بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ العنكبوت — Surah Ankabut
آیت نمبر 45
کل آیات: 69
قرآن کریم العنكبوت آیت 45
آیت نمبر: 45 — سورۃ العنكبوت islamicurdubooks.com ↗
اُتۡلُ مَاۤ اُوۡحِیَ اِلَیۡکَ مِنَ الۡکِتٰبِ وَ اَقِمِ الصَّلٰوۃَ ؕ اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنۡہٰی عَنِ الۡفَحۡشَآءِ وَ الۡمُنۡکَرِ ؕ وَ لَذِکۡرُ اللّٰہِ اَکۡبَرُ ؕ وَ اللّٰہُ یَعۡلَمُ مَا تَصۡنَعُوۡنَ ﴿۴۵﴾
(اے نبیؐ) تلاوت کرو اس کتاب کی جو تمہاری طرف وحی کے ذریعہ سے بھیجی گئی ہے اور نماز قائم کرو، یقیناً نماز فحش اور بُرے کاموں سے روکتی ہے اور اللہ کا ذکر اس سے بھی زیادہ بڑی چیز ہے اللہ جانتا ہے جو کچھ تم لوگ کرتے ہو
جو کتاب آپ کی طرف وحی کی گئی ہے اسے پڑھئے اور نماز قائم کریں، یقیناً نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے، بیشک اللہ کا ذکر بہت بڑی چیز ہے، تم جو کچھ کر رہے ہو اس سے اللہ خبردار ہے
اے محبوب! پڑھو جو کتاب تمہاری طرف وحی کی گئی اور نماز قائم فرماؤ، بیشک نماز منع کرتی ہے بے حیائی اور بری بات سے اور بیشک اللہ کا ذکر سب سے بڑا اور اللہ جانتا ہے جو تم کرتے ہو،
(اے رسول(ص)) آپ اس (کتاب) کی تلاوت کریں جو آپ کی طرف وحی کی گئی ہے اور نماز قائم کریں۔ بے شک نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے اور اللہ کا ذکر سب سے بڑی چیز ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے جانتا ہے.
اس کی تلاوت کر جو کتاب میں سے تیری طرف وحی کی گئی ہے اور نماز قائم کر، بے شک نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے اور یقینا اللہ کا ذکر سب سے بڑا ہے اور اللہ جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔

📖 تفسیر ابن کثیر

اخلاص خوف اور اللہ کا ذکر ٭٭

اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اور ایمان داروں کو حکم دے رہا ہے کہ وہ قرآن کریم کی تلاوت کرتے رہیں اور اسے اوروں کو بھی سنائیں اور نمازوں کی نگہبانی کریں اور پابندی سے پڑھتے رہا کریں۔ نماز انسان کو ناشائستہ کاموں اور نالائق حرکتوں سے باز رکھتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { جس نمازی کی نماز نے اسے گناہوں سے اور سیاہ کاریوں سے باز نہ رکھا وہ اللہ سے بہت دور ہو جاتا ہے۔ } ابن ابی حاتم میں ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کی تفسیر دریافت کی گئی تو آپ نے فرمایا: { جسے اس کی نماز بےجا اور فحش کاموں سے نہ روکے تو سمجھ لو کہ اس کی نماز اللہ کے ہاں مقبول نہیں ہوئی۔ } ۱؎ [ضعیف و منقطع] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ { وہ اللہ سے دور ہی ہوتا چلا جائے گا }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:11025:ضعیف] ‏‏‏‏ ایک موقوف روایت میں ہے، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ { جو نمازی بھلے کاموں میں مشغول اور برے کاموں سے بچنے والا نہ ہو سمجھ لو کہ اس کی نماز اسے اللہ سے اور دور کرتی جا رہی ہے۔ } رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جو نماز کی بات نہ مانے اس کی نماز نہیں، نماز بےحیائی سے اور بدفعلیوں سے روکتی ہے، اس کی اطاعت یہ ہے کہ ان بےہودہ کاموں سے نمازی رک جائے۔ } شعیب علیہ السلام سے جب ان کی قوم نے کہا کہ اے شعیب علیہ السلام! کیا تمہیں تمہاری نماز حکم کرتی ہے تو سفیان رحمہ اللہ نے اس کی تفسیر میں فرمایا کہ { ہاں اللہ کی قسم! نماز حکم بھی کرتی ہے اور منع بھی کرتی ہے۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:27784:ضعیف و منقطع] ‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کسی نے کہا: فلاں شخص بڑی لمبی نماز پڑھتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { نماز اسے نفع دیتی ہے جو اس کا کہا مانے۔ } میری تحقیق میں اوپر جو مرفوع روایت بیان ہوئی ہے اس کا بھی موقوف ہونا ہی زیادہ صحیح ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

بزار میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! فلاں شخص نماز پڑھتا ہے لیکن چوری نہیں چھوڑتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب اس کی نماز اس کی یہ برائی چھڑا دے گی۔ } ۱؎ [مسند احمد:447/2:صحیح] ‏‏‏‏ چونکہ نماز ذکر اللہ کا نام ہے اسی لیے اس کے بعد ہی فرمایا اللہ کی یاد بڑی چیز ہے اللہ تعالیٰ تمہاری تمام باتوں سے اور تمہارے کل کاموں سے باخبر ہے۔ ابوالعالیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں نماز میں تین چیزیں ہیں اگر یہ نہ ہوں تو نماز نماز نہیں۔ ۱۔ اخلاص وخلوص ۲۔ خوف الہی اور ۳۔ ذکر اللہ۔ اخلاص سے تو انسان نیک ہو جاتا ہے اور خوف الہی سے انسان گناہوں کو چھوڑ دیتا ہے اور ذکر اللہ یعنی قرآن اسے بھلائی و برائی بتا دیتا ہے وہ حکم بھی کرتا ہے اور منع بھی کرتا ہے۔ ابن عون انصاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب تو نماز میں ہو تو نیکی میں ہے اور نماز تجھے فحش اور منکر سے بچائے ہوئے ہے۔ اور اس میں جو کچھ تو ذکر اللہ کررہا ہے وہ تیرے لیے بڑے ہی فائدے کی چیز ہے۔ حماد رحمہ اللہ کا قول ہے کہ کم سے کم حالت نماز میں تو برائیوں سے بچا رہے گا۔ ایک راوی سے ابن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ قول مروی ہے کہ جو بندہ یاد اللہ کو یاد کرتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اسے یاد کرتا ہے۔ اس نے کہا: ہمارے ہاں جو صاحب ہیں وہ تو کہتے ہیں کہ مطلب اس کا یہ ہے کہ جب تم اللہ کا ذکر کرو گے تو وہ تمہاری یاد کرے گا اور یہ بہت بڑی چیز ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے «فَاذْكُرُ‌ونِي أَذْكُرْ‌كُمْ» ۱؎ [2-البقرة:152] ‏‏‏‏ ’ تم میری یاد کرو میں تمہاری یاد کرونگا۔ ‘ اسے سن کر آپ نے فرمایا: اس نے سچ کہا۔ یعنی دونوں مطلب درست ہیں۔ یہ بھی اور وہ بھی اور خود ابن عباس سے یہ بھی تفسیر مروی ہے۔ عبداللہ بن ربیعہ رحمہ اللہ سے ایک مرتبہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے دریافت فرمایا کہ اس جملے کا مطلب جانتے ہو؟ انہوں نے کہا ہاں اس سے مراد نماز میں «سُبْحَانَ اللہِ، اَلْحَمْدُلِلہِ، اَللہُ اَکْبَرُ» وغیرہ کہنا ہے۔ آپ نے فرمایا: تو نے عجیب بات کہی یہ یوں نہیں ہے بلکہ مقصود یہ ہے کہ حکم کے اور منع کے وقت اللہ کا تمہیں یاد کرنا تمہارے ذکر اللہ سے بہت بڑا اور بہت اہم ہے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود، سیدنا ابودرداء، سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہم وغیرہ سے بھی یہی مروی ہے۔ اور اسی کو امام ابن جریر رحمہ اللہ پسند فرماتے ہیں۔

📖 احسن البیان

45-1قرآن کریم کی تلاوت متعدد مقاصد کے لئے مطلوب ہے۔ محض اجر وثواب کے لئے، اس کے معنی و مطلب پر تدبر و تفکر کے لئے، تعلیم و تدریس کے لئے، اور وعظ و نصیحت کے لئے، اس حکم تلاوت میں ساری صورتیں شامل ہیں۔ 45-2کیونکہ نماز سے (بشرطیکہ نماز ہو) انسان کا تعلق اللہ تعالیٰ کے ساتھ قائم ہوجاتا ہے، جس سے انسان کو اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل ہوتی ہے جو زندگی کے ہر موڑ پر اس کے عزم و ثبات کا باعث، اور ہدایت کا ذریعہ ثابت ہوتی ہے اس لیے قرآن کریم میں کہا گیا ہے کہ اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو۔ نماز اور صبر کوئی مرئی چیز نہیں ہے نہیں کہ انسان انکا سہارا پکڑ کر ان سے مدد حاصل کرلے۔ یہ تو غیر مرئی چیز ہے مطلب یہ ہے کہ ان کے ذریعے سے انسان کا اپنے رب کے ساتھ جو خصوصی ربط وتعلق پیدا ہوتا ہے وہ قدم قدم پر اس کی دستگیری اور رہنمائی کرتا ہے اسی لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کی تنہائی میں تہجد کی نماز بھی پڑھنے کی تاکید کی گئی کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے جو عظیم کام سونپا گیا تھا، اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کی مدد کی بہت زیادہ ضرورت تھی اور یہی وجہ ہے کہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی جب کوئی اہم مرحلہ درپیش ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کا اہتمام فرماتے۔ 45-3یعنی بےحیائی اور برائی سے روکنے کا سبب اور ذریعہ بنتی ہے جس طرح دواؤں کی مختلف تاثیرات ہیں اور کہا جاتا ہے کہ فلاں دوا فلاں بیماری کو روکتی ہے اور واقعتا ایسا ہوتا ہے لیکن کب؟ جب دو باتوں کا التزام کیا جائے ایک دوائی کو پابندی کے ساتھ اس طریقے اور شرائط کے ساتھ استعمال کیا جائے جو حکیم اور ڈاکٹر بتلائے۔ دوسرا پرہیز یعنی ایسی چیزوں سے اجتناب کیا جائے جو اس دوائی کے اثرات کو زائل کرنے والی ہوں۔ اسی طرح نماز کے اندر بھی یقینا اللہ نے ایسی روحانی تاثیر رکھی ہے کہ یہ انسان کو بےحیائی اور برائی سے روکتی ہے لیکن اسی وقت جب نماز کو سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق ان آداب و شرائط کے ساتھ پڑھا جائے جو اس کی صحت و قبولیت کے ضروری ہیں۔ مثلا اس کے لیے پہلی چیز اخلاص ہے، ثانیا طہارت قلب یعنی نماز میں اللہ کے سوا کسی اور کی طرف التفات نہ ہو۔ ثالثا باجماعت اوقات مقررہ پر اس کا اہتمام۔ رابعا ارکان صلاۃ قرأت رکوع قومہ سجدہ وغیرہ میں اعتدال و اطمینان خامسا خشوع وخضوع اور رقت کی کیفیت۔ سادسا مواظبت یعنی پابندی کے ساتھ اس کا التزام سابعا رزق حلال کا اہتمام۔ ہماری نمازیں ان آداب و شرائط سے عاری ہیں۔ اس لیے ان کے وہ اثرات بھی ہماری زندگی میں ظاہر نہیں ہو رہے ہیں جو قرآن کریم میں بتلائے گئے ہیں۔ بعض نے اس کے معنی امر کے کیے ہیں۔ یعنی نماز پڑھنے والے کو چاہیے کہ بےحیائی کے کاموں سے اور برائی سے رک جائے۔ 45-4یعنی بےحیائی اور برائی سے روکنے میں اللہ کا ذکر، اقامت صلٰوۃ سے زیادہ مؤثر۔ اس لئے کہ آدمی جب تک نماز میں ہوتا ہے، برائی سے رکا رہتا ہے۔ لیکن بعد میں اس کی تاثیر کمزور ہوجاتی ہے، اس کے برعکس ہر وقت اللہ کا ذکر اس کے لئے ہر وقت برائی میں مانع رہتا ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 45) ➊ { اُتْلُ مَاۤ اُوْحِيَ اِلَيْكَ مِنَ الْكِتٰبِ …:} مکہ مکرمہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں پر جو ظلم و ستم ہو رہا تھا اور انھیں ایمان پر ثابت قدم رہنے میں جو مشکلات پیش آرہی تھیں سورت کے شروع سے یہاں تک انھیں ان مشکلات کو برداشت کرنے اور ان پر استقامت اختیار کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی آزمائش کی سنت بیان کی گئی۔ اس کے نمونے کے لیے پہلے اولو العزم پیغمبروں کی آزمائش اور ان کی قوموں کے شدید معاندانہ رویے پر ان کے صبر کو بیان کیا گیا، ساتھ ہی نافرمان اقوام کا عبرت ناک انجام ذکر کیا گیا۔ مقصد مسلمانوں کو تسلی دینا اور مشکل سے مشکل حالات میں استقامت کی تلقین ہے۔ اب وہ عملی تدبیر بتائی جس سے مومن میں وہ صلاحیت پیدا ہوتی ہے جس سے وہ باطل کے مقابلے میں کھڑا رہ سکتا ہے اور اس وقت بھی اللہ تعالیٰ کے احکام پر کار بند رہ سکتا ہے جب ہر طرف بے حیائی اور برائی کا دور دورہ اور اس کی زبردست اشاعت اور ترغیب موجود ہو۔ ➋ { اُتْلُ مَاۤ اُوْحِيَ اِلَيْكَ مِنَ الْكِتٰبِ:} اس مقصد کے لیے پہلا حکم کتاب اللہ کی تلاوت ہے۔ یہاں قابلِ غور بات یہ ہے کہ دوسرے مقامات پر دوسرے لوگوں کو پڑھ کر سنانے کا حکم ہے، مثلاً سورۂ مائدہ میں ہے: «{ وَ اتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَاَ ابْنَيْ اٰدَمَ بِالْحَقِّ }» [المائدۃ: ۲۷ ] ”اور ان پر آدم کے دو بیٹوں کی خبر کی تلاوت حق کے ساتھ کر۔“ سورۂ اعراف میں ہے: «{ وَ اتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَاَ الَّذِيْۤ اٰتَيْنٰهُ اٰيٰتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا }» [ الأعراف: ۱۷۵ ] ”اور انھیں اس شخص کی خبر پڑھ کر سنا جسے ہم نے اپنی آیات عطا کیں تو وہ ان سے صاف نکل گیا۔“ سورۂ یونس میں ہے: «{ وَ اتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَاَ نُوْحٍ }» [ یونس: ۷۱ ] ”اور ان پر نوح کی خبر پڑھ۔“ اور سورۂ شعراء میں ہے: «{ وَ اتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَاَ اِبْرٰهِيْمَ }» [ الشعراء: ۶۹ ] ”اور ان پر ابراہیم کی خبر پڑھ۔“ مگر اس مقام پر مطلق تلاوت کا حکم ہے، جس میں سب سے پہلے خود تلاوت کا حکم ہے، پھر تمام لوگوں کے لیے تلاوت کا حکم ہے، ایک اور مقام پر بھی اسی طرح مطلق تلاوت کا حکم ہے، فرمایا: «{ وَ اتْلُ مَاۤ اُوْحِيَ اِلَيْكَ مِنْ كِتَابِ رَبِّكَ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ وَ لَنْ تَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًا }» [ الکہف: ۲۷ ] ”اور اس کی تلاوت کر جو تیری طرف تیرے رب کی کتاب میں سے وحی کی گئی ہے، اس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں اور نہ اس کے سوا تو کبھی کوئی پناہ کی جگہ پائے گا۔“ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن مجید کو سننے اور اس کی تلاوت سے دل کو سکون و ثبات حاصل ہوتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ قَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَيْهِ الْقُرْاٰنُ جُمْلَةً وَّاحِدَةً كَذٰلِكَ لِنُثَبِّتَ بِهٖ فُؤَادَكَ وَ رَتَّلْنٰهُ تَرْتِيْلًا }» [ الفرقان: ۳۲ ] ”اور ان لوگوں نے کہا جنھوں نے کفر کیا، یہ قرآن اس پر ایک ہی بار کیوں نہ نازل کر دیا گیا؟ اسی طرح (ہم نے اتارا) تاکہ ہم اس کے ساتھ تیرے دل کو مضبوط کریں اور ہم نے اسے ٹھہر ٹھہر کر پڑھا، خوب ٹھہر کر پڑھنا۔“ قرآن کی تلاوت ہی سے دل میں ایمان، کردار کی پختگی اور مصائب و مشکلات برداشت کرنے کی طاقت پیدا ہوتی ہے اور یہ بات تجربے سے ثابت ہے کہ جس شاعر یا مصنف کا کلام بار بار پڑھا جائے آدمی کو اس سے محبت ہو جاتی ہے، اس لیے قرآن کی تلاوت اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے، پھر اس میں مذکور اللہ تعالیٰ کی توحید، اس کی صفات، اس کے احکام و مواعظ اور پہلی امتوں اور پیغمبروں کے واقعات بار بار پڑھنے سے اللہ تعالیٰ کا دین ہر وقت آنکھوں کے سامنے رہتا ہے، جس سے اس پر عمل آسان ہوجاتا ہے۔ رات کے قیام میں اس کی تلاوت کی برکات کا تو شمار ہی نہیں۔ (دیکھیے سورۂ مزمل) اس طرح کثرتِ تلاوت کے ساتھ قرآن سینے میں محفوظ ہوجاتا اور محفوظ رہتا ہے، جس پر آدمی خود بھی عمل کر سکتا ہے اور دوسروں کو بھی اس کی دعوت و تبلیغ کر سکتا ہے اور اس کی تعلیم دے سکتا ہے، اگر اس کی تلاوت میں سستی کی جائے تو یہ بہت جلد سینے سے نکل جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ تَعَاهَدُوا الْقُرْآنَ فَوَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِيَدِهِ لَهُوَ أَشَدُّ تَفَصِّيًا مِنَ الْإِبِلِ فِيْ عُقُلِهَا ] [ بخاري، فضائل القرآن، باب استذکار القرآن و تعاھدہ: ۵۰۳۳ ] ”قرآن کا دھیان رکھو، کیونکہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! وہ اس سے بھی جلدی چھوٹ کر نکل جاتا ہے جتنی جلدی اونٹ اپنی رسیوں میں سے نکل جاتے ہیں۔“ بڑے ہی بد نصیب ہیں وہ لوگ جو قرآن کو محض ایک خط قرار دے کر اس کی تلاوت کو بے کار مشغلہ قرار دیتے ہیں۔ ➌ اگرچہ قرآن کی تلاوت جس طرح بھی ہو فائدے اور ثواب سے خالی نہیں، مگر اس کا حقیقی فائدہ تبھی حاصل ہو سکتا ہے جب اسے سمجھ کر پڑھا جائے، کیونکہ اس کے بغیر اس پر تدبر ممکن نہیں، جو اس کا اصل مقصد ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ اَفَلَا يَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰى قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا }» [ محمد: ۲۴ ] ”تو کیا وہ قرآن میں غور نہیں کرتے، یا کچھ دلوں پر ان کے قفل پڑے ہوئے ہیں؟“ سمجھ کر پڑھنے ہی سے آدمی اس پر عمل کرسکتا ہے اور اسی سے اس میں باطل سے مقابلے کا جذبہ اور اس کی قوت پیدا ہوتی ہے۔ اکثر اہلِ کتاب کی بربادی کا باعث یہی ہوا کہ وہ تعلیم اور عمل کے بغیر تورات کے لفظوں کی تلاوت پر قانع ہو گئے۔ دیکھیے سورۂ بقرہ کی آیت (۷۸) کی تفسیر۔ آج کل مسلمانوں کی اکثریت کا بھی یہی حال ہے۔ کتاب اللہ کی تلاوت میں اس کا لوگوں کو سنانا اور دعوت دینا بھی شامل ہے۔ ➍ { وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ:} دوسرا حکم نماز کی اقامت کا ہے، کیونکہ اس سے آدمی میں اپنے رب کے ساتھ وہ تعلق پیدا ہو جاتا ہے جو اس کے لیے ہر مصیبت اور مشکل میں مدد گار ثابت ہوتا ہے۔ (دیکھیے بقرہ: ۴۵، ۴۶) ”اقامتِ صلاۃ“ میں صلاۃ سے مراد تمام فرض نمازیں ہیں اور قائم کرنے سے مراد انھیں درست طریقے سے ادا کرنا ہے، جیسا کہ سورۂ بقرہ کی آیت (۳) کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔ ➎ { اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ:اِنَّ “} عموماً تعلیل کے لیے ہوتا ہے، یعنی نماز قائم کرنے کا حکم اس لیے ہے کہ نماز {” الْفَحْشَآءِ “} اور {” الْمُنْكَرِ “} سے روکتی ہے۔ {” الْفَحْشَآءِ “} کوئی بھی قول یا فعل جس میں بہت بڑی قباحت ہو۔ (راغب) مثلاً زنا وغیرہ اور {” الْمُنْكَرِ “} وہ قول و عمل جس کا انسانی فطرت اور عقل انکار کرتی ہو۔ نماز کے بے حیائی اور برائی سے روکنے کے دو مطلب ہوسکتے ہیں، ایک یہ کہ نماز میں یہ تاثیر ہے کہ اس سے انسان بے حیائی اور برائی سے باز آجاتا ہے۔ دوسرا یہ کہ نماز کا نمازی سے تقاضا یہ ہے کہ وہ بے حیائی اور برائی سے باز آجائے۔ یہ دونوں مطلب درست ہیں اور ایک دوسرے کو لازم وملزوم ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ وہ آدمی جو نماز کو اس کے اوقات پر جماعت کے ساتھ ادا کرے، اس کے ارکان و شروط اور خشوع کا خیال رکھتے ہوئے صحیح طریقے سے ادا کرے، اس میں پڑھی جانے والی فاتحہ اور دوسری دعاؤں کے ذریعے سے دل کی حاضری کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے مناجات کرے اور باربار {”رَبِّ اغْفِرْلِيْ“} اور استغفار کی دوسری دعاؤں کے ساتھ بخشش کی درخواست کرے اور اس پر ہمیشگی اختیار کرے، تو یقینا نماز اسے بے حیائی اور برائی سے روک دے گی۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: [ إِنَّ فُلاَنًا يُصَلِّيْ بِاللَّيْلِ، فَإِذَا أَصْبَحَ سَرَقَ قَالَ إِنَّهُ سَيَنْهَاهُ مَا تَقُوْلُ ] [ مسند أحمد: 447/2، ح: ۹۷۹۲، قال المحقق صحیح ] ”فلاں شخص رات نماز پڑھتا ہے، جب صبح ہوتی ہے تو چوری کرتا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عنقریب اس کا یہ عمل اسے اس کام سے روک دے گا جو تو کہہ رہا ہے۔“ یہاں ایک سوال ہے کہ کیا وجہ ہے کہ کئی لوگ نماز ادا کرتے ہیں مگر بے حیائی اور برائی سے باز نہیں آتے؟ اس کے دو جواب ہیں، ایک یہ کہ اگر وہ نماز کو اخلاص اور اس کے ارکان و آداب اور خشوع کا خیال رکھتے ہوئے دل کی حاضری کے ساتھ روزانہ پانچ مرتبہ مسجد میں باجماعت ادا کرتے تو یقینا ان کی نماز انھیں فحشاء اور منکر سے باز رکھتی۔ اگر اس کا یہ اثر ظاہر نہیں ہوا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ نماز میں خلل ہے، دوا کے اجزا پورے نہیں، تبھی شفا نہیں ہوئی۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ نماز تو کہتی ہے کہ جب تو ہر کام چھوڑ کر مسجد میں آ گیا، تیرے باوضو ہونے سے اور تیرے ادا کیے جانے والے الفاظ سے تیرے رب کے سوا کوئی واقف نہیں، پھر بھی تو بے وضو نماز نہیں پڑھتا، نماز میں فضول بات نہیں کرتا، تو جس رب کے ڈر سے نماز میں اس کی نافرمانی سے پرہیز کرتا ہے نماز کے بعد بھی تجھے اس کے خوف سے ہر بے حیائی اور برائی سے اجتناب لازم ہے۔ نماز بہر حال بے حیائی اور برائی سے منع کرتی ہے، کوئی اس کا کہا نہ مانے تو اس کی مرضی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ بھی بے حیائی اور برائی سے منع کرتا ہے، فرمایا: «{ وَ يَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ وَ الْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ }» [ النحل: ۹۰ ] ”اور اللہ بے حیائی اور برائی اور سرکشی سے منع کرتا ہے، وہ تمھیں نصیحت کرتا ہے، تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔“ پھر کوئی اس کا حکم مانتا ہے، کوئی نہیں مانتا۔ ➏ اس مقام پر کتبِ تفسیر میں چند احادیث مروی ہیں جو سنداً ثابت نہیں ہیں۔ تفسیر ابن کثیر میں سے وہ روایات اس کے محقق دکتور حکمت بن بشیر کی تحقیق کے ساتھ نقل کی جاتی ہیں: (1) ابن ابی حاتم نے عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کے فرمان {” اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ “} کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَنْ لَّمْ تَنْهَهُ صَلَاتُهُ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ فَلَا صَلَاةَ لَهُ ] ”جس شخص کی نماز اسے فحشاء اور منکر سے نہ روکے اس کی کوئی نماز نہیں۔“ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن ابی عثمان مجہول ہے۔ (2) ابن ابی حاتم اور طبرانی نے ابن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَنْ لَّمْ تَنْهَهُ صَلَاتُهُ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ لَمْ يَزْدَدْ بِهَا مِنَ اللّٰهِ إِلَّا بُعْدًا ] ”جس شخص کی نماز اسے بے حیائی اور برائی سے نہ روکے اس نماز کے ساتھ اس کی اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوری ہی میں اضافہ ہو گا۔“ یہ روایت لیث بن ابی سلیم راوی کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے۔ (3) ابن جریر طبری نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَّمْ يُطِعِ الصَّلَاةَ وَطَاعَةُ الصَّلَاةِ تَنْهَاهُ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ ] ”جو شخص نماز کی اطاعت نہ کرے اس کی نماز نہیں اور نماز کی اطاعت اسے فحشاء اور منکر سے روکے گی۔“ اس کی سند میں دو راوی جویبر اور حسین (بن داؤد) ضعیف ہیں اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرنے والے راوی ضحاک کی ان سے ملاقات ثابت نہیں۔ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے ان تمام روایات کے متعلق فرمایا: ”زیادہ صحیح یہ ہے کہ یہ موقوف (صحابہ کے اقوال) ہیں (مگر صحابہ سے بھی اکثر اقوال کی سند کمزور ہے)۔“ یہ روایات جن میں برائی سے نہ روکنے والی نماز کو کالعدم اور اللہ تعالیٰ سے دوری کا باعث بیان کیا گیا ہے، ان کی حقیقت میں نے اس لیے بیان کر دی ہے کہ ایسا فتویٰ لگانے والا شخص فتویٰ کی سنگینی پر غور کرے اور اس بات پر بھی کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے ایسی بات لگا رہا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں۔ ➐ { وَ لَذِكْرُ اللّٰهِ اَكْبَرُ:} اس کے تین مطلب بیان کیے گئے ہیں، ایک یہ کہ نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے اور وہ کیوں نہ روکے گی جب کہ وہ اللہ کا ذکر ہے، جیسے فرمایا: «{ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِيْ }» [ طٰہٰ: ۱۴ ] ”اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔“ اور یقینا اللہ کا ذکر اور اس کی یاد برائی اور بے حیائی سے روکنے میں سب سے بڑی چیز ہے۔ دوسرا یہ کہ نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے اور یقینا اللہ کا ذکر اور اس کی یاد نماز میں ہو یا اس کے بعد، فحشاء اور منکر سے روکنے میں سب سے بڑی چیز ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی یاد، اس کا دھیان اور ہر وقت اسے پیش نظر رکھنا ہی آدمی کو گناہ سے باز رکھتا ہے اور گناہ اسی وقت سر زد ہوتا ہے جب آدمی اس بات سے غافل ہوتا ہے کہ میرا مالک مجھے دیکھ رہا ہے۔ اوپر کے دونوں مطلب اس وقت ہیں جب لفظ {”ذِكْرٌ“} اپنے مفعول کی طرف مضاف مانا جائے اور ترجمہ یہ کیا جائے کہ (بندے کا) اللہ تعالیٰ کو یاد کرنا سب سے بڑی بات ہے۔ تیسرے مطلب کے مطابق لفظ {”ذِكْرٌ“} اپنے فاعل کی طرف مضاف ہے، ترجمہ یہ ہوگا کہ یقینا اللہ تعالیٰ کا (اپنے بندے کو) یاد کرنا سب سے بڑی بات ہے۔ یعنی نماز میں بندہ اپنے رب کا ذکر کرتا اور اسے یاد کرتا ہے تو یہ بڑی بات ہے، لیکن اس کے جواب میں ادھر سے اللہ تعالیٰ جو بندے کا ذکر کرتا اور اسے یاد کرتا ہے یہ سب سے بڑی بات ہے۔ یہ تفسیر امام طبری نے معتبر سند کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ عنھما سے نقل فرمائی ہے۔ اس تفسیر میں اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرف اشارہ ہے: «{ فَاذْكُرُوْنِيْۤ اَذْكُرْكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِيْ وَ لَا تَكْفُرُوْنِ }» [ البقرۃ: ۱۵۲ ] ”سو تم مجھے یاد کرو، میں تمھیں یاد کروں گا اور میرا شکر کرو اور میری نا شکری مت کرو۔“ ➑ بعض مفسرین نے نماز کے برائی اور بے حیائی سے روکنے کا مطلب یہ بیان فرمایا ہے کہ جتنی دیر آدمی نماز میں رہے گا کم از کم اتنی دیر تو بے حیائی اور برائی سے باز رہے گا۔ شاہ عبد القادر لکھتے ہیں: ”جتنی دیر نماز میں لگے اتنا تو ہر گناہ سے بچے، امید ہے آگے بھی بچتا رہے اور اللہ کی یاد کو اس سے زیادہ اثر ہے، یعنی گناہ سے بچے اور اعلیٰ درجوں پر چڑھے۔“ (موضح) بعض لوگوں نے اس تفسیر پر اعتراض کیا ہے کہ نماز کے علاوہ بھی کئی کام ہیں جن میں مصروف رہنے تک آدمی گناہ سے بچا رہتا ہے، مگر یہ اعتراض بے سود ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ صرف نماز ہی بے حیائی سے روکتی ہے۔ ➒ { وَ اللّٰهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُوْنَ:} یعنی نیک یا بد جو بھی عمل تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے اور تمھیں اس کی جزا یا سزا دے گا۔ اس میں بشارت بھی ہے اور نذارت بھی۔ یہ الفاظ اس بات کی دلیل ہیں کہ آیت کے شروع میں {” اُتْلُ مَاۤ اُوْحِيَ اِلَيْكَ مِنَ الْكِتٰبِ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ “} کے مخاطب اگرچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، مگر مراد آپ کے ساتھ پوری امت بھی ہے، اسی لیے آیت کے آخر میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔
← پچھلی آیت (44) پوری سورۃ اگلی آیت (46) →