بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ العنكبوت — Surah Ankabut
آیت نمبر 44
کل آیات: 69
قرآن کریم العنكبوت آیت 44
آیت نمبر: 44 — سورۃ العنكبوت islamicurdubooks.com ↗
خَلَقَ اللّٰہُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ بِالۡحَقِّ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّلۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿٪۴۴﴾
اللہ نے آسمانوں اور زمین کو برحق پیدا کیا ہے، در حقیقت اِس میں ایک نشانی ہے اہلِ ایمان کے لیے
اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو مصلحت اور حق کے ساتھ پیدا کیا ہے، ایمان والوں کے لیے تو اس میں بڑی بھاری دلیل ہے
اللہ نے آسمان اور زمین حق بنائے، بیشک اس میں نشانی ہے مسلمانوں کے لیے،
اللہ نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ بےشک اس میں اہلِ ایمان کیلئے (اس کی قدرت کی) ایک نشانی موجود ہے۔
اللہ نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا، بلاشبہ اس میں ایمان والوں کے لیے یقینا بڑی نشانی ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

مقصد کائنات ٭٭

اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی قدرت کا بیان ہو رہا ہے کہ وہی آسمانوں کا اور زمینوں کا خالق ہے۔ اس نے انہیں کھیل تماشے کے طور پر یا لغو و بے کار نہیں بنایا۔ بلکہ اس لیے کہ یہاں لوگوں کو بسائے۔ پھر ان کی نیکیاں بدیاں دیکھے۔ اور قیامت کے دن ان کے اعمال کے مطابق انہیں جزا سزادے۔ بروں کو ان کی بداعمالیوں پر سزا اور نیکوں کو ان کی نیکیوں پر بہترین بدلہ۔

📖 احسن البیان

44-1یعنی بےفائدہ اور بےمقصد نہیں۔ 44-2یعنی اللہ کے وجود کی، اس کی قدرت اور علم و حکمت کی۔ اور پھر اسی دلیل سے وہ اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ کائنات میں اس کے سوا کوئی معبود نہیں، کوئی حاجت روا اور مشکل کشا نہیں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 44) ➊ { خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ:} یعنی کائنات کا یہ نظام حق پر قائم ہے۔ اس نے اسے نہایت حکمت سے بنایا ہے، بے فائدہ اور بے مقصد نہیں بنایا۔ دیکھیے سورۂ انبیاء (۱۶) اور دخان (۳۸)۔ ➋ {اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّلْمُؤْمِنِيْنَ:} زمین و آسمان کی پیدائش میں صرف ایمان والوں کے لیے نشانیاں ہیں، کیونکہ وہی ان پر غور کرتے ہیں، دوسرے لوگ زمین و آسمان میں اللہ تعالیٰ کی بے شمار قدرتوں اور نشانیوں کے پاس سے گزر جاتے ہیں مگر دھیان ہی نہیں کرتے۔ (دیکھیے سورۂ یوسف: ۱۰۶) جو لوگ دل میں جذبۂ ایمان رکھتے ہوئے اس نظام کائنات پر غور کریں گے ان پر یہ حقیقت کھل جائے گی کہ یہ نظام نہ کسی خالق کے بغیر بنا ہے اور نہ اس کے ایک سے زیادہ خالق ہو سکتے ہیں، بس ایک ہی ذات پاک ہے جس نے اسے پیدا کیا اور وہی اس کی حق دار ہے کہ اس کی عبادت کی جائے۔ انھی غور و فکر کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے {” لِقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ “} قرار دیا ہے۔ (دیکھیے بقرہ: ۱۶۴) اور انھی کو {” لِاُولِي الْاَلْبَابِ “} قرار دیا ہے۔ (دیکھیے آل عمران: ۱۹۰)
← پچھلی آیت (43) پوری سورۃ اگلی آیت (45) →