بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الأعراف — Surah Araf
آیت نمبر 109
کل آیات: 206
قرآن کریم الأعراف آیت 109
آیت نمبر: 109 — سورۃ الأعراف islamicurdubooks.com ↗
قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ اِنَّ ہٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِیۡمٌ ﴿۱۰۹﴾ۙ
ا س پر فرعون کی قوم کے سرداروں نے آپس میں کہا کہ "یقیناً یہ شخص بڑا ماہر جادو گر ہے
قوم فرعون میں جو سردار لوگ تھے انہوں نے کہا کہ واقعی یہ شخص بڑا ماہر جادوگر ہے
قوم فرعون کے سردار بولے یہ تو ایک علم والا جادوگر ہے
قومِ فرعون کے سرداروں نے (یہ منظر دیکھ کر) کہا کہ یہ شخص (موسیٰ) بڑا ماہر جادوگر ہے۔
فرعون کی قوم کے سرداروں نے کہا یقینا یہ تو ایک ماہر فن جادوگر ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

جب ڈر خوف جاتا رہا، فرعون پھر سے اپنے تخت پر آ بیٹھا اور درباریوں کے اوسان درست ہو گئے تو فرعون نے کہا: بھئی مجھے تو یہ جادوگر لگتا ہے اور ہے بھی بڑا استاد۔ ان لوگوں نے اس کی تائید کی اور کہا حضور درست فرما رہے ہیں۔ اب مشورے کرنے لگے کہ اگر یہ معاملہ یونہی رہا تو لوگ اس کی طرف مائل ہو جائیں گے اور جب یہ قوت پکڑے گا تو ہم سے بادشاہت چھین لے گا۔ ہمیں جلا وطن کر دے گا۔ بتاؤ کیا کرنا چاہیئے؟ اللہ کی شان ہے جس سے خوف کھایا، وہی سامنے آیا۔

📖 احسن البیان

19۔ 1 معجزے دیکھ کر، ایمان لانے کی بجائے، فرعون کے درباریوں نے اسے جادو قرار دیکر یہ کہہ دیا یہ تو بڑا ماہر جادوگر ہے جس سے اس کا مقصد تمہاری حکومت کو ختم کرنا ہے کیونکہ حضرت موسیٰ علیہ کے زمانے میں جادو کا بڑا زور تھا اور اس کا عام چلن تھا، اس لئے انہوں نے معجزات کو بھی جادو سمجھا جس میں سرے سے انسان کا دخل ہی نہیں ہوتا۔ خالص اللہ کی معشیت سے ظہور میں آتے ہیں تاہم درباریوں کو حضرت موسیٰ ؑ کے بارے میں فرعون کو بہکانے کا موقع مل گیا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 110،109) {قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ …:} یہاں یہ ذکر ہوا ہے کہ فرعون کی قوم کے سرداروں نے موسیٰ علیہ السلام کو جادوگر قرار دیا۔ سورۂ شعراء (۳۴) میں مذکور ہے کہ فرعون نے اپنے سرداروں سے یہ بات کہی تھی۔ معلوم ہوتا ہے کہ فرعون نے موسیٰ علیہ السلام کے معجزے کو بے اثر بنانے کے لیے دو بہتان گھڑے، ایک تو یہ کہ یہ ماہر جادوگر ہے اور دوسرا یہ کہ یہ حکومت پر قبضہ کرکے تمھیں سرزمین مصر سے نکالنا چاہتا ہے۔ دیکھیے سورۂ شعراء (۳۴، ۳۵) اس کی قوم جسے اس نے اس حد تک بے وقوف اور بے وقعت بنایا تھا کہ وہ اسے اپنا معبود اور اس کی بات کو اپنے رب کی بات ماننے لگ گئے تھے (دیکھیے زخرف: ۵۴) اس قوم نے بھی اسی کی بات کو دہرا دیا۔
← پچھلی آیت (108) پوری سورۃ اگلی آیت (110) →