طرف نہ تم نے پلٹنا ہے، نہ تمھارا انجام ان کے ہاتھ میں ہے، لہٰذا تمھیں عبادت تو اس کی کرنی چاہیے جو تمھاری عاقبت کو سنوار سکتا ہے اور رزق بھی اسی سے مانگنا چاہیے۔
وَ اِنۡ تُکَذِّبُوۡا فَقَدۡ کَذَّبَ اُمَمٌ مِّنۡ قَبۡلِکُمۡ ؕ وَ مَا عَلَی الرَّسُوۡلِ اِلَّا الۡبَلٰغُ الۡمُبِیۡنُ ﴿۱۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور اگر تم جھٹلاتے ہو تو تم سے پہلے بہت سی قومیں جھٹلا چکی ہیں، اور رسول پر صاف صاف پیغام پہنچا دینے کے سوا کوئی ذمّہ داری نہیں ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اگر تم جھٹلاؤ تو تم سے پہلے کی امتوں نے بھی جھٹلایا ہے، رسول کے ذمہ تو صرف صاف طور پر پہنچا دینا ہی ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور اگر تم جھٹلاؤ تو تم سے پہلے کتنے ہی گروہ جھٹلا چکے ہیں اور رسول کے ذمہ نہیں مگر صاف پہنچا دینا،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اگر تم (مجھے) جھٹلاتے ہو (تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے) تم سے پہلے بھی کئی امتیں (اپنے پیغمبروں کو) جھٹلا چکی ہیں اور رسول کی ذمہ داری صرف واضح تبلیغ کرنا ہے۔ و بس۔
عبدالسلام بن محمد
اور اگر تم جھٹلاؤ تو تم سے پہلے کئی امتیں جھٹلا چکی ہیں اور رسول کے ذمے تو کھلم کھلا پہنچا دینے کے سوا کچھ نہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ریاکاری سے بچو ٭٭

امام الموحدین ابوالمرسلین خلیل اللہ علیہ السلام کا بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے اپنی قوم کو توحید اللہ کی دعوت دی ریاکاری سے بچنے اور دل میں پرہیزگاری قائم کرنے کا حکم دیا اس کی نعمتوں پر شکر گزاری کرنے کو فرمایا۔ اور اس کا نفع بھی بتایا کہ دنیا اور آخرت کی برائیاں اس سے دور ہو جائیں گی اور دونوں جہاں کی نعمتیں اس سے مل جائیں گی۔ ساتھ ہی انہیں بتایا کہ جن بتوں کی تم پرستش کر رہے ہو۔ یہ تو بےضرر اور بے نفع ہے تم نے خود ہی ان کے نام اور ان کے اجسام تراش لیے ہیں۔ وہ تو تمہاری طرح مخلوق ہیں بلکہ تم سے بھی کمزور ہیں۔ یہ تمہاری روزیوں کے بھی مختار نہیں۔ اللہ ہی سے روزیاں طلب کرو۔ اسی حصہ کے ساتھ آیت «إِيّاكَ نَعبُدُ وَإِيّاكَ نَستَعينُ» ۱؎ [1-الفاتحة:5] ‏‏‏‏ بھی ہے کہ ’ ہم سب تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد چاہتے ہیں۔ ‘ یہی آسیہ رضی اللہ عنہا کی دعا میں ہے آیت «رَ‌بِّ ابْنِ لِي عِندَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ» ۱؎ [66-التحريم:11] ‏‏‏‏ ’ اے اللہ! میرے لیے اپنے پاس ہی جنت میں مکان بنا ‘۔ چونکہ اس کے سوا کوئی رزق نہیں دے سکتا اس لیے تم اسی سے روزیاں طلب کرو اور جب اس کی روزیاں کھاؤ تو اس کے سوا دوسرے کی عبادت نہ کرو۔ اس کی نعمتوں کا شکر بجالاؤ۔ تم میں سے ہر ایک اسی کی طرف لوٹنے والا ہے۔ وہ ہر عامل کو اس کے عمل کا بدلہ دے گا۔ دیکھو مجھے جھوٹا کہہ کر خوش نہ ہو۔ نظریں ڈالو کہ تم سے پہلے جنہوں نے نبیوں کو جھوٹ کی طرف منسوب کیا تھا ان کی کیسی درگت ہوئی؟ یاد رکھو نبیوں کا کام صرف پیغام الٰہی پہنچا دینا ہے۔ ہدایت عدم ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے۔ اپنے آپ کو سعات مندوں میں بناؤ بدبختوں میں شامل نہ کرو۔ قتادہ رحمہ اللہ تو فرماتے ہیں اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مزید تشفی کی گئی ہے اس مطلب کا تقاضا تو یہ ہے کہ پہلا کام ختم ہوا۔ اور یہاں سے لے کر آیت «فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ إِلَّا أَن قَالُوا اقْتُلُوهُ أَوْ حَرِّ‌قُوهُ فَأَنجَاهُ اللَّـهُ مِنَ النَّارِ‌ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ» تک یہ سب عبارت بطور جملہ معترضہ کے ہے۔ ابن جریر رحمہ اللہ نے تو کھلے لفظوں میں یہی کہا ہے۔ لیکن الفاظ قرآن سے تو بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب کلام خلیل االرحمٰن علیہ السلام کا ہے آپ قیامت کے قائم ہونے کی دلیلیں پیش کر رہے ہیں کیونکہ اس تمام کلام کے بعد آپ کی قوم کا جواب ذکر ہوا ہے۔
18-1یہ حضرت ابراہیم ؑ کا قول بھی ہوسکتا ہے، جو انہوں نے اپنی قوم سے کہا۔ یا اللہ تعالیٰ کا قول ہے جس میں اہل مکہ سے خطاب ہے اور اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی جا رہی ہے کہ کفار مکہ اگر آپ کو جھٹلا رہے ہیں، تو اس سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے، پیغمبروں کے ساتھ یہی ہوتا آیا ہے پہلی امتیں بھی رسولوں کو جھٹلاتی اور اس کا نتیجہ بھی ہلاکت و تباہی کی صورت میں بھگتتی رہی ہیں۔ 18-2اس لیے آپ بھی تبلیغ کا کام کرتے رہیے۔ اس سے کوئی راہ یاب ہوتا ہے یا نہیں؟ اس کے ذمے دار آپ نہیں ہیں، نہ آپ سے اسکی بابت پوچھا ہی جائے گا، کیونکہ ہدایت دینا نہ دینا یہ صرف اللہ کے اختیار میں ہے، جو اپنی سنت کے مطابق جس میں ہدایت کی طلب صادق دیکھتا ہے، اس کو ہدایت سے نواز دیتا ہے۔ دوسروں کو ضلالت کی تاریکیوں میں بھٹکتا ہوا چھوڑ دیتا ہے۔
(آیت 18) ➊ {وَ اِنْ تُكَذِّبُوْا فَقَدْ كَذَّبَ اُمَمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ:} واؤ عطف سے ظاہر ہے کہ اس سے پہلے والا جملہ، جس پر اس جملے کا عطف ہے، وہ محذوف ہے، یعنی {”فَإِنْ تُصَدِّقُوْنِيْ فَقَدْ فُزْتُمْ بِسَعَادَةِ الدَّارَيْنِ“} ”سو اگر تم میری تصدیق کرو تو تم دنیا اور آخرت کی سعادت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔“ {” وَ اِنْ تُكَذِّبُوْا …“} اور اگر تم مجھے جھٹلا دو تو نصیحت کے لیے تمھارا یہ بات جاننا ہی کافی ہے کہ تم سے پہلے بہت سی امتوں نے اپنے انبیاء کو جھٹلایا، مثلاً قوم نوح، عاد، ثمود وغیرہ، تو ان کا انجام کیا ہوا۔ انھوں نے پیغمبروں کا کچھ بگاڑا یا اپنا انجام ہی خراب کیا؟ ➋ { وَ مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِيْنُ:} اور رسول کے ذمے اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ اللہ کا پیغام اس طرح پہنچا دے کہ اس میں کوئی شک باقی نہ رہے، کسی کے ماننے یا نہ ماننے کی اس پر کوئی ذمہ داری نہیں۔
اَوَ لَمۡ یَرَوۡا کَیۡفَ یُبۡدِئُ اللّٰہُ الۡخَلۡقَ ثُمَّ یُعِیۡدُہٗ ؕ اِنَّ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیۡرٌ ﴿۱۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کیا اِن لوگوں نے کبھی دیکھا ہی نہیں ہے کہ اللہ کس طرح خلق کی ابتدا کرتا ہے، پھر اُس کا اعادہ کرتا ہے؟ یقیناً یہ (اعادہ تو) اللہ کے لیے آسان تر ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ مخلوق کی ابتدا کس طرح اللہ نے کی پھر اللہ اس کا اعاده کرے گا، یہ تو اللہ تعالیٰ پر بہت ہی آسان ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور کیا انہوں نے نہ دیکھا اللہ کیونکر خلق کی ابتداء فرماتا ہے پھر اسے دوبارہ بنائے گا بیشک یہ اللہ کو آسان ہے
علامہ محمد حسین نجفی
کیا ان لوگوں نے نہیں دیکھا کہ اللہ کس طرح پہلی بار مخلوق کو پیدا کرتا ہے پھر کس طرح اسے دوبارہ پلٹاتا ہے؟ بےشک یہ بات اللہ کیلئے آسان ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ کس طرح اللہ خلق کی ابتدا کرتا ہے، پھر اسے دہرائے گا، بے شک یہ اللہ پر بہت آسان ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تمام نشانیاں ٭٭

دیکھتے ہیں کہ وہ کچھ نہ تھے پھر اللہ نے پیدا کر دیا لیکن تاہم مر کر جینے کے قائل نہیں حالانکہ اس پر کسی دلیل کی ضروت نہیں کہ جو ابتداءً پیدا کر سکتا ہے اس پر دوبارہ پیدا کرنا بہت ہی آسان ہے۔ پھر انہیں ہدایت کرتے ہیں کہ زمین اور نشانیوں پر غور کرو۔ آسمانوں کو، ستاروں کو، زمینوں کو، پہاڑوں کو،درختوں کو، جنگلوں کو، نہروں کو، دریاؤں کو،سمندروں کو، پھلوں کو، کھیتوں کو دیکھو تو سہی کہ یہ سب کچھ نہ تھا پھر اللہ نے سب کچھ کر دیا کیا یہ تمام نشانیاں اللہ کی قدرت کو تم پر ظاہر نہیں کرتیں؟ تم نہیں دیکھتے کہ اتنا بڑا صانع وقدیر اللہ کیا کچھ نہیں کر سکتا؟ وہ تو صرف ہو جا کے کہنے سے تمام کو رچا دیتا ہے وہ خود مختار ہے اسے اسباب کی ضرورت نہیں۔ اسی مضمون کو اور جگہ فرمایا کہ ’ وہی نئی پیدائش میں پیدا کرتا ہے وہی دوبارہ پیدا کرے گا اور یہ تو اس پر بہت آسان ہے۔ ‘ ۱؎ [30-الروم:27] ‏‏‏‏ پھر فرمایا: زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ اللہ نے ابتدائی پیدائش کس طرح کی تو تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ قیامت کے دن کی دوسری پیدائش کی کیا کیفیت ہو گی۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ جیسے فرمایا: ’ ہم انہیں دنیا کے ہر حصے میں اور خود ان کی اپنی جانوں میں اپنی نشانیاں اس قدر دکھائیں گے کہ ان پر حق ظاہر ہو جائے۔ ‘ ۱؎ [41-فصلت:53] ‏‏‏‏ اور جگہ ارشاد ہے «‏‏‏‏أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ‌ شَيْءٍ أَمْ هُمُ الْخَالِقُونَ أَمْ خَلَقُوا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضَ بَل لَّا يُوقِنُونَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [52-الطور:35-36] ‏‏‏‏ ’ کیا وہ بغیر کسی چیز کے پیدا کئے گئے یا وہی اپنے خالق ہیں؟ یا وہ آسمان و زمین کے خالق ہیں؟ کچھ نہیں بےیقین لوگ ہیں۔ ‘ یہ اللہ کی شان ہے کہ جسے چاہے عذاب کرے، جس پر چاہے رحم کرے، وہ حاکم ہے،قبضے والا ہے،جو چاہتا ہے کرتا ہے،جو ارادہ کرتا ہے جاری کر دیتا ہے، کوئی اس کے حکم کو ٹال نہیں سکتا کوئی اس کے ارادے کو بدل نہیں سکتا۔ کوئی اس سے چوں چرا نہیں کر سکتا، کوئی اس سے سوال نہیں کر سکتا اور وہ سب پر غالب ہے۔ جس سے چاہے پوچھ بیٹھے سب اس کے قبضے میں اس کی ماتحتی میں ہیں۔ خلق کا خالق امر کا مالک وہی ہے۔ اس نے جو کچھ کیا سراسر عدل ہے اس لیے کہ وہی مالک ہے وہ ظلم سے پاک ہے۔

حدیث شریف میں ہے: { اگر اللہ تعالیٰ ساتوں آسمان والوں اور زمین والوں کو عذاب کرے تب بھی وہ ظالم نہیں۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:4699،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ عذاب و رحم سب اس کی چیزیں ہیں۔ سب کے سب قیامت کے دن اس کی طرف لوٹائے جائیں گے اسی کے سامنے حاضر ہو کر پیش ہونگے۔ زمین والوں میں سے اور آسمان والوں میں سے کوئی اسے ہرا نہیں سکتا۔ بلکہ سب پر وہی غالب ہے۔ ہر ایک اس سے کانپ رہا ہے سب اس کے درد کے فقیر ہیں اور وہ سب سے غنی ہے۔ تمہارا کوئی ولی اور مددگار اس کے سوا نہیں۔ اللہ کی آیتوں سے کفر کرنے والے، اس کی ملاقات کو نہ ماننے والے، اللہ کی رحمت سے محروم ہیں اور ان کے لیے دنیا اور آخرت میں درد ناک الم افزا عذاب ہیں۔
19-1توحید اور رسالت کے اثبات کے بعد یہاں معاد (آخرت) کا اثبات کیا جا رہا ہے جس کا کفار انکار کرتے تھے۔ فرمایا پہلی مرتبہ پیدا کرنے والا بھی وہی ہے جب تمہارا سرے سے وجود ہی نہ تھا، پھر تم دیکھنے سننے اور سمجھنے والے بن گئے اور پھر جب مر کر تم مٹی میں مل جاؤ گے، بظاہر تمہارا نام و نشان تک نہیں رہے گا، اللہ تعالیٰ تمہیں دوبارہ زندہ فرمائے گا۔ 19-2یعنی یہ بات چاہے تمہیں کتنی ہی مشکل لگے، اللہ کے لئے بالکل آسان ہے۔
(آیت 19) ➊ { اَوَ لَمْ يَرَوْا كَيْفَ يُبْدِئُ اللّٰهُ الْخَلْقَ …:} ابن جریر اور بعض دوسرے مفسرین کے مطابق یہاں تک ابراہیم علیہ السلام کا اپنی قوم سے خطاب ہے اور یہاں سے آگے اللہ تعالیٰ کا کفار قریش سے خطاب ہے جو {” لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ “} تک چلا گیا ہے۔ اس کے بعد {” فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ “} سے پھر ابراہیم علیہ السلام کا قصہ شروع ہوتا ہے۔ جبکہ ابن کثیر فرماتے ہیں کہ{” فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ “} تک یہ سارا کلام ہی ابراہیم علیہ السلام کا ہے۔ مجھے بھی یہی بات راجح معلوم ہوتی ہے، کیونکہ اس میں نہ سلسلہ کلام توڑنا پڑتا ہے، نہ مطلب میں کوئی خلل آتا ہے، بلکہ ابراہیم علیہ السلام اپنی قوم کو توحید کے بعد آخرت کے دلائل سنا رہے ہیں جن کے جواب کا ذکر اس آیت میں ہے: «{ فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ …}» ویسے ابراہیم علیہ السلام کا یہ خطاب کفار قریش کے بھی عین حسب حال ہے، کیونکہ مشرک اقوام کے عقائد ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں۔ ➋ ابراہیم علیہ السلام کی قوم اور کفار مکہ دو بنیادی گمراہیوں میں مبتلا تھے، ایک اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک، دوسری آخرت کا انکار۔ پہلی گمراہی کا رد اوپر کی آیات میں آ چکا ہے، یہ دوسری گمراہی کا رد ہے۔ ➌ ابراہیم علیہ السلام نے دوبارہ زندہ ہونے کے ثبوت کے لیے خود ان کے وجود کو پیش فرمایا، جس کا مشاہدہ وہ ہر وقت کرتے رہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں اس وقت پیدا فرمایا جب کہیں ان کا ذکر تک نہ تھا۔ وجود میں آنے کے بعد وہ سننے دیکھنے والے انسان بن گئے، تو جس نے انھیں شروع میں پیدا فرمایا وہ انھیں دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہے، ({”إِنَّ“} تعلیل کے لیے آتا ہے) کیونکہ یہ کام اللہ تعالیٰ کے لیے بہت آسان ہے۔ دوسری جگہ فرمایا: «{ وَ هُوَ الَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَ هُوَ اَهْوَنُ عَلَيْهِ}» [ الروم: ۲۷ ] ”اور وہی ہے جو خلق کو پہلی بار پیدا کرتا ہے، پھراسے دوبارہ پیدا کرے گا اور وہ اسے زیادہ آسان ہے۔“ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”شروع تو دیکھتے ہو، دہرانا اسی سے سمجھ لو۔“
قُلۡ سِیۡرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ فَانۡظُرُوۡا کَیۡفَ بَدَاَ الۡخَلۡقَ ثُمَّ اللّٰہُ یُنۡشِیُٔ النَّشۡاَۃَ الۡاٰخِرَۃَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿ۚ۲۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ان سے کہو کہ زمین میں چلو پھرو اور دیکھو کہ اُس نے کس طرح خلق کی ابتدا کی ہے، پھر اللہ بار دیگر بھی زندگی بخشے گا یقیناً اللہ ہر چیز پر قادر ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
کہہ دیجئے! کہ زمین میں چل پھر کر دیکھو تو سہی کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے ابتداءً پیدائش کی۔ پھر اللہ تعالیٰ ہی دوسری نئی پیدائش کرے گا، اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ زمین میں سفر کرکے دیکھو اللہ کیونکر پہلے بناتا ہے پھر اللہ دوسری اٹھان اٹھاتا ہے بیشک اللہ سب کچھ کرسکتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
آپ کہئے! کہ زمین میں چلو پھرو پھر (غور سے) دیکھو کہ اللہ نے کس طرح مخلوق کو پہلی بار پیدا کیا؟ پھر (اسی طرح) اللہ پچھلی بار بھی پیدا کرے گا۔ بےشک اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ زمین میں چلو پھرو، پھر دیکھو اس نے کس طرح خلق کی ابتدا کی، پھر اللہ ہی دوسری پیدائش پیدا کرے گا، یقینا اللہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تمام نشانیاں ٭٭

دیکھتے ہیں کہ وہ کچھ نہ تھے پھر اللہ نے پیدا کر دیا لیکن تاہم مر کر جینے کے قائل نہیں حالانکہ اس پر کسی دلیل کی ضروت نہیں کہ جو ابتداءً پیدا کر سکتا ہے اس پر دوبارہ پیدا کرنا بہت ہی آسان ہے۔ پھر انہیں ہدایت کرتے ہیں کہ زمین اور نشانیوں پر غور کرو۔ آسمانوں کو، ستاروں کو، زمینوں کو، پہاڑوں کو،درختوں کو، جنگلوں کو، نہروں کو، دریاؤں کو،سمندروں کو، پھلوں کو، کھیتوں کو دیکھو تو سہی کہ یہ سب کچھ نہ تھا پھر اللہ نے سب کچھ کر دیا کیا یہ تمام نشانیاں اللہ کی قدرت کو تم پر ظاہر نہیں کرتیں؟ تم نہیں دیکھتے کہ اتنا بڑا صانع وقدیر اللہ کیا کچھ نہیں کر سکتا؟ وہ تو صرف ہو جا کے کہنے سے تمام کو رچا دیتا ہے وہ خود مختار ہے اسے اسباب کی ضرورت نہیں۔ اسی مضمون کو اور جگہ فرمایا کہ ’ وہی نئی پیدائش میں پیدا کرتا ہے وہی دوبارہ پیدا کرے گا اور یہ تو اس پر بہت آسان ہے۔ ‘ ۱؎ [30-الروم:27] ‏‏‏‏ پھر فرمایا: زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ اللہ نے ابتدائی پیدائش کس طرح کی تو تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ قیامت کے دن کی دوسری پیدائش کی کیا کیفیت ہو گی۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ جیسے فرمایا: ’ ہم انہیں دنیا کے ہر حصے میں اور خود ان کی اپنی جانوں میں اپنی نشانیاں اس قدر دکھائیں گے کہ ان پر حق ظاہر ہو جائے۔ ‘ ۱؎ [41-فصلت:53] ‏‏‏‏ اور جگہ ارشاد ہے «‏‏‏‏أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ‌ شَيْءٍ أَمْ هُمُ الْخَالِقُونَ أَمْ خَلَقُوا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضَ بَل لَّا يُوقِنُونَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [52-الطور:35-36] ‏‏‏‏ ’ کیا وہ بغیر کسی چیز کے پیدا کئے گئے یا وہی اپنے خالق ہیں؟ یا وہ آسمان و زمین کے خالق ہیں؟ کچھ نہیں بےیقین لوگ ہیں۔ ‘ یہ اللہ کی شان ہے کہ جسے چاہے عذاب کرے، جس پر چاہے رحم کرے، وہ حاکم ہے،قبضے والا ہے،جو چاہتا ہے کرتا ہے،جو ارادہ کرتا ہے جاری کر دیتا ہے، کوئی اس کے حکم کو ٹال نہیں سکتا کوئی اس کے ارادے کو بدل نہیں سکتا۔ کوئی اس سے چوں چرا نہیں کر سکتا، کوئی اس سے سوال نہیں کر سکتا اور وہ سب پر غالب ہے۔ جس سے چاہے پوچھ بیٹھے سب اس کے قبضے میں اس کی ماتحتی میں ہیں۔ خلق کا خالق امر کا مالک وہی ہے۔ اس نے جو کچھ کیا سراسر عدل ہے اس لیے کہ وہی مالک ہے وہ ظلم سے پاک ہے۔

حدیث شریف میں ہے: { اگر اللہ تعالیٰ ساتوں آسمان والوں اور زمین والوں کو عذاب کرے تب بھی وہ ظالم نہیں۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:4699،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ عذاب و رحم سب اس کی چیزیں ہیں۔ سب کے سب قیامت کے دن اس کی طرف لوٹائے جائیں گے اسی کے سامنے حاضر ہو کر پیش ہونگے۔ زمین والوں میں سے اور آسمان والوں میں سے کوئی اسے ہرا نہیں سکتا۔ بلکہ سب پر وہی غالب ہے۔ ہر ایک اس سے کانپ رہا ہے سب اس کے درد کے فقیر ہیں اور وہ سب سے غنی ہے۔ تمہارا کوئی ولی اور مددگار اس کے سوا نہیں۔ اللہ کی آیتوں سے کفر کرنے والے، اس کی ملاقات کو نہ ماننے والے، اللہ کی رحمت سے محروم ہیں اور ان کے لیے دنیا اور آخرت میں درد ناک الم افزا عذاب ہیں۔
20-1یعنی آفاق میں پھیلی ہوئی اللہ کی نشانیاں دیکھو زمین پر غور کرو، کس طرح اسے بچھایا، اس میں پہاڑ، وادیاں، نہریں اور سمندر بنائے، اسی انواع و اقسام کی روزیاں اور پھل پیدا کئے۔ کیا یہ سب چیزیں اس بات پر دلالت نہیں کرتیں کہ انھیں بنایا گیا ہے اور ان کا کوئی بنانے والا ہے؟
(آیت 20) { قُلْ سِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ …:} یعنی اپنی ذات کو چھوڑ کر دوسری چیزوں کی پیدائش میں بھی غور کرو اور چل پھر کر دیکھو۔ زمین اور آسمان کی نشانیوں پر غور کرو، آسمانوں کو، ستاروں کو، زمینوں کو، پہاڑوں کو، درختوں کو، جنگلوں کو، نہروں کو، دریاؤں کو، سمندروں کو،پھلوں کو، کھیتوں کو دیکھو تو سہی، یہ سب کچھ نہیں تھا، پھر اللہ نے سب کچھ پیدا کر دیا۔ یہ تمام نشانیاں اللہ تعالیٰ کی قدرت کو ظاہر کرتی ہیں، اسی پر دوسری زندگی کو قیاس کر لو۔ یقینا اللہ تعالیٰ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے، پہلی دفعہ پیدا کرنے پر بھی اور دوبارہ پیدا کرنے پر بھی۔ پچھلی آیت میں اپنے نفس اور اپنی ذات پر غور کرنے کا حکم دیا تھا، اس آیت میں آفاق پر غور کا حکم دیا۔
یُعَذِّبُ مَنۡ یَّشَآءُ وَ یَرۡحَمُ مَنۡ یَّشَآءُ ۚ وَ اِلَیۡہِ تُقۡلَبُوۡنَ ﴿۲۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جسے چاہے سزا دے اور جس پر چاہے رحم فرمائے، اُسی کی طرف تم پھیرے جانے والے ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
جسے چاہے عذاب کرے جس پر چاہے رحم کرے، سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے
احمد رضا خان بریلوی
عذاب دیتا ہے جسے چاہے اور رحم فرماتا ہے جس پر چاہے اور تمہیں اسی کی طرف پھرنا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
وہ جسے چاہتا ہے سزا دیتا ہے اور جس پر چاہتا ہے رحم کرتا ہے اور اسی کی طرف تم سب لوٹائے جاؤگے۔
عبدالسلام بن محمد
وہ عذاب دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور رحم کرتا ہے جس پر چاہتا ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تمام نشانیاں ٭٭

دیکھتے ہیں کہ وہ کچھ نہ تھے پھر اللہ نے پیدا کر دیا لیکن تاہم مر کر جینے کے قائل نہیں حالانکہ اس پر کسی دلیل کی ضروت نہیں کہ جو ابتداءً پیدا کر سکتا ہے اس پر دوبارہ پیدا کرنا بہت ہی آسان ہے۔ پھر انہیں ہدایت کرتے ہیں کہ زمین اور نشانیوں پر غور کرو۔ آسمانوں کو، ستاروں کو، زمینوں کو، پہاڑوں کو،درختوں کو، جنگلوں کو، نہروں کو، دریاؤں کو،سمندروں کو، پھلوں کو، کھیتوں کو دیکھو تو سہی کہ یہ سب کچھ نہ تھا پھر اللہ نے سب کچھ کر دیا کیا یہ تمام نشانیاں اللہ کی قدرت کو تم پر ظاہر نہیں کرتیں؟ تم نہیں دیکھتے کہ اتنا بڑا صانع وقدیر اللہ کیا کچھ نہیں کر سکتا؟ وہ تو صرف ہو جا کے کہنے سے تمام کو رچا دیتا ہے وہ خود مختار ہے اسے اسباب کی ضرورت نہیں۔ اسی مضمون کو اور جگہ فرمایا کہ ’ وہی نئی پیدائش میں پیدا کرتا ہے وہی دوبارہ پیدا کرے گا اور یہ تو اس پر بہت آسان ہے۔ ‘ ۱؎ [30-الروم:27] ‏‏‏‏ پھر فرمایا: زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ اللہ نے ابتدائی پیدائش کس طرح کی تو تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ قیامت کے دن کی دوسری پیدائش کی کیا کیفیت ہو گی۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ جیسے فرمایا: ’ ہم انہیں دنیا کے ہر حصے میں اور خود ان کی اپنی جانوں میں اپنی نشانیاں اس قدر دکھائیں گے کہ ان پر حق ظاہر ہو جائے۔ ‘ ۱؎ [41-فصلت:53] ‏‏‏‏ اور جگہ ارشاد ہے «‏‏‏‏أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ‌ شَيْءٍ أَمْ هُمُ الْخَالِقُونَ أَمْ خَلَقُوا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضَ بَل لَّا يُوقِنُونَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [52-الطور:35-36] ‏‏‏‏ ’ کیا وہ بغیر کسی چیز کے پیدا کئے گئے یا وہی اپنے خالق ہیں؟ یا وہ آسمان و زمین کے خالق ہیں؟ کچھ نہیں بےیقین لوگ ہیں۔ ‘ یہ اللہ کی شان ہے کہ جسے چاہے عذاب کرے، جس پر چاہے رحم کرے، وہ حاکم ہے،قبضے والا ہے،جو چاہتا ہے کرتا ہے،جو ارادہ کرتا ہے جاری کر دیتا ہے، کوئی اس کے حکم کو ٹال نہیں سکتا کوئی اس کے ارادے کو بدل نہیں سکتا۔ کوئی اس سے چوں چرا نہیں کر سکتا، کوئی اس سے سوال نہیں کر سکتا اور وہ سب پر غالب ہے۔ جس سے چاہے پوچھ بیٹھے سب اس کے قبضے میں اس کی ماتحتی میں ہیں۔ خلق کا خالق امر کا مالک وہی ہے۔ اس نے جو کچھ کیا سراسر عدل ہے اس لیے کہ وہی مالک ہے وہ ظلم سے پاک ہے۔

حدیث شریف میں ہے: { اگر اللہ تعالیٰ ساتوں آسمان والوں اور زمین والوں کو عذاب کرے تب بھی وہ ظالم نہیں۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:4699،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ عذاب و رحم سب اس کی چیزیں ہیں۔ سب کے سب قیامت کے دن اس کی طرف لوٹائے جائیں گے اسی کے سامنے حاضر ہو کر پیش ہونگے۔ زمین والوں میں سے اور آسمان والوں میں سے کوئی اسے ہرا نہیں سکتا۔ بلکہ سب پر وہی غالب ہے۔ ہر ایک اس سے کانپ رہا ہے سب اس کے درد کے فقیر ہیں اور وہ سب سے غنی ہے۔ تمہارا کوئی ولی اور مددگار اس کے سوا نہیں۔ اللہ کی آیتوں سے کفر کرنے والے، اس کی ملاقات کو نہ ماننے والے، اللہ کی رحمت سے محروم ہیں اور ان کے لیے دنیا اور آخرت میں درد ناک الم افزا عذاب ہیں۔
21-1یعنی وہی اصل حاکم اور متصرف ہے، اس سے کوئی پوچھ نہیں سکتا تاہم اس کا عذاب یا رحمت، یوں ہی نہیں ہوگی بلکہ اصولوں کے مطابق ہوگی جو اس نے اس کے لئے طے کر رکھے ہیں۔
(آیت 21) {يُعَذِّبُ مَنْ يَّشَآءُ وَ يَرْحَمُ مَنْ يَّشَآءُ …:} قیامت کے دن دوبارہ زندہ ہونے کے دلائل کے بعد فرمایا کہ پھر وہ جسے چاہے گا اپنے عدل کے ساتھ عذاب دے گا اور جس پر چاہے گا اپنے فضل کے ساتھ رحم فرمائے گا، البتہ ہرحال میں تمھیں واپس اس کے پاس جانا ہے۔
وَ مَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِیۡنَ فِی الۡاَرۡضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ ۫ وَ مَا لَکُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مِنۡ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیۡرٍ ﴿٪۲۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تم نہ زمین میں عاجز کرنے والے ہو نہ آسمان میں، اور اللہ سے بچانے والا کوئی سرپرست اور مدد گار تمہارے لیے نہیں ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
تم نہ تو زمین میں اللہ تعالیٰ کو عاجز کرسکتے ہو نہ آسمان میں، اللہ تعالیٰ کے سوا تمہارا کوئی والی ہے نہ مددگار
احمد رضا خان بریلوی
اور نہ تم زمین میں قابو سے نکل سکو اور نہ آسمان میں اور تمہارے لیے اللہ کے سوا نہ کوئی کام بنانے والا اور نہ مددگار،
علامہ محمد حسین نجفی
اور تم (اللہ کو) نہ زمین میں عاجز کر سکتے ہو اور نہ آسمان میں اور نہ ہی اللہ کے سوا تمہارا کوئی سرپرست و کارساز ہے اور نہ ہی کوئی مددگار۔
عبدالسلام بن محمد
اور نہ تم کسی طرح زمین میں عاجز کرنے والے ہو اور نہ آسمان میں اور نہ اللہ کے سوا تمھارا کوئی دوست ہے اور نہ کوئی مددگار۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تمام نشانیاں ٭٭

دیکھتے ہیں کہ وہ کچھ نہ تھے پھر اللہ نے پیدا کر دیا لیکن تاہم مر کر جینے کے قائل نہیں حالانکہ اس پر کسی دلیل کی ضروت نہیں کہ جو ابتداءً پیدا کر سکتا ہے اس پر دوبارہ پیدا کرنا بہت ہی آسان ہے۔ پھر انہیں ہدایت کرتے ہیں کہ زمین اور نشانیوں پر غور کرو۔ آسمانوں کو، ستاروں کو، زمینوں کو، پہاڑوں کو،درختوں کو، جنگلوں کو، نہروں کو، دریاؤں کو،سمندروں کو، پھلوں کو، کھیتوں کو دیکھو تو سہی کہ یہ سب کچھ نہ تھا پھر اللہ نے سب کچھ کر دیا کیا یہ تمام نشانیاں اللہ کی قدرت کو تم پر ظاہر نہیں کرتیں؟ تم نہیں دیکھتے کہ اتنا بڑا صانع وقدیر اللہ کیا کچھ نہیں کر سکتا؟ وہ تو صرف ہو جا کے کہنے سے تمام کو رچا دیتا ہے وہ خود مختار ہے اسے اسباب کی ضرورت نہیں۔ اسی مضمون کو اور جگہ فرمایا کہ ’ وہی نئی پیدائش میں پیدا کرتا ہے وہی دوبارہ پیدا کرے گا اور یہ تو اس پر بہت آسان ہے۔ ‘ ۱؎ [30-الروم:27] ‏‏‏‏ پھر فرمایا: زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ اللہ نے ابتدائی پیدائش کس طرح کی تو تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ قیامت کے دن کی دوسری پیدائش کی کیا کیفیت ہو گی۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ جیسے فرمایا: ’ ہم انہیں دنیا کے ہر حصے میں اور خود ان کی اپنی جانوں میں اپنی نشانیاں اس قدر دکھائیں گے کہ ان پر حق ظاہر ہو جائے۔ ‘ ۱؎ [41-فصلت:53] ‏‏‏‏ اور جگہ ارشاد ہے «‏‏‏‏أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ‌ شَيْءٍ أَمْ هُمُ الْخَالِقُونَ أَمْ خَلَقُوا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضَ بَل لَّا يُوقِنُونَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [52-الطور:35-36] ‏‏‏‏ ’ کیا وہ بغیر کسی چیز کے پیدا کئے گئے یا وہی اپنے خالق ہیں؟ یا وہ آسمان و زمین کے خالق ہیں؟ کچھ نہیں بےیقین لوگ ہیں۔ ‘ یہ اللہ کی شان ہے کہ جسے چاہے عذاب کرے، جس پر چاہے رحم کرے، وہ حاکم ہے،قبضے والا ہے،جو چاہتا ہے کرتا ہے،جو ارادہ کرتا ہے جاری کر دیتا ہے، کوئی اس کے حکم کو ٹال نہیں سکتا کوئی اس کے ارادے کو بدل نہیں سکتا۔ کوئی اس سے چوں چرا نہیں کر سکتا، کوئی اس سے سوال نہیں کر سکتا اور وہ سب پر غالب ہے۔ جس سے چاہے پوچھ بیٹھے سب اس کے قبضے میں اس کی ماتحتی میں ہیں۔ خلق کا خالق امر کا مالک وہی ہے۔ اس نے جو کچھ کیا سراسر عدل ہے اس لیے کہ وہی مالک ہے وہ ظلم سے پاک ہے۔

حدیث شریف میں ہے: { اگر اللہ تعالیٰ ساتوں آسمان والوں اور زمین والوں کو عذاب کرے تب بھی وہ ظالم نہیں۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:4699،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ عذاب و رحم سب اس کی چیزیں ہیں۔ سب کے سب قیامت کے دن اس کی طرف لوٹائے جائیں گے اسی کے سامنے حاضر ہو کر پیش ہونگے۔ زمین والوں میں سے اور آسمان والوں میں سے کوئی اسے ہرا نہیں سکتا۔ بلکہ سب پر وہی غالب ہے۔ ہر ایک اس سے کانپ رہا ہے سب اس کے درد کے فقیر ہیں اور وہ سب سے غنی ہے۔ تمہارا کوئی ولی اور مددگار اس کے سوا نہیں۔ اللہ کی آیتوں سے کفر کرنے والے، اس کی ملاقات کو نہ ماننے والے، اللہ کی رحمت سے محروم ہیں اور ان کے لیے دنیا اور آخرت میں درد ناک الم افزا عذاب ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 22) ➊ { وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ فِي الْاَرْضِ وَ لَا فِي السَّمَآءِ:} یہاں یہ سوال ہو سکتا تھا کہ اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے قابو ہی نہ آیا تو وہ اسے اپنے پاس کیسے حاضر کرے گا؟ لہٰذا فرمایا، تم زمین کے کسی کونے میں چلے جاؤ یا آسمان کے کسی کنارے پر، تم اللہ تعالیٰ کو ہرگز عاجز نہیں کر سکتے کہ وہ تمھیں پکڑ نہ سکے۔ سورۂ رحمن میں یہی بات فرمائی: «{ يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْطَارِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ فَانْفُذُوْا لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍ }» [ الرحمٰن: ۳۳ ] ”اے جنّ و اِنس کی جماعت! اگر تم طاقت رکھتے ہو کہ آسمانوں اور زمین کے کناروں سے نکل جاؤ تو نکل جاؤ، کسی غلبے کے سوا نہیں نکلو گے۔“ ➋ { وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِيٍّ وَّ لَا نَصِيْرٍ:} مطلب یہ ہے کہ نہ تم خود اتنے زور آور ہو کہ کہیں بھاگ کر اللہ کی گرفت سے نکل سکو اور نہ تمھارے کوئی حمایتی یا مددگار ہیں جو تمھیں اس کی گرفت سے بچا سکیں۔
وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَ لِقَآئِہٖۤ اُولٰٓئِکَ یَئِسُوۡا مِنۡ رَّحۡمَتِیۡ وَ اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۲۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جن لوگوں نے اللہ کی آیات کا اور اس سے ملاقات کا انکار کیا ہے وہ میری رحمت سے مایوس ہو چکے ہیں اور ان کے لیے درد ناک سزا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
جو لوگ اللہ تعالیٰ کی آیتوں اور اس کی ملاقات کو بھلاتے ہیں وه میری رحمت سے ناامید ہو جائیں اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور وہ جنہوں نے میری آیتوں اور میرے ملنے کو نہ مانا وہ ہیں جنہیں میری رحمت کی آس نہیں اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اور جن لوگوں نے اللہ کی آیتوں اور اس کی بارگاہ میں حاضری کا انکار کیا ہے وہ میری رحمت سے مایوس ہوگئے ہیں اور ان کیلئے دردناک عذاب ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جن لوگوں نے اللہ کی آیات اور اس کی ملاقات کا انکار کیا وہ میری رحمت سے ناامید ہو چکے اور یہی لوگ ہیں جن کے لیے دردناک عذاب ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تمام نشانیاں ٭٭

دیکھتے ہیں کہ وہ کچھ نہ تھے پھر اللہ نے پیدا کر دیا لیکن تاہم مر کر جینے کے قائل نہیں حالانکہ اس پر کسی دلیل کی ضروت نہیں کہ جو ابتداءً پیدا کر سکتا ہے اس پر دوبارہ پیدا کرنا بہت ہی آسان ہے۔ پھر انہیں ہدایت کرتے ہیں کہ زمین اور نشانیوں پر غور کرو۔ آسمانوں کو، ستاروں کو، زمینوں کو، پہاڑوں کو،درختوں کو، جنگلوں کو، نہروں کو، دریاؤں کو،سمندروں کو، پھلوں کو، کھیتوں کو دیکھو تو سہی کہ یہ سب کچھ نہ تھا پھر اللہ نے سب کچھ کر دیا کیا یہ تمام نشانیاں اللہ کی قدرت کو تم پر ظاہر نہیں کرتیں؟ تم نہیں دیکھتے کہ اتنا بڑا صانع وقدیر اللہ کیا کچھ نہیں کر سکتا؟ وہ تو صرف ہو جا کے کہنے سے تمام کو رچا دیتا ہے وہ خود مختار ہے اسے اسباب کی ضرورت نہیں۔ اسی مضمون کو اور جگہ فرمایا کہ ’ وہی نئی پیدائش میں پیدا کرتا ہے وہی دوبارہ پیدا کرے گا اور یہ تو اس پر بہت آسان ہے۔ ‘ ۱؎ [30-الروم:27] ‏‏‏‏ پھر فرمایا: زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ اللہ نے ابتدائی پیدائش کس طرح کی تو تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ قیامت کے دن کی دوسری پیدائش کی کیا کیفیت ہو گی۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ جیسے فرمایا: ’ ہم انہیں دنیا کے ہر حصے میں اور خود ان کی اپنی جانوں میں اپنی نشانیاں اس قدر دکھائیں گے کہ ان پر حق ظاہر ہو جائے۔ ‘ ۱؎ [41-فصلت:53] ‏‏‏‏ اور جگہ ارشاد ہے «‏‏‏‏أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ‌ شَيْءٍ أَمْ هُمُ الْخَالِقُونَ أَمْ خَلَقُوا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضَ بَل لَّا يُوقِنُونَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [52-الطور:35-36] ‏‏‏‏ ’ کیا وہ بغیر کسی چیز کے پیدا کئے گئے یا وہی اپنے خالق ہیں؟ یا وہ آسمان و زمین کے خالق ہیں؟ کچھ نہیں بےیقین لوگ ہیں۔ ‘ یہ اللہ کی شان ہے کہ جسے چاہے عذاب کرے، جس پر چاہے رحم کرے، وہ حاکم ہے،قبضے والا ہے،جو چاہتا ہے کرتا ہے،جو ارادہ کرتا ہے جاری کر دیتا ہے، کوئی اس کے حکم کو ٹال نہیں سکتا کوئی اس کے ارادے کو بدل نہیں سکتا۔ کوئی اس سے چوں چرا نہیں کر سکتا، کوئی اس سے سوال نہیں کر سکتا اور وہ سب پر غالب ہے۔ جس سے چاہے پوچھ بیٹھے سب اس کے قبضے میں اس کی ماتحتی میں ہیں۔ خلق کا خالق امر کا مالک وہی ہے۔ اس نے جو کچھ کیا سراسر عدل ہے اس لیے کہ وہی مالک ہے وہ ظلم سے پاک ہے۔

حدیث شریف میں ہے: { اگر اللہ تعالیٰ ساتوں آسمان والوں اور زمین والوں کو عذاب کرے تب بھی وہ ظالم نہیں۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:4699،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ عذاب و رحم سب اس کی چیزیں ہیں۔ سب کے سب قیامت کے دن اس کی طرف لوٹائے جائیں گے اسی کے سامنے حاضر ہو کر پیش ہونگے۔ زمین والوں میں سے اور آسمان والوں میں سے کوئی اسے ہرا نہیں سکتا۔ بلکہ سب پر وہی غالب ہے۔ ہر ایک اس سے کانپ رہا ہے سب اس کے درد کے فقیر ہیں اور وہ سب سے غنی ہے۔ تمہارا کوئی ولی اور مددگار اس کے سوا نہیں۔ اللہ کی آیتوں سے کفر کرنے والے، اس کی ملاقات کو نہ ماننے والے، اللہ کی رحمت سے محروم ہیں اور ان کے لیے دنیا اور آخرت میں درد ناک الم افزا عذاب ہیں۔
23-1اللہ تعالیٰ کی رحمت، دنیا میں عام ہے جس سے کافر اور مومن، منافق اور مخلص اور نیک اور بد سب یکساں طور پر مستفید ہو رہے ہیں اللہ تعالیٰ سب کو دنیا کے وسائل، آسائش اور مال و دولت عطا کر رہا ہے یہ رحمت الٰہی کی وہ وسعت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے دوسرے مقام پر فرمایا ' میری رحمت نے ہر چیز کو گھیر لیا ہے ' لیکن آخر میں چونکہ دارالجزاء ہے، انسان نے دنیا کی کھیتی میں جو کچھ بویا ہوگا اسی کی فصل اسے وہاں کاٹنی ہوگی، جیسے عمل کئے ہونگے اس کی جزاء اسے وہاں ملے گی۔ اللہ کی بارگاہ میں بےلاگ فیصلے ہوں گے۔ دنیا کی طرح اگر آخرت میں بھی نیک وبد کے ساتھ یکساں سلوک ہو اور مومن و کافر دونوں ہی رحمت الہی کے مستحق قرار پائیں تو اس سے ایک تو اللہ تعالیٰ کی صفت عدل پر حرف آتا ہے، دوسرے قیامت کا مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے۔ قیامت کا دن تو اللہ نے رکھا ہی اس لیے ہے کہ وہاں نیکوں کو ان کی نیکیوں کے صلے میں جنت اور بدوں کو انکی بدیوں کی جزا میں جہنم دی جائے۔ اس لیے قیامت والے دن اللہ تعالیٰ کی رحمت صرف اہل ایمان کے لیے خاص ہوگی۔ جسے یہاں بھی بیان کیا گیا ہے کہ جو لوگ آخرت اور معاد کے ہی منکر ہوں گے وہ میری رحمت سے ناامید ہوں گے یعنی ان کے حصے میں رحمت الہی نہیں آئے گی۔ سورة اعراف میں اس کو ان الفاظ سے بیان کیا گیا ہے۔ (فَسَاَكْتُبُهَا لِلَّذِيْنَ يَتَّقُوْنَ وَيُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَالَّذِيْنَ هُمْ بِاٰيٰتِنَا يُؤْمِنُوْنَ) 7۔ الاعراف:156) میں یہ رحمت (آخرت میں) ان لوگوں کے لیے لکھوں گا جو متقی، زکوٰۃ ادا کرنے والے اور ہماری آیتوں پر ایمان رکھنے والے ہوں گے۔
(آیت 23) {وَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ وَ لِقَآىِٕهٖۤ …:} اللہ تعالیٰ کی رحمت دنیا میں عام ہے، جس سے کافر اور مومن، منافق اور مخلص، نیک اور بد یکساں طور پر مستفید ہو رہے ہیں، اللہ تعالیٰ سب کو دنیا کے وسائل، آسائش اور مال و دولت عطا کر رہا ہے۔ یہ رحمت الٰہی کی وہ وسعت ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے دوسرے مقام پر فرمایا: «{ وَ رَحْمَتِيْ وَ سِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ[الأعراف: ۱۵۶ ] ”اور میری رحمت نے ہر چیز کو گھیر لیا ہے۔“ لیکن آخرت چونکہ دار الجزاء ہے۔ انسان نے دنیا کی کھیتی میں جو کچھ بویا ہو گا اسی کی فصل اسے وہاں کاٹنا ہو گی، جیسے عمل کیے ہوں گے ویسی ہی جزا اسے وہاں ملے گی۔ اللہ کی بارگاہ میں بے لاگ فیصلے ہوں گے۔ دنیا کی طرح اگر آخرت میں بھی نیک و بد کے ساتھ یکساں سلوک ہو اور مومن و کافر دونوں ہی رحمت الٰہی کے مستحق قرار پائیں تو اس سے ایک تو اللہ تعالیٰ کی صفت عدل پر حرف آتا ہے اور دوسرے قیامت کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے۔ قیامت کا دن تو اللہ نے رکھا ہی اس لیے ہے کہ وہاں نیکوں کو ان کی نیکیوں کے صلے میں جنت اور بدوں کو ان کی بدیوں کی جزا میں جہنم دی جائے۔ اس لیے قیامت والے دن اللہ تعالیٰ کی رحمت صرف اہل ایمان کے لیے خاص ہو گی۔ جیسے یہاں بھی بیان کیا گیا ہے کہ جو لوگ آخرت اور معاد کے منکر ہوں گے وہ میری رحمت سے ناامید ہوں گے، یعنی ان کے حصے میں رحمتِ الٰہی نہیں آئے گی۔ سورۂ اعراف میں اس بات کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: «{ فَسَاَكْتُبُهَا لِلَّذِيْنَ يَتَّقُوْنَ وَ يُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ الَّذِيْنَ هُمْ بِاٰيٰتِنَا يُؤْمِنُوْنَ }» [ الأعراف: ۱۵۶ ] ”سو میں یہ (رحمت آخرت میں) ان لوگوں کے لیے لکھوں گا جو متقی، زکاۃ ادا کرنے والے اور ہماری آیتوں پر ایمان رکھنے والے ہوں گے۔“ (احسن البیان) اس سورت کی آیت (۵): «{ مَنْ كَانَ يَرْجُوْا لِقَآءَ اللّٰهِ فَاِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ لَاٰتٍ }» میں اللہ کی رحمت کی امید رکھنے والوں کا بیان ہے اور زیر تفسیر آیت میں اللہ کی رحمت سے ناامید لوگوں کا بیان ہے۔ نیز دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۱۸)۔
فَمَا کَانَ جَوَابَ قَوۡمِہٖۤ اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوا اقۡتُلُوۡہُ اَوۡ حَرِّقُوۡہُ فَاَنۡجٰىہُ اللّٰہُ مِنَ النَّارِ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یُّؤۡمِنُوۡنَ ﴿۲۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر اُس کی قوم کا جواب اِس کے سوا کچھ نہ تھا کہ انہوں نے کہا "قتل کر دو اِسے یا جلا ڈالو اِس کو" آخر کار اللہ نے اسے آگ سے بچا لیا، یقیناً اس میں نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو ایمان لانے والے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
ان کی قوم کا جواب بجز اس کے کچھ نہ تھا کہ کہنے لگے کہ اسے مار ڈالو یا اسے جلا دو۔ آخر اللہ نے انہیں آگ سے بچا لیا، اس میں ایمان والے لوگوں کے لیے تو بہت سی نشانیاں ہیں
احمد رضا خان بریلوی
تو اس کی قوم کو کچھ جواب بن نہ آیا مگر یہ بولے انہیں قتل کردو یا جلادو تو اللہ نے اسے آگ سے بچالیا بیشک اس میں ضرور نشانیاں ہیں ایمان والوں کے لیے
علامہ محمد حسین نجفی
اور ان (ابراہیم) کی قوم کا جواب اس کے سوا اور کوئی نہیں تھا کہ انہیں قتل کر دو یا آگ میں جلا دو تو اللہ نے انہیں آگ سے بچا لیا۔ بےشک اس میں ایمان لانے والوں کیلئے (بڑی) نشانیاں ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
پھر اس کی قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ انھوں نے کہا اسے قتل کر دو، یا اسے جلادو، تو اللہ نے اسے آگ سے بچالیا۔ بے شک اس میں ان لوگوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں جو ایمان رکھتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عقلی اور نقلی دلائل ٭٭

سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا یہ عقلی اور نقلی دلائل کا وعظ بھی ان لوگوں کے دلوں پر اثر نہ کر سکا اور انہوں نے یہاں بھی اپنی اسی شقاوت کا مظاہرہ کیا۔ جواب تو دلیلوں کا دے نہیں سکتے تھے لہٰذا اپنی قوت سے حق کو دبانے لگے اور اپنی طاقت سے سچ کو روکنے لگے کہنے لگے ایک گڑھا کھودو اس میں آگ بھڑکاؤ اور اس آگ میں اسے ڈال دو کہ جل جائے۔ لیکن اللہ نے ان کے اس مکر کو انہی پر لوٹا دیا مدتوں تک لکڑیاں جمع کرتے رہے اور ایک گڑھا کھود کر اس کے اردگرد احاطے کی دیواریں کھڑی کر کے لکڑیوں میں آگ لگا دی جب اس کے شعلے آسمان تک پہنچنے لگے اور اتنی زور کی آگ روشن ہوئی کہ زمین پر کہیں اتنی آگ نہیں دیکھی گئی تو ابراہیم علیہ السلام کو پکڑ کر باندھ کر منجنیق میں ڈال کر جھلا کر اس آگ میں ڈال دیا لیکن اللہ نے اسے اپنے خلیل علیہ السلام پر باغ وبہار بنا دیا آپ کئی دن کے بعد صحیح سلامت اس میں سے نکل آئے۔ یہ اور اس جیسی قربانیاں تھیں جن کے باعث آپ کو امامت کا منصب عطا ہوا۔ اپنا نفس آپ نے رحمان کے لیے، اپنا جسم آپ نے میزان کے لیے، اپنی اولاد آپ نے قربانی کے لیے، اپنا مال آپ نے فیضان کے لیے کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے کل ادیان والے آپ سے محبت رکھتے ہیں۔ اللہ نے آگ کو آپ کے لیے باغ بنا دیا۔ اس واقعہ میں ایمانداروں کے لیے قدرت الٰہی کی بہت سی نشانیاں ہیں۔

آپ نے اپنی قوم سے فرمایا کہ جن بتوں کو تم نے معبود بنا رکھاہے یہ تمہارا ایکا اور اتفاق دنیا تک ہی ہے۔ «مَوَدَّۃً» زبر کے ساتھ مفعول لہ ہے۔ ایک قرأت میں پیش کے ساتھ بھی ہے یعنی تمہاری یہ بت پرستی تمہارے لیے گو دنیا کی محبت حاصل کرا دے۔ لیکن قیامت کے دن معاملہ برعکس ہو جائے گا مودۃ کی جگہ نفرت اور اتفاق کے بدلے اختلاف ہو جائے گا۔ ایک دوسرے سے جھگڑو گے، ایک دوسرے پر الزام رکھو گے، ایک دوسرے پر لعنتیں بھیجو گے۔ ہر گروہ دوسرے گروہ پر پھٹکار برسائے گا۔ سب دوست دشمن بن جائیں گے۔ ہاں پرہیزگار، نیکو کار آج بھی ایک دوسرے کے خیرخواہ اور دوست رہیں گے۔ کفار سب کے سب میدان قیامت کی ٹھوکریں کھا کھا کر بالآخر جہنم میں جائیں گے۔ کوئی اتنا بھی نہ ہو گا کہ ان کی کسی طرح مدد کر سکے۔ حدیث میں ہے { تمام اگلے پچھلوں کو اللہ تعالیٰ ایک میدان میں جمع کرے گا۔ کون جان سکتا ہے کہ دونوں سمت میں کس طرف؟ سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی ہمشیرہ ہیں، نے جواب دیا کہ اللہ اور اس کارسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی زیادہ علم والا ہے۔ پھر ایک منادی عرش تلے سے آواز دے گا کہ اے موحدو! تب توحید والے اپنا سر اٹھائیں گے پھر یہی آواز لگائے گا پھر سہ بارہ یہی پکارے گا اور کہے اللہ تعالیٰ نے تمہاری تمام لغزشوں سے درگزر فرما لیا۔ اب لوگ کھڑے ہونگے اور آپ کی ناچاقیوں اور لین دین کا مطالبہ کرنے لگیں گے تو اللہ وحدہ لاشریک لہ کی طرف سے آواز دی جائے گی کہ اے اہل توحید تم تو آپس میں ایک دوسرے کو معاف کر دو تمہیں اللہ بدل دے گا۔ } ۱؎ [طبرانی اوسط:4803:ضعیف] ‏‏‏‏
24-1ان آیات سے قبل حضرت ابراہیم ؑ کا قصہ بیان ہو رہا تھا، اب پھر اس کا بقیہ بیان کیا جا رہا ہے، درمیان میں جملہ معترضہ کے طور پر اللہ کی توحید اور اس کی قدرت و طاقت کو بیان کیا گیا ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ سب حضرت ابراہیم ؑ کے وعظ کا حصہ ہے۔ جس میں انہوں نے توحید و معاد کے اثبات میں دلائل دیئے ہیں، جن کا کوئی جواب جب ان کی قوم سے نہیں بنا تو انہوں نے اس کا جواب ظلم و تشدد کی اس کاروائی سے دیا، جس کا ذکر اس آیت میں ہے کہ اسے قتل کردو یا جلا ڈالو۔ چناچہ انہوں نے آگ کا ایک بہت بڑا الاؤ تیار کر کے حضرت ابراہیم ؑ کو منجنیق کے ذریعے سے اس میں پھینک دیا۔ 24-2یعنی اللہ تعالیٰ نے اس آگ کو گلزار کی صورت میں بدل کر اپنے بندے کو بچا لیا۔ جیسا کہ سورة انبیاء میں گزرا۔
(آیت 24) ➊ { فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا اقْتُلُوْهُ اَوْ حَرِّقُوْهُ:} ابراہیم علیہ السلام کی قوم کے لوگ توحید اور آخرت کے متعلق ان کے دلائل کا جواب نہ دے سکے تو تشدد پر اتر آئے اور باطل پرستوں کا یہی شیوہ ہوتا ہے، ان کے پاس دلیل کا جواب دلیل نہیں ہوتا، بلکہ یہ ہوتا ہے کہ مار دو، جلا دو۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کا ان کے بتوں کو توڑنے کا واقعہ حذف کر دیا ہے۔ وہ واقعہ بھی بتوں کے باطل ہونے کی عملی دلیل تھا، جب وہ علمی اور عملی دلائل کے مقابلے میں لاجواب ہو گئے تو سب نے اتفاق کے ساتھ انھیں ختم کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم اس میں اختلاف تھا کہ انھیں ختم کرنے کا طریقہ کیا ہو، تو وہ آپس میں مشورہ کرنے لگے کہ اسے قتل کر دو یا جلا دو۔ آخری فیصلہ یہی ہوا کہ اسے عبرت ناک طریقے سے جلا دو، کیوں کہ وہ انھیں زیادہ سے زیادہ اذیت پہنچانا چاہتے تھے۔ اس کے لیے انھوں نے باقاعدہ ایک عمارت بنا کر اسے ایندھن سے بھر کر آگ سے جلا دینے کا اہتمام کیا، جیسا کہ فرمایا: «{ قَالُوا ابْنُوْا لَهٗ بُنْيَانًا فَاَلْقُوْهُ فِي الْجَحِيْمِ }» [ الصافات: ۹۷ ] ”انھوں نے کہا اس کے لیے ایک عمارت بناؤ، پھر اسے بھڑکتی ہوئی آگے میں پھینک دو۔“ ➋ { فَاَنْجٰىهُ اللّٰهُ مِنَ النَّارِ:} اس جملے سے یہ بات خود بخود واضح ہو رہی ہے کہ ان لوگوں نے آخر کار ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں پھینک دیا۔ یہاں صرف اتنا بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں آگ سے بچا لیا، مگر دوسری جگہ صراحت کے ساتھ فرمایا: «{ قُلْنَا يٰنَارُ كُوْنِيْ بَرْدًا وَّ سَلٰمًا عَلٰۤى اِبْرٰهِيْمَ }» [ الأنبیاء: ۶۹ ] ”ہم نے کہا اے آگ! ابراہیم پر سراسر ٹھنڈک اور سلامتی بن جا۔“ ظاہر ہے اگر انھیں آگ میں پھینکا ہی نہ گیا ہوتا تو آگ کو یہ حکم دینے کا کوئی مطلب نہیں تھا، نہ یہ بتانے کی ضرورت تھی کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں آگ سے بچا لیا۔ ➌ { اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ:} ان نشانیوں میں سے سب سے پہلی نشانی تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی آزمائش ضرور کرتا ہے اور جو جتنا مقرب ہو آزمائش اتنی ہی سخت ہوتی ہے۔ اس واقعہ ہی کو دیکھ لیجیے، اللہ تعالیٰ کے لیے کچھ مشکل نہ تھا کہ وہ ابراہیم علیہ السلام کی قوم کو ان پر ہاتھ ڈالنے ہی نہ دیتا، جیسا کہ موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا: «{ فَلَا يَصِلُوْنَ اِلَيْكُمَا }» [ القصص: ۳۵ ] ”کہ یہ لوگ تم دونوں تک نہیں پہنچیں گے۔“ اور یہ بھی ممکن تھا کہ ان کی قوم میں سے ان کا کوئی ہمدرد کھڑا کر دیتا، جیسا کہ ہمارے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ابوطالب کو کھڑا کر دیا، جس نے مشرک ہونے کے باوجود کہا: {وَاللّٰهِ لَنْ يَّصِلُوْا إِلَيْكَ بِجَمْعِهِمْ حَتّٰي أُوَسَّدَ فِي التُّرَابِ دَفِيْنَا} ”اللہ کی قسم! یہ لوگ اپنی جماعت کے ساتھ بھی تم تک نہیں پہنچیں گے، حتیٰ کہ مجھے مٹی میں دفن کر دیا جائے۔“ مگر اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کے لیے دنیا کا کوئی سبب یا ذریعہ نہیں رہنے دیا جس کے ساتھ وہ آگ میں جلنے سے بچ جائیں۔ یہاں آزمائش اور امتحان میں ابراہیم علیہ السلام کی کمال کامیابی ظاہر ہوتی ہے کہ دنیا کا ہر سہارا ختم ہونے اور شعلے مارتی ہوئی آگ سامنے دیکھنے کے باوجود انھوں نے نہ اللہ کی توحید کا دامن چھوڑا، نہ قوم کے سامنے جھکے، نہ کسی غیر کو پکارا، زبان سے نکلا تو یہی نکلا: [ حَسْبِيَ اللّٰهُ وَ نِعْمَ الْوَكِيْلُ ] [ بخاري، التفسیر، باب قولہ: «الذین قال لھم الناس…» : ۴۵۶۴ ] ”مجھے اللہ کافی ہے اور وہ اچھا کارساز ہے۔“ دوسری نشانی یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کا صدق آزما لیا تو آگ کو ان کے لیے برد و سلام بنا دیا، حالانکہ اس کا کام ہی جلانا ہے اور دنیا کے تمام ظاہری اسباب ختم ہونے کے باوجود کلمہ کن ({كُوْنِيْ بَرْدًا وَّ سَلٰمًا}) کے ساتھ انھیں بچا لیا۔ تیسری نشانی یہ کہ جس اللہ نے دنیا کی تمام چیزوں میں مختلف خاصیتیں رکھی ہیں، وہ اپنے خاص بندوں کے لیے ان میں ان کے الٹ خاصیتیں پیدا کر دیتا ہے۔ پانی کا کام بہنا ہے، وہ اللہ کے حکم سے موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کی نجات کے لیے الگ الگ پہاڑوں کی شکل میں کھڑا ہو گیا۔ آگ کا کام جلانا ہے لیکن اللہ کے حکم سے وہ ابراہیم علیہ السلام کے لیے گلزار بن گئی۔ چوتھی نشانی یہ کہ وہی مشرکین جنھوں نے ابراہیم علیہ السلام کو پکڑا، باندھا اور آگ میں پھینک دیا، آگ سے نکلنے کے بعد انھیں ذرہ برابر نقصان نہ پہنچا سکے، حالانکہ کچھ مشکل نہ تھا کہ وہ انھیں قید کر دیتے یا قتل کر دیتے، مگر یہ اللہ تعالیٰ کا زبردست ہاتھ تھا جس کے زیر حفاظت وہ ان کا بال بیکا نہ کر سکے۔ پانچویں نشانی یہ کہ اتنا بڑا معجزہ دیکھنے کے باوجود ان کی قوم کے لوگ کفر پر اڑے رہے۔ اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ جب کوئی قوم انکار پر اڑ جاتی ہے تو بڑے سے بڑا معجزہ بھی انھیں نفع نہیں دیتا۔ اس سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا سچ ہونا ثابت ہوا: «{ اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا سَوَآءٌ عَلَيْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ }» [ البقرۃ: ۶ ] ”بے شک جن لوگوں نے کفر کیا ان پر برابر ہے، خواہ تو نے انھیں ڈرایا ہو یا انھیں نہ ڈرایا ہو، ایمان نہیں لائیں گے۔“ اور دیکھیے سورۂ انعام (۱۱۱) اسی لیے فرمایا کہ اس واقعہ میں ان لوگوں کے لیے بہت سے نشانیاں ہیں جو ایمان رکھتے ہیں۔ {” لِقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ “} میں لام انتفاع کا ہے، یعنی ان نشانیوں سے فائدہ ایمان والے ہی اٹھاتے ہیں، ایمان سے محروم لوگوں کو ان سے کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔
وَ قَالَ اِنَّمَا اتَّخَذۡتُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ اَوۡثَانًا ۙ مَّوَدَّۃَ بَیۡنِکُمۡ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ۚ ثُمَّ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ یَکۡفُرُ بَعۡضُکُمۡ بِبَعۡضٍ وَّ یَلۡعَنُ بَعۡضُکُمۡ بَعۡضًا ۫ وَّ مَاۡوٰىکُمُ النَّارُ وَ مَا لَکُمۡ مِّنۡ نّٰصِرِیۡنَ ﴿٭ۙ۲۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور اُس نے کہا "تم نے دنیا کی زندگی میں تو اللہ کو چھوڑ کر بتوں کو اپنے درمیان محبت کا ذریعہ بنا لیا ہے مگر قیامت کے روز تم ایک دُوسرے کا انکار اور ایک دُوسرے پر لعنت کرو گے اور آگ تمہارا ٹھکانا ہو گی اور کوئی تمہارا مدد گار نہ ہو گا"
مولانا محمد جوناگڑھی
(حضرت ابراہیم علیہ السلام نے) کہا کہ تم نے جن بتوں کی پرستش اللہ کے سوا کی ہے انہیں تم نے اپنی آپس کی دنیوی دوستی کی بنا ٹھہرا لی ہے، تم سب قیامت کے دن ایک دوسرے سے کفر کرنے لگو گے اور ایک دوسرے پر لعنت کرنے لگو گے۔ اور تمہارا سب کا ٹھکانہ دوزخ ہوگا اور تمہارا کوئی مددگار نہ ہوگا
احمد رضا خان بریلوی
اور ابراہیم نے فرمایا تم نے تو اللہ کے سوا یہ بت بنالیے ہیں جن سے تمہاری دوستی یہی دنیا کی زندگی تک ہے پھر قیامت کے دن تم میں ایک دوسرے کے ساتھ کفر کرے گا اور ایک دوسرے پر لعنت ڈالے گا اور تم سب کا ٹھکانا جہنم ہے اور تمہارا کوئی مددگار نہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور ابراہیم نے (اپنی قوم سے) کہا کہ تم نے اللہ کو چھوڑ کر زندگانی دنیا میں باہمی محبت کا ذریعہ سمجھ کر ان بتوں کو اختیار کر رکھا ہے پھر قیامت کے دن تم ایک دوسرے کا انکار کروگے اور ایک دوسرے پر لعنت کروگے اور تمہارا ٹھکانہ دوزخ ہوگا۔ اور تمہارا کوئی مددگار نہ ہوگا۔
عبدالسلام بن محمد
اور اس نے کہا بات یہی ہے کہ تم نے اللہ کے سوا بت بنائے ہیں، دنیا کی زندگی میں آپس کی دوستی کی وجہ سے، پھر قیامت کے دن تم میں سے بعض بعض کا انکار کرے گا اور تم میں سے بعض بعض پر لعنت کرے گا اور تمھارا ٹھکانا آگ ہی ہے اور تمھارے لیے کوئی مدد کرنے والے نہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عقلی اور نقلی دلائل ٭٭

سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا یہ عقلی اور نقلی دلائل کا وعظ بھی ان لوگوں کے دلوں پر اثر نہ کر سکا اور انہوں نے یہاں بھی اپنی اسی شقاوت کا مظاہرہ کیا۔ جواب تو دلیلوں کا دے نہیں سکتے تھے لہٰذا اپنی قوت سے حق کو دبانے لگے اور اپنی طاقت سے سچ کو روکنے لگے کہنے لگے ایک گڑھا کھودو اس میں آگ بھڑکاؤ اور اس آگ میں اسے ڈال دو کہ جل جائے۔ لیکن اللہ نے ان کے اس مکر کو انہی پر لوٹا دیا مدتوں تک لکڑیاں جمع کرتے رہے اور ایک گڑھا کھود کر اس کے اردگرد احاطے کی دیواریں کھڑی کر کے لکڑیوں میں آگ لگا دی جب اس کے شعلے آسمان تک پہنچنے لگے اور اتنی زور کی آگ روشن ہوئی کہ زمین پر کہیں اتنی آگ نہیں دیکھی گئی تو ابراہیم علیہ السلام کو پکڑ کر باندھ کر منجنیق میں ڈال کر جھلا کر اس آگ میں ڈال دیا لیکن اللہ نے اسے اپنے خلیل علیہ السلام پر باغ وبہار بنا دیا آپ کئی دن کے بعد صحیح سلامت اس میں سے نکل آئے۔ یہ اور اس جیسی قربانیاں تھیں جن کے باعث آپ کو امامت کا منصب عطا ہوا۔ اپنا نفس آپ نے رحمان کے لیے، اپنا جسم آپ نے میزان کے لیے، اپنی اولاد آپ نے قربانی کے لیے، اپنا مال آپ نے فیضان کے لیے کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے کل ادیان والے آپ سے محبت رکھتے ہیں۔ اللہ نے آگ کو آپ کے لیے باغ بنا دیا۔ اس واقعہ میں ایمانداروں کے لیے قدرت الٰہی کی بہت سی نشانیاں ہیں۔

آپ نے اپنی قوم سے فرمایا کہ جن بتوں کو تم نے معبود بنا رکھاہے یہ تمہارا ایکا اور اتفاق دنیا تک ہی ہے۔ «مَوَدَّۃً» زبر کے ساتھ مفعول لہ ہے۔ ایک قرأت میں پیش کے ساتھ بھی ہے یعنی تمہاری یہ بت پرستی تمہارے لیے گو دنیا کی محبت حاصل کرا دے۔ لیکن قیامت کے دن معاملہ برعکس ہو جائے گا مودۃ کی جگہ نفرت اور اتفاق کے بدلے اختلاف ہو جائے گا۔ ایک دوسرے سے جھگڑو گے، ایک دوسرے پر الزام رکھو گے، ایک دوسرے پر لعنتیں بھیجو گے۔ ہر گروہ دوسرے گروہ پر پھٹکار برسائے گا۔ سب دوست دشمن بن جائیں گے۔ ہاں پرہیزگار، نیکو کار آج بھی ایک دوسرے کے خیرخواہ اور دوست رہیں گے۔ کفار سب کے سب میدان قیامت کی ٹھوکریں کھا کھا کر بالآخر جہنم میں جائیں گے۔ کوئی اتنا بھی نہ ہو گا کہ ان کی کسی طرح مدد کر سکے۔ حدیث میں ہے { تمام اگلے پچھلوں کو اللہ تعالیٰ ایک میدان میں جمع کرے گا۔ کون جان سکتا ہے کہ دونوں سمت میں کس طرف؟ سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی ہمشیرہ ہیں، نے جواب دیا کہ اللہ اور اس کارسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی زیادہ علم والا ہے۔ پھر ایک منادی عرش تلے سے آواز دے گا کہ اے موحدو! تب توحید والے اپنا سر اٹھائیں گے پھر یہی آواز لگائے گا پھر سہ بارہ یہی پکارے گا اور کہے اللہ تعالیٰ نے تمہاری تمام لغزشوں سے درگزر فرما لیا۔ اب لوگ کھڑے ہونگے اور آپ کی ناچاقیوں اور لین دین کا مطالبہ کرنے لگیں گے تو اللہ وحدہ لاشریک لہ کی طرف سے آواز دی جائے گی کہ اے اہل توحید تم تو آپس میں ایک دوسرے کو معاف کر دو تمہیں اللہ بدل دے گا۔ } ۱؎ [طبرانی اوسط:4803:ضعیف] ‏‏‏‏
25-1یعنی یہ تمہارے قوی بت ہیں جو تمہاری اجتماعت اور آپس کی دوستی کی بنیاد ہیں۔ اگر تم ان کی عبادت چھوڑ دو تو تمہاری قومیت اور دوستی کا شیرازہ بکھر جائے گا۔ 25-2یعنی قیامت کے دن تم ایک دوسرے کا انکار اور دوستی کی بجائے ایک دوسرے پر لعنت کرو گے اور تابع، متبوع کو ملامت اور متبوع، تابع سے بیزاری کا اظہار کریں گے۔
(آیت 25) ➊ { وَ قَالَ اِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا …:} ابراہیم علیہ السلام نے آگ سے نکلنے کے بعد بھی قوم کو نصیحت ترک نہیں کی، بلکہ سمجھایا کہ تمھارے ان بتوں کو شریک بنانے کی بنیاد کوئی عقلی یا نقلی دلیل نہیں، محض ایک دوسرے کی دوستی کی وجہ سے تم نے انھیں شریک بنا رکھا ہے۔ یہ صرف اندھی تقلید، قومی مروّت و لحاظ اور باہمی تعلقات کا دباؤ ہے جس کی وجہ سے تم ان کی پرستش پر اڑے ہوئے ہو، مگر تمھاری یہ دوستی اور شرک و کفر پر اجماع و اتحاد صرف دنیا کی زندگی تک ہے۔ ➋ {ثُمَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ …:} یعنی پھر قیامت کے دن تم ایک دوسرے کا انکار کرو گے، تمھاری یہ دوستی شدید دشمنی میں بدل جائے گی اور تم سب ایک دوسرے کو لعنت کرو گے اور تمھارا ٹھکانا آگ ہی ہے۔ ({” النَّارُ “} خبر پر الف لام کی وجہ سے حصر کا مفہوم پیدا ہو رہا ہے) اور کوئی تمھاری مدد کرنے والا نہیں ہو گا، جیسا کہ فرمایا: «{ اَلْاَخِلَّآءُ يَوْمَىِٕذٍۭ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِيْنَ }» [ الزخرف: ۶۷ ] ”سب دلی دوست اس دن ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے مگر متقی لوگ۔“ اور فرمایا: «{ كُلَّمَا دَخَلَتْ اُمَّةٌ لَّعَنَتْ اُخْتَهَا حَتّٰۤى اِذَا ادَّارَكُوْا فِيْهَا جَمِيْعًا قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّ لٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ }» [ الأعراف: ۳۸ ] ”جب بھی کوئی جماعت (آگ میں) داخل ہوگی اپنے ساتھ والی کو لعنت کرے گی، یہاں تک کہ جس وقت سب ایک دوسرے سے آملیں گے تو ان کی پچھلی جماعت اپنے سے پہلی جماعت کے متعلق کہے گی اے ہمارے رب! ان لوگوں نے ہمیں گمراہ کیا، تو انھیں آگ کا دگنا عذاب دے۔ فرمائے گا سبھی کے لیے دگنا ہے اور لیکن تم نہیں جانتے۔“ اور فرمایا: «{ وَ قَالُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّاۤ اَطَعْنَا سَادَتَنَا وَ كُبَرَآءَنَا فَاَضَلُّوْنَا السَّبِيْلَا }» [الأحزاب: ۶۷ ] ”اور کہیں گے اے ہمارے رب! بے شک ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کا کہنامانا تو انھوں نے ہمیں اصل راہ سے گمراہ کر دیا۔“ اور دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۶۶، ۱۶۷)۔
فَاٰمَنَ لَہٗ لُوۡطٌ ۘ وَ قَالَ اِنِّیۡ مُہَاجِرٌ اِلٰی رَبِّیۡ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۲۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اُس وقت لوطؑ نے اُس کو مانا اور ابراہیمؑ نے کہا میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرتا ہوں، وہ زبردست ہے اور حکیم ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
پس حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر حضرت لوط (علیہ السلام) ایمان ﻻئے اور کہنے لگے کہ میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرنے واﻻ ہوں۔ وه بڑا ہی غالب اور حکیم ہے
احمد رضا خان بریلوی
تو لوط اس پر ایمان لایا اور ابراہیم نے کہا میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرتا ہوں بیشک وہی عزت و حکمت والا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور لوط نے ان (ابراہیم) کی بات مانی اور اطاعت کی اور انہوں نے کہا میں اپنے پروردگار کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں۔ بیشک وہ غالب (اور) بڑا حکمت والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
تو لوط اس پر ایمان لے آیا اور اس نے کہا بے شک میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں، یقینا وہی سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
لوط علیہ السلام اور سارہ رضی اللہ تعالٰی عنہا ٭٭

کہا جاتا ہے کہ لوط علیہ السلام ابرہیم علیہ السلام کے بھتیجے تھے۔ لوط بن ہاران بن آزر۔ آپ کی ساری قوم میں سے ایک تو لوط ایمان لائے تھے اور ایک سارہ رضی اللہ عنہا جو آپ کی بیوی تھیں۔ ایک روایت میں ہے کہ جب آپ کی بیوی صاحبہ کو اس ظالم بادشاہ نے اپنے سپاہیوں کے ذریعہ اپنے پاس بلوایا تو ابراہیم نے کہا تھا کہ دیکھو میں نے اپنا رشتہ تم سے بھائی بہن کا بنایا ہے تم بھی یہی کہنا کیونکہ اس وقت دنیا پر میرے اور تمہارے سوا کوئی مومن نہیں ہے تو ممکن ہے کہ اس سے مراد یہ ہو کہ کوئی میاں بیوی ہمارے سوا ایماندار نہیں۔ لوط علیہ السلام آپ پر ایمان تو لائے مگر اسی وقت ہجرت کر کے شام چلے گئے تھے پھر اہل سدوم کی طرف نبی بنا کر بھیج دئے گئے تھے جیسا کہ بیان گزرا اور آئے گا۔ ہجرت کا ارادہ یا تو لوط علیہ السلام نے ظاہر فرمایا کیونکہ ضمیر کا مرجع اقرب تو یہی ہے۔ یا ابراہیم نے جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ضحاک رحمہ اللہ کا بیان ہے۔ تو گویا لوط علیہ السلام کے ایمان لانے کے بعد آپ نے اپنی قوم سے دست برداری کر لی اور اپنا ارادہ ظاہر کیا کہ اور کسی جگہ جاؤں شاید وہاں والے اللہ والے بن جائیں۔ عزت اللہ کی اس کے رسول کی اور مومنوں کی ہے۔ حکمت والے اقوال، افعال، تقدیر، شریعت اللہ کی ہے۔

قتادۃ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آپ کوفے سے ہجرت کر کے شام کے ملک کی طرف گئے۔ حدیث میں ہے کہ { ہجرت کے بعد کی ہجرت ابراہیم علیہ السلام کی ہجرت گاہ کی طرف ہو گی۔ اس وقت زمین پر بدترین لوگ باقی رہ جائیں گے جنہیں زمین تھوک دے گی اور اللہ ان سے نفرت کرے گا انہیں آگ سورؤں اور بندروں کے ساتھ ہنکاتی پھرے گی۔ راتوں کو دنوں کو انہی کے ساتھ رہے گی اور ان کی جھڑن کھاتی رہے گی۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:27730:مرسل] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے { جو ان میں سے پیچھے رہ جائے گا اسے یہ آگ کھا جائے گی اور مشرق کی طرف سے کچھ لوگ میری امت میں ایسے نکلیں گے جو قرآن پڑھیں گے لیکن ان کے گلے سے نیچے نہیں اترے گا ان کے خاتمے کے بعد دوسرا گروہ کھڑا ہو گا۔ یہاں تک کہ آپ نے بیس سے بھی زیادہ بار اسے دہرایا۔ یہاں تک کہ انہی کے آخری گروہ میں سے دجال نکلے گا۔ } ۱؎ [مسند احمد:199/2:ضعیف] ‏‏‏‏ { سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ایک زمانہ تو ہم پر وہ تھا کہ ہم ایک مسلمان بھائی کے لیے درہم ودینار کو کوئی چیز نہیں سمجھتے تھے اپنی دولت اپنے بھائی کی ہی سمجھتے تھے پھر وہ زمانہ آیا کہ دولت ہمیں اپنے مسلم بھائی سے زیادہ عزیز معلوم ہونے لگی۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ اگر تم بیلوں کی دموں کے پیچھے لگ جاؤ گے اور تجارت میں مشغول ہوجاؤ گے اور اللہ کی راہ کا جہاد چھوڑ دو گے تو اللہ تعالیٰ تمہاری گردنوں میں ذلت کے پٹے ڈال دے گا جو اس وقت تک تم سے الگ نہ ہوں گے جب تک کہ تم پھر سے وہیں نہ آ جاؤ جہاں تھے اور تم توبہ نہ کر لو۔ پھر وہی حدیث بیان کی جو اوپر گزری اور فرمایا کہ میری امت میں ایسے لوگ ہونگے جو قرآن پڑھیں گے اور بدعملیاں کریں گے قرآن ان کے حلقوم سے نیچے نہیں اترے گا۔ ان کے علم کو دیکھ کر تم اپنے علموں کو حقیر سمجھنے لگوگے۔ وہ اہل اسلام کو قتل کریں گے پس جب یہ لوگ ظاہر ہوں تو انہیں قتل کر دینا، پھر نکلیں پھر مار ڈالنا، پھر ظاہر ہوں پھر قتل کر دینا۔ وہ بھی خوش نصیب ہے جو انھیں قتل کرے اور وہ بھی خوش نصیب ہے جو انکے ہاتھوں قتل کیا جائے جب ان کے گروہ نکلیں گے اللہ انہیں برباد کر دے گا پھر نکلیں گے پھر برباد ہو جائیں گے۔

{ اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی بیس مرتبہ بلکہ اس سے بھی زیادہ بار یہی فرمایا۔ } ۱؎ [مسند احمد:84/2:ضعیف] ‏‏‏‏ ہم نے ابراہیم علیہ السلام کو اسحاق علیہ السلام نامی بیٹا دیا اور اسحاق علیہ السلام کو یعقوب علیہ السلام نامی۔ جیسے فرمان ہے کہ جب خلیل اللہ نے اپنی قوم کو اور ان کے معبودوں کو چھوڑ دیا تو اللہ نے آپ کو اسحاق اور یعقوب دیے اور ہر ایک کو نبی بنایا۔ اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ پوتا بھی آپ کی موجودگی میں ہو جائے گا اسحاق علیہ السلام بیٹے تھے اور یعقوب علیہ السلام پوتے تھے۔ اور آیت میں ہے کہ ہم نے ابراہیم علیہ السلام کی بیوی صاحبہ کو اسحٰق کی اور اسحاق علیہ السلام کے پیچھے یعقوب علیہ السلام کی بشارت دی۔ اور فرمایا کہ قوم کو چھوڑنے کے بدلے اللہ تمہارے گھر کی بستی یہ دے گا جس سے تمہاری آنکھیں ٹھنڈی رہیں۔ پس ثابت ہوا کی یعقوب علیہ السلام اسحاق علیہ السلام کے فرزند تھے۔ یہی سنت سے بھی ثابت ہے قرآن کی اور آیت میں ہے کیا تم اس وقت موجود تھے جب یعقوب علیہ السلام کی موت کا وقت آیا تو وہ اپنے لڑکوں سے کہنے لگے تم میرے بعد کس کی عبادت کرو گے؟ انہوں نے کہا آپ کی اور آپ کے والد ابراہیم علیہ السلام، اسماعیل علیہ السلام، اسحاق علیہ السلام کے الہ کی جو یکتا ہے اور واحد لا شریک ہے۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے: { کریم بن کریم بن کریم یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابرہیم علیہم السلام ہیں۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3382_3390] ‏‏‏‏ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے جو مروی ہے کہ اسحاق ویعقوب علیہم السلام ابراہیم علیہ السلام کے فرزند تھے اس سے مراد فرزند کے فرزند کو فرزند کہہ دینا ہے۔ یہ نہیں کہ صلبی فرزند دونوں تھے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما تو کہاں ادنی آدمی بھی ایسی ٹھوکر نہیں کھا سکتا۔

ہم نے انہی کی اولاد میں کتاب و نبوت رکھ دی۔ خلیل کا خطاب انہیں کو ملا انہیں کہا گیا پھر ان کے بعد انہی کی نسل میں نبوت وحکمت رہی بنی اسرائیل کے تمام انبیاء یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیہم السلام کی نسل سے ہیں۔ عیسیٰ تک تو یہ سلسلہ یوں ہی چلا۔ بنی اسرائیل کے اس آخری پیغمبر نے اپنی امت کو صاف کہہ دیا کہ میں نے تمہیں نبی عربی قریشی ہاشمی خاتم المرسلین اور سیدالرسل اولادِ آدم کی بشارت دیتا ہوں جنہیں اللہ نے چن لیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسماعیل علیہ السلام کی نسل میں سے تھے۔ اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے آپ کے سوائے اور نبی نہیں ہوا۔ «علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم» ۔ ہم نے انہیں دنیا کے ثواب بھی دئیے اور آخرت کی نیکیاں بھی عطا فرمائیں۔ دنیا میں رزق وسیع، جگہ پاک، بیوی نیک، سیرت جمیل اور ذکر حسن دیا ساری دنیا کے دلوں میں آپ کی محبت ڈال دی۔ باوجودیکہ اپنی اطاعت کی توفیق روز بروز اور زیادہ دی۔ کامل اطاعت گزاری کی توفیق کے ساتھ دنیاکی بھلائیاں بھی عطا فرمائیں۔ اور آخرت میں بھی صالحین میں رکھا۔ جیسے فرمان ہے ابراہیم علیہ السلام مکمل فرماں بردار تھے موحد تھے مشرکوں میں سے نہ تھے آخرت میں بھلے لوگوں کا ساتھی ہوا۔
26-1حضرت لوط علیہ السلام، حضرت ابراہیم ؑ کے برادر زاد تھے، یہ حضرت ابراہیم ؑ پر ایمان لائے، بعد میں ان کو بھی ' سدوم ' کے علاقے میں نبی بنا کر بھیجا گیا۔ 26-2یہ حضرت ابراہیم ؑ نے کہا اور بعض کے نزدیک حضرت لوط ؑ نے، اور بعض کہتے ہیں دونوں نے ہجرت کی۔ یعنی جب ابراہیم ؑ اور ان پر ایمان لانے والے لوط ؑ کے لئے اپنے علاقے ' کو ٹی ' میں، جو حران کی طرف جاتے ہوئے کوفے کی ایک بستی تھی، اللہ کی عبادت کرنی مشکل ہوگئی تو وہاں سے ہجرت کر کے شام کے علاقے میں چلے گئے، تیسری، ان کے ساتھ حضرت ابراہیم ؑ کی اہلیہ سارہ تھیں۔
(آیت 26) ➊ {فَاٰمَنَ لَهٗ لُوْطٌ:} ابراہیم علیہ السلام جب آگ سے صحیح سلامت باہر آئے اور انھوں نے یہ نصیحت کی تو لوط علیہ السلام فوراً ہی ان پر ایمان لے آئے اور ان کے تابع فرمان ہو گئے، ان کے سوا کوئی اور ان پر ایمان نہیں لایا۔ فوراً کا مفہوم ”فاء“ سے نکل رہا ہے۔ ➋ یہاں ایک سوال ہے کہ عام طور پر ایمان لانے اور تصدیق کرنے کے لیے {”آمَنَ بِهِ“} کا لفظ استعمال ہوتا ہے، {”آمَنَ لَهُ“} کا لفظ کسی کی بات کا اعتبار اور یقین کرنے کے معنی میں آتا ہے، جیسا کہ یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے کہا تھا: «{ وَ مَاۤ اَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَّنَا وَ لَوْ كُنَّا صٰدِقِيْنَ }» [ یوسف: ۱۷ ] ”اور تو ہر گز ہمارا اعتبار کرنے والا نہیں، خواہ ہم سچے ہوں۔“ تو یہاں {”آمَنَ لَهُ“} لانے میں کیا حکمت ہے؟ اس کا جواب اکثر مفسرین نے تو یہ دیا ہے کہ ایمان لانے اور تصدیق کرنے کے لیے {”امَنَ بِهِ“} اور {”آمَنَ لَهُ“} دونوں لفظ استعمال ہوتے ہیں، جیسا کہ جادوگروں کے ایمان لانے پر فرعون کا قول اللہ تعالیٰ نے بعض جگہ {”اٰمَنْتُمْ لَهٗ “} نقل فرمایا ہے۔ (دیکھیے طٰہٰ: ۷۱) اور بعض جگہ {” اٰمَنْتُمْ بِهٖ “} (دیکھیے اعراف: ۱۲۳)۔ اس لیے {”آمَنَ بِهِ“} اور {”آمَنَ لَهُ“} کا مفہوم ایک ہی ہے۔ ابن جزی صاحب التسہیل نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ یہاں {”آمَنَ“} کے ضمن میں {”اِنْقَادَ “} (مطیع ہو گیا) کا مفہوم داخل ہے، اس لیے اس کا صلہ {”لَهُ“} آیا ہے، مطلب یہ ہے کہ ”تو اسی وقت لوط اس کے لیے تابع فرمان ہو گیا۔“ مفسرین میں سے بعض نے لوط علیہ السلام کو ابراہیم کا بھانجا اور اکثر نے بھتیجا بیان کیا ہے، قابل یقین دلیل کسی نے بھی ذکر نہیں فرمائی، البتہ یہ بات ظاہر ہے کہ لوط علیہ السلام ان کی قوم اور ان کے شہر کے آدمی تھے۔ ➌ { وَ قَالَ اِنِّيْ مُهَاجِرٌ اِلٰى رَبِّيْ…:} ابراہیم علیہ السلام نے جب دیکھا کہ اتنا بڑا معجزہ دیکھ کر بھی پوری قوم میں سے صرف ایک شخص ایمان لایا ہے تو ان سے ناامید ہو کر وہاں سے نکل پڑے، ان کے ساتھ ان کی بیوی سارہ اور لوط علیہ السلام بھی تھے، کچھ خبر نہ تھی کہاں جانا ہے، اپنا سب کچھ اللہ کے حوالے کرتے ہوئے کہنے لگے، میں تو وطن چھوڑ کر اپنے رب کی طرف جانے والا ہوں۔ وہی سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے، وہی میری حفاظت کرے گا، مجھے غلبہ عطا کرے گا اور جہاں اس کی حکمت کا تقاضا ہو گا مجھے لے جائے گا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے انھیں ان کی قوم سے نجات دلا کر اپنی حفاظت میں خیریت اور سلامتی کے ساتھ سرزمین شام میں پہنچا دیا، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا: «{ وَ نَجَّيْنٰهُ وَ لُوْطًا اِلَى الْاَرْضِ الَّتِيْ بٰرَكْنَا فِيْهَا لِلْعٰلَمِيْنَ }» [ الأنبیاء: ۷۱] ”اور ہم نے اسے اور لوط کو اس سر زمین کی طرف نجات دی جس میں ہم نے جہانوں کے لیے برکت رکھی ہے۔“ قرآن مجید میں ارض مبارک سے مراد شام کی زمین ہوتی ہے۔ (دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل: ۱) ان کے ہجرت کر جانے کے بعد قوم پر جو گزری اس کے لیے سورۂ انبیاء کی آیات (۷۴، ۷۵) کے حواشی دیکھیے۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کی ہجرت کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتے کو نمرود اور اس کی قوم کی ہدایت کے لیے بھیجا، اس پر بھی جب یہ لوگ سرکشی سے باز نہ آئے تو ان پر مچھروں کا عذاب نازل ہوا۔ یہ مچھر ان لوگوں کا تو سب خون پی گئے، گوشت اور چربی سب کھا گئے، خالی ہڈیاں زمین پر گر پڑیں، مگر نمرود کے دماغ میں ایک مچھر چڑھ گیا جس کے سبب سے اس کے سر پر ایک مدت تک مار پڑتی رہی، اس ذلت کے بعد پھر وہ بھی ہلاک ہو گیا۔ طبری نے یہ بات تابعی زید بن اسلم کے قول سے نقل کی ہے، جس کا اسرائیلی روایت ہونا ظاہر ہے، اس لیے اس پر کسی صورت یقین نہیں کیا جا سکتا، نہ ہی اسے قرآن کی تفسیر میں بیان کیا جا سکتا ہے، کیونکہ ”لا ریب کتاب“ کی تفسیر بھی ”لا ریب“ ذریعے سے ثابت ہونا ضروری ہے۔ اس حکایت میں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ہمارے کئی واعظ کئی سال تک اس مچھر کی وجہ سے نمرود کے سر پر جوتے مرواتے رہتے ہیں، حالانکہ مچھر بے چارے کی کل عمر چند گھنٹوں سے زیادہ نہیں ہوتی۔ مسلمان واعظین کی عجائب پسندی نے اس بات کو ایک مسلّمہ حقیقت بنا دیا ہے۔
وَ وَہَبۡنَا لَہٗۤ اِسۡحٰقَ وَ یَعۡقُوۡبَ وَ جَعَلۡنَا فِیۡ ذُرِّیَّتِہِ النُّبُوَّۃَ وَ الۡکِتٰبَ وَ اٰتَیۡنٰہُ اَجۡرَہٗ فِی الدُّنۡیَا ۚ وَ اِنَّہٗ فِی الۡاٰخِرَۃِ لَمِنَ الصّٰلِحِیۡنَ ﴿۲۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور ہم نے اسے اسحاقؑ اور یعقوبؑ (جیسی اولاد) عنایت فرمائی اور اس کی نسل میں نبوت اور کتاب رکھ دی، اور اسے دنیا میں اُس کا اجر عطا کیا اور آخرت میں وہ یقیناً صالحین میں سے ہو گا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہم نے انھیں (ابراہیم کو) اسحاق ویعقوب (علیہما السلام) عطا کیے اور ہم نے نبوت اور کتاب ان کی اوﻻد میں ہی کر دی اور ہم نے دنیا میں بھی اسے ﺛواب دیا اور آخرت میں تو وه صالح لوگوں میں سے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم نے اسے اسحاق اور یعقوب عطا فرمائے اور ہم نے اس کی اولاد میں نبوت اور کتاب رکھی اور ہم نے دنیا میں اس کا ثواب اسے عطا فرمایا اور بیشک آخرت میں وہ ہمارے قرب خاص کے سزاواروں میں ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے انہیں اسحاق اور یعقوب عطا کئے۔ اور نبوت اور کتاب ان کی نسل میں قرار دے دی۔ اور ہم نے ان کو دنیا میں بھی ان کا صلہ دیا اور آخرت میں یقیناً وہ صالحین میں سے ہوں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے اسے اسحاق اور یعقوب عطا کیے اور اس کی اولاد میں نبوت اور کتاب رکھ دی اور ہم نے اسے اس کا اجر دنیا میں دیا اور بے شک وہ آخرت میں یقینا صالح لوگوں سے ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
لوط علیہ السلام اور سارہ رضی اللہ تعالٰی عنہا ٭٭

کہا جاتا ہے کہ لوط علیہ السلام ابرہیم علیہ السلام کے بھتیجے تھے۔ لوط بن ہاران بن آزر۔ آپ کی ساری قوم میں سے ایک تو لوط ایمان لائے تھے اور ایک سارہ رضی اللہ عنہا جو آپ کی بیوی تھیں۔ ایک روایت میں ہے کہ جب آپ کی بیوی صاحبہ کو اس ظالم بادشاہ نے اپنے سپاہیوں کے ذریعہ اپنے پاس بلوایا تو ابراہیم نے کہا تھا کہ دیکھو میں نے اپنا رشتہ تم سے بھائی بہن کا بنایا ہے تم بھی یہی کہنا کیونکہ اس وقت دنیا پر میرے اور تمہارے سوا کوئی مومن نہیں ہے تو ممکن ہے کہ اس سے مراد یہ ہو کہ کوئی میاں بیوی ہمارے سوا ایماندار نہیں۔ لوط علیہ السلام آپ پر ایمان تو لائے مگر اسی وقت ہجرت کر کے شام چلے گئے تھے پھر اہل سدوم کی طرف نبی بنا کر بھیج دئے گئے تھے جیسا کہ بیان گزرا اور آئے گا۔ ہجرت کا ارادہ یا تو لوط علیہ السلام نے ظاہر فرمایا کیونکہ ضمیر کا مرجع اقرب تو یہی ہے۔ یا ابراہیم نے جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ضحاک رحمہ اللہ کا بیان ہے۔ تو گویا لوط علیہ السلام کے ایمان لانے کے بعد آپ نے اپنی قوم سے دست برداری کر لی اور اپنا ارادہ ظاہر کیا کہ اور کسی جگہ جاؤں شاید وہاں والے اللہ والے بن جائیں۔ عزت اللہ کی اس کے رسول کی اور مومنوں کی ہے۔ حکمت والے اقوال، افعال، تقدیر، شریعت اللہ کی ہے۔

قتادۃ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آپ کوفے سے ہجرت کر کے شام کے ملک کی طرف گئے۔ حدیث میں ہے کہ { ہجرت کے بعد کی ہجرت ابراہیم علیہ السلام کی ہجرت گاہ کی طرف ہو گی۔ اس وقت زمین پر بدترین لوگ باقی رہ جائیں گے جنہیں زمین تھوک دے گی اور اللہ ان سے نفرت کرے گا انہیں آگ سورؤں اور بندروں کے ساتھ ہنکاتی پھرے گی۔ راتوں کو دنوں کو انہی کے ساتھ رہے گی اور ان کی جھڑن کھاتی رہے گی۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:27730:مرسل] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے { جو ان میں سے پیچھے رہ جائے گا اسے یہ آگ کھا جائے گی اور مشرق کی طرف سے کچھ لوگ میری امت میں ایسے نکلیں گے جو قرآن پڑھیں گے لیکن ان کے گلے سے نیچے نہیں اترے گا ان کے خاتمے کے بعد دوسرا گروہ کھڑا ہو گا۔ یہاں تک کہ آپ نے بیس سے بھی زیادہ بار اسے دہرایا۔ یہاں تک کہ انہی کے آخری گروہ میں سے دجال نکلے گا۔ } ۱؎ [مسند احمد:199/2:ضعیف] ‏‏‏‏ { سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ایک زمانہ تو ہم پر وہ تھا کہ ہم ایک مسلمان بھائی کے لیے درہم ودینار کو کوئی چیز نہیں سمجھتے تھے اپنی دولت اپنے بھائی کی ہی سمجھتے تھے پھر وہ زمانہ آیا کہ دولت ہمیں اپنے مسلم بھائی سے زیادہ عزیز معلوم ہونے لگی۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ اگر تم بیلوں کی دموں کے پیچھے لگ جاؤ گے اور تجارت میں مشغول ہوجاؤ گے اور اللہ کی راہ کا جہاد چھوڑ دو گے تو اللہ تعالیٰ تمہاری گردنوں میں ذلت کے پٹے ڈال دے گا جو اس وقت تک تم سے الگ نہ ہوں گے جب تک کہ تم پھر سے وہیں نہ آ جاؤ جہاں تھے اور تم توبہ نہ کر لو۔ پھر وہی حدیث بیان کی جو اوپر گزری اور فرمایا کہ میری امت میں ایسے لوگ ہونگے جو قرآن پڑھیں گے اور بدعملیاں کریں گے قرآن ان کے حلقوم سے نیچے نہیں اترے گا۔ ان کے علم کو دیکھ کر تم اپنے علموں کو حقیر سمجھنے لگوگے۔ وہ اہل اسلام کو قتل کریں گے پس جب یہ لوگ ظاہر ہوں تو انہیں قتل کر دینا، پھر نکلیں پھر مار ڈالنا، پھر ظاہر ہوں پھر قتل کر دینا۔ وہ بھی خوش نصیب ہے جو انھیں قتل کرے اور وہ بھی خوش نصیب ہے جو انکے ہاتھوں قتل کیا جائے جب ان کے گروہ نکلیں گے اللہ انہیں برباد کر دے گا پھر نکلیں گے پھر برباد ہو جائیں گے۔

{ اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی بیس مرتبہ بلکہ اس سے بھی زیادہ بار یہی فرمایا۔ } ۱؎ [مسند احمد:84/2:ضعیف] ‏‏‏‏ ہم نے ابراہیم علیہ السلام کو اسحاق علیہ السلام نامی بیٹا دیا اور اسحاق علیہ السلام کو یعقوب علیہ السلام نامی۔ جیسے فرمان ہے کہ جب خلیل اللہ نے اپنی قوم کو اور ان کے معبودوں کو چھوڑ دیا تو اللہ نے آپ کو اسحاق اور یعقوب دیے اور ہر ایک کو نبی بنایا۔ اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ پوتا بھی آپ کی موجودگی میں ہو جائے گا اسحاق علیہ السلام بیٹے تھے اور یعقوب علیہ السلام پوتے تھے۔ اور آیت میں ہے کہ ہم نے ابراہیم علیہ السلام کی بیوی صاحبہ کو اسحٰق کی اور اسحاق علیہ السلام کے پیچھے یعقوب علیہ السلام کی بشارت دی۔ اور فرمایا کہ قوم کو چھوڑنے کے بدلے اللہ تمہارے گھر کی بستی یہ دے گا جس سے تمہاری آنکھیں ٹھنڈی رہیں۔ پس ثابت ہوا کی یعقوب علیہ السلام اسحاق علیہ السلام کے فرزند تھے۔ یہی سنت سے بھی ثابت ہے قرآن کی اور آیت میں ہے کیا تم اس وقت موجود تھے جب یعقوب علیہ السلام کی موت کا وقت آیا تو وہ اپنے لڑکوں سے کہنے لگے تم میرے بعد کس کی عبادت کرو گے؟ انہوں نے کہا آپ کی اور آپ کے والد ابراہیم علیہ السلام، اسماعیل علیہ السلام، اسحاق علیہ السلام کے الہ کی جو یکتا ہے اور واحد لا شریک ہے۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے: { کریم بن کریم بن کریم یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابرہیم علیہم السلام ہیں۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3382_3390] ‏‏‏‏ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے جو مروی ہے کہ اسحاق ویعقوب علیہم السلام ابراہیم علیہ السلام کے فرزند تھے اس سے مراد فرزند کے فرزند کو فرزند کہہ دینا ہے۔ یہ نہیں کہ صلبی فرزند دونوں تھے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما تو کہاں ادنی آدمی بھی ایسی ٹھوکر نہیں کھا سکتا۔

ہم نے انہی کی اولاد میں کتاب و نبوت رکھ دی۔ خلیل کا خطاب انہیں کو ملا انہیں کہا گیا پھر ان کے بعد انہی کی نسل میں نبوت وحکمت رہی بنی اسرائیل کے تمام انبیاء یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیہم السلام کی نسل سے ہیں۔ عیسیٰ تک تو یہ سلسلہ یوں ہی چلا۔ بنی اسرائیل کے اس آخری پیغمبر نے اپنی امت کو صاف کہہ دیا کہ میں نے تمہیں نبی عربی قریشی ہاشمی خاتم المرسلین اور سیدالرسل اولادِ آدم کی بشارت دیتا ہوں جنہیں اللہ نے چن لیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسماعیل علیہ السلام کی نسل میں سے تھے۔ اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے آپ کے سوائے اور نبی نہیں ہوا۔ «علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم» ۔ ہم نے انہیں دنیا کے ثواب بھی دئیے اور آخرت کی نیکیاں بھی عطا فرمائیں۔ دنیا میں رزق وسیع، جگہ پاک، بیوی نیک، سیرت جمیل اور ذکر حسن دیا ساری دنیا کے دلوں میں آپ کی محبت ڈال دی۔ باوجودیکہ اپنی اطاعت کی توفیق روز بروز اور زیادہ دی۔ کامل اطاعت گزاری کی توفیق کے ساتھ دنیاکی بھلائیاں بھی عطا فرمائیں۔ اور آخرت میں بھی صالحین میں رکھا۔ جیسے فرمان ہے ابراہیم علیہ السلام مکمل فرماں بردار تھے موحد تھے مشرکوں میں سے نہ تھے آخرت میں بھلے لوگوں کا ساتھی ہوا۔
27-1یعنی حضرت اسحاق ؑ سے یعقوب ؑ ہوئے، جن سے بنی اسرئیل کی نسل چلی اور انہی میں سارے انبیاء ہوئے، اور کتابیں آئیں۔ آخر میں حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابراہیم ؑ کے دوسرے بیٹے حضرت اسماعیل ؑ کی نسل سے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن نازل ہوا۔ 27-2اس اجر سے مراد رزق دنیا بھی ہے اور ذکر خیر بھی۔ یعنی دنیا میں ہر مذہب کے لوگ (عیسائی، یہودی وغیرہ حتی کہ مشرکین بھی) حضرت ابراہیم ؑ کی عزت و تکریم کرتے ہیں اور مسلمان تو ہیں ہی ملت ابراہیمی کے پیرو، ان کے ہاں وہ محترم کیوں نہ ہونگے؟ 27-3یعنی آخرت میں بھی وہ بلند درجات کے حامل اور زمرہ صالحین میں ہونگے۔ اس مضمون کو دوسرے مقام پر بھی بیان کیا گیا ہے
(آیت 27) ➊ { وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ يَعْقُوْبَ:} اس آیت میں ایک لطیف فائدہ ہے، وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ابراہیم علیہ السلام پر آنے والے تمام مشکل حالات کو ایسے بہترین حالات کے ساتھ بدل دیا جو پہلے حالات کے بالکل الٹ تھے، یعنی قوم نے انھیں توحید کی دعوت کی وجہ سے آگ میں پھینکا، تو اللہ تعالیٰ نے انھیں اس سے خیریت و سلامتی کے ساتھ بچا لیا۔ وہ پوری قوم میں تنہا تھے، تو اللہ تعالیٰ نے اس کے بدلے میں انھیں اتنی اولاد عطا فرمائی جس سے دنیا بھر گئی۔ ان کے رشتے دار خود گمراہ اور مشرک تھے اور دوسروں کو گمراہ کرنے والے اور شرک کی دعوت دینے والے تھے، جن میں ان کا باپ آزر بھی تھا، تو اللہ تعالیٰ نے ان رشتہ داروں کے بدلے میں ایسے رشتہ دار دیے جو خود ہدایت یافتہ اور دوسروں کو ہدایت دینے والے تھے، یہ ان کی وہ اولاد تھی جن میں اللہ تعالیٰ نے نبوت اور کتاب رکھ دی۔ وہ اپنے وطن میں بے وطن تھے، تو اللہ تعالیٰ نے بابرکت زمین شام میں انھیں ٹھکانا عطا فرمایا۔ ان کے پاس مال و جاہ نہیں تھا، تو اللہ تعالیٰ نے انھیں اتنا مال عطا فرمایا کہ وہ اچانک آنے والے چند مہمانوں کے لیے تھوڑی دیر میں بھنا ہوا بچھڑا لے آتے ہیں اور جاہ و مرتبہ اتنا عطا فرمایا کہ قیامت تک آخری رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود کے ساتھ ان پر بھی درود بھیجا جاتا رہے گا۔ ایک وقت تھا کہ وہ اپنی قوم میں اس قدر بے حیثیت تھے کہ انھیں ایک بے نام شخص سمجھا جاتا تھا، جیسا کہ سورۂ انبیاء میں ہے: «{ قَالُوْا سَمِعْنَا فَتًى يَّذْكُرُهُمْ يُقَالُ لَهٗۤ اِبْرٰهِيْمُ }» [الأنبیاء: ۶۰ ] ”انھوں نے کہا ہم نے ایک جوان سنا ہے جسے ابراہیم کہا جاتا ہے۔“ اور دعوت توحید کی وجہ سے ان کی قوم ان کی دشمن تھی، تو اللہ تعالیٰ نے انھیں قیامت تک آنے والوں میں ایسی لسان صدق (سچی شہرت اور ناموری) عطا فرمائی کہ اب کم ہی کوئی شخص ہو گا جو انھیں نہ جانتا ہو۔ یہودی ہوں یا عیسائی یا مسلمان سب ان سے محبت کرتے ہیں، ان کا ذکر اچھے سے اچھے طریقے سے کرتے ہیں اور ان کی طرف نسبت پر فخر کرتے ہیں۔ ابراہیم علیہ السلام کی زندگی اس بات کی بلا ریب شہادت ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی خاطر کوئی چیز ترک کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اس سے کہیں بہتر چیز عطا کرتا ہے۔ ➋ { وَ جَعَلْنَا فِيْ ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَ الْكِتٰبَ:} یعنی ابراہیم علیہ السلام کے بعد ان کی اولاد کے سوا کسی کو نبوت اور آسمانی کتاب نہیں دی گئی، جتنے انبیاء ہوئے ان کی اولاد سے ہوئے، اس لیے انھیں ابو الانبیاء کہا جاتا ہے۔ ابراہیم علیہ السلام کی اولاد کا ایک سلسلہ اسحاق و یعقوب علیھما السلام کا ہے، جس میں عیسیٰ علیہ السلام تک بہت سے حضرات کو نبوت ملی۔ دوسرا سلسلہ اسماعیل علیہ السلام کا ہے جس میں آخری نبی سید ولد آدم محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہوئے۔ زمخشری نے یہاں ایک سوال ذکر کیا ہے کہ یہاں ابراہیم علیہ السلام کو اسحاق و یعقوب علیھما السلام عطا فرمانے کا ذکر ہے، اسماعیل علیہ السلام کا ذکر نہیں، پھر خود ہی جواب دیا کہ یہاں ان کا اور سید الرسل صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر بھی {” وَ جَعَلْنَا فِيْ ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَ الْكِتٰبَ “} کے ضمن میں موجود ہے۔ بعض مفسرین نے یہاں اسماعیل علیہ السلام کا ذکر صراحت کے ساتھ نہ کرنے میں یہ نکتہ بیان فرمایا ہے کہ اس سورت میں شروع سے اہل ایمان کی آزمائش اور امتحان کا ذکر آرہا ہے، جس میں ابراہیم علیہ السلام کی آزمائش کا ذکر بھی ہے، ان کی آزمائش کے ذکر کے بعد ان پر انعامات کا ذکر ہے، جن میں صراحت کے ساتھ اسحاق و یعقوب علیھما السلام کا ذکر فرمایا، کیونکہ آزمائش کے خاتمے پر بڑھاپے میں ان کا ملنا انعام ہی انعام تھا۔ اسماعیل علیہ السلام بھی اگرچہ اللہ تعالیٰ کا انعام تھے، مگر ان کے ساتھ شدید قسم کے امتحانات بھی وابستہ تھے، مثلاً وادی غیر ذی زرع میں چھوڑنا، انھیں ذبح کرنے کا حکم دینا وغیرہ۔ اس لیے انعام کے تذکرے میں اس کا نام صراحت کے ساتھ ذکر نہیں فرمایا، اگرچہ نبوت و کتاب عطا کی جانے والی اولاد میں ان کا ذکر بھی فرما دیا۔ (واللہ اعلم) ➌ { وَ اٰتَيْنٰهُ اَجْرَهٗ فِي الدُّنْيَا:} اس سے مراد وہ چیزیں ہیں جن کا ذکر اس آیت کے فائدہ (۱) میں گزرا ہے۔ شاہ عبدالقادر لکھتے ہیں: ”یعنی دنیا میں حق تعالیٰ نے مال، اولاد، عزت اور ہمیشہ کا نام دیا اور ملک شام ہمیشہ کے لیے ان کی اولاد کو بخشا۔“ (موضح) ➍ {وَ اِنَّهٗ فِي الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِيْنَ:} یعنی دنیا میں دیے جانے والے اجر سے ان کے آخرت کے درجات میں کوئی کمی نہیں ہوئی، بلکہ انھیں صالحین میں شمولیت کا شرف عطا کیا گیا جس کے حصول کی دعا اللہ کے جلیل القدر پیغمبر بھی کرتے رہے، جیسے سلیمان علیہ السلام نے دعا کی: «{ وَ اَدْخِلْنِيْ بِرَحْمَتِكَ فِيْ عِبَادِكَ الصّٰلِحِيْنَ }» [ النمل: ۱۹ ] ”اور اپنی رحمت سے مجھے اپنے نیک بندوں میں داخل فرما۔“ اور یوسف علیہ السلام نے دعا کی: «{ تَوَفَّنِيْ مُسْلِمًا وَّ اَلْحِقْنِيْ بِالصّٰلِحِيْنَ }» [ یوسف: ۱۰۱ ] ”مجھے مسلم ہونے کی حالت میں فوت کر اور مجھے نیک لوگوں کے ساتھ ملا دے۔“ اور عائشہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرماتے تھے: [ مَا مِنْ نَبِيٍّ يَمْرَضُ إِلاَّ خُيِّرَ بَيْنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَكَانَ فِيْ شَكْوَاهُ الَّذِيْ قُبِضَ فِيْهِ أَخَذَتْهُ بُحَّةٌ شَدِيْدَةٌ فَسَمِعْتُهُ يَقُوْلُ: «‏‏‏‏مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيّٖنَ وَ الصِّدِّيْقِيْنَ۠ وَ الشُّهَدَآءِ وَ الصّٰلِحِيْنَ» ‏‏‏‏ [النساء: ۶۹] فَعَلِمْتُ أَنَّهُ خُيِّرَ ] [ بخاري، التفسیر، باب: «‏‏‏‏فاولٓئک مع الذین أنعم اللہ علیھم …» : ۴۵۸۶ ] ”جو بھی نبی بیمار ہوتا ہے اسے دنیا اور آخرت کے درمیان اختیار دیا جاتا ہے۔“ اور آپ جس بیماری میں فوت ہوئے آپ کو بہت سخت کھانسی ہوئی، تو میں نے سنا آپ کہہ رہے تھے: ”ان لوگوں کے ساتھ (ملا دے) جن پر تو نے انعام کیا نبیوں، صدیقوں، شہداء اور صالحین میں سے۔“ تو میں نے جان لیا کہ آپ کو اختیار دے دیا گیا ہے۔“ ➎ اس آیت میں دینِ حق کی خاطر صبر کرنے میں ابراہیم علیہ السلام کی پیروی کی ترغیب ہے۔
وَ لُوۡطًا اِذۡ قَالَ لِقَوۡمِہٖۤ اِنَّکُمۡ لَتَاۡتُوۡنَ الۡفَاحِشَۃَ ۫ مَا سَبَقَکُمۡ بِہَا مِنۡ اَحَدٍ مِّنَ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۲۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور ہم نے لوطؑ کو بھیجا جبکہ اُس نے اپنی قوم سے کہا "تم تو وہ فحش کام کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا والوں میں سے کسی نے نہیں کیا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور حضرت لوط (علیہ السلام) کا بھی ذکر کرو جب کہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم تو اس بدکاری پر اتر آئے ہو جسے تم سے پہلے دنیا بھر میں سے کسی نے نہیں کیا
احمد رضا خان بریلوی
اور لوط کو نجات دی جب اس نے اپنی قوم سے فرمایا تم بیشک بے حیائی کا کام کرتے ہو، کہ تم سے پہلے دنیا بھر میں کسی نے نہ کیا
علامہ محمد حسین نجفی
اور (ہم نے) لوط کو (بھیجا) جبکہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ تم بے حیائی کا وہ کام کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا جہان والوں میں سے کسی نے نہیں کیا۔
عبدالسلام بن محمد
اور لوط کو (بھیجا) جب اس نے اپنی قوم سے کہا بے شک تم یقینا اس بے حیائی کا ارتکاب کرتے ہو جو تم سے پہلے جہانوں میں سے کسی نے نہیں کی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سب سے خراب عادت ٭٭

لوطیوں کی مشہور بدکرداری سے لوط انہیں روکتے ہیں کہ تم جیسی خباثت تم سے پہلے تو کوئی جانتاہی نہ تھا۔ کفر، تکذیب رسول، اللہ کے حکم کی مخالفت تو خیر اور بھی کرتے رہے مگر مردوں سے حاجت روائی تو کسی نے بھی نہیں کی۔ دوسری بد خصلت ان میں یہ بھی تھی کہ راستے روکتے تھے، ڈاکے ڈالتے تھے، قتل وفساد کرتے تھے مال لوٹ لیتے تھے، مجلسوں میں علی الاعلان بری باتیں اور لغو حرکتیں کرتے تھے۔ کوئی کسی کو نہیں روکتا تھا یہاں تک کہ بعض کا قول ہے کہ وہ لواطت بھی علی الاعلان کرتے تھے۔ گویا سوسائٹی کا ایک مشغلہ یہ بھی تھا ہوائیں نکال کر ہنستے تھے، مینڈھے لڑواتے، مرغ لڑواتے اور بدترین برائیاں کرتے تھے اور علی الاعلان مزے لے لے کر گناہ کرتے تھے۔ حدیث میں ہے کہ { راہ چلتوں پر آوازہ کشی کرتے تھے اور کنکر پتھر پھینکتے رہتے تھے۔ } ۱؎ [مسند احمد:241/6:ضعیف] ‏‏‏‏ سیٹیاں بجاتے تھے کبوتربازی کرتے تھے، ننگے ہو جاتے تھے، کفر عنادسرکشی ضد اور ہٹ دھرمی یہاں تک بڑھی ہوئی تھی کہ نبی کے سمجھانے پر کہنے لگے جاجا پس نصیحت چھوڑ جن عذابوں سے ڈرارہا ہے انہیں تو لے آ۔ ہم بھی تیری سچائی دیکھیں۔ عاجز آ کر لوط علیہ السلام نے بھی اللہ کے آگے ہاتھ پھیلادئیے کہ اے اللہ! ان مفسدوں پر مجھے غلبہ دے میری مدد کر۔
28-1اس بدکاری سے مراد وہی لواطت ہے جس کا ارتکاب قوم لوط ؑ نے سب سے پہلے کیا جیسا کہ قرآن نے صراحت کی ہے۔
(آیت 28) {وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ …:} ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ ہی لوط علیہ السلام کا ذکر فرمایا، کیونکہ وہ ان پر ایمان لائے اور دونوں نے اکٹھے ہجرت کی۔ لوط علیہ السلام کے واقعہ کے لیے دیکھیے سورۂ اعراف (رکوع ۱۰)، حجر (رکوع ۴، ۵)، انبیاء (رکوع ۵)، شعراء (رکوع ۹)، نمل (رکوع ۴)، صافات (رکوع ۴) اور قمر (رکوع ۲) اور آیت کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ اعراف (۸۰) اور نمل (۵۴، ۵۵)۔
اَئِنَّکُمۡ لَتَاۡتُوۡنَ الرِّجَالَ وَ تَقۡطَعُوۡنَ السَّبِیۡلَ ۬ۙ وَ تَاۡتُوۡنَ فِیۡ نَادِیۡکُمُ الۡمُنۡکَرَ ؕ فَمَا کَانَ جَوَابَ قَوۡمِہٖۤ اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوا ائۡتِنَا بِعَذَابِ اللّٰہِ اِنۡ کُنۡتَ مِنَ الصّٰدِقِیۡنَ ﴿۲۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کیا تمہارا حال یہ ہے کہ مَردوں کے پاس جاتے ہو، اور رہزنی کرتے ہو اور اپنی مجلسوں میں بُرے کام کرتے ہو؟" پھر کوئی جواب اس کی قوم کے پاس اس کے سوا نہ تھا کہ انہوں نے کہا "لے آ اللہ کا عذاب اگر تو سچّا ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا تم مردوں کے پاس بدفعلی کے لیے آتے ہو اور راستے بند کرتے ہو اور اپنی عام مجلسوں میں بے حیائیوں کا کام کرتے ہو؟ اس کے جواب میں اس کی قوم نے بجز اس کے اور کچھ نہیں کہا کہ بس جا اگر سچا ہے تو ہمارے پاس اللہ تعالیٰ کا عذاب لے آ
احمد رضا خان بریلوی
کیا تم مردوں سے بدفعلی کرتے ہو اور راہ مارتے ہو اور اپنی مجلس میں بری بات کرتے ہو تو اس کی قوم کا کچھ جواب نہ ہوا مگر یہ کہ بولے ہم پر اللہ کا عذاب لاؤ اگر تم سچے ہو
علامہ محمد حسین نجفی
کیا تم (عورتوں کو چھوڑ کر) مردوں کے پاس جاتے ہو؟ اور راہزنی کرتے ہو اور اپنے مجمع میں برے کام کرتے ہو۔ تو ان کی قوم کے پاس اس کے سوا کوئی جواب نہ تھا کہ انہوں نے کہا (اے لوط) اگر تم سچے ہو تو ہم پر اللہ کا عذاب لاؤ۔
عبدالسلام بن محمد
کیا بے شک تم واقعی مردوں کے پاس آتے ہو اور راستہ کاٹتے ہو اور اپنی مجلس میں برا کام کرتے ہو؟ تو اس کی قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ انھوں نے کہا ہم پر اللہ کا عذاب لے آ، اگر تو سچوں سے ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سب سے خراب عادت ٭٭

لوطیوں کی مشہور بدکرداری سے لوط انہیں روکتے ہیں کہ تم جیسی خباثت تم سے پہلے تو کوئی جانتاہی نہ تھا۔ کفر، تکذیب رسول، اللہ کے حکم کی مخالفت تو خیر اور بھی کرتے رہے مگر مردوں سے حاجت روائی تو کسی نے بھی نہیں کی۔ دوسری بد خصلت ان میں یہ بھی تھی کہ راستے روکتے تھے، ڈاکے ڈالتے تھے، قتل وفساد کرتے تھے مال لوٹ لیتے تھے، مجلسوں میں علی الاعلان بری باتیں اور لغو حرکتیں کرتے تھے۔ کوئی کسی کو نہیں روکتا تھا یہاں تک کہ بعض کا قول ہے کہ وہ لواطت بھی علی الاعلان کرتے تھے۔ گویا سوسائٹی کا ایک مشغلہ یہ بھی تھا ہوائیں نکال کر ہنستے تھے، مینڈھے لڑواتے، مرغ لڑواتے اور بدترین برائیاں کرتے تھے اور علی الاعلان مزے لے لے کر گناہ کرتے تھے۔ حدیث میں ہے کہ { راہ چلتوں پر آوازہ کشی کرتے تھے اور کنکر پتھر پھینکتے رہتے تھے۔ } ۱؎ [مسند احمد:241/6:ضعیف] ‏‏‏‏ سیٹیاں بجاتے تھے کبوتربازی کرتے تھے، ننگے ہو جاتے تھے، کفر عنادسرکشی ضد اور ہٹ دھرمی یہاں تک بڑھی ہوئی تھی کہ نبی کے سمجھانے پر کہنے لگے جاجا پس نصیحت چھوڑ جن عذابوں سے ڈرارہا ہے انہیں تو لے آ۔ ہم بھی تیری سچائی دیکھیں۔ عاجز آ کر لوط علیہ السلام نے بھی اللہ کے آگے ہاتھ پھیلادئیے کہ اے اللہ! ان مفسدوں پر مجھے غلبہ دے میری مدد کر۔
29-1یعنی تمہاری شہوت پرستی اس انتہاء تک پہنچ گئی ہے کہ اس کے لئے طبعی طریقے تمہارے لئے ناکافی ہیں اور غیر طبعی طریقہ اختیار کرلیا ہے۔ جنسی شہوت کی تسکین کے لئے طبعی طریقہ اللہ تعالیٰ نے بیویوں سے مباشرت کی صورت میں رکھا ہے۔ اسے چھوڑ کر اس کام کے لئے مردوں کی دبر استعمال کرنا غیر طبعی طریقہ ہے۔ 29-2اس کے ایک معنی تو یہ کیے گے ہیں کہ آنے جانے والے مسافروں، نو واردوں اور گزرنے والوں کو زبردستی پکڑ پکڑ کر تم ان سے بےحیائی کا کام کرتے ہو، جس سے لوگوں کے لئے راستوں سے گزرنا مشکل ہوگیا ہے، قطع طریق کے ایک معنی قطع نسل کے بھی کئے گئے ہیں، یعنی عورتوں کی شرم گاہوں کو استعمال کرنے کی بجائے مردوں کی دبر استعمال کر کے تم اپنی نسل بھی منقطع کرنے میں لگے ہوئے ہو (فتح القدیر) 29-2یہ بےحیائی کیا تھی؟ اس میں بھی مختلف اقوال ہیں، مثلا لوگوں کو کنکریاں مارنا، اجنبی مسافر کا استہزاء و استخفاف، مجلسوں میں پاد مارنا، ایک دوسرے کے سامنے اغلام بازی، شطرنج وغیرہ قسم کی قماربازی، رنگے ہوئے کپڑے پہننا، وغیرہ۔ امام شوکانی فرماتے ہیں، کوئی بعید نہیں کہ وہ یہ تمام ہی منکرات کرتے رہے ہوں، 29-3حضرت لوط ؑ نے جب انھیں ان منکرات سے منع کیا تو اس کے جواب میں کہا۔
(آیت 29) ➊ { اَئِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ وَ تَقْطَعُوْنَ السَّبِيْلَ:} قطع سبیل (راستہ کاٹنے) سے مراد عام طور پر راہ زنی و ڈاکا مارنا لیا جاتا ہے، یعنی تم لوگ مسافروں سے ان کے مال چھین کر انھیں قتل کر دیتے ہو، یا زبردستی ان کے ساتھ برائی کا ارتکاب کرتے ہو، یا زیادتی کی کوئی بھی صورت اختیار کرتے ہو جس سے لوگوں کے لیے راہ چلنا خطرناک ہو جاتا ہے۔ ➋ {وَ تَاْتُوْنَ فِيْ نَادِيْكُمُ الْمُنْكَرَ:} یعنی بدکاری اور بے حیائی کے کام چھپ کر نہیں بلکہ اپنی مجلسوں میں کھلم کھلا ایک دوسرے کے سامنے کرتے ہو۔ اسی بات کو سورۂ نمل میں یوں فرمایا: «{ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ وَ اَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ }» [ النمل: ۵۴ ] ”کیا تم اس طرح بدکاری کا ارتکاب کرتے ہو کہ آنکھوں سے (اسے ہوتا) دیکھ رہے ہوتے ہو۔“ ➌ { فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ …:} یہاں ان کی قوم کا جواب یہ ذکر فرمایا ہے کہ انھوں نے کہا ہم پر اللہ کا عذاب لے آ، اگر تو سچوں سے ہے اور سورۂ اعراف اور سورۂ نمل میں ان کا جواب یہ ذکر فرمایا ہے کہ انھوں نے کہا انھیں اپنی بستی سے نکال دو، کیونکہ یہ لوگ بڑے پاک باز بنتے ہیں۔ اب ہو سکتا ہے کہ پہلے تو لوط علیہ السلام کے سمجھانے پر انھوں نے بستی سے نکال دینے کی دھمکی دی ہو اور پھر ان کی نصیحت سے تنگ آکر عذاب کا مطالبہ کر دیا ہو، یا ممکن ہے ترتیب اس کے برعکس ہو۔ (واللہ اعلم) یہ بات تو ظاہر ہے کہ انھوں نے لوط علیہ السلام کو یہ دونوں باتیں کیں۔
قَالَ رَبِّ انۡصُرۡنِیۡ عَلَی الۡقَوۡمِ الۡمُفۡسِدِیۡنَ ﴿٪۳۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
لوطؑ نے کہا "اے میرے رب، اِن مفسد لوگوں کے مقابلے میں میری مدد فرما"
مولانا محمد جوناگڑھی
حضرت لوط (علیہ السلام) نے دعا کی کہ پروردگار! اس مفسد قوم پر میری مدد فرما
احمد رضا خان بریلوی
عرض کی، اے میرے رب! میری مدد کر ان فسادی لوگوں پر
علامہ محمد حسین نجفی
لوط نے کہا اے میرے پروردگار! ان مفسد لوگوں کے مقابلہ میں میری مدد فرما۔
عبدالسلام بن محمد
اس نے کہا اے میرے رب! ان مفسد لوگوں کے خلاف میری مدد فرما۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سب سے خراب عادت ٭٭

لوطیوں کی مشہور بدکرداری سے لوط انہیں روکتے ہیں کہ تم جیسی خباثت تم سے پہلے تو کوئی جانتاہی نہ تھا۔ کفر، تکذیب رسول، اللہ کے حکم کی مخالفت تو خیر اور بھی کرتے رہے مگر مردوں سے حاجت روائی تو کسی نے بھی نہیں کی۔ دوسری بد خصلت ان میں یہ بھی تھی کہ راستے روکتے تھے، ڈاکے ڈالتے تھے، قتل وفساد کرتے تھے مال لوٹ لیتے تھے، مجلسوں میں علی الاعلان بری باتیں اور لغو حرکتیں کرتے تھے۔ کوئی کسی کو نہیں روکتا تھا یہاں تک کہ بعض کا قول ہے کہ وہ لواطت بھی علی الاعلان کرتے تھے۔ گویا سوسائٹی کا ایک مشغلہ یہ بھی تھا ہوائیں نکال کر ہنستے تھے، مینڈھے لڑواتے، مرغ لڑواتے اور بدترین برائیاں کرتے تھے اور علی الاعلان مزے لے لے کر گناہ کرتے تھے۔ حدیث میں ہے کہ { راہ چلتوں پر آوازہ کشی کرتے تھے اور کنکر پتھر پھینکتے رہتے تھے۔ } ۱؎ [مسند احمد:241/6:ضعیف] ‏‏‏‏ سیٹیاں بجاتے تھے کبوتربازی کرتے تھے، ننگے ہو جاتے تھے، کفر عنادسرکشی ضد اور ہٹ دھرمی یہاں تک بڑھی ہوئی تھی کہ نبی کے سمجھانے پر کہنے لگے جاجا پس نصیحت چھوڑ جن عذابوں سے ڈرارہا ہے انہیں تو لے آ۔ ہم بھی تیری سچائی دیکھیں۔ عاجز آ کر لوط علیہ السلام نے بھی اللہ کے آگے ہاتھ پھیلادئیے کہ اے اللہ! ان مفسدوں پر مجھے غلبہ دے میری مدد کر۔
30-1یعنی حضرت لوط ؑ قوم کی اصلاح سے ناامید ہوگئے تو اللہ سے مدد کی دعا فرمائی۔
(آیت 30) {قَالَ رَبِّ انْصُرْنِيْ …:} لوط علیہ السلام نے ان کے ایمان لانے سے مایوس ہو کر یہ دعا کی کہ اے میرے رب! ان مفسد لوگوں کے خلاف میری مدد فرما۔ {” الْقَوْمِ الْمُفْسِدِيْنَ “} میں الف لام عہد کا ہے، اس لیے ترجمہ ”ان مفسد لوگوں“ کیا گیا ہے۔ اللہ کے پیغمبر اپنی قوم پر بددعا اس وقت کرتے ہیں جب انھیں یقین ہو جائے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔
وَ لَمَّا جَآءَتۡ رُسُلُنَاۤ اِبۡرٰہِیۡمَ بِالۡبُشۡرٰی ۙ قَالُوۡۤا اِنَّا مُہۡلِکُوۡۤا اَہۡلِ ہٰذِہِ الۡقَرۡیَۃِ ۚ اِنَّ اَہۡلَہَا کَانُوۡا ظٰلِمِیۡنَ ﴿ۚۖ۳۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور جب ہمارے فرستادے ابراہیمؑ کے پاس بشارت لے کر پہنچے تو انہوں نے اُس سے کہا "ہم اِس بستی کے لوگوں کو ہلاک کرنے والے ہیں، اس کے لوگ سخت ظالم ہو چکے ہیں"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جب ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس بشارت لے کر پہنچے کہنے لگے کہ اس بستی والوں کو ہم ہلاک کرنے والے ہیں، یقیناً یہاں کے رہنے والے گنہگار ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور جب ہمارے فرشتے ابراہیم کے پاس مژدہ لے کر آئے بولے ہم ضرور اس شہر والوں کو ہلاک کریں گے بیشک اس کے بسنے والے ستمگاروں ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جب ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) ابراہیم کے پاس خوشخبری لے کر آئے۔ تو انہوں نے (اثنائے گفتگو میں یہ بھی) کہا کہ ہم اس (لوط کی) بستی والوں کو ہلاک کرنے والے ہیں (کیونکہ) اس بستی کے لوگ (بڑے) ظالم ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب ہمارے بھیجے ہوئے ابراہیم کے پاس خوش خبری لے کر آئے تو انھوں نے کہا یقینا ہم اس بستی والوں کو ہلاک کرنے والے ہیں، بے شک اس کے رہنے والے ظالم چلے آئے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فرشتوں کی آمد ٭٭

لوط علیہ السلام کی جب نہ مانی گئی بلکہ سنی بھی نہ گئی تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کی جس پر فرشتے بھیجے گئے۔ یہ فرشتے بشکل انسان پہلے بطور مہمان ابراہیم علیہ السلام کے گھر آئے۔ آپ نے ضیافت کا سامان تیار کیا اور سامنے لارکھا۔ جب دیکھا کہ انہیں اس کی رغبت نہ کی تو دل ہی دل میں خوفزدہ ہو گئے تو فرشتوں نے ان کی دلجوئی شروع کی اور خبر دی کہ ایک نیک بچہ ان کے ہاں پیدا ہو گا۔ سارہ جو وہاں موجود تھیں یہ سن کر تعجب کرنے لگیں جیسے سورۃ ہود اور سورۃ الحجر میں مفصل تفسیر گزر چکی ہے۔ اب فرشتوں نے اپنا اصلی ارادہ ظاہر کیا۔ جسے سن کر ابراہیم علیہ السلام کو خیال آیا کہ اگر وہ لوگ کچھ اور ڈھیل دے دئیے جائیں تو کیا عجب کہ راہ راست پر آ جائیں۔

اس لیے فرمانے لگے کہ وہاں تو لوط نبی علیہ السلام بھی ہیں۔ فرشتوں نے جواب دیا ہم ان سے غافل نہیں۔ ہمیں حکم ہے کہ انہیں اور ان کے خاندان کو بچالیں۔ ہاں ان کی بیوی تو بیشک ہلاک ہو گی۔ کیونکہ وہ اپنی قوم کے کفر میں ان کا ساتھ دیتی رہی ہے۔ یہاں سے رخصت ہو کر خوبصورت قریب البلوغ بچوں کی صورت میں یہ لوط علیہ السلام کے پاس پہنچے۔ انہیں دیکھتے ہی لوط نبی علیہ السلام شش وپنج میں پڑ گئے کہ اگر انہیں ٹھہراتے ہیں تو ان کی خبر پاتے ہی کفار بھڑ بھڑا کر آ جائیں گے اور مجھے تنگ کریں گے اور انہیں بھی پریشان کریں گے۔ اگر نہیں ٹھہراتا تو یہ انہی کے ہاتھ پڑجائیں گے قوم کی خصلت سے واقف تھے اس لیے ناخوش اور سنجیدہ ہو گئے۔ لیکن فرشتوں نے ان کی یہ گھبراہٹ دور کر دی کہ آپ گھبرائیے نہیں رنجیدہ نہ ہوں ہم تو اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں انہیں تباہ و برباد کرنے کے لیے آئیں ہیں۔ آپ اور آپ کا خاندان سوائے آپ کی اہلیہ کے بچ جائے گا۔ باقی ان سب پر آسمانی عذاب آئے گا اور انہیں ان کی بدکاری کا نتیجہ دکھایا دیا جائے گا۔

پھر جبرائیل علیہ السلام نے ان بستیوں کو زمین سے اٹھایا اور آسمان تک لے گئے اور وہاں سے الٹ دیں پھر ان پر ان کے نام کے نشاندار پتھر برسائے گئے اور جس عذاب الٰہی کو وہ دورسجمھ رہے تھے وہ قریب ہی نکل آیا۔ ان کی بستیوں کی جگہ ایک کڑوے گندے اور بدبودار پانی کی جھیل رہ گئی۔ جو لوگوں کے لیے عبرت حاصل کرنے کا ذریعہ بنے۔ اور عقلمند لوگ اس ظاہری نشان کو دیکھ کر ان کی بری طرح ہلاکت کو یاد کر کے اللہ کی نافرمانیوں پر دلیری نہ کریں۔ عرب کے سفر میں رات دن یہ منظر ان کے پیش نظر تھا۔
31-1یعنی حضرت لوط ؑ کی دعا قبول فرمائی گئی اور اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو ہلاک کرنے کے لئے بھیج دیا۔ وہ فرشتے پہلے حضرت ابراہیم ؑ کے پاس گئے اور انھیں اسحاق ؑ و یعقوب ؑ کی خوشخبری دی اور ساتھ ہی بتلایا کہ ہم لوط ؑ کی بستی ہلاک کرنے آئے ہیں۔
(آیت 31تا34) {وَ لَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَاۤ اِبْرٰهِيْمَ بِالْبُشْرٰى …:} ان آیات کی مفصل تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ ہود (۶۹ تا ۸۲) اور سورۂ حجر (۵۱ تا ۷۹)۔
قَالَ اِنَّ فِیۡہَا لُوۡطًا ؕ قَالُوۡا نَحۡنُ اَعۡلَمُ بِمَنۡ فِیۡہَا ٝ۫ لَنُنَجِّیَنَّہٗ وَ اَہۡلَہٗۤ اِلَّا امۡرَاَتَہٗ ٭۫ کَانَتۡ مِنَ الۡغٰبِرِیۡنَ ﴿۳۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ابراہیمؑ نے کہا "وہاں تو لوطؑ موجود ہے" انہوں نے کہا "ہم خوب جانتے ہیں کہ وہاں کون کون ہے ہم اُسے، اور اس کی بیوی کے سوا اس کے باقی گھر والوں کو بچا لیں گے" اس کی بیوی پیچھے رہ جانے والوں میں سے تھی
مولانا محمد جوناگڑھی
(حضرت ابراہیم علیہ السلام نے) کہا اس میں تو لوط (علیہ السلام) ہیں، فرشتوں نے کہا یہاں جو ہیں ہم انہیں بخوبی جانتے ہیں۔ لوط (علیہ السلام) کو اور اس کے خاندان کو سوائے اس کی بیوی کے ہم بچالیں گے، البتہ وه عورت پیچھے ره جانے والوں میں سے ہے
احمد رضا خان بریلوی
کہا اس میں تو لوط ہے فرشتے بولے ہمیں خوب معلوم ہے جو کوئی اس میں ہے، ضرور ہم اسے اور اس کے گھر والوں کو نجات دیں گے مگر اس کی عورت کو، وہ رہ جانے والوں میں ہے
علامہ محمد حسین نجفی
ابراہیم نے کہا اس بستی میں تو لوط بھی ہیں؟ فرشتوں نے کہا ہم بہتر جانتے ہیں کہ اس میں کون کون ہیں؟ ہم انہیں اور ان کے گھر والوں کو بچا لیں گے۔ سوائے ان کی بیوی کے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اس نے کہا اس میں تو لوط ہے۔ انھوں نے کہا ہم اسے زیادہ جاننے والے ہیں جو اس میں ہے، یقینا ہم اسے اور اس کے گھر والوں کو ضرور بچالیں گے، مگر اس کی بیوی، وہ پیچھے رہنے والوں میں سے ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فرشتوں کی آمد ٭٭

لوط علیہ السلام کی جب نہ مانی گئی بلکہ سنی بھی نہ گئی تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کی جس پر فرشتے بھیجے گئے۔ یہ فرشتے بشکل انسان پہلے بطور مہمان ابراہیم علیہ السلام کے گھر آئے۔ آپ نے ضیافت کا سامان تیار کیا اور سامنے لارکھا۔ جب دیکھا کہ انہیں اس کی رغبت نہ کی تو دل ہی دل میں خوفزدہ ہو گئے تو فرشتوں نے ان کی دلجوئی شروع کی اور خبر دی کہ ایک نیک بچہ ان کے ہاں پیدا ہو گا۔ سارہ جو وہاں موجود تھیں یہ سن کر تعجب کرنے لگیں جیسے سورۃ ہود اور سورۃ الحجر میں مفصل تفسیر گزر چکی ہے۔ اب فرشتوں نے اپنا اصلی ارادہ ظاہر کیا۔ جسے سن کر ابراہیم علیہ السلام کو خیال آیا کہ اگر وہ لوگ کچھ اور ڈھیل دے دئیے جائیں تو کیا عجب کہ راہ راست پر آ جائیں۔

اس لیے فرمانے لگے کہ وہاں تو لوط نبی علیہ السلام بھی ہیں۔ فرشتوں نے جواب دیا ہم ان سے غافل نہیں۔ ہمیں حکم ہے کہ انہیں اور ان کے خاندان کو بچالیں۔ ہاں ان کی بیوی تو بیشک ہلاک ہو گی۔ کیونکہ وہ اپنی قوم کے کفر میں ان کا ساتھ دیتی رہی ہے۔ یہاں سے رخصت ہو کر خوبصورت قریب البلوغ بچوں کی صورت میں یہ لوط علیہ السلام کے پاس پہنچے۔ انہیں دیکھتے ہی لوط نبی علیہ السلام شش وپنج میں پڑ گئے کہ اگر انہیں ٹھہراتے ہیں تو ان کی خبر پاتے ہی کفار بھڑ بھڑا کر آ جائیں گے اور مجھے تنگ کریں گے اور انہیں بھی پریشان کریں گے۔ اگر نہیں ٹھہراتا تو یہ انہی کے ہاتھ پڑجائیں گے قوم کی خصلت سے واقف تھے اس لیے ناخوش اور سنجیدہ ہو گئے۔ لیکن فرشتوں نے ان کی یہ گھبراہٹ دور کر دی کہ آپ گھبرائیے نہیں رنجیدہ نہ ہوں ہم تو اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں انہیں تباہ و برباد کرنے کے لیے آئیں ہیں۔ آپ اور آپ کا خاندان سوائے آپ کی اہلیہ کے بچ جائے گا۔ باقی ان سب پر آسمانی عذاب آئے گا اور انہیں ان کی بدکاری کا نتیجہ دکھایا دیا جائے گا۔

پھر جبرائیل علیہ السلام نے ان بستیوں کو زمین سے اٹھایا اور آسمان تک لے گئے اور وہاں سے الٹ دیں پھر ان پر ان کے نام کے نشاندار پتھر برسائے گئے اور جس عذاب الٰہی کو وہ دورسجمھ رہے تھے وہ قریب ہی نکل آیا۔ ان کی بستیوں کی جگہ ایک کڑوے گندے اور بدبودار پانی کی جھیل رہ گئی۔ جو لوگوں کے لیے عبرت حاصل کرنے کا ذریعہ بنے۔ اور عقلمند لوگ اس ظاہری نشان کو دیکھ کر ان کی بری طرح ہلاکت کو یاد کر کے اللہ کی نافرمانیوں پر دلیری نہ کریں۔ عرب کے سفر میں رات دن یہ منظر ان کے پیش نظر تھا۔
32-1یعنی ہمیں علم ہے کہ ظالم اور مومن کون ہیں اور اشرار کون؟ 32-2یعنی ان پیچھے رہ جانے والوں میں سے، جن کو عذاب کے ذریعے سے ہلاک کیا جانا ہے وہ چونکہ مومنہ نہیں تھی بلکہ اپنی قوم کی طرف دار تھی۔ اس لئے اسے بھی ہلاک کردیا گیا۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَ لَمَّاۤ اَنۡ جَآءَتۡ رُسُلُنَا لُوۡطًا سِیۡٓءَ بِہِمۡ وَ ضَاقَ بِہِمۡ ذَرۡعًا وَّ قَالُوۡا لَا تَخَفۡ وَ لَا تَحۡزَنۡ ۟ اِنَّا مُنَجُّوۡکَ وَ اَہۡلَکَ اِلَّا امۡرَاَتَکَ کَانَتۡ مِنَ الۡغٰبِرِیۡنَ ﴿۳۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر جب ہمارے فرستادے لوطؑ کے پاس پہنچے تو ان کی آمد پر وہ سخت پریشان اور دل تنگ ہوا اُنہوں نے کہا "نہ ڈرو اور نہ رنج کرو ہم تمہیں اور تمہارے گھر والوں کو بچا لیں گے، سوائے تمہاری بیوی کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر جب ہمارے قاصد لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو وه ان کی وجہ سے غمگین ہوئے اور دل ہی دل میں رنج کرنے لگے۔ قاصدوں نے کہا آپ نہ خوف کھایئے نہ آزرده ہوں، ہم آپ کو مع آپ کے متعلقین کے بچالیں گے مگر آپ کی بیوی کہ وه عذاب کے لیے باقی ره جانے والوں میں سے ہوگی
احمد رضا خان بریلوی
اور جب ہمارے فرشتے لوط کے پاس آئے ان کا آنا اسے ناگوار ہوا اور ان کے سبب دل تنگ ہوا اور انہوں نے کہا نہ ڈریے اور نہ غم کیجئے بیشک ہم آپ کو اور آپ کے گھر والوں کو نجات دیں گے مگر آپ کی عورت وہ رہ جانے والوں میں ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جب (وہ) ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) لوط کے پاس آئے تو وہ ان کی آمد سے رنجیدہ اور دل تنگ ہوئے اور فرشتوں نے (ان کی حالت دیکھ کر) کہا کہ نہ ڈرو اور نہ رنج کرو ہم آپ کو اور آپ کے گھر والوں کو بچا لیں گے سوائے آپ کی بیوی کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جیسے ہی ہمارے بھیجے ہوئے لوط کے پاس آئے وہ ان کی وجہ سے مغموم ہوا اور ان کے سبب دل میں تنگ ہوا اور انھوں نے کہا نہ ڈر اور نہ غم کر، بے شک ہم تجھے اور تیرے گھر والوں کو بچانے والے ہیں مگر تیری بیوی، وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فرشتوں کی آمد ٭٭

لوط علیہ السلام کی جب نہ مانی گئی بلکہ سنی بھی نہ گئی تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کی جس پر فرشتے بھیجے گئے۔ یہ فرشتے بشکل انسان پہلے بطور مہمان ابراہیم علیہ السلام کے گھر آئے۔ آپ نے ضیافت کا سامان تیار کیا اور سامنے لارکھا۔ جب دیکھا کہ انہیں اس کی رغبت نہ کی تو دل ہی دل میں خوفزدہ ہو گئے تو فرشتوں نے ان کی دلجوئی شروع کی اور خبر دی کہ ایک نیک بچہ ان کے ہاں پیدا ہو گا۔ سارہ جو وہاں موجود تھیں یہ سن کر تعجب کرنے لگیں جیسے سورۃ ہود اور سورۃ الحجر میں مفصل تفسیر گزر چکی ہے۔ اب فرشتوں نے اپنا اصلی ارادہ ظاہر کیا۔ جسے سن کر ابراہیم علیہ السلام کو خیال آیا کہ اگر وہ لوگ کچھ اور ڈھیل دے دئیے جائیں تو کیا عجب کہ راہ راست پر آ جائیں۔

اس لیے فرمانے لگے کہ وہاں تو لوط نبی علیہ السلام بھی ہیں۔ فرشتوں نے جواب دیا ہم ان سے غافل نہیں۔ ہمیں حکم ہے کہ انہیں اور ان کے خاندان کو بچالیں۔ ہاں ان کی بیوی تو بیشک ہلاک ہو گی۔ کیونکہ وہ اپنی قوم کے کفر میں ان کا ساتھ دیتی رہی ہے۔ یہاں سے رخصت ہو کر خوبصورت قریب البلوغ بچوں کی صورت میں یہ لوط علیہ السلام کے پاس پہنچے۔ انہیں دیکھتے ہی لوط نبی علیہ السلام شش وپنج میں پڑ گئے کہ اگر انہیں ٹھہراتے ہیں تو ان کی خبر پاتے ہی کفار بھڑ بھڑا کر آ جائیں گے اور مجھے تنگ کریں گے اور انہیں بھی پریشان کریں گے۔ اگر نہیں ٹھہراتا تو یہ انہی کے ہاتھ پڑجائیں گے قوم کی خصلت سے واقف تھے اس لیے ناخوش اور سنجیدہ ہو گئے۔ لیکن فرشتوں نے ان کی یہ گھبراہٹ دور کر دی کہ آپ گھبرائیے نہیں رنجیدہ نہ ہوں ہم تو اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں انہیں تباہ و برباد کرنے کے لیے آئیں ہیں۔ آپ اور آپ کا خاندان سوائے آپ کی اہلیہ کے بچ جائے گا۔ باقی ان سب پر آسمانی عذاب آئے گا اور انہیں ان کی بدکاری کا نتیجہ دکھایا دیا جائے گا۔

پھر جبرائیل علیہ السلام نے ان بستیوں کو زمین سے اٹھایا اور آسمان تک لے گئے اور وہاں سے الٹ دیں پھر ان پر ان کے نام کے نشاندار پتھر برسائے گئے اور جس عذاب الٰہی کو وہ دورسجمھ رہے تھے وہ قریب ہی نکل آیا۔ ان کی بستیوں کی جگہ ایک کڑوے گندے اور بدبودار پانی کی جھیل رہ گئی۔ جو لوگوں کے لیے عبرت حاصل کرنے کا ذریعہ بنے۔ اور عقلمند لوگ اس ظاہری نشان کو دیکھ کر ان کی بری طرح ہلاکت کو یاد کر کے اللہ کی نافرمانیوں پر دلیری نہ کریں۔ عرب کے سفر میں رات دن یہ منظر ان کے پیش نظر تھا۔
33-1لوط ؑ نے ان فرشتوں کو، جو انسانی شکل میں آئے تھے، انسان ہی سمجھا۔ ڈرے اپنی قوم کی عادت بد اور سرکشی کی وجہ سے کہ ان خوبصورت مہمانوں کی آمد کا علم اگر انھیں ہوگیا تو وہ زبردستی بےحیائی کا ارتکاب کریں گے جس سے میری رسوائی ہوگی، جس کی وجہ سے وہ غمگین اور دل ہی دل میں پریشان تھے۔ 33-2فرشتوں نے حضرت لوط ؑ کی پریشانی اور غم ورنج کی کیفیت کو دیکھا تو انھیں تسلی دی اور کہا کہ آپ کوئی خوف اور رنج نہ کریں، ہم اللہ کی طرف سے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں۔ ہمارا مقصد آپ کو اور آپ کے گھر والوں کو سوائے آپ کی بیوی کے نجات دلانا ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اِنَّا مُنۡزِلُوۡنَ عَلٰۤی اَہۡلِ ہٰذِہِ الۡقَرۡیَۃِ رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا کَانُوۡا یَفۡسُقُوۡنَ ﴿۳۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہم اس بستی کے لوگوں پر آسمان سے عذاب نازل کرنے والے ہیں اُس فسق کی بدولت جو یہ کرتے رہے ہیں"
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم اس بستی والوں پر آسمانی عذاب نازل کرنے والے ہیں اس وجہ سے کہ یہ بےحکم ہو رہے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
بیشک ہم اس شہر والوں پر آسمان سے عذاب اتارنے والے ہیں بدلہ ان کی نافرمانیوں کا،
علامہ محمد حسین نجفی
ہم اس بستی والوں پر ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے آسمان سے عذاب نازل کرنے والے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک ہم اس بستی والوں پر آسمان سے ایک عذاب اتارنے والے ہیں، اس وجہ سے جو وہ نافرمانی کیا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فرشتوں کی آمد ٭٭

لوط علیہ السلام کی جب نہ مانی گئی بلکہ سنی بھی نہ گئی تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کی جس پر فرشتے بھیجے گئے۔ یہ فرشتے بشکل انسان پہلے بطور مہمان ابراہیم علیہ السلام کے گھر آئے۔ آپ نے ضیافت کا سامان تیار کیا اور سامنے لارکھا۔ جب دیکھا کہ انہیں اس کی رغبت نہ کی تو دل ہی دل میں خوفزدہ ہو گئے تو فرشتوں نے ان کی دلجوئی شروع کی اور خبر دی کہ ایک نیک بچہ ان کے ہاں پیدا ہو گا۔ سارہ جو وہاں موجود تھیں یہ سن کر تعجب کرنے لگیں جیسے سورۃ ہود اور سورۃ الحجر میں مفصل تفسیر گزر چکی ہے۔ اب فرشتوں نے اپنا اصلی ارادہ ظاہر کیا۔ جسے سن کر ابراہیم علیہ السلام کو خیال آیا کہ اگر وہ لوگ کچھ اور ڈھیل دے دئیے جائیں تو کیا عجب کہ راہ راست پر آ جائیں۔

اس لیے فرمانے لگے کہ وہاں تو لوط نبی علیہ السلام بھی ہیں۔ فرشتوں نے جواب دیا ہم ان سے غافل نہیں۔ ہمیں حکم ہے کہ انہیں اور ان کے خاندان کو بچالیں۔ ہاں ان کی بیوی تو بیشک ہلاک ہو گی۔ کیونکہ وہ اپنی قوم کے کفر میں ان کا ساتھ دیتی رہی ہے۔ یہاں سے رخصت ہو کر خوبصورت قریب البلوغ بچوں کی صورت میں یہ لوط علیہ السلام کے پاس پہنچے۔ انہیں دیکھتے ہی لوط نبی علیہ السلام شش وپنج میں پڑ گئے کہ اگر انہیں ٹھہراتے ہیں تو ان کی خبر پاتے ہی کفار بھڑ بھڑا کر آ جائیں گے اور مجھے تنگ کریں گے اور انہیں بھی پریشان کریں گے۔ اگر نہیں ٹھہراتا تو یہ انہی کے ہاتھ پڑجائیں گے قوم کی خصلت سے واقف تھے اس لیے ناخوش اور سنجیدہ ہو گئے۔ لیکن فرشتوں نے ان کی یہ گھبراہٹ دور کر دی کہ آپ گھبرائیے نہیں رنجیدہ نہ ہوں ہم تو اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں انہیں تباہ و برباد کرنے کے لیے آئیں ہیں۔ آپ اور آپ کا خاندان سوائے آپ کی اہلیہ کے بچ جائے گا۔ باقی ان سب پر آسمانی عذاب آئے گا اور انہیں ان کی بدکاری کا نتیجہ دکھایا دیا جائے گا۔

پھر جبرائیل علیہ السلام نے ان بستیوں کو زمین سے اٹھایا اور آسمان تک لے گئے اور وہاں سے الٹ دیں پھر ان پر ان کے نام کے نشاندار پتھر برسائے گئے اور جس عذاب الٰہی کو وہ دورسجمھ رہے تھے وہ قریب ہی نکل آیا۔ ان کی بستیوں کی جگہ ایک کڑوے گندے اور بدبودار پانی کی جھیل رہ گئی۔ جو لوگوں کے لیے عبرت حاصل کرنے کا ذریعہ بنے۔ اور عقلمند لوگ اس ظاہری نشان کو دیکھ کر ان کی بری طرح ہلاکت کو یاد کر کے اللہ کی نافرمانیوں پر دلیری نہ کریں۔ عرب کے سفر میں رات دن یہ منظر ان کے پیش نظر تھا۔
34-1اس آسمانی عذاب سے وہی عذاب مراد ہے جس کے ذریعے سے قوم لوط کو ہلاک کیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ جبرائیل ؑ ان کی بستیوں کو زمین سے اکھیڑا آسمان کی بلندیوں تک لے گئے پھر ان ہی پر الٹا دیا گیا، اس کے بعد کھنگر پتھروں کی بارش ان پر ہوئی اور اس جگہ کو سخت بدبو دار بیحرہ (جھیل) میں تبدیل کردیا گیا (ابن کثیر)
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَ لَقَدۡ تَّرَکۡنَا مِنۡہَاۤ اٰیَۃًۢ بَیِّنَۃً لِّقَوۡمٍ یَّعۡقِلُوۡنَ ﴿۳۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور ہم نے اُس بستی کی ایک کھُلی نشانی چھوڑ دی ہے اُن لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
البتہ ہم نے اس بستی کو صریح عبرت کی نشانی بنا دیا ان لوگوں کے لیے جو عقل رکھتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک ہم نے اس سے روشن نشانی باقی رکھی عقل والوں کے لیے
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے اس بستی کے کچھ نشان باقی چھوڑ دیئے (ان لوگوں کی عبرت کیلئے) جو عقل سے کام لیتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ یقینا ہم نے اس سے ان لوگوں کے لیے ایک کھلی نشانی چھوڑ دی جو عقل رکھتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فرشتوں کی آمد ٭٭

لوط علیہ السلام کی جب نہ مانی گئی بلکہ سنی بھی نہ گئی تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کی جس پر فرشتے بھیجے گئے۔ یہ فرشتے بشکل انسان پہلے بطور مہمان ابراہیم علیہ السلام کے گھر آئے۔ آپ نے ضیافت کا سامان تیار کیا اور سامنے لارکھا۔ جب دیکھا کہ انہیں اس کی رغبت نہ کی تو دل ہی دل میں خوفزدہ ہو گئے تو فرشتوں نے ان کی دلجوئی شروع کی اور خبر دی کہ ایک نیک بچہ ان کے ہاں پیدا ہو گا۔ سارہ جو وہاں موجود تھیں یہ سن کر تعجب کرنے لگیں جیسے سورۃ ہود اور سورۃ الحجر میں مفصل تفسیر گزر چکی ہے۔ اب فرشتوں نے اپنا اصلی ارادہ ظاہر کیا۔ جسے سن کر ابراہیم علیہ السلام کو خیال آیا کہ اگر وہ لوگ کچھ اور ڈھیل دے دئیے جائیں تو کیا عجب کہ راہ راست پر آ جائیں۔

اس لیے فرمانے لگے کہ وہاں تو لوط نبی علیہ السلام بھی ہیں۔ فرشتوں نے جواب دیا ہم ان سے غافل نہیں۔ ہمیں حکم ہے کہ انہیں اور ان کے خاندان کو بچالیں۔ ہاں ان کی بیوی تو بیشک ہلاک ہو گی۔ کیونکہ وہ اپنی قوم کے کفر میں ان کا ساتھ دیتی رہی ہے۔ یہاں سے رخصت ہو کر خوبصورت قریب البلوغ بچوں کی صورت میں یہ لوط علیہ السلام کے پاس پہنچے۔ انہیں دیکھتے ہی لوط نبی علیہ السلام شش وپنج میں پڑ گئے کہ اگر انہیں ٹھہراتے ہیں تو ان کی خبر پاتے ہی کفار بھڑ بھڑا کر آ جائیں گے اور مجھے تنگ کریں گے اور انہیں بھی پریشان کریں گے۔ اگر نہیں ٹھہراتا تو یہ انہی کے ہاتھ پڑجائیں گے قوم کی خصلت سے واقف تھے اس لیے ناخوش اور سنجیدہ ہو گئے۔ لیکن فرشتوں نے ان کی یہ گھبراہٹ دور کر دی کہ آپ گھبرائیے نہیں رنجیدہ نہ ہوں ہم تو اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں انہیں تباہ و برباد کرنے کے لیے آئیں ہیں۔ آپ اور آپ کا خاندان سوائے آپ کی اہلیہ کے بچ جائے گا۔ باقی ان سب پر آسمانی عذاب آئے گا اور انہیں ان کی بدکاری کا نتیجہ دکھایا دیا جائے گا۔

پھر جبرائیل علیہ السلام نے ان بستیوں کو زمین سے اٹھایا اور آسمان تک لے گئے اور وہاں سے الٹ دیں پھر ان پر ان کے نام کے نشاندار پتھر برسائے گئے اور جس عذاب الٰہی کو وہ دورسجمھ رہے تھے وہ قریب ہی نکل آیا۔ ان کی بستیوں کی جگہ ایک کڑوے گندے اور بدبودار پانی کی جھیل رہ گئی۔ جو لوگوں کے لیے عبرت حاصل کرنے کا ذریعہ بنے۔ اور عقلمند لوگ اس ظاہری نشان کو دیکھ کر ان کی بری طرح ہلاکت کو یاد کر کے اللہ کی نافرمانیوں پر دلیری نہ کریں۔ عرب کے سفر میں رات دن یہ منظر ان کے پیش نظر تھا۔
35-1یعنی پتھروں کے وہ آثار، جن کی بارش ان پر ہوئی سیاہ بدبودار پانی اور الٹی ہوئی بستیاں، یہ سب عبرت کی نشانیاں ہیں مگر کن کے لئے؟ دانش مندوں کے لئے۔ 35-2اس لیے کہ وہی معاملات پر غور کرتے، اسباب و عوامل کا تجزیہ کرتے اور نتائج و آثار کو دیکھتے ہیں کہ لیکن جو لوگ عقل و شعور سے بےبہرہ ہوتے ہیں، انھیں ان چیزوں سے کیا تعلق؟ وہ تو جانوروں کی طرح ہیں جنہیں ذبح کے لیے بوچڑ خانے لے جایا جاتا ہے لیکن انھیں اس کا احساس ہی نہیں ہوتا۔ اس میں مشرکین مکہ کے لیے بھی تعریض ہے کہ وہ بھی تکذیب کا مظاہرہ کر رہے ہیں جو عقل و دانش سے بےبہرہ لوگوں کا وطیرہ ہے۔
(آیت 35) {وَ لَقَدْ تَّرَكْنَا مِنْهَاۤ اٰيَةًبَيِّنَةً …:} کھلی نشانی سے مراد اس بستی کے وہ آثار ہیں جو اب تک باقی ہیں۔ یہ اس طرح ہوا کہ جبرائیل علیہ السلام نے ان کی بستیوں کو زمین کی تہ سے اکھاڑا اور آسمان کے بادلوں تک اٹھا کر ان پر الٹا کر دے مارا (جس سے وہ سارا خطہ زمین کی سطح سے کافی نیچے دھنس گیا) اور ان پر تہ بہ تہ کھنگر والے پتھروں کی بارش برسائی، جو رب تعالیٰ کی طرف سے نشان والے تھے۔ یہ واقعہ نشانی اس لحاظ سے ہے کہ یہ علاقہ اس تجارتی شاہراہ پر واقع ہے جو مکہ سے شام کو جاتی ہے اور کفار مکہ اسے تجارتی سفروں میں آتے وقت اور جاتے وقت اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے تھے کہ اس حد سے گزرنے والی قوم کا انجام کیا ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے اس بات کا تذکرہ سورۂ حجر (۷۶) اور سورۂ صافات (۱۳۷) میں فرمایا ہے۔
وَ اِلٰی مَدۡیَنَ اَخَاہُمۡ شُعَیۡبًا ۙ فَقَالَ یٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰہَ وَ ارۡجُوا الۡیَوۡمَ الۡاٰخِرَ وَ لَا تَعۡثَوۡا فِی الۡاَرۡضِ مُفۡسِدِیۡنَ ﴿۳۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور مَدیَن کی طرف ہم نے اُن کے بھائی شعیب کو بھیجا اُس نے کہا "اے میری قوم کے لوگو، اللہ کی بندگی کرو اور روزِ آخر کے امیدوار رہو اور زمین میں مفسد بن کر زیادتیاں نہ کرتے پھرو"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور مدین کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب (علیہ السلام) کو بھیجا انہوں نے کہا اے میری قوم کے لوگو! اللہ کی عبادت کرو قیامت کے دن کی توقع رکھو اور زمین میں فساد نہ کرتے پھرو
احمد رضا خان بریلوی
مدین کی طرف ان کے ہم قوم شعیب کو بھیجا تو اس نے فرمایا، اے میری قوم! اللہ کی بندگی کرو اور پچھلے دن کی امید رکھو اور زمین میں فساد پھیلاتے نہ پھرو،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے مدین (والوں) کی طرف ان کے بھائی شعیب کو بھیجا۔ تو انہوں نے کہا: اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو اور روز آخرت کی امید رکھو۔ اور زمین میں فساد پھیلاتے نہ پھرو۔
عبدالسلام بن محمد
اور مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو (بھیجا) تو اس نے کہا اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو اور یوم آخر کی امید رکھو اور زمین میں فساد کرنے والے بن کر دنگا نہ مچاؤ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فساد نہ کرو ٭٭

اللہ کے بندے اور اس کے سچے رسول شعیب علیہ السلام نے مدین میں اپنی قوم کو وعظ کیا۔ انہیں اللہ وحدہ لاشریک لہ کی عبادت کا حکم دیا۔ انہیں اللہ کے عذابوں سے اور اس کی سزاؤں سے ڈرایا۔ انہیں قیامت کے ہونے کا یقین دلا کر فرمایا کہ اس دن کے لیے کچھ تیاریاں کر لو، اس دن کا خیال رکھو، لوگوں پر ظلم و زیادتی نہ کرو، اللہ کی زمین میں فساد نہ کرو، برائیوں سے الگ رہو۔ ان میں ایک عیب یہ بھی تھا کہ ناپ تول میں کمی کرتے تھے لوگوں کے حق مارتے تھے ڈاکے ڈالتے تھے، راستے بند کر دیتے تھے، ساتھ ہی اللہ اور اس کے رسول سے کفر کرتے تھے۔ انہوں نے اپنے پیغمبر کی نصیحتوں پر کان تک نہ دھرا بلکہ انہیں جھوٹا کہا اس بنا پر ان پر عذاب الٰہی برس پڑا، سخت بھونچال آیا اور ساتھ ہی اتنی تیز وتند آواز آئی کہ دل اڑ گئے اور روحیں پرواز کر گئیں اور گھڑی کی گھڑی میں سب کا سب ڈھیر ہو گیا۔ ان کا پورا قصہ سورۃ الاعراف، سورۃ ہود اور سورۃ الشعراء میں گزر چکا ہے۔
36-1مدین حضرت ابراہیم ؑ کے بیٹے کا نام تھا، بعض کے نزدیک یہ ان کے پوتے کا نام ہے، بیٹے کا نام مدیان تھا ان ہی کے نام پر اس قبیلے کا نام پڑگیا، جو ان ہی کی نسل پر مشتمل تھا۔ اسی قبیلے مدین کی طرف حضرت شعیب ؑ کو نبی بنا کر بھیجا گیا۔ بعض کہتے ہیں کہ مدین شہر کا نام تھا، یہ قبیلہ یا شہر لوط ؑ کی بستی کے قریب تھا۔ 36-2اللہ کی عبادت کے بعد، انھیں آخرت کی یاد دہانی کرائی گئی یا تو اس لئے کہ وہ آخرت کے منکر تھے یا اس لئے کہ وہ اسے فراموش کئے ہوئے تھے اور مستیوں میں مبتلا تھے اور جو قوم آخرت کو فرا موش کر دے، وہ گناہوں میں دلیر ہوتی ہے۔ جیسے آج مسلمانوں کی اکثریت کا حال ہے۔ 36۔-3ناپ تول میں کمی اور لوگوں کو کم دینا یہ بیماری ان میں عام تھی اور ارتکاب معاصی میں انھیں باک نہیں تھا، جس سے زمین فساد سے بھر گئی تھی۔
(آیت 37,36) {وَ اِلٰى مَدْيَنَ اَخَاهُمْ شُعَيْبًا …:} ان آیات کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ اعراف (رکوع ۱۱) اور سورۂ ہود (رکوع ۸) {” وَارْجُوْا الْيَوْمَ الْاٰخِرَ”رَجَاءٌ“} کا معنی امید ہے، یہ خوف کے معنی میں بھی آتا ہے، کیونکہ امید اور خوف لازم و ملزوم ہیں۔ یعنی آخرت کے آنے کی امید رکھو، یہ نہ سمجھو کہ زندگی بس دنیا ہی کی ہے، اس کے بعد کوئی زندگی نہیں۔ یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ ایمان اور عمل صالح کے ساتھ آخرت کے دن کی امید رکھو کہ اس میں تمھارے نیک اعمال کا پورا بدلا ملے گا۔
فَکَذَّبُوۡہُ فَاَخَذَتۡہُمُ الرَّجۡفَۃُ فَاَصۡبَحُوۡا فِیۡ دَارِہِمۡ جٰثِمِیۡنَ ﴿۫۳۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
مگر انہوں نے اسے جھٹلا دیا آخر کار ایک سخت زلزلے نے انہیں آ لیا اور وہ اپنے گھروں میں پڑے کے پڑے رہ گئے
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر بھی انہوں نے انہیں جھٹلایا آخر انہیں زلزلے نے پکڑ لیا اور وه اپنے گھروں میں بیٹھے کے بیٹھے مرده ہو کر ره گئے
احمد رضا خان بریلوی
تو انہوں نے اسے جھٹلایا تو انہیں زلزلے نے آلیا تو صبح اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل پڑے رہ گئے
علامہ محمد حسین نجفی
پس ان لوگوں نے آپ کو جھٹلایا تو (انجام کار) ایک (سخت) زلزلے نے انہیں آپکڑا اور وہ اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل (مردہ ہوکر) گر گئے۔
عبدالسلام بن محمد
تو انھوں نے اسے جھٹلا دیا، پس انھیں زلزلے نے پکڑ لیا تو وہ صبح کو اپنے گھر میں پڑے کے پڑے رہ گئے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فساد نہ کرو ٭٭

اللہ کے بندے اور اس کے سچے رسول شعیب علیہ السلام نے مدین میں اپنی قوم کو وعظ کیا۔ انہیں اللہ وحدہ لاشریک لہ کی عبادت کا حکم دیا۔ انہیں اللہ کے عذابوں سے اور اس کی سزاؤں سے ڈرایا۔ انہیں قیامت کے ہونے کا یقین دلا کر فرمایا کہ اس دن کے لیے کچھ تیاریاں کر لو، اس دن کا خیال رکھو، لوگوں پر ظلم و زیادتی نہ کرو، اللہ کی زمین میں فساد نہ کرو، برائیوں سے الگ رہو۔ ان میں ایک عیب یہ بھی تھا کہ ناپ تول میں کمی کرتے تھے لوگوں کے حق مارتے تھے ڈاکے ڈالتے تھے، راستے بند کر دیتے تھے، ساتھ ہی اللہ اور اس کے رسول سے کفر کرتے تھے۔ انہوں نے اپنے پیغمبر کی نصیحتوں پر کان تک نہ دھرا بلکہ انہیں جھوٹا کہا اس بنا پر ان پر عذاب الٰہی برس پڑا، سخت بھونچال آیا اور ساتھ ہی اتنی تیز وتند آواز آئی کہ دل اڑ گئے اور روحیں پرواز کر گئیں اور گھڑی کی گھڑی میں سب کا سب ڈھیر ہو گیا۔ ان کا پورا قصہ سورۃ الاعراف، سورۃ ہود اور سورۃ الشعراء میں گزر چکا ہے۔
37-1حضرت شعیب ؑ کے وعظ و نصیحت کا ان پر کوئی اثر نہیں ہوا بالآخر بادلوں کے سائے والے دن، جبرائیل ؑ کی ایک سخت چیخ سے زمین زلزلے سے لرز اٹھی، جس سے ان کے دل ان کی آنکھوں میں آگئے اور ان کی موت واقع ہوگئی اور وہ گھٹنوں کے بل بیٹھے کے بیٹھے رہ گئے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَ عَادًا وَّ ثَمُوۡدَا۠ وَ قَدۡ تَّبَیَّنَ لَکُمۡ مِّنۡ مَّسٰکِنِہِمۡ ۟ وَ زَیَّنَ لَہُمُ الشَّیۡطٰنُ اَعۡمَالَہُمۡ فَصَدَّہُمۡ عَنِ السَّبِیۡلِ وَ کَانُوۡا مُسۡتَبۡصِرِیۡنَ ﴿ۙ۳۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور عاد و ثمود کو ہم نے ہلاک کیا، تم وہ مقامات دیکھ چکے ہو جہاں وہ رہتے تھے اُن کے اعمال کو شیطان نے اُن کے لیے خوشنما بنا دیا اور انہیں راہِ راست سے برگشتہ کر دیا حالانکہ وہ ہوش گوش رکھتے تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہم نے عادیوں اور ﺛمودیوں کو بھی غارت کیا جن کے بعض مکانات تمہارے سامنے ﻇاہر ہیں اور شیطان نے انہیں ان کی بداعمالیاں آراستہ کر دکھائی تھیں اور انہیں راه سے روک دیا تھا باوجودیکہ یہ آنکھوں والے اور ہوشیار تھے
احمد رضا خان بریلوی
اور عاد اور ثمود کو ہلاک فرمایا اور تمہیں ان کی بستیاں معلوم ہوچکی ہیں اور شیطان نے ان کے کوتک ان کی نگاہ میں بھلے کر دکھائے اور انہیں راہ سے روکا اور انہیں سوجھتا تھا
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے عاد و ثمود کو بھی ہلاک کر دیا۔ اور (یہ بات) ان کے (تباہ شدہ) مکانات سے واضح ہو چکی ہے اور شیطان نے ان کے (برے) کاموں کو خوشنما کرکے پیش کیا اور انہیں (سیدھے) راستہ سے روک دیا۔ حالانکہ وہ سمجھ دار تھے۔
عبدالسلام بن محمد
اور عاد اور ثمود کو (ہم نے ہلاک کیا) اور یقینا ان کے رہنے کی کچھ جگہیں تمھارے سامنے آچکی ہیں اور شیطان نے ان کے لیے ان کے کام مزین کر دیے، پس انھیں اصل راستے سے روک دیا، حالانکہ وہ بہت سمجھ دار تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
احقاف کے لوگ ٭٭

عادی ہود علیہ السلام کی قوم تھے۔ احقاف میں رہتے تھے جو یمن کے شہروں میں حضر موت کے قریب ہے۔ ثمودی صالح علیہ السلام کی قوم کے لوگ تھے۔ یہ حجر میں بستے تھے جو وادی القریٰ کے قریب ہے۔ عرب کے راستے میں ان کی بستی آتی تھی جسے یہ بخوبی جانتے تھے۔ قارون ایک دولت مند شخص تھا جس کے بھرپور خزانوں کی کنجیاں ایک جماعت کی جماعت اٹھاتی تھی۔ فرعون مصر کا بادشاہ تھا اور ہامان اس کا وزیر اعظم تھا۔ اسی کے زمانے میں موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام نبی ہو کر اس کی طرف بھیجے گئے۔ یہ دونوں قبطی کافر تھے، جب ان کی سرکشی حد سے گزر گئی اللہ کی توحید کے منکر ہو گئے، رسولوں کو ایذائیں دیں اور ان کی نہ مانی تو اللہ تعالیٰ نے ان سب کو طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک کیا۔ عادیوں پر ہوائیں بھیجیں۔ انہیں اپنی قوت وطاقت کا بڑا گھمنڈ تھا کسی کو اپنے مقابلے کا نہ جانتے تھے۔ ان پر ہوا بھیجی جو بڑی تیز وتند تھی جو ان پر زمین کے پتھر اڑا اڑا کر برسانے لگی۔ بالآخر زور پکڑتے پکڑتے یہاں تک بڑھ گئی کہ انہیں اچک لے جاتی اور آسمان کے قریب لے جا کر پھر گرا دیتی۔ سر کے بل گرتے اور سر الگ ہو جاتا دھڑ الگ ہو جاتا اور ایسے ہو جاتے جیسے کھجور کے درخت، جس کے تنے الگ ہوں اور شاخیں جدا ہوں، ثمودیوں پر حجت الٰہی پوری ہوئی دلائل دے دئیے گئے ان کی طلب کے موافق پتھر میں سے ان کے دیکھتے ہوئے اونٹنی نکلی لیکن تاہم انہیں ایمان نصیب نہ ہوا بلکہ طغیانی میں بڑھتے رہے۔ اللہ کے نبی صالح علیہ السلام کو دھمکانے اور ڈرانے لگے اور ایمانداروں سے بھی کہنے لگے کہ ہمارے شہر چھوڑ دو ورنہ ہم تمہیں سنگسار کر دیں گے۔ انہیں ایک چیخ سے پارہ پارہ کر دیا۔ دل ہل گئے کلیجے اڑ گئے اور سب کی روحیں نکل گئیں۔ قارون نے سرکشی اور تکبر کیا۔ طغیانی اور بڑائی کی، رب الاعلیٰ کی نافرمانی کی، زمین میں فساد مچا دیا، اکڑ اکڑ کر چلنے لگا، اپنے ڈنڈ بل دیکھنے لگا، اترانے لگا اور پھولنے لگا، پس اللہ نے اسے مع اس کے محلات کے زمین دوز کر دیا جو آج تک دھنستا چلا جا رہا ہے۔ فرعون، ہامان اور ان کے لشکروں کو صبح ہی صبح ایک ساتھ ایک ہی ساعت میں دریا برد کر دیا۔ ان میں سے ایک بھی نہ بچا جو ان کا نام تو کبھی لیتا۔ اللہ نے یہ جو کچھ کیا کچھ ان پر ظلم نہ تھا بلکہ ان کے ظلم کا بدلہ تھا۔ ان کے کرتوت کا پھل تھا ان کی کرنی کی بھرنی تھی۔ یہ بیان یہاں بطور لف و نشر کے ہے۔ اولاً جھٹلانے والی امتوں کا ذکر ہوا۔ پھر ان میں سے ہر ایک کو عذابوں سے ہلاک کرنے کا۔ کسی نے کہا کہ سب سے پہلے جن پر پتھروں کا مینہ برسانے کا ذکر ہے ان سے مراد لوطی ہیں اور غرق کی جانے والی قوم قوم نوح ہے لیکن یہ قول ٹھیک نہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ مروی تو ہے لیکن سند میں انقطاع ہے۔ ان دونوں قوموں کی حالت کا ذکر اسی صورت میں بہ تفصیل بیان ہو چکا ہے۔ پھر بہت سے فاصلے کے بعد یہ بیان ہوا ہے۔ قتادۃ رحمہ اللہ سے یہ بھی مروی ہے کہ پتھروں کا مینہ جن پر برسایا گیا ان سے مراد لوطی ہیں اور جنہیں چیخ سے ہلاک کیا گیا ان سے مراد قوم شعیب ہے لیکن یہ قول بھی ان آیتوں سے دور دراز ہے، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
38-1قوم عاد کی بستی احقاف، حضرموت (یمن) کے قریب اور ثمود کی بستی، حجر، جسے آجکل مدائن صالح کہتے ہیں، حجاز کے شمال میں ہے۔ ان علاقوں سے عربوں کے تجارتی قافلے آتے جاتے تھے، اس لئے یہ بستیاں ان کے لئے انجان نہیں، بلکہ ظاہر تھیں۔ 38-2یعنی تھے وہ عقلمند اور ہوشیار۔ لیکن دین کے معاملے میں انہوں نے اپنی عقل و بصیرت سے کچھ کام نہیں لیا، اس لئے یہ عقل اور سمجھ ان کے کام نہ آئی۔
(آیت 38) ➊ {وَ عَادًا وَّ ثَمُوْدَاۡ وَ قَدْ تَّبَيَّنَ لَكُمْ مِّنْ مَّسٰكِنِهِمْ …:” مِنْ “} تبعیض کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے کہ ”ان کے رہنے کی کچھ جگہیں تمھارے سامنے آچکی ہیں“ ظاہر ہے کہ ان کے شہر اور آبادیاں تو اللہ کے عذاب سے تباہ و برباد ہو چکی تھیں، مگر ان کے آثار اور بچے کھچے کچھ گھر عبرت کے سامان کے طور پر باقی تھے۔ عاد اور ثمود دونوں قومیں جن علاقوںمیں آباد تھیں وہ معروف شاہراہوں پر واقع تھے اور عرب کے تمام لوگ ان سے واقف تھے۔ جنوبی عرب کا پورا علاقہ جو اب احقاف، یمن اور حضر موت کے نام سے معروف ہے، قوم عاد کا مسکن تھا اور حجاز کے شمالی حصہ میں رابغ سے عقبہ تک اور مدینہ و خیبر سے تیماء اور تبوک تک کا سارا علاقہ آج بھی ثمود کے آثار سے بھرا ہوا ہے۔ جس زمانے میں قرآن اترا ہے یقینا اس وقت وہ آثار اور زیادہ نمایاں ہوں گے۔ ➋ { وَ كَانُوْا مُسْتَبْصِرِيْنَ:أَبْصَرَ يُبْصِرُ“} دیکھنا، صاحب بصیرت ہونا۔ {”اِسْتَبْصَرَ يَسْتَبْصِرُ“} میں حروف زیادہ ہونے کی وجہ سے معنی میںمبالغہ پیدا ہو گیا، یعنی وہ بہت بصیرت والے، نہایت سمجھ دار تھے، مگر ان کی ساری بصیرت اور ساری سمجھ داری دنیا تک محدود تھی۔ دنیا کے کاموں میں بڑے ہوشیار اور فنکار تھے، اپنے دور کے نہایت ترقی یافتہ اور طاقت ور لوگ تھے۔ لیکن شیطان نے ان کے اعمال ان کے لیے ایسے خوش نما بنائے کہ اللہ تعالیٰ کے متعلق ان کی مت مار دی اور آخرت سے مکمل طور پر بیگانہ کر دیا۔ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے اکثر لوگوں کا یہی حال بیان فرمایا ہے: «{ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ (6) يَعْلَمُوْنَ ظَاهِرًا مِّنَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَ هُمْ عَنِ الْاٰخِرَةِ هُمْ غٰفِلُوْنَ}» [ الروم: ۶، ۷ ] ”اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ وہ دنیا کی زندگی میں سے ظاہر کو جانتے ہیں اور وہ آخرت سے، وہی غافل ہیں۔“ ان آیات کی تفسیر پر بھی نظر ڈال لیں۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ وہ بہت سمجھ دار تھے، بڑے صاحب بصیرت تھے، انھیں خوب علم تھا کہ پیغمبر جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ حق ہے، مگر وہ اپنی لذتوں میںایسے غرق تھے اور شیطان نے ان کے لیے ان کے اعمال ایسے مزین کر دیے تھے کہ وہ جاننے بوجھنے کے باوجود اپنی لذتیں چھوڑ کر راہ حق پر آنے کے لیے تیار نہیں تھے، عناد اور سرکشی کی بنا پر انبیاء کی مخالفت کرتے تھے۔ یہی حال اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کی قوم کا بیان فرمایا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام جب معجزات لے کر ان کے پاس آئے تو: «{ وَ جَحَدُوْا بِهَا وَ اسْتَيْقَنَتْهَاۤ اَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَّ عُلُوًّا فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِيْنَ }» [ النمل: ۱۴ ] ”اور انھوں نے ظلم اور تکبر کی وجہ سے ان کا انکار کر دیا، حالانکہ ان کے دل ان کا اچھی طرح یقین کر چکے تھے، پس دیکھ فساد کرنے والوں کا انجام کیسا ہوا۔“ دونوں تفسیریں اپنی اپنی جگہ درست ہیں۔ ➌ پہلے پیغمبروں اور ان کی امتوں کے ان واقعات میں کفار قریش کے لیے تنبیہ اور عبرت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلانے کی صورت میںان کا انجام بھی پہلے جھٹلانے والوں جیسا ہو گا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے لیے تسلی اور حوصلہ ہے کہ آزمائشوں اور مشکلات کے بعد آخر انھی کو کامیابی حاصل ہو گی۔
وَ قَارُوۡنَ وَ فِرۡعَوۡنَ وَ ہَامٰنَ ۟ وَ لَقَدۡ جَآءَہُمۡ مُّوۡسٰی بِالۡبَیِّنٰتِ فَاسۡتَکۡبَرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ وَ مَا کَانُوۡا سٰبِقِیۡنَ ﴿ۚۖ۳۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور قارون و فرعون و ہامان کو ہم نے ہلاک کیا موسیٰؑ اُن کے پاس بیّنات لے کر آیا مگر انہوں نے زمین میں اپنی بڑائی کا زعم کیا حالانکہ وہ سبقت لے جانے والے نہ تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور قارون اور فرعون اور ہامان کو بھی، ان کے پاس حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کھلے کھلے معجزے لے کر آئے تھے پھر بھی انہوں نے زمین میں تکبر کیا لیکن ہم سے آگے بڑھنے والے نہ ہو سکے
احمد رضا خان بریلوی
اور قارون اور فرعون اور ہامان کو اور بیشک ان کے پاس موسیٰ روشن نشانیاں لے کر آیا تو انہوں نے زمین میں تکبر کیا اور وہ ہم سے نکل کر جانے والے نہ تھے
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے قارون، فرعون اور ہامان کو (بھی ہلاک کیا) اور البتہ موسیٰ ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے۔ مگر انہوں نے زمین میں تکبر و غرور کیا حالانکہ وہ (ہم سے) آگے نکل جانے والے نہیں تھے۔
عبدالسلام بن محمد
اور قارون اور فرعون اور ہامان کو، اور بلاشبہ یقینا ان کے پاس موسیٰ کھلی نشانیاں لے کر آیا، تو وہ زمین میں بڑے بن بیٹھے اور وہ بچ نکلنے والے نہ تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
احقاف کے لوگ ٭٭

عادی ہود علیہ السلام کی قوم تھے۔ احقاف میں رہتے تھے جو یمن کے شہروں میں حضر موت کے قریب ہے۔ ثمودی صالح علیہ السلام کی قوم کے لوگ تھے۔ یہ حجر میں بستے تھے جو وادی القریٰ کے قریب ہے۔ عرب کے راستے میں ان کی بستی آتی تھی جسے یہ بخوبی جانتے تھے۔ قارون ایک دولت مند شخص تھا جس کے بھرپور خزانوں کی کنجیاں ایک جماعت کی جماعت اٹھاتی تھی۔ فرعون مصر کا بادشاہ تھا اور ہامان اس کا وزیر اعظم تھا۔ اسی کے زمانے میں موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام نبی ہو کر اس کی طرف بھیجے گئے۔ یہ دونوں قبطی کافر تھے، جب ان کی سرکشی حد سے گزر گئی اللہ کی توحید کے منکر ہو گئے، رسولوں کو ایذائیں دیں اور ان کی نہ مانی تو اللہ تعالیٰ نے ان سب کو طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک کیا۔ عادیوں پر ہوائیں بھیجیں۔ انہیں اپنی قوت وطاقت کا بڑا گھمنڈ تھا کسی کو اپنے مقابلے کا نہ جانتے تھے۔ ان پر ہوا بھیجی جو بڑی تیز وتند تھی جو ان پر زمین کے پتھر اڑا اڑا کر برسانے لگی۔ بالآخر زور پکڑتے پکڑتے یہاں تک بڑھ گئی کہ انہیں اچک لے جاتی اور آسمان کے قریب لے جا کر پھر گرا دیتی۔ سر کے بل گرتے اور سر الگ ہو جاتا دھڑ الگ ہو جاتا اور ایسے ہو جاتے جیسے کھجور کے درخت، جس کے تنے الگ ہوں اور شاخیں جدا ہوں، ثمودیوں پر حجت الٰہی پوری ہوئی دلائل دے دئیے گئے ان کی طلب کے موافق پتھر میں سے ان کے دیکھتے ہوئے اونٹنی نکلی لیکن تاہم انہیں ایمان نصیب نہ ہوا بلکہ طغیانی میں بڑھتے رہے۔ اللہ کے نبی صالح علیہ السلام کو دھمکانے اور ڈرانے لگے اور ایمانداروں سے بھی کہنے لگے کہ ہمارے شہر چھوڑ دو ورنہ ہم تمہیں سنگسار کر دیں گے۔ انہیں ایک چیخ سے پارہ پارہ کر دیا۔ دل ہل گئے کلیجے اڑ گئے اور سب کی روحیں نکل گئیں۔ قارون نے سرکشی اور تکبر کیا۔ طغیانی اور بڑائی کی، رب الاعلیٰ کی نافرمانی کی، زمین میں فساد مچا دیا، اکڑ اکڑ کر چلنے لگا، اپنے ڈنڈ بل دیکھنے لگا، اترانے لگا اور پھولنے لگا، پس اللہ نے اسے مع اس کے محلات کے زمین دوز کر دیا جو آج تک دھنستا چلا جا رہا ہے۔ فرعون، ہامان اور ان کے لشکروں کو صبح ہی صبح ایک ساتھ ایک ہی ساعت میں دریا برد کر دیا۔ ان میں سے ایک بھی نہ بچا جو ان کا نام تو کبھی لیتا۔ اللہ نے یہ جو کچھ کیا کچھ ان پر ظلم نہ تھا بلکہ ان کے ظلم کا بدلہ تھا۔ ان کے کرتوت کا پھل تھا ان کی کرنی کی بھرنی تھی۔ یہ بیان یہاں بطور لف و نشر کے ہے۔ اولاً جھٹلانے والی امتوں کا ذکر ہوا۔ پھر ان میں سے ہر ایک کو عذابوں سے ہلاک کرنے کا۔ کسی نے کہا کہ سب سے پہلے جن پر پتھروں کا مینہ برسانے کا ذکر ہے ان سے مراد لوطی ہیں اور غرق کی جانے والی قوم قوم نوح ہے لیکن یہ قول ٹھیک نہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ مروی تو ہے لیکن سند میں انقطاع ہے۔ ان دونوں قوموں کی حالت کا ذکر اسی صورت میں بہ تفصیل بیان ہو چکا ہے۔ پھر بہت سے فاصلے کے بعد یہ بیان ہوا ہے۔ قتادۃ رحمہ اللہ سے یہ بھی مروی ہے کہ پتھروں کا مینہ جن پر برسایا گیا ان سے مراد لوطی ہیں اور جنہیں چیخ سے ہلاک کیا گیا ان سے مراد قوم شعیب ہے لیکن یہ قول بھی ان آیتوں سے دور دراز ہے، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
39-1یعنی دلائل و معجزات کا کوئی اثر ان پر نہیں ہوا اور بدستور متکبر بنے رہے، یعنی ایمان وتقویٰ اختیار کرنے سے گریز کیا۔ 39-2یعنی ہماری گرفت سے بچ کر نہیں جاسکے اور ہمارے عذاب کے شکنجے میں آکر رہے۔ ایک دوسرا ترجمہ ہے کہ ' یہ کفر میں سبقت کرنے والے نہیں تھے ' بلکہ ان سے پہلے بھی بہت سی امتیں گزر چکی ہیں جنہوں نے اس طرح کفر وعناد کا راستہ اختیار کئے رکھا۔
(آیت 39) {وَ قَارُوْنَ وَ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ …:} پچھلی آیات میں کافر اور متکبر اقوام کا ذکر تھا، اس آیت میں ابوجہل، امیہ ابن خلف، عتبہ، شیبہ، ابولہب اور قریش کے دوسرے بڑے بڑے کافر اور متکبر سرداروں کے لیے بطور مثال گزشتہ چند کافر اور متکبر افراد کا ذکر فرمایا جو اپنے کفر و تکبر کی وجہ سے اپنی اور اپنی قوم کی بربادی کا باعث بنے۔ ان میں قارون دولت کی کثرت کی وجہ سے کفر و تکبر کی مثال ہے، فرعون حکومت کی وجہ سے اور ہامان وزارت کی وجہ سے۔ ان تینوں کے پاس موسیٰ علیہ السلام واضح معجزات لے کر آئے، مگر وہ سرزمین مصر میں بڑے بن بیٹھے اور ایمان لانے سے انکار کر دیا، پھر جب اللہ کا عذاب آیا تو ایک بھی ایسا نہ تھا کہ اس کی گرفت سے بچ نکلتا۔
فَکُلًّا اَخَذۡنَا بِذَنۡۢبِہٖ ۚ فَمِنۡہُمۡ مَّنۡ اَرۡسَلۡنَا عَلَیۡہِ حَاصِبًا ۚ وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ اَخَذَتۡہُ الصَّیۡحَۃُ ۚ وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ خَسَفۡنَا بِہِ الۡاَرۡضَ ۚ وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ اَغۡرَقۡنَا ۚ وَ مَا کَانَ اللّٰہُ لِیَظۡلِمَہُمۡ وَ لٰکِنۡ کَانُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ یَظۡلِمُوۡنَ ﴿۴۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
آخر کار ہر ایک کو ہم نے اس کے گناہ میں پکڑا، پھر ان میں سے کسی پر ہم نے پتھراؤ کرنے والی ہوا بھیجی، اور کسی کو ایک زبردست دھماکے نے آ لیا، اور کسی کو ہم نے زمین میں دھسا دیا، اور کسی کو غرق کر دیا اللہ اُن پر ظلم کرنے والا نہ تھا، مگر وہ خود ہی اپنے اوپر ظلم کر رہے تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر تو ہر ایک کو ہم نے اس کے گناه کے وبال میں گرفتار کر لیا، ان میں سے بعض پر ہم نے پتھروں کا مینہ برسایا اور ان میں سے بعض کو زور دار سخت آواز نے دبوچ لیا اور ان میں سے بعض کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور ان میں سے بعض کو ہم نے ڈبو دیا، اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کہ ان پر ﻇلم کرے بلکہ یہی لوگ اپنی جانوں پر ﻇلم کرتے تھے
احمد رضا خان بریلوی
تو ان میں ہر ایک کو ہم نے اس کے گناہ پر پکڑا تو ان میں کسی پر ہم نے پتھراؤ بھیجا اور ان میں کسی کو چنگھاڑ نے آلیا اور ان میں کسی کو زمین میں دھنسادیا اور ان میں کسی کو ڈبو دیا اور اللہ کی شان نہ تھی کہ ان پر ظلم کرے ہاں وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے،
علامہ محمد حسین نجفی
پس ہم نے ہر ایک کو اس کے گناہ کی پاداش میں پکڑا۔ سو ان میں سے بعض پر (پتھراؤ کرنے والی) تیز آندھی بھیجی اور بعض کو ہولناک چنگھاڑ نے آدبایا اور بعض کو ہم نے زمین میں دھنسایا اور بعض کو (دریا میں) غرق کر دیا اور اللہ ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا بلکہ وہ خود اپنے اوپر ظلم کرتے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
تو ہم نے ہر ایک کو اس کے گناہ میں پکڑ لیا، پھر ان میں سے کوئی وہ تھا جس پر ہم نے پتھرائو والی ہوا بھیجی اور ان میں سے کوئی وہ تھا جسے چیخ نے پکڑ لیا اور ان میں سے کوئی وہ تھا جسے ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور ان میں سے کوئی وہ تھا جسے ہم نے غرق کر دیا اور اللہ ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرے اور لیکن وہ خود اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
احقاف کے لوگ ٭٭

عادی ہود علیہ السلام کی قوم تھے۔ احقاف میں رہتے تھے جو یمن کے شہروں میں حضر موت کے قریب ہے۔ ثمودی صالح علیہ السلام کی قوم کے لوگ تھے۔ یہ حجر میں بستے تھے جو وادی القریٰ کے قریب ہے۔ عرب کے راستے میں ان کی بستی آتی تھی جسے یہ بخوبی جانتے تھے۔ قارون ایک دولت مند شخص تھا جس کے بھرپور خزانوں کی کنجیاں ایک جماعت کی جماعت اٹھاتی تھی۔ فرعون مصر کا بادشاہ تھا اور ہامان اس کا وزیر اعظم تھا۔ اسی کے زمانے میں موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام نبی ہو کر اس کی طرف بھیجے گئے۔ یہ دونوں قبطی کافر تھے، جب ان کی سرکشی حد سے گزر گئی اللہ کی توحید کے منکر ہو گئے، رسولوں کو ایذائیں دیں اور ان کی نہ مانی تو اللہ تعالیٰ نے ان سب کو طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک کیا۔ عادیوں پر ہوائیں بھیجیں۔ انہیں اپنی قوت وطاقت کا بڑا گھمنڈ تھا کسی کو اپنے مقابلے کا نہ جانتے تھے۔ ان پر ہوا بھیجی جو بڑی تیز وتند تھی جو ان پر زمین کے پتھر اڑا اڑا کر برسانے لگی۔ بالآخر زور پکڑتے پکڑتے یہاں تک بڑھ گئی کہ انہیں اچک لے جاتی اور آسمان کے قریب لے جا کر پھر گرا دیتی۔ سر کے بل گرتے اور سر الگ ہو جاتا دھڑ الگ ہو جاتا اور ایسے ہو جاتے جیسے کھجور کے درخت، جس کے تنے الگ ہوں اور شاخیں جدا ہوں، ثمودیوں پر حجت الٰہی پوری ہوئی دلائل دے دئیے گئے ان کی طلب کے موافق پتھر میں سے ان کے دیکھتے ہوئے اونٹنی نکلی لیکن تاہم انہیں ایمان نصیب نہ ہوا بلکہ طغیانی میں بڑھتے رہے۔ اللہ کے نبی صالح علیہ السلام کو دھمکانے اور ڈرانے لگے اور ایمانداروں سے بھی کہنے لگے کہ ہمارے شہر چھوڑ دو ورنہ ہم تمہیں سنگسار کر دیں گے۔ انہیں ایک چیخ سے پارہ پارہ کر دیا۔ دل ہل گئے کلیجے اڑ گئے اور سب کی روحیں نکل گئیں۔ قارون نے سرکشی اور تکبر کیا۔ طغیانی اور بڑائی کی، رب الاعلیٰ کی نافرمانی کی، زمین میں فساد مچا دیا، اکڑ اکڑ کر چلنے لگا، اپنے ڈنڈ بل دیکھنے لگا، اترانے لگا اور پھولنے لگا، پس اللہ نے اسے مع اس کے محلات کے زمین دوز کر دیا جو آج تک دھنستا چلا جا رہا ہے۔ فرعون، ہامان اور ان کے لشکروں کو صبح ہی صبح ایک ساتھ ایک ہی ساعت میں دریا برد کر دیا۔ ان میں سے ایک بھی نہ بچا جو ان کا نام تو کبھی لیتا۔ اللہ نے یہ جو کچھ کیا کچھ ان پر ظلم نہ تھا بلکہ ان کے ظلم کا بدلہ تھا۔ ان کے کرتوت کا پھل تھا ان کی کرنی کی بھرنی تھی۔ یہ بیان یہاں بطور لف و نشر کے ہے۔ اولاً جھٹلانے والی امتوں کا ذکر ہوا۔ پھر ان میں سے ہر ایک کو عذابوں سے ہلاک کرنے کا۔ کسی نے کہا کہ سب سے پہلے جن پر پتھروں کا مینہ برسانے کا ذکر ہے ان سے مراد لوطی ہیں اور غرق کی جانے والی قوم قوم نوح ہے لیکن یہ قول ٹھیک نہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ مروی تو ہے لیکن سند میں انقطاع ہے۔ ان دونوں قوموں کی حالت کا ذکر اسی صورت میں بہ تفصیل بیان ہو چکا ہے۔ پھر بہت سے فاصلے کے بعد یہ بیان ہوا ہے۔ قتادۃ رحمہ اللہ سے یہ بھی مروی ہے کہ پتھروں کا مینہ جن پر برسایا گیا ان سے مراد لوطی ہیں اور جنہیں چیخ سے ہلاک کیا گیا ان سے مراد قوم شعیب ہے لیکن یہ قول بھی ان آیتوں سے دور دراز ہے، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
40-1یعنی ان مذکورین میں سے ہر ایک کی ان کے گناہوں کی پاداش میں ہم نے گرفت کی۔ 40-2یہ قوم عاد تھی، جس پر نہایت تتند و تیز ہوا کا عذاب آیا۔ یہ ہوا زمین سے کنکریاں اڑا اڑا کر ان پر برساتی، بالآخر اس کی شدت اتنی بڑھی کہ انھیں اچک کر آسمان تک لے جاتی اور انھیں سر کے بل زمین پردے مارتی، جس سے ان کا سر الگ اور دھڑ الگ ہوجاتا گویا کہ وہ کھجور کے کھوکھلے تنے ہیں۔ (ابن کثیر) بعض مفسرین نے حصبا کا مصداق قوم لوط ؑ کو ٹھہرایا ہے۔ لیکن امام ابن کثیر نے اسے غیر صحیح اور حضرت ابن عباس ؓ کی طرف منسوب قول کو منقطع قرار دیا ہے۔ 40-3حضرت صالح ؑ کی قوم ثمود ہے۔ جنہیں ان کے کہنے پر ایک چٹان سے اونٹنی نکال کر دکھائی گئی۔ لیکن ان ظالموں نے ایمان لانے کے بجائے اس اونٹنی کو ہی مار ڈالا۔ جس کے تین دن بعد ان پر سخت چنگھاڑ کا عذاب آیا، جس نے انکی آوازوں اور حرکتوں کو خاموش کردیا۔ 40-4یہ قارون ہے، جسے مال و دولت کے خزانے عطا کئے گئے، لیکن یہ اس گھمنڈ میں مبتلا ہوگیا کہ یہ مال و دولت اس بات کی دلیل ہے کہ میں اللہ کے ہاں معزز و محترم ہوں۔ مجھے موسیٰ ؑ کی بات ماننے کی کیا ضرورت ہے، چناچہ اسے اس کے خزانوں اور محلات سمیت زمین میں دھنسا دیا گیا۔ 40-5یہ فرعون ہے، جو ملک مصر کا حکمران تھا، لیکن حد سے تجاوز کر کے اس نے اپنے بارے میں الوہیت کا دعوی بھی کردیا۔ حضرت موسیٰ ؑ پر ایمان لانے سے اور انکی قوم بنی اسرائیل کو، جس کو اس نے غلام بنا رکھا تھا، آزاد کرنے سے انکار کردیا، بالآخر ایک صبح اس کو اس کے پورے لشکر سمیت دریائے قلزم میں غرق کردیا گیا۔ 40-6 یعنی اللہ کی شان نہیں کہ وہ ظلم کرے۔ اس لئے پچھلی قومیں، جن پر عذاب آیا، محض اس لئے ہلاک ہوئیں کہ کفر و شرک اور تکذیب و معاصی کا ارتکاب کر کے انہوں نے خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا۔
(آیت 40) ➊ { فَكُلًّا اَخَذْنَا بِذَنْۢبِهٖ …:} تو ہم نے ان میں ہر ایک کو اس کے گناہ کی وجہ سے پکڑ لیا۔{” فَمِنْهُمْ مَّنْ اَرْسَلْنَا عَلَيْهِ حَاصِبًا “” حَاصِبًا “} سخت آندھی جو سنگریزے اور پتھر اڑا کر لائے، یعنی پھر ان میں کچھ وہ تھے جن پر ہم نے پتھراؤ والی آندھی بھیجی۔ اس سے مراد قومِ عاد ہے، جس پر اللہ تعالیٰ نے نہایت ٹھنڈی، سخت تیز اور کنکر و پتھر اڑانے والی آندھی بھیجی جو ان پر سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل چلتی رہی، جس کے ساتھ تمام کافر اس طرح گرے پڑے تھے جیسے گرے ہوئے کھجور کے درختوں کے تنے ہوں۔ دیکھیے سورۂ حاقہ (۵ تا ۸) اور سورۂ قمر (۱۹، ۲۰) بعض مفسرین نے ان لوگوں سے مراد قوم لوط لی ہے، کیونکہ ان کے متعلق دوسری جگہ فرمایا ہے: «{ اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ حَاصِبًا اِلَّاۤ اٰلَ لُوْطٍ }» [ القمر: ۳۴ ] ”بے شک ہم نے ان پر پتھر برسانے والی ایک ہوا بھیجی سوائے لوط کے گھر والوں کے۔“ اور غرق ہونے والوں سے مراد نوح علیہ السلام کی قوم اور چیخ والوں سے مراد شعیب علیہ السلام کی قوم لی ہے، مگر ابن کثیر نے فرمایا کہ یہ صحیح نہیں ہے، کیونکہ اس سے پہلے کی آیات میں نوح، لوط اور شعیب علیھم السلام کی قوم پر آنے والے عذابوں کا ذکر گزر چکا ہے، یہاں سے عاد اور اس کے بعد کے لوگوں پر آنے والے عذابوں کا ذکر ہے، اس لیے یہاں پتھراؤ والی آندھی سے ہلاک ہونے والوں سے مراد قوم عاد ہی ہے۔ ➋ { وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَخَذَتْهُ الصَّيْحَةُ:} اس سے مراد قومِ ثمود ہے، اگرچہ شعیب علیہ السلام کی قوم بھی {” الصَّيْحَةُ “} (چیخ) سے ہلاک ہوئی، مگر اس کی گرفت کا ذکر اوپر گزر چکا ہے۔ ➌ { وَ مِنْهُمْ مَّنْ خَسَفْنَا بِهِ الْاَرْضَ:} اس سے مراد قارون ہے، جیسا کہ سورۂ قصص کی آیت (۸۱) میں گزرا۔ ➍ {وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَغْرَقْنَا:} اس سے مراد فرعون، ہامان اور ان کی قوم ہے۔ ویسے الفاظ کے عموم کی وجہ سے اگر {” حَاصِبًا “} والوں سے مراد قومِ عاد اور قومِ لوط دونوں اور {” الصَّيْحَةُ “} والوں سے مراد قومِ ثمود اور قومِ شعیب دونوں اور غرق ہونے والوں سے مراد آل فرعون اور قوم نوح دونوں لیے جائیں تو کوئی مانع نہیں۔ ➎ {وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِيَظْلِمَهُمْ …:” كَانَ “} استمرار کے لیے ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کبھی بھی ایسا نہیں کہ ان پر ظلم کرے، لیکن وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے اور ایسے افعال کا ارتکاب کرتے تھے جن کا نتیجہ ان پر عذاب اور ان کی ہلاکت اور بربادی تھا۔
مَثَلُ الَّذِیۡنَ اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ اَوۡلِیَآءَ کَمَثَلِ الۡعَنۡکَبُوۡتِ ۖۚ اِتَّخَذَتۡ بَیۡتًا ؕ وَ اِنَّ اَوۡہَنَ الۡبُیُوۡتِ لَبَیۡتُ الۡعَنۡکَبُوۡتِ ۘ لَوۡ کَانُوۡا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۴۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر دُوسرے سرپرست بنا لیے ہیں اُن کی مثال مکڑی جیسی ہے جو اپنا ایک گھر بناتی ہے اور سب گھروں سے زیادہ کمزور گھر مکڑی کا گھر ہی ہوتا ہے کاش یہ لوگ علم رکھتے
مولانا محمد جوناگڑھی
جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا اور کارساز مقرر کر رکھے ہیں ان کی مثال مکڑی کی سی ہے کہ وه بھی ایک گھر بنا لیتی ہے، حاﻻنکہ تمام گھروں سے زیاده بودا گھر مکڑی کا گھر ہی ہے، کاش! وه جان لیتے
احمد رضا خان بریلوی
ان کی مثال جنہوں نے اللہ کے سوا اور مالک بنالیے ہیں مکڑی کی طرح ہے، اس نے جالے کا گھر بنایا اور بیشک سب گھروں میں کمزور گھر مکڑی کا گھر کیا اچھا ہوتا اگر جانتے
علامہ محمد حسین نجفی
جن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اور سرپرست اور کارساز بنا لئے ہیں ان کی مثال مکڑی جیسی ہے جس نے (جالے کا) ایک گھر بنایا اور یقیناً تمام گھروں سے زیادہ کمزور مکڑی کا گھر ہے۔ کاش لوگ (یہ حقیقت) جانتے۔
عبدالسلام بن محمد
ان لوگوں کی مثال جنھوں نے اللہ کے سوا اور مددگار بنا رکھے ہیں مکڑی کی مثال جیسی ہے، جس نے ایک گھر بنایا، حالانکہ بے شک سب گھروں سے کمزور تو مکڑی کا گھر ہے، اگر وہ جانتے ہوتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مکڑی کا جالا ٭٭

جو لوگ اللہ تعالیٰ رب العالمین کے سوا اوروں کی پرستش اور پوجاپاٹ کرتے ہیں ان کی کمزوری اور بےعلمی کا بیان ہو رہا ہے۔ یہ ان سے مدد، روزی اور سختی میں کام آنے کے امیدوار رہتے ہیں۔ ان کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی مکڑی کے جالے میں بارش اور دھوپ اور سردی سے پناہ چاہے۔ اگر ان میں علم ہوتا تو یہ خالق کو چھوڑ کر مخلوق سے امیدیں وابستہ نہ کرتے۔ پس ان کا حال ایمانداروں کے حال کے بالکل برعکس ہے۔ وہ ایک مضبوط کڑے کو تھامے ہوئے ہیں اور یہ مکڑی کے جالے میں اپنا سرچھپائے ہوئے ہیں۔ اس کا دل اللہ کی طرف، اس کا جسم اعمال صالحہ کی طرف مشغول ہے اور اس کا دل مخلوق کی طرف اور جسم اس کی پرستش کی طرف جھکا ہوا ہے۔
41-1یعنی جس طرح مکڑی کا جالا (گھر) نہایت، کمزور اور ناپائیدار ہوتا ہے، ہاتھ کے معمولی اشارے سے وہ نابود ہوجاتا ہے۔ اللہ کے سوا دوسروں کو معبود، حاجت روا اور مشکل کشا سمجھنا بھی بالکل ایسا ہی ہے، یعنی بےفائدہ ہے کیونکہ وہ بھی کسی کے کام نہیں آسکتے۔ اس لئے غیر اللہ کے سہارے بھی مکڑی کے جالے کی طرح یکسر ناپائیدار ہیں۔ اگر یہ پائیدار یا نفع بخش ہوتے تو یہ معبود گزشتہ اقوام کو تباہی سے بچا لیتے۔ لیکن دنیا نے دیکھ لیا کہ وہ انھیں نہیں بچا سکے۔
(آیت 41) {مَثَلُ الَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِيَآءَ …:} اللہ کے عذاب کے ساتھ ہلاک ہونے والی تمام اقوام اور تمام افراد کا اصل جرم اور اپنی جان پر ظلم اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک تھا کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا اور مددگار اور مشکل کشا بنا رکھے تھے، اب مکہ کے مشرکوں نے بھی انھی کی روش اپنا رکھی تھی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے مثال دے کر واضح فرمایا کہ اللہ کے سوا کسی کو مددگار سمجھنے والوں کی مثال مکڑی کی ہے جو گھر بناتی ہے، گھر کا فائدہ یہ ہے کہ وہ سردی، گرمی،بارش، آندھی اور حملہ آور سے بچاتا ہے، مگر مکڑی کا گھر نہ اسے سردی سے بچاتا ہے نہ گرمی سے، نہ بارش یا طوفان سے نہ ہی کسی حملہ آور سے، بلکہ اتنا بودا اور ناپائیدار ہوتا ہے کہ ہاتھ کے معمولی سے اشارے سے نیست و نابود ہو جاتا ہے۔ اللہ کے سوا کسی دوسرے کو معبود، حاجت روا اور مشکل کشا سمجھنا بالکل ایسے ہی بے فائدہ ہے، کیونکہ وہ کسی کے کام نہیں آسکتے۔ اللہ کے سوا تمام سہارے بیکار ہیں، اگر وہ کوئی مدد کر سکتے تو گزشتہ اقوام کو تباہی سے بچا لیتے، مگر دنیا نے دیکھ لیا کہ وہ انھیں نہیں بچا سکے۔
اِنَّ اللّٰہَ یَعۡلَمُ مَا یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِہٖ مِنۡ شَیۡءٍ ؕ وَ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۴۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر جس چیز کو بھی پکارتے ہیں اللہ اسے خوب جانتا ہے اور وہی زبردست اور حکیم ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ تعالیٰ ان تمام چیزوں کو جانتا ہے جنہیں وه اس کے سوا پکار رہے ہیں، وه زبردست اور ذی حکمت ہے
احمد رضا خان بریلوی
اللہ جانتا ہے جس چیز کی اس کے سوا پوجا کرتے ہیں اور وہی عزت و حکمت والا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اللہ کو چھوڑ کر یہ لوگ جس شئے کو پکارتے ہیں۔ بےشک اللہ اسے جانتا ہے۔ وہ غالب ہے، بڑا حکمت والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
یقینا اللہ جانتا ہے جسے وہ اس کے سوا پکارتے ہیں کوئی بھی چیز ہو اور وہی سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر اللہ تعالیٰ مشرکوں کو ڈرا رہا ہے کہ وہ ان سے ان کے شرک سے اور ان کے جھوٹے معبودوں سے خوب آگاہ ہے۔ انہیں ان کی شرارت کا ایسا مزہ چھکائے گا کہ یہ یاد کریں۔ انہیں ڈھیل دینے میں بھی اس کی مصلحت و حکمت ہے۔ نہ یہ کہ وہ علیم اللہ ان سے بے خبر ہو۔ ہم نے تو مثالوں سے بھی مسائل سمجھا دئیے۔ لیکن اس کے سوچنے سمجھنے کا مادہ، ان میں غوروفکر کرنے کی توفیق صرف باعمل علماء کو ہوتی ہے جو اپنے علم میں پورے ہیں۔ اس آیت سے ثابت ہوا کہ اللہ کی بیان کردہ مثالوں کو سمجھ لینا سچے علم کی دلیل ہے۔ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: { میں نے ایک ہزار مثالیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھی سمجھی ہیں۔ } (‏‏‏‏مسند احمد) ۱؎ [مسند احمد:203/4:ضعیف] ‏‏‏‏ اس سے آپ کی فضیلت اور آپ کی علمیت ظاہر ہے۔ عمرو بن مرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کلام اللہ شریف کی جو آیت میری تلاوت میں آئے اور اس کا تفصیلی معنوں کامطلب میری سمجھ میں نہ آئے تو میرا دل دکھتا ہے مجھے سخت تکلیف ہوتی ہے اور میں ڈرنے لگتا ہوں کہ کہیں اللہ کے نزدیک میری گنتی جاہلوں میں تو نہیں ہو گئی کیونکہ فرمان اللہ یہی ہے کہ ہم ان مثالوں کو لوگوں کے سامنے پیش کر رہے ہیں لیکن سوائے عالموں کے انہیں دوسرے سمجھ نہیں سکتے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 42) ➊ {اِنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ مَا يَدْعُوْنَ …:} ممکن تھا عنکبوت کی مثال سن کر کوئی شخص تعجب کرتا کہ اللہ تعالیٰ نے سب کو مکڑی جیسا بے بس اور بے اختیار بنا دیا، کسی کو مستثنیٰ نہ کیا، بعض لوگ بتوں کو پوجتے ہیں، بعض آگ کو، بعض پانی کو جب کہ وہ لوگ بھی ہیں جو فرشتوں اور انبیاء و اولیاء کو پوجتے اور پکارتے ہیں۔ اس لیے فرمایا کہ لوگ اللہ کے سوا جس کسی کو بھی پکارتے ہیں اسے سب معلوم ہیں، اگر ان میں سے کسی کے پاس بھی کچھ قدرت یا اختیار ہوتا تو اللہ تعالیٰ سب کی سرے سے نفی نہ کرتا۔ ➋ { وَ هُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ:} یعنی اللہ خود سب پر غالب ہے، اسے کسی کی مدد کی ضرورت نہیں اور وہ کمال حکمت والا ہے، اسے کسی کے مشورے کی ضرورت نہیں۔ ➌ اس آیت کا ایک اور ترجمہ بھی ہو سکتا ہے ”یقینا اللہ جانتا ہے کہ یہ لوگ اس کے سوا کسی بھی چیز کو نہیں پکارتے۔“ یعنی اسے چھوڑ کر جنھیں پکارتے ہیں وہ کچھ بھی نہیں اور عزیز و حکیم بس وہی ہے۔
وَ تِلۡکَ الۡاَمۡثَالُ نَضۡرِبُہَا لِلنَّاسِ ۚ وَ مَا یَعۡقِلُہَاۤ اِلَّا الۡعٰلِمُوۡنَ ﴿۴۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ مثالیں ہم لوگوں کی فہمائش کے لیے دیتے ہیں، مگر ان کو وہی لوگ سمجھتے ہیں جو علم رکھنے والے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم ان مثالوں کو لوگوں کے لیے بیان فرما رہے ہیں انہیں صرف علم والے ہی سمجھتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور یہ مثالیں ہم لوگوں کے لیے بیان فرماتے ہیں، اور انہیں نہیں سمجھتے مگر علم والے
علامہ محمد حسین نجفی
اور یہ مثالیں ہم پیش تو سب لوگوں کے سامنے کرتے ہیں مگر انہیں سمجھتے صرف اہل علم ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور یہ مثالیں ہیں جو ہم لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں اور انھیں صرف جاننے والے ہی سمجھتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر اللہ تعالیٰ مشرکوں کو ڈرا رہا ہے کہ وہ ان سے ان کے شرک سے اور ان کے جھوٹے معبودوں سے خوب آگاہ ہے۔ انہیں ان کی شرارت کا ایسا مزہ چھکائے گا کہ یہ یاد کریں۔ انہیں ڈھیل دینے میں بھی اس کی مصلحت و حکمت ہے۔ نہ یہ کہ وہ علیم اللہ ان سے بے خبر ہو۔ ہم نے تو مثالوں سے بھی مسائل سمجھا دئیے۔ لیکن اس کے سوچنے سمجھنے کا مادہ، ان میں غوروفکر کرنے کی توفیق صرف باعمل علماء کو ہوتی ہے جو اپنے علم میں پورے ہیں۔ اس آیت سے ثابت ہوا کہ اللہ کی بیان کردہ مثالوں کو سمجھ لینا سچے علم کی دلیل ہے۔ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: { میں نے ایک ہزار مثالیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھی سمجھی ہیں۔ } (‏‏‏‏مسند احمد) ۱؎ [مسند احمد:203/4:ضعیف] ‏‏‏‏ اس سے آپ کی فضیلت اور آپ کی علمیت ظاہر ہے۔ عمرو بن مرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کلام اللہ شریف کی جو آیت میری تلاوت میں آئے اور اس کا تفصیلی معنوں کامطلب میری سمجھ میں نہ آئے تو میرا دل دکھتا ہے مجھے سخت تکلیف ہوتی ہے اور میں ڈرنے لگتا ہوں کہ کہیں اللہ کے نزدیک میری گنتی جاہلوں میں تو نہیں ہو گئی کیونکہ فرمان اللہ یہی ہے کہ ہم ان مثالوں کو لوگوں کے سامنے پیش کر رہے ہیں لیکن سوائے عالموں کے انہیں دوسرے سمجھ نہیں سکتے۔
43-1یعنی انھیں خواب غفلت سے بیدار کرنے، شرک کی حقیقت سے آگاہ کرنے اور ہدایت کا راستہ سجھانے کے لئے۔ 43-2اس علم سے مراد اللہ کا، اس کی شریعت کا اور ان آیات و دلائل کا علم ہے جن پر غور و فکر کرنے سے انسان کو اللہ کی معرفت حاصل ہوتی اور ہدایت کا راستہ ملتا ہے۔
(آیت 43) ➊ {وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ:} یہ کفار کے اس سوال کا جواب ہے کہ مکڑی، مچھر اور مکھی وغیرہ جیسی حقیر چیزوں کی مثال کی کیا ضرورت تھی؟ جیسا کہ فرمایا: «{ وَ اَمَّا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فَيَقُوْلُوْنَ مَا ذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰذَا مَثَلًا }» [ البقرۃ: ۲۶ ] ”اور رہے وہ جنھوں نے کفر کیا تو وہ کہتے ہیں اللہ نے اس کے ساتھ مثال دینے سے کیا ارادہ کیا؟“ جواب دیا کہ مثال کا مقصد بات کو سمجھانا ہوتا ہے، کیونکہ مثال سے بات اچھی طرح ذہن نشین ہو جاتی ہے، مگر ان مثالوں کو صرف علم والے سمجھتے ہیں۔ ➋ { وَ مَا يَعْقِلُهَاۤ اِلَّا الْعٰلِمُوْنَ:الْعٰلِمُوْنَ “} (جاننے والوں) سے مراد ایسے لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کتاب اور زمین و آسمان میں پھیلی ہوئی بے شمار نشانیوں پر سوچ بچار کرتے ہیں، ایسے لوگ ہی راسخ فی العلم کہلانے کے حق دار ہیں۔
خَلَقَ اللّٰہُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ بِالۡحَقِّ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّلۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿٪۴۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اللہ نے آسمانوں اور زمین کو برحق پیدا کیا ہے، در حقیقت اِس میں ایک نشانی ہے اہلِ ایمان کے لیے
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو مصلحت اور حق کے ساتھ پیدا کیا ہے، ایمان والوں کے لیے تو اس میں بڑی بھاری دلیل ہے
احمد رضا خان بریلوی
اللہ نے آسمان اور زمین حق بنائے، بیشک اس میں نشانی ہے مسلمانوں کے لیے،
علامہ محمد حسین نجفی
اللہ نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ بےشک اس میں اہلِ ایمان کیلئے (اس کی قدرت کی) ایک نشانی موجود ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اللہ نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا، بلاشبہ اس میں ایمان والوں کے لیے یقینا بڑی نشانی ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مقصد کائنات ٭٭

اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی قدرت کا بیان ہو رہا ہے کہ وہی آسمانوں کا اور زمینوں کا خالق ہے۔ اس نے انہیں کھیل تماشے کے طور پر یا لغو و بے کار نہیں بنایا۔ بلکہ اس لیے کہ یہاں لوگوں کو بسائے۔ پھر ان کی نیکیاں بدیاں دیکھے۔ اور قیامت کے دن ان کے اعمال کے مطابق انہیں جزا سزادے۔ بروں کو ان کی بداعمالیوں پر سزا اور نیکوں کو ان کی نیکیوں پر بہترین بدلہ۔
44-1یعنی بےفائدہ اور بےمقصد نہیں۔ 44-2یعنی اللہ کے وجود کی، اس کی قدرت اور علم و حکمت کی۔ اور پھر اسی دلیل سے وہ اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ کائنات میں اس کے سوا کوئی معبود نہیں، کوئی حاجت روا اور مشکل کشا نہیں۔
(آیت 44) ➊ { خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ:} یعنی کائنات کا یہ نظام حق پر قائم ہے۔ اس نے اسے نہایت حکمت سے بنایا ہے، بے فائدہ اور بے مقصد نہیں بنایا۔ دیکھیے سورۂ انبیاء (۱۶) اور دخان (۳۸)۔ ➋ {اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّلْمُؤْمِنِيْنَ:} زمین و آسمان کی پیدائش میں صرف ایمان والوں کے لیے نشانیاں ہیں، کیونکہ وہی ان پر غور کرتے ہیں، دوسرے لوگ زمین و آسمان میں اللہ تعالیٰ کی بے شمار قدرتوں اور نشانیوں کے پاس سے گزر جاتے ہیں مگر دھیان ہی نہیں کرتے۔ (دیکھیے سورۂ یوسف: ۱۰۶) جو لوگ دل میں جذبۂ ایمان رکھتے ہوئے اس نظام کائنات پر غور کریں گے ان پر یہ حقیقت کھل جائے گی کہ یہ نظام نہ کسی خالق کے بغیر بنا ہے اور نہ اس کے ایک سے زیادہ خالق ہو سکتے ہیں، بس ایک ہی ذات پاک ہے جس نے اسے پیدا کیا اور وہی اس کی حق دار ہے کہ اس کی عبادت کی جائے۔ انھی غور و فکر کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے {” لِقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ “} قرار دیا ہے۔ (دیکھیے بقرہ: ۱۶۴) اور انھی کو {” لِاُولِي الْاَلْبَابِ “} قرار دیا ہے۔ (دیکھیے آل عمران: ۱۹۰)
اُتۡلُ مَاۤ اُوۡحِیَ اِلَیۡکَ مِنَ الۡکِتٰبِ وَ اَقِمِ الصَّلٰوۃَ ؕ اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنۡہٰی عَنِ الۡفَحۡشَآءِ وَ الۡمُنۡکَرِ ؕ وَ لَذِکۡرُ اللّٰہِ اَکۡبَرُ ؕ وَ اللّٰہُ یَعۡلَمُ مَا تَصۡنَعُوۡنَ ﴿۴۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
(اے نبیؐ) تلاوت کرو اس کتاب کی جو تمہاری طرف وحی کے ذریعہ سے بھیجی گئی ہے اور نماز قائم کرو، یقیناً نماز فحش اور بُرے کاموں سے روکتی ہے اور اللہ کا ذکر اس سے بھی زیادہ بڑی چیز ہے اللہ جانتا ہے جو کچھ تم لوگ کرتے ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
جو کتاب آپ کی طرف وحی کی گئی ہے اسے پڑھئے اور نماز قائم کریں، یقیناً نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے، بیشک اللہ کا ذکر بہت بڑی چیز ہے، تم جو کچھ کر رہے ہو اس سے اللہ خبردار ہے
احمد رضا خان بریلوی
اے محبوب! پڑھو جو کتاب تمہاری طرف وحی کی گئی اور نماز قائم فرماؤ، بیشک نماز منع کرتی ہے بے حیائی اور بری بات سے اور بیشک اللہ کا ذکر سب سے بڑا اور اللہ جانتا ہے جو تم کرتے ہو،
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول(ص)) آپ اس (کتاب) کی تلاوت کریں جو آپ کی طرف وحی کی گئی ہے اور نماز قائم کریں۔ بے شک نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے اور اللہ کا ذکر سب سے بڑی چیز ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے جانتا ہے.
عبدالسلام بن محمد
اس کی تلاوت کر جو کتاب میں سے تیری طرف وحی کی گئی ہے اور نماز قائم کر، بے شک نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے اور یقینا اللہ کا ذکر سب سے بڑا ہے اور اللہ جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اخلاص خوف اور اللہ کا ذکر ٭٭

اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اور ایمان داروں کو حکم دے رہا ہے کہ وہ قرآن کریم کی تلاوت کرتے رہیں اور اسے اوروں کو بھی سنائیں اور نمازوں کی نگہبانی کریں اور پابندی سے پڑھتے رہا کریں۔ نماز انسان کو ناشائستہ کاموں اور نالائق حرکتوں سے باز رکھتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { جس نمازی کی نماز نے اسے گناہوں سے اور سیاہ کاریوں سے باز نہ رکھا وہ اللہ سے بہت دور ہو جاتا ہے۔ } ابن ابی حاتم میں ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کی تفسیر دریافت کی گئی تو آپ نے فرمایا: { جسے اس کی نماز بےجا اور فحش کاموں سے نہ روکے تو سمجھ لو کہ اس کی نماز اللہ کے ہاں مقبول نہیں ہوئی۔ } ۱؎ [ضعیف و منقطع] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ { وہ اللہ سے دور ہی ہوتا چلا جائے گا }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:11025:ضعیف] ‏‏‏‏ ایک موقوف روایت میں ہے، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ { جو نمازی بھلے کاموں میں مشغول اور برے کاموں سے بچنے والا نہ ہو سمجھ لو کہ اس کی نماز اسے اللہ سے اور دور کرتی جا رہی ہے۔ } رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جو نماز کی بات نہ مانے اس کی نماز نہیں، نماز بےحیائی سے اور بدفعلیوں سے روکتی ہے، اس کی اطاعت یہ ہے کہ ان بےہودہ کاموں سے نمازی رک جائے۔ } شعیب علیہ السلام سے جب ان کی قوم نے کہا کہ اے شعیب علیہ السلام! کیا تمہیں تمہاری نماز حکم کرتی ہے تو سفیان رحمہ اللہ نے اس کی تفسیر میں فرمایا کہ { ہاں اللہ کی قسم! نماز حکم بھی کرتی ہے اور منع بھی کرتی ہے۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:27784:ضعیف و منقطع] ‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کسی نے کہا: فلاں شخص بڑی لمبی نماز پڑھتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { نماز اسے نفع دیتی ہے جو اس کا کہا مانے۔ } میری تحقیق میں اوپر جو مرفوع روایت بیان ہوئی ہے اس کا بھی موقوف ہونا ہی زیادہ صحیح ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

بزار میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! فلاں شخص نماز پڑھتا ہے لیکن چوری نہیں چھوڑتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب اس کی نماز اس کی یہ برائی چھڑا دے گی۔ } ۱؎ [مسند احمد:447/2:صحیح] ‏‏‏‏ چونکہ نماز ذکر اللہ کا نام ہے اسی لیے اس کے بعد ہی فرمایا اللہ کی یاد بڑی چیز ہے اللہ تعالیٰ تمہاری تمام باتوں سے اور تمہارے کل کاموں سے باخبر ہے۔ ابوالعالیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں نماز میں تین چیزیں ہیں اگر یہ نہ ہوں تو نماز نماز نہیں۔ ۱۔ اخلاص وخلوص ۲۔ خوف الہی اور ۳۔ ذکر اللہ۔ اخلاص سے تو انسان نیک ہو جاتا ہے اور خوف الہی سے انسان گناہوں کو چھوڑ دیتا ہے اور ذکر اللہ یعنی قرآن اسے بھلائی و برائی بتا دیتا ہے وہ حکم بھی کرتا ہے اور منع بھی کرتا ہے۔ ابن عون انصاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب تو نماز میں ہو تو نیکی میں ہے اور نماز تجھے فحش اور منکر سے بچائے ہوئے ہے۔ اور اس میں جو کچھ تو ذکر اللہ کررہا ہے وہ تیرے لیے بڑے ہی فائدے کی چیز ہے۔ حماد رحمہ اللہ کا قول ہے کہ کم سے کم حالت نماز میں تو برائیوں سے بچا رہے گا۔ ایک راوی سے ابن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ قول مروی ہے کہ جو بندہ یاد اللہ کو یاد کرتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اسے یاد کرتا ہے۔ اس نے کہا: ہمارے ہاں جو صاحب ہیں وہ تو کہتے ہیں کہ مطلب اس کا یہ ہے کہ جب تم اللہ کا ذکر کرو گے تو وہ تمہاری یاد کرے گا اور یہ بہت بڑی چیز ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے «فَاذْكُرُ‌ونِي أَذْكُرْ‌كُمْ» ۱؎ [2-البقرة:152] ‏‏‏‏ ’ تم میری یاد کرو میں تمہاری یاد کرونگا۔ ‘ اسے سن کر آپ نے فرمایا: اس نے سچ کہا۔ یعنی دونوں مطلب درست ہیں۔ یہ بھی اور وہ بھی اور خود ابن عباس سے یہ بھی تفسیر مروی ہے۔ عبداللہ بن ربیعہ رحمہ اللہ سے ایک مرتبہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے دریافت فرمایا کہ اس جملے کا مطلب جانتے ہو؟ انہوں نے کہا ہاں اس سے مراد نماز میں «سُبْحَانَ اللہِ، اَلْحَمْدُلِلہِ، اَللہُ اَکْبَرُ» وغیرہ کہنا ہے۔ آپ نے فرمایا: تو نے عجیب بات کہی یہ یوں نہیں ہے بلکہ مقصود یہ ہے کہ حکم کے اور منع کے وقت اللہ کا تمہیں یاد کرنا تمہارے ذکر اللہ سے بہت بڑا اور بہت اہم ہے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود، سیدنا ابودرداء، سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہم وغیرہ سے بھی یہی مروی ہے۔ اور اسی کو امام ابن جریر رحمہ اللہ پسند فرماتے ہیں۔
45-1قرآن کریم کی تلاوت متعدد مقاصد کے لئے مطلوب ہے۔ محض اجر وثواب کے لئے، اس کے معنی و مطلب پر تدبر و تفکر کے لئے، تعلیم و تدریس کے لئے، اور وعظ و نصیحت کے لئے، اس حکم تلاوت میں ساری صورتیں شامل ہیں۔ 45-2کیونکہ نماز سے (بشرطیکہ نماز ہو) انسان کا تعلق اللہ تعالیٰ کے ساتھ قائم ہوجاتا ہے، جس سے انسان کو اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل ہوتی ہے جو زندگی کے ہر موڑ پر اس کے عزم و ثبات کا باعث، اور ہدایت کا ذریعہ ثابت ہوتی ہے اس لیے قرآن کریم میں کہا گیا ہے کہ اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو۔ نماز اور صبر کوئی مرئی چیز نہیں ہے نہیں کہ انسان انکا سہارا پکڑ کر ان سے مدد حاصل کرلے۔ یہ تو غیر مرئی چیز ہے مطلب یہ ہے کہ ان کے ذریعے سے انسان کا اپنے رب کے ساتھ جو خصوصی ربط وتعلق پیدا ہوتا ہے وہ قدم قدم پر اس کی دستگیری اور رہنمائی کرتا ہے اسی لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کی تنہائی میں تہجد کی نماز بھی پڑھنے کی تاکید کی گئی کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے جو عظیم کام سونپا گیا تھا، اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کی مدد کی بہت زیادہ ضرورت تھی اور یہی وجہ ہے کہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی جب کوئی اہم مرحلہ درپیش ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کا اہتمام فرماتے۔ 45-3یعنی بےحیائی اور برائی سے روکنے کا سبب اور ذریعہ بنتی ہے جس طرح دواؤں کی مختلف تاثیرات ہیں اور کہا جاتا ہے کہ فلاں دوا فلاں بیماری کو روکتی ہے اور واقعتا ایسا ہوتا ہے لیکن کب؟ جب دو باتوں کا التزام کیا جائے ایک دوائی کو پابندی کے ساتھ اس طریقے اور شرائط کے ساتھ استعمال کیا جائے جو حکیم اور ڈاکٹر بتلائے۔ دوسرا پرہیز یعنی ایسی چیزوں سے اجتناب کیا جائے جو اس دوائی کے اثرات کو زائل کرنے والی ہوں۔ اسی طرح نماز کے اندر بھی یقینا اللہ نے ایسی روحانی تاثیر رکھی ہے کہ یہ انسان کو بےحیائی اور برائی سے روکتی ہے لیکن اسی وقت جب نماز کو سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق ان آداب و شرائط کے ساتھ پڑھا جائے جو اس کی صحت و قبولیت کے ضروری ہیں۔ مثلا اس کے لیے پہلی چیز اخلاص ہے، ثانیا طہارت قلب یعنی نماز میں اللہ کے سوا کسی اور کی طرف التفات نہ ہو۔ ثالثا باجماعت اوقات مقررہ پر اس کا اہتمام۔ رابعا ارکان صلاۃ قرأت رکوع قومہ سجدہ وغیرہ میں اعتدال و اطمینان خامسا خشوع وخضوع اور رقت کی کیفیت۔ سادسا مواظبت یعنی پابندی کے ساتھ اس کا التزام سابعا رزق حلال کا اہتمام۔ ہماری نمازیں ان آداب و شرائط سے عاری ہیں۔ اس لیے ان کے وہ اثرات بھی ہماری زندگی میں ظاہر نہیں ہو رہے ہیں جو قرآن کریم میں بتلائے گئے ہیں۔ بعض نے اس کے معنی امر کے کیے ہیں۔ یعنی نماز پڑھنے والے کو چاہیے کہ بےحیائی کے کاموں سے اور برائی سے رک جائے۔ 45-4یعنی بےحیائی اور برائی سے روکنے میں اللہ کا ذکر، اقامت صلٰوۃ سے زیادہ مؤثر۔ اس لئے کہ آدمی جب تک نماز میں ہوتا ہے، برائی سے رکا رہتا ہے۔ لیکن بعد میں اس کی تاثیر کمزور ہوجاتی ہے، اس کے برعکس ہر وقت اللہ کا ذکر اس کے لئے ہر وقت برائی میں مانع رہتا ہے۔
(آیت 45) ➊ { اُتْلُ مَاۤ اُوْحِيَ اِلَيْكَ مِنَ الْكِتٰبِ …:} مکہ مکرمہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں پر جو ظلم و ستم ہو رہا تھا اور انھیں ایمان پر ثابت قدم رہنے میں جو مشکلات پیش آرہی تھیں سورت کے شروع سے یہاں تک انھیں ان مشکلات کو برداشت کرنے اور ان پر استقامت اختیار کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی آزمائش کی سنت بیان کی گئی۔ اس کے نمونے کے لیے پہلے اولو العزم پیغمبروں کی آزمائش اور ان کی قوموں کے شدید معاندانہ رویے پر ان کے صبر کو بیان کیا گیا، ساتھ ہی نافرمان اقوام کا عبرت ناک انجام ذکر کیا گیا۔ مقصد مسلمانوں کو تسلی دینا اور مشکل سے مشکل حالات میں استقامت کی تلقین ہے۔ اب وہ عملی تدبیر بتائی جس سے مومن میں وہ صلاحیت پیدا ہوتی ہے جس سے وہ باطل کے مقابلے میں کھڑا رہ سکتا ہے اور اس وقت بھی اللہ تعالیٰ کے احکام پر کار بند رہ سکتا ہے جب ہر طرف بے حیائی اور برائی کا دور دورہ اور اس کی زبردست اشاعت اور ترغیب موجود ہو۔ ➋ { اُتْلُ مَاۤ اُوْحِيَ اِلَيْكَ مِنَ الْكِتٰبِ:} اس مقصد کے لیے پہلا حکم کتاب اللہ کی تلاوت ہے۔ یہاں قابلِ غور بات یہ ہے کہ دوسرے مقامات پر دوسرے لوگوں کو پڑھ کر سنانے کا حکم ہے، مثلاً سورۂ مائدہ میں ہے: «{ وَ اتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَاَ ابْنَيْ اٰدَمَ بِالْحَقِّ }» [المائدۃ: ۲۷ ] ”اور ان پر آدم کے دو بیٹوں کی خبر کی تلاوت حق کے ساتھ کر۔“ سورۂ اعراف میں ہے: «{ وَ اتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَاَ الَّذِيْۤ اٰتَيْنٰهُ اٰيٰتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا }» [ الأعراف: ۱۷۵ ] ”اور انھیں اس شخص کی خبر پڑھ کر سنا جسے ہم نے اپنی آیات عطا کیں تو وہ ان سے صاف نکل گیا۔“ سورۂ یونس میں ہے: «{ وَ اتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَاَ نُوْحٍ }» [ یونس: ۷۱ ] ”اور ان پر نوح کی خبر پڑھ۔“ اور سورۂ شعراء میں ہے: «{ وَ اتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَاَ اِبْرٰهِيْمَ }» [ الشعراء: ۶۹ ] ”اور ان پر ابراہیم کی خبر پڑھ۔“ مگر اس مقام پر مطلق تلاوت کا حکم ہے، جس میں سب سے پہلے خود تلاوت کا حکم ہے، پھر تمام لوگوں کے لیے تلاوت کا حکم ہے، ایک اور مقام پر بھی اسی طرح مطلق تلاوت کا حکم ہے، فرمایا: «{ وَ اتْلُ مَاۤ اُوْحِيَ اِلَيْكَ مِنْ كِتَابِ رَبِّكَ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ وَ لَنْ تَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًا }» [ الکہف: ۲۷ ] ”اور اس کی تلاوت کر جو تیری طرف تیرے رب کی کتاب میں سے وحی کی گئی ہے، اس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں اور نہ اس کے سوا تو کبھی کوئی پناہ کی جگہ پائے گا۔“ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن مجید کو سننے اور اس کی تلاوت سے دل کو سکون و ثبات حاصل ہوتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ قَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَيْهِ الْقُرْاٰنُ جُمْلَةً وَّاحِدَةً كَذٰلِكَ لِنُثَبِّتَ بِهٖ فُؤَادَكَ وَ رَتَّلْنٰهُ تَرْتِيْلًا }» [ الفرقان: ۳۲ ] ”اور ان لوگوں نے کہا جنھوں نے کفر کیا، یہ قرآن اس پر ایک ہی بار کیوں نہ نازل کر دیا گیا؟ اسی طرح (ہم نے اتارا) تاکہ ہم اس کے ساتھ تیرے دل کو مضبوط کریں اور ہم نے اسے ٹھہر ٹھہر کر پڑھا، خوب ٹھہر کر پڑھنا۔“ قرآن کی تلاوت ہی سے دل میں ایمان، کردار کی پختگی اور مصائب و مشکلات برداشت کرنے کی طاقت پیدا ہوتی ہے اور یہ بات تجربے سے ثابت ہے کہ جس شاعر یا مصنف کا کلام بار بار پڑھا جائے آدمی کو اس سے محبت ہو جاتی ہے، اس لیے قرآن کی تلاوت اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے، پھر اس میں مذکور اللہ تعالیٰ کی توحید، اس کی صفات، اس کے احکام و مواعظ اور پہلی امتوں اور پیغمبروں کے واقعات بار بار پڑھنے سے اللہ تعالیٰ کا دین ہر وقت آنکھوں کے سامنے رہتا ہے، جس سے اس پر عمل آسان ہوجاتا ہے۔ رات کے قیام میں اس کی تلاوت کی برکات کا تو شمار ہی نہیں۔ (دیکھیے سورۂ مزمل) اس طرح کثرتِ تلاوت کے ساتھ قرآن سینے میں محفوظ ہوجاتا اور محفوظ رہتا ہے، جس پر آدمی خود بھی عمل کر سکتا ہے اور دوسروں کو بھی اس کی دعوت و تبلیغ کر سکتا ہے اور اس کی تعلیم دے سکتا ہے، اگر اس کی تلاوت میں سستی کی جائے تو یہ بہت جلد سینے سے نکل جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ تَعَاهَدُوا الْقُرْآنَ فَوَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِيَدِهِ لَهُوَ أَشَدُّ تَفَصِّيًا مِنَ الْإِبِلِ فِيْ عُقُلِهَا ] [ بخاري، فضائل القرآن، باب استذکار القرآن و تعاھدہ: ۵۰۳۳ ] ”قرآن کا دھیان رکھو، کیونکہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! وہ اس سے بھی جلدی چھوٹ کر نکل جاتا ہے جتنی جلدی اونٹ اپنی رسیوں میں سے نکل جاتے ہیں۔“ بڑے ہی بد نصیب ہیں وہ لوگ جو قرآن کو محض ایک خط قرار دے کر اس کی تلاوت کو بے کار مشغلہ قرار دیتے ہیں۔ ➌ اگرچہ قرآن کی تلاوت جس طرح بھی ہو فائدے اور ثواب سے خالی نہیں، مگر اس کا حقیقی فائدہ تبھی حاصل ہو سکتا ہے جب اسے سمجھ کر پڑھا جائے، کیونکہ اس کے بغیر اس پر تدبر ممکن نہیں، جو اس کا اصل مقصد ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ اَفَلَا يَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰى قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا }» [ محمد: ۲۴ ] ”تو کیا وہ قرآن میں غور نہیں کرتے، یا کچھ دلوں پر ان کے قفل پڑے ہوئے ہیں؟“ سمجھ کر پڑھنے ہی سے آدمی اس پر عمل کرسکتا ہے اور اسی سے اس میں باطل سے مقابلے کا جذبہ اور اس کی قوت پیدا ہوتی ہے۔ اکثر اہلِ کتاب کی بربادی کا باعث یہی ہوا کہ وہ تعلیم اور عمل کے بغیر تورات کے لفظوں کی تلاوت پر قانع ہو گئے۔ دیکھیے سورۂ بقرہ کی آیت (۷۸) کی تفسیر۔ آج کل مسلمانوں کی اکثریت کا بھی یہی حال ہے۔ کتاب اللہ کی تلاوت میں اس کا لوگوں کو سنانا اور دعوت دینا بھی شامل ہے۔ ➍ { وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ:} دوسرا حکم نماز کی اقامت کا ہے، کیونکہ اس سے آدمی میں اپنے رب کے ساتھ وہ تعلق پیدا ہو جاتا ہے جو اس کے لیے ہر مصیبت اور مشکل میں مدد گار ثابت ہوتا ہے۔ (دیکھیے بقرہ: ۴۵، ۴۶) ”اقامتِ صلاۃ“ میں صلاۃ سے مراد تمام فرض نمازیں ہیں اور قائم کرنے سے مراد انھیں درست طریقے سے ادا کرنا ہے، جیسا کہ سورۂ بقرہ کی آیت (۳) کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔ ➎ { اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ:اِنَّ “} عموماً تعلیل کے لیے ہوتا ہے، یعنی نماز قائم کرنے کا حکم اس لیے ہے کہ نماز {” الْفَحْشَآءِ “} اور {” الْمُنْكَرِ “} سے روکتی ہے۔ {” الْفَحْشَآءِ “} کوئی بھی قول یا فعل جس میں بہت بڑی قباحت ہو۔ (راغب) مثلاً زنا وغیرہ اور {” الْمُنْكَرِ “} وہ قول و عمل جس کا انسانی فطرت اور عقل انکار کرتی ہو۔ نماز کے بے حیائی اور برائی سے روکنے کے دو مطلب ہوسکتے ہیں، ایک یہ کہ نماز میں یہ تاثیر ہے کہ اس سے انسان بے حیائی اور برائی سے باز آجاتا ہے۔ دوسرا یہ کہ نماز کا نمازی سے تقاضا یہ ہے کہ وہ بے حیائی اور برائی سے باز آجائے۔ یہ دونوں مطلب درست ہیں اور ایک دوسرے کو لازم وملزوم ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ وہ آدمی جو نماز کو اس کے اوقات پر جماعت کے ساتھ ادا کرے، اس کے ارکان و شروط اور خشوع کا خیال رکھتے ہوئے صحیح طریقے سے ادا کرے، اس میں پڑھی جانے والی فاتحہ اور دوسری دعاؤں کے ذریعے سے دل کی حاضری کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے مناجات کرے اور باربار {”رَبِّ اغْفِرْلِيْ“} اور استغفار کی دوسری دعاؤں کے ساتھ بخشش کی درخواست کرے اور اس پر ہمیشگی اختیار کرے، تو یقینا نماز اسے بے حیائی اور برائی سے روک دے گی۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: [ إِنَّ فُلاَنًا يُصَلِّيْ بِاللَّيْلِ، فَإِذَا أَصْبَحَ سَرَقَ قَالَ إِنَّهُ سَيَنْهَاهُ مَا تَقُوْلُ ] [ مسند أحمد: 447/2، ح: ۹۷۹۲، قال المحقق صحیح ] ”فلاں شخص رات نماز پڑھتا ہے، جب صبح ہوتی ہے تو چوری کرتا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عنقریب اس کا یہ عمل اسے اس کام سے روک دے گا جو تو کہہ رہا ہے۔“ یہاں ایک سوال ہے کہ کیا وجہ ہے کہ کئی لوگ نماز ادا کرتے ہیں مگر بے حیائی اور برائی سے باز نہیں آتے؟ اس کے دو جواب ہیں، ایک یہ کہ اگر وہ نماز کو اخلاص اور اس کے ارکان و آداب اور خشوع کا خیال رکھتے ہوئے دل کی حاضری کے ساتھ روزانہ پانچ مرتبہ مسجد میں باجماعت ادا کرتے تو یقینا ان کی نماز انھیں فحشاء اور منکر سے باز رکھتی۔ اگر اس کا یہ اثر ظاہر نہیں ہوا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ نماز میں خلل ہے، دوا کے اجزا پورے نہیں، تبھی شفا نہیں ہوئی۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ نماز تو کہتی ہے کہ جب تو ہر کام چھوڑ کر مسجد میں آ گیا، تیرے باوضو ہونے سے اور تیرے ادا کیے جانے والے الفاظ سے تیرے رب کے سوا کوئی واقف نہیں، پھر بھی تو بے وضو نماز نہیں پڑھتا، نماز میں فضول بات نہیں کرتا، تو جس رب کے ڈر سے نماز میں اس کی نافرمانی سے پرہیز کرتا ہے نماز کے بعد بھی تجھے اس کے خوف سے ہر بے حیائی اور برائی سے اجتناب لازم ہے۔ نماز بہر حال بے حیائی اور برائی سے منع کرتی ہے، کوئی اس کا کہا نہ مانے تو اس کی مرضی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ بھی بے حیائی اور برائی سے منع کرتا ہے، فرمایا: «{ وَ يَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ وَ الْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ }» [ النحل: ۹۰ ] ”اور اللہ بے حیائی اور برائی اور سرکشی سے منع کرتا ہے، وہ تمھیں نصیحت کرتا ہے، تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔“ پھر کوئی اس کا حکم مانتا ہے، کوئی نہیں مانتا۔ ➏ اس مقام پر کتبِ تفسیر میں چند احادیث مروی ہیں جو سنداً ثابت نہیں ہیں۔ تفسیر ابن کثیر میں سے وہ روایات اس کے محقق دکتور حکمت بن بشیر کی تحقیق کے ساتھ نقل کی جاتی ہیں: (1) ابن ابی حاتم نے عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کے فرمان {” اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ “} کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَنْ لَّمْ تَنْهَهُ صَلَاتُهُ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ فَلَا صَلَاةَ لَهُ ] ”جس شخص کی نماز اسے فحشاء اور منکر سے نہ روکے اس کی کوئی نماز نہیں۔“ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن ابی عثمان مجہول ہے۔ (2) ابن ابی حاتم اور طبرانی نے ابن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَنْ لَّمْ تَنْهَهُ صَلَاتُهُ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ لَمْ يَزْدَدْ بِهَا مِنَ اللّٰهِ إِلَّا بُعْدًا ] ”جس شخص کی نماز اسے بے حیائی اور برائی سے نہ روکے اس نماز کے ساتھ اس کی اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوری ہی میں اضافہ ہو گا۔“ یہ روایت لیث بن ابی سلیم راوی کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے۔ (3) ابن جریر طبری نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَّمْ يُطِعِ الصَّلَاةَ وَطَاعَةُ الصَّلَاةِ تَنْهَاهُ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ ] ”جو شخص نماز کی اطاعت نہ کرے اس کی نماز نہیں اور نماز کی اطاعت اسے فحشاء اور منکر سے روکے گی۔“ اس کی سند میں دو راوی جویبر اور حسین (بن داؤد) ضعیف ہیں اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرنے والے راوی ضحاک کی ان سے ملاقات ثابت نہیں۔ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے ان تمام روایات کے متعلق فرمایا: ”زیادہ صحیح یہ ہے کہ یہ موقوف (صحابہ کے اقوال) ہیں (مگر صحابہ سے بھی اکثر اقوال کی سند کمزور ہے)۔“ یہ روایات جن میں برائی سے نہ روکنے والی نماز کو کالعدم اور اللہ تعالیٰ سے دوری کا باعث بیان کیا گیا ہے، ان کی حقیقت میں نے اس لیے بیان کر دی ہے کہ ایسا فتویٰ لگانے والا شخص فتویٰ کی سنگینی پر غور کرے اور اس بات پر بھی کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے ایسی بات لگا رہا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں۔ ➐ { وَ لَذِكْرُ اللّٰهِ اَكْبَرُ:} اس کے تین مطلب بیان کیے گئے ہیں، ایک یہ کہ نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے اور وہ کیوں نہ روکے گی جب کہ وہ اللہ کا ذکر ہے، جیسے فرمایا: «{ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِيْ }» [ طٰہٰ: ۱۴ ] ”اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔“ اور یقینا اللہ کا ذکر اور اس کی یاد برائی اور بے حیائی سے روکنے میں سب سے بڑی چیز ہے۔ دوسرا یہ کہ نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے اور یقینا اللہ کا ذکر اور اس کی یاد نماز میں ہو یا اس کے بعد، فحشاء اور منکر سے روکنے میں سب سے بڑی چیز ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی یاد، اس کا دھیان اور ہر وقت اسے پیش نظر رکھنا ہی آدمی کو گناہ سے باز رکھتا ہے اور گناہ اسی وقت سر زد ہوتا ہے جب آدمی اس بات سے غافل ہوتا ہے کہ میرا مالک مجھے دیکھ رہا ہے۔ اوپر کے دونوں مطلب اس وقت ہیں جب لفظ {”ذِكْرٌ“} اپنے مفعول کی طرف مضاف مانا جائے اور ترجمہ یہ کیا جائے کہ (بندے کا) اللہ تعالیٰ کو یاد کرنا سب سے بڑی بات ہے۔ تیسرے مطلب کے مطابق لفظ {”ذِكْرٌ“} اپنے فاعل کی طرف مضاف ہے، ترجمہ یہ ہوگا کہ یقینا اللہ تعالیٰ کا (اپنے بندے کو) یاد کرنا سب سے بڑی بات ہے۔ یعنی نماز میں بندہ اپنے رب کا ذکر کرتا اور اسے یاد کرتا ہے تو یہ بڑی بات ہے، لیکن اس کے جواب میں ادھر سے اللہ تعالیٰ جو بندے کا ذکر کرتا اور اسے یاد کرتا ہے یہ سب سے بڑی بات ہے۔ یہ تفسیر امام طبری نے معتبر سند کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ عنھما سے نقل فرمائی ہے۔ اس تفسیر میں اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرف اشارہ ہے: «{ فَاذْكُرُوْنِيْۤ اَذْكُرْكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِيْ وَ لَا تَكْفُرُوْنِ }» [ البقرۃ: ۱۵۲ ] ”سو تم مجھے یاد کرو، میں تمھیں یاد کروں گا اور میرا شکر کرو اور میری نا شکری مت کرو۔“ ➑ بعض مفسرین نے نماز کے برائی اور بے حیائی سے روکنے کا مطلب یہ بیان فرمایا ہے کہ جتنی دیر آدمی نماز میں رہے گا کم از کم اتنی دیر تو بے حیائی اور برائی سے باز رہے گا۔ شاہ عبد القادر لکھتے ہیں: ”جتنی دیر نماز میں لگے اتنا تو ہر گناہ سے بچے، امید ہے آگے بھی بچتا رہے اور اللہ کی یاد کو اس سے زیادہ اثر ہے، یعنی گناہ سے بچے اور اعلیٰ درجوں پر چڑھے۔“ (موضح) بعض لوگوں نے اس تفسیر پر اعتراض کیا ہے کہ نماز کے علاوہ بھی کئی کام ہیں جن میں مصروف رہنے تک آدمی گناہ سے بچا رہتا ہے، مگر یہ اعتراض بے سود ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ صرف نماز ہی بے حیائی سے روکتی ہے۔ ➒ { وَ اللّٰهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُوْنَ:} یعنی نیک یا بد جو بھی عمل تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے اور تمھیں اس کی جزا یا سزا دے گا۔ اس میں بشارت بھی ہے اور نذارت بھی۔ یہ الفاظ اس بات کی دلیل ہیں کہ آیت کے شروع میں {” اُتْلُ مَاۤ اُوْحِيَ اِلَيْكَ مِنَ الْكِتٰبِ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ “} کے مخاطب اگرچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، مگر مراد آپ کے ساتھ پوری امت بھی ہے، اسی لیے آیت کے آخر میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔
وَ لَا تُجَادِلُوۡۤا اَہۡلَ الۡکِتٰبِ اِلَّا بِالَّتِیۡ ہِیَ اَحۡسَنُ ٭ۖ اِلَّا الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡہُمۡ وَ قُوۡلُوۡۤا اٰمَنَّا بِالَّذِیۡۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡنَا وَ اُنۡزِلَ اِلَیۡکُمۡ وَ اِلٰـہُنَا وَ اِلٰـہُکُمۡ وَاحِدٌ وَّ نَحۡنُ لَہٗ مُسۡلِمُوۡنَ ﴿۴۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور اہل کتاب سے بحث نہ کرو مگر عمدہ طریقہ سے، سوائے اُن لوگوں کے جو اُن میں سے ظالم ہوں، اور اُن سے کہو کہ "ہم ایمان لائے ہیں اُس چیز پر بھی جو ہماری طرف بھیجی گئی ہے اور اُس چیز پر بھی جو تمہاری طرف بھیجی گئی تھی، ہمارا خدا اور تمہارا خدا ایک ہی ہے اور ہم اُسی کے مُسلم (فرماں بردار) ہیں"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اہل کتاب کے ساتھ بحﺚ ومباحثہ نہ کرو مگر اس طریقہ پر جو عمده ہو مگر ان کے ساتھ جو ان میں ﻇالم ہیں اور صاف اعلان کر دو کہ ہمارا تو اس کتاب پر بھی ایمان ہے اور جو ہم پر اتاری گئی ہے اور اس پر بھی جو تم پر اتاری گئی، ہمارا تمہارا معبود ایک ہی ہے۔ ہم سب اسی کے حکم برادر ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور اے مسلمانو! کتابیوں سے نہ جھگڑو مگر بہتر طریقہ پر مگر وہ جنہوں نے ان میں سے ظلم کیا اور کہو ہم ایمان لائے اس پر جو ہماری طرف اترا اور جو تمہاری طرف اترا اور ہمارا تمہارا ایک معبود ہے اور ہم اس کے حضور گردن رکھتے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور (اے مسلمانو!) تم اہلِ کتاب سے بحث و مباحثہ نہ کرو مگر بہترین انداز سے سوائے ان کے جو ان میں سے ظالم ہیں اور (ان سے) کہو کہ ہم تو اس (کتاب) پر بھی ایمان لائے ہیں جو ہماری طرف نازل کی گئی ہے اور اس (کتاب پر بھی) جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے اور ہمارا اور تمہارا الٰہ (اللہ) ایک ہے اور ہم سب اسی کے فرمانبردار ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور اہل کتاب سے جھگڑا نہ کرو مگر اس طریقے سے جو سب سے اچھا ہو، مگر وہ لوگ جنھوں نے ان میں سے ظلم کیا اور کہو ہم ایمان لائے اس پر جو ہماری طرف نازل کیا گیا اور تمھاری طرف نازل کیا گیا اور ہمارا معبود اور تمھارا معبود ایک ہے اور ہم اسی کے فرماں بردار ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
غیر مسلموں کو دلائل سے قائل کرو ٭٭

قتادۃ رحمہ اللہ وغیرہ تو فرماتے ہیں کہ یہ آیت تو جہاد کے حکم کے ساتھ منسوخ ہے اب تو یہی ہے کہ یا تو اسلام قبول کرو یا جزیہ ادا کرو یا لڑائی لڑیں۔ لیکن اور بزرگ مفسرین کا قول ہے کہ یہ حکم باقی ہے جو یہودی یا نصرانی دینی امور کو سجھنا چاہے اور اسے مہذب طریقے پر سلجھے ہوئے پیرائے سے سمجھا دینا چاہیئے۔ کیا عجیب ہے کہ وہ راہ راست اختیار کرے۔ جیسے اور آیت میں عام حکم موجود ہے آیت «ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَ‌بِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ» ۱؎ [16-النحل:125] ‏‏‏‏ ’ اپنے رب کی راہ کی دعوت حکمت اور بہترین نصیحت کے ساتھ لوگوں کو دو۔ ‘ موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کو جب فرعون کے طرف بھیجا جاتا ہے تو فرمان ہوتا ہے کہ آیت «فَقُولَا لَهُ قَوْلًا لَّيِّنًا لَّعَلَّهُ يَتَذَكَّرُ‌ أَوْ يَخْشَىٰ» ۱؎ [20-طه:44] ‏‏‏‏ یعنی ’ اس سے نرمی سے گفتگو کرنا، کیا عجب کہ وہ نصیحت قبول کر لے اور اس کا دل پگھل جائے ‘۔ یہی قول امام ابن جریر رحمہ اللہ کا پسندیدہ ہے۔ اور ابن زید رضی اللہ عنہما سے یہی مروی ہے۔ ہاں ان میں سے جو ظلم پر اڑ جائیں اور ضد اور تعصب برتیں حق کو قبول کرنے سے انکار کر دیں پھر مناظرے مباحثے بےسود ہیں پھر تو جدال وقتال کا حکم ہے۔ جیسے جناب باری عز اِسمہُ کا ارشاد ہے آیت «لَقَدْ أَرْ‌سَلْنَا رُ‌سُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَأَنزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَابَ وَالْمِيزَانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ وَأَنزَلْنَا الْحَدِيدَ فِيهِ بَأْسٌ شَدِيدٌ» ۱؎ [57-الحديد:25] ‏‏‏‏ ’ ہم نے رسولوں کو واضح دلیلوں کے ساتھ بھیجا اور ان کے ہمراہ کتاب ومیزان نازل فرمائی تاکہ لوگوں میں عدل و انصاف کا قیام ہو سکے۔ اور ہم نے لوہا بھی نازل فرمایا جس میں سخت لڑائی ہے ‘۔

پس اللہ کا حکم یہ ہے کہ بھلائی سے اور نرمی سے جو نہ مانے اس پر پھر سختی کی جائے۔ جو لڑے اسی سے لڑاجائے ہاں یہ اور بات ہے کہ ماتحتی میں رہ کر جزیہ ادا کرے۔ پھر فرماتا ہے جس کے کھرے کھوٹے ہونے کا تمہیں یقینی علم نہ ہو تو اس کی تکذیب کی طرف قدم نہ بڑھاؤ اور نہ بے تأمل تصدیق کر دیا کرو ممکن ہے کسی امر حق کو تم جھٹلادو اور ممکن ہے کسی باطل کی تم تصدیق کر بیٹھو۔ پس شرط یہ ہے کہ تصدیق کرو یعنی کہہ دو کہ ہمارا اللہ کی ہر بات پر ایمان ہے اگر تمہاری پیش کردہ چیز اللہ کی نازل کردہ ہے تو ہم اسے تسلیم کرتے ہیں اور اگر تم نے تبدیل وتحریف کر دی ہے تو ہم اسے نہیں مانتے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ { اہل کتاب توراۃ کو عبرانی زبان میں پڑھتے اور ہمارے سامنے عربی میں اس کا ترجمہ کرتے اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”نہ تم انہیں سچا کہو نہ جھوٹا بلکہ تم آیت «وَقُولُوا آمَنَّا بِالَّذِي أُنزِلَ إِلَيْنَا وَأُنزِلَ إِلَيْكُمْ وَإِلَٰهُنَا وَإِلَٰهُكُمْ وَاحِدٌ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ» سے آخر آیت تک پڑھ دیا کرو }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4485] ‏‏‏‏

مسند احمد میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک یہودی آیا اور کہنے لگا کیا یہ جنازے بولتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: اللہ ہی کو علم ہے۔ اس نے کہا میں جانتا ہوں یہ یقیناً بولتے ہیں اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اہل کتاب جب تم سے کوئی بات بیان کریں تو تم نہ ان کی تصدیق کرو نہ تکذیب بلکہ کہہ دو ہمارا اللہ پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان ہے۔ یہ اس لیے کہ کہیں ایسا نہ ہو تم کسی جھوٹ کو سچا کہہ دو یا کسی سچ کو جھوٹ بتا دو۔ } ۱؎ [مسند احمد:136/4:حسن] ‏‏‏‏ یہاں یہ بھی خیال رہے کہ ان اہل کتاب کی اکثروبیشتر باتیں تو غلط اور جھوٹ ہی ہوتی ہیں عموماً بہتان و افتراء ہوتا ہے۔ ان میں تحریف و تبدل، تغیر وتاویل رواج پا چکی ہے۔ اور صداقت ایسی رہ گئی ہے کہ گویا کچھ بھی نہیں۔ پھر ایک بات اور بھی ہے کہ بالفرض سچ بھی ہو تو ہمیں کیا فائدہ؟ ہمارے پاس تو اللہ کی تازہ اور کامل کتاب موجود ہے۔ چنانچہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اہل کتاب سے تم کچھ بھی نہ پوچھو۔ وہ خود جبکہ گمراہ ہیں تو تمہاری تصحیح کیا کریں گے؟ ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ ان کی کسی سچ بات کو تم جھوٹا کہہ دو۔ یا ان کی کسی جھوٹی بات کو تم سچ کہہ دو۔ یاد رکھو ہر اہل کتاب کے دل میں اپنے دین کا ایک تعصب ہے۔ جیسے مال کی خواہش ہے۔ (‏‏‏‏ابن جریر)

صحیح بخاری شریف میں ہے { عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں کہ تم اہل کتاب سے سوالات کیوں کرتے ہو؟ تم پر تو اللہ کی طرف سے ابھی ابھی کتاب نازل ہوئی ہے جو بالکل خالص ہے جس میں باطل نہ ملا نہ مل جل سکے۔ تم سے تو خود اللہ تعالیٰ نے فرما دیا ہے کہ اہل کتاب نے اللہ کے دین کو بدل ڈالا۔ اللہ کی کتاب میں تغیر کر دیا اور اپنے ہاتھوں سے لکھی ہوئی کتابوں کو اللہ کی کتاب کہنے لگے اور دنیوی نفع حاصل کرنے لگے۔ کیوں بھلا تمہارے پاس جو علم اللہ ہے کیا وہ تمہیں کافی نہیں؟ کہ تم ان سے دریافت کرو۔ دیکھو تو کس قدر ستم ہے کہ ان میں سے تو ایک بھی تم سے کبھی کچھ نہ پوچھے اور تم ان سے دریافت کرتے پھرو؟ } ۱؎ [صحیح بخاری:4363] ‏‏‏‏ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ { ایک مرتبہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے مدینہ میں قریش کی ایک جماعت کے سامنے فرمایا کہ دیکھو ان تمام اہل کتاب میں اور ان کی باتیں بیان کرنے والوں میں سب سے اچھے کعب بن احبار رضی اللہ عنہا ہے لیکن باوجود اس کے بھی ان کی باتوں میں بھی ہم کبھی کھبی جھوٹ پاتے ہیں۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:7361] ‏‏‏‏ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ عمداً جھوٹ بولتے ہیں بلکہ جن کتابوں پر انہیں اعتماد ہے وہ خود گیلی سوکھی سب جمع کر لیتے ہیں ان میں خود سچ جھوت صحیح غلط بھرا پڑا ہے۔ ان میں مضبوط ذی علم حافظوں کی جماعت تھی ہی نہیں۔ یہ تو اسی امت مرحومہ پر اللہ کا فضل ہے کہ اس میں بہترین دل ودماغ والے اور اعلیٰ فہم وذکا والے اور عمدہ حفظ و اتقان والے لوگ اللہ نے پیدا کر دیئے ہیں لیکن پھر بھی آپ دیکھئیے کہ کس قدر موضوعات کا ذخیرہ جمع ہو گیا ہے؟ اور کس طرح لوگوں نے باتیں گھڑ لی ہیں۔ محدثین نے اس باطل کو حق سے بالکل جدا کر دیا۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔
46-1اس لئے کہ وہ اہل علم و فہم ہیں، بات کو سمجھنے کی صلاحیت و استعداد رکھتے ہیں۔ بنابریں ان سے بحث و گفتگو میں تلخی اور تندی مناسب نہیں۔ 46-2یعنی جو بحث و مجادلہ میں افراط سے کام لیں تو تمہیں بھی سخت لب و لہجہ اختیار کرنے کی اجازت ہے۔ بعض نے پہلے گروہ سے مراد وہ اہل کتاب لیے ہیں جو مسلمان ہوگئے تھے اور دوسرے گروہ سے وہ اشخاص جو مسلمان نہیں ہوئے بلکہ یہودیت و نصرانیت پر قائم رہے اور بعض نے ظلموا منھم کا مصداق ان اہل کتاب کو لیا ہے جو مسلمانوں کے خلاف جارحانہ عزائم رکھتے تھے اور جدال قتال کے بھی مرتکب ہوتے تھے ان سے تم بھی قتال کرو تاآنکہ مسلمان ہوجائیں یا جزیہ دیں۔ 46-3تورات و انجیل پر۔ یعنی یہ بھی اللہ کی طرف سے نازل کردہ ہیں اور یہ شریعت اسلامیہ کے قیام اور بعثت محمدیہ تک شریعت الٰہی ہیں۔
(آیت 46) ➊ { وَ لَا تُجَادِلُوْۤا اَهْلَ الْكِتٰبِ …:} یعنی مشرکوں کا دین جڑ سے غلط ہے اور کتاب والوں کا دین اصل میں سچ تھا تو ان سے ان کی طرح نہ جھگڑو کہ جڑ سے ان کی بات کاٹو، بلکہ نرمی سے واجبی بات سمجھاؤ، مگر ان میں جو (صریح) بے انصافی پر (اتر) آئے اس کی سزا وہی ہے(یعنی اس کے ساتھ اس کے جرم کے مطابق سلوک کرو)۔ (موضح) ➋ کتاب اللہ کی تلاوت کے حکم کے بعد فرمایا کہ اہل کتاب میں سے جو اسے سن کر سمجھنے کے لیے بحث کرے اس کے ساتھ ایسے طریقے ہی سے بحث کرو جو بہتر سے بہتر ہوسکتا ہے۔ کیا عجب ہے کہ وہ راہِ راست اختیار کرے۔ دوسری آیت میں یہ حکم عام ہے اور دعوتِ دین میں ہر ایک کے ساتھ یہی طریقہ اختیار کرنے کا حکم ہے، فرمایا: «{ اُدْعُ اِلٰى سَبِيْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَ جَادِلْهُمْ بِالَّتِيْ هِيَ اَحْسَنُ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِيْلِهٖ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِيْنَ }» [ النحل: ۱۲۵ ] ”اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلا اور ان سے اس طریقے کے ساتھ بحث کر جو سب سے اچھا ہے۔ بے شک تیرا رب ہی زیادہ جاننے والا ہے جو اس کے راستے سے گمراہ ہوا اور وہی ہدایت پانے والوں کو زیادہ جاننے والا ہے۔“ اور فرمایا: «{ وَ لَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَ لَا السَّيِّئَةُ اِدْفَعْ بِالَّتِيْ هِيَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِيْ بَيْنَكَ وَ بَيْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِيٌّ حَمِيْمٌ }» [ حٰمٓ السجدۃ: ۳۴ ] ” اور نہ نیکی برابر ہوتی ہے اور نہ برائی۔ (برائی کو) اس (طریقے) کے ساتھ ہٹا جو سب سے اچھا ہے، تو اچانک وہ شخص کہ تیرے درمیان اور اس کے درمیان دشمنی ہے، ایسا ہوگا جیسے وہ دلی دوست ہے۔“ اور جیسا کہ موسیٰ و ہارون علیھما السلام کو فرعون کی طرف بھیجتے ہوئے حکم دیا: «{ فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّيِّنًا لَّعَلَّهٗ يَتَذَكَّرُ اَوْ يَخْشٰى }» [ طٰہٰ: ۴۴ ] ”پس اس سے بات کرو، نرم بات، اس امید پر کہ وہ نصیحت حاصل کرلے، یا ڈر جائے۔“ ➌ { اِلَّا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ:} یعنی ان میں سے جو ظلم پر اڑ جائیں، ضد اور تعصب برتیں اور حق کو قبول کرنے سے انکار کر دیں، پھر مناظرے و مباحثے بے سود ہیں، ایسے لوگوں کے ساتھ بات میں سختی جائز ہے اور آگے چل کر ان کے ساتھ جدال کے بجائے قتال ہو گا، اس وقت تک کہ ایمان لے آئیں یا جزیہ دینے پر آمادہ ہو جائیں، جیسا کہ فرمایا: «{ قَاتِلُوا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ لَا بِالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَ لَا يُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ لَا يَدِيْنُوْنَ دِيْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حَتّٰى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَّدٍ وَّ هُمْ صٰغِرُوْنَ }» [ التوبۃ: ۲۹ ] ”لڑو ان لوگوں سے جو نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور نہ یوم آخر پر اور نہ ان چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول نے حرام کی ہیں اور نہ دین حق کو اختیار کرتے ہیں، ان لوگوں میں سے جنھیں کتاب دی گئی ہے، یہاں تک کہ وہ ہاتھ سے جزیہ دیں اور وہ حقیر ہوں۔“ مکی سورتوں میں آنے والے وقت میں کفار کے ساتھ قتال کے اشارے کئی جگہ موجود ہیں۔ ➍ { وَ قُوْلُوْۤا اٰمَنَّا بِالَّذِيْۤ اُنْزِلَ اِلَيْنَا:} اس میں ہمیں حکم ہے کہ بحث مباحثہ میں اہل کتاب جب کوئی ایسی بات بیان کریں جس کے متعلق معلوم نہ ہو کہ صحیح ہے یا غلط، سچ ہے یا جھوٹ، تو ہم نہ اسے جھوٹا کہیں، کیوں کہ ہوسکتا ہے وہ سچ ہو اور نہ سچا کہیں، کیوں کہ ہو سکتا ہے کہ وہ جھوٹ ہو، بلکہ اس پر مجمل ایمان رکھیں، اس شرط کے ساتھ کہ وہ اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہو، نہ اس میں کوئی تبدیلی ہوئی ہو اور نہ کوئی تاویل اور یہ کہیں ”ہم ایمان لائے اس پر جو ہماری طرف نازل کیا گیا اور جو تمھاری طرف نازل کیاگیا۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: [ كَانَ أَهْلُ الْكِتَابِ يَقْرَءُوْنَ التَّوْرَاةَ بِالْعِبْرَانِيَّةِ، وَ يُفَسِّرُوْنَهَا بِالْعَرَبِيَّةِ لِأَهْلِ الْإِسْلاَمِ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُصَدِّقُوْا أَهْلَ الْكِتَابِ، وَلاَ تُكَذِّبُوْهُمْ وَ «{قُوْلُوْا آمَنَّا بِاللہِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا }» ] [ بخاري، التفسیر، باب: «قولوا آمنا باللہ …» : ۴۴۸۵ ] ”اہلِ کتاب تورات کو عبرانی زبان میں پڑھتے اور اہلِ اسلام کے لیے اس کی تفسیر عربی زبان میں کرتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اہل کتاب کو نہ سچا کہو اور نہ انھیں جھوٹا کہو اور یہ کہو کہ ہم اللہ پر ایمان لائے اور اس پر جو ہماری طرف اتارا گیا۔“ واضح رہے کہ پہلی کتابوں کے متعلق اجمالی طور پر یہ تسلیم کرنا تو ضروری ہے کہ وہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اتاری گئی ہیں، مگر عمل صرف قرآن و حدیث پر کیا جائے گا۔ اس مضمون کی مزید تفصیل کے لیے اس تفسیر کے مقدمہ میں اسرائیلیات کا عنوان ملاحظہ فرمائیں۔ ➎ { وَ اِلٰهُنَا وَ اِلٰهُكُمْ وَاحِدٌ …:} یعنی اہلِ کتاب کو اپنے اور ان کے درمیان مشترک مسائل پیش کرکے قائل کرنے کی کوشش کرو، جن میں سب سے اہم چیز اللہ تعالیٰ کی توحید ہے، جو اب بھی تحریف کے باوجود تورات اور انجیل میں جابجا موجود ہے۔ دیکھیے سورۂ آل عمران کی آیت (۶۴) کی تفسیر۔
وَ کَذٰلِکَ اَنۡزَلۡنَاۤ اِلَیۡکَ الۡکِتٰبَ ؕ فَالَّذِیۡنَ اٰتَیۡنٰہُمُ الۡکِتٰبَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِہٖ ۚ وَ مِنۡ ہٰۤؤُلَآءِ مَنۡ یُّؤۡمِنُ بِہٖ ؕ وَ مَا یَجۡحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا الۡکٰفِرُوۡنَ ﴿۴۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
(اے نبیؐ) ہم نے اِسی طرح تمہاری طرف کتاب نازل کی ہے، اس لیے وہ لوگ جن کو ہم نے پہلے کتاب دی تھی وہ اس پر ایمان لاتے ہیں، اور اِن لوگوں میں سے بھی بہت سے اس پر ایمان لا رہے ہیں، اور ہماری آیات کا انکار صرف کافر ہی کرتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہم نے اسی طرح آپ کی طرف اپنی کتاب نازل فرمائی ہے، پس جنہیں ہم نے کتاب دی ہے وه اس پر ایمان ﻻتے ہیں اور ان (مشرکین) میں سے بعض اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ہماری آیتوں کا انکار صرف کافر ہی کرتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور اے محبوب! یونہی تمہاری طرف کتاب اتاری تو وہ جنہیں ہم نے کتا ب عطا فرمائی اس پر ایمان لاتے ہیں، اور کچھ ان میں سے ہیں جو اس پر ایمان لاتے ہیں، اور ہماری آیتوں سے منکر نہیں ہوتے مگر
علامہ محمد حسین نجفی
اور (اے رسول(ص)) ہم نے اسی طرح آپ پر کتاب نازل کی ہے (جس طرح پہلے رسولوں پر کتابیں نازل کی تھیں) تو جن کو ہم نے (پہلے) کتاب دی تھی وہ اس (قرآن) پر ایمان لاتے ہیں اور ان (اہلِ مکہ و عرب) میں سے بھی بعض اس پر ایمان لا رہے ہیں اور ہماری آیتوں کا کافروں کے سوا اور کوئی انکار نہیں کرتا۔
عبدالسلام بن محمد
اور اسی طرح ہم نے تیری طرف یہ کتاب نازل کی، پھروہ لوگ جنھیں ہم نے کتاب دی، اس پر ایمان لاتے ہیں اور ان (مشرکین) میں سے بھی کچھ وہ ہیں جو اس پر ایمان لاتے ہیں اور ہماری آیات کا انکار نہیں کرتے مگر جو کافر ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
حق تلاوت ٭٭

فرمان ہے کہ جیسے ہم نے اگلے انبیاء پر اپنی کتابیں نازل فرمائی تھیں اسی طرح یہ کتاب یعنی قرآن شریف ہم نے اے ہمارے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم تم پر نازل فرمایا ہے۔ پس اہل کتاب میں سے جن لوگوں نے ہماری کتاب کی قدر کی اور اس کی تلاوت کا حق ادا کیا وہ جہاں اپنی کتابوں پر ایمان لائے اس پاک کتاب کو بھی مانتے ہیں جیسے عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ اور جیسے سلمان فارسی رضی اللہ عنہ وغیرہ۔ اور ان لوگوں یعنی قریش وغیرہ میں سے بھی بعض لوگ اس پر ایمان لاتے ہیں۔ ہاں جو لوگ باطل سے حق کو چھپانے والے اور سورج کی روشنی سے آنکھیں بند کرنے والے ہیں وہ تو اس کے بھی منکر ہیں۔
47-1اس سے مراد عبد اللہ بن سلام وغیرہ ہیں۔ ایتائے کتاب سے مراد اس پر عمل ہے، گویا اس پر جو عمل نہیں کرتے، انھیں یہ کتاب دی ہی نہیں گئی۔ 47-2ان سے مراد اہل مکہ ہیں۔ جن میں سے کچھ لوگ ایمان لے آئے تھے۔
(آیت 47) ➊ { وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَيْكَ الْكِتٰبَ:} یعنی جس طرح ہم نے آپ سے پہلے موسیٰ علیہ السلام اور دوسرے پیغمبروں پر کتاب نازل کی ایسے ہی آپ پر یہ کتاب نازل فرمائی۔ ➋ { فَالَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ يُؤْمِنُوْنَ بِهٖ:} ”جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی “ سے مراد تمام اہل کتاب نہیں، کیونکہ جس نے کتاب پڑھی ہی نہیں یا اسے سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی یا اسے اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی اور اس میں تحریف و تبدل سے کام لیا تو وہ درحقیقت ان لوگوں میں شامل ہی نہیں جنھیں کتاب دی گئی، کیونکہ انھوں نے اسے اس طرح لیا ہی نہیں جیسے لینا چاہیے تھا۔ یعنی وہ لوگ جنھیں ہم نے اس سے پہلے کتاب دی اور وہ فی الواقع اس کا اتباع کرتے ہیں وہ اس کتاب (قرآن) پر ایمان لاتے ہیں، کیونکہ دونوں کا مضمون اصولی طور پر ایک ہے اور پہلی کتابوں کی کوئی خوبی ایسی نہیں جو اس میں موجود نہ ہو، بلکہ یہ کتاب تو پہلی کتابوں پر مہیمن (نگران) ہے اور یہ زندۂ جاوید معجزہ ہے، تو حقیقی اہلِ کتاب اس پر کیوں ایمان نہیں لائیں گے۔ ➌ { وَ مِنْ هٰۤؤُلَآءِ مَنْ يُّؤْمِنُ بِهٖ:} یعنی ان اہلِ عرب مشرکین میں سے بھی کئی لوگ اس پر ایمان لا رہے ہیں اور لائیں گے، جو حق واضح ہونے کے بعد اسے قبول کرنے والے ہیں۔ ➍ { وَ مَا يَجْحَدُ بِاٰيٰتِنَاۤ اِلَّا الْكٰفِرُوْنَ:جُحُوْدٌ “} کا معنی کسی بات کا علم ہونے کے باوجود اس کا انکار کر دینا ہے۔ (دیکھیے نمل: ۱۴) جبکہ {”كُفْرٌ“} کا لفظ ایمان کے مقابلے میں آتا ہے، اس کا معنی ناشکری بھی ہے، انکار بھی اور چھپانا بھی۔ (قاموس) {”آيَاتِنَا “} کا لفظی معنی نشانیاں ہیں، مراد قرآن مجید ہے، کیونکہ اس کی تمام آیات اللہ تعالیٰ کی طرف سے نشانیاں اور معجزہ ہیں، جن کے مقابلے کی آیات پوری کائنات پیش نہیں کر سکتی اور اس قدر واضح اور روشن ہیں کہ ان کا انکار ان لوگوں کے سوا کوئی نہیں کرے گا جو حق کا علم رکھتے ہوئے اسے چھپاتے اور اس کا انکار کرتے ہیں۔
وَ مَا کُنۡتَ تَتۡلُوۡا مِنۡ قَبۡلِہٖ مِنۡ کِتٰبٍ وَّ لَا تَخُطُّہٗ بِیَمِیۡنِکَ اِذًا لَّارۡتَابَ الۡمُبۡطِلُوۡنَ ﴿۴۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
(اے نبیؐ) تم اس سے پہلے کوئی کتاب نہیں پڑھتے تھے اور نہ اپنے ہاتھ سے لکھتے تھے، اگر ایسا ہوتا تو باطل پرست لوگ شک میں پڑ سکتے تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
اس سے پہلے تو آپ کوئی کتاب پڑھتے نہ تھے اور نہ کسی کتاب کو اپنے ہاتھ سے لکھتے تھے کہ یہ باطل پرست لوگ شک وشبہ میں پڑتے
احمد رضا خان بریلوی
اور اس سے پہلے تم کوئی کتاب نہ پڑھتے تھے اور نہ اپنے ہاتھ سے کچھ لکھتے تھے یوں ہوتا تو باطل ضرور شک لاتے
علامہ محمد حسین نجفی
اور (اے رسول(ص)) آپ اس (نزولِ قرآن) سے پہلے نہ کوئی کتاب پڑھتے تھے اور نہ ہی اپنے دائیں ہاتھ سے کچھ لکھتے تھے اگر ایسا ہوتا تو یہ اہلِ باطل ضرور (آپ کی نبوت میں) شک کرتے۔
عبدالسلام بن محمد
اور تو اس سے پہلے نہ کوئی کتاب پڑھتا تھا اور نہ اسے اپنے دائیں ہاتھ سے لکھتا تھا، اس وقت باطل والے لوگ ضرور شک کرتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرماتا ہے: اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! تم ان میں مدت العمر تک رہ چکے ہو اس قرآن کے نازل ہونے سے پہلے اپنی عمر کا ایک بڑا حصہ ان میں گزار چکے ہو انہیں خوب معلوم ہے کہ آپ پڑھے لکھے نہیں، ساری قوم اور سارا ملک بخوبی علم رکھتا ہے کہ آپ محض امی ہیں نہ لکھنا جانتے ہیں نہ پڑھنا۔ پھر آج جو آپ کو انوکھی فصیح وبلیغ اور پر از حکمت کتاب پڑھتے ہیں ظاہر ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے ہے۔ آپ اس حالت میں ایک حرف پڑھے ہوئے نہیں خود تصنیف وتالیف کر نہیں سکتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی صفت اگلی کتابوں میں تھی جیسے قرأت ناقل ہے «الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّ‌سُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِندَهُمْ فِي التَّوْرَ‌اةِ وَالْإِنجِيلِ يَأْمُرُ‌هُم بِالْمَعْرُ‌وفِ وَيَنْهَاهُمْ عَنِ الْمُنكَرِ‌» ۱؎ [7-الأعراف:157] ‏‏‏‏ یعنی ’ جو لوگ پیروی کرتے ہیں اس رسول و نبی امی کی جس کی صفات وہ اپنی کتاب توراۃ اور انجیل میں لکھی ہوئی پاتے ہیں جو انہیں نیکیوں کا حکم کرتا ہے اور برائیوں سے روکتا ہے۔ ‘ لطف یہ ہے کہ اللہ کے معصوم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ لکھنے سے دور ہی رکھے گئے۔ ایک سطر کیا معنی، ایک حرف بھی لکھنا آپ کو نہ آتا تھا۔ آپ نے کاتب مقرر کر لئے تھے جو وحی اللہ کو لکھ لیتے تھے اور ضرورت کے وقت شاہان دنیا سے خط وکتابت بھی وہی کرتے تھے پچھلے فقہاء میں قاضی ابوالولید باجی وغیرہ نے کہا کہ حدیبیہ والے دن خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے یہ جملہ صلح نامے میں لکھا تھا کہ «ھٰذَا مَا قَاضٰی عَلَیْہِ مُحَمَّدُ ابْنُ عَبْدُاللہَ» یعنی یہ وہ شرائط ہیں جن پر محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا۔ لیکن یہ قول درست نہیں یہ وہم قاضی صاحب کو بخاری شریف کی اس روایت سے ہوا ہے جس میں یہ الفاظ ہیں کہ { «ثُمَّ اَخَذَ فَکَتَبَ» یعنی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ لے کر لکھا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:2698-2699] ‏‏‏‏ لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے لکھنے کا حکم دیا۔ جیسے دوسری روایت میں صاف موجود ہے کہ «ثُمَّ اَمَرَ فَکُتِبَ» یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر حکم دیا اور لکھا گیا۔ مشرق و مغرب کے تمام علماء کا یہی مذہب ہے بلکہ باجی رحمہ اللہ وغیرہ پر انہوں نے اس قول کا بہت سخت رد کیا ہے اور اس سے بیزاری ظاہر کی ہے۔ اور اس قول کی تردید اپنے اشعار اور خطبوں میں بھی کی ہے۔ لیکن یہ بھی خیال رہے کہ قاضی صاحب وغیرہ کا یہ خیال ہرگز نہیں کہ آپ اچھی طرح لکھنا جانتے تھے بلکہ وہ کہتے تھے کہ آپ کا یہ جملہ صلح نامے پر لکھ لینا آپ کا ایک معجزہ تھا۔ جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہو گا } اور ایک روایت میں ہے کہ { ک ف ر لکھا ہوا ہو گا جسے ہر مومن پڑھ لے گا } ۱؎ [صحیح بخاری:7131] ‏‏‏‏ یعنی اگرچہ ان پڑھ ہو، تب بھی اسے پڑھ لے گا۔ یہ مومن کی ایک کرامت ہو گی اسی طرح یہ فقرہ لکھ لینا اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک معجزہ تھا اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ آپ لکھنا جانتے تھے۔ یا آپ نے سیکھا تھا۔ بعض لوگ ایک روایت پیش کرتے ہیں جس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال نہ ہوا جب تک کہ آپ نے لکھنا نہ سیکھ لیا۔ یہ روایت بالکل ضعیف ہے بلکہ محض بے اصل ہے۔

قرآن کریم کی اس آیت کو دیکھئے۔ کس قدر تاکید کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پڑھا ہونے کا انکار کرتی ہے اور کتنی سختی کے ساتھ پرزور الفاظ میں اس کا بھی انکار کرتی ہے کہ آپ لکھنا جانتے ہیں۔ یہ جو فرمایا کہ داہنے ہاتھ سے یہ باعتبار غالب کے کہہ دیا ہے ورنہ لکھا تو دائیں ہاتھ سے ہی جاتا ہے اسی طرح «وَلَا طَائِرٍ‌ يَطِيرُ‌ بِجَنَاحَيْهِ» ۱؎ [6-الأنعام:38] ‏‏‏‏ میں ہے کیونکہ ہر پرند اپنے پروں سے ہی اڑتا ہے۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ان پڑھ ہونا بیان فرما کر ارشاد ہوتا ہے کہ اگر آپ پڑھے لکھے ہوتے تو یہ باطل پرست آپ کی نسبت شک کرنے کی گنجائش پاتے کہ سابقہ انبیاء کی کتابوں سے پڑھ لکھ کر نقل کر لیتا ہے لیکن یہاں تو ایسا نہیں۔ تعجب ہے کہ باوجود ایسانہ ہونے کے پھر بھی یہ لوگ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ الزام لگاتے ہیں ’ اور کہتے ہیں کہ یہ گزرے ہوئے لوگوں کی کہانیاں ہیں جنہیں اس نے لکھ لیا ہے۔ وہی اس کے سامنے صبح و شام پڑھی جاتی ہیں۔ ‘ ۱؎ [25-الفرقان:5] ‏‏‏‏ باوجودیکہ خود جانتے ہیں کہ ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پڑھے لکھے نہیں۔ ان کے اس قول کے جواب میں جناب باری عز اِسمہُ نے فرمایا: ’ انہیں جواب دو کہ اسے اس اللہ نے نازل فرمایا ہے جو زمین و آسمان کی پوشیدگیوں کو جانتا ہے۔ ‘ ۱؎ [25-الفرقان:6] ‏‏‏‏ یہاں فرمایا بلکہ یہ روشن آیتیں ہیں جو اہل علم کے سینوں میں ہیں۔ خود آیات واضح صاف اور سلجھے ہوئے الفاظ میں ہیں۔ پھر علماء پر ان کا سمجھنا یاد کرنا پہنچانا سب آسان ہے جیسے فرمان ہے «وَلَقَدْ يَسَّرْ‌نَا الْقُرْ‌آنَ لِلذِّكْرِ‌ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ‌» ۱؎ [54-القمر:17] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہم نے اس قرآن کو نصیحت کے لیے بالکل آسان بنا دیا ہے پس کیا کوئی ہے جو اس سے نصیحت حاصل کرے؟ ‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: { ہر نبی کو ایسی چیز دی گئی جس کے باعث لوگ ان پر ایمان لائے مجھے ایسی چیز وحی اللہ دی گئی ہے جو اللہ نے میری طرف نازل فرمائی ہے تو مجھے ذات اللہ سے امید ہے کہ تمام نبیوں کے تابعداروں سے زیادہ میرے تابعدار ہونگے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4981] ‏‏‏‏ صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ { اے نبی! میں تمہیں آزماؤں گا اور تمہاری وجہ سے لوگوں کی بھی آزمائش کرلوں گا۔ میں تم پر ایسی کتاب نازل فرماؤنگا جسے پانی دھو نہ سکے۔ تو اسے سوتے جاگتے پڑھتا رہے گا۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2865-63] ‏‏‏‏ مطلب یہ ہے کہ اس کے حروف پانی سے دھوئے جائیں لیکن وہ ضائع ہونے سے محفوظ ہے۔ جیسے کہ حدیث میں ہے: { اگر قرآن کسی چمڑے میں ہو تو اسے آگ نہیں جلائے گی۔ } ۱؎ [مسند احمد:155/4:حسن] ‏‏‏‏ اس لیے کہ وہ سینوں میں محفوظ ہے، زبانوں پر آسان ہے اور دلوں میں موجود ہے۔ اور اپنے لفظ اور معنی کے اعتبار سے ایک جیتا جاگتا معجزہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سابقہ کتابوں میں اس امت کی ایک صفت یہ بھی مروی ہے کہ «اِنَّا جِیْلُھُمْ فِیْْ صُدُوْرِھِمْ» ان کی کتاب ان کے سینوں میں ہو گی۔

امام ابن جریر رحمہ اللہ اسے پسند فرماتے ہیں کہ معنی یہ ہیں بلکہ اس کا علم کہ تو اس کتاب سے پہلے کوئی کتاب نہیں پڑھتا تھا اور نہ اپنے ہاتھ سے کچھ لکھتا تھا یہ آیات بینات اہل کتاب کے ذی علم لوگوں کے سینوں میں موجود ہیں۔ قتادۃ اور ابن جریج رحمہ اللہ علیہم سے بھی یہی منقول ہے اور پہلا قول حسن بصری رحمہ اللہ کا ہے اور یہی بہ روایت عوفی رحمہ اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے اور یہ ضحاک رحمہ اللہ نے کہا ہے اور یہی زیادہ ظاہر ہے۔ واللہ اعلم۔ پھر فرماتا ہے کہ ہماری آیتوں کا جھٹلانا قبول نہ کرنا یہ حد سے گزرجانے والوں اور ضدی لوگوں کا ہی کام ہے جو حق ناحق کو سمجھتے ہیں اور نہ اس کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ جیسے فرمان ہے: ’ جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہو چکی ہے وہ ہرگز ایمان نہ لائیں گے اگرچہ ان کے پاس نشانیاں آ جائیں۔ یہاں تک کہ وہ المناک عذاب کا مشاہدہ کر لیں۔ ‘ ۱؎ [10-يونس:96-97] ‏‏‏‏
48-1اس لیے کہ ان پڑھ تھے 48-2اس لئے کہ لکھنے کے لئے بھی علم ضروری ہے، جو آپ نے کسی سے حاصل ہی نہیں کیا تھا۔ 48-3یعنی اگر آپ پڑھے لکھے ہوتے یا کسی استاد سے کچھ سیکھا ہوتا تو لوگ کہتے کہ یہ قرآن مجید فلاں کی مدد سے یا اس سے تعلیم حاصل کرنے کا نتیجہ ہے۔
(آیت 48) ➊ { وَ مَا كُنْتَ تَتْلُوْا مِنْ قَبْلِهٖ مِنْ كِتٰبٍ …:} یعنی اے نبی! وحی کے ذریعے سے آنے والی جس کتاب کی تلاوت کا آپ کو حکم دیا گیا ہے اس کے نزول سے پہلے آپ اپنی قوم میں چالیس سال کا عرصہ رہے ہیں، نہ آپ کسی بھی طرح کی لکھی ہوئی کوئی چیز پڑھتے تھے نہ اسے اپنے دائیں ہاتھ سے لکھتے تھے، بلکہ محض اُمی تھے۔ وہ سب لوگ اس بات کو بخوبی جانتے ہیں جن میں آپ کی زندگی گزری، بلکہ بہت تھوڑے آدمی چھوڑ کر ان کا اپنا حال بھی یہی ہے کہ وہ اُمی ہیں، جیسا کہ فرمایا: «{ هُوَ الَّذِيْ بَعَثَ فِي الْاُمِّيّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ }» [ الجمعۃ: ۲ ] ”وہی ہے جس نے ان پڑھوں میں ایک رسول انھی میں سے بھیجا۔“ اور پہلی کتابوں میں بھی آپ کی یہی صفت مذکور ہے، فرمایا: «{ اَلَّذِيْنَ يَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِيَّ الْاُمِّيَّ الَّذِيْ يَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرٰىةِ وَ الْاِنْجِيْلِ }» [ الأعراف: ۱۵۷ ] ”وہ جو اس رسول کی پیروی کرتے ہیں، جو اُمی نبی ہے، جسے وہ اپنے پاس تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔“ اس آیت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اُمی ّ ہونے کو آپ کے دعویٔ نبوت میں سچا ہونے کی دلیل ٹھہرایا ہے۔ دیکھیے سورۂ قصص (۸۶) اور یونس(۱۶) ابن کثیر فرماتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہمیشہ (وفات تک) یہی حال رہا، آپ نہ پڑھ سکتے تھے نہ ہی ایک سطر یا ایک حرف اپنے ہاتھ سے لکھ سکتے تھے، بلکہ آپ کے کئی کاتب تھے جو وحی اور مختلف علاقوں کی طرف خطوط وغیرہ لکھتے تھے۔ بعض لوگوں نے {” مِنْ قَبْلِهٖ “} کے لفظ سے دلیل لی ہے کہ نبوت سے پہلے تو آپ فی الواقع لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے، مگر نبوت کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھنا پڑھنا سیکھ لیا تھا۔ ان حضرات نے عقیدت میں غلو کی وجہ سے یہ بات کہی ہے، یہ نہیں سوچا کہ ایک شخص ان پڑھ ہوکر سارے جہاں کا استاذ بن جائے، یہ زیادہ حیران کن بات اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کرشمہ ہے یا یہ کہ کوئی عالم فاضل اور پڑھا لکھا شخص کوئی کتاب تصنیف کر کے لے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری وقت تک اُمی ّ ہونے کی دلیل صلح حدیبیہ کے معاہدے کا واقعہ ہے، جس کا صلح نامہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے تحریر کیا تھا۔ براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: [ فَكَتَبَ هٰذَا مَا قَاضٰی عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُوْلُ اللّٰهِ فَقَالُوْا لَوْ عَلِمْنَا أَنَّكَ رَسُوْلُ اللّٰهِ لَمْ نَمْنَعْكَ وَلَبَايَعْنَاكَ، وَلٰكِنِ اكْتُبْ هٰذَا مَا قَاضٰی عَلَيْهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰهِ، فَقَالَ أَنَا وَاللّٰهِ! مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰهِ وَأَنَا وَاللّٰهِ! رَسُوْلُ اللّٰهِ قَالَ وَكَانَ لاَ يَكْتُبُ قَالَ فَقَالَ لِعَلِيٍّ امْحُ رَسُوْلَ اللّٰهِ فَقَالَ عَلِيٌّ وَاللّٰهِ! لاَ أَمْحَاهُ أَبَدًا قَالَ فَأَرِنِيْهِ قَالَ فَأَرَاهُ إِيَّاهُ، فَمَحَاهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ ] [ بخاري، الجزیۃ، باب المصالحۃ علی ثلاثۃ أیام …: ۳۱۸۴ ] ”علی رضی اللہ عنہ نے لکھا: ”یہ وہ تحریر ہے جس پر محمد رسول اللہ نے معاہدہ کیاہے۔“ انھوں نے کہا: ”اگر ہم جانتے ہوتے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو ہم آپ کو (خانہ کعبہ سے) نہ روکتے، بلکہ ہم آپ کی بیعت کر لیتے، لیکن لکھو کہ یہ وہ تحریر ہے جس پر محمد بن عبد اللہ نے معاہدہ کیا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں محمد بن عبد اللہ ہوں اور اللہ کی قسم! میں رسول اللہ ہوں۔“ براء نے فرمایا: ”اور آپ لکھتے نہیں تھے۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا: ”رسول اللہ (کا لفظ) مٹا دو۔“ علی رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اللہ کی قسم! میں اسے کبھی نہیں مٹاؤں گا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر وہ مجھے دکھاؤ۔“ انھوں نے وہ لفظ آپ کو دکھایا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے ہاتھ سے مٹا دیا۔“ یہ واقعہ ذوالقعدہ چھ ہجری کا ہے جس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چار سال اور چند ماہ زندہ رہے، اس میں صراحت ہے {”وَكَانَ لَا يَكْتُبُ“} (آپ صلی اللہ علیہ وسلم لکھتے نہیں تھے) اب وہ کون سی روایت ہے جس میں یہ ذکر ہے کہ اس واقعہ کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھنا سیکھ لیا تھا؟ حافظ ابن کثیر نے فرمایا کہ بخاری کی بعض روایات میں جو آیا ہے: [ ثُمَّ أَخَذَ فَكَتَبَ ] (پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پکڑا اور لکھا) یہ دوسری روایت پر محمول ہے جس میں ہے: [ ثُمَّ أَمَرَ فَكَتَبَ ] ” پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو انھوں نے لکھا۔“ ابن کثیر فرماتے ہیں، بعض لوگوں نے جو حدیث بیان کی ہے: [ إِنَّهُ لَمْ يَمُتْ حَتّٰی تَعَلَّمَ الْكِتَابَةَ ] ”کہ آپ فوت نہیں ہوئے حتیٰ کہ آپ نے لکھنا سیکھ لیا“ تو یہ روایت ضعیف ہے، اس کی کوئی اصل نہیں۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اُمی ّ ہونے کا اعتراف فرمایا ہے، ابن عمر رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّا أُمَّةٌ أُمِّيَّةٌ، لاَ نَكْتُبُ وَ لاَ نَحْسُبُ، الشَّهْرُ هٰكَذَا وَ هٰكَذَا يَعْنِيْ مَرَّةً تِسْعَةً وَعِشْرِيْنَ، وَمَرَّةً ثَلاَثِيْنَ ] [ بخاري، الصوم، باب قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم لا نکتب و لا نحسب: ۱۹۱۳ ] ”ہم اُمّی لوگ ہیں، لکھنا اور حساب کرنا نہیں جانتے، قمری مہینا اتنا ہوتا ہے اور اتنا بھی۔“ یعنی کبھی انتیس (۲۹) دن کا ہوتا ہے اور کبھی تیس (۳۰) دن کا۔“ ➋ یہ اللہ کی شان ہے کہ ایک طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ کتاب عطا فرمائی جس کی چھوٹی سے چھوٹی سورت کی مثل کل عالم بنانے سے عاجز ہے، تو دوسری طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ پڑھنا سکھایا نہ لکھنا۔ پھر بھی بعض لوگ کہتے ہیں کہ آپ عالم الغیب تھے اور {” مَا كَانَ وَ مَا يَكُوْنُ“} (جو ہو چکا اور جو ہو گا) سب جانتے تھے۔ اللہ تعالیٰ سمجھ عطا فرمائے۔ ➌ { اِذًا لَّارْتَابَ الْمُبْطِلُوْنَ:} یعنی اگر آپ پڑھتے ہوتے یا ہاتھ سے لکھتے ہوتے تو باطل پرستوں کے لیے شک کا کوئی موقع ہو سکتا تھا کہ آپ نے اگلی کتابیں پڑھ کر یہ باتیں لکھ لی ہیں، انھی کو آہستہ آہستہ اپنے الفاظ میں سنا رہے ہیں۔ گو اس وقت بھی یہ کہنا غلط ہوتا، کیونکہ کتنا بھی پڑھا لکھا انسان ہو بلکہ دنیا کے تمام پڑھے لکھے انسان مل کر اور کل مخلوق کو ساتھ ملاکر بھی اس بے مثال کتاب کی ایک سورت جیسی سورت پیش نہیں کر سکتے، پھر بھی اگر آپ پڑھے لکھے ہوتے تو جھوٹے لوگوں کو بات بنانے کا موقع مل سکتا تھا۔ جب آپ کا اَن پڑھ ہونا سب کے ہاں مسلّم ہے تو اس شبہ کا موقع بھی نہ رہا۔ ➍ آپ کے اُمّی ہونے کے باوجود کفار نے یہ بہتان جڑ دیا: «{ وَ قَالُوْۤا اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ اكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلٰى عَلَيْهِ بُكْرَةً وَّ اَصِيْلًا }» [ الفرقان: ۵ ] ”اور انھوں نے کہا یہ پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں جو اس نے لکھوا لی ہیں، سو وہ پہلے پہر اور پچھلے پہر اس پر پڑھی جاتی ہیں۔“ اگر آپ پڑھے لکھے ہوتے تو باطل پرستوں کے شکوک و شبہات کا اور بہتان باندھنے کا کیا حال ہوتا۔ ➎ یہاں ایک سوال ہے کہ {” وَ لَا تَخُطُّهٗ “} (اور نہ تو اسے لکھتا تھا) کے الفاظ ہی کافی تھے، پھر{” بِيَمِيْنِكَ “} (اپنے دائیں ہاتھ سے) فرمانے میں کیا حکمت ہے؟ جواب اس کا یہ ہے کہ بعض اوقات لکھوانے کو بھی لکھنا کہہ دیا جاتا ہے، مثلاً بعض اوقات خط لکھوا کر بھیجنے والا کہہ دیتا ہے، میں نے فلاں کو خط لکھا ہے۔ اس امکان کو ختم کرنے کے لیے فرمایا: «{ وَّ لَا تَخُطُّهٗ بِيَمِيْنِكَ }» ”اور نہ تو اسے اپنے دائیں ہاتھ سے لکھتا تھا۔“
بَلۡ ہُوَ اٰیٰتٌۢ بَیِّنٰتٌ فِیۡ صُدُوۡرِ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ ؕ وَ مَا یَجۡحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا الظّٰلِمُوۡنَ ﴿۴۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
دراصل یہ روشن نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے دلوں میں جنہیں عِلم بخشا گیا ہے، اور ہماری آیات کا انکار نہیں کرتے مگر وہ جو ظالم ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
بلکہ یہ (قرآن) تو روشن آیتیں ہیں جو اہل علم کے سینوں میں محفوظ ہیں، ہماری آیتوں کا منکر بجز ﻇالموں کے اور کوئی نہیں
احمد رضا خان بریلوی
بلکہ وہ روشن آیتیں ہیں ان کے سینوں میں جن کو علم دیا گیا اور ہماری آیتوں کا انکار نہیں کرتے مگر ظالم
علامہ محمد حسین نجفی
بلکہ وہ (قرآن) کھلی ہوئی آیتیں ہیں جو ان لوگوں کے سینہ میں ہیں جنہیں علم دیا گیا ہے اور ہماری آیتوں کا ظالموں کے سوا اور کوئی انکار نہیں کرتا۔
عبدالسلام بن محمد
بلکہ یہ تو واضح آیات ہیں ان لوگوں کے سینوں میں جنھیں علم دیا گیا ہے اور ہماری آیات کا انکار نہیں کرتے مگر جو ظالم ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرماتا ہے: اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! تم ان میں مدت العمر تک رہ چکے ہو اس قرآن کے نازل ہونے سے پہلے اپنی عمر کا ایک بڑا حصہ ان میں گزار چکے ہو انہیں خوب معلوم ہے کہ آپ پڑھے لکھے نہیں، ساری قوم اور سارا ملک بخوبی علم رکھتا ہے کہ آپ محض امی ہیں نہ لکھنا جانتے ہیں نہ پڑھنا۔ پھر آج جو آپ کو انوکھی فصیح وبلیغ اور پر از حکمت کتاب پڑھتے ہیں ظاہر ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے ہے۔ آپ اس حالت میں ایک حرف پڑھے ہوئے نہیں خود تصنیف وتالیف کر نہیں سکتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی صفت اگلی کتابوں میں تھی جیسے قرأت ناقل ہے «الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّ‌سُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِندَهُمْ فِي التَّوْرَ‌اةِ وَالْإِنجِيلِ يَأْمُرُ‌هُم بِالْمَعْرُ‌وفِ وَيَنْهَاهُمْ عَنِ الْمُنكَرِ‌» ۱؎ [7-الأعراف:157] ‏‏‏‏ یعنی ’ جو لوگ پیروی کرتے ہیں اس رسول و نبی امی کی جس کی صفات وہ اپنی کتاب توراۃ اور انجیل میں لکھی ہوئی پاتے ہیں جو انہیں نیکیوں کا حکم کرتا ہے اور برائیوں سے روکتا ہے۔ ‘ لطف یہ ہے کہ اللہ کے معصوم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ لکھنے سے دور ہی رکھے گئے۔ ایک سطر کیا معنی، ایک حرف بھی لکھنا آپ کو نہ آتا تھا۔ آپ نے کاتب مقرر کر لئے تھے جو وحی اللہ کو لکھ لیتے تھے اور ضرورت کے وقت شاہان دنیا سے خط وکتابت بھی وہی کرتے تھے پچھلے فقہاء میں قاضی ابوالولید باجی وغیرہ نے کہا کہ حدیبیہ والے دن خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے یہ جملہ صلح نامے میں لکھا تھا کہ «ھٰذَا مَا قَاضٰی عَلَیْہِ مُحَمَّدُ ابْنُ عَبْدُاللہَ» یعنی یہ وہ شرائط ہیں جن پر محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا۔ لیکن یہ قول درست نہیں یہ وہم قاضی صاحب کو بخاری شریف کی اس روایت سے ہوا ہے جس میں یہ الفاظ ہیں کہ { «ثُمَّ اَخَذَ فَکَتَبَ» یعنی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ لے کر لکھا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:2698-2699] ‏‏‏‏ لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے لکھنے کا حکم دیا۔ جیسے دوسری روایت میں صاف موجود ہے کہ «ثُمَّ اَمَرَ فَکُتِبَ» یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر حکم دیا اور لکھا گیا۔ مشرق و مغرب کے تمام علماء کا یہی مذہب ہے بلکہ باجی رحمہ اللہ وغیرہ پر انہوں نے اس قول کا بہت سخت رد کیا ہے اور اس سے بیزاری ظاہر کی ہے۔ اور اس قول کی تردید اپنے اشعار اور خطبوں میں بھی کی ہے۔ لیکن یہ بھی خیال رہے کہ قاضی صاحب وغیرہ کا یہ خیال ہرگز نہیں کہ آپ اچھی طرح لکھنا جانتے تھے بلکہ وہ کہتے تھے کہ آپ کا یہ جملہ صلح نامے پر لکھ لینا آپ کا ایک معجزہ تھا۔ جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہو گا } اور ایک روایت میں ہے کہ { ک ف ر لکھا ہوا ہو گا جسے ہر مومن پڑھ لے گا } ۱؎ [صحیح بخاری:7131] ‏‏‏‏ یعنی اگرچہ ان پڑھ ہو، تب بھی اسے پڑھ لے گا۔ یہ مومن کی ایک کرامت ہو گی اسی طرح یہ فقرہ لکھ لینا اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک معجزہ تھا اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ آپ لکھنا جانتے تھے۔ یا آپ نے سیکھا تھا۔ بعض لوگ ایک روایت پیش کرتے ہیں جس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال نہ ہوا جب تک کہ آپ نے لکھنا نہ سیکھ لیا۔ یہ روایت بالکل ضعیف ہے بلکہ محض بے اصل ہے۔

قرآن کریم کی اس آیت کو دیکھئے۔ کس قدر تاکید کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پڑھا ہونے کا انکار کرتی ہے اور کتنی سختی کے ساتھ پرزور الفاظ میں اس کا بھی انکار کرتی ہے کہ آپ لکھنا جانتے ہیں۔ یہ جو فرمایا کہ داہنے ہاتھ سے یہ باعتبار غالب کے کہہ دیا ہے ورنہ لکھا تو دائیں ہاتھ سے ہی جاتا ہے اسی طرح «وَلَا طَائِرٍ‌ يَطِيرُ‌ بِجَنَاحَيْهِ» ۱؎ [6-الأنعام:38] ‏‏‏‏ میں ہے کیونکہ ہر پرند اپنے پروں سے ہی اڑتا ہے۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ان پڑھ ہونا بیان فرما کر ارشاد ہوتا ہے کہ اگر آپ پڑھے لکھے ہوتے تو یہ باطل پرست آپ کی نسبت شک کرنے کی گنجائش پاتے کہ سابقہ انبیاء کی کتابوں سے پڑھ لکھ کر نقل کر لیتا ہے لیکن یہاں تو ایسا نہیں۔ تعجب ہے کہ باوجود ایسانہ ہونے کے پھر بھی یہ لوگ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ الزام لگاتے ہیں ’ اور کہتے ہیں کہ یہ گزرے ہوئے لوگوں کی کہانیاں ہیں جنہیں اس نے لکھ لیا ہے۔ وہی اس کے سامنے صبح و شام پڑھی جاتی ہیں۔ ‘ ۱؎ [25-الفرقان:5] ‏‏‏‏ باوجودیکہ خود جانتے ہیں کہ ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پڑھے لکھے نہیں۔ ان کے اس قول کے جواب میں جناب باری عز اِسمہُ نے فرمایا: ’ انہیں جواب دو کہ اسے اس اللہ نے نازل فرمایا ہے جو زمین و آسمان کی پوشیدگیوں کو جانتا ہے۔ ‘ ۱؎ [25-الفرقان:6] ‏‏‏‏ یہاں فرمایا بلکہ یہ روشن آیتیں ہیں جو اہل علم کے سینوں میں ہیں۔ خود آیات واضح صاف اور سلجھے ہوئے الفاظ میں ہیں۔ پھر علماء پر ان کا سمجھنا یاد کرنا پہنچانا سب آسان ہے جیسے فرمان ہے «وَلَقَدْ يَسَّرْ‌نَا الْقُرْ‌آنَ لِلذِّكْرِ‌ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ‌» ۱؎ [54-القمر:17] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہم نے اس قرآن کو نصیحت کے لیے بالکل آسان بنا دیا ہے پس کیا کوئی ہے جو اس سے نصیحت حاصل کرے؟ ‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: { ہر نبی کو ایسی چیز دی گئی جس کے باعث لوگ ان پر ایمان لائے مجھے ایسی چیز وحی اللہ دی گئی ہے جو اللہ نے میری طرف نازل فرمائی ہے تو مجھے ذات اللہ سے امید ہے کہ تمام نبیوں کے تابعداروں سے زیادہ میرے تابعدار ہونگے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4981] ‏‏‏‏ صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ { اے نبی! میں تمہیں آزماؤں گا اور تمہاری وجہ سے لوگوں کی بھی آزمائش کرلوں گا۔ میں تم پر ایسی کتاب نازل فرماؤنگا جسے پانی دھو نہ سکے۔ تو اسے سوتے جاگتے پڑھتا رہے گا۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2865-63] ‏‏‏‏ مطلب یہ ہے کہ اس کے حروف پانی سے دھوئے جائیں لیکن وہ ضائع ہونے سے محفوظ ہے۔ جیسے کہ حدیث میں ہے: { اگر قرآن کسی چمڑے میں ہو تو اسے آگ نہیں جلائے گی۔ } ۱؎ [مسند احمد:155/4:حسن] ‏‏‏‏ اس لیے کہ وہ سینوں میں محفوظ ہے، زبانوں پر آسان ہے اور دلوں میں موجود ہے۔ اور اپنے لفظ اور معنی کے اعتبار سے ایک جیتا جاگتا معجزہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سابقہ کتابوں میں اس امت کی ایک صفت یہ بھی مروی ہے کہ «اِنَّا جِیْلُھُمْ فِیْْ صُدُوْرِھِمْ» ان کی کتاب ان کے سینوں میں ہو گی۔

امام ابن جریر رحمہ اللہ اسے پسند فرماتے ہیں کہ معنی یہ ہیں بلکہ اس کا علم کہ تو اس کتاب سے پہلے کوئی کتاب نہیں پڑھتا تھا اور نہ اپنے ہاتھ سے کچھ لکھتا تھا یہ آیات بینات اہل کتاب کے ذی علم لوگوں کے سینوں میں موجود ہیں۔ قتادۃ اور ابن جریج رحمہ اللہ علیہم سے بھی یہی منقول ہے اور پہلا قول حسن بصری رحمہ اللہ کا ہے اور یہی بہ روایت عوفی رحمہ اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے اور یہ ضحاک رحمہ اللہ نے کہا ہے اور یہی زیادہ ظاہر ہے۔ واللہ اعلم۔ پھر فرماتا ہے کہ ہماری آیتوں کا جھٹلانا قبول نہ کرنا یہ حد سے گزرجانے والوں اور ضدی لوگوں کا ہی کام ہے جو حق ناحق کو سمجھتے ہیں اور نہ اس کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ جیسے فرمان ہے: ’ جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہو چکی ہے وہ ہرگز ایمان نہ لائیں گے اگرچہ ان کے پاس نشانیاں آ جائیں۔ یہاں تک کہ وہ المناک عذاب کا مشاہدہ کر لیں۔ ‘ ۱؎ [10-يونس:96-97] ‏‏‏‏
49-1یعنی قرآن مجید کے حافظوں کے سینوں میں ہے۔ یہ قرآن مجید کا اعجاز ہے کہ قرآن مجید لفظ بہ لفظ سینے میں محفوظ ہوجاتا ہے۔
(آیت 49) ➊ { بَلْ هُوَ اٰيٰتٌۢ بَيِّنٰتٌ فِيْ صُدُوْرِ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ:} یعنی یہ قرآن پہلی کتابوں کو پڑھ کر تصنیف کی ہوئی کتاب نہیں، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کی ہوئی کتاب ہے۔ جس میں دو نمایاں اوصاف ہیں، ایک یہ کہ یہ آیات بینات ہیں، یعنی ایسا واضح معجزہ ہیں جن کا جواب نہ کوئی لا سکا ہے نہ لا سکے گا، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ اِنْ كُنْتُمْ فِيْ رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّنْ مِّثْلِهٖ وَ ادْعُوْا شُهَدَآءَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ }» [ البقرۃ: ۲۳ ] ”اور اگر تم اس کے بارے میں کسی شک میں ہو جو ہم نے اپنے بندے پر اتارا ہے تو اس کی مثل ایک سورت لے آؤ اور اللہ کے سوا اپنے حمایتی بلا لو، اگر تم سچے ہو۔“ دوسرا وصف یہ کہ پہلی تمام کتابیں کسی نہ کسی چیز میں لکھی ہوئی تھیں اور انھیں صرف لکھ کر محفوظ کیا گیا تھا، جب کہ یہ قرآن اہل علم کے سینوں میں محفوظ ہے۔ اگرچہ اسے لکھا بھی گیا ہے مگر یہ لکھے ہوئے کا محتاج نہیں اور یہ قرآن مجید کی خصوصیت ہے کہ اسے لانے والا اُمّی ہے، جو لکھے ہوئے سے پڑھتا ہی نہیں، بلکہ یہ کتاب اس کے سینے میں ہے اور یہ ہر دور میں امت مسلمہ کے لاکھوں حفاظ کے سینوں میں محفوظ ہوتی ہے، کوئی شخص اس کے کسی لفظ یا نقطے یا زیر زبر میں تبدیلی نہیں کرسکتا۔ اگر دنیا سے اس کے تمام نسخے بھی غائب کر دیے جائیں، تو بھی اس کی حفاظت میں کوئی خلل نہیں آتا۔ جب کہ پہلی تمام کتابوں کا دارومدار لکھے ہوئے نسخوں پر تھا اور پیغمبر یا ایک آدھ شخص کے سوا ان کا کوئی حافظ ہونا ثابت نہیں۔ اس لیے ان میں کمی بیشی اور تحریف و تصحیف ممکن تھی اور واقع بھی ہوئی، جیسا کہ بائبل میں جمع شدہ نوشتے اس کی واضح دلیل ہیں: نہ ہو ممتاز کیوں اسلام دنیا بھر کے دینوں میں وہاں مذہب کتابوں میں یہاں قرآن سینوں میں ➋ {وَ مَا يَجْحَدُ بِاٰيٰتِنَاۤ اِلَّا الظّٰلِمُوْنَ:} یعنی اتنی واضح نشانیاں دیکھ کر اور ان کے حق ہونے کا علم رکھنے کے بعد ان کا انکار وہی کریں گے جو ظالم ہیں اور قرآن کو ماننے اور حق والے کو اس کا حق دینے کے لیے تیار نہیں۔
وَ قَالُوۡا لَوۡ لَاۤ اُنۡزِلَ عَلَیۡہِ اٰیٰتٌ مِّنۡ رَّبِّہٖ ؕ قُلۡ اِنَّمَا الۡاٰیٰتُ عِنۡدَ اللّٰہِ ؕ وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیۡرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۵۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ لوگ کہتے ہیں کہ "کیوں نہ اتاری گئی اس شخص پر نشانیاں اِس کے رب کی طرف سے؟" کہو، "نشانیاں تو اللہ کے پاس ہیں اور میں صرف خبردار کرنے والا ہوں کھول کھول کر"
مولانا محمد جوناگڑھی
انہوں نے کہا کہ اس پر کچھ نشانیاں (معجزات) اس کے رب کی طرف سے کیوں نہیں اتارے گئے۔ آپ کہہ دیجئے کہ نشانیاں تو سب اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں میں تو صرف کھلم کھلا آگاه کر دینے واﻻ ہوں
احمد رضا خان بریلوی
اور بولے کیوں نہ اتریں کچھ نشانیاں ان پر ان کے رب کی طرف سے تم فرماؤ نشانیاں تو اللہ ہی کے پاس ہیں اور میں تو یہی صاف ڈر سنانے والا ہوں
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ کہتے ہیں کہ اس شخص (پیغمبرِ اسلام(ص)) پر ان کے پروردگار کی طرف سے معجزات کیوں نہیں اتارے گئے؟ آپ کہہ دیجئے! کہ معجزات تو بس اللہ کے پاس ہیں میں تو صرف (عذابِ الٰہی) سے واضح طور پر ڈرانے والا ہوں۔
عبدالسلام بن محمد
اور انھوں نے کہا اس پر اس کے رب کی طرف سے کسی قسم کی نشانیاں کیوں نہیں اتاری گئیں، کہہ دے نشانیاں تو سب اللہ ہی کے پاس ہیں اورمیں تو صرف ایک کھلم کھلا ڈرانے والاہوں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
محاسن کلام کا بےمثال جمال قرآن کریم ٭٭

کافروں کی ضد، تکبر اور ہٹ دھرمی بیان ہو رہی ہے کہ انہوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی ہی نشانی طلب کی جیسی کہ صالح سے ان کی قوم نے مانگی تھی۔ پھر اپنے نبی کو حکم دیتا ہے انہیں جواب دیجئے کہ آیتیں معجزے اور نشانات دکھانا میرے بس کی بات نہیں۔ یہ اللہ کے ہاتھ ہے۔ اگر اس نے تمہاری نیک نیتیں معلوم کر لیں تو وہ معجزہ دکھائے گا اور اگر تم اپنی ضد اور انکار سے بڑھ بڑھ کر باتیں ہی بنا رہے ہو تو وہ اللہ تم سے دبا ہوا نہیں کہ اس کی چاہت تمہاری چاہت کے تابع ہو جائے تم جو مانگو وہ کر ہی دکھائے گا۔ جیسے ایک اور آیت میں ہے کہ ’ آیتیں بھیجنے سے ہمیں کوئی مانع نہیں سوائے اس کے کہ گزشتہ لوگ بھی برابر انکار ہی کرتے رہے۔ قوم ثمود کو دیکھو ہماری نشانی اونٹنی جو ان کے پاس آئی انہوں نے اس پر ظلم کیا۔ ‘ ۱؎ [17-الإسراء:59] ‏‏‏‏ کہہ دو کہ میں تو صرف ایک مبلغ ہوں، پیغمبر ہوں، قاصد ہوں، میراکام تمہارے کانوں تک آواز اللہ کو پہنچا دینا ہے میں نے تو تمہیں تمہارا برا بھلا سمجھا دیا۔ نیک بد سمجھا دیا۔ اب تم جانو تمہارا کام جانے۔ ہدایت ضلالت اللہ کی طرف سے ہے وہ اگر کسی کو گمراہ کر دے تو اس کی رہبری کوئی نہیں کر سکتا۔ چنانچہ ایک اور جگہ ہے: ’ تجھ پر ان کی ہدایت کا ذمہ نہیں یہ اللہ کا کام ہے اور اس کی چاہت پر موقوف ہے۔ ‘ ۱؎ [2-البقرة:277] ‏‏‏‏ بھلا اس فضول گوئی کو تو دیکھو کہ کتاب عزیز ان کے پاس آ چکی جس کے پاس کسی طرف سے باطل پھٹک نہیں سکتا اور انہیں اب تک نشانی کی طلب ہے۔ حالانکہ یہ تو تمام معجزات سے بڑھ کرمعجزہ ہے۔ تمام دنیا کے فصیح وبلیغ اس کے معارضہ سے اور اس جیسا کلام پیش کرنے سے عاجز آ گئے۔ پورے قرآن کا تو معارضہ کیا کرتے؟ دس سورتوں کا بلکہ ایک سورت کامعارضہ بھی چیلنج کے باوجود نہ کر سکے۔

تو کیا اتنا بڑا اور اتنا بھاری معجزہ انہیں کافی نہیں؟ جو اور معجزے طلب کرنے بیٹھے ہیں۔ یہ تو وہ پاک کتاب ہے جس میں گزشتہ باتوں کی خبر ہے اور ہونے والی باتوں کی پیش گوئی ہے اور جھگڑوں کا فیصلہ ہے اور یہ اس کی زبان سے پڑھی جاتی ہے جو محض امی ہے۔ جس نے کسی سے الف با بھی نہیں پڑھا جو ایک حرف لکھنا نہیں جانتا بلکہ اہل علم کی صحبت میں بھی کبھی نہیں بیٹھا۔ اور وہ کتاب پڑھتا ہے جس سے گزشتہ کتابوں کی بھی صحت وعدم صحت معلوم ہوتی ہے جس کے الفاظ میں حلاوت جس کی نظم میں حلاوت، جس کے انداز میں فصاحت، جس کے بیان میں بلاغت جس کا طرز دلربا، جس کا سیاق دلچسپ جس میں دنیا بھر کی خوبیاں موجود ہیں۔ خود بنی اسرائیل کے علماء بھی اس کی تصدیق پر مجبور، اگلی کتابیں جس پر شاہد۔ بھلے لوگ جس کے مداح اور قائل وعامل۔ اس اتنے بڑے معجزے کی موجودگی میں کسی اور معجزہ کی طلب محض بدنیتی اور گریز ہے۔ پھر فرماتا ہے اس میں ایمان والوں کے لیے رحمت ونصیحت ہے۔ یہ قرآن حق کا ظاہر کرنے اور باطل کو برباد کرنے والا ہے۔ گزشتہ لوگوں کے واقعات تمہارے سامنے رکھ کر تمہیں نصیحت وعبرت کا موقعہ دیتا ہے۔ گنہگاروں کا انجام دکھا کر تمہیں گناہوں سے روکتا ہے۔ کہدو کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ ہے اور اس کی گواہی کافی ہے۔ وہ تمہاری تکذیب وسرکشی کو اور میری سچائی و خیر خواہی کو بخوبی جانتا ہے۔ اگر میں اس پر جھوٹ باندھتا تو وہ ضرور مجھ سے انتقام لیتا وہ ایسے لوگوں کو بغیر انتقام نہیں چھوڑتا۔ جیسے خود اس کا فرمان ہے کہ ’ اگر یہ رسول مجھ پر ایک بات بھی گھڑ لیتا تو میں اس کا داہنا ہاتھ پکڑ کر اس کی رگ جاں کاٹ دیتا اور کوئی نہ ہوتا جو اسے میرے ہاتھ سے چھڑا سکے۔ ‘ ۱؎ [69-الحاقة:44-47] ‏‏‏‏ چونکہ اس پر میری سچائی روشن ہے اور میں اسی کا بھیجا ہوا ہوں اور اس کا نام لے کر اس کی کہی ہوئی تم سے کہتا ہوں اس لیے وہ میری تائید کرتا ہے اور مجھے روز بروز غلبہ دیتاجاتا ہے اور مجھ سے معجزات پر معجزات ظاہر کراتا ہے۔ وہ زمین و آسمان کے غیب کاجاننے والا ہے اس پر ایک ذرہ بھی پوشیدہ نہیں، باطل کا ماننے والے اور اللہ کو نہ ماننے والے ہی نقصان یافتہ اور ذلیل ہیں قیامت کے دن انہیں ان کی بداعمالی کا نتیجہ بھگتنا پڑے گا اور جو سرکشیاں دنیا میں کی ہیں سب کا مزہ چکھنا پڑے گا۔ بھلا اللہ کو نہ ماننا اور بتوں کو ماننا اس سے بڑھ کر اور ظلم کیا ہو گا؟ وہ علیم وحکیم اللہ اس کا بدلہ دیئے بغیر ہرگز نہیں رہے گا۔
50-1یعنی یہ نشانیاں اس کی حکمت و مشیت، جن بندوں پر اتارنے کی ہوتی ہے، وہاں وہ اتارتا ہے، اس میں اللہ کے سوا کسی کا اختیار نہیں ہے۔
(آیت 50) ➊ { وَ قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَيْهِ اٰيٰتٌ مِّنْ رَّبِّهٖ:} قرآن اور پیغمبر کے حق ہونے کے دلائل کے سامنے جب مشرکین لاجواب ہوجاتے تو عجیب و غریب قسم کے اعتراض اور مطالبے پیش کرتے، جو عناد، تکبر اور ہٹ دھرمی پر مبنی ہوتے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے ایسے چند اعتراض اور ان کے جواب ذکر فرمائے۔ ان میں سے پہلا اعتراض یہ تھا کہ اس پیغمبر پر کوئی نشانیاں کیوں نازل نہیں کی گئیں؟ اس سے ان کی مراد صالح علیہ السلام کی اونٹنی اور موسیٰ علیہ السلام کے عصا جیسے معجزات تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، ان سے کہہ دیں نشانیاں اور معجزات تو صرف اللہ تعالیٰ کے پاس اور اسی کے اختیار میں ہیں، نہ یہ میرے قبضے میں ہے کہ جو معجزہ تم طلب کرو وہی دکھلادیا کروں اور نہ یہ میری ذمہ داری ہے۔ میری ذمہ داری صرف یہ ہے کہ تمھیں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے انجام سے آگاہ کرتا رہوں اور ڈراتا رہوں۔ ➋ حفاظ کرام یاد رکھیں پورے قرآن میں {” لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَيْهِ اٰيٰتٌ مِّنْ رَّبِّهٖ “} صرف اسی مقام پر ہے۔ دوسرے تمام مقامات پر {” نُزِّلَ عَلَيْهِ اٰيَةٌ “} یا {” اُنْزِلَ عَلَيْهِ اٰيَةٌ “} واحد کے لفظ کے ساتھ ہی ہے۔