بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ العنكبوت — Surah Ankabut
آیت نمبر 20
کل آیات: 69
قرآن کریم العنكبوت آیت 20
آیت نمبر: 20 — سورۃ العنكبوت islamicurdubooks.com ↗
قُلۡ سِیۡرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ فَانۡظُرُوۡا کَیۡفَ بَدَاَ الۡخَلۡقَ ثُمَّ اللّٰہُ یُنۡشِیُٔ النَّشۡاَۃَ الۡاٰخِرَۃَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿ۚ۲۰﴾
ان سے کہو کہ زمین میں چلو پھرو اور دیکھو کہ اُس نے کس طرح خلق کی ابتدا کی ہے، پھر اللہ بار دیگر بھی زندگی بخشے گا یقیناً اللہ ہر چیز پر قادر ہے
کہہ دیجئے! کہ زمین میں چل پھر کر دیکھو تو سہی کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے ابتداءً پیدائش کی۔ پھر اللہ تعالیٰ ہی دوسری نئی پیدائش کرے گا، اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے
تم فرماؤ زمین میں سفر کرکے دیکھو اللہ کیونکر پہلے بناتا ہے پھر اللہ دوسری اٹھان اٹھاتا ہے بیشک اللہ سب کچھ کرسکتا ہے،
آپ کہئے! کہ زمین میں چلو پھرو پھر (غور سے) دیکھو کہ اللہ نے کس طرح مخلوق کو پہلی بار پیدا کیا؟ پھر (اسی طرح) اللہ پچھلی بار بھی پیدا کرے گا۔ بےشک اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔
کہہ زمین میں چلو پھرو، پھر دیکھو اس نے کس طرح خلق کی ابتدا کی، پھر اللہ ہی دوسری پیدائش پیدا کرے گا، یقینا اللہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

تمام نشانیاں ٭٭

دیکھتے ہیں کہ وہ کچھ نہ تھے پھر اللہ نے پیدا کر دیا لیکن تاہم مر کر جینے کے قائل نہیں حالانکہ اس پر کسی دلیل کی ضروت نہیں کہ جو ابتداءً پیدا کر سکتا ہے اس پر دوبارہ پیدا کرنا بہت ہی آسان ہے۔ پھر انہیں ہدایت کرتے ہیں کہ زمین اور نشانیوں پر غور کرو۔ آسمانوں کو، ستاروں کو، زمینوں کو، پہاڑوں کو،درختوں کو، جنگلوں کو، نہروں کو، دریاؤں کو،سمندروں کو، پھلوں کو، کھیتوں کو دیکھو تو سہی کہ یہ سب کچھ نہ تھا پھر اللہ نے سب کچھ کر دیا کیا یہ تمام نشانیاں اللہ کی قدرت کو تم پر ظاہر نہیں کرتیں؟ تم نہیں دیکھتے کہ اتنا بڑا صانع وقدیر اللہ کیا کچھ نہیں کر سکتا؟ وہ تو صرف ہو جا کے کہنے سے تمام کو رچا دیتا ہے وہ خود مختار ہے اسے اسباب کی ضرورت نہیں۔ اسی مضمون کو اور جگہ فرمایا کہ ’ وہی نئی پیدائش میں پیدا کرتا ہے وہی دوبارہ پیدا کرے گا اور یہ تو اس پر بہت آسان ہے۔ ‘ ۱؎ [30-الروم:27] ‏‏‏‏ پھر فرمایا: زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ اللہ نے ابتدائی پیدائش کس طرح کی تو تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ قیامت کے دن کی دوسری پیدائش کی کیا کیفیت ہو گی۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ جیسے فرمایا: ’ ہم انہیں دنیا کے ہر حصے میں اور خود ان کی اپنی جانوں میں اپنی نشانیاں اس قدر دکھائیں گے کہ ان پر حق ظاہر ہو جائے۔ ‘ ۱؎ [41-فصلت:53] ‏‏‏‏ اور جگہ ارشاد ہے «‏‏‏‏أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ‌ شَيْءٍ أَمْ هُمُ الْخَالِقُونَ أَمْ خَلَقُوا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضَ بَل لَّا يُوقِنُونَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [52-الطور:35-36] ‏‏‏‏ ’ کیا وہ بغیر کسی چیز کے پیدا کئے گئے یا وہی اپنے خالق ہیں؟ یا وہ آسمان و زمین کے خالق ہیں؟ کچھ نہیں بےیقین لوگ ہیں۔ ‘ یہ اللہ کی شان ہے کہ جسے چاہے عذاب کرے، جس پر چاہے رحم کرے، وہ حاکم ہے،قبضے والا ہے،جو چاہتا ہے کرتا ہے،جو ارادہ کرتا ہے جاری کر دیتا ہے، کوئی اس کے حکم کو ٹال نہیں سکتا کوئی اس کے ارادے کو بدل نہیں سکتا۔ کوئی اس سے چوں چرا نہیں کر سکتا، کوئی اس سے سوال نہیں کر سکتا اور وہ سب پر غالب ہے۔ جس سے چاہے پوچھ بیٹھے سب اس کے قبضے میں اس کی ماتحتی میں ہیں۔ خلق کا خالق امر کا مالک وہی ہے۔ اس نے جو کچھ کیا سراسر عدل ہے اس لیے کہ وہی مالک ہے وہ ظلم سے پاک ہے۔

حدیث شریف میں ہے: { اگر اللہ تعالیٰ ساتوں آسمان والوں اور زمین والوں کو عذاب کرے تب بھی وہ ظالم نہیں۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:4699،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ عذاب و رحم سب اس کی چیزیں ہیں۔ سب کے سب قیامت کے دن اس کی طرف لوٹائے جائیں گے اسی کے سامنے حاضر ہو کر پیش ہونگے۔ زمین والوں میں سے اور آسمان والوں میں سے کوئی اسے ہرا نہیں سکتا۔ بلکہ سب پر وہی غالب ہے۔ ہر ایک اس سے کانپ رہا ہے سب اس کے درد کے فقیر ہیں اور وہ سب سے غنی ہے۔ تمہارا کوئی ولی اور مددگار اس کے سوا نہیں۔ اللہ کی آیتوں سے کفر کرنے والے، اس کی ملاقات کو نہ ماننے والے، اللہ کی رحمت سے محروم ہیں اور ان کے لیے دنیا اور آخرت میں درد ناک الم افزا عذاب ہیں۔

📖 احسن البیان

20-1یعنی آفاق میں پھیلی ہوئی اللہ کی نشانیاں دیکھو زمین پر غور کرو، کس طرح اسے بچھایا، اس میں پہاڑ، وادیاں، نہریں اور سمندر بنائے، اسی انواع و اقسام کی روزیاں اور پھل پیدا کئے۔ کیا یہ سب چیزیں اس بات پر دلالت نہیں کرتیں کہ انھیں بنایا گیا ہے اور ان کا کوئی بنانے والا ہے؟

📖 القرآن الکریم

(آیت 20) { قُلْ سِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ …:} یعنی اپنی ذات کو چھوڑ کر دوسری چیزوں کی پیدائش میں بھی غور کرو اور چل پھر کر دیکھو۔ زمین اور آسمان کی نشانیوں پر غور کرو، آسمانوں کو، ستاروں کو، زمینوں کو، پہاڑوں کو، درختوں کو، جنگلوں کو، نہروں کو، دریاؤں کو، سمندروں کو،پھلوں کو، کھیتوں کو دیکھو تو سہی، یہ سب کچھ نہیں تھا، پھر اللہ نے سب کچھ پیدا کر دیا۔ یہ تمام نشانیاں اللہ تعالیٰ کی قدرت کو ظاہر کرتی ہیں، اسی پر دوسری زندگی کو قیاس کر لو۔ یقینا اللہ تعالیٰ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے، پہلی دفعہ پیدا کرنے پر بھی اور دوبارہ پیدا کرنے پر بھی۔ پچھلی آیت میں اپنے نفس اور اپنی ذات پر غور کرنے کا حکم دیا تھا، اس آیت میں آفاق پر غور کا حکم دیا۔
← پچھلی آیت (19) پوری سورۃ اگلی آیت (21) →