بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
الأعراف
سورۃ الأعراف — 206 آیات — صفحہ 3 از 5
قرآن کریم Surah 7
تِلۡکَ الۡقُرٰی نَقُصُّ عَلَیۡکَ مِنۡ اَنۡۢبَآئِہَا ۚ وَ لَقَدۡ جَآءَتۡہُمۡ رُسُلُہُمۡ بِالۡبَیِّنٰتِ ۚ فَمَا کَانُوۡا لِیُؤۡمِنُوۡا بِمَا کَذَّبُوۡا مِنۡ قَبۡلُ ؕ کَذٰلِکَ یَطۡبَعُ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوۡبِ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۱۰۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ قومیں جن کے قصے ہم تمہیں سنا رہے ہیں (تمہارے سامنے مثال میں موجود ہیں) ان کے رسول ان کے پا س کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے، مگر جس چیز کو وہ ایک دفعہ جھٹلا چکے تھے پھر اُسے وہ ماننے والے نہ تھے دیکھو اس طرح ہم منکرین حق کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
ان بستیوں کے کچھ کچھ قصے ہم آپ سے بیان کر رہے ہیں اور ان سب کے پاس ان کے پیغمبر معجزات لے کر آئے، پھر جس چیز کو انہوں نے ابتدا میں جھوٹا کہہ دیا یہ بات نہ ہوئی کہ پھر اس کو مان لیتے، اللہ تعالیٰ اسی طرح کافروں کے دلوں پر بند لگا دیتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
یہ بستیاں ہیں جن کے احوال ہم تمہیں سناتے ہیں اور بیشک ان کے پاس ان کے رسول روشن دلیلیں لے کر آئے تو وہ اس قابل نہ ہوئے کہ وہ اس پر ایمان لاتے جسے پہلے جھٹلاچکے تھے اللہ یونہی چھاپ لگادیتا ہے کا فروں کے دلوں پر
علامہ محمد حسین نجفی
یہ وہ بستیاں ہیں کہ جن کی کچھ خبریں ہم آپ سے بیان کر رہے ہیں بے شک ان کے پاس ان کے رسول کھلے ہوئے نشان (معجزے) لے کر آئے۔ مگر وہ ایسے نہیں تھے کہ اس بات پر ایمان لاتے جسے وہ پہلے جھٹلا چکے تھے۔ اللہ اسی طرح کافروں کے دلوں پر مہر لگاتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
یہ بستیاں ہیں، ہم تجھ سے ان کے کچھ حالات بیان کر رہے ہیں اور بلاشبہ یقینا ان کے پاس ان کے رسول واضح دلائل لے کر آئے، تو وہ ایسے نہ تھے کہ اس چیز کو مان لیتے جسے وہ اس سے پہلے جھٹلا چکے تھے۔ اسی طرحاللہ کافروں کے دلوں پر مہر کر دیتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عہد شکن لوگوں کی طے شدہ سزا ٭٭

پہلے قوم نوح، ہود، صالح، لوط اور قوم شعیب کا بیان گزر چکا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ ان سب کے پاس ہمارے رسول حق لے کر پہنچے، معجزے دکھائے، سمجھایا، بجھایا، دلیلیں دیں لیکن وہ نہ مانے اور اپنی بد عادتوں سے باز نہ آئے۔ جس کی پاداش میں ہلاک ہو گئے۔ صرف ماننے والے بچ گئے۔ اللہ کا طریقہ اسی طرح جاری ہے کہ ’ جب تک رسول نہ آ جائیں، خبردار نہ کر دیئے جائیں، عذاب نہیں کئے جاتے۔ ‘ ۱؎ [17-الإسراء:15] ‏‏‏‏ ہم ظالم نہیں لیکن جبکہ لوگ خود ظلم پر کمر کس لیں تو پھر ہمارے عذاب انہیں آ پکڑتے ہیں۔ ان سب نے جن چیزوں کا انکار کر دیا تھا، ان پر باوجود دلیلیں دیکھ لینے کے بھی ایمان نہ لائے۔ آیت «بِمَا كَذَّبُوا» میں «ب» سببیہ ہے۔ جیسے ساتویں پارے کے آخر میں فرمایا ہے کہ ’ تم کیا جانو؟ یہ لوگ تو معجزے آنے پر بھی ایمان نہ لائیں گے۔ ہم ان کے دلوں اور آنکھوں کو الٹ دیں گے۔ جیسے کہ یہ اس قرآن پر پہلی بار ایمان نہ لائے تھے اور ہم انہیں ان کی سرکشی کی حالت میں بھٹکتے ہوئے چھوڑ دیں گے۔ ‘ ۱؎ [6-الأنعام:109-110] ‏‏‏‏ یہاں بھی فرمان ہے کہ کفار کے دلوں پر اسی طرح ہم مہر لگا دیا کرتے ہیں۔

ان میں سے اکثر بدعہد ہیں بلکہ عموماً فاسق ہیں۔ یہ عہد وہ ہے جو روز ازل میں لیا گیا تھا اور اسی پر پیدا کئے گئے۔ اسی فطرت اور جبلت میں رکھا گیا، اسی کی تاکید انبیاء علیہم السلام کرتے رہے۔ لیکن انہوں نے اس عہد کو پس پشت ڈال دیا یا مطلق پرواہ نہ کی اور اس عہد کے خلاف غیر اللہ کی پرستش شروع کر دی۔ اللہ کو مالک، خالق اور لائق عبادت مان کر آئے تھے لیکن یہاں اس کے سراسر خلاف کرنے لگے اور بےدلیل، خلاف عقل و نقل، خلاف فطرت اور خلاف شرع، اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت میں لگ گئے۔ صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں نے اپنے بندوں کو موحد اور یکطرفہ پیدا کیا لیکن شیطان نے آ کر انہیں بہکا دیا اور میری حلال کردہ چیزیں ان پر حرام کر دیں۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2865] ‏‏‏‏ بخاری و مسلم میں ہے: { ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے پھر اسے اس کے ماں باپ یہودی، نصرانی، مجوسی بنا لیتے ہیں الخ۔ } [صحیح بخاری:4775] ‏‏‏‏ خود قرآن کریم میں ہے: ’ ہم نے تجھ سے پہلے جتنے رسول بھیجے تھے، سب کی طرف یہی وحی کی تھی کہ میرے سوا اور کوئی معبود نہیں۔ اے دنیا کے لوگو! تم سب صرف میری ہی عبادت کرتے رہو۔ ‘ ۱؎ [21-الأنبياء:25] ‏‏‏‏ اور آیت میں ہے: ’ اپنے سے پہلے کے رسولوں سے دریافت کر لو کہ کیا ہم نے اپنے سوا اور معبود ان کے لیے مقرر کئے تھے؟ ‘ ۱؎ [43-الزخرف:45] ‏‏‏‏ اور فرمان ہے «وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّـهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ» ۱؎ [16-النحل:36] ‏‏‏‏ ’ ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ لوگو! صرف اللہ ہی کی عبادت کرو اور اس کے سوا ہر ایک کی عبادت سے الگ رہو۔ ‘ اس مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔ اس جملے کے معنی یہ بھی کئے گئے ہیں کہ چونکہ پہلے ہی سے اللہ کے علم میں یہ بات مقرر ہو گئی تھی کہ انہیں ایمان نصیب نہیں ہو گا۔ یہی ہو کر رہا کہ باوجود دلائل سامنے آ جانے کے، ایمان نہ لائے۔ میثاق والے دن گو یہ ایمان قبول کر بیٹھے لیکن ان کے دلوں کی حالت اللہ جل شانہ کو معلوم تھی کہ ان کا ایمان جبراً اور ناخوشی سے ہے۔ جیسے فرمان ہے کہ ’ یہ اگر دوبارہ دنیا کی طرف لوٹائے جائیں تو پھر بھی وہی کام نئے سرے سے کرنے لگیں گے جن سے انہیں روکا گیا ہے۔ ‘ [6-الأنعام:28] ‏‏‏‏
(1) جس طرح گزشتہ صفحات میں چند انبیاء کا ذکر گزرا۔ بینات سے مراد دلائل وبراہین اور معجزات دونوں ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ رسولوں کے ذریعے سے جب تک ہم نے حجت تمام نہیں کردی ہم نے انہیں ہلاک نہیں کیا۔ کیونکہ جب تک ہم رسول نہیں بھیجتے عذاب نازل نہیں کرتے۔ 11۔ 1 اس کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ یوم میثاق کو جب عہد لیا گیا تھا تو یہ اللہ کے علم میں ایمان لانے والے نہ تھے اس لئے جب ان کے پاس رسول آئے تو اللہ کے علم کے مطابق ایمان نہیں لائے، کیونکہ ان کی تقدیر میں ہی ایمان نہیں تھا جسے اللہ نے اپنے علم کے مطابق لکھ دیا تھا۔ جس کو حدیث میں تعبیر کیا گیا ہے دوسرا مفہوم یہ ہے کہ جب پیغمبر ان کے پاس آئے تو اس وجہ سے ان پر ایمان نہیں لائے کہ وہ اس سے قبل حق کی تکذیب کرچکے تھے۔ گویا ابتدا میں جس چیز کی تکذیب کرچکے تھے، یہی گناہ ان کے عدم ایمان کا سبب بن گیا اور ایمان لانے کی توفیق ان سے سلب کرلی گئی، اسی کو اگلے جملے میں مہر لگانے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ (وَمَا يُشْعِرُكُمْ ۙ اَنَّهَآ اِذَا جَاۗءَتْ لَا يُؤْمِنُوْنَ 19۔ وَنُقَلِّبُ اَفْــــِٕدَتَهُمْ وَاَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوْا بِهٖٓ اَوَّلَ مَرَّةٍ) 6۔ الانعام:19) اور تمہیں کیا معلوم ہے یہ تو ایسے (بدبخت) ہیں کہ ان کے پاس نشانیاں بھی اجائیں تب بھی ایمان نہ لائیں اور ہم ان کے دلوں اور آنکھوں کو الٹ دیں گے (تو) جیسے یہ اس (قرآن) پر پہلی دفعہ ایمان نہیں لائے (ویسے پھر نہ لائیں گے)۔
(آیت 101) ➊ {تِلْكَ الْقُرٰى …:} یہاں {” الْقُرٰى “} سے مراد گزشتہ پانچ اقوام (قوم نوح، عاد، ثمود، قوم لوط اور قوم شعیب) کی بستیاں ہیں۔ آپ کو ان کے کچھ حالات سنانے کا مقصد یہ ہے کہ کفار مکہ جو ان بستیوں میں رہنے والوں کی طرح آپ کی مخالفت کر رہے ہیں، عبرت حاصل کریں۔ ➋ {فَمَا كَانُوْا لِيُؤْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوْا مِنْ قَبْلُ:} یعنی ان کے ایمان نہ لانے کی وجہ یہ نہیں تھی کہ ان کے رسولوں کے پاس اپنے سچا ہونے کے دلائل نہیں تھے، یا وہ دلائل اتنے واضح اور روشن نہیں تھے کہ قائل کر سکیں، بلکہ اس کا سبب ان کی قوم کا پہلے سے طے کر لینا تھا کہ ہم نے ماننا ہی نہیں۔ اب پہلے جھٹلا دینے کے بعد وہ ایمان لے آتے تو ان کی جھوٹی عزت نفس پر حرف آتا تھا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ وَ اِذَا قِيْلَ لَهُ اتَّقِ اللّٰهَ اَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالْاِثْمِ فَحَسْبُهٗ جَهَنَّمُ وَ لَبِئْسَ الْمِهَادُ }» [ البقرۃ: ۲۰۶ ] ”اور جب اس سے کہا جاتا ہے کہ اللہ سے ڈر تو اس کی عزت اسے گناہ میں پکڑے رکھتی ہے، سو اسے جہنم ہی کافی ہے اور یقینا وہ برا ٹھکانا ہے۔“ یہی گناہ (یعنی دلائل دیکھنے کے باوجود پہلے ہی جھٹلا دینا اور اس پر اصرار کرنا) ان کے دلوں پر مہر کا باعث بن گیا۔ دیکھیے سورۂ انعام (۱۰۹، ۱۱۰)۔ ➌ {كَذٰلِكَ يَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِ الْكٰفِرِيْنَ:} یعنی جس طرح پہلی امتوں کی ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے ان کے دلوں کی صلاحیتیں سلب کر لی گئی تھیں اور انھیں ایمان نصیب نہیں ہوا تھا اسی طرح ان کے دل بھی مسخ ہو چکے ہیں اور ان میں ایمان کی صلاحیت باقی نہیں رہی۔
وَ مَا وَجَدۡنَا لِاَکۡثَرِہِمۡ مِّنۡ عَہۡدٍ ۚ وَ اِنۡ وَّجَدۡنَاۤ اَکۡثَرَہُمۡ لَفٰسِقِیۡنَ ﴿۱۰۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہم نے ان میں سے اکثر میں کوئی پاس عہد نہ پایا بلکہ اکثر کو فاسق ہی پایا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اکثر لوگوں میں ہم نے وفائے عہد نہ دیکھا اور ہم نے اکثر لوگوں کو بےحکم ہی پایا
احمد رضا خان بریلوی
اور ان میں اکثر کو ہم نے قول کا سچا نہ پایا اور ضرور ان میں اکثر کو بے حکم ہی پایا،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے ان کی اکثریت میں عہد و پیمان کی پاسداری نہیں پائی اور ہم نے اکثر کو فاسق و فاجر پایا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے ان میں سے اکثر کا کوئی بھی عہد نہیں پایا اور بے شک ہم نے ان کے اکثر کو فاسق ہی پایا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عہد شکن لوگوں کی طے شدہ سزا ٭٭

پہلے قوم نوح، ہود، صالح، لوط اور قوم شعیب کا بیان گزر چکا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ ان سب کے پاس ہمارے رسول حق لے کر پہنچے، معجزے دکھائے، سمجھایا، بجھایا، دلیلیں دیں لیکن وہ نہ مانے اور اپنی بد عادتوں سے باز نہ آئے۔ جس کی پاداش میں ہلاک ہو گئے۔ صرف ماننے والے بچ گئے۔ اللہ کا طریقہ اسی طرح جاری ہے کہ ’ جب تک رسول نہ آ جائیں، خبردار نہ کر دیئے جائیں، عذاب نہیں کئے جاتے۔ ‘ ۱؎ [17-الإسراء:15] ‏‏‏‏ ہم ظالم نہیں لیکن جبکہ لوگ خود ظلم پر کمر کس لیں تو پھر ہمارے عذاب انہیں آ پکڑتے ہیں۔ ان سب نے جن چیزوں کا انکار کر دیا تھا، ان پر باوجود دلیلیں دیکھ لینے کے بھی ایمان نہ لائے۔ آیت «بِمَا كَذَّبُوا» میں «ب» سببیہ ہے۔ جیسے ساتویں پارے کے آخر میں فرمایا ہے کہ ’ تم کیا جانو؟ یہ لوگ تو معجزے آنے پر بھی ایمان نہ لائیں گے۔ ہم ان کے دلوں اور آنکھوں کو الٹ دیں گے۔ جیسے کہ یہ اس قرآن پر پہلی بار ایمان نہ لائے تھے اور ہم انہیں ان کی سرکشی کی حالت میں بھٹکتے ہوئے چھوڑ دیں گے۔ ‘ ۱؎ [6-الأنعام:109-110] ‏‏‏‏ یہاں بھی فرمان ہے کہ کفار کے دلوں پر اسی طرح ہم مہر لگا دیا کرتے ہیں۔

ان میں سے اکثر بدعہد ہیں بلکہ عموماً فاسق ہیں۔ یہ عہد وہ ہے جو روز ازل میں لیا گیا تھا اور اسی پر پیدا کئے گئے۔ اسی فطرت اور جبلت میں رکھا گیا، اسی کی تاکید انبیاء علیہم السلام کرتے رہے۔ لیکن انہوں نے اس عہد کو پس پشت ڈال دیا یا مطلق پرواہ نہ کی اور اس عہد کے خلاف غیر اللہ کی پرستش شروع کر دی۔ اللہ کو مالک، خالق اور لائق عبادت مان کر آئے تھے لیکن یہاں اس کے سراسر خلاف کرنے لگے اور بےدلیل، خلاف عقل و نقل، خلاف فطرت اور خلاف شرع، اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت میں لگ گئے۔ صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں نے اپنے بندوں کو موحد اور یکطرفہ پیدا کیا لیکن شیطان نے آ کر انہیں بہکا دیا اور میری حلال کردہ چیزیں ان پر حرام کر دیں۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2865] ‏‏‏‏ بخاری و مسلم میں ہے: { ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے پھر اسے اس کے ماں باپ یہودی، نصرانی، مجوسی بنا لیتے ہیں الخ۔ } [صحیح بخاری:4775] ‏‏‏‏ خود قرآن کریم میں ہے: ’ ہم نے تجھ سے پہلے جتنے رسول بھیجے تھے، سب کی طرف یہی وحی کی تھی کہ میرے سوا اور کوئی معبود نہیں۔ اے دنیا کے لوگو! تم سب صرف میری ہی عبادت کرتے رہو۔ ‘ ۱؎ [21-الأنبياء:25] ‏‏‏‏ اور آیت میں ہے: ’ اپنے سے پہلے کے رسولوں سے دریافت کر لو کہ کیا ہم نے اپنے سوا اور معبود ان کے لیے مقرر کئے تھے؟ ‘ ۱؎ [43-الزخرف:45] ‏‏‏‏ اور فرمان ہے «وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّـهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ» ۱؎ [16-النحل:36] ‏‏‏‏ ’ ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ لوگو! صرف اللہ ہی کی عبادت کرو اور اس کے سوا ہر ایک کی عبادت سے الگ رہو۔ ‘ اس مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔ اس جملے کے معنی یہ بھی کئے گئے ہیں کہ چونکہ پہلے ہی سے اللہ کے علم میں یہ بات مقرر ہو گئی تھی کہ انہیں ایمان نصیب نہیں ہو گا۔ یہی ہو کر رہا کہ باوجود دلائل سامنے آ جانے کے، ایمان نہ لائے۔ میثاق والے دن گو یہ ایمان قبول کر بیٹھے لیکن ان کے دلوں کی حالت اللہ جل شانہ کو معلوم تھی کہ ان کا ایمان جبراً اور ناخوشی سے ہے۔ جیسے فرمان ہے کہ ’ یہ اگر دوبارہ دنیا کی طرف لوٹائے جائیں تو پھر بھی وہی کام نئے سرے سے کرنے لگیں گے جن سے انہیں روکا گیا ہے۔ ‘ [6-الأنعام:28] ‏‏‏‏
12۔ 1 اس سے بعض نے عہد الست جو عالم ارواح میں لیا گیا تھا، بعض نے عذاب ٹالنے کے لئے پیغمبروں سے جو عہد کرتے تھے، وہ عہد اور بعض نے عام عہد مراد لیا ہے جو آپس میں ایک دوسرے سے کرتے تھے۔ اور یہ عہد شکنی، چاہے وہ کسی بھی قسم کی ہو، فسق ہی ہے۔
(آیت 102) ➊ {وَ مَا وَجَدْنَا لِاَكْثَرِهِمْ مِّنْ عَهْدٍ:مِنْ عَهْدٍ “} (کوئی بھی عہد) کا لفظ نکرہ استعمال ہوا ہے، جس کا عموم {” مِنْ “} سے مزید بڑھ گیا ہے۔ مراد کسی بھی قسم کا عہد ہے، نہ فطری جو {” اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ “} کے وقت کیا تھا، نہ شرعی جو پیغمبروں سے عذاب ٹالنے کی درخواست کے وقت کرتے تھے اور نہ عرفی جو وہ آپس میں ایک دوسرے سے کرتے تھے۔ ➋ {لَفٰسِقِيْنَ:} ”نافرمان“ یعنی کسی عہد کا پاس نہ کرنے والے پکے بے ایمان۔
ثُمَّ بَعَثۡنَا مِنۡۢ بَعۡدِہِمۡ مُّوۡسٰی بِاٰیٰتِنَاۤ اِلٰی فِرۡعَوۡنَ وَ مَلَا۠ئِہٖ فَظَلَمُوۡا بِہَا ۚ فَانۡظُرۡ کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الۡمُفۡسِدِیۡنَ ﴿۱۰۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر اُن قوموں کے بعد (جن کا ذکر اوپر کیا گیا) ہم نے موسیٰؑ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں کے پاس بھیجا مگر انہوں نے بھی ہماری نشانیوں کے ساتھ ظلم کیا، پس دیکھو کہ ان مفسدوں کا کیا انجام ہوا
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے دﻻئل دے کر فرعون اور اس کے امرا کے پاس بھیجا، مگر ان لوگوں نے ان کا بالکل حق ادا نہ کیا۔ سو دیکھئے ان مفسدوں کا کیا انجام ہوا؟
احمد رضا خان بریلوی
پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف بھیجا تو انہوں نے ان نشانیوں پر زیادتی کی تو دیکھو کیسا انجام ہوا مفسدوں کا،
علامہ محمد حسین نجفی
پھر ہم نے ان (نبیوں) کے بعد موسیٰ کو اپنی نشانیاں (معجزے) دے کر فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف بھیجا۔ مگر انہوں نے ان (نشانیوں) کے ساتھ ظلم کیا (انکار کر دیا) دیکھو مفسدین کا کیا برا انجام ہوا؟
عبدالسلام بن محمد
پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف بھیجا تو انھوں نے ان کے ساتھ ظلم کیا۔ پھر دیکھ فساد کرنے والوں کا انجام کیسا ہوا؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نابکار لوگوں کا تذکرہ ، انبیاء اور مومنین پر نظر کرم ٭٭

جن رسولوں کا ذکر گزر چکا ہے یعنی نوح، ہود، صالح، لوط، شعیب «صلوات اللہ علیہم اجمعین» کے بعد ہم نے موسیٰ علیہ السلام کو اپنی دلیلیں عطا فرما کر بادشاہ مصر فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجا۔ لیکن انہوں نے بھی جھٹلایا اور ظلم و زیادتی کی اور صاف انکار کر دیا حالانکہ ان کے دلوں میں یقین گھر کر چکا تھا۔ اب تو آپ دیکھ لیں کہ اللہ کی راہ سے روکنے والوں اور اس کے رسولوں کا انکار کرنے والوں کا کیا انجام ہوا؟ وہ مع اپنی قوم کے ڈبو دیئے گئے اور پھر لطف یہ ہے کہ مومنوں کے سامنے بے بسی کی پکڑ میں پکڑ لیا گیا تاکہ ان کے دل ٹھنڈے ہوں اور عبرت ہو۔
13۔ 1 یہاں سے حضرت موسیٰ ؑ کا ذکر شروع ہو رہا ہے جو مذکورہ انبیاء کے بعد آئے جو جلیل القدر پیغمبر تھے، جنہیں فرعون مصر اور اس کی قوم کی طرف دلائل و معجزات دے کر بھیجا تھا۔ 13۔ 2 یعنی انہیں غرق کردیا گیا، جیسا کہ آگے آئے گا۔
(آیت 103){ فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِيْنَ:} وہ سب کے سب غرق کر دیے گئے اور ان کی ساری شان و شوکت خاک میں ملا دی گئی۔ یہ چھٹا قصہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں بیان فرمایا ہے اور اسے جس تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا ہے دوسرے کسی قصے کو اس طرح بیان نہیں فرمایا۔ وجہ یہ ہے کہ جس طرح موسیٰ علیہ السلام کے معجزات ان تمام انبیاء سے بڑھ کر تھے اسی طرح ان کی امت بھی جہالت اور سرکشی میں سب سے بڑھی ہوئی تھی۔ البتہ یہاں ان کی زندگی کے ابتدائی حالات کے بجائے دوسرے انبیاء کی طرح دعوت کے آغاز سے بات شروع فرمائی۔ بعض علماء نے فرمایا، اس آیت میں موسیٰ علیہ السلام کو فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف بھیجنے کا ذکر فرمایا ہے، فرعون اور اس کی قوم کا ذکر نہیں فرمایا، کیونکہ سارا اختیار فرعون کے ہاتھ میں تھا، اگر وہ ایمان لے آتا تو اس کی قوم بھی ایمان لے آتی اور اس جبر و قہر میں اس کے سردار اس کے معاون تھے۔ اس ظالم نے بنی اسرائیل کے علاوہ اپنی قوم کو بھی اتنا بے وقعت بنا دیا تھا کہ ان کے پاس فرعون کی بات ماننے کے سوا کوئی چارہ ہی نہیں رہا تھا۔ دیکھیے سورۂ زخرف (۵۸)گویا اس کی اپنی قوم بھی اس کے ہاتھوں مظلوم تھی مگر بنی اسرائیل پر ظلم تو انھیں غلام بنا کر رکھنے، ملک سے نکلنے کی ممانعت اور ان کی اولاد کے قتل کی حد تک پہنچ چکا تھا۔
وَ قَالَ مُوۡسٰی یٰفِرۡعَوۡنُ اِنِّیۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۰۴﴾ۙ
سید ابو الاعلیٰ مودودی
موسیٰؑ نے کہا "اے فرعون، میں کائنات کے مالک کی طرف سے بھیجا ہوا آیا ہو ں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اے فرعون! میں رب العالمین کی طرف سے پیغمبر ہوں
احمد رضا خان بریلوی
اور موسیٰ نے کہا اے فرعون! میں پرور دگا ر عالم کا رسول ہوں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور موسیٰ نے کہا اے فرعون میں تمام جہانوں کے پروردگار کا رسول ہوں۔
عبدالسلام بن محمد
اور موسیٰ نے کہا اے فرعون! بے شک میں جہانوں کے رب کی طرف سے بھیجا ہوا ہوں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
موسیٰ علیہ السلام اور فرعون ٭٭

موسیٰ علیہ السلام کے اور فرعون کے درمیان جو گفتگو ہوئی، اس کا ذکر ہو رہا ہے کہ اللہ کے کلیم علیہ السلام نے فرمایا کہ اے فرعون! میں رب العالمین کا رسول ہوں جو تمام عالم کا خالق و مالک ہے۔ مجھے یہی لائق ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بارہ میں وہی باتیں کہوں جو سراسر حق ہوں «ب» اور «علی» یہ متعاقب ہوا کرتے ہیں۔ جیسے «رَمَیْتَ بِالْقَوْسِ» اور «رَمَیْتَ علی الْقَوْسِ» وغیرہ۔ اور بعض مفسرین کہتے ہیں: «حَقِیْقٌ» کے معنی «حَرِیْصٌ» کے ہیں۔ یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں کہ مجھ پر واجب اور حق ہے کہ اللہ ذوالمنن کا نام لے کر وہی خبر دوں جو حق و صداقت والی ہو کیونکہ میں اللہ عزوجل کی عظمت سے واقف ہوں، میں اپنی صداقت پر الٰہی دلیل بھی ساتھ ہی لایا ہوں۔ تو قوم بنی اسرائیل کو اپنے مظام سے آزاد کر دے، انہیں اپنی زبردستی کی غلامی سے نکال دے، انہیں ان کے رب کی عبادت کرنے دے۔ یہ ایک زبردست بزرگ پیغمبر کی نسل سے ہیں یعنی یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم خلیل اللہ علیہم السلام کی اولاد ہیں۔ فرعون نے کہا: میں تجھے سچا نہیں سمجھتا، نہ تیری طلب پوری کروں گا اور اگر تو اپنے دعوے میں واقعی سچا ہے تو کوئی معجزہ پیش کر۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 104){ وَ قَالَ مُوْسٰى يٰفِرْعَوْنُ اِنِّيْ رَسُوْلٌ …:} فرعون مصر کے ہر بادشاہ کا لقب تھا، جیسا کہ روم کے بادشاہ کا قیصر اور فارس کے بادشاہ کا لقب کسریٰ تھا۔ موسیٰ علیہ السلام نے اسے اس کے عزت والے نام کے ساتھ نہایت نرمی کے ساتھ مخاطب فرمایا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں بھیجتے وقت تلقین فرمائی تھی۔ دیکھیے سورۂ طٰہٰ (۴۴) اس فرعون کا نام منفتاح بن رعمسیس ثانی یا ولید بن ریان بتایا جاتا ہے، مگر یہ بات کسی قابل اعتماد ذریعے سے ثابت نہیں۔
حَقِیۡقٌ عَلٰۤی اَنۡ لَّاۤ اَقُوۡلَ عَلَی اللّٰہِ اِلَّا الۡحَقَّ ؕ قَدۡ جِئۡتُکُمۡ بِبَیِّنَۃٍ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ فَاَرۡسِلۡ مَعِیَ بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ ﴿۱۰۵﴾ؕ
سید ابو الاعلیٰ مودودی
میرا منصب یہی ہے کہ اللہ کا نام لے کر کوئی بات حق کے سوا نہ کہوں، میں تم لوگوں کے پاس تمہارے رب کی طرف سے صریح دلیل ماموریت لے کر آیا ہوں، لہٰذا تو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دے"
مولانا محمد جوناگڑھی
میرے لیے یہی شایان ہے کہ بجز سچ کے اللہ کی طرف کوئی بات منسوب نہ کروں، میں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک بڑی دلیل بھی ﻻیا ہوں، سو تو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دے
احمد رضا خان بریلوی
مجھے سزاوار ہے کہ اللہ پر نہ کہوں مگر سچی بات میں تم سب کے پاس تمہارے رب کی طرف سے نشانی لےکر آیا ہوں تو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ چھوڑ دے
علامہ محمد حسین نجفی
میرے لئے ضروری ہے کہ اللہ کے بارے میں حق کے سوا کوئی بات نہ کہوں میں تمہارے پروردگار کی طرف سے معجزہ لے کر آیا ہوں۔ پس تو بنی اسرائیل کو (آزاد کرکے) میرے ساتھ بھیج دے۔
عبدالسلام بن محمد
اس بات پر پوری طرح قائم ہوں کہ اللہ پر حق کے سوا نہ کہوں، بلا شبہ میں تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے ایک واضح دلیل لے کر آیا ہوں، سو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
موسیٰ علیہ السلام اور فرعون ٭٭

موسیٰ علیہ السلام کے اور فرعون کے درمیان جو گفتگو ہوئی، اس کا ذکر ہو رہا ہے کہ اللہ کے کلیم علیہ السلام نے فرمایا کہ اے فرعون! میں رب العالمین کا رسول ہوں جو تمام عالم کا خالق و مالک ہے۔ مجھے یہی لائق ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بارہ میں وہی باتیں کہوں جو سراسر حق ہوں «ب» اور «علی» یہ متعاقب ہوا کرتے ہیں۔ جیسے «رَمَیْتَ بِالْقَوْسِ» اور «رَمَیْتَ علی الْقَوْسِ» وغیرہ۔ اور بعض مفسرین کہتے ہیں: «حَقِیْقٌ» کے معنی «حَرِیْصٌ» کے ہیں۔ یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں کہ مجھ پر واجب اور حق ہے کہ اللہ ذوالمنن کا نام لے کر وہی خبر دوں جو حق و صداقت والی ہو کیونکہ میں اللہ عزوجل کی عظمت سے واقف ہوں، میں اپنی صداقت پر الٰہی دلیل بھی ساتھ ہی لایا ہوں۔ تو قوم بنی اسرائیل کو اپنے مظام سے آزاد کر دے، انہیں اپنی زبردستی کی غلامی سے نکال دے، انہیں ان کے رب کی عبادت کرنے دے۔ یہ ایک زبردست بزرگ پیغمبر کی نسل سے ہیں یعنی یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم خلیل اللہ علیہم السلام کی اولاد ہیں۔ فرعون نے کہا: میں تجھے سچا نہیں سمجھتا، نہ تیری طلب پوری کروں گا اور اگر تو اپنے دعوے میں واقعی سچا ہے تو کوئی معجزہ پیش کر۔
15۔ 1 جو اس بات کی دلیل ہے کہ میں واقعی اللہ کی طرف سے مقرر کردہ رسول ہوں۔ اس معجزے اور بڑی دلیل کی تفصیل بھی آگے آرہی ہے۔ 15۔ 2 بنی اسرائیل جن کا اصل مسکن شام کا علاقہ تھا، حضرت یوسف ؑ کے زمانے میں مصر چلے گئے تھے اور پھر وہیں کے ہو کر رہ گئے۔ فرعون نے ان کو غلام بنا لیا تھا اور ان پر طرح طرح کے مظالم کرتا تھا، جس کی تفصیل پہلے سورة، بقرہ میں گزر چکی ہے اور آئندہ بھی آئے گی۔ فرعون اور اس کے درباری امراء نے جب حضرت موسیٰ ؑ کی دعوت کو ٹھکرا دیا تو حضرت موسیٰ نے فرعون سے دوسرا مطالبہ کیا کہ بنی اسرائیل کو آزاد کردے تاکہ یہ اپنے آبائی مسکن میں جاکر عزت اور احترام کی زندگی گزاریں اور اللہ کی عبادت کریں۔
(آیت 105) ➊ {حَقِيْقٌ عَلٰۤى اَنْ لَّاۤ اَقُوْلَ عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ:} کیونکہ میں اللہ کا رسول(پیغام پہنچانے والا) ہوں اور رسول کا کام یہ ہے کہ بھیجنے والے کا پیغام کسی کمی بیشی کے بغیر پہنچا دے، اس میں اپنی طرف سے کوئی تبدیلی نہ کرے، لہٰذا میری ہر بات صحیح اور سچی ہو گی۔ نافع کی قراء ت میں ہے: {” حَقِيْقٌ عَلَيَّ أَلَّا أَقُوْلَ عَلَي اللّٰهِ إِلَّا الْحَقَّ “} اس صورت میں {” حَقِيْقٌ “} کا معنی ہے واجب، یعنی مجھ پر واجب ہے کہ میں اللہ تعالیٰ پر حق کے سوا کچھ نہ کہوں۔ عاصم کی قراء ت میں وہی ہے جو ہم پڑھتے ہیں: «{ حَقِيْقٌ عَلٰۤى اَنْ لَّاۤ اَقُوْلَ عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ }» اس صورت میں {” حَقِيْقٌ “} کا معنی ہے قائم، ثابت۔ {” حَقِيْقٌ “} مبتدا محذوف {” أَنَا “} کی خبر ہے، یعنی میں اس بات پر قائم ہوں کہ اللہ تعالیٰ پر حق کے سوا کچھ نہ کہوں۔ ➋ { فَاَرْسِلْ مَعِيَ بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ:} یعنی انھیں غلامی سے آزاد کر، تاکہ وہ میرے ساتھ کسی ایسی جگہ چلے جائیں جہاں وہ اپنے اور تیرے رب کی پوری آزادی کے ساتھ عبادت کر سکیں۔ موسیٰ علیہ السلام کے اس مطالبے کا پس منظر یہ تھا کہ یوسف علیہ السلام کے زمانے میں ان کے بھائی مصر میں آکر آباد ہو گئے اور وہیں ان کی نسل پھیلی جو بنی اسرائیل کہلائی۔ یوسف علیہ السلام کی زندگی تک تو انھیں پوری طرح اقتدار حاصل رہا لیکن اس کے بعد فرعونوں نے انھیں غلام بنا لیا اور مصر میں ان کی حالت اچھوتوں سے بھی بدتر ہو گئی، وہ چونکہ مسلمان تھے اس لیے موسیٰ علیہ السلام کے مشن میں جہاں یہ چیز شامل تھی کہ فرعون کو توحید کی دعوت دی جائے وہاں یہ بھی ضروری تھا کہ اگر فرعون دعوت حق کو قبول نہ کرے اور بنی اسرائیل پر ظلم و ستم سے باز نہ آئے تو بنی اسرائیل کو اس کی غلامی سے نجات دلا کر کسی دوسری جگہ لے جایا جائے، جہاں وہ آزادی کے ساتھ اپنے رب کی عبادت کر سکیں۔ یہاں {” فَاَرْسِلْ “ } میں حرف فاء تفریع کے لیے ہے، یعنی جب تو کھلے دلائل جاننے کے باوجود انکار پر قائم ہے تو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ جانے دے۔ موسیٰ علیہ السلام نے یہ مطالبہ اس وقت کیا جب فرعون نے ہر طرح رب العالمین کا اقرار کرنے سے انکار کر دیا، جیسا کہ اس کی تفصیل دوسرے مقامات پر مذکور ہے۔
قَالَ اِنۡ کُنۡتَ جِئۡتَ بِاٰیَۃٍ فَاۡتِ بِہَاۤ اِنۡ کُنۡتَ مِنَ الصّٰدِقِیۡنَ ﴿۱۰۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
فرعون نے کہا "اگر تو کوئی نشانی لایا ہے اور اپنے دعوے میں سچا ہے تو اسے پیش کر"
مولانا محمد جوناگڑھی
فرعون نے کہا، اگر آپ کوئی معجزه لے کر آئے ہیں تو اس کو اب پیش کیجئے! اگر آپ سچے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
بولا اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو لاؤ اگر سچے ہو،
علامہ محمد حسین نجفی
فرعون نے کہا اگر تم کوئی معجزہ لائے ہو تو اگر تم سچے ہو تو اسے پیش کرو۔
عبدالسلام بن محمد
اس نے کہا اگر تو کوئی نشانی لے کر آیا ہے تو وہ لے آ، اگر تو سچوں میں سے ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
موسیٰ علیہ السلام اور فرعون ٭٭

موسیٰ علیہ السلام کے اور فرعون کے درمیان جو گفتگو ہوئی، اس کا ذکر ہو رہا ہے کہ اللہ کے کلیم علیہ السلام نے فرمایا کہ اے فرعون! میں رب العالمین کا رسول ہوں جو تمام عالم کا خالق و مالک ہے۔ مجھے یہی لائق ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بارہ میں وہی باتیں کہوں جو سراسر حق ہوں «ب» اور «علی» یہ متعاقب ہوا کرتے ہیں۔ جیسے «رَمَیْتَ بِالْقَوْسِ» اور «رَمَیْتَ علی الْقَوْسِ» وغیرہ۔ اور بعض مفسرین کہتے ہیں: «حَقِیْقٌ» کے معنی «حَرِیْصٌ» کے ہیں۔ یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں کہ مجھ پر واجب اور حق ہے کہ اللہ ذوالمنن کا نام لے کر وہی خبر دوں جو حق و صداقت والی ہو کیونکہ میں اللہ عزوجل کی عظمت سے واقف ہوں، میں اپنی صداقت پر الٰہی دلیل بھی ساتھ ہی لایا ہوں۔ تو قوم بنی اسرائیل کو اپنے مظام سے آزاد کر دے، انہیں اپنی زبردستی کی غلامی سے نکال دے، انہیں ان کے رب کی عبادت کرنے دے۔ یہ ایک زبردست بزرگ پیغمبر کی نسل سے ہیں یعنی یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم خلیل اللہ علیہم السلام کی اولاد ہیں۔ فرعون نے کہا: میں تجھے سچا نہیں سمجھتا، نہ تیری طلب پوری کروں گا اور اگر تو اپنے دعوے میں واقعی سچا ہے تو کوئی معجزہ پیش کر۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 106) {قَالَ اِنْ كُنْتَ جِئْتَ بِاٰيَةٍ …:} فرعون موسیٰ علیہ السلام کی شرافت و نجابت اور ان کے صدق و امانت سے پوری طرح واقف تھا، کیونکہ ان کی پرورش اسی کے گھر میں ہوئی تھی، مگر اس نے ان کی رسالت اور صدق کو تسلیم کرنے کے لیے کوئی معجزہ پیش کرنے کا مطالبہ کر دیا، تاکہ انکار کا کوئی بہانہ مل سکے۔
فَاَلۡقٰی عَصَاہُ فَاِذَا ہِیَ ثُعۡبَانٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۱۰۷﴾ۚۖ
سید ابو الاعلیٰ مودودی
موسیٰؑ نے اپنا عصا پھینکا اور یکا یک وہ ایک جیتا جاگتا اژدہا تھا
مولانا محمد جوناگڑھی
پس آپ نے اپنا عصا ڈال دیا، سو دفعتاً وه صاف ایک اﮊدھا بن گیا
احمد رضا خان بریلوی
تو موسیٰ نے اپنا عصا ڈال دیا وہ فورا ً ایک ظاہر اژدہا ہوگیا
علامہ محمد حسین نجفی
پس انہوں نے اپنا عصا پھینک دیا اور وہ یکایک کھلا ہوا اژدھا بن گیا۔
عبدالسلام بن محمد
تو اس نے اپنی لاٹھی پھینکی تو اچانک وہ ایک ظاہر اژدہا تھی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عصائے موسیٰ اور فرعون ٭٭

آپ نے فرعون کی اس طلب پر اپنے ہاتھ کی لکڑی زمین پر ڈال دی جو بہت بڑا سانپ بن گئی اور منہ پھاڑے فرعون کی طرف لپکی۔ وہ مارے خوف کے تخت پر سے کود گیا اور فریاد کرنے لگا کہ موسیٰ اللہ کے لیے اسے روک۔ اس نے اس قدر اپنا منہ کھولا تھا کہ نیچے کا جبڑا تو زمین پر تھا اور اوپر کا جبڑا محل کی بلندی پر۔ خوف کے مارے فرعون کی ہوا نکل گئی اور چیخنے لگا کہ موسیٰ اسے روک لے۔ میں ایمان لاتا ہوں اور اقرار کرتا ہوں کہ بنی اسرائیل کو تیرے ساتھ کر دوں گا۔ موسیٰ علیہ السلام نے اسی وقت اس پر ہاتھ رکھا اور وہ اسی وقت لکڑی جیسی لکڑی بن گیا۔ وہب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: موسیٰ علیہ السلام کو دیکھتے ہی فرعون کہنے لگا: میں تجھے پہچانتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: یقیناً۔ اس نے کہا: تو نے بچپن ہمارے گھر کے ٹکڑوں پر ہی تو گزارا ہے۔ اس کا جواب موسیٰ علیہ السلام دے ہی رہے تھے کہ اس نے کہا: اسے گرفتار کر لو۔ آپ نے جھٹ سے اپنی لکڑی زمین پر ڈال دی جس نے سانپ بن کر ان پر حملہ کر دیا۔ اس بد حواسی میں ایک دوسرے کو کچلتے اور قتل کرتے ہوئے وہ سب کے سب بھاگے۔ چنانچہ پچیس ہزار آدمی اسی ہنگامے میں ایک دوسرے کے ہاتھوں مارے گئے اور فرعون سیدھا اپنے گھر میں گھس گیا لیکن اس واقعہ کے بیان کی سند میں غرابت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اسی طرح دوسرا معجزہ آپ نے یہ ظاہر کیا کہ اپنا ہاتھ اپنی چادر میں ڈال کر نکالا تو بغیر اس کے کہ کوئی روگ یا برص یا داغ ہو، وہ سفید چمکتا ہوا بن کر نکل آیا جسے ہر ایک نے دیکھا پھر ہاتھ اندر کیا تو یہ ویسا ہی ہو گیا۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 107){ فَاَلْقٰى عَصَاهُ …:} موسیٰ علیہ السلام نے فوراً ہی اپنا عصا پھینکا تو وہ خوف ناک اژدہا بن گیا۔ بعض مفسرین نے اس کی عجیب و غریب صفات لکھی ہیں، مثلاً اس نے منہ کھولا تو اس کا نچلا جبڑا زمین پر اور اوپر کا جبڑا اسی (۸۰) ہاتھ اوپر کی طرف اٹھ کر محل کی دیوار کی بلندی تک پہنچ گیا اور وہ فرعون کی طرف بڑھا تو وہ بھاگ اٹھا اور اس کا پاخانہ خطا ہو گیا، لوگ بھی بھاگ گئے، فرعون چیخا کہ موسیٰ! اسے پکڑو، میں ایمان لے آؤں گا۔ موسیٰ علیہ السلام نے پکڑا تو وہ پھر لاٹھی بن گیا۔ (ابن کثیر، بقاعی) اگرچہ اس کی کوئی صحیح سند نہیں اور نہ اس کی تصدیق یا تردید کا ہمارے پاس کوئی ذریعہ ہے، تاہم {” ثُعْبَانٌ “} کی صفت {” مُبِيْنٌ “ } سے اور اتنی لاٹھیوں اور رسیوں کو نگل جانے سے جن سے میدان بھرا ہوا تھا، اس کا غیر معمولی ہونا ضرور معلوم ہوتا ہے اور اس سے فرعون اور اس کے سرداروں کا خوف زدہ ہونا تو صاف ظاہر ہے، کیونکہ وہ قتل کی دھمکیوں کے باوجود موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ اللہ کی نصرت اور ان معجزوں کی دہشت کی وجہ سے انھیں کوئی نقصان پہنچانے کی جرأت نہیں کر سکے۔ دیکھیے سورۂ مومن(۲۶)۔ اس معجزے سے فرعون اور اس کی قوم کے سامنے اللہ تعالیٰ کی بے پایاں قدرت کا بھی اظہار ہو گیا کہ وہ چاہے تو ایک بے جان اور بے ضرر سی لاٹھی کو زندگی عطا فرما کر اتنا بڑا خوف ناک اژدہا بنا دے اور چاہے تو ایک مہیب اژدہا کو بے جان لاٹھی بنا دے۔ حقیقت یہ ہے کہ فرعون کے لیے یہ معجزہ ہی کافی تھا، مگر وہ دل سے مان جانے کے باوجود (دیکھیے بنی اسرائیل: ۱۰۲) بار بار معجزے دیکھ کر ایمان لانے کا وعدہ کرنے کے بعد مکرتا رہا، حتیٰ کہ سمندر میں غرق کر دیا گیا۔
وَّ نَزَعَ یَدَہٗ فَاِذَا ہِیَ بَیۡضَآءُ لِلنّٰظِرِیۡنَ ﴿۱۰۸﴾٪
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اس نے اپنی جیب سے ہاتھ نکالا اور سب دیکھنے والوں کے سامنے وہ چمک رہا تھا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اپنا ہاتھ باہر نکالا سو وه یکایک سب دیکھنے والوں کے روبرو بہت ہی چمکتا ہوا ہو گیا
احمد رضا خان بریلوی
اور اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر نکا لا تو وہ دیکھنے والوں کے سامنے جگمگانے لگا
علامہ محمد حسین نجفی
اور اپنا ہاتھ باہر نکالا۔ تو وہ ایک دم دیکھنے والوں کے لیے سفید اور روشن تھا۔
عبدالسلام بن محمد
اور اپنا ہاتھ باہر نکالا تو اچانک وہ دیکھنے والوں کے لیے سفید چمکنے والا تھا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عصائے موسیٰ اور فرعون ٭٭

آپ نے فرعون کی اس طلب پر اپنے ہاتھ کی لکڑی زمین پر ڈال دی جو بہت بڑا سانپ بن گئی اور منہ پھاڑے فرعون کی طرف لپکی۔ وہ مارے خوف کے تخت پر سے کود گیا اور فریاد کرنے لگا کہ موسیٰ اللہ کے لیے اسے روک۔ اس نے اس قدر اپنا منہ کھولا تھا کہ نیچے کا جبڑا تو زمین پر تھا اور اوپر کا جبڑا محل کی بلندی پر۔ خوف کے مارے فرعون کی ہوا نکل گئی اور چیخنے لگا کہ موسیٰ اسے روک لے۔ میں ایمان لاتا ہوں اور اقرار کرتا ہوں کہ بنی اسرائیل کو تیرے ساتھ کر دوں گا۔ موسیٰ علیہ السلام نے اسی وقت اس پر ہاتھ رکھا اور وہ اسی وقت لکڑی جیسی لکڑی بن گیا۔ وہب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: موسیٰ علیہ السلام کو دیکھتے ہی فرعون کہنے لگا: میں تجھے پہچانتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: یقیناً۔ اس نے کہا: تو نے بچپن ہمارے گھر کے ٹکڑوں پر ہی تو گزارا ہے۔ اس کا جواب موسیٰ علیہ السلام دے ہی رہے تھے کہ اس نے کہا: اسے گرفتار کر لو۔ آپ نے جھٹ سے اپنی لکڑی زمین پر ڈال دی جس نے سانپ بن کر ان پر حملہ کر دیا۔ اس بد حواسی میں ایک دوسرے کو کچلتے اور قتل کرتے ہوئے وہ سب کے سب بھاگے۔ چنانچہ پچیس ہزار آدمی اسی ہنگامے میں ایک دوسرے کے ہاتھوں مارے گئے اور فرعون سیدھا اپنے گھر میں گھس گیا لیکن اس واقعہ کے بیان کی سند میں غرابت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اسی طرح دوسرا معجزہ آپ نے یہ ظاہر کیا کہ اپنا ہاتھ اپنی چادر میں ڈال کر نکالا تو بغیر اس کے کہ کوئی روگ یا برص یا داغ ہو، وہ سفید چمکتا ہوا بن کر نکل آیا جسے ہر ایک نے دیکھا پھر ہاتھ اندر کیا تو یہ ویسا ہی ہو گیا۔
18۔ 1 یعنی اللہ تعالیٰ نے نے جو دو معجزے انہیں عطا فرمائے تھے، اپنے صداقت کے لئے انہیں پیش کردیا۔
(آیت 108) {بَيْضَآءُ لِلنّٰظِرِيْنَ:} اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہاتھ کی وہ سفیدی عام سفیدی نہیں تھی بلکہ اس میں کوئی معجزانہ شان تھی کہ اس کی چمک اور ہیبت کی وجہ سے فرعون نے اسے جادو قرار دیا، ورنہ عام سفیدی کو جادو کون کہتا ہے؟
قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ اِنَّ ہٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِیۡمٌ ﴿۱۰۹﴾ۙ
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ا س پر فرعون کی قوم کے سرداروں نے آپس میں کہا کہ "یقیناً یہ شخص بڑا ماہر جادو گر ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
قوم فرعون میں جو سردار لوگ تھے انہوں نے کہا کہ واقعی یہ شخص بڑا ماہر جادوگر ہے
احمد رضا خان بریلوی
قوم فرعون کے سردار بولے یہ تو ایک علم والا جادوگر ہے
علامہ محمد حسین نجفی
قومِ فرعون کے سرداروں نے (یہ منظر دیکھ کر) کہا کہ یہ شخص (موسیٰ) بڑا ماہر جادوگر ہے۔
عبدالسلام بن محمد
فرعون کی قوم کے سرداروں نے کہا یقینا یہ تو ایک ماہر فن جادوگر ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جب ڈر خوف جاتا رہا، فرعون پھر سے اپنے تخت پر آ بیٹھا اور درباریوں کے اوسان درست ہو گئے تو فرعون نے کہا: بھئی مجھے تو یہ جادوگر لگتا ہے اور ہے بھی بڑا استاد۔ ان لوگوں نے اس کی تائید کی اور کہا حضور درست فرما رہے ہیں۔ اب مشورے کرنے لگے کہ اگر یہ معاملہ یونہی رہا تو لوگ اس کی طرف مائل ہو جائیں گے اور جب یہ قوت پکڑے گا تو ہم سے بادشاہت چھین لے گا۔ ہمیں جلا وطن کر دے گا۔ بتاؤ کیا کرنا چاہیئے؟ اللہ کی شان ہے جس سے خوف کھایا، وہی سامنے آیا۔
19۔ 1 معجزے دیکھ کر، ایمان لانے کی بجائے، فرعون کے درباریوں نے اسے جادو قرار دیکر یہ کہہ دیا یہ تو بڑا ماہر جادوگر ہے جس سے اس کا مقصد تمہاری حکومت کو ختم کرنا ہے کیونکہ حضرت موسیٰ علیہ کے زمانے میں جادو کا بڑا زور تھا اور اس کا عام چلن تھا، اس لئے انہوں نے معجزات کو بھی جادو سمجھا جس میں سرے سے انسان کا دخل ہی نہیں ہوتا۔ خالص اللہ کی معشیت سے ظہور میں آتے ہیں تاہم درباریوں کو حضرت موسیٰ ؑ کے بارے میں فرعون کو بہکانے کا موقع مل گیا۔
(آیت 110،109) {قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ …:} یہاں یہ ذکر ہوا ہے کہ فرعون کی قوم کے سرداروں نے موسیٰ علیہ السلام کو جادوگر قرار دیا۔ سورۂ شعراء (۳۴) میں مذکور ہے کہ فرعون نے اپنے سرداروں سے یہ بات کہی تھی۔ معلوم ہوتا ہے کہ فرعون نے موسیٰ علیہ السلام کے معجزے کو بے اثر بنانے کے لیے دو بہتان گھڑے، ایک تو یہ کہ یہ ماہر جادوگر ہے اور دوسرا یہ کہ یہ حکومت پر قبضہ کرکے تمھیں سرزمین مصر سے نکالنا چاہتا ہے۔ دیکھیے سورۂ شعراء (۳۴، ۳۵) اس کی قوم جسے اس نے اس حد تک بے وقوف اور بے وقعت بنایا تھا کہ وہ اسے اپنا معبود اور اس کی بات کو اپنے رب کی بات ماننے لگ گئے تھے (دیکھیے زخرف: ۵۴) اس قوم نے بھی اسی کی بات کو دہرا دیا۔
یُّرِیۡدُ اَنۡ یُّخۡرِجَکُمۡ مِّنۡ اَرۡضِکُمۡ ۚ فَمَا ذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴿۱۱۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تمہیں تمہاری زمین سے بے دخل کرنا چاہتا ہے، اب کہو کیا کہتے ہو؟"
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ چاہتا ہے کہ تم کو تمہاری سرزمین سے باہر کر دے سو تم لوگ کیا مشوره دیتے ہو
احمد رضا خان بریلوی
تمہیں تمہارے ملک سے نکا لا چاہتا ہے تو تمہارا کیا مشورہ ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
(اس پر فرعون نے کہا) یہ تمہیں تمہارے ملک سے نکال دینا چاہتا ہے تو تم کیا مشورہ دیتے ہو؟
عبدالسلام بن محمد
جو چاہتا ہے کہ تمھیں تمھاری سر زمین سے نکال دے، تو تم کیا حکم دیتے ہو؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جب ڈر خوف جاتا رہا، فرعون پھر سے اپنے تخت پر آ بیٹھا اور درباریوں کے اوسان درست ہو گئے تو فرعون نے کہا: بھئی مجھے تو یہ جادوگر لگتا ہے اور ہے بھی بڑا استاد۔ ان لوگوں نے اس کی تائید کی اور کہا حضور درست فرما رہے ہیں۔ اب مشورے کرنے لگے کہ اگر یہ معاملہ یونہی رہا تو لوگ اس کی طرف مائل ہو جائیں گے اور جب یہ قوت پکڑے گا تو ہم سے بادشاہت چھین لے گا۔ ہمیں جلا وطن کر دے گا۔ بتاؤ کیا کرنا چاہیئے؟ اللہ کی شان ہے جس سے خوف کھایا، وہی سامنے آیا۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
قَالُوۡۤا اَرۡجِہۡ وَ اَخَاہُ وَ اَرۡسِلۡ فِی الۡمَدَآئِنِ حٰشِرِیۡنَ ﴿۱۱۱﴾ۙ
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر اُن سب نے فرعون کو مشورہ دیا کہ اسے اور اس کے بھائی کو انتظار میں رکھیے اور تمام شہروں میں ہرکارے بھیج دیجیے
مولانا محمد جوناگڑھی
انہوں نے کہا کہ آپ ان کو اور ان کے بھائی کو مہلت دیجئے اور شہروں میں ہرکاروں کو بھیج دیجئے
احمد رضا خان بریلوی
بولے انہیں اور ان کے بھائی کو ٹھہرا اور شہروں میں لوگ جمع کرنے والے بھیج دے،
علامہ محمد حسین نجفی
ان لوگوں نے کہا کہ انہیں اور ان کے بھائی کو روک رکھیے۔ اور شہروں میں ہرکارے بھیج دیجئے۔
عبدالسلام بن محمد
انھوں نے کہا اسے اور اس کے بھائی کو مؤخر رکھ اور شہروں میں جمع کرنے والے بھیج دے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
درباریوں کا مشورہ ٭٭

درباریوں نے مشورہ دیا کہ ان دونوں بھائیوں کا معاملہ تو اس وقت رفع دفع کرو، اسے ملتوی رکھو اور ملک کے ہر حصے میں ہرکارے بھیج دو جو جادوگروں کو جمع کر کے آپ کے دربار میں لائیں۔ تو جب تمام استادان فن جادوگر آ جائیں، ان سے مقابلہ کرایا جائے تو یہ ہار جائے گا اور منہ دکھانے کے قابل نہ رہے گا، یہ اگر جادو جانتا ہے تو ہماری رعایا میں جادوگروں کی کیا کمی ہے؟ بڑے بڑے ماہر جادوگر ہم میں موجود ہیں جو اپنے فن میں بےنظیر ہیں اور بہت چست و چالاک ہیں۔ چنانچہ موسیٰ علیہ السلام سے کہا گیا کہ ہم سمجھ گئے کہ تو جادو کے زور سے ہمیں ہمارے ملک سے نکال دینے کے ارادے سے آیا ہے تو اگر تجھ میں کوئی سکت ہے تو آ ہاتھ ملا، ہم تجھ سے مقابلہ کا دن اور جگہ مقرر کرتے ہیں اور جب جگہ مقرر ہو جائے، پھر جو بھاگے وہی ہارا۔ آپ نے فرمایا: اچھا یہ ہوس بھی نکال لو۔ جاؤ تمہارا عید کا دن مجھے منظور ہے اور دن چڑھے اجالے کا وقت اور شرط یہ کہ یہ مقابلہ مجمع عام میں ہو۔ چنانچہ فرعون اس تیاری میں مصروف ہو گیا۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 112،111) {قَالُوْا اَرْجِهْ وَ اَخَاهُ …: ” اَرْجِهْ “} یہ {”أَرْجَأَ يُرْجِئُ إِرْجَاءً“} سے امر حاضر کا صیغہ ہے، جو اصل میں {” اَرْجِئْهُ “} تھا، جس کا معنی {”اَخِّرْهُ“} ہے، یعنی ان کے بارے میں ابھی کوئی فیصلہ نہ کیا جائے اور ان کا معاملہ چند روز تک ملتوی رکھا جائے، اس اثنا میں ملک بھر کے شہروں سے تمام ماہر فن جادوگر جمع کیے جائیں۔ چنانچہ فرعون نے ایسا ہی کیا(دیکھیے شعراء: ۳۸) اور موسیٰ علیہ السلام سے تقاضا کرکے مقابلے کا دن یوم الزینہ اور دن چڑھے کا وقت طے کر لیا۔ دیکھیے سورۂ طٰہٰ (۵۹) یہاں یہ سب محذوف ہے۔
یَاۡتُوۡکَ بِکُلِّ سٰحِرٍ عَلِیۡمٍ ﴿۱۱۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کہ ہر ماہر فن جادوگر کو آپ کے پاس لے آئیں
مولانا محمد جوناگڑھی
کہ وه سب ماہر جادو گروں کو آپ کے پاس ﻻ کر حاضر کر دیں
احمد رضا خان بریلوی
کہ ہر علم والے جادوگر کو تیرے پاس لے آئیں
علامہ محمد حسین نجفی
جو ہر بڑے ماہر جادوگر کو لے آئیں۔
عبدالسلام بن محمد
کہ وہ تیرے پاس ہر ماہر فن جادوگر لے آئیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
درباریوں کا مشورہ ٭٭

درباریوں نے مشورہ دیا کہ ان دونوں بھائیوں کا معاملہ تو اس وقت رفع دفع کرو، اسے ملتوی رکھو اور ملک کے ہر حصے میں ہرکارے بھیج دو جو جادوگروں کو جمع کر کے آپ کے دربار میں لائیں۔ تو جب تمام استادان فن جادوگر آ جائیں، ان سے مقابلہ کرایا جائے تو یہ ہار جائے گا اور منہ دکھانے کے قابل نہ رہے گا، یہ اگر جادو جانتا ہے تو ہماری رعایا میں جادوگروں کی کیا کمی ہے؟ بڑے بڑے ماہر جادوگر ہم میں موجود ہیں جو اپنے فن میں بےنظیر ہیں اور بہت چست و چالاک ہیں۔ چنانچہ موسیٰ علیہ السلام سے کہا گیا کہ ہم سمجھ گئے کہ تو جادو کے زور سے ہمیں ہمارے ملک سے نکال دینے کے ارادے سے آیا ہے تو اگر تجھ میں کوئی سکت ہے تو آ ہاتھ ملا، ہم تجھ سے مقابلہ کا دن اور جگہ مقرر کرتے ہیں اور جب جگہ مقرر ہو جائے، پھر جو بھاگے وہی ہارا۔ آپ نے فرمایا: اچھا یہ ہوس بھی نکال لو۔ جاؤ تمہارا عید کا دن مجھے منظور ہے اور دن چڑھے اجالے کا وقت اور شرط یہ کہ یہ مقابلہ مجمع عام میں ہو۔ چنانچہ فرعون اس تیاری میں مصروف ہو گیا۔
112۔ 1 حضرت موسیٰ ؑ کے زمانے میں جادوگری کو بڑا عروج حاصل تھا، اس لئے حضرت موسیٰ ؑ کی پیش کردہ معجزات کو بھی انہوں نے جادو سمجھا اور جادو کے ذریعے اس کا توڑ مہیا کرنے کا منصوبہ بنایا۔ جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا کہ فرعون اور اس کے درباریوں نے کہا اے موسیٰ کیا تو چاہتا ہے کہ اپنے جادو کے زور سے ہمیں ہماری زمین سے نکال دے؟ پس ہم بھی اس جیسا جادو تیرے مقابلے میں لائیں گے، اس کے لئے کسی ہموار جگہ اور وقت کا ہم تعین کرلیں جس کی دونوں پابندی کریں، حضرت موسیٰ ؑ نے کہا نو روز کا دن اور چاشت کا وقت ہے اس حساب سے لوگ جمع ہوجائیں (سورة طٰہ۔ 57۔ 59)
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَ جَآءَ السَّحَرَۃُ فِرۡعَوۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ کُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِیۡنَ ﴿۱۱۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
چنانچہ جادوگر فرعون کے پاس آ گئے اُنہوں نے "اگر ہم غالب رہے تو ہمیں اس کا صلہ تو ضرور ملے گا؟"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور وه جادوگر فرعون کے پاس حاضر ہوئے، کہنے لگے کہ اگر ہم غالب آئے تو ہم کو کوئی بڑا صلہ ملے گا؟
احمد رضا خان بریلوی
اور جادوگر فرعون کے پاس آئے بولے کچھ ہمیں انعام ملے گا اگر ہم غالب آئیں،
علامہ محمد حسین نجفی
چنانچہ جادوگر فرعون کے پاس آگئے اور کہنے لگے کہ اگر ہم غالب آگئے تو یقینا ہم ایک بڑے معاوضے کے حقدار ہوں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جادوگر فرعون کے پاس آئے، انھوں نے کہا یقینا ہمارے لیے ضرور کچھ صلہ ہوگا، اگر ہم ہی غالب ہوئے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جادوگروں نے پہلے ہی فرعون سے قول و قرار لے لیا تاکہ محنت خالی نہ جائے اور اگر ہم جیت جائیں تو خالی ہاتھ نہ رہ جائیں۔ فرعون نے وعدہ کیا کہ منہ مانگا انعام اور ہمیشہ کے لئے خاص درباریوں میں داخلہ دوں گا۔ جادوگر یہ قول و قرار لے کر میدان میں اتر آئے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 113){ قَالُوْۤا اِنَّ لَنَا لَاَجْرًا …:} جادوگروں کے سامنے کوئی بلند مقصد نہ تھا، بلکہ محض پیشہ ورانہ کمائی تھی، اس لیے انھوں نے پہلے فرعون سے بطور سوال اس کا تقاضا کیا۔
قَالَ نَعَمۡ وَ اِنَّکُمۡ لَمِنَ الۡمُقَرَّبِیۡنَ ﴿۱۱۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
فرعون نے جواب دیا "ہاں، اور تم مقرب بارگاہ ہو گے"
مولانا محمد جوناگڑھی
فرعون نے کہا کہ ہاں اور تم مقرب لوگوں میں داخل ہو جاؤ گے
احمد رضا خان بریلوی
بولا ہاں اور اس وقت تم مقرب ہوجا ؤ گے،
علامہ محمد حسین نجفی
فرعون نے کہا ہاں۔ اور اس کے علاوہ تم ہمارے مقرب بارگاہ لوگوں میں سے ہو جاؤگے۔
عبدالسلام بن محمد
کہا ہاں! اور یقینا تم ضرور مقرب لوگوں سے ہو گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جادوگروں نے پہلے ہی فرعون سے قول و قرار لے لیا تاکہ محنت خالی نہ جائے اور اگر ہم جیت جائیں تو خالی ہاتھ نہ رہ جائیں۔ فرعون نے وعدہ کیا کہ منہ مانگا انعام اور ہمیشہ کے لئے خاص درباریوں میں داخلہ دوں گا۔ جادوگر یہ قول و قرار لے کر میدان میں اتر آئے۔
114۔ 1 جادوگر، چونکہ طالب دنیا تھے، دنیا کمانے کے لئے ہی شعبدہ بازی کا فن سیکھتے تھے، اس لئے انہوں نے موقع غنیمت جانا کہ اس وقت تو بادشاہ کو ہماری ضرورت لاحق ہوئی ہے کیوں نہ اس موقع سے فائدہ اٹھا کر زیادہ سے زیادہ اجرت حاصل کی جائے۔ چناچہ انہوں نے اپنا مطالبہ اجرت، کامیابی کی صورت میں پیش کردیا، جس پر فرعون نے کہا کہ اجرت ہی نہیں بلکہ تم میرے مقربین میں بھی شامل ہوجاؤ گے۔
(آیت 114) {قَالَ نَعَمْ وَ اِنَّكُمْ لَمِنَ الْمُقَرَّبِيْنَ:} فرعون نے اجرت کا بلکہ مقربین میں شامل کرنے کا وعدہ کیا۔ بعض علماء نے لکھا ہے کہ فرعون کی بات پوری ہوئی مگر ان کے لیے وہ اجرت اور مقرب ہونا فرعون کے بجائے اللہ تعالیٰ کی طرف سے حاصل ہونا مقدر تھا، اللہ کی شان دیکھیے کہ خدائی کے دعوے دار کو یہ تک معلوم نہ تھا کہ انھیں اجرت اور قرب کس کی طرف سے ملنا ہے۔
قَالُوۡا یٰمُوۡسٰۤی اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِیَ وَ اِمَّاۤ اَنۡ نَّکُوۡنَ نَحۡنُ الۡمُلۡقِیۡنَ ﴿۱۱۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر اُنہوں نے موسیٰؑ سے کہا "تم پھینکتے ہو یا ہم پھینکیں؟"
مولانا محمد جوناگڑھی
ان ساحروں نے عرض کیا کہ اے موسیٰ! خواه آپ ڈالئے اور یا ہم ہی ڈالیں؟
احمد رضا خان بریلوی
بولے اے موسیٰ یا تو آپ ڈالیں یا ہم ڈالنے والے ہوں
علامہ محمد حسین نجفی
انہوں نے کہا اے موسیٰ یا تم (پہلے) پھینکو یا پھر ہم ہی پھینکتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
انھوں نے کہا اے موسیٰ! یا تو توُ پھینکے، یا ہم ہی پھینکنے والے ہوں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جادوگروں سے مقابلہ ٭٭

جادوگروں کو اپنی قوت پر بڑا گھمنڈ تھا۔ وہ سب فی الحقیقت اپنے اس فن کے لاجواب استاد تھے۔ اس لیے انہوں نے آتے ہی موسیٰ علیہ السلام کو چیلنج دیا کہ لو ہوشیار ہو جاؤ۔ تمہیں اختیار ہے کہ میدان میں اپنے کرتب پہلے دکھاؤ اور اگر کہو تو پہل ہم کر دیں۔ آپ نے فرمایا: بہتر ہے کہ تمہارے حوصلے نکل جائیں اور لوگ تمہارا کمال فن دیکھ لیں اور پھر اللہ کی قدرت کو بھی دیکھ لیں اور حق و باطل میں دیکھ بھال کر فیصلہ کر سکیں۔ وہ تو یہ چاہتے ہی تھے، انہوں نے جھٹ سے اپنی رسیاں اور لکڑیاں نکال نکال کر میدان میں ڈالنی شروع کر دیں۔ ادھر وہ میدان میں پڑتے ہی چلتی پھرتی اور بنی بنائی سانپ معلوم ہونے لگیں۔ یہ صرف نظر بندی تھی۔ فی الواقع خارج میں ان کا وجود بدل نہیں گیا تھا بلکہ اس طرح لوگوں کو دکھائی دیتی تھیں کہ گویا زندہ ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام اپنے دل میں خطرہ محسوس کرنے لگے۔ اللہ کی طرف سے وحی آئی کہ خوف نہ کر، تو ہی غالب رہے گا۔ اپنے دائیں ہاتھ کی لکڑی ڈال تو سہی! ان کا کیا دھرا یہ تو سب کو ہڑپ کر جائے گی۔

یہ سب تو جادوگری کا کرشمہ ہے۔ بھلا جادو والے بھی کبھی کامیاب ہوئے ہیں؟ بڑی موٹی موٹی رسیاں اور لمبی لمبی لکڑیاں انہوں نے ڈالی تھیں جو سب چلتی پھرتی، دوڑتی بھاگتی معلوم ہو رہی تھیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:21/6] ‏‏‏‏ یہ جادوگر پندرہ ہزار یا تیس ہزار سے اوپر اوپر تھے یا ستر ہزار کی تعداد میں تھے۔ ہر ایک اپنے ساتھ رسیاں اور لکڑیاں لایا تھا۔ صف بستہ کھڑے تھے اور لوگ چاروں طرف موجود تھے۔ ہر ایک ہمہ تن شوق بنا ہوا تھا۔ فرعون اپنے لاؤ لشکر اور درباریوں سمیت بڑے رعب سے اپنے تخت پر بیٹھا ہوا تھا۔ ادھر وقت ہوا، ادھر سب کی نگاہوں نے دیکھا کہ ایک درویش صفت اللہ کا نبی علیہ السلام اپنے ساتھ اپنے بھائی کو لیے ہوئے لکڑی ٹکاتے ہوئے آ رہا ہے۔ یہ تھے جن کے مقابلے کی یہ دھوم دھام تھی۔ آپ کے آتے ہی جادوگروں نے صرف یہ دریافت کر کے کہ ابتداء کس کی طرف سے ہونی چاہیئے، خود ابتداء کر دی۔ موسیٰ علیہ السلام کی، پھر فرعون کی، پھر تماشائیوں کی آنکھوں پر جادو کر کے سب کو ہیبت زدہ کر دیا۔ اب جو انہوں نے اپنی اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں تو ہزارہا کی تعداد میں پہاڑوں کے برابر سانپ نظر آنے لگے جو اوپر تلے ایک دوسرے سے لپٹ رہے ہیں۔ ادھر ادھر دوڑ رہے ہیں، میدان بھر گیا ہے۔ انہوں نے اپنے فن کا پورا مظاہرہ کر دکھایا۔
115۔ 1 جادوگروں نے یہ اختیار اپنے آپ پر مکمل اعتماد کرنے کی وجہ سے دیا۔ انہیں پورا یقین تھا کہ ہمارے جادو کے مقابلے میں موسیٰ ؑ کا معجزہ جسے وہ ایک کرتب ہی سمجھتے تھے، کوئی حیثیت نہیں رکھتا اور اگر موسیٰ ؑ کو پہلے اپنے کرتب دکھانے کا موقع دے بھی دیا تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، ہم اس کے کرتب کا توڑ بہر صورت مہیا کرلیں گے۔
(آیت 116،115) ➊ {وَ اسْتَرْهَبُوْهُمْ: ”اَرْهَبَ يُرْهِبُ“} کا معنی ہے ڈرانا، خوف زدہ کرنا، {” وَ اسْتَرْهَبُوْهُمْ “} میں حروف زیادہ ہونے کی وجہ سے ترجمہ ”سخت خوف زدہ“ کیا ہے۔ جادوگروں نے اپنے غلبے کے یقینی اور موسیٰ علیہ السلام کے معجزے کو لوگوں کے سامنے بے وقعت ظاہر کرنے کے لیے پوچھا کہ تم پہلے اپنا معجزہ پیش کرو گے یا ہم اپنے جادو کے ہتھیار پیش کریں؟ موسیٰ علیہ السلام نے ان سے بڑھ کر شانِ بے نیازی سے فرمایا کہ تمھیں جو کچھ پیش کرنا ہے سب پیش کر لو۔ چونکہ مقابلے میں جس کی پہل ہو اسے ایک قسم کی برتری پہلے ہی حاصل ہوتی ہے، تم اس برتری سے فائدہ اٹھا لو، چنانچہ انھوں نے اپنی لاٹھیاں اور رسیاں زمین پر پھینک دیں تو ہر طرف زمین پر سانپ ہی سانپ دوڑتے ہوئے معلوم ہونے لگے، فرمایا: «{ فَاِذَا حِبَالُهُمْ وَ عِصِيُّهُمْ يُخَيَّلُ اِلَيْهِ مِنْ سِحْرِهِمْ اَنَّهَا تَسْعٰى }» [ طٰہٰ: ۶۶ ] ”تو اچانک ان کی رسیاں اور ان کی لاٹھیاں، اس کے خیال میں ڈالا جاتا تھا ان کے جادو کی وجہ سے کہ وہ دوڑ رہی ہیں۔“ یہاں بھی فرمایا کہ ”انھوں نے لوگوں کی آنکھوں پر جادو کر دیا اور انھیں سخت خوف زدہ کر دیا اور وہ بہت بڑا جادو لے کر آئے۔“ درحقیقت وہ زمانہ ہی جادو کے کمال کا تھا جس پر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو ایسا معجزہ دیا جس کے سامنے جادو بے بس ہو۔ ➋ {سَحَرُوْۤا اَعْيُنَ النَّاسِ:} اس سے معلوم ہوا کہ جادو سے کسی چیز کی حقیقت نہیں بدل جاتی، صرف دیکھنے میں وہ چیز دوسری نظر آتی ہے اور اس کا اثر محض خیال پر ہوتا ہے، چونکہ انسان کا جسم دماغ کے تابع ہے، اس لیے خیال کا نقصان یا فائدہ بعض اوقات جسم کو بھی ہوتا ہے، جیسا کہ موسیٰ علیہ السلام نے بھی ان کا جادو دیکھ کر خوف محسوس کیا، فرمایا: «{ فَاَوْجَسَ فِيْ نَفْسِهٖ خِيْفَةً مُّوْسٰى }» [ طٰہٰ: ۶۷ ] ”تو موسیٰ نے اپنے دل میں ایک خوف محسوس کیا۔“ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی لبید بن اعصم کے جادو کی وجہ سے کچھ عرصہ بیمار رہے۔ اس لیے جادو کی تاثیر سے انکار درست نہیں۔ یہاں بھی اللہ تعالیٰ نے ان کے جادو کو بہت بڑا قرار دیا ہے۔
قَالَ اَلۡقُوۡا ۚ فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا سَحَرُوۡۤا اَعۡیُنَ النَّاسِ وَ اسۡتَرۡہَبُوۡہُمۡ وَ جَآءُوۡ بِسِحۡرٍ عَظِیۡمٍ ﴿۱۱۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
موسیٰؑ نے جواب دیا "تم ہی پھینکو" انہوں نے جو اپنے آنچھر پھینکے تو نگاہوں کو مسحور اور دلوں کو خوف زدہ کر دیا اور بڑا ہی زبردست جادو بنا لائے
مولانا محمد جوناگڑھی
(موسیٰ علیہ السلام) نے فرمایا کہ تم ہی ڈالو، پس جب انہوں نے ڈاﻻ تو لوگوں کی نظر بندی کر دی اور ان پر ہیبت غالب کر دی اور ایک طرح کا بڑا جادو دکھلایا
احمد رضا خان بریلوی
کہا تمہیں ڈالو جب انہوں نے ڈالا لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا اور انہیں ڈرایا اور بڑا جادو لائے،
علامہ محمد حسین نجفی
انہوں نے (جواب میں) کہا تم ہی پھینکو! پھر جب انہوں نے (اپنی لاٹھیاں اور رسیاں) پھینکیں تو لوگوں کی نگاہوں کو مسحور کر دیا (ان کی نظر بندی کر دی) اور انہیں خوف زدہ کر دیا اور انہوں نے بڑا زبردست جادو پیش کیا۔
عبدالسلام بن محمد
کہا تم پھینکو۔ تو جب انھوں نے پھینکا، لوگوں کی آنکھوں پر جادو کر دیا اور انھیں سخت خوف زدہ کر دیا اور وہ بہت بڑا جادو لے کر آئے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جادوگروں سے مقابلہ ٭٭

جادوگروں کو اپنی قوت پر بڑا گھمنڈ تھا۔ وہ سب فی الحقیقت اپنے اس فن کے لاجواب استاد تھے۔ اس لیے انہوں نے آتے ہی موسیٰ علیہ السلام کو چیلنج دیا کہ لو ہوشیار ہو جاؤ۔ تمہیں اختیار ہے کہ میدان میں اپنے کرتب پہلے دکھاؤ اور اگر کہو تو پہل ہم کر دیں۔ آپ نے فرمایا: بہتر ہے کہ تمہارے حوصلے نکل جائیں اور لوگ تمہارا کمال فن دیکھ لیں اور پھر اللہ کی قدرت کو بھی دیکھ لیں اور حق و باطل میں دیکھ بھال کر فیصلہ کر سکیں۔ وہ تو یہ چاہتے ہی تھے، انہوں نے جھٹ سے اپنی رسیاں اور لکڑیاں نکال نکال کر میدان میں ڈالنی شروع کر دیں۔ ادھر وہ میدان میں پڑتے ہی چلتی پھرتی اور بنی بنائی سانپ معلوم ہونے لگیں۔ یہ صرف نظر بندی تھی۔ فی الواقع خارج میں ان کا وجود بدل نہیں گیا تھا بلکہ اس طرح لوگوں کو دکھائی دیتی تھیں کہ گویا زندہ ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام اپنے دل میں خطرہ محسوس کرنے لگے۔ اللہ کی طرف سے وحی آئی کہ خوف نہ کر، تو ہی غالب رہے گا۔ اپنے دائیں ہاتھ کی لکڑی ڈال تو سہی! ان کا کیا دھرا یہ تو سب کو ہڑپ کر جائے گی۔

یہ سب تو جادوگری کا کرشمہ ہے۔ بھلا جادو والے بھی کبھی کامیاب ہوئے ہیں؟ بڑی موٹی موٹی رسیاں اور لمبی لمبی لکڑیاں انہوں نے ڈالی تھیں جو سب چلتی پھرتی، دوڑتی بھاگتی معلوم ہو رہی تھیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:21/6] ‏‏‏‏ یہ جادوگر پندرہ ہزار یا تیس ہزار سے اوپر اوپر تھے یا ستر ہزار کی تعداد میں تھے۔ ہر ایک اپنے ساتھ رسیاں اور لکڑیاں لایا تھا۔ صف بستہ کھڑے تھے اور لوگ چاروں طرف موجود تھے۔ ہر ایک ہمہ تن شوق بنا ہوا تھا۔ فرعون اپنے لاؤ لشکر اور درباریوں سمیت بڑے رعب سے اپنے تخت پر بیٹھا ہوا تھا۔ ادھر وقت ہوا، ادھر سب کی نگاہوں نے دیکھا کہ ایک درویش صفت اللہ کا نبی علیہ السلام اپنے ساتھ اپنے بھائی کو لیے ہوئے لکڑی ٹکاتے ہوئے آ رہا ہے۔ یہ تھے جن کے مقابلے کی یہ دھوم دھام تھی۔ آپ کے آتے ہی جادوگروں نے صرف یہ دریافت کر کے کہ ابتداء کس کی طرف سے ہونی چاہیئے، خود ابتداء کر دی۔ موسیٰ علیہ السلام کی، پھر فرعون کی، پھر تماشائیوں کی آنکھوں پر جادو کر کے سب کو ہیبت زدہ کر دیا۔ اب جو انہوں نے اپنی اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں تو ہزارہا کی تعداد میں پہاڑوں کے برابر سانپ نظر آنے لگے جو اوپر تلے ایک دوسرے سے لپٹ رہے ہیں۔ ادھر ادھر دوڑ رہے ہیں، میدان بھر گیا ہے۔ انہوں نے اپنے فن کا پورا مظاہرہ کر دکھایا۔
116۔ 1 لیکن موسیٰ ؑ چونکہ اللہ کے رسول تھے اور اللہ کی تائید انہیں حاصل تھی، اس لئے انہیں اپنے اللہ کی مدد کا یقین تھا، لہذا انہوں نے بغیر کسی خوف اور تامل کے جادوگروں سے کہا پہلے جو تم دکھانا چاہتے ہو، دکھاؤ! علاوہ ازیں اس میں حکمت بھی ہوسکتی ہے کہ جادوگروں کے پیش کردہ جادو کا توڑ جب حضرت موسیٰ ؑ کی طرف سے معجزانہ انداز میں پیش ہوگا تو یہ لوگوں کے لئے زیادہ متاثر کن ہوگا، جس سے ان کی صداقت واضح تر ہوگی اور لوگوں کے لئے ایمان لانا سہل ہوجائے گا۔ 116۔ 2 بعض آثار میں بتایا گیا ہے کہ یہ جادوگر 70 ہزار کی تعداد میں تھے۔ بظاہر یہ تعداد مبالغے سے خالی نہیں، جن میں سے ہر ایک نے ایک ایک رسی اور ایک ایک لاٹھی میدان میں پھینکی، جو دیکھنے والوں کو دوڑتی ہوئی محسوس ہوتی تھیں۔ یہ گویا بزم خویش بہت بڑا جادو تھا جو انہوں نے پیش کیا۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلٰی مُوۡسٰۤی اَنۡ اَلۡقِ عَصَاکَ ۚ فَاِذَا ہِیَ تَلۡقَفُ مَا یَاۡفِکُوۡنَ ﴿۱۱۷﴾ۚ
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہم نے موسیٰؑ کو اشارہ کیا کہ پھینک اپنا عصا اس کا پھینکنا تھا کہ آن کی آن میں وہ ان کے اس جھوٹے طلسم کو نگلتا چلا گیا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ اپنا عصا ڈال دیجئے! سو عصا کا ڈالنا تھا کہ اس نے ان کے سارے بنے بنائے کھیل کو نگلنا شروع کیا
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم نے موسیٰ کو وحی فرمائی کہ اپنا عصا ڈال تو ناگاہ ان کی بناوٹوں کو نگلنے لگا
علامہ محمد حسین نجفی
ہم نے موسیٰ کو وحی کی کہ اپنا عصا پھینکو۔ تو یکایک وہ (اژدھا بن کر) ان کے طلسموں (جادو کے جھوٹے سانپوں) کو نگلنے لگا۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی پھینک، تو اچانک وہ ان چیزوں کو نگلنے لگی جو وہ جھوٹ موٹ بنا رہے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جادوگر سجدہ ریز ہو گئے ٭٭

اسی میدان میں جادوگروں کے اس حملے کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی علیہ السلام کو بذریعہ وحی حکم فرمایا کہ اپنے دائیں ہاتھ سے لکڑی کو صرف زمین پر گرا، وہ اسی وقت ان کے سارے ہی لغویات ہضم کر جائے گی۔ چنانچہ یہی ہوا۔ آپ کی لکڑی نے اژدھا بن کر سارے میدان کو صاف کر دیا۔ جو کچھ وہاں تھا، سب کو ہڑپ کر گیا۔ ایک بھی چیز اب میدان میں نہ نظر آتی تھی۔ پھر موسیٰ علیہ السلام نے جہاں اس پر ہاتھ رکھا ویسی کی ویسی لکڑی بن گئی۔ یہ دیکھتے ہی جادوگر سمجھ گئے کہ یہ جادو نہیں۔ یہ تو سچ مچ اللہ کی طرف سے معجزہ ہے۔ حق ثابت ہو گیا، باطل دب گیا۔ تمیز ہو گئی، معاملہ صاف ہو گیا۔ فرعونی بری طرح ہارے اور بری طرح پسپا ہوئے۔ ادھر جادوگر اپنا ایمان چھپا نہ سکے۔ جان کے خوف کے باوجود وہ اسی میدان میں سجدہ ریز ہو گئے اور کہنے لگے: موسیٰ علیہ السلام کے پاس جادو نہیں، یہ تو اللہ کی طرف سے معجزہ ہے جو خود اللہ نے اسے عطا فرما رکھا ہے۔ ہم تو اس اللہ پر ایمان لائے۔ حقیقتاً رب العالمین وہی ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:24/6] ‏‏‏‏ پھر کسی کو کچھ اور شبہ نہ ہو یا کوئی کسی طرح کی تاویل نہ کر سکے اور صفائی کر دی کہ ان دونوں بھائیوں اور اللہ کے سچے نبیوں یعنی موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کے پروردگار کو ہم نے تو مان لیا۔ قاسم کا بیان ہے کہ جب یہ سجدے میں گرے تو اٹھنے سے پہلے ہی پروردگار عالم نے دوزخ دکھائی جس سے انہیں بچایا گیا تھا اور جنت دکھائی جو انہیں دی گئی۔
117۔ 1 لیکن یہ جو کچھ بھی تھا ایک تخیل شعبدہ بازی اور جادو تھا جو حقیقت کا مقابلہ نہیں کرسکتا تھا چناچہ موسیٰ ؑ کے لاٹھی ڈالتے ہی سب کچھ ختم ہوگیا اور لاٹھی نے ایک خوفناک اژدھا کی شکل اختیار کرکے سب کچھ نگل لیا۔
(آیت 118،117){ وَ اَوْحَيْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى …:} موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی وحی سے اپنی لاٹھی پھینکی تو اس نے ان کے جھوٹ موٹ بنائے ہوئے سانپوںکو نگلنا شروع کر دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ معجزہ جو حق تھا، ثابت ہو گیا اور جادو جو جھوٹ، شعبدے اور مکاری پر مبنی تھا، بے کار اور باطل ہو گیا۔
فَوَقَعَ الۡحَقُّ وَ بَطَلَ مَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۱۸﴾ۚ
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اس طرح جو حق تھا وہ حق ثابت ہوا اور جو کچھ اُنہوں نے بنا رکھا تھا وہ باطل ہو کر رہ گیا
مولانا محمد جوناگڑھی
پس حق ﻇاہر ہوگیا اور انہوں نے جو کچھ بنایا تھا سب جاتا رہا
احمد رضا خان بریلوی
تو حق ثابت ہوا اور ان کا کام باطل ہوا،
علامہ محمد حسین نجفی
(نتیجہ یہ نکلا کہ) حق ثابت ہوگیا۔ اور جو جھوٹے کاروائی کر رہے تھے وہ باطل ہوگئی۔
عبدالسلام بن محمد
پس حق ثابت ہوگیا اور باطل ہوگیا جو کچھ وہ کر رہے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جادوگر سجدہ ریز ہو گئے ٭٭

اسی میدان میں جادوگروں کے اس حملے کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی علیہ السلام کو بذریعہ وحی حکم فرمایا کہ اپنے دائیں ہاتھ سے لکڑی کو صرف زمین پر گرا، وہ اسی وقت ان کے سارے ہی لغویات ہضم کر جائے گی۔ چنانچہ یہی ہوا۔ آپ کی لکڑی نے اژدھا بن کر سارے میدان کو صاف کر دیا۔ جو کچھ وہاں تھا، سب کو ہڑپ کر گیا۔ ایک بھی چیز اب میدان میں نہ نظر آتی تھی۔ پھر موسیٰ علیہ السلام نے جہاں اس پر ہاتھ رکھا ویسی کی ویسی لکڑی بن گئی۔ یہ دیکھتے ہی جادوگر سمجھ گئے کہ یہ جادو نہیں۔ یہ تو سچ مچ اللہ کی طرف سے معجزہ ہے۔ حق ثابت ہو گیا، باطل دب گیا۔ تمیز ہو گئی، معاملہ صاف ہو گیا۔ فرعونی بری طرح ہارے اور بری طرح پسپا ہوئے۔ ادھر جادوگر اپنا ایمان چھپا نہ سکے۔ جان کے خوف کے باوجود وہ اسی میدان میں سجدہ ریز ہو گئے اور کہنے لگے: موسیٰ علیہ السلام کے پاس جادو نہیں، یہ تو اللہ کی طرف سے معجزہ ہے جو خود اللہ نے اسے عطا فرما رکھا ہے۔ ہم تو اس اللہ پر ایمان لائے۔ حقیقتاً رب العالمین وہی ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:24/6] ‏‏‏‏ پھر کسی کو کچھ اور شبہ نہ ہو یا کوئی کسی طرح کی تاویل نہ کر سکے اور صفائی کر دی کہ ان دونوں بھائیوں اور اللہ کے سچے نبیوں یعنی موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کے پروردگار کو ہم نے تو مان لیا۔ قاسم کا بیان ہے کہ جب یہ سجدے میں گرے تو اٹھنے سے پہلے ہی پروردگار عالم نے دوزخ دکھائی جس سے انہیں بچایا گیا تھا اور جنت دکھائی جو انہیں دی گئی۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
فَغُلِبُوۡا ہُنَالِکَ وَ انۡقَلَبُوۡا صٰغِرِیۡنَ ﴿۱۱۹﴾ۚ
سید ابو الاعلیٰ مودودی
فرعون اور اس کے ساتھی میدان مقابلہ میں مغلوب ہوئے اور (فتح مند ہونے کے بجائے) الٹے ذلیل ہو گئے
مولانا محمد جوناگڑھی
پس وه لوگ اس موقع پر ہار گئے اور خوب ذلیل ہوکر پھرے
احمد رضا خان بریلوی
تو یہاں وہ مغلوب پڑے اور ذلیل ہوکر پلٹے
علامہ محمد حسین نجفی
اس طرح وہ (فرعون اور فرعونی) مغلوب ہوئے اور ذلیل و رسوا ہوکر رہ گئے۔
عبدالسلام بن محمد
تو اس موقع پر وہ مغلوب ہو گئے اور ذلیل ہو کر واپس ہوئے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جادوگر سجدہ ریز ہو گئے ٭٭

اسی میدان میں جادوگروں کے اس حملے کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی علیہ السلام کو بذریعہ وحی حکم فرمایا کہ اپنے دائیں ہاتھ سے لکڑی کو صرف زمین پر گرا، وہ اسی وقت ان کے سارے ہی لغویات ہضم کر جائے گی۔ چنانچہ یہی ہوا۔ آپ کی لکڑی نے اژدھا بن کر سارے میدان کو صاف کر دیا۔ جو کچھ وہاں تھا، سب کو ہڑپ کر گیا۔ ایک بھی چیز اب میدان میں نہ نظر آتی تھی۔ پھر موسیٰ علیہ السلام نے جہاں اس پر ہاتھ رکھا ویسی کی ویسی لکڑی بن گئی۔ یہ دیکھتے ہی جادوگر سمجھ گئے کہ یہ جادو نہیں۔ یہ تو سچ مچ اللہ کی طرف سے معجزہ ہے۔ حق ثابت ہو گیا، باطل دب گیا۔ تمیز ہو گئی، معاملہ صاف ہو گیا۔ فرعونی بری طرح ہارے اور بری طرح پسپا ہوئے۔ ادھر جادوگر اپنا ایمان چھپا نہ سکے۔ جان کے خوف کے باوجود وہ اسی میدان میں سجدہ ریز ہو گئے اور کہنے لگے: موسیٰ علیہ السلام کے پاس جادو نہیں، یہ تو اللہ کی طرف سے معجزہ ہے جو خود اللہ نے اسے عطا فرما رکھا ہے۔ ہم تو اس اللہ پر ایمان لائے۔ حقیقتاً رب العالمین وہی ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:24/6] ‏‏‏‏ پھر کسی کو کچھ اور شبہ نہ ہو یا کوئی کسی طرح کی تاویل نہ کر سکے اور صفائی کر دی کہ ان دونوں بھائیوں اور اللہ کے سچے نبیوں یعنی موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کے پروردگار کو ہم نے تو مان لیا۔ قاسم کا بیان ہے کہ جب یہ سجدے میں گرے تو اٹھنے سے پہلے ہی پروردگار عالم نے دوزخ دکھائی جس سے انہیں بچایا گیا تھا اور جنت دکھائی جو انہیں دی گئی۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَ اُلۡقِیَ السَّحَرَۃُ سٰجِدِیۡنَ ﴿۱۲۰﴾ۚۖ
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور جادوگروں کا حال یہ ہوا کہ گویا کسی چیز نے اندر سے انہیں سجدے میں گرا دیا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور وه جو ساحر تھے سجده میں گر گئے
احمد رضا خان بریلوی
اور جادوگر سجدے میں گرادیے گئے
علامہ محمد حسین نجفی
اور تمام جادوگر (کسی غیبی طاقت سے) سجدہ میں گرا دیئے گئے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جادو گر سجدے میں گرا دیے گئے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جادوگر سجدہ ریز ہو گئے ٭٭

اسی میدان میں جادوگروں کے اس حملے کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی علیہ السلام کو بذریعہ وحی حکم فرمایا کہ اپنے دائیں ہاتھ سے لکڑی کو صرف زمین پر گرا، وہ اسی وقت ان کے سارے ہی لغویات ہضم کر جائے گی۔ چنانچہ یہی ہوا۔ آپ کی لکڑی نے اژدھا بن کر سارے میدان کو صاف کر دیا۔ جو کچھ وہاں تھا، سب کو ہڑپ کر گیا۔ ایک بھی چیز اب میدان میں نہ نظر آتی تھی۔ پھر موسیٰ علیہ السلام نے جہاں اس پر ہاتھ رکھا ویسی کی ویسی لکڑی بن گئی۔ یہ دیکھتے ہی جادوگر سمجھ گئے کہ یہ جادو نہیں۔ یہ تو سچ مچ اللہ کی طرف سے معجزہ ہے۔ حق ثابت ہو گیا، باطل دب گیا۔ تمیز ہو گئی، معاملہ صاف ہو گیا۔ فرعونی بری طرح ہارے اور بری طرح پسپا ہوئے۔ ادھر جادوگر اپنا ایمان چھپا نہ سکے۔ جان کے خوف کے باوجود وہ اسی میدان میں سجدہ ریز ہو گئے اور کہنے لگے: موسیٰ علیہ السلام کے پاس جادو نہیں، یہ تو اللہ کی طرف سے معجزہ ہے جو خود اللہ نے اسے عطا فرما رکھا ہے۔ ہم تو اس اللہ پر ایمان لائے۔ حقیقتاً رب العالمین وہی ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:24/6] ‏‏‏‏ پھر کسی کو کچھ اور شبہ نہ ہو یا کوئی کسی طرح کی تاویل نہ کر سکے اور صفائی کر دی کہ ان دونوں بھائیوں اور اللہ کے سچے نبیوں یعنی موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کے پروردگار کو ہم نے تو مان لیا۔ قاسم کا بیان ہے کہ جب یہ سجدے میں گرے تو اٹھنے سے پہلے ہی پروردگار عالم نے دوزخ دکھائی جس سے انہیں بچایا گیا تھا اور جنت دکھائی جو انہیں دی گئی۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 120) { وَ اُلْقِيَ السَّحَرَةُ سٰجِدِيْنَ:} یعنی چونکہ جادوگر جادو کی حقیقت کو سمجھتے تھے، اس لیے معجزہ دیکھ کر وہ بے اختیار سجدے میں گر پڑے، جیسے وہ خود نہ گرے ہوں بلکہ اندر سے کسی چیز نے انھیں گرا دیا ہو۔
قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۲۱﴾ۙ
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کہنے لگے "ہم نے مان لیا رب العالمین کو
مولانا محمد جوناگڑھی
کہنے لگے کہ ہم ایمان ﻻئے رب العالمین پر
احمد رضا خان بریلوی
بولے ہم ایمان لائے جہان کے رب پر،
علامہ محمد حسین نجفی
اور کہنے لگے ہم سارے جہانوں کے پروردگار پر ایمان لائے۔
عبدالسلام بن محمد
انھوں نے کہا ہم جہانوں کے رب پر ایمان لائے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جادوگر سجدہ ریز ہو گئے ٭٭

اسی میدان میں جادوگروں کے اس حملے کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی علیہ السلام کو بذریعہ وحی حکم فرمایا کہ اپنے دائیں ہاتھ سے لکڑی کو صرف زمین پر گرا، وہ اسی وقت ان کے سارے ہی لغویات ہضم کر جائے گی۔ چنانچہ یہی ہوا۔ آپ کی لکڑی نے اژدھا بن کر سارے میدان کو صاف کر دیا۔ جو کچھ وہاں تھا، سب کو ہڑپ کر گیا۔ ایک بھی چیز اب میدان میں نہ نظر آتی تھی۔ پھر موسیٰ علیہ السلام نے جہاں اس پر ہاتھ رکھا ویسی کی ویسی لکڑی بن گئی۔ یہ دیکھتے ہی جادوگر سمجھ گئے کہ یہ جادو نہیں۔ یہ تو سچ مچ اللہ کی طرف سے معجزہ ہے۔ حق ثابت ہو گیا، باطل دب گیا۔ تمیز ہو گئی، معاملہ صاف ہو گیا۔ فرعونی بری طرح ہارے اور بری طرح پسپا ہوئے۔ ادھر جادوگر اپنا ایمان چھپا نہ سکے۔ جان کے خوف کے باوجود وہ اسی میدان میں سجدہ ریز ہو گئے اور کہنے لگے: موسیٰ علیہ السلام کے پاس جادو نہیں، یہ تو اللہ کی طرف سے معجزہ ہے جو خود اللہ نے اسے عطا فرما رکھا ہے۔ ہم تو اس اللہ پر ایمان لائے۔ حقیقتاً رب العالمین وہی ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:24/6] ‏‏‏‏ پھر کسی کو کچھ اور شبہ نہ ہو یا کوئی کسی طرح کی تاویل نہ کر سکے اور صفائی کر دی کہ ان دونوں بھائیوں اور اللہ کے سچے نبیوں یعنی موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کے پروردگار کو ہم نے تو مان لیا۔ قاسم کا بیان ہے کہ جب یہ سجدے میں گرے تو اٹھنے سے پہلے ہی پروردگار عالم نے دوزخ دکھائی جس سے انہیں بچایا گیا تھا اور جنت دکھائی جو انہیں دی گئی۔
121۔ 1 جادوگر جادو کے فن اور اس کی اصل حقیقت جانتے تھے یہ دیکھا تو سمجھ گئے کہ موسیٰ ؑ نے جو کچھ یہاں پیش کیا، جادو نہیں ہے، یہ واقع ہی اللہ کا نمائندہ ہے اور اللہ کی مدد سے ہی اس نے یہ معجزہ پیش کیا ہے جس نے آن واحد میں ہم سب کے کرتبوں پر پانی پھیر دیا۔ چناچہ انہوں نے موسیٰ ؑ پر ایمان لانے کا اعلان کردیا۔ اس سے یہ بات واضح ہوئی کہ باطل باطل ہے چاہے اس پر کتنے ہی حسین غلاف چڑھا لئے جائیں اور حق حق ہے چاہے اس پر کتنے ہی پردے ڈال دیئے جائیں تاہم حق کا ڈنکا بج کر رہتا ہے۔
(آیت 122،121) {قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ …:} ”ہم رب العالمین پر ایمان لے آئے“ کے ساتھ «{ رَبِّ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ }» (جو موسیٰ اور ہارون کا رب ہے) اس لیے کہا کہ کسی کو یہ گمان نہ گزرے کہ انھوں نے فرعون کو رب العالمین سمجھتے ہوئے سجدہ کیا ہے۔ اس طرح فرعون اور اس کے مشیروں کے لیے کسی طرح ممکن نہ رہا کہ لوگوں کو موسیٰ علیہ السلام کے محض ایک جادوگر ہونے کا یقین دلا سکیں۔
رَبِّ مُوۡسٰی وَ ہٰرُوۡنَ ﴿۱۲۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اُس رب کو جسے موسیٰؑ اور ہارونؑ مانتے ہیں"
مولانا محمد جوناگڑھی
جو موسیٰ اور ہارون کا بھی رب ہے
احمد رضا خان بریلوی
جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا،
علامہ محمد حسین نجفی
جو موسیٰ و ہارون کا پروردگار ہے۔
عبدالسلام بن محمد
موسیٰ اور ہارون کے رب پر۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جادوگر سجدہ ریز ہو گئے ٭٭

اسی میدان میں جادوگروں کے اس حملے کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی علیہ السلام کو بذریعہ وحی حکم فرمایا کہ اپنے دائیں ہاتھ سے لکڑی کو صرف زمین پر گرا، وہ اسی وقت ان کے سارے ہی لغویات ہضم کر جائے گی۔ چنانچہ یہی ہوا۔ آپ کی لکڑی نے اژدھا بن کر سارے میدان کو صاف کر دیا۔ جو کچھ وہاں تھا، سب کو ہڑپ کر گیا۔ ایک بھی چیز اب میدان میں نہ نظر آتی تھی۔ پھر موسیٰ علیہ السلام نے جہاں اس پر ہاتھ رکھا ویسی کی ویسی لکڑی بن گئی۔ یہ دیکھتے ہی جادوگر سمجھ گئے کہ یہ جادو نہیں۔ یہ تو سچ مچ اللہ کی طرف سے معجزہ ہے۔ حق ثابت ہو گیا، باطل دب گیا۔ تمیز ہو گئی، معاملہ صاف ہو گیا۔ فرعونی بری طرح ہارے اور بری طرح پسپا ہوئے۔ ادھر جادوگر اپنا ایمان چھپا نہ سکے۔ جان کے خوف کے باوجود وہ اسی میدان میں سجدہ ریز ہو گئے اور کہنے لگے: موسیٰ علیہ السلام کے پاس جادو نہیں، یہ تو اللہ کی طرف سے معجزہ ہے جو خود اللہ نے اسے عطا فرما رکھا ہے۔ ہم تو اس اللہ پر ایمان لائے۔ حقیقتاً رب العالمین وہی ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:24/6] ‏‏‏‏ پھر کسی کو کچھ اور شبہ نہ ہو یا کوئی کسی طرح کی تاویل نہ کر سکے اور صفائی کر دی کہ ان دونوں بھائیوں اور اللہ کے سچے نبیوں یعنی موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کے پروردگار کو ہم نے تو مان لیا۔ قاسم کا بیان ہے کہ جب یہ سجدے میں گرے تو اٹھنے سے پہلے ہی پروردگار عالم نے دوزخ دکھائی جس سے انہیں بچایا گیا تھا اور جنت دکھائی جو انہیں دی گئی۔
122۔ 1 سجدے میں گر کر انہوں نے رب العالمین پر ایمان لانے اعلان دیا جس سے فرعونیوں کو مغالطہ ہوسکتا تھا کہ یہ سجدہ فرعون کو کیا گیا ہے جس کی الوہیت کے وہ قائل تھے اس لئے انہوں نے موسیٰ ؑ اور ہارون ؑ کا رب کہہ کر واضح کردیا کہ یہ سجدہ ہم جہانوں کے رب کو ہی کر رہے ہیں۔ لوگوں کے خود ساختہ کسی رب کو نہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
قَالَ فِرۡعَوۡنُ اٰمَنۡتُمۡ بِہٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَکُمۡ ۚ اِنَّ ہٰذَا لَمَکۡرٌ مَّکَرۡتُمُوۡہُ فِی الۡمَدِیۡنَۃِ لِتُخۡرِجُوۡا مِنۡہَاۤ اَہۡلَہَا ۚ فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۲۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
فرعون نے کہا "تم اس پر ایمان لے آئے قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دوں؟ یقیناً یہ کوئی خفیہ ساز ش تھی جو تم لوگوں نے اس دارالسلطنت میں کی تاکہ اس کے مالکوں کو اقتدار سے بے دخل کر دو اچھا توا س کا نتیجہ اب تمہیں معلوم ہوا جاتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
فرعون کہنے لگا کہ تم موسیٰ پر ایمان ﻻئے ہو بغیر اس کے کہ میں تم کو اجازت دوں؟ بےشک یہ سازش تھی جس پر تمہارا عمل درآمد ہوا ہے اس شہر میں تاکہ تم سب اس شہر سے یہاں کے رہنے والوں کو باہر نکال دو۔ سو اب تم کو حقیقت معلوم ہوئی جاتی ہے
احمد رضا خان بریلوی
فرعون بولا تم اس پر ایمان لے آئے قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دوں، یہ تو بڑا جعل (فریب) ہے جو تم سب نے شہر میں پھیلایا ہے کہ شہر والوں کو اس سے نکال دو تو اب جان جاؤ گے
علامہ محمد حسین نجفی
فرعون نے کہا تم اس پر ایمان لے آئے ہو اس سے پہلے کہ میں تمہیں اجازت دوں؟ یقینا یہ کوئی خفیہ سازش ہے جو تم لوگوں نے کی ہے۔ تاکہ تم شہر کے باشندوں کو اس سے باہر نکالو۔ عنقریب تمہیں (اس کا انجام) معلوم ہو جائے گا۔
عبدالسلام بن محمد
فرعون نے کہا تم اس پر اس سے پہلے ایمان لے آئے کہ میں تمھیں اجازت دوں، بے شک یہ تو ایک چال ہے جو تم نے اس شہر میں چلی ہے، تاکہ تم اس سے اس کے رہنے والوں کو نکال دو، سو تم جلد جان لو گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فرعون سیخ پا ہو گیا ٭٭

جادوگروں کے اس طرح مجمع عام میں ہار جانے، پھر اس طرح سب کے سامنے بےدھڑک اسلام قبول کر لینے سے فرعون آگ بگولا ہو گیا اور اس اثر کو روکنے کے لئے سب سے پہلے تو ان مسلمانوں سے کہنے لگا: تمہارا بھید مجھ پر کھل گیا ہے۔ تم سب مع موسیٰ کے ایک ہی ہو۔ یہ تمہارا استاد ہے، تم اس کے شاگرد ہو۔ ۱؎ [20-طه:71] ‏‏‏‏ تم نے آپس میں پہلے یہ طے کیا کہ تو پہلے چلا جا، پھر ہم آ جائیں گے۔ اس طرح میدان قائم ہو۔ ہم مصنوعی لڑائی لڑ کر ہار جائیں گے اور اس طرح اس ملک کے اصلی باشندوں کو یہاں سے نکال باہر کریں گے۔ فرعون کے اس جھوٹ پر اللہ کی مار ہے۔ کوئی بےوقوف بھی اس کے اس بیان کو صحیح نہیں سمجھ سکتا۔ سب کو معلوم تھا موسیٰ علیہ السلام اپنا بچپن فرعون کے محل میں گزارتے ہیں، اس کے بعد مدین میں عمر کا ایک حصہ بسر کرتے ہیں۔ مدین سے سیدھے مصر کو پہنچ کر اپنی نبوت کا اعلان کرتے ہیں اور معجزے دکھاتے ہیں جن سے عاجز آ کر فرعون اپنے جادوگروں کو جمع کرتا ہے۔ وہ براہ راست اس کی سپاہ کے ساتھ اس کے دربار میں پیش ہوتے ہیں۔ انعام و اکرام کے لالچ سے ان کے دل بڑھائے جاتے ہیں۔ وہ اپنی فتح مندی کا یقین دلاتے ہیں، فرعون انہیں اپنی رضا مندی کا یقین دلاتا ہے۔ خوب تیاریاں کر کے میدان جماتے ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام ان میں سے ایک سے بھی واقف نہیں، کبھی نہ کسی کو دیکھا ہے، نہ سنا ہے، نہ ملے ہیں، نہ جانتے ہیں۔ لیکن وزیرے چنیں شہر یارے چناں۔ وہاں تو ان لوگوں کا مجمع تھا کہ فرعون نے جب کہا کہ میں رب اعلیٰ ہوں تو سب نے گردنیں جھکا کر کہا: بیشک حضور آپ خدا ہیں تو ایسے جہالت کے پلندوں سے کوئی بات منوا لینی کیا مشکل تھی؟ اس کے رعب میں آ کر ایمان لانے کا ارادہ بدلا اور سمجھ بیٹھے کہ واقعی فرعون ٹھیک کہہ رہا ہے۔

ایک قول یہ بھی ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے جادوگروں کے امیر سے فرمایا کہ اگر میں غالب آ جاؤں تو کیا تو مجھ پر ایمان لائے گا؟ اس نے کہا: آج میدان میں ہماری جانب سے جو جادو پیش کیا جائے گا، اس کا جواب ساری مخلوق کے پاس نہیں۔ تو اگر اس پر غالب آ گیا تو مجھے بیشک یقین ہو جائے گا کہ وہ جادو نہیں معجزہ ہے۔ یہ گفتگو فرعون کے کانوں تک پہنچی، اسے یہ دوہرا رہا ہے کہ تم نے ملی بھگت کر لی۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:24/6] ‏‏‏‏ اس طرح لوگوں کے دل حقانیت سے ہٹا کر انہیں بدظن کرنے کیلئے دوسری چال چلتا ہے اور کہتا ہے کہ تم اپنے اتفاق اور پوشیدہ جال سے جاہتے یہ ہو کہ ہماری دولت و شوکت چھین لو، ہمیں یہاں سے نکال باہر کرو۔ اس طرح اپنی قوم کے دل ان کی طرف سے پھیر کر پھر انہیں خوفزدہ کرنے کیلئے چوتھی چال چلتا ہے کہ ان نومسلموں سے کہتا ہے کہ دیکھو تو تمہیں ابھی معلوم ہو جائے گا کہ سو میں کتنے بیس ہوتے ہیں۔ مجھے بھی قسم ہے جو تمہارے ہاتھ پاؤں نہ کٹوائے اور وہ بھی الٹی طرح یعنی پہلے اگر سیدھا ہاتھ کاٹا جائے تو پھر بایاں پاؤں اور اگر پہلے سیدھا پاؤں کاٹا گیا تو پھر الٹا ہاتھ۔ اسی طرح بےدست و پا کر کےکھجوروں کی شاخوں پر لٹکا دوں گا۔ تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ اس ظالم بادشاہ سے پہلے ان دونوں سزاؤں کا رواج نہ تھا۔ یہ دھمکی دے کر وہ سمجھتا تھا کہ اب یہ نرم پڑ جائیں گے لیکن وہ تو ایمان میں اور پختہ ہو گئے۔ بالاتفاق جواب دیتے ہیں کہ اچھا ڈرایا؟

یہاں سے تو واپس اللہ کے پاس جانا ہی ہے۔ اسی کے قبضہ و قدرت میں سب کچھ ہے۔ آج اگر تیری سزاؤں سے بچ گئے تو کیا اللہ کے ہاں کی سزائیں بھی معاف ہو جائیں گی؟ ہمارے نزدیک تو دنیا کی سزائیں بھگت لینا بہ نسبت آخرت کے عذاب کے بھگتنے کے بہت ہی آسان ہے۔ تو ہم سے اللہ کے نبی کا مقابلہ کرا چکا ہے لیکن اب ہم پر حق واضح ہو گیا۔ ہم اس پر ایمان لے آئے، تو تو چڑ رہا ہے۔ کہنے کو تو یہ سب کچھ کہہ گئے لیکن خیال آیا کہ کہیں ہمارا قدم پھسل نہ جائے۔ اس لیے دعا میں دل کھول دیا کہ اے اللہ! ہمیں صبر عطا فرما، ثابت قدمی دے، ہمیں اسلام پر ہی موت دے، تیرے نبی موسیٰ علیہ السلام کی اتباع کرتے ہوئے ہی دنیا سے رخصت ہوں۔ ایسا نہ ہو، اس ظالم کے رعب میں یا اس کی دھمکیوں میں آ جائیں یا سزاؤں سے ڈر جائیں یا ان کے برداشت کی تاب نہ لائیں۔ ان دعاؤں کے بعد دل بڑھ جاتے ہیں، ہمتیں دگنی ہو جاتی ہیں۔ فرعون کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہتے ہیں: ’ تجھے جو کرنا ہے اس میں کمی نہ کر، کسر اٹھا نہ رکھ۔ جو جی میں ہے، کر گزر۔ تو دنیا ہی میں سزائیں دے سکتا ہے، ہم صبر کر لیں گے۔ کیا عجب کہ ہمارے ایمان کی وجہ سے اللہ ہماری خطائیں معاف فرمائے۔ خصوصاً ابھی کی یہ خطا کہ ہم نے جھوٹ سے سچ کا مقابلہ کیا۔ بیشک اللہ بہتر ہے اور زیادہ باقی۔ گناہگاروں کے لیے اس کے ہاں جہنم کی سزا ہے۔ جہاں نہ موت آئے، نہ کارآمد زندگی ہو۔ اور مومنوں کے لیے اس کے پاس جنتیں ہیں جہاں بڑے بلند درجے ہیں۔ ‘ ۱؎ [20-طه:72-75] ‏‏‏‏ سبحان اللہ! یہ لوگ دن کے ابتدائی حصے میں کافر اور جادوگر تھے اور اسی دن کے آخری حصے میں مومن بلکہ نیک شہید تھے۔
123۔ 1 یہ جو کچھ ہوا فرعون کے لئے بڑا حیران کن اور تعجب خیز تھا اس لئے اسے اور تو کچھ نہیں سوجھا، اس نے یہی کہہ دیا کہ تم سب آپس میں ملے ہوئے ہو اور اس کا مقصد ہمارے اقتدار کا خاتمہ ہے۔ اچھا اس کا انجام عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا۔
(آیت 124،123) ➊ {قَالَ فِرْعَوْنُ اٰمَنْتُمْ بِهٖ …:} یعنی میری اجازت سے پہلے تمھیں کوئی حق نہ تھا کہ تم موسیٰ کی برتری اور کامرانی کا اعلان کرتے۔ ہر متکبر و سرکش یہی چاہتا ہے کہ لوگ اس کی ہاں میں ہاں ملائیں اور جو کچھ وہ کہے اسے مان کر اسی کی تشہیر و اشاعت کریں، اسی طرح دنیا میں ہر متکبر اور سرکش حکمران کا یہ قاعدہ ہے کہ جب وہ دلیل کے میدان میں ہار جاتا ہے تو جیل، پھانسی، سولی اور قتل کی دھمکی دینے پر اتر آتا ہے اور اس کے لیے ایسے قوانین وضع کرتا ہے جن کی رو سے کسی پر اس کا جرم ثابت کیے بغیر اسے سزا دی جا سکے۔ چنانچہ یہی کام فرعون نے کیا، جب وہ دلیل کے میدان میں شکست کھا گیا تو سزا دینے کی دھمکی پر اتر آیا اور فی الفور عوام کے سامنے دو الزام لگا دیے، پہلا کہ یہ جادوگروں اورموسیٰ کی باہمی سازش ہے اور دوسرا یہ کہ یہ لوگ اس سازش کے ذریعے سے مصریوں کو ملک بدر کرکے حکومت پر قبضہ جمانا چاہتے ہیں۔ اس لیے پہلے {” فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ “} (سو تم جلد جان لو گے) کہہ کر دھمکی دی، پھر اس دھمکی کی وضاحت بھی سنا دی۔ ➋ {ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّكُمْ اَجْمَعِيْنَ:} یعنی ایک جانب سے ہاتھ اور دوسری جانب سے پاؤں کٹوا کر تمھیں سولی دے دوں گا۔ عام طور پر لوگ سولی اور پھانسی کو ایک ہی چیز سمجھتے ہیں، حالانکہ پھانسی میں تو گلے میں رسا ڈال کر گلا گھونٹ کر مارا جاتا ہے، جبکہ سولی میں ایک اونچا کھمبا کھڑا کرکے اس کے اوپر ایک آڑی لکڑی باندھ دی جاتی ہے، پھر ملزم کو اوپر چڑھا کر اس کے بازو اس آڑی لکڑی کے ساتھ باندھ دیے جاتے ہیں، جبکہ جسم اونچی لکڑی کے ساتھ بندھا ہوتا ہے، وہ وہیں دھوپ، سردی، پرندوں کی نوچ کھسوٹ اور دشمنوں کے تیروں یا نیزوں کے زخم کھاتا ہوا دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے۔ اسی لیے سورۂ طٰہٰ (۷) میں ہے: ”میں تمھیں ہر صورت کھجور کے تنوں پر بری طرح سولی دوں گا۔“ یہ پھانسی سے کہیں زیادہ خوف ناک سزا ہے۔
لَاُقَطِّعَنَّ اَیۡدِیَکُمۡ وَ اَرۡجُلَکُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّکُمۡ اَجۡمَعِیۡنَ ﴿۱۲۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
میں تمہارے ہاتھ پاؤں مخالف سمتوں سے کٹوا دوں گا اور اس کے بعد تم سب کو سولی پر چڑھاؤں گا"
مولانا محمد جوناگڑھی
میں تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹوں گا۔ پھر تم سب کو سولی پر لٹکا دوں گا
احمد رضا خان بریلوی
قسم ہے کہ میں تمہارے ایک طرف کہ ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹوں گا پھر تم سب کو سُو لی دوں گا
علامہ محمد حسین نجفی
میں تمہارے ہاتھ پاؤں کو مختلف سمتوں سے کاٹ دوں گا پھر تم سب کو سولی پر لٹکا دوں گا۔
عبدالسلام بن محمد
یقینا میں ضرور تمھارے ہاتھ اور تمھارے پائوں مخالف سمت سے بری طرح کاٹوں گا، پھر یقینا تم سب کو ضرور بری طرح سولی دوں گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فرعون سیخ پا ہو گیا ٭٭

جادوگروں کے اس طرح مجمع عام میں ہار جانے، پھر اس طرح سب کے سامنے بےدھڑک اسلام قبول کر لینے سے فرعون آگ بگولا ہو گیا اور اس اثر کو روکنے کے لئے سب سے پہلے تو ان مسلمانوں سے کہنے لگا: تمہارا بھید مجھ پر کھل گیا ہے۔ تم سب مع موسیٰ کے ایک ہی ہو۔ یہ تمہارا استاد ہے، تم اس کے شاگرد ہو۔ ۱؎ [20-طه:71] ‏‏‏‏ تم نے آپس میں پہلے یہ طے کیا کہ تو پہلے چلا جا، پھر ہم آ جائیں گے۔ اس طرح میدان قائم ہو۔ ہم مصنوعی لڑائی لڑ کر ہار جائیں گے اور اس طرح اس ملک کے اصلی باشندوں کو یہاں سے نکال باہر کریں گے۔ فرعون کے اس جھوٹ پر اللہ کی مار ہے۔ کوئی بےوقوف بھی اس کے اس بیان کو صحیح نہیں سمجھ سکتا۔ سب کو معلوم تھا موسیٰ علیہ السلام اپنا بچپن فرعون کے محل میں گزارتے ہیں، اس کے بعد مدین میں عمر کا ایک حصہ بسر کرتے ہیں۔ مدین سے سیدھے مصر کو پہنچ کر اپنی نبوت کا اعلان کرتے ہیں اور معجزے دکھاتے ہیں جن سے عاجز آ کر فرعون اپنے جادوگروں کو جمع کرتا ہے۔ وہ براہ راست اس کی سپاہ کے ساتھ اس کے دربار میں پیش ہوتے ہیں۔ انعام و اکرام کے لالچ سے ان کے دل بڑھائے جاتے ہیں۔ وہ اپنی فتح مندی کا یقین دلاتے ہیں، فرعون انہیں اپنی رضا مندی کا یقین دلاتا ہے۔ خوب تیاریاں کر کے میدان جماتے ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام ان میں سے ایک سے بھی واقف نہیں، کبھی نہ کسی کو دیکھا ہے، نہ سنا ہے، نہ ملے ہیں، نہ جانتے ہیں۔ لیکن وزیرے چنیں شہر یارے چناں۔ وہاں تو ان لوگوں کا مجمع تھا کہ فرعون نے جب کہا کہ میں رب اعلیٰ ہوں تو سب نے گردنیں جھکا کر کہا: بیشک حضور آپ خدا ہیں تو ایسے جہالت کے پلندوں سے کوئی بات منوا لینی کیا مشکل تھی؟ اس کے رعب میں آ کر ایمان لانے کا ارادہ بدلا اور سمجھ بیٹھے کہ واقعی فرعون ٹھیک کہہ رہا ہے۔

ایک قول یہ بھی ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے جادوگروں کے امیر سے فرمایا کہ اگر میں غالب آ جاؤں تو کیا تو مجھ پر ایمان لائے گا؟ اس نے کہا: آج میدان میں ہماری جانب سے جو جادو پیش کیا جائے گا، اس کا جواب ساری مخلوق کے پاس نہیں۔ تو اگر اس پر غالب آ گیا تو مجھے بیشک یقین ہو جائے گا کہ وہ جادو نہیں معجزہ ہے۔ یہ گفتگو فرعون کے کانوں تک پہنچی، اسے یہ دوہرا رہا ہے کہ تم نے ملی بھگت کر لی۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:24/6] ‏‏‏‏ اس طرح لوگوں کے دل حقانیت سے ہٹا کر انہیں بدظن کرنے کیلئے دوسری چال چلتا ہے اور کہتا ہے کہ تم اپنے اتفاق اور پوشیدہ جال سے جاہتے یہ ہو کہ ہماری دولت و شوکت چھین لو، ہمیں یہاں سے نکال باہر کرو۔ اس طرح اپنی قوم کے دل ان کی طرف سے پھیر کر پھر انہیں خوفزدہ کرنے کیلئے چوتھی چال چلتا ہے کہ ان نومسلموں سے کہتا ہے کہ دیکھو تو تمہیں ابھی معلوم ہو جائے گا کہ سو میں کتنے بیس ہوتے ہیں۔ مجھے بھی قسم ہے جو تمہارے ہاتھ پاؤں نہ کٹوائے اور وہ بھی الٹی طرح یعنی پہلے اگر سیدھا ہاتھ کاٹا جائے تو پھر بایاں پاؤں اور اگر پہلے سیدھا پاؤں کاٹا گیا تو پھر الٹا ہاتھ۔ اسی طرح بےدست و پا کر کےکھجوروں کی شاخوں پر لٹکا دوں گا۔ تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ اس ظالم بادشاہ سے پہلے ان دونوں سزاؤں کا رواج نہ تھا۔ یہ دھمکی دے کر وہ سمجھتا تھا کہ اب یہ نرم پڑ جائیں گے لیکن وہ تو ایمان میں اور پختہ ہو گئے۔ بالاتفاق جواب دیتے ہیں کہ اچھا ڈرایا؟

یہاں سے تو واپس اللہ کے پاس جانا ہی ہے۔ اسی کے قبضہ و قدرت میں سب کچھ ہے۔ آج اگر تیری سزاؤں سے بچ گئے تو کیا اللہ کے ہاں کی سزائیں بھی معاف ہو جائیں گی؟ ہمارے نزدیک تو دنیا کی سزائیں بھگت لینا بہ نسبت آخرت کے عذاب کے بھگتنے کے بہت ہی آسان ہے۔ تو ہم سے اللہ کے نبی کا مقابلہ کرا چکا ہے لیکن اب ہم پر حق واضح ہو گیا۔ ہم اس پر ایمان لے آئے، تو تو چڑ رہا ہے۔ کہنے کو تو یہ سب کچھ کہہ گئے لیکن خیال آیا کہ کہیں ہمارا قدم پھسل نہ جائے۔ اس لیے دعا میں دل کھول دیا کہ اے اللہ! ہمیں صبر عطا فرما، ثابت قدمی دے، ہمیں اسلام پر ہی موت دے، تیرے نبی موسیٰ علیہ السلام کی اتباع کرتے ہوئے ہی دنیا سے رخصت ہوں۔ ایسا نہ ہو، اس ظالم کے رعب میں یا اس کی دھمکیوں میں آ جائیں یا سزاؤں سے ڈر جائیں یا ان کے برداشت کی تاب نہ لائیں۔ ان دعاؤں کے بعد دل بڑھ جاتے ہیں، ہمتیں دگنی ہو جاتی ہیں۔ فرعون کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہتے ہیں: ’ تجھے جو کرنا ہے اس میں کمی نہ کر، کسر اٹھا نہ رکھ۔ جو جی میں ہے، کر گزر۔ تو دنیا ہی میں سزائیں دے سکتا ہے، ہم صبر کر لیں گے۔ کیا عجب کہ ہمارے ایمان کی وجہ سے اللہ ہماری خطائیں معاف فرمائے۔ خصوصاً ابھی کی یہ خطا کہ ہم نے جھوٹ سے سچ کا مقابلہ کیا۔ بیشک اللہ بہتر ہے اور زیادہ باقی۔ گناہگاروں کے لیے اس کے ہاں جہنم کی سزا ہے۔ جہاں نہ موت آئے، نہ کارآمد زندگی ہو۔ اور مومنوں کے لیے اس کے پاس جنتیں ہیں جہاں بڑے بلند درجے ہیں۔ ‘ ۱؎ [20-طه:72-75] ‏‏‏‏ سبحان اللہ! یہ لوگ دن کے ابتدائی حصے میں کافر اور جادوگر تھے اور اسی دن کے آخری حصے میں مومن بلکہ نیک شہید تھے۔
124۔ 1 یعنی دایاں پاؤں اور بایاں ہاتھ پھر یہی نہیں سولی پر چڑھا کر تمہیں نشان عبرت بھی بنا دونگا۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
قَالُوۡۤا اِنَّاۤ اِلٰی رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَ ﴿۱۲۵﴾ۚ
سید ابو الاعلیٰ مودودی
انہوں نے جواب دیا "بہر حال ہمیں پلٹنا اپنے رب ہی کی طرف ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
انہوں نے جواب دیا کہ ہم (مر کر) اپنے مالک ہی کے پاس جائیں گے
احمد رضا خان بریلوی
بولے ہم اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
انہوں نے کہا (ہمیں کیا پروا ہے) ہم لوگ بہرحال اپنے پروردگار کی طرف پلٹ کر جانے والے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
انھوں نے کہا یقینا ہم اپنے رب ہی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فرعون سیخ پا ہو گیا ٭٭

جادوگروں کے اس طرح مجمع عام میں ہار جانے، پھر اس طرح سب کے سامنے بےدھڑک اسلام قبول کر لینے سے فرعون آگ بگولا ہو گیا اور اس اثر کو روکنے کے لئے سب سے پہلے تو ان مسلمانوں سے کہنے لگا: تمہارا بھید مجھ پر کھل گیا ہے۔ تم سب مع موسیٰ کے ایک ہی ہو۔ یہ تمہارا استاد ہے، تم اس کے شاگرد ہو۔ ۱؎ [20-طه:71] ‏‏‏‏ تم نے آپس میں پہلے یہ طے کیا کہ تو پہلے چلا جا، پھر ہم آ جائیں گے۔ اس طرح میدان قائم ہو۔ ہم مصنوعی لڑائی لڑ کر ہار جائیں گے اور اس طرح اس ملک کے اصلی باشندوں کو یہاں سے نکال باہر کریں گے۔ فرعون کے اس جھوٹ پر اللہ کی مار ہے۔ کوئی بےوقوف بھی اس کے اس بیان کو صحیح نہیں سمجھ سکتا۔ سب کو معلوم تھا موسیٰ علیہ السلام اپنا بچپن فرعون کے محل میں گزارتے ہیں، اس کے بعد مدین میں عمر کا ایک حصہ بسر کرتے ہیں۔ مدین سے سیدھے مصر کو پہنچ کر اپنی نبوت کا اعلان کرتے ہیں اور معجزے دکھاتے ہیں جن سے عاجز آ کر فرعون اپنے جادوگروں کو جمع کرتا ہے۔ وہ براہ راست اس کی سپاہ کے ساتھ اس کے دربار میں پیش ہوتے ہیں۔ انعام و اکرام کے لالچ سے ان کے دل بڑھائے جاتے ہیں۔ وہ اپنی فتح مندی کا یقین دلاتے ہیں، فرعون انہیں اپنی رضا مندی کا یقین دلاتا ہے۔ خوب تیاریاں کر کے میدان جماتے ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام ان میں سے ایک سے بھی واقف نہیں، کبھی نہ کسی کو دیکھا ہے، نہ سنا ہے، نہ ملے ہیں، نہ جانتے ہیں۔ لیکن وزیرے چنیں شہر یارے چناں۔ وہاں تو ان لوگوں کا مجمع تھا کہ فرعون نے جب کہا کہ میں رب اعلیٰ ہوں تو سب نے گردنیں جھکا کر کہا: بیشک حضور آپ خدا ہیں تو ایسے جہالت کے پلندوں سے کوئی بات منوا لینی کیا مشکل تھی؟ اس کے رعب میں آ کر ایمان لانے کا ارادہ بدلا اور سمجھ بیٹھے کہ واقعی فرعون ٹھیک کہہ رہا ہے۔

ایک قول یہ بھی ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے جادوگروں کے امیر سے فرمایا کہ اگر میں غالب آ جاؤں تو کیا تو مجھ پر ایمان لائے گا؟ اس نے کہا: آج میدان میں ہماری جانب سے جو جادو پیش کیا جائے گا، اس کا جواب ساری مخلوق کے پاس نہیں۔ تو اگر اس پر غالب آ گیا تو مجھے بیشک یقین ہو جائے گا کہ وہ جادو نہیں معجزہ ہے۔ یہ گفتگو فرعون کے کانوں تک پہنچی، اسے یہ دوہرا رہا ہے کہ تم نے ملی بھگت کر لی۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:24/6] ‏‏‏‏ اس طرح لوگوں کے دل حقانیت سے ہٹا کر انہیں بدظن کرنے کیلئے دوسری چال چلتا ہے اور کہتا ہے کہ تم اپنے اتفاق اور پوشیدہ جال سے جاہتے یہ ہو کہ ہماری دولت و شوکت چھین لو، ہمیں یہاں سے نکال باہر کرو۔ اس طرح اپنی قوم کے دل ان کی طرف سے پھیر کر پھر انہیں خوفزدہ کرنے کیلئے چوتھی چال چلتا ہے کہ ان نومسلموں سے کہتا ہے کہ دیکھو تو تمہیں ابھی معلوم ہو جائے گا کہ سو میں کتنے بیس ہوتے ہیں۔ مجھے بھی قسم ہے جو تمہارے ہاتھ پاؤں نہ کٹوائے اور وہ بھی الٹی طرح یعنی پہلے اگر سیدھا ہاتھ کاٹا جائے تو پھر بایاں پاؤں اور اگر پہلے سیدھا پاؤں کاٹا گیا تو پھر الٹا ہاتھ۔ اسی طرح بےدست و پا کر کےکھجوروں کی شاخوں پر لٹکا دوں گا۔ تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ اس ظالم بادشاہ سے پہلے ان دونوں سزاؤں کا رواج نہ تھا۔ یہ دھمکی دے کر وہ سمجھتا تھا کہ اب یہ نرم پڑ جائیں گے لیکن وہ تو ایمان میں اور پختہ ہو گئے۔ بالاتفاق جواب دیتے ہیں کہ اچھا ڈرایا؟

یہاں سے تو واپس اللہ کے پاس جانا ہی ہے۔ اسی کے قبضہ و قدرت میں سب کچھ ہے۔ آج اگر تیری سزاؤں سے بچ گئے تو کیا اللہ کے ہاں کی سزائیں بھی معاف ہو جائیں گی؟ ہمارے نزدیک تو دنیا کی سزائیں بھگت لینا بہ نسبت آخرت کے عذاب کے بھگتنے کے بہت ہی آسان ہے۔ تو ہم سے اللہ کے نبی کا مقابلہ کرا چکا ہے لیکن اب ہم پر حق واضح ہو گیا۔ ہم اس پر ایمان لے آئے، تو تو چڑ رہا ہے۔ کہنے کو تو یہ سب کچھ کہہ گئے لیکن خیال آیا کہ کہیں ہمارا قدم پھسل نہ جائے۔ اس لیے دعا میں دل کھول دیا کہ اے اللہ! ہمیں صبر عطا فرما، ثابت قدمی دے، ہمیں اسلام پر ہی موت دے، تیرے نبی موسیٰ علیہ السلام کی اتباع کرتے ہوئے ہی دنیا سے رخصت ہوں۔ ایسا نہ ہو، اس ظالم کے رعب میں یا اس کی دھمکیوں میں آ جائیں یا سزاؤں سے ڈر جائیں یا ان کے برداشت کی تاب نہ لائیں۔ ان دعاؤں کے بعد دل بڑھ جاتے ہیں، ہمتیں دگنی ہو جاتی ہیں۔ فرعون کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہتے ہیں: ’ تجھے جو کرنا ہے اس میں کمی نہ کر، کسر اٹھا نہ رکھ۔ جو جی میں ہے، کر گزر۔ تو دنیا ہی میں سزائیں دے سکتا ہے، ہم صبر کر لیں گے۔ کیا عجب کہ ہمارے ایمان کی وجہ سے اللہ ہماری خطائیں معاف فرمائے۔ خصوصاً ابھی کی یہ خطا کہ ہم نے جھوٹ سے سچ کا مقابلہ کیا۔ بیشک اللہ بہتر ہے اور زیادہ باقی۔ گناہگاروں کے لیے اس کے ہاں جہنم کی سزا ہے۔ جہاں نہ موت آئے، نہ کارآمد زندگی ہو۔ اور مومنوں کے لیے اس کے پاس جنتیں ہیں جہاں بڑے بلند درجے ہیں۔ ‘ ۱؎ [20-طه:72-75] ‏‏‏‏ سبحان اللہ! یہ لوگ دن کے ابتدائی حصے میں کافر اور جادوگر تھے اور اسی دن کے آخری حصے میں مومن بلکہ نیک شہید تھے۔
125۔ 1 اس کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ اگر ہمارے ساتھ ایسا معاملہ کرے گا تو تجھے بھی اس بات کے لئے تیار رہنا چاہیے کہ قیامت والے دن اللہ تعالیٰ تجھے اس جرم کی سخت سزا دے گا اس لئے کہ ہم سب کو مر کر اس کے پاس جانا ہے اس کی سزا سے کون بچ سکتا ہے؟ گویا فرعون کے عذاب دنیا کے مقابلے میں اسے عذاب آخرت سے ڈرایا گیا ہے۔ دوسرا مفہوم یہ ہے کہ موت تو ہمیں آنی ہی آنی ہے اس سے کیا فرق پڑے گا کہ موت سولی پر بھی آئے یا کسی اور طریقے سے۔
(آیت 125) {قَالُوْۤا اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَ:} یعنی موت سے کسی حال میں چھٹکارا نہیں، وہ کسی نہ کسی شکل میں ضرور آنی ہے، اگر ہماری قسمت میں یہی لکھا ہے کہ ہمارا خاتمہ سولی پر ہو تو ہمیں بڑی خوشی سے سولی دو، ہمیں کوئی پروا نہیں۔
وَ مَا تَنۡقِمُ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاٰیٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتۡنَا ؕ رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَیۡنَا صَبۡرًا وَّ تَوَفَّنَا مُسۡلِمِیۡنَ ﴿۱۲۶﴾٪
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تو جس بات پر ہم سے انتقام لینا چاہتا ہے وہ اِس کے سوا کچھ نہیں کہ ہمارے رب کی نشانیاں جب ہمارے سامنے آ گئیں تو ہم نے انہیں مان لیا اے رب، ہم پر صبر کا فیضان کر اور ہمیں دنیا سے اٹھا تو اِس حال میں کہ ہم تیرے فرماں بردار ہوں"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور تو نے ہم میں کونسا عیب دیکھا ہے بجز اس کے کہ ہم اپنے رب کے احکام پر ایمان لے آئے، جب وه ہمارے پاس آئے۔ اے ہمارے رب! ہمارے اوپر صبر کا فیضان فرما اور ہماری جان حالت اسلام پر نکال
احمد رضا خان بریلوی
اور تجھے ہمارا کیا برا لگا یہی نہ کہ ہم اپنے رب کی نشانیوں پر ایمان لائے جب وہ ہمارے پاس آئیں، اے رب ہمارے! ہم پر صبر انڈیل دے اور ہمیں مسلمان اٹھا
علامہ محمد حسین نجفی
اور تم ہم سے صرف اس بات کا انتقام لینا چاہتے ہو کہ ہم اپنے پروردگار کی نشانیوں پر ایمان لائے ہیں جب وہ ہمارے پاس آئی ہیں۔ (پھر یوں دعا کی) اے ہمارے پروردگار! ہم پر صبر انڈیل دے اور ہمیں اس حالت میں وفات دے کہ ہم تیرے سچے مسلمان (فرمانبردار) ہوں۔
عبدالسلام بن محمد
اور تو ہم سے اس کے سوا کس چیز کا بدلہ لے رہا ہے کہ ہم اپنے رب کی آیات پر ایمان لے آئے، جب وہ ہمارے پاس آئیں، اے ہمارے رب! ہم پر صبر انڈیل دے اور ہمیں اس حال میں فوت کر کہ فرماں بردار ہوں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فرعون سیخ پا ہو گیا ٭٭

جادوگروں کے اس طرح مجمع عام میں ہار جانے، پھر اس طرح سب کے سامنے بےدھڑک اسلام قبول کر لینے سے فرعون آگ بگولا ہو گیا اور اس اثر کو روکنے کے لئے سب سے پہلے تو ان مسلمانوں سے کہنے لگا: تمہارا بھید مجھ پر کھل گیا ہے۔ تم سب مع موسیٰ کے ایک ہی ہو۔ یہ تمہارا استاد ہے، تم اس کے شاگرد ہو۔ ۱؎ [20-طه:71] ‏‏‏‏ تم نے آپس میں پہلے یہ طے کیا کہ تو پہلے چلا جا، پھر ہم آ جائیں گے۔ اس طرح میدان قائم ہو۔ ہم مصنوعی لڑائی لڑ کر ہار جائیں گے اور اس طرح اس ملک کے اصلی باشندوں کو یہاں سے نکال باہر کریں گے۔ فرعون کے اس جھوٹ پر اللہ کی مار ہے۔ کوئی بےوقوف بھی اس کے اس بیان کو صحیح نہیں سمجھ سکتا۔ سب کو معلوم تھا موسیٰ علیہ السلام اپنا بچپن فرعون کے محل میں گزارتے ہیں، اس کے بعد مدین میں عمر کا ایک حصہ بسر کرتے ہیں۔ مدین سے سیدھے مصر کو پہنچ کر اپنی نبوت کا اعلان کرتے ہیں اور معجزے دکھاتے ہیں جن سے عاجز آ کر فرعون اپنے جادوگروں کو جمع کرتا ہے۔ وہ براہ راست اس کی سپاہ کے ساتھ اس کے دربار میں پیش ہوتے ہیں۔ انعام و اکرام کے لالچ سے ان کے دل بڑھائے جاتے ہیں۔ وہ اپنی فتح مندی کا یقین دلاتے ہیں، فرعون انہیں اپنی رضا مندی کا یقین دلاتا ہے۔ خوب تیاریاں کر کے میدان جماتے ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام ان میں سے ایک سے بھی واقف نہیں، کبھی نہ کسی کو دیکھا ہے، نہ سنا ہے، نہ ملے ہیں، نہ جانتے ہیں۔ لیکن وزیرے چنیں شہر یارے چناں۔ وہاں تو ان لوگوں کا مجمع تھا کہ فرعون نے جب کہا کہ میں رب اعلیٰ ہوں تو سب نے گردنیں جھکا کر کہا: بیشک حضور آپ خدا ہیں تو ایسے جہالت کے پلندوں سے کوئی بات منوا لینی کیا مشکل تھی؟ اس کے رعب میں آ کر ایمان لانے کا ارادہ بدلا اور سمجھ بیٹھے کہ واقعی فرعون ٹھیک کہہ رہا ہے۔

ایک قول یہ بھی ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے جادوگروں کے امیر سے فرمایا کہ اگر میں غالب آ جاؤں تو کیا تو مجھ پر ایمان لائے گا؟ اس نے کہا: آج میدان میں ہماری جانب سے جو جادو پیش کیا جائے گا، اس کا جواب ساری مخلوق کے پاس نہیں۔ تو اگر اس پر غالب آ گیا تو مجھے بیشک یقین ہو جائے گا کہ وہ جادو نہیں معجزہ ہے۔ یہ گفتگو فرعون کے کانوں تک پہنچی، اسے یہ دوہرا رہا ہے کہ تم نے ملی بھگت کر لی۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:24/6] ‏‏‏‏ اس طرح لوگوں کے دل حقانیت سے ہٹا کر انہیں بدظن کرنے کیلئے دوسری چال چلتا ہے اور کہتا ہے کہ تم اپنے اتفاق اور پوشیدہ جال سے جاہتے یہ ہو کہ ہماری دولت و شوکت چھین لو، ہمیں یہاں سے نکال باہر کرو۔ اس طرح اپنی قوم کے دل ان کی طرف سے پھیر کر پھر انہیں خوفزدہ کرنے کیلئے چوتھی چال چلتا ہے کہ ان نومسلموں سے کہتا ہے کہ دیکھو تو تمہیں ابھی معلوم ہو جائے گا کہ سو میں کتنے بیس ہوتے ہیں۔ مجھے بھی قسم ہے جو تمہارے ہاتھ پاؤں نہ کٹوائے اور وہ بھی الٹی طرح یعنی پہلے اگر سیدھا ہاتھ کاٹا جائے تو پھر بایاں پاؤں اور اگر پہلے سیدھا پاؤں کاٹا گیا تو پھر الٹا ہاتھ۔ اسی طرح بےدست و پا کر کےکھجوروں کی شاخوں پر لٹکا دوں گا۔ تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ اس ظالم بادشاہ سے پہلے ان دونوں سزاؤں کا رواج نہ تھا۔ یہ دھمکی دے کر وہ سمجھتا تھا کہ اب یہ نرم پڑ جائیں گے لیکن وہ تو ایمان میں اور پختہ ہو گئے۔ بالاتفاق جواب دیتے ہیں کہ اچھا ڈرایا؟

یہاں سے تو واپس اللہ کے پاس جانا ہی ہے۔ اسی کے قبضہ و قدرت میں سب کچھ ہے۔ آج اگر تیری سزاؤں سے بچ گئے تو کیا اللہ کے ہاں کی سزائیں بھی معاف ہو جائیں گی؟ ہمارے نزدیک تو دنیا کی سزائیں بھگت لینا بہ نسبت آخرت کے عذاب کے بھگتنے کے بہت ہی آسان ہے۔ تو ہم سے اللہ کے نبی کا مقابلہ کرا چکا ہے لیکن اب ہم پر حق واضح ہو گیا۔ ہم اس پر ایمان لے آئے، تو تو چڑ رہا ہے۔ کہنے کو تو یہ سب کچھ کہہ گئے لیکن خیال آیا کہ کہیں ہمارا قدم پھسل نہ جائے۔ اس لیے دعا میں دل کھول دیا کہ اے اللہ! ہمیں صبر عطا فرما، ثابت قدمی دے، ہمیں اسلام پر ہی موت دے، تیرے نبی موسیٰ علیہ السلام کی اتباع کرتے ہوئے ہی دنیا سے رخصت ہوں۔ ایسا نہ ہو، اس ظالم کے رعب میں یا اس کی دھمکیوں میں آ جائیں یا سزاؤں سے ڈر جائیں یا ان کے برداشت کی تاب نہ لائیں۔ ان دعاؤں کے بعد دل بڑھ جاتے ہیں، ہمتیں دگنی ہو جاتی ہیں۔ فرعون کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہتے ہیں: ’ تجھے جو کرنا ہے اس میں کمی نہ کر، کسر اٹھا نہ رکھ۔ جو جی میں ہے، کر گزر۔ تو دنیا ہی میں سزائیں دے سکتا ہے، ہم صبر کر لیں گے۔ کیا عجب کہ ہمارے ایمان کی وجہ سے اللہ ہماری خطائیں معاف فرمائے۔ خصوصاً ابھی کی یہ خطا کہ ہم نے جھوٹ سے سچ کا مقابلہ کیا۔ بیشک اللہ بہتر ہے اور زیادہ باقی۔ گناہگاروں کے لیے اس کے ہاں جہنم کی سزا ہے۔ جہاں نہ موت آئے، نہ کارآمد زندگی ہو۔ اور مومنوں کے لیے اس کے پاس جنتیں ہیں جہاں بڑے بلند درجے ہیں۔ ‘ ۱؎ [20-طه:72-75] ‏‏‏‏ سبحان اللہ! یہ لوگ دن کے ابتدائی حصے میں کافر اور جادوگر تھے اور اسی دن کے آخری حصے میں مومن بلکہ نیک شہید تھے۔
126۔ 1 یعنی تیرے نزدیک ہمارا یہ عیب ہے۔ جس پر تو ہم سے ناراض ہوگیا ہے اور ہمیں سزا دینے پر تل گیا ہے۔ درآنحالیکہ یہ سرے سے عیب ہی نہیں یہ تو خوبی ہے بہت بڑی خوبی کہ جب حقیقت ہمارے سامنے واضح ہو کر آگئی تو ہم نے اس کے مقابلے میں تمام دنیاوی مفادات ٹھکرا دیئے اور حقیقت کو اپنا لیا۔ پھر انہوں نے اپنا روئے سخن فرعون سے پھیر کر اللہ کی طرف کرلیا اور اس کی بارگاہ میں دست دعا ہوگئے۔ 126۔ 2 تاکہ ہم تیرے اس دشمن کے عذاب کو برداشت کرلیں، اور حق اور ایمان پر ثابت قدم رہیں۔ 126۔ 3 اس دنیاوی آزمائش سے ہمارے اندر ایمان سے انحراف آئے نہ کسی اور فتنے میں ہم مبتلا ہوں۔
(آیت 126) {وَ مَا تَنْقِمُ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنْ اٰمَنَّا …: ” نَقَِمَ مِنْهُ} (ض، ع) “ اور {”اِنْتَقَمَ“ عَاقَبَهُ} یعنی {”نَقَمَ مِنْهُ“} اور {”اِنْتَقَمَ مِنْهُ“} کا معنی بدلہ لینا، سزا دینا ہے اور{” نَقَّمَ الْأَمْرَ“ } کا معنی {” كَرِهَهُ“ } یعنی کسی شے سے نفرت اور کراہت ہے۔ (قاموس) مطلب یہ ہے کہ اگر ہمارا کوئی گناہ ہے تو صرف یہ کہ ہم اپنے پروردگار پر ایمان لے آئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی فن کو جتنا اس فن والا جانتا ہے کوئی دوسرا نہیں جان سکتا، چنانچہ ان جادوگروں نے جب موسیٰ علیہ السلام کے معجزے کو دیکھا تو فوراً سمجھ گئے کہ یہ ہرگز جادو نہیں ہو سکتا، بلکہ یہ سراسر اللہ تعالیٰ کی طرف سے معجزہ ہے، اس لیے وہ اس پر فوراً ایمان لے آئے اور ان کے ایمان میں اس قدر پختگی تھی کہ انھوں نے جان تک کی پروا نہیں کی، بلکہ اللہ تعالیٰ سے صبر و استقامت اور ایمان و اسلام پر موت کی دعا کی۔ مشہور قول کے مطابق وہ قتل کر دیے گئے، چنانچہ طبری اور دوسرے مفسرین نے ابن عباس رضی اللہ عنھما کا قول ذکر کیا ہے کہ شروع دن میں وہ جادوگر تھے اور پھر دن کے آخری حصے میں شہداء میں داخل ہو گئے۔ دکتور حکمت بن بشیر نے تفسیر ابن کثیر کی تخریج میں ابن عباس رضی اللہ عنھما کے اس قول کے متعلق لکھا ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنھما کا یہ قول ابن ابی حاتم نے ضعیف سند کے ساتھ سدی عن ابن عباس کے طریق سے روایت کیا ہے جب کہ سدی نے ابن عباس رضی اللہ عنھما سے نہیں سنا (لہٰذا روایت منقطع ہے صحیح نہیں)۔ قرآن مجید نے اس مقام پر یہ ذکر نہیں فرمایا کہ ان کا انجام کیا ہوا، نہ ہی سورۂ شعراء اور سورۂ طٰہٰ میں یا کسی اور جگہ یہ ذکر فرمایا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن مجید کا مقصد عبرت کے لیے موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ اللہ کی مدد، فرعون کی شکست، جادوگروں کے ایمان لانے، فرعون کی دھمکیوں کے باوجود اس پر قائم رہنے کے عزم اور صبر اور ایمان پر خاتمے کی دعا کا بیان ہے، محض قصہ بیان کرنا نہیں، جیسا کہ سورۂ نازعات میں فرمایا: «{ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّمَنْ يَّخْشٰى }» [ النازعات: ۲۶ ] ”بے شک اس میں اس شخص کے لیے یقینا بڑی عبرت ہے جو ڈرتا ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کے بارے میں کچھ نہیں فرمایا۔ بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ فرعون اپنی دھمکیوں کو عملی جامہ نہیں پہنا سکا، جیسا کہ اس نے اپنے سرداروں سے کہا تھا: ”مجھے چھوڑو کہ میں موسیٰ کو قتل کر دوں۔“ [ المؤمن: ۲۶ ] اور آل فرعون میں سے وہ مومن جس نے بھرے دربار میں موسیٰ علیہ السلام کے قتل کی مخالفت کی اس کے خلاف بھی فرعون نے بدترین سازش کی، مگر وہ موسیٰ علیہ السلام کو قتل نہ کر سکا اور اس مومن کو بھی اللہ تعالیٰ نے اس کی سازشوں سے بچا لیا۔ دیکھیے سورۂ مومن (۴۵) اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو یہ تسلی دے کر بھیجا تھا: «{ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِيْكَ وَ نَجْعَلُ لَكُمَا سُلْطٰنًا فَلَا يَصِلُوْنَ اِلَيْكُمَا بِاٰيٰتِنَاۤ اَنْتُمَا وَ مَنِ اتَّبَعَكُمَا الْغٰلِبُوْنَ }» [ القصص: ۳۵ ] ”ہم تیرے بھائی کے ساتھ تیرا بازو ضرور مضبوط کریں گے اور تم دونوں کے لیے غلبہ رکھیں گے، سو وہ تم تک نہیں پہنچیں گے، ہماری نشانیوں کے ساتھ تم دونوں اور جنھوں نے تمھاری پیروی کی، غالب آنے والے ہو۔“ زیر تفسیر مقام پر بھی اگر وہ اپنی اس دھمکی پر عمل کر چکا ہوتا تو اس کی قوم کے سرداروں کو اسے نئے سرے سے بھڑکانے کی کوئی ضرورت نہ تھی، جیسا کہ اگلی آیت میں آ رہا ہے۔ (واللہ اعلم بالصواب)
وَ قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ اَتَذَرُ مُوۡسٰی وَ قَوۡمَہٗ لِیُفۡسِدُوۡا فِی الۡاَرۡضِ وَ یَذَرَکَ وَ اٰلِہَتَکَ ؕ قَالَ سَنُقَتِّلُ اَبۡنَآءَہُمۡ وَ نَسۡتَحۡیٖ نِسَآءَہُمۡ ۚ وَ اِنَّا فَوۡقَہُمۡ قٰہِرُوۡنَ ﴿۱۲۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
فرعون سے اُس کی قوم کے سرداروں نے کہا "کیا تو موسیٰؑ اور اُس کی قوم کو یونہی چھوڑ دے گا کہ ملک میں فساد پھیلائیں اور وہ تیری اور تیرے معبودوں کی بندگی چھوڑ بیٹھے؟" فرعون نے جواب دیا "میں اُن کے بیٹوں کو قتل کراؤں گا اور اُن کی عورتوں کو جیتا رہنے دوں گا ہمارے اقتدار کی گرفت ان پر مضبوط ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور قوم فرعون کے سرداروں نے کہا کہ کیا آپ موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم کو یوں ہی رہنے دیں گے کہ وه ملک میں فساد کرتے پھریں، اور وه آپ کو اور آپ کے معبودوں کو ترک کئے رہیں۔ فرعون نے کہا کہ ہم ابھی ان لوگوں کے بیٹوں کو قتل کرنا شروع کر دیں گے اور عورتوں کو زنده رہنے دیں گے اور ہم کو ان پر ہر طرح کا زور ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور قوم فرعون کے سردار بولے کیا تو موسیٰ اور اس کی قوم کو اس لیے چھوڑ تا ہے کہ وہ زمین میں فساد پھیلائیں اور موسیٰ تجھے اور تیرے ٹھہرائے ہوئے معبودوں کو چھوڑدے بولا اب ہم ان کے بیٹوں کو قتل کریں گے اور ان کی بیٹیاں زندہ رکھیں گے اور ہم بیشک ان پر غالب ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
قومِ فرعون کے سرداروں نے کہا! تو موسیٰ اور اس کی قوم کے آدمیوں کو اس لئے چھوڑے رکھے گا کہ وہ ملک میں فساد پھیلاتے رہیں اور تمہیں اور تمہارے معبودوں کو چھوڑتے رہیں۔ اس (فرعون) نے (چین بجبین ہوکر) کہا ہم عنقریب ان کے لڑکوں کو قتل کریں گے اور ان کی عورتوں کو زندہ رہنے دیں گے اور ہم (پوری طرح) ان پر غالب ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور فرعون کی قوم کے سرداروں نے کہا کیا تو موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑے رکھے گا، تاکہ وہ زمین میں فساد پھیلائیں اور وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دے؟ اس نے کہا ہم ان کے بیٹوں کو بری طرح قتل کریں گے اور ان کی عورتوں کو زندہ رکھیں گے اور یقینا ہم ان پر قابو رکھنے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آخری حربہ بغاوت کا الزام ٭٭

فرعون اور فرعونیوں نے موسیٰ علیہ السلام اور مسلمانوں کے خلاف جو منصوبے سوچے گانٹھے، ان کا بیان ہو رہا ہے کہ ایک دوسرے کو ان مسلمانوں کے خلاف ابھارتے رہے۔ کہنے لگے: یہ تو آپ کی رعایا کو بہکاتے ہیں۔ بغاوت پھیلا دیں گے، ملک میں بد امنی پیدا کریں گے۔ ان کا ضرور اور جلد کوئی انتظام کرنا چاہیئے۔ اللہ کی شان دیکھئے! یہ کیسے مصلح بنے ہوئے ہیں کہ اللہ کے رسول اور مومنوں کے فساد سے دنیا کو بچانا چاہتے ہیں حالانکہ مفسد اور بد نفس خود ہیں۔ «وَيَذَرَكَ» میں بعض تو کہتے ہیں واؤ حالیہ ہے یعنی در آنحالیکہ موسیٰ علیہ السلام اور قوم موسیٰ نے تیری پرستش چھوڑ رکھی ہے، پھر بھی تو انہیں زندہ رہنے دیتا ہے؟ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی قرأت میں ہے: «وَقَدْ تَرَکُوْکَ اَنْ يَّعْبُدْوْکَ وَالِھَتَکَ» ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:26/6] ‏‏‏‏ اور قول ہے کہ واؤ عاطفہ ہے یعنی تو نے انہیں چھوڑ رکھا ہے۔ جس فساد کو یہ برپا کر رہے ہیں اور تیرے معبودوں کے چھوڑنے پر اکسا رہے ہیں۔ بعض کی قرأت «اِلَاھَتَکَ» ہے یعنی تیری عبادت سے۔ بعض کا بیان ہے کہ فرعون بھی کسی کو پوجا کرتا تھا۔ ایک قول ہے کہ اسے وہ پوشیدہ راز میں رکھتا تھا۔ ایک روایت میں ہے کہ اس کا بت اس کی گردن میں ہی لٹکتا رہتا تھا جسے یہ سجدہ کرتا تھا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ کسی بہترین گائے پر فرعون کی نگاہ پڑی جاتی تو لوگوں سے کہہ دیتا کہ اس کی پرستش کرو۔ اسی لیے سامری نے بھی بنی اسرائیل کے لیے بچھڑا نکالا۔

الغرض اپنے سرداروں کی بات سن کر فرعون جواب دیتا ہے کہ اب ان کے لیے ہم احکام جاری کریں گے کہ ان کے ہاں جو اولاد ہو، دیکھ لی جائے۔ اگر لڑکا ہو تو قتل کر دیا جائے، لڑکی ہو تو زندہ چھوڑ دی جائے۔ پہلے سرکش فرعون ان مساکین کے ساتھ یہی کر چکا تھا جبکہ اسے یہ منظور تھا کہ موسیٰ علیہ السلام پیدا ہی نہ ہوں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا ارادہ غالب آیا اور موسیٰ علیہ السلام باوجود اس کے حکم کے زندہ و سالم بچے رہے۔ اب دوبارہ اس نے یہی قانون جاری کیا تاکہ بنی اسرائیل کی جمعیت ٹوٹ جائے، یہ کمزور پڑ جائیں اور بالاخر ان کا نام مٹ جائے لیکن قدرت نے اس کا بھی خلاف کر دکھایا، اس کو اور اس کی قوم کو غارت کر دیا اور بنی اسرائیل کو اوج و ترقی پر پہنچا دیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے اس تکبر کے مقابلے میں تحمل اور اس کے ظلم کے مقابلے میں صبر سے کام لیا۔ اپنی قوم کو سمجھایا اور بتایا کہ اللہ فرما چکا ہے کہ انجام کے لحاظ سے تم ہی اچھے رہو گے۔ تم اللہ سے مدد چاہو اور صبر کرو۔ قوم والوں نے کہا: اے اللہ کے نبی علیہ السلام! آپ کی نبوت سے پہلے بھی ہم اسی طرح ستائے جاتے رہے، اسی ذلت و اہانت میں مبتلا رہے اور اب پھر یہی نوبت آئی ہے۔ آپ نے مزید تسلی دی اور فرمایا کہ گھبراؤ نہیں۔ یقین مانو کہ تمہارا بدخواہ ہلاک ہو گا اور تم کو اللہ تعالیٰ اوج پر پہنچائے گا۔ اس وقت وہ دیکھے گا کہ کون کتنا شکر بجا لاتا ہے؟ تکلیف کا ہٹ جانا، راحت کامل جانا انسان کو نہال نہال کر دیتا ہے۔ یہ پورے شکریئے کا وقت ہوتا ہے۔
127۔ 1 یہ ہر دور کے مفسدین کا شیوا رہا ہے کہ وہ اللہ والوں کو فسادی اور ان کی دعوت ایمان و توحید کو فساد سے تعبیر کرتے ہیں فرعون نے بھی یہی کہا۔ 127۔ 2 فرعون کو بھی اگرچہ دعویٰ ربوبیت تھا (اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى) 79۔ الزاریات:24) میں تمہارا بڑا رب ہوں وہ کہا کرتا تھا لیکن دوسرے چھوٹے چھوٹے معبود بھی تھے جن کے ذریعے سے لوگ فرعون کا تقرب حاصل کرتے تھے۔ 127۔ 3 ہمارے اس انتظام میں یہ رکاوٹ نہیں ڈال سکتے قتل انبیاء کا یہ پروگرام فرعونیوں کے کہنے پر بنایا گیا اس سے قبل بھی جب موسیٰ ؑ کی ولادت نہیں ہوئی تھی موسیٰ ؑ کے بعد از ولادت خاتمے کے لئے اس نے بنی اسرائیل کے نوملود بچوں کو قتل کرنا شروع کیا تھا، اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ؑ کی ولادت کے بعد ان کو بچانے کی یہ تدبیر کی کہ موسیٰ ؑ کو خود فرعون کے محل میں پہنچوا کر اس کی گود میں ان کی پرورش کروائی۔ (فَلِلّٰهِ الْمَكْرُ جَمِيْعًا) 13۔ الرعد:42)۔
(آیت 127) ➊ { وَ قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ …: } موسیٰ علیہ السلام کے معجزات کے غلبے اور جادوگروں کے ایمان لانے پر اگرچہ چند ہی نوجوانوں نے ایمان لانے کی جرأت کی اور وہ بھی فرعون اور اس کے سرداروں سے ڈرتے ہوئے۔ (دیکھیے یونس: ۸۳) تاہم فرعون کی بنی اسرائیل کے خلاف کارروائیاں کچھ کم ہو گئیں تو اس کے سرداروں نے اسے یہ کہہ کر بھڑکایا کہ کیا تو موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑے رکھے گا کہ وہ زمین میں فساد کریں، یعنی وہ تمھاری رعیت کو دعوت دیتے پھریں کہ وہ تمھارے اور تمھارے معبودوں کے بجائے اللہ واحد کی عبادت کریں اور ملک میں دعوتِ توحید سے فساد پھیلاتے پھریں۔ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”تعجب ہے کہ یہ لوگ موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کے فساد پھیلانے سے ڈر رہے ہیں، حالانکہ فساد پھیلانے والے تو وہ خود ہیں۔“ فرمایا: «{ اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا يَشْعُرُوْنَ }» [ البقرۃ: ۱۲ ] ”سن لو! یقینا وہی تو فساد ڈالنے والے ہیں اور لیکن وہ نہیں سمجھتے۔“ ➋ {وَ يَذَرَكَ وَ اٰلِهَتَكَ:آلِهَةٌ “} یہ {” اِلٰهٌ “} کی جمع ہے، جس کا معنی معبود ہے، یعنی وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑے رکھیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فرعون کے بھی کچھ معبود تھے جن کی وہ عبادت کرتا تھا۔ بعض صحابہ کی قراء ت میں {”اِلَاهَتَكَ“} ہے، {” اِلَاهَةٌ “} کا معنی عبادت ہے، یعنی وہ تجھے اور تیری عبادت کو چھوڑے رکھیں، یہ بھی اگرچہ درست ہے مگر مشہور قراءت پہلی ہی ہے۔ اس لیے اہل علم نے اس کی کئی توجیہات کی ہیں اور وہ سبھی ممکن ہیں۔ ایک توجیہ اس کی یہ ہے کہ وہ واقعی ربِ اعلیٰ ہونے کے اعلان کے باوجود خود کئی معبودوں کی پرستش کرتا تھا اور ان معبودوں کے تقدس کا عقیدہ اس کی قوم میں بھی موجود تھا، مثلاً گائے کی پرستش تو عام تھی، جس کے نتیجے میں ان سے میل جول اور ان کی محکومیت کی وجہ سے بنی اسرائیل میں بھی یہ عقیدہ در آیا تھا۔ جس کی دلیل آزاد ہونے کے بعد بھی گائے ذبح کرنے کے حکم پر ان کے بہانے اور موسیٰ علیہ السلام کے کوہِ طور پر جانے کے بعد سامری کا بچھڑا بنا کر قوم کو اس کی عبادت پر لگانا ہے۔ مصری تہذیب ہندوؤں سے ملتی جلتی تھی۔ مشرکانہ مذاہب میں عجیب پیچیدگی پائی جاتی ہے، عموماً ان کے ہاں اصل خدا کسی انسان میں اتر آتا ہے جو مسلمان صوفیا کے ہاں حلول کے نام سے معروف ہے۔ فرعون اپنے آپ کو ان تمام معبودوں کا نمائندہ قرار دے کر اپنے آپ کو ربِ اعلیٰ کہلاتا تھا اور اپنے سرداروں سے کہتا تھا: «{ مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرِيْ }» [ القصص: ۳۸ ] ”مجھے اپنے سوا تمھارا کوئی معبود معلوم نہیں۔“ یہ وہی بات ہے جو بعض مسلمانی کا دعویٰ کرنے والوں نے کہی ہے وہی جو مستوی عرش تھا خدا ہو کر اتر پڑا ہے مدینے میں مصطفی ہو کر مگر یہ لوگ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو اصلی خدا مان کر بھی بہت سے زندہ خداؤں، مثلاً مرشدوں اور مردہ خداؤں کی قبروں کی پرستش کرتے ہیں اور ان میں بھی اللہ کے ظہور کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ جب کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اس قسم کے تمام گندے عقیدوں سے بری ہیں۔ دوسری توجیہ یہ ہے کہ درحقیقت فرعون دہری تھا۔ کائنات کا کوئی بنانے والا مانتا ہی نہ تھا، اس کے نزدیک بادشاہ ہی معبود کا مقام رکھتا تھا کہ جو اس کے منہ سے نکلے وہی دین اور قانون ہے۔ اپنے سرداروں کے لیے یہ مقام وہ خود رکھتا تھا اور اس کے سردار اپنے اپنے علاقے کی رعایا کے لیے یہ مقام رکھتے تھے، چنانچہ اس نے اپنے بت بنوا کر لوگوں کے گھروں میں رکھے ہوئے تھے، جیسا کہ آج کل کے اکثر حکمران اپنی تصاویر اور مجسموں کے ذریعے سے لوگوں کے ذہنوں میں اپنی خدائی بٹھاتے ہیں، کمیونسٹ حکمران سٹالن، لینن اور ماؤزے تنگ بھی خدا کے منکر ہونے کے باوجود لوگوں کے دماغوں میں اپنی خدائی کا تاثر پیدا کرنے کی کوشش کرتے رہتے تھے۔ جمہوری حکمران بھی اس کوشش میں حتی الوسع کمی نہیں کرتے، اگرچہ وہ نام عوام کا استعمال کرتے ہیں۔ تیسری توجیہ یہ ہے کہ حاکمیت میں وہ اپنے سوا کسی کو معبود نہیں مانتا تھا، البتہ غیبی مدد کرنے والے کچھ معبود اس نے بھی رکھے ہوئے تھے، جس طرح آج کل بعض حکمران قانون اپنا چلاتے ہیں مگر غیبی مدد حاصل کرنے کے لیے کئی ہستیوں کی نیاز دیتے رہتے ہیں۔ چنانچہ وہ کعبہ کی طرح پختہ قبروں کو عرق گلاب سے غسل دیتے اور بزرگوں کو کرنی والا سمجھتے ہیں اور کچھ کچھ اللہ کو بھی مان لیتے ہیں، مگر کیا مجال کہ اس کا کوئی قانون عمل میں لائیں یا لانے دیں۔ ➌ { قَالَ سَنُقَتِّلُ اَبْنَآءَهُمْ …:} یعنی ہم جو ظلم و ستم موسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش سے پہلے بنی اسرائیل پر کرتے تھے اس کا سلسلہ پھر سے شروع کریں گے، اس طرح یہ تباہ ہو جائیں گے اور ان کا تخم تک باقی نہیں رہے گا۔ ان کے مرد مارے جائیں گے اور صرف عورتیں بچیں گی، وہ کیا کر سکیں گی، ان کو ہم لونڈیاں بنا کر اپنے گھروں میں رکھیں گے۔ ابھی تک اس کی جرأت نہ کرنے کے لیے اس نے یہ حیلہ تراشا کہ ایسی کیا جلدی ہے، ہم ان پر پوری طرح قابو رکھتے ہیں، جب چاہیں گے ایسا کر لیں گے۔
قَالَ مُوۡسٰی لِقَوۡمِہِ اسۡتَعِیۡنُوۡا بِاللّٰہِ وَ اصۡبِرُوۡا ۚ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰہِ ۟ۙ یُوۡرِثُہَا مَنۡ یَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِہٖ ؕ وَ الۡعَاقِبَۃُ لِلۡمُتَّقِیۡنَ ﴿۱۲۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
موسیٰؑ نے اپنی قوم سے کہا "اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو، زمین اللہ کی ہے، اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اس کا وارث بنا دیتا ہے، اور آخری کامیابی انہی کے لیے جو اس سے ڈرتے ہوئے کام کریں"
مولانا محمد جوناگڑھی
موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا اللہ تعالیٰ کا سہارا حاصل کرو اور صبر کرو، یہ زمین اللہ تعالیٰ کی ہے، اپنے بندوں میں سے جس کو چاہے وه مالک بنا دے اور اخیر کامیابی ان ہی کی ہوتی ہے جو اللہ سے ڈرتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
موسیٰ نے اپنی قوم سے فرمایا اللہ کی مدد چاہو اور صبر کرو بیشک زمین کا مالک اللہ ہے اپنے بندوں میں جسے چاہے وارث بنائے اور آخر میدان پرہیزگاروں کے ہاتھ ہے
علامہ محمد حسین نجفی
موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا! تم اللہ سے مدد طلب کرو۔ اور صبر و تحمل سے کام لو بے شک زمین اللہ کی ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے اس کا وارث بنا دیتا ہے اور اچھا انجام تو پرہیزگاروں کا ہی ہے۔
عبدالسلام بن محمد
موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو، بے شک زمین اللہ کی ہے، وہ اس کا وارث اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے بناتا ہے اور اچھا انجام متقی لوگوں کے لیے ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آخری حربہ بغاوت کا الزام ٭٭

فرعون اور فرعونیوں نے موسیٰ علیہ السلام اور مسلمانوں کے خلاف جو منصوبے سوچے گانٹھے، ان کا بیان ہو رہا ہے کہ ایک دوسرے کو ان مسلمانوں کے خلاف ابھارتے رہے۔ کہنے لگے: یہ تو آپ کی رعایا کو بہکاتے ہیں۔ بغاوت پھیلا دیں گے، ملک میں بد امنی پیدا کریں گے۔ ان کا ضرور اور جلد کوئی انتظام کرنا چاہیئے۔ اللہ کی شان دیکھئے! یہ کیسے مصلح بنے ہوئے ہیں کہ اللہ کے رسول اور مومنوں کے فساد سے دنیا کو بچانا چاہتے ہیں حالانکہ مفسد اور بد نفس خود ہیں۔ «وَيَذَرَكَ» میں بعض تو کہتے ہیں واؤ حالیہ ہے یعنی در آنحالیکہ موسیٰ علیہ السلام اور قوم موسیٰ نے تیری پرستش چھوڑ رکھی ہے، پھر بھی تو انہیں زندہ رہنے دیتا ہے؟ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی قرأت میں ہے: «وَقَدْ تَرَکُوْکَ اَنْ يَّعْبُدْوْکَ وَالِھَتَکَ» ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:26/6] ‏‏‏‏ اور قول ہے کہ واؤ عاطفہ ہے یعنی تو نے انہیں چھوڑ رکھا ہے۔ جس فساد کو یہ برپا کر رہے ہیں اور تیرے معبودوں کے چھوڑنے پر اکسا رہے ہیں۔ بعض کی قرأت «اِلَاھَتَکَ» ہے یعنی تیری عبادت سے۔ بعض کا بیان ہے کہ فرعون بھی کسی کو پوجا کرتا تھا۔ ایک قول ہے کہ اسے وہ پوشیدہ راز میں رکھتا تھا۔ ایک روایت میں ہے کہ اس کا بت اس کی گردن میں ہی لٹکتا رہتا تھا جسے یہ سجدہ کرتا تھا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ کسی بہترین گائے پر فرعون کی نگاہ پڑی جاتی تو لوگوں سے کہہ دیتا کہ اس کی پرستش کرو۔ اسی لیے سامری نے بھی بنی اسرائیل کے لیے بچھڑا نکالا۔

الغرض اپنے سرداروں کی بات سن کر فرعون جواب دیتا ہے کہ اب ان کے لیے ہم احکام جاری کریں گے کہ ان کے ہاں جو اولاد ہو، دیکھ لی جائے۔ اگر لڑکا ہو تو قتل کر دیا جائے، لڑکی ہو تو زندہ چھوڑ دی جائے۔ پہلے سرکش فرعون ان مساکین کے ساتھ یہی کر چکا تھا جبکہ اسے یہ منظور تھا کہ موسیٰ علیہ السلام پیدا ہی نہ ہوں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا ارادہ غالب آیا اور موسیٰ علیہ السلام باوجود اس کے حکم کے زندہ و سالم بچے رہے۔ اب دوبارہ اس نے یہی قانون جاری کیا تاکہ بنی اسرائیل کی جمعیت ٹوٹ جائے، یہ کمزور پڑ جائیں اور بالاخر ان کا نام مٹ جائے لیکن قدرت نے اس کا بھی خلاف کر دکھایا، اس کو اور اس کی قوم کو غارت کر دیا اور بنی اسرائیل کو اوج و ترقی پر پہنچا دیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے اس تکبر کے مقابلے میں تحمل اور اس کے ظلم کے مقابلے میں صبر سے کام لیا۔ اپنی قوم کو سمجھایا اور بتایا کہ اللہ فرما چکا ہے کہ انجام کے لحاظ سے تم ہی اچھے رہو گے۔ تم اللہ سے مدد چاہو اور صبر کرو۔ قوم والوں نے کہا: اے اللہ کے نبی علیہ السلام! آپ کی نبوت سے پہلے بھی ہم اسی طرح ستائے جاتے رہے، اسی ذلت و اہانت میں مبتلا رہے اور اب پھر یہی نوبت آئی ہے۔ آپ نے مزید تسلی دی اور فرمایا کہ گھبراؤ نہیں۔ یقین مانو کہ تمہارا بدخواہ ہلاک ہو گا اور تم کو اللہ تعالیٰ اوج پر پہنچائے گا۔ اس وقت وہ دیکھے گا کہ کون کتنا شکر بجا لاتا ہے؟ تکلیف کا ہٹ جانا، راحت کامل جانا انسان کو نہال نہال کر دیتا ہے۔ یہ پورے شکریئے کا وقت ہوتا ہے۔
128۔ 1 جب فرعون کی طرف سے دوبارہ اس ظلم کا آغاز ہوا تو حضرت موسیٰ ؑ نے اپنی قوم کو اللہ سے مدد حاصل کرنے اور صبر کرنے کی تلقین کی اور تسلی دی کہ اگر تم صحیح رہے تو زمین کا اقتدار بالآخر تمہیں ہی ملے گا
(آیت 128) ➊ { قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اسْتَعِيْنُوْا بِاللّٰهِ …:} فرعون کی دھمکیوں پر موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو تسلی دینا ضروری سمجھا، چنانچہ انھیں اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنے اور صبر کرنے کی تلقین فرمائی، جس پر انھوں نے ظالموں سے پناہ کی وہ دعا لازم کر لی جو اللہ تعالیٰ نے سورۂ یونس میں ذکر فرمائی ہے: «{ رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ (85) وَ نَجِّنَا بِرَحْمَتِكَ مِنَ الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ }» [ یونس: ۸۵، ۸۶ ] موسیٰ علیہ السلام نے انھیں تسلی دیتے ہوئے یہ خوش خبری بھی سنائی کہ آج اگر مصر پر فرعون حکمران ہے تو کل اللہ تعالیٰ تمھیں اس کی سرزمین کا وارث، یعنی حکمران بنا سکتا ہے۔ ➋ {وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِيْنَ:عَاقِبَةٌ “} کا لفظی معنی تو انجام ہے جو اچھا بھی ہو سکتا ہے اور برا بھی، جیسا کہ فرمایا: «{ فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِيْنَ }» [ القصص: ۴۰ ] ”سو دیکھو ظالموں کا انجام کیسا تھا۔“ مگر جب اس پر ”الف لام“ آ جائے تو اس کا معنی اچھا انجام ہی ہوتا ہے۔
قَالُوۡۤا اُوۡذِیۡنَا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَاۡتِیَنَا وَ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جِئۡتَنَا ؕ قَالَ عَسٰی رَبُّکُمۡ اَنۡ یُّہۡلِکَ عَدُوَّکُمۡ وَ یَسۡتَخۡلِفَکُمۡ فِی الۡاَرۡضِ فَیَنۡظُرَ کَیۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۲۹﴾٪
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اس کی قوم کے لوگوں نے کہا "تیرے آنے سے پہلے بھی ہم ستائے جاتے تھے اور اب تیرے آنے پر بھی ستائے جا رہے ہیں" اس نے جواب دیا "قریب ہے وہ وقت کہ تمہارا رب تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنائے، پھر دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو"
مولانا محمد جوناگڑھی
قوم کے لوگ کہنے لگے کہ ہم تو ہمیشہ مصیبت ہی میں رہے، آپ کی تشریف آوری سے قبل بھی اور آپ کی تشریف آوری کے بعد بھی۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ بہت جلد اللہ تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے گا اور بجائے ان کے تم کو اس سرزمین کا خلیفہ بنا دے گا پھر تمہارا طرز عمل دیکھے گا
احمد رضا خان بریلوی
بولے ہم ستائے گئے آپ کے آنے سے پہلے اور آپ کے تشریف لانے کے بعد کہا قریب ہے کہ تمہارا رب تمہارے دشمن کو ہلاک کرے اور اس کی جگہ زمین کا مالک تمہیں بنائے پھر دیکھے کیسے کام کرتے ہو
علامہ محمد حسین نجفی
ان لوگوں (بنی اسرائیل) نے کہا ہم آپ کے آنے سے پہلے بھی ستائے جاتے رہے اور آپ کے آنے کے بعد بھی۔ انہوں نے کہا! عنقریب تمہارا پروردگار تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے گا اور تمہیں زمین میں (ان کا) جانشین بنائے گا (تمہیں اقتدار عطا فرمائے گا) تاکہ دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو؟
عبدالسلام بن محمد
انھوں نے کہا ہمیں اس سے پہلے ایذا دی گئی کہ تو ہمارے پاس آئے اور اس کے بعد بھی کہ تو ہمارے پاس آیا۔ اس نے کہا تمھارا رب قریب ہے کہ تمھارے دشمن کو ہلاک کر دے اور تمھیں زمین میں جانشین بنا دے، پھر دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آخری حربہ بغاوت کا الزام ٭٭

فرعون اور فرعونیوں نے موسیٰ علیہ السلام اور مسلمانوں کے خلاف جو منصوبے سوچے گانٹھے، ان کا بیان ہو رہا ہے کہ ایک دوسرے کو ان مسلمانوں کے خلاف ابھارتے رہے۔ کہنے لگے: یہ تو آپ کی رعایا کو بہکاتے ہیں۔ بغاوت پھیلا دیں گے، ملک میں بد امنی پیدا کریں گے۔ ان کا ضرور اور جلد کوئی انتظام کرنا چاہیئے۔ اللہ کی شان دیکھئے! یہ کیسے مصلح بنے ہوئے ہیں کہ اللہ کے رسول اور مومنوں کے فساد سے دنیا کو بچانا چاہتے ہیں حالانکہ مفسد اور بد نفس خود ہیں۔ «وَيَذَرَكَ» میں بعض تو کہتے ہیں واؤ حالیہ ہے یعنی در آنحالیکہ موسیٰ علیہ السلام اور قوم موسیٰ نے تیری پرستش چھوڑ رکھی ہے، پھر بھی تو انہیں زندہ رہنے دیتا ہے؟ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی قرأت میں ہے: «وَقَدْ تَرَکُوْکَ اَنْ يَّعْبُدْوْکَ وَالِھَتَکَ» ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:26/6] ‏‏‏‏ اور قول ہے کہ واؤ عاطفہ ہے یعنی تو نے انہیں چھوڑ رکھا ہے۔ جس فساد کو یہ برپا کر رہے ہیں اور تیرے معبودوں کے چھوڑنے پر اکسا رہے ہیں۔ بعض کی قرأت «اِلَاھَتَکَ» ہے یعنی تیری عبادت سے۔ بعض کا بیان ہے کہ فرعون بھی کسی کو پوجا کرتا تھا۔ ایک قول ہے کہ اسے وہ پوشیدہ راز میں رکھتا تھا۔ ایک روایت میں ہے کہ اس کا بت اس کی گردن میں ہی لٹکتا رہتا تھا جسے یہ سجدہ کرتا تھا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ کسی بہترین گائے پر فرعون کی نگاہ پڑی جاتی تو لوگوں سے کہہ دیتا کہ اس کی پرستش کرو۔ اسی لیے سامری نے بھی بنی اسرائیل کے لیے بچھڑا نکالا۔

الغرض اپنے سرداروں کی بات سن کر فرعون جواب دیتا ہے کہ اب ان کے لیے ہم احکام جاری کریں گے کہ ان کے ہاں جو اولاد ہو، دیکھ لی جائے۔ اگر لڑکا ہو تو قتل کر دیا جائے، لڑکی ہو تو زندہ چھوڑ دی جائے۔ پہلے سرکش فرعون ان مساکین کے ساتھ یہی کر چکا تھا جبکہ اسے یہ منظور تھا کہ موسیٰ علیہ السلام پیدا ہی نہ ہوں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا ارادہ غالب آیا اور موسیٰ علیہ السلام باوجود اس کے حکم کے زندہ و سالم بچے رہے۔ اب دوبارہ اس نے یہی قانون جاری کیا تاکہ بنی اسرائیل کی جمعیت ٹوٹ جائے، یہ کمزور پڑ جائیں اور بالاخر ان کا نام مٹ جائے لیکن قدرت نے اس کا بھی خلاف کر دکھایا، اس کو اور اس کی قوم کو غارت کر دیا اور بنی اسرائیل کو اوج و ترقی پر پہنچا دیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے اس تکبر کے مقابلے میں تحمل اور اس کے ظلم کے مقابلے میں صبر سے کام لیا۔ اپنی قوم کو سمجھایا اور بتایا کہ اللہ فرما چکا ہے کہ انجام کے لحاظ سے تم ہی اچھے رہو گے۔ تم اللہ سے مدد چاہو اور صبر کرو۔ قوم والوں نے کہا: اے اللہ کے نبی علیہ السلام! آپ کی نبوت سے پہلے بھی ہم اسی طرح ستائے جاتے رہے، اسی ذلت و اہانت میں مبتلا رہے اور اب پھر یہی نوبت آئی ہے۔ آپ نے مزید تسلی دی اور فرمایا کہ گھبراؤ نہیں۔ یقین مانو کہ تمہارا بدخواہ ہلاک ہو گا اور تم کو اللہ تعالیٰ اوج پر پہنچائے گا۔ اس وقت وہ دیکھے گا کہ کون کتنا شکر بجا لاتا ہے؟ تکلیف کا ہٹ جانا، راحت کامل جانا انسان کو نہال نہال کر دیتا ہے۔ یہ پورے شکریئے کا وقت ہوتا ہے۔
129۔ 1 یہ اشارہ ہے ان مظالم کی طرف جو ولادت موسیٰ ؑ سے قبل ان پر ہوتے رہے۔ 129۔ 2 جادوگروں کے واقعہ کے بعد ظلم و ستم کا یہ نیا دور جو موسیٰ ؑ کے آنے کے بعد شروع ہوا۔ 129۔ 3 حضرت موسیٰ ؑ نے تسلی دی کہ گھبراؤ نہیں بہت جلد اللہ تمہارے دشمن کو ہلاک کردے گا، زمین میں تمہیں اقتدار عطا فرمائے گا پھر تمہاری آزمائش کا نیا دور شروع ہوگا۔ ابھی تو تکلیفوں کے ذریعے سے آزمائے جا رہے ہو، پھر انعام و اکرام کی بارش کرکے اور اختیار اور اقتدار سے بہرہ مند کرکے تمہیں آزمایا جائے گا۔
(آیت 129) ➊ {قَالُوْا اُوْذِيْنَا مِنْ قَبْلِ …: } پہلے بھی ہمارے بچوں کو قتل کیا جاتا رہا ہے، ہم سے مشقت کے کام لیے جاتے رہے ہیں اور ہماری آزادی سلب رہی ہے، اب آپ کے آنے کے بعد بھی وہی غلامی اور مشقت ہے اور دوبارہ بچوں کے قتل کے فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ ➋ { فَيَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُوْنَ:} موسیٰ علیہ السلام نے بشارت دی کہ عن قریب تمھارا پروردگار تمھارے دشمن کو ہلاک کرکے تمھیں آزادی اور حکومت دینے والا ہے اور دیکھنے والا ہے کہ تم اس کا شکر کرتے اور احکام بجا لاتے ہو یا تم بھی ناشکری اور نافرمانی کرنے لگتے ہو؟معلوم ہوا کہ آزادی اور حکومت اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ کفار کی غلامی پر راضی رہنا مسلمان کو زیب نہیں دیتا۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”یہ کلام نقل فرمایا مسلمانوں کے سنانے کو، یہ سورت مکی ہے، اس وقت مسلمان بھی ایسے ہی مظلوم تھے، پھر بشارت پہنچی پردے میں۔“ (موضح)
وَ لَقَدۡ اَخَذۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ بِالسِّنِیۡنَ وَ نَقۡصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّہُمۡ یَذَّکَّرُوۡنَ ﴿۱۳۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہم نے فرعون کے لوگوں کو کئی سال تک قحط اور پیداوار کی کمی میں مبتلا رکھا کہ شاید ان کو ہوش آئے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہم نے فرعون والوں کو مبتلا کیا قحط سالی میں اور پھلوں کی کم پیداواری میں، تاکہ وه نصیحت قبول کریں
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک ہم نے فرعون والوں کو برسوں کے قحط اور پھلوں کے گھٹانے سے پکڑا کہ کہیں وہ نصیحت مانیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے فرعونیوں کو قحط اور پھلوں کی پیداوار کی کمی میں گرفتار کیا کہ شاید وہ نصیحت حاصل کریں۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ یقینا ہم نے فرعون کی آل کو قحط سالیوں اور پھلوں کی کمی کے ساتھ پکڑا، تاکہ وہ نصیحت پکڑیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اعمال کا خمیازہ ٭٭

اب آل فرعون پر بھی سختی کے مواقع آئے تاکہ ان کی آنکھیں کھلیں اور اللہ کے دین کی طرف جھکیں۔ کھیتیاں کم آئیں، قحط سالیاں پڑ گئیں، درختوں میں پھل کم لگے یہاں تک کہ ایک درخت میں ایک ہی کھجور لگی۔ یہ صرف بطور آزمائش تھا کہ وہ اب بھی ٹھیک ہو جائیں۔ لیکن ان عقل کے اندھوں کو راستی سے دشمنی ہو گئی۔ شادابی اور فراخی دیکھ کر تو اکڑ کر کہتے کہ یہ ہماری وجہ سے ہے اور خشک سالی اور تنگی دیکھ کر آواز لگاتے کہ یہ موسیٰ علیہ السلام اور مومنوں کی وجہ سے ہے۔ غلط خیال تھا۔ جب کہ مصیبتیں اور راحتیں اللہ کی جانب سے ہیں لیکن بےعملی کی باتیں بناتے رہے۔ ان کی بدشگونی ان کے بد اعمال تھے جو اللہ کی طرف سے ان پر مصیبتیں لاتے تھے۔
130۔ 1 آل فرعون سے مراد فرعون کی قوم ہے۔ اور سنین سے قحط سالی۔ یعنی بارش کے فقدان اور درختوں میں کیڑے وغیرہ لگ جانے سے پیداوار میں کمی۔ مقصد آزمائش سے یہ تھا کہ اس ظلم اور استکبار سے باز آجائیں جس میں وہ مبتلا تھے۔
(آیت 130){ وَ لَقَدْ اَخَذْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ …:} اوپر کی آیت میں جب موسیٰ علیہ السلام کی زبان سے یہ وعدہ فرمایا کہ وہ وقت قریب ہے کہ تمھارا مالک تمھارے دشمن کو تباہ کر دے، تو اب یہاں سے ان تکلیفوں اور مصیبتوں کا بیان شروع کیا جن میں وقتاً فوقتاً آل فرعون کو مبتلا کیا گیا، حتیٰ کہ آخر کار تباہ کر دیے گئے، تاکہ ان مشرکین کو کفر پر کچھ تنبیہ ہو اور انھیں خبردار کیا جائے کہ پیغمبروں کے جھٹلانے کا انجام تباہی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ آخر میں فرمایا کہ یہ تکالیف اور مصیبتیں ان پر اس لیے بھیجیں کہ نصیحت حاصل کریں اور اپنی سرکشی سے باز آ جائیں، کیونکہ مصیبت کے وقت دل نرم اور اللہ کی طرف رجوع ہوتا ہے۔
فَاِذَا جَآءَتۡہُمُ الۡحَسَنَۃُ قَالُوۡا لَنَا ہٰذِہٖ ۚ وَ اِنۡ تُصِبۡہُمۡ سَیِّئَۃٌ یَّطَّیَّرُوۡا بِمُوۡسٰی وَ مَنۡ مَّعَہٗ ؕ اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓئِرُہُمۡ عِنۡدَ اللّٰہِ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۳۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
مگر اُن کا حال یہ تھا کہ جب اچھا زمانہ آتا تو کہتے کہ ہم اِسی کے مستحق ہیں، اور جب برا زمانہ آتا تو موسیٰؑ اور اس کے ساتھیوں کو اپنے لیے فال بد ٹھیراتے، حالانکہ در حقیقت ان کی فال بد تو اللہ کے پاس تھی، مگر ان میں سے اکثر بے علم تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
سو جب ان پر خوشحالی آجاتی تو کہتے کہ یہ تو ہمارے لیے ہونا ہی چاہئے اور اگر ان کو کوئی بدحالی پیش آتی تو موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کی نحوست بتلاتے۔ یاد رکھو کہ ان کی نحوست اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے
احمد رضا خان بریلوی
تو جب انہیں بھلائی ملتی کہتے یہ ہمارے لیے ہے اور جب برائی پہنچتی تو موسیٰ اور اس کے ساتھ والوں سے بدشگونی لیتے سن لو ان کے نصیبہ کی شامت تو اللہ کے یہاں ہے لیکن ان میں اکثر کو خبر نہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
(مگر ان کی حالت یہ تھی کہ) جب خوش حالی آتی تو کہتے کہ یہ تو ہمارا حق ہے اور جب بدحالی آتی تو اسے موسیٰ اور ان کے ساتھیوں کی نحوست اور فالِ بد قرار دیتے۔ حالانکہ ان کی نحوست اور بدشگونی خدا کے ہاں ہے لیکن اکثر لوگ (یہ حقیقت) جانتے نہیں ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
تو جب ان پر خوش حالی آتی تو کہتے یہ تو ہمارے ہی لیے ہے اور اگر انھیں کوئی تکلیف پہنچتی تو موسیٰ اور اس کے ساتھ والوں کے ساتھ نحوست پکڑتے۔ سن لو ! ان کی نحوست تو اللہ ہی کے پاس ہے اور لیکن ان کے اکثر نہیں جانتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اعمال کا خمیازہ ٭٭

اب آل فرعون پر بھی سختی کے مواقع آئے تاکہ ان کی آنکھیں کھلیں اور اللہ کے دین کی طرف جھکیں۔ کھیتیاں کم آئیں، قحط سالیاں پڑ گئیں، درختوں میں پھل کم لگے یہاں تک کہ ایک درخت میں ایک ہی کھجور لگی۔ یہ صرف بطور آزمائش تھا کہ وہ اب بھی ٹھیک ہو جائیں۔ لیکن ان عقل کے اندھوں کو راستی سے دشمنی ہو گئی۔ شادابی اور فراخی دیکھ کر تو اکڑ کر کہتے کہ یہ ہماری وجہ سے ہے اور خشک سالی اور تنگی دیکھ کر آواز لگاتے کہ یہ موسیٰ علیہ السلام اور مومنوں کی وجہ سے ہے۔ غلط خیال تھا۔ جب کہ مصیبتیں اور راحتیں اللہ کی جانب سے ہیں لیکن بےعملی کی باتیں بناتے رہے۔ ان کی بدشگونی ان کے بد اعمال تھے جو اللہ کی طرف سے ان پر مصیبتیں لاتے تھے۔
131۔ 1 حَسَنَةُ (بھلائی) سے مراد غلے اور پھلوں کی فروانی سَيِّئَةٌ (برائی) سے اس کے برعکس اور قحط سالی اور پیداوار میں کمی۔ بھلائی کا سارا کریڈٹ خود لے لیتے کہ یہ ہماری محنت کا ثمر ہے اور بدحالی کا سبب حضرت موسیٰ ؑ اور اس پر ایمان لانے والوں کو قرار دیتے کہ یہ تم لوگوں کی نحوست کے اثرات ہمارے ملک پر پڑ رہے ہیں۔ 131۔ 2 طَائِرُ کی معنی اڑنے والا یعنی پرندہ۔ چونکہ پرندے کے بائیں یا دائیں اڑنے سے وہ لوگ نیک فالی یا بدفالی لیا کرتے تھے۔ اس لیے یہ لفظ مطلق فال کے لیے بھی استعمال ہونے لگ گیا اور اسی معنی میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا خیر یا شر، جو خوش حالی یا قحط سالی کی وجہ سے انہیں پہنچتا ہے اس کے اسباب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں موسیٰ ؑ اور ان کے پیروکاروں اس کا سبب نہیں۔ (ۭاَلَآ اِنَّمَا طٰۗىِٕرُهُمْ عِنْدَ اللّٰهِ) 7۔ الاعراف:131) کا مطلب ہوگا کہ ان کی بد شگونی کا سبب اللہ کے علم میں ہے اور وہ ان کا کفر و انکار ہے نہ کہ کچھ اور۔ یا اللہ کی طرف سے ہے اور اس کی وجہ ان کا کفر ہے۔
(آیت 131) ➊ { فَاِذَا جَآءَتْهُمُ الْحَسَنَةُ …:} جیسا کہ آیت (۹۴، ۹۵) میں ذکر فرمایا تھا کہ ہر قوم کی آزمائش تنگی اور تکلیف کے علاوہ خوش حالی اور آسودگی کے ساتھ بھی ہوئی، اس کے مطابق فرعون کی قوم پر سختی اور مصیبت کے بعد راحت اور خوش حالی آتی تو بجائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ کا احسان سمجھ کر شکر گزاری کریں، وہ {” لَنَا هٰذِهٖ “} کہتے، یعنی یہ ہمارے حسن انتظام کا نتیجہ اور ہمارا حق ہے۔ ➋ {وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ يَّطَّيَّرُوْا بِمُوْسٰى …: ” يَطَّيَّرُوْا”تَطَيَّرَ يَتَطَيَّرُ“} باب تفعل سے ہے جس کا مادہ{ ” طَيْرٌ “} (پرندہ) ہے۔ اصل میں{ ”يَتَطَيَّرُوْا “ } تھا، تاء کا طاء میں ادغام کر دیا ہے۔ مشرکین کا طریقہ تھا کہ فال لینے کے لیے کسی پرندے کو اڑاتے، اگر وہ اڑ کر دائیں طرف جاتا تو اسے نیک فال اور باعث برکت سمجھتے اور اگر بائیں طرف جاتا تو بدفال اور باعث نحوست سمجھتے، یہاں تمام مفسرین کے نزدیک {” تَطَيَّرَ“} کا معنی فالِ بد اور نحوست ہے، یعنی اپنی مصیبتوں کا باعث موسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کی نحوست کو قرار دیتے۔ ➌ {اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىِٕرُهُمْ عِنْدَ اللّٰهِ …:} یعنی اس نحوست کا اصل سبب تو اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے اور خیر و شر جو کچھ ان کو پہنچ رہا ہے تمام کا تمام اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر سے ہے جو ان کے اعمال کے سبب ان کے حق میں لکھا جا چکا ہے، یہ سراسر جہالت ہے کہ بھلائی کو اپنی خوبی اور برائی کو کسی دوسرے کی نحوست قرار دیاجائے۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”یعنی شومی قسمت بد ہے، سو اللہ کی تقدیر سے ہے، برائی اور بھلائی کا اثر آخرت میں ہو گا، اس کا جواب یہاں یہ نہیں فرمایا کہ شومی ان کے کفر سے تھی، کیونکہ کافر بھی دنیا میں عیش کرتے ہیں۔ اصل حقیقت (جو) تھی سو فرمائی کہ دنیا کے احوال موقوف بہ تقدیر ہیں۔“ (موضح) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بدشگونی شرک ہے، بدشگونی شرک ہے“ تین دفعہ فرمایا ”اور ہم میں سے ہر ایک کو (کوئی نہ کوئی وہم ہو جاتا ہے) مگر اللہ تعالیٰ اسے توکل کی برکت سے دور کر دیتا ہے۔“ [ أبوداؤد، الطب، باب فی الطیرۃ: ۳۹۱۰۔ ترمذی: ۱۶۱۴ ]
وَ قَالُوۡا مَہۡمَا تَاۡتِنَا بِہٖ مِنۡ اٰیَۃٍ لِّتَسۡحَرَنَا بِہَا ۙ فَمَا نَحۡنُ لَکَ بِمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۳۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
انہوں نے موسیٰؑ سے کہا کہ "تو ہمیں مسحور کرنے کے لیے خواہ کوئی نشانی لے آئے، ہم تو تیری بات ماننے والے نہیں ہیں"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور یوں کہتے کیسی ہی بات ہمارے سامنے لاؤ کہ ان کے ذریعہ سے ہم پر جادو چلاؤ جب بھی ہم تمہاری بات ہر گز نہ مانیں گے
احمد رضا خان بریلوی
اور بولے تم کیسی بھی نشانی لے کر ہمارے پاس آؤ کہ ہم پر اس سے جادو کرو ہم کسی طرح تم پر ایمان لانے والے نہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور انہوں نے (موسیٰ سے) کہا تم جو بھی نشانی (معجزہ) ہمارے سامنے لے آؤ اور اس سے ہمیں مسحور کرنا چاہو ہم پھر بھی ایمان نہیں لائیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اور انھوں نے کہا تو ہمارے پاس جو نشانی بھی لے آئے، تاکہ ہم پر اس کے ساتھ جادو کرے تو ہم تیری بات ہرگز ماننے والے نہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سیاہ دل لوگ اقرار کے بعد انکار کرتے رہے ٭٭

ان کی سرکشی اور ضد دیکھئیے کہ موسیٰ علیہ السلام سے صاف کہتے ہیں کہ آپ خواہ کتنی ہی دلیلیں پیش کریں، کیسے ہی معجزے بتائیں، ہم ایمان لانے والے نہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ سب آپ کے جادو کے کرشمے ہیں۔ ان پر طوفان آیا، بکثرت بارشیں برسیں جس سے پھل اور اناج تباہ ہو گئے اور اسی سے وبا اور طاعون کی بیماری پھیل پڑی۔ اسی لیے بعض مفسرین نے کہا ہے: ”طوفان سے مراد موت ہے۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:15005] ‏‏‏‏ بعض کہتے ہیں: کوئی زبردست آسمانی آفت آئی تھی جس نے انہیں گھیر لیا تھا۔ ٹڈیوں کی مصیبت ان پر آئی۔ یہ ایک حلال جانور ہے۔ { سیدنا عبداللہ بن ابی اونی رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا تو آپ نے فرمایا: سات غزوے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کئے ہیں۔ ہر ایک میں ہم تو ٹڈیاں کھاتے رہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:5495] ‏‏‏‏ مسند احمد اور ابن ماجہ میں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: { دو مردے اور دو خون ہمارے لیے حلال ہیں، مچھلی اور ٹڈی اور کلیجی اور تلی۔ } ۱؎ [سنن ابن ماجه:3314،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ابوداؤد میں ہے: { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ٹڈی کی نسبت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا: اللہ کے لشکر بہت سے ہیں جنہیں نہ میں کھاتا ہوں، نہ حرام کہتا ہوں۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:3813،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جی نہ چاہنے کی وجہ سے اسے چھوڑ دیا جیسے گوہ آپ نے نہیں کھایا حالانکہ دوسروں کو اس کے کھانے کی اجازت مرحمت فرمائی۔ حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ نے ایک مستقل رسالہ اسی میں تصنیف فرمایا ہے۔ اس میں ایک روایت یہ بھی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ٹڈی نہیں کھاتے تھے اور نہ گردے کھاتے تھے اور نہ گوہ۔

{ لیکن انہیں آپ نے حرام نہیں کیا۔ ٹڈی اس وجہ سے کہ وہ عذاب ہے، گردے اس وجہ سے کہ یہ پیشاب کے قریب ہیں اور گوہ اس وجہ سے کہ آپ کو خوف تھا کہ کہیں یہ مسخ شدہ امت نہ ہو۔ } ۱؎ [ضعیف الجامع الصغیر:3392] ‏‏‏‏ پھر یہ روایت بھی غریب ہے، صرف یہی ایک سند ہے۔ { امیر المؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ٹڈی کو بڑی رغبت سے کھایا کرتے، تلاش کر کے منگوایا کرتے۔ چنانچہ کسی نے آپ سے مسئلہ پوچھا کہ ٹڈی کھائی جائے؟ آپ نے فرمایا کہ کاش کہ ایک دو لپیں مل جاتیں تو کیسے مزے سے کھاتے۔ } ۱؎ [موطا:30:صحیح] ‏‏‏‏ ابن ماجہ میں ہے کہ { امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن تو طباقوں میں لگا کر ٹڈیاں ہدیے اور تحفے کے طور پر بھیجتی تھیں۔ } ۱؎ [سنن ابن ماجه:3220، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ امام بغوی ایک روایت لائے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { مریم بنت عمران علیہا السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ ایسا گوشت مجھے کھلا جس میں خون نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ٹڈی کھلائی آپ نے ان کے لیے دعا کی کہ اے اللہ! اسے بغیر دودھ پینے کے زندگی دے اور اس کی اولاد کو بغیر آواز نکالے اس کے پیچھے لگا دے۔ } [بیہقی فی السنن الکبری:258/9:ضعیف] ‏‏‏‏ ایک بہت ہی غریب حدیث میں ہے: { ٹڈیوں کو مارو نہیں، یہ اللہ تعالیٰ کا بڑا لشکر ہے۔ } ۱؎ [طبرانی کبیر:297/22:حسن] ‏‏‏‏ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”ٹڈیاں ان کے دروازوں کی کیلیں کھا جاتی تھیں اور لکڑی چھوڑ دیتی تھیں۔“ اوزاعی کہتے ہیں: ”میں ایک دن جنگل میں تھا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ٹڈیاں بہت سی آسمان کی طرف ہیں اور ان میں سے ایک ٹڈی پر ایک شخص سوار ہے جو ہتھیار بند ہے جو جس طرف اشارہ کرتا ہے، ساری ٹڈیاں اس طرف کو جھک جاتی ہیں اور وہ زبان سے برابر کہہ رہا ہے کہ دنیا باطل ہے اور اس میں جو ہے وہ بھی باطل ہے۔“

شریح قاضی فرماتے ہیں: ”اس جانور میں سات مختلف جانوروں کی شان ہے: اس کا سر گھوڑے جیسا ہے، گردن بیل جیسی ہے، سینہ شیر جیسا ہے، پر گدھ جیسے ہیں، پیر اونٹ جیسے ہیں، دم سانپ کی طرح کی ہے، پیٹ بچھو جیسا ہے۔“ آیت «أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ مَتَاعًا لَّكُمْ وَلِلسَّيَّارَةِ» ۱؎ [5-المائدة:96] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں یہ روایت گزر چکی ہے کہ { ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج یا عمرے میں جا رہے تھے تو سامنے سے ہمیں ٹڈی دل ملا۔ ہم نے احرام کی حالت میں انہیں لکڑیوں سے مارنا شروع کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرنے پر آپ نے فرمایا: دریائی شکار میں محرم کو کوئی حرج نہیں۔ } ۱؎ [سنن ابن ماجه:3222،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب ان ٹڈیوں کے لئے بد دعا کرتے تو فرماتے: اے اللہ! جتنی ان میں سے بڑی ہیں تو انہیں سب کو ہلاک کر ڈال اور جتنی چھوٹی ہیں، سب کو قتل کر ڈال۔ ان کے انڈے خراب کر دے، ان کی نسل کاٹ دے۔ ان کے منہ ہماری روزی سے روک لے۔ ہمیں روزیاں عطا فرما۔ بیشک تو دعاؤں کا سننے والا ہے۔ اس پر سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ کے ایک لشکر کے غارت و برباد ہو جانے کی آپ دعا کرتے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا کہ یہ تو سمندر کے اندر کی مچھلیوں کا ناک جھاڑنا ہے۔ چنانچہ بعض لوگوں نے اسے مچھلی میں سے اسی طرح نکلتے دیکھا ہے۔ } ۱؎ [سنن ابن ماجه:3221،قال الشيخ الألباني:موضوع و باطل] ‏‏‏‏ جب مچھلی سمندر کے کنارے انڈے دے جاتی ہے، وہاں سے جب پانی ہٹ جاتا ہے اور دھوپ پڑنے لگتی ہے تو وہ انڈے سب کے سب پھوٹ جاتے ہیں اور ان میں سے ٹڈیاں نکلتی ہیں جو پرواز کر جاتی ہیں۔ آیت قرآن «إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُم» ۱؎ [6-الأنعام:38] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی وہ حدیث ہم نے بیان کر دی ہے کہ { اللہ تعالیٰ نے ایک ہزار امتیں پیدا کی ہیں جن میں سے چھ سو تری میں ہیں اور جار سو خشکی میں۔ سب سے پہلے ہلاکت ٹڈیوں کی ہو گی۔ } ۱؎ [سلسلة احادیث ضعیفہ البانی:4811] ‏‏‏‏ امام ابوبکر بن ابوداؤد ایک حدیث لائے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { لکڑی تلوار کے مقابلے پر کچھ نہیں اور درخت کی چھال ٹڈی کے مقابلے میں کچھ نہیں۔ } ۱؎ [میزان:1808:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ حدیث غریب ہے۔

«قُمَّل» کے بارے میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ یہ وہ سیاہ رنگ کے چھوٹے چھوٹے جانور ہیں جو گیہوں میں سے نکلتے ہیں۔ اور قول ہے کہ یہ بھی ایک قسم کی بےپر ٹڈیاں ہیں۔ سعید کہتے ہیں: سیاہ رنگ کے چھوٹے سے کیڑے ہیں۔ اس کا واحد «قملہ» ہے۔ یہ جانور جب اونٹ کو چمٹ جاتے ہیں تو اسے ہلاک کر دیتے ہیں۔ الغرض ایسے ہی موذی جانور بصورت عذاب فرعونیوں کے لیے بھیجے گئے تھے۔ فرعون کی سرکشی اور انکار پر طوفان آیا جس سے انہیں یقین ہو گیا کہ یہ اللہ کا عذاب ہے۔ گڑگڑا کر موسیٰ علیہ السلام سے عرض کرنے لگے کہ اللہ سے دعا کیجئے، یہ موسلا دھار پانی رک جائے تو ہم آپ پر ایمان لائیں گے اور بنی اسرائیل کو آپ کے ساتھ کر دیں گے۔ آپ نے دعا کی، طوفان ہٹ گیا تو یہ اپنے وعدے سے پھر گئے۔ پھر اللہ کی شان ہے کہ کھیتیاں اور باغات اس قدر پھلے کہ اس سے پہلے کبھی ایسے نہیں پھلے تھے۔ جب تیار ہو گئے تو ٹڈیوں کا عذاب آیا، اسے دیکھ کر پھر گھبرائے اور موسیٰ علیہ السلام سے عرض کرنے لگے کہ اللہ سے دعا کیجئے کہ یہ عذاب ہٹا لے، اب ہم پختہ وعدہ کرتے ہیں۔ چنانچہ آپ کی دعا سے یہ عذاب بھی ہٹ گیا لیکن انہوں نے پھر وعدہ شکنی کی۔ فصلیں کاٹ لائے، کھلیان اٹھا لیے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا عذاب پھر اور شکل میں آیا۔ تمام اناج وغیرہ میں کیڑا لگ گیا، اس قدر بکثرت یہ جانور پھیل گئے کہ دس پیمانے لے کر کوئی شخص پسوانے نکلتا تو پسوانے تک یہ جانور سات پیمانے کھا لیتے۔ گھبرا کر موسیٰ علیہ السلام کی طرف متوجہ ہوئے، پھر وعدے کئے۔ آپ نے پھر دعا کی۔ اللہ تعالیٰ نے اس آفت کو بھی ہٹا لیا۔ لیکن انہوں نے پھر بےایمانی کی۔ نہ بنی اسرائیل کو رہا کیا، نہ ایمان قبول کیا۔

اس پر مینڈکوں کا عذاب آیا۔ دربار میں فرعون بیٹھا ہوا ہے تو وہیں مینڈک ظاہر ہو کر ٹرانے لگا۔ سمجھ گئے کہ یہ نئی شکل کا عذاب الٰہی ہے۔ اب یہ پھیلنے اور بڑھنے شروع ہوئے، یہاں تک کہ آدمی بیٹھتا تو اس کی گردن تک آس پاس سے اسے مینڈک گھیر لیتے۔ جہاں بات کرنے کے لئے کوئی منہ کھولتا کہ مینڈک تڑپ کر اس کے منہ میں گھس جاتا۔ پھر تنگ آ کر موسیٰ علیہ السلام سے اس عذاب کے ہٹنے کی درخواست کی اور اقرار کیا کہ ہم خود ایمان لائیں گے اور بنی اسرائیل کو بھی آزاد کر دیں گے۔ چنانچہ آپ نے دعا کی، اللہ تعالیٰ نے اس مصیبت کو بھی دفع کر دیا لیکن پھر مکر گئے۔ چنانچہ ان پر خون کا عذاب آیا۔ تمام برتنوں میں خون، کھانے پینے کی چیزوں میں خون، کنویں میں سے پانی نکالیں تو خون، تالاب سے پانی لائیں تو خون۔ پھر تڑپ اٹھے، فرعون نے کہا: یہ بھی جادو ہے۔ لیکن جب تنگ آ گئے تو آخر موسیٰ علیہ السلام سے مع وعدہ درخواست کی کہ ہم تو پانی سے ترس گئے۔ چنانچہ آپ نے قول و قرار لے کر پھر دعا کی اور الل تعالیٰ نے اس عذاب کو بھی ہٹا لیا لیکن یہ پھر منکر ہو گئے۔

فرعون جب میدان سے ناکام واپس لوٹا تھا، اس نے ٹھان لی تھی کہ خواہ کچھ بھی ہو، میں ایمان نہ لاؤں گا۔ چنانچہ طوفان کی وجہ سے بھوکوں مرنے لگے پھر ٹڈیوں کا عذاب آیا تو درخت تو کیا گھر کی چوکھٹیں اور دروازوں تک وہ کھا گئیں، مکانات گرنے لگے۔ موسیٰ علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے ایک پتھر پر لکڑی ماری جس میں سے بےشمار چچڑیاں نکل پڑیں اور پھیل گئیں۔ کھانا، پینا، سونا، بیٹھنا سب بند ہو گیا۔ پھر مینڈکوں کا عذاب آیا جہاں دیکھو، مینڈک نظر آنے لگے۔ پھر خون کا عذاب آیا۔ نہریں، تالاب، کنویں، مٹکے، گھڑے وغیرہ غرض بجائے پانی کے خون ہی خون سب چیزیں ہو گئیں۔ عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں: مینڈک کو نہ مارو۔ یہ جب بصورت عذاب فرعونیوں کے پاس آئے تو ایک نے اللہ کی رضا جوئی کے لیے تنور میں چھلانگ ماری۔ اللہ نے اس کے بدلے انہیں پانی کی ٹھنڈک عطا فرمائی اور ان کی آواز کو اپنی تسبیح بنایا۔ یہ بھی مروی ہے کہ خون سے مراد نکسیر پھوٹنا ہے۔ الغرض ہر عذاب کو دیکھ کر اقرار کرتے لیکن جب موسیٰ علیہ السلام کی دعا سے وہ ہٹ جاتا تو پھر انکار کر جاتے۔
132۔ 1 یہ کفر و جحود کا ظہار ہے جس میں وہ مبتلا تھے اور معجزت و آیات الٰہی کو اب بھی وہ جادوگری باور کرتے یا کراتے۔
(آیت 132) {وَ قَالُوْا مَهْمَا تَاْتِنَا بِهٖ …:} اوپر کی آیت میں ان کی یہ جہالت بیان فرمائی کہ وہ حوادث کی نسبت اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر کی طرف کرنے کے بجائے دوسرے اسباب کی طرف کرتے ہیں، اب اس آیت میں ان کی دوسری جہالت بیان فرمائی کہ اتنی نشانیاں دیکھنے کے بعد بھی کم بخت فرعونی موسیٰ علیہ السلام کو جادوگر ہی کہتے رہے اور انھوں نے معجزات اورجادو کا فرق آخر تک تسلیم نہ کیا، بلکہ انھوں نے اپنی سرکشی اور تمرد سے بالآخر قطعی طور پر اعلان کر دیا کہ تم (موسیٰ علیہ السلام) جو بھی معجزہ دکھاؤ ہم اسے تمھارا جادو ہی سمجھیں گے اور تم پر کبھی ایمان نہیں لائیں گے، حالانکہ انھیں ان معجزوں کے حق ہونے کا یقین تھا۔ دیکھیے سورۂ نمل (۱۳، ۱۴)۔
فَاَرۡسَلۡنَا عَلَیۡہِمُ الطُّوۡفَانَ وَ الۡجَرَادَ وَ الۡقُمَّلَ وَ الضَّفَادِعَ وَ الدَّمَ اٰیٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ ۟ فَاسۡتَکۡبَرُوۡا وَ کَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِیۡنَ ﴿۱۳۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
آخر کار ہم نے ان پر طوفان بھیجا، ٹڈی دل چھوڑے، سرسریاں پھیلائیں، مینڈک نکالے، اور خو ن برسایا یہ سب نشانیاں الگ الگ کر کے دکھائیں، مگر وہ سر کشی کیے چلے گئے اور وہ بڑے ہی مجرم لوگ تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر ہم نے ان پر طوفان بھیجا اور ٹڈیاں اور گھن کا کیڑا اور مینڈک اور خون، کہ یہ سب کھلے کھلے معجزے تھے۔ سو وه تکبر کرتے رہے اور وه لوگ کچھ تھے ہی جرائم پیشہ
احمد رضا خان بریلوی
تو بھیجا ہم نے ان پر طوفان اور ٹڈی اور گھن (یا کلنی یا جوئیں) اور مینڈک اور خون جدا جدا نشانیاں تو انہوں نے تکبر کیا اور وہ مجرم قوم تھی
علامہ محمد حسین نجفی
پھر ہم نے بھیجا ان پر عذاب، طوفان، ٹڈی دل، جوؤں، مینڈکوں اور خون (کی صورت میں) یہ کھلی ہوئی نشانیاں تھیں مگر وہ پھر بھی تکبر اور سرکشی ہی کرتے رہے اور وہ بڑے ہی مجرم لوگ تھے۔
عبدالسلام بن محمد
تو ہم نے ان پر طوفان بھیجا اور ٹڈیاں اور جوئیں اور مینڈک اور خون، جو الگ الگ نشانیاں تھیں، پھر بھی انھوں نے تکبر کیا اور وہ مجرم لوگ تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سیاہ دل لوگ اقرار کے بعد انکار کرتے رہے ٭٭

ان کی سرکشی اور ضد دیکھئیے کہ موسیٰ علیہ السلام سے صاف کہتے ہیں کہ آپ خواہ کتنی ہی دلیلیں پیش کریں، کیسے ہی معجزے بتائیں، ہم ایمان لانے والے نہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ سب آپ کے جادو کے کرشمے ہیں۔ ان پر طوفان آیا، بکثرت بارشیں برسیں جس سے پھل اور اناج تباہ ہو گئے اور اسی سے وبا اور طاعون کی بیماری پھیل پڑی۔ اسی لیے بعض مفسرین نے کہا ہے: ”طوفان سے مراد موت ہے۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:15005] ‏‏‏‏ بعض کہتے ہیں: کوئی زبردست آسمانی آفت آئی تھی جس نے انہیں گھیر لیا تھا۔ ٹڈیوں کی مصیبت ان پر آئی۔ یہ ایک حلال جانور ہے۔ { سیدنا عبداللہ بن ابی اونی رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا تو آپ نے فرمایا: سات غزوے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کئے ہیں۔ ہر ایک میں ہم تو ٹڈیاں کھاتے رہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:5495] ‏‏‏‏ مسند احمد اور ابن ماجہ میں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: { دو مردے اور دو خون ہمارے لیے حلال ہیں، مچھلی اور ٹڈی اور کلیجی اور تلی۔ } ۱؎ [سنن ابن ماجه:3314،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ابوداؤد میں ہے: { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ٹڈی کی نسبت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا: اللہ کے لشکر بہت سے ہیں جنہیں نہ میں کھاتا ہوں، نہ حرام کہتا ہوں۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:3813،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جی نہ چاہنے کی وجہ سے اسے چھوڑ دیا جیسے گوہ آپ نے نہیں کھایا حالانکہ دوسروں کو اس کے کھانے کی اجازت مرحمت فرمائی۔ حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ نے ایک مستقل رسالہ اسی میں تصنیف فرمایا ہے۔ اس میں ایک روایت یہ بھی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ٹڈی نہیں کھاتے تھے اور نہ گردے کھاتے تھے اور نہ گوہ۔

{ لیکن انہیں آپ نے حرام نہیں کیا۔ ٹڈی اس وجہ سے کہ وہ عذاب ہے، گردے اس وجہ سے کہ یہ پیشاب کے قریب ہیں اور گوہ اس وجہ سے کہ آپ کو خوف تھا کہ کہیں یہ مسخ شدہ امت نہ ہو۔ } ۱؎ [ضعیف الجامع الصغیر:3392] ‏‏‏‏ پھر یہ روایت بھی غریب ہے، صرف یہی ایک سند ہے۔ { امیر المؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ٹڈی کو بڑی رغبت سے کھایا کرتے، تلاش کر کے منگوایا کرتے۔ چنانچہ کسی نے آپ سے مسئلہ پوچھا کہ ٹڈی کھائی جائے؟ آپ نے فرمایا کہ کاش کہ ایک دو لپیں مل جاتیں تو کیسے مزے سے کھاتے۔ } ۱؎ [موطا:30:صحیح] ‏‏‏‏ ابن ماجہ میں ہے کہ { امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن تو طباقوں میں لگا کر ٹڈیاں ہدیے اور تحفے کے طور پر بھیجتی تھیں۔ } ۱؎ [سنن ابن ماجه:3220، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ امام بغوی ایک روایت لائے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { مریم بنت عمران علیہا السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ ایسا گوشت مجھے کھلا جس میں خون نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ٹڈی کھلائی آپ نے ان کے لیے دعا کی کہ اے اللہ! اسے بغیر دودھ پینے کے زندگی دے اور اس کی اولاد کو بغیر آواز نکالے اس کے پیچھے لگا دے۔ } [بیہقی فی السنن الکبری:258/9:ضعیف] ‏‏‏‏ ایک بہت ہی غریب حدیث میں ہے: { ٹڈیوں کو مارو نہیں، یہ اللہ تعالیٰ کا بڑا لشکر ہے۔ } ۱؎ [طبرانی کبیر:297/22:حسن] ‏‏‏‏ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”ٹڈیاں ان کے دروازوں کی کیلیں کھا جاتی تھیں اور لکڑی چھوڑ دیتی تھیں۔“ اوزاعی کہتے ہیں: ”میں ایک دن جنگل میں تھا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ٹڈیاں بہت سی آسمان کی طرف ہیں اور ان میں سے ایک ٹڈی پر ایک شخص سوار ہے جو ہتھیار بند ہے جو جس طرف اشارہ کرتا ہے، ساری ٹڈیاں اس طرف کو جھک جاتی ہیں اور وہ زبان سے برابر کہہ رہا ہے کہ دنیا باطل ہے اور اس میں جو ہے وہ بھی باطل ہے۔“

شریح قاضی فرماتے ہیں: ”اس جانور میں سات مختلف جانوروں کی شان ہے: اس کا سر گھوڑے جیسا ہے، گردن بیل جیسی ہے، سینہ شیر جیسا ہے، پر گدھ جیسے ہیں، پیر اونٹ جیسے ہیں، دم سانپ کی طرح کی ہے، پیٹ بچھو جیسا ہے۔“ آیت «أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ مَتَاعًا لَّكُمْ وَلِلسَّيَّارَةِ» ۱؎ [5-المائدة:96] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں یہ روایت گزر چکی ہے کہ { ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج یا عمرے میں جا رہے تھے تو سامنے سے ہمیں ٹڈی دل ملا۔ ہم نے احرام کی حالت میں انہیں لکڑیوں سے مارنا شروع کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرنے پر آپ نے فرمایا: دریائی شکار میں محرم کو کوئی حرج نہیں۔ } ۱؎ [سنن ابن ماجه:3222،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب ان ٹڈیوں کے لئے بد دعا کرتے تو فرماتے: اے اللہ! جتنی ان میں سے بڑی ہیں تو انہیں سب کو ہلاک کر ڈال اور جتنی چھوٹی ہیں، سب کو قتل کر ڈال۔ ان کے انڈے خراب کر دے، ان کی نسل کاٹ دے۔ ان کے منہ ہماری روزی سے روک لے۔ ہمیں روزیاں عطا فرما۔ بیشک تو دعاؤں کا سننے والا ہے۔ اس پر سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ کے ایک لشکر کے غارت و برباد ہو جانے کی آپ دعا کرتے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا کہ یہ تو سمندر کے اندر کی مچھلیوں کا ناک جھاڑنا ہے۔ چنانچہ بعض لوگوں نے اسے مچھلی میں سے اسی طرح نکلتے دیکھا ہے۔ } ۱؎ [سنن ابن ماجه:3221،قال الشيخ الألباني:موضوع و باطل] ‏‏‏‏ جب مچھلی سمندر کے کنارے انڈے دے جاتی ہے، وہاں سے جب پانی ہٹ جاتا ہے اور دھوپ پڑنے لگتی ہے تو وہ انڈے سب کے سب پھوٹ جاتے ہیں اور ان میں سے ٹڈیاں نکلتی ہیں جو پرواز کر جاتی ہیں۔ آیت قرآن «إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُم» ۱؎ [6-الأنعام:38] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی وہ حدیث ہم نے بیان کر دی ہے کہ { اللہ تعالیٰ نے ایک ہزار امتیں پیدا کی ہیں جن میں سے چھ سو تری میں ہیں اور جار سو خشکی میں۔ سب سے پہلے ہلاکت ٹڈیوں کی ہو گی۔ } ۱؎ [سلسلة احادیث ضعیفہ البانی:4811] ‏‏‏‏ امام ابوبکر بن ابوداؤد ایک حدیث لائے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { لکڑی تلوار کے مقابلے پر کچھ نہیں اور درخت کی چھال ٹڈی کے مقابلے میں کچھ نہیں۔ } ۱؎ [میزان:1808:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ حدیث غریب ہے۔

«قُمَّل» کے بارے میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ یہ وہ سیاہ رنگ کے چھوٹے چھوٹے جانور ہیں جو گیہوں میں سے نکلتے ہیں۔ اور قول ہے کہ یہ بھی ایک قسم کی بےپر ٹڈیاں ہیں۔ سعید کہتے ہیں: سیاہ رنگ کے چھوٹے سے کیڑے ہیں۔ اس کا واحد «قملہ» ہے۔ یہ جانور جب اونٹ کو چمٹ جاتے ہیں تو اسے ہلاک کر دیتے ہیں۔ الغرض ایسے ہی موذی جانور بصورت عذاب فرعونیوں کے لیے بھیجے گئے تھے۔ فرعون کی سرکشی اور انکار پر طوفان آیا جس سے انہیں یقین ہو گیا کہ یہ اللہ کا عذاب ہے۔ گڑگڑا کر موسیٰ علیہ السلام سے عرض کرنے لگے کہ اللہ سے دعا کیجئے، یہ موسلا دھار پانی رک جائے تو ہم آپ پر ایمان لائیں گے اور بنی اسرائیل کو آپ کے ساتھ کر دیں گے۔ آپ نے دعا کی، طوفان ہٹ گیا تو یہ اپنے وعدے سے پھر گئے۔ پھر اللہ کی شان ہے کہ کھیتیاں اور باغات اس قدر پھلے کہ اس سے پہلے کبھی ایسے نہیں پھلے تھے۔ جب تیار ہو گئے تو ٹڈیوں کا عذاب آیا، اسے دیکھ کر پھر گھبرائے اور موسیٰ علیہ السلام سے عرض کرنے لگے کہ اللہ سے دعا کیجئے کہ یہ عذاب ہٹا لے، اب ہم پختہ وعدہ کرتے ہیں۔ چنانچہ آپ کی دعا سے یہ عذاب بھی ہٹ گیا لیکن انہوں نے پھر وعدہ شکنی کی۔ فصلیں کاٹ لائے، کھلیان اٹھا لیے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا عذاب پھر اور شکل میں آیا۔ تمام اناج وغیرہ میں کیڑا لگ گیا، اس قدر بکثرت یہ جانور پھیل گئے کہ دس پیمانے لے کر کوئی شخص پسوانے نکلتا تو پسوانے تک یہ جانور سات پیمانے کھا لیتے۔ گھبرا کر موسیٰ علیہ السلام کی طرف متوجہ ہوئے، پھر وعدے کئے۔ آپ نے پھر دعا کی۔ اللہ تعالیٰ نے اس آفت کو بھی ہٹا لیا۔ لیکن انہوں نے پھر بےایمانی کی۔ نہ بنی اسرائیل کو رہا کیا، نہ ایمان قبول کیا۔

اس پر مینڈکوں کا عذاب آیا۔ دربار میں فرعون بیٹھا ہوا ہے تو وہیں مینڈک ظاہر ہو کر ٹرانے لگا۔ سمجھ گئے کہ یہ نئی شکل کا عذاب الٰہی ہے۔ اب یہ پھیلنے اور بڑھنے شروع ہوئے، یہاں تک کہ آدمی بیٹھتا تو اس کی گردن تک آس پاس سے اسے مینڈک گھیر لیتے۔ جہاں بات کرنے کے لئے کوئی منہ کھولتا کہ مینڈک تڑپ کر اس کے منہ میں گھس جاتا۔ پھر تنگ آ کر موسیٰ علیہ السلام سے اس عذاب کے ہٹنے کی درخواست کی اور اقرار کیا کہ ہم خود ایمان لائیں گے اور بنی اسرائیل کو بھی آزاد کر دیں گے۔ چنانچہ آپ نے دعا کی، اللہ تعالیٰ نے اس مصیبت کو بھی دفع کر دیا لیکن پھر مکر گئے۔ چنانچہ ان پر خون کا عذاب آیا۔ تمام برتنوں میں خون، کھانے پینے کی چیزوں میں خون، کنویں میں سے پانی نکالیں تو خون، تالاب سے پانی لائیں تو خون۔ پھر تڑپ اٹھے، فرعون نے کہا: یہ بھی جادو ہے۔ لیکن جب تنگ آ گئے تو آخر موسیٰ علیہ السلام سے مع وعدہ درخواست کی کہ ہم تو پانی سے ترس گئے۔ چنانچہ آپ نے قول و قرار لے کر پھر دعا کی اور الل تعالیٰ نے اس عذاب کو بھی ہٹا لیا لیکن یہ پھر منکر ہو گئے۔

فرعون جب میدان سے ناکام واپس لوٹا تھا، اس نے ٹھان لی تھی کہ خواہ کچھ بھی ہو، میں ایمان نہ لاؤں گا۔ چنانچہ طوفان کی وجہ سے بھوکوں مرنے لگے پھر ٹڈیوں کا عذاب آیا تو درخت تو کیا گھر کی چوکھٹیں اور دروازوں تک وہ کھا گئیں، مکانات گرنے لگے۔ موسیٰ علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے ایک پتھر پر لکڑی ماری جس میں سے بےشمار چچڑیاں نکل پڑیں اور پھیل گئیں۔ کھانا، پینا، سونا، بیٹھنا سب بند ہو گیا۔ پھر مینڈکوں کا عذاب آیا جہاں دیکھو، مینڈک نظر آنے لگے۔ پھر خون کا عذاب آیا۔ نہریں، تالاب، کنویں، مٹکے، گھڑے وغیرہ غرض بجائے پانی کے خون ہی خون سب چیزیں ہو گئیں۔ عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں: مینڈک کو نہ مارو۔ یہ جب بصورت عذاب فرعونیوں کے پاس آئے تو ایک نے اللہ کی رضا جوئی کے لیے تنور میں چھلانگ ماری۔ اللہ نے اس کے بدلے انہیں پانی کی ٹھنڈک عطا فرمائی اور ان کی آواز کو اپنی تسبیح بنایا۔ یہ بھی مروی ہے کہ خون سے مراد نکسیر پھوٹنا ہے۔ الغرض ہر عذاب کو دیکھ کر اقرار کرتے لیکن جب موسیٰ علیہ السلام کی دعا سے وہ ہٹ جاتا تو پھر انکار کر جاتے۔
133۔ 1 طوفان سے سیلاب یا کثرت بارش، جس میں ہر چیز غرق ہوگئی، یا کثرت اموات، جس سے ہر گھر میں ماتم برپا ہوگیا، ٹڈی دل کا حملہ فصلوں کی ویرانی کے لئے مشہور ہے یہ ٹڈیاں ان کے غلوں اور پھلوں کی فصلوں کو کھا کر چٹ کر جاتیں، جو پانی جوہڑوں، چھپڑوں میں ہوتا ہے، یہ مینڈک ان کے کھانوں میں، بستروں میں۔ غلوں میں غرض ہر جگہ اور ہر طرف مینڈک ہی مینڈک ہوگئے جس سے ان کا کھانا پینا، سونا آرام کرنا حرام ہوگیا۔ دم (خون) سے مراد پانی کا خون بن جانا یوں پانی پینا ان کے لئے ناممکن ہوگیا، بعض نے خون سے مراد نکسیر کی بیماری لی ہے۔ یعنی ہر شخص کی ناک سے خون جاری ہوگیا، یہ کھلے کھلے اور جدا جدا معجزے تھے جو وقفے وقفے سے ان پر آئے۔
(آیت 133تا136) {فَاَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الطُّوْفَانَ …:} جب وہ قحط سالی اور پھلوں کی کمی کی گرفت کے باوجود کفر اور سرکشی پر ڈٹ گئے اور اس مصیبت کو موسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کی نحوست قرار دیا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر مزید سختیاں نازل ہونا شروع ہوئیں جو فرعون اور اس کی فوجوں کے مکمل خاتمے اور غرق ہونے کا پیش خیمہ ثابت ہوئیں۔ قحط سالیوں کے بعد {” الطُّوْفَانَ “} یعنی سخت بارش اور سیلاب شروع ہوا جس سے ان کی زندگی دشوار ہو گئی تو انھوں نے موسیٰ علیہ السلام سے دعا کی درخواست کی کہ تمھارا اپنے رب سے جو عہد اور معاملہ ہے اسے پیش کرکے اس سے ہمارے لیے یہ عذاب دور کرنے کی دعا کریں، اگر تم نے ہم سے یہ عذاب دور کروا دیا تو ہم قسم کھا کر کہتے ہیں کہ ہم تم پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو تمھارے ساتھ بھیج دیں گے۔ (لام تاکید اور نون ثقیلہ عربی میں قسم کا مفہوم رکھتا ہے) ظالم اب بھی اپنے اور ساری کائنات کے رب کو موسیٰ علیہ السلام کا رب ہی کہہ رہے ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام کی دعا سے یہ عذاب ٹلا تو مدت کی سوکھی زمین نے پانی کی فراوانی کی وجہ سے بے حساب چارا اور غلہ پیدا کیا، یہ ان کی خوش حالی کے ساتھ آزمائش تھی، جس سے وہ سب عہد و پیمان بھول کر کہنے لگے کہ یہ سیلاب تو ہمارے لیے نعمت تھا۔ اب اللہ تعالیٰ نے ان پر {” الْجَرَادَ “} (ٹڈیوں) کا عذاب بھیجا جو ان کے درخت، چارے اور لکڑیاں تک چٹ کر گئیں۔ انھوں نے پھر موسیٰ علیہ السلام سے انھی الفاظ میں عذاب ٹالنے کی دعا کی درخواست کی جو اوپر ذکر ہوئے ہیں۔ یہ عذاب دور ہوا تو پھر خوش حالی کا ایک وقفہ آیا کہ بچی فصل سے بھی بے شمار غلہ پیدا ہوا، جسے کاٹ کر انھوں نے اپنے گھروں میں محفوظ کر لیا اور اپنے خیال میں کم از کم سال بھر کے لیے بے فکر ہو گئے اور موسیٰ علیہ السلام سے کیا ہوا عہد و پیمان پھر بھول گئے۔ اب ان پر {” الْقُمَّلَ “} کا عذاب نازل ہوا، یعنی جوئیں، چچڑیاں، چھوٹے چھوٹے کالے کیڑے، گھن کے کیڑے، پسو وغیرہ، ان سب پر {” الْقُمَّلَ “} کا لفظ بولاجاتا ہے۔ انسانوں اور جانوروں کے جسموں، کپڑوں اور بستروں پر جوؤں، پسوؤں اور کھٹملوں کی یلغار ہو گئی۔ غلے کو گھن لگ گیا، پسوانے کے لیے بوریاں لے جاتے تو آٹے کا فقط ایک تھیلا نکلتا، پھر مجبور ہو کر انھوں نے موسیٰ علیہ السلام سے اسی طرح دعا کی درخواست کی۔ جب ان کی دعا سے وہ بلا ٹلی اور راحت و آرام کا وقفہ آیا تو اپنے عہد سے پہلے کی طرح پھر گئے، اب ان پر{ ” الضَّفَادِعَ “ } یعنی ”مینڈکوں“ کا عذاب آیا اور وہ اس کثرت سے پھیل گئے کہ ہر چیز اور برتن میں مینڈک ہی مینڈک نظر آنے لگے، کھانا کھاتے ہوئے لقمے کی جگہ اچھل کر منہ میں مینڈک جا پڑتا، لیٹتے تو بستر اور جسم مینڈکوں سے بھر جاتا۔ مجبور ہو کر انھوں نے پھر موسیٰ علیہ السلام سے یہ عذاب ٹالنے کے لیے دعا کی درخواست انھی وعدوں کے ساتھ کی، مگر جب عافیت ملی تو پھر ایمان لانے اور بنی اسرائیل کو آزادی دینے سے انکار کر دیا۔ اب ان پر خون کا عذاب آیا، کھانے یا پینے کی جو چیز رکھتے خون میں بدل جاتی، پانی کے برتنوں اور ذخیروں نے خون کی صورت اختیار کر لی۔ بعض مفسرین نے خون کے عذاب میں نکسیر کی وبا کا ذکر بھی فرمایا ہے۔ ان کے رجوع اور درخواست پر موسیٰ علیہ السلام کی دعا سے یہ عذاب ٹلا تو پھر اپنے کیے ہوئے عہد سے پھر گئے۔ اب اللہ تعالیٰ کے انتقام کا وقت آ گیا اور ان سب کو اللہ کی آیات و معجزات جھٹلانے اور ان سے جان بوجھ کر غفلت اختیار کرنے کی پاداش میں سمندر میں غرق کر دیا گیا۔ یہاں اس غرق کی تفصیلات بیان نہیں ہوئیں، وہ سورۂ یونس، شعراء اور طہ وغیرہ میں بیان ہوئی ہیں، کیونکہ یہاں اصل مقصد کفار کو سختی اور خوش حالی کی آزمائش کی پروا نہ کرتے ہوئے کفر پر اصرار کے انجام سے ڈرانا ہے۔ {” اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ “} سے معلوم ہوتا ہے کہ عذاب اور عافیت کے یہ وقفے یکے بعد دیگرے آئے۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ فرعون اور موسیٰ علیہ السلام کا مقابلہ اس بات پر چالیس برس رہا کہ وہ بنی اسرائیل کو اپنے وطن جانے دے اور آخر میں یہ عذاب ایک ایک ہفتے کے وقفے سے آئے۔ (موضح) تفسیر طبری میں تابعین کی بعض روایات میں عذاب کا عرصہ ایک ہفتہ اور درمیانی عافیت کا عرصہ ایک ماہ لکھا ہے، مگر ہمارے پاس ان میں سے کسی قول کی تصدیق یا تردید کا کوئی صحیح ذریعہ نہیں۔ نصیحت کے لیے جو کچھ اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے وہی کافی ہے۔
وَ لَمَّا وَقَعَ عَلَیۡہِمُ الرِّجۡزُ قَالُوۡا یٰمُوۡسَی ادۡعُ لَنَا رَبَّکَ بِمَا عَہِدَ عِنۡدَکَ ۚ لَئِنۡ کَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَنُؤۡمِنَنَّ لَکَ وَ لَنُرۡسِلَنَّ مَعَکَ بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ ﴿۱۳۴﴾ۚ
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جب کبھی اُن پر بلا نازل ہو جاتی تو کہتے "اے موسیٰؑ، تجھے اپنے رب کی طرف سے جو منصب حاصل ہے اس کی بنا پر ہمارے حق میں دعا کر، اگر اب کے تو ہم پر سے یہ بلا ٹلوا دے تو ہم تیری بات مان لیں گے اور بنی اسرائیل کو تیرے ساتھ بھیج دیں گے"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جب ان پر کوئی عذاب واقع ہوتا تو یوں کہتے کہ اے موسیٰ! ہمارے لیے اپنے رب سے اس بات کی دعا کر دیجئے! جس کا اس نے آپ سے عہد کر رکھا ہے، اگر آپ اس عذاب کو ہم سے ہٹا دیں تو ہم ضرور ضرور آپ کے کہنے سے ایمان لے آئیں گے اور ہم بنی اسرائیل کو بھی (رہا کر کے) آپ کے ہمراه کر دیں گے
احمد رضا خان بریلوی
اور جب ان پر عذاب پڑتا کہتے اے موسیٰ ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کرو اس عہد کے سبب جو اس کا تمہارے پاس ہے بیشک اگر تم ہم پر عذاب اٹھادو گے تو ہم ضرور تم پر ایمان لائیں گے اور بنی اسرائیل کو تمہارے ساتھ کردیں گے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جب کبھی ان پر کوئی عذاب نازل ہوتا تو کہتے اے موسیٰ ہمارے لئے اپنے پروردگار سے دعا کرو۔ جس کا اس نے تم سے وعدہ کر رکھا ہے۔ اگر تم نے یہ عذاب ہم سے ٹلوا دیا۔ تو ہم تم پر ایمان لے آئیں گے اور تمہارے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب ان پر عذاب آتا تو کہتے اے موسیٰ! اپنے رب سے ہمارے لیے اس عہد کے واسطے سے دعا کر جو اس نے تیرے ہاں دے رکھا ہے، یقینا اگر تو ہم سے یہ عذاب دور کر دے تو ہم ضرور ہی تجھ پر ایمان لے آئیں گے اور تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو ضرور ہی بھیج دیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سیاہ دل لوگ اقرار کے بعد انکار کرتے رہے ٭٭

ان کی سرکشی اور ضد دیکھئیے کہ موسیٰ علیہ السلام سے صاف کہتے ہیں کہ آپ خواہ کتنی ہی دلیلیں پیش کریں، کیسے ہی معجزے بتائیں، ہم ایمان لانے والے نہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ سب آپ کے جادو کے کرشمے ہیں۔ ان پر طوفان آیا، بکثرت بارشیں برسیں جس سے پھل اور اناج تباہ ہو گئے اور اسی سے وبا اور طاعون کی بیماری پھیل پڑی۔ اسی لیے بعض مفسرین نے کہا ہے: ”طوفان سے مراد موت ہے۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:15005] ‏‏‏‏ بعض کہتے ہیں: کوئی زبردست آسمانی آفت آئی تھی جس نے انہیں گھیر لیا تھا۔ ٹڈیوں کی مصیبت ان پر آئی۔ یہ ایک حلال جانور ہے۔ { سیدنا عبداللہ بن ابی اونی رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا تو آپ نے فرمایا: سات غزوے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کئے ہیں۔ ہر ایک میں ہم تو ٹڈیاں کھاتے رہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:5495] ‏‏‏‏ مسند احمد اور ابن ماجہ میں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: { دو مردے اور دو خون ہمارے لیے حلال ہیں، مچھلی اور ٹڈی اور کلیجی اور تلی۔ } ۱؎ [سنن ابن ماجه:3314،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ابوداؤد میں ہے: { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ٹڈی کی نسبت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا: اللہ کے لشکر بہت سے ہیں جنہیں نہ میں کھاتا ہوں، نہ حرام کہتا ہوں۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:3813،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جی نہ چاہنے کی وجہ سے اسے چھوڑ دیا جیسے گوہ آپ نے نہیں کھایا حالانکہ دوسروں کو اس کے کھانے کی اجازت مرحمت فرمائی۔ حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ نے ایک مستقل رسالہ اسی میں تصنیف فرمایا ہے۔ اس میں ایک روایت یہ بھی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ٹڈی نہیں کھاتے تھے اور نہ گردے کھاتے تھے اور نہ گوہ۔

{ لیکن انہیں آپ نے حرام نہیں کیا۔ ٹڈی اس وجہ سے کہ وہ عذاب ہے، گردے اس وجہ سے کہ یہ پیشاب کے قریب ہیں اور گوہ اس وجہ سے کہ آپ کو خوف تھا کہ کہیں یہ مسخ شدہ امت نہ ہو۔ } ۱؎ [ضعیف الجامع الصغیر:3392] ‏‏‏‏ پھر یہ روایت بھی غریب ہے، صرف یہی ایک سند ہے۔ { امیر المؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ٹڈی کو بڑی رغبت سے کھایا کرتے، تلاش کر کے منگوایا کرتے۔ چنانچہ کسی نے آپ سے مسئلہ پوچھا کہ ٹڈی کھائی جائے؟ آپ نے فرمایا کہ کاش کہ ایک دو لپیں مل جاتیں تو کیسے مزے سے کھاتے۔ } ۱؎ [موطا:30:صحیح] ‏‏‏‏ ابن ماجہ میں ہے کہ { امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن تو طباقوں میں لگا کر ٹڈیاں ہدیے اور تحفے کے طور پر بھیجتی تھیں۔ } ۱؎ [سنن ابن ماجه:3220، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ امام بغوی ایک روایت لائے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { مریم بنت عمران علیہا السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ ایسا گوشت مجھے کھلا جس میں خون نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ٹڈی کھلائی آپ نے ان کے لیے دعا کی کہ اے اللہ! اسے بغیر دودھ پینے کے زندگی دے اور اس کی اولاد کو بغیر آواز نکالے اس کے پیچھے لگا دے۔ } [بیہقی فی السنن الکبری:258/9:ضعیف] ‏‏‏‏ ایک بہت ہی غریب حدیث میں ہے: { ٹڈیوں کو مارو نہیں، یہ اللہ تعالیٰ کا بڑا لشکر ہے۔ } ۱؎ [طبرانی کبیر:297/22:حسن] ‏‏‏‏ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”ٹڈیاں ان کے دروازوں کی کیلیں کھا جاتی تھیں اور لکڑی چھوڑ دیتی تھیں۔“ اوزاعی کہتے ہیں: ”میں ایک دن جنگل میں تھا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ٹڈیاں بہت سی آسمان کی طرف ہیں اور ان میں سے ایک ٹڈی پر ایک شخص سوار ہے جو ہتھیار بند ہے جو جس طرف اشارہ کرتا ہے، ساری ٹڈیاں اس طرف کو جھک جاتی ہیں اور وہ زبان سے برابر کہہ رہا ہے کہ دنیا باطل ہے اور اس میں جو ہے وہ بھی باطل ہے۔“

شریح قاضی فرماتے ہیں: ”اس جانور میں سات مختلف جانوروں کی شان ہے: اس کا سر گھوڑے جیسا ہے، گردن بیل جیسی ہے، سینہ شیر جیسا ہے، پر گدھ جیسے ہیں، پیر اونٹ جیسے ہیں، دم سانپ کی طرح کی ہے، پیٹ بچھو جیسا ہے۔“ آیت «أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ مَتَاعًا لَّكُمْ وَلِلسَّيَّارَةِ» ۱؎ [5-المائدة:96] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں یہ روایت گزر چکی ہے کہ { ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج یا عمرے میں جا رہے تھے تو سامنے سے ہمیں ٹڈی دل ملا۔ ہم نے احرام کی حالت میں انہیں لکڑیوں سے مارنا شروع کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرنے پر آپ نے فرمایا: دریائی شکار میں محرم کو کوئی حرج نہیں۔ } ۱؎ [سنن ابن ماجه:3222،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب ان ٹڈیوں کے لئے بد دعا کرتے تو فرماتے: اے اللہ! جتنی ان میں سے بڑی ہیں تو انہیں سب کو ہلاک کر ڈال اور جتنی چھوٹی ہیں، سب کو قتل کر ڈال۔ ان کے انڈے خراب کر دے، ان کی نسل کاٹ دے۔ ان کے منہ ہماری روزی سے روک لے۔ ہمیں روزیاں عطا فرما۔ بیشک تو دعاؤں کا سننے والا ہے۔ اس پر سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ کے ایک لشکر کے غارت و برباد ہو جانے کی آپ دعا کرتے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا کہ یہ تو سمندر کے اندر کی مچھلیوں کا ناک جھاڑنا ہے۔ چنانچہ بعض لوگوں نے اسے مچھلی میں سے اسی طرح نکلتے دیکھا ہے۔ } ۱؎ [سنن ابن ماجه:3221،قال الشيخ الألباني:موضوع و باطل] ‏‏‏‏ جب مچھلی سمندر کے کنارے انڈے دے جاتی ہے، وہاں سے جب پانی ہٹ جاتا ہے اور دھوپ پڑنے لگتی ہے تو وہ انڈے سب کے سب پھوٹ جاتے ہیں اور ان میں سے ٹڈیاں نکلتی ہیں جو پرواز کر جاتی ہیں۔ آیت قرآن «إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُم» ۱؎ [6-الأنعام:38] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی وہ حدیث ہم نے بیان کر دی ہے کہ { اللہ تعالیٰ نے ایک ہزار امتیں پیدا کی ہیں جن میں سے چھ سو تری میں ہیں اور جار سو خشکی میں۔ سب سے پہلے ہلاکت ٹڈیوں کی ہو گی۔ } ۱؎ [سلسلة احادیث ضعیفہ البانی:4811] ‏‏‏‏ امام ابوبکر بن ابوداؤد ایک حدیث لائے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { لکڑی تلوار کے مقابلے پر کچھ نہیں اور درخت کی چھال ٹڈی کے مقابلے میں کچھ نہیں۔ } ۱؎ [میزان:1808:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ حدیث غریب ہے۔

«قُمَّل» کے بارے میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ یہ وہ سیاہ رنگ کے چھوٹے چھوٹے جانور ہیں جو گیہوں میں سے نکلتے ہیں۔ اور قول ہے کہ یہ بھی ایک قسم کی بےپر ٹڈیاں ہیں۔ سعید کہتے ہیں: سیاہ رنگ کے چھوٹے سے کیڑے ہیں۔ اس کا واحد «قملہ» ہے۔ یہ جانور جب اونٹ کو چمٹ جاتے ہیں تو اسے ہلاک کر دیتے ہیں۔ الغرض ایسے ہی موذی جانور بصورت عذاب فرعونیوں کے لیے بھیجے گئے تھے۔ فرعون کی سرکشی اور انکار پر طوفان آیا جس سے انہیں یقین ہو گیا کہ یہ اللہ کا عذاب ہے۔ گڑگڑا کر موسیٰ علیہ السلام سے عرض کرنے لگے کہ اللہ سے دعا کیجئے، یہ موسلا دھار پانی رک جائے تو ہم آپ پر ایمان لائیں گے اور بنی اسرائیل کو آپ کے ساتھ کر دیں گے۔ آپ نے دعا کی، طوفان ہٹ گیا تو یہ اپنے وعدے سے پھر گئے۔ پھر اللہ کی شان ہے کہ کھیتیاں اور باغات اس قدر پھلے کہ اس سے پہلے کبھی ایسے نہیں پھلے تھے۔ جب تیار ہو گئے تو ٹڈیوں کا عذاب آیا، اسے دیکھ کر پھر گھبرائے اور موسیٰ علیہ السلام سے عرض کرنے لگے کہ اللہ سے دعا کیجئے کہ یہ عذاب ہٹا لے، اب ہم پختہ وعدہ کرتے ہیں۔ چنانچہ آپ کی دعا سے یہ عذاب بھی ہٹ گیا لیکن انہوں نے پھر وعدہ شکنی کی۔ فصلیں کاٹ لائے، کھلیان اٹھا لیے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا عذاب پھر اور شکل میں آیا۔ تمام اناج وغیرہ میں کیڑا لگ گیا، اس قدر بکثرت یہ جانور پھیل گئے کہ دس پیمانے لے کر کوئی شخص پسوانے نکلتا تو پسوانے تک یہ جانور سات پیمانے کھا لیتے۔ گھبرا کر موسیٰ علیہ السلام کی طرف متوجہ ہوئے، پھر وعدے کئے۔ آپ نے پھر دعا کی۔ اللہ تعالیٰ نے اس آفت کو بھی ہٹا لیا۔ لیکن انہوں نے پھر بےایمانی کی۔ نہ بنی اسرائیل کو رہا کیا، نہ ایمان قبول کیا۔

اس پر مینڈکوں کا عذاب آیا۔ دربار میں فرعون بیٹھا ہوا ہے تو وہیں مینڈک ظاہر ہو کر ٹرانے لگا۔ سمجھ گئے کہ یہ نئی شکل کا عذاب الٰہی ہے۔ اب یہ پھیلنے اور بڑھنے شروع ہوئے، یہاں تک کہ آدمی بیٹھتا تو اس کی گردن تک آس پاس سے اسے مینڈک گھیر لیتے۔ جہاں بات کرنے کے لئے کوئی منہ کھولتا کہ مینڈک تڑپ کر اس کے منہ میں گھس جاتا۔ پھر تنگ آ کر موسیٰ علیہ السلام سے اس عذاب کے ہٹنے کی درخواست کی اور اقرار کیا کہ ہم خود ایمان لائیں گے اور بنی اسرائیل کو بھی آزاد کر دیں گے۔ چنانچہ آپ نے دعا کی، اللہ تعالیٰ نے اس مصیبت کو بھی دفع کر دیا لیکن پھر مکر گئے۔ چنانچہ ان پر خون کا عذاب آیا۔ تمام برتنوں میں خون، کھانے پینے کی چیزوں میں خون، کنویں میں سے پانی نکالیں تو خون، تالاب سے پانی لائیں تو خون۔ پھر تڑپ اٹھے، فرعون نے کہا: یہ بھی جادو ہے۔ لیکن جب تنگ آ گئے تو آخر موسیٰ علیہ السلام سے مع وعدہ درخواست کی کہ ہم تو پانی سے ترس گئے۔ چنانچہ آپ نے قول و قرار لے کر پھر دعا کی اور الل تعالیٰ نے اس عذاب کو بھی ہٹا لیا لیکن یہ پھر منکر ہو گئے۔

فرعون جب میدان سے ناکام واپس لوٹا تھا، اس نے ٹھان لی تھی کہ خواہ کچھ بھی ہو، میں ایمان نہ لاؤں گا۔ چنانچہ طوفان کی وجہ سے بھوکوں مرنے لگے پھر ٹڈیوں کا عذاب آیا تو درخت تو کیا گھر کی چوکھٹیں اور دروازوں تک وہ کھا گئیں، مکانات گرنے لگے۔ موسیٰ علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے ایک پتھر پر لکڑی ماری جس میں سے بےشمار چچڑیاں نکل پڑیں اور پھیل گئیں۔ کھانا، پینا، سونا، بیٹھنا سب بند ہو گیا۔ پھر مینڈکوں کا عذاب آیا جہاں دیکھو، مینڈک نظر آنے لگے۔ پھر خون کا عذاب آیا۔ نہریں، تالاب، کنویں، مٹکے، گھڑے وغیرہ غرض بجائے پانی کے خون ہی خون سب چیزیں ہو گئیں۔ عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں: مینڈک کو نہ مارو۔ یہ جب بصورت عذاب فرعونیوں کے پاس آئے تو ایک نے اللہ کی رضا جوئی کے لیے تنور میں چھلانگ ماری۔ اللہ نے اس کے بدلے انہیں پانی کی ٹھنڈک عطا فرمائی اور ان کی آواز کو اپنی تسبیح بنایا۔ یہ بھی مروی ہے کہ خون سے مراد نکسیر پھوٹنا ہے۔ الغرض ہر عذاب کو دیکھ کر اقرار کرتے لیکن جب موسیٰ علیہ السلام کی دعا سے وہ ہٹ جاتا تو پھر انکار کر جاتے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
فَلَمَّا کَشَفۡنَا عَنۡہُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤی اَجَلٍ ہُمۡ بٰلِغُوۡہُ اِذَا ہُمۡ یَنۡکُثُوۡنَ ﴿۱۳۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
مگر جب ہم ان پر سے اپنا عذاب ایک وقت مقرر تک کے لیے، جس کو وہ بہرحال پہنچنے والے تھے، ہٹا لیتے تو وہ یکلخت اپنے عہد سے پھر جاتے
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر جب ان سے اس عذاب کو ایک خاص وقت تک کہ اس تک ان کو پہنچنا تھا ہٹا دیتے، تو وه فوراً ہی عہد شکنی کرنے لگتے
احمد رضا خان بریلوی
پھر جب ہم ان سے عذاب اٹھالیتے ایک مدت کے کیے جس تک انہیں پہنچنا ہے جبھی وہ پھر جاتے،
علامہ محمد حسین نجفی
تو جب ہم وہ عذاب ایک مقررہ مدت تک ہٹا دیتے جس تک وہ بہرحال پہنچنے والے تھے۔ تو وہ اپنے کئے ہوئے عہد و پیمان کو توڑ دیتے۔
عبدالسلام بن محمد
پھر جب ہم ان سے عذاب کو اس وقت تک دور کر دیتے جسے وہ پہنچنے والے ہوتے تو اچانک وہ عہد توڑ دیتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سیاہ دل لوگ اقرار کے بعد انکار کرتے رہے ٭٭

ان کی سرکشی اور ضد دیکھئیے کہ موسیٰ علیہ السلام سے صاف کہتے ہیں کہ آپ خواہ کتنی ہی دلیلیں پیش کریں، کیسے ہی معجزے بتائیں، ہم ایمان لانے والے نہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ سب آپ کے جادو کے کرشمے ہیں۔ ان پر طوفان آیا، بکثرت بارشیں برسیں جس سے پھل اور اناج تباہ ہو گئے اور اسی سے وبا اور طاعون کی بیماری پھیل پڑی۔ اسی لیے بعض مفسرین نے کہا ہے: ”طوفان سے مراد موت ہے۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:15005] ‏‏‏‏ بعض کہتے ہیں: کوئی زبردست آسمانی آفت آئی تھی جس نے انہیں گھیر لیا تھا۔ ٹڈیوں کی مصیبت ان پر آئی۔ یہ ایک حلال جانور ہے۔ { سیدنا عبداللہ بن ابی اونی رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا تو آپ نے فرمایا: سات غزوے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کئے ہیں۔ ہر ایک میں ہم تو ٹڈیاں کھاتے رہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:5495] ‏‏‏‏ مسند احمد اور ابن ماجہ میں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: { دو مردے اور دو خون ہمارے لیے حلال ہیں، مچھلی اور ٹڈی اور کلیجی اور تلی۔ } ۱؎ [سنن ابن ماجه:3314،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ابوداؤد میں ہے: { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ٹڈی کی نسبت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا: اللہ کے لشکر بہت سے ہیں جنہیں نہ میں کھاتا ہوں، نہ حرام کہتا ہوں۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:3813،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جی نہ چاہنے کی وجہ سے اسے چھوڑ دیا جیسے گوہ آپ نے نہیں کھایا حالانکہ دوسروں کو اس کے کھانے کی اجازت مرحمت فرمائی۔ حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ نے ایک مستقل رسالہ اسی میں تصنیف فرمایا ہے۔ اس میں ایک روایت یہ بھی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ٹڈی نہیں کھاتے تھے اور نہ گردے کھاتے تھے اور نہ گوہ۔

{ لیکن انہیں آپ نے حرام نہیں کیا۔ ٹڈی اس وجہ سے کہ وہ عذاب ہے، گردے اس وجہ سے کہ یہ پیشاب کے قریب ہیں اور گوہ اس وجہ سے کہ آپ کو خوف تھا کہ کہیں یہ مسخ شدہ امت نہ ہو۔ } ۱؎ [ضعیف الجامع الصغیر:3392] ‏‏‏‏ پھر یہ روایت بھی غریب ہے، صرف یہی ایک سند ہے۔ { امیر المؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ٹڈی کو بڑی رغبت سے کھایا کرتے، تلاش کر کے منگوایا کرتے۔ چنانچہ کسی نے آپ سے مسئلہ پوچھا کہ ٹڈی کھائی جائے؟ آپ نے فرمایا کہ کاش کہ ایک دو لپیں مل جاتیں تو کیسے مزے سے کھاتے۔ } ۱؎ [موطا:30:صحیح] ‏‏‏‏ ابن ماجہ میں ہے کہ { امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن تو طباقوں میں لگا کر ٹڈیاں ہدیے اور تحفے کے طور پر بھیجتی تھیں۔ } ۱؎ [سنن ابن ماجه:3220، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ امام بغوی ایک روایت لائے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { مریم بنت عمران علیہا السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ ایسا گوشت مجھے کھلا جس میں خون نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ٹڈی کھلائی آپ نے ان کے لیے دعا کی کہ اے اللہ! اسے بغیر دودھ پینے کے زندگی دے اور اس کی اولاد کو بغیر آواز نکالے اس کے پیچھے لگا دے۔ } [بیہقی فی السنن الکبری:258/9:ضعیف] ‏‏‏‏ ایک بہت ہی غریب حدیث میں ہے: { ٹڈیوں کو مارو نہیں، یہ اللہ تعالیٰ کا بڑا لشکر ہے۔ } ۱؎ [طبرانی کبیر:297/22:حسن] ‏‏‏‏ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”ٹڈیاں ان کے دروازوں کی کیلیں کھا جاتی تھیں اور لکڑی چھوڑ دیتی تھیں۔“ اوزاعی کہتے ہیں: ”میں ایک دن جنگل میں تھا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ٹڈیاں بہت سی آسمان کی طرف ہیں اور ان میں سے ایک ٹڈی پر ایک شخص سوار ہے جو ہتھیار بند ہے جو جس طرف اشارہ کرتا ہے، ساری ٹڈیاں اس طرف کو جھک جاتی ہیں اور وہ زبان سے برابر کہہ رہا ہے کہ دنیا باطل ہے اور اس میں جو ہے وہ بھی باطل ہے۔“

شریح قاضی فرماتے ہیں: ”اس جانور میں سات مختلف جانوروں کی شان ہے: اس کا سر گھوڑے جیسا ہے، گردن بیل جیسی ہے، سینہ شیر جیسا ہے، پر گدھ جیسے ہیں، پیر اونٹ جیسے ہیں، دم سانپ کی طرح کی ہے، پیٹ بچھو جیسا ہے۔“ آیت «أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ مَتَاعًا لَّكُمْ وَلِلسَّيَّارَةِ» ۱؎ [5-المائدة:96] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں یہ روایت گزر چکی ہے کہ { ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج یا عمرے میں جا رہے تھے تو سامنے سے ہمیں ٹڈی دل ملا۔ ہم نے احرام کی حالت میں انہیں لکڑیوں سے مارنا شروع کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرنے پر آپ نے فرمایا: دریائی شکار میں محرم کو کوئی حرج نہیں۔ } ۱؎ [سنن ابن ماجه:3222،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب ان ٹڈیوں کے لئے بد دعا کرتے تو فرماتے: اے اللہ! جتنی ان میں سے بڑی ہیں تو انہیں سب کو ہلاک کر ڈال اور جتنی چھوٹی ہیں، سب کو قتل کر ڈال۔ ان کے انڈے خراب کر دے، ان کی نسل کاٹ دے۔ ان کے منہ ہماری روزی سے روک لے۔ ہمیں روزیاں عطا فرما۔ بیشک تو دعاؤں کا سننے والا ہے۔ اس پر سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ کے ایک لشکر کے غارت و برباد ہو جانے کی آپ دعا کرتے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا کہ یہ تو سمندر کے اندر کی مچھلیوں کا ناک جھاڑنا ہے۔ چنانچہ بعض لوگوں نے اسے مچھلی میں سے اسی طرح نکلتے دیکھا ہے۔ } ۱؎ [سنن ابن ماجه:3221،قال الشيخ الألباني:موضوع و باطل] ‏‏‏‏ جب مچھلی سمندر کے کنارے انڈے دے جاتی ہے، وہاں سے جب پانی ہٹ جاتا ہے اور دھوپ پڑنے لگتی ہے تو وہ انڈے سب کے سب پھوٹ جاتے ہیں اور ان میں سے ٹڈیاں نکلتی ہیں جو پرواز کر جاتی ہیں۔ آیت قرآن «إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُم» ۱؎ [6-الأنعام:38] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی وہ حدیث ہم نے بیان کر دی ہے کہ { اللہ تعالیٰ نے ایک ہزار امتیں پیدا کی ہیں جن میں سے چھ سو تری میں ہیں اور جار سو خشکی میں۔ سب سے پہلے ہلاکت ٹڈیوں کی ہو گی۔ } ۱؎ [سلسلة احادیث ضعیفہ البانی:4811] ‏‏‏‏ امام ابوبکر بن ابوداؤد ایک حدیث لائے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { لکڑی تلوار کے مقابلے پر کچھ نہیں اور درخت کی چھال ٹڈی کے مقابلے میں کچھ نہیں۔ } ۱؎ [میزان:1808:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ حدیث غریب ہے۔

«قُمَّل» کے بارے میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ یہ وہ سیاہ رنگ کے چھوٹے چھوٹے جانور ہیں جو گیہوں میں سے نکلتے ہیں۔ اور قول ہے کہ یہ بھی ایک قسم کی بےپر ٹڈیاں ہیں۔ سعید کہتے ہیں: سیاہ رنگ کے چھوٹے سے کیڑے ہیں۔ اس کا واحد «قملہ» ہے۔ یہ جانور جب اونٹ کو چمٹ جاتے ہیں تو اسے ہلاک کر دیتے ہیں۔ الغرض ایسے ہی موذی جانور بصورت عذاب فرعونیوں کے لیے بھیجے گئے تھے۔ فرعون کی سرکشی اور انکار پر طوفان آیا جس سے انہیں یقین ہو گیا کہ یہ اللہ کا عذاب ہے۔ گڑگڑا کر موسیٰ علیہ السلام سے عرض کرنے لگے کہ اللہ سے دعا کیجئے، یہ موسلا دھار پانی رک جائے تو ہم آپ پر ایمان لائیں گے اور بنی اسرائیل کو آپ کے ساتھ کر دیں گے۔ آپ نے دعا کی، طوفان ہٹ گیا تو یہ اپنے وعدے سے پھر گئے۔ پھر اللہ کی شان ہے کہ کھیتیاں اور باغات اس قدر پھلے کہ اس سے پہلے کبھی ایسے نہیں پھلے تھے۔ جب تیار ہو گئے تو ٹڈیوں کا عذاب آیا، اسے دیکھ کر پھر گھبرائے اور موسیٰ علیہ السلام سے عرض کرنے لگے کہ اللہ سے دعا کیجئے کہ یہ عذاب ہٹا لے، اب ہم پختہ وعدہ کرتے ہیں۔ چنانچہ آپ کی دعا سے یہ عذاب بھی ہٹ گیا لیکن انہوں نے پھر وعدہ شکنی کی۔ فصلیں کاٹ لائے، کھلیان اٹھا لیے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا عذاب پھر اور شکل میں آیا۔ تمام اناج وغیرہ میں کیڑا لگ گیا، اس قدر بکثرت یہ جانور پھیل گئے کہ دس پیمانے لے کر کوئی شخص پسوانے نکلتا تو پسوانے تک یہ جانور سات پیمانے کھا لیتے۔ گھبرا کر موسیٰ علیہ السلام کی طرف متوجہ ہوئے، پھر وعدے کئے۔ آپ نے پھر دعا کی۔ اللہ تعالیٰ نے اس آفت کو بھی ہٹا لیا۔ لیکن انہوں نے پھر بےایمانی کی۔ نہ بنی اسرائیل کو رہا کیا، نہ ایمان قبول کیا۔

اس پر مینڈکوں کا عذاب آیا۔ دربار میں فرعون بیٹھا ہوا ہے تو وہیں مینڈک ظاہر ہو کر ٹرانے لگا۔ سمجھ گئے کہ یہ نئی شکل کا عذاب الٰہی ہے۔ اب یہ پھیلنے اور بڑھنے شروع ہوئے، یہاں تک کہ آدمی بیٹھتا تو اس کی گردن تک آس پاس سے اسے مینڈک گھیر لیتے۔ جہاں بات کرنے کے لئے کوئی منہ کھولتا کہ مینڈک تڑپ کر اس کے منہ میں گھس جاتا۔ پھر تنگ آ کر موسیٰ علیہ السلام سے اس عذاب کے ہٹنے کی درخواست کی اور اقرار کیا کہ ہم خود ایمان لائیں گے اور بنی اسرائیل کو بھی آزاد کر دیں گے۔ چنانچہ آپ نے دعا کی، اللہ تعالیٰ نے اس مصیبت کو بھی دفع کر دیا لیکن پھر مکر گئے۔ چنانچہ ان پر خون کا عذاب آیا۔ تمام برتنوں میں خون، کھانے پینے کی چیزوں میں خون، کنویں میں سے پانی نکالیں تو خون، تالاب سے پانی لائیں تو خون۔ پھر تڑپ اٹھے، فرعون نے کہا: یہ بھی جادو ہے۔ لیکن جب تنگ آ گئے تو آخر موسیٰ علیہ السلام سے مع وعدہ درخواست کی کہ ہم تو پانی سے ترس گئے۔ چنانچہ آپ نے قول و قرار لے کر پھر دعا کی اور الل تعالیٰ نے اس عذاب کو بھی ہٹا لیا لیکن یہ پھر منکر ہو گئے۔

فرعون جب میدان سے ناکام واپس لوٹا تھا، اس نے ٹھان لی تھی کہ خواہ کچھ بھی ہو، میں ایمان نہ لاؤں گا۔ چنانچہ طوفان کی وجہ سے بھوکوں مرنے لگے پھر ٹڈیوں کا عذاب آیا تو درخت تو کیا گھر کی چوکھٹیں اور دروازوں تک وہ کھا گئیں، مکانات گرنے لگے۔ موسیٰ علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے ایک پتھر پر لکڑی ماری جس میں سے بےشمار چچڑیاں نکل پڑیں اور پھیل گئیں۔ کھانا، پینا، سونا، بیٹھنا سب بند ہو گیا۔ پھر مینڈکوں کا عذاب آیا جہاں دیکھو، مینڈک نظر آنے لگے۔ پھر خون کا عذاب آیا۔ نہریں، تالاب، کنویں، مٹکے، گھڑے وغیرہ غرض بجائے پانی کے خون ہی خون سب چیزیں ہو گئیں۔ عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں: مینڈک کو نہ مارو۔ یہ جب بصورت عذاب فرعونیوں کے پاس آئے تو ایک نے اللہ کی رضا جوئی کے لیے تنور میں چھلانگ ماری۔ اللہ نے اس کے بدلے انہیں پانی کی ٹھنڈک عطا فرمائی اور ان کی آواز کو اپنی تسبیح بنایا۔ یہ بھی مروی ہے کہ خون سے مراد نکسیر پھوٹنا ہے۔ الغرض ہر عذاب کو دیکھ کر اقرار کرتے لیکن جب موسیٰ علیہ السلام کی دعا سے وہ ہٹ جاتا تو پھر انکار کر جاتے۔
135۔ 1 یعنی ایک عذاب آتا تو اس سے تنگ آکر موسیٰ ؑ کے پاس آتے تو ان کی دعا سے ٹل جاتا تو ایمان لانے کی بجائے پھر اس کفر اور شرک پر جمے رہتے پھر دوسرا عذاب آجاتا پھر اسی طرح کرتے یوں کچھ کچھ وقفوں سے پانچ عذاب ان پر آئے لیکن ان کے دلوں میں جو فرعونیت اور دماغوں میں جو تکبر تھا وہ حق کی راہ میں ان کے لئے زنجیر پا بنا رہا اتنی اتنی واضح نشانیاں دیکھنے کے باوجود ایمان کی دولت سے محروم ہی رہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡہُمۡ فَاَغۡرَقۡنٰہُمۡ فِی الۡیَمِّ بِاَنَّہُمۡ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا وَ کَانُوۡا عَنۡہَا غٰفِلِیۡنَ ﴿۱۳۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تب ہم نے اُن سے انتقام لیا اور انہیں سمندر میں غرق کر دیا کیونکہ انہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا تھا اور اُن سے بے پروا ہو گئے تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر ہم نے ان سے بدلہ لیا یعنی ان کو دریا میں غرق کر دیا اس سبب سے کہ وه ہماری آیتوں کو جھٹلاتے تھے اور ان سے بالکل ہی غفلت کرتے تھے
احمد رضا خان بریلوی
تو ہم نے ان سے بدلہ لیا تو انہیں دریا میں ڈبو دیا اس لیے کہ ہماری آیتیں جھٹلاتے اور ان سے بے خبر تھے
علامہ محمد حسین نجفی
تب ہم نے ان سے اس طرح انتقام لیا کہ انہیں سمندر میں غرق کر دیا۔ کیونکہ وہ ہماری نشانیوں کو جھٹلاتے تھے اور ان کی طرف سے غفلت برتتے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
تو ہم نے ان سے انتقام لیا، پس انھیں سمندر میں غرق کر دیا، اس وجہ سے کہ بے شک انھوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور وہ ان سے غافل تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انجام سرکشی ٭٭

جب یہ لوگ اپنی سرکشی اور خود پسندی میں اتنے بڑھ گئے کہ باری تعالیٰ کی بار بار کی نشانیاں دیکھتے ہوئے بھی ایمان لانے سے برابر انکار کرتے رہے تو قدرت نے اپنے زبردست انتقام میں انہیں پھانس لیا اور سب کو دریا برد کر دیا۔ بنی اسرائیل بحکم الٰہی ہجرت کر کے چلے تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے دریا ان کے لیے خشک ہو گیا۔ پھر فرعون اور اس کے ساتھی اس میں اترے تو دریا میں پھر روانی آ گئی اور پانی کا ریلہ آیا اور وہ سب ڈوب گئے۔ یہ تھا انجام اللہ کی باتوں کو جھوٹ سمجھنے اور ان سے غافل رہنے کا۔ پھر پروردگار نے بنو اسرائیل جیسے کمزور، ناتواں لوگوں کو اس زمین کا وارث بنا دیا۔ مشرق و مغرب ان کے قبضے میں آ گیا۔ جیسے فرمان ہے کہ ہم نے ان بے بسوں پر احسان کرنا چاہا اور انہیں امام اور وارث بنانا چاہا۔ انہیں حکومت سونپ دی اور فرعون و ہامان اور ان کے لشکریوں کو وہ نتیجہ دکھایا جس سے وہ بھاگ رہے تھے۔ اور آیتوں میں ہے کہ فرعونیوں سے ہرے بھرے باغات، چشمے، کھیتیاں، عمدہ مقامات، فراواں نعمتیں چھڑوا کر ہم نے دوسری قوم کے سپرد کر دیں۔ سرزمین شام برکت والی ہے۔ یہ ہماری قدرت کی نشانیوں میں سے ہے۔ بنی اسرائیل کا صبر نیک نتیجہ لایا، فرعون اور اس کی قوم کی بنی بنائی چیزیں غارت ہوئیں۔
136۔ 1 اتنی بڑی نشانیوں کے باوجود وہ ایمان نہ لانے کے لئے اور خواب غفلت سے بیدار ہونے کے لئے تیار نہیں ہوئے بالآخر انہیں دریا میں غرق کردیا، جس کی تفصیل قرآن مجید کے مختلف مقامات پر موجود ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَ اَوۡرَثۡنَا الۡقَوۡمَ الَّذِیۡنَ کَانُوۡا یُسۡتَضۡعَفُوۡنَ مَشَارِقَ الۡاَرۡضِ وَ مَغَارِبَہَا الَّتِیۡ بٰرَکۡنَا فِیۡہَا ؕ وَ تَمَّتۡ کَلِمَتُ رَبِّکَ الۡحُسۡنٰی عَلٰی بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ ۬ۙ بِمَا صَبَرُوۡا ؕ وَ دَمَّرۡنَا مَا کَانَ یَصۡنَعُ فِرۡعَوۡنُ وَ قَوۡمُہٗ وَ مَا کَانُوۡا یَعۡرِشُوۡنَ ﴿۱۳۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور اُن کی جگہ ہم نے اُن لوگوں کو جو کمزور بنا کر رکھے گئے تھے، اُس سرزمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا جسے ہم نے برکتوں سے مالا مال کیا تھا اس طرح بنی اسرائیل کے حق میں تیرے رب کا وعدہ خیر پورا ہوا کیونکہ اُنہوں نے صبر سے کام لیا تھا اور فرعون اور اس کی قوم کا وہ سب کچھ برباد کر دیا گیا جو وہ بناتے اور چڑھاتے تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہم نے ان لوگوں کو جو کہ بالکل کمزور شمار کئے جاتے تھے۔ اس سرزمین کے پورب پچھم کا مالک بنا دیا، جس میں ہم نے برکت رکھی ہے اور آپ کے رب کا نیک وعده، بنی اسرائیل کے حق میں ان کے صبر کی وجہ سے پورا ہوگیا اور ہم نے فرعون کے اور اس کی قوم کے ساختہ پرداختہ کارخانوں کو اور جو کچھ وه اونچی اونچی عمارتیں بنواتے تھے، سب کو درہم برہم کر دیا
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم نے اس قوم کو جو دبا لی گئی تھی اس زمین کے پورب پچھم کا وارث کیا جس میں ہم نے برکت رکھی اور تیرے رب کا اچھا وعدہ بنی اسرائیل پر پورا ہوا، بدلہ ان کے صبر کا، اور ہم نے برباد کردیا جو کچھ فرعون اور اس کی قوم بناتی اور جو چنائیاں اٹھاتے (تعمیر کرتے) تھے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ان کی جگہ ہم نے ان لوگوں کو وارث (اور مالک) بنایا جن کو کمزور سمجھا جاتا تھا۔ اور وارث بھی اس مشرق و مغرب کا بنایا جس میں ہم نے برکت دی ہے اور اسی طرح آپ کے پروردگار کا وہ اچھا وعدہ پورا ہوگیا جو اس نے بنی اسرائیل سے کیا تھا کیونکہ انہوں نے صبر و ضبط سے کام لیا تھا اور ہم نے اسے مٹا دیا جو کچھ فرعون اور اس کی قوم والے کرتے تھے اور برباد کر دیئے وہ اونچے مکان جو وہ تعمیر کرتے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے، اس سر زمین کے مشرقوں اور اس کے مغربوں کا وارث بنا دیا، جس میں ہم نے برکت رکھی ہے اور تیرے رب کی بہترین بات بنی اسرائیل پر پوری ہوگئی، اس وجہ سے کہ انھوں نے صبر کیا اور ہم نے برباد کر دیا جو کچھ فرعون اور اس کے لوگ بناتے تھے اور جو عمارتیں وہ بلند کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انجام سرکشی ٭٭

جب یہ لوگ اپنی سرکشی اور خود پسندی میں اتنے بڑھ گئے کہ باری تعالیٰ کی بار بار کی نشانیاں دیکھتے ہوئے بھی ایمان لانے سے برابر انکار کرتے رہے تو قدرت نے اپنے زبردست انتقام میں انہیں پھانس لیا اور سب کو دریا برد کر دیا۔ بنی اسرائیل بحکم الٰہی ہجرت کر کے چلے تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے دریا ان کے لیے خشک ہو گیا۔ پھر فرعون اور اس کے ساتھی اس میں اترے تو دریا میں پھر روانی آ گئی اور پانی کا ریلہ آیا اور وہ سب ڈوب گئے۔ یہ تھا انجام اللہ کی باتوں کو جھوٹ سمجھنے اور ان سے غافل رہنے کا۔ پھر پروردگار نے بنو اسرائیل جیسے کمزور، ناتواں لوگوں کو اس زمین کا وارث بنا دیا۔ مشرق و مغرب ان کے قبضے میں آ گیا۔ جیسے فرمان ہے کہ ہم نے ان بے بسوں پر احسان کرنا چاہا اور انہیں امام اور وارث بنانا چاہا۔ انہیں حکومت سونپ دی اور فرعون و ہامان اور ان کے لشکریوں کو وہ نتیجہ دکھایا جس سے وہ بھاگ رہے تھے۔ اور آیتوں میں ہے کہ فرعونیوں سے ہرے بھرے باغات، چشمے، کھیتیاں، عمدہ مقامات، فراواں نعمتیں چھڑوا کر ہم نے دوسری قوم کے سپرد کر دیں۔ سرزمین شام برکت والی ہے۔ یہ ہماری قدرت کی نشانیوں میں سے ہے۔ بنی اسرائیل کا صبر نیک نتیجہ لایا، فرعون اور اس کی قوم کی بنی بنائی چیزیں غارت ہوئیں۔
137۔ 1 یعنی بنی اسرائیل کو جن کو فرعون نے غلام بنا رکھا تھا اور ان پر ظلم روا رکھا تھا، اس بنا پر وہ فی الواقع مصر میں کمزور سمجھے جاتے تھے کیونکہ مغلوب اور غلام تھے۔ لیکن جب اللہ نے چاہا تو اسی مغلوب اور غلام قوم کو زمین کا وارث بنادیا۔ (2) زمین سے مراد شام کا علاقہ فلسطین ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے عمالقہ کے بعد بنی اسرائیل کو غلبہ عطا فرمایا شام میں بنی اسرائیل حضرت موسیٰ ؑ و ہارون ؑ کی وفات کے بعد اس وقت گئے جب یوشع بن نون نے عمالقہ کو شکست دے کر بنی اسرائیل کے لیے راستہ ہموار کردیا۔ اور زمین کے ان حصوں میں برکتیں رکھیں یعنی شام کے علاقے میں۔ جو بکثرت انبیاء کا مسکن و مدفن رہا اور ظاہری شادابی وخوش حالی میں بھی ممتاز ہے۔ یعنی ظاہری و باطنی دونوں قسم کی برکتوں سے یہ زمین مالا مال رہی ہے۔ مشارق مشرق کی جمع اور مغارب مغرب کی جمع ہے۔ حالانکہ مشرق اور مغرب ایک ایک ہی ہیں۔ جمع سے مراد اس ارض بابرکت کے مشرقی اور مغربی حصے ہیں یعنی جہات مشرق ومغرب۔ 137۔ 2 یہ وہ وعدہ بھی ہے جو اس سے قبل حضرت موسیٰ ؑ کی زبانی آیت نبر 128، 129 میں فرمایا گیا ہے اور سورة قصص میں بھی 137۔ 3 مصنوعات سے مراد کارخانے، عمارتیں اور ہتھیار وغیرہ ہیں (جو وہ بلند کرتے تھے) اس سے مراد اونچی اونچی عمارتیں بھی ہوسکتی ہیں، ہتھیار اور دیگر سامان بھی تباہ کردیا اور ان کے باغات بھی۔
(آیت 138،137) ➊ { وَ اَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِيْنَ كَانُوْا يُسْتَضْعَفُوْنَ:} موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے دو وعدے کیے تھے، دشمن کی ہلاکت اور ملک کی وراثت و خلافت۔ چنانچہ پہلا وعدہ پورا ہونے کے بعد اب یہاں دوسرے وعدے کی تکمیل کا بیان ہے۔ یہاں مبارک سرزمین سے شام کی سرزمین مراد ہے اور یہ وعدہ موسیٰ علیہ السلام کی وفات کے بعد یوشع علیہ السلام کے دور میں پورا ہونا شروع ہوا، جب انھوں نے عمالقہ سے جہاد کرکے بعض علاقے اپنے قبضے میں لے لیے مگر پورا ملک شام داؤد اور سلیمان علیھما السلام کے زمانے میں قبضے میں آیا۔ ➋ {مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَ مَغَارِبَهَا الَّتِيْ بٰرَكْنَا فِيْهَا:مَشَارِقَ الْاَرْضِ “} یہ{” يُسْتَضْعَفُوْنَ“} کا مفعول نہیں بلکہ{” اَوْرَثْنَا “} کا مفعول ہے۔ کیونکہ بنی اسرائیل کو زیادہ سے زیادہ کمزور اور بے بس تو مصر میں بنایا گیا تھا، شام میں نہیں۔ ارض مبارک سے مراد قرآن مجید میں عام طور پر سرزمین شام لی گئی ہے۔ دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل (ا)، انبیاء (۷۱، ۸۱) اور سبا (۱۸) مشارق و مغارب جمع لانے کا مقصد یہ ہے کہ سرزمین شام کے تمام مشرقی اور مغربی علاقوں پر ان کی حکومت ہوگئی۔ کیونکہ ہر روز زمین کے ہر حصے میں سورج کے طلوع و غروب کا وقت اور جگہ بدلتے رہتے ہیں۔ بعض اہل علم نے مصر اور شام دونوں مراد لیے ہیں اور لکھا ہے کہ فرعون کی تباہی کے بعد بنی اسرائیل مدتوں مصر پر حکمران رہے۔ قرآن کریم کی بعض آیات سے اس کی تصدیق ہوتی ہے۔ دیکھیے سورۂ دخان(۲۸)، شعراء (۵۹) اور قصص (۵) اس صورت میں {” بٰرَكْنَا فِيْهَا “} سے مراد سرزمین مصر و شام کا نہایت زرخیز اور آباد ہونا ہو گا۔ ➌ {وَ تَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنٰى …: ” الْحُسْنٰى “} یہ {”اَلْاَحْسَنُ“} کی مؤنث ہے جو تفضیل کا صیغہ ہے۔ بہترین بات سے مراد اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ ہم تمھارے دشمنوں کو ہلاک کریں گے اور تمھیں اس سرزمین کی وراثت اور حکومت عطا فرمائیں گے۔ بنی اسرائیل کے ساتھ وعدہ پورا کرنے کا باعث اللہ تعالیٰ نے ان کا صبر بیان فرمایا کہ اتنی سختیوں کے باوجود انھوں نے فرعون کو رب نہیں مانا، اپنے مسلمان ہونے پر قائم رہے، اگرچہ غلامی اور محکومیت کی وجہ سے ان کے مزاج اور دینی حالت میں کئی خرابیاں آ چکی تھیں، مگر انھوں نے اسلام کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ ➍ {وَ دَمَّرْنَا مَا كَانَ يَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَ قَوْمُهٗ:يَصْنَعُ “} سے مراد ان کی مصنوعات، کارخانے، عمارتیں اور ہتھیار وغیرہ ہیں اور {” يَعْرِشُوْنَ “}کا معنی اگرچہ انگور وغیرہ کے لیے چھپر وغیرہ بنانا بھی ہوتا ہے، مگر مصر میں چونکہ چھپر والے انگوروں کا رواج نہیں تھا، اس لیے اس سے مراد وہ بلند عمارتیں ہیں جو وہ بناتے تھے۔ ➎ {وَ جٰوَزْنَا بِبَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ الْبَحْرَ:} فرعون سے نجات پا کر سمندر پار کرنے کا یہ مبارک دن عاشوراء (دس محرم) تھا۔ موسیٰ علیہ السلام نے شکر ادا کرنے کے لیے اس دن کا روزہ رکھا اور یہودی بھی اس دن روزہ رکھتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو یہودیوں سے روزے کی وجہ پوچھ کر فرمایا: ”ہم تم سے زیادہ موسیٰ علیہ السلام پر حق رکھتے ہیں۔“ چنانچہ خود بھی روزہ رکھا اور تمام مسلمانوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ آئندہ سال رمضان کے روزے فرض ہوئے تو عاشوراء کا روزہ نفل ہو گیا، جو چاہے رکھے جو چاہے نہ رکھے۔ [ بخاری، التفسیر، باب «‏‏‏‏و لقد أوحینا إلی موسیٰ …» ‏‏‏‏:۴۷۳۷، ۱۵۹۲، عن ابن عباس وعائشۃ رضی اللہ عنھم ] اہل مکہ بھی جاہلیت میں اس دن کا روزہ رکھتے تھے اور اس دن کعبہ پر نیا غلاف چڑھایا جاتا تھا۔ [ بخاری، الحج، باب قول اللہ تعالٰی: «‏‏‏‏جعل اللہ الکعبۃ…» : ۱۵۹۲، عن عائشۃ رضی اللہ عنھا ] آخر عمر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس روزے کی فضیلت کے حصول اور یہود کی مخالفت کی خاطر فرمایا: [ لَئِنْ بَقِيْتُ اِلٰی قَابِلٍ لَاَصُوْمَنَّ التَّاسِعَ ] ”اگر میں آئندہ سال تک زندہ رہا تو ۹ کا روزہ رکھوں گا۔“ مگر آئندہ سال آنے سے پہلے آپ فوت ہو گئے۔ [ مسلم، الصیام، باب أي یوم یصام فی عاشوراء: 1134/134، عن ابن عباس رضی اللہ عنھما ] حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت بھی اس دن ہوئی مگر دین اس سے پہلے مکمل ہو چکا تھا، ان کی شہادت کی وجہ سے دین میں کوئی بھی اضافہ، مثلاً ماتم یا جلوس یا سبیلیں وغیرہ لگانا بدعت ہو گا۔ ➏ {فَاَتَوْا عَلٰى قَوْمٍ يَّعْكُفُوْنَ عَلٰۤى اَصْنَامٍ لَّهُمْ:} پچھلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرعون کے مظالم پر بنی اسرائیل کے صبر کی تعریف اور اس کی وجہ سے ان پر اپنے مزید انعامات کا ذکر فرمایا تھا۔ اب یہاں سے ان کی خوش حالی کے دور کی آزمائش کا ذکر شروع ہوتا ہے۔ اس سے پہلے اسی سورت میں ہر قوم کی تنگی اور آسانی کے ساتھ آزمائش کا ذکر ہوا تھا۔ (دیکھیے اعراف: ۹۴) اور اس بات کا بھی کہ ہم نے ان میں سے اکثرکے لیے کوئی عہد نہیں پایا اور ان کے اکثر کو ہم نے فاسق ہی پایا۔ دیکھیے سورۂ اعراف(۱۰۲) آزادی ملنے کے بعد بنی اسرائیل کی بدعہدی اور فسق کا اور اس کے نتیجے میں انھیں ملنے والی سزا کا تذکرہ بنی اسرائیل کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان کی دعوت اور آپ کی مخالفت سے باز رہنے کی نصیحت کے لیے کیا گیا ہے۔ اس میں امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بھی نصیحت ہے کہ تم لوگ بھی ان کے نقش قدم پر نہ چل نکلنا۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں سمندر سے پار کر دیا تو انھوں نے مشرق کی طرف بیت المقدس ارضِ شام کا رخ کیا، ابھی چلے ہی تھے کہ ان کا گزر ایسے لوگوں پر ہوا جو اپنے کچھ بتوں پر مجاور بنے بیٹھے تھے، یعنی ان کی پوجا کر رہے تھے۔ یہ بت بزرگوں کے تھے یا گائے وغیرہ کے، قرآن نے ذکر نہیں فرمایا اور نہ ہی حدیث میں اس کا ذکر ہے۔ بنی اسرائیل کا جہل اور کفر دیکھیے کہ موسیٰ علیہ السلام کے اتنے واضح معجزات اور اللہ تعالیٰ کے انعامات دیکھنے کے بعد انھوں نے گستاخانہ لہجے میں نام لیتے ہوئے ”اے موسیٰ“ کہہ کر مطالبہ کر دیا کہ ہمارے لیے بھی ان کے معبودوں جیسے معبود بنا دو۔ اس کی وجہ لمبے عرصے تک غلامی کی وجہ سے اہل مصر کے مشرکانہ عقائد کا ذہنوں میں جاگزیں ہونا تھا۔ بعض علمائے تفسیر نے لکھا ہے کہ بنی اسرائیل چونکہ موحد تھے، اس لیے ان کی بت بنانے کے اس مطالبے سے یہ غرض نہ تھی کہ وہ شرک کریں، بلکہ ان کا مطلب یہ تھا کہ ہم اس بت کی تعظیم سے اللہ کا تقرب چاہیں گے، وہ سمجھے کہ یہ شرک نہیں ہے، حالانکہ اس کا شرک ہونا انبیاء علیھم السلام کا اجماعی مسئلہ ہے، کیونکہ اگر یہ شرک نہ ہو تو مکہ کے مشرک اور دوسرے بہت سے مشرک بھی موحد ہی رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ایک جگہ ذکر فرمایا ہے: «{ وَ يَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا يَضُرُّهُمْ وَ لَا يَنْفَعُهُمْ وَ يَقُوْلُوْنَ هٰۤؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنْدَ اللّٰهِ قُلْ اَتُنَبِّـُٔوْنَ اللّٰهَ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِي السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِي الْاَرْضِ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ }» [ یونس: ۱۸ ] ”اور وہ اللہ کے سوا ان چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو انھیں نہ نقصان پہنچاتی ہیں اور نہ انھیں نفع دیتی ہیں اور کہتے ہیں یہ لوگ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں۔ کہہ دے کیا تم اللہ کو اس چیز کی خبر دیتے ہو جسے نہ وہ آسمانوں میں جانتا ہے اور نہ زمین میں؟ وہ پاک ہے او ربلند ہے اس سے جو وہ شریک بناتے ہیں۔“ اور دوسری آیت میں ہے: «{ وَ الَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِيَآءَ مَا نَعْبُدُهُمْ اِلَّا لِيُقَرِّبُوْنَاۤ اِلَى اللّٰهِ زُلْفٰى }» [ الزمر:۳ ] ”اور وہ لوگ جنھوں نے اس کے سوا حمایتی بنا رکھے ہیں (وہ کہتے ہیں) ہم ان کی عبادت نہیں کرتے مگر اس لیے کہ ہمیں اللہ کے قریب کر دیں، اچھی طرح قریب کرنا۔“ ➐ { اِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُوْنَ:} یعنی افسوس کہ تم اللہ تعالیٰ کی شان نہیں پہچانتے، اللہ تعالیٰ کی ذات تو وہ ہے کہ نہ اس کی کوئی مورت بن سکتی ہے اور نہ اس کی عبادت میں کسی کو شریک ٹھہرایا جا سکتا ہے، سو یہ مطالبہ سراسر جاہلانہ اور مشرکانہ ہے۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”جاہل آدمی نظر نہ آنے والے رب کی عبادت کر کے تسکین نہیں پاتا جب تک سامنے ایک صورت نہ ہو، بنی اسرائیل نے جب وہ قوم دیکھی کہ گائے کی صورت کی پوجا کرتے تھے تو انھیں بھی یہ ہوس آئی، آخر سونے کا بچھڑا بنایا اور پوجا۔“ (موضح) آیت میں گائے کی صورت کی صراحت نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان کی بنیاد بن دیکھے رب تعالیٰ پر ایمان لانا ہے، جیسا کہ سورۂ بقرہ (۳) میں ہے: «{ يُؤْمِنُوْنَ بِالْغَيْبِ }» حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہونے کی لذت نے موسیٰ علیہ السلام کے دل کو پروردگار کو دیکھنے کی درخواست پر مجبور کیا، تو اللہ تعالیٰ نے انھیں مشاہدہ کروا کر واضح کر دیا کہ دنیا میں کوئی بھی اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ اب پیغمبر کا بن دیکھے رب پر ایمان دیکھیے اور قوم کا نظر آنے والے خدا کا مطالبہ دیکھیے! دراصل شرک کی بنیاد ہی یہ ہے کہ معبود آنکھوں کے سامنے نظر آنا ضروری ہے، اقبال نے کیا خوب کہا ہے ذوق حضور در جہاں رسم صنم گری نہاد عشق فریب می دہد جان امیدوار را یعنی معبود کو اپنے سامنے حاضر دیکھنے کے ذوق ہی نے دنیا میں بت بنانے کی رسم کی بنیاد رکھی، کیونکہ عشق امید رکھنے والی جان کو فریب میں مبتلا کر دیتا ہے۔ افسوس کہ بنی اسرائیل کے نقش قدم پر چلتے ہوئے کچھ مسلمانوں نے تو پختہ قبریں بنا کر ان پر مجاورت کے ذریعے سے اپنا یہ ذوق پورا کیا اور اکثر لوگوں نے معرفت کے نام پر اپنے شیخ کا تصور ہر لمحے آنکھوں کے سامنے اس طرح رکھا کہ وہ عدم موجودگی میں بھی انھیں آنکھوں سے نظر آنے لگا اور وہ اپنے خیال میں اس سے پوچھ کر ہر کام کرنے لگے۔ اس کا نام انھوں نے فنا فی الشیخ ہونا رکھا، پھر کچھ آگے بڑھے اور اسی صورت کو رسول قرار دے کر انھیں آنکھوں سے دیکھنا، ان سے باتیں کرنا اور ہدایات لینا شروع کر دیا اور اسے فنا فی الرسول قرار دیا، پھر کچھ اور آگے بڑھے تو اسی صورت کو رب قرار دے کر ہر لمحے آنکھوں کے سامنے رکھ لیا اور اسے فنا فی اللہ کہہ کر شیخ کی صورت کے خدا ہونے اور ہر وقت اس کے دیدار اور اس سے ہم کلام ہونے کا دعویٰ کر دیا۔ انتہا یہاں جا کر ہوئی کہ اپنے آپ کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک ہو جانے کا دعویٰ کر دیا۔ کسی نے کہا {” أَنَا الْحَقُّ “ } میں خدا ہوں۔ کسی نے کہا {” سُبْحَانِيْ مَا أَعْظَمُ شَأْنِيْ“} میں سبحان ہوں، میری شان کس قدر عظیم ہے، اور کسی نے کہا: من تو شدم تو من شدی من جاں شدم تو تن شدی تا کس نہ گوید بعد ازیں من دیگرم تو دیگری یعنی ”میں تو ہو گیا، تو میں ہو گیا، میں جان بن گیا تو جسم بن گیا، تاکہ اس کے بعد کوئی یہ نہ کہے کہ میں اور ہوں اور تو کوئی دوسرا ہے۔“ شرک اور مشرکین کا یہ سارا گورکھ دھندا دماغ کی خرابی اور وہم و خیال پر مبنی ہے اور ان کی تمام ریاضتیں دماغ کو خراب کرنے کے لیے ہیں، جو ہندو جوگیوں اور نصرانی راہبوں سے لی گئی ہیں۔ جن کے نتیجے میں وہ کچھ آنکھوں کو دکھائی دینے لگتا ہے جو محض گمان اور خیال کی پیداوار ہوتا ہے اور جس کا حقیقت سے دور کا بھی کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ ترک حیواناتِ جلالی و جمالی کی اصطلاح بنا کر اللہ تعالیٰ کی بہت سی نعمتوں، مثلاً گوشت، دودھ، دہی، گھی اور شہد چھوڑنے سے دماغ میں مزید خشکی اور خرابی پیدا ہو کر انھیں نظر نہ آنے والی چیزیں بھی نظر آنے لگیں۔ تمام بت پرست اسی خیال اور خواہشِ نفس کے پیچھے لگ کر خیالی خداؤں کی پرستش کر رہے ہیں، کوئی پتھر کی بنی ہوئی صورت سامنے رکھ کر اور کوئی اس کا تصور سامنے رکھ کر، حالانکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی ہدایت قرآن و حدیث میں قرب الٰہی کے لیے ان ریاضتوں، سلسلوں اور ذریعوں کا کوئی ذکر نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ نے اسے وہم و گمان اور خواہشِ نفس کا اتباع کہہ کر بت پرستی قرار دیا ہے۔ دیکھیے سورۂ نجم (۱۹ تا ۲۵) اگر اللہ تعالیٰ کے قرب اور دیدار کا طریقہ یہ ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ضرور بتا دیتے۔ جب موسیٰ علیہ السلام جیسے جلیل القدر پیغمبر دنیا میں رب تعالیٰ کا دیدار برداشت نہیں کر سکے تو کسی اور بے چارے کی کیا مجال ہے۔
وَ جٰوَزۡنَا بِبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ الۡبَحۡرَ فَاَتَوۡا عَلٰی قَوۡمٍ یَّعۡکُفُوۡنَ عَلٰۤی اَصۡنَامٍ لَّہُمۡ ۚ قَالُوۡا یٰمُوۡسَی اجۡعَلۡ لَّنَاۤ اِلٰـہًا کَمَا لَہُمۡ اٰلِـہَۃٌ ؕ قَالَ اِنَّکُمۡ قَوۡمٌ تَجۡہَلُوۡنَ ﴿۱۳۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
بنی اسرائیل کو ہم نے سمندر سے گزار دیا، پھر وہ چلے اور راستے میں ایک ایسی قوم پر اُن کا گزر ہوا جو اپنے چند بتوں کی گرویدہ بنی ہوئی تھی کہنے لگے، "اے موسیٰؑ، ہمارے لیے بھی کوئی ایسا معبود بنا دے جیسے اِن لوگوں کے معبود ہیں" موسیٰؑ نے کہا "تم لوگ بڑی نادانی کی باتیں کرتے ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا سے پار اتار دیا۔ پس ان لوگوں کا ایک قوم پر گزر ہوا جو اپنے چند بتوں سے لگے بیٹھے تھے، کہنے لگے اے موسیٰ! ہمارے لیے بھی ایک معبود ایسا ہی مقرر کر دیجئے! جیسے ان کے یہ معبود ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ واقعی تم لوگوں میں بڑی جہالت ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا پار اتارا تو ان کا گزر ایک ایسی قوم پر ہوا کہ اپنے بتوں کے آگے آسن مارے (جم کر بیٹھے) تھے بولے اے موسیٰ! ہمیں ایک خدا بنادے جیسا ان کے لیے اتنے خدا ہیں، بولا تم ضرور جا ہل لوگ ہو،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جب ہم نے بنی اسرائیل کو دریا کے اس پار اتار دیا تو ان کا گزر ایک ایسی قوم سے ہوا جو اپنے (خود ساختہ) معبودوں کی پرستش میں مگن بیٹھی تھی۔ انہوں نے کہا اے موسیٰ ہمارے لئے بھی ایک الٰہ بنا دیں جیسے ان کے الٰہ ہیں۔ موسیٰ نے کہا تم بڑے ہی جاہل لوگ ہو۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے پار اتارا تو وہ ایسے لوگوں پر آئے جو اپنے کچھ بتوں پر جمے بیٹھے تھے، کہنے لگے اے موسیٰ! ہمارے لیے کوئی معبود بنا دے، جیسے ان کے کچھ معبود ہیں؟ اس نے کہا بے شک تم ایسے لوگ ہو جو نادانی کرتے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شوق بت پرستی ٭٭

اتنی ساری اللہ کی قدرت کی نشانیاں بنی اسرائیل دیکھ چکے لیکن دریا پار اترتے ہی بت پرستوں کے ایک گروہ کو اپنے بتوں کے آس پاس اعتکاف میں بیٹھے دیکھتے ہی موسیٰ علیہ السلام سے کہنے لگے کہ ہمارے لیے بھی کوئی چیز مقرر کر دیجئے تاکہ ہم بھی اس کی عبادت کریں جیسے کہ ان کے معبود ان کے سامنے ہیں۔ یہ کافر لوگ کنعانی تھے۔ ایک قول ہے کہ لحم قبیلہ کے تھے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:46/6] ‏‏‏‏ یہ گائے کی شکل بنائے ہوئے اس کی پوجا کر رہے تھے۔ موسیٰ علیہ السلام نے اس کے جواب میں فرمایا کہ تم اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال سے محض ناواقف ہو۔ تم نہیں جانتے کہ اللہ شریک و مثیل سے پاک اور بلند تر ہے۔ یہ لوگ جس کام میں مبتلا ہیں، وہ تباہ کن ہے اور ان کا عمل باطل ہے۔ سیدنا ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ { جب لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکے شریف سے حنین کو روانہ ہوئے تو راستے میں انہیں بیری کا وہ درخت ملا جہاں مشرکین مجاور بن کر بیٹھا کرتے تھے اور اپنے ہتھیار وہاں لٹکایا کرتے تھے، اس کا نام ذات انواط تھا تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ ایک ذات انواط ہمارے لیے بھی مقرر کر دیں۔ آپ نے فرمایا: اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تم نے قوم موسیٰ علیہ السلام جیسی بات کہہ دی کہ ہمارے لیے بھی معبود مقرر کر دیجئے جیسا ان کا معبود ہے۔ جس کے جواب میں کلیم اللہ علیہ السلام نے فرمایا: تم جاہل لوگ ہو، یہ لوگ جس شغل میں ہیں، وہ ہلاکت خیز ہے اور جس کام میں ہیں، وہ باطل ہے۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:15065] ‏‏‏‏ (‏‏‏‏ابن جریر) مسند احمد کی ایک روایت میں ہے کہ یہ درخواست کرنے والے ابوواقد لیثی تھے۔ جواب سے پہلے یہ سوال سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اللہ اکبر کہنا بھی مروی ہے اور یہ بھی کہ آپ نے فرمایا کہ { تم بھی اپنے اگلوں کی سی چال چلنے لگے۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:2180،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏
138۔ 1 اس سے بڑی جہالت اور نادانی کیا ہوگی کہ جس اللہ نے انہیں فرعون جیسے دشمن سے نہ صرف نجات دی، بلکہ ان کی آنکھوں کے سامنے اسے اس کے لشکر سمیت غرق کردیا اور معجزانہ طر یقہ سے دریا عبور کروا دیا۔ وہ دریا پار کرتے ہی اس اللہ کو بھول کر پتھر کے خود تراشیدہ معبود تلاش کرنے لگ گئے۔ کہتے ہیں کہ یہ بت گائے کی شکل کے تھے جو پتھر کی بنی ہوئی تھیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اِنَّ ہٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا ہُمۡ فِیۡہِ وَ بٰطِلٌ مَّا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۳۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ لوگ جس طریقہ کی پیروی کر رہے ہیں وہ تو برباد ہونے والا ہے اور جو عمل وہ کر رہے ہیں وہ سراسر باطل ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ لوگ جس کام میں لگے ہیں یہ تباه کیا جائے گا اور ان کا یہ کام محض بےبنیاد ہے
احمد رضا خان بریلوی
یہ حال تو بربادی کا ہے جس میں یہ لوگ ہیں اور جو کچھ کررہے ہیں نرا باطل ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
جس طریقہ پر یہ لوگ ہیں وہ یقینا تباہ ہو کر رہے گا۔ اور جو کچھ وہ کر رہے ہیں وہ باطل ہوکر رہے گا۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک یہ لوگ، تباہ کیا جانے والا ہے وہ کام جس میں وہ لگے ہوئے ہیں اور باطل ہے جو کچھ وہ کرتے چلے آرہے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شوق بت پرستی ٭٭

اتنی ساری اللہ کی قدرت کی نشانیاں بنی اسرائیل دیکھ چکے لیکن دریا پار اترتے ہی بت پرستوں کے ایک گروہ کو اپنے بتوں کے آس پاس اعتکاف میں بیٹھے دیکھتے ہی موسیٰ علیہ السلام سے کہنے لگے کہ ہمارے لیے بھی کوئی چیز مقرر کر دیجئے تاکہ ہم بھی اس کی عبادت کریں جیسے کہ ان کے معبود ان کے سامنے ہیں۔ یہ کافر لوگ کنعانی تھے۔ ایک قول ہے کہ لحم قبیلہ کے تھے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:46/6] ‏‏‏‏ یہ گائے کی شکل بنائے ہوئے اس کی پوجا کر رہے تھے۔ موسیٰ علیہ السلام نے اس کے جواب میں فرمایا کہ تم اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال سے محض ناواقف ہو۔ تم نہیں جانتے کہ اللہ شریک و مثیل سے پاک اور بلند تر ہے۔ یہ لوگ جس کام میں مبتلا ہیں، وہ تباہ کن ہے اور ان کا عمل باطل ہے۔ سیدنا ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ { جب لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکے شریف سے حنین کو روانہ ہوئے تو راستے میں انہیں بیری کا وہ درخت ملا جہاں مشرکین مجاور بن کر بیٹھا کرتے تھے اور اپنے ہتھیار وہاں لٹکایا کرتے تھے، اس کا نام ذات انواط تھا تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ ایک ذات انواط ہمارے لیے بھی مقرر کر دیں۔ آپ نے فرمایا: اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تم نے قوم موسیٰ علیہ السلام جیسی بات کہہ دی کہ ہمارے لیے بھی معبود مقرر کر دیجئے جیسا ان کا معبود ہے۔ جس کے جواب میں کلیم اللہ علیہ السلام نے فرمایا: تم جاہل لوگ ہو، یہ لوگ جس شغل میں ہیں، وہ ہلاکت خیز ہے اور جس کام میں ہیں، وہ باطل ہے۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:15065] ‏‏‏‏ (‏‏‏‏ابن جریر) مسند احمد کی ایک روایت میں ہے کہ یہ درخواست کرنے والے ابوواقد لیثی تھے۔ جواب سے پہلے یہ سوال سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اللہ اکبر کہنا بھی مروی ہے اور یہ بھی کہ آپ نے فرمایا کہ { تم بھی اپنے اگلوں کی سی چال چلنے لگے۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:2180،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏
139۔ 1 یعنی مورتیوں کے پجاری جن کے حال نے تمہیں بھی دھوکے میں ڈال دیا، ان کا مقدر تباہی اور ان کا یہ فعل باطل اور خسارے کا باعث ہے۔
(آیت 139) {اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمْ فِيْهِ …:} موسیٰ علیہ السلام نے ان کے مطالبے کے جواب میں چار باتیں فرمائیں، پہلی یہ کہ تم لوگ جہالت، یعنی نادانی اور اکھڑ پن اختیار کر رہے ہو، جیسا کہ پچھلی آیت میں گزرا ہے۔ دوسری یہ کہ یہ لوگ اس وقت جس کام میں لگے ہوئے ہیں وہ تباہ و برباد کر دیا جانے والا ہے اور اس سے پہلے بھی یہ جو کچھ کرتے آئے ہیں باطل ہے۔ ایسے کام کا مطالبہ دنیا میں گمراہی و تباہی اور آخرت میں عذاب کا باعث ہے۔
قَالَ اَغَیۡرَ اللّٰہِ اَبۡغِیۡکُمۡ اِلٰـہًا وَّ ہُوَ فَضَّلَکُمۡ عَلَی الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۴۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر موسیٰؑ نے کہا "کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور معبود تمہارے لیے تلاش کروں؟ حالانکہ وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں دنیا بھر کی قوموں پر فضیلت بخشی ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
فرمایا کیا اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی کو تمہارا معبود تجویز کردوں؟ حاﻻنکہ اس نے تم کو تمام جہان والوں پر فوقیت دی ہے
احمد رضا خان بریلوی
کہا کیا اللہ کے سوا تمہارا اور کوئی خدا تلاش کروں حالانکہ اس نے تمہیں زمانے بھر پر فضیلت دی
علامہ محمد حسین نجفی
کہا: کیا میں تمہارے لئے اللہ کے سوا کوئی (اور) خدا تلاش کروں حالانکہ اس نے تمہیں تمام جہانوں کی قوموں پر فضیلت دی۔
عبدالسلام بن محمد
کہا کیا میں اللہ کے سوا تمھارے لیے کوئی معبود تلاش کروں؟ حالانکہ اس نے تمھیں جہانوں پر فضیلت بخشی ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ماضی کی یاد دہانی ٭٭

انہیں اس گمراہ خیالی سے روکنے کے لئے آپ اللہ تعالیٰ کے احسانات یاد دلا رہے ہیں کہ فرعونیوں کی غلامی سے اللہ نے تمہیں آزادی دلوائی، ذلت و رسوائی سے چھٹکارا دیا۔ پھر اوج و عزت عطا فرمائی، تمہارے دیکھتے ہوئے تمہارے دشمنوں کو غارت کر دیا۔ ایسے رب کے سوا اور کون لائق عبادت ہو سکتا ہے؟ فرعون کے وقت کی اپنی ابتری کو بھول گئے جس سے اللہ نے نجات دی۔ اس کی پوری تفسیر سورۃ البقرہ میں گزر چکی ہے۔
140۔ 1 کیا جس اللہ نے تم پر اتنے احسانات اور تمہیں جہانوں پر فضیلت بھی عطا کی، اسے چھوڑ کر میں تمہارے لئے پتھر اور لکڑی کے تراشے ہوئے بت تلاش کروں، یعنی یہ ناشکری اور احسان ناشناسی میں کس طرح کرسکتا ہوں؟ اگلی آیات میں اللہ تعالیٰ کے مزید احسا نات کا تذکرہ ہے۔
(آیت 140){ قَالَ اَغَيْرَ اللّٰهِ اَبْغِيْكُمْ اِلٰهًا …:} تیسری ان کی بات کی تردید کرتے ہوئے بطور سوال ڈانٹ ہے کہ کیا الٰہ (معبود) بھی کوئی ایسی ہستی ہے کہ انسان جسے جی چاہے بنا لے، بلکہ معبود تو وہی ہو سکتا ہے جو انسان کو ہر قسم کے انعامات سے نوازتا ہے اور پھر جس ذات نے تم پر بے بہا انعامات کیے ہیں اور تمھیں تمام عالم پر فضیلت بخشی ہے، کیا اب اس کی شکر گزاری یہی ہے کہ اسے چھوڑ کر دوسروں کی پوجا کرنے لگو؟ یہ شکر گزاری نہیں بلکہ عین ناشکری اور نمک حرامی ہے۔
وَ اِذۡ اَنۡجَیۡنٰکُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ یَسُوۡمُوۡنَکُمۡ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ ۚ یُقَتِّلُوۡنَ اَبۡنَآءَکُمۡ وَ یَسۡتَحۡیُوۡنَ نِسَآءَکُمۡ ؕ وَ فِیۡ ذٰلِکُمۡ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ عَظِیۡمٌ ﴿۱۴۱﴾٪
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور (اللہ فرماتا ہے) وہ وقت یاد کرو جب ہم نے فرعون والوں سے تمہیں نجات دی جن کا حال یہ تھا کہ تمہیں سخت عذاب میں مبتلا رکھتے تھے، تمہارے بیٹوں کو قتل کرتے اور تمہاری عورتوں کو زندہ رہنے دیتے تھے اور اس میں تمہارے رب کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی
مولانا محمد جوناگڑھی
اور وه وقت یاد کرو جب ہم نے تم کو فرعون والوں سے بچا لیا جو تم کو بڑی سخت تکلیفیں پہنچاتے تھے۔ تمہارے بیٹوں کو قتل کر ڈالتے تھے اور تمہاری عورتوں کو زنده چھوڑ دیتے تھے اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے بڑی بھاری آزمائش تھی
احمد رضا خان بریلوی
اور یاد کرو جب ہم نے تمہیں فرعون والوں سے نجات بحشی کہ تمہیں بری مار دیتے تمہارے بیٹے ذبح کرتے اور تمہاری بیٹیاں باقی رکھتے، اور اس میں رب کا بڑا فضل ہوا
علامہ محمد حسین نجفی
اور یاد کرو وہ وقت جب ہم نے تمہیں فرعونیوں سے نجات عطا کی۔ جو تمہیں بدترین عذاب کا مزہ چکھاتے تھے تمہارے لڑکوں کو قتل کرتے تھے اور تمہاری عورتوں کو زندہ چھوڑتے تھے اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے بڑی آزمائش تھی۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب ہم نے تمھیں فرعون کی آل سے نجات دی، وہ تمھیں برا عذاب دیتے تھے، تمھارے بیٹوں کو بری طرح قتل کرتے اور تمھاری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے اور اس میں تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی آزمائش تھی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ماضی کی یاد دہانی ٭٭

انہیں اس گمراہ خیالی سے روکنے کے لئے آپ اللہ تعالیٰ کے احسانات یاد دلا رہے ہیں کہ فرعونیوں کی غلامی سے اللہ نے تمہیں آزادی دلوائی، ذلت و رسوائی سے چھٹکارا دیا۔ پھر اوج و عزت عطا فرمائی، تمہارے دیکھتے ہوئے تمہارے دشمنوں کو غارت کر دیا۔ ایسے رب کے سوا اور کون لائق عبادت ہو سکتا ہے؟ فرعون کے وقت کی اپنی ابتری کو بھول گئے جس سے اللہ نے نجات دی۔ اس کی پوری تفسیر سورۃ البقرہ میں گزر چکی ہے۔
141۔ 1 یہ وہی آزمائشیں ہیں جن کا ذکر سورة بقرہ میں بھی گزرا ہے اور سورة ابراہیم میں بھی آئے گا۔
(آیت 141) {وَ اِذْ اَنْجَيْنٰكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ …:} چوتھی یہ کہ آل فرعون سے نجات کو یاد کرو کہ اکیلے فرعون ہی نے نہیں بلکہ پوری قوم نے تمھیں غلام بنا رکھا تھا۔ {” بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ “} آزمائش انعام اور مصیبت دونوں طرح ہوتی ہے۔ اس واقعہ میں تم پر مصیبت کا ابتلا بھی آیا اور انعام کا بھی۔ تمھارے لڑکوں کا ذبح کرنا اور عورتوں کو زندہ رکھ کر لونڈیاں بنا کر ان سے کام لینا اور اپنی خواہش نفس پوری کرنا اور مردوں کو ختم کرنے کے ذریعے سے بنی اسرائیل کی نسل ختم کرنے کا منصوبہ بنانا مصیبت تھا اور اس سے نجات انعام۔ مزید دیکھیے سورۂ بقرہ (۴۹)۔ ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب حنین کی طرف نکلے تو مشرکین کے ایک درخت کے پاس سے گزرے، جسے ذات انواط کہا جاتا تھا، وہ لوگ اس پر اپنے ہتھیار لٹکاتے تھے۔ تو (نو مسلم) لوگ کہنے لگے: ”یا رسول اللہ! آپ ہمارے لیے بھی ایک ذات انواط مقرر فرما دیں، جیسا کہ ان کے لیے ذات انواط ہے۔“ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سبحان اللہ! یہ تو اسی طرح کی بات ہے جو موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے کہی تھی کہ ہمارے لیے کوئی معبود بنا دے جس طرح ان (مشرکین) کے معبود ہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم اپنے سے پہلے لوگوں کے طریقوں پر سوار ہو جاؤ گے۔“ [ ترمذی، الفتن، باب ما جاء لترکبن سنن …: ۲۱۸۰ ] ترمذی اور البانی (رحمھما اللہ) دونوں نے اسے صحیح کہا ہے۔
وَ وٰعَدۡنَا مُوۡسٰی ثَلٰثِیۡنَ لَیۡلَۃً وَّ اَتۡمَمۡنٰہَا بِعَشۡرٍ فَتَمَّ مِیۡقَاتُ رَبِّہٖۤ اَرۡبَعِیۡنَ لَیۡلَۃً ۚ وَ قَالَ مُوۡسٰی لِاَخِیۡہِ ہٰرُوۡنَ اخۡلُفۡنِیۡ فِیۡ قَوۡمِیۡ وَ اَصۡلِحۡ وَ لَا تَتَّبِعۡ سَبِیۡلَ الۡمُفۡسِدِیۡنَ ﴿۱۴۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہم نے موسیٰؑ کو تیس شب و روز کے لیے (کوہ سینا پر) طلب کیا اور بعد میں دس دن کا اور اضافہ کر دیا، اِس طرح اُس کے رب کی مقرر کردہ مدت پورے چالیس دن ہو گئی موسیٰؑ نے چلتے ہوئے اپنے بھائی ہارونؑ سے کہا کہ "میرے پیچھے تم میری قوم میں میری جانشینی کرنا اور ٹھیک کام کرتے رہنا اور بگاڑ پیدا کرنے والوں کے طریقے پر نہ چلنا"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) سے تیس راتوں کا وعده کیا اور دس رات مزید سے ان تیس راتوں کو پورا کیا۔ سو ان کے پروردگار کا وقت پورے چالیس رات کا ہوگیا۔ اور موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے بھائی ہارون (علیہ السلام) سے کہا کہ میرے بعد ان کا انتظام رکھنا اور اصلاح کرتے رہنا اور بدنظم لوگوں کی رائے پر عمل مت کرنا
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم نے موسیٰ سے تیس رات کا وعدہ فرمایا اور ان میں دس اور بڑھا کر پوری کیں تو اس کے رب کا وعدہ پوری چالیس رات کا ہوا اور موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے کہا میری قوم پر میرے نائب رہنا اور اصلاح کرنا اور فسادیوں کی راہ کو دخل نہ دینا،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے موسیٰ سے (توراۃ دینے کے لیے) تیس راتوں کا وعدہ کیا تھا اور اسے مزید دس (راتوں) سے مکمل کیا۔ اس طرح ان کے پروردگار کی مدت چالیس راتوں میں پوری ہوگئی اور جناب موسیٰ نے (کوہ طور پر جاتے وقت) اپنے بھائی ہارون سے کہا تم میری قوم میں میرے جانشین بن کر رہو۔ اور اصلاح کرتے رہو اور (خبردار) مفسدین کے راستہ پر نہ چلنا۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کی میعاد مقرر کی اور اسے دس راتوں کے ساتھ پورا کر دیا، سو اس کے رب کی مقررہ مدت چالیس راتیں پوری ہوگئی اور موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے کہا میری قوم میں تو میرا جانشین رہ اور اصلاح کرنا اور مفسدوں کے راستے پر نہ چلنا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
احسانات پہ احسانات ٭٭

اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو اپنا وہ احسان یاد دلاتا ہے جس کی وجہ سے موسیٰ علیہ السلام کو شرف ہم کلامی حاصل ہوا اور تورات ملی جو ان سب کے لیے باعث ہدایت و نور تھی جس میں ان کی شریعت کی تفصیل تھی اور اللہ کے تمام احکام موجود تھے۔ تیس راتوں کا وعدہ ہوا، آپ نے یہ دن روزوں سے گذارے۔ وقت پورا کر کے ایک درخت کی چھال کو چبا کر مسواک کی۔ حکم ہوا کہ دس اور پورے کر کے پورے چالیس کرو۔ کہتے ہیں کہ ایک مہینہ تو ذوالقعدہ کا تھا اور دس دن ذوالحجہ کے۔ تو عید والے دن وہ وعدہ پورا ہوا اور اسی دن اللہ کے کلام سے آپ کو شرف ملا۔ اسی دن دین محمدی صلی اللہ علیہ وسلم بھی کامل ہوا ہے۔ جیسے اللہ کا فرمان ہے «الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا» ۱؎ [5-المائدة:3] ‏‏‏‏ وعدہ پورا کرنے کے بعد موسیٰ علیہ السلام نے طور کا قصد کیا۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ ا’ ے گروہ بنی اسرائیل! ہم نے تمہیں دشمن سے نجات دی اور طور ایمن کا وعدہ کیا الخ۔ ‘ ۱؎ [20-طه:80] ‏‏‏‏ آپ نے جاتے ہوئے اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کو اپنا خلیفہ بنایا اور انہیں اصلاح کی اور فساد سے بچنے کی ہدایت کی۔ یہ صرف بطور وعظ کے تھا ورنہ خود ہارون علیہ السلام بھی اللہ کے شریف و کریم اور ذی عزت پیغمبر تھے۔ «صلوات اللہ علیھم اجمعین»
142۔ 1 فرعون اس کے لشکر کے غرق کے بعد ضرورت لاحق ہوئی کہ بنی اسرائیل کی ہدایت و رہنمائی کے لئے کوئی کتاب انہیں دی جائے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ کو تیس راتوں کے لئے کوہ طور پر بلایا، جس میں دس راتوں کا اضافہ کرکے اسے چالیس کردیا گیا۔ حضرت موسیٰ ؑ نے جاتے وقت حضرت ہارون ؑ کو جو ان کے بھائی، بھی تھے اور نبی بھی، اپنا جانشین مقر کردیا تاکہ وہ بنی اسرائیل کی ہدایت و اصلاح کا کام کرتے رہیں اور انہیں ہر قسم کے فساد سے بچائیں۔ اس آیت میں یہی بیان کیا گیا ہے۔ 142۔ 2 حضرت ہارون ؑ خود نبی تھے اور اصلاح کا کام ان کے فرائض منصبی میں شامل تھا، حضرت موسیٰ ؑ نے انہیں محض تذکرہ تنبیہ کے طور پر یہ نصیحتیں کیں، میقات سے یہاں مراد وقت معین ہے۔
(آیت 142) {وَ وٰعَدْنَا مُوْسٰى ثَلٰثِيْنَ لَيْلَةً …:} فرعون سے نجات پانے کے بعد جب بنی اسرائیل جزیرہ نمائے سینا میں پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو کوہِ طور پر طلب فرمایا، تاکہ انھیں کتاب دی جائے۔ پہلے تیس دن کی میعاد مقرر کی گئی، پھر اس میں دس دن کا اضافہ کر دیا گیا، تاکہ ان چالیس دنوں میں موسیٰ علیہ السلام روزہ رکھیں اور دن رات عبادت اور تفکر و تدبر میں مصروف رہیں۔ اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ تیس راتوں کی خلوت سے عبادت اور مناجات کی عادت پڑ جائے گی اور مناجات کی لذت سے آشنائی کے بعد دس راتیں بڑھانے سے بھی طبیعت پر بوجھ نہیں پڑے گا، ورنہ اللہ تعالیٰ کے علم میں تو پہلے ہی چالیس راتیں تھیں جو دس بڑھانے سے مکمل ہو گئیں۔ (واللہ اعلم) بعض روایات میں ہے کہ ان دس دنوں کا اضافہ اس لیے کیا گیا تھا کہ موسیٰ علیہ السلام نے تیس دن کے روزوں کے بعد مسواک کر لی، جس سے وہ بو جاتی رہی جو اللہ تعالیٰ کو بہت محبوب تھی، مگر اس روایت کا کوئی سراغ قرآن و حدیث سے نہیں ملا، نہ کسی صحیح سند سے اس کی تائید ہوتی ہے اور مسواک سے وہ بو جاتی بھی نہیں، کیونکہ وہ درحقیقت معدہ خالی ہونے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے، اس لیے امام بخاری رحمہ اللہ نے روزے دار کے لیے مسواک کے مستحب ہونے کا ایک باب مقرر فرمایا ہے: [ بَابُ السِّوَاكِ الرَّطْبِ وَالْيَابِسِ لِلصَّائِمِ ] یعنی روزے دار تازہ اور خشک مسواک کر سکتا ہے۔ [ بخاری، الصوم، قبل ح: ۱۹۳۴ ] جب موسیٰ علیہ السلام چالیس دن کی یہ میعاد پوری کر چکے تو اللہ تعالیٰ نے ان سے کلام فرمایا اور انھیں تورات کی الواح (تختیاں) عطا فرمائیں۔ موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کا مزاج سمجھتے تھے، ہارون علیہ السلام اگرچہ اس سے پہلے بھی اصلاح کی کوشش کرتے رہتے تھے مگر ان کی حیثیت ایک مددگار اور وزیر کی تھی، اصل قائد موسیٰ علیہ السلام ہی تھے، اب ان دنوں کے لیے موسیٰ علیہ السلام نے انھیں اپنا خلیفہ (جانشین) مقرر فرمایا اور تاکید فرمائی کہ وہ ان کی اصلاح کرتے رہیں اور فسادیوں کے پیچھے مت لگیں۔
وَ لَمَّا جَآءَ مُوۡسٰی لِمِیۡقَاتِنَا وَ کَلَّمَہٗ رَبُّہٗ ۙ قَالَ رَبِّ اَرِنِیۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَیۡکَ ؕ قَالَ لَنۡ تَرٰىنِیۡ وَ لٰکِنِ انۡظُرۡ اِلَی الۡجَبَلِ فَاِنِ اسۡتَقَرَّ مَکَانَہٗ فَسَوۡفَ تَرٰىنِیۡ ۚ فَلَمَّا تَجَلّٰی رَبُّہٗ لِلۡجَبَلِ جَعَلَہٗ دَکًّا وَّ خَرَّ مُوۡسٰی صَعِقًا ۚ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ قَالَ سُبۡحٰنَکَ تُبۡتُ اِلَیۡکَ وَ اَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۴۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جب وہ ہمارے مقرر کیے ہوئے وقت پر پہنچا اور اس کے رب نے اس سے کلام کیا تو اس نے التجا کی کہ "اے رب، مجھے یارائے نظر دے کہ میں تجھے دیکھوں" فرمایا "تو مجھے نہیں دیکھ سکتا ہاں ذرا سامنے کے پہاڑ کی طرف دیکھ، اگر وہ اپنی جگہ قائم رہ جائے تو البتہ تو مجھے دیکھ سکے گا" چنانچہ اس کے رب نے جب پہاڑ پر تجلی کی تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا اور موسیٰؑ غش کھا کر گر پڑا جب ہوش آیا تو بولا "پاک ہے تیری ذات، میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں اور سب سے پہلا ایمان لانے والا میں ہوں"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جب موسیٰ (علیہ السلام) ہمارے وقت پر آئے اور ان کے رب نے ان سے باتیں کیں تو عرض کیا کہ اے میرے پروردگار! اپنا دیدار مجھ کو کرا دیجئے کہ میں آپ کو ایک نظر دیکھ لوں ارشاد ہوا کہ تم مجھ کو ہرگز نہیں دیکھ سکتے لیکن تم اس پہاڑ کی طرف دیکھتے رہو وه اگر اپنی جگہ پر برقرار رہا تو تم بھی مجھے دیکھ سکو گے۔ پس جب ان کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی تو تجلی نے اس کے پرخچے اڑا دیئے اور موسیٰ (علیہ السلام) بےہوش ہوکر گر پڑے۔ پھر جب ہوش میں آئے تو عرض کیا، بےشک آپ کی ذات منزه ہے میں آپ کی جناب میں توبہ کرتا ہوں اور میں سب سے پہلے آپ پر ایمان ﻻنے واﻻ ہوں
احمد رضا خان بریلوی
اور جب موسیٰ ہمارے وعدہ پر حاضر ہوا اور اس سے اس کے رب نے کلام فرمایا عرض کی اے رب میرے! مجھے اپنا دیدار دکھا کہ میں تجھے دیکھوں فرمایا تو مجھے ہر گز نہ دیکھ سکے گا ہاں اس پہاڑ کی طرف دیکھ یہ اگر اپنی جگہ پر ٹھہرا رہا تو عنقریب تو مجھے دیکھ لے گا پھر جب اس کے رب نے پہاڑ پر اپنا نو ر چمکایا اسے پاش پاش کردیا اور موسیٰ گرا بیہوش پھر جب ہوش ہوا بولا پاکی ہے تجھے میں تیری طرف رجوع لایا اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں
علامہ محمد حسین نجفی
اور جب جنابِ موسیٰ ہمارے مقرر کردہ وقت پر آگئے اور ان کے پروردگار نے ان سے کلام کیا۔ تو انہوں نے کہا پروردگار! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیری طرف نگاہ کر سکوں۔ ارشاد ہوا تم مجھے کبھی نہیں دیکھ سکوگے۔ مگر ہاں اس پہاڑ کی طرف دیکھو۔ اگر یہ (تجلئِ حق کے وقت) اپنی جگہ پر برقرار رہا تو پھر امید کرنا کہ مجھے دیکھ سکوگے پس جب ان کے پروردگار نے پہاڑ پر اپنی تجلی ڈالی تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا اور موسیٰ غش کھا کر گر گئے۔ اور جب ہوش میں آئے تو بولے پاک ہے تیری ذات! میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں اور میں سب سے پہلا ایمان لانے والا ہوں (کہ تو نظر نہیں آتا)۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب موسیٰ ہمارے مقررہ وقت پر آیا اور اس کے رب نے اس سے کلام کیا تو اس نے کہا اے میرے رب ! مجھے دکھا کہ میں تجھے دیکھوں۔ فرمایا تو مجھے ہر گز نہ دیکھے گا اور لیکن اس پہاڑ کی طرف دیکھ، سو اگر وہ اپنی جگہ برقرار رہا تو عنقریب تو مجھے دیکھ لے گا۔ تو جب اس کا رب پہاڑ کے سامنے ظاہر ہوا تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا اور موسیٰ بے ہوش ہو کر گر پڑا، پھر جب اسے ہوش آیا تو اس نے کہا تو پاک ہے، میں نے تیری طرف توبہ کی اور میں ایمان لانے والوں میں سب سے پہلا ہوں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
طلب زیارت اور موت ٭٭

وعدے کے مطابق موسیٰ علیہ السلام طور پہاڑ پر پہنچے، اللہ کا کلام سنا تو دیدار کی آرزو کی، جواب ملا کہ یہ تیرے لیے نا ممکن ہے۔ اس سے معتزلہ نے استدلال کیا ہے کہ دنیا اور آخرت میں اللہ کا دیدار نہ ہو گا کیونکہ «لن» ابدی نفی کے لیے آتا ہے لیکن یہ قول بالکل ہی بودا ہے کیونکہ متواتر احادیث سے ثابت ہے کہ مومنوں کو قیامت کے دن اللہ کا دیدار ہو گا۔ وہ حدیثیں آیت «وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌ إِلَىٰ رَبِّهَا نَاظِرَةٌ» ۱؎ [75-القيامة:22-23] ‏‏‏‏ اور آیت «كَلَّا إِنَّهُمْ عَن رَّبِّهِمْ يَوْمَئِذٍ لَّمَحْجُوبُونَ» ۱؎ [83-المطففين:15] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں آئیں گی ان شاءاللہ تعالیٰ۔ ایک قول اس آیت کی تفسیر میں یہ ہے کہ یہ نفی ابدی ہے لیکن دنیاوی زندگی کے لیے نہ کہ آخرت کے لیے۔ کیونکہ آخرت میں دیدار باری تعالیٰ مومنوں کو قطعاً ہو گا جیسے کہ آیات و احادیث سے ثابت ہے۔ اس طرح کوئی معارضہ بھی باقی نہیں رہتا۔ یہ آیت مثل «لَّا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ» ۱؎ [6-الأنعام:103] ‏‏‏‏ کے ہے جس کی تفسیر سورۃ الانعام میں گزر چکی ہے۔ اگلی کتابوں میں ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کی اس درخواست پر ان سے کہا گیا تھا کہ اے موسیٰ! مجھے جو زندہ شخص دیکھ لے، وہ مر جائے۔ میرے دیدار کی تاب کوئی زندہ لا نہیں سکتا۔ خشک چیزیں بھی میری تجلی سے تھرا اٹھتی ہیں۔ چنانچہ پہاڑ کا حال خود کلیم اللہ علیہ السلام نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اور خود بھی بےہوش ہو گئے۔ امام ابو جعفر طبری رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { جب اس کے رب نے پہاڑ پر تجلی ڈالی، اپنی شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا تو وہ چکنا چور ہو گیا۔ راوی حدیث ابواسماعیل نے اپنے شاگردوں کو اپنی شہادت کی انگلی سے اشارہ کر کے بتایا۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:15096] ‏‏‏‏ لیکن اس حدیث کی سند میں ایک راوی مبہم ہے جس کا نام واضح نہیں کیا گیا۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے انگوٹھے کو اپنی چھنگلیا کی اوپر کی پور پر رکھ کر بتایا کہ اتنے سے جمال سے پہاڑ زمین کے ساتھ ہموار ہو گیا۔

مسند کی روایت میں ہے کہ { حمید نے اپنے استاد سے کہا: اس سے آپ کی کیا مراد ہے؟ تو استاد نے ان کے سینے پر ہاتھ مار کر فرمایا کہ یہ میں اپنی طرف سے نہیں کہہ رہا بلکہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے میں نے سنا اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ } ترمذی میں بھی یہ روایت ہے اور امام صاحب رحمہ اللہ نے اسے حسن صحیح غریب فرمایا ہے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3074، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ مستدرک میں اسے وارد کر کے کہا ہے کہ یہ شرط مسلم پر ہے اور صحیح ہے۔ خلال کہتے ہیں: ”اس کی سند صحیح ہے، اس میں کوئی علت نہیں۔“ ابن مردویہ میں بھی مرفوعاً مروی ہے لیکن اس کی بھی سند صحیح نہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”صرف بقدر چھنگلی کے تجلی ہوئی تھی جس سے وہ مٹی کی طرح چور چور ہو گیا اور کلیم اللہ علیہ السلام بھی بےہوش ہو گئے۔“ کہتے ہیں: ”وہ پہاڑ دھنس گیا، سمندر میں چلا گیا اور موسیٰ علیہ السلام بےہوش ہو کر گر پڑے۔“ بعض بزرگ فرماتے ہیں: ”وہ پہاڑ اب قیامت تک ظاہر نہ ہو گا بلکہ زمین میں اترتا چلا جاتا ہے۔“ ایک حدیث میں ہے: { اس تجلی سے چھ پہاڑ اپنی جگہ سے اڑ گئے۔ جن میں سے تین مکے میں ہیں اور تین مدینے میں۔ احد، ورقان اور رضوی مدینے میں۔ حرا، ثبیر اور ثور مکے میں۔ } ۱؎ [الخطیب:441/10:موضوع] ‏‏‏‏ لیکن یہ حدیث غریب ہے بلکہ منکر ہے۔ کہتے ہیں کہ طور پر تجلی کے ظہور سے پہلے پہاڑ بالکل صاف تھے، اس کے بعد ان میں غار اور کھڈ اور شاخیں قائم ہو گئیں۔ جناب کلیم اللہ علیہ السلام کی آرزو کے جواب میں انکار ہوا اور پھر مزید تشفی کے لیے فرمایا گیا کہ میری ادنیٰ سی تجلی کی برداشت تجھ سے تو کیا، بہت زیادہ قوی مخلوق میں بھی نہیں۔ دیکھ پہاڑ کی جانب! خیال رکھ۔ پھر اس پر اپنی تجلی ڈالی جس سے پہاڑ جھک گیا اور موسیٰ بےہوش ہو گئے۔ صرف اللہ کی نظر نے پہاڑ کو ریزہ ریزہ کر دیا اور وہ بالکل مٹی ہو کر ریت کا میدان ہو گیا۔

بعض قرأتوں میں اسی طرح ہے اور ابن مردویہ میں ایک مرفوع حدیث بھی ہے: موسیٰ علیہ السلام کو غشی آ گئی، یہ ٹھیک نہیں کہ موت آ گئی۔ گو لغۃً یہ بھی ہو سکتا ہے۔ جیسے «فَصَعِقَ مَن فِي السَّمَاوَاتِ» ۱؎ [39-الزمر:68] ‏‏‏‏ میں موت کے معنی ہیں۔ لیکن وہاں قرینہ موجود ہے جو اس لفظ سے اسی معنی کے ہونے کی تائید کرتا ہے اور یہاں کا قرینہ بےہوشی کی تائید کرتا ہے۔ کیونکہ آگے فرمان ہے «فَلَمَّا أَفَاقَ» ظاہر ہے کہ افاقہ بیہوشی سے ہوتا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام ہوش میں آتے ہی اللہ تعالیٰ کی پاکیزگی اور تعظیم و جلال بیان فرمانے لگے کہ واقعی وہ ایسا ہی ہے کہ کوئی زندہ اس کے جمال کی تاب نہیں لا سکتا۔ پھر اپنے سوال سے توبہ کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ سب بنی اسرائیل سے پہلے میں ایمان لانے والا بنتا ہوں۔ میں اس پر سب سے پہلے ایمان لاتا ہوں کہ واقعی کوئی زندہ آنکھ تجھے دیکھ نہیں سکتی۔ یہ مطلب نہیں کہ آپ سے پہلے کوئی مومن ہی نہ تھا بلکہ مراد یہ ہے کہ اللہ کا دیدار زندوں کے لیے نا ممکن ہے۔ اس فرمان کو سنتے ہی سب سے پہلے ماننے والا میں ہوں کہ واقعی مخلوق میں سے کوئی قیامت تک اللہ کو نہیں دیکھ سکتا۔ ابن جریر میں اس آیت کی تفسیر میں محمد بن اسحاق بن یسار کی روایت سے ایک عجیب و غریب مطول اثر نقل کیا گیا ہے۔ عجب نہیں کہ یہ اسرائیلی روایتوں میں سے ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ { ایک یہودی کو کسی نے ایک تھپڑ مارا تھا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس شکایت لایا کہ آپ کے فلاں انصاری نے مجھے تھپڑ مارا ہے۔ آپ نے اسے بلوایا اور اس سے پوچھا۔ اس نے کہا: سچ ہے۔ وجہ یہ ہوئی کہ یہ کہہ رہا تھا، اس اللہ کی قسم ہے جس نے موسیٰ علیہ السلام کو تمام جہاں پر فضیلت دی تو میں نے کہا: کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی؟ اور غصے میں آ کر میں نے اسے تھپڑ مار دیا۔ آپ نے فرمایا: سنو! نبیوں کے درمیان تم مجھے فضیلت نہ دیا کرو۔ قیامت میں سب بےہوش ہوں گے۔ سب سے پہلے مجھے ہوش آئے گا تو میں دیکھوں گا کہ موسیٰ علیہ السلام عرش الٰہی کا پایہ تھامے ہوئے ہیں۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ انہیں مجھ سے پہلے افاقہ ہوا؟

{ یا طور کی بےہوشی کے بدلے یہاں بےہوش ہی نہیں ہوئے؟ } ۱؎ [صحیح بخاری:4638] ‏‏‏‏ یہ حدیث بخاری شریف میں کئی جگہ ہے اور مسلم شریف میں بھی ہے اور ابوداؤد میں بھی ہے۔ بخاری و مسلم کی ایک اور روایت میں ہے کہ { ایک مسلمان اور ایک یہودی کا جھگڑا ہو گیا۔ اس پر مسلمان نے کہا: اس کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام جہان پر فضیلت دی اور یہودی نے کہا: اس کی قسم جس نے موسیٰ علیہ السلام کو تمام جہان پر فضیلت دی۔ اس پر مسلمان نے اسے تھپڑ مارا۔ اس روایت میں ہے کہ شاید موسیٰ علیہ السلام ان میں سے ہوں جن کا اللہ تعالیٰ نے بےہوشی سے استثنا کر لیا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3408] ‏‏‏‏ حافظ ابوبکر ابن ابی الدنیا رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ یہ تھپڑ مارنے والے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے۔ لیکن بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ یہ کوئی انصاری رضی اللہ عنہ تھے۔ یہی زیادہ صحیح اور زیادہ صریح ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اس حدیث میں یہ فرمان کہ تم نبیوں کے درمیان مجھے فضیلت نہ دو ایسا ہی ہے جیسے اور حدیث میں بھی فرمان ہے کہ { نبیوں میں مجھے فضیلت نہ دو۔ نہ یونس بن متی علیہ السلام پر فضیلت دو۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3412-3414] ‏‏‏‏ یہ فرمان بطور تواضع کے ہے یا یہ فرمان اس سے پہلے ہے کہ آپ کو اپنی فضیلت کا علم اللہ کی طرف سے ہوا ہو۔ یا یہ مطلب ہے کہ غصے میں آ کر یا تعصب کی بنا پر مجھے فضیلت نہ دو یا یہ کہ صرف اپنی رائے سے میری فضیلت قائم نہ کرو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

لوگ قیامت کے دن بےہوش ہوں گے۔ یہ بےہوشی میدان قیامت کی بعض ہولناکیوں کی وجہ سے ہو گی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ بہت ممکن ہے، یہ اس وقت کا حال ہو جب مالک الملک تبارک و تعالیٰ لوگوں کے درمیان حق فیصلے کرنے کے لئے تشریف لائے گا تو اس کی تجلی سے لوگ بےہوش ہو جائیں گے۔ جیسے موسیٰ علیہ السلام اللہ کے جمال کی برداشت کو طور پہاڑ پر نہ لا سکے۔ اسی لیے آپ کا فرمان ہے کہ نہ معلوم مجھ سے پہلے انہیں افاقہ ہوا یا طور کی بےہوشی کے بدلے یہاں بےہوش نہ ہوئے۔ قاضی عیاض رحمہ اللہ اپنی کتاب الشفاء کے شروع میں لکھتے ہیں کہ { دیدار الٰہی کی اس تجلی کی وجہ سے موسیٰ علیہ السلام اس چیونٹی کو بھی دیکھ لیا کرتے تھے جو دس فرسخ دور رات کے اندھیرے میں کسی پتھر پر چل رہی ہو۔ } ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:222/3:ضعیف] ‏‏‏‏ اور بہت ممکن ہے کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان چیزوں سے جن کا ہم نے ذکر کیا، معراج کے واقعہ کے بعد مخصوص ہوئے ہوں اور آپ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں ملاحظہ فرمائیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ گویا قاضی صاحب کے نزدیک یہ روایت صحیح ہے حالانکہ اس کی سند غور طلب ہے۔ اس میں مجہول راوی ہیں اور ایسی باتیں جب تک ثقہ راویوں کے سلسلے سے نہ ثابت ہوں، قابل قبول نہیں ہوتیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
143۔ 1 جب موسیٰ ؑ طور پر گئے اور وہاں اللہ نے ان سے براہ راست گفتگو کی تو حضرت موسیٰ ؑ کے دل میں اللہ کو دیکھنے کے شوق کا اظہار رَ بِ اَرِنِیْ کہہ کر کیا۔ جس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ لَنْ تَرٰنِیْ تو مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکتا اس سے استدلال کرتے ہوئے مسلمانوں کے کے ایک فرقہ نے کہا کہ لَنْ نَفْیُ نَاْبِیْدٍ (ہمیشہ کی نفی) کے لئے آتا ہے۔ اس لئے اللہ کا دیدار نہ دنیا میں ممکن ہے نہ آخرت میں۔ لیکن فرقہ کا یہ مسلک صحیح احادیث کے خلاف ہے۔ متواتر صحیح اور قوی روایات سے ثابت ہے کہ قیامت والے دن اہل ایمان اللہ کو دیکھیں گے اور جنت میں بھی دیدار الٰہی سے مشرف ہونگے، تمام اہل سنت کا یہی عقیدہ ہے۔ اس روایت کا تعلق صرف دنیا سے ہے، دنیا میں کوئی انسانی آنکھ اللہ کو دیکھنے پر قادر نہیں ہے۔ لیکن آخرت میں اللہ تعالیٰ ان آنکھوں میں اتنی قوت پیدا فرما دے گا کہ وہ اللہ کے جلوے کو برداشت کرسکے۔ 143۔ 2 یعنی وہ پہاڑ بھی رب کی تجلی کو برداشت نہ کرسکا اور موسیٰ ؑ بےہوش ہو کر گرپڑے۔ حدیث میں آتا ہے کہ قیامت والے دن سب لوگ بےہوش ہونگے، (یہ بےہوشی امام ابن کثیر کے بقول میدان محشر میں اس وقت ہوگی جب اللہ تعالیٰ فیصلے کرنے کے لئے نزول اجلال فرمائے گا) اور جب ہوش میں آئیں گے تو میں (نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہوش میں آنے والوں میں سب سے پہلا شخص ہوں گا، میں دیکھوں گا کہ موسیٰ ؑ عرش کا پایہ تھامے کھڑے ہیں، مجھے نہیں معلوم کہ وہ مجھ سے پہلے ہوش میں آئے یا انہیں کوہ طور کی بےہوشی کے بدلے میں میدان محشر کی بےہوشی سے مستثنٰی رکھا گیا۔ (صحیح بخاری) 143۔ 3 تیری عظمت و جلالت کا اور اس بات کا کہ میں تیرا عاجز بندہ ہوں، دنیا میں تیرے دیدار کا متحمل نہیں ہوسکتا۔
(آیت 143) ➊ {وَ لَمَّا جَآءَ مُوْسٰى لِمِيْقَاتِنَا:} میقات سے مراد مقرر کردہ وقت ہے، چونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بلاوا اور موسیٰ علیہ السلام کی طرف سے حاضری کا وعدہ تھا، اس لیے {” وٰعَدْنَا “} (باب مفاعلہ) استعمال فرمایا جو دو فریقوں کے درمیان ہوتا ہے۔ ➋ { وَ كَلَّمَهٗ رَبُّهٗ:} یعنی کسی واسطے کے بغیر کلام فرمایا۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۵۳) اور نساء (۱۶۴) یہ ان کا اللہ سے ہم کلام ہونے کا دوسرا موقع تھا۔ پہلے موقعے کا ذکر سورۂ طٰہ (۱۲) میں ہے، جب آگ لینے گئے تھے اور رسالت سے سرفراز ہوئے تھے۔ واسطے کے بغیر اس لیے کہ فرشتے کے ذریعے سے یا دل میں ڈال کر تو ہر نبی سے کلام ہوتا تھا، جسے ”وحی“ کہتے ہیں، پھر موسیٰ علیہ السلام کی خصوصیت کیا ہوئی؟ جس کا ذکر تمام لوگ قیامت کے دن موسیٰ علیہ السلام سے کرکے سفارش کی درخواست کریں گے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ سے کلام کیا۔ مشرک یونانیوں کے فلسفی عقائد سے متاثر لوگوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کلام کر ہی نہیں سکتا، اس لیے یہاں ایسا کلام مراد ہے جس میں نہ لفظ تھے نہ آواز۔ کوئی ان سے پوچھے کہ یہ بات تمھیں قرآن مجید کی کس آیت یا حدیث سے معلوم ہوئی؟ قرآن مجید نے تو موسیٰ علیہ السلام کے لیے ”کلام“ کا لفظ استعمال فرمایا اور ”ندا “کا بھی۔ دیکھیے سورۂ شعراء (۱۰) اللہ کے کلام کرنے کے منکروں نے کہا، کلام سے مراد کلام نفسی ہے جو دل میں ہوتا ہے۔ مگر وہ تو سنائی نہیں دیتا اور وہ تو گونگوں کے دل میں بھی ہوتا ہے، اسے آپ سوچ، فکراور ارادہ وغیرہ کہہ سکتے ہیں، مگر الفاظ کے نکلے بغیر کلام کیسے بن گیا؟ تم نے اللہ تعالیٰ کی کیا قدر کی کہ اسے بولنے سے معذور قرار دے کر گونگوں کے برابر کر دیا!! یہ لوگ قرآن کو بھی اللہ کا کلام نہیں مانتے، بلکہ اسے مخلوق کہتے ہیں کہ جو مفہوم اور معانی اللہ تعالیٰ کی ذات کے اندر موجود تھے اللہ تعالیٰ نے وہ معانی موسیٰ علیہ السلام کو پہنچانے کے لیے ہوا میں ایسے لفظ پیدا کر دیے جو وہ مفہوم ادا کرتے ہیں۔ اس لیے قرآن اللہ کا کلام نہیں، اس کی مخلوق ہے۔ مقصد یہ تھا کہ مخلوق تو فنا بھی ہو سکتی ہے، اس لیے قرآن سے جان چھڑانے کا ایک حیلہ یہ بھی ہو سکتا تھا کہ قرآن اللہ کی مخلوق تھا، فنا ہو گیا، لہٰذا اب عمل کی ضرورت نہیں۔ ان لوگوں سے بس ایک ہی سوال ہے جو امام اہل السنہ احمد ابن حنبل رحمہ اللہ نے ان سے بار بار اور مسلسل کیا کہ بتاؤ یہ بات اللہ تعالیٰ نے قرآن میں کہاں فرمائی ہے؟! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی فرمان اس کے ثبوت کے لیے پیش کرو؟ محض فلسفیوں کے دماغ کی خرابی سے دین کبھی ثابت نہیں ہو سکتا۔ تو کلام اللہ کو مخلوق کہنے والے اور اسے اللہ کی صفت ماننے کے منکر آخر وقت تک یہ مطالبہ پورا نہ کر سکے اور نہ کر سکتے ہیں۔ ➌ {قَالَ رَبِّ اَرِنِيْۤ اَنْظُرْ اِلَيْكَ …:} فرشتے کے واسطے کے بغیر اللہ تعالیٰ کے کلام کی لذت سے موسیٰ علیہ السلام کے دل میں ایسا شوق پیدا ہوا کہ اللہ تعالیٰ سے درخواست کر دی کہ پروردگارا! اپنا آپ مجھے دکھا کہ میں تجھے دیکھوں، فرمایا: «{ لَنْ تَرٰىنِيْ }» ”تو مجھے ہر گز نہ دیکھے گا۔“ یعنی دنیا میں اللہ تعالیٰ نے کسی آنکھ میں یہ طاقت نہیں رکھی کہ اللہ تعالیٰ کے دیدار کو برداشت کر سکے۔ رہا آخرت میں اللہ تعالیٰ کا دیدار تو وہ مومنوں کے حق میں قرآن مجید کی آیات اور متعدد صحیح احادیث سے ثابت ہے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ قیامہ (۲۲، ۲۳) شاہ عبد القادر رحمہ اللہ نے اس مقام پر لکھا ہے: ”یقین ہے کہ آخرت میں اللہ کو دیکھنا ہے، گمراہ لوگ منکر ہیں کہ ان کے نصیب میں نہیں۔“ (موضح) ➍ { وَ لٰكِنِ انْظُرْ اِلَى الْجَبَلِ:} یعنی جب میں پہاڑ پر تجلی فرماؤں تو دیکھ اگر…۔ یہ مشاہدہ کروا کر موسیٰ علیہ السلام کی دل جوئی فرمائی کہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کو دیکھنا کوئی برداشت ہی نہیں کر سکتا، تاکہ وہ درخواست قبول نہ ہونے پر دل گیر نہ ہوں۔ ➎ {فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلْجَبَلِ …: ” تَجَلّٰى “} یہ {”جَلَا يَجْلُوْ جَلْوَةً“} سے باب تفعل ہے۔ {”جَلَا “} کا معنی ظاہر کرنا، پردہ ہٹانا ہے، جیسا کہ شاعر نے کہا ہے {وَجَلَا السُّيُوْلُ عَنِ الطُّلُوْلِ كَأَنَّهَا زُبُرٌ تُجِدُّ مُتُوْنَهَا اَقْلَامُهَا} ”سیلابوں نے پرانے کھنڈر اس طرح ظاہر کر دیے جیسے وہ ایسی کتابیں ہیں جن کے قلم ان کے متون کو نیا کر دیتے ہیں۔“ {” تَجَلّٰى “} کا معنی ظاہر ہوا۔{ ” دَكًّا “} مصدر ہے۔ {” دَكَّ يَدُكُّ “ } (ن) اور{ ” دَقَّ يَدُقُّ“ } قریب قریب معنی رکھتے ہیں، یعنی کسی چیز کو کوٹ کر ریزہ ریزہ کر دینا۔ یہاں {” دَكًّا “} مفعول مطلق ہے، یعنی {”دَكَّهُ دَكًّا“} کہ اسے ریزہ ریزہ کر دیا۔ قرآن مجید میں ہے: «{ اِذَا دُكَّتِ الْاَرْضُ دَكًّا دَكًّا }» [ الفجر: ۲۱ ] اور «{ وَ حُمِلَتِ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَّاحِدَةً }» ‏‏‏‏ [ الحآقۃ: ۱۴ ] { ”اَرْضٌ دَكَّاءٌ “} اس زمین کو بھی کہتے ہیں جو برابر اور ہموار ہو، یعنی جب رب تعالیٰ پہاڑ کے لیے ظاہر ہوا تو اس جلوے نے پہاڑ کو زمین کے برابر کر دیا اور موسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کا جلوہ تو کجا پہاڑ کی حالت دیکھنے کی تاب بھی نہ لا سکے، بلکہ بے ہوش ہو کر گر پڑے۔ بعض لوگوں نے {” صَعِقًا “} کا معنی کیا ہے کہ فوت ہو کر گر پڑے، اگرچہ {” صَعِقًا “} اس معنی میں بھی آتا ہے، مگر {” فَلَمَّاۤ اَفَاقَ “} (جب اسے ہوش آیا) کے الفاظ بتاتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام فوت نہیں بلکہ بے ہوش ہوئے تھے۔ انس رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کے اس قول سے متعلق بیان کرتے ہیں: «{ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلْجَبَلِ جَعَلَهٗ دَكًّا }» [ الأعراف: ۱۴۳] فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (سمجھانے کے لیے) اپنا انگوٹھا انگلی کے پورے کے قریب رکھا (اور فرمایا) ”تو پہاڑ دھنس گیا۔“ [ ابن أبی عاصم فی السنۃ: ۴۸۰، و صححہ الألبانی ] ➏ {قَالَ سُبْحٰنَكَ تُبْتُ اِلَيْكَ:} تو پاک ہے (کہ تجھے دنیا میں کوئی دیکھ سکے) میں توبہ کرتا ہوں (اس بات سے کہ تیری اجازت کے بغیر تجھے دیکھنے کی درخواست کر بیٹھا)۔ ➐ { وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِيْنَ:} اور میں سب سے پہلے ایمان لانے والا ہوں، یعنی تجھ پر اور تیری عظمت و جلال پر، یا اس پر کہ کوئی تجھے قیامت سے پہلے نہیں دیکھ سکتا۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”موسیٰ علیہ السلام کو حق تعالیٰ نے بزرگی دی کہ فرشتے کے بغیر خود کلام فرمایا، ان کو شوق ہوا کہ دیدار بھی کروں، اس کی برداشت نہ ہوئی۔ اس سے معلوم ہوا کہ حق تعالیٰ کو دیکھنا ممکن ہے، کیونکہ نمود (ظہور) ہوا تھا پہاڑ کی طرف، لیکن دنیا کے وجود کو برداشت نہ ہوئی مگر آخرت کے وجود کو برداشت ہو گی، وہاں دیکھنا یقینی ہے۔“ (موضح)
قَالَ یٰمُوۡسٰۤی اِنِّی اصۡطَفَیۡتُکَ عَلَی النَّاسِ بِرِسٰلٰتِیۡ وَ بِکَلَامِیۡ ۫ۖ فَخُذۡ مَاۤ اٰتَیۡتُکَ وَ کُنۡ مِّنَ الشّٰکِرِیۡنَ ﴿۱۴۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
فرمایا "اے موسیٰؑ، میں نے تمام لوگوں پر ترجیح دے کر تجھے منتخب کیا کہ میر ی پیغمبری کرے اور مجھ سے ہم کلام ہو پس جو کچھ میں تجھے دوں اسے لے اور شکر بجالا"
مولانا محمد جوناگڑھی
ارشاد ہوا کہ اے موسیٰ! میں نے پیغمبری اور اپنی ہمکلامی سے اور لوگوں پر تم کو امتیاز دیا ہے تو جو کچھ تم کو میں نے عطا کیا ہے اس کو لو اور شکر کرو
احمد رضا خان بریلوی
فرمایا اے موسیٰ میں نے تجھے لوگوں سے چن لیا اپنی رسالتوں اور اپنے کلام سے، تو لے جو میں نے تجھے عطا فرمایا اور شکر والوں میں ہو،
علامہ محمد حسین نجفی
ارشاد ہوا اے موسیٰ میں نے تمہیں اپنی پیغمبری اور ہمکلامی کے لیے تمام لوگوں سے منتخب کیا ہے پس جو چیز (توراۃ) میں نے تمہیں عطا کی ہے اسے لو اور شکر گزار بندوں میں سے ہو جاؤ۔
عبدالسلام بن محمد
فرمایا اے موسیٰ ! بے شک میں نے تجھے اپنے پیغامات اور اپنے کلام کے ساتھ لوگوں پر چن لیا ہے، پس لے لے جو کچھ میں نے تجھے دیا ہے اور شکر کرنے والوں میں سے ہو جا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انبیاء کی فضیلت پر ایک تبصرہ ٭٭

موسیٰ علیہ السلام کو جناب باری فرماتا ہے کہ دوہری نعمت آپ کو عطا ہوئی یعنی رسالت اور ہم کلامی۔ مگر چونکہ ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمام اول و آخر نبیوں کے سردار ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے رسالت ختم کرنے والا آپ کو بنایا کہ قیامت تک آپ ہی کی شریعت جاری رہے گی اور تمام انبیاء اور رسولوں سے آپ کے تابعدار تعداد میں زیادہ ہوں گے۔ فضیلت کے اعتبار سے آپ کے بعد سب سے افضل ابراہیم علیہ السلام ہیں جو خلیل اللہ تھے۔ پھر موسیٰ علیہ السلام ہیں جو کلیم اللہ تھے۔ اے موسیٰ! جو مناجات اور کلام تجھے میں نے دیا ہے، وہ لے لے اور مضبوطی سے اس پر استقامت رکھ اور اس پر جتنا تجھ سے ہو سکے، شکر بجا لایا کر۔ کہا گیا ہے کہ تورات کی تختیاں جواہر کی تھیں اور ان میں اللہ تعالیٰ نے تمام احکام حلال حرام کے تفصیل کے ساتھ لکھ دیئے تھے۔ ان ہی تختیوں میں تورات تھی جس کے متعلق فرمان ہے کہ اگلے لوگوں کی ہلاکت کے بعد ہم نے موسیٰ کو لوگوں کی ہدایت کے لیے کتاب عطا فرمائی۔ یہ بھی مروی ہے کہ تورات سے پہلے یہ تختیاں ملی تھیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ الغرض دیدار الٰہی جس کی تمنا آپ نے کی تھی، اس کے عوض یہ چیز آپ کو ملی۔ کہا گیا: اسے ماننے کے ارادے سے لے لو اور اپنی قوم کو ان اچھائیوں پر عمل کرنے کی ہدایت کرو۔ آپ کو زیادہ تاکید ہوئی اور قوم کو ان سے کم۔ تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ میری حکم عدولی کرنے والے کا کیا انجام ہوتا ہے؟ جیسے کوئی کسی کو دھمکاتے ہوئے کہے کہ تم میری مخالفت کا انجام بھی دیکھ لو گے۔ یہ بھی مطلب ہو سکتا ہے کہ میں تمہیں شام کے بدکاروں کے گھروں کا مالک بنا دوں گا۔ یا مراد اس سے فرعونیوں کا ترکہ ہو۔ لیکن پہلی بات ہی زیادہ ٹھیک معلوم ہوتی ہے کیونکہ یہ فرمان تیہ کے میدان سے پہلے اور فرعون سے نجات پا لینے کے بعد کا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
144۔ 1 یہ ہم کلامی کا دوسرا موقع تھا جس سے حضرت موسیٰ ؑ کو مشرف کیا گیا۔ اس سے قبل جب آگ لینے گئے تھے تو اللہ نے ہم کلامی سے نوازا تھا اور پیغمبری عطا فرمائی تھی۔
(آیت 144) {وَ كُنْ مِّنَ الشّٰكِرِيْنَ:} یعنی میں نے جو اپنے پیغامات اور اپنے کلام کے لیے تمھیں چنا ہے یہی بہت بڑی نعمت ہے، لہٰذا جو چیز مل گئی اس پر قناعت کر اور کسی ایسی چیز کا مطالبہ نہ کر جو تیری طاقت سے باہر ہے۔ اس سے مقصود موسیٰ علیہ السلام کو تسلی دینا ہے کہ دیکھنے سے روک دینے پر دل گرفتہ نہ ہوں۔
وَ کَتَبۡنَا لَہٗ فِی الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ کُلِّ شَیۡءٍ مَّوۡعِظَۃً وَّ تَفۡصِیۡلًا لِّکُلِّ شَیۡءٍ ۚ فَخُذۡہَا بِقُوَّۃٍ وَّ اۡمُرۡ قَوۡمَکَ یَاۡخُذُوۡا بِاَحۡسَنِہَا ؕ سَاُورِیۡکُمۡ دَارَ الۡفٰسِقِیۡنَ ﴿۱۴۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اس کے بعد ہم نے موسیٰؑ کو ہر شعبہ زندگی کے متعلق نصیحت اور ہر پہلو کے متعلق واضح ہدایت تختیوں پر لکھ کر دے دی اور اس سے کہا: "اِن ہدایات کو مضبوط ہاتھوں سے سنبھال اور اپنی قوم کو حکم دے کہ ان کے بہتر مفہوم کی پیروی کریں عنقریب میں تمہیں فاسقوں کے گھر دکھاؤں گا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہم نے چند تختیوں پر ہر قسم کی نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل ان کو لکھ کر دی، تم ان کو پوری طاقت سے پکڑ لو اور اپنی قوم کو حکم کرو کہ ان کے اچھے اچھے احکام پر عمل کریں، اب بہت جلد تم لوگوں کو ان بے حکموں کا مقام دکھلاتا ہوں
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم نے اس کے لیے تختیوں میں لکھ دی ہر چیز کی نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل، اور فرمایا اے موسیٰ اسے مضبوطی سے لے اور اپنی قوم کو حکم دے کر اس کی اچھی باتیں اختیار کریں عنقریب میں تمہیں دکھاؤں گا بے حکموں کا گھر
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے موسیٰ کے لیے ان تختیوں میں ہر قسم کی نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل لکھ دی ہے۔ پس اسے مضبوطی سے پکڑ لو اور اپنی قوم کو حکم دو کہ وہ اس کی بہترین باتوں کو لے لیں (اس کے احکام پر کاربند ہو جائیں) میں عنقریب تم لوگوں کو نافرمان لوگوں کا گھر دکھا دوں گا۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے اس کے لیے تختیوں میں ہر چیز کے بارے میں نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل لکھ دی، سو انھیں قوت کے ساتھ پکڑ اور اپنی قوم کو حکم دے کہ ان کی بہترین باتوں کو پکڑے رکھیں، عنقریب میں تمھیں نافرمانوں کا گھر دکھاؤں گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انبیاء کی فضیلت پر ایک تبصرہ ٭٭

موسیٰ علیہ السلام کو جناب باری فرماتا ہے کہ دوہری نعمت آپ کو عطا ہوئی یعنی رسالت اور ہم کلامی۔ مگر چونکہ ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمام اول و آخر نبیوں کے سردار ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے رسالت ختم کرنے والا آپ کو بنایا کہ قیامت تک آپ ہی کی شریعت جاری رہے گی اور تمام انبیاء اور رسولوں سے آپ کے تابعدار تعداد میں زیادہ ہوں گے۔ فضیلت کے اعتبار سے آپ کے بعد سب سے افضل ابراہیم علیہ السلام ہیں جو خلیل اللہ تھے۔ پھر موسیٰ علیہ السلام ہیں جو کلیم اللہ تھے۔ اے موسیٰ! جو مناجات اور کلام تجھے میں نے دیا ہے، وہ لے لے اور مضبوطی سے اس پر استقامت رکھ اور اس پر جتنا تجھ سے ہو سکے، شکر بجا لایا کر۔ کہا گیا ہے کہ تورات کی تختیاں جواہر کی تھیں اور ان میں اللہ تعالیٰ نے تمام احکام حلال حرام کے تفصیل کے ساتھ لکھ دیئے تھے۔ ان ہی تختیوں میں تورات تھی جس کے متعلق فرمان ہے کہ اگلے لوگوں کی ہلاکت کے بعد ہم نے موسیٰ کو لوگوں کی ہدایت کے لیے کتاب عطا فرمائی۔ یہ بھی مروی ہے کہ تورات سے پہلے یہ تختیاں ملی تھیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ الغرض دیدار الٰہی جس کی تمنا آپ نے کی تھی، اس کے عوض یہ چیز آپ کو ملی۔ کہا گیا: اسے ماننے کے ارادے سے لے لو اور اپنی قوم کو ان اچھائیوں پر عمل کرنے کی ہدایت کرو۔ آپ کو زیادہ تاکید ہوئی اور قوم کو ان سے کم۔ تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ میری حکم عدولی کرنے والے کا کیا انجام ہوتا ہے؟ جیسے کوئی کسی کو دھمکاتے ہوئے کہے کہ تم میری مخالفت کا انجام بھی دیکھ لو گے۔ یہ بھی مطلب ہو سکتا ہے کہ میں تمہیں شام کے بدکاروں کے گھروں کا مالک بنا دوں گا۔ یا مراد اس سے فرعونیوں کا ترکہ ہو۔ لیکن پہلی بات ہی زیادہ ٹھیک معلوم ہوتی ہے کیونکہ یہ فرمان تیہ کے میدان سے پہلے اور فرعون سے نجات پا لینے کے بعد کا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
145۔ 1 گویا تورات تختیوں کی شکل میں عطا فرمائی گئی جس میں ان کے لئے دینی احکام، امر و نہی تر غیب و ترتیب کی پوری تفصیل تھی۔ 145۔ 2 یعنی رخصتوں کی ہی تلاش میں نہ رہیں جیسا کہ سہولت پسندوں کا حال ہوتا ہے۔ 145۔ 3 مقام (دار) سے مراد تو انجام یہی ہلاکت ہے یا اس کا مطلب ہے کہ فاسقوں کے ملک پر تمہیں حکمرانی عطا کروں گا اور اس سے مراد ملک شام ہے۔ جس پر اس وقت عمالقہ کی حکمرانی تھی۔ جو اللہ کے نافرمان تھے۔ (ابن کثیر)
(آیت 145) ➊ {وَ كَتَبْنَا لَهٗ فِي الْاَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ …:} یعنی تمام عقائد و احکام اور نصائح جن کی بنی اسرائیل کو حلال و حرام اور دین کے دوسرے معاملات معلوم کرنے کے سلسلہ میں ضرورت پیش آ سکتی تھی۔{ ” كُلّ “ } کا لفظ موقع کی مناسبت ہی سے متعین ہوتا ہے، مثلاً ملکۂ سبا کے متعلق آتا ہے: «{ وَ اُوْتِيَتْ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ }» [ النمل: ۲۳ ] ”اور اسے ہر چیز میں سے حصہ دیا گیا ہے۔“ اور قوم عاد پر آنے والی آندھی کے متعلق فرمایا: «{ تُدَمِّرُ كُلَّ شَيْءٍۭ بِاَمْرِ رَبِّهَا }» [ الأحقاف: ۲۵ ] ”جو ہر چیز کو اپنے رب کے حکم سے برباد کر دے گی۔“ حالانکہ ظاہر ہے کہ نہ ملکۂ سبا کو کائنات کی ہر چیز عطا ہوئی تھی اور نہ اس آندھی نے کائنات کی ہر چیز کو برباد کیا تھا۔ ➋ {فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ:} اسے قوت کے ساتھ پکڑ۔ مجاہد نے فرمایا، جو کچھ اس میں ہے اس پر عمل کر۔ [ بخاری، التفسیر، قبل ح: ۴۴۷۷ ] ➌ موسیٰ علیہ السلام کو چالیس دن کے اعتکاف کے بعد کتاب ملی، جب کہ اس سے پہلے فرعون اور اس کی قوم موسیٰ علیہ السلام کی رسالت اور ان کے احکام سے انکار کی وجہ سے ہلاک کی جا چکی تھی اور اس وقت تک موسیٰ علیہ السلام کو کوئی کتاب نہیں ملی تھی، تقریباً چالیس سال تک اترنے والی وحی موسیٰ علیہ السلام کی حدیث ہی تھی، جس کے انکار کی وجہ سے فرعون غرق ہوا۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی اسی طرح دونوں قسم کی وحی اتری، ایک کتاب اللہ اور دوسری حدیث۔ جس طرح کتاب اللہ کا منکر مسلمان نہیں اسی طرح حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ ماننے والا بھی کافر ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی پہلے نبیوں کی طرح دونوں قسم کی وحی اتری۔ دیکھیے سورۂ نساء (۱۶۳ تا ۱۶۵) از فوائد مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمہ اللہ۔ ➍ {وَ اْمُرْ قَوْمَكَ يَاْخُذُوْا بِاَحْسَنِهَا:} ”اس کی بہتر باتیں“ یعنی جو کرنے کے حکم ہیں اور بری باتیں (وہ ہیں) جن کے نہ کرنے کا حکم ہے۔ (موضح) یا رخصت کے بجائے عزیمت اختیار کریں جو بہترین ہے اور جس کا اجر زیادہ ہے، یا دو کاموں میں سے ایک اچھا ہے اور ایک اس سے بھی اچھا ہے تو بہترین پر عمل کی کوشش کریں، مثلاً قصاص لینا یا معاف کر دینا، انتقام لینا یا صبر کرنا اور درگزر سے کام لینا، قرض وصول کرنے میں مہلت دینا یا چھوڑ دینا وغیرہ، اگرچہ دونوں اچھے ہیں مگر احسن پر عمل کی کوشش کریں۔ ➎ {سَاُورِيْكُمْ دَارَ الْفٰسِقِيْنَ:} یعنی میں تمھیں فاسقوں کا گھر دکھاؤں گا، یعنی دوبارہ فرعون اور اس کی آل کے گھر مصر لے جاؤں گا، اگرچہ کچھ دیر کے بعد، جیسا کہ بعد میں بنی اسرائیل کو فرعون کے باغات اور خزانوں کا مالک بنا دیا۔ دیکھیے سورۂ اعراف (۱۳۷) کے حواشی۔ استاد محمد عبدہ رحمہ اللہ نے لکھا ہے، یعنی اگر تم نے ان باتوں پر عمل نہ کیا تو تمھیں جلد معلوم ہو جائے گا کہ میری نافرمانی کرنے والوں کا انجام کیا ہوتا ہے اور انھیں کس قسم کی تباہی و بربادی سے دو چار ہونا پڑتا ہے (گویا {” دَارَ الْفٰسِقِيْنَ “} سے مراد جہنم ہے)۔ (ابن جریر) بعض نے لکھا ہے کہ {” دَارَ الْفٰسِقِيْنَ “} سے مراد اہل شام ہیں، گویا اس میں وعدہ ہے کہ ملک شام تمھارے قبضے میں آئے گا۔ (کبیر) یا یہ کہ اگر تم نے نافرمانی کی تو تم کو اسی طرح ذلیل کریں گے جس طرح شام کا ملک ان سے چھین کر تم کو دیا۔ (موضح)
سَاَصۡرِفُ عَنۡ اٰیٰتِیَ الَّذِیۡنَ یَتَکَبَّرُوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ بِغَیۡرِ الۡحَقِّ ؕ وَ اِنۡ یَّرَوۡا کُلَّ اٰیَۃٍ لَّا یُؤۡمِنُوۡا بِہَا ۚ وَ اِنۡ یَّرَوۡا سَبِیۡلَ الرُّشۡدِ لَا یَتَّخِذُوۡہُ سَبِیۡلًا ۚ وَ اِنۡ یَّرَوۡا سَبِیۡلَ الۡغَیِّ یَتَّخِذُوۡہُ سَبِیۡلًا ؕ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا وَ کَانُوۡا عَنۡہَا غٰفِلِیۡنَ ﴿۱۴۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
میں اپنی نشانیوں سے اُن لوگوں کی نگاہیں پھیر دوں گا جو بغیر کسی حق کے زمین میں بڑے بنتے ہیں، وہ خواہ کوئی نشانی دیکھ لیں کبھی اس پر ایمان نہ لائیں گے، اگر سیدھا راستہ اُن کے سامنے آئے تو اسے اختیار نہ کریں گے اور اگر ٹیٹرھا راستہ نظر آئے تو اس پر چل پڑیں گے، اس لیے کہ انہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا اور ان سے بے پروائی کرتے رہے
مولانا محمد جوناگڑھی
میں ایسے لوگوں کو اپنے احکام سے برگشتہ ہی رکھوں گا جو دنیا میں تکبر کرتے ہیں، جس کا ان کو کوئی حق حاصل نہیں اور اگر تمام نشانیاں دیکھ لیں تب بھی وه ان پر ایمان نہ ﻻئیں، اور اگر ہدایت کا راستہ دیکھیں تو اس کو اپنا طریقہ نہ بنائیں اور اگر گمراہی کا راستہ دیکھ لیں تو اس کو اپنا طریقہ بنالیں۔ یہ اس سبب سے ہے کہ انہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے غافل رہے
احمد رضا خان بریلوی
اور میں اپنی آیتوں سے انہیں پھیردوں گا جو زمین میں ناحق اپنی بڑا ئی چاہتے ہیں اور اگر سب نشانیاں دیکھیں ان پر ایمان نہ لائیں اور اگر ہدایت کی راہ دیکھیں اس میں چلنا پسند نہ کریں اور گمراہی کا راستہ نظر پڑے تو اس میں چلنے کو موجود ہوجائیں، یہ اس لیے کہ انہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں اور ان سے بے خبر بنے،
علامہ محمد حسین نجفی
جو لوگ ناحق خدا کی زمین میں سرکشی کرتے ہیں میں اپنی نشانیوں سے ان کی نگاہیں پھرا دوں گا۔ وہ اگر ہر معجزہ بھی دیکھ لیں۔ تو پھر بھی ایمان نہیں لائیں گے۔ اور اگر وہ ہدایت کا راستہ دیکھ بھی لیں تو اسے اپنا راستہ نہیں بنائیں گے۔ اور اگر گمراہی کا راستہ دیکھ لیں تو (فوراً) اسے (اپنا) راستہ بنا لیں گے ان کی یہ حالت اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے ہماری آیتوں (نشانیوں) کو جھٹلایا اور ان سے غفلت برتتے رہے۔
عبدالسلام بن محمد
عنقریب میں اپنی آیات سے ان لوگوں کو پھیر دوں گا جو زمین میں حق کے بغیر بڑے بنتے ہیں اور اگر ہر نشانی دیکھ لیں تو بھی اس پر ایمان نہیں لاتے اور اگر بھلائی کا راستہ دیکھ لیں تو اسے راستہ نہیں بناتے اور اگر گمراہی کا راستہ دیکھیں تو اسے راستہ بنا لیتے ہیں، یہ اس لیے کہ انھوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور وہ ان سے غافل تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تکبر کا پھل محرومی ٭٭

تکبر کا نتیجہ ہمیشہ جہالت ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کو حق سمجھنے، اسے قبول کرنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق نصیب نہیں ہوتی۔ ان کی بےایمانی کی وجہ سے ان کے دل الٹ جاتے ہیں، آنکھ کان بےکار ہو جاتے ہیں۔ ان کی کجی ان کے دلوں کو بھی کج کر دیتی ہے۔ علماء کا مقولہ ہے کہ متکبر اور پوچھنے سے جی چرانے والا کبھی عالم نہیں ہو سکتا۔ جو شخص تھوڑی دیر کے لیے علم کے حاصل کرنے میں اپنے آپ کو دوسرے کے سامنے نہ جھکائے، وہ عمر بھر ذلت و رسوائی میں رہتا ہے۔ متکبر لوگوں کو قرآن کی سمجھ کہاں؟ وہ تو رب کی آیتوں سے بھاگتے رہتے ہیں۔ اس امت کے لوگ ہوں یا دوسری امتوں کے، سب کے ساتھ اللہ کا طریقہ یہی رہا ہے کہ تکبر کی وجہ سے حق کی پیروی نصیب نہیں ہوتی۔ چونکہ یہ لوگ اللہ کے عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں۔ اگرچہ یہ بڑے بڑے معجزے بھی دیکھ لیں، انہیں ایمان نصیب نہیں ہو گا۔ گو نجات کے راستے ان پر کھل جائیں لیکن اس راہ پر چلنا ان کے لیے دشوار ہے۔ ہاں بری راہ سامنے آتے ہی یہ بےطرح اس پر لپکتے ہیں۔ اس لیے کہ ان کے دلوں میں جھٹلانا ہے اور اپنے اعمال کے نتیجوں سے بےخبر ہیں۔ جو لوگ ہماری آیتوں کو جھٹلائیں، آخرت کا یقین نہ رکھیں، اسی عقیدے پر مریں، ان کے اعمال اکارت ہیں۔ ہم کسی پر ظلم نہیں کرتے، بدلہ صرف کئے ہوئے اعمال کا ہی ملتا ہے۔ بھلے کا بھلا اور برے کا برا، جیسا کرو گے، ویسا بھرو گے۔
146۔ 1 تکبر کا مطلب ہے اللہ کی آیات و احکام کے مقابلے میں اپنے آپ کو بڑا سمجھنا اور لوگوں کو حقیر گرداننا۔ یہ تکبر انسان کے لئے زیبا نہیں دیتا، کیونکہ اللہ خالق ہے اور وہ اس کی مخلوق۔ مخلوق ہو کر، خالق کا مقابلہ کرنا اور اس کے احکام و ہدایات سے اعراض و غفلت کرنا کسی طرح بھی جائز نہیں۔ اس لئے اللہ تعالیٰ کو تکبر سخت ناپسند ہے۔ اس ایت میں تکبر کا نتیجہ بتلایا گیا ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ انہیں ایات الہی سے دور ہی رکھتا ہے اور پھر وہ اتنے دور ہوجاتے ہیں کہ کسی طرح کی بھی نشانی انہیں حق کی طرف لانے میں کامیاب نہیں ہوتی۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا (ترجمہ) جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہوگئ وہ ایمان نہیں لائیں گے چاہے ان کے پاس ہر طرح کی نشانی آجاوے حتی کہ وہ دردناک عذاب دیکھ لیں۔ 146۔ 2 اس میں احکام الٰہی سے اعراض کرنے والوں کی ایک عادت یا نفسیات کا بیان ہے کہ ہدایت کی کوئی بات ان کے سامنے آئے تو اسے تو نہیں مانتے، البتہ گمراہی کی کوئی چیز دیکھتے ہیں تو اسے فوراً اپنا لیتے اور راہ عمل بنا لیتے ہیں قرآن کریم کی بیان کردہ اس حقیقت کا ہر دور میں مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔ آج ہم بھی ہر جگہ اور ہر معاشرے میں حتٰی کہ مسلمان معاشروں میں بھی دیکھ رہے ہیں کہ نیکی منہ چھپائے پھر رہی ہے اور بدی انسان لپک لپک کر اختیار کر رہا ہے۔ 146۔ 3 یہ اس بات کا سبب بتلایا جا رہا ہے کہ لوگ نیکی کے مقابلے میں بدی کو اور حق کے مقابلے میں باطل کو کیوں زیادہ اختیار کرتے ہیں؟ یہ سبب ہے آیات الٰہی کی تکذیب اور ان سے غفلت اور اعراض کا۔ یہ ہر معاشرے میں عام ہے۔
(آیت 146) ➊ { سَاَصْرِفُ عَنْ اٰيٰتِيَ …:} نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہو گا جس کے دل میں ذرہ برابر کبر ہو گا۔“ ایک آدمی نے کہا: ”آدمی پسند کرتا ہے کہ اس کا کپڑا اچھا ہو، اس کا جوتا اچھا ہو (کیا یہ بھی کبر ہے)؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ جمیل ہے اور جمال کو پسند کرتا ہے، تکبر تو بڑا بنتے ہوئے حق کے انکار اور لوگوں کو حقیر اور بے وقعت جاننے کا نام ہے۔“ [ مسلم، الإیمان، باب تحریم الکبر و بیانہ: ۹۱، عن ابن مسعود رضی اللہ عنہ ] اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی آیات سن کر جو لوگ اپنی بڑائی اور برتری کے زعم میں حق قبول نہیں کرتے، اللہ تعالیٰ بھی انھیں اپنی آیات قبول کرنے سے دفع دور کر دیتا ہے۔ یہاں فرمایا: ”میں اپنی آیات سے ان لوگوں کو پھیر دوں گا…“ یعنی انھیں یہ سزا دوں گا کہ وہ میری عظمت، شریعت اور احکام کو سمجھ نہ سکیں گے اور پھر جاہل رہنے کی وجہ سے دنیا و آخرت دونوں میں ذلیل ہوں گے۔ (نیز دیکھیے انعام: ۱۱۰) اس لیے بعض سلف کا قول ہے: ”متکبر شخص علم حاصل نہیں کر سکتا اور جو شخص علم حاصل کرنے کے لیے ایک ساعت کی ذلت گوارا نہیں کر سکتا وہ جاہل رہ کر ہمیشہ کی ذلت مول لیتا ہے۔“ (ابن کثیر) {” بِغَيْرِ الْحَقِّ “} کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاں حق بنتا ہو وہاں بڑا بن کے دکھانا درست ہے، مثلاً کفار کے مقابلے میں میدان جنگ کے اندر اللہ تعالیٰ کو متکبرانہ انداز کی چال بھی محبوب ہے جو عام حالات میں اسے سخت ناپسند ہے۔ ➋ { وَ كَانُوْا عَنْهَا غٰفِلِيْنَ: } یعنی یہ سب ان کے اپنے کیے کی سزا ہو گی، جیسا کہ دوسری آیت میں فرمایا: «{ فَلَمَّا زَاغُوْۤا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ}» [ الصف: ۵ ] ”جب وہ ٹیڑھے ہو گئے تو اللہ نے بھی ان کے دلوں کو ٹیڑھا کردیا۔“ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”الواح (تختیاں) دے کر یہ بھی فرمایا کہ قوم کو تقید (پابند) کرو کہ عمل کریں اور یہ بھی فرما دیا کہ جو بے انصاف ہیں اور حق پرست نہیں ان کے دل میں پھیر دوں گا، اس پر عمل نہیں کریں گے، یعنی ان حکموں کی توفیق نہ ہو گی اور جو اپنی عقل سے کریں گے وہ قبول نہ ہو گا۔“ (موضح)
وَ الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا وَ لِقَآءِ الۡاٰخِرَۃِ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُہُمۡ ؕ ہَلۡ یُجۡزَوۡنَ اِلَّا مَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۴۷﴾٪
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہماری نشانیوں کو جس کسی نے جھٹلایا اور آخرت کی پیشی کا انکار کیا اُس کے سارے اعمال ضائع ہو گئے کیا لوگ اِس کے سوا کچھ اور جزا پا سکتے ہیں کہ جیسا کریں ویسا بھریں؟"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور یہ لوگ جنہوں نے ہماری آیتوں کو اور قیامت کے پیش آنے کو جھٹلایا ان کے سب کام غارت گئے۔ ان کو وہی سزا دی جائے گی جو کچھ یہ کرتے تھے
احمد رضا خان بریلوی
اور جنہوں نے ہماری آیتیں اور آخرت کے دربار کو جھٹلایا ان کا سب کیا دھرا اَکارت گیا، انہیں کیا بدلہ ملے گا مگر وہی جو کرتے تھے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو اور آخرت کی پیشی کو جھٹلایا ان کے سارے اعمال ضائع ہوگئے پس انہیں جزا یا سزا نہیں دی جائے گی مگر انہی اعمال کی جو وہ (دار دنیا میں) کرتے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا ان کے اعمال ضائع ہوگئے، وہ اسی کا بدلہ دیے جائیں گے جو وہ کیا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تکبر کا پھل محرومی ٭٭

تکبر کا نتیجہ ہمیشہ جہالت ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کو حق سمجھنے، اسے قبول کرنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق نصیب نہیں ہوتی۔ ان کی بےایمانی کی وجہ سے ان کے دل الٹ جاتے ہیں، آنکھ کان بےکار ہو جاتے ہیں۔ ان کی کجی ان کے دلوں کو بھی کج کر دیتی ہے۔ علماء کا مقولہ ہے کہ متکبر اور پوچھنے سے جی چرانے والا کبھی عالم نہیں ہو سکتا۔ جو شخص تھوڑی دیر کے لیے علم کے حاصل کرنے میں اپنے آپ کو دوسرے کے سامنے نہ جھکائے، وہ عمر بھر ذلت و رسوائی میں رہتا ہے۔ متکبر لوگوں کو قرآن کی سمجھ کہاں؟ وہ تو رب کی آیتوں سے بھاگتے رہتے ہیں۔ اس امت کے لوگ ہوں یا دوسری امتوں کے، سب کے ساتھ اللہ کا طریقہ یہی رہا ہے کہ تکبر کی وجہ سے حق کی پیروی نصیب نہیں ہوتی۔ چونکہ یہ لوگ اللہ کے عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں۔ اگرچہ یہ بڑے بڑے معجزے بھی دیکھ لیں، انہیں ایمان نصیب نہیں ہو گا۔ گو نجات کے راستے ان پر کھل جائیں لیکن اس راہ پر چلنا ان کے لیے دشوار ہے۔ ہاں بری راہ سامنے آتے ہی یہ بےطرح اس پر لپکتے ہیں۔ اس لیے کہ ان کے دلوں میں جھٹلانا ہے اور اپنے اعمال کے نتیجوں سے بےخبر ہیں۔ جو لوگ ہماری آیتوں کو جھٹلائیں، آخرت کا یقین نہ رکھیں، اسی عقیدے پر مریں، ان کے اعمال اکارت ہیں۔ ہم کسی پر ظلم نہیں کرتے، بدلہ صرف کئے ہوئے اعمال کا ہی ملتا ہے۔ بھلے کا بھلا اور برے کا برا، جیسا کرو گے، ویسا بھرو گے۔
147۔ 1 اس میں آیات الٰہی کی تکذیب اور احکام کا انکار کرنے والوں کا انجام بتلایا گیا ہے کہ چونکہ ان کے عمل کی اساس عدل و حق نہیں ظلم و باطل ہے۔ اس لئے ان کا نامہ اعمال میں شر ہی شر ہوگا جس کی کوئی قیمت اللہ کے ہاں نہ ہوگی۔ اور اس شر کا بدلہ ان کو وہاں ضرور دیا جائے گا۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَ اتَّخَذَ قَوۡمُ مُوۡسٰی مِنۡۢ بَعۡدِہٖ مِنۡ حُلِیِّہِمۡ عِجۡلًا جَسَدًا لَّہٗ خُوَارٌ ؕ اَلَمۡ یَرَوۡا اَنَّہٗ لَا یُکَلِّمُہُمۡ وَ لَا یَہۡدِیۡہِمۡ سَبِیۡلًا ۘ اِتَّخَذُوۡہُ وَ کَانُوۡا ظٰلِمِیۡنَ ﴿۱۴۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
موسیٰؑ کے پیچھے اس کی قوم کے لوگوں نے اپنے زیوروں سے ایک بچھڑے کا پتلا بنا لیا جس میں سے بیل کی سی آواز نکلتی تھی کیا اُنہیں نظر نہ آتا تھا کہ وہ نہ ان سے بولتا ہے نہ کسی معاملہ میں ان کی رہنمائی کرتا ہے؟ مگر پھر بھی اُنہوں نے اسے معبود بنا لیا اور وہ سخت ظالم تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم نے ان کے بعد اپنے زیوروں کا ایک بچھڑا معبود ٹھہرا لیا جو کہ ایک قالب تھا جس میں ایک آواز تھی۔ کیا انہوں نے یہ نہ دیکھا کہ وه ان سے بات نہیں کرتا تھا اور نہ ان کو کوئی راه بتلاتا تھا اس کو انہوں نے معبود قرار دیا اور بڑی بے انصافی کا کام کیا
احمد رضا خان بریلوی
اور موسیٰ کے بعد اس کی قوم اپنے زیوروں سے ایک بچھڑا بنا بیٹھی بے جان کا دھڑ گائے کی طرف آواز کرتا، کیا نہ دیکھا کہ وہ ان سے نہ بات کرتا ہے اور نہ انہیں کچھ راہ بتائے اسے لیا اور وہ ظالم تھے
علامہ محمد حسین نجفی
اور موسیٰ کی قوم نے ان کے (کوہِ طور پر چلے جانے کے) بعد اپنے زیوروں سے (ان کو گلا کر) ایک بچھڑے کا پتلا بنا لیا جس سے بیل کی سی آواز نکلتی تھی۔ کیا انہوں نے اتنا بھی نہ دیکھا (نہ سوچا) کہ وہ نہ ان سے بات کرتا ہے اور نہ ہی کسی طرح کی راہنمائی کر سکتا ہے پھر بھی انہوں نے اسے (معبود) بنا لیا اور وہ (اپنے اوپر) سخت ظلم کرنے والے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
اور موسیٰ کی قوم نے اس کے بعد اپنے زیوروں سے ایک بچھڑا بنا لیا، جو ایک جسم تھا، جس کی گائے جیسی آواز تھی۔ کیا انھوں نے یہ نہ دیکھا کہ وہ نہ ان سے بات کرتا ہے اور نہ انھیں کوئی راستہ بتاتا ہے۔ انھوں نے اسے (معبود) بنا لیا اور وہ ظالم تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بنی اسرائیل کا بچھڑے کو پوجنا ٭٭

موسیٰ علیہ السلام تو اللہ کے وعدے کے مطابق تورات لینے گئے، ادھر فرعونیوں کے جو زیور بنی اسرائیل کے پاس رہ گئے تھے، سامری نے انہیں جمع کیا اور اپنے پاس سے اس میں خاک کی مٹھی ڈال دی جو جبرائیل علیہ السلام کے گھوڑے کی ٹاپ تلے سے اس نے اٹھالی تھی۔ اللہ کی قدرت سے وہ سونا گل کر مثل ایک گائے کے جسم کے ہو گیا اور چونکہ کھوکھلا تھا، اس میں سے آواز بھی آنے لگی اور وہ بالکل ہو بہو گائے کی سی آواز تھی۔ اس نے بنی اسرائیل کو بہکا کر اس کی عبادت کرانی شروع کر دی، بہت سے لوگ اسے پوجنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے طور پر موسیٰ علیہ السلام کو اس فتنے کی خبر دی۔ یہ بچھڑا یا تو سچ مچ خون گوشت کا بن گیا تھا یا سونے کا ہی تھا مگر شکل گائے کی تھی، یہ اللہ ہی جانے۔ بنی اسرائیل تو آواز سنتے ہی ناچنے لگے اور اس پر ریجھ گئے۔ سامری نے کہہ دیا کہ اللہ تو یہی ہے، موسیٰ علیہ السلام بھول گئے ہیں۔ انہیں اتنی بھی تمیز نہ آئی کہ وہ اللہ تو کسی بات کا جواب بھی نہیں دے سکتا اور کسی نفع نقصان کا اختیار بھی نہیں رکھتا۔ اس بچھڑے کو اس اللہ کو چھوڑ کر پوجو جو سب کا مالک اور سب کا خالق ہے۔ اس کی وجہ سوائے اندھے پن اور بےعقلی کے اور کیا ہو سکتی ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا: { کسی چیز کی محبت انسان کو اندھا، بہرا کر دیتی ہے۔ } ۱؎ [مسند احمد:194/5:ضعیف] ‏‏‏‏ پھر جب اس محبت میں کمی آئی، آنکھیں کھلیں تو اپنے اس فعل پر نادم ہونے لگے اور یقین کر لیا کہ واقعی ہم گمراہ ہو گئے تو اللہ سے بخشش مانگنے لگے۔ ایک قرأت میں «تَغْفِرْ» ”ت“ سے بھی ہے۔ جان گئے کہ اگر معافی نہ ملی تو بڑے نقصان سے دو چار ہو جائیں گے۔ غرض اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ سے جھکے اور التجا کرنے لگے۔
148۔ 1 موسیٰ ؑ جب چالیس راتوں کے لئے کوہ طور پر گئے تو پیچھے سے سامری نامی شخص نے سونے کے زیورات اکھٹے کرکے ایک بچھڑا تیار کیا جس میں اس نے جبرائیل ؑ کے گھوڑے کے سموں کے نیچے کی مٹی بھی، جو اس نے سنبھال کر رکھی تھی شامل کردی، جس میں اللہ نے زندگی کی تاثیر رکھی تھی جس کی وجہ سے بچھڑا کچھ کچھ بیل کی آواز نکالتا تھا (گو واضح کلام کرنے اور راہنمائی کرنے سے عاجز تھا جیسا کہ قرآن کے الفاظ واضح کر رہے ہیں، اسمیں اختلاف ہے کہ فی الواقع گوشت پوست کا بچھڑا بن گیا تھا، یا تھا وہ سونے کا ہی، لیکن کسی طریقے سے اس میں ہوا داخل ہوتی تو گائے، بیل کی سی آواز اس میں سے نکلتی۔ (ابن کثیر) اس آواز سے سامری نے بنی اسرائیل کو گمراہ کیا کہ تمہارا معبود تو یہ ہے، موسیٰ ؑ بھول گئے ہیں اور وہ معبود کی تلاش میں کوہ طور پر گئے ہیں۔
(آیت 148) ➊ {وَ اتَّخَذَ قَوْمُ مُوْسٰى …:} یہی قصہ سورۂ طٰہٰ میں بھی بیان ہوا ہے۔ {” مِنْ حُلِيِّهِمْ “} (اپنے زیوروں سے) یہ الفاظ صراحت کر رہے ہیں کہ وہ زیورات بنی اسرائیل کے اپنے تھے، اس لیے بائبل اور ہماری تفسیروں کی اسرائیلی روایات میں جو کہا گیا ہے کہ وہ زیور قبطیوں کے تھے اور بنی اسرائیل نے ان سے عاریتًا لیے تھے وہ درست نہیں، مزید تفصیل سورۂ طٰہٰ (۸۷) میں دیکھیں۔ جب موسیٰ علیہ السلام طور پر تشریف لے گئے تو ان میں سے ایک شخص سامری نے ان سے یہ زیورات لے لیے اور انھیں آگ میں پگھلا کر بچھڑے کی شکل کا ایک مجسمہ بنا ڈالا، جس سے گائے کی آواز نکلتی تھی، اس آیت میں اس مجسمے کے بنانے کو بنی اسرائیل کی طرف منسوب کیاگیا ہے، کیونکہ سامری نے اسے ان کی اجازت اور رضا مندی سے بنایا تھا اور وہ اپنے لیے اس قسم کے ایک معبود کی خواہش رکھتے تھے۔ (ابن کثیر) تفسیر ثنائی میں ہے کہ موجودہ تورات کی دوسری کتاب (خروج) کے بتیسویں باب میں جو لکھا ہے کہ ہارون علیہ السلام نے خود ہی ان کو بچھڑا بنا دیا تھا، یہ صریح غلط ہے، شانِ نبوت اور شرک اجتماع ضدین ہے۔ عیسائیو! قرآن کے {”مُهَيْمِنٌ عَلَي التَّوْرَاةِ“} ہونے میں اب بھی شک کرو گے؟ ({ مُهَيْمِنٌ} کا معنی سمجھنے کے لیے ملاحظہ کیجیے سورۂ مائدہ: ۴۸ کے حواشی) مفسرین کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ آیا وہ بچھڑا واقعی گوشت پوست اور خون کا بن گیا تھا اور اس میں جان پڑ گئی تھی، یا وہ محض ایک مجسمہ رہا، جس میں ہوا داخل ہوتی یا داخل کی جاتی تو اس سے بچھڑے کی سی آواز نکلتی تھی؟ جو مفسرین اس کے واقعی جاندار بچھڑا ہونے کے قائل ہیں وہ اس کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ ایک مرتبہ جبریل علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام کے پاس گھوڑی پر سوار آئے، سامری نے انھیں دیکھ لیا اور ان کی گھوڑی کے پاؤں تلے کی کچھ مٹی لے لی اور انھوں نے سورۂ طٰہٰ کی آیت (۹۶) «{ فَقَبَضْتُ قَبْضَةً مِّنْ اَثَرِ الرَّسُوْلِ }» کے یہی معنی کیے ہیں، چنانچہ اس مٹی کو جب انھوں نے بچھڑے کے اس مجسمے پر ڈالا تو وہ سچ مچ کا بچھڑا بن گیا، لیکن یہ کسی صحیح روایت سے ثابت نہیں ہے۔ نیز دیکھیے سورۂ طٰہٰ (۸۸ تا ۹۶)۔ ➋ { اَلَمْ يَرَوْا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمْ وَ لَا يَهْدِيْهِمْ سَبِيْلًا:} اللہ تعالیٰ نے تو نظر نہ آنے کے باوجود موسیٰ علیہ السلام سے کلام کیا اور ہدایت کا راستہ بھی بتایا، یہ عجیب معبود ہے کہ سامنے ہونے کے باوجود نہ بات کر سکتا ہے نہ ہدایت دے سکتا ہے، پھر وہ معبود کیسے ہو سکتا ہے؟ اگر بالفرض اس میں جان بھی پڑ گئی ہے تو وہ ایک عاجز حیوان ہے، اس جیسی بلکہ اس سے بہتر بے شمار گائیں ڈنڈے کھاتی پھرتی ہیں اور زنجیروں میں بندھی ہوئی بے بس ہو کر دودھ دے رہی ہیں۔ معلوم ہوا معبود کے لیے کلام کرنے والا اور ہدایت دینے والا ہونا ضروری ہے۔ ”کلام کرنے والا“ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ حکم دے سکے، منع کر سکے اور ”ہدایت دینے والا“ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اسے ہدایت دینے پر قدرت ہو۔
وَ لَمَّا سُقِطَ فِیۡۤ اَیۡدِیۡہِمۡ وَ رَاَوۡا اَنَّہُمۡ قَدۡ ضَلُّوۡا ۙ قَالُوۡا لَئِنۡ لَّمۡ یَرۡحَمۡنَا رَبُّنَا وَ یَغۡفِرۡ لَنَا لَنَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰسِرِیۡنَ ﴿۱۴۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر جب ان کی فریب خوردگی کا طلسم ٹوٹ گیا او ر اُنہوں نے دیکھ لیا کہ در حقیقت وہ گمراہ ہو گئے ہیں تو کہنے لگے کہ "اگر ہمارے رب نے ہم پر رحم نہ فرمایا اور ہم سے درگزر نہ کیا تو ہم برباد ہو جائیں گے"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جب نادم ہوئے اور معلوم ہوا کہ واقعی وه لوگ گمراہی میں پڑ گئے تو کہنے لگے کہ اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہ کرے اور ہمارا گناه معاف نہ کرے تو ہم بالکل گئے گزرے ہو جائیں گے
احمد رضا خان بریلوی
اور جب پچھتائے اور سمجھے کہ ہم بہکے بولے اگر ہمارا رب ہم پر مہر ہ کرے اور ہمیں نہ بخشے تو ہم تباہ ہوئے،
علامہ محمد حسین نجفی
پھر جب وہ نادم ہوئے اور کفِ افسوس مَلنے لگے اور محسوس کیا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں۔ تو کہنے لگے کہ ہمارے پروردگار نے ہم پر رحم نہ کیا اور ہمیں نہ بخشا تو ہم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب وہ پشیمان ہوئے اور انھوں نے دیکھا کہ وہ تو گمراہ ہوگئے ہیں، تو انھوں نے کہا یقینا اگر ہمارے رب نے ہم پر رحم نہ کیا اور ہمیں نہ بخشا تو ہم ضرور ہی خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بنی اسرائیل کا بچھڑے کو پوجنا ٭٭

موسیٰ علیہ السلام تو اللہ کے وعدے کے مطابق تورات لینے گئے، ادھر فرعونیوں کے جو زیور بنی اسرائیل کے پاس رہ گئے تھے، سامری نے انہیں جمع کیا اور اپنے پاس سے اس میں خاک کی مٹھی ڈال دی جو جبرائیل علیہ السلام کے گھوڑے کی ٹاپ تلے سے اس نے اٹھالی تھی۔ اللہ کی قدرت سے وہ سونا گل کر مثل ایک گائے کے جسم کے ہو گیا اور چونکہ کھوکھلا تھا، اس میں سے آواز بھی آنے لگی اور وہ بالکل ہو بہو گائے کی سی آواز تھی۔ اس نے بنی اسرائیل کو بہکا کر اس کی عبادت کرانی شروع کر دی، بہت سے لوگ اسے پوجنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے طور پر موسیٰ علیہ السلام کو اس فتنے کی خبر دی۔ یہ بچھڑا یا تو سچ مچ خون گوشت کا بن گیا تھا یا سونے کا ہی تھا مگر شکل گائے کی تھی، یہ اللہ ہی جانے۔ بنی اسرائیل تو آواز سنتے ہی ناچنے لگے اور اس پر ریجھ گئے۔ سامری نے کہہ دیا کہ اللہ تو یہی ہے، موسیٰ علیہ السلام بھول گئے ہیں۔ انہیں اتنی بھی تمیز نہ آئی کہ وہ اللہ تو کسی بات کا جواب بھی نہیں دے سکتا اور کسی نفع نقصان کا اختیار بھی نہیں رکھتا۔ اس بچھڑے کو اس اللہ کو چھوڑ کر پوجو جو سب کا مالک اور سب کا خالق ہے۔ اس کی وجہ سوائے اندھے پن اور بےعقلی کے اور کیا ہو سکتی ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا: { کسی چیز کی محبت انسان کو اندھا، بہرا کر دیتی ہے۔ } ۱؎ [مسند احمد:194/5:ضعیف] ‏‏‏‏ پھر جب اس محبت میں کمی آئی، آنکھیں کھلیں تو اپنے اس فعل پر نادم ہونے لگے اور یقین کر لیا کہ واقعی ہم گمراہ ہو گئے تو اللہ سے بخشش مانگنے لگے۔ ایک قرأت میں «تَغْفِرْ» ”ت“ سے بھی ہے۔ جان گئے کہ اگر معافی نہ ملی تو بڑے نقصان سے دو چار ہو جائیں گے۔ غرض اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ سے جھکے اور التجا کرنے لگے۔
149۔ 1 سقط فی أیدھم۔ محاورہ ہے جس کے معنی نادم ہونا ہیں۔ یہ ندامت موسیٰ ؑ کی واپسی کے بعد ہوئی، جب انہوں نے آکر اس پر لعنت ملامت کی۔ جیسا کہ سورة طٰہ ٰمیں ہے۔ یہاں اسے مقدم اس لئے کردیا گیا ہے کہ ان کا فعل اور قول اکٹھا ہوجائے۔ (فتح القدیر)
(آیت 149) {وَ لَمَّا سُقِطَ فِيْۤ اَيْدِيْهِمْ:} یہ عربی زبان کا محاورہ ہے، جس کا معنی ہے کہ جب وہ نادم اور پشیمان ہوئے۔ رہی یہ بات کہ یہ محاورہ کیسے بنا تو ظاہر ہے کہ یہاں ان کے ہاتھوں میں گر پڑنے والی چیز مجہول رکھی گئی ہے، گویا ندامت کی وجہ سے ان کے منہ ہاتھوں میں آ گرے اور اس پشیمانی میں انھوں نے اپنے چہرے ہاتھوں میں چھپا لیے۔ یا انسان جب پشیمان اور نادم ہوتا ہے تو وہ دانتوں سے ہاتھ کاٹتا ہے، گویا اس کا منہ اور دانت ہاتھوں میں آ گرتے ہیں، یعنی بے اختیار پہنچ جاتے ہیں۔ یعنی جب انھیں کچھ ہارون علیہ السلام کے سمجھانے سے اور کچھ موسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری پر ان کے غیظ و غضب سے احساس ہوا کہ ہم کتنا بڑا غلط کام کر بیٹھے ہیں تو انھوں نے یہ دعا کی۔ سورۂ بقرہ (۵۴) کی تفسیر میں ان کی توبہ، ایک دوسرے کو قتل کرنے اور توبہ کی قبولیت کا ذکر گزر چکا ہے۔
وَ لَمَّا رَجَعَ مُوۡسٰۤی اِلٰی قَوۡمِہٖ غَضۡبَانَ اَسِفًا ۙ قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُوۡنِیۡ مِنۡۢ بَعۡدِیۡ ۚ اَعَجِلۡتُمۡ اَمۡرَ رَبِّکُمۡ ۚ وَ اَلۡقَی الۡاَلۡوَاحَ وَ اَخَذَ بِرَاۡسِ اَخِیۡہِ یَجُرُّہٗۤ اِلَیۡہِ ؕ قَالَ ابۡنَ اُمَّ اِنَّ الۡقَوۡمَ اسۡتَضۡعَفُوۡنِیۡ وَ کَادُوۡا یَقۡتُلُوۡنَنِیۡ ۫ۖ فَلَا تُشۡمِتۡ بِیَ الۡاَعۡدَآءَ وَ لَا تَجۡعَلۡنِیۡ مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۱۵۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ادھر سے موسیٰؑ غصے اور رنج میں بھرا ہوا اپنی قوم کی طرف پلٹا آتے ہی اس نے کہا "بہت بری جانشینی کی تم لوگوں نے میرے بعد! کیا تم سے اتنا صبر نہ ہوا کہ اپنے رب کے حکم کا انتظار کر لیتے؟" اور تختیاں پھینک دیں اور اپنے بھا ئی (ہارونؑ) کے سر کے بال پکڑ کر اسے کھینچا ہارونؑ نے کہا "اے میری ماں کے بیٹے، اِن لوگوں نے مجھے دبا لیا اور قریب تھا کہ مجھے مار ڈالتے پس تو دشمنوں کو مجھ پر ہنسنے کا موقع نہ دے اور اس ظالم گروہ کے ساتھ مجھے نہ شامل کر"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جب موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کی طرف واپس آئے غصہ اور رنج میں بھرے ہوئے تو فرمایا کہ تم نے میرے بعد یہ بڑی بری جانشینی کی؟ کیا اپنے رب کے حکم سے پہلے ہی تم نے جلد بازی کرلی، اور جلدی سے تختیاں ایک طرف رکھیں اور اپنے بھائی کا سر پکڑ کر ان کو اپنی طرف گھسیٹنے لگے۔ ہارون (علیہ السلام) نے کہا کہ اے میرے ماں جائے! ان لوگوں نے مجھ کو بےحقیقت سمجھا اور قریب تھا کہ مجھ کو قتل کر ڈالیں تو تم مجھ پر دشمنوں کو مت ہنساؤ اور مجھ کو ان ﻇالموں کے ذیل میں مت شمار کرو
احمد رضا خان بریلوی
اور جب موسیٰ اپنی قوم کی طرف پلٹا غصہ میں بھرا جھنجلایا ہوا کہا تم نے کیا بری میری جانشینی کی میرے بعد کیا تم نے اپنے رب کے حکم سے جلدی کی اور تختیاں ڈال دیں اور اپنے بھائی کے سر کے بال پکڑ کر اپنی طرف کھینچنے لگا کہا اے میرے ماں جائے قوم نے مجھے کمزور سمجھا اور قریب تھا کہ مجھے مار ڈالیں تو مجھ پر دشمنوں کو نہ ہنسا اور مجھے ظالموں میں نہ ملا
علامہ محمد حسین نجفی
اور جب موسیٰ خشمناک اور افسوس کرتے ہوئے اپنی قوم کے پاس واپس آئے۔ تو فرمایا: اے قوم! تم نے میرے بعد بہت ہی بری جانشینی کی۔ کیا تم نے اپنے پروردگار کا حکم آنے سے پہلے جلد بازی کر لی (وعدہ خداوندی چالیس راتوں کے پورا ہونے کی انتظار بھی نہ کی) اور پھر (للہی جوش میں آخر تورات کی) تختیاں (ہاتھ سے) پھینک دیں اور اپنے بھائی (ہارون) کا سر ہاتھ میں لے کر اپنی طرف کھینچنے لگے۔ انہوں نے کہا اے میرے ماں جائے! قوم نے مجھے کمزور اور بے بس کر دیا تھا اور قریب تھا کہ مجھے قتل کر ڈالیں پس تم مجھ پر دشمنوں کو ہنسنے کا موقع نہ دو۔ اور نہ ہی مجھے ظالم گروہ کے ساتھ شامل کرو۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب موسیٰ غصے سے بھرا ہوا، افسوس کرتا ہوا اپنی قوم کی طرف واپس آیا تو اس نے کہا بری ہے جو تم نے میرے بعد میری جانشینی کی، کیا تم نے اپنے رب کے حکم سے جلدی کی، اور اس نے تختیاں پھینک دیں اور اپنے بھائی کے سر کو پکڑ لیا، اسے اپنی طرف کھینچتا تھا۔ اس نے کہا اے میری ماں کے بیٹے! بے شک ان لوگوں نے مجھے کمزور سمجھا اور قریب تھے کہ مجھے قتل کر دیتے، سو دشمنوں کو مجھ پر خوش نہ کر اور مجھے ظالم لوگوں کے ساتھ شامل نہ کر۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
موسیٰ علیہ السلام کی کوہ طور سے واپسی ٭٭

موسیٰ علیہ السلام کو چونکہ طور پر ہی اپنی قوم کا یہ کفر معلوم ہو چکا تھا، اس لیے سخت غضبناک ہو کر واپس آئے اور فرمانے لگے کہ تم نے تو میرے بعد سخت نالائقی کی۔ تم نے میرا انتظار بھی نہ کیا، میری ذرا سی تاخیر میں یہ ظلم ڈھایا۔ غصے کے مارے تختیاں ہاتھ سے پھینک دیں۔ کہا گیا ہے کہ یہ زمرد یا یاقوت یا کسی اور چیز کی تھیں۔ سچ ہے، جو حدیث میں ہے کہ { دیکھنا سننا برابر نہیں۔ } ۱؎ [مستدرک حاکم:321/2] ‏‏‏‏ اپنی قوم پر غصے ہو کر الواح ہاتھ سے گرا دیں۔ ٹھیک بات یہی ہے اور جمہور سلف کا قول بھی یہی ہے لیکن ابن جریر نے قتادہ سے ایک عجیب قول نقل کیا ہے جس کی سند بھی صحیح نہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:15142-15143:باطل] ‏‏‏‏ ابن عطیہ وغیرہ نے اس کی بہت تردید کی ہے اور وہ واقعی تردید کے قابل بھی ہے۔ بہت ممکن ہے کہ قتادہ نے یہ اہل کتاب سے لیا ہو اور ان کا کیا اعتبار ہے؟ ان میں جھوٹے، بناوٹ کرنے والے، گھڑ لینے والے، بددین، بےدین طرح کے لوگ ہیں۔ اس خوف سے کہ کہیں ہارون علیہ السلام نے انہیں باز رکھنے کی پوری کوشش نہ کی ہو، آپ نے ان کے سر کے بالوں کے بل انہیں گھسیٹ لیا اور فرمانے لگے: انہیں گمراہ ہوتے ہوئے دیکھ کر بھی تو نے میری ماتحتی میں انہیں کیوں نہ روکا؟ کیا تو بھی میرے فرمان کا منکر بن گیا؟

اس پر ہارون علیہ السلام نے جواب دیا کہ بھائی جان! میرے سر کے اور داڑھی کے بال نہ پکڑیں۔ میں نے تو ہر ممکن طریقے سے انہیں روکا، زیادہ اس لیے نہ الجھا کہ کہیں آپ یہ نہ فرما دیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفریق ڈال دی؟ تو نے میرا انتظار کیوں نہ کیا؟ ورنہ میں تو ان گمراہوں سے اب تک زمین کو پاک کر چکا ہوتا۔ انہوں نے تو مجھے کچھ بھی نہ سمجھا بلکہ میرے قتل کے درپے ہو گئے۔ آپ مجھے ان ہی کی طرح نہ سمجھیں، نہ ان میں ملائیں۔ ہارون علیہ السلام کا یہ فرمانا کہ اے میرے ماں جائے بھائی! یہ صرف اس لیے تھا کہ موسیٰ علیہ السلام کو رحم آ جائے، ماں باپ دونوں کے ایک ہی تھے۔ جب آپ کو اپنے بھائی ہارون کی برات کی تحقیق ہو گئی اور اللہ کی طرف سے بھی ان کی پاک دامنی اور بےقصوری معلوم ہو گئی کہ انہوں نے اپنی قوم سے پہلے ہی یہ فرما دیا تھا کہ افسوس! تم فتنے میں پڑ گئے، اب بھی کچھ نہیں بگڑا۔ پروردگار بڑا ہی رحیم و کریم ہے، تم میری مان لو اور پھر سے میرے تابع دار بن جاؤ تو آپ اللہ سے دعائیں کرنے لگے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { اللہ تعالیٰ موسیٰ علیہ السلام پر رحم کرے، واقعی دیکھنے والے میں اور خبر سننے والے میں بہت فرق ہوتا ہے۔ قوم کی گمراہی کی خبر سنی تو تختیاں ہاتھ سے نہ گرائیں لیکن اسی منظر کو دیکھ کر قابو میں نہ رہے، تختیاں پھینک دیں۔ } ۱؎ [مسند احمد:271/1:صحیح] ‏‏‏‏
150۔ 1 جب حضرت موسیٰ ؑ نے آکر دیکھا کہ وہ بچھڑے کی عبادت میں لگے ہوئے ہیں تو سخت غضبناک ہوئے اور جلدی میں تختیاں بھی جو کوہ طور سے لائے تھے، ایسے طور پر رکھیں کہ دیکھنے والے کو محسوس ہو کہ انہوں نے نیچے پھینک دی ہیں جسے قرآن نے " ڈال دیں " سے تعبیر کیا ہے۔ تاہم اگر پھینک بھی دی ہوں تو اس میں سوء بےادبی نہیں کیونکہ مقصد ان کا تختیوں کی بےادبی نہیں تھا بلکہ دینی غیرت و اہمیت میں بےخود ہو کر غیر اختیاری طور پر ان سے یہ فعل سر زد ہوا۔ 150۔ 2 حضرت ہارون ؑ و موسیٰ ؑ آپس میں سگے بھائی تھے، لیکن یہاں حضرت ہارون نے ماں جائے ' اس لئے کہا کہ اس لفظ میں پیار اور نرمی کا پہلو زیادہ ہے۔ 150۔ 3 حضرت ہارون ؑ نے اپنا عذر پیش کیا جس کی وجہ سے وہ قوم کو شرک جیسے جرم عظیم سے روکنے میں ناکام رہے۔ ایک اپنی کمزوری اور دوسرا بنی اسرائیل کا عناد اور سرکشی کہ انہیں قتل تک کردینے پر آمادہ ہوگئے تھے اور انہیں اپنی جان بچانے کے لئے خاموش ہونا پڑا، جس کی اجازت ایسے موقعوں پر اللہ نے دی ہے۔ 150۔ 4 میری ہی سرزنش کرنے سے دشمن خوش ہونگے، جب کہ یہ موقع تو دشمنوں کی سرکوبی اور ان سے اپنی قوم کو بچانے کا ہے۔ 150۔ 5 اور ویسے بھی عقیدہ و عمل میں مجھے کس طرح ان کے ساتھ شمار کیا جاسکتا ہے، میں نے نہ شرک کا ارتکاب کیا، نہ اس کی اجازت دی، نہ اس پر خوش ہوا، صرف خاموش رہا اور اس کے لئے بھی میرے پاس معقول عذر موجود ہے، پھر میرا شمار ظالموں (مشرکوں) کے ساتھ کس طرح ہوسکتا ہے؟ چناچہ حضرت موسیٰ ؑ نے اپنے بھائی ہارون ؑ کے لئے مغفرت و رحمت کی دعا مانگی۔
(آیت 150) ➊ {وَ لَمَّا رَجَعَ مُوْسٰۤى اِلٰى قَوْمِهٖ غَضْبَانَ اَسِفًا:غَضْبَانَ”فَعْلَانَ“ } کے وزن پر کسی چیز سے بھرے ہوئے ہونے پر دلالت کرتا ہے، یعنی غصے سے بھرے ہوئے۔ {” اَسِفًا “ } صفت کا صیغہ ہے، لغت میں اس کا معنی غصے والا بھی ہے جو غضب سے بھی بڑھ کر ہو، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ فَلَمَّاۤ اٰسَفُوْنَا انْتَقَمْنَا مِنْهُمْ }» [ الزخرف: ۵۵ ] ”پھر جب انھوں نے ہمیں غصہ دلایا تو ہم نے ان سے انتقام لیا۔“ اور اس کا معنی افسوس اور غم بھی ہوتا ہے۔ بعض اہل علم نے فرمایا کہ شدید غصہ اور افسوس ایک ہی چیز کی دو حالتیں ہیں، کوئی کمزور ہو تو اس پر غصہ آتا ہے اور طاقت ور ہو تو افسوس ہوتا ہے۔ بنی اسرائیل میں رہ کر موسیٰ علیہ السلام کو ان پر غلبہ بھی حاصل تھا اور ان کی جہالتوں پر بے بس بھی تھے۔ یعنی موسیٰ علیہ السلام غصے اور افسوس سے بھرے ہوئے واپس لوٹے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انھیں طور پر ہی خبر دے دی تھی کہ سامری نے آپ کے بعد آپ کی قوم کو گمراہ کر دیا ہے۔ دیکھیے سورۂ طٰہٰ (۸۵)۔ ➋ {بِئْسَمَا خَلَفْتُمُوْنِيْ۠ مِنْۢ بَعْدِيْ:} یعنی میں جاتے وقت تمھیں کہہ گیا تھا کہ جب تک میں نہ آؤں ہارون میرے خلیفہ ہوں گے، ان کا حکم ماننا اور مفسدوں کے پیچھے نہ لگنا، مگر میں جب مقرر میعاد (۳۰) دن تک واپس نہ آیا تو تم نے سمجھ لیا کہ میں مر گیا ہوں، اس پر تم نے بچھڑا بنا کر پوجنا شروع کر دیا، اس طرح تم میرے بعد بہت برے جانشین ثابت ہوئے، یا تم نے بہت برا کام کیا ہے۔ (المنار) ➌ {وَ اَلْقَى الْاَلْوَاحَ وَ اَخَذَ بِرَاْسِ اَخِيْهِ …: } موسیٰ علیہ السلام کا شدید غصہ دو کاموں کی صورت میں ظاہر ہوا، ایک الواح کو پھینکنا اور دوسرا ہارون علیہ السلام کے سر کو پکڑ کر اپنی طرف گھسیٹنا۔ اس سے معلوم ہوا کہ دیکھنے اور سننے میں بہت فرق ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنی ہوئی بات آنکھوں سے دیکھنے کی طرح نہیں ہوتی، اللہ عزوجل نے موسیٰ علیہ السلام کو اس کی خبر دی جو ان کی قوم نے بچھڑے کے معاملے میں کیا تھا، مگر انھوں نے تختیاں نہیں پھینکیں، جب آنکھوں سے دیکھا جو کچھ انھوں نے کیا تھا تو تختیاں پھینک دیں تو وہ ٹوٹ گئیں۔“ [ أحمد: 271/1، ح: ۲۴۵۱۔ مستدرک حاکم: 321/2، ح: ۳۲۵۰، عن ابن عباس رضی اللہ عنھما وصححہ الألبانی ] ➍ {قَالَ ابْنَ اُمَّ:} موسیٰ علیہ السلام ہارون علیہ السلام کے سگے بھائی ہی تھے، مگر انھوں نے ان کی شفقت حاصل کرنے کے لیے ”اے میری ماں کے بیٹے“ کہا۔ {” ابْنَ اُمَّ “} اصل میں {”يَا ابْنَ أُمِّيْ“} تھا، حرف ندا یاء حذف کر دیا اور {”أُمِّيْ“} کی یاء کو الف سے بدل دیا تو {”ابْنَ اُمَّا“} بن گیا، پھر مزید تخفیف کے لیے الف بھی حذف کر دیا تو {” ابْنَ اُمَّ “} بن گیا۔ ➎ {اِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُوْنِيْ …:} یعنی میں نے انھیں بچھڑے کی پوجا سے باز رکھنے کی پوری کوشش کی ہے۔ (دیکھیے طٰہٰ: ۹۰) مگر یہ لوگ مجھ پر پل پڑے اور قریب تھا کہ مجھے قتل ہی کر دیتے۔ ➏ {فَلَا تُشْمِتْ بِيَ الْاَعْدَآءَ …: ”شَمَاتَةٌ “} کا معنی کسی نقصان پر دشمن کا خوش ہونا ہے۔ ظاہر ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کے اس اندازِ غضب پر دشمن تو ضرور خوش ہوئے ہوں گے، دشمنوں سے مراد بچھڑا بنانے والے اور اس کی عبادت کی حمایت کرنے والے ہیں۔ اس لیے ہارون علیہ السلام نے کہا کہ اس طرح میری گرفت کرکے دشمنوں کو خوش نہ کرو۔ «{ وَ لَا تَجْعَلْنِيْ مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ }» اور یہ طے نہ کر لو کہ میں بھی ان کے بچھڑا بنانے یا پوجنے کے عمل میں ان کے ساتھ شریک ہوں۔ اس سے ہارون علیہ السلام پر تورات کی اس تہمت کا واضح رد ہو گیا جس کا ذکر پیچھے (آیت ۱۴۸) میں ہوا ہے کہ یہ بچھڑا ہارون علیہ السلام نے بنایا تھا۔ ہارون علیہ السلام کو اس بات سے بھی بہت تکلیف ہوئی کہ بھائیوں کے اختلاف سے دشمن خوش ہوں گے۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ {”شَمَاتَةُ الْاَعْدَاءِ“} سے اللہ کی پناہ مانگتے تھے، یعنی اس بات سے ہمیشہ پناہ مانگتے کہ کسی مصیبت پر دشمنوں کو خوشی حاصل ہو۔ پوری دعا اس طرح ہے: [ اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِكَ مِنْ جَهْدِ الْبَلَاءِ وَ دَرَكِ الشَّقَاءِ وَسُوْءِ الْقَضَاءِ وَشَمَاتَةِ الْأَعْدَاءِ ] [ بخاری، الدعوات، باب التعوذ من جہد البلاء: ۶۳۴۷ ]