بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ العنكبوت — Surah Ankabut
آیت نمبر 10
کل آیات: 69
قرآن کریم العنكبوت آیت 10
آیت نمبر: 10 — سورۃ العنكبوت islamicurdubooks.com ↗
وَ مِنَ النَّاسِ مَنۡ یَّقُوۡلُ اٰمَنَّا بِاللّٰہِ فَاِذَاۤ اُوۡذِیَ فِی اللّٰہِ جَعَلَ فِتۡنَۃَ النَّاسِ کَعَذَابِ اللّٰہِ ؕ وَ لَئِنۡ جَآءَ نَصۡرٌ مِّنۡ رَّبِّکَ لَیَقُوۡلُنَّ اِنَّا کُنَّا مَعَکُمۡ ؕ اَوَ لَیۡسَ اللّٰہُ بِاَعۡلَمَ بِمَا فِیۡ صُدُوۡرِ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۰﴾
لوگوں میں سے کوئی ایسا ہے جو کہتا ہے کہ ہم ایمان لائے اللہ پر مگر جب وہ اللہ کے معاملہ میں ستایا گیا تو اس نے لوگوں کی ڈالی ہوئی آزمائش کو اللہ کے عذاب کی طرح سمجھ لیا اب اگر تیرے رب کی طرف سے فتح و نصرت آ گئی تو یہی شخص کہے گا کہ "ہم تو تمہارے ساتھ تھے" کیا دنیا والوں کے دلوں کا حال اللہ کو بخوبی معلوم نہیں ہے؟
اور بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو زبانی کہتے ہیں کہ ہم ایمان ﻻئے ہیں لیکن جب اللہ کی راه میں کوئی مشکل آن پڑتی ہے تو لوگوں کی ایذا دہی کو اللہ تعالیٰ کے عذاب کی طرح بنا لیتے ہیں، ہاں اگر اللہ کی مدد آجائے تو پکار اٹھتے ہیں کہ ہم تو تمہارے ساتھی ہی ہیں کیا دنیا جہان کے سینوں میں جو کچھ ہے اس سے اللہ تعالیٰ دانا نہیں ہے؟
اور بعض آدمی کہتے ہیں ہم اللہ پر ایمان لائے پھر جب اللہ کی راہ میں انہیں کوئی تکلیف دی جاتی ہے تو لوگوں کے فتنہ کو اللہ کے عذاب کے برابر سمجھتے ہیں اور اگر تمہارے رب کے پاس سے مدد آئے تو ضرور کہیں گے ہم تو تمہارے ہی ساتھ تھے کیا اللہ خوب نہیں جانتا جو کچھ جہاں بھر کے دلوں میں ہے
اور لوگوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو (زبان سے) کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر ایمان لائے پھر اللہ کی راہ میں جب اسے اذیت پہنچائی جاتی ہے تو وہ ان لوگوں کی آزمائش کو اللہ کے عذاب کے مانند قرار دے دیتا ہے اور اگر آپ کے پروردگار کی طرف سے کوئی مدد پہنچ جائے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم (بھی) تو تمہارے ساتھ تھے کیا جو کچھ دنیا جہاں والوں کے دلوں میں ہے کیا اللہ اس کا سب سے بہتر جاننے والا نہیں ہے۔
اور لوگوں میں سے بعض وہ ہے جو کہتا ہے ہم اللہ پر ایمان لائے، پھر جب اسے اللہ (کے معاملہ) میں تکلیف دی جائے تو لوگوں کے ستانے کو اللہ کے عذاب کی طرح سمجھ لیتا ہے اور یقینا اگر تیرے رب کی طرف سے کوئی مدد آجائے تو یقینا ضرور کہیں گے ہم تو تمھارے ساتھ تھے، اور کیا اللہ اسے زیادہ جاننے والا نہیں جو سارے جہانوں کے سینوں میں ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

مرتد ہونے والے ٭٭

ان منافقوں کا ذکر ہو رہا ہے جو زبانی ایمان کا دعویٰ کر لیتے ہیں لیکن جہاں مخالفین کی طرف سے کوئی دکھ پہنچا کہ یہ اسے اللہ کا عذاب سمجھ کر مرتد ہو جاتے ہیں۔ یہی معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ نے کئے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَمِنَ النَّاسِ مَن يَعْبُدُ اللَّـهَ عَلَىٰ حَرْ‌فٍ فَإِنْ أَصَابَهُ خَيْرٌ‌ اطْمَأَنَّ بِهِ وَإِنْ أَصَابَتْهُ فِتْنَةٌ انقَلَبَ عَلَىٰ وَجْهِهِ خَسِرَ‌ الدُّنْيَا وَالْآخِرَ‌ةَ ذَٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَ‌انُ الْمُبِينُ» ۱؎ [22-الحج:11] ‏‏‏‏ یعنی ’ بعض لوگ ایک کنارے کھڑے ہو کر اللہ کی عبادت کرتے ہیں اگر راحت ملی تو مطمئن ہو گئے اور اگر مصیبت پہنچی تو منہ پھیر لیا۔ ‘ یہاں یہی بیان ہو رہا ہے کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی غنیمت ملی، کوئی فتح ملی تو اپنا دیندار ہونا ظاہر کرنے لگتے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے «الَّذِينَ يَتَرَ‌بَّصُونَ بِكُمْ فَإِن كَانَ لَكُمْ فَتْحٌ مِّنَ اللَّـهِ قَالُوا أَلَمْ نَكُن مَّعَكُمْ وَإِن كَانَ لِلْكَافِرِ‌ينَ نَصِيبٌ قَالُوا أَلَمْ نَسْتَحْوِذْ عَلَيْكُمْ وَنَمْنَعْكُم مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ فَاللَّـهُ يَحْكُمُ بَيْنَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَن يَجْعَلَ اللَّـهُ لِلْكَافِرِ‌ينَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ سَبِيلًا» ۱؎ [4-النساء:141] ‏‏‏‏ یعنی ’ وہ تمہیں دیکھتے رہتے ہیں اگر فتح و نصرت ہوئی تو ہانک لگانے لگتے ہیں کہ کیا ہم تمہارے ساتھ نہیں ہیں؟ اور اگر کافروں کی بن آئی تو ان سے اپنی ساز جتانے لگتے ہیں کہ دیکھو ہم نے تمہارا ساتھ دیا اور تمہیں بچا لیا۔ ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: بہت ممکن ہے کہ اللہ اپنے بندوں کو بالکل ہی غالب کر دے پھر تو یہ اپنی اس چھپی ہوئی حرکت پر صاف نادم ہو جائیں۔ یہاں فرمایا کہ یہ کیا بات ہے؟ انہیں اتنا بھی نہیں معلوم کہ اللہ عالم الغیب ہے۔ وہ جہاں زبانی بات جانتا ہے وہاں قلبی بات بھی اسے معلوم ہے۔ اللہ تعالیٰ بھلائیاں، برائیاں پہنچا کر نیک و بد کو مومن ومنافق کو الگ الگ کر دے گا۔ نفس کے پرستار، نفع کے خواہاں یکسو ہو جائیں گے اور نفع نقصان میں ایمان کو نہ چھوڑنے والے ظاہر ہو جائیں گے۔ جیسے فرمایا «وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتَّىٰ نَعْلَمَ الْمُجَاهِدِينَ مِنكُمْ وَالصَّابِرِ‌ينَ وَنَبْلُوَ أَخْبَارَ‌كُمْ» ۱؎ [47-محمد:31] ‏‏‏‏ ’ ہم تمہیں آزماتے رہا کریں گے یہاں تک کہ تم میں سے مجاہدین کو اور صابرین کو ہم دنیا کے سامنے ظاہر کر دیں اور تمہاری خبریں دیکھ بھال لیں۔ ‘ احد کے امتحان کا ذکر کر کے فرمایا کہ اللہ مومنوں کو جس حالت پر وہ تھے، رکھنے والا نہ تھا جب تک کہ خبیث و طیب کی تمیز نہ کر لے۔

📖 احسن البیان

10-1اس میں اہل نفاق یا کمزور ایمان والوں کا حال بیان کیا گیا ہے کہ ایمان کی وجہ سے انھیں ایذاء پہنچتی ہے تو عذاب الہی کی طرح وہ ان کے لیے ناقابل برداشت ہوتی ہے۔ نتیجتا وہ ایمان سے پھرجاتے اور دین عوام کو اختیار کرلیتے ہیں۔ 10-2یعنی مسلمانوں کو فتح و غلبہ نصیب ہوجائے۔ 10-3یعنی تمہارے دینی بھائی ہیں، یہ وہی مضمون ہے جو دوسرے مقام پر اس طرح بیان فرمایا گیا ہے کہ وہ لوگ تمہیں دیکھتے رہتے ہیں، اگر تمہیں اللہ کی طرف سے فتح ملتی ہی، تو کہتے ہیں کیا ہم تمہارے ساتھ نہیں تھے؟ اور اگر حالات کافروں کے لیے کچھ سازگار ہوتے ہیں تو کافروں سے جا کر کہتے ہیں کہ کیا ہم نے تم کو گھیر نہیں لیا تھا۔ اور مسلمانوں سے تم کو نہیں پجایا تھا۔ (الَّذِيْنَ يَتَرَبَّصُوْنَ بِكُمْ ۚ فَاِنْ كَانَ لَكُمْ فَتْحٌ مِّنَ اللّٰهِ قَالُوْٓا اَلَمْ نَكُنْ مَّعَكُمْ ڮ وَاِنْ كَانَ لِلْكٰفِرِيْنَ نَصِيْبٌ ۙ قَالُوْٓا اَلَمْ نَسْتَحْوِذْ عَلَيْكُمْ وَنَمْنَعْكُمْ مِّنَ الْمُؤْمِنِيْنَ ۭفَاللّٰهُ يَحْكُمُ بَيْنَكُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ ۭ وَلَنْ يَّجْعَلَ اللّٰهُ لِلْكٰفِرِيْنَ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ سَبِيْلًا) 4۔ النساء:141) 10-4یعنی کیا اللہ ان باتوں کو نہیں جانتا جو تمہارے دلوں میں ہے اور تمہارے ضمیروں میں پوشیدہ ہے۔ گو تم زبان سے مسلمانوں کا ساتھی ہونا ظاہر کرتے ہو۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 10) ➊ { وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ …:} یہ وہ لوگ ہیں جو مکہ میں مسلمان ہو گئے، مگر مشرکین کے ساتھ ان کا حال یہ تھا کہ ان کی دی ہوئی ایذا پر صبر نہیں کر سکتے تھے، جب انھیں ایذا دی جاتی تو دل سے شرک کی طرف پلٹ جاتے، مگر مسلمانوں سے یہ بات چھپاتے اور ان کے ساتھ رہتے۔ یہ لوگ منافق تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں ہجرت سے پہلے یہ آیت نازل فرمائی۔ یہ ضحاک اور جابر بن زید کا قول ہے۔ (ابن عاشور) فرمایا، لوگوں میں سے کوئی وہ ہے جو کہتا ہے کہ میں ایمان لایا، پھر جب اسے اللہ کے بارے میں ایذا اور سزا دی جاتی ہے تو وہ لوگوں کی سزا اور ایذا کو اللہ کے عذاب کی طرح سمجھ لیتا ہے، حالانکہ لوگوں کی طرف سے ملنے والی ایذا اور اللہ تعالیٰ کے عذاب کی آپس میں کوئی مشابہت نہیں۔ لوگوں سے ملنے والی سزا محدود ہے جو ختم ہونے والی ہے، زیادہ سے زیادہ موت تک رہ سکتی ہے، جب کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب ہمیشہ کے لیے ہے، لوگوں سے ملنے والی سزا اس کے لیے ثواب کا باعث ہے، جب کہ اللہ کا عذاب اس کے غضب کا نتیجہ ہے، اس لیے اسے چاہیے تھا کہ اللہ کے عذاب سے بچنے کے لیے لوگوں کی ایذا اور سزا پر صبر کرتا اور ہمیشہ کی جنت کا حق دار بنتا، مگر اس نے لوگوں کی ایذا و سزا کو اللہ کے عذاب کی طرح سمجھ لیا اور دین سے پھر گیا، مگر دنیوی مفادات کی خاطر ظاہری تعلق مسلمانوں سے بھی قائم رکھا۔ ➋ { وَ لَىِٕنْ جَآءَ نَصْرٌ مِّنْ رَّبِّكَ …:} چنانچہ اگر کبھی رب تعالیٰ کی طرف سے مدد آ گئی، مسلمانوں کو فتح ہوئی تو کہہ دیں گے ہم تو تمھارے ساتھ تھے، کیا اللہ تعالیٰ اس چیز کو سب سے زیادہ جاننے والا نہیں جو تمام جہانوں کے سینوں میں ہے۔ ابن عاشور فرماتے ہیں: ”معلوم ہوتا ہے کہ مکہ میں ان لوگوں کا دل سے کفر اور ظاہر میں مسلمانوں کے ساتھ رہنا مشرکین کے ساتھ ایک قسم کا طے شدہ معاملہ تھا، کیونکہ یہ سورت مکی ہے۔“ اس مضمون کی آیت یہ ہے: «{ وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يَّعْبُدُ اللّٰهَ عَلٰى حَرْفٍ فَاِنْ اَصَابَهٗ خَيْرٌ اطْمَاَنَّ بِهٖ وَ اِنْ اَصَابَتْهُ فِتْنَةٌ انْقَلَبَ عَلٰى وَجْهِهٖ خَسِرَ الدُّنْيَا وَ الْاٰخِرَةَ ذٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِيْنُ }» [ الحج: ۱۱] ”اور لوگوں میں سے کوئی وہ ہے جو اللہ کی عبادت ایک کنارے پر کرتا ہے، پھر اگر اسے کوئی بھلائی پہنچ جائے تو اس کے ساتھ مطمئن ہوجاتا ہے اور اگر اسے کوئی آزمائش آپہنچے تو اپنے منہ پر اُلٹا پھر جاتا ہے۔ اس نے دنیا اور آخرت کا نقصان اٹھایا، یہی تو صریح خسارہ ہے۔“ ➌ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی ایذا اور مجبور کرنے کی وجہ سے کفر کا ارتکاب کرنے والوں کی دو قسمیں بیان فرمائی ہیں، ایک وہ جنھوں نے مجبوری کی وجہ سے کلمۂ کفر کہہ دیا، مگر دل سے اسلام پر مطمئن رہے، دوسرے وہ جنھوں نے شرح صدر کے ساتھ دل سے کفر اختیار کر لیا، جیسا کہ فرمایا: «{ مَنْ كَفَرَ بِاللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ اِيْمَانِهٖۤ اِلَّا مَنْ اُكْرِهَ وَ قَلْبُهٗ مُطْمَىِٕنٌّۢ بِالْاِيْمَانِ وَ لٰكِنْ مَّنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا }» [ النحل: ۱۰۶ ] ”جو شخص اللہ کے ساتھ کفر کرے اپنے ایمان کے بعد، سوائے اس کے جسے مجبور کیا جائے اور اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو اور لیکن جو کفر کے لیے سینہ کھول دے۔“ زیر تفسیر آیت میں مذکورہ لوگ وہ ہیں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے {” مَنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا “} (جو کفر کے لیے سینہ کھول دے) کے الفاظ کے ساتھ فرمایا ہے۔
← پچھلی آیت (9) پوری سورۃ اگلی آیت (11) →