بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ العنكبوت — Surah Ankabut
آیت نمبر 7
کل آیات: 69
قرآن کریم العنكبوت آیت 7
آیت نمبر: 7 — سورۃ العنكبوت islamicurdubooks.com ↗
وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُکَفِّرَنَّ عَنۡہُمۡ سَیِّاٰتِہِمۡ وَ لَنَجۡزِیَنَّہُمۡ اَحۡسَنَ الَّذِیۡ کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۷﴾
اور جو لوگ ایمان لائیں گے اور نیک اعمال کریں گے اُن کی برائیاں ہم ان سے دُور کر دیں گے اور انہیں اُن کے بہترین اعمال کی جزا دیں گے
اور جن لوگوں نے یقین کیا اور مطابق سنت کام کیے ہم ان کے تمام گناہوں کو ان سے دور کر دیں گے اور انہیں ان کے نیک اعمال کے بہترین بدلے دیں گے
اور جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ہم ضرور ان کی برائیاں اتار دیں گے اور ضرور انہیں اس کام پر بدلہ دیں گے جو ان کے سب کاموں میں اچھا تھا
اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل بھی کئے تو ہم ان کی برائیاں دور کر دیں گے (ان کی غلطیوں کو نظر انداز کر دیں گے) اور ہم انہیں ان کے اعمال کی بہترین جزا دیں گے۔
اور جو لو گ ایمان لائے اور انھوں نے نیک کام کیے یقینا ہم ان سے ان کی برائیاں ضرور دور کر دیں گے اور یقینا انھیں اس عمل کی بہترین جزا ضرور دیں گے جو وہ کیا کرتے تھے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

نیکیوں کی کوشش ٭٭

جنہیں آخرت کے بدلوں کی امید ہے اور اسے سامنے رکھ کر وہ نیکیاں کرتے ہیں۔ ان کی امیدیں پوری ہونگی اور انہیں نہ ختم ہونے والے ثواب ملیں گے۔ اللہ تعالیٰ دعاؤں کا سننے والا اور کل کائنات کا جاننے والا ہے۔ اللہ کا ٹھہرایا ہوا وقت ٹلتا نہیں۔ پھر فرماتا ہے ہر نیک عمل کرنے والا اپنا ہی نفع کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ بندوں کے اعمال سے بےپرواہ ہے۔ اگر سارے انسان متقی بن جائیں تو اللہ کی سلطنت میں کوئی اضافہ نہیں ہوسکتا۔ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں جہاد تلوار چلانے کا نام ہی نہیں۔ انسان نیکیوں کی کوشش میں لگا رہے یہ بھی ایک طرح کا جہاد ہے۔ اس میں شک نہیں کہ تمہاری نیکیاں اللہ کے کسی کام نہیں آتیں لیکن بہرحال اس کی یہ مہربانی کہ وہ تمہیں نیکیوں پر بدلے دیتا ہے۔ ان کی وجہ سے تمہاری برائیں معاف فرما دیتا ہے۔ چھوٹی سے چھوٹی نیکی کی قدر کرتا ہے اور اس پر بڑے سے بڑا اجر دیتا ہے۔ ایک ایک نیکی کا سات سات سوگنا بدلہ عنایت فرماتا ہے اور بدی کو یا تو بالکل ہی معاف فرما دیتا ہے یا اسی کے برابر سزا دیتا ہے۔ ’ وہ ظلم سے پاک ہے، نیکیوں کو بڑھاتا ہے اور اپنے پاس سے اجر عظیم دیتا ہے۔ ‘ ۱؎ [4-النساء:40] ‏‏‏‏ ایمانداروں کی سنت کے مطابق نیکیاں قبول فرماتا ہے۔ ان کے گناہوں سے درگزر کر لیتا ہے اور ان کے اچھے اعمال کا بدلہ عطا فرماتا ہے۔

📖 احسن البیان

7-1یعنی باوجود اس بات کے کہ اللہ تعالیٰ تمام مخلوق سے بےنیاز ہے، وہ محض اپنے فضل و کرم سے اہل ایمان کو ان کے عملوں کی بہترین جزا عطا فرمائے گا۔ اور ایک ایک نیکی پر کئی کئی گنا اجر ثواب دے گا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 7) ➊ { وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَيِّاٰتِهِمْ:} یعنی جو لوگ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے، آزمائش پر ثابت قدم رہے، مشرکین کی ایذا سے متزلزل نہیں ہوئے، پھر صالح اعمال کرتے رہے، اپنے اور اللہ اور اس کے رسول کے دشمنوں سے جہاد کرتے رہے تو ہم ان کی برائیاں ضرور دور کر دیں گے، ایمان لانے کی برکت سے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیں گے، پھر اعمال میں سے ہجرت سے پہلے کے تمام گناہ معاف کر دیں گے اور حج سے پہلے کے تمام گناہ معاف کر دیں گے۔ عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں اسلام داخل کیا تو میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: ”اپنا دایاں ہاتھ پھیلائیں، تاکہ میں آپ کی بیعت کروں۔“ آپ نے اپنا دایاں ہاتھ پھیلایا، کہتے ہیں، میں نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا تو آپ نے فرمایا: ”عمرو! تمھیں کیا ہوا؟“ میں نے کہا: ”میں چاہتا ہوں کہ شرط کر لوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کس چیز کی شرط کرو گے؟“ میں نے کہا: ”اس بات کی کہ مجھے بخش دیا جائے۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْإِسْلاَمَ يَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهُ؟ وَأَنَّ الْهِجْرَةَ تَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهَا؟ وَأَنَّ الْحَجَّ يَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهُ؟ ] [مسلم، الإیمان، باب کون الإسلام یھدم ما قبلہ …: ۱۲۱ ] ”کیا تمھیں معلوم نہیں کہ اسلام اپنے سے پہلے جو کچھ ہوا اسے گرا دیتا ہے؟ اور ہجرت اپنے سے پہلے جو کچھ ہوا اسے گرا دیتی ہے؟ اور حج اپنے سے پہلے جو کچھ ہوا اسے گرا دیتا ہے؟“ پھر توبہ سے گزشتہ گناہ معاف ہی نہیں ہوتے بلکہ نیکیوں میں بدل دیے جاتے ہیں، تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ فرقان کی آیت (۷۰) کی تفسیر۔ اس کے علاوہ وضو، نماز، روزہ، صدقہ اور جہاد غرض ہر نیکی گناہوں کے مٹانے کا باعث بنتی ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ ہود کی آیت (۱۱۴)۔ ➋ { وَ لَنَجْزِيَنَّهُمْ اَحْسَنَ الَّذِيْ كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ:} اس کے دو مطلب ہیں، ایک یہ کہ آدمی کے نیک اعمال میں سے جو اعمال سب سے زیادہ اچھے ہوں گے ان کو ملحوظ رکھ کر اسے اچھی جزا دی جائے گی۔ دوسرا یہ کہ آدمی اپنے عمل کے لحاظ سے جتنی جزا کا مستحق ہو گا اس سے زیادہ اچھی جزا اسے دی جائے گی۔ کفر کی حالت میں جو نیک اعمال کیے تھے مسلمان ہونے کے بعد ان کی جزا بھی ملے گی۔ حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے کہا: ”یا رسول اللہ! یہ بتائیں کہ وہ کام جو میں جاہلیت میں ثواب سمجھ کر کرتا تھا، یعنی صلہ رحمی، غلام آزاد کرنا اور صدقہ، تو کیا میرے لیے ان میں اجر ہے؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ أَسْلَمْتَ عَلٰی مَا سَلَفَ لَكَ مِنْ خَيْرٍ] [ بخاري، البیوع، باب شراء المملوک من الحربي و ھبتہ و عتقہ: ۲۲۲۰ ] ”تم اس تمام نیکی سمیت مسلمان ہوئے ہو جو اس سے پہلے تم نے کی۔“ پھر ایمان لانے کے بعد ہر نیکی کا بدلا دس گنا سے لے کر سات سو گنا یا اس سے بھی زیادہ تک بلکہ بلا حساب دیا جائے گا۔ دیکھیے سورۂ نساء (۴۰)، انعام (۱۶۰)، قصص (۸۴)، بقرہ (۲۶۱)، زمر (۱۰) اور مومن (۴۰)۔ ➌ رازی نے بہتر بدلے کے متعلق ایک نفیس نکتہ بیان فرمایا ہے، وہ فرماتے ہیں کہ آدمی کے اعمال یا تو دل سے تعلق رکھتے ہیں، یا آنکھ سے نظر آتے ہیں، یا کان کے ساتھ سنائی دیتے ہیں، یہ اللہ کا فضل ہے کہ ان اعمال کے بدلے میں جو آنکھوں سے نظر آتے ہیں وہ نعمتیں دے گا {”مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ“} (جو کسی آنکھ نے نہیں دیکھیں) اور کان سے سنائی دینے والے اعمال کے بدلے میں وہ نعمتیں دے گا {”وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ“} (جو کسی کان نے نہیں سنیں) اور دل کے ایمان اور حسن اعتقاد کے بدلے میں وہ نعمتیں دے گا {” وَلَا خَطَرَ عَلٰي قَلْبِ بَشَرٍ “} (جن کا خیال تک کسی بشر کے دل میں نہیں آیا)۔ ایمان اور عمل صالح کی اس سے بہتر جزا کیا ہو سکتی ہے۔
← پچھلی آیت (6) پوری سورۃ اگلی آیت (8) →