بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ العنكبوت — Surah Ankabut
آیت نمبر 24
کل آیات: 69
قرآن کریم العنكبوت آیت 24
آیت نمبر: 24 — سورۃ العنكبوت islamicurdubooks.com ↗
فَمَا کَانَ جَوَابَ قَوۡمِہٖۤ اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوا اقۡتُلُوۡہُ اَوۡ حَرِّقُوۡہُ فَاَنۡجٰىہُ اللّٰہُ مِنَ النَّارِ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یُّؤۡمِنُوۡنَ ﴿۲۴﴾
پھر اُس کی قوم کا جواب اِس کے سوا کچھ نہ تھا کہ انہوں نے کہا "قتل کر دو اِسے یا جلا ڈالو اِس کو" آخر کار اللہ نے اسے آگ سے بچا لیا، یقیناً اس میں نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو ایمان لانے والے ہیں
ان کی قوم کا جواب بجز اس کے کچھ نہ تھا کہ کہنے لگے کہ اسے مار ڈالو یا اسے جلا دو۔ آخر اللہ نے انہیں آگ سے بچا لیا، اس میں ایمان والے لوگوں کے لیے تو بہت سی نشانیاں ہیں
تو اس کی قوم کو کچھ جواب بن نہ آیا مگر یہ بولے انہیں قتل کردو یا جلادو تو اللہ نے اسے آگ سے بچالیا بیشک اس میں ضرور نشانیاں ہیں ایمان والوں کے لیے
اور ان (ابراہیم) کی قوم کا جواب اس کے سوا اور کوئی نہیں تھا کہ انہیں قتل کر دو یا آگ میں جلا دو تو اللہ نے انہیں آگ سے بچا لیا۔ بےشک اس میں ایمان لانے والوں کیلئے (بڑی) نشانیاں ہیں۔
پھر اس کی قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ انھوں نے کہا اسے قتل کر دو، یا اسے جلادو، تو اللہ نے اسے آگ سے بچالیا۔ بے شک اس میں ان لوگوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں جو ایمان رکھتے ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

عقلی اور نقلی دلائل ٭٭

سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا یہ عقلی اور نقلی دلائل کا وعظ بھی ان لوگوں کے دلوں پر اثر نہ کر سکا اور انہوں نے یہاں بھی اپنی اسی شقاوت کا مظاہرہ کیا۔ جواب تو دلیلوں کا دے نہیں سکتے تھے لہٰذا اپنی قوت سے حق کو دبانے لگے اور اپنی طاقت سے سچ کو روکنے لگے کہنے لگے ایک گڑھا کھودو اس میں آگ بھڑکاؤ اور اس آگ میں اسے ڈال دو کہ جل جائے۔ لیکن اللہ نے ان کے اس مکر کو انہی پر لوٹا دیا مدتوں تک لکڑیاں جمع کرتے رہے اور ایک گڑھا کھود کر اس کے اردگرد احاطے کی دیواریں کھڑی کر کے لکڑیوں میں آگ لگا دی جب اس کے شعلے آسمان تک پہنچنے لگے اور اتنی زور کی آگ روشن ہوئی کہ زمین پر کہیں اتنی آگ نہیں دیکھی گئی تو ابراہیم علیہ السلام کو پکڑ کر باندھ کر منجنیق میں ڈال کر جھلا کر اس آگ میں ڈال دیا لیکن اللہ نے اسے اپنے خلیل علیہ السلام پر باغ وبہار بنا دیا آپ کئی دن کے بعد صحیح سلامت اس میں سے نکل آئے۔ یہ اور اس جیسی قربانیاں تھیں جن کے باعث آپ کو امامت کا منصب عطا ہوا۔ اپنا نفس آپ نے رحمان کے لیے، اپنا جسم آپ نے میزان کے لیے، اپنی اولاد آپ نے قربانی کے لیے، اپنا مال آپ نے فیضان کے لیے کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے کل ادیان والے آپ سے محبت رکھتے ہیں۔ اللہ نے آگ کو آپ کے لیے باغ بنا دیا۔ اس واقعہ میں ایمانداروں کے لیے قدرت الٰہی کی بہت سی نشانیاں ہیں۔

آپ نے اپنی قوم سے فرمایا کہ جن بتوں کو تم نے معبود بنا رکھاہے یہ تمہارا ایکا اور اتفاق دنیا تک ہی ہے۔ «مَوَدَّۃً» زبر کے ساتھ مفعول لہ ہے۔ ایک قرأت میں پیش کے ساتھ بھی ہے یعنی تمہاری یہ بت پرستی تمہارے لیے گو دنیا کی محبت حاصل کرا دے۔ لیکن قیامت کے دن معاملہ برعکس ہو جائے گا مودۃ کی جگہ نفرت اور اتفاق کے بدلے اختلاف ہو جائے گا۔ ایک دوسرے سے جھگڑو گے، ایک دوسرے پر الزام رکھو گے، ایک دوسرے پر لعنتیں بھیجو گے۔ ہر گروہ دوسرے گروہ پر پھٹکار برسائے گا۔ سب دوست دشمن بن جائیں گے۔ ہاں پرہیزگار، نیکو کار آج بھی ایک دوسرے کے خیرخواہ اور دوست رہیں گے۔ کفار سب کے سب میدان قیامت کی ٹھوکریں کھا کھا کر بالآخر جہنم میں جائیں گے۔ کوئی اتنا بھی نہ ہو گا کہ ان کی کسی طرح مدد کر سکے۔ حدیث میں ہے { تمام اگلے پچھلوں کو اللہ تعالیٰ ایک میدان میں جمع کرے گا۔ کون جان سکتا ہے کہ دونوں سمت میں کس طرف؟ سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی ہمشیرہ ہیں، نے جواب دیا کہ اللہ اور اس کارسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی زیادہ علم والا ہے۔ پھر ایک منادی عرش تلے سے آواز دے گا کہ اے موحدو! تب توحید والے اپنا سر اٹھائیں گے پھر یہی آواز لگائے گا پھر سہ بارہ یہی پکارے گا اور کہے اللہ تعالیٰ نے تمہاری تمام لغزشوں سے درگزر فرما لیا۔ اب لوگ کھڑے ہونگے اور آپ کی ناچاقیوں اور لین دین کا مطالبہ کرنے لگیں گے تو اللہ وحدہ لاشریک لہ کی طرف سے آواز دی جائے گی کہ اے اہل توحید تم تو آپس میں ایک دوسرے کو معاف کر دو تمہیں اللہ بدل دے گا۔ } ۱؎ [طبرانی اوسط:4803:ضعیف] ‏‏‏‏

📖 احسن البیان

24-1ان آیات سے قبل حضرت ابراہیم ؑ کا قصہ بیان ہو رہا تھا، اب پھر اس کا بقیہ بیان کیا جا رہا ہے، درمیان میں جملہ معترضہ کے طور پر اللہ کی توحید اور اس کی قدرت و طاقت کو بیان کیا گیا ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ سب حضرت ابراہیم ؑ کے وعظ کا حصہ ہے۔ جس میں انہوں نے توحید و معاد کے اثبات میں دلائل دیئے ہیں، جن کا کوئی جواب جب ان کی قوم سے نہیں بنا تو انہوں نے اس کا جواب ظلم و تشدد کی اس کاروائی سے دیا، جس کا ذکر اس آیت میں ہے کہ اسے قتل کردو یا جلا ڈالو۔ چناچہ انہوں نے آگ کا ایک بہت بڑا الاؤ تیار کر کے حضرت ابراہیم ؑ کو منجنیق کے ذریعے سے اس میں پھینک دیا۔ 24-2یعنی اللہ تعالیٰ نے اس آگ کو گلزار کی صورت میں بدل کر اپنے بندے کو بچا لیا۔ جیسا کہ سورة انبیاء میں گزرا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 24) ➊ { فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا اقْتُلُوْهُ اَوْ حَرِّقُوْهُ:} ابراہیم علیہ السلام کی قوم کے لوگ توحید اور آخرت کے متعلق ان کے دلائل کا جواب نہ دے سکے تو تشدد پر اتر آئے اور باطل پرستوں کا یہی شیوہ ہوتا ہے، ان کے پاس دلیل کا جواب دلیل نہیں ہوتا، بلکہ یہ ہوتا ہے کہ مار دو، جلا دو۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کا ان کے بتوں کو توڑنے کا واقعہ حذف کر دیا ہے۔ وہ واقعہ بھی بتوں کے باطل ہونے کی عملی دلیل تھا، جب وہ علمی اور عملی دلائل کے مقابلے میں لاجواب ہو گئے تو سب نے اتفاق کے ساتھ انھیں ختم کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم اس میں اختلاف تھا کہ انھیں ختم کرنے کا طریقہ کیا ہو، تو وہ آپس میں مشورہ کرنے لگے کہ اسے قتل کر دو یا جلا دو۔ آخری فیصلہ یہی ہوا کہ اسے عبرت ناک طریقے سے جلا دو، کیوں کہ وہ انھیں زیادہ سے زیادہ اذیت پہنچانا چاہتے تھے۔ اس کے لیے انھوں نے باقاعدہ ایک عمارت بنا کر اسے ایندھن سے بھر کر آگ سے جلا دینے کا اہتمام کیا، جیسا کہ فرمایا: «{ قَالُوا ابْنُوْا لَهٗ بُنْيَانًا فَاَلْقُوْهُ فِي الْجَحِيْمِ }» [ الصافات: ۹۷ ] ”انھوں نے کہا اس کے لیے ایک عمارت بناؤ، پھر اسے بھڑکتی ہوئی آگے میں پھینک دو۔“ ➋ { فَاَنْجٰىهُ اللّٰهُ مِنَ النَّارِ:} اس جملے سے یہ بات خود بخود واضح ہو رہی ہے کہ ان لوگوں نے آخر کار ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں پھینک دیا۔ یہاں صرف اتنا بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں آگ سے بچا لیا، مگر دوسری جگہ صراحت کے ساتھ فرمایا: «{ قُلْنَا يٰنَارُ كُوْنِيْ بَرْدًا وَّ سَلٰمًا عَلٰۤى اِبْرٰهِيْمَ }» [ الأنبیاء: ۶۹ ] ”ہم نے کہا اے آگ! ابراہیم پر سراسر ٹھنڈک اور سلامتی بن جا۔“ ظاہر ہے اگر انھیں آگ میں پھینکا ہی نہ گیا ہوتا تو آگ کو یہ حکم دینے کا کوئی مطلب نہیں تھا، نہ یہ بتانے کی ضرورت تھی کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں آگ سے بچا لیا۔ ➌ { اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ:} ان نشانیوں میں سے سب سے پہلی نشانی تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی آزمائش ضرور کرتا ہے اور جو جتنا مقرب ہو آزمائش اتنی ہی سخت ہوتی ہے۔ اس واقعہ ہی کو دیکھ لیجیے، اللہ تعالیٰ کے لیے کچھ مشکل نہ تھا کہ وہ ابراہیم علیہ السلام کی قوم کو ان پر ہاتھ ڈالنے ہی نہ دیتا، جیسا کہ موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا: «{ فَلَا يَصِلُوْنَ اِلَيْكُمَا }» [ القصص: ۳۵ ] ”کہ یہ لوگ تم دونوں تک نہیں پہنچیں گے۔“ اور یہ بھی ممکن تھا کہ ان کی قوم میں سے ان کا کوئی ہمدرد کھڑا کر دیتا، جیسا کہ ہمارے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ابوطالب کو کھڑا کر دیا، جس نے مشرک ہونے کے باوجود کہا: {وَاللّٰهِ لَنْ يَّصِلُوْا إِلَيْكَ بِجَمْعِهِمْ حَتّٰي أُوَسَّدَ فِي التُّرَابِ دَفِيْنَا} ”اللہ کی قسم! یہ لوگ اپنی جماعت کے ساتھ بھی تم تک نہیں پہنچیں گے، حتیٰ کہ مجھے مٹی میں دفن کر دیا جائے۔“ مگر اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کے لیے دنیا کا کوئی سبب یا ذریعہ نہیں رہنے دیا جس کے ساتھ وہ آگ میں جلنے سے بچ جائیں۔ یہاں آزمائش اور امتحان میں ابراہیم علیہ السلام کی کمال کامیابی ظاہر ہوتی ہے کہ دنیا کا ہر سہارا ختم ہونے اور شعلے مارتی ہوئی آگ سامنے دیکھنے کے باوجود انھوں نے نہ اللہ کی توحید کا دامن چھوڑا، نہ قوم کے سامنے جھکے، نہ کسی غیر کو پکارا، زبان سے نکلا تو یہی نکلا: [ حَسْبِيَ اللّٰهُ وَ نِعْمَ الْوَكِيْلُ ] [ بخاري، التفسیر، باب قولہ: «الذین قال لھم الناس…» : ۴۵۶۴ ] ”مجھے اللہ کافی ہے اور وہ اچھا کارساز ہے۔“ دوسری نشانی یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کا صدق آزما لیا تو آگ کو ان کے لیے برد و سلام بنا دیا، حالانکہ اس کا کام ہی جلانا ہے اور دنیا کے تمام ظاہری اسباب ختم ہونے کے باوجود کلمہ کن ({كُوْنِيْ بَرْدًا وَّ سَلٰمًا}) کے ساتھ انھیں بچا لیا۔ تیسری نشانی یہ کہ جس اللہ نے دنیا کی تمام چیزوں میں مختلف خاصیتیں رکھی ہیں، وہ اپنے خاص بندوں کے لیے ان میں ان کے الٹ خاصیتیں پیدا کر دیتا ہے۔ پانی کا کام بہنا ہے، وہ اللہ کے حکم سے موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کی نجات کے لیے الگ الگ پہاڑوں کی شکل میں کھڑا ہو گیا۔ آگ کا کام جلانا ہے لیکن اللہ کے حکم سے وہ ابراہیم علیہ السلام کے لیے گلزار بن گئی۔ چوتھی نشانی یہ کہ وہی مشرکین جنھوں نے ابراہیم علیہ السلام کو پکڑا، باندھا اور آگ میں پھینک دیا، آگ سے نکلنے کے بعد انھیں ذرہ برابر نقصان نہ پہنچا سکے، حالانکہ کچھ مشکل نہ تھا کہ وہ انھیں قید کر دیتے یا قتل کر دیتے، مگر یہ اللہ تعالیٰ کا زبردست ہاتھ تھا جس کے زیر حفاظت وہ ان کا بال بیکا نہ کر سکے۔ پانچویں نشانی یہ کہ اتنا بڑا معجزہ دیکھنے کے باوجود ان کی قوم کے لوگ کفر پر اڑے رہے۔ اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ جب کوئی قوم انکار پر اڑ جاتی ہے تو بڑے سے بڑا معجزہ بھی انھیں نفع نہیں دیتا۔ اس سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا سچ ہونا ثابت ہوا: «{ اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا سَوَآءٌ عَلَيْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ }» [ البقرۃ: ۶ ] ”بے شک جن لوگوں نے کفر کیا ان پر برابر ہے، خواہ تو نے انھیں ڈرایا ہو یا انھیں نہ ڈرایا ہو، ایمان نہیں لائیں گے۔“ اور دیکھیے سورۂ انعام (۱۱۱) اسی لیے فرمایا کہ اس واقعہ میں ان لوگوں کے لیے بہت سے نشانیاں ہیں جو ایمان رکھتے ہیں۔ {” لِقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ “} میں لام انتفاع کا ہے، یعنی ان نشانیوں سے فائدہ ایمان والے ہی اٹھاتے ہیں، ایمان سے محروم لوگوں کو ان سے کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔
← پچھلی آیت (23) پوری سورۃ اگلی آیت (25) →