بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ العنكبوت — Surah Ankabut
آیت نمبر 42
کل آیات: 69
قرآن کریم العنكبوت آیت 42
آیت نمبر: 42 — سورۃ العنكبوت islamicurdubooks.com ↗
اِنَّ اللّٰہَ یَعۡلَمُ مَا یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِہٖ مِنۡ شَیۡءٍ ؕ وَ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۴۲﴾
یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر جس چیز کو بھی پکارتے ہیں اللہ اسے خوب جانتا ہے اور وہی زبردست اور حکیم ہے
اللہ تعالیٰ ان تمام چیزوں کو جانتا ہے جنہیں وه اس کے سوا پکار رہے ہیں، وه زبردست اور ذی حکمت ہے
اللہ جانتا ہے جس چیز کی اس کے سوا پوجا کرتے ہیں اور وہی عزت و حکمت والا ہے
اللہ کو چھوڑ کر یہ لوگ جس شئے کو پکارتے ہیں۔ بےشک اللہ اسے جانتا ہے۔ وہ غالب ہے، بڑا حکمت والا ہے۔
یقینا اللہ جانتا ہے جسے وہ اس کے سوا پکارتے ہیں کوئی بھی چیز ہو اور وہی سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

پھر اللہ تعالیٰ مشرکوں کو ڈرا رہا ہے کہ وہ ان سے ان کے شرک سے اور ان کے جھوٹے معبودوں سے خوب آگاہ ہے۔ انہیں ان کی شرارت کا ایسا مزہ چھکائے گا کہ یہ یاد کریں۔ انہیں ڈھیل دینے میں بھی اس کی مصلحت و حکمت ہے۔ نہ یہ کہ وہ علیم اللہ ان سے بے خبر ہو۔ ہم نے تو مثالوں سے بھی مسائل سمجھا دئیے۔ لیکن اس کے سوچنے سمجھنے کا مادہ، ان میں غوروفکر کرنے کی توفیق صرف باعمل علماء کو ہوتی ہے جو اپنے علم میں پورے ہیں۔ اس آیت سے ثابت ہوا کہ اللہ کی بیان کردہ مثالوں کو سمجھ لینا سچے علم کی دلیل ہے۔ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: { میں نے ایک ہزار مثالیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھی سمجھی ہیں۔ } (‏‏‏‏مسند احمد) ۱؎ [مسند احمد:203/4:ضعیف] ‏‏‏‏ اس سے آپ کی فضیلت اور آپ کی علمیت ظاہر ہے۔ عمرو بن مرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کلام اللہ شریف کی جو آیت میری تلاوت میں آئے اور اس کا تفصیلی معنوں کامطلب میری سمجھ میں نہ آئے تو میرا دل دکھتا ہے مجھے سخت تکلیف ہوتی ہے اور میں ڈرنے لگتا ہوں کہ کہیں اللہ کے نزدیک میری گنتی جاہلوں میں تو نہیں ہو گئی کیونکہ فرمان اللہ یہی ہے کہ ہم ان مثالوں کو لوگوں کے سامنے پیش کر رہے ہیں لیکن سوائے عالموں کے انہیں دوسرے سمجھ نہیں سکتے۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 42) ➊ {اِنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ مَا يَدْعُوْنَ …:} ممکن تھا عنکبوت کی مثال سن کر کوئی شخص تعجب کرتا کہ اللہ تعالیٰ نے سب کو مکڑی جیسا بے بس اور بے اختیار بنا دیا، کسی کو مستثنیٰ نہ کیا، بعض لوگ بتوں کو پوجتے ہیں، بعض آگ کو، بعض پانی کو جب کہ وہ لوگ بھی ہیں جو فرشتوں اور انبیاء و اولیاء کو پوجتے اور پکارتے ہیں۔ اس لیے فرمایا کہ لوگ اللہ کے سوا جس کسی کو بھی پکارتے ہیں اسے سب معلوم ہیں، اگر ان میں سے کسی کے پاس بھی کچھ قدرت یا اختیار ہوتا تو اللہ تعالیٰ سب کی سرے سے نفی نہ کرتا۔ ➋ { وَ هُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ:} یعنی اللہ خود سب پر غالب ہے، اسے کسی کی مدد کی ضرورت نہیں اور وہ کمال حکمت والا ہے، اسے کسی کے مشورے کی ضرورت نہیں۔ ➌ اس آیت کا ایک اور ترجمہ بھی ہو سکتا ہے ”یقینا اللہ جانتا ہے کہ یہ لوگ اس کے سوا کسی بھی چیز کو نہیں پکارتے۔“ یعنی اسے چھوڑ کر جنھیں پکارتے ہیں وہ کچھ بھی نہیں اور عزیز و حکیم بس وہی ہے۔
← پچھلی آیت (41) پوری سورۃ اگلی آیت (43) →