بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ العنكبوت — Surah Ankabut
آیت نمبر 15
کل آیات: 69
قرآن کریم العنكبوت آیت 15
آیت نمبر: 15 — سورۃ العنكبوت islamicurdubooks.com ↗
فَاَنۡجَیۡنٰہُ وَ اَصۡحٰبَ السَّفِیۡنَۃِ وَ جَعَلۡنٰہَاۤ اٰیَۃً لِّلۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۵﴾
پھر نوحؑ کو اور کشتی والوں کو ہم نے بچا لیا اور اُسے دنیا والوں کے لیے ایک نشان عبرت بنا کر رکھ دیا
پھر ہم نے انہیں اور کشتی والوں کو نجات دی اور اس واقعہ کو ہم نے تمام جہان کے لیے عبرت کا نشان بنا دیا
تو ہم نے اسے اور کشتی والوں کو بچالیا اور اس کشتی کو سارے جہاں کے لیے نشانی کیا
پس ہم نے نوح کو اور کشتی والوں کو نجات دی اور اس (کشتی) کو تمام جہانوں کیلئے (اپنی ایک) نشانی بنا دیا۔
پھر ہم نے اسے بچا لیا اور کشتی والوں کو بھی اور اسے جہانوں کے لیے ایک نشانی بنا دیا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حوصلہ افزائی ٭٭

اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تسلی ہے۔ آپ کو خبر دی جاتی ہے کہ نوح علیہ السلام اتنی لمبی مدت تک اپنی قوم کو اللہ کی طرف بلاتے رہے۔ دن رات،پوشیدہ اور ظاہر ہر طرح آپ نے انہیں اللہ کے دین کی طرف دعوت دی۔ لیکن وہ اپنی سرکشی اور گمراہی میں ہی بڑھتے گئے۔ بہت ہی کم لوگ آپ پر ایمان لائے۔ آخرکار اللہ کا غضب ان پر بصورت طوفان آیا اور انہیں تہس نہس کر دیا تو اے پیغمبر آخرالزمان آپ اپنی قوم کی اس تکذیب کو نیا خیال نہ کریں۔ آپ اپنے دل کو رنجیدہ نہ کریں۔ ہدایت و ضلالت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ جن لوگوں کا جہنم میں جانا طے ہو چکا ہے انہیں تو کوئی بھی ہدایت نہیں دے سکتا۔ تمام نشانیاں گو دیکھ لیں لیکن انہیں ایمان نصیب نہیں ہو گا۔ بالآخر جیسے نوح علیہ السلام کو نجات ملی اور قوم ڈوب گئی اسی طرح آخر میں غلبہ آپ کا ہے اور آپ کے مخالفین پست ہوں گے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ چالیس سال کی عمر میں نوح علیہ السلام کو نبوت ملی اور نبوت کے بعد ساڑھے نو سو سال تک آپ نے اپنی قوم کو تبلیغ کی۔ طوفان کی عالمگیر ہلاکت کے بعد بھی نوح علیہ السلام ساٹھ سال تک زندہ رہے یہاں تک کہ بنو آدم کی نسل پھیل گئی اور دنیا میں یہ بکثرت نظر آنے لگے۔

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نوح علیہ السلام کی عمر کل ساڑھے نو سو سال کی تھی تین سو سال تو آپ کے بے دعوت ان میں گزرے،تین سو سال تک اللہ کی طرف اپنی قوم کو بلایا اور ساڑے تین سو سال بعد طوفان کے بعد زندہ رہے لیکن یہ قول غریب ہے اور آیت کے ظاہر الفاظ سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ آپ ساڑھے نو سو سال تک اپنی قوم کو اللہ کی وحدانیت کی طرف بلاتے رہے۔ عون بن ابی شداد کہتے ہیں کہ جب آپ کی عمر سو سال کی تھی اس وقت اللہ کی وحی آپ کو آئی اس کے بعد ساڑھے نو سو سال تک آپ لوگوں کو اللہ کی طرف بلاتے رہے اس کے بعد پھر ساڑھے تین سو سال کی عمر اور پائی۔ لیکن یہ بھی غریب قول ہے۔ زیادہ درست قول ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول نظر آتا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ ابن عمر نے مجاہدرحمہ اللہ سے پوچھا کہ نوح علیہ السلام اپنی قوم میں کتنی مدت تک رہے؟ انہوں نے کہا ساڑھے نو سو سال۔ آپ نے فرمایا کہ اس کے بعد سے لوگوں کے اخلاق اور ان کی عمریں اور عقلیں آج تک گھٹتی ہی چلی آئیں۔ جب قوم نوح پر اللہ کا غضب نازل ہوا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے اپنے نبی کو اور ایمان والوں کو جو آپ کے حکم سے طوفان سے پہلے کشتی میں سوار ہو چکے تھے بچا لیا۔ سورۃ ہود میں اس کی تفصیل گزر چکی ہے اس لیے یہاں دوبارہ وارد نہیں کرتے۔ ہم نے اس کشتی کو دنیا کے لیے نشان عبرت بنا دیا۔ یا تو خود اس کشتی کو جیسے قتادۃ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ اول اسلام تک وہ جودی پہاڑ پر تھی۔ یا یہ کہ کشتی کو دیکھ کر پھر پانی کے سفر کے لیے جو کشتیاں لوگوں نے بنائیں ان کو انہیں دیکھ کر اللہ کا وہ بچانا یاد آ جاتا ہے۔ جیسے فرمان ہے «وَآيَةٌ لَّهُمْ أَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّ‌يَّتَهُمْ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ وَخَلَقْنَا لَهُم مِّن مِّثْلِهِ مَا يَرْ‌كَبُونَ» ۱؎ [36-يس:41-42] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہماری قدرت کی نشانی ان کے لیے یہ بھی ہے کہ ہم نے ان کی نسل کو بھری ہوئی کشتی میں بٹھا دیا۔ اور ہم نے ان کے لیے اور اسی جیسی سواریاں بنا دیں۔ ‘ سورۃ الحاقہ میں فرمایا: جب پانی کا طوفان آیا تو ہم نے تمہیں کشتی میں سوار کر لیا۔ اور ان کا ذکر تمہارے لیے یادگار بنا دیا تاکہ جن کانوں کو اللہ نے یاد کی طاقت دی ہے وہ یاد رکھ لیں۔ یہاں شخص سے جنس کی طرف چڑھاؤ کیا ہے۔ جیسے «وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ وَجَعَلْنَاهَا رُ‌جُومًا لِّلشَّيَاطِينِ وَأَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابَ السَّعِيرِ‌» ۱؎ [67-الملك:5] ‏‏‏‏ والی آیت میں ہے کہ آسمان دنیا کے ستاروں کے باعث زینت آسمان ہونا بیان فرما کر ان کی وضاحت میں شہاب کا شیطانوں کے لیے رجم ہونا بیان فرمایا ہے۔

اور آیت میں انسان کے مٹی سے پیدا ہونے کا ذکر کر کے فرمایا ہے پھر ہم نے اسے نطفے کی شکل میں قرار گاہ میں کر دیا۔ ہاں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آیت میں «ھا» کی ضمیر کا مرجع عقوبت اور سزا کو کیا جائے، «وَاللهُ اَعْلَمُ» (‏‏‏‏یہاں یہ خیال رہے کہ تفسیر ابن کثیر کے بعض نسخوں میں شروع تفسیر میں کچھ عبارت زیادہ ہے جو بعض نسخوں میں نہیں۔ وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نوح علیہ السلام کا ساڑھے نو سو سال تک آزمایا جانا بیان کیا اور ان کی قوم کو ان کی اطاعت کے ساتھ آزمانا بتلایا کہ ان کی تکذیب کی وجہ سے اللہ نے انہیں غرق کر دیا۔ پھر اس کے بعد جلا دیا۔ پھر قوم ابراہیم علیہ السلام کی آزمائش کا ذکر کیا کہ انہوں نے بھی اطاعت ومتابعت نہ کی پھر لوط علیہ السلام کی آزمائش کا ذکر کیا اور ان کی قوم کا حشر بیان فرمایا۔ پھر شعیب علیہ السلام کی قوم کے واقعات سامنے رکھے پھر عادیوں، ثمودیوں، قارونیوں، فرعونیوں، ہامانیوں وغیرہ کا ذکر کیا کہ اللہ پر ایمان نہ لانے اور اس کی توحید کو نہ ماننے کی وجہ سے انہیں بھی طرح طرح کی سزائیں دی گئیں۔ پھر اپنے پیغمبر اعظم المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین اور منافقین سے تکالیف سہنے کا ذکر کیا اور آپ کو حکم فرمایا کہ اہل کتاب سے بہترین طریق پر مناظرہ کریں۔)

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 15) ➊ {فَاَنْجَيْنٰهُ وَ اَصْحٰبَ السَّفِيْنَةِ:} یہ واقعہ سورۂ ہود (۳۷ تا ۴۸) میں تفصیل کے ساتھ مذکور ہے۔ ➋ { وَ جَعَلْنٰهَاۤ اٰيَةً لِّلْعٰلَمِيْنَ:} اس جملے کے کئی مطلب ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ ہم نے اس واقعہ کو تمام جہانوں کے لیے نشانی بنا دیا کہ جو بھی اسے سنے اس سے عبرت حاصل کرے۔ دوسرا یہ کہ ہم نے اس کشتی کو تمام جہانوں کے لیے نشانی بنا دیا کہ پانی میں غرق ہونے سے بچاؤ کا یہ طریقہ ہے۔ چنانچہ اس کے بعد تمام زمانوں میں انسان نے اس کی مانند کشتیاں بنا کر غرق ہونے سے بچنے کا اور سمندر میں سفر کا بندوبست کیا۔ یہ مضمون ان آیات میں بھی بیان کیا گیا ہے: «{ وَ اٰيَةٌ لَّهُمْ اَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّتَهُمْ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِ (41) وَ خَلَقْنَا لَهُمْ مِّنْ مِّثْلِهٖ مَا يَرْكَبُوْنَ (42) وَ اِنْ نَّشَاْ نُغْرِقْهُمْ فَلَا صَرِيْخَ لَهُمْ وَ لَا هُمْ يُنْقَذُوْنَ (43) اِلَّا رَحْمَةً مِّنَّا وَ مَتَاعًا اِلٰى حِيْنٍ }» [ یٰسٓ: ۴۱ تا ۴۴ ] ”اور ایک نشانی ان کے لیے یہ ہے کہ بے شک ہم نے ان کی نسل کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا۔ اور ہم نے ان کے لیے اس جیسی کئی اور چیزیں بنائیں جن پر وہ سوار ہوتے ہیں۔ اور اگر ہم چاہیں تو انھیں غرق کر دیں، پھر نہ کوئی ان کی فریاد سننے والا ہو اور نہ وہ بچائے جائیں۔ مگر ہماری طرف سے رحمت اور ایک وقت تک فائدہ پہنچانے کی وجہ سے۔“ شاہ عبدالقادر لکھتے ہیں: ”جس وقت یہ سورت اتری ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت سے اصحاب کافروں کی ایذاؤں سے تنگ آکر جہاز پر سوار ہو کر ملک حبشہ کی طرف گئے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ ہجرت کر آئے تب وہ جہاز والے صحابہ بھی سلامتی سے آ ملے۔“ (موضح) گویا نوح علیہ السلام اور سفینۂ نوح کی تاریخ اس رنگ میں دہرائی گئی۔ تیسرا مطلب اس کا یہ ہو سکتا ہے کہ وہ کشتی صدیوں تک جودی پہاڑ کی چوٹی پر موجود رہی اور بعد کی نسلوں کو خبر دیتی رہی کہ اس سرزمین میں کبھی ایسا طوفان آیا تھا جس کی بدولت یہ اتنی بڑی کشتی پہاڑ کی چوٹی پر پہنچی۔ اب بھی اخباروں میں اس کشتی کی تلاش کے لیے مہمات روانہ ہونے کی خبریں آتی رہتی ہیں۔ اس مطلب کی تائید اللہ کے اس فرمان سے ہوتی ہے: «{ وَ حَمَلْنٰهُ عَلٰى ذَاتِ اَلْوَاحٍ وَّ دُسُرٍ (13) تَجْرِيْ بِاَعْيُنِنَا جَزَآءً لِّمَنْ كَانَ كُفِرَ (14) وَ لَقَدْ تَّرَكْنٰهَاۤ اٰيَةً فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ }» [ القمر: ۱۳ تا ۱۵ ] ”اور ہم نے اسے تختوں اور میخوں والی (کشتی) پر سوار کر دیا۔ جو ہماری آنکھوں کے سامنے چل رہی تھی، اس شخص کے بدلے کی خاطر جس کا انکار کیاگیا تھا۔ اور بلاشبہ یقینا ہم نے اسے ایک نشانی بنا کر چھوڑا، تو کیا ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا؟“ چوتھا مطلب اس کا یہ ہو سکتا ہے کہ ہم نے نوح علیہ السلام اور کشتی میں سوار لوگوں کو نجات دی اور اس نجات کو تمام جہانوں کے لیے نشانی بنا دیا، جو کئی لحاظ سے نشانی تھی، ایک یہ کہ طوفان آنے سے پہلے کشتی تیار ہو گئی، دوسرا یہ کہ نوح علیہ السلام نے اپنا اور کشتی میں موجود تمام انسانوں اور جانوروں کی خوراک کا ذخیرہ کر لیا، تیسرا یہ کہ خوراک ختم ہونے سے پہلے پہلے پانی زمین میں جذب ہو کر خشک ہو گیا، جب کہ اتنا بڑا سمندر جو پہاڑوں کی بلندی کے برابر گہرا ہو، اتنی مدت میں کبھی خشک نہیں ہوتا، اگر اتنی جلدی پانی جذب نہ ہوتا تو ان میں سے کوئی زندہ باقی نہ رہتا، چوتھا یہ کہ وہ کشتی اتنی مدت تک ہوا کے تھپیڑوں اور خطرناک بحری جانوروں کے حملوں سے بھی محفوظ رہی۔ ان تمام باتوں میں کشتی کا یا کشتی والوں کا کچھ کمال نہ تھا، یہ ہم تھے جنھوں نے ان تمام چیزوں کا اہتمام کر کے نوح علیہ السلام اور کشتی والوں کو نجات دی اور اس نجات کو تمام جہانوں کے لیے نشانی بنا دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ان چاروں مطالب میں کوئی تضاد نہیں، چاروں بیک وقت مراد ہو سکتے ہیں۔
← پچھلی آیت (14) پوری سورۃ اگلی آیت (16) →