بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ العنكبوت — Surah Ankabut
آیت نمبر 27
کل آیات: 69
قرآن کریم العنكبوت آیت 27
آیت نمبر: 27 — سورۃ العنكبوت islamicurdubooks.com ↗
وَ وَہَبۡنَا لَہٗۤ اِسۡحٰقَ وَ یَعۡقُوۡبَ وَ جَعَلۡنَا فِیۡ ذُرِّیَّتِہِ النُّبُوَّۃَ وَ الۡکِتٰبَ وَ اٰتَیۡنٰہُ اَجۡرَہٗ فِی الدُّنۡیَا ۚ وَ اِنَّہٗ فِی الۡاٰخِرَۃِ لَمِنَ الصّٰلِحِیۡنَ ﴿۲۷﴾
اور ہم نے اسے اسحاقؑ اور یعقوبؑ (جیسی اولاد) عنایت فرمائی اور اس کی نسل میں نبوت اور کتاب رکھ دی، اور اسے دنیا میں اُس کا اجر عطا کیا اور آخرت میں وہ یقیناً صالحین میں سے ہو گا
اور ہم نے انھیں (ابراہیم کو) اسحاق ویعقوب (علیہما السلام) عطا کیے اور ہم نے نبوت اور کتاب ان کی اوﻻد میں ہی کر دی اور ہم نے دنیا میں بھی اسے ﺛواب دیا اور آخرت میں تو وه صالح لوگوں میں سے ہیں
اور ہم نے اسے اسحاق اور یعقوب عطا فرمائے اور ہم نے اس کی اولاد میں نبوت اور کتاب رکھی اور ہم نے دنیا میں اس کا ثواب اسے عطا فرمایا اور بیشک آخرت میں وہ ہمارے قرب خاص کے سزاواروں میں ہے
اور ہم نے انہیں اسحاق اور یعقوب عطا کئے۔ اور نبوت اور کتاب ان کی نسل میں قرار دے دی۔ اور ہم نے ان کو دنیا میں بھی ان کا صلہ دیا اور آخرت میں یقیناً وہ صالحین میں سے ہوں گے۔
اور ہم نے اسے اسحاق اور یعقوب عطا کیے اور اس کی اولاد میں نبوت اور کتاب رکھ دی اور ہم نے اسے اس کا اجر دنیا میں دیا اور بے شک وہ آخرت میں یقینا صالح لوگوں سے ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

لوط علیہ السلام اور سارہ رضی اللہ تعالٰی عنہا ٭٭

کہا جاتا ہے کہ لوط علیہ السلام ابرہیم علیہ السلام کے بھتیجے تھے۔ لوط بن ہاران بن آزر۔ آپ کی ساری قوم میں سے ایک تو لوط ایمان لائے تھے اور ایک سارہ رضی اللہ عنہا جو آپ کی بیوی تھیں۔ ایک روایت میں ہے کہ جب آپ کی بیوی صاحبہ کو اس ظالم بادشاہ نے اپنے سپاہیوں کے ذریعہ اپنے پاس بلوایا تو ابراہیم نے کہا تھا کہ دیکھو میں نے اپنا رشتہ تم سے بھائی بہن کا بنایا ہے تم بھی یہی کہنا کیونکہ اس وقت دنیا پر میرے اور تمہارے سوا کوئی مومن نہیں ہے تو ممکن ہے کہ اس سے مراد یہ ہو کہ کوئی میاں بیوی ہمارے سوا ایماندار نہیں۔ لوط علیہ السلام آپ پر ایمان تو لائے مگر اسی وقت ہجرت کر کے شام چلے گئے تھے پھر اہل سدوم کی طرف نبی بنا کر بھیج دئے گئے تھے جیسا کہ بیان گزرا اور آئے گا۔ ہجرت کا ارادہ یا تو لوط علیہ السلام نے ظاہر فرمایا کیونکہ ضمیر کا مرجع اقرب تو یہی ہے۔ یا ابراہیم نے جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ضحاک رحمہ اللہ کا بیان ہے۔ تو گویا لوط علیہ السلام کے ایمان لانے کے بعد آپ نے اپنی قوم سے دست برداری کر لی اور اپنا ارادہ ظاہر کیا کہ اور کسی جگہ جاؤں شاید وہاں والے اللہ والے بن جائیں۔ عزت اللہ کی اس کے رسول کی اور مومنوں کی ہے۔ حکمت والے اقوال، افعال، تقدیر، شریعت اللہ کی ہے۔

قتادۃ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آپ کوفے سے ہجرت کر کے شام کے ملک کی طرف گئے۔ حدیث میں ہے کہ { ہجرت کے بعد کی ہجرت ابراہیم علیہ السلام کی ہجرت گاہ کی طرف ہو گی۔ اس وقت زمین پر بدترین لوگ باقی رہ جائیں گے جنہیں زمین تھوک دے گی اور اللہ ان سے نفرت کرے گا انہیں آگ سورؤں اور بندروں کے ساتھ ہنکاتی پھرے گی۔ راتوں کو دنوں کو انہی کے ساتھ رہے گی اور ان کی جھڑن کھاتی رہے گی۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:27730:مرسل] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے { جو ان میں سے پیچھے رہ جائے گا اسے یہ آگ کھا جائے گی اور مشرق کی طرف سے کچھ لوگ میری امت میں ایسے نکلیں گے جو قرآن پڑھیں گے لیکن ان کے گلے سے نیچے نہیں اترے گا ان کے خاتمے کے بعد دوسرا گروہ کھڑا ہو گا۔ یہاں تک کہ آپ نے بیس سے بھی زیادہ بار اسے دہرایا۔ یہاں تک کہ انہی کے آخری گروہ میں سے دجال نکلے گا۔ } ۱؎ [مسند احمد:199/2:ضعیف] ‏‏‏‏ { سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ایک زمانہ تو ہم پر وہ تھا کہ ہم ایک مسلمان بھائی کے لیے درہم ودینار کو کوئی چیز نہیں سمجھتے تھے اپنی دولت اپنے بھائی کی ہی سمجھتے تھے پھر وہ زمانہ آیا کہ دولت ہمیں اپنے مسلم بھائی سے زیادہ عزیز معلوم ہونے لگی۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ اگر تم بیلوں کی دموں کے پیچھے لگ جاؤ گے اور تجارت میں مشغول ہوجاؤ گے اور اللہ کی راہ کا جہاد چھوڑ دو گے تو اللہ تعالیٰ تمہاری گردنوں میں ذلت کے پٹے ڈال دے گا جو اس وقت تک تم سے الگ نہ ہوں گے جب تک کہ تم پھر سے وہیں نہ آ جاؤ جہاں تھے اور تم توبہ نہ کر لو۔ پھر وہی حدیث بیان کی جو اوپر گزری اور فرمایا کہ میری امت میں ایسے لوگ ہونگے جو قرآن پڑھیں گے اور بدعملیاں کریں گے قرآن ان کے حلقوم سے نیچے نہیں اترے گا۔ ان کے علم کو دیکھ کر تم اپنے علموں کو حقیر سمجھنے لگوگے۔ وہ اہل اسلام کو قتل کریں گے پس جب یہ لوگ ظاہر ہوں تو انہیں قتل کر دینا، پھر نکلیں پھر مار ڈالنا، پھر ظاہر ہوں پھر قتل کر دینا۔ وہ بھی خوش نصیب ہے جو انھیں قتل کرے اور وہ بھی خوش نصیب ہے جو انکے ہاتھوں قتل کیا جائے جب ان کے گروہ نکلیں گے اللہ انہیں برباد کر دے گا پھر نکلیں گے پھر برباد ہو جائیں گے۔

{ اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی بیس مرتبہ بلکہ اس سے بھی زیادہ بار یہی فرمایا۔ } ۱؎ [مسند احمد:84/2:ضعیف] ‏‏‏‏ ہم نے ابراہیم علیہ السلام کو اسحاق علیہ السلام نامی بیٹا دیا اور اسحاق علیہ السلام کو یعقوب علیہ السلام نامی۔ جیسے فرمان ہے کہ جب خلیل اللہ نے اپنی قوم کو اور ان کے معبودوں کو چھوڑ دیا تو اللہ نے آپ کو اسحاق اور یعقوب دیے اور ہر ایک کو نبی بنایا۔ اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ پوتا بھی آپ کی موجودگی میں ہو جائے گا اسحاق علیہ السلام بیٹے تھے اور یعقوب علیہ السلام پوتے تھے۔ اور آیت میں ہے کہ ہم نے ابراہیم علیہ السلام کی بیوی صاحبہ کو اسحٰق کی اور اسحاق علیہ السلام کے پیچھے یعقوب علیہ السلام کی بشارت دی۔ اور فرمایا کہ قوم کو چھوڑنے کے بدلے اللہ تمہارے گھر کی بستی یہ دے گا جس سے تمہاری آنکھیں ٹھنڈی رہیں۔ پس ثابت ہوا کی یعقوب علیہ السلام اسحاق علیہ السلام کے فرزند تھے۔ یہی سنت سے بھی ثابت ہے قرآن کی اور آیت میں ہے کیا تم اس وقت موجود تھے جب یعقوب علیہ السلام کی موت کا وقت آیا تو وہ اپنے لڑکوں سے کہنے لگے تم میرے بعد کس کی عبادت کرو گے؟ انہوں نے کہا آپ کی اور آپ کے والد ابراہیم علیہ السلام، اسماعیل علیہ السلام، اسحاق علیہ السلام کے الہ کی جو یکتا ہے اور واحد لا شریک ہے۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے: { کریم بن کریم بن کریم یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابرہیم علیہم السلام ہیں۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3382_3390] ‏‏‏‏ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے جو مروی ہے کہ اسحاق ویعقوب علیہم السلام ابراہیم علیہ السلام کے فرزند تھے اس سے مراد فرزند کے فرزند کو فرزند کہہ دینا ہے۔ یہ نہیں کہ صلبی فرزند دونوں تھے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما تو کہاں ادنی آدمی بھی ایسی ٹھوکر نہیں کھا سکتا۔

ہم نے انہی کی اولاد میں کتاب و نبوت رکھ دی۔ خلیل کا خطاب انہیں کو ملا انہیں کہا گیا پھر ان کے بعد انہی کی نسل میں نبوت وحکمت رہی بنی اسرائیل کے تمام انبیاء یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیہم السلام کی نسل سے ہیں۔ عیسیٰ تک تو یہ سلسلہ یوں ہی چلا۔ بنی اسرائیل کے اس آخری پیغمبر نے اپنی امت کو صاف کہہ دیا کہ میں نے تمہیں نبی عربی قریشی ہاشمی خاتم المرسلین اور سیدالرسل اولادِ آدم کی بشارت دیتا ہوں جنہیں اللہ نے چن لیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسماعیل علیہ السلام کی نسل میں سے تھے۔ اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے آپ کے سوائے اور نبی نہیں ہوا۔ «علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم» ۔ ہم نے انہیں دنیا کے ثواب بھی دئیے اور آخرت کی نیکیاں بھی عطا فرمائیں۔ دنیا میں رزق وسیع، جگہ پاک، بیوی نیک، سیرت جمیل اور ذکر حسن دیا ساری دنیا کے دلوں میں آپ کی محبت ڈال دی۔ باوجودیکہ اپنی اطاعت کی توفیق روز بروز اور زیادہ دی۔ کامل اطاعت گزاری کی توفیق کے ساتھ دنیاکی بھلائیاں بھی عطا فرمائیں۔ اور آخرت میں بھی صالحین میں رکھا۔ جیسے فرمان ہے ابراہیم علیہ السلام مکمل فرماں بردار تھے موحد تھے مشرکوں میں سے نہ تھے آخرت میں بھلے لوگوں کا ساتھی ہوا۔

📖 احسن البیان

27-1یعنی حضرت اسحاق ؑ سے یعقوب ؑ ہوئے، جن سے بنی اسرئیل کی نسل چلی اور انہی میں سارے انبیاء ہوئے، اور کتابیں آئیں۔ آخر میں حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابراہیم ؑ کے دوسرے بیٹے حضرت اسماعیل ؑ کی نسل سے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن نازل ہوا۔ 27-2اس اجر سے مراد رزق دنیا بھی ہے اور ذکر خیر بھی۔ یعنی دنیا میں ہر مذہب کے لوگ (عیسائی، یہودی وغیرہ حتی کہ مشرکین بھی) حضرت ابراہیم ؑ کی عزت و تکریم کرتے ہیں اور مسلمان تو ہیں ہی ملت ابراہیمی کے پیرو، ان کے ہاں وہ محترم کیوں نہ ہونگے؟ 27-3یعنی آخرت میں بھی وہ بلند درجات کے حامل اور زمرہ صالحین میں ہونگے۔ اس مضمون کو دوسرے مقام پر بھی بیان کیا گیا ہے

📖 القرآن الکریم

(آیت 27) ➊ { وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ يَعْقُوْبَ:} اس آیت میں ایک لطیف فائدہ ہے، وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ابراہیم علیہ السلام پر آنے والے تمام مشکل حالات کو ایسے بہترین حالات کے ساتھ بدل دیا جو پہلے حالات کے بالکل الٹ تھے، یعنی قوم نے انھیں توحید کی دعوت کی وجہ سے آگ میں پھینکا، تو اللہ تعالیٰ نے انھیں اس سے خیریت و سلامتی کے ساتھ بچا لیا۔ وہ پوری قوم میں تنہا تھے، تو اللہ تعالیٰ نے اس کے بدلے میں انھیں اتنی اولاد عطا فرمائی جس سے دنیا بھر گئی۔ ان کے رشتے دار خود گمراہ اور مشرک تھے اور دوسروں کو گمراہ کرنے والے اور شرک کی دعوت دینے والے تھے، جن میں ان کا باپ آزر بھی تھا، تو اللہ تعالیٰ نے ان رشتہ داروں کے بدلے میں ایسے رشتہ دار دیے جو خود ہدایت یافتہ اور دوسروں کو ہدایت دینے والے تھے، یہ ان کی وہ اولاد تھی جن میں اللہ تعالیٰ نے نبوت اور کتاب رکھ دی۔ وہ اپنے وطن میں بے وطن تھے، تو اللہ تعالیٰ نے بابرکت زمین شام میں انھیں ٹھکانا عطا فرمایا۔ ان کے پاس مال و جاہ نہیں تھا، تو اللہ تعالیٰ نے انھیں اتنا مال عطا فرمایا کہ وہ اچانک آنے والے چند مہمانوں کے لیے تھوڑی دیر میں بھنا ہوا بچھڑا لے آتے ہیں اور جاہ و مرتبہ اتنا عطا فرمایا کہ قیامت تک آخری رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود کے ساتھ ان پر بھی درود بھیجا جاتا رہے گا۔ ایک وقت تھا کہ وہ اپنی قوم میں اس قدر بے حیثیت تھے کہ انھیں ایک بے نام شخص سمجھا جاتا تھا، جیسا کہ سورۂ انبیاء میں ہے: «{ قَالُوْا سَمِعْنَا فَتًى يَّذْكُرُهُمْ يُقَالُ لَهٗۤ اِبْرٰهِيْمُ }» [الأنبیاء: ۶۰ ] ”انھوں نے کہا ہم نے ایک جوان سنا ہے جسے ابراہیم کہا جاتا ہے۔“ اور دعوت توحید کی وجہ سے ان کی قوم ان کی دشمن تھی، تو اللہ تعالیٰ نے انھیں قیامت تک آنے والوں میں ایسی لسان صدق (سچی شہرت اور ناموری) عطا فرمائی کہ اب کم ہی کوئی شخص ہو گا جو انھیں نہ جانتا ہو۔ یہودی ہوں یا عیسائی یا مسلمان سب ان سے محبت کرتے ہیں، ان کا ذکر اچھے سے اچھے طریقے سے کرتے ہیں اور ان کی طرف نسبت پر فخر کرتے ہیں۔ ابراہیم علیہ السلام کی زندگی اس بات کی بلا ریب شہادت ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی خاطر کوئی چیز ترک کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اس سے کہیں بہتر چیز عطا کرتا ہے۔ ➋ { وَ جَعَلْنَا فِيْ ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَ الْكِتٰبَ:} یعنی ابراہیم علیہ السلام کے بعد ان کی اولاد کے سوا کسی کو نبوت اور آسمانی کتاب نہیں دی گئی، جتنے انبیاء ہوئے ان کی اولاد سے ہوئے، اس لیے انھیں ابو الانبیاء کہا جاتا ہے۔ ابراہیم علیہ السلام کی اولاد کا ایک سلسلہ اسحاق و یعقوب علیھما السلام کا ہے، جس میں عیسیٰ علیہ السلام تک بہت سے حضرات کو نبوت ملی۔ دوسرا سلسلہ اسماعیل علیہ السلام کا ہے جس میں آخری نبی سید ولد آدم محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہوئے۔ زمخشری نے یہاں ایک سوال ذکر کیا ہے کہ یہاں ابراہیم علیہ السلام کو اسحاق و یعقوب علیھما السلام عطا فرمانے کا ذکر ہے، اسماعیل علیہ السلام کا ذکر نہیں، پھر خود ہی جواب دیا کہ یہاں ان کا اور سید الرسل صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر بھی {” وَ جَعَلْنَا فِيْ ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَ الْكِتٰبَ “} کے ضمن میں موجود ہے۔ بعض مفسرین نے یہاں اسماعیل علیہ السلام کا ذکر صراحت کے ساتھ نہ کرنے میں یہ نکتہ بیان فرمایا ہے کہ اس سورت میں شروع سے اہل ایمان کی آزمائش اور امتحان کا ذکر آرہا ہے، جس میں ابراہیم علیہ السلام کی آزمائش کا ذکر بھی ہے، ان کی آزمائش کے ذکر کے بعد ان پر انعامات کا ذکر ہے، جن میں صراحت کے ساتھ اسحاق و یعقوب علیھما السلام کا ذکر فرمایا، کیونکہ آزمائش کے خاتمے پر بڑھاپے میں ان کا ملنا انعام ہی انعام تھا۔ اسماعیل علیہ السلام بھی اگرچہ اللہ تعالیٰ کا انعام تھے، مگر ان کے ساتھ شدید قسم کے امتحانات بھی وابستہ تھے، مثلاً وادی غیر ذی زرع میں چھوڑنا، انھیں ذبح کرنے کا حکم دینا وغیرہ۔ اس لیے انعام کے تذکرے میں اس کا نام صراحت کے ساتھ ذکر نہیں فرمایا، اگرچہ نبوت و کتاب عطا کی جانے والی اولاد میں ان کا ذکر بھی فرما دیا۔ (واللہ اعلم) ➌ { وَ اٰتَيْنٰهُ اَجْرَهٗ فِي الدُّنْيَا:} اس سے مراد وہ چیزیں ہیں جن کا ذکر اس آیت کے فائدہ (۱) میں گزرا ہے۔ شاہ عبدالقادر لکھتے ہیں: ”یعنی دنیا میں حق تعالیٰ نے مال، اولاد، عزت اور ہمیشہ کا نام دیا اور ملک شام ہمیشہ کے لیے ان کی اولاد کو بخشا۔“ (موضح) ➍ {وَ اِنَّهٗ فِي الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِيْنَ:} یعنی دنیا میں دیے جانے والے اجر سے ان کے آخرت کے درجات میں کوئی کمی نہیں ہوئی، بلکہ انھیں صالحین میں شمولیت کا شرف عطا کیا گیا جس کے حصول کی دعا اللہ کے جلیل القدر پیغمبر بھی کرتے رہے، جیسے سلیمان علیہ السلام نے دعا کی: «{ وَ اَدْخِلْنِيْ بِرَحْمَتِكَ فِيْ عِبَادِكَ الصّٰلِحِيْنَ }» [ النمل: ۱۹ ] ”اور اپنی رحمت سے مجھے اپنے نیک بندوں میں داخل فرما۔“ اور یوسف علیہ السلام نے دعا کی: «{ تَوَفَّنِيْ مُسْلِمًا وَّ اَلْحِقْنِيْ بِالصّٰلِحِيْنَ }» [ یوسف: ۱۰۱ ] ”مجھے مسلم ہونے کی حالت میں فوت کر اور مجھے نیک لوگوں کے ساتھ ملا دے۔“ اور عائشہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرماتے تھے: [ مَا مِنْ نَبِيٍّ يَمْرَضُ إِلاَّ خُيِّرَ بَيْنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَكَانَ فِيْ شَكْوَاهُ الَّذِيْ قُبِضَ فِيْهِ أَخَذَتْهُ بُحَّةٌ شَدِيْدَةٌ فَسَمِعْتُهُ يَقُوْلُ: «‏‏‏‏مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيّٖنَ وَ الصِّدِّيْقِيْنَ۠ وَ الشُّهَدَآءِ وَ الصّٰلِحِيْنَ» ‏‏‏‏ [النساء: ۶۹] فَعَلِمْتُ أَنَّهُ خُيِّرَ ] [ بخاري، التفسیر، باب: «‏‏‏‏فاولٓئک مع الذین أنعم اللہ علیھم …» : ۴۵۸۶ ] ”جو بھی نبی بیمار ہوتا ہے اسے دنیا اور آخرت کے درمیان اختیار دیا جاتا ہے۔“ اور آپ جس بیماری میں فوت ہوئے آپ کو بہت سخت کھانسی ہوئی، تو میں نے سنا آپ کہہ رہے تھے: ”ان لوگوں کے ساتھ (ملا دے) جن پر تو نے انعام کیا نبیوں، صدیقوں، شہداء اور صالحین میں سے۔“ تو میں نے جان لیا کہ آپ کو اختیار دے دیا گیا ہے۔“ ➎ اس آیت میں دینِ حق کی خاطر صبر کرنے میں ابراہیم علیہ السلام کی پیروی کی ترغیب ہے۔
← پچھلی آیت (26) پوری سورۃ اگلی آیت (28) →