بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ العنكبوت — Surah Ankabut
آیت نمبر 29
کل آیات: 69
قرآن کریم العنكبوت آیت 29
آیت نمبر: 29 — سورۃ العنكبوت islamicurdubooks.com ↗
اَئِنَّکُمۡ لَتَاۡتُوۡنَ الرِّجَالَ وَ تَقۡطَعُوۡنَ السَّبِیۡلَ ۬ۙ وَ تَاۡتُوۡنَ فِیۡ نَادِیۡکُمُ الۡمُنۡکَرَ ؕ فَمَا کَانَ جَوَابَ قَوۡمِہٖۤ اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوا ائۡتِنَا بِعَذَابِ اللّٰہِ اِنۡ کُنۡتَ مِنَ الصّٰدِقِیۡنَ ﴿۲۹﴾
کیا تمہارا حال یہ ہے کہ مَردوں کے پاس جاتے ہو، اور رہزنی کرتے ہو اور اپنی مجلسوں میں بُرے کام کرتے ہو؟" پھر کوئی جواب اس کی قوم کے پاس اس کے سوا نہ تھا کہ انہوں نے کہا "لے آ اللہ کا عذاب اگر تو سچّا ہے"
کیا تم مردوں کے پاس بدفعلی کے لیے آتے ہو اور راستے بند کرتے ہو اور اپنی عام مجلسوں میں بے حیائیوں کا کام کرتے ہو؟ اس کے جواب میں اس کی قوم نے بجز اس کے اور کچھ نہیں کہا کہ بس جا اگر سچا ہے تو ہمارے پاس اللہ تعالیٰ کا عذاب لے آ
کیا تم مردوں سے بدفعلی کرتے ہو اور راہ مارتے ہو اور اپنی مجلس میں بری بات کرتے ہو تو اس کی قوم کا کچھ جواب نہ ہوا مگر یہ کہ بولے ہم پر اللہ کا عذاب لاؤ اگر تم سچے ہو
کیا تم (عورتوں کو چھوڑ کر) مردوں کے پاس جاتے ہو؟ اور راہزنی کرتے ہو اور اپنے مجمع میں برے کام کرتے ہو۔ تو ان کی قوم کے پاس اس کے سوا کوئی جواب نہ تھا کہ انہوں نے کہا (اے لوط) اگر تم سچے ہو تو ہم پر اللہ کا عذاب لاؤ۔
کیا بے شک تم واقعی مردوں کے پاس آتے ہو اور راستہ کاٹتے ہو اور اپنی مجلس میں برا کام کرتے ہو؟ تو اس کی قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ انھوں نے کہا ہم پر اللہ کا عذاب لے آ، اگر تو سچوں سے ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

سب سے خراب عادت ٭٭

لوطیوں کی مشہور بدکرداری سے لوط انہیں روکتے ہیں کہ تم جیسی خباثت تم سے پہلے تو کوئی جانتاہی نہ تھا۔ کفر، تکذیب رسول، اللہ کے حکم کی مخالفت تو خیر اور بھی کرتے رہے مگر مردوں سے حاجت روائی تو کسی نے بھی نہیں کی۔ دوسری بد خصلت ان میں یہ بھی تھی کہ راستے روکتے تھے، ڈاکے ڈالتے تھے، قتل وفساد کرتے تھے مال لوٹ لیتے تھے، مجلسوں میں علی الاعلان بری باتیں اور لغو حرکتیں کرتے تھے۔ کوئی کسی کو نہیں روکتا تھا یہاں تک کہ بعض کا قول ہے کہ وہ لواطت بھی علی الاعلان کرتے تھے۔ گویا سوسائٹی کا ایک مشغلہ یہ بھی تھا ہوائیں نکال کر ہنستے تھے، مینڈھے لڑواتے، مرغ لڑواتے اور بدترین برائیاں کرتے تھے اور علی الاعلان مزے لے لے کر گناہ کرتے تھے۔ حدیث میں ہے کہ { راہ چلتوں پر آوازہ کشی کرتے تھے اور کنکر پتھر پھینکتے رہتے تھے۔ } ۱؎ [مسند احمد:241/6:ضعیف] ‏‏‏‏ سیٹیاں بجاتے تھے کبوتربازی کرتے تھے، ننگے ہو جاتے تھے، کفر عنادسرکشی ضد اور ہٹ دھرمی یہاں تک بڑھی ہوئی تھی کہ نبی کے سمجھانے پر کہنے لگے جاجا پس نصیحت چھوڑ جن عذابوں سے ڈرارہا ہے انہیں تو لے آ۔ ہم بھی تیری سچائی دیکھیں۔ عاجز آ کر لوط علیہ السلام نے بھی اللہ کے آگے ہاتھ پھیلادئیے کہ اے اللہ! ان مفسدوں پر مجھے غلبہ دے میری مدد کر۔

📖 احسن البیان

29-1یعنی تمہاری شہوت پرستی اس انتہاء تک پہنچ گئی ہے کہ اس کے لئے طبعی طریقے تمہارے لئے ناکافی ہیں اور غیر طبعی طریقہ اختیار کرلیا ہے۔ جنسی شہوت کی تسکین کے لئے طبعی طریقہ اللہ تعالیٰ نے بیویوں سے مباشرت کی صورت میں رکھا ہے۔ اسے چھوڑ کر اس کام کے لئے مردوں کی دبر استعمال کرنا غیر طبعی طریقہ ہے۔ 29-2اس کے ایک معنی تو یہ کیے گے ہیں کہ آنے جانے والے مسافروں، نو واردوں اور گزرنے والوں کو زبردستی پکڑ پکڑ کر تم ان سے بےحیائی کا کام کرتے ہو، جس سے لوگوں کے لئے راستوں سے گزرنا مشکل ہوگیا ہے، قطع طریق کے ایک معنی قطع نسل کے بھی کئے گئے ہیں، یعنی عورتوں کی شرم گاہوں کو استعمال کرنے کی بجائے مردوں کی دبر استعمال کر کے تم اپنی نسل بھی منقطع کرنے میں لگے ہوئے ہو (فتح القدیر) 29-2یہ بےحیائی کیا تھی؟ اس میں بھی مختلف اقوال ہیں، مثلا لوگوں کو کنکریاں مارنا، اجنبی مسافر کا استہزاء و استخفاف، مجلسوں میں پاد مارنا، ایک دوسرے کے سامنے اغلام بازی، شطرنج وغیرہ قسم کی قماربازی، رنگے ہوئے کپڑے پہننا، وغیرہ۔ امام شوکانی فرماتے ہیں، کوئی بعید نہیں کہ وہ یہ تمام ہی منکرات کرتے رہے ہوں، 29-3حضرت لوط ؑ نے جب انھیں ان منکرات سے منع کیا تو اس کے جواب میں کہا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 29) ➊ { اَئِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ وَ تَقْطَعُوْنَ السَّبِيْلَ:} قطع سبیل (راستہ کاٹنے) سے مراد عام طور پر راہ زنی و ڈاکا مارنا لیا جاتا ہے، یعنی تم لوگ مسافروں سے ان کے مال چھین کر انھیں قتل کر دیتے ہو، یا زبردستی ان کے ساتھ برائی کا ارتکاب کرتے ہو، یا زیادتی کی کوئی بھی صورت اختیار کرتے ہو جس سے لوگوں کے لیے راہ چلنا خطرناک ہو جاتا ہے۔ ➋ {وَ تَاْتُوْنَ فِيْ نَادِيْكُمُ الْمُنْكَرَ:} یعنی بدکاری اور بے حیائی کے کام چھپ کر نہیں بلکہ اپنی مجلسوں میں کھلم کھلا ایک دوسرے کے سامنے کرتے ہو۔ اسی بات کو سورۂ نمل میں یوں فرمایا: «{ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ وَ اَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ }» [ النمل: ۵۴ ] ”کیا تم اس طرح بدکاری کا ارتکاب کرتے ہو کہ آنکھوں سے (اسے ہوتا) دیکھ رہے ہوتے ہو۔“ ➌ { فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ …:} یہاں ان کی قوم کا جواب یہ ذکر فرمایا ہے کہ انھوں نے کہا ہم پر اللہ کا عذاب لے آ، اگر تو سچوں سے ہے اور سورۂ اعراف اور سورۂ نمل میں ان کا جواب یہ ذکر فرمایا ہے کہ انھوں نے کہا انھیں اپنی بستی سے نکال دو، کیونکہ یہ لوگ بڑے پاک باز بنتے ہیں۔ اب ہو سکتا ہے کہ پہلے تو لوط علیہ السلام کے سمجھانے پر انھوں نے بستی سے نکال دینے کی دھمکی دی ہو اور پھر ان کی نصیحت سے تنگ آکر عذاب کا مطالبہ کر دیا ہو، یا ممکن ہے ترتیب اس کے برعکس ہو۔ (واللہ اعلم) یہ بات تو ظاہر ہے کہ انھوں نے لوط علیہ السلام کو یہ دونوں باتیں کیں۔
← پچھلی آیت (28) پوری سورۃ اگلی آیت (30) →