بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ العنكبوت — Surah Ankabut
آیت نمبر 48
کل آیات: 69
قرآن کریم العنكبوت آیت 48
آیت نمبر: 48 — سورۃ العنكبوت islamicurdubooks.com ↗
وَ مَا کُنۡتَ تَتۡلُوۡا مِنۡ قَبۡلِہٖ مِنۡ کِتٰبٍ وَّ لَا تَخُطُّہٗ بِیَمِیۡنِکَ اِذًا لَّارۡتَابَ الۡمُبۡطِلُوۡنَ ﴿۴۸﴾
(اے نبیؐ) تم اس سے پہلے کوئی کتاب نہیں پڑھتے تھے اور نہ اپنے ہاتھ سے لکھتے تھے، اگر ایسا ہوتا تو باطل پرست لوگ شک میں پڑ سکتے تھے
اس سے پہلے تو آپ کوئی کتاب پڑھتے نہ تھے اور نہ کسی کتاب کو اپنے ہاتھ سے لکھتے تھے کہ یہ باطل پرست لوگ شک وشبہ میں پڑتے
اور اس سے پہلے تم کوئی کتاب نہ پڑھتے تھے اور نہ اپنے ہاتھ سے کچھ لکھتے تھے یوں ہوتا تو باطل ضرور شک لاتے
اور (اے رسول(ص)) آپ اس (نزولِ قرآن) سے پہلے نہ کوئی کتاب پڑھتے تھے اور نہ ہی اپنے دائیں ہاتھ سے کچھ لکھتے تھے اگر ایسا ہوتا تو یہ اہلِ باطل ضرور (آپ کی نبوت میں) شک کرتے۔
اور تو اس سے پہلے نہ کوئی کتاب پڑھتا تھا اور نہ اسے اپنے دائیں ہاتھ سے لکھتا تھا، اس وقت باطل والے لوگ ضرور شک کرتے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

پھر فرماتا ہے: اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! تم ان میں مدت العمر تک رہ چکے ہو اس قرآن کے نازل ہونے سے پہلے اپنی عمر کا ایک بڑا حصہ ان میں گزار چکے ہو انہیں خوب معلوم ہے کہ آپ پڑھے لکھے نہیں، ساری قوم اور سارا ملک بخوبی علم رکھتا ہے کہ آپ محض امی ہیں نہ لکھنا جانتے ہیں نہ پڑھنا۔ پھر آج جو آپ کو انوکھی فصیح وبلیغ اور پر از حکمت کتاب پڑھتے ہیں ظاہر ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے ہے۔ آپ اس حالت میں ایک حرف پڑھے ہوئے نہیں خود تصنیف وتالیف کر نہیں سکتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی صفت اگلی کتابوں میں تھی جیسے قرأت ناقل ہے «الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّ‌سُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِندَهُمْ فِي التَّوْرَ‌اةِ وَالْإِنجِيلِ يَأْمُرُ‌هُم بِالْمَعْرُ‌وفِ وَيَنْهَاهُمْ عَنِ الْمُنكَرِ‌» ۱؎ [7-الأعراف:157] ‏‏‏‏ یعنی ’ جو لوگ پیروی کرتے ہیں اس رسول و نبی امی کی جس کی صفات وہ اپنی کتاب توراۃ اور انجیل میں لکھی ہوئی پاتے ہیں جو انہیں نیکیوں کا حکم کرتا ہے اور برائیوں سے روکتا ہے۔ ‘ لطف یہ ہے کہ اللہ کے معصوم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ لکھنے سے دور ہی رکھے گئے۔ ایک سطر کیا معنی، ایک حرف بھی لکھنا آپ کو نہ آتا تھا۔ آپ نے کاتب مقرر کر لئے تھے جو وحی اللہ کو لکھ لیتے تھے اور ضرورت کے وقت شاہان دنیا سے خط وکتابت بھی وہی کرتے تھے پچھلے فقہاء میں قاضی ابوالولید باجی وغیرہ نے کہا کہ حدیبیہ والے دن خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے یہ جملہ صلح نامے میں لکھا تھا کہ «ھٰذَا مَا قَاضٰی عَلَیْہِ مُحَمَّدُ ابْنُ عَبْدُاللہَ» یعنی یہ وہ شرائط ہیں جن پر محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا۔ لیکن یہ قول درست نہیں یہ وہم قاضی صاحب کو بخاری شریف کی اس روایت سے ہوا ہے جس میں یہ الفاظ ہیں کہ { «ثُمَّ اَخَذَ فَکَتَبَ» یعنی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ لے کر لکھا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:2698-2699] ‏‏‏‏ لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے لکھنے کا حکم دیا۔ جیسے دوسری روایت میں صاف موجود ہے کہ «ثُمَّ اَمَرَ فَکُتِبَ» یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر حکم دیا اور لکھا گیا۔ مشرق و مغرب کے تمام علماء کا یہی مذہب ہے بلکہ باجی رحمہ اللہ وغیرہ پر انہوں نے اس قول کا بہت سخت رد کیا ہے اور اس سے بیزاری ظاہر کی ہے۔ اور اس قول کی تردید اپنے اشعار اور خطبوں میں بھی کی ہے۔ لیکن یہ بھی خیال رہے کہ قاضی صاحب وغیرہ کا یہ خیال ہرگز نہیں کہ آپ اچھی طرح لکھنا جانتے تھے بلکہ وہ کہتے تھے کہ آپ کا یہ جملہ صلح نامے پر لکھ لینا آپ کا ایک معجزہ تھا۔ جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہو گا } اور ایک روایت میں ہے کہ { ک ف ر لکھا ہوا ہو گا جسے ہر مومن پڑھ لے گا } ۱؎ [صحیح بخاری:7131] ‏‏‏‏ یعنی اگرچہ ان پڑھ ہو، تب بھی اسے پڑھ لے گا۔ یہ مومن کی ایک کرامت ہو گی اسی طرح یہ فقرہ لکھ لینا اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک معجزہ تھا اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ آپ لکھنا جانتے تھے۔ یا آپ نے سیکھا تھا۔ بعض لوگ ایک روایت پیش کرتے ہیں جس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال نہ ہوا جب تک کہ آپ نے لکھنا نہ سیکھ لیا۔ یہ روایت بالکل ضعیف ہے بلکہ محض بے اصل ہے۔

قرآن کریم کی اس آیت کو دیکھئے۔ کس قدر تاکید کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پڑھا ہونے کا انکار کرتی ہے اور کتنی سختی کے ساتھ پرزور الفاظ میں اس کا بھی انکار کرتی ہے کہ آپ لکھنا جانتے ہیں۔ یہ جو فرمایا کہ داہنے ہاتھ سے یہ باعتبار غالب کے کہہ دیا ہے ورنہ لکھا تو دائیں ہاتھ سے ہی جاتا ہے اسی طرح «وَلَا طَائِرٍ‌ يَطِيرُ‌ بِجَنَاحَيْهِ» ۱؎ [6-الأنعام:38] ‏‏‏‏ میں ہے کیونکہ ہر پرند اپنے پروں سے ہی اڑتا ہے۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ان پڑھ ہونا بیان فرما کر ارشاد ہوتا ہے کہ اگر آپ پڑھے لکھے ہوتے تو یہ باطل پرست آپ کی نسبت شک کرنے کی گنجائش پاتے کہ سابقہ انبیاء کی کتابوں سے پڑھ لکھ کر نقل کر لیتا ہے لیکن یہاں تو ایسا نہیں۔ تعجب ہے کہ باوجود ایسانہ ہونے کے پھر بھی یہ لوگ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ الزام لگاتے ہیں ’ اور کہتے ہیں کہ یہ گزرے ہوئے لوگوں کی کہانیاں ہیں جنہیں اس نے لکھ لیا ہے۔ وہی اس کے سامنے صبح و شام پڑھی جاتی ہیں۔ ‘ ۱؎ [25-الفرقان:5] ‏‏‏‏ باوجودیکہ خود جانتے ہیں کہ ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پڑھے لکھے نہیں۔ ان کے اس قول کے جواب میں جناب باری عز اِسمہُ نے فرمایا: ’ انہیں جواب دو کہ اسے اس اللہ نے نازل فرمایا ہے جو زمین و آسمان کی پوشیدگیوں کو جانتا ہے۔ ‘ ۱؎ [25-الفرقان:6] ‏‏‏‏ یہاں فرمایا بلکہ یہ روشن آیتیں ہیں جو اہل علم کے سینوں میں ہیں۔ خود آیات واضح صاف اور سلجھے ہوئے الفاظ میں ہیں۔ پھر علماء پر ان کا سمجھنا یاد کرنا پہنچانا سب آسان ہے جیسے فرمان ہے «وَلَقَدْ يَسَّرْ‌نَا الْقُرْ‌آنَ لِلذِّكْرِ‌ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ‌» ۱؎ [54-القمر:17] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہم نے اس قرآن کو نصیحت کے لیے بالکل آسان بنا دیا ہے پس کیا کوئی ہے جو اس سے نصیحت حاصل کرے؟ ‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: { ہر نبی کو ایسی چیز دی گئی جس کے باعث لوگ ان پر ایمان لائے مجھے ایسی چیز وحی اللہ دی گئی ہے جو اللہ نے میری طرف نازل فرمائی ہے تو مجھے ذات اللہ سے امید ہے کہ تمام نبیوں کے تابعداروں سے زیادہ میرے تابعدار ہونگے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4981] ‏‏‏‏ صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ { اے نبی! میں تمہیں آزماؤں گا اور تمہاری وجہ سے لوگوں کی بھی آزمائش کرلوں گا۔ میں تم پر ایسی کتاب نازل فرماؤنگا جسے پانی دھو نہ سکے۔ تو اسے سوتے جاگتے پڑھتا رہے گا۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2865-63] ‏‏‏‏ مطلب یہ ہے کہ اس کے حروف پانی سے دھوئے جائیں لیکن وہ ضائع ہونے سے محفوظ ہے۔ جیسے کہ حدیث میں ہے: { اگر قرآن کسی چمڑے میں ہو تو اسے آگ نہیں جلائے گی۔ } ۱؎ [مسند احمد:155/4:حسن] ‏‏‏‏ اس لیے کہ وہ سینوں میں محفوظ ہے، زبانوں پر آسان ہے اور دلوں میں موجود ہے۔ اور اپنے لفظ اور معنی کے اعتبار سے ایک جیتا جاگتا معجزہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سابقہ کتابوں میں اس امت کی ایک صفت یہ بھی مروی ہے کہ «اِنَّا جِیْلُھُمْ فِیْْ صُدُوْرِھِمْ» ان کی کتاب ان کے سینوں میں ہو گی۔

امام ابن جریر رحمہ اللہ اسے پسند فرماتے ہیں کہ معنی یہ ہیں بلکہ اس کا علم کہ تو اس کتاب سے پہلے کوئی کتاب نہیں پڑھتا تھا اور نہ اپنے ہاتھ سے کچھ لکھتا تھا یہ آیات بینات اہل کتاب کے ذی علم لوگوں کے سینوں میں موجود ہیں۔ قتادۃ اور ابن جریج رحمہ اللہ علیہم سے بھی یہی منقول ہے اور پہلا قول حسن بصری رحمہ اللہ کا ہے اور یہی بہ روایت عوفی رحمہ اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے اور یہ ضحاک رحمہ اللہ نے کہا ہے اور یہی زیادہ ظاہر ہے۔ واللہ اعلم۔ پھر فرماتا ہے کہ ہماری آیتوں کا جھٹلانا قبول نہ کرنا یہ حد سے گزرجانے والوں اور ضدی لوگوں کا ہی کام ہے جو حق ناحق کو سمجھتے ہیں اور نہ اس کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ جیسے فرمان ہے: ’ جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہو چکی ہے وہ ہرگز ایمان نہ لائیں گے اگرچہ ان کے پاس نشانیاں آ جائیں۔ یہاں تک کہ وہ المناک عذاب کا مشاہدہ کر لیں۔ ‘ ۱؎ [10-يونس:96-97] ‏‏‏‏

📖 احسن البیان

48-1اس لیے کہ ان پڑھ تھے 48-2اس لئے کہ لکھنے کے لئے بھی علم ضروری ہے، جو آپ نے کسی سے حاصل ہی نہیں کیا تھا۔ 48-3یعنی اگر آپ پڑھے لکھے ہوتے یا کسی استاد سے کچھ سیکھا ہوتا تو لوگ کہتے کہ یہ قرآن مجید فلاں کی مدد سے یا اس سے تعلیم حاصل کرنے کا نتیجہ ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 48) ➊ { وَ مَا كُنْتَ تَتْلُوْا مِنْ قَبْلِهٖ مِنْ كِتٰبٍ …:} یعنی اے نبی! وحی کے ذریعے سے آنے والی جس کتاب کی تلاوت کا آپ کو حکم دیا گیا ہے اس کے نزول سے پہلے آپ اپنی قوم میں چالیس سال کا عرصہ رہے ہیں، نہ آپ کسی بھی طرح کی لکھی ہوئی کوئی چیز پڑھتے تھے نہ اسے اپنے دائیں ہاتھ سے لکھتے تھے، بلکہ محض اُمی تھے۔ وہ سب لوگ اس بات کو بخوبی جانتے ہیں جن میں آپ کی زندگی گزری، بلکہ بہت تھوڑے آدمی چھوڑ کر ان کا اپنا حال بھی یہی ہے کہ وہ اُمی ہیں، جیسا کہ فرمایا: «{ هُوَ الَّذِيْ بَعَثَ فِي الْاُمِّيّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ }» [ الجمعۃ: ۲ ] ”وہی ہے جس نے ان پڑھوں میں ایک رسول انھی میں سے بھیجا۔“ اور پہلی کتابوں میں بھی آپ کی یہی صفت مذکور ہے، فرمایا: «{ اَلَّذِيْنَ يَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِيَّ الْاُمِّيَّ الَّذِيْ يَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرٰىةِ وَ الْاِنْجِيْلِ }» [ الأعراف: ۱۵۷ ] ”وہ جو اس رسول کی پیروی کرتے ہیں، جو اُمی نبی ہے، جسے وہ اپنے پاس تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔“ اس آیت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اُمی ّ ہونے کو آپ کے دعویٔ نبوت میں سچا ہونے کی دلیل ٹھہرایا ہے۔ دیکھیے سورۂ قصص (۸۶) اور یونس(۱۶) ابن کثیر فرماتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہمیشہ (وفات تک) یہی حال رہا، آپ نہ پڑھ سکتے تھے نہ ہی ایک سطر یا ایک حرف اپنے ہاتھ سے لکھ سکتے تھے، بلکہ آپ کے کئی کاتب تھے جو وحی اور مختلف علاقوں کی طرف خطوط وغیرہ لکھتے تھے۔ بعض لوگوں نے {” مِنْ قَبْلِهٖ “} کے لفظ سے دلیل لی ہے کہ نبوت سے پہلے تو آپ فی الواقع لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے، مگر نبوت کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھنا پڑھنا سیکھ لیا تھا۔ ان حضرات نے عقیدت میں غلو کی وجہ سے یہ بات کہی ہے، یہ نہیں سوچا کہ ایک شخص ان پڑھ ہوکر سارے جہاں کا استاذ بن جائے، یہ زیادہ حیران کن بات اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کرشمہ ہے یا یہ کہ کوئی عالم فاضل اور پڑھا لکھا شخص کوئی کتاب تصنیف کر کے لے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری وقت تک اُمی ّ ہونے کی دلیل صلح حدیبیہ کے معاہدے کا واقعہ ہے، جس کا صلح نامہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے تحریر کیا تھا۔ براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: [ فَكَتَبَ هٰذَا مَا قَاضٰی عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُوْلُ اللّٰهِ فَقَالُوْا لَوْ عَلِمْنَا أَنَّكَ رَسُوْلُ اللّٰهِ لَمْ نَمْنَعْكَ وَلَبَايَعْنَاكَ، وَلٰكِنِ اكْتُبْ هٰذَا مَا قَاضٰی عَلَيْهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰهِ، فَقَالَ أَنَا وَاللّٰهِ! مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰهِ وَأَنَا وَاللّٰهِ! رَسُوْلُ اللّٰهِ قَالَ وَكَانَ لاَ يَكْتُبُ قَالَ فَقَالَ لِعَلِيٍّ امْحُ رَسُوْلَ اللّٰهِ فَقَالَ عَلِيٌّ وَاللّٰهِ! لاَ أَمْحَاهُ أَبَدًا قَالَ فَأَرِنِيْهِ قَالَ فَأَرَاهُ إِيَّاهُ، فَمَحَاهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ ] [ بخاري، الجزیۃ، باب المصالحۃ علی ثلاثۃ أیام …: ۳۱۸۴ ] ”علی رضی اللہ عنہ نے لکھا: ”یہ وہ تحریر ہے جس پر محمد رسول اللہ نے معاہدہ کیاہے۔“ انھوں نے کہا: ”اگر ہم جانتے ہوتے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو ہم آپ کو (خانہ کعبہ سے) نہ روکتے، بلکہ ہم آپ کی بیعت کر لیتے، لیکن لکھو کہ یہ وہ تحریر ہے جس پر محمد بن عبد اللہ نے معاہدہ کیا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں محمد بن عبد اللہ ہوں اور اللہ کی قسم! میں رسول اللہ ہوں۔“ براء نے فرمایا: ”اور آپ لکھتے نہیں تھے۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا: ”رسول اللہ (کا لفظ) مٹا دو۔“ علی رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اللہ کی قسم! میں اسے کبھی نہیں مٹاؤں گا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر وہ مجھے دکھاؤ۔“ انھوں نے وہ لفظ آپ کو دکھایا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے ہاتھ سے مٹا دیا۔“ یہ واقعہ ذوالقعدہ چھ ہجری کا ہے جس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چار سال اور چند ماہ زندہ رہے، اس میں صراحت ہے {”وَكَانَ لَا يَكْتُبُ“} (آپ صلی اللہ علیہ وسلم لکھتے نہیں تھے) اب وہ کون سی روایت ہے جس میں یہ ذکر ہے کہ اس واقعہ کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھنا سیکھ لیا تھا؟ حافظ ابن کثیر نے فرمایا کہ بخاری کی بعض روایات میں جو آیا ہے: [ ثُمَّ أَخَذَ فَكَتَبَ ] (پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پکڑا اور لکھا) یہ دوسری روایت پر محمول ہے جس میں ہے: [ ثُمَّ أَمَرَ فَكَتَبَ ] ” پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو انھوں نے لکھا۔“ ابن کثیر فرماتے ہیں، بعض لوگوں نے جو حدیث بیان کی ہے: [ إِنَّهُ لَمْ يَمُتْ حَتّٰی تَعَلَّمَ الْكِتَابَةَ ] ”کہ آپ فوت نہیں ہوئے حتیٰ کہ آپ نے لکھنا سیکھ لیا“ تو یہ روایت ضعیف ہے، اس کی کوئی اصل نہیں۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اُمی ّ ہونے کا اعتراف فرمایا ہے، ابن عمر رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّا أُمَّةٌ أُمِّيَّةٌ، لاَ نَكْتُبُ وَ لاَ نَحْسُبُ، الشَّهْرُ هٰكَذَا وَ هٰكَذَا يَعْنِيْ مَرَّةً تِسْعَةً وَعِشْرِيْنَ، وَمَرَّةً ثَلاَثِيْنَ ] [ بخاري، الصوم، باب قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم لا نکتب و لا نحسب: ۱۹۱۳ ] ”ہم اُمّی لوگ ہیں، لکھنا اور حساب کرنا نہیں جانتے، قمری مہینا اتنا ہوتا ہے اور اتنا بھی۔“ یعنی کبھی انتیس (۲۹) دن کا ہوتا ہے اور کبھی تیس (۳۰) دن کا۔“ ➋ یہ اللہ کی شان ہے کہ ایک طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ کتاب عطا فرمائی جس کی چھوٹی سے چھوٹی سورت کی مثل کل عالم بنانے سے عاجز ہے، تو دوسری طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ پڑھنا سکھایا نہ لکھنا۔ پھر بھی بعض لوگ کہتے ہیں کہ آپ عالم الغیب تھے اور {” مَا كَانَ وَ مَا يَكُوْنُ“} (جو ہو چکا اور جو ہو گا) سب جانتے تھے۔ اللہ تعالیٰ سمجھ عطا فرمائے۔ ➌ { اِذًا لَّارْتَابَ الْمُبْطِلُوْنَ:} یعنی اگر آپ پڑھتے ہوتے یا ہاتھ سے لکھتے ہوتے تو باطل پرستوں کے لیے شک کا کوئی موقع ہو سکتا تھا کہ آپ نے اگلی کتابیں پڑھ کر یہ باتیں لکھ لی ہیں، انھی کو آہستہ آہستہ اپنے الفاظ میں سنا رہے ہیں۔ گو اس وقت بھی یہ کہنا غلط ہوتا، کیونکہ کتنا بھی پڑھا لکھا انسان ہو بلکہ دنیا کے تمام پڑھے لکھے انسان مل کر اور کل مخلوق کو ساتھ ملاکر بھی اس بے مثال کتاب کی ایک سورت جیسی سورت پیش نہیں کر سکتے، پھر بھی اگر آپ پڑھے لکھے ہوتے تو جھوٹے لوگوں کو بات بنانے کا موقع مل سکتا تھا۔ جب آپ کا اَن پڑھ ہونا سب کے ہاں مسلّم ہے تو اس شبہ کا موقع بھی نہ رہا۔ ➍ آپ کے اُمّی ہونے کے باوجود کفار نے یہ بہتان جڑ دیا: «{ وَ قَالُوْۤا اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ اكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلٰى عَلَيْهِ بُكْرَةً وَّ اَصِيْلًا }» [ الفرقان: ۵ ] ”اور انھوں نے کہا یہ پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں جو اس نے لکھوا لی ہیں، سو وہ پہلے پہر اور پچھلے پہر اس پر پڑھی جاتی ہیں۔“ اگر آپ پڑھے لکھے ہوتے تو باطل پرستوں کے شکوک و شبہات کا اور بہتان باندھنے کا کیا حال ہوتا۔ ➎ یہاں ایک سوال ہے کہ {” وَ لَا تَخُطُّهٗ “} (اور نہ تو اسے لکھتا تھا) کے الفاظ ہی کافی تھے، پھر{” بِيَمِيْنِكَ “} (اپنے دائیں ہاتھ سے) فرمانے میں کیا حکمت ہے؟ جواب اس کا یہ ہے کہ بعض اوقات لکھوانے کو بھی لکھنا کہہ دیا جاتا ہے، مثلاً بعض اوقات خط لکھوا کر بھیجنے والا کہہ دیتا ہے، میں نے فلاں کو خط لکھا ہے۔ اس امکان کو ختم کرنے کے لیے فرمایا: «{ وَّ لَا تَخُطُّهٗ بِيَمِيْنِكَ }» ”اور نہ تو اسے اپنے دائیں ہاتھ سے لکھتا تھا۔“
← پچھلی آیت (47) پوری سورۃ اگلی آیت (49) →