بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ العنكبوت — Surah Ankabut
آیت نمبر 23
کل آیات: 69
قرآن کریم العنكبوت آیت 23
آیت نمبر: 23 — سورۃ العنكبوت islamicurdubooks.com ↗
وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَ لِقَآئِہٖۤ اُولٰٓئِکَ یَئِسُوۡا مِنۡ رَّحۡمَتِیۡ وَ اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۲۳﴾
جن لوگوں نے اللہ کی آیات کا اور اس سے ملاقات کا انکار کیا ہے وہ میری رحمت سے مایوس ہو چکے ہیں اور ان کے لیے درد ناک سزا ہے
جو لوگ اللہ تعالیٰ کی آیتوں اور اس کی ملاقات کو بھلاتے ہیں وه میری رحمت سے ناامید ہو جائیں اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے
اور وہ جنہوں نے میری آیتوں اور میرے ملنے کو نہ مانا وہ ہیں جنہیں میری رحمت کی آس نہیں اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے
اور جن لوگوں نے اللہ کی آیتوں اور اس کی بارگاہ میں حاضری کا انکار کیا ہے وہ میری رحمت سے مایوس ہوگئے ہیں اور ان کیلئے دردناک عذاب ہے۔
اور جن لوگوں نے اللہ کی آیات اور اس کی ملاقات کا انکار کیا وہ میری رحمت سے ناامید ہو چکے اور یہی لوگ ہیں جن کے لیے دردناک عذاب ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

تمام نشانیاں ٭٭

دیکھتے ہیں کہ وہ کچھ نہ تھے پھر اللہ نے پیدا کر دیا لیکن تاہم مر کر جینے کے قائل نہیں حالانکہ اس پر کسی دلیل کی ضروت نہیں کہ جو ابتداءً پیدا کر سکتا ہے اس پر دوبارہ پیدا کرنا بہت ہی آسان ہے۔ پھر انہیں ہدایت کرتے ہیں کہ زمین اور نشانیوں پر غور کرو۔ آسمانوں کو، ستاروں کو، زمینوں کو، پہاڑوں کو،درختوں کو، جنگلوں کو، نہروں کو، دریاؤں کو،سمندروں کو، پھلوں کو، کھیتوں کو دیکھو تو سہی کہ یہ سب کچھ نہ تھا پھر اللہ نے سب کچھ کر دیا کیا یہ تمام نشانیاں اللہ کی قدرت کو تم پر ظاہر نہیں کرتیں؟ تم نہیں دیکھتے کہ اتنا بڑا صانع وقدیر اللہ کیا کچھ نہیں کر سکتا؟ وہ تو صرف ہو جا کے کہنے سے تمام کو رچا دیتا ہے وہ خود مختار ہے اسے اسباب کی ضرورت نہیں۔ اسی مضمون کو اور جگہ فرمایا کہ ’ وہی نئی پیدائش میں پیدا کرتا ہے وہی دوبارہ پیدا کرے گا اور یہ تو اس پر بہت آسان ہے۔ ‘ ۱؎ [30-الروم:27] ‏‏‏‏ پھر فرمایا: زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ اللہ نے ابتدائی پیدائش کس طرح کی تو تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ قیامت کے دن کی دوسری پیدائش کی کیا کیفیت ہو گی۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ جیسے فرمایا: ’ ہم انہیں دنیا کے ہر حصے میں اور خود ان کی اپنی جانوں میں اپنی نشانیاں اس قدر دکھائیں گے کہ ان پر حق ظاہر ہو جائے۔ ‘ ۱؎ [41-فصلت:53] ‏‏‏‏ اور جگہ ارشاد ہے «‏‏‏‏أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ‌ شَيْءٍ أَمْ هُمُ الْخَالِقُونَ أَمْ خَلَقُوا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضَ بَل لَّا يُوقِنُونَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [52-الطور:35-36] ‏‏‏‏ ’ کیا وہ بغیر کسی چیز کے پیدا کئے گئے یا وہی اپنے خالق ہیں؟ یا وہ آسمان و زمین کے خالق ہیں؟ کچھ نہیں بےیقین لوگ ہیں۔ ‘ یہ اللہ کی شان ہے کہ جسے چاہے عذاب کرے، جس پر چاہے رحم کرے، وہ حاکم ہے،قبضے والا ہے،جو چاہتا ہے کرتا ہے،جو ارادہ کرتا ہے جاری کر دیتا ہے، کوئی اس کے حکم کو ٹال نہیں سکتا کوئی اس کے ارادے کو بدل نہیں سکتا۔ کوئی اس سے چوں چرا نہیں کر سکتا، کوئی اس سے سوال نہیں کر سکتا اور وہ سب پر غالب ہے۔ جس سے چاہے پوچھ بیٹھے سب اس کے قبضے میں اس کی ماتحتی میں ہیں۔ خلق کا خالق امر کا مالک وہی ہے۔ اس نے جو کچھ کیا سراسر عدل ہے اس لیے کہ وہی مالک ہے وہ ظلم سے پاک ہے۔

حدیث شریف میں ہے: { اگر اللہ تعالیٰ ساتوں آسمان والوں اور زمین والوں کو عذاب کرے تب بھی وہ ظالم نہیں۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:4699،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ عذاب و رحم سب اس کی چیزیں ہیں۔ سب کے سب قیامت کے دن اس کی طرف لوٹائے جائیں گے اسی کے سامنے حاضر ہو کر پیش ہونگے۔ زمین والوں میں سے اور آسمان والوں میں سے کوئی اسے ہرا نہیں سکتا۔ بلکہ سب پر وہی غالب ہے۔ ہر ایک اس سے کانپ رہا ہے سب اس کے درد کے فقیر ہیں اور وہ سب سے غنی ہے۔ تمہارا کوئی ولی اور مددگار اس کے سوا نہیں۔ اللہ کی آیتوں سے کفر کرنے والے، اس کی ملاقات کو نہ ماننے والے، اللہ کی رحمت سے محروم ہیں اور ان کے لیے دنیا اور آخرت میں درد ناک الم افزا عذاب ہیں۔

📖 احسن البیان

23-1اللہ تعالیٰ کی رحمت، دنیا میں عام ہے جس سے کافر اور مومن، منافق اور مخلص اور نیک اور بد سب یکساں طور پر مستفید ہو رہے ہیں اللہ تعالیٰ سب کو دنیا کے وسائل، آسائش اور مال و دولت عطا کر رہا ہے یہ رحمت الٰہی کی وہ وسعت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے دوسرے مقام پر فرمایا ' میری رحمت نے ہر چیز کو گھیر لیا ہے ' لیکن آخر میں چونکہ دارالجزاء ہے، انسان نے دنیا کی کھیتی میں جو کچھ بویا ہوگا اسی کی فصل اسے وہاں کاٹنی ہوگی، جیسے عمل کئے ہونگے اس کی جزاء اسے وہاں ملے گی۔ اللہ کی بارگاہ میں بےلاگ فیصلے ہوں گے۔ دنیا کی طرح اگر آخرت میں بھی نیک وبد کے ساتھ یکساں سلوک ہو اور مومن و کافر دونوں ہی رحمت الہی کے مستحق قرار پائیں تو اس سے ایک تو اللہ تعالیٰ کی صفت عدل پر حرف آتا ہے، دوسرے قیامت کا مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے۔ قیامت کا دن تو اللہ نے رکھا ہی اس لیے ہے کہ وہاں نیکوں کو ان کی نیکیوں کے صلے میں جنت اور بدوں کو انکی بدیوں کی جزا میں جہنم دی جائے۔ اس لیے قیامت والے دن اللہ تعالیٰ کی رحمت صرف اہل ایمان کے لیے خاص ہوگی۔ جسے یہاں بھی بیان کیا گیا ہے کہ جو لوگ آخرت اور معاد کے ہی منکر ہوں گے وہ میری رحمت سے ناامید ہوں گے یعنی ان کے حصے میں رحمت الہی نہیں آئے گی۔ سورة اعراف میں اس کو ان الفاظ سے بیان کیا گیا ہے۔ (فَسَاَكْتُبُهَا لِلَّذِيْنَ يَتَّقُوْنَ وَيُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَالَّذِيْنَ هُمْ بِاٰيٰتِنَا يُؤْمِنُوْنَ) 7۔ الاعراف:156) میں یہ رحمت (آخرت میں) ان لوگوں کے لیے لکھوں گا جو متقی، زکوٰۃ ادا کرنے والے اور ہماری آیتوں پر ایمان رکھنے والے ہوں گے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 23) {وَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ وَ لِقَآىِٕهٖۤ …:} اللہ تعالیٰ کی رحمت دنیا میں عام ہے، جس سے کافر اور مومن، منافق اور مخلص، نیک اور بد یکساں طور پر مستفید ہو رہے ہیں، اللہ تعالیٰ سب کو دنیا کے وسائل، آسائش اور مال و دولت عطا کر رہا ہے۔ یہ رحمت الٰہی کی وہ وسعت ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے دوسرے مقام پر فرمایا: «{ وَ رَحْمَتِيْ وَ سِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ[الأعراف: ۱۵۶ ] ”اور میری رحمت نے ہر چیز کو گھیر لیا ہے۔“ لیکن آخرت چونکہ دار الجزاء ہے۔ انسان نے دنیا کی کھیتی میں جو کچھ بویا ہو گا اسی کی فصل اسے وہاں کاٹنا ہو گی، جیسے عمل کیے ہوں گے ویسی ہی جزا اسے وہاں ملے گی۔ اللہ کی بارگاہ میں بے لاگ فیصلے ہوں گے۔ دنیا کی طرح اگر آخرت میں بھی نیک و بد کے ساتھ یکساں سلوک ہو اور مومن و کافر دونوں ہی رحمت الٰہی کے مستحق قرار پائیں تو اس سے ایک تو اللہ تعالیٰ کی صفت عدل پر حرف آتا ہے اور دوسرے قیامت کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے۔ قیامت کا دن تو اللہ نے رکھا ہی اس لیے ہے کہ وہاں نیکوں کو ان کی نیکیوں کے صلے میں جنت اور بدوں کو ان کی بدیوں کی جزا میں جہنم دی جائے۔ اس لیے قیامت والے دن اللہ تعالیٰ کی رحمت صرف اہل ایمان کے لیے خاص ہو گی۔ جیسے یہاں بھی بیان کیا گیا ہے کہ جو لوگ آخرت اور معاد کے منکر ہوں گے وہ میری رحمت سے ناامید ہوں گے، یعنی ان کے حصے میں رحمتِ الٰہی نہیں آئے گی۔ سورۂ اعراف میں اس بات کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: «{ فَسَاَكْتُبُهَا لِلَّذِيْنَ يَتَّقُوْنَ وَ يُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ الَّذِيْنَ هُمْ بِاٰيٰتِنَا يُؤْمِنُوْنَ }» [ الأعراف: ۱۵۶ ] ”سو میں یہ (رحمت آخرت میں) ان لوگوں کے لیے لکھوں گا جو متقی، زکاۃ ادا کرنے والے اور ہماری آیتوں پر ایمان رکھنے والے ہوں گے۔“ (احسن البیان) اس سورت کی آیت (۵): «{ مَنْ كَانَ يَرْجُوْا لِقَآءَ اللّٰهِ فَاِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ لَاٰتٍ }» میں اللہ کی رحمت کی امید رکھنے والوں کا بیان ہے اور زیر تفسیر آیت میں اللہ کی رحمت سے ناامید لوگوں کا بیان ہے۔ نیز دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۱۸)۔
← پچھلی آیت (22) پوری سورۃ اگلی آیت (24) →