بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ العنكبوت — Surah Ankabut
آیت نمبر 40
کل آیات: 69
قرآن کریم العنكبوت آیت 40
آیت نمبر: 40 — سورۃ العنكبوت islamicurdubooks.com ↗
فَکُلًّا اَخَذۡنَا بِذَنۡۢبِہٖ ۚ فَمِنۡہُمۡ مَّنۡ اَرۡسَلۡنَا عَلَیۡہِ حَاصِبًا ۚ وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ اَخَذَتۡہُ الصَّیۡحَۃُ ۚ وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ خَسَفۡنَا بِہِ الۡاَرۡضَ ۚ وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ اَغۡرَقۡنَا ۚ وَ مَا کَانَ اللّٰہُ لِیَظۡلِمَہُمۡ وَ لٰکِنۡ کَانُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ یَظۡلِمُوۡنَ ﴿۴۰﴾
آخر کار ہر ایک کو ہم نے اس کے گناہ میں پکڑا، پھر ان میں سے کسی پر ہم نے پتھراؤ کرنے والی ہوا بھیجی، اور کسی کو ایک زبردست دھماکے نے آ لیا، اور کسی کو ہم نے زمین میں دھسا دیا، اور کسی کو غرق کر دیا اللہ اُن پر ظلم کرنے والا نہ تھا، مگر وہ خود ہی اپنے اوپر ظلم کر رہے تھے
پھر تو ہر ایک کو ہم نے اس کے گناه کے وبال میں گرفتار کر لیا، ان میں سے بعض پر ہم نے پتھروں کا مینہ برسایا اور ان میں سے بعض کو زور دار سخت آواز نے دبوچ لیا اور ان میں سے بعض کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور ان میں سے بعض کو ہم نے ڈبو دیا، اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کہ ان پر ﻇلم کرے بلکہ یہی لوگ اپنی جانوں پر ﻇلم کرتے تھے
تو ان میں ہر ایک کو ہم نے اس کے گناہ پر پکڑا تو ان میں کسی پر ہم نے پتھراؤ بھیجا اور ان میں کسی کو چنگھاڑ نے آلیا اور ان میں کسی کو زمین میں دھنسادیا اور ان میں کسی کو ڈبو دیا اور اللہ کی شان نہ تھی کہ ان پر ظلم کرے ہاں وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے،
پس ہم نے ہر ایک کو اس کے گناہ کی پاداش میں پکڑا۔ سو ان میں سے بعض پر (پتھراؤ کرنے والی) تیز آندھی بھیجی اور بعض کو ہولناک چنگھاڑ نے آدبایا اور بعض کو ہم نے زمین میں دھنسایا اور بعض کو (دریا میں) غرق کر دیا اور اللہ ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا بلکہ وہ خود اپنے اوپر ظلم کرتے تھے۔
تو ہم نے ہر ایک کو اس کے گناہ میں پکڑ لیا، پھر ان میں سے کوئی وہ تھا جس پر ہم نے پتھرائو والی ہوا بھیجی اور ان میں سے کوئی وہ تھا جسے چیخ نے پکڑ لیا اور ان میں سے کوئی وہ تھا جسے ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور ان میں سے کوئی وہ تھا جسے ہم نے غرق کر دیا اور اللہ ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرے اور لیکن وہ خود اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

احقاف کے لوگ ٭٭

عادی ہود علیہ السلام کی قوم تھے۔ احقاف میں رہتے تھے جو یمن کے شہروں میں حضر موت کے قریب ہے۔ ثمودی صالح علیہ السلام کی قوم کے لوگ تھے۔ یہ حجر میں بستے تھے جو وادی القریٰ کے قریب ہے۔ عرب کے راستے میں ان کی بستی آتی تھی جسے یہ بخوبی جانتے تھے۔ قارون ایک دولت مند شخص تھا جس کے بھرپور خزانوں کی کنجیاں ایک جماعت کی جماعت اٹھاتی تھی۔ فرعون مصر کا بادشاہ تھا اور ہامان اس کا وزیر اعظم تھا۔ اسی کے زمانے میں موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام نبی ہو کر اس کی طرف بھیجے گئے۔ یہ دونوں قبطی کافر تھے، جب ان کی سرکشی حد سے گزر گئی اللہ کی توحید کے منکر ہو گئے، رسولوں کو ایذائیں دیں اور ان کی نہ مانی تو اللہ تعالیٰ نے ان سب کو طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک کیا۔ عادیوں پر ہوائیں بھیجیں۔ انہیں اپنی قوت وطاقت کا بڑا گھمنڈ تھا کسی کو اپنے مقابلے کا نہ جانتے تھے۔ ان پر ہوا بھیجی جو بڑی تیز وتند تھی جو ان پر زمین کے پتھر اڑا اڑا کر برسانے لگی۔ بالآخر زور پکڑتے پکڑتے یہاں تک بڑھ گئی کہ انہیں اچک لے جاتی اور آسمان کے قریب لے جا کر پھر گرا دیتی۔ سر کے بل گرتے اور سر الگ ہو جاتا دھڑ الگ ہو جاتا اور ایسے ہو جاتے جیسے کھجور کے درخت، جس کے تنے الگ ہوں اور شاخیں جدا ہوں، ثمودیوں پر حجت الٰہی پوری ہوئی دلائل دے دئیے گئے ان کی طلب کے موافق پتھر میں سے ان کے دیکھتے ہوئے اونٹنی نکلی لیکن تاہم انہیں ایمان نصیب نہ ہوا بلکہ طغیانی میں بڑھتے رہے۔ اللہ کے نبی صالح علیہ السلام کو دھمکانے اور ڈرانے لگے اور ایمانداروں سے بھی کہنے لگے کہ ہمارے شہر چھوڑ دو ورنہ ہم تمہیں سنگسار کر دیں گے۔ انہیں ایک چیخ سے پارہ پارہ کر دیا۔ دل ہل گئے کلیجے اڑ گئے اور سب کی روحیں نکل گئیں۔ قارون نے سرکشی اور تکبر کیا۔ طغیانی اور بڑائی کی، رب الاعلیٰ کی نافرمانی کی، زمین میں فساد مچا دیا، اکڑ اکڑ کر چلنے لگا، اپنے ڈنڈ بل دیکھنے لگا، اترانے لگا اور پھولنے لگا، پس اللہ نے اسے مع اس کے محلات کے زمین دوز کر دیا جو آج تک دھنستا چلا جا رہا ہے۔ فرعون، ہامان اور ان کے لشکروں کو صبح ہی صبح ایک ساتھ ایک ہی ساعت میں دریا برد کر دیا۔ ان میں سے ایک بھی نہ بچا جو ان کا نام تو کبھی لیتا۔ اللہ نے یہ جو کچھ کیا کچھ ان پر ظلم نہ تھا بلکہ ان کے ظلم کا بدلہ تھا۔ ان کے کرتوت کا پھل تھا ان کی کرنی کی بھرنی تھی۔ یہ بیان یہاں بطور لف و نشر کے ہے۔ اولاً جھٹلانے والی امتوں کا ذکر ہوا۔ پھر ان میں سے ہر ایک کو عذابوں سے ہلاک کرنے کا۔ کسی نے کہا کہ سب سے پہلے جن پر پتھروں کا مینہ برسانے کا ذکر ہے ان سے مراد لوطی ہیں اور غرق کی جانے والی قوم قوم نوح ہے لیکن یہ قول ٹھیک نہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ مروی تو ہے لیکن سند میں انقطاع ہے۔ ان دونوں قوموں کی حالت کا ذکر اسی صورت میں بہ تفصیل بیان ہو چکا ہے۔ پھر بہت سے فاصلے کے بعد یہ بیان ہوا ہے۔ قتادۃ رحمہ اللہ سے یہ بھی مروی ہے کہ پتھروں کا مینہ جن پر برسایا گیا ان سے مراد لوطی ہیں اور جنہیں چیخ سے ہلاک کیا گیا ان سے مراد قوم شعیب ہے لیکن یہ قول بھی ان آیتوں سے دور دراز ہے، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

📖 احسن البیان

40-1یعنی ان مذکورین میں سے ہر ایک کی ان کے گناہوں کی پاداش میں ہم نے گرفت کی۔ 40-2یہ قوم عاد تھی، جس پر نہایت تتند و تیز ہوا کا عذاب آیا۔ یہ ہوا زمین سے کنکریاں اڑا اڑا کر ان پر برساتی، بالآخر اس کی شدت اتنی بڑھی کہ انھیں اچک کر آسمان تک لے جاتی اور انھیں سر کے بل زمین پردے مارتی، جس سے ان کا سر الگ اور دھڑ الگ ہوجاتا گویا کہ وہ کھجور کے کھوکھلے تنے ہیں۔ (ابن کثیر) بعض مفسرین نے حصبا کا مصداق قوم لوط ؑ کو ٹھہرایا ہے۔ لیکن امام ابن کثیر نے اسے غیر صحیح اور حضرت ابن عباس ؓ کی طرف منسوب قول کو منقطع قرار دیا ہے۔ 40-3حضرت صالح ؑ کی قوم ثمود ہے۔ جنہیں ان کے کہنے پر ایک چٹان سے اونٹنی نکال کر دکھائی گئی۔ لیکن ان ظالموں نے ایمان لانے کے بجائے اس اونٹنی کو ہی مار ڈالا۔ جس کے تین دن بعد ان پر سخت چنگھاڑ کا عذاب آیا، جس نے انکی آوازوں اور حرکتوں کو خاموش کردیا۔ 40-4یہ قارون ہے، جسے مال و دولت کے خزانے عطا کئے گئے، لیکن یہ اس گھمنڈ میں مبتلا ہوگیا کہ یہ مال و دولت اس بات کی دلیل ہے کہ میں اللہ کے ہاں معزز و محترم ہوں۔ مجھے موسیٰ ؑ کی بات ماننے کی کیا ضرورت ہے، چناچہ اسے اس کے خزانوں اور محلات سمیت زمین میں دھنسا دیا گیا۔ 40-5یہ فرعون ہے، جو ملک مصر کا حکمران تھا، لیکن حد سے تجاوز کر کے اس نے اپنے بارے میں الوہیت کا دعوی بھی کردیا۔ حضرت موسیٰ ؑ پر ایمان لانے سے اور انکی قوم بنی اسرائیل کو، جس کو اس نے غلام بنا رکھا تھا، آزاد کرنے سے انکار کردیا، بالآخر ایک صبح اس کو اس کے پورے لشکر سمیت دریائے قلزم میں غرق کردیا گیا۔ 40-6 یعنی اللہ کی شان نہیں کہ وہ ظلم کرے۔ اس لئے پچھلی قومیں، جن پر عذاب آیا، محض اس لئے ہلاک ہوئیں کہ کفر و شرک اور تکذیب و معاصی کا ارتکاب کر کے انہوں نے خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 40) ➊ { فَكُلًّا اَخَذْنَا بِذَنْۢبِهٖ …:} تو ہم نے ان میں ہر ایک کو اس کے گناہ کی وجہ سے پکڑ لیا۔{” فَمِنْهُمْ مَّنْ اَرْسَلْنَا عَلَيْهِ حَاصِبًا “” حَاصِبًا “} سخت آندھی جو سنگریزے اور پتھر اڑا کر لائے، یعنی پھر ان میں کچھ وہ تھے جن پر ہم نے پتھراؤ والی آندھی بھیجی۔ اس سے مراد قومِ عاد ہے، جس پر اللہ تعالیٰ نے نہایت ٹھنڈی، سخت تیز اور کنکر و پتھر اڑانے والی آندھی بھیجی جو ان پر سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل چلتی رہی، جس کے ساتھ تمام کافر اس طرح گرے پڑے تھے جیسے گرے ہوئے کھجور کے درختوں کے تنے ہوں۔ دیکھیے سورۂ حاقہ (۵ تا ۸) اور سورۂ قمر (۱۹، ۲۰) بعض مفسرین نے ان لوگوں سے مراد قوم لوط لی ہے، کیونکہ ان کے متعلق دوسری جگہ فرمایا ہے: «{ اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ حَاصِبًا اِلَّاۤ اٰلَ لُوْطٍ }» [ القمر: ۳۴ ] ”بے شک ہم نے ان پر پتھر برسانے والی ایک ہوا بھیجی سوائے لوط کے گھر والوں کے۔“ اور غرق ہونے والوں سے مراد نوح علیہ السلام کی قوم اور چیخ والوں سے مراد شعیب علیہ السلام کی قوم لی ہے، مگر ابن کثیر نے فرمایا کہ یہ صحیح نہیں ہے، کیونکہ اس سے پہلے کی آیات میں نوح، لوط اور شعیب علیھم السلام کی قوم پر آنے والے عذابوں کا ذکر گزر چکا ہے، یہاں سے عاد اور اس کے بعد کے لوگوں پر آنے والے عذابوں کا ذکر ہے، اس لیے یہاں پتھراؤ والی آندھی سے ہلاک ہونے والوں سے مراد قوم عاد ہی ہے۔ ➋ { وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَخَذَتْهُ الصَّيْحَةُ:} اس سے مراد قومِ ثمود ہے، اگرچہ شعیب علیہ السلام کی قوم بھی {” الصَّيْحَةُ “} (چیخ) سے ہلاک ہوئی، مگر اس کی گرفت کا ذکر اوپر گزر چکا ہے۔ ➌ { وَ مِنْهُمْ مَّنْ خَسَفْنَا بِهِ الْاَرْضَ:} اس سے مراد قارون ہے، جیسا کہ سورۂ قصص کی آیت (۸۱) میں گزرا۔ ➍ {وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَغْرَقْنَا:} اس سے مراد فرعون، ہامان اور ان کی قوم ہے۔ ویسے الفاظ کے عموم کی وجہ سے اگر {” حَاصِبًا “} والوں سے مراد قومِ عاد اور قومِ لوط دونوں اور {” الصَّيْحَةُ “} والوں سے مراد قومِ ثمود اور قومِ شعیب دونوں اور غرق ہونے والوں سے مراد آل فرعون اور قوم نوح دونوں لیے جائیں تو کوئی مانع نہیں۔ ➎ {وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِيَظْلِمَهُمْ …:” كَانَ “} استمرار کے لیے ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کبھی بھی ایسا نہیں کہ ان پر ظلم کرے، لیکن وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے اور ایسے افعال کا ارتکاب کرتے تھے جن کا نتیجہ ان پر عذاب اور ان کی ہلاکت اور بربادی تھا۔
← پچھلی آیت (39) پوری سورۃ اگلی آیت (41) →