بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ العنكبوت — Surah Ankabut
آیت نمبر 19
کل آیات: 69
قرآن کریم العنكبوت آیت 19
آیت نمبر: 19 — سورۃ العنكبوت islamicurdubooks.com ↗
اَوَ لَمۡ یَرَوۡا کَیۡفَ یُبۡدِئُ اللّٰہُ الۡخَلۡقَ ثُمَّ یُعِیۡدُہٗ ؕ اِنَّ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیۡرٌ ﴿۱۹﴾
کیا اِن لوگوں نے کبھی دیکھا ہی نہیں ہے کہ اللہ کس طرح خلق کی ابتدا کرتا ہے، پھر اُس کا اعادہ کرتا ہے؟ یقیناً یہ (اعادہ تو) اللہ کے لیے آسان تر ہے
کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ مخلوق کی ابتدا کس طرح اللہ نے کی پھر اللہ اس کا اعاده کرے گا، یہ تو اللہ تعالیٰ پر بہت ہی آسان ہے
اور کیا انہوں نے نہ دیکھا اللہ کیونکر خلق کی ابتداء فرماتا ہے پھر اسے دوبارہ بنائے گا بیشک یہ اللہ کو آسان ہے
کیا ان لوگوں نے نہیں دیکھا کہ اللہ کس طرح پہلی بار مخلوق کو پیدا کرتا ہے پھر کس طرح اسے دوبارہ پلٹاتا ہے؟ بےشک یہ بات اللہ کیلئے آسان ہے۔
اور کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ کس طرح اللہ خلق کی ابتدا کرتا ہے، پھر اسے دہرائے گا، بے شک یہ اللہ پر بہت آسان ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

تمام نشانیاں ٭٭

دیکھتے ہیں کہ وہ کچھ نہ تھے پھر اللہ نے پیدا کر دیا لیکن تاہم مر کر جینے کے قائل نہیں حالانکہ اس پر کسی دلیل کی ضروت نہیں کہ جو ابتداءً پیدا کر سکتا ہے اس پر دوبارہ پیدا کرنا بہت ہی آسان ہے۔ پھر انہیں ہدایت کرتے ہیں کہ زمین اور نشانیوں پر غور کرو۔ آسمانوں کو، ستاروں کو، زمینوں کو، پہاڑوں کو،درختوں کو، جنگلوں کو، نہروں کو، دریاؤں کو،سمندروں کو، پھلوں کو، کھیتوں کو دیکھو تو سہی کہ یہ سب کچھ نہ تھا پھر اللہ نے سب کچھ کر دیا کیا یہ تمام نشانیاں اللہ کی قدرت کو تم پر ظاہر نہیں کرتیں؟ تم نہیں دیکھتے کہ اتنا بڑا صانع وقدیر اللہ کیا کچھ نہیں کر سکتا؟ وہ تو صرف ہو جا کے کہنے سے تمام کو رچا دیتا ہے وہ خود مختار ہے اسے اسباب کی ضرورت نہیں۔ اسی مضمون کو اور جگہ فرمایا کہ ’ وہی نئی پیدائش میں پیدا کرتا ہے وہی دوبارہ پیدا کرے گا اور یہ تو اس پر بہت آسان ہے۔ ‘ ۱؎ [30-الروم:27] ‏‏‏‏ پھر فرمایا: زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ اللہ نے ابتدائی پیدائش کس طرح کی تو تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ قیامت کے دن کی دوسری پیدائش کی کیا کیفیت ہو گی۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ جیسے فرمایا: ’ ہم انہیں دنیا کے ہر حصے میں اور خود ان کی اپنی جانوں میں اپنی نشانیاں اس قدر دکھائیں گے کہ ان پر حق ظاہر ہو جائے۔ ‘ ۱؎ [41-فصلت:53] ‏‏‏‏ اور جگہ ارشاد ہے «‏‏‏‏أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ‌ شَيْءٍ أَمْ هُمُ الْخَالِقُونَ أَمْ خَلَقُوا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضَ بَل لَّا يُوقِنُونَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [52-الطور:35-36] ‏‏‏‏ ’ کیا وہ بغیر کسی چیز کے پیدا کئے گئے یا وہی اپنے خالق ہیں؟ یا وہ آسمان و زمین کے خالق ہیں؟ کچھ نہیں بےیقین لوگ ہیں۔ ‘ یہ اللہ کی شان ہے کہ جسے چاہے عذاب کرے، جس پر چاہے رحم کرے، وہ حاکم ہے،قبضے والا ہے،جو چاہتا ہے کرتا ہے،جو ارادہ کرتا ہے جاری کر دیتا ہے، کوئی اس کے حکم کو ٹال نہیں سکتا کوئی اس کے ارادے کو بدل نہیں سکتا۔ کوئی اس سے چوں چرا نہیں کر سکتا، کوئی اس سے سوال نہیں کر سکتا اور وہ سب پر غالب ہے۔ جس سے چاہے پوچھ بیٹھے سب اس کے قبضے میں اس کی ماتحتی میں ہیں۔ خلق کا خالق امر کا مالک وہی ہے۔ اس نے جو کچھ کیا سراسر عدل ہے اس لیے کہ وہی مالک ہے وہ ظلم سے پاک ہے۔

حدیث شریف میں ہے: { اگر اللہ تعالیٰ ساتوں آسمان والوں اور زمین والوں کو عذاب کرے تب بھی وہ ظالم نہیں۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:4699،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ عذاب و رحم سب اس کی چیزیں ہیں۔ سب کے سب قیامت کے دن اس کی طرف لوٹائے جائیں گے اسی کے سامنے حاضر ہو کر پیش ہونگے۔ زمین والوں میں سے اور آسمان والوں میں سے کوئی اسے ہرا نہیں سکتا۔ بلکہ سب پر وہی غالب ہے۔ ہر ایک اس سے کانپ رہا ہے سب اس کے درد کے فقیر ہیں اور وہ سب سے غنی ہے۔ تمہارا کوئی ولی اور مددگار اس کے سوا نہیں۔ اللہ کی آیتوں سے کفر کرنے والے، اس کی ملاقات کو نہ ماننے والے، اللہ کی رحمت سے محروم ہیں اور ان کے لیے دنیا اور آخرت میں درد ناک الم افزا عذاب ہیں۔

📖 احسن البیان

19-1توحید اور رسالت کے اثبات کے بعد یہاں معاد (آخرت) کا اثبات کیا جا رہا ہے جس کا کفار انکار کرتے تھے۔ فرمایا پہلی مرتبہ پیدا کرنے والا بھی وہی ہے جب تمہارا سرے سے وجود ہی نہ تھا، پھر تم دیکھنے سننے اور سمجھنے والے بن گئے اور پھر جب مر کر تم مٹی میں مل جاؤ گے، بظاہر تمہارا نام و نشان تک نہیں رہے گا، اللہ تعالیٰ تمہیں دوبارہ زندہ فرمائے گا۔ 19-2یعنی یہ بات چاہے تمہیں کتنی ہی مشکل لگے، اللہ کے لئے بالکل آسان ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 19) ➊ { اَوَ لَمْ يَرَوْا كَيْفَ يُبْدِئُ اللّٰهُ الْخَلْقَ …:} ابن جریر اور بعض دوسرے مفسرین کے مطابق یہاں تک ابراہیم علیہ السلام کا اپنی قوم سے خطاب ہے اور یہاں سے آگے اللہ تعالیٰ کا کفار قریش سے خطاب ہے جو {” لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ “} تک چلا گیا ہے۔ اس کے بعد {” فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ “} سے پھر ابراہیم علیہ السلام کا قصہ شروع ہوتا ہے۔ جبکہ ابن کثیر فرماتے ہیں کہ{” فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ “} تک یہ سارا کلام ہی ابراہیم علیہ السلام کا ہے۔ مجھے بھی یہی بات راجح معلوم ہوتی ہے، کیونکہ اس میں نہ سلسلہ کلام توڑنا پڑتا ہے، نہ مطلب میں کوئی خلل آتا ہے، بلکہ ابراہیم علیہ السلام اپنی قوم کو توحید کے بعد آخرت کے دلائل سنا رہے ہیں جن کے جواب کا ذکر اس آیت میں ہے: «{ فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ …}» ویسے ابراہیم علیہ السلام کا یہ خطاب کفار قریش کے بھی عین حسب حال ہے، کیونکہ مشرک اقوام کے عقائد ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں۔ ➋ ابراہیم علیہ السلام کی قوم اور کفار مکہ دو بنیادی گمراہیوں میں مبتلا تھے، ایک اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک، دوسری آخرت کا انکار۔ پہلی گمراہی کا رد اوپر کی آیات میں آ چکا ہے، یہ دوسری گمراہی کا رد ہے۔ ➌ ابراہیم علیہ السلام نے دوبارہ زندہ ہونے کے ثبوت کے لیے خود ان کے وجود کو پیش فرمایا، جس کا مشاہدہ وہ ہر وقت کرتے رہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں اس وقت پیدا فرمایا جب کہیں ان کا ذکر تک نہ تھا۔ وجود میں آنے کے بعد وہ سننے دیکھنے والے انسان بن گئے، تو جس نے انھیں شروع میں پیدا فرمایا وہ انھیں دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہے، ({”إِنَّ“} تعلیل کے لیے آتا ہے) کیونکہ یہ کام اللہ تعالیٰ کے لیے بہت آسان ہے۔ دوسری جگہ فرمایا: «{ وَ هُوَ الَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَ هُوَ اَهْوَنُ عَلَيْهِ}» [ الروم: ۲۷ ] ”اور وہی ہے جو خلق کو پہلی بار پیدا کرتا ہے، پھراسے دوبارہ پیدا کرے گا اور وہ اسے زیادہ آسان ہے۔“ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”شروع تو دیکھتے ہو، دہرانا اسی سے سمجھ لو۔“
← پچھلی آیت (18) پوری سورۃ اگلی آیت (20) →