بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ العنكبوت — Surah Ankabut
آیت نمبر 33
کل آیات: 69
قرآن کریم العنكبوت آیت 33
آیت نمبر: 33 — سورۃ العنكبوت islamicurdubooks.com ↗
وَ لَمَّاۤ اَنۡ جَآءَتۡ رُسُلُنَا لُوۡطًا سِیۡٓءَ بِہِمۡ وَ ضَاقَ بِہِمۡ ذَرۡعًا وَّ قَالُوۡا لَا تَخَفۡ وَ لَا تَحۡزَنۡ ۟ اِنَّا مُنَجُّوۡکَ وَ اَہۡلَکَ اِلَّا امۡرَاَتَکَ کَانَتۡ مِنَ الۡغٰبِرِیۡنَ ﴿۳۳﴾
پھر جب ہمارے فرستادے لوطؑ کے پاس پہنچے تو ان کی آمد پر وہ سخت پریشان اور دل تنگ ہوا اُنہوں نے کہا "نہ ڈرو اور نہ رنج کرو ہم تمہیں اور تمہارے گھر والوں کو بچا لیں گے، سوائے تمہاری بیوی کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے
پھر جب ہمارے قاصد لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو وه ان کی وجہ سے غمگین ہوئے اور دل ہی دل میں رنج کرنے لگے۔ قاصدوں نے کہا آپ نہ خوف کھایئے نہ آزرده ہوں، ہم آپ کو مع آپ کے متعلقین کے بچالیں گے مگر آپ کی بیوی کہ وه عذاب کے لیے باقی ره جانے والوں میں سے ہوگی
اور جب ہمارے فرشتے لوط کے پاس آئے ان کا آنا اسے ناگوار ہوا اور ان کے سبب دل تنگ ہوا اور انہوں نے کہا نہ ڈریے اور نہ غم کیجئے بیشک ہم آپ کو اور آپ کے گھر والوں کو نجات دیں گے مگر آپ کی عورت وہ رہ جانے والوں میں ہے،
اور جب (وہ) ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) لوط کے پاس آئے تو وہ ان کی آمد سے رنجیدہ اور دل تنگ ہوئے اور فرشتوں نے (ان کی حالت دیکھ کر) کہا کہ نہ ڈرو اور نہ رنج کرو ہم آپ کو اور آپ کے گھر والوں کو بچا لیں گے سوائے آپ کی بیوی کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے۔
اور جیسے ہی ہمارے بھیجے ہوئے لوط کے پاس آئے وہ ان کی وجہ سے مغموم ہوا اور ان کے سبب دل میں تنگ ہوا اور انھوں نے کہا نہ ڈر اور نہ غم کر، بے شک ہم تجھے اور تیرے گھر والوں کو بچانے والے ہیں مگر تیری بیوی، وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

فرشتوں کی آمد ٭٭

لوط علیہ السلام کی جب نہ مانی گئی بلکہ سنی بھی نہ گئی تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کی جس پر فرشتے بھیجے گئے۔ یہ فرشتے بشکل انسان پہلے بطور مہمان ابراہیم علیہ السلام کے گھر آئے۔ آپ نے ضیافت کا سامان تیار کیا اور سامنے لارکھا۔ جب دیکھا کہ انہیں اس کی رغبت نہ کی تو دل ہی دل میں خوفزدہ ہو گئے تو فرشتوں نے ان کی دلجوئی شروع کی اور خبر دی کہ ایک نیک بچہ ان کے ہاں پیدا ہو گا۔ سارہ جو وہاں موجود تھیں یہ سن کر تعجب کرنے لگیں جیسے سورۃ ہود اور سورۃ الحجر میں مفصل تفسیر گزر چکی ہے۔ اب فرشتوں نے اپنا اصلی ارادہ ظاہر کیا۔ جسے سن کر ابراہیم علیہ السلام کو خیال آیا کہ اگر وہ لوگ کچھ اور ڈھیل دے دئیے جائیں تو کیا عجب کہ راہ راست پر آ جائیں۔

اس لیے فرمانے لگے کہ وہاں تو لوط نبی علیہ السلام بھی ہیں۔ فرشتوں نے جواب دیا ہم ان سے غافل نہیں۔ ہمیں حکم ہے کہ انہیں اور ان کے خاندان کو بچالیں۔ ہاں ان کی بیوی تو بیشک ہلاک ہو گی۔ کیونکہ وہ اپنی قوم کے کفر میں ان کا ساتھ دیتی رہی ہے۔ یہاں سے رخصت ہو کر خوبصورت قریب البلوغ بچوں کی صورت میں یہ لوط علیہ السلام کے پاس پہنچے۔ انہیں دیکھتے ہی لوط نبی علیہ السلام شش وپنج میں پڑ گئے کہ اگر انہیں ٹھہراتے ہیں تو ان کی خبر پاتے ہی کفار بھڑ بھڑا کر آ جائیں گے اور مجھے تنگ کریں گے اور انہیں بھی پریشان کریں گے۔ اگر نہیں ٹھہراتا تو یہ انہی کے ہاتھ پڑجائیں گے قوم کی خصلت سے واقف تھے اس لیے ناخوش اور سنجیدہ ہو گئے۔ لیکن فرشتوں نے ان کی یہ گھبراہٹ دور کر دی کہ آپ گھبرائیے نہیں رنجیدہ نہ ہوں ہم تو اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں انہیں تباہ و برباد کرنے کے لیے آئیں ہیں۔ آپ اور آپ کا خاندان سوائے آپ کی اہلیہ کے بچ جائے گا۔ باقی ان سب پر آسمانی عذاب آئے گا اور انہیں ان کی بدکاری کا نتیجہ دکھایا دیا جائے گا۔

پھر جبرائیل علیہ السلام نے ان بستیوں کو زمین سے اٹھایا اور آسمان تک لے گئے اور وہاں سے الٹ دیں پھر ان پر ان کے نام کے نشاندار پتھر برسائے گئے اور جس عذاب الٰہی کو وہ دورسجمھ رہے تھے وہ قریب ہی نکل آیا۔ ان کی بستیوں کی جگہ ایک کڑوے گندے اور بدبودار پانی کی جھیل رہ گئی۔ جو لوگوں کے لیے عبرت حاصل کرنے کا ذریعہ بنے۔ اور عقلمند لوگ اس ظاہری نشان کو دیکھ کر ان کی بری طرح ہلاکت کو یاد کر کے اللہ کی نافرمانیوں پر دلیری نہ کریں۔ عرب کے سفر میں رات دن یہ منظر ان کے پیش نظر تھا۔

📖 احسن البیان

33-1لوط ؑ نے ان فرشتوں کو، جو انسانی شکل میں آئے تھے، انسان ہی سمجھا۔ ڈرے اپنی قوم کی عادت بد اور سرکشی کی وجہ سے کہ ان خوبصورت مہمانوں کی آمد کا علم اگر انھیں ہوگیا تو وہ زبردستی بےحیائی کا ارتکاب کریں گے جس سے میری رسوائی ہوگی، جس کی وجہ سے وہ غمگین اور دل ہی دل میں پریشان تھے۔ 33-2فرشتوں نے حضرت لوط ؑ کی پریشانی اور غم ورنج کی کیفیت کو دیکھا تو انھیں تسلی دی اور کہا کہ آپ کوئی خوف اور رنج نہ کریں، ہم اللہ کی طرف سے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں۔ ہمارا مقصد آپ کو اور آپ کے گھر والوں کو سوائے آپ کی بیوی کے نجات دلانا ہے۔

📖 القرآن الکریم

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
← پچھلی آیت (32) پوری سورۃ اگلی آیت (34) →