بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ العنكبوت — Surah Ankabut
آیت نمبر 3
کل آیات: 69
قرآن کریم العنكبوت آیت 3
آیت نمبر: 3 — سورۃ العنكبوت islamicurdubooks.com ↗
وَ لَقَدۡ فَتَنَّا الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ فَلَیَعۡلَمَنَّ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ صَدَقُوۡا وَ لَیَعۡلَمَنَّ الۡکٰذِبِیۡنَ ﴿۳﴾
حالاں کہ ہم اُن سب لوگوں کی آزمائش کر چکے ہیں جو اِن سے پہلے گزرے ہیں اللہ کو تو ضرور یہ دیکھنا ہے کہ سچّے کون ہیں اور جھوٹے کون
ان سے اگلوں کو بھی ہم نے خوب جانچا۔ یقیناً اللہ تعالیٰ انہیں بھی جان لے گا جو سچ کہتے ہیں اور انہیں بھی معلوم کرلے گا جو جھوٹے ہیں
اور بیشک ہم نے ان سے اگلوں کو جانچا تو ضرور اللہ سچوں کو دیکھے گا اور ضرور جھوٹوں کو دیکھے گا
حالانکہ ہم نے ان (سب) کی آزمائش کی تھی جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں سو اللہ ضرور معلوم کرے گا ان کو جو (دعوائے ایمان میں) سچے ہیں اور ان کو بھی معلوم کرے گا جو جھوٹے ہیں۔
حالانکہ بلاشبہ یقینا ہم نے ان لوگوں کی آزمائش کی جو ان سے پہلے تھے، سو اللہ ہر صورت ان لوگوں کو جان لے گا جنھوں نے سچ کہا اور ان لوگوں کو بھی ہر صورت جان لے گا جو جھوٹے ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

امتحان اور مومن ٭٭

حروف مقطعہ کی بحث سورۃ البقرہ کی تفسیر کے شروع میں گزر چکی ہے۔ پھر فرماتا ہے: یہ ناممکن ہے کہ مومنوں کو بھی امتحان سے چھوڑ دیا جائے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ { سب سے زیادہ سخت امتحان نبیوں کا ہوتا ہے، پھر صالح نیک لوگوں کا، پھر ان سے کم درجے والے، پھر ان سے کم درجے والے۔ انسان کا امتحان اس کے دین کے اندازے پر ہوتا ہے اگر وہ اپنے دین میں سخت ہے تو مصیبتیں بھی سخت نازل ہوتی ہیں۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:2398،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ اسی مضمون کا بیان اس آیت میں بھی ہے «أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّـهُ الَّذِينَ جَاهَدُوا مِنكُمْ وَيَعْلَمَ الصَّابِرِ‌ينَ» ۱؎ [3-آل عمران:142] ‏‏‏‏ یعنی ’ کیا تم نے یہ گمان کر لیا ہے کہ تم چھوڑ دئیے جاؤ گے؟ حالانکہ ابھی اللہ تعالیٰ نے یہ ظاہر نہیں کیا کہ تم میں سے مجاہد کون ہے؟ ‘ اسی طرح سورۃ برات اور سورۃ بقرہ میں بھی گزر چکا ہے کہ ’ کیا تم نے یہ سوچ رکھا ہے کہ تم جنت میں یونہی چلے جاؤ گے؟ اور اگلے لوگوں جیسے سخت امتحان کے موقعے تم پر نہ آئیں گے۔ جیسے کہ انہیں بھوک، دکھ، درد وغیرہ پہنچے۔ یہاں تک کہ رسول اور ان کے ساتھ کے ایماندار بول اٹھے کہ اللہ کی مدد کہاں ہے؟ یقین مانو کہ اللہ کی مدد قریب ہے۔ ‘ ۱؎ [2-البقرة:214] ‏‏‏‏ یہاں بھی فرمایا: ان سے اگلے مسلمانوں کی بھی جانچ پڑتال کی گئی، انہیں بھی سرد و گرم چکھایا گیا تاکہ جو اپنے دعوے میں سچے ہیں اور جو صرف زبانی دعوے کرتے ہیں، ان میں تمیز ہو جائے۔ اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ اللہ اسے جانتا نہ تھا وہ ہر ہو چکی بات کو اور ہونے والی بات کو برابر جانتا ہے۔ اس پر اہل سنت والجماعت کے تمام اماموں کا اجماع ہے۔ پس یہاں علم روایت یعنی دیکھنے کے معنی میں ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما «لِنَعْلَمَ» کے معنی «لِنَرَى» کرتے ہیں کیونکہ دیکھنے کا تعلق موجود چیزوں سے ہوتا ہے اور علم اس سے عام ہے۔ پھر فرمایا ہے جو ایمان نہیں لائے وہ بھی یہ گمان نہ کریں کہ امتحان سے بچ جائیں گے بڑے بڑے عذاب اور سخت سزائیں ان کی تاک میں ہیں۔ یہ ہاتھ سے نکل نہیں سکتے۔ ہم سے آگے بڑھ نہیں سکتے۔ ان کے یہ گمان نہایت برے ہیں جن کا برا نتیجہ یہ عنقریب دیکھ لیں گے۔

📖 احسن البیان

3-1یعنی یہ سنت الٰہیہ ہے جو پہلے سے چلی آرہی ہے۔ اس لئے وہ اس امت کے مومنوں کی بھی آزمائش کرے گا، جس طرح پہلی امتوں کی آزمائش کی گئی۔ ان آیات کی شان نزول کی روایات میں آتا ہے کہ صحابہ کرام نے اس ظلم و ستم کی شکایت کی جس کا نشانہ وہ کفار مکہ کی طرف سے بنے ہوئے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دعا کی درخواست کی تاکہ اللہ تعالیٰ ان کی مدد فرمائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ' یہ تشدد و ایذاء تو اہل ایمان کی تاریخ کا حصہ ہے تم سے پہلے بعض مومنوں کا یہ حال کیا گیا کہ انھیں ایک گھڑا کھود کر اس میں کھڑا کردیا گیا اور پھر ان کے سروں پر آرا چلا دیا گیا، جس سے ان کے جسم دو حصوں میں تقسیم ہوگئے، اسی طرح لوہے کی کنگھیاں ان کے گوشت پر ہڈیوں تک پھیری گئیں۔ لیکن یہ ایذائیں انھیں دین حق سے پھیرنے میں کامیاب نہیں ہوئیں ' (صحیح بخاری) حضرت عمار، انکی والدہ حضرت سمیہ اور والد حضرت یاسر، حضرت صہیب، بلال ومقداد وغیرہم رضوان اللہ علیہم اجمعین پر اسلام کے ابتدائی دور میں جو ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے، وہ صفحات تاریح میں محفوظ ہیں۔ یہ واقعات ہی ان آیات کے نزول کا سبب بنے۔ تاہم عموم الفاظ کے اعتبار سے قیامت تک کے اہل ایمان اس میں داخل ہیں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 3) ➊ {وَ لَقَدْ فَتَنَّا الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ:} یعنی یہ کوئی نیا معاملہ نہیں ہے جو تمھارے ساتھ پیش آیا ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ کی یہ مستقل سنت رہی ہے اور پہلے لوگوں کی بھی آزمائشیں ہوتی رہی ہیں، خباب بن ارت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس شکایت کی، اس وقت آپ کعبہ کے سائے میں ایک چادر کا تکیہ بنائے ہوئے تھے، ہم نے آپ سے کہا: [ أَلاَ تَسْتَنْصِرُ لَنَا؟ أَلاَ تَدْعُوْ لَنَا؟ فَقَالَ قَدْ كَانَ مَنْ قَبْلَكُمْ يُؤْخَذُ الرَّجُلُ فَيُحْفَرُ لَهُ فِي الْأَرْضِ فَيُجْعَلُ فِيْهَا فَيُجَاءُ بِالْمِنْشَارِ فَيُوْضَعُ عَلٰی رَأْسِهِ فَيُجْعَلُ نِصْفَيْنِ وَ يُمْشَطُ بِأَمْشَاطِ الْحَدِيْدِ مَا دُوْنَ لَحْمِهِ وَعَظْمِهِ فَمَا يَصُدُّهُ ذٰلِكَ عَنْ دِيْنِهِ، وَاللّٰهِ! لَيَتِمَّنَّ هٰذَا الْأَمْرُ حَتّٰی يَسِيْرَ الرَّاكِبُ مِنْ صَنْعَاءَ إِلٰی حَضْرَ مَوْتَ لاَ يَخَافُ إِلاَّ اللّٰهَ وَالذِّئْبَ عَلٰی غَنَمِهِ وَ لٰكِنَّكُمْ تَسْتَعْجِلُوْنَ ] [بخاري، الإکراہ، باب من اختار الضرب و القتل و الھوان علی الکفر: ۶۹۴۳ ] ”کیا آپ ہمارے لیے مدد نہیں مانگتے؟ کیا آپ ہمارے لیے دعا نہیں کرتے؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سے پہلے لوگوں میں آدمی کے لیے زمین میں گڑھا کھودا جاتا اور اسے زمین میں گاڑ دیا جاتا، پھر آرا لایا جاتا اور اس کے سر پر رکھا جاتا اور اسے دو حصوں میں چیر دیا جاتا اور لوہے کی کنگھیوں سے اس کا گوشت ہڈیوں سے نوچ دیا جاتا اور یہ چیز اسے اس کے دین سے نہیں روکتی تھی۔ اللہ کی قسم! یہ کام ضرور مکمل ہو کر رہے گا، یہاں تک کہ سوار صنعاء سے حضر موت تک چلے گا اور اسے اللہ کے سوا کسی کا خوف نہیں ہو گا، یا اسے اپنی بکریوں کے متعلق بھیڑیے کا (خوف ہو گا)، لیکن تم بہت جلدی کا مطالبہ کرتے ہو۔“ ➋ { فَلَيَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِيْنَ صَدَقُوْا …:} ”سو اللہ تعالیٰ ہر صورت ان لوگوں کو جان لے گا جنھوں نے سچ کہا“ یہاں ایک مشہور سوال ہے کہ اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ اللہ تعالیٰ ماضی، حال اور مستقبل کی ہر بات کو جانتا ہے، پھر اس کا کیا مطلب کہ وہ سچوں اور جھوٹوں کو جان لے گا۔ مفسر ابن کثیر نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ یہاں علم سے مراد وہ علم ہے جو دیکھنے سے حاصل ہوتا ہے، عام علم تو ان چیزوں کا بھی ہوتا ہے جو وجود میں نہ آئی ہوں، مگر دیکھنے سے حاصل ہونے والا علم (یا یہ علم کہ کوئی چیز وجود میں آچکی ہے) کسی چیز کے وجود میں آنے کے بعد ہی ہوتا ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ آل عمران (۱۴۲) کی تفسیر۔
← پچھلی آیت (2) پوری سورۃ اگلی آیت (4) →