بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ العنكبوت — Surah Ankabut
آیت نمبر 47
کل آیات: 69
قرآن کریم العنكبوت آیت 47
آیت نمبر: 47 — سورۃ العنكبوت islamicurdubooks.com ↗
وَ کَذٰلِکَ اَنۡزَلۡنَاۤ اِلَیۡکَ الۡکِتٰبَ ؕ فَالَّذِیۡنَ اٰتَیۡنٰہُمُ الۡکِتٰبَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِہٖ ۚ وَ مِنۡ ہٰۤؤُلَآءِ مَنۡ یُّؤۡمِنُ بِہٖ ؕ وَ مَا یَجۡحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا الۡکٰفِرُوۡنَ ﴿۴۷﴾
(اے نبیؐ) ہم نے اِسی طرح تمہاری طرف کتاب نازل کی ہے، اس لیے وہ لوگ جن کو ہم نے پہلے کتاب دی تھی وہ اس پر ایمان لاتے ہیں، اور اِن لوگوں میں سے بھی بہت سے اس پر ایمان لا رہے ہیں، اور ہماری آیات کا انکار صرف کافر ہی کرتے ہیں
اور ہم نے اسی طرح آپ کی طرف اپنی کتاب نازل فرمائی ہے، پس جنہیں ہم نے کتاب دی ہے وه اس پر ایمان ﻻتے ہیں اور ان (مشرکین) میں سے بعض اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ہماری آیتوں کا انکار صرف کافر ہی کرتے ہیں
اور اے محبوب! یونہی تمہاری طرف کتاب اتاری تو وہ جنہیں ہم نے کتا ب عطا فرمائی اس پر ایمان لاتے ہیں، اور کچھ ان میں سے ہیں جو اس پر ایمان لاتے ہیں، اور ہماری آیتوں سے منکر نہیں ہوتے مگر
اور (اے رسول(ص)) ہم نے اسی طرح آپ پر کتاب نازل کی ہے (جس طرح پہلے رسولوں پر کتابیں نازل کی تھیں) تو جن کو ہم نے (پہلے) کتاب دی تھی وہ اس (قرآن) پر ایمان لاتے ہیں اور ان (اہلِ مکہ و عرب) میں سے بھی بعض اس پر ایمان لا رہے ہیں اور ہماری آیتوں کا کافروں کے سوا اور کوئی انکار نہیں کرتا۔
اور اسی طرح ہم نے تیری طرف یہ کتاب نازل کی، پھروہ لوگ جنھیں ہم نے کتاب دی، اس پر ایمان لاتے ہیں اور ان (مشرکین) میں سے بھی کچھ وہ ہیں جو اس پر ایمان لاتے ہیں اور ہماری آیات کا انکار نہیں کرتے مگر جو کافر ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

حق تلاوت ٭٭

فرمان ہے کہ جیسے ہم نے اگلے انبیاء پر اپنی کتابیں نازل فرمائی تھیں اسی طرح یہ کتاب یعنی قرآن شریف ہم نے اے ہمارے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم تم پر نازل فرمایا ہے۔ پس اہل کتاب میں سے جن لوگوں نے ہماری کتاب کی قدر کی اور اس کی تلاوت کا حق ادا کیا وہ جہاں اپنی کتابوں پر ایمان لائے اس پاک کتاب کو بھی مانتے ہیں جیسے عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ اور جیسے سلمان فارسی رضی اللہ عنہ وغیرہ۔ اور ان لوگوں یعنی قریش وغیرہ میں سے بھی بعض لوگ اس پر ایمان لاتے ہیں۔ ہاں جو لوگ باطل سے حق کو چھپانے والے اور سورج کی روشنی سے آنکھیں بند کرنے والے ہیں وہ تو اس کے بھی منکر ہیں۔

📖 احسن البیان

47-1اس سے مراد عبد اللہ بن سلام وغیرہ ہیں۔ ایتائے کتاب سے مراد اس پر عمل ہے، گویا اس پر جو عمل نہیں کرتے، انھیں یہ کتاب دی ہی نہیں گئی۔ 47-2ان سے مراد اہل مکہ ہیں۔ جن میں سے کچھ لوگ ایمان لے آئے تھے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 47) ➊ { وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَيْكَ الْكِتٰبَ:} یعنی جس طرح ہم نے آپ سے پہلے موسیٰ علیہ السلام اور دوسرے پیغمبروں پر کتاب نازل کی ایسے ہی آپ پر یہ کتاب نازل فرمائی۔ ➋ { فَالَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ يُؤْمِنُوْنَ بِهٖ:} ”جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی “ سے مراد تمام اہل کتاب نہیں، کیونکہ جس نے کتاب پڑھی ہی نہیں یا اسے سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی یا اسے اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی اور اس میں تحریف و تبدل سے کام لیا تو وہ درحقیقت ان لوگوں میں شامل ہی نہیں جنھیں کتاب دی گئی، کیونکہ انھوں نے اسے اس طرح لیا ہی نہیں جیسے لینا چاہیے تھا۔ یعنی وہ لوگ جنھیں ہم نے اس سے پہلے کتاب دی اور وہ فی الواقع اس کا اتباع کرتے ہیں وہ اس کتاب (قرآن) پر ایمان لاتے ہیں، کیونکہ دونوں کا مضمون اصولی طور پر ایک ہے اور پہلی کتابوں کی کوئی خوبی ایسی نہیں جو اس میں موجود نہ ہو، بلکہ یہ کتاب تو پہلی کتابوں پر مہیمن (نگران) ہے اور یہ زندۂ جاوید معجزہ ہے، تو حقیقی اہلِ کتاب اس پر کیوں ایمان نہیں لائیں گے۔ ➌ { وَ مِنْ هٰۤؤُلَآءِ مَنْ يُّؤْمِنُ بِهٖ:} یعنی ان اہلِ عرب مشرکین میں سے بھی کئی لوگ اس پر ایمان لا رہے ہیں اور لائیں گے، جو حق واضح ہونے کے بعد اسے قبول کرنے والے ہیں۔ ➍ { وَ مَا يَجْحَدُ بِاٰيٰتِنَاۤ اِلَّا الْكٰفِرُوْنَ:جُحُوْدٌ “} کا معنی کسی بات کا علم ہونے کے باوجود اس کا انکار کر دینا ہے۔ (دیکھیے نمل: ۱۴) جبکہ {”كُفْرٌ“} کا لفظ ایمان کے مقابلے میں آتا ہے، اس کا معنی ناشکری بھی ہے، انکار بھی اور چھپانا بھی۔ (قاموس) {”آيَاتِنَا “} کا لفظی معنی نشانیاں ہیں، مراد قرآن مجید ہے، کیونکہ اس کی تمام آیات اللہ تعالیٰ کی طرف سے نشانیاں اور معجزہ ہیں، جن کے مقابلے کی آیات پوری کائنات پیش نہیں کر سکتی اور اس قدر واضح اور روشن ہیں کہ ان کا انکار ان لوگوں کے سوا کوئی نہیں کرے گا جو حق کا علم رکھتے ہوئے اسے چھپاتے اور اس کا انکار کرتے ہیں۔
← پچھلی آیت (46) پوری سورۃ اگلی آیت (48) →