بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
الأعراف
سورۃ الأعراف — 206 آیات — صفحہ 1 از 5
قرآن کریم Surah 7
الٓـمّٓصٓ ۚ﴿۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ا، ل، م، ص
مولانا محمد جوناگڑھی
المص
احمد رضا خان بریلوی
المص
علامہ محمد حسین نجفی
الف، لام، میم، ص۔
عبدالسلام بن محمد
المص۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اس سورت کی ابتداء میں جو حروف ہیں، ان کے متعلق جو کچھ بیان ہمیں کرنا تھا، اسے تفصیل کے ساتھ سورۃ البقرہ کی تفسیر کے شروع میں معہ اختلاف علماء کے ہم لکھ آئے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کے معنی میں مروی ہے کہ ”اس سے مراد «اَنَا اللهُ اُفَصِّلُ» ہے یعنی میں اللہ ہوں، میں تفصیل وار بیان فرما رہا ہوں۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:14315] ‏‏‏‏

سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے بھی یہ مروی ہے۔ ”یہ کتاب قرآن کریم تیری جانب تیرے رب کی طرف سے نازل کی گئی ہے۔ اس میں کوئی شک نہ کرنا، دل تنگ نہ ہونا، اس کے پہنچانے میں کسی سے نہ ڈرنا، نہ کسی کا لحاظ کرنا، بلکہ سابقہ اولوالعزم پیغمبروں علیہم السلام کی طرح صبر و استقامت کے ساتھ کلام اللہ کی تبلیغ مخلوق الٰہی میں کرنا۔ اس کا نزول اس لیے ہوا ہے کہ تو کافروں کو ڈرا کر ہوشیار اور چوکنا کر دے۔ یہ قرآن مومنوں کے لئے نصیحت و عبرت، وعظ و پند ہے۔“ اس کے بعد تمام دنیا کو حکم ہوتا ہے کہ ”اس نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری پیروی کرو، اس کے قدم بہ قدم چلو۔ یہ تمہارے رب کا بھیجا ہوا ہے، کلام اللہ تمہارے پاس لایا ہے۔ وہ اللہ تم سب کا خالق، مالک ہے اور تمام جان داروں کا رب ہے۔ خبردار! ہرگز ہرگز نبی سے ہٹ کر دوسرے کی تابعداری نہ کرنا ورنہ حکم عدولی پر سزا ملے گی۔ افسوس! تم بہت ہی کم نصیحت حاصل کرتے ہو۔“ جیسے فرمان ہے کہ ’ گو تم چاہو لیکن اکثر لوگ اپنی بے ایمانی پر اڑے ہی رہیں گے۔ ‘ ۱؎ [12-يوسف:103] ‏‏‏‏ اور آیت میں ہے: «وَاِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِي الْاَرْضِ يُضِلُّوْكَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ» ۱؎ [6-الأنعام:116] ‏‏‏‏ یعنی ’ اگر تو انسانوں کی کثرت کی طرف جھک جائے گا تو وہ بھی تجھے بہکا کر ہی چین لیں گے۔ ‘ سورۃ یوسف میں فرمان ہے: ’ اکثر لوگ اللہ کو مانتے ہوئے بھی شرک سے باز نہیں رہتے۔ ‘ ۱؎ [12-يوسف:106] ‏‏‏‏
تفسیر احسن البیان
(آیت 1){ الٓمّٓصٓ:} یہ حروف مقطعات ہیں، تشریح کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۱)۔
کِتٰبٌ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ فَلَا یَکُنۡ فِیۡ صَدۡرِکَ حَرَجٌ مِّنۡہُ لِتُنۡذِرَ بِہٖ وَ ذِکۡرٰی لِلۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ ایک کتاب ہے جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے، پس اے محمدؐ، تمہارے دل میں اس سے کوئی جھجک نہ ہو اس کے اتارنے کی غرض یہ ہے کہ تم اس کے ذریعہ سے (منکرین کو) ڈراؤ اور ایمان لانے والے لوگوں کو یاد دہانی ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ ایک کتاب ہے جو آپ کے پاس اس لئے بھیجی گئی ہے کہ آپ اس کے ذریعہ سے ڈرائیں، سو آپ کے دل میں اس سے بالکل تنگی نہ ہو اور نصیحت ہے ایمان والوں کے لئے
احمد رضا خان بریلوی
اے محبوب! ایک کتاب تمہاری طرف اُتاری گئی تو تمہارا جی اس سے نہ رُکے اس لیے کہ تم اس سے ڈر سناؤ اور مسلمانوں کو نصیحت،
علامہ محمد حسین نجفی
یہ ایک کتاب ہے جو آپ کی طرف نازل کی گئی ہے۔ لہٰذا تمہارے دل میں اس کی وجہ سے کوئی تنگی نہیں ہونا چاہیے۔ (یہ کتاب اس لئے نازل کی گئی ہے) تاکہ آپ اس کے ذریعہ سے (لوگوں کو خدا کے عذاب سے) ڈرائیں اور اہلِ ایمان کے لئے نصیحت اور یاد دہانی ہو۔
عبدالسلام بن محمد
ایک عظیم کتاب ہے جو تیری طرف نازل کی گئی ہے، تو تیرے سینے میں اس سے کوئی تنگی نہ ہو، تاکہ تو اس کے ساتھ ڈرائے اور ایمان والوں کے لیے سراسر نصیحت ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اس سورت کی ابتداء میں جو حروف ہیں، ان کے متعلق جو کچھ بیان ہمیں کرنا تھا، اسے تفصیل کے ساتھ سورۃ البقرہ کی تفسیر کے شروع میں معہ اختلاف علماء کے ہم لکھ آئے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کے معنی میں مروی ہے کہ ”اس سے مراد «اَنَا اللهُ اُفَصِّلُ» ہے یعنی میں اللہ ہوں، میں تفصیل وار بیان فرما رہا ہوں۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:14315] ‏‏‏‏

سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے بھی یہ مروی ہے۔ ”یہ کتاب قرآن کریم تیری جانب تیرے رب کی طرف سے نازل کی گئی ہے۔ اس میں کوئی شک نہ کرنا، دل تنگ نہ ہونا، اس کے پہنچانے میں کسی سے نہ ڈرنا، نہ کسی کا لحاظ کرنا، بلکہ سابقہ اولوالعزم پیغمبروں علیہم السلام کی طرح صبر و استقامت کے ساتھ کلام اللہ کی تبلیغ مخلوق الٰہی میں کرنا۔ اس کا نزول اس لیے ہوا ہے کہ تو کافروں کو ڈرا کر ہوشیار اور چوکنا کر دے۔ یہ قرآن مومنوں کے لئے نصیحت و عبرت، وعظ و پند ہے۔“ اس کے بعد تمام دنیا کو حکم ہوتا ہے کہ ”اس نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری پیروی کرو، اس کے قدم بہ قدم چلو۔ یہ تمہارے رب کا بھیجا ہوا ہے، کلام اللہ تمہارے پاس لایا ہے۔ وہ اللہ تم سب کا خالق، مالک ہے اور تمام جان داروں کا رب ہے۔ خبردار! ہرگز ہرگز نبی سے ہٹ کر دوسرے کی تابعداری نہ کرنا ورنہ حکم عدولی پر سزا ملے گی۔ افسوس! تم بہت ہی کم نصیحت حاصل کرتے ہو۔“ جیسے فرمان ہے کہ ’ گو تم چاہو لیکن اکثر لوگ اپنی بے ایمانی پر اڑے ہی رہیں گے۔ ‘ ۱؎ [12-يوسف:103] ‏‏‏‏ اور آیت میں ہے: «وَاِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِي الْاَرْضِ يُضِلُّوْكَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ» ۱؎ [6-الأنعام:116] ‏‏‏‏ یعنی ’ اگر تو انسانوں کی کثرت کی طرف جھک جائے گا تو وہ بھی تجھے بہکا کر ہی چین لیں گے۔ ‘ سورۃ یوسف میں فرمان ہے: ’ اکثر لوگ اللہ کو مانتے ہوئے بھی شرک سے باز نہیں رہتے۔ ‘ ۱؎ [12-يوسف:106] ‏‏‏‏
2۔ 1 یعنی اس کے بھیجنے سے آپ کا دل تنگ نہ ہو کہ کہیں کافر میری تکذیب (جھٹلائیں) نہ کریں اور مجھے ایذا نہ پہنچائیں اس لئے کہ اللہ سب کا حافظ و ناصر ہے یا حرج شک کے معنی میں ہے۔ یعنی اس کی منزل من اللہ ہونے کے بارے میں آپ اپنے سینے میں شک محسوس نہ کریں۔ یہ نہی بطور تعریف ہے اور اصل مخاطب امت ہے کہ وہ شک نہ کرے۔
(آیت 2){كِتٰبٌ اُنْزِلَ اِلَيْكَ ……:} کتاب نازل کی گئی، کس نے نازل کی، یہ بتانے کی ضرورت ہی نہیں کہ یہ کتاب کس نے نازل کی ہے، کیونکہ سب جانتے ہیں کہ وہ اﷲ تعالیٰ ہے۔ مقصود اس سے یہ ہے کہ آپ جھٹلانے والوں کو ڈرائیں اور خبردار کریں، تاکہ وہ ایمان لے آئیں اور ایمان والوں کو نصیحت کریں، تاکہ ان کے ایمان اور ہدایت میں اضافہ ہو، اس لیے آپ اسے پہنچانے میں دل میں کوئی تنگی یا خوف نہ آنے دیں کہ لوگ آپ کی مخالفت کریں گے، کیونکہ اگر کچھ جھٹلانے والے ہوں گے تو ایمان لانے والے بھی ہوں گے اور آپ پر یہ کتاب اتارنے والا آپ کا حامی و ناصر ہو گا، اس لیے کسی تنگ دہی یا خوف میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں، آپ کا کام صرف پہنچانا ہے، ہدایت دینا نہ دینا اﷲ تعالیٰ کا کام ہے۔
اِتَّبِعُوۡا مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکُمۡ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ وَ لَا تَتَّبِعُوۡا مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اَوۡلِیَآءَ ؕ قَلِیۡلًا مَّا تَذَکَّرُوۡنَ ﴿۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
لوگو، جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے اُس کی پیروی کرو اور اپنے رب کو چھوڑ کر دوسرے سرپرستوں کی پیروی نہ کرو مگر تم نصیحت کم ہی مانتے ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
تم لوگ اس کا اتباع کرو جو تمہارے رب کی طرف سے آئی ہے اور اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر من گھڑت سرپرستوں کی اتباع مت کرو تم لوگ بہت ہی کم نصیحت پکڑتے ہو
احمد رضا خان بریلوی
اے لوگو! اس پر چلو جو تمہاری طرف تمہارے رب کے پاس سے اُترا اور اسے چھوڑ کر اور حاکموں کے پیچھے نہ جاؤ، بہت ہی کم سمجھتے ہو،
علامہ محمد حسین نجفی
(اے لوگو) جو کچھ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہاری طرف نازل کیا گیا ہے اس کی پیروی کرو۔ اور اس (پروردگار) کو چھوڑ کر دوسرے سرپرستوں (حوالی موالی) کی پیروی نہ کرو۔ تم لوگ بہت ہی کم نصیحت قبول کرتے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
اس کے پیچھے چلو جو تمھاری طرف تمھارے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے اور اس کے سوا اور دوستوں کے پیچھے مت چلو۔ بہت کم تم نصیحت قبول کرتے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اس سورت کی ابتداء میں جو حروف ہیں، ان کے متعلق جو کچھ بیان ہمیں کرنا تھا، اسے تفصیل کے ساتھ سورۃ البقرہ کی تفسیر کے شروع میں معہ اختلاف علماء کے ہم لکھ آئے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کے معنی میں مروی ہے کہ ”اس سے مراد «اَنَا اللهُ اُفَصِّلُ» ہے یعنی میں اللہ ہوں، میں تفصیل وار بیان فرما رہا ہوں۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:14315] ‏‏‏‏

سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے بھی یہ مروی ہے۔ ”یہ کتاب قرآن کریم تیری جانب تیرے رب کی طرف سے نازل کی گئی ہے۔ اس میں کوئی شک نہ کرنا، دل تنگ نہ ہونا، اس کے پہنچانے میں کسی سے نہ ڈرنا، نہ کسی کا لحاظ کرنا، بلکہ سابقہ اولوالعزم پیغمبروں علیہم السلام کی طرح صبر و استقامت کے ساتھ کلام اللہ کی تبلیغ مخلوق الٰہی میں کرنا۔ اس کا نزول اس لیے ہوا ہے کہ تو کافروں کو ڈرا کر ہوشیار اور چوکنا کر دے۔ یہ قرآن مومنوں کے لئے نصیحت و عبرت، وعظ و پند ہے۔“ اس کے بعد تمام دنیا کو حکم ہوتا ہے کہ ”اس نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری پیروی کرو، اس کے قدم بہ قدم چلو۔ یہ تمہارے رب کا بھیجا ہوا ہے، کلام اللہ تمہارے پاس لایا ہے۔ وہ اللہ تم سب کا خالق، مالک ہے اور تمام جان داروں کا رب ہے۔ خبردار! ہرگز ہرگز نبی سے ہٹ کر دوسرے کی تابعداری نہ کرنا ورنہ حکم عدولی پر سزا ملے گی۔ افسوس! تم بہت ہی کم نصیحت حاصل کرتے ہو۔“ جیسے فرمان ہے کہ ’ گو تم چاہو لیکن اکثر لوگ اپنی بے ایمانی پر اڑے ہی رہیں گے۔ ‘ ۱؎ [12-يوسف:103] ‏‏‏‏ اور آیت میں ہے: «وَاِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِي الْاَرْضِ يُضِلُّوْكَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ» ۱؎ [6-الأنعام:116] ‏‏‏‏ یعنی ’ اگر تو انسانوں کی کثرت کی طرف جھک جائے گا تو وہ بھی تجھے بہکا کر ہی چین لیں گے۔ ‘ سورۃ یوسف میں فرمان ہے: ’ اکثر لوگ اللہ کو مانتے ہوئے بھی شرک سے باز نہیں رہتے۔ ‘ ۱؎ [12-يوسف:106] ‏‏‏‏
3۔ 1 جو اللہ کی طرف سے نازل کیا گیا ہے، یعنی قرآن، اور جو رسول اللہ نے فرمایا یعنی حدیث، کیونکہ آپ نے فرمایا کہ ' میں قرآن اور اس کی مثل اس کے ساتھ دیا گیا ہوں۔ ' ان دونوں کی پیروی ضروری ہے ان کے علاوہ کسے کا اتباع (پیروی) ضروری ٰ نہیں بلکہ ان کا انکار لازمی ہے۔ جیسے کہ اگلے فقرے میں فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر دوسروں کی پیروی مت کرو۔ جس طرح زمانہء جاہلیت میں سرداروں اور نجومیوں کاہنوں کی بات کو ہی اہمیت دی جاتی تھی حتیٰ کہ حلال اور حرام میں بھی ان کو سند تسلیم کیا جاتا تھا۔
(آیت 3) {اِتَّبِعُوْا مَاۤ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ:} رسالت (پیغام پہنچانے) کا معاملہ تین افراد کے درمیان ہوتا ہے: {”مُرْسِلٌ “} پیغام بھیجنے والا، یعنی اﷲ تعالیٰ،{ ” مُرْسَلْ “} جسے پیغام دے کر بھیجا جائے، یعنی رسول اور {” مُرْسَلٌ اِلَيْهِ “} ”جس کی طرف پیغام بھیجا جائے، یعنی امت۔ پچھلی آیت میں رسول کو انذار (ڈرانے) اور تذکیر (نصیحت کرنے) کا حکم ہے، اس آیت میں امت کو صرف اﷲ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ احکام کی پیروی کا اور اس کے علاوہ کسی بھی دوسرے کی پیروی نہ کرنے کا حکم ہے، کیونکہ اﷲ کے نازل کردہ کے سوا کسی بھی دوسرے کی پیروی کرنا اﷲ کے مقابلے میں غیر اﷲ (من دون اﷲ) کو اولیاء بنانا ہے۔ حکم صرف اﷲ کا حق ہے، جسے پہنچانا رسول کی ذمہ داری ہے اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف قرآن اور حدیث دونوں وحی کے ذریعے سے نازل ہوئے، اس لیے رسول کا ہر حکم اﷲ کا حکم ہے، سو اسی کی پیروی کرو، قرآن و سنت کے مقابلے میں کسی کی بات مت مانو، خواہ وہ کتنا ہی بڑا امام، بزرگ، محقق یا دانش ور ہو، ہر ایک کی بات کو قرآن و حدیث کی کسوٹی پر پرکھا جائے گا۔ «اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ» ‏‏‏‏ [ المائدۃ: ۳ ] کے مطابق دین کا ہر مسئلہ قرآن و حدیث میں موجود ہے۔ اگر کوئی بات قرآن و حدیث میں صریح الفاظ میں نہ ملے تو کسی آیت یا حدیث میں اس کی طرف اشارہ ضرور ہو گا، اس کے لیے کسی بھی بڑے عالم سے پوچھ سکتے ہیں۔ کسی ایک ہی کی ہر بات کی تقلید، خواہ وہ صحیح ہو یا غلط، تو یہ {”مِنْ دُونِهِ اَوْلِيَاءَ“} کی طرف لے جائے گی، جس سے اﷲ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔
وَ کَمۡ مِّنۡ قَرۡیَۃٍ اَہۡلَکۡنٰہَا فَجَآءَہَا بَاۡسُنَا بَیَاتًا اَوۡ ہُمۡ قَآئِلُوۡنَ ﴿۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کتنی ہی بستیاں ہیں جنہیں ہم نے ہلاک کر دیا اُن پر ہمارا عذاب اچانک رات کے وقت ٹوٹ پڑا، یا دن دہاڑے ایسے وقت آیا جب وہ آرام کر رہے تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور بہت بستیوں کو ہم نے تباه کردیا اور ان پر ہمارا عذاب رات کے وقت پہنچا یا ایسی حالت میں کہ وه دوپہر کے وقت آرام میں تھے
احمد رضا خان بریلوی
اور کتنی ہی بستیاں ہم نے ہلاک کیں تو ان پر ہمارا عذاب رات میں آیا جب وہ دوپہر کو سوتے تھے
علامہ محمد حسین نجفی
اور کتنی ہی بستیاں ہیں کہ ہم نے انہیں تباہ کر دیا پس ہمارا عذاب ان پر راتوں رات آیا یا جب وہ دن میں قیلولہ کر رہے تھے (سو رہے تھے)۔
عبدالسلام بن محمد
اور کتنی ہی بستیاں ہیں جنھیں ہم نے ہلاک کر دیا، تو ان پر ہمارا عذاب راتوں رات آیا، یا جب کہ وہ دوپہر کو آرام کرنے والے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سابقہ باغیوں کی بستیوں کے کھنڈرات باعث عبرت ہیں ٭٭

ان لوگوں کو جو ہمارے رسولوں کی مخالفت کرتے تھے، انہیں جھٹلاتے تھے، تم سے پہلے ہم ہلاک کر چکے ہیں۔ دنیا اور آخرت کی ذلت ان پر برس پڑی۔ جیسے فرمان ہے: ”تجھ سے اگلے رسولوں سے بھی مذاق کیا گیا، لیکن نتیجہ یہ ہوا کہ مذاق کرنے والوں کے مذاق نے انہیں تہہ و بالا کر دیا۔“ ایک اور آیت میں ہے: ”بہت سی ظالم بستیوں کو ہم نے غارت کر دیا جو اب تک الٹی پڑی ہیں۔“ اور جگہ ارشاد ہے: بہت سے اتراتے ہوئے لوگوں کے شہر ہم نے ویران کر دیئے۔ دیکھ لو کہ اب تک ان کے کھنڈرات تمہارے سامنے ہیں جو بہت کم آباد ہوئے۔ حقیقتاً وارث و مالک ہم ہی ہیں۔ ایسے ظالموں کے پاس ہمارے عذاب اچانک آ گئے اور وہ اپنی غفلتوں اور عیاشیوں میں مشغول تھے۔ کہیں دن کو دوپہر کے آرام کے وقت، کہیں رات کے سونے کے وقت۔

چنانچہ ایک آیت میں ہے «أَفَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَىٰ أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا بَيَاتًا وَهُمْ نَائِمُونَ أَوَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَىٰ أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا ضُحًى وَهُمْ يَلْعَبُونَ» ۱؎ [7-الأعراف:97] ‏‏‏‏ یعنی ’ لوگ اس سے بے خوف ہو گئے ہیں کہ ان کے سوتے ہوئے راتوں رات اچانک ہمارا عذاب آ جائے؟ یا انہیں ڈر نہیں کہ دن دیہاڑے دوپہر کو ان کے آرام کے وقت ان پر ہمارے عذاب آ جائیں؟ ‘ اور آیت میں ہے: کیا مکاریوں سے ہماری نافرمانیاں کرنے والے اس بات سے نڈر ہو گئے ہیں کہ اللہ انہیں زمین میں دھنسا دے؟ یا ان کے پاس عذاب الٰہی اس طرح آ جائیں کہ انہیں پتہ بھی نہ چلے، یا اللہ انہیں ان کی بے خبری میں آرام کی گھڑیوں میں ہی پکڑ لے۔ کوئی نہیں جو اللہ کو عاجز کر سکے، یہ تو رب کی رحمت و رافت ہے جو گنہگار زمین پر چلتے پھرتے ہیں۔ عذاب رب آ جانے کے بعد تو یہ خود اپنی زبانوں سے اپنے گناہوں کا اقرار کر لیں گے لیکن اس وقت کیا نفع؟ اسی مضمون کو آیت «وَكَمْ قَصَمْنَا مِن قَرْيَةٍ كَانَتْ ظَالِمَةً وَأَنشَأْنَا بَعْدَهَا قَوْمًا آخَرِينَ» ۱؎ [21-الأنبياء:11] ‏‏‏‏ میں بیان فرمایا ہے۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ { جب تک اللہ تعالیٰ بندوں کے عذر ختم نہیں کر دیتا، انہیں عذاب نہیں کرتا۔ عبدالملک سے جب یہ حدیث ان کے شاگردوں نے سنی تو دریافت کیا کہ اس کی صورت کیا ہے؟ تو آپ نے یہ آیت «فَمَا كَانَ دَعْوَاهُمْ إِذْ جَاءَهُم بَأْسُنَا إِلَّا أَن قَالُوا إِنَّا كُنَّا ظَالِمِينَ» پڑھ سنائی۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:14328:منقطع] ‏‏‏‏ پھر فرمایا: امتوں سے بھی، ان کے رسولوں سے بھی یعنی سب سے قیامت کے دن سوال ہو گا۔

جیسے فرمان ہے «وَيَوْمَ يُنَادِيْهِمْ فَيَقُوْلُ مَاذَآ اَجَبْتُمُ الْمُرْسَلِيْنَ» ۱؎ [28-القصص:65] ‏‏‏‏ یعنی ’ اس دن ندا کی جائے گی اور دریافت کیا جائے گا کہ تم نے رسولوں کو کیا جواب دیا؟ ‘ اس آیت میں امتوں سے سوال کیا جانا بیان کیا گیا ہے۔ اور آیت میں ہے «يَوْمَ يَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَيَقُوْلُ مَاذَآ اُجِبْتُمْ قَالُوْا لَا عِلْمَ لَنَا اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوْبِ» ۱؎ [5-المائدة:109] ‏‏‏‏ ’ رسولوں کو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ جمع کرے گا اور ان سے پوچھے گا کہ تمہیں کیا جواب ملا؟ وہ کہیں گے کہ ہمیں کوئی علم نہیں، غیب کا جاننے والا تو ہی ہے۔ ‘ پس امت سے رسولوں کی قبولیت کی بابت اور رسولوں سے تبلیغ کی بابت قیامت کے دن سوال ہو گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: { تم میں سے ہر ایک بااختیار ہے اور اپنے زیر اختیار لوگوں کی بابت اس سے سوال کیا جانے والا ہے۔ بادشاہ سے اس کی رعایا کا، ہر آدمی سے اس کے اہل و عیال کا، ہر عورت سے اس کے خاوند کے گھر کا، ہر غلام سے اس کے آقا کے مال کا سوال ہو گا۔ } راوی حدیث طاؤس نے اس حدیث کو بیان فرما کر پھر اسی آیت کی تلاوت کی۔ اس زیادتی کے بغیر یہ حدیث بخاری و مسلم کی نکالی ہوئی بھی ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:893] ‏‏‏‏ اور زیادتی ابن مردویہ نے نقل کی ہے۔ قیامت کے دن اعمال نامے رکھے جائیں گے اور سارے اعمال ظاہر ہو جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہر شخص کو اس کے اعمال کی خبر دے گا۔ کسی کے عمل کے وقت اللہ غائب نہ تھا۔ ہر ایک چھوٹے بڑے، چھپے کھلے عمل کی اللہ کی طرف سے خبر دی جائے گی۔ اللہ ہر شخص کے اعمال سے باخبر ہے، اس پر کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔ نہ وہ کسی چیز سے غافل ہے۔ آنکھوں کی خیانت سے سینوں کی چھپی ہوئی باتوں کا جاننے والا ہے۔ ’ ہر پتے کے جھڑنے کا اسے علم ہے۔ زمین کی اندھیریوں میں جو دانہ ہوتا ہے، اسے بھی وہ جانتا ہے۔ تر و خشک چیز اس کے پاس کھلی کتاب میں موجود ہے۔ ‘ ۱؎ [6-الأنعام:59] ‏‏‏‏
4۔ 1 فَائِلُوْنَ قَیْلُوْلَۃ، ُ سے ہے، جو دوپہر کے وقت استراحت (آرام کرنے) کو کہا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہمارا عذاب اچانک ایسے وقتوں میں آیا جب وہ آرام و راحت کے لئے بیخبر بستروں میں آسودہ خواب تھے۔
(آیت 4){ وَ كَمْ مِّنْ قَرْيَةٍ اَهْلَكْنٰهَا ……:} پچھلی آیت میں فرمایا کہ تم بہت کم نصیحت قبول کرتے ہو، یہاں فرمایا کہ دیکھ لو کہ نصیحت اور عبرت کے لیے تمھارے سامنے کتنی ہی بستیاں ہیں، جنھیں غیر اﷲ کی عبادت اور رسولوں کو جھٹلانے کی وجہ سے ہم نے ہلاک کر دیا، جن میں سے کچھ تو وہ تھے جو رات امن و اطمینان سے سو رہے تھے کہ ان پر ہمارا عذاب آ گیا، جیسا کہ قوم لوط اور کچھ وہ تھے جو دوپہر کو آرام کر رہے تھے، جیسے شعیب علیہ السلام کی قوم۔ آرام اور بے خبری کی حالت میں آنے والا عذاب زیادہ خوف ناک ہوتا ہے، یعنی ان کفار کو اپنی خوش حالی پر مغرور نہیں ہونا چاہیے، اﷲ تعالیٰ کا عذاب اچانک آ کر اپنی گرفت میں لے سکتا ہے اور اس کا وقت کسی کو معلوم نہیں ہے۔ دیکھیے سورۂ اعراف (۹۷، ۹۸) اور سورۂ نحل (۴۵ تا ۴۷)۔
فَمَا کَانَ دَعۡوٰىہُمۡ اِذۡ جَآءَہُمۡ بَاۡسُنَاۤ اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوۡۤا اِنَّا کُنَّا ظٰلِمِیۡنَ ﴿۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور جب ہمارا عذاب اُن پر آ گیا تو ان کی زبان پر اِس کے سوا کوئی صدا نہ تھی کہ واقعی ہم ظالم تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
سو جس وقت ان پر ہمارا عذاب آیا اس وقت ان کے منھ سے بجز اس کے اور کوئی بات نہ نکلی کہ واقعی ہم ﻇالم تھے
احمد رضا خان بریلوی
تو ان کے منہ سے کچھ نہ نکلا جب ہمارا عذاب ان پر آیا مگر یہی بولے کہ ہم ظالم تھے
علامہ محمد حسین نجفی
جب ہمارا عذاب ان پر آیا تو اس کے سوا ان کی اور کوئی پکار نہ تھی کہ بے شک ہم ظالم تھے۔
عبدالسلام بن محمد
پھر ان کی پکار، جب ان پر ہمارا عذاب آیا، اس کے سوا کچھ نہ تھی کہ انھوں نے کہا یقینا ہم ہی ظالم تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سابقہ باغیوں کی بستیوں کے کھنڈرات باعث عبرت ہیں ٭٭

ان لوگوں کو جو ہمارے رسولوں کی مخالفت کرتے تھے، انہیں جھٹلاتے تھے، تم سے پہلے ہم ہلاک کر چکے ہیں۔ دنیا اور آخرت کی ذلت ان پر برس پڑی۔ جیسے فرمان ہے: ”تجھ سے اگلے رسولوں سے بھی مذاق کیا گیا، لیکن نتیجہ یہ ہوا کہ مذاق کرنے والوں کے مذاق نے انہیں تہہ و بالا کر دیا۔“ ایک اور آیت میں ہے: ”بہت سی ظالم بستیوں کو ہم نے غارت کر دیا جو اب تک الٹی پڑی ہیں۔“ اور جگہ ارشاد ہے: بہت سے اتراتے ہوئے لوگوں کے شہر ہم نے ویران کر دیئے۔ دیکھ لو کہ اب تک ان کے کھنڈرات تمہارے سامنے ہیں جو بہت کم آباد ہوئے۔ حقیقتاً وارث و مالک ہم ہی ہیں۔ ایسے ظالموں کے پاس ہمارے عذاب اچانک آ گئے اور وہ اپنی غفلتوں اور عیاشیوں میں مشغول تھے۔ کہیں دن کو دوپہر کے آرام کے وقت، کہیں رات کے سونے کے وقت۔

چنانچہ ایک آیت میں ہے «أَفَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَىٰ أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا بَيَاتًا وَهُمْ نَائِمُونَ أَوَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَىٰ أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا ضُحًى وَهُمْ يَلْعَبُونَ» ۱؎ [7-الأعراف:97] ‏‏‏‏ یعنی ’ لوگ اس سے بے خوف ہو گئے ہیں کہ ان کے سوتے ہوئے راتوں رات اچانک ہمارا عذاب آ جائے؟ یا انہیں ڈر نہیں کہ دن دیہاڑے دوپہر کو ان کے آرام کے وقت ان پر ہمارے عذاب آ جائیں؟ ‘ اور آیت میں ہے: کیا مکاریوں سے ہماری نافرمانیاں کرنے والے اس بات سے نڈر ہو گئے ہیں کہ اللہ انہیں زمین میں دھنسا دے؟ یا ان کے پاس عذاب الٰہی اس طرح آ جائیں کہ انہیں پتہ بھی نہ چلے، یا اللہ انہیں ان کی بے خبری میں آرام کی گھڑیوں میں ہی پکڑ لے۔ کوئی نہیں جو اللہ کو عاجز کر سکے، یہ تو رب کی رحمت و رافت ہے جو گنہگار زمین پر چلتے پھرتے ہیں۔ عذاب رب آ جانے کے بعد تو یہ خود اپنی زبانوں سے اپنے گناہوں کا اقرار کر لیں گے لیکن اس وقت کیا نفع؟ اسی مضمون کو آیت «وَكَمْ قَصَمْنَا مِن قَرْيَةٍ كَانَتْ ظَالِمَةً وَأَنشَأْنَا بَعْدَهَا قَوْمًا آخَرِينَ» ۱؎ [21-الأنبياء:11] ‏‏‏‏ میں بیان فرمایا ہے۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ { جب تک اللہ تعالیٰ بندوں کے عذر ختم نہیں کر دیتا، انہیں عذاب نہیں کرتا۔ عبدالملک سے جب یہ حدیث ان کے شاگردوں نے سنی تو دریافت کیا کہ اس کی صورت کیا ہے؟ تو آپ نے یہ آیت «فَمَا كَانَ دَعْوَاهُمْ إِذْ جَاءَهُم بَأْسُنَا إِلَّا أَن قَالُوا إِنَّا كُنَّا ظَالِمِينَ» پڑھ سنائی۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:14328:منقطع] ‏‏‏‏ پھر فرمایا: امتوں سے بھی، ان کے رسولوں سے بھی یعنی سب سے قیامت کے دن سوال ہو گا۔

جیسے فرمان ہے «وَيَوْمَ يُنَادِيْهِمْ فَيَقُوْلُ مَاذَآ اَجَبْتُمُ الْمُرْسَلِيْنَ» ۱؎ [28-القصص:65] ‏‏‏‏ یعنی ’ اس دن ندا کی جائے گی اور دریافت کیا جائے گا کہ تم نے رسولوں کو کیا جواب دیا؟ ‘ اس آیت میں امتوں سے سوال کیا جانا بیان کیا گیا ہے۔ اور آیت میں ہے «يَوْمَ يَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَيَقُوْلُ مَاذَآ اُجِبْتُمْ قَالُوْا لَا عِلْمَ لَنَا اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوْبِ» ۱؎ [5-المائدة:109] ‏‏‏‏ ’ رسولوں کو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ جمع کرے گا اور ان سے پوچھے گا کہ تمہیں کیا جواب ملا؟ وہ کہیں گے کہ ہمیں کوئی علم نہیں، غیب کا جاننے والا تو ہی ہے۔ ‘ پس امت سے رسولوں کی قبولیت کی بابت اور رسولوں سے تبلیغ کی بابت قیامت کے دن سوال ہو گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: { تم میں سے ہر ایک بااختیار ہے اور اپنے زیر اختیار لوگوں کی بابت اس سے سوال کیا جانے والا ہے۔ بادشاہ سے اس کی رعایا کا، ہر آدمی سے اس کے اہل و عیال کا، ہر عورت سے اس کے خاوند کے گھر کا، ہر غلام سے اس کے آقا کے مال کا سوال ہو گا۔ } راوی حدیث طاؤس نے اس حدیث کو بیان فرما کر پھر اسی آیت کی تلاوت کی۔ اس زیادتی کے بغیر یہ حدیث بخاری و مسلم کی نکالی ہوئی بھی ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:893] ‏‏‏‏ اور زیادتی ابن مردویہ نے نقل کی ہے۔ قیامت کے دن اعمال نامے رکھے جائیں گے اور سارے اعمال ظاہر ہو جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہر شخص کو اس کے اعمال کی خبر دے گا۔ کسی کے عمل کے وقت اللہ غائب نہ تھا۔ ہر ایک چھوٹے بڑے، چھپے کھلے عمل کی اللہ کی طرف سے خبر دی جائے گی۔ اللہ ہر شخص کے اعمال سے باخبر ہے، اس پر کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔ نہ وہ کسی چیز سے غافل ہے۔ آنکھوں کی خیانت سے سینوں کی چھپی ہوئی باتوں کا جاننے والا ہے۔ ’ ہر پتے کے جھڑنے کا اسے علم ہے۔ زمین کی اندھیریوں میں جو دانہ ہوتا ہے، اسے بھی وہ جانتا ہے۔ تر و خشک چیز اس کے پاس کھلی کتاب میں موجود ہے۔ ‘ ۱؎ [6-الأنعام:59] ‏‏‏‏
5۔ 1 لیکن عذاب آجانے کے بعد ایسے اعتراف کا کوئی فائدہ نہیں۔ جیسا کہ پہلے وضاحت گزر چکی ہے (فَلَمْ يَكُ يَنْفَعُهُمْ اِيْمَانُهُمْ لَمَّا رَاَوْا بَاْسَـنَا) 40۔ غافر:85) جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا تو اس وقت ان کا ایمان لانا، ان کے لئے نفع مند نہیں ہوا۔
(آیت 5){ فَمَا كَانَ دَعْوٰىهُمْ: ”دعويٰ“} کا معنی دعا بھی ہوتا ہے اور ادّعا بھی، یعنی اس وقت ان سے سوائے گناہ کے اعتراف کے کچھ بن نہ پڑا اور وہ اپنے بنائے ہوئے اولیاء، یعنی جھوٹے معبودوں کو بھول گئے اور اپنے تمام دعوے بھی، مثلاً یہ کہ آخرت کو بھی ہم ہی مقرب ہوں گے، مگر اس وقت کا اعترافِ گناہ ان کے کس کام آ سکتا تھا؟ جب گناہ سے توبہ کا وقت تھا اس وقت تو غفلت کی نیند سوتے رہے۔ ایسے وقت میں ان کے منہ سے بے ساختہ یہ الفاظ نکلنے سے صاف ظاہر ہے کہ پہلے بھی ان کے دماغ میں یہ بات ہر وقت رہتی تھی کہ تم شرک کر کے اور اﷲ کے رسول کو جھٹلا کر ظلم کر رہے ہو، مگر ان کے تکبر اور عناد نے انھیں اقرار نہیں کرنے دیا۔ دیکھیے سورۂ انبیاء (۱۱ تا ۱۵) اور سورۂ مومن(۸۵)۔
فَلَنَسۡـَٔلَنَّ الَّذِیۡنَ اُرۡسِلَ اِلَیۡہِمۡ وَ لَنَسۡـَٔلَنَّ الۡمُرۡسَلِیۡنَ ۙ﴿۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پس یہ ضرور ہو کر رہنا ہے کہ ہم اُن لوگوں سے باز پرس کریں، جن کی طرف ہم نے پیغمبر بھیجے ہیں اور پیغمبروں سے بھی پوچھیں (کہ اُنہوں نے پیغام رسانی کا فرض کہاں تک انجام دیا اور انہیں اس کا کیا جواب ملا)
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر ہم ان لوگوں سے ضرور پوچھیں گے جن کے پاس پیغمبر بھیجے گئے تھے اور ہم پیغمبروں سے ضرور پوچھیں گے
احمد رضا خان بریلوی
تو بیشک ضرور ہمیں پوچھنا ہے ان سے جن کے پاس رسول گئے اور بیشک ضرور ہمیں پوچھنا ہے رسولوں سے
علامہ محمد حسین نجفی
بے شک ہم ان لوگوں سے بھی باز پرس کریں گے۔ جن کی طرف رسول بھیجے گئے تھے۔ اور خود رسولوں سے بھی پوچھ گچھ کریں گے۔
عبدالسلام بن محمد
تو یقینا ہم ان لوگوں سے ضرور پوچھیں گے جن کی طرف رسول بھیجے گئے اور یقینا ہم رسولوں سے (بھی) ضرور پوچھیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سابقہ باغیوں کی بستیوں کے کھنڈرات باعث عبرت ہیں ٭٭

ان لوگوں کو جو ہمارے رسولوں کی مخالفت کرتے تھے، انہیں جھٹلاتے تھے، تم سے پہلے ہم ہلاک کر چکے ہیں۔ دنیا اور آخرت کی ذلت ان پر برس پڑی۔ جیسے فرمان ہے: ”تجھ سے اگلے رسولوں سے بھی مذاق کیا گیا، لیکن نتیجہ یہ ہوا کہ مذاق کرنے والوں کے مذاق نے انہیں تہہ و بالا کر دیا۔“ ایک اور آیت میں ہے: ”بہت سی ظالم بستیوں کو ہم نے غارت کر دیا جو اب تک الٹی پڑی ہیں۔“ اور جگہ ارشاد ہے: بہت سے اتراتے ہوئے لوگوں کے شہر ہم نے ویران کر دیئے۔ دیکھ لو کہ اب تک ان کے کھنڈرات تمہارے سامنے ہیں جو بہت کم آباد ہوئے۔ حقیقتاً وارث و مالک ہم ہی ہیں۔ ایسے ظالموں کے پاس ہمارے عذاب اچانک آ گئے اور وہ اپنی غفلتوں اور عیاشیوں میں مشغول تھے۔ کہیں دن کو دوپہر کے آرام کے وقت، کہیں رات کے سونے کے وقت۔

چنانچہ ایک آیت میں ہے «أَفَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَىٰ أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا بَيَاتًا وَهُمْ نَائِمُونَ أَوَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَىٰ أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا ضُحًى وَهُمْ يَلْعَبُونَ» ۱؎ [7-الأعراف:97] ‏‏‏‏ یعنی ’ لوگ اس سے بے خوف ہو گئے ہیں کہ ان کے سوتے ہوئے راتوں رات اچانک ہمارا عذاب آ جائے؟ یا انہیں ڈر نہیں کہ دن دیہاڑے دوپہر کو ان کے آرام کے وقت ان پر ہمارے عذاب آ جائیں؟ ‘ اور آیت میں ہے: کیا مکاریوں سے ہماری نافرمانیاں کرنے والے اس بات سے نڈر ہو گئے ہیں کہ اللہ انہیں زمین میں دھنسا دے؟ یا ان کے پاس عذاب الٰہی اس طرح آ جائیں کہ انہیں پتہ بھی نہ چلے، یا اللہ انہیں ان کی بے خبری میں آرام کی گھڑیوں میں ہی پکڑ لے۔ کوئی نہیں جو اللہ کو عاجز کر سکے، یہ تو رب کی رحمت و رافت ہے جو گنہگار زمین پر چلتے پھرتے ہیں۔ عذاب رب آ جانے کے بعد تو یہ خود اپنی زبانوں سے اپنے گناہوں کا اقرار کر لیں گے لیکن اس وقت کیا نفع؟ اسی مضمون کو آیت «وَكَمْ قَصَمْنَا مِن قَرْيَةٍ كَانَتْ ظَالِمَةً وَأَنشَأْنَا بَعْدَهَا قَوْمًا آخَرِينَ» ۱؎ [21-الأنبياء:11] ‏‏‏‏ میں بیان فرمایا ہے۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ { جب تک اللہ تعالیٰ بندوں کے عذر ختم نہیں کر دیتا، انہیں عذاب نہیں کرتا۔ عبدالملک سے جب یہ حدیث ان کے شاگردوں نے سنی تو دریافت کیا کہ اس کی صورت کیا ہے؟ تو آپ نے یہ آیت «فَمَا كَانَ دَعْوَاهُمْ إِذْ جَاءَهُم بَأْسُنَا إِلَّا أَن قَالُوا إِنَّا كُنَّا ظَالِمِينَ» پڑھ سنائی۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:14328:منقطع] ‏‏‏‏ پھر فرمایا: امتوں سے بھی، ان کے رسولوں سے بھی یعنی سب سے قیامت کے دن سوال ہو گا۔

جیسے فرمان ہے «وَيَوْمَ يُنَادِيْهِمْ فَيَقُوْلُ مَاذَآ اَجَبْتُمُ الْمُرْسَلِيْنَ» ۱؎ [28-القصص:65] ‏‏‏‏ یعنی ’ اس دن ندا کی جائے گی اور دریافت کیا جائے گا کہ تم نے رسولوں کو کیا جواب دیا؟ ‘ اس آیت میں امتوں سے سوال کیا جانا بیان کیا گیا ہے۔ اور آیت میں ہے «يَوْمَ يَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَيَقُوْلُ مَاذَآ اُجِبْتُمْ قَالُوْا لَا عِلْمَ لَنَا اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوْبِ» ۱؎ [5-المائدة:109] ‏‏‏‏ ’ رسولوں کو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ جمع کرے گا اور ان سے پوچھے گا کہ تمہیں کیا جواب ملا؟ وہ کہیں گے کہ ہمیں کوئی علم نہیں، غیب کا جاننے والا تو ہی ہے۔ ‘ پس امت سے رسولوں کی قبولیت کی بابت اور رسولوں سے تبلیغ کی بابت قیامت کے دن سوال ہو گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: { تم میں سے ہر ایک بااختیار ہے اور اپنے زیر اختیار لوگوں کی بابت اس سے سوال کیا جانے والا ہے۔ بادشاہ سے اس کی رعایا کا، ہر آدمی سے اس کے اہل و عیال کا، ہر عورت سے اس کے خاوند کے گھر کا، ہر غلام سے اس کے آقا کے مال کا سوال ہو گا۔ } راوی حدیث طاؤس نے اس حدیث کو بیان فرما کر پھر اسی آیت کی تلاوت کی۔ اس زیادتی کے بغیر یہ حدیث بخاری و مسلم کی نکالی ہوئی بھی ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:893] ‏‏‏‏ اور زیادتی ابن مردویہ نے نقل کی ہے۔ قیامت کے دن اعمال نامے رکھے جائیں گے اور سارے اعمال ظاہر ہو جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہر شخص کو اس کے اعمال کی خبر دے گا۔ کسی کے عمل کے وقت اللہ غائب نہ تھا۔ ہر ایک چھوٹے بڑے، چھپے کھلے عمل کی اللہ کی طرف سے خبر دی جائے گی۔ اللہ ہر شخص کے اعمال سے باخبر ہے، اس پر کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔ نہ وہ کسی چیز سے غافل ہے۔ آنکھوں کی خیانت سے سینوں کی چھپی ہوئی باتوں کا جاننے والا ہے۔ ’ ہر پتے کے جھڑنے کا اسے علم ہے۔ زمین کی اندھیریوں میں جو دانہ ہوتا ہے، اسے بھی وہ جانتا ہے۔ تر و خشک چیز اس کے پاس کھلی کتاب میں موجود ہے۔ ‘ ۱؎ [6-الأنعام:59] ‏‏‏‏
6۔ 1 امتوں سے پوچھا جائے گا کہ تمہارے پاس پیغمبر آئے تھے؟ انہوں نے تمہیں ہمارا پیغام پہنچایا تھا؟ وہ جواب دیں گے کہ ہاں! یا اللہ تیرے پیغمبر یقینا ہمار پاس آئے تھے لیکن ہماری قسمت پھوٹی تھی کہ ہم نے ان کی پروا نہیں کی اور پیغمبروں سے پوچھا جائے گا کہ تم نے ہمارا پیغام اپنی امتوں کو پہنچایا تھا؟ اور انہوں نے اس کے مقابلے میں کیا رویہ اختیار کیا؟ پیغمبر سوال کا جواب دیں گے۔ جس کی تفصیل قرآن مجید کے مختلف مقامات پر موجود ہے۔
(آیت 6) {فَلَنَسْـَٔلَنَّ۠ الَّذِيْنَ اُرْسِلَ اِلَيْهِمْ:} پچھلی آیت میں جس چیز سے ڈرایا گیا وہ دنیا کا عذاب تھا، اس آیت میں آخرت کے معاملات سے ڈرایا گیا ہے۔ (کبیر) یعنی ہم لوگوں سے یہ پوچھیں گے کہ تم نے ہمارے پیغمبروں کی دعوت کو کہاں تک قبول کیا، جیسا کہ سورۂ قصص آیت نمبر (۶۵) میں فرمایا: «وَ يَوْمَ يُنَادِيْهِمْ فَيَقُوْلُ مَا ذَاۤ اَجَبْتُمُ الْمُرْسَلِيْنَ» ‏‏‏‏ اور جس دن وہ انھیں آواز دے۔ پس کہنے لگا تم نے رسولوں کو کیا جواب دیا تھا اور پیغمبروں سے دریافت کریں گے کہ تم نے لوگوں تک ہمارا پیغام پہنچایا تھا یا نہیں؟ اور پہنچایا تھا تو انھوں نے کیا جواب دیا تھا؟ جیسا کہ سورۂ مائدہ آیت نمبر (۱۰۹) میں فرمایا: «يَوْمَ يَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَيَقُوْلُ مَا ذَاۤ اُجِبْتُمْ» جس دن اﷲ رسولوں کو جمع کرے گا پھر کہے گا تمھیں کیا جواب دیا گیا مقصود کفار کو ڈانٹنا اور ذلیل کرنا ہو گا۔
فَلَنَقُصَّنَّ عَلَیۡہِمۡ بِعِلۡمٍ وَّ مَا کُنَّا غَآئِبِیۡنَ ﴿۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر ہم خود پور ے علم کے ساتھ سرگزشت ان کے آگے پیش کر دیں گے، آخر ہم کہیں غائب تو نہیں تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر ہم چونکہ پوری خبر رکھتے ہیں ان کے روبرو بیان کردیں گے۔ اور ہم کچھ بے خبر نہ تھے
احمد رضا خان بریلوی
تو ضرور ہم ان کو بتادیں گے اپنے علم سے اور ہم کچھ غائب نہ تھے،
علامہ محمد حسین نجفی
پھر ہم پورے علم کے ساتھ ان کے سامنے سب (حالات و واقعات) بیان کریں گے آخر ہم غیر حاضر تو تھے نہیں۔
عبدالسلام بن محمد
پھر یقینا ہم ان کے سامنے ضرور پورے علم کے ساتھ بیان کریں گے اور ہم کہیں غائب نہ تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سابقہ باغیوں کی بستیوں کے کھنڈرات باعث عبرت ہیں ٭٭

ان لوگوں کو جو ہمارے رسولوں کی مخالفت کرتے تھے، انہیں جھٹلاتے تھے، تم سے پہلے ہم ہلاک کر چکے ہیں۔ دنیا اور آخرت کی ذلت ان پر برس پڑی۔ جیسے فرمان ہے: ”تجھ سے اگلے رسولوں سے بھی مذاق کیا گیا، لیکن نتیجہ یہ ہوا کہ مذاق کرنے والوں کے مذاق نے انہیں تہہ و بالا کر دیا۔“ ایک اور آیت میں ہے: ”بہت سی ظالم بستیوں کو ہم نے غارت کر دیا جو اب تک الٹی پڑی ہیں۔“ اور جگہ ارشاد ہے: بہت سے اتراتے ہوئے لوگوں کے شہر ہم نے ویران کر دیئے۔ دیکھ لو کہ اب تک ان کے کھنڈرات تمہارے سامنے ہیں جو بہت کم آباد ہوئے۔ حقیقتاً وارث و مالک ہم ہی ہیں۔ ایسے ظالموں کے پاس ہمارے عذاب اچانک آ گئے اور وہ اپنی غفلتوں اور عیاشیوں میں مشغول تھے۔ کہیں دن کو دوپہر کے آرام کے وقت، کہیں رات کے سونے کے وقت۔

چنانچہ ایک آیت میں ہے «أَفَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَىٰ أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا بَيَاتًا وَهُمْ نَائِمُونَ أَوَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَىٰ أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا ضُحًى وَهُمْ يَلْعَبُونَ» ۱؎ [7-الأعراف:97] ‏‏‏‏ یعنی ’ لوگ اس سے بے خوف ہو گئے ہیں کہ ان کے سوتے ہوئے راتوں رات اچانک ہمارا عذاب آ جائے؟ یا انہیں ڈر نہیں کہ دن دیہاڑے دوپہر کو ان کے آرام کے وقت ان پر ہمارے عذاب آ جائیں؟ ‘ اور آیت میں ہے: کیا مکاریوں سے ہماری نافرمانیاں کرنے والے اس بات سے نڈر ہو گئے ہیں کہ اللہ انہیں زمین میں دھنسا دے؟ یا ان کے پاس عذاب الٰہی اس طرح آ جائیں کہ انہیں پتہ بھی نہ چلے، یا اللہ انہیں ان کی بے خبری میں آرام کی گھڑیوں میں ہی پکڑ لے۔ کوئی نہیں جو اللہ کو عاجز کر سکے، یہ تو رب کی رحمت و رافت ہے جو گنہگار زمین پر چلتے پھرتے ہیں۔ عذاب رب آ جانے کے بعد تو یہ خود اپنی زبانوں سے اپنے گناہوں کا اقرار کر لیں گے لیکن اس وقت کیا نفع؟ اسی مضمون کو آیت «وَكَمْ قَصَمْنَا مِن قَرْيَةٍ كَانَتْ ظَالِمَةً وَأَنشَأْنَا بَعْدَهَا قَوْمًا آخَرِينَ» ۱؎ [21-الأنبياء:11] ‏‏‏‏ میں بیان فرمایا ہے۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ { جب تک اللہ تعالیٰ بندوں کے عذر ختم نہیں کر دیتا، انہیں عذاب نہیں کرتا۔ عبدالملک سے جب یہ حدیث ان کے شاگردوں نے سنی تو دریافت کیا کہ اس کی صورت کیا ہے؟ تو آپ نے یہ آیت «فَمَا كَانَ دَعْوَاهُمْ إِذْ جَاءَهُم بَأْسُنَا إِلَّا أَن قَالُوا إِنَّا كُنَّا ظَالِمِينَ» پڑھ سنائی۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:14328:منقطع] ‏‏‏‏ پھر فرمایا: امتوں سے بھی، ان کے رسولوں سے بھی یعنی سب سے قیامت کے دن سوال ہو گا۔

جیسے فرمان ہے «وَيَوْمَ يُنَادِيْهِمْ فَيَقُوْلُ مَاذَآ اَجَبْتُمُ الْمُرْسَلِيْنَ» ۱؎ [28-القصص:65] ‏‏‏‏ یعنی ’ اس دن ندا کی جائے گی اور دریافت کیا جائے گا کہ تم نے رسولوں کو کیا جواب دیا؟ ‘ اس آیت میں امتوں سے سوال کیا جانا بیان کیا گیا ہے۔ اور آیت میں ہے «يَوْمَ يَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَيَقُوْلُ مَاذَآ اُجِبْتُمْ قَالُوْا لَا عِلْمَ لَنَا اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوْبِ» ۱؎ [5-المائدة:109] ‏‏‏‏ ’ رسولوں کو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ جمع کرے گا اور ان سے پوچھے گا کہ تمہیں کیا جواب ملا؟ وہ کہیں گے کہ ہمیں کوئی علم نہیں، غیب کا جاننے والا تو ہی ہے۔ ‘ پس امت سے رسولوں کی قبولیت کی بابت اور رسولوں سے تبلیغ کی بابت قیامت کے دن سوال ہو گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: { تم میں سے ہر ایک بااختیار ہے اور اپنے زیر اختیار لوگوں کی بابت اس سے سوال کیا جانے والا ہے۔ بادشاہ سے اس کی رعایا کا، ہر آدمی سے اس کے اہل و عیال کا، ہر عورت سے اس کے خاوند کے گھر کا، ہر غلام سے اس کے آقا کے مال کا سوال ہو گا۔ } راوی حدیث طاؤس نے اس حدیث کو بیان فرما کر پھر اسی آیت کی تلاوت کی۔ اس زیادتی کے بغیر یہ حدیث بخاری و مسلم کی نکالی ہوئی بھی ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:893] ‏‏‏‏ اور زیادتی ابن مردویہ نے نقل کی ہے۔ قیامت کے دن اعمال نامے رکھے جائیں گے اور سارے اعمال ظاہر ہو جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہر شخص کو اس کے اعمال کی خبر دے گا۔ کسی کے عمل کے وقت اللہ غائب نہ تھا۔ ہر ایک چھوٹے بڑے، چھپے کھلے عمل کی اللہ کی طرف سے خبر دی جائے گی۔ اللہ ہر شخص کے اعمال سے باخبر ہے، اس پر کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔ نہ وہ کسی چیز سے غافل ہے۔ آنکھوں کی خیانت سے سینوں کی چھپی ہوئی باتوں کا جاننے والا ہے۔ ’ ہر پتے کے جھڑنے کا اسے علم ہے۔ زمین کی اندھیریوں میں جو دانہ ہوتا ہے، اسے بھی وہ جانتا ہے۔ تر و خشک چیز اس کے پاس کھلی کتاب میں موجود ہے۔ ‘ ۱؎ [6-الأنعام:59] ‏‏‏‏
7۔ 1 چونکہ ہر ظاہر اور پوشیدہ بات کا علم رکھتے ہیں اس لئے پھر ہم دونوں (امتیوں اور پیغمبروں) کے سامنے ساری باتیں بیان کریں گے اور جو جو کچھ انہوں نے کیا ہوگا، ان کے سامنے رکھ دیں گے۔
(آیت 7){ فَلَنَقُصَّنَّ عَلَيْهِمْ بِعِلْمٍ:} یعنی ہم سب کچھ سن رہے تھے اور دیکھ رہے تھے اور ان کے عمل کے وقت غائب نہیں تھے۔ دیکھیے سورۂ یونس (۶۱) اور سورۂ مجادلہ (۶، ۷) اگر وہ خاموش رہیں گے یا غلط بات کریں گے تو ہم خود پورے علم کے ساتھ بتا دیں گے، یعنی دلیل بھی ساتھ ہو گی کہ خود ان کے اعضاء گواہی دیں گے۔ [ یٰسٓ: ۶۵۔ حٰمٓ السجدۃ: ۱۹ تا ۲۱ ] زمین گواہی دے گی۔ [الزلزال: ۴ ] امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم گواہی دے گی۔ [ البقرۃ: ۱۴۳ ] اور جہنم کے داروغے کے سامنے وہ خود اپنی زبان سے مان جائیں گے۔ [ الزمر: ۷۱۔ الملک: ۱۰ ] {” بِعِلْمٍ “} تنوین کی وجہ سے ”پورے علم “ ترجمہ کیا ہے۔
وَ الۡوَزۡنُ یَوۡمَئِذِ ۣالۡحَقُّ ۚ فَمَنۡ ثَقُلَتۡ مَوَازِیۡنُہٗ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴿۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور وزن اس روز عین حق ہوگا جن کے پلڑے بھاری ہوں گے وہی فلاح پائیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اس روز وزن بھی برحق ہے پھر جس شخص کا پلا بھاری ہوگا سو ایسے لوگ کامیاب ہوں گے
احمد رضا خان بریلوی
اور اس دن تول ضرور ہونی ہے تو جن کے پلے بھاری ہوئے وہی مراد کو پہنچے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اس دن وزن (اعمال کا تولا جانا) بالکل حق ہے پس جس کے پلے بھاری ہوں گے وہی کامیاب ہوں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اس دن وزن حق ہے، پھر وہ شخص کہ اس کے پلڑے بھاری ہوگئے، تو وہی کامیاب ہونے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
میزان اور اعمال کا دین ٭٭

قیامت کے دن نیکی، بدی، انصاف و عدل کے ساتھ تولی جائے گی، اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہ کرے گا۔ جیسے فرمان ہے «وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا وَإِن كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا وَكَفَىٰ بِنَا حَاسِبِينَ» ۱؎ [21-الأنبياء:47] ‏‏‏‏ ’ قیامت کے دن ہم عدل کا ترازو رکھیں گے، کسی پر کوئی ظلم نہ ہو گا، رائی کے دانے کے برابر بھی عمل ہو گا تو ہم اسے لے آئیں گے اور ہم حساب لینے میں کافی ہیں۔ ‘ اور آیت میں ہے: ’ اللہ تعالیٰ ایک ذرے کے برابر بھی ظلم نہیں کرتا، وہ نیکی کو بڑھاتا ہے اور اپنے پاس سے اجر عظیم عطا فرماتا ہے۔ ‘ ۱؎ [4-النساء:40] ‏‏‏‏ سورۃ القارعہ میں فرمایا: ’ جس کی نیکیوں کا پلڑا بھاری ہو گیا اسے عیش و نشاط کی زندگی ملی اور جس کا نیکیوں کا پلڑا ہلکا ہو گیا اس کا ٹھکانا ہاویہ ہے جو بھڑکتی ہوئی آگ کے خزانے کا نام ہے۔ ‘ ۱؎ [101-القارعة:6-11] ‏‏‏‏

اور آیت میں ہے «فَإِذَا نُفِخَ فِي الصُّورِ فَلَا أَنسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَلَا يَتَسَاءَلُونَ فَمَن ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِينُهُ فَأُولَـٰئِكَ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنفُسَهُمْ فِي جَهَنَّمَ خَالِدُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:101] ‏‏‏‏ یعنی ’ جب نفحہ پھونک دیا جائے گا، سارے رشتے ناطے اور نسب حسب ٹوٹ جائیں گے، کوئی کسی کا پرسان حال نہ ہو گا۔ اگر تول میں نیک اعمال بڑھ گئے تو فلاح پا لی ورنہ خسارے کے ساتھ جہنم میں داخل ہوں گے۔ ‘

فصل ٭٭

کوئی تو کہتا ہے کہ خود اعمال تولے جائیں گے، کوئی کہتا ہے: نامہ اعمال تولے جائیں گے۔ کوئی کہتا ہے: خود عمل کرنے والے تولے جائیں گے۔ ان تینوں قولوں کو اس طرح جمع کرنا بھی ممکن ہے کہ ہم کہیں یہ سب صحیح ہیں۔ کبھی اعمال تولے جائیں گے، کبھی نامہ اعمال، کبھی خود اعمال کرنے والے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ ان تینوں باتوں کی دلیلیں بھی موجود ہیں۔ پہلے قول کا مطلب یہ ہے کہ اعمال گو ایک بےجسم چیز ہیں لیکن قیامت کے دن اللہ تعالیٰ انہیں جسم عطا فرمائے گا جیسے کہ صحیح حدیث میں ہے: { سورۃ البقرہ اور سورۃ آل عمران قیامت کے دن دو سائبانوں کی یا دو ابر کی یا پر پھیلائے ہوئے پرندوں کے دو جھنڈ کی صورت میں آئیں گی۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:805] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے کہ { قرآن اپنے قاری اور عامل کے پاس ایک نوجوان خوش شکل، نورانی چہرے والے کی صورت میں آئے گا۔ یہ اسے دیکھ کر پوچھے گا کہ تو کون ہے؟ یہ کہے گا: میں قرآن ہوں جو تجھے راتوں کی نیند نہیں سونے دیتا تھا اور دنوں میں پانی پینے سے روکتا تھا۔ } ۱؎ [سنن ابن ماجه:3781، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ سیدنا براء رضی اللہ عنہ والی حدیث میں، جس میں قبر کے سوال جواب کا ذکر ہے، اس میں یہ بھی فرمان ہے کہ { مومن کے پاس ایک نوجوان خوبصورت، خوشبودار آئے گا۔ یہ اس سے پوچھے گا کہ تو کون ہے؟ وہ جواب دے گا کہ میں تیرا نیک عمل ہوں۔ } ۱؎ [مسند احمد:287/4:صحیح] ‏‏‏‏ اور کافر و منافق کے پاس اس کے برخلاف شخص کے آنے کا بیان ہے۔ یہ تو تھیں پہلے قول کی دلیلیں۔ دوسرے قول کی دلیلیں یہ ہیں:

ایک حدیث میں ہے کہ { ایک شخص کے سامنے اس کے گناہوں کے ننانوے دفتر پھیلائے جائیں گے جس میں سے ہر ایک اتنا بڑا ہو گا جتنی دور تک نظر پہنچے۔ پھر ایک پرچہ نیکی کا لایا جائے گا جس پر «لَا اِلٰہَ اِلَا اللہُ» ہو گا۔ یہ کہے گا: یااللہ! اتنا سا پرچہ ان دفتروں کے مقابلے میں کیا حیثیت رکھتا ہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو اس سے بےخطر رہ کہ تجھ پر ظلم کیا جائے۔ اب وہ پرچہ ان دفتروں کے مقابلہ میں نیکی کے پلڑے میں رکھا جائے گا تو وہ سب دفتر اونچے ہو جائیں گے اور یہ سب سے زیادہ وزن دار اور بھاری ہو جائیں گے۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:2639، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ (‏‏‏‏ترمذی) تیسرا قول بھی دلیل رکھتا ہے: حدیث میں ہے: { ایک بہت موٹا تازہ گنہگار انسان اللہ کے سامنے لایا جائے گا لیکن ایک مچھر کے پر کے برابر بھی وزن اللہ کے پاس اس کا نہ ہو گا۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی «اُولٰىِٕكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمْ وَلِقَاىِٕهٖ فَحَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فَلَا نُقِيْمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَزْنًا» ۱؎ [18-الكهف:105] ‏‏‏‏ ’ ہم قیامت کے دن ان کے لیے کوئی وزن قائم نہ کریں گے۔ ‘ } ۱؎ [صحیح بخاری:4729] ‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی تعریف میں جو حدیثیں ہیں، ان میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ان کی پتلی پنڈلیوں پہ نہ جانا۔ اللہ کی قسم! اللہ کے نزدیک یہ احد پہاڑ سے بھی زیادہ وزن دار ہے۔ } ۱؎ [مسند احمد:420/1:حسن] ‏‏‏‏
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 8) {وَ الْوَزْنُ يَوْمَىِٕذِ الْحَقُّ:} اوپر کی آیت میں سوال اور حساب کا ذکر ہے، اس آیت میں وزن اعمال کا، یعنی ہر ایک کے نیک و بد اعمال کا وزن ہو گا۔ یہاں اس اشکال کی بنا پر کہ ان اعمال کا تو اس وقت وجود ہی ختم ہو چکا ہو گا، بعض عقل پرستوں نے وزن اعمال ہی سے انکار کر دیا، مگر اﷲ تعالیٰ کی بات کیسے غلط ہو سکتی ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح بخاری کو ختم ہی اس بات کو قرآن و سنت کے دلائل کے ساتھ ثابت کرنے سے کیا ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ انبیاء (۴۷) یہ وزن کیسے ہو گا، کچھ اہل علم نے کہا کہ وہ کاغذ تولے جائیں گے جن میں عمل لکھے ہوں گے۔ بعض نے کہا کہ ان اعمال کو جسم دے کر وہ جسم تولے جائیں گے۔ بعض نے کہا کہ اس عمل والے کو تولا جائے گا۔ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا: ”تینوں صورتیں ممکن ہیں اور آیات و احادیث میں ہر ایک کی تائید ملتی ہے۔“ چوتھی صورت یہ ہے کہ خود عمل تو لے جائیں گے، کیونکہ ان کا وجود ہے جیسا کہ قرآن مجید میں فرمایا: «‏‏‏‏وَ وَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا» ‏‏‏‏ [ الکہف: ۴۹ ] ”اور انھوں نے جو کچھ کیا اسے موجود پائیں گے۔“ اور فرمایا: «وَ اِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ اَتَيْنَا بِهَا» ‏‏‏‏ [ الأنبیاء: ۴۷ ] ”اور اگر رائی کے ایک دانہ کے برابر عمل ہو گا تو ہم اسے لے آئیں گے۔“ اور سورۂ لقمان (۱۶) میں بھی یہی بات فرمائی سورۂ زلزال میں فرمایا: «فَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهٗ(7)وَ مَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهٗ» [ الزلزال: ۷، ۸ ] ”اور جو شخص ایک ذرہ برابر نیکی کرے گا اسے دیکھ لے گا اور جو شخص ایک ذرہ برابر برائی کرے گا اسے دیکھ لے گا۔“ سورۂ آل عمران (۳۰) میں بھی یہ بات موجود ہے۔ اور یہی چوتھی صورت راجح ہے۔ اب تو جدید سائنس نے دنیا ہی میں یہ مسئلہ حل کر دیا ہے، ہوا میں تحلیل ہو جانے والی آوازوں اور اعمال کا سارا نقشہ اور ختم ہونے والی چیزوں کا وزن سب کچھ انسان کے ہاتھوں ظاہر ہو رہا ہے۔ «وَلِلّٰہِ الْمَثَلُ الْاَعْلیٰ» مگر ماننے کا لطف اس وقت ہے کہ اﷲ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بات عقل میں آئے یا نہ آئے اسے من و عن تسلیم کیا جائے اور اسی کا نام اسلام ہے، سائنس سے ثابت ہونے کے بعد کسی نے مانا تو اﷲ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو کیا مانا؟
وَ مَنۡ خَفَّتۡ مَوَازِیۡنُہٗ فَاُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ بِمَا کَانُوۡا بِاٰیٰتِنَا یَظۡلِمُوۡنَ ﴿۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور جن کے پلڑے ہلکے رہیں گے وہی اپنے آپ کو خسارے میں مبتلا کرنے والے ہوں گے کیونکہ وہ ہماری آیات کے ساتھ ظالمانہ برتاؤ کرتے رہے تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جس شخص کا پلا ہلکا ہوگا سو یہ وه لوگ ہوں گے جنہوں نے اپنا نقصان کرلیا بسبب اس کے کہ ہماری آیتوں کے ساتھ ﻇلم کرتے تھے
احمد رضا خان بریلوی
اور جن کے پلے ہلکے ہوئے تو وہی ہیں جنہوں نے اپنی جان گھاٹے میں ڈالی ان زیادتیوں کا بدلہ جو ہماری آیتوں پر کرتے تھے
علامہ محمد حسین نجفی
اور جس کے پلے ہلکے ہوں گے۔ وہ اپنے آپ کو خسارے میں مبتلا کرنے والے ہوں گے کیونکہ وہ ناانصافی کرتے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ شخص کہ اس کے پلڑے ہلکے ہوگئے تو یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈالا، اس لیے کہ وہ ہماری آیات کے ساتھ ناانصافی کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
میزان اور اعمال کا دین ٭٭

قیامت کے دن نیکی، بدی، انصاف و عدل کے ساتھ تولی جائے گی، اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہ کرے گا۔ جیسے فرمان ہے «وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا وَإِن كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا وَكَفَىٰ بِنَا حَاسِبِينَ» ۱؎ [21-الأنبياء:47] ‏‏‏‏ ’ قیامت کے دن ہم عدل کا ترازو رکھیں گے، کسی پر کوئی ظلم نہ ہو گا، رائی کے دانے کے برابر بھی عمل ہو گا تو ہم اسے لے آئیں گے اور ہم حساب لینے میں کافی ہیں۔ ‘ اور آیت میں ہے: ’ اللہ تعالیٰ ایک ذرے کے برابر بھی ظلم نہیں کرتا، وہ نیکی کو بڑھاتا ہے اور اپنے پاس سے اجر عظیم عطا فرماتا ہے۔ ‘ ۱؎ [4-النساء:40] ‏‏‏‏ سورۃ القارعہ میں فرمایا: ’ جس کی نیکیوں کا پلڑا بھاری ہو گیا اسے عیش و نشاط کی زندگی ملی اور جس کا نیکیوں کا پلڑا ہلکا ہو گیا اس کا ٹھکانا ہاویہ ہے جو بھڑکتی ہوئی آگ کے خزانے کا نام ہے۔ ‘ ۱؎ [101-القارعة:6-11] ‏‏‏‏

اور آیت میں ہے «فَإِذَا نُفِخَ فِي الصُّورِ فَلَا أَنسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَلَا يَتَسَاءَلُونَ فَمَن ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِينُهُ فَأُولَـٰئِكَ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنفُسَهُمْ فِي جَهَنَّمَ خَالِدُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:101] ‏‏‏‏ یعنی ’ جب نفحہ پھونک دیا جائے گا، سارے رشتے ناطے اور نسب حسب ٹوٹ جائیں گے، کوئی کسی کا پرسان حال نہ ہو گا۔ اگر تول میں نیک اعمال بڑھ گئے تو فلاح پا لی ورنہ خسارے کے ساتھ جہنم میں داخل ہوں گے۔ ‘

فصل ٭٭

کوئی تو کہتا ہے کہ خود اعمال تولے جائیں گے، کوئی کہتا ہے: نامہ اعمال تولے جائیں گے۔ کوئی کہتا ہے: خود عمل کرنے والے تولے جائیں گے۔ ان تینوں قولوں کو اس طرح جمع کرنا بھی ممکن ہے کہ ہم کہیں یہ سب صحیح ہیں۔ کبھی اعمال تولے جائیں گے، کبھی نامہ اعمال، کبھی خود اعمال کرنے والے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ ان تینوں باتوں کی دلیلیں بھی موجود ہیں۔ پہلے قول کا مطلب یہ ہے کہ اعمال گو ایک بےجسم چیز ہیں لیکن قیامت کے دن اللہ تعالیٰ انہیں جسم عطا فرمائے گا جیسے کہ صحیح حدیث میں ہے: { سورۃ البقرہ اور سورۃ آل عمران قیامت کے دن دو سائبانوں کی یا دو ابر کی یا پر پھیلائے ہوئے پرندوں کے دو جھنڈ کی صورت میں آئیں گی۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:805] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے کہ { قرآن اپنے قاری اور عامل کے پاس ایک نوجوان خوش شکل، نورانی چہرے والے کی صورت میں آئے گا۔ یہ اسے دیکھ کر پوچھے گا کہ تو کون ہے؟ یہ کہے گا: میں قرآن ہوں جو تجھے راتوں کی نیند نہیں سونے دیتا تھا اور دنوں میں پانی پینے سے روکتا تھا۔ } ۱؎ [سنن ابن ماجه:3781، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ سیدنا براء رضی اللہ عنہ والی حدیث میں، جس میں قبر کے سوال جواب کا ذکر ہے، اس میں یہ بھی فرمان ہے کہ { مومن کے پاس ایک نوجوان خوبصورت، خوشبودار آئے گا۔ یہ اس سے پوچھے گا کہ تو کون ہے؟ وہ جواب دے گا کہ میں تیرا نیک عمل ہوں۔ } ۱؎ [مسند احمد:287/4:صحیح] ‏‏‏‏ اور کافر و منافق کے پاس اس کے برخلاف شخص کے آنے کا بیان ہے۔ یہ تو تھیں پہلے قول کی دلیلیں۔ دوسرے قول کی دلیلیں یہ ہیں:

ایک حدیث میں ہے کہ { ایک شخص کے سامنے اس کے گناہوں کے ننانوے دفتر پھیلائے جائیں گے جس میں سے ہر ایک اتنا بڑا ہو گا جتنی دور تک نظر پہنچے۔ پھر ایک پرچہ نیکی کا لایا جائے گا جس پر «لَا اِلٰہَ اِلَا اللہُ» ہو گا۔ یہ کہے گا: یااللہ! اتنا سا پرچہ ان دفتروں کے مقابلے میں کیا حیثیت رکھتا ہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو اس سے بےخطر رہ کہ تجھ پر ظلم کیا جائے۔ اب وہ پرچہ ان دفتروں کے مقابلہ میں نیکی کے پلڑے میں رکھا جائے گا تو وہ سب دفتر اونچے ہو جائیں گے اور یہ سب سے زیادہ وزن دار اور بھاری ہو جائیں گے۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:2639، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ (‏‏‏‏ترمذی) تیسرا قول بھی دلیل رکھتا ہے: حدیث میں ہے: { ایک بہت موٹا تازہ گنہگار انسان اللہ کے سامنے لایا جائے گا لیکن ایک مچھر کے پر کے برابر بھی وزن اللہ کے پاس اس کا نہ ہو گا۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی «اُولٰىِٕكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمْ وَلِقَاىِٕهٖ فَحَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فَلَا نُقِيْمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَزْنًا» ۱؎ [18-الكهف:105] ‏‏‏‏ ’ ہم قیامت کے دن ان کے لیے کوئی وزن قائم نہ کریں گے۔ ‘ } ۱؎ [صحیح بخاری:4729] ‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی تعریف میں جو حدیثیں ہیں، ان میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ان کی پتلی پنڈلیوں پہ نہ جانا۔ اللہ کی قسم! اللہ کے نزدیک یہ احد پہاڑ سے بھی زیادہ وزن دار ہے۔ } ۱؎ [مسند احمد:420/1:حسن] ‏‏‏‏
9۔ 1 ان آیات میں وزن اعمال کا مسئلہ بیان کیا گیا ہے جو قیامت والے دن ہوگا جسے قرآن کریم میں بھی متعدد جگہ اور احادیث میں بھی بیان کیا گیا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ترازو میں اعمال تولے جائیں گے۔ جس کا نیکیوں کا پلا بھاری ہوگا، وہ کامیاب ہوگا اور جس کا بدیوں والا پلڑا بھاری ہوگا، وہ ناکام ہوگا۔ یہ اعمال کس طرح تولے جائیں گے جب کہ یہ اعراض ہیں یعنی ان کا ظاہری وجود اور جسم نہیں ہے؟ اس بارے میں ایک رائے تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت والے دن ان کو اجسام میں تبدیل فرمادے گا اور ان کا وزن ہوگا۔ دوسری رائے یہ ہے کہ وہ صحیفے اور رجسٹر تولے جائیں گے۔ جن میں انسان کے اعمال درج ہونگے۔ تیسری رائے یہ ہے کہ خود صاحب عمل کو تولا جائے گا، تینوں مسلکوں والے کے پاس اپنے مسلک کی حمایت میں صحیح احادیث و آثار موجود ہیں، اس لئے امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ تینوں ہی باتیں صحیح ہوسکتی ہیں ممکن ہے، کبھی اعمال، کبھی صحیفے اور کبھی صاحب عمل کو تولا جائے (دلائل کے لئے دیکھئے تفسیر ابن کثیر) بہرحال میزان اور وزن اعمال کا مسئلہ قرآن و حدیث سے ثابت ہے۔ اس کا انکار اس کی تاویل گمراہی ہے۔ اور موجودہ دور میں تو اس کے انکار کی اب مزید کوئی گنجائش نہیں کہ بےوزن چیزیں بھی تولی جانے لگی ہیں۔
(آیت 9){وَ مَنْ خَفَّتْ مَوَازِيْنُهٗ ……:} اکثر مفسرین کے نزدیک اس سے مراد کافر ہیں، کیونکہ قرآن نے انھیں{” خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ “} قرار دیا ہے، مومن گناہ گار تو آخر کار کسی نہ کسی طرح اﷲ تعالیٰ کے جوارِ رحمت میں پہنچ جائیں گے۔ (کبیر) مزید دیکھیے سورۂ حاقہ(۲۵ تا ۲۹) کی تفسیر۔ عبد اﷲ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے ایک شخص کو قیامت کے روز سب کے سامنے لایا جائے گا، اس کے ننانویں اعمال نامے پھیلائے جائیں گے اور ان میں سے ہر ایک اتنا لمبا ہو گا جتنی دور نگاہ جاتی ہے، پھر پروردگار اس سے فرمائے گا: ”کیا تم ان میں سے کسی عمل سے انکار کرتے ہو؟“ وہ عرض کرے گا: ” نہیں۔“ پھر پروردگار فرمائے گا: ”تمھاری ایک نیکی بھی ہمارے پاس ہے اور آج تم سے کوئی بے انصافی نہیں کی جائے گی۔“ پھر ایک بطاقہ (کاغذ کا ٹکڑا) لایا جائے گا جس پر{” أَشْهَدُ أَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَ رَسُوْلُهُ “} درج ہو گا۔ وہ عرض کرے گا: ”بھلا یہ ایک پرزہ ان تمام دفتروں کے مقابلے میں کس کام آئے گا؟“ حکم ہو گا کہ تم پر کوئی ظلم نہیں ہو گا (لہٰذا صبر کرو) پھر وہ تمام دفتر ایک پلڑے میں رکھے جائیں گے اور یہ کاغذ کا ایک پرزہ دوسرے پلڑے میں، تو وہ دفتر ہلکے ہو جائیں گے اور وہ پرزہ بھاری ہو گا اور اﷲ کے نام کے مقابلے میں کوئی چیز بھاری نہیں ہو گی۔“ [ ترمذی، الإیمان، باب ما جاء فیمن یموت……: ۲۶۳۹۔ ابن ماجہ: ۴۳۰۰۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۱؍۲۶۱ ] اہل علم نے دوسری آیات و احادیث کو مد نظر رکھ کر اس شخص سے وہ آدمی مراد لیا ہے جسے کلمہ پڑھنے کے بعد عمل کا موقع ہی نہیں ملا، یعنی جسے آخری وقت پر کفر و شرک سے باز آنے اور اسلام لانے کی توفیق ملی اور اسلام لانے سے اس کے تمام گناہ معاف ہو گئے یا بدعمل، اور آخری وقت توبہ کی توفیق نصیب ہو گئی۔
وَ لَقَدۡ مَکَّنّٰکُمۡ فِی الۡاَرۡضِ وَ جَعَلۡنَا لَکُمۡ فِیۡہَا مَعَایِشَ ؕ قَلِیۡلًا مَّا تَشۡکُرُوۡنَ ﴿٪۱۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہم نے تمھیں زمین میں اختیارات کے ساتھ بسایا اور تمہارے لیے یہاں سامان زیست فراہم کیا، مگر تم لوگ کم ہی شکر گزار ہوتے ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
اور بے شک ہم نے تم کو زمین پر رہنے کی جگہ دی اور ہم نے تمہارے لئے اس میں سامان رزق پیدا کیا، تم لوگ بہت ہی کم شکر کرتے ہو
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک ہم نے تمہیں زمین میں جماؤ (ٹھکانا) دیا اور تمہارے لیے اس میں زندگی کے اسباب بنائے بہت ہی کم شکر کرتے ہو
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے تمہیں زمین میں تمکین دی (اقتدار و اختیار دیا) اور اس میں تمہارے لئے زندگی گزارنے کے سامان فراہم کئے۔ مگر تم بہت ہی کم شکر کرتے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ یقینا ہم نے تمھیں زمین میں ٹھکانا دیا اور ہم نے تمھارے لیے اس میں زندگی کے سامان بنائے، بہت کم تم شکر کرتے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالیٰ کے احسانات ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنا احسان بیان فرما رہا ہے کہ اس نے زمین اپنے بندوں کے رہنے سہنے کے لئے بنائی۔ اس میں مضبوط پہاڑ گاڑ دیئے کہ ہلے جلے نہیں، اس میں چشمے جاری کر دیئے، اس میں منزلیں اور گھر بنانے کی طاقت انسان کو عطا فرمائی اور بہت سی نفع کی چیزیں اس لیے پیدا فرمائیں۔ ابر مقرر کر کے اس میں سے پانی برسا کر ان کے لیے کھیت اور باغات پیدا کئے۔ تلاش معاش کے وسائل مہیا فرمائے۔ تجارت اور کمائی کے طریقے سکھا دیئے۔ باوجود اس کے اکثر لوگ پوری شکر گزاری نہیں کرتے۔ ایک آیت میں فرمان ہے «وَإِن تَعُدُّوا نِعْمَتَ اللَّـهِ لَا تُحْصُوهَا إِنَّ الْإِنسَانَ لَظَلُومٌ كَفَّارٌ» ۱؎ [14-إبراهيم:34] ‏‏‏‏ یعنی ’ اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گننے بیٹھو تو یہ بھی تمہارے بس کی بات نہیں لیکن انسان بڑا ہی ناانصاف اور ناشکرا ہے۔ ‘ «مَعَايِشَ» تو جمہور کی قرأت ہے لیکن عبدالرحمٰن بن ہرمز اعرج «مَعَاۤیِـْش» پڑھتے ہیں اور ٹھیک وہی ہے جس پر اکثریت ہے۔ اس لیے کہ «مَعَايِشَ» جمع ہے «مَعِیْشَتہٌ» کی۔ اس کا باب «عَاشَ یَعِیْشُ عَیْشًا» ہے۔ «مَعِیْشَتہٌ» کی اصل «مَعِیْشَتہٌ» ہے۔ کسرہ «یا» پر تقلیل تھا، نقل کر کے ماقبل کو دیا «مَعِیْشَتہٌ» ہو گیا لیکن جمع کے وقت پھر کسرہ «یا» پر آ گیا کیونکہ اب ثقل نہ رہا۔ پس «مَفَاعِلٌ» کے وزن پر «مَعَايِشَ» ہو گیا کیونکہ اس کلمہ میں «یا» اصلی ہے۔ بخلاف «مدائن» ، «صحائف» اور «بصائر» کے جو «مدینہ» ، «صحیفہ» اور «بصیرہ» کی جمع ہے باب «مدن» ، «صحف» اور «ابصر» سے۔ ان میں چونکہ «یا» زائد ہے اس لیے ہمزہ دی جاتی ہے اور «مفاعل» کے وزن پر جمع آتی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 10) {وَ لَقَدْ مَكَّنّٰكُمْ فِي الْاَرْضِ ……:} اوپر کی آیات میں انذار و تبشیر کے ساتھ لوگوں کو انبیاء کی دعوت قبول کرنے کی ترغیب دی اور ترغیب میں نعمتوں کی کثرت کی طرف اشارہ تھا، اب یہاں سے نعمتوں کے بیان کا سلسلہ شروع ہوتا ہے، ساتھ ہی شیطان کے حسد اور انسان کو اﷲ کی نعمتوں سے محروم کرنے کی جد و جہد کا ذکر ہے، تاکہ ہم اس سے بچ سکیں۔
وَ لَقَدۡ خَلَقۡنٰکُمۡ ثُمَّ صَوَّرۡنٰکُمۡ ثُمَّ قُلۡنَا لِلۡمَلٰٓئِکَۃِ اسۡجُدُوۡا لِاٰدَمَ ٭ۖ فَسَجَدُوۡۤا اِلَّاۤ اِبۡلِیۡسَ ؕ لَمۡ یَکُنۡ مِّنَ السّٰجِدِیۡنَ ﴿۱۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہم نے تمہاری تخلیق کی ابتدا کی، پھر تمہاری صورت بنائی، پھر فرشتوں سے کہا آدمؑ کو سجدہ کرو اس حکم پر سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہم نے تم کو پیدا کیا، پھر ہم ہی نے تمہاری صورت بنائی پھر ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجده کرو سو سب نے سجده کیا بجز ابلیس کے، وه سجده کرنے والوں میں شامل نہ ہوا
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک ہم نے تمہیں پیدا کیا پھر تمہارے نقشے بنائے پھر ہم نے ملائکہ سے فرمایا کہ آدم کو سجدہ کرو، تو وہ سب سجدے میں گرے مگر ابلیس، یہ سجدہ کرنے والوں میں نہ ہوا،
علامہ محمد حسین نجفی
بے شک ہم نے تمہاری تخلیق کا آغاز کیا اور پھر تمہاری صورت گری کی اس کے بعد فرشتوں سے کہا کہ آدم(ع) کے سامنے سجدہ ریز ہو جاؤ چنانچہ سب نے سجدہ کیا سوا ابلیس کے کہ وہ سجدہ کرنے والوں میں سے نہ تھا۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ یقینا ہم نے تمھارا خاکہ بنایا، پھر ہم نے تمھاری صورت بنائی، پھر ہم نے فرشتوں سے کہا آدم کو سجدہ کرو تو انھوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس، وہ سجدہ کرنے والوں سے نہ ہوا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ابلیس، آدم علیہ السلام اور نسل آدم ٭٭

انسان کے شرف کو اس طرح بیان فرماتا ہے کہ تمہارے باپ آدم کو میں نے خود ہی بنایا اور ابلیس کی عداوت کو بیان فرما رہا ہے کہ اس نے تمہارے باپ آدم کا حسد کیا۔ ہمارے فرمان سے سب فرشتوں نے سجدہ کیا مگر اس نے نافرمانی کی۔ پس تمہیں چاہئے کہ دشمن کو دشمن سمجھو اور اس کے داؤ پیچ سے ہوشیار رہو۔ اسی واقعہ کا ذکر آیت «وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي خَالِقٌ بَشَرًا مِّن صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَإٍ مَّسْنُونٍ فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِن رُّوحِي فَقَعُوا لَهُ سَاجِدِينَ فَسَجَدَ الْمَلَائِكَةُ كُلُّهُمْ أَجْمَعُونَ إِلَّا إِبْلِيسَ أَبَىٰ أَن يَكُونَ مَعَ السَّاجِدِينَ» ۱؎ [15-الحجر28-30] ‏‏‏‏ آدم علیہ السلام کو پروردگار نے اپنے ہاتھ سے مٹی سے بنایا، انسانی صورت عطا فرمائی۔ پھر اپنے پاس سے اس میں روح پھونکی۔ پھر اپنی شان کی جلالت منوانے کیلئے فرشتوں کو حکم دیا کہ ان کے سامنے جھک جاؤ۔ سب نے سنتے ہی اطاعت کی لیکن ابلیس نہ مانا۔ اس واقعہ کو سورۃ البقرہ کی تفسیر میں ہم خلاصہ وار لکھ آئے ہیں۔ اس آیت کا بھی یہی مطلب ہے اور اسی کو امام ابن جریر رحمہ اللہ نے بھی پسند فرمایا ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انسان اپنے باپ کی پیٹھ سے پیدا کیا جاتا ہے اور اپنی ماں کے پیٹ میں صورت دیا جاتا ہے اور بعض سلف نے بھی لکھا ہے کہ اس آیت میں مراد اولاد آدم علیہ السلام ہے۔ ضحاک رحمہ اللہ کا قول ہے کہ آدم کو پیدا کیا پھر اس کی اولاد کی صورت بنائی۔ لیکن یہ سب اقوال غور طلب ہیں کیونکہ آیت میں اس کے بعد ہی فرشتوں کے سجدے کا ذکر ہے اور ظاہر ہے کہ سجدہ آدم علیہ السلام کے لیے ہی ہوا تھا۔ جمع کے صیغہ سے اس کا بیان اس لیے ہوا کہ آدم علیہ السلام تمام انسانوں کے باپ ہیں آیت «وَظَلَّلْنَا عَلَيْكُمُ الْغَمَامَ وَأَنزَلْنَا عَلَيْكُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوَىٰ» ۱؎ [2-البقرة:57] ‏‏‏‏ اسی کی نظیر ہے۔ یہاں خطاب ان بنی اسرائیل سے ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں موجود تھے اور دراصل ابر کا سایہ ان کے سابقوں پر ہوا تھا جو موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں تھے نہ کہ ان پر۔ لیکن چونکہ ان کے اکابر پر سایہ کرنا ایسا احسان تھا کہ ان کو بھی اس کا شکر گزار ہونا چاہیئے تھا۔ اس لیے انہی کو خطاب کر کے اپنی وہ نعمت یاد دلائی، یہاں یہ بات واضح ہے۔ اس کے بالکل برعکس آیت «وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن سُلَالَةٍ مِّن طِينٍ ثُمَّ جَعَلْنَاهُ نُطْفَةً فِي قَرَارٍ مَّكِينٍ» ۱؎ [23-المؤمنون:12] ‏‏‏‏ ہے کہ مراد آدم علیہ السلام ہیں کیونکہ صرف وہی مٹی سے بنائے گئے۔ ان کی کل اولاد نطفے سے پیدا ہوئی اور یہی صحیح ہے کیونکہ مراد جنس انسان ہے نہ کہ معین۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
11۔ 1 خَلَقْنَاکُمْ میں ضمیر اگرچہ جمع کی ہے لیکن مراد ابو البشر حضرت آدم ؑ ہیں۔
(آیت 11) ➊ {وَ لَقَدْ خَلَقْنٰكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنٰكُمْ:خَلَقَ “} کا اصل معنی جس چیز کا وجود نہ ہو اس کا صحیح خاکہ بنانا اور وجود میں لانا ہے۔ اس معنی میں خالق صرف اﷲ تعالیٰ ہے۔ ہاں، کسی چیز سے کوئی خاکہ تیار کرنے کو بھی {” خَلَقَ “} کہہ لیتے ہیں، یہ مخلوق بھی کر سکتی ہے، سورۂ مائدہ (۱۱۰) میں عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں آتا ہے: «وَ اِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّيْنِ» (راغب) {”خلق، برأ “} اور تصویر، پیدائش کے تین مراحل ہیں، سورۂ حشر (۲۴) میں فرمایا: «هُوَ اللّٰهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ» تینوں الفاظ میں سے اکیلا کوئی بھی لفظ آئے تو پیدا کرنے کے معنی میں ہوتا ہے، اکٹھے آئیں تو کچھ فرق ہے، یعنی ہم نے تمھارا خاکہ بنایا، پھر تمھیں صورت بخشی۔ ➋ { ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلٰٓىِٕكَةِ۠ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ:} اس سجدے سے مراد مطلق تعظیم ہے یا حقیقی سجدہ۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۳۴)۔
قَالَ مَا مَنَعَکَ اَلَّا تَسۡجُدَ اِذۡ اَمَرۡتُکَ ؕ قَالَ اَنَا خَیۡرٌ مِّنۡہُ ۚ خَلَقۡتَنِیۡ مِنۡ نَّارٍ وَّ خَلَقۡتَہٗ مِنۡ طِیۡنٍ ﴿۱۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پوچھا، "تجھے کس چیز نے سجدہ کرنے سے روکا جب کہ میں نے تجھ کو حکم دیا تھا؟" بولا، "میں اُس سے بہتر ہوں، تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور اُسے مٹی سے"
مولانا محمد جوناگڑھی
حق تعالیٰ نے فرمایا تو جو سجده نہیں کرتا تو تجھ کو اس سے کون امر مانع ہے، جبکہ میں تجھ کو حکم دے چکا، کہنے لگا میں اس سے بہتر ہوں، آپ نے مجھ کو آگ سے پیدا کیا ہے اور اس کو آپ نے خاک سے پیدا کیا ہے
احمد رضا خان بریلوی
فرمایا کس چیز نے تجھے روکا کہ تو نے سجدہ نہ کیا جب میں نے تجھے حکم دیا تھا بولا میں اس سے بہتر ہوں تو نے مجھے آگ سے بنایا اور اسے مٹی سے بنایا
علامہ محمد حسین نجفی
(خدا نے) فرمایا: جب میں نے تجھے حکم دیا تھا تو تجھے کس چیز نے روکا؟ کہا میں اس (آدم(ع)) سے بہتر ہوں کیونکہ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور اسے مٹی سے پیدا کیا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
فرمایا تجھے کس چیز نے روکا کہ تو سجدہ نہیں کرتا، جب میں نے تجھے حکم دیا؟ اس نے کہا میں اس سے بہتر ہوں، تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور تو نے اسے مٹی سے پیدا کیا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عذر گناہ بدتر از گناہ ٭٭

«أَلَّا تَسْجُدَ» «لَا» بقول بعض نحویوں کے زائد ہے اور بعض کے نزدیک انکار کی تاکید کے لئے ہے۔ جیسے کہ شاعر کے قول «مَا اِنْ رَاَیْتُ وَلَا سَمِعْتُ بِمِثْلِہِ» میں «ما» نافیہ پر «اِن» نفی کے لیے صرف تاکیداً داخل ہوا ہے۔ اسی طرح یہاں بھی ہے کہ پہلے «لَمْ يَكُنْ مِنَ السَّاجِدِينَ» ہے۔ پھر «مَا مَنَعَكَ أَلَّا تَسْجُدَ» ہے۔

امام ابن جریر رحمہ اللہ ان دونوں قولوں کو بیان کر کے انہیں رد کرتے ہیں اور فرماتے ہیں «مَنَعَكَ» ایک دوسرے فعل مقدر کا متضمن ہے تو تقدیر عبارت یوں ہوئی «مَا اَحْرَجَکَ وَ اَلْزَمَکَ وَ اضْطَرَّکَ اَلَّا تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُکَ» یعنی تجھے کس چیز نے بےبس، محتاج اور ملزم کر دیا کہ تو سجدہ نہ کرے؟ وغیرہ۔ یہ قول بہت ہی قوی ہے اور بہت عمدہ ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ ابلیس نے جو وجہ بتائی، سچ تو یہ ہے کہ وہ عذر گناہ بدتر از گناہ کی مصداق ہے۔ گویا وہ اطاعت سے اس لیے باز رہتا ہے کہ اس کے نزدیک فاضل کو مفضول کے سامنے سجدہ کئے جانے کا حکم ہی نہیں دیا جا سکتا۔ تو وہ ملعون کہہ رہا ہے کہ میں اس سے بہتر ہوں پھر مجھے اس کے سامنے جھکنے کا حکم کیوں ہو رہا ہے؟ پھر اپنے بہتر ہونے کے ثبوت میں کہتا ہے کہ میں آگ سے بنا، یہ مٹی سے۔ ملعون اصل عنصر کو دیکھتا ہے اور اس فضیلت کو بھول جاتا ہے کہ مٹی والے کو اللہ عز و جل نے اپنے ہاتھ سے بنایا اور اپنی روح پھونکی ہے۔ پس اس وجہ سے کہ اس نے فرمان الٰہی کے مقابلے میں قیاس فاسد سے کام لیا اور سجدے سے رک گیا، اللہ کی رحمتوں سے دور کر دیا گیا اور تمام نعمتوں سے محروم ہو گیا۔ اس ملعون نے اپنے قیاس اور اپنے دعوے میں بھی خطا کی۔ مٹی کے اوصاف ہیں: نرم ہونا، حامل مشقت ہونا، دوسروں کا بوجھ سہارنا، چیزوں کو اگانا، پرورش کرنا، اصلاح کرنا وغیرہ اور آگ کی صفت ہے: جلدی کرنا، جلا دینا، بےچینی پھیلانا، پھونک دینا۔ اسی وجہ سے ابلیس اپنے گناہ پر اڑ گیا اور آدم علیہ السلام نے اپنے گناہ کی معذرت کی، اس سے توبہ کی اور اللہ کی طرف رجوع کیا۔ رب کے احکام کو تسلیم کیا، اپنے گناہ کا اقرار کیا، رب سے معافی چاہی، بخشش کے طالب ہوئے۔

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { فرشتے نور سے پیدا کئے گئے ہیں، ابلیس آگ کے شعلے سے اور انسان اس چیز سے جو تمہاے سامنے بیان کر دی گئی ہے یعنی مٹی سے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2996] ‏‏‏‏ (‏‏‏‏مسلم) ایک اور روایت میں ہے: { فرشتے نور عرش سے، جنات آگ سے۔ } ایک غیر صحیح حدیث میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ { حور عین زعفران سے بنائی گئی ہیں۔ } ۱؎ [طبرانی کبیر:7813/8:ضعیف] ‏‏‏‏ امام حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابلیس نے یہ قیاس کیا اور یہی پہلا شخص ہے جس نے قیاس کا دروازہ کھولا۔ اس کی اسناد صحیح ہے۔ امام ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سب سے پہلے قیاس کرنے والا ابلیس ہے۔ یاد رکھو! سورج چاند کی پرستش اسی قیاس کی بدولت شروع ہوئی ہے۔ اس کی اسناد بھی صحیح ہے۔
12۔ 1 ان لا تسجدوا میں لا زائد ہے یعنی ان تسجد تجھے سجدہ کرنے سے کس نے روکا؟ یا عبارت محذوف ہے یعنی تجھے کس چیز نے اس بات پر مجبور کیا کہ تو سجدہ نہ کرے، شیطان فرشتوں میں سے نہیں تھا بلکہ خود قرآن کی صراحت کے بموجب وہ جنات میں سے تھا (الکہف۔ 50) لیکن آسمان پر فرشتوں کے ساتھ رہنے کی وجہ سے اس سجدہ حکم میں شامل تھا جو اللہ نے فرشتوں کو دیا تھا۔ اس لئے اس سے باز پرس بھی ہوئی اور اس پر عتاب بھی نازل ہوا۔ اگر وہ اس حکم میں شامل یہ نہ ہوتا تو اس سے باز پرس ہوتی نہ وہ راندہ درگاہ قرار پاتا۔ 12۔ 2 شیطان کا یہ عذر ' عذر گناہ بدتر از گناہ ' جس کا آئینہ دار ہے۔ ایک تو اس کا سمجھنا کہ افضل کو مفعول کی تعظیم کا حکم نہیں دیا جاسکتا، غلط ہے۔ اس لئے کہ اصل چیز تو اللہ کا حکم ہے اس کے حکم کے مقابلے میں افضل وغیرہ افضل کی بحث اللہ سے سرتابی ہے۔ دوسرے، اس نے بہتر ہونے کی دلیل یہ دی کہ میں آگ سے پیدا ہوا ہوں اور یہ مٹی سے۔ لیکن اس نے اس شرف اور عظمت کو نظر انداز کردیا جو حضرت آدم ؑ کو حاصل ہوا کہ اللہ نے انہیں اپنے ہاتھ سے بنایا اور اپنی طرف سے اس میں روح پھونکی۔ اس شرف کے مقابلے میں دنیا کی کوئی بھی چیز ہوسکتی ہے؟ تیسرا، نص کے مقابلے میں قیاس سے کام لیا، جو کسی بھی اللہ کو ماننے والے کا شیوا نہیں ہوسکتا اور یہ قیاس بھی فاسد تھا۔ آگ، مٹی سے کس طرح بہتر ہے؟ آگ میں سوائے تیزی، بھڑکنے اور جلانے کے کیا ہے؟ جب کہ مٹی میں سکون اور ثبات ہے، اس میں نبات و نمو، زیادتی اور اصلاح کی صلاحیت ہے۔ یہ صفات آگ سے بہرحال بہتر اور زیادہ مفید ہیں۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ شیطان کی تخلیق آگ سے ہوئی، جیسا کہ حدیث میں بھی آتا ہے کہ ' فرشتے نور سے، ابلیس آگ کی لپیٹ سے اور آدم ؑ مٹی سے پیدا کئے گئے ہیں۔
(آیت 12) ➊ {قَالَ مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُكَ:} یہاں {” اَلَّا “} زور اور تاکید کے لیے ہے، اس کی دلیل یہ ہے کہ سورۂ صٓ (۷۵) میں فرمایا: «{مَا مَنَعَكَ اَنْ تَسْجُدَ}» ‏‏‏‏ ”تجھے سجدہ کرنے سے کس چیز نے روکا۔“ اور یہاں ہے کہ تجھے کس نے روکا کہ اس کے روکنے کے باعث تو نے سجدہ نہ کیا۔ ➋ اس سے وہ مشکل حل ہو جاتی ہے کہ سجدے کا حکم تو فرشتوں کو تھا، ابلیس جنوں میں سے تھا، فرشتہ تھا ہی نہیں تو وہ نافرمان کیوں ٹھہرا؟ اس کے عجیب و غریب جواب دیے گئے ہیں۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ فرشتوں کے علاوہ ابلیس کو بطور خاص مخاطب کر کے حکم دیا گیا تھا۔ ➌ { خَلَقْتَنِيْ مِنْ نَّارٍ:} آگ مٹی سے افضل ہے اور افضل اپنے سے کم درجہ کو کیسے سجدہ کر سکتا ہے؟ اس نے یہ نہ دیکھا کہ حکم کون دے رہا ہے، بلکہ اﷲ تعالیٰ کے واضح حکم کی موجودگی میں عقلی قیاس سے کام لیا، نتیجہ یہ ہوا کہ دھتکارا گیا اور اس پر اﷲ تعالیٰ کا غضب نازل ہوا، اسی لیے اہل علم فرماتے ہیں کہ پہلا شخص جس نے واضح حکم کی موجودگی میں قیاس کیا ابلیس تھا۔ ابن سیرین نے فرمایا کہ شرک کی بنیاد بھی قیاس ہی تھا۔ (طبری) اب بھی آیات و احادیث کے مقابلے میں جو شخص اسی طرح عقلی قیاس سے کام لے گا اس کا یہ کام شیطانی ہے، اس کا بھی وہی انجام ہو گا جو ابلیس کا ہوا۔ ➍ {وَ خَلَقْتَهٗ مِنْ طِيْنٍ:} یہاں شیطان نے متعدد غلطیاں کیں، ایک تو یہ بات ہی غلط ہے کہ افضل اپنے سے کم تر کو سجدہ نہیں کر سکتا۔ بات برتر یا کم تر کی نہیں، حکم کی ہے اور اﷲ تعالیٰ جسے جو چاہے حکم دے سکتا ہے۔ دوسرا اس کا یہ کہنا بھی غلط ہے کہ میں آدم سے بہتر ہوں کیونکہ آدم علیہ السلام کو اﷲ تعالیٰ نے اپنے ہاتھوں سے بنانے کا اور عزت و تکریم بخشنے کا جو شرف عطا فرمایا وہ کسی بھی مخلوق کو نہیں بخشا اس لیے فرمایا: «مَا مَنَعَكَ اَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ» ‏‏‏‏ [صۤ: ۷۵ ] ”تجھے کس چیز نے روکا کہ تو اس کے لیے سجدہ کرے جس کو میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا۔“ اور تیسری یہ بات بھی غلط ہے کہ آگ مٹی سے بہتر ہے، کیونکہ آگ میں تیزی، چلانا اور بھڑکنا ہے جبکہ مٹی میں تواضع، ٹھکانابننے، اگانے اور بڑھانے کی خوبی موجود ہے۔ اب بھی جو لوگ قرآن و حدیث کے مقابلے میں قیاس کرتے ہیں اس پر تھوڑا سا غور کریں تو اس کا فاسد و باطل ہونا آسانی سے سمجھ میں آ جائے گا۔
قَالَ فَاہۡبِطۡ مِنۡہَا فَمَا یَکُوۡنُ لَکَ اَنۡ تَتَکَبَّرَ فِیۡہَا فَاخۡرُجۡ اِنَّکَ مِنَ الصّٰغِرِیۡنَ ﴿۱۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
فرمایا، "اچھا تو یہاں سے نیچے اتر تجھے حق نہیں ہے کہ یہاں بڑائی کا گھمنڈ کرے نکل جا کہ در حقیقت تو ان لوگوں میں سے ہے جو خود اپنی ذلت چاہتے ہیں"
مولانا محمد جوناگڑھی
حق تعالیٰ نے فرمایا آسمان سے اتر تجھ کو کوئی حق حاصل نہیں کہ تو آسمان میں ره کر تکبر کرے سو نکل بے شک تو ذلیلوں میں سے ہے
احمد رضا خان بریلوی
فرمایا تو یہاں سے اُ تر جا تجھے نہیں پہنچتا کہ یہاں رہ کر غرور کرے نکل تو ہے ذلت والوں میں
علامہ محمد حسین نجفی
ارشاد ہوا۔ تو پھر تو یہاں سے نیچے اتر جا۔ کیونکہ تجھے یہ حق نہیں ہے کہ تو یہاں رہ کر تکبر و غرور کرے۔ بس یہاں سے نکل جا۔ یقینا تو ذلیلوں میں سے ہے۔
عبدالسلام بن محمد
فرمایا پھر اس سے اتر جا، کیونکہ تیرے لیے یہ نہ ہوگا کہ تو اس میں تکبر کرے۔ سو نکل جا، یقینا تو ذلیل ہونے والوں میں سے ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نافرمانی کی سزا ٭٭

ابلیس کو اسی وقت حکم ملا کہ ”میری نافرمانی اور میری اطاعت سے رکنے کے باعث اب تو یہاں جنت میں رہ نہیں سکتا، یہاں سے اتر جا کیونکہ یہ جگہ تکبر کرنے کی نہیں۔“ بعض نے کہا ہے: «فیھا» کی ضمیر کا مرجع منزلت ہے یعنی جن ملکوت اعلی میں تو ہے، اس مرتبے میں کوئی سرکش رہ نہیں سکتا۔ جا یہاں سے چلا جا۔ تو اپنی سرکشی کے بدلے ذلیل و خوار ہستیوں میں شامل کر دیا گیا۔ تیری ضد اور ہٹ دھرمی کی یہی سزا ہے۔ اب لعین گھبرایا اور اللہ سے مہلت چاہنے لگا کہ مجھے قیامت تک کی ڈھیل دی جائے۔ چونکہ جناب باری جل جلالہ کی اس میں مصلحتیں اور حکمتیں تھیں، بھلے بروں کو دنیا میں ظاہر کرنا تھا اور اپنی حجت پوری کرنا تھی۔ اس ملعون کی اس درخواست کو منظور فرما لیا۔ اس حاکم پر کسی کی حکومت نہیں، اس کے سامنے بولنے کی کسی کو مجال نہیں، کوئی نہیں جو اس کے ارادے کو ٹال سکے، کوئی نہیں جو اس کے حکم کو بدل سکے۔ وہ سریع الحساب ہے۔
13۔ 1 مِنْھَا کی ضمیر کا مرجع اکثر مفسرین نے جنت قرار دیا اور بعض نے اس مرتبہ کو جو ملکوت اعلٰی میں اسے حاصل تھا۔ فاضل مترجم نے اسی دوسرے مفہوم کے مطابق آسان ترجمہ کیا ہے۔ نکل بیشک تو ذلیلوں میں سے ہے (2) 13۔ 2 اللہ کے حکم کے مقابلے میں تکبر کرنے والا احترام و تعظیم کا نہیں، ذلت اور خواری کا مستحق ہے۔
(آیت 13){فَمَا يَكُوْنُ لَكَ اَنْ تَتَكَبَّرَ فِيْهَا:} رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عزت اس کی ازار (نیچے کی چادر) ہے اور کبرائی (بڑائی) اس کی رداء (اوپر کی چادر) ہے جو ان میں سے ایک بھی مجھ سے چھیننے کی کوشش کرے گا میں اسے آگ میں پھینکوں گا۔“ [ مسلم، البر والصلۃ، باب تحریم الکبر: ۲۶۲۰، عن أبی ھریرۃ ] یعنی تکبر کے بعد جنت میں رہنے کا شرف تیرے پاس رہنا ممکن ہی نہیں۔ یہی حال ہر تکبر اور غرور والے کا ہو گا۔
قَالَ اَنۡظِرۡنِیۡۤ اِلٰی یَوۡمِ یُبۡعَثُوۡنَ ﴿۱۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
بولا، "مجھے اُس دن تک مہلت دے جب کہ یہ سب دوبارہ اٹھائے جائیں گے"
مولانا محمد جوناگڑھی
اس نے کہا کہ مجھ کو مہلت دیجئے قیامت کے دن تک
احمد رضا خان بریلوی
بولا مجھے فرصت دے اس دن تک کہ لوگ اٹھائے جائیں،
علامہ محمد حسین نجفی
کہا۔ مجھے اس دن تک مہلت دے جب سب لوگ دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اس نے کہا مجھے اس دن تک مہلت دے جب یہ اٹھائے جائیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نافرمانی کی سزا ٭٭

ابلیس کو اسی وقت حکم ملا کہ ”میری نافرمانی اور میری اطاعت سے رکنے کے باعث اب تو یہاں جنت میں رہ نہیں سکتا، یہاں سے اتر جا کیونکہ یہ جگہ تکبر کرنے کی نہیں۔“ بعض نے کہا ہے: «فیھا» کی ضمیر کا مرجع منزلت ہے یعنی جن ملکوت اعلی میں تو ہے، اس مرتبے میں کوئی سرکش رہ نہیں سکتا۔ جا یہاں سے چلا جا۔ تو اپنی سرکشی کے بدلے ذلیل و خوار ہستیوں میں شامل کر دیا گیا۔ تیری ضد اور ہٹ دھرمی کی یہی سزا ہے۔ اب لعین گھبرایا اور اللہ سے مہلت چاہنے لگا کہ مجھے قیامت تک کی ڈھیل دی جائے۔ چونکہ جناب باری جل جلالہ کی اس میں مصلحتیں اور حکمتیں تھیں، بھلے بروں کو دنیا میں ظاہر کرنا تھا اور اپنی حجت پوری کرنا تھی۔ اس ملعون کی اس درخواست کو منظور فرما لیا۔ اس حاکم پر کسی کی حکومت نہیں، اس کے سامنے بولنے کی کسی کو مجال نہیں، کوئی نہیں جو اس کے ارادے کو ٹال سکے، کوئی نہیں جو اس کے حکم کو بدل سکے۔ وہ سریع الحساب ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
قَالَ اِنَّکَ مِنَ الۡمُنۡظَرِیۡنَ ﴿۱۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
فرمایا، "تجھے مہلت ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ تعالیٰ نے فرمایا تجھ کو مہلت دی گئی
احمد رضا خان بریلوی
فرمایا تجھے مہلت ہے
علامہ محمد حسین نجفی
فرمایا: اچھا تو ان میں سے ہے جنہیں مہلت دی گئی ہے۔
عبدالسلام بن محمد
فرمایا بے شک تو مہلت دیے جانے والوں سے ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نافرمانی کی سزا ٭٭

ابلیس کو اسی وقت حکم ملا کہ ”میری نافرمانی اور میری اطاعت سے رکنے کے باعث اب تو یہاں جنت میں رہ نہیں سکتا، یہاں سے اتر جا کیونکہ یہ جگہ تکبر کرنے کی نہیں۔“ بعض نے کہا ہے: «فیھا» کی ضمیر کا مرجع منزلت ہے یعنی جن ملکوت اعلی میں تو ہے، اس مرتبے میں کوئی سرکش رہ نہیں سکتا۔ جا یہاں سے چلا جا۔ تو اپنی سرکشی کے بدلے ذلیل و خوار ہستیوں میں شامل کر دیا گیا۔ تیری ضد اور ہٹ دھرمی کی یہی سزا ہے۔ اب لعین گھبرایا اور اللہ سے مہلت چاہنے لگا کہ مجھے قیامت تک کی ڈھیل دی جائے۔ چونکہ جناب باری جل جلالہ کی اس میں مصلحتیں اور حکمتیں تھیں، بھلے بروں کو دنیا میں ظاہر کرنا تھا اور اپنی حجت پوری کرنا تھی۔ اس ملعون کی اس درخواست کو منظور فرما لیا۔ اس حاکم پر کسی کی حکومت نہیں، اس کے سامنے بولنے کی کسی کو مجال نہیں، کوئی نہیں جو اس کے ارادے کو ٹال سکے، کوئی نہیں جو اس کے حکم کو بدل سکے۔ وہ سریع الحساب ہے۔
15۔ 1 اللہ تعالیٰ نے اس کی خواہش کے مطابق اسے مہلت عطا فرما دی جو اس کی حکمت، ارادے اور مشیت کے مطابق تھی جس کا پورا علم اسی کو ہے۔ تاہم ایک حکمت یہ نظر آتی ہے کہ اس طرح اپنے بندوں کی آزمائش کرسکے گا کہ کون رحمان کا بندہ بنتا ہے اور کون شیطان کا پجاری۔
(آیت 15){قَالَ اِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِيْنَ:} شیطان نے مہلت تو قیامت تک کی مانگی مگر اﷲ تعالیٰ نے اسے اپنے علم میں طے شدہ وقت تک مہلت دی۔ دیکھیے سورۂ حجر (۳۸) اور سورۂ ص (۸۱) قیامت تک مہلت کی کہیں تصریح نہیں ہے۔ شیطان کو مہلت دینے سے مقصود بندوں کا امتحان ہے کہ وہ رحمان کی راہ پر چلتے ہیں یا شیطان کی۔
قَالَ فَبِمَاۤ اَغۡوَیۡتَنِیۡ لَاَقۡعُدَنَّ لَہُمۡ صِرَاطَکَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ﴿ۙ۱۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
بولا، "اچھا تو جس طرح تو نے مجھے گمراہی میں مبتلا کیا میں بھی اب تیری سیدھی راہ پر
مولانا محمد جوناگڑھی
اس نے کہا بسبب اس کے کہ آپ نے مجھ کو گمراه کیا ہے میں قسم کھاتا ہوں کہ میں ان کے لئے آپ کی سیدھی راه پر بیٹھوں گا
احمد رضا خان بریلوی
بولا تو قسم اس کی کہ تو نے مجھے گمراہ کیا میں ضرور تیرے سیدھے راستہ پر ان کی تاک میں بیٹھوں گا
علامہ محمد حسین نجفی
کہا چونکہ تو نے مجھے گمراہ کیا ہے تو اب میں تیرے سیدھے راستہ پر بیٹھوں گا۔
عبدالسلام بن محمد
اس نے کہا پھر اس وجہ سے کہ تو نے مجھے گمراہ کیا، میں ضرور ہی ان کے لیے تیرے سیدھے راستے پر بیٹھوں گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ابلیس کا طریقہ واردات اس کی اپنی زبانی ٭٭

ابلیس نے جب عہد الٰہی لے لیا تو اب بڑھ بڑھ کر باتیں بنانے لگا کہ جیسے تو نے میری راہ ماری، میں بھی اس کی اولاد کی راہ ماروں گا اور حق و نجات کے سیدھے راستے سے انہیں روکوں گا، تیری توحید سے بہکا کر تیری عبادت سے سب کو ہٹا دوں گا۔ بعض نحوی کہتے ہیں کہ «فَبِمَا» میں «با» قسم کے لیے ہے یعنی مجھے قسم ہے، میں اپنی بربادی کے مقابلہ میں اس کی اولاد کو برباد کر کے رہوں گا۔ عون بن عبداللہ کہتے ہیں: میں مکے کے راستے میں بیٹھ جاؤں گا لیکن صحیح یہی ہے کہ نیکی کے ہر راستے پر۔

چنانچہ مسند احمد کی مرفوع حدیث میں ہے کہ { شیطان ابن آدم کی تمام راہوں میں بیٹھتا ہے۔ وہ اسلام کی راہ میں رکاوٹ بننے کے لئے اسلام لانے والے کے دل میں وسوسے پیدا کرتا ہے کہ تو اپنے اور اپنے باپ دادا کے دین کو کیوں چھوڑتا ہے۔ اللہ کو اگر بہتری منظور ہوتی ہے تو وہ اس کی باتوں میں نہیں آتا اور اسلام قبول کر لیتا ہے۔ ہجرت کی راہ سے روکنے کیلئے آڑے آتا ہے اور اسے کہتا ہے کہ تو اپنے وطن کو کیوں چھوڑتا ہے؟ اپنی زمین و آسمان سے کیوں الگ ہوتا ہے؟ غربت و بےکسی کی زندگی اختیار کرتا ہے؟ لیکن مسلمان اس کے بہکاوے میں نہیں آتا اور ہجرت کر گزرتا ہے۔ پھر جہاد کی روک کے لیے آتا ہے اور جہاد مال سے ہے اور جان سے۔ اس سے کہتا ہے کہ تو کیوں جہاد میں جاتا ہے؟ وہاں قتل کر دیا جائے گا، پھر تیری بیوی دوسرے کے نکاح میں چلی جائے گی، تیرا مال اوروں کے قبضے میں چلا جائے گا لیکن مسلمان اس کی نہیں مانتا اور جہاد میں قدم رکھ دیتا ہے۔ پس ایسے لوگوں کا اللہ پر حق ہے کہ وہ انہیں جنت میں لے جائے گو وہ جانور سے گر کر ہی مر جائیں۔ } ۱؎ [مسند احمد:483/3:حسن] ‏‏‏‏ اس دوسری آیت کی تفسیر میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ آگے سے آنے کا مطلب آخرت کے معاملہ میں شک و شبہ میں پیدا کرنا ہے۔ دوسرے جملے کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کی رغبتیں دلاؤں گا۔ دائیں طرف سے آنا، امر دین کو مشکوک کرنا ہے۔ بائیں طرف سے آنا، گناہوں کو لذیذ بنانا ہے۔ شیطانوں کا یہی کام ہے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ شیطان کہتا ہے: میں ان کی دنیا و آخرت، نیکیاں، بھلائیاں سب تباہ کر دینے کی کوشش میں رہوں گا اور برائیوں کی طرف ان کی رہبری کروں گا۔ وہ سامنے سے آ کر کہتا ہے کہ جنت، دوزخ، قیامت کوئی چیز نہیں۔ وہ پشت کی جانب سے آ کر کہتا ہے: دیکھ دنیا کس قدر زینت دار ہے۔ وہ دائیں سے آ کر کہتا ہے: خبردار نیکی کی راہ بہت کٹھن ہے۔ وہ بائیں سے آ کر کہتا ہے: دیکھ گناہ کس قدر لذیذ ہیں۔ پس ہر طرف سے آ کر ہر طرح بہکاتا ہے۔ ہاں! یہ اللہ کا کرم ہے کہ وہ اوپر کی طرف سے نہیں آ سکتا۔ اللہ کے اور بندے کے درمیان حائل ہو کر رحمت الٰہی کو روک نہیں بن سکتا۔ پس سامنے یعنی دنیا اور پیچھے یعنی آخرت اور دائیں یعنی اس طرح کی دیکھیں اور بائیں یعنی اس طرح نہ دیکھ سکیں، یہ سبب اقوال ٹھیک ہیں۔

امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مطلب یہ ہے کہ تمام خیر کے کاموں سے روکتا ہے اور شر کے تمام کام سمجھا جاتا ہے، اوپر کی سمت کا نام آیت میں نہیں۔ وہ سمت رحمت رب کے آنے کیلئے خالی ہے، وہاں شیطان کی روک نہیں۔ وہ کہتا ہے کہ اکثروں کو تو شاکر نہیں پائے گا یعنی موحد۔ ابلیس کو یہ وہم ہی وہم تھا لیکن نکلا مطابق واقعہ۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَلَقَدْ صَدَّقَ عَلَيْهِمْ إِبْلِيسُ ظَنَّهُ فَاتَّبَعُوهُ إِلاَّ فَرِيقاً مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ ـ وَمَا كَانَ لَهُ عَلَيْهِمْ مِّن سُلْطَـنٍ إِلاَّ لِنَعْلَمَ مَن يُؤْمِنُ بِالاٌّخِرَةِ مِمَّنْ هُوَ مِنْهَا فِى شَكٍّ وَرَبُّكَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ حَفُيظٌ» ۱؎ [34-سبأ:20-21] ‏‏‏‏ یعنی ’ ابلیس نے اپنا گمان پورا کر دکھایا۔ سوائے مومنوں کی پاکباز جماعت کے اور لوگ اس کے مطیع بن گئے حالانکہ شیطان کی کچھ حکومت تو ان پر نہ تھی مگر ہاں! ہم صحیح طور سے ایمان رکھنے والوں کو اور شکی لوگوں کو الگ الگ کر دینا چاہتے تھے۔ تیرا رب ہر چیز کا حافظ ہے۔ ‘ مسند بزار کی ایک حدیث میں ہر طرف سے پناہ مانگنے کی ایک دعا آئی ہے۔ الفاظ یہ ہیں «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي دِينِي وَدُنْيَايَ وَأَهْلِي وَمَالِي، اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِي وَآمِنْ رَوْعَاتِي، اللَّهُمَّ احْفَظْنِي مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ وَمِنْ خَلْفِي وَعَنْ يَمِينِي وَعَنْ شِمَالِي وَمِنْ فَوْقِي وَأَعُوذُ بِعَظَمتِكَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِي» ۱؎ [طبرانی فی الدعا:1297:ضعیف] ‏‏‏‏ مسند احمد میں { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر صبح و شام اس دعا کو پڑھتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ» } اس کے بعد کی دعا کے کچھ فرق سے تقریباً وہی الفاظ ہیں جو اوپر مذکور ہوئے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:5074، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏
16۔ 1 گمراہ تو اللہ کی تکوینی مشیت کے تحت ہوا۔ لیکن اس نے اسے بھی مشرکوں کی طرح الزام بنا لیا، جس طرح وہ کہتے تھے کہ اگر اللہ چاہتا تو ہم شرک نہ کرتے۔
(آیت 16) ➊ { قَالَ فَبِمَاۤ اَغْوَيْتَنِيْ:} ابلیس کی شیطنت دیکھیے کہ گمراہ ہونے میں سارا قصور اﷲ تعالیٰ کے ذمے لگا دیا ہے اور اپنے اختیار کی نفی کر رہا ہے، یہی جبریہ کا عقیدہ ہے اور مشرکین نے بھی اﷲ تعالیٰ کے ذمے یہی الزام لگایا کہ اگر وہ چاہتا تو ہم شرک نہ کرتے۔ [ دیکھیے الأنعام: ۱۴۸ ] ➋ { لَاَقْعُدَنَّ لَهُمْ:} یعنی میں تو گمراہ ہوں ہی ان کی بھی راہ ماروں گا۔ (موضح) یہاں شیطان جبری کے بجائے قدری بن گیا کہ میں یہ کروں گا اور وہ کروں گا، پہلے کہتا تھا کہ سب تو نے ہی کیا۔ معلوم ہوا شیطان میں جبری اور قدری (تقدیر کا منکر) ہونے کی دونوں گمراہیاں موجود ہیں، جبکہ ایمان ان دونوں کے درمیان ہے۔
ثُمَّ لَاٰتِیَنَّہُمۡ مِّنۡۢ بَیۡنِ اَیۡدِیۡہِمۡ وَ مِنۡ خَلۡفِہِمۡ وَ عَنۡ اَیۡمَانِہِمۡ وَ عَنۡ شَمَآئِلِہِمۡ ؕ وَ لَا تَجِدُ اَکۡثَرَہُمۡ شٰکِرِیۡنَ ﴿۱۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اِن انسانوں کی گھات میں لگا رہوں گا، آگے اور پیچھے، دائیں اور بائیں، ہر طرف سے اِن کو گھیروں گا اور تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا"
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر ان پر حملہ کروں گا ان کے آگے سے بھی اور ان کے پیچھے سے بھی اور ان کی داہنی جانب سے بھی اور ان کی بائیں جانب سے بھی اور آپ ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائیے گا
احمد رضا خان بریلوی
پھر ضرور میں ان کے پاس آؤں گا ان کے آگے اور ان کے پیچھے او ر ان کے دائیں اور ان کے بائیں سے اور تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا
علامہ محمد حسین نجفی
پھر میں ان کے آگے کی طرف سے اور ان کے پیچھے کی جانب سے اور ان کی دائیں طرف سے اور ان کی بائیں طرف سے آؤں گا (اور انہیں ورغلاؤں گا) اور تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہیں پائے گا۔
عبدالسلام بن محمد
پھر میں ہر صورت ان کے آگے سے اور ان کے پیچھے سے اور ان کی دائیں طرفوں سے اور ان کی بائیں طرفوں سے آئوں گا اور تو ان کے اکثر کو شکر کرنے والے نہیں پائے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ابلیس کا طریقہ واردات اس کی اپنی زبانی ٭٭

ابلیس نے جب عہد الٰہی لے لیا تو اب بڑھ بڑھ کر باتیں بنانے لگا کہ جیسے تو نے میری راہ ماری، میں بھی اس کی اولاد کی راہ ماروں گا اور حق و نجات کے سیدھے راستے سے انہیں روکوں گا، تیری توحید سے بہکا کر تیری عبادت سے سب کو ہٹا دوں گا۔ بعض نحوی کہتے ہیں کہ «فَبِمَا» میں «با» قسم کے لیے ہے یعنی مجھے قسم ہے، میں اپنی بربادی کے مقابلہ میں اس کی اولاد کو برباد کر کے رہوں گا۔ عون بن عبداللہ کہتے ہیں: میں مکے کے راستے میں بیٹھ جاؤں گا لیکن صحیح یہی ہے کہ نیکی کے ہر راستے پر۔

چنانچہ مسند احمد کی مرفوع حدیث میں ہے کہ { شیطان ابن آدم کی تمام راہوں میں بیٹھتا ہے۔ وہ اسلام کی راہ میں رکاوٹ بننے کے لئے اسلام لانے والے کے دل میں وسوسے پیدا کرتا ہے کہ تو اپنے اور اپنے باپ دادا کے دین کو کیوں چھوڑتا ہے۔ اللہ کو اگر بہتری منظور ہوتی ہے تو وہ اس کی باتوں میں نہیں آتا اور اسلام قبول کر لیتا ہے۔ ہجرت کی راہ سے روکنے کیلئے آڑے آتا ہے اور اسے کہتا ہے کہ تو اپنے وطن کو کیوں چھوڑتا ہے؟ اپنی زمین و آسمان سے کیوں الگ ہوتا ہے؟ غربت و بےکسی کی زندگی اختیار کرتا ہے؟ لیکن مسلمان اس کے بہکاوے میں نہیں آتا اور ہجرت کر گزرتا ہے۔ پھر جہاد کی روک کے لیے آتا ہے اور جہاد مال سے ہے اور جان سے۔ اس سے کہتا ہے کہ تو کیوں جہاد میں جاتا ہے؟ وہاں قتل کر دیا جائے گا، پھر تیری بیوی دوسرے کے نکاح میں چلی جائے گی، تیرا مال اوروں کے قبضے میں چلا جائے گا لیکن مسلمان اس کی نہیں مانتا اور جہاد میں قدم رکھ دیتا ہے۔ پس ایسے لوگوں کا اللہ پر حق ہے کہ وہ انہیں جنت میں لے جائے گو وہ جانور سے گر کر ہی مر جائیں۔ } ۱؎ [مسند احمد:483/3:حسن] ‏‏‏‏ اس دوسری آیت کی تفسیر میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ آگے سے آنے کا مطلب آخرت کے معاملہ میں شک و شبہ میں پیدا کرنا ہے۔ دوسرے جملے کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کی رغبتیں دلاؤں گا۔ دائیں طرف سے آنا، امر دین کو مشکوک کرنا ہے۔ بائیں طرف سے آنا، گناہوں کو لذیذ بنانا ہے۔ شیطانوں کا یہی کام ہے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ شیطان کہتا ہے: میں ان کی دنیا و آخرت، نیکیاں، بھلائیاں سب تباہ کر دینے کی کوشش میں رہوں گا اور برائیوں کی طرف ان کی رہبری کروں گا۔ وہ سامنے سے آ کر کہتا ہے کہ جنت، دوزخ، قیامت کوئی چیز نہیں۔ وہ پشت کی جانب سے آ کر کہتا ہے: دیکھ دنیا کس قدر زینت دار ہے۔ وہ دائیں سے آ کر کہتا ہے: خبردار نیکی کی راہ بہت کٹھن ہے۔ وہ بائیں سے آ کر کہتا ہے: دیکھ گناہ کس قدر لذیذ ہیں۔ پس ہر طرف سے آ کر ہر طرح بہکاتا ہے۔ ہاں! یہ اللہ کا کرم ہے کہ وہ اوپر کی طرف سے نہیں آ سکتا۔ اللہ کے اور بندے کے درمیان حائل ہو کر رحمت الٰہی کو روک نہیں بن سکتا۔ پس سامنے یعنی دنیا اور پیچھے یعنی آخرت اور دائیں یعنی اس طرح کی دیکھیں اور بائیں یعنی اس طرح نہ دیکھ سکیں، یہ سبب اقوال ٹھیک ہیں۔

امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مطلب یہ ہے کہ تمام خیر کے کاموں سے روکتا ہے اور شر کے تمام کام سمجھا جاتا ہے، اوپر کی سمت کا نام آیت میں نہیں۔ وہ سمت رحمت رب کے آنے کیلئے خالی ہے، وہاں شیطان کی روک نہیں۔ وہ کہتا ہے کہ اکثروں کو تو شاکر نہیں پائے گا یعنی موحد۔ ابلیس کو یہ وہم ہی وہم تھا لیکن نکلا مطابق واقعہ۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَلَقَدْ صَدَّقَ عَلَيْهِمْ إِبْلِيسُ ظَنَّهُ فَاتَّبَعُوهُ إِلاَّ فَرِيقاً مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ ـ وَمَا كَانَ لَهُ عَلَيْهِمْ مِّن سُلْطَـنٍ إِلاَّ لِنَعْلَمَ مَن يُؤْمِنُ بِالاٌّخِرَةِ مِمَّنْ هُوَ مِنْهَا فِى شَكٍّ وَرَبُّكَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ حَفُيظٌ» ۱؎ [34-سبأ:20-21] ‏‏‏‏ یعنی ’ ابلیس نے اپنا گمان پورا کر دکھایا۔ سوائے مومنوں کی پاکباز جماعت کے اور لوگ اس کے مطیع بن گئے حالانکہ شیطان کی کچھ حکومت تو ان پر نہ تھی مگر ہاں! ہم صحیح طور سے ایمان رکھنے والوں کو اور شکی لوگوں کو الگ الگ کر دینا چاہتے تھے۔ تیرا رب ہر چیز کا حافظ ہے۔ ‘ مسند بزار کی ایک حدیث میں ہر طرف سے پناہ مانگنے کی ایک دعا آئی ہے۔ الفاظ یہ ہیں «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي دِينِي وَدُنْيَايَ وَأَهْلِي وَمَالِي، اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِي وَآمِنْ رَوْعَاتِي، اللَّهُمَّ احْفَظْنِي مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ وَمِنْ خَلْفِي وَعَنْ يَمِينِي وَعَنْ شِمَالِي وَمِنْ فَوْقِي وَأَعُوذُ بِعَظَمتِكَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِي» ۱؎ [طبرانی فی الدعا:1297:ضعیف] ‏‏‏‏ مسند احمد میں { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر صبح و شام اس دعا کو پڑھتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ» } اس کے بعد کی دعا کے کچھ فرق سے تقریباً وہی الفاظ ہیں جو اوپر مذکور ہوئے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:5074، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏
17۔ 1 مطلب یہ ہے کہ ہر خیر اور شر کے راستے پر بیٹھوں گا۔ خیر سے روکوں گا اور شر کو ان کی نظروں میں پسندیدہ بنا کر ان کو اختیار کرنے کی ترغیب دوں گا۔ 17۔ 2 شاکرین کے دوسرے معنی موحدین کے کیے گئے ہیں۔ یعنی اکثر لوگوں کو میں شرک میں مبتلا کر دوں گا۔ شیطان نے اپنا یہ گمان فی الواقع سچا کر دکھایا، (وَلَقَدْ صَدَّقَ عَلَيْهِمْ اِبْلِيْسُ ظَنَّهٗ فَاتَّبَعُوْهُ اِلَّا فَرِيْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِيْنَ) 34۔ سبأ:20) شیطان نے اپنا گمان سچا کر دکھایا، اور مومنوں کے ایک گروہ کو چھوڑ کر سب لوگ اس کے پیچھے لگ گئے۔ اسی لئے حدیث میں شیطان سے پناہ مانگنے اور قرآن میں اس کے مکر و کید سے بچنے کی بڑی تاکید آئی ہے۔
(آیت 17) ➊ {ثُمَّ لَاٰتِيَنَّهُمْ مِّنْۢ بَيْنِ اَيْدِيْهِمْ ……:} اسی لیے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے شیطان اور دوسری تمام آفات سے تمام اطراف سے پناہ مانگنے کی تعلیم دی ہے، چنانچہ عبد اﷲ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ صبح و شام یہ کلمات پڑھا کرتے تھے اور کبھی ان میں ناغہ نہیں کرتے تھے: [ اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَسْئَلُكَ الْعَفْوَ وَاْلعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَسْئَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِيْ دِيْنِيْ وَ دُنْيَايَ وَأَهْلِيْ وَمَالِيْ، اَللّٰهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِي وَآمِنْ رَّوْعَاتِي، اَللّٰهُمَّ احْفَظْنِيْ مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ وَ مِنْ خَلْفِيْ وَعَنْ يَّمِيْنِيْ وَعَنْ شِمَالِيْ وَمِنْ فَوْقِيْ وَاَعُوْذُ بِعَظْمَتِكَ اَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِيْ ] [ أحمد: 25/2، ح: ۴۸۸۴۔ أبو داوٗد، الأدب، باب ما یقول إذا أصبح: ۵۰۷۴ ] ”اے اﷲ! میں تجھ سے دنیا اور آخرت میں معافی اور عافیت کا سوال کرتا ہوں، اے اﷲ! میں تجھ سے اپنے دین میں اور اپنی دنیا میں اور اپنے اہل میں اور مال میں معافی اور عافیت کا سوال کرتا ہوں۔ اے اﷲ! تو میری پردے والی چیزوں پر پردہ ڈال دے اور میری گھبراہٹوں کو امن عطا فرما۔ اے اﷲ! میری حفاظت فرما میرے آگے سے اور میرے پیچھے سے اور میرے دائیں سے اور میرے بائیں سے اور میرے اوپر سے اور میں تیری عظمت کی پناہ چاہتا ہوں کہ میں اپنے نیچے سے اچانک پکڑ لیا جاؤں۔“ ➋ {وَ لَا تَجِدُ اَكْثَرَهُمْ شٰكِرِيْنَ:} ابلیس کو غیب کی خبر تو نہ تھی محض گمان پر اس نے یہ دعویٰ کر دیا مگر ظالم نے اپنا یہ گمان واقعی سچا کر دکھایا، جیسا کہ سورۂ سبا (۲۰) میں ہے۔
قَالَ اخۡرُجۡ مِنۡہَا مَذۡءُوۡمًا مَّدۡحُوۡرًا ؕ لَمَنۡ تَبِعَکَ مِنۡہُمۡ لَاَمۡلَـَٔنَّ جَہَنَّمَ مِنۡکُمۡ اَجۡمَعِیۡنَ ﴿۱۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
فرمایا، " نکل جا یہاں سے ذلیل اور ٹھکرایا ہوا یقین رکھ کہ اِن میں سے جو تیری پیروی کریں گے، تجھ سمیت ان سب سے جہنم کو بھر دوں گا
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہاں سے ذلیل وخوار ہوکر نکل جا جو شخص ان میں سے تیرا کہنا مانے گا میں ضرور تم سب سے جہنم کو بھردوں گا
احمد رضا خان بریلوی
فرمایا یہاں سے نکل جا رد کیا گیا راندہ ہوا، ضرور جو اُن میں سے تیرے کہے پر چلا میں تم سب سے جہنم بھردوں گا
علامہ محمد حسین نجفی
فرمایا: ذلیل اور راندہ ہوکر یہاں سے نکل جا میں تجھے اور اسے جو ان میں سے تیری پیروی کرے گا تم سب سے جہنم بھر دوں گا۔
عبدالسلام بن محمد
فرمایا اس سے نکل جا، مذمت کیا ہوا ، دھتکارا ہوا، بے شک ان میں سے جو تیرے پیچھے چلے گا میں ضرور ہی جہنم کو تم سب سے بھروں گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالیٰ کے نافرمان جہنم کا ایندھن ہیں ٭٭

اس پر اللہ کی لعنت نازل ہوتی ہے، رحمت سے دور کر دیا جاتا ہے۔ فرشتوں کی جماعت سے الگ کر دیا جاتا ہے۔ عیب دار کر کے اتار دیا جاتا ہے۔ لفظ «مَذْءُومًا» ماخوذ ہے، «ذام» اور «ذیم» سے۔ یہ لفظ بہ نسبت لفظ «ذم» کے زیادہ مبالغے والا ہے، پس اس کے معنی عیب دار کے ہوئے اور «مَّدْحُورً» کے معنی دور کئے ہوئے کے ہیں۔ مقصد دونوں سے ایک ہی ہے۔ پس یہ ذلیل ہو کر اللہ کے غضب میں مبتلا ہو کر نیچے اتار دیا گیا۔ اللہ کی لعنت اس پر نازل ہوئی اور نکال دیا گیا۔ اور فرمایا گیا کہ تو اور تیرے ماننے والے سب کے سب جہنم کا ایندھن ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے «قَالَ اذْهَبْ فَمَن تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزَآؤُكُمْ جَزَاءً مَّوفُورًا ـ وَاسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْهُمْ بِصَوْتِكَ وَأَجْلِبْ عَلَيْهِم بِخَيْلِكَ وَرَجِلِكَ وَشَارِكْهُمْ فِى الاٌّمْوَلِ وَالاٌّوْلَـدِ وَعِدْهُمْ وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيْطَـنُ إِلاَّ غُرُورًا ـ إِنَّ عِبَادِى لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَـنٌ وَكَفَى بِرَبِّكَ وَكِيلاً» ۱؎ [17-الإسراء:63-65] ‏‏‏‏ ’ تمہاری سب کی سزا جہنم ہے تو جس طرح چاہ انہیں بہکا لیکن اس سے مایوس ہو جا کہ میرے خاص بندے تیرے وسوسوں میں آ جائیں ان کا وکیل میں آپ ہوں۔ ‘
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَ یٰۤاٰدَمُ اسۡکُنۡ اَنۡتَ وَ زَوۡجُکَ الۡجَنَّۃَ فَکُلَا مِنۡ حَیۡثُ شِئۡتُمَا وَ لَا تَقۡرَبَا ہٰذِہِ الشَّجَرَۃَ فَتَکُوۡنَا مِنَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۱۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور اے آدمؑ، تو اور تیری بیوی، دونوں اس جنت میں رہو، جہاں جس چیز کو تمہارا جی چاہے کھاؤ، مگر اس درخت کے پاس نہ پھٹکنا ورنہ ظالموں میں سے ہو جاؤ گے"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہم نے حکم دیا کہ اے آدم! تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو۔ پھر جس جگہ سے چاہو دونوں کھاؤ، اور اس درخت کے پاس مت جاؤ ورنہ تم دونوں ﻇالموں میں سے ہوجاؤ گے
احمد رضا خان بریلوی
اور اے آدم تو اور تیرا جوڑا جنت میں رہو تو اُس سے جہاں چاہو کھاؤ اور اس پیڑ کے پاس نہ جانا کہ حد سے بڑھنے والوں میں ہو گے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اے آدم(ع)! تم اور تمہاری بیوی دونوں اس بہشت میں رہو۔ اور جہاں سے چاہو (اور جو چیز دل چاہے) کھاؤ۔ مگر اس درخت کے پاس نہ جانا۔ ورنہ ظالموں میں سے ہو جاؤگے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اے آدم ! تو اور تیری بیوی اس جنت میں رہو، پس دونوں کھائو جہاں سے چاہو اور اس درخت کے قریب مت جائو کہ دونوں ظالموں سے ہو جاؤ گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پہلا امتحان اور اسی میں لغزش اور اس کا انجام ٭٭

ابلیس کو نکال کر آدم و حواء علیہم السلام کو جنت میں پہنچا دیا گیا اور بجز ایک درخت کے، انہیں ساری جنت کی چیزیں کھانے کی رخصت دے دی گئی۔ اس کا تفصیلی بیان سورۃ البقرہ کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔ شیطان کو اس سے بڑا ہی حسد ہوا، ان کی نعمتوں کو دیکھ کر لعین جل گیا اور ٹھان لی کہ جس طرح سے ہو، انہیں بہکا کر اللہ کے خلاف کرا دوں۔ چنانچہ جھوٹ، افتراء باندھ کر ان سے کہنے لگا کہ دیکھو یہ درخت وہ ہے جس کے کھانے سے تم فرشتے بن جاؤ گے اور ہمیشہ کی زندگی اسی جنت میں پاؤ گے۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ ابلیس نے کہا: میں تمہیں ایک درخت کا پتہ دیتا ہوں جس سے تمہیں بقاء اور ہمیشگی والا ملک مل جائے گا۔ یہاں ہے کہ ان سے کہا: تمہیں اس درخت سے اس لیے روکا گیا ہے کہ کہیں تم فرشتے نہ بن جاؤ۔ جیسے فرمان ہے «يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ أَن تَضِلُّواْ» ۱؎ [4-النساء:176] ‏‏‏‏ مطلب یہ ہے کہ «أَن لَّا تَضِلُّواْ» اور آیت میں ہے «وَأَلْقَى فِى الاٌّرْضِ رَوَاسِىَ أَن تَمِيدَ بِكُمْ» ۱؎ [16-النحل:15] ‏‏‏‏ «أَن تَمِيدَ بِكُمْ» یہاں بھی یہی مطلب ہے۔ «مَلَكَيْنِ» کی دوسری قرأت «مَلِكَيْنِ» بھی ہے لیکن جمہور کی قرأت «لام» کے زبر کے ساتھ ہے۔ پھر اپنا اعتبار جمانے کیلئے قسمیں کھانے لگا کہ دیکھو میری بات کو سچ مانو، میں تمہارا خیرخواہ ہوں۔ تم سے پہلے سے ہی یہاں رہتا ہوں، ہر ایک چیز کے خواص سے واقف ہوں۔ تم اسے کھا لو، بس پھر یہیں رہو گے بلکہ فرشتے بن جاؤ گے۔ «قَاسَمَ» گو باب «مفاعلہ» سے ہے اور اس کی خاصیت طرفین کی مشارکت ہے لیکن یہاں یہ خاصیت نہیں ہے۔ ایسے اشعار بھی ہیں جہاں «قَاسَمَ» آیا ہے اور صرف ایک طرف کے لیے۔ اس قسم کی وجہ سے اس خبیث کے بہکاوے میں آدم علیہ السلام آ گئے۔ سچ ہے! مومن اس وقت دھوکا کھا جاتا ہے جب کوئی ناپاک انسان اللہ کو بیچ میں دیتا ہے۔ چنانچہ سلف کا قول ہے کہ ہم اللہ کے نام کے بعد اپنے ہتھیار ڈال دیا کرتے ہیں۔
19۔ 1 یعنی صرف اس درخت کو چھوڑ کر جہاں سے اور جتنا چاہو کھاؤ۔ ایک درخت کا پھل کھانے کی پابندی آزمائش کے طور عائد کی۔
(آیت 19) {وَ يٰۤاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُكَ الْجَنَّةَ ……:} اس کی تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورۂ بقرہ (۳۵)۔
فَوَسۡوَسَ لَہُمَا الشَّیۡطٰنُ لِیُبۡدِیَ لَہُمَا مَا وٗرِیَ عَنۡہُمَا مِنۡ سَوۡاٰتِہِمَا وَ قَالَ مَا نَہٰکُمَا رَبُّکُمَا عَنۡ ہٰذِہِ الشَّجَرَۃِ اِلَّاۤ اَنۡ تَکُوۡنَا مَلَکَیۡنِ اَوۡ تَکُوۡنَا مِنَ الۡخٰلِدِیۡنَ ﴿۲۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر شیطان نے اُن کو بہکایا تاکہ ان کی شرمگاہیں جو ایک دوسرے سے چھپائی گئی تھیں ان کے سامنے کھول دے اس نے ان سے کہا، "تمہارے رب نے تمہیں جو اس درخت سے روکا ہے اس کی وجہ اِس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ کہیں تم فرشتے نہ بن جاؤ، یا تمہیں ہمیشگی کی زندگی حاصل نہ ہو جائے
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر شیطان نے ان دونوں کے دلوں میں وسوسہ ڈاﻻ تاکہ ان کی شرمگاہیں جو ایک دوسرے سے پوشیده تھیں دونوں کے روبرو بے پرده کردے اور کہنے لگا کہ تمہارے رب نے تم دونوں کو اس درخت سے اور کسی سبب سے منع نہیں فرمایا، مگر محض اس وجہ سے کہ تم دونوں کہیں فرشتے ہوجاؤ یا کہیں ہمیشہ زنده رہنے والوں میں سے ہوجاؤ
احمد رضا خان بریلوی
پھر شیطان نے ان کے جی میں خطرہ ڈالا کہ ان پر کھول دے ان کی شرم کی چیزیں جو ان سے چھپی تھیں اور بولا تمہیں تمہارے رب نے اس پیڑ سے اسی لیے منع فرمایا ہے کہ کہیں تم دو فرشتے ہوجاؤ یا ہمیشہ جینے والے
علامہ محمد حسین نجفی
تو شیطان نے جھوٹی قسم کھا کر ان دونوں کو وسوسہ میں ڈالا۔ تاکہ ان کے وہ ستر والے مقام جو ایک دوسرے سے پوشیدہ تھے ظاہر کر دے اور کہا کہ تمہارے پروردگار نے تمہیں صرف اس لئے اس درخت سے روکا ہے کہ کہیں فرشتے نہ بن جاؤ یا ہمیشہ زندہ رہنے والوں میں سے نہ ہو جاؤ۔
عبدالسلام بن محمد
پھر شیطان نے ان دونوں کے لیے وسوسہ ڈالا، تاکہ ان کے لیے ظاہر کر دے جو کچھ ان کی شرم گاہوں میں سے ان سے چھپایا گیا تھا اور اس نے کہا تم دونوں کے رب نے تمھیں اس درخت سے منع نہیں کیا مگر اس لیے کہ کہیں تم دونوں فرشتے بن جاؤ، یا ہمیشہ رہنے والوں میں سے ہو جاؤ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پہلا امتحان اور اسی میں لغزش اور اس کا انجام ٭٭

ابلیس کو نکال کر آدم و حواء علیہم السلام کو جنت میں پہنچا دیا گیا اور بجز ایک درخت کے، انہیں ساری جنت کی چیزیں کھانے کی رخصت دے دی گئی۔ اس کا تفصیلی بیان سورۃ البقرہ کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔ شیطان کو اس سے بڑا ہی حسد ہوا، ان کی نعمتوں کو دیکھ کر لعین جل گیا اور ٹھان لی کہ جس طرح سے ہو، انہیں بہکا کر اللہ کے خلاف کرا دوں۔ چنانچہ جھوٹ، افتراء باندھ کر ان سے کہنے لگا کہ دیکھو یہ درخت وہ ہے جس کے کھانے سے تم فرشتے بن جاؤ گے اور ہمیشہ کی زندگی اسی جنت میں پاؤ گے۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ ابلیس نے کہا: میں تمہیں ایک درخت کا پتہ دیتا ہوں جس سے تمہیں بقاء اور ہمیشگی والا ملک مل جائے گا۔ یہاں ہے کہ ان سے کہا: تمہیں اس درخت سے اس لیے روکا گیا ہے کہ کہیں تم فرشتے نہ بن جاؤ۔ جیسے فرمان ہے «يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ أَن تَضِلُّواْ» ۱؎ [4-النساء:176] ‏‏‏‏ مطلب یہ ہے کہ «أَن لَّا تَضِلُّواْ» اور آیت میں ہے «وَأَلْقَى فِى الاٌّرْضِ رَوَاسِىَ أَن تَمِيدَ بِكُمْ» ۱؎ [16-النحل:15] ‏‏‏‏ «أَن تَمِيدَ بِكُمْ» یہاں بھی یہی مطلب ہے۔ «مَلَكَيْنِ» کی دوسری قرأت «مَلِكَيْنِ» بھی ہے لیکن جمہور کی قرأت «لام» کے زبر کے ساتھ ہے۔ پھر اپنا اعتبار جمانے کیلئے قسمیں کھانے لگا کہ دیکھو میری بات کو سچ مانو، میں تمہارا خیرخواہ ہوں۔ تم سے پہلے سے ہی یہاں رہتا ہوں، ہر ایک چیز کے خواص سے واقف ہوں۔ تم اسے کھا لو، بس پھر یہیں رہو گے بلکہ فرشتے بن جاؤ گے۔ «قَاسَمَ» گو باب «مفاعلہ» سے ہے اور اس کی خاصیت طرفین کی مشارکت ہے لیکن یہاں یہ خاصیت نہیں ہے۔ ایسے اشعار بھی ہیں جہاں «قَاسَمَ» آیا ہے اور صرف ایک طرف کے لیے۔ اس قسم کی وجہ سے اس خبیث کے بہکاوے میں آدم علیہ السلام آ گئے۔ سچ ہے! مومن اس وقت دھوکا کھا جاتا ہے جب کوئی ناپاک انسان اللہ کو بیچ میں دیتا ہے۔ چنانچہ سلف کا قول ہے کہ ہم اللہ کے نام کے بعد اپنے ہتھیار ڈال دیا کرتے ہیں۔
20۔ 1 وسوسہ اور وسو اس زلزلہ اور زلزال کے وزن پر ہے شیطان دل میں جو بری باتیں ڈالتا ہے، اس کو وسوسہ کہا جاتا ہے۔ 20۔ 1 یعنی شیطان کا مقصد اس بہکاوے سے حضرت آدم و حوا کو اس لباس جنت سے محروم کرکے انہیں شرمندہ کرنا تھا، جو انہیں جنت میں پہننے کے لئے دیا گیا تھا شرم گاہ کو سَوْءَۃ، ُ سے اس لئے تعبیر کیا گیا ہے کہ اس کے ظاہر ہونے کو برا سمجھا جاتا ہے۔
(آیت 20) ➊ {لِيُبْدِيَ لَهُمَا:} بعض علمائے تفسیر نے لکھا ہے کہ {” لِيُبْدِيَ “} میں ”لام“ عاقبت کا ہے، یعنی شیطان کے دل میں نہیں تھا کہ وہ ننگے ہو جائیں مگر ایسا کرنے کا انجام یہی تھا، لیکن زیادہ صحیح یہی ہے کہ یہ ”لام“ تعلیل کا ہے اور اس کی غرض یہی تھی اور اسے معلوم تھا کہ درخت کھانے کا نتیجہ کیا ہو گا۔ شرم گاہ کو {” سوء ة “} اس لیے کہتے ہیں کہ اس کا ننگا ہونا انسان کو طبعاً برا لگتا ہے اور {”سَاءَ يَسُوْءُ “} کا معنی برا لگنا ہے، گویا ان کو جنت کا جو لباس پہنایا گیا تھا، جس سے ان کی شرم گاہیں چھپی ہوئی تھیں، وہ ممنوعہ درخت کھانے سے اتر جانا تھا۔ اﷲ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پہلے ہی جنت کی چار خصوصی سہولتیں بتائی تھیں۔ جن میں سے ایک یہ تھی کہ تو جنت میں ننگا نہیں ہو گا اور ساتھ ہی بتا دیا تھا کہ ممنوعہ درخت کھانے سے یہ سہولتیں چھن جائیں گی، اس لیے یہ بات آدم علیہ السلام کو بھی معلوم تھی، مگر شیطان کے قسم کھانے سے بھول گئے۔ ان سہولتوں کے لیے دیکھیے سورۂ طٰہٰ (۱۱۸، ۱۱۹) ➋ { ” وٗرِيَ “} یہ {” وَارٰي يُوَارِيْ مُوَارَاةً “} (مفاعلہ) سے ماضی مجہول ہے۔ ➌ {وَ قَالَ مَا نَهٰىكُمَا رَبُّكُمَا ……:} شیطان نے ان دونوں کو یوں بہکایا کہ اﷲ تعالیٰ کے تمھیں اس درخت سے منع کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اس کے کھانے سے تم فرشتے بن جاؤ گے، یعنی ان کی خصوصیات اور فطری کمالات تم میں بھی پیدا ہو جائیں گی، یا ہمیشہ ہمیشہ جنت میں رہنے والوں میں شامل ہو جاؤ گے۔ جن دو چیزوں کے درمیان {” أَوْ “} کا لفظ آئے ان میں سے ایک چیز بھی ہو سکتی ہے اور دونوں بھی۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک بھی نہ ہو۔ ایک بہرحال ضرور ہو گی، دوسری بھی ممکن ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آدم علیہ السلام فرشتوں کو اﷲ کے قریب رہنے کی وجہ سے اپنے سے بہتر سمجھتے تھے، جیسا کہ فرمایا: «وَ مَنْ عِنْدَهٗ لَا يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَ لَا يَسْتَحْسِرُوْنَ» ‏‏‏‏ [ الأنبیاء: ۱۹ ] ”اور جو اس کے پاس ہیں وہ نہ اس کی عبادت سے تکبر کرتے ہیں اور نہ تھکتے ہیں۔“ مگر یہ ایک جزوی فضیلت ہے، اس سے ہر لحاظ سے فرشتوں کا انسان سے افضل ہونا ثابت نہیں ہوتا۔
وَ قَاسَمَہُمَاۤ اِنِّیۡ لَکُمَا لَمِنَ النّٰصِحِیۡنَ ﴿ۙ۲۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور اس نے قسم کھا کر ان سے کہا کہ میں تمہارا سچا خیر خواہ ہوں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ان دونوں کے روبرو قسم کھالی کہ یقین جانیئے میں تم دونوں کا خیر خواه ہوں
احمد رضا خان بریلوی
اور ان سے قسم کھائی کہ میں تم دونوں کا خیر خواہ ہوں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اس نے دونوں سے قسم کھائی کہ میں تمہارے سچے خیرخواہوں میں سے ہوں۔
عبدالسلام بن محمد
اور اس نے دونوں سے بار بار قسم کھا کر کہا کہ بے شک میں تم دونوں کے لیے یقینا خیر خواہوں سے ہوں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پہلا امتحان اور اسی میں لغزش اور اس کا انجام ٭٭

ابلیس کو نکال کر آدم و حواء علیہم السلام کو جنت میں پہنچا دیا گیا اور بجز ایک درخت کے، انہیں ساری جنت کی چیزیں کھانے کی رخصت دے دی گئی۔ اس کا تفصیلی بیان سورۃ البقرہ کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔ شیطان کو اس سے بڑا ہی حسد ہوا، ان کی نعمتوں کو دیکھ کر لعین جل گیا اور ٹھان لی کہ جس طرح سے ہو، انہیں بہکا کر اللہ کے خلاف کرا دوں۔ چنانچہ جھوٹ، افتراء باندھ کر ان سے کہنے لگا کہ دیکھو یہ درخت وہ ہے جس کے کھانے سے تم فرشتے بن جاؤ گے اور ہمیشہ کی زندگی اسی جنت میں پاؤ گے۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ ابلیس نے کہا: میں تمہیں ایک درخت کا پتہ دیتا ہوں جس سے تمہیں بقاء اور ہمیشگی والا ملک مل جائے گا۔ یہاں ہے کہ ان سے کہا: تمہیں اس درخت سے اس لیے روکا گیا ہے کہ کہیں تم فرشتے نہ بن جاؤ۔ جیسے فرمان ہے «يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ أَن تَضِلُّواْ» ۱؎ [4-النساء:176] ‏‏‏‏ مطلب یہ ہے کہ «أَن لَّا تَضِلُّواْ» اور آیت میں ہے «وَأَلْقَى فِى الاٌّرْضِ رَوَاسِىَ أَن تَمِيدَ بِكُمْ» ۱؎ [16-النحل:15] ‏‏‏‏ «أَن تَمِيدَ بِكُمْ» یہاں بھی یہی مطلب ہے۔ «مَلَكَيْنِ» کی دوسری قرأت «مَلِكَيْنِ» بھی ہے لیکن جمہور کی قرأت «لام» کے زبر کے ساتھ ہے۔ پھر اپنا اعتبار جمانے کیلئے قسمیں کھانے لگا کہ دیکھو میری بات کو سچ مانو، میں تمہارا خیرخواہ ہوں۔ تم سے پہلے سے ہی یہاں رہتا ہوں، ہر ایک چیز کے خواص سے واقف ہوں۔ تم اسے کھا لو، بس پھر یہیں رہو گے بلکہ فرشتے بن جاؤ گے۔ «قَاسَمَ» گو باب «مفاعلہ» سے ہے اور اس کی خاصیت طرفین کی مشارکت ہے لیکن یہاں یہ خاصیت نہیں ہے۔ ایسے اشعار بھی ہیں جہاں «قَاسَمَ» آیا ہے اور صرف ایک طرف کے لیے۔ اس قسم کی وجہ سے اس خبیث کے بہکاوے میں آدم علیہ السلام آ گئے۔ سچ ہے! مومن اس وقت دھوکا کھا جاتا ہے جب کوئی ناپاک انسان اللہ کو بیچ میں دیتا ہے۔ چنانچہ سلف کا قول ہے کہ ہم اللہ کے نام کے بعد اپنے ہتھیار ڈال دیا کرتے ہیں۔
21۔ 1 جنت کی جو نعمتیں اور آسائشیں حضرت آدم ؑ و حوا کو حاصل تھیں، اس کے حوالے سے شیطان نے دونوں کو بہلایا اور یہ جھوٹ بولا کہ اللہ تمہیں ہمیشہ جنت میں رکھنا نہیں چاہتا، اس لئے اس درخت کا پھل کھانے سے منع فرمایا ہے کیونکہ اس کی تاثیر ہی یہ ہے جو اسے کھا لیتا ہے، وہ فرشتہ بن جاتا ہے یا دائمی زندگی اسے حاصل ہوجاتی ہے۔ پھر قسم کھا کر اپنا خیر خواہ ہونا بھی ظاہر کیا، جس سے حضرت آدم ؑ و حوا متاثر ہوگئے اس لئے اللہ والے اللہ کے نام پر آسانی سے دھوکا کھا جاتے ہیں۔
(آیت 21){ وَ قَاسَمَهُمَاۤ:} باب مفاعلہ (مقاسمہ) دو طرف سے مقابلہ کے لیے ہو تا ہے۔ یہاں صرف شیطان نے قسم کھائی تھی، آدم علیہ السلام نے مقابلے میں کوئی قسم نہیں کھائی، اس لیے یہاں مبالغہ کے لیے ہے، لہٰذا ترجمہ ہے ” بار بار قسم کھائی“۔
فَدَلّٰىہُمَا بِغُرُوۡرٍ ۚ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَۃَ بَدَتۡ لَہُمَا سَوۡاٰتُہُمَا وَ طَفِقَا یَخۡصِفٰنِ عَلَیۡہِمَا مِنۡ وَّرَقِ الۡجَنَّۃِ ؕ وَ نَادٰىہُمَا رَبُّہُمَاۤ اَلَمۡ اَنۡہَکُمَا عَنۡ تِلۡکُمَا الشَّجَرَۃِ وَ اَقُلۡ لَّکُمَاۤ اِنَّ الشَّیۡطٰنَ لَکُمَا عَدُوٌّ مُّبِیۡنٌ ﴿۲۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اس طرح دھو کا دے کر وہ ان دونوں کو رفتہ رفتہ اپنے ڈھب پرلے آیا آخرکار جب انہوں نے اس درخت کا مزا چکھا تو ان کے ستر ایک دوسرے کے سامنے کھل گئے اور اپنے جسموں کو جنت کے پتوں سے ڈھانکنے لگے تب ان کے رب نے انہیں پکارا، " کیا میں نے تمہیں اس درخت سے نہ روکا تھا اور نہ کہا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے؟"
مولانا محمد جوناگڑھی
سو ان دونوں کو فریب سے نیچے لے آیا پس ان دونوں نے جب درخت کو چکھا دونوں کی شرمگاہیں ایک دوسرے کے روبرو بے پرده ہوگئیں اور دونوں اپنے اوپر جنت کے پتے جوڑ جوڑ کر رکھنے لگے اور ان کے رب نے ان کو پکارا کیا میں تم دونوں کو اس درخت سے منع نہ کرچکا تھا اور یہ نہ کہہ چکا کہ شیطان تمہارا صریح دشمن ہے؟
احمد رضا خان بریلوی
تو اُتار لایا انہیں فریب سے پھر جب انہوں نے وہ پیڑ چکھا ان پر اُن کی شرم کی چیزیں کھل گئیں اور اپنے بدن پر جنت کے پتے چپٹانے لگے، اور انہیں ان کے رب نے فرمایا کیا میں نے تمہیں اس پیڑ سے منع نہ کیا اور نہ فرمایا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اس طرح اس نے ان دونوں کو فریب سے مائل کر دیا (اور اس طرح جنت) کی بلندیوں سے زمین کی پستیوں تک پہنچا دیا۔ پس جب انہوں نے اس درخت کا مزہ چکھا۔ تو ان کے جسم کے چھپے ہوئے حصے نمودار ہوگئے اور وہ جنت کے پتوں کو جوڑ کر اپنے یہ مقام (ستر) چھپانے لگے تب ان کے پروردگار نے ان کو ندا دی۔ کیا میں نے تمہیں اس درخت کے پاس جانے سے منع نہیں کیا تھا؟ اور نہیں کہا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے۔
عبدالسلام بن محمد
پس اس نے دونوں کو دھوکے سے نیچے اتار لیا، پھر جب دونوں نے اس درخت کو چکھا تو ان کے لیے ان کی شرم گاہیں ظاہر ہوگئیں اور دونوں جنت کے پتوں سے (لے لے کر) اپنے آپ پر چپکانے لگے اور ان دونوں کو ان کے رب نے آواز دی کیا میں نے تم دونوں کو اس درخت سے منع نہیں کیا اور تم دونوں سے نہیں کہا کہ شیطان تم دونوں کا کھلا دشمن ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
لغزش کے بعد کیا ہوا ؟ ٭٭

ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”آدم علیہ السلام کا قد مثل درخت کھجور کے، بہت لمبا تھا اور سر پر بہت لمبے لمبے بال تھے، درخت کھانے سے پہلے انہیں اپنی شرمگاہ کا علم بھی نہ تھا، نظر ہی نہ پڑی تھی۔ لیکن اس خطا کے ہوتے ہی وہ ظاہر ہو گئی۔ بھاگنے لگے تو بال ایک درخت میں الجھ گئے، کہنے لگے: اے درخت! مجھے چھوڑ دے۔ درخت سے جواب ملا کہ ناممکن ہے۔ اسی وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے آواز آئی کہ اے آدم! مجھ سے بھاگ رہا ہے؟ کہنے لگے: یا اللہ! شرمندگی ہے، شرمسار ہوں۔“ گو یہ روایت مرفوع بھی مروی ہے لیکن زیادہ صحیح موقوف ہونا ہی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”درخت کا پھل کھا لیا اور چھپانے کی چیز ظاہر ہو گئی، جنت کے پتوں سے چھپانے لگے، ایک کو ایک پر چپکا نے لگے، آدم علیہ السلام مارے غیرت کے ادھر ادھر بھاگنے لگے لیکن ایک درخت کے ساتھ الجھ کر رہ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ندا دی کہ آدم! مجھ سے بھاگتا ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، یااللہ! مگر شرماتا ہوں۔ جناب باری نے فرمایا: آدم جو کچھ میں نے تجھے دے رکھا تھا، کیا وہ تجھے کافی نہ تھا؟ آپ نے جواب دیا: بیشک کافی تھا لیکن یااللہ مجھے یہ علم نہ تھا کہ کوئی تیرا نام لے کر، تیری قسم کھا کر جھوٹ کہے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اب تو میری نافرمانی کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا اور تکلیفیں اٹھانا ہوں گی۔

چنانچہ جنت سے دونوں کو اتار دیا گیا، اب اس کشادگی کے بعد کی یہ تنگی ان پر بہت گراں گزری، کھانے پینے کو ترس گئے -پھر انہیں لوہے کی صنعت سکھائی گئی، کھیتی کا کام بتایا گیا، آپ نے زمین صاف کی، دانے بوئے، وہ آگے بڑھے، بالیں نکلیں، دانے پکے، پھر توڑے گئے، پھر پیسے گئے، آٹا گندھا، پھر روٹی تیار ہوئی، پھر کھائی -جب جا کر بھوک کی تکلیف سے نجات پائی۔ تین کے پتوں سے اپنا آگا پیچھا چھپاتے پھرتے تھے جو مثل کپڑے کے تھے، وہ نورانی پردے جن سے ایک دوسرے سے یہ اعضاء چھپے ہوئے تھے، نافرمانی ہوتے ہی ہٹ گئے اور وہ نظر آنے لگے۔ آدم علیہ السلام اسی وقت اللہ کی طرف رغبت کرنے لگے، توبہ استغفار کی طرف جھک پڑے، بخلاف ابلیس کے کہ اس نے سزا کا نام سنتے ہی اپنے ابلیسی ہتھیار یعنی ہمیشہ کی زندگی وغیرہ طلب کی۔ اللہ نے دونوں کی دعا سنی اور دونوں کی طلب کردہ چیزیں عنایت فرمائی۔“ مروی ہے کہ آدم علیہ السلام نے جب درخت کھا لیا، اسی وقت اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اس درخت سے میں نے تمہیں روک دیا تھا، پھر تم نے اسے کیوں کھایا؟ کہنے لگے: حواء نے مجھے اس کی رغبت دلائی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ان کی سزا یہ ہے کہ حمل کی حالت میں بھی تکلیف میں رہیں گی، بچہ ہونے کے وقت بھی تکلیف اٹھائیں گی۔ یہ سنتے ہی حواء نے نوحہ شروع کیا، حکم ہوا کہ یہی تجھ پر اور تیری اولاد پر لکھ دیا گیا۔ آدم علیہ السلام نے جناب باری میں عرض کی اور اللہ نے انہیں دعا سکھائی۔ انہوں نے دعا کی، جو قبول ہوئی، قصور معاف فرما دیا گیا۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» !
22۔ 1 تدلیۃ اور ادلاء کے معنی ہیں کسی چیز کو اوپر سے نیچے چھوڑ دینا گویا شیطان ان کو مرتبہ علیا سے اتار کر ممنوعہ درخت کا پھل کھانے تک لے آیا 22۔ 2 یہ اس مصیت کا اثر ظاہر ہوا جو آدم ؑ و حوا سے غیر شعوری اور غیر ارادی طور پر ہوئی اور پھر دونوں مارے شرم کے جنت کے پتے جوڑ جوڑ کر اپنی شرم گاہ چھپانے لگے۔ اس سے قبل انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ایسا نورانی لباس ملا ہوا تھا، جو اگرچہ غیر مرئی تھا لیکن ایک دوسرے کی شرم گاہ کے لئے ساتر (پردہ پوش) تھا۔ ابن کثیر 22۔ 3 یعنی اس تنبہ کے باوجود تم شیطان کے وسوسوں کا شکار ہوگئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ شیطان کے جال بڑے حسین اور دلفریب ہوتے ہیں اور جن سے بچنے کے لئے بڑی کاوش و محنت اور ہر وقت چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔
(آیت 22) ➊ {فَدَلّٰىهُمَا بِغُرُوْرٍ: ”دَلّٰي يُدَلِّيْ تَدْلِيَةً “} (تفعیل) اور {” اَدْلٰي يُدْلِيْ اِدْلَاءً “} (افعال) یہ{ ”دَلْوٌ “ } (ڈول) سے ہے، یعنی جیسے ڈول نیچے گرایا جاتا ہے اس طرح کسی چیز کو اوپر سے نیچے کی طرف چھوڑنا، یعنی شیطان نے دھوکے سے ان کو ان کے بلند مرتبے سے نیچے اتار دیا۔ ➋ {فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ:} سورہ طٰہٰ (۱۲۱) میں ہے: «فَاَكَلَا مِنْهَا» کہ انھوں نے اس میں سے کھا لیا۔ زیر تفسیر آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ کھانے میں سے صرف چکھنے کی دیر تھی کہ جنت کی کرامت چھن گئی اور وہ بے لباس ہو گئے۔ ➌ {وَ طَفِقَا يَخْصِفٰنِ عَلَيْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ:} معلوم ہوا انسان فطرتاً باحیا پیدا ہوا ہے اور ننگا ہونا انسانی فطرت کے خلاف ہے، اس لیے آدم اور حوا علیہما السلام درختوں کے پتوں سے ستر چھپانے لگے۔ شیطان اسی لیے بے لباس ہونے کو پسند کرتا ہے۔ جبکہ ننگا ہونا جانوروں کی فطرت ہے اور کفار اور ان کے پیروکار ننگا ہونا پسند کرتے ہیں، اگر لباس پہنتے ہیں تو ایسا جو انھیں بے لباس ہونے سے بھی زیادہ ننگا کرے، ان کی انسانی فطرت مسخ ہو چکی ہے، انھی کے بارے میں آتا ہے: «‏‏‏‏اُولٰٓىِٕكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ» [ الأعراف: ۱۷۹ ] ”یہ لوگ چوپاؤں جیسے ہیں، بلکہ ان سے بھی زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں۔“ ➍ {وَ نَادٰىهُمَا رَبُّهُمَاۤ:} اس آیت اور دوسری بہت سی آیات و احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ کے کلام میں صوت (آواز) ہے اور فرشتے اور آدمی اسے سن سکتے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ کی آواز اور کلام سے انکار کر کے قرآن کو کلام اﷲ کے بجائے مخلوق قرار دینا سراسر گمراہی ہے۔ امام احمد ابن حنبل رحمہ اللہ نے اپنی عظیم استقامت کے ساتھ ساتھ قرآن و سنت کے دلائل سے تمام دنیا کے سامنے اس بات کا غلط ہونا ثابت فرما دیا۔
قَالَا رَبَّنَا ظَلَمۡنَاۤ اَنۡفُسَنَا ٜ وَ اِنۡ لَّمۡ تَغۡفِرۡ لَنَا وَ تَرۡحَمۡنَا لَنَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰسِرِیۡنَ ﴿۲۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
دونوں بول اٹھے، "اے رب، ہم نے اپنے اوپر ستم کیا، اب اگر تو نے ہم سے در گزر نہ فرمایا اور رحم نہ کیا تو یقیناً ہم تباہ ہو جائیں گے"
مولانا محمد جوناگڑھی
دونوں نے کہا اے ہمارے رب! ہم نے اپنا بڑا نقصان کیا اور اگر تو ہماری مغفرت نہ کرے گا اور ہم پر رحم نہ کرے گا تو واقعی ہم نقصان پانے والوں میں سے ہوجائیں گے
احمد رضا خان بریلوی
دونوں نے عرض کی، اے رب ہمارے! ہم نے اپنا آپ بُرا کیا، تو اگر تُو ہمیں نہ بخشے اور ہم پر رحم نہ کرے تو ہم ضرور نقصان والوں میں ہوئے،
علامہ محمد حسین نجفی
اس وقت ان دونوں نے کہا۔ اے ہمارے پروردگار! ہم نے اپنے اوپر ظلم کیا۔ اور اگر تو درگزر نہیں کرے گا اور ہم پر رحم نہیں کرے گا تو ہم گھاٹا اٹھانے والوں میں سے ہوں گے۔
عبدالسلام بن محمد
دونوں نے کہا اے ہمارے رب ! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو نے ہمیں نہ بخشا اور ہم پر رحم نہ کیا تو یقینا ہم ضرور خسارہ پانے والوں سے ہو جائیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
لغزش کے بعد کیا ہوا ؟ ٭٭

ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”آدم علیہ السلام کا قد مثل درخت کھجور کے، بہت لمبا تھا اور سر پر بہت لمبے لمبے بال تھے، درخت کھانے سے پہلے انہیں اپنی شرمگاہ کا علم بھی نہ تھا، نظر ہی نہ پڑی تھی۔ لیکن اس خطا کے ہوتے ہی وہ ظاہر ہو گئی۔ بھاگنے لگے تو بال ایک درخت میں الجھ گئے، کہنے لگے: اے درخت! مجھے چھوڑ دے۔ درخت سے جواب ملا کہ ناممکن ہے۔ اسی وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے آواز آئی کہ اے آدم! مجھ سے بھاگ رہا ہے؟ کہنے لگے: یا اللہ! شرمندگی ہے، شرمسار ہوں۔“ گو یہ روایت مرفوع بھی مروی ہے لیکن زیادہ صحیح موقوف ہونا ہی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”درخت کا پھل کھا لیا اور چھپانے کی چیز ظاہر ہو گئی، جنت کے پتوں سے چھپانے لگے، ایک کو ایک پر چپکا نے لگے، آدم علیہ السلام مارے غیرت کے ادھر ادھر بھاگنے لگے لیکن ایک درخت کے ساتھ الجھ کر رہ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ندا دی کہ آدم! مجھ سے بھاگتا ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، یااللہ! مگر شرماتا ہوں۔ جناب باری نے فرمایا: آدم جو کچھ میں نے تجھے دے رکھا تھا، کیا وہ تجھے کافی نہ تھا؟ آپ نے جواب دیا: بیشک کافی تھا لیکن یااللہ مجھے یہ علم نہ تھا کہ کوئی تیرا نام لے کر، تیری قسم کھا کر جھوٹ کہے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اب تو میری نافرمانی کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا اور تکلیفیں اٹھانا ہوں گی۔

چنانچہ جنت سے دونوں کو اتار دیا گیا، اب اس کشادگی کے بعد کی یہ تنگی ان پر بہت گراں گزری، کھانے پینے کو ترس گئے -پھر انہیں لوہے کی صنعت سکھائی گئی، کھیتی کا کام بتایا گیا، آپ نے زمین صاف کی، دانے بوئے، وہ آگے بڑھے، بالیں نکلیں، دانے پکے، پھر توڑے گئے، پھر پیسے گئے، آٹا گندھا، پھر روٹی تیار ہوئی، پھر کھائی -جب جا کر بھوک کی تکلیف سے نجات پائی۔ تین کے پتوں سے اپنا آگا پیچھا چھپاتے پھرتے تھے جو مثل کپڑے کے تھے، وہ نورانی پردے جن سے ایک دوسرے سے یہ اعضاء چھپے ہوئے تھے، نافرمانی ہوتے ہی ہٹ گئے اور وہ نظر آنے لگے۔ آدم علیہ السلام اسی وقت اللہ کی طرف رغبت کرنے لگے، توبہ استغفار کی طرف جھک پڑے، بخلاف ابلیس کے کہ اس نے سزا کا نام سنتے ہی اپنے ابلیسی ہتھیار یعنی ہمیشہ کی زندگی وغیرہ طلب کی۔ اللہ نے دونوں کی دعا سنی اور دونوں کی طلب کردہ چیزیں عنایت فرمائی۔“ مروی ہے کہ آدم علیہ السلام نے جب درخت کھا لیا، اسی وقت اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اس درخت سے میں نے تمہیں روک دیا تھا، پھر تم نے اسے کیوں کھایا؟ کہنے لگے: حواء نے مجھے اس کی رغبت دلائی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ان کی سزا یہ ہے کہ حمل کی حالت میں بھی تکلیف میں رہیں گی، بچہ ہونے کے وقت بھی تکلیف اٹھائیں گی۔ یہ سنتے ہی حواء نے نوحہ شروع کیا، حکم ہوا کہ یہی تجھ پر اور تیری اولاد پر لکھ دیا گیا۔ آدم علیہ السلام نے جناب باری میں عرض کی اور اللہ نے انہیں دعا سکھائی۔ انہوں نے دعا کی، جو قبول ہوئی، قصور معاف فرما دیا گیا۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» !
23۔ 1 توبہ استغفار کے یہ وہی کلمات ہیں جو حضرت آدم ؑ نے اللہ تبارک و تعالیٰ سے سیکھے، جیسا کہ سورة بقرہ، آیت 37 میں صراحت ہے (دیکھئے آیت مذکورہ کا حاشیہ) گویا شیطان نے اللہ کی نافرمانی کا ارتکاب کیا تو اس کے بعد وہ اس پر نہ صرف اڑ گیا بلکہ جواز و اثبات میں عقلی قیاسی دلائل دینے لگا، جس کے نتیجہ میں وہ راندہ درگاہ اور ہمیشہ کے لئے ملعون قرار پایا اور حضرت آدم ؑ نے اپنی غلطی پر ندامت و پشیمانی کا اظہار اور بارگاہ الٰہی میں توبہ و استفغار کا اہتمام کیا۔ تو اللہ تعالیٰ کی رحمت و مغفرت کے مستحق قرار پائے۔ یوں گویا دونوں راستوں کی نشان دہی ہوگئی، شیطانی راستے کی بھی اور اللہ والوں کے راستے کی بھی۔ گناہ کرکے اس پر اترانا، اصرار کرنا اور اسکو صحیح ثابت کرنے کے لئے دلائل ' کے انبار فراہم کرنا شیطانی راستہ ہے۔ اور گناہ کے بعد احساس ندمت سے مغلوب ہو کر بارگاہ الٰہی میں جھک جانا اور توبہ استغفار کا اہتمام کرنا بندگان الٰہی کا راستہ ہے۔
(آیت 23) { قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَاۤ اَنْفُسَنَا……:} سورۂ بقرہ میں ہے کہ آدم علیہ السلام نے یہ کلمات رب تعالیٰ سے سیکھے تھے اور انھی کلمات سے ان کی توبہ قبول ہوئی تھی۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ آیت(۳۷) کے فوائد۔ آدم علیہ السلام کی اس دعا سے ان کا اور ابلیس کا فرق واضح ہوتا ہے، یہاں عجز ہے، اعتراف گناہ ہے، اﷲ تعالیٰ کے سامنے اپنی محتاجی کا اظہار اور بخشش کی درخواست ہے، وہاں تکبر ہے، اپنے گناہ پر اصرار ہے، آئندہ مزید نافرمانی کے ارادے کا اظہار ہے اور مہلت کی درخواست ہے۔ اسی طرح یہاں پاک فطرت ہونے کی بنا پر قسم کی وجہ سے دشمن پر بھی اعتبار ہے، وہاں حسد کی وجہ سے بے گناہوں سے بھی دشمنی ہے۔ اﷲ تعالیٰ کی بے نیازی دیکھیے کہ دوست کی دعا بھی قبول اور دشمن کی بھی۔ یقینا اس میں اس پاک پروردگار کی بے شمار حکمتیں تھیں۔
قَالَ اہۡبِطُوۡا بَعۡضُکُمۡ لِبَعۡضٍ عَدُوٌّ ۚ وَ لَکُمۡ فِی الۡاَرۡضِ مُسۡتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰی حِیۡنٍ ﴿۲۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
فرمایا، "اتر جاؤ، تم ایک دوسرے کے دشمن ہو، اور تمہارے لیے ایک خاص مدت تک زمین ہی میں جائے قرار اور سامان زیست ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
حق تعالیٰ نے فرمایا کہ نیچے ایسی حالت میں جاؤ کہ تم باہم ایک دوسرے کے دشمن ہوگے اور تمہارے واسطے زمین میں رہنے کی جگہ ہے اور نفع حاصل کرنا ہے ایک وقت تک
احمد رضا خان بریلوی
فرمایا اُترو تم میں ایک دوسرے کا دشمن ہے اور تمہیں زمین میں ایک وقت تک ٹھہرنا اور برتنا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
ارشاد ہوا! تم دونوں (بہشت سے) نیچے اترو۔ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور ایک وقت معلوم تک تمہارا زمین میں ہی ٹھکانہ اور سامانِ زیست ہے۔
عبدالسلام بن محمد
فرمایا اتر جاؤ، تمھارا بعض بعض کا دشمن ہے اور تمھارے لیے زمین میں ایک وقت تک ایک ٹھکانا اور کچھ (زندگی کا) سامان ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سفر ارضی کے بارے میں یہودی روایات ٭٭

بعض کہتے ہیں یہ خطاب آدم، حواء، شیطان ملعون اور سانپ کو ہے -بعض سانپ کا ذکر نہیں کرتے -یہ ظاہر ہے کہ اصل مقصد آدم علیہ السلام ہیں اور شیطان ملعون۔ جیسے سورۃ طہٰ میں ہے آیت «اهْبِطَا مِنْهَا جَمِيعاً» ۱؎ [20-طه:123] ‏‏‏‏ حواء آدم علیہ السلام کے تابع تھیں اور سانپ کا ذکر اگر صحت تک پہنچ جائے تو وہ ابلیس کے حکم میں آ گیا۔ مفسرین نے بہت سے اقوال ذکر کئے ہیں کہ آدم کہاں اترے؟ شیطان کہاں پھینکا گیا وغیرہ۔ لیکن دراصل ان کا مخرج بنی اسرائیل کی روایتیں ہیں اور ان کی صحت کا علم اللہ ہی کو ہے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ اس جگہ کے جان لینے سے کوئی فائدہ نہیں۔ اگر ہوتا تو ان کا بیان قرآن یا حدیث میں ضرور ہوتا۔ کہہ دیا گیا کہ اب تمہارے قرار کی جگہ زمین ہے، وہیں تم اپنی مقررہ زندگی کے دن پورے کرو گے۔ جیسے کہ ہماری پہلی کتاب لوح محفوظ میں اول سے ہی لکھا ہوا موجود ہے۔ اسی زمین پر جیو گے اور مرنے کے بعد بھی اسی میں دبائے جاؤ گے اور پھر حشر و نشر بھی اسی میں ہو گا۔ جیسے فرمان ہے «مِنْهَا خَلَقْنَـكُمْ وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَى» ۱؎ [20-طه:55] ‏‏‏‏ پس اولاد آدم کے جینے کی جگہ بھی یہی اور مرنے کی جگہ بھی یہی، قبریں بھی اسی میں اور قیامت کے دن اٹھیں گے بھی اسی سے، پھر بدلہ دیئے جائیں گے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 24) {قَالَ اهْبِطُوْا ……: ” مَتَاعٌ “} یعنی عارضی لذتیں اور فائدے، تنوینِ تنکیر سے معلوم ہوا کہ وہ بھی چند۔ مزید تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ آیت(۳۶) کے حواشی۔
قَالَ فِیۡہَا تَحۡیَوۡنَ وَ فِیۡہَا تَمُوۡتُوۡنَ وَ مِنۡہَا تُخۡرَجُوۡنَ ﴿٪۲۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور فرمایا، "وہیں تم کو جینا اور وہیں مرنا ہے اور اسی میں سے تم کو آخرکار نکالا جائے گا"
مولانا محمد جوناگڑھی
فرمایا تم کو وہاں ہی زندگی بسر کرنا ہے اور وہاں ہی مرنا ہے اور اسی میں سے پھر نکالے جاؤ گے
احمد رضا خان بریلوی
فرمایا اسی میں جیوگے اور اسی میں مرو گے اور اسی میں اٹھائے جاؤ گے
علامہ محمد حسین نجفی
(یہ بھی فرمایا) اسی زمین میں تم نے جینا ہے اور وہیں مرنا ہے اور پھر اسی سے دوبارہ نکالے جاؤگے۔
عبدالسلام بن محمد
فرمایا تم اسی میں زندہ رہو گے اور اسی میں مرو گے اور اسی سے نکالے جاؤ گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سفر ارضی کے بارے میں یہودی روایات ٭٭

بعض کہتے ہیں یہ خطاب آدم، حواء، شیطان ملعون اور سانپ کو ہے -بعض سانپ کا ذکر نہیں کرتے -یہ ظاہر ہے کہ اصل مقصد آدم علیہ السلام ہیں اور شیطان ملعون۔ جیسے سورۃ طہٰ میں ہے آیت «اهْبِطَا مِنْهَا جَمِيعاً» ۱؎ [20-طه:123] ‏‏‏‏ حواء آدم علیہ السلام کے تابع تھیں اور سانپ کا ذکر اگر صحت تک پہنچ جائے تو وہ ابلیس کے حکم میں آ گیا۔ مفسرین نے بہت سے اقوال ذکر کئے ہیں کہ آدم کہاں اترے؟ شیطان کہاں پھینکا گیا وغیرہ۔ لیکن دراصل ان کا مخرج بنی اسرائیل کی روایتیں ہیں اور ان کی صحت کا علم اللہ ہی کو ہے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ اس جگہ کے جان لینے سے کوئی فائدہ نہیں۔ اگر ہوتا تو ان کا بیان قرآن یا حدیث میں ضرور ہوتا۔ کہہ دیا گیا کہ اب تمہارے قرار کی جگہ زمین ہے، وہیں تم اپنی مقررہ زندگی کے دن پورے کرو گے۔ جیسے کہ ہماری پہلی کتاب لوح محفوظ میں اول سے ہی لکھا ہوا موجود ہے۔ اسی زمین پر جیو گے اور مرنے کے بعد بھی اسی میں دبائے جاؤ گے اور پھر حشر و نشر بھی اسی میں ہو گا۔ جیسے فرمان ہے «مِنْهَا خَلَقْنَـكُمْ وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَى» ۱؎ [20-طه:55] ‏‏‏‏ پس اولاد آدم کے جینے کی جگہ بھی یہی اور مرنے کی جگہ بھی یہی، قبریں بھی اسی میں اور قیامت کے دن اٹھیں گے بھی اسی سے، پھر بدلہ دیئے جائیں گے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 25){ قَالَ فِيْهَا تَحْيَوْنَ ……:} یعنی اﷲ تعالیٰ نے زمین کو بنی آدم کے لیے زندگی میں جائے سکونت قرار دیا ہے، پھر مرنے کے بعد بھی اسی میں دفن ہوں گے اور قیامت کے دن بھی اسی سے زندہ ہو کر نکلیں گے۔ دیکھیے سورۂ طٰہٰ(۵۵)۔
یٰبَنِیۡۤ اٰدَمَ قَدۡ اَنۡزَلۡنَا عَلَیۡکُمۡ لِبَاسًا یُّوَارِیۡ سَوۡاٰتِکُمۡ وَ رِیۡشًا ؕ وَ لِبَاسُ التَّقۡوٰی ۙ ذٰلِکَ خَیۡرٌ ؕ ذٰلِکَ مِنۡ اٰیٰتِ اللّٰہِ لَعَلَّہُمۡ یَذَّکَّرُوۡنَ ﴿۲۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے اولاد آدم، ہم نے تم پر لباس نازل کیا ہے کہ تمہارے جسم کے قابل شرم حصوں کو ڈھانکے اور تمہارے لیے جسم کی حفاظت اور زینت کا ذریعہ بھی ہو، اور بہترین لباس تقویٰ کا لباس ہے یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے، شاید کہ لوگ اس سے سبق لیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اے آدم (علیہ السلام) کی اوﻻد ہم نے تمہارے لئے لباس پیدا کیا جو تمہاری شرم گاہوں کو بھی چھپاتا ہے اور موجب زینت بھی ہے اور تقوے کا لباس، یہ اس سے بڑھ کر ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہے تاکہ یہ لوگ یاد رکھیں
احمد رضا خان بریلوی
اے آدم کی اولاد! بیشک ہم نے تمہاری طرف ایک لباس وہ اُتارا کہ تمہاری شرم کی چیزیں چھپائے اور ایک وہ کہ تمہاری آرائش ہو اور پرہیزگاری کا لباس وہ سب سے بھلا یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے کہ کہیں وہ نصیحت مانیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اے اولادِ آدم(ع)! ہم نے تمہارے لئے لباس نازل کیا ہے جو تمہارے جسم کے قابلِ ستر حصوں کو چھپاتا ہے اور (باعث) زینت بھی ہے۔ اور تقویٰ و پرہیزگاری کا لباس یہ سب سے بہتر ہے یہ (لباس بھی) اللہ کی نشانیوں میں سے ہے تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔
عبدالسلام بن محمد
اے آدم کی اولاد! بے شک ہم نے تم پر لباس اتارا ہے، جو تمھاری شرم گاہوں کو چھپاتا ہے اور زینت بھی اور تقویٰ کالباس! وہ سب سے بہتر ہے۔ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے، تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
لباس اور داڑھی جمال و جلال ٭٭

یہاں اللہ تعالیٰ اپنا احسان یاد دلاتا ہے کہ اس نے لباس اتارا اور ریش بھی۔ لباس تو وہ ہے جس سے انسان اپنا ستر چھپائے اور ریش وہ ہے جو بطور زینت، رونق اور جمال کے پہنا جائے۔ اول تو ضروریات زندگی سے ہے اور ثانی زیادتی ہے۔ ریش کے معنی مال کے بھی ہیں اور ظاہری پوشاک کے بھی ہیں اور جمال، خوش لباسی کے بھی ہیں۔ سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے نیا کرتہ پہنتے ہوئے جبکہ گلے تک وہ پہن لیا فرمایا «اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ کَسَانِیْ مَا اُوَارِیْ بِہٖ عَوْرَتِیْ وَ اَتَجَمَّلُ بِہٖ فِیْ حَیَاتِیْ» پھر فرمانے لگے: میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا ہے، فرماتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: { جو شخص نیا کپڑا پہنے اور اس کے گلے تک پہنچتے ہی یہ دعا پڑھے، پھر پرانا کپڑا راہ للہ دے دے تو وہ اللہ کے ذمہ میں، اللہ کی پناہ میں اور اللہ کی حفاظت میں آ جاتا ہے۔ زندگی میں بھی اور بعد از مرگ بھی۔ } ۱؎ [سنن ابن ماجه:3557، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ (‏‏‏‏ترمذی، ابن ماجہ وغیرہ) مسند احمد میں ہے: { سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک نوجوان سے ایک کرتہ تین درہم کا خریدا اور اسے پہنا -جب پہنچوں اور ٹخنوں تک پہنچا تو آپ نے یہ دعا پڑھی «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَزَقَنِي مِنَ الرِّيَاشِ مَا أَتَجَمَّلُ بِهِ فِي النَّاسِ وَأُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي» یہ دعا سن کر آپ سے کسی نے پوچھا کہ کیا آپ نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ اسے کپڑا پہننے کے وقت پڑھتے تھے یا آپ از خود اسے پڑھ رہے ہیں؟ فرمایا: میں نے اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ } ۱؎ [مسند احمد:158/1:ضعیف] ‏‏‏‏

«لِبَاسُ التَّقْوَىٰ» کی دوسری قرأت «لِبَاسَ التَّقْوَىٰ» سین کے زبر سے بھی ہے -رفع سے پڑھنے والے اسے مبتدا کہتے ہیں اور اس کے بعد کا جملہ اس کی خبر ہے -عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اس سے مراد قیامت کے دن پرہیزگاروں کو جو لباس عطا ہو گا، وہ ہے۔“ ابن جریج کا قول ہے: ”لباس تقویٰ ایمان ہے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”عمل صالح ہے اور اسی سے ہنس مکھ ہوتا ہے۔“ عروہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”مراد اس سے مشیت ربانی ہے۔“ عبدالرحمٰن کہتے رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”اللہ کے ڈر سے اپنی ستر پوشی کرنا لباس تقویٰ ہے۔“ یہ کل اقوال آپس میں ایک دوسرے کے خلاف نہیں بلکہ مراد یہ سب کچھ ہے اور یہ سب چیزیں ملی جلی اور آپس میں ایک دوسرے کے قریب قریب ہیں۔ ایک ضعیف سند والی روایت میں حسن سے مرقوم ہے کہ { میں نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو منبر نبوی پر کھلی گھنڈیوں کا کرتا پہنے ہوئے کھڑا دیکھا۔ اس وقت آپ کتوں کے مار ڈالنے اور کبوتر بازی کی ممانعت کا حکم دے رہے تھے۔ پھر آپ نے فرمایا: لوگو اللہ سے ڈرو! خصوصاً اپنی پوشیدگیوں میں اور چپکے چپکے کانا پھوسی کرنے میں۔ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ قسم کھا کر بیان فرماتے تھے کہ جو شخص جس کام کو پوشیدہ سے پوشیدہ کرے گا، اللہ تعالیٰ اسی کی چادر اس پر اعلانیہ ڈال دے گا۔ اگر نیک ہے تو نیک اور اگر بد ہے تو بد۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:14451:ضعیف] ‏‏‏‏ اور فرمایا اس سے مراد خوش خلقی ہے۔ } ہاں صحیح حدیث میں صرف اتنا مروی ہے کہ { سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے جمعہ کے دن منبر پر کتوں کے قتل کرنے اور کبوتروں کے ذبح کرنے کا حکم دیا۔ } ۱؎ [مسند احمد:72/1:ضعیف] ‏‏‏‏
26۔ 1 سَوْآت، ُ، ُ جسم کے وہ حصے جنہیں چھپانا ضروری ہے جیسے شرم گاہ اور وہ لباس جو حسن و رعنائی کے لئے پہنا جائے۔ گویا لباس کی پہلی قسم ضروریات سے اور دوسری قسم تتمہ اضافہ سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں قسموں کے لباس کے لئے سامان اور مواد پیدا فرمایا۔ 26۔ 2 اس سے مراد بعض کے نزدیک وہ لباس ہے جو متقین قیامت والے دن پہنیں گے۔ بعض کے نزدیک ایمان، بعض کے نزدیک عمل صالح مشیت الٰہی وغیرہ ہیں۔ مفہوم سب کا تقریبًا ایک ہے کہ ایسالباس، جسے پہن کر انسان تکبر کرنے کی بجائے، اللہ سے ڈرے اور ایمان و عمل صالح کے تقاضوں کا اہتمام کرے۔ 26۔ 3 اس سے یہ مفہوم بھی نکلتا ہے کہ زیب وزینت اور آرائش کے لئے بھی اگرچہ لباس پہننا جائز ہے، تاہم لباس میں ایسی سادگی زیادہ پسندیدہ ہے جو انسان کے زہد اور تقوے ٰ کی مظہر ہو۔ علاوہ ازیں نیا لباس پہن کر یہ دعا بھی پڑھی جائے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دعا پڑھا کرتے تھے: (واَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّزِیْ کَسَانِی مَائْو وَارِیْ بِہٖ عَوْرَبِّی وَاَتَجَمَّلْ بِہِ فِیْ حَیَاتِیْ) تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے مجھے ایسا لباس پہنایا جس میں اپنا ستر چھپالوں اور اپنی زندگی میں اس سے زینت حاصل کروں۔
(آیت 26) ➊ {يٰبَنِيْۤ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا:} یعنی آسمان سے پانی اتارا، جس سے روئی اگتی ہے، ریشم اور پشم کا سامان مہیا ہوتا ہے، پھر تمھیں زراعت، شجرکاری، حیوان پروری، کپڑا بننے اور دوسری چیزیں بنانے کا طریقہ سکھا دیا۔ راغب نے فرمایا کہ یہاں {”اَنْزَلَ“} بمعنی {” خَلَقَ “} ہے، جیسے: «وَ اَنْزَلْنَا الْحَدِيْدَ» ‏‏‏‏ [ الحدید: ۲۵ ] ”اور ہم نے لوہا اتارا۔“ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”یعنی دشمن نے جنت کے کپڑے تم سے اتروائے، پھر ہم نے تم کو دنیا میں لباس کی تدبیر سکھا دی۔“ (موضح) ➋ {يُوَارِيْ سَوْاٰتِكُمْ وَ رِيْشًا:} یعنی لباس کا مقصد ستر پوشی اور زینت ہے۔ اس کے علاوہ وہ سردی، گرمی اور چوٹ وغیرہ سے بھی بچانے کے باعث بنتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «وَ جَعَلَ لَكُمْ سَرَابِيْلَ تَقِيْكُمُ الْحَرَّ وَ سَرَابِيْلَ تَقِيْكُمْ بَاْسَكُمْ» ‏‏‏‏ [ النحل: ۸۱ ] ”اور اس نے تمھارے لیے کچھ قمیصیں بنائیں جو تمھیں گرمی سے بچاتی ہیں اور کچھ قمیصیں جو تمھیں تمھاری لڑائی میں بچاتی ہیں۔“ ➌ {وَ لِبَاسُ التَّقْوٰى ذٰلِكَ خَيْرٌ:} یعنی اس ظاہری لباس کے علاوہ جس سے تم صرف بدن ڈھانکتے ہو یا زینت کا کام لیتے ہو ایک اور معنوی لباس بھی ہے جو ہر لباس سے بہتر ہے، لہٰذا تمھیں اس کا اہتمام کرنا چاہیے اور وہ ہے پرہیز گاری، یعنی اﷲ کا خوف، ایمان اور عمل صالح کا لباس۔ بعض نے کہا ہے کہ {” لِبَاسُ التَّقْوٰى “} سے مراد اون کھدر وغیرہ کی قسم کا کھردرا اور موٹا لباس ہے، جسے صوفی لوگ پہنتے ہیں، مگر یہ صحیح نہیں، خود رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اور سلف صالحین، جن کی پرہیز گاری بے مثال تھی، عمدہ لباس بھی پہنا کرتے تھے اور وسعت کے باوجود سادہ لباس بھی پہنتے تھے۔ بعض نے زرہ وغیرہ فوجی لباس مراد لیا ہے جو دشمن سے بچاؤ کا ذریعہ بنتا ہے۔ (قرطبی۔ روح المعانی) ہاں یہ ضرور ہے کہ جس لباس کی ممانعت آئی ہے وہ نہ پہنا جائے۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ اب وہی لباس پہنو جس میں پرہیز گاری ہو، یعنی مرد ریشمی (اور زعفرانی رنگ کا) لباس نہ پہنے، دامن لمبا نہ رکھے جو ٹخنوں کو ڈھانک لے اور جو منع ہوا ہے سو نہ کرے اور عورت بہت باریک (یا تنگ) لباس نہ پہنے کہ لوگوں کو بدن نظر آوے اور اپنی زینت نہ دکھائے۔ ➍ {لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُوْنَ:} تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں اور اﷲ تعالیٰ کی اس بڑی نعمت کی قدر کریں، یا نصیحت حاصل کریں اور برے کاموں سے بچیں۔
یٰبَنِیۡۤ اٰدَمَ لَا یَفۡتِنَنَّکُمُ الشَّیۡطٰنُ کَمَاۤ اَخۡرَجَ اَبَوَیۡکُمۡ مِّنَ الۡجَنَّۃِ یَنۡزِعُ عَنۡہُمَا لِبَاسَہُمَا لِیُرِیَہُمَا سَوۡاٰتِہِمَا ؕ اِنَّہٗ یَرٰىکُمۡ ہُوَ وَ قَبِیۡلُہٗ مِنۡ حَیۡثُ لَا تَرَوۡنَہُمۡ ؕ اِنَّا جَعَلۡنَا الشَّیٰطِیۡنَ اَوۡلِیَآءَ لِلَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۲۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے بنی آدم، ایسا نہ ہو کہ شیطان تمہیں پھر اُسی طرح فتنے میں مبتلا کر دے جس طرح اس نے تمہارے والدین کو جنت سے نکلوایا تھا اور ا ن کے لباس ان پر سے اتروا دیے تھے تاکہ ان کی شرمگاہیں ایک دوسرے کے سامنے کھولے وہ اور اس کے ساتھی تمہیں ایسی جگہ سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم انہیں نہیں دیکھ سکتے اِن شیاطین کو ہم نے اُن لوگوں کا سرپرست بنا دیا ہے جو ایمان نہیں لاتے
مولانا محمد جوناگڑھی
اے اوﻻد آدم! شیطان تم کو کسی خرابی میں نہ ڈال دے جیسا اس نے تمہارے ماں باپ کو جنت سے باہر کرا دیا ایسی حالت میں ان کا لباس بھی اتروا دیا تاکہ وه ان کو ان کی شرم گاہیں دکھائے۔ وه اور اس کا لشکر تم کو ایسے طور پر دیکھتا ہے کہ تم ان کو نہیں دیکھتے ہو۔ ہم نے شیطانوں کو ان ہی لوگوں کا دوست بنایا ہے جو ایمان نہیں ﻻتے
احمد رضا خان بریلوی
اے آدم کی اولاد! خبردار! تمہیں شیطان فتنہ میں نہ ڈالے جیسا تمہارے ماں باپ کو بہشت سے نکالا اتروا دیئے ان کے لباس کہ ان کی شرم کی چیزیں انہیں نظر پڑیں، بیشک وہ اور اس کا کنبہ تمہیں وہاں سے دیکھتے ہیں کہ تم انہیں نہیں دیکھتے بیشک ہم نے شیطانوں کو ان کا دوست کیا ہے جو ایمان نہیں لاتے،
علامہ محمد حسین نجفی
اے اولادِ آدم! (ہوشیار رہنا) کہیں ایسا نہ ہو کہ شیطان تمہیں اسی طرح فتنہ میں مبتلا کر دے جس طرح اس نے تمہارے ماں باپ کو جنت سے نکلوایا تھا۔ اور ان کے جسم سے کپڑے تک اتروا دیئے تھے تاکہ ان کے جسم کے قابلِ ستر حصے ان کو دکھا دے یقینا وہ (شیطان) اور اس کا قبیلہ تمہیں جس طرح اور جہاں سے دیکھتا ہے تم انہیں اس طرح نہیں دیکھ سکتے بے شک ہم نے شیطانوں کو ان کا سرپرست بنایا ہے جو ایمان نہیں رکھتے۔
عبدالسلام بن محمد
اے آدم کی اولاد! کہیں شیطان تمھیں فتنے میں نہ ڈال دے، جس طرح اس نے تمھارے ماں باپ کو جنت سے نکال دیا، وہ دونوں سے ان کے لباس اتارتا تھا، تاکہ دونوں کو ان کی شرم گاہیں دکھائے، بے شک وہ اور اس کا قبیلہ تمھیں وہاں سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم انھیں نہیں دیکھتے۔ بے شک ہم نے شیطانوں کو ان لوگوں کے دوست بنایا ہے جو ایمان نہیں رکھتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ابلیس سے بچنے کی تاکید ٭٭

تمام انسانوں کو اللہ تبارک و تعالیٰ ہوشیار کر رہا ہے کہ دیکھو ابلیس کی مکاریوں سے بچتے رہنا، وہ تمہارا بڑا ہی دشمن ہے۔ دیکھو! اسی نے تمہارے باپ آدم علیہ السلام کو دار سرور سے نکالا اور اس مصیبت کے قید خانے میں ڈالا، ان کی پردہ دری کی۔ پس تمہیں اس کے ہتھکنڈوں سے بچنا چاہیئے۔ جیسے فرمان ہے «اَفَتَتَّخِذُوْنَهٗ وَذُرِّيَّتَهٗٓ اَوْلِيَاءَ مِنْ دُوْنِيْ وَهُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ بِئْسَ للظّٰلِمِيْنَ بَدَلً» ۱؎ یعنی [18-الكهف:50] ‏‏‏‏ ’ کیا تم ابلیس اور اس کی قوم کو اپنا دوست بناتے ہو؟ مجھے چھوڑ کر؟ حالانکہ وہ تو تمہارا دشمن ہے۔ ظالموں کا بہت ہی برا بدلہ ہے۔ ‘
27۔ 1 اس میں اہل ایمان کو شیطان اور اور اس کے قبیلے یعنی چیلے چانٹوں سے ڈرایا گیا ہے کہ کہیں وہ تمہاری غفلت اور سستی سے فائدہ اٹھا کر تمہیں بھی اس طرح فتنے اور گمراہی میں نہ ڈال دے جس طرح تمہارے ماں باپ (آدم حوا) کو اس نے جنت سے نکلوا دیا اور لباس جنت بھی اتروا دیا۔ بالخصوص جب کہ وہ نظر بھی نہیں آتے۔ تو اس سے بچنے کا اہتمام اور فکر بھی زیادہ ہونا چاہئے۔ 27۔ 2 یعنی بےایمان قسم کے لوگ ہی اس کے دوست اور اس کے خاص شکار ہیں۔ تاہم اہل ایمان پر بھی وہ ڈورے ڈالتا رہتا ہے۔ کچھ اور نہیں تو شرک خفی (ریاکاری) اور شرک میں ہی ان کو مبتلا کردیتا ہے اور یوں ان کو بھی ایمان کے بعد ایمان صحیح کی پونجی سے محروم کردیتا ہے۔
(آیت 27) ➊ {يٰبَنِيْۤ اٰدَمَ لَا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطٰنُ ……:} شیطان کی کوشش یہ ہے کہ تم جنت میں نہ جانے پاؤ، جیسا کہ اس نے تمھارے ماں باپ کو جنت سے نکال دیا، اس کے لیے وہ بے پردگی کو اور بے لباس ہونے کو عام کرتا ہے، تاکہ بے حیائی اور بد کاری پھیل جائے۔ دیکھنا کہیں اس فتنے میں مبتلا ہو کر جنت سے محروم نہ ہو جانا۔ ➋ {اِنَّهٗ يَرٰىكُمْ هُوَ وَ قَبِيْلُهٗ ……:} یعنی ایسے دشمن سے تو بہت زیادہ محتاط اور چوکنا رہنا چاہیے جو ہمیں دیکھے مگرہم اسے دیکھ نہ پائیں۔ اس آیت سے بعض اہل علم نے یہ استدلال کیا ہے کہ جنوں کو دیکھنا ممکن نہیں ہے، مگر یہ استدلال صحیح نہیں ہے، کیونکہ اگرچہ اکثر ایسا ہی ہوتا ہے کہ وہ اور اس کا قبیلہ ہمیں دیکھ رہے ہوتے ہیں جبکہ ہم انھیں نہیں دیکھتے ہوتے، مگر اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ان کا دکھائی دینا کسی وقت بھی ممکن نہیں۔ یہ {” قَضِيَّةٌ مُطْلَقَةٌ لَا دَائِمَةٌ “} ہے، لہٰذا صحیح یہی ہے کہ جنوں کو دیکھنا ممکن ہے۔ احادیث میں ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنوں کو دیکھا ہے۔ (فتح القدیر) اور زکوٰۃِ رمضان کی نگرانی کے قصے میں مذکور ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مسلسل تین راتیں ایک جن کو پکڑتے رہے۔ [ بخاری: ۲۳۱۱۱ ] اور صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج رات میری نماز قطع کرنے کے لیے میرے پاس ایک سرکش جن آ گیا، اگر میرے بھائی سلیمان(علیہ السلام) کی دعا نہ ہوتی تو میں اسے پکڑ کر ستون سے باندھ دیتا اور صبح کو مدینہ کے بچے اس سے کھیلتے۔“ [ مسلم: ۵۴۱۔ بخاری: ۴۶۱ ] سلیمان علیہ السلام کے پاس تو باقاعدہ جنوں کی قوم تھی۔ [ النمل: ۱۷ ]
وَ اِذَا فَعَلُوۡا فَاحِشَۃً قَالُوۡا وَجَدۡنَا عَلَیۡہَاۤ اٰبَآءَنَا وَ اللّٰہُ اَمَرَنَا بِہَا ؕ قُلۡ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَاۡمُرُ بِالۡفَحۡشَآءِ ؕ اَتَقُوۡلُوۡنَ عَلَی اللّٰہِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۲۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ لوگ جب کوئی شرمناک کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی طریقہ پر پایا ہے اور اللہ ہی نے ہمیں ایسا کرنے کا حکم دیا ہے اِن سے کہو اللہ بے حیائی کا حکم کبھی نہیں دیا کرتا کیا تم اللہ کا نام لے کر وہ باتیں کہتے ہو جن کے متعلق تمہیں علم نہیں ہے (وہ اللہ کی طرف سے ہیں)؟
مولانا محمد جوناگڑھی
اور وه لوگ جب کوئی فحش کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی طریق پر پایا ہے اور اللہ نے بھی ہم کو یہی بتایا ہے۔ آپ کہہ دیجیئے کہ اللہ تعالیٰ فحش بات کی تعلیم نہیں دیتا، کیا اللہ کے ذمہ ایسی بات لگاتے ہو جس کی تم سند نہیں رکھتے؟
احمد رضا خان بریلوی
اور جب کوئی بے حیائی کریں تو کہتے ہیں ہم نے اس پر اپنے باپ دادا کو پایا اور اللہ نے ہمیں اس کا حکم دیا تو فرماؤ بیشک اللہ بے حیائی کا حکم نہیں دیتا، کیا اللہ پر وہ بات لگاتے ہو جس کی تمہیں خبر نہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جب وہ کوئی بے حیائی کا کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے آباء و اجداد کو اسی طریقہ پر پایا ہے اور خدا نے (بھی) ہمیں یہی حکم دیا ہے اے رسول کہیئے کہ یقینا کبھی اللہ بے حیائی کا حکم نہیں دیتا کیا تم اللہ پر ایسی بات کی تہمت لگاتے ہو جو تم نہیں جانتے؟
عبدالسلام بن محمد
اور جب وہ کوئی بے حیائی کرتے ہیں تو کہتے ہیں ہم نے اپنے باپ دادا کو اس پر پایا اور اللہ نے ہمیں اس کا حکم دیا ہے۔ کہہ دے بے شک اللہ بے حیائی کا حکم نہیں دیتا، کیا تم اللہ کے ذمے وہ بات لگاتے ہو جو تم نہیں جانتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جہالت اور طواف کعبہ ٭٭

مشرکین ننگے ہو کر بیت اللہ کا طواف کرتے تھے اور کہتے تھے کہ جیسے ہم پیدا ہوئے ہیں اسی حالت میں طواف کریں گے۔ عورتیں بھی آگے کوئی چمڑے کا ٹکڑا یا کوئی چیز رکھ لیتی تھیں اور کہتی تھیں۔ «اَلْیَوْمَ یَبْدَوُ بَعْضُہُ اَوْ کُلُّہُ» «وَمَا بَدَاَ مِنْہُ فَلَا اُحِلُّہُ» آج اس کا تھوڑا سا حصہ یا کل حصہ ظاہر ہو جائے گا۔ اور جتنا بھی ظاہر ہو، میں اسے اس کے لیے جائز نہیں رکھتی۔

اس پر آیت «وَإِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً قَالُوا وَجَدْنَا عَلَيْهَا آبَاءَنَا وَاللَّهُ أَمَرَنَا بِهَا» الخ، نازل ہوئی ہے۔ یہ دستور تھا کہ قریش کے سوا تمام عرب بیت اللہ شریف کا طواف اپنے پہنے ہوئے کپڑوں میں نہیں کرتے تھے۔ سمجھتے تھے کہ یہ کپڑے جنہیں پہن کر اللہ کی نافرمانیاں کی ہیں، اس قابل نہیں رہے کہ انہیں پہنے ہوئے طواف کر سکیں۔ ہاں قریش جو اپنے آپ کو حمس کہتے تھے، اپنے کپڑوں میں ہی طواف کرتے تھے اور جن لوگوں کو قریش کپڑے بطور ادھار دیں، وہ بھی ان کے دیئے ہوئے کپڑے پہن کر طواف کر سکتا تھا یا وہ شخص کپڑے پہنے طواف کر سکتا تھا جس کے پاس نئے کپڑے ہوں۔ پھر طواف کے بعد ہی انہیں اتار ڈالتا تھا، اب یہ کسی کی ملکیت نہیں ہو سکتے تھے۔ پس جس کے پاس نیا کپڑا نہ ہو اور حمس بھی اس کو اپنا کپڑا نہ دے تو اسے ضروری تھا کہ وہ ننگا ہو کر طواف کرے۔ خواہ عورت ہو خواہ مرد۔ عورت اپنے آگے کے عضو پر ذرا سی کوئی چیز رکھ لیتی اور وہ کہتی جس کا بیان اوپر گزرا لیکن عموماً عورتیں رات کے وقت طواف کرتی تھیں۔ یہ بدعت انہوں نے از خود گھڑ لی تھی۔ اس فعل کی دلیل سوائے باپ دادا کی تقلید کے اور ان کے پاس کچھ نہ تھی لیکن اپنی خوش فہمی اور نیک ظنی سے کہہ دیتے تھے کہ اللہ کا بھی یہی حکم ہے۔ کیونکہ ان کا خیال تھا کہ اگر یہ فرمودہ رب نہ ہوتا تو ہمارے بزرگ اس طرح نہ کرتے۔ اس لیے حکم ہوتا ہے کہ اے نبی! آپ ان سے کہہ دیجئیے کہ اللہ تعالیٰ بےحیائی کے کاموں کا حکم نہیں کرتا۔ ایک تو برا کام کرتے ہو۔ دوسرے جھوٹ موٹ اس کی نسبت اللہ کی طرف کرتے ہو۔ یہ چوری اور سینہ زوری ہے۔
28۔ 1 اسلام سے قبل مشرکین بیت اللہ کا ننگا طواف کرتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم اس حالت کو اختیار کرکے طواف کرتے ہیں جو اس وقت تھی جب ہماری ماؤں نے جنا تھا۔ بعض کہتے ہیں کہ وہ اس کی یہ تاویل کرتے تھے کہ ہم جو لباس پہنے ہوتے ہیں اس میں ہم اللہ کی نافرمانی کرتے رہتے ہیں، اس لئے اس لباس میں طواف کرنا مناسب نہیں۔ چناچہ وہ لباس اتار کر طواف کرتے اور عورتیں بھی ننگی طواف کرتیں، اس لئے، صرف اپنی شرم گاہ پر کوئی کپڑا یا چمڑے کا ٹکڑا رکھ لیتیں۔ اپنے اس شرم ناک فعل کے لئے دو عذر انہوں نے اور پیش کیے۔ ایک تو یہ کہ اللہ نے ہمیں اس کا حکم دیا ہے۔ اللہ نے اس کی تردید فرمائی کہ یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بےحیائی کا حکم دے؟ یوں ہی تم اللہ کے ذمہ وہ بات لگاتے ہو جو اس نے نہیں کہی۔ جب انہیں حق کی بات بتائی جاتی ہے تو اس کے مقابلے میں یہی عذر پیش کرتے ہیں کہ ہمارے بڑے یہی کرتے آئے ہیں یا ہمارے امام اور پیر و شیخ کا یہی حکم ہے، یہی وہ خصلت ہے جس کی وجہ سے یہودی، یہودیت پر، نصرانی نصرانیت پر اور بدعتی بدعتوں پر قائم رہے (فتح القدیر)
(آیت 28) ➊ {وَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً ……:} یہاں {” فَاحِشَةً “} اور{ ” بِالْفَحْشَآءِ “ } سے مراد وہ عبادات ہیں جو انھوں نے از خود ایجاد کر لی تھیں، مثلاً ان کے مرد اور عورتیں ننگے ہو کر طواف کرتے کہ جن کپڑوں میں ہم گناہ کرتے ہیں ان میں طواف کیسے کریں؟ اس کے علاوہ اس آیت میں مشرکین کے اپنی بے حیائی اور بد کاری پر قائم رہنے کے دو عذر بیان کیے گئے ہیں، ایک یہ کہ ہم نے بڑوں کو ایسا کرتے پایا ہے اور دوسرا یہ کہ اﷲ تعالیٰ نے اس کا حکم دیا ہے۔ پہلی بات یعنی اپنے بڑوں کو ایسا کرتے ہوئے پانے کی چونکہ درست تھی اس لیے یہاں اس کی نفی نہیں کی گئی۔ ہاں دوسری کئی آیات میں بتایا گیا ہے کہ باپ دادا کے نقش قدم پر چلتے رہنا کوئی دلیل نہیں ہے۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۷۰) اور سورۂ مائدہ (۱۰۴)۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”یعنی سن چکے کہ باپ نے شیطان کا فریب کھایا، پھر باپ کی سند کیوں لاتے ہو؟“ (موضح) رہا دوسرا عذر تو چونکہ بطور واقعہ بھی غلط تھا اور بطور دلیل بھی، اس لیے یہاں اس کی تردید فرمائی گئی۔ مطلب یہ ہے کہ جب انبیاء کی زبان سے ان کاموں کا برا اور قبیح ہونا ثابت ہو چکا ہے تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ اﷲ تعالیٰ اس قسم کی بے حیائی کا حکم دے۔ (رازی) ➋ { اَتَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ ……:} اس آیت میں ان لوگوں کو بھی سخت تنبیہ ہے جو محض باپ دادا کی رسموں کو دین سمجھ کر ان پر عمل پیرا ہونے کو ثواب سمجھتے ہیں اور ان مقلدین کے لیے بھی جو امام پرستی، شیخ پرستی یا کسی بھی شخصیت پرستی میں گرفتار ہیں، جب بھی انھیں حق کی بات دلیل کے ساتھ پیش کی جاتی ہے اور وہ لاجواب ہوتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہمارے بزرگوں کو کیا اس کا علم نہ تھا؟ کیا وہ جاہل تھے؟ ہمارے بڑے یہی کرتے آئے ہیں، ہم بھی اسی پر قائم رہیں گے۔ یہی وہ خصلت ہے جس کی وجہ سے یہودی یہودیت پر، نصرانی نصرانیت پر اور بدعتی بدعت پر قائم رہے۔
قُلۡ اَمَرَ رَبِّیۡ بِالۡقِسۡطِ ۟ وَ اَقِیۡمُوۡا وُجُوۡہَکُمۡ عِنۡدَ کُلِّ مَسۡجِدٍ وَّ ادۡعُوۡہُ مُخۡلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ ۬ؕ کَمَا بَدَاَکُمۡ تَعُوۡدُوۡنَ ﴿ؕ۲۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے محمدؐ، ان سے کہو، میرے رب نے تو راستی و انصاف کا حکم دیا ہے، اور اس کا حکم تو یہ ہے کہ ہر عبادت میں اپنا رخ ٹھیک رکھو اور اُسی کو پکارو اپنے دین کو اس کے لیے خالص رکھ کر جس طرح اُس نے تمہیں اب پیدا کیا ہے اسی طرح تم پھر پیدا کیے جاؤ گے
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ کہہ دیجیئے کہ میرے رب نے حکم دیا ہے انصاف کا اور یہ کہ تم ہر سجده کے وقت اپنا رخ سیدھا رکھا کرو اور اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طور پر کرو کہ اس عبادت کو خالص اللہ ہی کے واسطے رکھو۔ تم کو اللہ نے جس طرح شروع میں پیدا کیا تھا اسی طرح تم دوباره پیدا ہوگے
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ میرے رب نے انصاف کا حکم دیا ہے، اور اپنے منہ سیدھے کرو ہر نماز کے وقت اور اس کی عبادت کرو نرے (خالص) اس کے بندے ہوکر، جیسے اس نے تمہارا آغاز کیا ویسے ہی پلٹو گے
علامہ محمد حسین نجفی
اے رسول(ص) کہو! میرے پروردگار نے مجھے عدل و انصاف کا حکم دیا ہے اور یہ کہ اپنے چہرہ کو سیدھ پر رکھو ہر نماز کے وقت اور اسی کو پکارو دین کو اسی کے لئے خالص کرکے جس طرح اس نے پہلی بار تمہیں پیدا کیا تھا اسی طرح تم (اس کے حضور پلٹ) کر جاؤگے۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے میرے رب نے انصاف کا حکم دیا ہے اور اپنے رخ ہر نماز کے وقت سیدھے رکھو اور اس کے لیے دین کو خالص کرتے ہوئے اس کو پکارو۔ جس طرح اس نے تمھاری ابتدا کی، اسی طرح تم دوبارہ پیدا ہو گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کہہ دے کہ رب العالمین کا حکم تو عدل و انصاف کا ہے، استقامت اور دیانت داری کا ہے، برائیوں اور گندے کاموں کو چھوڑنے کا ہے، عبادات ٹھیک طور پر بجا لانے کا ہے۔ جو اللہ کے سچے رسولوں کے طریقہ کے مطابق ہوں، جن کی سچائی ان کے زبردست معجزوں سے اللہ نے ثابت کر دی ہے، ان کی لائی ہوئی شریعت پر اخلاص کے ساتھ عمل کرتے ہوں۔ جب تک اخلاص اور پیغمبر کی تابعداری کسی کام میں نہ ہو، اللہ کے ہاں وہ مقبول نہیں ہوتا۔ اس نے جس طرح تمہیں اول اول پیدا کیا ہے، اسی طرح وہ دوبارہ بھی لوٹائے گا۔ دنیا میں بھی اسی نے پیدا کیا، آخرت میں بھی وہی قبروں سے دوبارہ پیدا کرے گا۔ پہلے تم کچھ نہیں تھے، اس نے تمہیں بنایا۔ اب مرنے کے بعد پھر بھی وہ تمہیں زندہ کر دے گا۔ جیسے اس نے شروع میں تمہاری ابتداء کی تھی، اسی طرح پھر سے تمہارا اعادہ کرے گا۔

چنانچہ حدیث میں بھی ہے: { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک وعظ میں فرمایا: لوگو! تم اللہ کے سامنے ننگے پیروں، ننگے بدنوں، بےختنہ جمع کئے جاؤ گے۔ جیسے کہ ہم نے تمہیں پیدائش میں کیا تھا اسی کو پھر دوہرائیں گے۔ یہ ہمارا وعدہ ہے اور ہم اسے کر کے ہی رہنے والے ہیں۔ } یہ روایت بخاری و مسلم میں بھی نکالی گئی ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4625] ‏‏‏‏ یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ جیسے ہم نے لکھ دیا ہے، ویسے ہی تم ہوؤ گے۔ ایک روایت میں ہے: جیسے تمہارے اعمال تھے ویسے ہی تم ہوؤ گے۔ یہ بھی معنی ہیں کہ جس کی ابتداء میں بدبختی لکھ دی ہے، وہ بدبختی اور بداعمالی کی طرف ہی لوٹے گا، گو درمیان میں نیک ہو گیا ہو۔ اور جس کی تقدیر میں شروع سے ہی نیکی اور سعادت لکھ دی گئی ہے، وہ انجام کار نیک ہی ہو گا، گو اس سے کسی وقت برائی کے اعمال بھی سرزد ہو جائیں گے۔ جیسے کہ فرعون کے زمانے کے جادوگر کہ ساری عمر سیاہ کاریوں اور کفر میں کٹی لیکن آخر وقت مسلمان اولیاء ہو کر مرے۔ یہ بھی معنی ہیں کہ اللہ تم میں سے ہر ایک کو ہدایت پر یا گمراہی پر پیدا کر چکا ہے، ایسے ہی ہو کر تم ماں کے بطن سے نکلو گے۔ یہ بھی مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابن آدم کی پیدائش مومن و کافر ہونے کی حالت میں کی۔ جیسے فرمان ہے «هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ فَمِنكُمْ كَافِرٌ وَمِنكُم مُّؤْمِنٌ» ۱؎ [64-التغابن:2] ‏‏‏‏ پھر انہیں اسی طرح قیامت کے دن لوٹائے گا یعنی مومن و کافر کے گروہوں میں۔ اسی قول کی تائید صحیح بخاری کی اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: { اس کی قسم جس کے سوا کوئی اور معبود نہیں کہ تم میں سے ایک شخص جنتیوں کے اعمال کرتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان صرف ایک بام بھر کا یا ہاتھ بھر کا فرق رہ جاتا ہے۔ پھر اس پر لکھا ہوا سبقت کر جاتا ہے اور دوزخیوں کے اعمال شروع کر دیتا ہے اور اسی میں داخل ہو جاتا ہے اور کوئی جہنمیوں کے اعمال کرنے لگتا ہے یہاں تک کہ جہنم سے ایک ہاتھ یا ایک بام دور رہ جاتا ہے کہ تقدیر کا لکھا آگے آ جاتا ہے اور وہ جنتیوں کے اعمال کرنے لگتا ہے اور جنت نشین ہو جاتا ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:6594] ‏‏‏‏ دوسری روایت بھی اسی طرح کی ہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ { اس کے وہ کام لوگوں کی نظروں میں جہنم اور جنت کے ہوتے ہیں۔ اعمال کا دارومدار خاتمے پر ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:6493] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے: { ہر نفس اسی پر اٹھایا جائے گا جس پر تھا۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2878] ‏‏‏‏ (‏‏‏‏مسلم)

ایک اور روایت میں ہے: { جس پر مرا۔ } ۱؎ اگر اس آیت سے مراد یہی لی جائے تو اس میں اس کے بعد فرمان «فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَتَ اللَّـهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا» ۱؎ [30-الروم:30] ‏‏‏‏ میں اور بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ { ہر بچہ فطرت پر پیدا کیا جاتا ہے۔ پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4775] ‏‏‏‏ اور صحیح مسلم کی حدیث میں { فرمان باری ہے کہ میں نے اپنے بندوں کو موحد و حنیف پیدا کیا۔ پھر شیطان نے ان کے دین سے انہیں بہکا دیا۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2865] ‏‏‏‏ اس میں کوئی جمع کی وجہ ہونی چاہیئے اور وہ یہ ہے کہ اللہ نے انہیں دوسرے حال میں مومن و کافر ہونے کے لئے پیدا کیا۔ گو پہلے حال میں تمام مخلوق کو اپنی معرفت و توحید پر پیدا کیا تھا کہ اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ جیسے کہ اس نے ان سے روز میثاق میں عہد بھی لیا تھا اور اسی وعدے کو ان کی جبلت گھٹی میں رکھ دیا تھا۔ اس کے باوجود اس نے مقدر کیا تھا کہ ان میں سے بعض شقی اور بدبخت ہوں گے اور بعض سعید اور نیک بخت ہوں گے۔ جیسے فرمان ہے: اسی نے تمہیں پیدا کیا پھر تم میں سے بعض کافر ہیں اور بعض مومن۔ اور حدیث میں ہے: { ہر شخص صبح کرتا ہے، پھر اپنے نفس کی خرید و فروخت کرتا ہے۔ کچھ لوگ ایسے ہیں جو اسے آزاد کرا لیتے ہیں۔ کچھ ایسے ہیں جو اسے ہلاک کر بیٹھتے ہیں۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:223] ‏‏‏‏ اللہ کی تقدیر، اللہ کی مخلوق میں جاری ہے، اسی نے مقدر کیا، اسی نے ہدایت کی، اسی نے ہر ایک کو اس کی پیدائش دی، پھر رہنمائی کی۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ { جو لوگ سعادت والوں میں سے ہیں، ان پر نیکوں کے کام آسان ہوں گے اور جو شقاوت والے ہیں، ان پر بدیاں آسان ہوں گی۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:1362] ‏‏‏‏ چنانچہ قرآن کریم میں ہے: ایک فرقے نے راہ پائی اور ایک فرقے پر گمراہی ثابت ہو چکی۔ پھر اس کی وجہ بیان فرمائی کہ انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر شیطانوں کو دوست بنا لیا ہے۔ اس آیت سے اس مذہب کی تردید ہوتی ہے جو یہ خیال کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی شخص کو کسی معصیت کے عمل پر یا کسی گمراہی کے عقیدے پر عذاب نہیں کرتا تاوقتیکہ اس کے پاس صحیح چیز صاف آ جائے اور پھر وہ اپنی برائی پر ضد اور عناد سے جما رہے۔ کیونکہ اگر یہ مذہب صحیح ہوتا تو جو لوگ گمراہ ہیں لیکن اپنے آپ کو ہدایت پر سمجھتے ہیں اور جو واقعی ہدایت پر ہیں، ان میں کوئی فرق نہ ہونا چاہیئے تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے ان دونوں میں فرق کیا۔ ان کے نام میں بھی اور ان کے احکام میں بھی۔ آیت آپ کے سامنے موجود ہے، پڑھ لیجئے۔
29۔ 1 انصاف سے مراد یہاں بعض کے نزدیک لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ یعنی توحید ہے۔ 29۔ 2 امام شوکانی نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ ' اپنی نمازوں اپنا رخ قبلے کی طرف کرلو، چاہے تم کسی بھی مسجد میں ہو ' اور امام ابن کثیر نے اس سے استقامت بمعنی متابعت رسول مراد لی ہے اور اگلے جملے سے اخلاص اللہ اور کہا ہے کہ ہر عمل کی مقبولیت کے لئے ضروری ہے کہ وہ شریعت کے مطابق ہو اور دوسرے خالص رضائے الٰہی کے لئے ہو آیت میں ان باتوں کی تاکید کی گئی ہے۔
(آیت 29) ➊ {قُلْ اَمَرَ رَبِّيْ بِالْقِسْطِ:} لہٰذا تم اس کی پیروی کرو۔ یہاں{ ” اَلْقِسْطُ“} (انصاف) سے مراد توحید ہے، پھر بے حیائی اور بدکاری سے بچنا ہے، کیونکہ سب سے بڑا ظلم اﷲ کے ساتھ شرک ہے، فرمایا: «اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ» [ لقمان: ۱۳ ] ”بے شک شرک یقینا بہت بڑا ظلم ہے۔“ پھر کسی انسان کی جان، مال یا آبرو برباد کرنا بڑا ظلم ہے اور سب سے بڑا انصاف اﷲ تعالیٰ کی توحید کی شہادت ہے، جیسا کہ اﷲ تعالیٰ کے اس فرمان سے معلوم ہوتا ہے: «{شَهِدَ اللّٰهُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۙ وَ الْمَلٰٓىِٕكَةُ وَ اُولُوا الْعِلْمِ قَآىِٕمًۢا بِالْقِسْطِ}» ‏‏‏‏ [ آل عمران: ۱۸ ] ”اﷲ نے گواہی دی کہ بے شک حقیقت یہ ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور فرشتوں نے اور علم والوں نے بھی، اس حال میں کہ وہ انصاف پر قائم ہے۔“ ➋ {وَ اَقِيْمُوْا وُجُوْهَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ:مَسْجِدٍ “} سے مصدر میمی، ظرف زمان اور ظرف مکان تینوں مراد ہو سکتے ہیں۔ مصدر میمی ہو تو اس کا معنی سجدہ بھی ہے اور نماز بھی، جیسے{ ” رَكْعَةٌ “} کا معنی رکوع بھی ہے اور نماز میں قیام، رکوع، قومہ، سجدہ اور قراء ت وغیرہ کے مجموعہ کو بھی {” رَكْعَةٌ “} کہا جاتا ہے اور سجدہ بھی اور قیام بھی۔ یعنی جز بول کر کُل مراد لیا جاتا ہے، تو معنی ہو گا ہر نماز میں۔ اگر مراد زمان ہو تو ہر سجدے یا نماز کے وقت اور مکان ہو تو ہر سجدے یا نماز کی جگہ اپنے رخ سیدھے کر لو، یعنی قبلہ کی طرف، یا جیسے اﷲ کے رسول نے حکم دیا ہے اس طرح اپنے چہروں، یعنی اپنے آپ کو سیدھا کر لو اور ان کے بتائے ہوئے طریقے پر نماز پڑھو۔ ➌ {وَ ادْعُوْهُ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ:الدِّيْنَ “ } کا معنی یہاں عبادت ہے، یعنی خالصتاً اس کی عبادت کرو اور اس کو پکارنے اور اس کی عبادت کرنے میں کسی دوسرے کو شریک نہ کرو، مراد ریا سے بچنا ہے۔ الغرض اس آیت میں تین باتوں کا حکم دیا ہے، جس کا معنی یہ ہے کہ جو عبادت شرک یا ممنوع چیزوں، مثلاً ننگے ہونے یا ریا وغیرہ پر مشتمل ہو وہ فواحش میں داخل ہے۔ (رازی) خلاصہ یہ کہ ہر عبادت کے لیے توحید، اتباع رسول اور اخلاص (ریا سے پاک ہونا) تینوں چیزیں ضروری ہیں، ورنہ وہ مردود ہو گی۔ ➍ { كَمَا بَدَاَكُمْ تَعُوْدُوْنَ:} یعنی جس طرح تم پہلے کچھ نہ تھے، اﷲ نے کسی مشکل کے بغیر تمھیں پیدا فرمایا، اسی طرح تمھارے مر جانے کے بعد وہ تمھیں دوبارہ نہایت آسانی سے زندہ کر دے گا اور جس طرح تم پیدا ہوئے تو تمھارے پاس کچھ نہ تھا اور بغیر ختنے اور لباس کے تھے، ایسے ہی دوبارہ زندہ ہوتے وقت ہو گے۔
فَرِیۡقًا ہَدٰی وَ فَرِیۡقًا حَقَّ عَلَیۡہِمُ الضَّلٰلَۃُ ؕ اِنَّہُمُ اتَّخَذُوا الشَّیٰطِیۡنَ اَوۡلِیَآءَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ وَ یَحۡسَبُوۡنَ اَنَّہُمۡ مُّہۡتَدُوۡنَ ﴿۳۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ایک گروہ کوتو اس نے سیدھا راستہ دکھا دیا ہے، مگر دوسرے گروہ پر گمراہی چسپاں ہو کر رہ گئی ہے، کیونکہ انہوں نے خدا کے بجائے شیاطین کو اپنا سر پرست بنا لیا ہے اور وہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم سیدھی راہ پر ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
بعض لوگوں کو اللہ نے ہدایت دی ہے اور بعض پر گمراہی ﺛابت ہوگئی ہے۔ ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر شیطانوں کو دوست بنالیا ہے اور خیال رکھتے ہیں کہ وه راست پر ہیں
احمد رضا خان بریلوی
ایک فرقے کو راہ دکھائی اور ایک فرقے کو گمراہی ثابت ہوئی انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر شیطانوں کو والی بنایا اور سمجھتے یہ ہیں کہ وہ راہ پر ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
ایک گروہ کو تو اس نے ہدایت دے دی ہے اور ایک گروہ پر گمراہی ثبت ہوگئی ہے۔ انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر شیاطین کو اپنا سرپرست بنا لیا ہے اور پھر وہ (اپنے متعلق) خیال کرتے ہیں کہ وہ ہدایت یافتہ ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
ایک گروہ کو اس نے ہدایت دی اور ایک گروہ، ان پر گمراہی ثابت ہو چکی، بے شک انھوں نے اللہ کو چھوڑ کر شیطانوں کو دوست بنا لیا اور سمجھتے ہیں کہ یقینا وہ ہدایت پانے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کہہ دے کہ رب العالمین کا حکم تو عدل و انصاف کا ہے، استقامت اور دیانت داری کا ہے، برائیوں اور گندے کاموں کو چھوڑنے کا ہے، عبادات ٹھیک طور پر بجا لانے کا ہے۔ جو اللہ کے سچے رسولوں کے طریقہ کے مطابق ہوں، جن کی سچائی ان کے زبردست معجزوں سے اللہ نے ثابت کر دی ہے، ان کی لائی ہوئی شریعت پر اخلاص کے ساتھ عمل کرتے ہوں۔ جب تک اخلاص اور پیغمبر کی تابعداری کسی کام میں نہ ہو، اللہ کے ہاں وہ مقبول نہیں ہوتا۔ اس نے جس طرح تمہیں اول اول پیدا کیا ہے، اسی طرح وہ دوبارہ بھی لوٹائے گا۔ دنیا میں بھی اسی نے پیدا کیا، آخرت میں بھی وہی قبروں سے دوبارہ پیدا کرے گا۔ پہلے تم کچھ نہیں تھے، اس نے تمہیں بنایا۔ اب مرنے کے بعد پھر بھی وہ تمہیں زندہ کر دے گا۔ جیسے اس نے شروع میں تمہاری ابتداء کی تھی، اسی طرح پھر سے تمہارا اعادہ کرے گا۔

چنانچہ حدیث میں بھی ہے: { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک وعظ میں فرمایا: لوگو! تم اللہ کے سامنے ننگے پیروں، ننگے بدنوں، بےختنہ جمع کئے جاؤ گے۔ جیسے کہ ہم نے تمہیں پیدائش میں کیا تھا اسی کو پھر دوہرائیں گے۔ یہ ہمارا وعدہ ہے اور ہم اسے کر کے ہی رہنے والے ہیں۔ } یہ روایت بخاری و مسلم میں بھی نکالی گئی ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4625] ‏‏‏‏ یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ جیسے ہم نے لکھ دیا ہے، ویسے ہی تم ہوؤ گے۔ ایک روایت میں ہے: جیسے تمہارے اعمال تھے ویسے ہی تم ہوؤ گے۔ یہ بھی معنی ہیں کہ جس کی ابتداء میں بدبختی لکھ دی ہے، وہ بدبختی اور بداعمالی کی طرف ہی لوٹے گا، گو درمیان میں نیک ہو گیا ہو۔ اور جس کی تقدیر میں شروع سے ہی نیکی اور سعادت لکھ دی گئی ہے، وہ انجام کار نیک ہی ہو گا، گو اس سے کسی وقت برائی کے اعمال بھی سرزد ہو جائیں گے۔ جیسے کہ فرعون کے زمانے کے جادوگر کہ ساری عمر سیاہ کاریوں اور کفر میں کٹی لیکن آخر وقت مسلمان اولیاء ہو کر مرے۔ یہ بھی معنی ہیں کہ اللہ تم میں سے ہر ایک کو ہدایت پر یا گمراہی پر پیدا کر چکا ہے، ایسے ہی ہو کر تم ماں کے بطن سے نکلو گے۔ یہ بھی مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابن آدم کی پیدائش مومن و کافر ہونے کی حالت میں کی۔ جیسے فرمان ہے «هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ فَمِنكُمْ كَافِرٌ وَمِنكُم مُّؤْمِنٌ» ۱؎ [64-التغابن:2] ‏‏‏‏ پھر انہیں اسی طرح قیامت کے دن لوٹائے گا یعنی مومن و کافر کے گروہوں میں۔ اسی قول کی تائید صحیح بخاری کی اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: { اس کی قسم جس کے سوا کوئی اور معبود نہیں کہ تم میں سے ایک شخص جنتیوں کے اعمال کرتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان صرف ایک بام بھر کا یا ہاتھ بھر کا فرق رہ جاتا ہے۔ پھر اس پر لکھا ہوا سبقت کر جاتا ہے اور دوزخیوں کے اعمال شروع کر دیتا ہے اور اسی میں داخل ہو جاتا ہے اور کوئی جہنمیوں کے اعمال کرنے لگتا ہے یہاں تک کہ جہنم سے ایک ہاتھ یا ایک بام دور رہ جاتا ہے کہ تقدیر کا لکھا آگے آ جاتا ہے اور وہ جنتیوں کے اعمال کرنے لگتا ہے اور جنت نشین ہو جاتا ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:6594] ‏‏‏‏ دوسری روایت بھی اسی طرح کی ہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ { اس کے وہ کام لوگوں کی نظروں میں جہنم اور جنت کے ہوتے ہیں۔ اعمال کا دارومدار خاتمے پر ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:6493] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے: { ہر نفس اسی پر اٹھایا جائے گا جس پر تھا۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2878] ‏‏‏‏ (‏‏‏‏مسلم)

ایک اور روایت میں ہے: { جس پر مرا۔ } ۱؎ اگر اس آیت سے مراد یہی لی جائے تو اس میں اس کے بعد فرمان «فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَتَ اللَّـهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا» ۱؎ [30-الروم:30] ‏‏‏‏ میں اور بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ { ہر بچہ فطرت پر پیدا کیا جاتا ہے۔ پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4775] ‏‏‏‏ اور صحیح مسلم کی حدیث میں { فرمان باری ہے کہ میں نے اپنے بندوں کو موحد و حنیف پیدا کیا۔ پھر شیطان نے ان کے دین سے انہیں بہکا دیا۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2865] ‏‏‏‏ اس میں کوئی جمع کی وجہ ہونی چاہیئے اور وہ یہ ہے کہ اللہ نے انہیں دوسرے حال میں مومن و کافر ہونے کے لئے پیدا کیا۔ گو پہلے حال میں تمام مخلوق کو اپنی معرفت و توحید پر پیدا کیا تھا کہ اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ جیسے کہ اس نے ان سے روز میثاق میں عہد بھی لیا تھا اور اسی وعدے کو ان کی جبلت گھٹی میں رکھ دیا تھا۔ اس کے باوجود اس نے مقدر کیا تھا کہ ان میں سے بعض شقی اور بدبخت ہوں گے اور بعض سعید اور نیک بخت ہوں گے۔ جیسے فرمان ہے: اسی نے تمہیں پیدا کیا پھر تم میں سے بعض کافر ہیں اور بعض مومن۔ اور حدیث میں ہے: { ہر شخص صبح کرتا ہے، پھر اپنے نفس کی خرید و فروخت کرتا ہے۔ کچھ لوگ ایسے ہیں جو اسے آزاد کرا لیتے ہیں۔ کچھ ایسے ہیں جو اسے ہلاک کر بیٹھتے ہیں۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:223] ‏‏‏‏ اللہ کی تقدیر، اللہ کی مخلوق میں جاری ہے، اسی نے مقدر کیا، اسی نے ہدایت کی، اسی نے ہر ایک کو اس کی پیدائش دی، پھر رہنمائی کی۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ { جو لوگ سعادت والوں میں سے ہیں، ان پر نیکوں کے کام آسان ہوں گے اور جو شقاوت والے ہیں، ان پر بدیاں آسان ہوں گی۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:1362] ‏‏‏‏ چنانچہ قرآن کریم میں ہے: ایک فرقے نے راہ پائی اور ایک فرقے پر گمراہی ثابت ہو چکی۔ پھر اس کی وجہ بیان فرمائی کہ انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر شیطانوں کو دوست بنا لیا ہے۔ اس آیت سے اس مذہب کی تردید ہوتی ہے جو یہ خیال کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی شخص کو کسی معصیت کے عمل پر یا کسی گمراہی کے عقیدے پر عذاب نہیں کرتا تاوقتیکہ اس کے پاس صحیح چیز صاف آ جائے اور پھر وہ اپنی برائی پر ضد اور عناد سے جما رہے۔ کیونکہ اگر یہ مذہب صحیح ہوتا تو جو لوگ گمراہ ہیں لیکن اپنے آپ کو ہدایت پر سمجھتے ہیں اور جو واقعی ہدایت پر ہیں، ان میں کوئی فرق نہ ہونا چاہیئے تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے ان دونوں میں فرق کیا۔ ان کے نام میں بھی اور ان کے احکام میں بھی۔ آیت آپ کے سامنے موجود ہے، پڑھ لیجئے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 30) ➊ {فَرِيْقًا هَدٰى وَ فَرِيْقًا حَقَّ عَلَيْهِمُ الضَّلٰلَةُ:} ایک گروہ، یعنی مومنوں کو اس نے سیدھی راہ پر چلنے کی توفیق بخشی اور ایک گروہ، یعنی کافروں پر گمراہی ثابت ہو چکی۔ ➋ {اِنَّهُمُ اتَّخَذُوا الشَّيٰطِيْنَ ……:} یعنی ان پر ضلالت اس لیے ثابت ہوئی کہ وہ شیاطین کے کہنے پر چلتے رہے اور سمجھتے یہ رہے کہ ہم صحیح راستے پر چل رہے ہیں۔
یٰبَنِیۡۤ اٰدَمَ خُذُوۡا زِیۡنَتَکُمۡ عِنۡدَ کُلِّ مَسۡجِدٍ وَّ کُلُوۡا وَ اشۡرَبُوۡا وَ لَا تُسۡرِفُوۡا ۚ اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الۡمُسۡرِفِیۡنَ ﴿٪۳۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے بنی آدم، ہر عبادت کے موقع پر اپنی زینت سے آراستہ رہو اور کھاؤ پیو اور حد سے تجاوز نہ کرو، اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا
مولانا محمد جوناگڑھی
اے اوﻻد آدم! تم مسجد کی ہر حاضری کے وقت اپنا لباس پہن لیا کرو۔ اور خوب کھاؤ اور پیو اور حد سے مت نکلو۔ بےشک اللہ حد سے نکل جانے والوں کو پسند نہیں کرتا
احمد رضا خان بریلوی
اے آدم کی اولاد! اپنی زینت لو جب مسجد میں جاؤ اور کھاؤ اور پیو اور حد سے نہ بڑھو، بیشک حد سے بڑھنے والے اسے پسند نہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اے اولادِ آدم! ہر نماز کے وقت زینت کرو اور کھاؤ پیو۔ اور اسراف (فضول خرچی) نہ کرو۔ کیونکہ وہ بے شک اسراف کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔
عبدالسلام بن محمد
اے آدم کی اولاد! ہر نماز کے وقت اپنی زینت لے لو اور کھائو اور پیو اور حد سے نہ گزرو، بے شک وہ حد سے گزرنے والوں سے محبت نہیں کرتا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
برہنہ ہو کر طواف ممنوع قرار دے دیا گیا ٭٭

اس آیت میں مشرکین کا رد ہے۔ وہ ننگے ہو کر بیت اللہ کا طواف کرتے تھے جیسے کہ پہلے گزرا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ { ننگے مرد دن کو طواف کرتے اور ننگی عورتیں رات کو، اس وقت عورتیں کہا کرتی تھیں کہ آج اس کے خاص جسم کا کل حصہ یا کچھ حصہ گو ظاہر ہو لیکن کسی کو وہ اس کا دیکھنا جائز نہیں کرتیں۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:3028] ‏‏‏‏ پس اس کے برخلاف مسلمانوں کو حکم ہوتا ہے کہ اپنا لباس پہن کر مسجدوں میں جائیں، اللہ تعالیٰ زینت کے لینے کا حکم دیتا ہے اور زینت سے مراد لباس ہے اور لباس وہ ہے جو اعضاء مخصوصہ کو چھپا لے اور جو اس کے سوا ہو مثلاً اچھا کپڑا وغیرہ۔ ایک حدیث میں ہے کہ { یہ آیت جوتیوں سمیت نماز پڑھنے کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ } ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:146/3:ضعیف] ‏‏‏‏ لیکن ہے یہ غور طلب اور اس کی صحت میں بھی کلام ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ یہ آیت اور جو کچھ اس کے معنی میں سنت میں وارد ہے، اس سے نماز کے وقت زینت کرنا مستحب ثابت ہوتا ہے۔ خصوصاً جمعہ اور عید کے دن، اور خوشبو لگانا بھی مسنون طریقہ ہے۔ اس لیے کہ وہ زینت میں سے ہی ہے اور مسواک کرنا بھی۔ کیونکہ وہ بھی زینت کو پورا کرنے میں داخل ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ سب سے افضل لباس سفید کپڑا ہے۔ جیسے کہ مسند احمد کی صحیح حدیث میں ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: { سفید کپڑے پہنو، وہ تمہارے تمام کپڑوں سے افضل ہیں اور اسی میں اپنے مردوں کو کفن دو۔ سب سرموں میں بہتر سرمہ اثمد ہے، وہ نگاہ کو تیز کرتا ہے اور بالوں کو اگاتا ہے۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:994،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ سنن کی ایک اور حدیث میں ہے: { سفید کپڑوں کو ضروری جانو اور انہیں پہنو، وہ بہت اچھے اور بہت پاک صاف ہیں، انہی میں اپنے مردوں کو کفن دو۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:2810،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏

طبرانی میں مروی ہے کہ سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ نے ایک چادر ایک ہزار کو خریدی تھی , نمازوں کے وقت اسے پہن لیا کرتے تھے۔ اس کے بعد آدھی آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمام طب کو اور حکمت کو جمع کر دیا . ارشاد ہے: کھاؤ پیو لیکن حد سے تجاوز نہ کرو۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے: ”جو چاہے کھا، جو چاہے پی لیکن دو باتوں سے بچو، اسراف اور تکبر سے۔“ ایک مرفوع حدیث میں ہے: { کھاؤ پیو، پہنو اوڑھو لیکن صدقہ بھی کرتے رہو اور تکبر اور اسراف سے بچتے رہو۔ اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے کہ اپنی نعمت کا اثر اپنے بندے کے جسم پر دیکھے۔ } ۱؎ [مسند احمد:181/2:حسن] ‏‏‏‏ آپ فرماتے ہیں: { کھاؤ اور پہنو اور صدقہ کرو اور اسراف سے اور خود نمائی سے رکو۔ } ۱؎ [سنن نسائی:2560، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ فرماتے ہیں: { انسان اپنے پیٹ سے زیادہ برا کوئی برتن نہیں بھرتا۔ انسان کو چند لقمے جس سے اس کی پیٹھ سیدھی رہے، کافی ہیں۔ اگر یہ بس میں نہ ہو تو زیادہ سے زیادہ اپنے پیٹ کے تین حصے کر لے۔ ایک کھانے کے لئے، ایک پانی کے لئے، ایک سانس کے لئے۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:2380، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ فرماتے ہیں: { یہ بھی اسراف ہے کہ تو جو چاہے، کھائے۔ } ۱؎ [سنن ابن ماجه:3352، قال الشيخ الألباني:موضوع] ‏‏‏‏ لیکن یہ حدیث غریب ہے۔ مشرکین جہاں ننگے ہو کر طواف کرتے تھے وہاں زمانہ حج میں چربی کو بھی اپنے اوپر حرام جانتے تھے۔ اللہ نے دونوں باتوں کے خلاف حکم نازل فرمایا۔ یہ بھی اسراف ہے کہ اللہ کے حلال کردہ کھانے کو حرام کر لیا جائے۔ اللہ کی دی ہوئی حلال روزی بیشک انسان کھائے پئے۔ حرام چیز کا کھانا بھی اسراف ہے۔ اللہ کی مقرر کردہ حرام حلال کی حدوں سے گزر نہ جاؤ۔ نہ حرام کو حلال کرو، نہ حلال کو حرام کہو۔ ہر ایک حکم کو اسی کی جگہ پر رکھو۔ ورنہ مسرف اور دشمن رب بن جاؤ گے۔
31۔ 1 آیت میں زینت سے مراد لباس ہے۔ اس کا سبب نزول بھی مشرکین کے ننگے طواف سے متعلق ہے۔ اس لئے انہیں کہا گیا ہے کہ لباس پہن کر اللہ کی عبادت کرو اور طواف کرو۔ 31۔ 2 اِسْرَافُ، (حد سے نکل جانا) کسی چیز میں حتیٰ کے کھانے پینے میں بھی ناپسندیدہ ہے، ایک حدیث میں نبی نے فرمایا ' جو چاہو کھاؤ اور جو چاہے پیو جو چاہے پہنو البتہ دو باتوں سے گریز کرو۔ اسراف اور تکبر سے (صحیح مسلم، صحیح بخاری)، بعض سلف کا قول ہے، کہ اللہ تعالیٰ نے (وَّكُلُوْا وَاشْرَبُوْا وَلَا تُسْرِفُوْا ۚ اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِيْنَ) 7۔ الاعراف:31) اس آدھی آیت میں ساری طب جمع فرما دی ہے (ابن کثیر) بعض کہتے ہیں زینت سے وہ لباس مراد ہے جو آرائش کے لیے پہنا جائے۔ جس سے ان کے نزدیک نماز اور طواف کے وقت تزئین کا حکم نکلتا ہے۔ اس آیت سے نماز میں ستر عورت کے وجوب پر بھی استدلال کیا گیا ہے بلکہ احادیث کی رو سے ستر عورت گھٹنوں سے لے کر ناف تک کے حصے کو ڈھانپنا ہر حال میں ضروری ہے چاہے آدمی خلوت میں ہی ہو۔ (فتح القدیر) جمعہ اور عیدین کے دن خوشبو کا استعمال بھی مستحب ہے کہ یہ بھی زینت کا ایک حصہ ہے۔ (ابن کثیر)
(آیت 31) ➊ {خُذُوْا زِيْنَتَكُمْ ……: } زینت سے مراد لباس ہے، یعنی طواف اور نماز میں پردے کی چیزوں کو چھپانا فرض ہے، مرد کے لیے کمر سے گھٹنوں تک (اور نماز میں اس کے ساتھ کندھے پر کچھ لباس کا ہونا) اور عورت کے لیے چہرہ اور ہاتھوں کے سوا سارا بدن۔ باریک کپڑا جس سے بدن اور بال نظر آئیں معتبر نہیں، یعنی نہ ہونے کے برابر ہے۔ (موضح) البتہ جمعہ کے دن خاص طور پر غسل، خوش بو اور اپنے بہترین لباس پہننے کا حکم دیا۔ جمعہ مسلمانوں کی ہفتہ وار عید ہے۔ عید الفطر اور عید الاضحیٰ سالانہ عیدیں ہیں، ان میں تو بدرجہ اولیٰ اس کا اہتمام ہونا چاہیے۔ ➋ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ عورت بیت اﷲ کا طواف ننگی ہو کر کرتی تھی اور کہتی کہ کون مجھے طواف کے لیے کپڑا دے گا، اس کو وہ شرم گاہ پر ڈال لیتی اور کہتی: {اَلْيَوْمَ يَبْدُوْ بَعْضُهٗ أَوْ كُلُّهٗ} {وَمَا بَدَا مِنْهُ فَلَا اُحِلُّهٗ} ”آج اس کا کچھ حصہ یا سارے کا سارا ظاہر ہو جائے گا اور اس میں سے جو ظاہر ہو گا میں اسے (دیکھنا کسی کے لیے) حلال قرار نہیں دیتی۔“ [ مسلم، التفسیر، باب فی قولہ تعالٰی: «‏‏‏‏خذوا زينتكم عند كل مسجد» : ۳۰۲۸ ] کئی مرد بھی ننگے طواف کرتے تھے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اس حج (یعنی۹ ہجری) میں، جس میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع سے پہلے ان کو امیر بنا کر بھیجا تھا، مجھے قربانی کے دن چند آدمیوں کے ہمراہ بھیجا کہ میں لوگوں میں اعلان کر دوں کہ اس سال کے بعد نہ کوئی مشرک حج کرے گا اور نہ کوئی شخص ننگا ہو کر طواف کرے گا۔ [ بخاری، الحج، باب لا یطوف بالبیت عریان……: ۱۶۲۲ ] ➌ {وَ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا وَ لَا تُسْرِفُوْا:} جب اوپر کی آیت میں قسط (عدل و انصاف) کا حکم دیا، تو دوسری چیزوں کے ساتھ لباس اور کھانے پینے میں بھی ” قسط“ کا حکم ہو گیا، اس لیے ان میں بھی اسراف سے منع فرما دیا۔ (کبیر) اسراف یہ ہے کہ آدمی حلال کو حرام ٹھہرا لے، جیسا کہ مشرکین کرتے تھے، یا اہل تصوف کرتے ہیں، یا حلال سے تجاوز کر کے حرام کھائے یا حرام کام میں خرچ کرے کہ یہ تھوڑا بھی اسراف ہے۔ اسراف، یعنی حد سے نکلنا کسی بھی چیز میں ناپسندیدہ ہے، خصوصاً کھانے پینے میں بے احتیاطی تو اکثر بیماریوں کی جڑ اور دنیا و آخرت دونوں میں نقصان دہ ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھاؤ، پیو، پہنو اور صدقہ کرو بغیر اسراف کے اور بغیر تکبر کے۔“ [ بخاری، اللباس، باب قول اﷲ تعالٰی: { قل من حرم زينة اﷲ التي……} قبل ح: ۵۷۸۳، تعلیقًا ] جابر بن سلیم رضی اللہ عنہ سے ایک لمبی حدیث مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور اپنی تہ بند پنڈلی تک اٹھاؤ، اگر نہیں مانتے تو ٹخنوں تک اور تہ بند لٹکانے سے بچو، کیونکہ یہ تکبر میں سے ہے اور اﷲ تعالیٰ تکبر کو پسند نہیں کرتا۔“ [ أبو داوٗد، اللباس، باب ما جاء فی إسبال الأزار: ۴۰۸۴۔ ترمذی: ۱۷۸۳ و صححہ الألبانی ] رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ـ ”جو شخص تکبر سے اپنا کپڑا کھینچے اﷲ تعالیٰ اس کی طرف نہیں دیکھے گا۔“ [ بخاری، اللباس، باب قول اﷲ تعالٰی: { قل من حرم زينة اﷲ التي……:} ۵۷۸۳، عن ابن عمر رضی اللہ عنہما ] معلوم ہوا صرف تہ بند ہی نہیں کوئی بھی کپڑا جان بوجھ کر ٹخنوں سے نیچے لٹکانا تکبر اور حرام ہے، بے اختیار یا بے دھیانی میں لٹک جائے تو الگ بات ہے۔ مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”ابن آدم نے پیٹ سے برا کوئی برتن نہیں بھرا، ابن آدم کو چند لقمے کافی ہیں جو اس کی پیٹھ کو سیدھا رکھیں، اگر ضرور ہی کھانا ہے تو ایک تہائی کھانے کے لیے، ایک تہائی پینے کے لیے اور ایک تہائی سانس کے لیے ہے۔“ [ أحمد: 132/4، ح: ۱۷۱۹۱۔ ترمذی: ۲۳۸۰، صحیح ] ہاں کبھی کبھار یا زیادہ دیر کا بھوکا ہو تو زیادہ کھا سکتا ہے، جیسا کہ احادیث سے بعض مواقع پر ثابت ہے۔
قُلۡ مَنۡ حَرَّمَ زِیۡنَۃَ اللّٰہِ الَّتِیۡۤ اَخۡرَجَ لِعِبَادِہٖ وَ الطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزۡقِ ؕ قُلۡ ہِیَ لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا خَالِصَۃً یَّوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ؕ کَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الۡاٰیٰتِ لِقَوۡمٍ یَّعۡلَمُوۡنَ ﴿۳۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے محمدؐ، ان سے کہو کس نے اللہ کی اُس زینت کو حرام کر دیا جسے اللہ نے اپنے بندوں کے لیے نکالا تھا اور کس نے خدا کی بخشی ہوئی پاک چیزیں ممنوع کر دیں؟ کہو، یہ ساری چیزیں دنیا کی زندگی میں بھی ایمان لانے والوں کے لیے ہیں، اور قیامت کے روز تو خالصتاً انہی کے لیے ہوں گی اِس طرح ہم اپنی باتیں صاف صاف بیان کرتے ہیں اُن لوگوں کے لیے جو علم رکھنے والے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ فرمائیے کہ اللہ تعالیٰ کے پیدا کئے ہوئے اسباب زینت کو، جن کو اس نے اپنے بندوں کے واسطے بنایا ہے اور کھانے پینے کی حلال چیزوں کو کس شخص نے حرام کیا ہے؟ آپ کہہ دیجئے کہ یہ اشیا اس طور پر کہ قیامت کے روز خالص ہوں گی اہل ایمان کے لئے، دنیوی زندگی میں مومنوں کے لئے بھی ہیں۔ ہم اسی طرح تمام آیات کو سمجھ داروں کے واسطے صاف صاف بیان کرتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ کس نے حرام کی اللہ کی وہ زینت جو اس نے اپنے بندو ں کے لیے نکالی اور پاک رزق تم فرماؤ کہ وہ ایمان والوں کے لیے ہے دنیا میں اور قیامت میں تو خاص انہی کی ہے، ہم یونہی مفصل آیتیں بیان کرتے ہیں علم والوں کے لیے
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول ان لوگوں سے) کہو کہ اللہ کی زیب و زینت کو جو اس نے اپنے بندوں کے لئے پیدا کی ہے کس نے حرام کیا ہے؟ اور کھانے کی اچھی اور پاکیزہ غذاؤں کو (کس نے حرام کیا ہے؟)! وہ تو دراصل ہیں ہی اہلِ ایمان کے لئے دنیوی زندگی میں بھی اور خاص کر قیامت کے دن تو خالص انہی کے لئے ہیں۔ اسی طرح ہم اپنی آیتوں کو تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں ان لوگوں کے لئے جو علم رکھتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
تو کہہ کس نے حرام کی اللہ کی زینت جو اس نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کی اور کھانے پینے کی پاکیزہ چیزیں؟ کہہ دے یہ چیزیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے دنیا کی زندگی میں (بھی) ہیں، جبکہ قیامت کے دن (ان کے لیے) خالص ہوں گی، اسی طرح ہم آیات کو ان لوگوں کے لیے کھول کر بیان کرتے ہیں جو جانتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آخر کار مومن ہی اللہ کی رحمت کا سزا وار ٹھہرا ٭٭

کھانے، پینے، پہننے، اوڑھنے کی ان بعض چیزوں کو بغیر اللہ کے فرمائے، حرام کر لینے والوں کی تردید ہو رہی ہے اور انہیں ان کے فعل سے روکا جا رہا ہے۔ یہ سب چیزیں اللہ پر ایمان رکھنے والوں اور اس کی عبادت کرنے والوں کے لیے ہی تیار ہوئی ہیں۔ گو دنیا میں ان کے ساتھ اور لوگ بھی شریک ہیں لیکن پھر قیامت کے دن یہ الگ کر دیئے جائیں گے اور صرف مومن ہی اللہ کی نعمتوں سے نوازے جائیں گے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما راوی ہیں کہ مشرک ننگے ہو کر اللہ کے گھر کا طواف کرتے تھے۔ سیٹیاں اور تالیاں بجاتے جاتے تھے۔ پس یہ آیتیں اتریں۔
32۔ 1 مشرکین نے جس طرح طواف کے وقت لباس پہننے کو ناپسندیدہ قرار دے رکھا تھا، اسی طرح حلال چیزیں بھی بطور تقرب الٰہی اپنے اوپر حرام کرلی تھیں نیز بہت سی حلال چیزیں اپنے بتوں کے نام وقف کردینے کی وجہ سے حرام گردانتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا لوگوں کی زینت کے لئے (مثلاً لباس وغیرہ) اور کھانے کی عمدہ چیزیں بنائی ہیں۔ گو کفار بھی ان سے فیض یاب اور فائدہ اٹھا لیتے ہیں بلکہ بعض دفعہ دینوی چیزوں اور آسائشوں کے حصول میں وہ مسلمانوں سے زیادہ کامیاب نظر آتے ہیں لیکن یہ بالتبع اور عارضی ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی تکوینی مشیت اور حکمت ہے تاہم قیامت والے دن یہ نعمتیں صرف اہل ایمان کے لیے ہوں گی کیونکہ کافروں پر جس طرح جنت حرام ہوگی، اسی طرح ماکولات ومشروبات بھی حرام ہوں گے۔
(آیت 32) {قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِيْنَةَ اللّٰهِ ……:} اس آیت میں {” زِيْنَةَ اللّٰهِ “} سے عمدہ لباس اور وہ تمام چیزیں مراد ہیں جن سے انسان کو حسن و جمال حاصل ہوتا ہے اور {” الطَّيِّبٰتِ “} سے عمدہ قسم کے لذیذ کھانے مراد ہیں۔ اس آیت میں ان لوگوں کی سخت تردید ہے جو اﷲ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں کے ترکِ استعمال کو درویشی سمجھتے ہیں اور گھٹیا قسم کا کھانا کھانے اور لباس پہننے ہی کو بڑی نیکی سمجھتے ہیں اور ان صوفیوں کی بھی تردید ہے جو خود ساختہ وظیفے بتانے کے ساتھ ہی ہر جان دار کا اور جان دار سے حاصل ہونے والی چیز، مثلاً دودھ، گھی اور شہد کا کھانا منع کر دیتے ہیں اور اسے ترک حیوانات جلالی و جمالی کا نام دے رکھا ہے، جو دراصل ہندو سادھوؤں اور جوگیوں کا مذہب ہے، اسلام میں اس کی کوئی گنجائش نہیں۔ عبد اﷲ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اﷲ تعالیٰ اپنے بندے کو کوئی نعمت عطا فرماتا ہے تو چاہتا ہے کہ اس کا اثر اس پر ظاہر ہو۔“ [ ترمذی، الأدب، باب ما جاء أن اﷲ یحب……: ۲۸۱۹، و صححہ الألبانی ] شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ” یعنی منع کام میں خرچ نہ کرے، باقی کھانا پینا سب روا ہے، جو نعمت ہے مسلمان کے واسطے پیدا ہوئی ہے، دنیا میں کافر بھی شریک ہو گئے، آخرت میں صرف انھی کے لیے ہے۔“ مزید دیکھیے سورۂ احقاف(۲۰)۔
قُلۡ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الۡفَوَاحِشَ مَا ظَہَرَ مِنۡہَا وَ مَا بَطَنَ وَ الۡاِثۡمَ وَ الۡبَغۡیَ بِغَیۡرِ الۡحَقِّ وَ اَنۡ تُشۡرِکُوۡا بِاللّٰہِ مَا لَمۡ یُنَزِّلۡ بِہٖ سُلۡطٰنًا وَّ اَنۡ تَقُوۡلُوۡا عَلَی اللّٰہِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۳۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے محمدؐ، اِن سے کہو کہ میرے رب نے جو چیزیں حرام کی ہیں وہ تو یہ ہیں: بے شرمی کے کام خواہ کھلے ہوں یا چھپے اور گناہ اور حق کے خلاف زیادتی اور یہ کہ اللہ کے ساتھ تم کسی کو شریک کرو جس کے لیے اُس نے کوئی سند نازل نہیں کی اور یہ کہ اللہ کے نام پر کوئی ایسی بات کہو جس کے متعلق تمہیں علم نہ ہو کہ وہ حقیقت میں اسی نے فرمائی ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ فرمائیے کہ البتہ میرے رب نے صرف حرام کیا ہے ان تمام فحش باتوں کو جو علانیہ ہیں اور جو پوشیده ہیں اور ہر گناه کی بات کو اور ناحق کسی پر ﻇلم کرنے کو اور اس بات کو کہ تم اللہ کے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک ٹھہراؤ جس کی اللہ نے کوئی سند نازل نہیں کی اور اس بات کو کہ تم لوگ اللہ کے ذمے ایسی بات لگادو جس کو تم جانتے نہیں
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ میرے رب نے تو بے حیائیاں حرام فرمائی ہیں جو ان میں کھلی ہیں اور جو چھپی اور گناہ اور ناحق زیادتی اور یہ کہ اللہ کا شریک کرو جس کی اس نے سند نہ اتاری اور یہ کہ اللہ پر وہ بات کہو جس کا علم نہیں رکھتے،
علامہ محمد حسین نجفی
تم کہہ دو! میرے پروردگار نے صرف بے حیائی و بدکاری کے کاموں کو حرام قرار دیا ہے خواہ ظاہری ہوں یا باطنی۔ اور اثم (ہر گناہ یا شراب) کو اور کسی پر ناحق زیادتی کو اور یہ کہ کسی کو اللہ کا شریک بناؤ جس کے لئے اللہ نے کوئی دلیل نہیں اتاری اور یہ کہ اللہ کے بارے میں کوئی ایسی بات کہو جس کا تمہیں علم و یقین نہ ہو۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے میرے رب نے تو صرف بے حیائیوں کو حرام کیا ہے، جو ان میں سے ظاہر ہیں اور جو چھپی ہوئی ہیں اور گناہ کو اور ناحق زیادتی کو اور یہ کہ تم اللہ کے ساتھ اسے شریک ٹھہرائو جس کی اس نے کوئی دلیل نہیں اتاری اور یہ کہ تم اللہ پر وہ کہو جو تم نہیں جانتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اثم اور بغی، کیا فرق ہے؟ ٭٭

بخاری و مسلم میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: { اللہ سے زیادہ غیرت والا کوئی نہیں۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4634] ‏‏‏‏ سورۃ الانعام میں چھپی کھلی بےحیائیوں کے متعلق پوری تفسیر گزر چکی ہے اور اللہ تعالیٰ نے ہر گناہ کو حرام کر دیا ہے اور ناحق ظلم و تعدی، سرکشی اور غرور کو بھی اس نے حرام کیا ہے۔ پس «اثم» سے مراد ہر وہ گناہ ہے جو انسان آپ کرے اور «بغی» سے مراد وہ گناہ ہے جس میں دوسرے کا نقصان کرے یا اس کی حق تلفی کرے۔ اسی طرح رب کی عبادت میں کسی کو شریک کرنا بھی حرام ہے اور ذات حق پر بہتان باندھنا بھی۔ مثلاً اس کی اولاد بتانا وغیرہ۔ خلاف واقعہ باتیں بھی جہالت کی باتیں ہیں۔ جیسے فرمان ہے «فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ» ۱؎ [22-الحج:30] ‏‏‏‏ ’ بتوں کی نجاست سے بچو۔ ‘
33۔ 1 1 اعلانیہ فحش باتوں سے مراد بعض کے نزدیک طوائفوں کے اڈوں پر جا کر بدکاری اور پوشیدہ سے مراد کسی ' گرل فرینڈ ' سے خصوصی تعلق قائم کرنا ہے، بعض کے نزدیک اول الذکر سے مراد محرموں سے نکاح کرنا ہے جو ممنوع ہے، اس میں ہر قسم کی ظاہری بےحیائی کو شامل ہے، جیسے فلمیں، ڈرامے، ٹیوی، وی سی آر فحش اخبارات و رسائل، رقص و سرور اور مجروں کی محفلیں، عورتوں کی بےپردگی اور مردوں سے ان کا بےباکانہ اختلاط، مہندی اور شادی کی رسموں میں بےحیائی کے کھلے عام مظاہرہ وغیرہ یہ سب فواحش ظاہرہ ہیں 33۔ 2 گناہ اللہ کی نافرمانی کا نام ہے اور ایک حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گناہ وہ ہے جو تیرے سینے میں کھٹکے اور لوگوں کے اس پر مطلع ہونے کو تو برا سمجھے، بعض کہتے ہیں گناہ وہ ہے جس کا اثر کرنے والے کی اپنی ذات تک محدود ہو اور بغی یہ ہے کہ اس کے اثرات دوسروں تک بھی پہنچیں یہاں بغی کے ساتھ بغیر الحق کا مطلب ناحق ظلم و زیادتی مثلا لوگوں کا حق غضب کرلینا، کسی کا مال ہتھیالینا ناجائز مارنا پیٹنا اور سب وشتم کر کے بےعزتی کرنا وغیرہ ہے۔
(آیت 33) {قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ ……:} اوپر کی آیت میں یہ بیان فرمایا کہ لوگوں نے اپنی طرف سے بہت سی چیزیں حرام کر رکھی تھیں، اب اس آیت میں اصل حرام چیزوں کو بیان فرما دیا۔ (رازی) {”الْفَوَاحِشَ“} یہ {”فَاحِشَةٌ “} کی جمع ہے اور انتہائی قبیح فعل کو کہتے ہیں۔ {”الْاِثْمَ“} سے تمام چھوٹے بڑے گناہ مراد ہیں اور شراب کو بھی {”اِثْمٌ “} کہہ لیتے ہیں اور {”الْبَغْيَ“} کے معنی لوگوں پر ظلم اور زیادتی کے ہیں۔ الغرض یہاں محرمات کی پانچ قسمیں بیان فرمائی ہیں اور وہ بھی {”اِنَّمَا“} کلمۂ حصر کے ساتھ۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ ان کے علاوہ اور کوئی چیز حرام نہیں ہے، حالانکہ بہت سی دوسری اشیاء کی حرمت بھی قرآن و حدیث میں مذکور ہے۔ رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دراصل جنایات (جرائم، قصور، زیادتیاں) پانچ ہی قسم کی ہیں، پہلی نسب پر جنایت ہے، اس کا سبب زنا (اور اس سے ملتی جلتی چیزیں) ہے۔ {” الْفَوَاحِشَ “} سے یہی مراد ہے۔ دوسری عقل پر جنایت جس کے دوسرے معنی شراب نوشی کے ہیں اور{” الْاِثْمَ “} میں اس کی طرف اشارہ ہے۔ تیسری عزت پر جنایت، چوتھی جان و مال پر جنایت اور {” الْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ “} میں ان دونوں کی حرمت کی طرف اشارہ ہے۔ پانچویں دین پر جنایت اور یہ دو قسم کی ہے: (1) توحید میں طعن کرنا جس کی طرف «وَ اَنْ تُشْرِكُوْا بِاللّٰهِ» ‏‏‏‏ سے اشارہ فرمایا ہے۔ (2) اور بغیر علم کے اﷲ کے ذمے بات لگانا اور فتویٰ دینا جس کی طرف «اَنْ تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ» سے اشارہ فرمایا ہے۔ غرض کہ تمام جرائم اور جنایات میں یہ پانچ چیزیں اصول کی حیثیت رکھتی ہیں اور باقی ان کی شاخیں اور ان کے تحت آنے والی چیزیں ہیں، اس بنا پر{ ” اِنَّمَا “} کے ساتھ حصر صحیح ہے اور اس پر کوئی اعتراض لازم نہیں آتا۔ (کبیر) یاد رہے کہ اﷲ کے ذمے بات لگانے میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے بات لگانا بھی شامل ہے کیونکہ وہ اﷲ ہی کی بات ہے، اسی لیے جو جان بوجھ کر ان پر جھوٹ لگائے اس کا ٹھکانا جہنم ہے۔ رازی رحمہ اللہ کے جواب کے لاجواب ہونے میں شک نہیں، مگر ایک سادہ جواب یہ ہے کہ {” الْاِثْمَ “} میں ہر گناہ آ جاتا ہے، اس لیے {” اِنَّمَا “} کے ساتھ حصر پر کوئی اعتراض لازم نہیں آتا۔
وَ لِکُلِّ اُمَّۃٍ اَجَلٌ ۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُہُمۡ لَا یَسۡتَاۡخِرُوۡنَ سَاعَۃً وَّ لَا یَسۡتَقۡدِمُوۡنَ ﴿۳۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہر قوم کے لیے مہلت کی ایک مدت مقرر ہے، پھر جب کسی قوم کی مدت آن پوری ہوتی ہے تو ایک گھڑی بھر کی تاخیر و تقدیم بھی نہیں ہوتی
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہر گروه کے لئے ایک میعاد معین ہے سو جس وقت ان کی میعاد معین آجائے گی اس وقت ایک ساعت نہ پیچھے ہٹ سکیں گے اور نہ آگے بڑھ سکیں گے
احمد رضا خان بریلوی
اور ہر گروہ کا ایک وعدہ ہے تو جب ان کا وعدہ آئے گا ایک گھڑی نہ پیچھے ہو نہ آگے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہر امت (قوم) کے لئے ایک وقت مقرر ہوتا ہے۔ پس جب وہ مقررہ وقت آجاتا ہے تو نہ وہ ایک ساعت کے لیے پیچھے ہٹ سکتے ہیں اور نہ ایک ساعت آگے بڑھ سکتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہر امت کے لیے ایک وقت ہے، پھر جب ان کا وقت آجاتا ہے تو وہ ایک گھڑی نہ پیچھے ہوتے ہیں اور نہ آگے ہوتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
موت کی ساعت طے شدہ اور اٹل ہے ٭٭

ہر زمانے اور ہر زمانے والوں کے لیے اللہ کی طرف سے انتہائی مدت مقرر ہے جو کسی طرح ٹل نہیں سکتی۔ ناممکن ہے کہ اس سے ایک منٹ کی تاخیر ہو یا ایک لمحے کی جلدی ہو۔ انسانوں کو ڈراتا ہے کہ جب وہ رسولوں سے ڈرانا اور رغبت دلانا سنیں تو بدکاریوں کو ترک کر دیں اور اللہ کی اطاعت کی طرف جھک جائیں۔ جب وہ یہ کریں گے تو وہ ہر کھٹکے، ہر ڈر سے، ہر خوف اور ناامیدی سے محفوظ ہو جائیں گے اور اگر اس کے خلاف کیا۔ نہ دل سے مانا، نہ عمل کیا تو وہ دوزخ میں جائیں گے اور وہیں پڑے جھلستے رہیں گے۔
34۔ 1 میعاد معین سے مراد وہ مہلت عمل ہے جو اللہ و تبارک و تعالیٰ ہر گروہ کو آزمانے کے لئے عطا فرماتا ہے کہ وہ اس مہلت سے فائدہ اٹھا کر اللہ کو راضی کرنے کی کوشش کرتا ہے یا اس کی بغاوت و سرکشی میں مزید اضافہ ہوتا ہے یہ مہلت بعض دفعہ ان کی پوری زندگیوں تک محدود ہوتی ہے۔ یعنی دینوی زندگی میں وہ گرفت نہیں فرماتا بلکہ صرف آخرت میں ہی سزا دے گا ان کی اجل مسمی قیامت کا دن ہی ہے اور جن کو دنیا میں وہ عذاب سے دوچار کردیتا ہے، ان کی اجل مسمٰی وہ ہے۔ جب ان کا مواخذہ فرماتا ہے۔
(آیت 34تا36){ وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ ……:} پہلی آیت میں بیان فرمایا کہ ہر ایک کے لیے ایک وقت مقرر ہے جو آگے پیچھے نہیں ہو سکتا، دوسری آیت میں بتایا کہ جو لوگ فرماں بردار ہوں گے مرنے کے بعد ان پر کسی قسم کا خوف اور حزن نہیں ہو گا، مگر جو سرکش ہوں گے وہ سخت عذاب میں گرفتار ہوں گے۔ اسی قسم کا خطاب سورۂ بقرہ میں آدم علیہ السلام کے قصے کے آخر میں بھی مذکور ہے۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (39،38)۔
یٰبَنِیۡۤ اٰدَمَ اِمَّا یَاۡتِیَنَّکُمۡ رُسُلٌ مِّنۡکُمۡ یَقُصُّوۡنَ عَلَیۡکُمۡ اٰیٰتِیۡ ۙ فَمَنِ اتَّقٰی وَ اَصۡلَحَ فَلَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ ﴿۳۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
(اور یہ بات اللہ نے آغاز تخلیق ہی میں صاف فرما دی تھی کہ) اے بنی آدم، یاد رکھو، اگر تمہارے پاس خود تم ہی میں سے ایسے رسول آئیں جو تمہیں میری آیات سنا رہے ہوں، تو جو کوئی نافرمانی سے بچے گا اور اپنے رویہ کی اصلاح کر لے گا اس کے لیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اے اوﻻد آدم! اگر تمہارے پاس پیغمبر آئیں جو تم ہی میں سے ہوں جو میرے احکام تم سے بیان کریں تو جو شخص تقویٰ اختیار کرے اور درستی کرے سو ان لوگوں پر نہ کچھ اندیشہ ہے اور نہ وه غمگین ہوں گے
احمد رضا خان بریلوی
اے آدم کی اولاد! اگر تمہارے پاس تم میں کے رسول آئیں میری آیتیں پڑھتے تو جو پرہیزگاری کرے اور سنورے تو اس پر نہ کچھ خوف اور نہ کچھ غم،
علامہ محمد حسین نجفی
اے اولادِ آدم اگر تمہارے پاس تم ہی سے میرے کچھ رسول آئیں جو تمہیں میری آیات پڑھ کر سنائیں (اور میرے احکام تم تک پہنچائیں) تو جو شخص پرہیزگاری اختیار کرے گا۔ اور اپنی اصلاح کرے گا۔ ان کے لئے نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اے آدم کی اولاد! اگر کبھی تمھارے پاس واقعی تم میں سے کچھ رسول آئیں، جو تمھارے سامنے میری آیات بیان کریں تو جو شخص ڈر گیا اور اس نے اصلاح کر لی تو ان پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غم کھائیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
موت کی ساعت طے شدہ اور اٹل ہے ٭٭

ہر زمانے اور ہر زمانے والوں کے لیے اللہ کی طرف سے انتہائی مدت مقرر ہے جو کسی طرح ٹل نہیں سکتی۔ ناممکن ہے کہ اس سے ایک منٹ کی تاخیر ہو یا ایک لمحے کی جلدی ہو۔ انسانوں کو ڈراتا ہے کہ جب وہ رسولوں سے ڈرانا اور رغبت دلانا سنیں تو بدکاریوں کو ترک کر دیں اور اللہ کی اطاعت کی طرف جھک جائیں۔ جب وہ یہ کریں گے تو وہ ہر کھٹکے، ہر ڈر سے، ہر خوف اور ناامیدی سے محفوظ ہو جائیں گے اور اگر اس کے خلاف کیا۔ نہ دل سے مانا، نہ عمل کیا تو وہ دوزخ میں جائیں گے اور وہیں پڑے جھلستے رہیں گے۔
35۔ 1 یہ ان اہل ایمان کا حسن انجام بیان کیا گیا ہے جو تقوے ٰ اور عمل صالح سے آراستہ ہوں گے۔ قرآن نے ایمان کے ساتھ، اکثر جگہ، عمل صالح کا ذکر ضرور کیا ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ عند اللہ ایمان وہی معتبر ہے جس کے ساتھ عمل بھی ہوگا۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَ الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا وَ اسۡتَکۡبَرُوۡا عَنۡہَاۤ اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ النَّارِ ۚ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۳۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور جو لوگ ہماری آیات کو جھٹلائیں گے اور ان کے مقابلہ میں سرکشی برتیں گے وہی اہل دوزخ ہوں گے جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جو لوگ ہمارے ان احکام کو جھٹلائیں اور ان سے تکبر کریں وه لوگ دوزخ والے ہوں گے وه اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے
احمد رضا خان بریلوی
اور جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں اور ان کے مقابل تکبر کیا وہ دوز خی ہیں انہیں اس میں ہمیشہ رہنا،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو لوگ ہماری آیتوں کو جھٹلائیں گے اور ان کے مقابلہ میں تکبر کریں گے وہی لوگ جہنم والے ہوں گے جو اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور انھیں ماننے سے تکبر کیا، وہی آگ والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
موت کی ساعت طے شدہ اور اٹل ہے ٭٭

ہر زمانے اور ہر زمانے والوں کے لیے اللہ کی طرف سے انتہائی مدت مقرر ہے جو کسی طرح ٹل نہیں سکتی۔ ناممکن ہے کہ اس سے ایک منٹ کی تاخیر ہو یا ایک لمحے کی جلدی ہو۔ انسانوں کو ڈراتا ہے کہ جب وہ رسولوں سے ڈرانا اور رغبت دلانا سنیں تو بدکاریوں کو ترک کر دیں اور اللہ کی اطاعت کی طرف جھک جائیں۔ جب وہ یہ کریں گے تو وہ ہر کھٹکے، ہر ڈر سے، ہر خوف اور ناامیدی سے محفوظ ہو جائیں گے اور اگر اس کے خلاف کیا۔ نہ دل سے مانا، نہ عمل کیا تو وہ دوزخ میں جائیں گے اور وہیں پڑے جھلستے رہیں گے۔
36۔ 1 اس میں اہل ایمان کے برعکس ان لوگوں کا برا انجام بیان کیا گیا ہے جو اللہ کے احکام کو جھٹلاتے اور ان کے مقابلے میں استکبار کرتے ہیں۔ اہل ایمان اور اہل کفر دونوں کا انجام بیان کرنے سے مقصود یہ ہے کہ لوگ اس کردار کو اپنائیں جس کا انجام اچھا ہے اور اس کردار سے بچیں جس کا انجام برا ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
فَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اَوۡ کَذَّبَ بِاٰیٰتِہٖ ؕ اُولٰٓئِکَ یَنَالُہُمۡ نَصِیۡبُہُمۡ مِّنَ الۡکِتٰبِ ؕ حَتّٰۤی اِذَا جَآءَتۡہُمۡ رُسُلُنَا یَتَوَفَّوۡنَہُمۡ ۙ قَالُوۡۤا اَیۡنَ مَا کُنۡتُمۡ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ ؕ قَالُوۡا ضَلُّوۡا عَنَّا وَ شَہِدُوۡا عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمۡ اَنَّہُمۡ کَانُوۡا کٰفِرِیۡنَ ﴿۳۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ظاہر ہے کہ اُس سے بڑا ظالم اور کو ن ہو گا جو بالکل جھوٹی باتیں گھڑ کر اللہ کی طرف منسوب کرے یا اللہ کی سچی آیات کو جھٹلائے ایسے لوگ اپنے نوشتہ تقدیر کے مطابق اپنا حصہ پاتے رہیں گے، یہاں تک کہ وہ گھڑی آ جائے گی جب ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے ان کی روحیں قبض کرنے کے لیے پہنچیں گے اُس وقت وہ اُن سے پوچھیں گے کہ بتاؤ، اب کہاں ہیں تمہارے وہ معبود جن کو تم کو خدا کے بجائے پکارتے تھے؟ وہ کہیں گے کہ، "سب ہم سے گم ہو گئے" اور وہ خود اپنے خلاف گواہی دیں گے کہ ہم واقعی منکر حق تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
سو اس شخص سے زیاده ﻇالم کون ہوگا جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھے یا اس کی آیتوں کو جھوٹا بتائے، ان لوگوں کے نصیب کا جو کچھ کتاب سے ہے وه ان کو مل جائے گا، یہاں تک کہ جب ان کے پاس ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے ان کی جان قبض کرنے آئیں گے تو کہیں گے کہ وه کہاں گئے جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے تھے، وه کہیں گے کہ ہم سے سب غائب ہوگئے اور اپنے کافر ہونے کا اقرار کریں گے
احمد رضا خان بریلوی
تو اس سے بڑھ کر ظالم کون جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا یا اس کی آیتیں جھٹلائیں، انہیں ان کے نصیب کا لکھا پہنچے گا یہاں تک کہ جب ان کے پاس ہمارے بھیجے ہوئے ان کی جان نکالنے آئیں تو ان سے کہتے ہیں کہاں ہیں وہ جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے تھے، کہتے ہیں وہ ہم سے گم گئے اور اپنی جانوں پر آپ گواہی دیتے ہیں کہ وہ کافر تھے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا جو اللہ پر جھوٹا بہتان باندھے (خود جھوٹی باتیں گھڑ کر اس کی طرف منسوب کرے) یا اس کی آیتوں کو جھٹلائے، ایسے لوگوں کو نوشتۂ کتاب (اپنے مقدر) کا حصہ تو ملے گا۔ لیکن جب ان کے پاس ہمارے فرستادہ (فرشتے) ان کی روحوں کو قبض کرنے کے لیے آئیں گے تو وہ ان سے کہیں گے۔ (آج) وہ کہاں ہیں جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے تھے؟ وہ جواب دیں گے کہ وہ تو ہم سے غائب ہوگئے اور وہ خود اپنے خلاف گواہی دیں گے کہ بے شک وہ کافر تھے۔
عبدالسلام بن محمد
پھر اس سے بڑا ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے، یا اس کی آیات کو جھٹلائے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھیں لکھے ہوئے میں سے ان کا حصہ ملے گا، یہاں تک کہ جب ان کے پاس ہمارے بھیجے ہوئے آئیں گے، جو انھیں قبض کریں گے تو کہیں گے کہاں ہیں وہ جنھیں تم اللہ کے سوا پکارتے تھے؟ کہیں گے وہ ہم سے گم ہوگئے اور وہ اپنے آپ پر شہادت دیں گے کہ وہ کافر تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ پر بہتان لگانے والا سب سے بڑا ظالم ہے ٭٭

واقعہ یہ ہے کہ سب سے بڑا ظالم وہ ہے جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹا بہتان باندھے اور وہ بھی جو اللہ کے کلام کی آیتوں کو جھوٹا سمجھے، انہیں ان کا مقدر ملے گا۔ اس کے معنی ایک تو یہ ہیں کہ انہیں سزا ہو گی، ان کے منہ کالے ہوں گے، ان کے اعمال کا بدلہ مل کر رہے گا۔ اللہ کے وعدے وعید پورے ہو کر رہیں گے۔ دوسرے معنی یہ ہیں کہ ان کی عمر، عمل، رزق جو لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے وہ دنیا میں تو ملے گا۔ یہ قول قوی معلوم ہوتا ہے کیونکہ اس کے بعد کا جملہ اس کی تائید کرتا ہے۔ اسی مطلب کی آیت «إِنَّ الَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّـهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُونَ مَتَاعٌ فِي الدُّنْيَا ثُمَّ إِلَيْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ نُذِيقُهُمُ الْعَذَابَ الشَّدِيدَ بِمَا كَانُوا يَكْفُرُونَ» ۱؎ [10-يونس:69-70] ‏‏‏‏ ہے کہ ’ اللہ پر جھوٹ باتیں گھڑ لینے والے فلاح کو نہیں پاتے، گو دنیا میں کچھ فائدہ اٹھا لیں لیکن آخر کار ہمارے سامنے ہی پیش ہوں گے، اس وقت ان کے کفر کے بدلے ہم انہیں سخت سزا دیں گے۔ ‘ ایک اور آیت میں ہے: کافروں کے کفر سے تو غمگین نہ ہو، ان کا لوٹنا ہماری جانب ہی ہو گا، پھر ہم خود انہیں ان کے کرتوت سے آگاہ کر دیں گے۔ اللہ تعالیٰ دلوں کے بھیدوں سے واقف ہے، وہ تھوڑا سا دنیوی فائدہ اٹھا لیں، الخ۔ پھر فرمایا کہ ”ان کی روحوں کو قبض کرنے کیلئے ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے آتے ہیں تو ان کو بطور طنز کہتے ہیں کہ اب اپنے معبودوں کو کیوں نہیں پکارتے کہ وہ تمہیں اس عذاب سے بچا لیں، آج وہ کہاں ہیں؟ تو یہ نہایت حسرت سے جواب دیتے ہیں کہ افسوس وہ تو کھو گئے، ہمیں ان سے اب کسی نفع کی امید نہیں رہی۔ پس اپنے کفر کا آپ ہی اقرار کر کے مرتے ہیں۔“
37۔ 1 اسکے مختلف معنی کئے گئے ہیں۔ ایک معنی عمل، رزق اور عمر کے کئے گئے ہیں۔ یعنی ان کے مقدر میں جو عمر اور رزق ہے اسے پورا کرلینے اور جتنی عمر ہے، اس کو گزار لینے کے بعد بالآخر موت سے ہمکنار ہونگے۔ اسی کے ہم معنی یہ آیت ہے: (اِنَّ الَّذِيْنَ يَفْتَرُوْنَ عَلَي اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُوْنَ 69؀ مَتَاعٌ فِي الدُّنْيَا ثُمَّ اِلَيْنَا مَرْجِعُھُمْ ثُمَّ نُذِيْقُھُمُ الْعَذَاب الشَّدِيْدَ بِمَا كَانُوْا يَكْفُرُوْنَ 70؀) 10۔ یونس:70-69) جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں وہ کامیاب نہیں ہونگے، دنیا کا چند روزہ فائدہ اٹھا کر، بالآخر ہمارے پاس ہی انہیں لوٹ کر آنا ہے۔
(آیت 37) ➊ {فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا......: } اس کا تعلق اوپر کی آیت: «وَ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا» سے ہے، یعنی یہ دو قسم کے لوگ تو بہت ہی بڑے ظالم ہیں، پہلی قسم میں نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنے والے یا اﷲ کا شریک بنانے والے، یا اﷲ تعالیٰ کی طرف کسی حکم کی جھوٹی نسبت کرنے والے، (اس میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کسی بات کی جھوٹی نسبت کرنے والے بھی شامل ہیں) اور دوسری قسم میں تمام وہ لوگ شامل ہیں جو قرآن کے کتاب الٰہی ہونے سے انکار کرتے ہیں، یا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے منکر ہیں۔ ➋ { اُولٰٓىِٕكَ يَنَالُهُمْ نَصِيْبُهُمْ مِّنَ الْكِتٰبِ:} یعنی اﷲ تعالیٰ نے کتاب ” لوح محفوظ“ میں ان کا جو حصہ عمر، رزق، راحت یا رنج وغیرہ کا لکھا ہے وہ انھیں ملے گا اور ان کے ظلم اور بدکاری کے باوجود اس میں کمی نہیں کی جائے گی کہ شاید توبہ کر لیں، یہاں تک کہ جب ان کے پاس ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے ان کی روحیں قبض کرنے کے لیے آئیں گے تو انھیں ڈانٹتے ہوئے کہیں گے کہ کہاں ہیں وہ جنھیں تم اﷲ کے سوا پکارتے تھے؟ وہ کہیں گے کہ وہ تو ہم سے گم ہو گئے اور وہ اپنے آپ پر شہادت دیں گے کہ واقعی وہ کافر تھے۔ یہ آیت صریح نص ہے کہ اﷲ کے سوا کسی کو بھی پکارنا، اس سے مدد مانگنا، فریاد کرنا، استغاثہ کرنا، اسے غوث یا مشکل کشا کہنا یا سمجھنا کفر ہے، خواہ وہ اﷲ کے سوا کتنی بڑی ہستی کوئی فرشتہ یا رسول یا ولی ہو۔ قیامت کے دن وہ حضرات ان کو منہ بھی نہیں دکھائیں گے اور اﷲ کے سوا کسی کو پکارنے والے خود اپنے آپ پر شہادت دیں گے کہ واقعی ہم کافر تھے اور ایمان سے محروم تھے۔ ایک دفعہ غیر اﷲ کو پکارنے والوں سے گفتگو کے موقع پر مولانا احمد دین گکھڑوی رحمہ اللہ نے ندائے غیر اﷲ کے کفر ہونے کی دلیل کے لیے یہ آیت پڑھی اور آخر گفتگو تک اسی پر قائم رہے۔ غیر اﷲ کو پکارنے والوں میں سے کوئی بھی اس آیت کا جواب نہیں دے سکا تھا۔ افسوس ہوتا ہے کہ قرآن مجید میں ایسی واضح آیات کے ہوتے ہوئے مسلمان کہلانے والے بعض علماء اور ان کے پیروکار غیر اﷲ کو پکارتے ہیں، ان سے مدد طلب کرتے ہیں، کوئی {” يَا رَسُوْلُ اللّٰهِ! اَغِثْنِيْ “} کہتا ہے، کوئی یا علی مدد کہتا ہے، کوئی شیخ عبد القادر کو مدد کے لیے پکارتا ہے، پھر بھی ایسے لوگ اپنے آپ کو مسلمان اور موحدین کو کافر قرار دیتے ہیں۔ بہرحال قیامت کچھ دور نہیں ہے۔
قَالَ ادۡخُلُوۡا فِیۡۤ اُمَمٍ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ مِّنَ الۡجِنِّ وَ الۡاِنۡسِ فِی النَّارِ ؕ کُلَّمَا دَخَلَتۡ اُمَّۃٌ لَّعَنَتۡ اُخۡتَہَا ؕ حَتّٰۤی اِذَا ادَّارَکُوۡا فِیۡہَا جَمِیۡعًا ۙ قَالَتۡ اُخۡرٰىہُمۡ لِاُوۡلٰىہُمۡ رَبَّنَا ہٰۤؤُلَآءِ اَضَلُّوۡنَا فَاٰتِہِمۡ عَذَابًا ضِعۡفًا مِّنَ النَّارِ ۬ؕ قَالَ لِکُلٍّ ضِعۡفٌ وَّ لٰکِنۡ لَّا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۳۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اللہ فرمائے گا جاؤ، تم بھی اسی جہنم میں چلے جاؤ جس میں تم سے پہلے گزرے ہوئے گروہ جن و انس جا چکے ہیں ہر گروہ جب جہنم میں داخل ہوگا تو اپنے پیش رو گروہ پر لعنت کرتا ہوا داخل ہوگا، حتیٰ کہ جب سب وہاں جمع ہو جائیں گے تو ہر بعد والا گروہ پہلے گروہ کے حق میں کہے گا کہ اے رب، یہ لوگ تھے جنہوں نے ہم کو گمراہ کیا لہٰذا انہیں آگ کا دوہرا عذاب دے جواب میں ارشاد ہوگا، ہر ایک کے لیے دوہرا ہی عذاب ہے مگر تم جانتے نہیں ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ جو فرقے تم سے پہلے گزر چکے ہیں جنات میں سے بھی اور آدمیوں میں سے بھی، ان کے ساتھ تم بھی دوزخ میں جاؤ۔ جس وقت بھی کوئی جماعت داخل ہوگی اپنی دوسری جماعت کو لعنت کرے گی یہاں تک کہ جب اس میں سب جمع ہوجائیں گے تو پچھلے لوگ پہلے لوگوں کی نسبت کہیں گے کہ ہمارے پروردگار ہم کو ان لوگوں نے گمراه کیا تھا سو ان کو دوزخ کا عذاب دو گنا دے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ سب ہی کا دوگنا ہے، لیکن تم کو خبر نہیں
احمد رضا خان بریلوی
اللہ ان سے فرماتا ہے کہ تم سے پہلے جو اور جماعتیں جن اور آدمیوں کی آگ میں گئیں، انہیں میں جاؤ جب ایک گروہ داخل ہوتا ہے دوسرے پر لعنت کرتا ہے یہاں تک کہ جب سب اس میں جا پڑے تو پچھلے پہلوں کو کہیں گے اے رب ہمارے! انہوں نے ہم کو بہکایا تھا تو انہیں آگ کا دُونا عذاب دے، فرمائے گا سب کو دُونا ہے مگر تمہیں خبر نہیں
علامہ محمد حسین نجفی
ارشاد ہوگا تم بھی اسی جہنم میں داخل ہو جاؤ جس میں تم سے پہلے گزرے ہوئے جن و انس کے گروہ داخل ہو چکے ہیں (اور) جب بھی کوئی (جہنم میں) داخل ہوگا تو اپنے ساتھ (پیش رو) گروہ پر لعنت کرے گا۔ یہاں تک کہ جب سب وہاں جمع ہو جائیں گے (سب واصلِ جہنم ہو جائیں گے) تو بعد والا گروہ پہلے گروہ کے بارے میں کہے گا اے پروردگار! انہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا اس لئے انہیں دوزخ کا دوگنا عذاب دے۔ ارشاد ہوگا ہر ایک کے لئے دونا عذاب ہے لیکن تم جانتے نہیں ہو۔
عبدالسلام بن محمد
فرمائے گا ان جماعتوں کے ہمراہ جو جنوں اور انسانوں میں سے تم سے پہلے گزر چکی ہیں، آگ میں داخل ہو جائو۔ جب بھی کوئی جماعت داخل ہوگی اپنے ساتھ والی کو لعنت کرے گی، یہاں تک کہ جس وقت سب ایک دوسرے سے آملیں گے تو ان کی پچھلی جماعت اپنے سے پہلی جماعت کے متعلق کہے گی اے ہمارے رب! ان لوگوں نے ہمیں گمراہ کیا، تو انھیں آگ کا دگنا عذاب دے۔ فرمائے گا سبھی کے لیے دگنا ہے اور لیکن تم نہیں جانتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کفار کی گردنوں میں طوق ٭٭

اللہ تعالیٰ قیامت کے دن مشرکوں کو جو اللہ پر افتراء باندھتے تھے، اس کی آیتوں کو جھٹلاتے تھے، فرمائے گا کہ تم بھی اپنے جیسوں کے ساتھ جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں خواہ وہ جنات میں سے ہوں خواہ انسانوں میں سے جہنم میں جاؤ۔ «فِي النَّارِ» یا تو «فِي أُمَمٍ» کا بدل ہے یا «فِي أُمَمٍ» میں «فِي» معنی میں «مع» کے ہے۔ ہر گروہ اپنے ساتھ کے اپنے جیسے گروہ پر لعنت کرے گا۔ جیسے کہ خلیل اللہ علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ ”تم ایک دوسرے سے اس روز کفر کرو گے۔“ الخ اور آیت میں ہے «إِذْ تَبَرَّأَ الَّذِينَ اتُّبِعُوا مِنَ الَّذِينَ اتَّبَعُوا وَرَأَوُا الْعَذَابَ وَتَقَطَّعَتْ بِهِمُ الْأَسْبَابُ وَقَالَ الَّذِينَ اتَّبَعُوا لَوْ أَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَتَبَرَّأَ مِنْهُمْ كَمَا تَبَرَّءُوا مِنَّا كَذَٰلِكَ يُرِيهِمُ اللَّـهُ أَعْمَالَهُمْ حَسَرَاتٍ عَلَيْهِمْ وَمَا هُم بِخَارِجِينَ مِنَ النَّارِ» ۱؎ [2-البقرة:166-167] ‏‏‏‏ یعنی ’ وہ ایسا برا وقت ہو گا کہ گرو اپنے چیلوں سے دست بردار ہو جائیں گے، عذابوں کو دیکھتے ہی آپس کے سارے تعلقات ٹوٹ جائیں گے۔ مرید لوگ اس وقت کہیں گے کہ اگر ہمیں بھی یہاں سے پھر واپس دنیا میں جانا مل جائے تو جیسے یہ لوگ ہم سے بیزار ہیں، ہم بھی ان سے بالکل ہی دست بردار ہو جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ اسی طرح ان کے کرتوت ان کے سامنے لائے گا جو ان کے لئے سراسر موجب حسرت ہوں گے اور یہ دوزخ سے کبھی آزاد نہ ہوں گے۔ ‘

یہاں فرماتا ہے کہ جب یہ سارے کے سارے جہنم میں جا چکیں گے تو پچھلے یعنی تابعدار اور مرید اور تقلید کرنے والے اگلوں سے یعنی جن کی وہ مانتے رہے، ان کی بابت اللہ تعالیٰ سے فریاد کریں گے۔ اس سے ظاہر ہے کہ یہ گمراہ کرنے والے ان سے پہلے ہی جہنم میں موجود ہوں گے کیونکہ ان کا گناہ بھی بڑھا ہوا تھا۔ کہیں گے کہ یااللہ! انہیں دگنا عذاب کر۔ چنانچہ اور آیت میں ہے «يَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوهُهُمْ فِي النَّارِ يَقُولُونَ يَا لَيْتَنَا أَطَعْنَا اللَّـهَ وَأَطَعْنَا الرَّسُولَا وَقَالُوا رَبَّنَا إِنَّا أَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاءَنَا فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا رَبَّنَا آتِهِمْ ضِعْفَيْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَالْعَنْهُمْ لَعْنًا كَبِيرًا» ۱؎ [33-الأحزاب:66] ‏‏‏‏ ’ جبکہ ان کے چہرے آتش جہنم میں ادھر سے ادھر جھلسے جاتے ہوں گے۔ اس وقت حسرت و افسوس کرتے ہوئے کہیں گے کہ کاش کہ ہم اللہ کے رسول کے مطیع ہوتے۔ یااللہ! ہم نے اپنے سرداروں اور بڑوں کی تابعداری کی جنہوں نے ہمیں گمراہ کر دیا۔ یااللہ! انہیں دگنا عذاب کر۔ ‘ انہیں جواب ملا کہ ہر ایک کے لئے دگنا ہے۔ یعنی ہر ایک کو اس کی برائیوں کا پورا پورا بدلہ مل چکا ہے۔ جیسے فرمان ہے «اَلَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ زِدْنٰهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا يُفْسِدُوْن» ۱؎ [16-النحل:88] ‏‏‏‏ ’ جنہوں نے کفر کیا اور راہ رب سے روکا، ان کا ہم اب عذاب اور زیادہ کریں گے۔ ‘ اور آیت میں ہے «وَلَيَحْمِلُنَّ اَثْــقَالَهُمْ وَاَثْــقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ ۡ وَلَيُسْـَٔــلُنَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ عَمَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ» ۱؎ [29-العنكبوت:13] ‏‏‏‏ یعنی ’ اپنے بوجھ کے ساتھ ان کے بوجھ بھی اٹھائیں گے۔ ‘ اور آیت میں ہے: ان کے بوجھ ان پر لادے جائیں گے جن کو انہوں نے بےعلمی سے گمراہ کیا۔

اب وہ جن کی مانی جاتی رہی، اپنے ماننے والوں سے کہیں گے کہ جیسے ہم گمراہ تھے، تم بھی گمراہ ہوئے۔ اب اپنے کرتوت کا بدلہ اٹھاؤ۔ اور آیت میں ہے «وَلَوْ تَرَىٰ إِذِ الظَّالِمُونَ مَوْقُوفُونَ عِندَ رَبِّهِمْ يَرْجِعُ بَعْضُهُمْ إِلَىٰ بَعْضٍ الْقَوْلَ يَقُولُ الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا لَوْلَا أَنتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِينَ قَالَ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا لِلَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا أَنَحْنُ صَدَدْنَاكُمْ عَنِ الْهُدَىٰ بَعْدَ إِذْ جَاءَكُم بَلْ كُنتُم مُّجْرِمِينَ وَقَالَ الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا بَلْ مَكْرُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ إِذْ تَأْمُرُونَنَا أَن نَّكْفُرَ بِاللَّـهِ وَنَجْعَلَ لَهُ أَندَادًا وَأَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَأَوُا الْعَذَابَ وَجَعَلْنَا الْأَغْلَالَ فِي أَعْنَاقِ الَّذِينَ كَفَرُوا هَلْ يُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ» ۱؎ [34-سبأ:31-33] ‏‏‏‏ ’ کاش کہ تو دیکھتا جب کہ یہ گنہگار اللہ کے سامنے کھڑے ہوئے ہوں گے۔ ایک دوسرے پر الزام رکھ رہے ہوں گے۔ ضعیف لوگ متکبروں سے کہیں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم مومن بن جاتے۔ وہ جواب دیں گے کہ کیا ہم نے تمہیں ہدایت سے روکا تھا؟ وہ تو تمہارے سامنے کھلی ہوئی موجود تھی۔ بات یہ ہے کہ تم خود ہی گنہگار، بدکردار تھے۔ یہ پھر کہیں گے کہ نہیں نہیں! تمہاری دن رات کی چالاکیوں نے اور تمہاری اس تعلیم نے (‏‏‏‏کہ ہم اللہ کے ساتھ کفر کریں اور اس کے شریک ٹھہرائیں) ہمیں گم کردہ راہ بنا دیا۔ بات یہ ہے کہ سب کے سب اس وقت سخت نادم ہوں گے لیکن ندامت کو دبانے کی کوشش میں ہوں گے۔ کفار کی گردنوں میں طوق پڑے ہوں گے اور انہیں ان کے اعمال کا بدلہ ضرور دیا جائے گا۔ نہ کم، نہ زیادہ (‏‏‏‏پورا پورا)۔
38۔ 1 امم امۃ کی جمع ہے مراد وہ فرقے اور گروہ ہیں جو کفر شقاق اور شرک و تکذیب میں ایک جیسے ہوں گے۔ فی بمعنی مع بھی ہوسکتا ہے۔ یعنی تم سے پہلے انسانوں اور جنوں میں جو گروہ تم جیسے یہاں آچکے ہیں ان کے ساتھ جہنم میں داخل ہوجاؤ یا ان میں شامل ہوجاؤ۔ (لَّعْنَتُ اُخْتَھَا) اپنی دوسری جماعت کو لعنت کرے گی۔ اُخْت " بہن " کو کہتے ہیں۔ ایک جماعت (امت) کو دوسری جماعت (امت) کی بہن بہ اعتبار دین، یا گمراہی کے کہا گیا۔ یعنی دونوں ہی ایک غلط مذہب کے پیرو یا گمراہ تھے یا جہنم کے ساتھی ہونے کے اعتبار سے ان کو ایک دوسری کی بہن قرار دیا گیا ہے۔ 38۔ 2 اِدَّارَکُوْا کے معنی ہیں تَدَارَکُوْا۔ جب ایک دوسرے کو ملیں گے اور باہم اکٹھے ہونگے۔ 38۔ 3 اخری (پچھلے) سے مراد بعد میں داخل ہونے والے اور اولی (پہلے) سے مراد ان سے پہلے داخل ہونے والے ہیں۔ یا اخری سے مراد اتباع پیروکار اور اولی سے متبوع لیڈر اور سردار مراد ہیں۔ ان کا جرم چونکہ زیادہ شدید ہے کہ خود بھی راہ حق سے دور ہو رہے ہیں اور دوسروں کو بھی کوشش کرکے اس سے دور رکھا، اس لئے یہ اپنے پیرو کاروں سے پہلے جہنم میں جائیں گے۔ 38۔ 4 جس طرح ایک دوسرے مقام پر فرمایا گیا۔ جہنمی کہیں گے، اے ہمارے رب! ہم تو اپنے سرداروں اور بڑوں کے پیچھے لگے رہے، پس انہوں نے ہمیں سیدھے راستے سے گمراہ کیا، یا اللہ ان کو دوگنا عذاب دے اور ان کو بڑی لعنت کر۔ 38۔ 5 یعنی ایک دوسرے کو طعنے دینے، کو سنے اور ایک دوسرے پر الزام دھرنے سے کوئی فائدہ نہیں، تم سب ہی اپنی اپنی جگہ بڑے مجرم ہو اور تم سب ہی دوگنے عذاب کے مستحق ہو۔ ان کا یہ مکالمہ سورة سبا۔ 31، 23 میں بیان کیا گیا ہے۔
(آیت 38) ➊ {قَالَ ادْخُلُوْا فِيْۤ اُمَمٍ ……:} اس میں بھی کفار کی حالت کا بیان ہے، اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام کفار ایک ساتھ جہنم میں نہیں جائیں گے، بلکہ ان میں سے کچھ پہلے ہوں گے، کچھ بعد میں جائیں گے۔ (رازی) ➋ { كُلَّمَا دَخَلَتْ اُمَّةٌ لَّعَنَتْ اُخْتَهَا:اُخْتٌ “} کا معنی بہن ہوتا ہے، یعنی ہر بعد میں داخل ہونے والی امت اپنی پہلی ہم مذہب امت پر لعنت کرے گی جو اس سے پہلے جہنم میں داخل ہو گی، مثلاً یہودی دوسرے یہودیوں پر، دہریے دوسرے دہریوں پر، نصاریٰ دوسرے نصاریٰ پر، مشرکین اور ندائے غیر اﷲ والے دوسرے مشرکین اور غیر اﷲ کو پکارنے والوں پر۔ ➌ { حَتّٰۤى اِذَا ادَّارَكُوْا فِيْهَا جَمِيْعًا:ادَّارَكُوْا “} اصل میں {” تَدَارَكُوْا “} ہے، یعنی ایک دوسرے کو آ ملیں گے۔ ➍ {قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ:} یعنی جہنم میں بعد میں داخل ہونے والے پہلے داخل ہونے والوں کے بارے میں، یا پیروی کرنے والے عوام اپنے سرداروں اور پیشواؤں کے بارے میں کہیں گے۔ ➎ {رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ اَضَلُّوْنَا ……:} یعنی ہم تو اپنے ان پہلوں کی تقلید میں یا انھی کی باتوں میں آ کر ایمان کے بجائے شرک و بدعت اور منکرات کی راہ پر چلتے رہے، ہمیں گمراہ کرنے والے یہی ہیں۔ مزید دیکھیے سورۂ احزاب (۶۷، ۶۸)۔ ➏ {لِكُلٍّ ضِعْفٌ: } ہر ایک کے لیے ایک عذاب کی وجہ یہ ہے کہ پہلے اگر خود گمراہ ہوئے تو پچھلوں نے ان کا کہا مانا اور خود غور و فکر نہ کیا، لہٰذا دونوں مجرم ہوئے۔ اور دگنا عذاب ہونے کی وجہ یہ کہ پہلوں نے انھیں گمراہ کیا تو انھوں نے بھی اپنے بعد والوں کو گمراہ کیا، لہٰذا دونوں دگنے عذاب کے حق دار ٹھہرے۔ رازی نے لکھا ہے کہ جہنم کا عذاب چونکہ مسلسل اور کبھی ختم نہ ہونے والا ہو گا اور ایک دور کے بعد دوسرا دور شروع ہو جائے گا، اس اعتبار سے ہر ایک کے لیے {” ضِعْفٌ “} ”دگنا“ قرار دیا ہے۔ دیکھیے سورۂ نحل(۸۸)۔ دونوں گروہوں کا ایسا ہی مکالمہ سورۂ سبا (۳۱، ۳۲) میں بھی ذکر کیا گیا ہے۔
وَ قَالَتۡ اُوۡلٰىہُمۡ لِاُخۡرٰىہُمۡ فَمَا کَانَ لَکُمۡ عَلَیۡنَا مِنۡ فَضۡلٍ فَذُوۡقُوا الۡعَذَابَ بِمَا کُنۡتُمۡ تَکۡسِبُوۡنَ ﴿٪۳۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور پہلا گروہ دوسرے گروہ سے کہے گا کہ (اگر ہم قابل الزام تھے) تو تمہی کو ہم پر کونسی فضیلت حاصل تھی، اب اپنی کمائی کے نتیجہ میں عذاب کا مزا چکھو
مولانا محمد جوناگڑھی
اور پہلے لوگ پچھلے لوگوں سے کہیں گے کہ پھر تم کو ہم پر کوئی فوقیت نہیں سو تم بھی اپنی کمائی کے بدلے میں عذاب کامزه چکھو
احمد رضا خان بریلوی
اور پہلے پچھلوں سے کہیں گے تو تم کچھ ہم سے اچھے نہ رہے تو چکھو عذاب بدلہ اپنے کیے کا
علامہ محمد حسین نجفی
اور ان کا پہلا گروہ دوسرے گروہ سے کہے گا۔ کہ (اگر ہم مستوجبِ الزام تھے) تو پھر تم کو ہم پر کوئی فضیلت تو نہ ہوئی؟ بس (ہماری طرح) تم بھی اپنے کئے کی پاداش میں عذاب کا مزہ چکھو۔
عبدالسلام بن محمد
اور ان کی پہلی جماعت اپنی پچھلی جماعت سے کہے گی پھر تمھاری ہم پر کوئی برتری تو نہ ہوئی، تو عذاب چکھو اس کے بدلے جو تم کمایا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کفار کی گردنوں میں طوق ٭٭

اللہ تعالیٰ قیامت کے دن مشرکوں کو جو اللہ پر افتراء باندھتے تھے، اس کی آیتوں کو جھٹلاتے تھے، فرمائے گا کہ تم بھی اپنے جیسوں کے ساتھ جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں خواہ وہ جنات میں سے ہوں خواہ انسانوں میں سے جہنم میں جاؤ۔ «فِي النَّارِ» یا تو «فِي أُمَمٍ» کا بدل ہے یا «فِي أُمَمٍ» میں «فِي» معنی میں «مع» کے ہے۔ ہر گروہ اپنے ساتھ کے اپنے جیسے گروہ پر لعنت کرے گا۔ جیسے کہ خلیل اللہ علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ ”تم ایک دوسرے سے اس روز کفر کرو گے۔“ الخ اور آیت میں ہے «إِذْ تَبَرَّأَ الَّذِينَ اتُّبِعُوا مِنَ الَّذِينَ اتَّبَعُوا وَرَأَوُا الْعَذَابَ وَتَقَطَّعَتْ بِهِمُ الْأَسْبَابُ وَقَالَ الَّذِينَ اتَّبَعُوا لَوْ أَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَتَبَرَّأَ مِنْهُمْ كَمَا تَبَرَّءُوا مِنَّا كَذَٰلِكَ يُرِيهِمُ اللَّـهُ أَعْمَالَهُمْ حَسَرَاتٍ عَلَيْهِمْ وَمَا هُم بِخَارِجِينَ مِنَ النَّارِ» ۱؎ [2-البقرة:166-167] ‏‏‏‏ یعنی ’ وہ ایسا برا وقت ہو گا کہ گرو اپنے چیلوں سے دست بردار ہو جائیں گے، عذابوں کو دیکھتے ہی آپس کے سارے تعلقات ٹوٹ جائیں گے۔ مرید لوگ اس وقت کہیں گے کہ اگر ہمیں بھی یہاں سے پھر واپس دنیا میں جانا مل جائے تو جیسے یہ لوگ ہم سے بیزار ہیں، ہم بھی ان سے بالکل ہی دست بردار ہو جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ اسی طرح ان کے کرتوت ان کے سامنے لائے گا جو ان کے لئے سراسر موجب حسرت ہوں گے اور یہ دوزخ سے کبھی آزاد نہ ہوں گے۔ ‘

یہاں فرماتا ہے کہ جب یہ سارے کے سارے جہنم میں جا چکیں گے تو پچھلے یعنی تابعدار اور مرید اور تقلید کرنے والے اگلوں سے یعنی جن کی وہ مانتے رہے، ان کی بابت اللہ تعالیٰ سے فریاد کریں گے۔ اس سے ظاہر ہے کہ یہ گمراہ کرنے والے ان سے پہلے ہی جہنم میں موجود ہوں گے کیونکہ ان کا گناہ بھی بڑھا ہوا تھا۔ کہیں گے کہ یااللہ! انہیں دگنا عذاب کر۔ چنانچہ اور آیت میں ہے «يَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوهُهُمْ فِي النَّارِ يَقُولُونَ يَا لَيْتَنَا أَطَعْنَا اللَّـهَ وَأَطَعْنَا الرَّسُولَا وَقَالُوا رَبَّنَا إِنَّا أَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاءَنَا فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا رَبَّنَا آتِهِمْ ضِعْفَيْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَالْعَنْهُمْ لَعْنًا كَبِيرًا» ۱؎ [33-الأحزاب:66] ‏‏‏‏ ’ جبکہ ان کے چہرے آتش جہنم میں ادھر سے ادھر جھلسے جاتے ہوں گے۔ اس وقت حسرت و افسوس کرتے ہوئے کہیں گے کہ کاش کہ ہم اللہ کے رسول کے مطیع ہوتے۔ یااللہ! ہم نے اپنے سرداروں اور بڑوں کی تابعداری کی جنہوں نے ہمیں گمراہ کر دیا۔ یااللہ! انہیں دگنا عذاب کر۔ ‘ انہیں جواب ملا کہ ہر ایک کے لئے دگنا ہے۔ یعنی ہر ایک کو اس کی برائیوں کا پورا پورا بدلہ مل چکا ہے۔ جیسے فرمان ہے «اَلَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ زِدْنٰهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا يُفْسِدُوْن» ۱؎ [16-النحل:88] ‏‏‏‏ ’ جنہوں نے کفر کیا اور راہ رب سے روکا، ان کا ہم اب عذاب اور زیادہ کریں گے۔ ‘ اور آیت میں ہے «وَلَيَحْمِلُنَّ اَثْــقَالَهُمْ وَاَثْــقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ ۡ وَلَيُسْـَٔــلُنَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ عَمَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ» ۱؎ [29-العنكبوت:13] ‏‏‏‏ یعنی ’ اپنے بوجھ کے ساتھ ان کے بوجھ بھی اٹھائیں گے۔ ‘ اور آیت میں ہے: ان کے بوجھ ان پر لادے جائیں گے جن کو انہوں نے بےعلمی سے گمراہ کیا۔

اب وہ جن کی مانی جاتی رہی، اپنے ماننے والوں سے کہیں گے کہ جیسے ہم گمراہ تھے، تم بھی گمراہ ہوئے۔ اب اپنے کرتوت کا بدلہ اٹھاؤ۔ اور آیت میں ہے «وَلَوْ تَرَىٰ إِذِ الظَّالِمُونَ مَوْقُوفُونَ عِندَ رَبِّهِمْ يَرْجِعُ بَعْضُهُمْ إِلَىٰ بَعْضٍ الْقَوْلَ يَقُولُ الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا لَوْلَا أَنتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِينَ قَالَ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا لِلَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا أَنَحْنُ صَدَدْنَاكُمْ عَنِ الْهُدَىٰ بَعْدَ إِذْ جَاءَكُم بَلْ كُنتُم مُّجْرِمِينَ وَقَالَ الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا بَلْ مَكْرُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ إِذْ تَأْمُرُونَنَا أَن نَّكْفُرَ بِاللَّـهِ وَنَجْعَلَ لَهُ أَندَادًا وَأَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَأَوُا الْعَذَابَ وَجَعَلْنَا الْأَغْلَالَ فِي أَعْنَاقِ الَّذِينَ كَفَرُوا هَلْ يُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ» ۱؎ [34-سبأ:31-33] ‏‏‏‏ ’ کاش کہ تو دیکھتا جب کہ یہ گنہگار اللہ کے سامنے کھڑے ہوئے ہوں گے۔ ایک دوسرے پر الزام رکھ رہے ہوں گے۔ ضعیف لوگ متکبروں سے کہیں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم مومن بن جاتے۔ وہ جواب دیں گے کہ کیا ہم نے تمہیں ہدایت سے روکا تھا؟ وہ تو تمہارے سامنے کھلی ہوئی موجود تھی۔ بات یہ ہے کہ تم خود ہی گنہگار، بدکردار تھے۔ یہ پھر کہیں گے کہ نہیں نہیں! تمہاری دن رات کی چالاکیوں نے اور تمہاری اس تعلیم نے (‏‏‏‏کہ ہم اللہ کے ساتھ کفر کریں اور اس کے شریک ٹھہرائیں) ہمیں گم کردہ راہ بنا دیا۔ بات یہ ہے کہ سب کے سب اس وقت سخت نادم ہوں گے لیکن ندامت کو دبانے کی کوشش میں ہوں گے۔ کفار کی گردنوں میں طوق پڑے ہوں گے اور انہیں ان کے اعمال کا بدلہ ضرور دیا جائے گا۔ نہ کم، نہ زیادہ (‏‏‏‏پورا پورا)۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 39) { فَمَا كَانَ لَكُمْ عَلَيْنَا مِنْ فَضْلٍ:} یعنی اگر ہم مجرم و بدکار تھے تو تمھارا حال ہم سے کون سا بہتر تھا، تم نے بھی اپنی مرضی سے کفر کی روش اختیار کی اور اگر ہم نے تمھیں گمراہ کیا تھا تو تم نے بھی کتنے لوگوں کا بیڑا غرق کیا، اب تمھیں ہم پر کون سی برتری حاصل رہی؟
اِنَّ الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا وَ اسۡتَکۡبَرُوۡا عَنۡہَا لَا تُفَتَّحُ لَہُمۡ اَبۡوَابُ السَّمَآءِ وَ لَا یَدۡخُلُوۡنَ الۡجَنَّۃَ حَتّٰی یَلِجَ الۡجَمَلُ فِیۡ سَمِّ الۡخِیَاطِ ؕ وَ کَذٰلِکَ نَجۡزِی الۡمُجۡرِمِیۡنَ ﴿۴۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یقین جانو، جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا ہے اور ان کے مقابلہ میں سرکشی کی ہے ان کے لیے آسمان کے دروازے ہرگز نہ کھولے جائیں گے اُن کا جنت میں جانا اتنا ہی ناممکن ہے جتنا سوئی کے ناکے سے اونٹ کا گزرنا مجرموں کو ہمارے ہاں ایسا ہی بدلہ ملا کرتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے تکبر کیا ان کے لئے آسمان کے دروازے نہ کھولے جائیں گے اور وه لوگ کبھی جنت میں نہ جائیں گے جب تک کہ اونٹ سوئی کے ناکہ کے اندر سے نہ چلا جائے اور ہم مجرم لوگوں کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
وہ جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں اور ان کے مقابل تکبر کیا ان کے لیے آسمان کے دروازے نہ کھولے جائیں گے اور نہ وہ جنت میں داخل ہوں جب تک سوئی کے ناکے اونٹ داخل نہ ہو اور مجرموں کو ہم ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
یقینا جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان کے مقابلہ میں تکبر و غرور کیا۔ ان کے لئے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے۔ اور اس وقت تک وہ جنت میں داخل نہیں ہوں گے جب تک اونٹ سوئی کے ناکے میں سے نہیں گزر جائے گا ہم اسی طرح مجرموں کو بدلہ دیا کرتے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور انھیں قبول کرنے سے تکبر کیا، ان کے لیے نہ آسمان کے دروازے کھولے جائیں گے اور نہ وہ جنت میں داخل ہوں گے، یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل ہو جائے اور ہم مجرموں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بدکاروں کی روحیں دھتکاری جاتی ہیں ٭٭

کافروں کے نہ تو نیک اعمال اللہ کی طرف چڑھیں، نہ ان کی دعائیں قبول ہوں، نہ ان کی روحوں کے لیے آسمان کے دروازے کھلیں۔ چنانچہ حدیث میں ہے کہ { جب بدکاروں کی روحیں قبض کی جاتی ہیں اور فرشتے انہیں لے کر آسمانوں کی طرف چڑھتے ہیں تو فرشتوں کی جس جماعت کے پاس سے گزرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: یہ خبیث روح کس کی ہے؟ یہ اس کا بد سے بد نام لے کر بتاتے ہیں کہ فلاں کی۔ یہاں تک کہ یہ اسے آسمان کے دروازے تک پہنچاتے ہیں لیکن ان کے لیے دروازہ کھولا نہیں جاتا۔

{ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَلَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّىٰ يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ» پڑھی۔ } یہ بہت لمبی حدیث ہے جو سنن میں موجود ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:14620:صحیح] ‏‏‏‏ مسند احمد میں یہ حدیث پوری یوں ہے: { سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک انصاری کے جنازے میں ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ جب قبرستان پہنچے تو قبر تیار ہونے میں کچھ دیر تھی۔ سب بیٹھ گئے، ہم اس طرح خاموش اور باادب تھے کہ گویا ہمارے سروں پر پرند ہیں۔ آپ کے ہاتھ میں ایک تنکا تھا جسے آپ زمین پر پھرا رہے تھے۔ تھوڑی دیر میں آپ نے سر اٹھا کر دو بار یا تین بار ہم سے فرمایا کہ عذاب قبر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرو۔ پھر فرمایا: مومن جب دنیا کی آخری اور آخرت کی پہلی گھڑی میں ہوتا ہے، اس کے پاس آسمان سے نورانی چہروں والے فرشتے آتے ہیں گویا کہ ان کا منہ آفتاب ہے، ان کے ساتھ جنت کا کفن اور جنت کی خوشبو ہوتی ہے۔ وہ آ کر مرنے والے مومن کے پاس بیٹھ جاتے ہیں جہاں تک اس کی نگاہ کام کرتی ہے، فرشتے ہی فرشتے نظر آتے ہیں پھر ملک الموت آ کر اس کے سرہانے بیٹھ جاتے ہیں اور فرماتے ہیں: اے اطمینان والی روح! اللہ کی مغفرت اور رضا مندی کی طرف چل۔ یہ سنتے ہی وہ روح اس طرح بدن سے نکل جاتی ہے جیسے مشک کے منہ سے پانی کا قطرہ ٹپک جائے۔ اسی وقت ایک پلک جھپکنے کے برابر کی دیر میں وہ جنتی فرشتے اس پاک روح کو اپنے ہاتھوں میں لے لیتے ہیں اور جنتی کفن اور جنتی خوشبو میں رکھ لیتے ہیں، اس میں ایسی عمدہ اور بہترین خوشبو نکلتی ہے کہ کبھی دنیا والوں نے نہ سونگھی ہو۔ اب یہ اسے لے کر آسمانوں کی طرف چڑھتے ہیں۔ فرشتوں کی جو جماعت انہیں ملتی ہے، وہ پوچھتی ہے کہ یہ پاک روح کس کی ہے؟ یہ اس کا بہتر سے بہتر جو نام دنیا میں مشہور تھا، وہ لے کر کہتے ہیں: فلاں کی۔ یہاں تک کہ آسمان دنیا تک پہنچ جاتے ہیں۔ دروازہ کھلوا کر اوپر چڑھ جاتے ہیں۔ یہاں سے اس کے ساتھ اسے دوسرے آسمان تک پہنچانے کے لیے فرشتوں کی اور بڑی جماعت ہو جاتی ہے، اس طرح ساتویں آسمان تک پہنچتے ہیں۔ اللہ عزوجل فرماتا ہے: اس میرے بندے کی کتاب علیین میں رکھ دو اور اسے زمین کی طرف لوٹا دو۔ میں نے انہیں اسی سے پیدا کیا ہے اسی میں لوٹاؤں گا اور اسی سے دوبارہ نکالوں گا۔

{ پس وہ روح لوٹا دی جاتی ہے۔ وہیں اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں، اسے بٹھاتے ہیں اور اس سے پوچھتے ہیں کہ تیرا رب کون ہے؟ وہ جواب دیتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے۔ پھر پوچھتے ہیں: تیرا دین کیا ہے؟ وہ کہتا ہے: میرا دین اسلام ہے۔ پھر پوچھتے ہیں کہ وہ شخص جو تم میں بھیجے گئے، کون تھے؟ وہ کہتا ہے: وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ فرشتے اس سے دریافت کرتے ہیں کہ تجھے کیسے معلوم ہوا؟ جواب دیتا ہے کہ میں نے اللہ کی کتاب پڑھی، اس پر ایمان لایا اور اسے سچا مانا۔ وہیں آسمان سے ایک منادی ندا کرتا ہے کہ میرا بندہ سچا ہے، اس کے لئے جنت کا فرش بچھا دو۔ اسے جنتی لباس پہنا دو اور اس کے لئے جنت کا دروازہ کھول دو۔ پس اس کے پاس جنت کی تروتازگی، اس کی خوشبو اور وہاں کی ہوا آتی رہتی ہے اور اس کی قبر کشادہ کر دی جاتی ہے۔ جہاں تک اس کی نظر پہنچتی ہے، اسے کشادگی ہی کشادگی نظر آتی ہے۔ اس کے پاس ایک نہایت حسین و جمیل شخص لباس فاخرہ پہنے ہوئے خوشبو لگائے ہوئے آتا ہے اور اس سے کہتا ہے: خوش ہو جا، یہی وہ دن ہے جس کا تجھے وعدہ دیا جاتا تھا۔ یہ اس سے پوچھتا ہے: تو کون ہے؟ تیرے چہرے سے بھلائی پائی جاتی ہے۔ وہ جواب دیتا ہے کہ میں تیرا نیک عمل ہوں۔ اب تو مومن آرزو کرنے لگتا ہے کہ اللہ کرے قیامت آج ہی قائم ہو جائے تاکہ میں جنت میں پہنچ کر اپنے مال اور اپنے اہل و عیال کو پا لوں اور کافر کی جب دنیا کی آخری گھڑی آتی ہے تو اس کے پاس سیاہ چہرے والے فرشتے آسمان سے آتے ہیں، ان کے ساتھ ٹاٹ ہوتا ہے، اس کی نگاہ تک اسے یہی نظر آتے ہیں۔ پھر ملک الموت آ کر اس کے سرہانے بیٹھ جاتے ہیں اور فرماتے ہیں: اے خبیث روح! اللہ کی ناراضگی اور اس کے غضب کی طرف چل۔ یہ سن کر روح بدن میں چھپنے لگتی ہے جسے ملک الموت جبراً گھسیٹ کر نکالتے ہیں۔ اسی وقت وہ فرشتے ان کے ہاتھ سے ایک آنکھ جھپکنے میں لے لیتے ہیں اور اس جہنمی ٹاٹ میں لپیٹ لیتے ہیں اور اس سے نہایت ہی سڑی ہوئی بدبو نکلتی ہے، یہ اسے لے کر چڑھنے لگتے ہیں۔ فرشتوں کا جو گروہ ملتا ہے، اس سے پوچھتا ہے کہ ناپاک روح کس کی ہے؟ یہ اس کی روح کا بدترین نام دنیا میں تھا، انہیں بتاتے ہیں۔ پھر آسمان کا دروازہ اس کیلئے کھلوانا چاہتے ہیں مگر کھولا نہیں جاتا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کی یہ آیت «لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَلَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّىٰ يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ» تلاوت فرمائی۔ جناب باری عزوجل کا ارشاد ہوتا ہے: اس کی کتاب سجین میں سب سے نیچے کی زمین میں رکھو پھر اس کی روح وہاں سے پھینک دی جاتی ہے۔

{ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: «وَمَن يُشْرِكْ بِاللَّـهِ فَكَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَاءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّيْرُ أَوْ تَهْوِي بِهِ الرِّيحُ فِي مَكَانٍ سَحِيقٍ» ۱؎ [22-الحج:31] ‏‏‏‏ یعنی ’ جس نے اللہ کے ساتھ شریک کیا گویا وہ آسمان سے گر پڑا پس اسے یا تو پرند چرند اچک لے جائیں گے یا ہوائیں کسی دور دراز کی ڈراؤنی ویران جگہ پر پھینک دیں گی۔ ‘ اب اس کی روح اس کے جسم میں لوٹائی جاتی ہے۔ اور اس کے پاس دو فرشتے پہنچتے ہیں۔ اسے اٹھا کر بٹھاتے ہیں اور پوچھتے ہیں: تیرا رب کون ہے؟ یہ کہتا ہے: ہائے ہائے! مجھے خبر نہیں۔ پوچھتے ہیں: تیرا دین کیا ہے؟ جواب دیتا ہے: افسوس! مجھے اس کی بھی خبر نہیں۔ پوچھتے ہیں: بتا اس شخص کی بابت تو کیا کہتا ہے جو تم میں بھیجے گئے تھے؟ یہ کہتا ہے: آہ! میں اس کا جواب بھی نہیں جانتا۔ اسی وقت آسمان سے ندا ہوتی ہے کہ میرے غلام نے غلط کہا۔ اس کے لئے جہنم کی آگ بچھا دو اور جہنم کا دروازہ اس کی قبر کی طرف کھول دو۔ وہاں سے گرمی اور آگ کے جھونکے آنے لگتے ہیں، اس کی قبر تنگ ہو جاتی ہے۔ یہاں تک کہ ادھر کی پسلیاں ادھر اور ادھر کی ادھر ہو جاتی ہیں۔ اس کے پاس ایک شخص نہایت مکروہ اور ڈراؤنی صورت والا، برے کپڑے پہنے، بری بدبو والا آتا ہے اور اس سے کہتا ہے کہ اب اپنی برائیوں کا مزہ چکھ، اسی دن کا تجھ سے وعدہ کیا جاتا تھا۔ یہ پوچھتا ہے: تو کون ہے؟ تیرے تو چہرے سے وحشت اور برائی ٹپک رہی ہے؟ یہ جواب دیتا ہے: میں تیرا خبیث عمل ہوں۔ یہ کہتا ہے: یااللہ! قیامت قائم نہ ہو۔ } ۱؎ [مسند احمد:287/4-288:صحیح] ‏‏‏‏ اسی روایت کی دوسری سند میں ہے کہ { مومن کی روح کو دیکھ کر آسمان و زمین کے تمام فرشتے دعائے مغفرت و رحمت کرتے ہیں۔ اس کے لئے آسمانوں کے دروازے کھل جاتے ہیں اور ہر دورازے کے فرشتوں کی تمنا ہوتی ہے کہ اللہ کرے، یہ روح ہماری طرف سے آسمان پر چڑھے۔ } اس میں یہ بھی ہے کہ { کافر کی قبر میں اندھا، بہرا، گونگا فرشتہ مقرر ہو جاتا ہے جس کے ہاتھ میں ایک گرز ہوتا ہے کہ اگر اسے کسی بڑے پہاڑ پر مارا جائے تو وہ مٹی ہو جائے۔ پھر اسے جیسا وہ تھا، اللہ تعالیٰ کر دیتا ہے۔ فرشتہ دوبارہ اسے گرز مارتا ہے جس سے یہ چیخنے چلانے لگتا ہے جسے انسان اور جنات کے سوا تمام مخلوق سنتی ہے۔ } ۱؎ [مسند احمد:295/4-296:صحیح] ‏‏‏‏ ابن جریر میں ہے کہ { نیک صالح شخص سے فرشتے کہتے ہیں: اے مطمئن نفس! جو طیب جسم میں تھا، تو تعریفوں والا بن کر نکل اور جنت کی خوشبو اور نسیم جنت کی طرف چل۔ اس اللہ کے پاس چل جو تجھ پر غصے نہیں ہے۔

{ فرماتے ہیں کہ جب اس روح کو لے کر آسمانوں کی طرف چڑھتے ہیں، دروازہ کھلواتے ہیں تو پوچھا جاتا ہے کہ یہ کون ہے؟ یہ اس کا نام بتاتے ہیں تو وہ اسے مرحبا کہہ کر وہی کہتے ہیں۔ یہاں تک کہ یہ اس آسمان میں پہنچتے ہیں جہاں اللہ ہے۔ } اس میں یہ بھی ہے کہ { برے شخص سے وہ کہتے ہیں: اے خبیث نفس! جو خبیث جسم میں تھا، تو برا بن کر نکل اور تیز کھولتے ہوئے پانی اور لہو پیپ اور اسی قسم کے مختلف عذابوں کی طرف چل۔ اس کے نکلنے تک فرشتے یہی سناتے رہتے ہیں۔ پھر اسے لے کر آسمانوں کی طرف چڑھتے ہیں۔ پوچھا جاتا ہے کہ یہ کون ہے؟ یہ اس کا نام بتاتے ہیں تو آسمان کے فرشتے کہتے ہیں، اس خبیث کو مرحبا نہ کہو۔ یہ تھی بھی خبیث جسم میں، تو بد بن کر لوٹ جا۔ اس کے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھلتے اور آسمان و زمین کے درمیان چھوڑ دی جاتی ہے۔ پھر قبر کی طرف لوٹ آتی ہے۔ } ۱؎ [سنن ابن ماجه:4262، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ امام ابن جریر نے لکھا ہے کہ نہ ان کے اعمال چڑھیں، نہ ان کی روحیں۔ اس سے دونوں قول مل جاتے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اس کے بعد کے جملے میں جمہور کی قرأت تو «جمل» ہے جس کے معنی نر اونٹ کے ہیں لیکن ایک قرأت میں «جمل» ہے اس کے معنی بڑے پہاڑ کے ہیں۔ مطلب یہ ہر دو صورت ایک ہی ہے کہ نہ اونٹ سوئی کے ناکے سے گزر سکے، نہ پہاڑ۔ اسی طرح کافر جنت میں نہیں جا سکتا۔ ان کا اوڑھنا بچھونا آگ ہے۔ ظالموں کی یہی سزا ہے۔
40۔ 1 اس سے بعض نے اعمال، بعض نے ارواح اور بعض نے دعا مراد لی ہے، یعنی ان کے عملوں، یا روحوں یا دعا کے لئے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جاتے، یعنی اعمال اور دعا قبول نہیں ہوسکتی اور روحیں واپس زمین میں لوٹا دی جاتی ہیں (جیسا کہ مسند احمد، جلد 2 صفحہ 364، 365 کی ایک حدیث سے بھی معلوم ہوتا ہے امام شوکانی فرماتے ہیں کہ تینوں ہی چیزیں مراد ہوسکتی ہیں۔ 40۔ 2 یہ تعلیق بالمحال ہے جس طرح اونٹ کا سوئی کے ناکے سے گزرنا ممکن نہیں، اسی طرح اہل کفر کا جنت میں داخلہ ممکن نہیں۔ اونٹ کی مثال بیان فرمائی ہے اس لئے کہ اونٹ عربوں میں متعارف تھا اور جسمانی اعتبار سے ایک بڑا جانور تھا اور سوئی کا ناکہ (سوراخ) یہ اپنے باریک تنگ ہونے کے اعتبار سے بےمثال ہے۔ ان دونوں کے ذکر کرنے اس تعلیق بالمحال کے مفہوم کا درجہ واضح کردیا ہے۔ تعلیق بالمحال کا مطلب ہے ایسی چیز کے ساتھ مشروط کردینا جو ناممکن ہو۔ جیسے اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل نہیں ہوسکتا۔ اب کسی چیز کے وقوع کو، اونٹ کے سوئی کے ناکے میں داخل ہونے کے ساتھ مشروط کردینا تعلیق بالمحال ہے۔
(آیت 40) ➊ {اِنَّ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا ……:} یہ پچھلی آیت میں مذکور وعید ” پس چکھو عذاب ……“ کی کچھ تفصیل ہے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ آسمانوں کے دروازے ہیں۔ بہت سی صحیح احادیث میں ان دروازوں کا ذکر موجود ہے۔ دروازے نہ کھولے جانے کا مطلب یہ ہے کہ ان کے اعمال اور دعا کے اوپر جانے کے لیے دروازے نہیں کھلتے اور یہ بھی کہ مرنے کے بعد ان کی روحوں کے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جاتے، جیسا کہ مومن کی روح کے اوپر چڑھنے کے لیے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔ براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ایک لمبی حدیث کے ضمن میں ہے کہ مومن کی روح اوپر چڑھتی ہے تو اس کے لیے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور فرشتے مرحبا کہہ کر اس کا استقبال کرتے ہیں، حتیٰ کہ وہ ساتویں آسمان پر چلی جاتی ہے، مگر جب کافر کی روح آسمان تک پہنچتی ہے تو اس کے لیے دروازہ نہیں کھولا جاتا، پھر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: «{ اِنَّ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا ……:}» ‏‏‏‏ [مسند أحمد: ۴؍۲۸۸، ح: ۱۸۵۶۱ ] ➋ {حَتّٰى يَلِجَ الْجَمَلُ فِيْ سَمِّ الْخِيَاطِ:} یہ ایک محاورہ ہے جو ایسے کام کے لیے بولا جاتا ہے جس کا ہونا ممکن ہی نہ ہو۔ نہ اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل ہو سکے اور نہ وہ جنت میں داخل ہوں۔
لَہُمۡ مِّنۡ جَہَنَّمَ مِہَادٌ وَّ مِنۡ فَوۡقِہِمۡ غَوَاشٍ ؕ وَ کَذٰلِکَ نَجۡزِی الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۴۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ان کے لیے تو جہنم کا بچھونا ہوگا اور جہنم ہی کا اوڑھنا یہ ہے وہ جزا جو ہم ظالموں کو دیا کرتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
ان کے لئے آتش دوزخ کا بچھونا ہوگا اور ان کے اوپر (اسی کا) اوڑھنا ہوگا اور ہم ایسے ﻇالموں کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
انہیں آگ ہی بچھونا اور آگ ہی اوڑھنا اور ظالموں کو ہم ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
ان کا بچھونا بھی جہنم کا ہوگا اور اوپر سے اوڑھنا بھی جہنم کا ہم اسی طرح ظالموں کو بدلہ دیتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
ان کے لیے جہنم ہی کا بچھونا اور ان کے اوپر کے لحاف ہوں گے اور ہم ظالموں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بدکاروں کی روحیں دھتکاری جاتی ہیں ٭٭

کافروں کے نہ تو نیک اعمال اللہ کی طرف چڑھیں، نہ ان کی دعائیں قبول ہوں، نہ ان کی روحوں کے لیے آسمان کے دروازے کھلیں۔ چنانچہ حدیث میں ہے کہ { جب بدکاروں کی روحیں قبض کی جاتی ہیں اور فرشتے انہیں لے کر آسمانوں کی طرف چڑھتے ہیں تو فرشتوں کی جس جماعت کے پاس سے گزرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: یہ خبیث روح کس کی ہے؟ یہ اس کا بد سے بد نام لے کر بتاتے ہیں کہ فلاں کی۔ یہاں تک کہ یہ اسے آسمان کے دروازے تک پہنچاتے ہیں لیکن ان کے لیے دروازہ کھولا نہیں جاتا۔

{ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَلَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّىٰ يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ» پڑھی۔ } یہ بہت لمبی حدیث ہے جو سنن میں موجود ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:14620:صحیح] ‏‏‏‏ مسند احمد میں یہ حدیث پوری یوں ہے: { سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک انصاری کے جنازے میں ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ جب قبرستان پہنچے تو قبر تیار ہونے میں کچھ دیر تھی۔ سب بیٹھ گئے، ہم اس طرح خاموش اور باادب تھے کہ گویا ہمارے سروں پر پرند ہیں۔ آپ کے ہاتھ میں ایک تنکا تھا جسے آپ زمین پر پھرا رہے تھے۔ تھوڑی دیر میں آپ نے سر اٹھا کر دو بار یا تین بار ہم سے فرمایا کہ عذاب قبر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرو۔ پھر فرمایا: مومن جب دنیا کی آخری اور آخرت کی پہلی گھڑی میں ہوتا ہے، اس کے پاس آسمان سے نورانی چہروں والے فرشتے آتے ہیں گویا کہ ان کا منہ آفتاب ہے، ان کے ساتھ جنت کا کفن اور جنت کی خوشبو ہوتی ہے۔ وہ آ کر مرنے والے مومن کے پاس بیٹھ جاتے ہیں جہاں تک اس کی نگاہ کام کرتی ہے، فرشتے ہی فرشتے نظر آتے ہیں پھر ملک الموت آ کر اس کے سرہانے بیٹھ جاتے ہیں اور فرماتے ہیں: اے اطمینان والی روح! اللہ کی مغفرت اور رضا مندی کی طرف چل۔ یہ سنتے ہی وہ روح اس طرح بدن سے نکل جاتی ہے جیسے مشک کے منہ سے پانی کا قطرہ ٹپک جائے۔ اسی وقت ایک پلک جھپکنے کے برابر کی دیر میں وہ جنتی فرشتے اس پاک روح کو اپنے ہاتھوں میں لے لیتے ہیں اور جنتی کفن اور جنتی خوشبو میں رکھ لیتے ہیں، اس میں ایسی عمدہ اور بہترین خوشبو نکلتی ہے کہ کبھی دنیا والوں نے نہ سونگھی ہو۔ اب یہ اسے لے کر آسمانوں کی طرف چڑھتے ہیں۔ فرشتوں کی جو جماعت انہیں ملتی ہے، وہ پوچھتی ہے کہ یہ پاک روح کس کی ہے؟ یہ اس کا بہتر سے بہتر جو نام دنیا میں مشہور تھا، وہ لے کر کہتے ہیں: فلاں کی۔ یہاں تک کہ آسمان دنیا تک پہنچ جاتے ہیں۔ دروازہ کھلوا کر اوپر چڑھ جاتے ہیں۔ یہاں سے اس کے ساتھ اسے دوسرے آسمان تک پہنچانے کے لیے فرشتوں کی اور بڑی جماعت ہو جاتی ہے، اس طرح ساتویں آسمان تک پہنچتے ہیں۔ اللہ عزوجل فرماتا ہے: اس میرے بندے کی کتاب علیین میں رکھ دو اور اسے زمین کی طرف لوٹا دو۔ میں نے انہیں اسی سے پیدا کیا ہے اسی میں لوٹاؤں گا اور اسی سے دوبارہ نکالوں گا۔

{ پس وہ روح لوٹا دی جاتی ہے۔ وہیں اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں، اسے بٹھاتے ہیں اور اس سے پوچھتے ہیں کہ تیرا رب کون ہے؟ وہ جواب دیتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے۔ پھر پوچھتے ہیں: تیرا دین کیا ہے؟ وہ کہتا ہے: میرا دین اسلام ہے۔ پھر پوچھتے ہیں کہ وہ شخص جو تم میں بھیجے گئے، کون تھے؟ وہ کہتا ہے: وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ فرشتے اس سے دریافت کرتے ہیں کہ تجھے کیسے معلوم ہوا؟ جواب دیتا ہے کہ میں نے اللہ کی کتاب پڑھی، اس پر ایمان لایا اور اسے سچا مانا۔ وہیں آسمان سے ایک منادی ندا کرتا ہے کہ میرا بندہ سچا ہے، اس کے لئے جنت کا فرش بچھا دو۔ اسے جنتی لباس پہنا دو اور اس کے لئے جنت کا دروازہ کھول دو۔ پس اس کے پاس جنت کی تروتازگی، اس کی خوشبو اور وہاں کی ہوا آتی رہتی ہے اور اس کی قبر کشادہ کر دی جاتی ہے۔ جہاں تک اس کی نظر پہنچتی ہے، اسے کشادگی ہی کشادگی نظر آتی ہے۔ اس کے پاس ایک نہایت حسین و جمیل شخص لباس فاخرہ پہنے ہوئے خوشبو لگائے ہوئے آتا ہے اور اس سے کہتا ہے: خوش ہو جا، یہی وہ دن ہے جس کا تجھے وعدہ دیا جاتا تھا۔ یہ اس سے پوچھتا ہے: تو کون ہے؟ تیرے چہرے سے بھلائی پائی جاتی ہے۔ وہ جواب دیتا ہے کہ میں تیرا نیک عمل ہوں۔ اب تو مومن آرزو کرنے لگتا ہے کہ اللہ کرے قیامت آج ہی قائم ہو جائے تاکہ میں جنت میں پہنچ کر اپنے مال اور اپنے اہل و عیال کو پا لوں اور کافر کی جب دنیا کی آخری گھڑی آتی ہے تو اس کے پاس سیاہ چہرے والے فرشتے آسمان سے آتے ہیں، ان کے ساتھ ٹاٹ ہوتا ہے، اس کی نگاہ تک اسے یہی نظر آتے ہیں۔ پھر ملک الموت آ کر اس کے سرہانے بیٹھ جاتے ہیں اور فرماتے ہیں: اے خبیث روح! اللہ کی ناراضگی اور اس کے غضب کی طرف چل۔ یہ سن کر روح بدن میں چھپنے لگتی ہے جسے ملک الموت جبراً گھسیٹ کر نکالتے ہیں۔ اسی وقت وہ فرشتے ان کے ہاتھ سے ایک آنکھ جھپکنے میں لے لیتے ہیں اور اس جہنمی ٹاٹ میں لپیٹ لیتے ہیں اور اس سے نہایت ہی سڑی ہوئی بدبو نکلتی ہے، یہ اسے لے کر چڑھنے لگتے ہیں۔ فرشتوں کا جو گروہ ملتا ہے، اس سے پوچھتا ہے کہ ناپاک روح کس کی ہے؟ یہ اس کی روح کا بدترین نام دنیا میں تھا، انہیں بتاتے ہیں۔ پھر آسمان کا دروازہ اس کیلئے کھلوانا چاہتے ہیں مگر کھولا نہیں جاتا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کی یہ آیت «لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَلَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّىٰ يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ» تلاوت فرمائی۔ جناب باری عزوجل کا ارشاد ہوتا ہے: اس کی کتاب سجین میں سب سے نیچے کی زمین میں رکھو پھر اس کی روح وہاں سے پھینک دی جاتی ہے۔

{ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: «وَمَن يُشْرِكْ بِاللَّـهِ فَكَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَاءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّيْرُ أَوْ تَهْوِي بِهِ الرِّيحُ فِي مَكَانٍ سَحِيقٍ» ۱؎ [22-الحج:31] ‏‏‏‏ یعنی ’ جس نے اللہ کے ساتھ شریک کیا گویا وہ آسمان سے گر پڑا پس اسے یا تو پرند چرند اچک لے جائیں گے یا ہوائیں کسی دور دراز کی ڈراؤنی ویران جگہ پر پھینک دیں گی۔ ‘ اب اس کی روح اس کے جسم میں لوٹائی جاتی ہے۔ اور اس کے پاس دو فرشتے پہنچتے ہیں۔ اسے اٹھا کر بٹھاتے ہیں اور پوچھتے ہیں: تیرا رب کون ہے؟ یہ کہتا ہے: ہائے ہائے! مجھے خبر نہیں۔ پوچھتے ہیں: تیرا دین کیا ہے؟ جواب دیتا ہے: افسوس! مجھے اس کی بھی خبر نہیں۔ پوچھتے ہیں: بتا اس شخص کی بابت تو کیا کہتا ہے جو تم میں بھیجے گئے تھے؟ یہ کہتا ہے: آہ! میں اس کا جواب بھی نہیں جانتا۔ اسی وقت آسمان سے ندا ہوتی ہے کہ میرے غلام نے غلط کہا۔ اس کے لئے جہنم کی آگ بچھا دو اور جہنم کا دروازہ اس کی قبر کی طرف کھول دو۔ وہاں سے گرمی اور آگ کے جھونکے آنے لگتے ہیں، اس کی قبر تنگ ہو جاتی ہے۔ یہاں تک کہ ادھر کی پسلیاں ادھر اور ادھر کی ادھر ہو جاتی ہیں۔ اس کے پاس ایک شخص نہایت مکروہ اور ڈراؤنی صورت والا، برے کپڑے پہنے، بری بدبو والا آتا ہے اور اس سے کہتا ہے کہ اب اپنی برائیوں کا مزہ چکھ، اسی دن کا تجھ سے وعدہ کیا جاتا تھا۔ یہ پوچھتا ہے: تو کون ہے؟ تیرے تو چہرے سے وحشت اور برائی ٹپک رہی ہے؟ یہ جواب دیتا ہے: میں تیرا خبیث عمل ہوں۔ یہ کہتا ہے: یااللہ! قیامت قائم نہ ہو۔ } ۱؎ [مسند احمد:287/4-288:صحیح] ‏‏‏‏ اسی روایت کی دوسری سند میں ہے کہ { مومن کی روح کو دیکھ کر آسمان و زمین کے تمام فرشتے دعائے مغفرت و رحمت کرتے ہیں۔ اس کے لئے آسمانوں کے دروازے کھل جاتے ہیں اور ہر دورازے کے فرشتوں کی تمنا ہوتی ہے کہ اللہ کرے، یہ روح ہماری طرف سے آسمان پر چڑھے۔ } اس میں یہ بھی ہے کہ { کافر کی قبر میں اندھا، بہرا، گونگا فرشتہ مقرر ہو جاتا ہے جس کے ہاتھ میں ایک گرز ہوتا ہے کہ اگر اسے کسی بڑے پہاڑ پر مارا جائے تو وہ مٹی ہو جائے۔ پھر اسے جیسا وہ تھا، اللہ تعالیٰ کر دیتا ہے۔ فرشتہ دوبارہ اسے گرز مارتا ہے جس سے یہ چیخنے چلانے لگتا ہے جسے انسان اور جنات کے سوا تمام مخلوق سنتی ہے۔ } ۱؎ [مسند احمد:295/4-296:صحیح] ‏‏‏‏ ابن جریر میں ہے کہ { نیک صالح شخص سے فرشتے کہتے ہیں: اے مطمئن نفس! جو طیب جسم میں تھا، تو تعریفوں والا بن کر نکل اور جنت کی خوشبو اور نسیم جنت کی طرف چل۔ اس اللہ کے پاس چل جو تجھ پر غصے نہیں ہے۔

{ فرماتے ہیں کہ جب اس روح کو لے کر آسمانوں کی طرف چڑھتے ہیں، دروازہ کھلواتے ہیں تو پوچھا جاتا ہے کہ یہ کون ہے؟ یہ اس کا نام بتاتے ہیں تو وہ اسے مرحبا کہہ کر وہی کہتے ہیں۔ یہاں تک کہ یہ اس آسمان میں پہنچتے ہیں جہاں اللہ ہے۔ } اس میں یہ بھی ہے کہ { برے شخص سے وہ کہتے ہیں: اے خبیث نفس! جو خبیث جسم میں تھا، تو برا بن کر نکل اور تیز کھولتے ہوئے پانی اور لہو پیپ اور اسی قسم کے مختلف عذابوں کی طرف چل۔ اس کے نکلنے تک فرشتے یہی سناتے رہتے ہیں۔ پھر اسے لے کر آسمانوں کی طرف چڑھتے ہیں۔ پوچھا جاتا ہے کہ یہ کون ہے؟ یہ اس کا نام بتاتے ہیں تو آسمان کے فرشتے کہتے ہیں، اس خبیث کو مرحبا نہ کہو۔ یہ تھی بھی خبیث جسم میں، تو بد بن کر لوٹ جا۔ اس کے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھلتے اور آسمان و زمین کے درمیان چھوڑ دی جاتی ہے۔ پھر قبر کی طرف لوٹ آتی ہے۔ } ۱؎ [سنن ابن ماجه:4262، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ امام ابن جریر نے لکھا ہے کہ نہ ان کے اعمال چڑھیں، نہ ان کی روحیں۔ اس سے دونوں قول مل جاتے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اس کے بعد کے جملے میں جمہور کی قرأت تو «جمل» ہے جس کے معنی نر اونٹ کے ہیں لیکن ایک قرأت میں «جمل» ہے اس کے معنی بڑے پہاڑ کے ہیں۔ مطلب یہ ہر دو صورت ایک ہی ہے کہ نہ اونٹ سوئی کے ناکے سے گزر سکے، نہ پہاڑ۔ اسی طرح کافر جنت میں نہیں جا سکتا۔ ان کا اوڑھنا بچھونا آگ ہے۔ ظالموں کی یہی سزا ہے۔
41۔ 1 غواش غاشیۃ کی جمع ہے ڈھانپ لینے والی۔ یعنی آگ ہی ان کا اوڑھنا ہوگا، یعنی اوپر سے بھی آگ نے ان کو ڈھانپا یعنی گھیرا ہوگا۔
(آیت 41) {لَهُمْ مِّنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ ……: ” غَوَاشٍ “} یہ {” غَاشِيَةٌ “} کی جمع ہے، ڈھانپنے والے، یعنی نیچے اور اوپر آگ ہو گی۔ دیکھیے سورۂ عنکبوت (۵۴،۵۵){ ” الظّٰلِمِيْنَ “} سے مراد یہاں مشرک ہیں، کیونکہ آیات کو جھٹلانا اور ان سے تکبر کرنا مسلمان کا کام نہیں۔
وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَا نُکَلِّفُ نَفۡسًا اِلَّا وُسۡعَہَاۤ ۫ اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ الۡجَنَّۃِ ۚ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۴۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
بخلاف اس کے جن لوگوں نے ہماری آیات کو مان لیا ہے اور اچھے کام کیے ہیں اور اس باب میں ہم ہر ایک کو اس کی استطاعت ہی کے مطابق ذمہ دار ٹھیراتے ہیں وہ اہل جنت ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جو لوگ ایمان ﻻئے اور انہوں نے نیک کام کئے ہم کسی شخص کو اس کی قدرت سے زیاده کسی کا مکلف نہیں بناتے وہی لوگ جنت والے ہیں اور وه اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے
احمد رضا خان بریلوی
اور وہ جو ایمان لائے اور طاقت بھر اچھے کام کیے ہم کسی پر طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں رکھتے، وہ جنت والے ہیں، انہیں اس میں ہمیشہ رہنا،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ہم کسی نفس کو اس کی وسعت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے یہی لوگ جنتی ہیں وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے، ہم کسی شخص کو اس کی طاقت کے سوا تکلیف نہیں دیتے، یہ لوگ جنت والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالیٰ کے احکامات کی تعمیل انسانی بس میں ہے ! ٭٭

اوپر گنہگاروں کا ذکر ہوا۔ یہاں اب نیک بختوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ جن کے دلوں میں ایمان ہے اور جو اپنے جسم سے قرآن و حدیث کے مطابق کام کرتے ہیں بخلاف بدکاروں کے کہ وہ دل میں کفر رکھتے ہیں اور عمل سے دور بھاگتے ہیں۔ پھر فرمان ہے کہ ایمان اور نیکیاں انسان کے بس میں ہیں، اللہ کے احکام انسانی طاقت سے زیادہ نہیں ہیں۔ ایسے لوگ جنتی ہیں اور ہمیشہ جنت میں ہی رہیں گے۔

ان کے دلوں میں سے آپس کی کدورتیں، حسد، بغض دور کر دیئے جائیں گے۔ چنانچہ صحیح بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ { مومن آگ سے چھٹکارا حاصل کر کے جنت و دوزخ کے درمیان ایک پل پر روک دیئے جائیں گے، وہاں ان کے آپس کے مظالم کا بدلہ ہو جائے گا اور پاک ہو کر جنت میں جانے کی اجازت پائیں گے۔ واللہ! وہ لوگ اپنے اپنے درجوں کو اور مکانوں کو اس طرح پہچان لیں گے جیسے دنیا میں جان لیتے تھے بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:2440] ‏‏‏‏ سدی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ اہل جنت دروازہ جنت پر ایک درخت دیکھیں گے جس کی جڑوں کے پاس سے دو نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ یہ ان میں سے ایک کا پانی پئیں گے جس سے دلوں کی کدورتیں دھل جائیں گی، یہ شراب طہور ہے۔ پھر دوسری نہر میں غسل کریں گے جس سے چہروں پر تروتازگی آ جائے گی۔ پھر نہ تو بال بکھریں، نہ سرمہ لگانے اور سنگھار کرنے کی ضرورت پڑے۔

سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ سے بھی اسی جیسا قول مروی ہے، جو آیت «وَسِيْقَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ اِلَى الْجَنَّةِ زُمَرًا حَتّىٰٓ اِذَا جَاءُوْهَا وَفُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَـــتُهَا سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوْهَا خٰلِدِيْنَ» ۱؎ [39-الزمر:73] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں آئے گا ان شاءاللہ۔ آپ سے یہ بھی مروی ہے کہ ان شاءاللہ میں اور عثمان رضی اللہ عنہ اور طلحہ رضی اللہ عنہ اور زبیر رضی اللہ عنہ ان لوگوں میں سے ہوں گے جن کے دل اللہ تعالیٰ صاف کر دے گا۔ فرماتے ہیں کہ ہم اہل بدر کے بارے میں یہ آیت اتری ہے۔ ابن مردویہ میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: { ہر جنتی کو اپنا جہنم کا ٹھکانا دکھایا جائے گا تاکہ وہ اور بھی شکر کرے اور وہ کہے گا کہ اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے ہدایت عنایت فرمائی اور ہر جہنمی کو اس کا جنت کا ٹھکانا دکھایا جائے گا تاکہ اس کی حسرت بڑھے۔ اس وقت وہ کہے گا: کاش کہ میں بھی راہ یافتہ ہوتا۔ } ۱؎ [مسند احمد:512/2:صحیح] ‏‏‏‏ پھر جنتیوں کو ان جہنمیوں کی جنت کی جگہیں دے دی جائیں گی اور ایک منادی ندا کرے گا کہ یہی وہ جنت ہے جس کے تم بہ سبب اپنی نیکیوں کے وارث بنا دیئے گئے یعنی تمہارے اعمال کی وجہ سے تمہیں رحمت رب ملی اور رحمت رب سے تم داخل جنت ہوئے۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یاد رکھو! تم میں سے کوئی بھی صرف اپنے اعمال کی وجہ سے جنت میں نہیں جا سکتا۔ لوگوں نے پوچھا: آپ بھی نہیں؟ فرمایا: ہاں! میں بھی نہیں مگر یہ کہ اللہ مجھے اپنی رحمت و فضل میں ڈھانپ لے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:5673] ‏‏‏‏
42۔ 1 یہ جملہ معترضہ ہے جس سے مقصود یہ بتانا ہے کہ ایمان اور عمل صالح، یہ ایسی چیزیں نہیں ہیں کہ جو انسانی طاقت سے زیادہ ہوں اور انسان ان پر عمل کرنے کی قدرت نہ رکھتے ہوں، بلکہ ہر انسان ان کو باآسانی اپنا سکتا ہے اور ان کے عمل کو بروئے کار لاسکتا ہے۔
(آیت 42) {لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَاۤ:} یہ جملہ کہ ” ہم کسی شخص کو اس کی طاقت کے سوا تکلیف نہیں دیتے“ جملہ معترضہ ہے، اس جملے کو بیچ میں لانے سے یہ بتانا مقصود ہے کہ جنت میں جانے کے لیے اﷲ تعالیٰ نے جو کام فرض کیے ہیں وہ انسان کی وسعت اور طاقت سے زیادہ نہیں کہ انسان کے لیے ان کا کرنا مشکل ہو بلکہ سب اس کی وسعت کے مطابق ہیں کہ ان کا کرنا اس کے لیے آسان ہے، نیز وہ اتنے ہی بجا لانے فرض ہیں جتنی انسان میں طاقت ہو۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب میں تمھیں کسی چیز سے منع کر دوں تو اس سے بچ جاؤ اور جب میں تمھیں کسی کام کا حکم دوں تو اس میں سے اتنا بجا لاؤ جتنی تم میں طاقت ہو۔“ [ بخاری، الاعتصام بالکتاب والسنۃ، باب الاقتداء بسنن رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم : ۷۲۸۸، عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ ]
وَ نَزَعۡنَا مَا فِیۡ صُدُوۡرِہِمۡ مِّنۡ غِلٍّ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہِمُ الۡاَنۡہٰرُ ۚ وَ قَالُوا الۡحَمۡدُ لِلّٰہِ الَّذِیۡ ہَدٰىنَا لِہٰذَا ۟ وَ مَا کُنَّا لِنَہۡتَدِیَ لَوۡ لَاۤ اَنۡ ہَدٰىنَا اللّٰہُ ۚ لَقَدۡ جَآءَتۡ رُسُلُ رَبِّنَا بِالۡحَقِّ ؕ وَ نُوۡدُوۡۤا اَنۡ تِلۡکُمُ الۡجَنَّۃُ اُوۡرِثۡتُمُوۡہَا بِمَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۴۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف جو کچھ کدورت ہوگی اسے ہم نکال دیں گے اُن کے نیچے نہریں بہتی ہونگی، اور وہ کہیں گے کہ "تعریف خدا ہی کے لیے ہے جس نے ہمیں یہ راستہ دکھایا، ہم خود راہ نہ پا سکتے تھے اگر خدا ہماری رہنمائی نہ کرتا، ہمارے رب کے بھیجے ہوئے رسول واقعی حق ہی لے کر آئے تھے" اُس وقت ندا آئے گی کہ "یہ جنت جس کے تم وارث بنائے گئے ہو تمہیں اُن اعمال کے بدلے میں ملی ہے جو تم کرتے رہے تھے"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جو کچھ ان کے دلوں میں (کینہ) تھا ہم اس کو دور کردیں گے۔ ان کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ اور وه لوگ کہیں گے کہ اللہ کا (لاکھ لاکھ) شکر ہے جس نے ہم کو اس مقام تک پہنچایا اور ہماری کبھی رسائی نہ ہوتی اگر اللہ تعالیٰ ہم کو نہ پہنچاتا۔ واقعی ہمارے رب کے پیغمبر سچی باتیں لے کر آئے تھے۔ اور ان سے پکار کر کہا جائے گا کہ اس جنت کے تم وارث بنائے گئے ہو اپنے اعمال کے بدلے
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم نے ان کے سینوں سے کینے کھینچ لیے ان کے نیچے نہریں بہیں گی اور کہیں گے سب خوبیاں اللہ کو جس نے ہمیں اس کی راہ دکھائی اور ہم راہ نہ پاتے اگر اللہ ہمیں راہ نہ دکھاتا، بیشک ہمارے رب کے رسول حق لائے اور ندا ہوئی کہ یہ جنت تمہیں میراث ملی صلہ تمہارے اعمال کا،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو کچھ ان کے دلوں میں کدورت ہوگی ہم اسے باہر نکال دیں گے ان کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی۔ اور وہ شکر کرتے ہوئے کہیں گے ہر قسم کی تعریف اس اللہ کے لئے ہے جس نے ہمیں اس منزلِ مقصود تک پہنچایا اور ہم کبھی یہاں تک نہیں پہنچ سکتے تھے اگر وہ ہمیں نہ پہنچاتا۔ یقینا ہمارے پروردگار کے رسول حق کے ساتھ آئے اور انہیں ندا دی جائے گی کہ یہ بہشت ہے جس کے تم اپنے ان اعمال کی بدولت وارث بنائے گئے ہو۔ جو تم انجام دیا کرتے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ان کے سینوں میں جو بھی کینہ ہوگا ہم نکال دیں گے، ان کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی اور وہ کہیں گے سب تعریف اللہ کی ہے جس نے ہمیں اس کی ہدایت دی اور ہم کبھی نہ تھے کہ ہدایت پاتے، اگر یہ نہ ہوتا کہ اللہ نے ہمیں ہدایت دی، بلاشبہ یقینا ہمارے رب کے رسول حق لے کر آئے۔ اور انھیں آواز دی جائے گی کہ یہی وہ جنت ہے جس کے وارث تم اس کی وجہ سے بنائے گئے ہو جو تم کیا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالیٰ کے احکامات کی تعمیل انسانی بس میں ہے ! ٭٭

اوپر گنہگاروں کا ذکر ہوا۔ یہاں اب نیک بختوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ جن کے دلوں میں ایمان ہے اور جو اپنے جسم سے قرآن و حدیث کے مطابق کام کرتے ہیں بخلاف بدکاروں کے کہ وہ دل میں کفر رکھتے ہیں اور عمل سے دور بھاگتے ہیں۔ پھر فرمان ہے کہ ایمان اور نیکیاں انسان کے بس میں ہیں، اللہ کے احکام انسانی طاقت سے زیادہ نہیں ہیں۔ ایسے لوگ جنتی ہیں اور ہمیشہ جنت میں ہی رہیں گے۔

ان کے دلوں میں سے آپس کی کدورتیں، حسد، بغض دور کر دیئے جائیں گے۔ چنانچہ صحیح بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ { مومن آگ سے چھٹکارا حاصل کر کے جنت و دوزخ کے درمیان ایک پل پر روک دیئے جائیں گے، وہاں ان کے آپس کے مظالم کا بدلہ ہو جائے گا اور پاک ہو کر جنت میں جانے کی اجازت پائیں گے۔ واللہ! وہ لوگ اپنے اپنے درجوں کو اور مکانوں کو اس طرح پہچان لیں گے جیسے دنیا میں جان لیتے تھے بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:2440] ‏‏‏‏ سدی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ اہل جنت دروازہ جنت پر ایک درخت دیکھیں گے جس کی جڑوں کے پاس سے دو نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ یہ ان میں سے ایک کا پانی پئیں گے جس سے دلوں کی کدورتیں دھل جائیں گی، یہ شراب طہور ہے۔ پھر دوسری نہر میں غسل کریں گے جس سے چہروں پر تروتازگی آ جائے گی۔ پھر نہ تو بال بکھریں، نہ سرمہ لگانے اور سنگھار کرنے کی ضرورت پڑے۔

سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ سے بھی اسی جیسا قول مروی ہے، جو آیت «وَسِيْقَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ اِلَى الْجَنَّةِ زُمَرًا حَتّىٰٓ اِذَا جَاءُوْهَا وَفُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَـــتُهَا سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوْهَا خٰلِدِيْنَ» ۱؎ [39-الزمر:73] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں آئے گا ان شاءاللہ۔ آپ سے یہ بھی مروی ہے کہ ان شاءاللہ میں اور عثمان رضی اللہ عنہ اور طلحہ رضی اللہ عنہ اور زبیر رضی اللہ عنہ ان لوگوں میں سے ہوں گے جن کے دل اللہ تعالیٰ صاف کر دے گا۔ فرماتے ہیں کہ ہم اہل بدر کے بارے میں یہ آیت اتری ہے۔ ابن مردویہ میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: { ہر جنتی کو اپنا جہنم کا ٹھکانا دکھایا جائے گا تاکہ وہ اور بھی شکر کرے اور وہ کہے گا کہ اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے ہدایت عنایت فرمائی اور ہر جہنمی کو اس کا جنت کا ٹھکانا دکھایا جائے گا تاکہ اس کی حسرت بڑھے۔ اس وقت وہ کہے گا: کاش کہ میں بھی راہ یافتہ ہوتا۔ } ۱؎ [مسند احمد:512/2:صحیح] ‏‏‏‏ پھر جنتیوں کو ان جہنمیوں کی جنت کی جگہیں دے دی جائیں گی اور ایک منادی ندا کرے گا کہ یہی وہ جنت ہے جس کے تم بہ سبب اپنی نیکیوں کے وارث بنا دیئے گئے یعنی تمہارے اعمال کی وجہ سے تمہیں رحمت رب ملی اور رحمت رب سے تم داخل جنت ہوئے۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یاد رکھو! تم میں سے کوئی بھی صرف اپنے اعمال کی وجہ سے جنت میں نہیں جا سکتا۔ لوگوں نے پوچھا: آپ بھی نہیں؟ فرمایا: ہاں! میں بھی نہیں مگر یہ کہ اللہ مجھے اپنی رحمت و فضل میں ڈھانپ لے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:5673] ‏‏‏‏
43۔ 1 اللہ تعالیٰ اہل جنت پر انعام فرمائے گا کہ ان کے سینوں میں ایک دوسرے کے خلاف بغض و عداوت کے جذبات ہوں گے، وہ دور کردے گا، پھر ان کے دل ایک دوسرے کے بارے میں آئینے کی طرح صاف ہوجائیں گے، کسی کے بارے میں دل میں کوئی کدورت اور عداوت نہیں رہے گی۔ بعض نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ اہل جنت کے درمیان درجات و منازل کا جو تفاوت ہوگا، اس پر وہ ایک دوسرے سے حسد نہیں کریں گے۔ پہلے مفہوم کی تائید ایک حدیث میں ہوتی ہے کہ جنتیوں کو، جنت اور دوزخ کے درمیان ایک پل پر روک لیا جائے گا اور ان کے درمیان آپس کی جو زیادتیاں ہونگی، ایک دوسرے کو ان کا بدلہ دلایا جائے گا، حتّی کہ جب وہ بالکل پاک صاف ہوجائیں گے تو پھر انہیں جنت میں داخلے کی اجازت دے دی جائے گی (صحیح بخاری) 43۔ 2 یعنی یہ ہدایت جس سے ہمیں ایمان اور عمل صالح کی زندگی نصیب ہوئی اور پھر بارگاہ الٰہی قبولیت کا درجہ بھی حاصل ہوا، یہ اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت ہے اور اس کا فضل ہے۔ اگر یہ رحمت اور فضل نہ ہوتا تو ہم یہاں تک نہ پہنچ سکتے، اسی مفہوم کی یہ حدیث ہے جس میں نبی نے فرمایا ' یہ بات اچھی طرح جان لو کہ تم میں سے کسی کو محض اس کا عمل جنت میں نہیں لے جائے گا، جب تک اللہ تعالیٰ کی رحمت نہ ہوگی۔ صحابہ نے پوچھا یارسول اللہ آپ بھی؟ فرمایا ہاں میں بھی اس وقت تک جنت میں نہیں جاؤں گا جب تک کہ رحمت الہی مجھے اپنے دامن میں نہیں سمیٹ لے گی۔ 43۔ 3 یہ تشریح پچھلی بات اور حدیث مذکورہ کے منافی نہیں، اس لئے کہ نیک عمل کی توفیق بھی بجائے خود اللہ کا فضل و احسان ہے۔
(آیت 43) ➊ { وَ نَزَعْنَا مَا فِيْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ:} ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی اہل جنت کے اوصاف میں ایک لمبی حدیث میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کے دل ایک آدمی کے دل کی طرح ہوں گے، نہ ان میں کوئی اختلاف ہو گا نہ باہمی بغض۔“ [ بخاری، بدء الخلق، باب ما جاء فی صفۃ الجنۃ: ۳۲۴۶ ] دنیا میں اگر ان کے درمیان کوئی بغض تھا تو وہ صاف ہونے کے بعد جنت میں داخلہ ہوں گے، رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن آگ سے بچ کر نکلیں گے تو انھیں جنت اور آگ کے درمیان ایک پل پر روک لیا جائے گا، پھر وہ ایک دوسرے سے ان زیادتیوں کا قصاص لیں گے جو دنیا میں ان سے ہوئیں یہاں تک کہ جب وہ تراش خراش کروا کر بالکل صاف ستھرے ہو جائیں گے تو انھیں جنت میں داخلے کی اجازت ملے گی۔“ [ بخاری، المظالم، باب قصاص المظالم: ۶۵۳۵، عن أبی سعید الخدری رضی اللہ عنہ ] سینوں میں موجود کینے میں صحابہ کرام اور تابعین عظام کی باہمی رنجشیں بھی شامل ہیں، جو دنیا میں سیاسی یا دوسری وجوہات کی بنا پر پیدا ہوئیں۔ ➋ { وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ هَدٰىنَا ……:} یعنی یہ ہدایت جس سے ہمیں ایمان اور عمل صالح کی توفیق عطا ہوئی، پھر انھیں قبولیت کا شرف حاصل ہوا، یہ اﷲ تعالیٰ کی خاص رحمت اور اس کا فضل ہے، اگر یہ نہ ہوتا تو ہم یہاں تک نہ پہنچ پاتے۔ ➌ {اُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ:} یہ باء سببیہ ہے، باء عوض نہیں، یعنی اﷲ تعالیٰ ان سے فرمائے گا کہ یہ جنت میرے فضل سے تمھارے کسی عوض یا قیمت اداکیے بغیر تمھیں بطور ہبہ دی جا رہی ہے، جیسا کہ میراث بغیر کسی عوض کے دی جاتی ہے اور تمھاری اس عزت افزائی کا سبب دنیا میں تمھارے اعمال صالحہ ہیں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: ”تم میں سے کسی کو اس کا عمل جنت میں ہر گز داخل نہیں کرے گا۔“ لوگوں نے کہا: ”یا رسول اﷲ! آپ کو بھی نہیں؟“ فرمایا: ”نہیں، مجھے بھی نہیں، مگر یہ کہ اﷲ تعالیٰ مجھے اپنے فضل اور رحمت سے ڈھانپ لے۔“ [ بخاری، الرقاق، باب القصد والمداومۃ علی العمل: ۶۴۶۳، ۶۴۶۴ ] آیت سے معلوم ہوا کہ اﷲ کی رحمت انسانی اعمال کی بنیاد پر ہو گی، یعنی اس کے اعمال صالحہ ہی رحمت کا سبب بنیں گے۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۱۸)۔
وَ نَادٰۤی اَصۡحٰبُ الۡجَنَّۃِ اَصۡحٰبَ النَّارِ اَنۡ قَدۡ وَجَدۡنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَہَلۡ وَجَدۡتُّمۡ مَّا وَعَدَ رَبُّکُمۡ حَقًّا ؕ قَالُوۡا نَعَمۡ ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَیۡنَہُمۡ اَنۡ لَّعۡنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الظّٰلِمِیۡنَ ﴿ۙ۴۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر یہ جنت کے لوگ دوزخ والوں سے پکار کر کہیں گے، "ہم نے اُن سارے وعدوں کو ٹھیک پا لیا جو ہمارے رب نے ہم سے کیے تھے، کیا تم نے بھی ان وعدوں کو ٹھیک پایا جو تمہارے رب نے کیے تھے؟" وہ جواب دیں گے "ہاں" تب ایک پکارنے والا ان کے درمیان پکارے گا کہ "خدا کی لعنت اُن ظالموں پر
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اہل جنت اہل دوزخ کو پکاریں گے کہ ہم سے جو ہمارے رب نے وعده فرمایا تھا ہم نے تو اس کو واقعہ کے مطابق پایا، سو تم سے جو تمہارے رب نے وعده کیا تھا تم نے بھی اس کو واقعہ کے مطابق پایا وه کہیں گے ہاں، پھر ایک پکارنے واﻻ دونوں کے درمیان میں پکارے گا کہ اللہ کی مار ہو ان ﻇالموں پر
احمد رضا خان بریلوی
اور جنت والوں نے دوزخ والوں کو پکارا کہ ہمیں تو مل گیا جو سچا وعدہ ہم سے ہمارے رب نے کیا تھا تو کیا تم نے بھی پایا جو تمہارے رب نے سچا وعدہ تمہیں دیا تھا بولے، ہاں! اور بیچ میں منادی نے پکار دیا کہ اللہ کی لعنت ظالموں پر
علامہ محمد حسین نجفی
اور جنتی لوگ دوزخیوں کو ندا دیں گے کہ ہمارے پروردگار نے ہم سے جو وعدہ کیا تھا اس کو ہم نے تو سچا پا لیا ہے کیا تم نے بھی اس وعدہ کو جو تمہارے پروردگار نے تم سے کیا تھا سچا پایا ہے؟ وہ (جواب میں) کہیں گے ہاں تب ایک منادی ان کے درمیان ندا کرے گا کہ خدا کی لعنت ان ظالموں پر۔
عبدالسلام بن محمد
اور جنت والے آگ والوں کو آواز دیں گے کہ ہم نے تو واقعی وہ وعدہ سچا پالیا ہے جو ہم سے ہمارے رب نے کیا تھا، تو کیا تم نے وہ وعدہ سچا پا لیا جو تمھارے رب نے تم سے کیا تھا؟ وہ کہیں گے ہاں! پھر ان کے درمیان ایک اعلان کرنے والا اعلان کرے گا کہ ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جنتیوں اور دوزخیوں میں مکالمہ ٭٭

جنتی جب جنت میں جا کر امن چین سے بیٹھ جائیں گے تو دوزخیوں کو شرمندہ کرنے کے لئے ان سے دریافت فرمائیں گے کہ ہم نے تو اپنے رب کے ان وعدوں کو جو ہم سے کئے گئے تھے، صحیح پایا۔ تم اپنی کہو! «ان» یہاں پر مفسرہ ہے قول محذوف کا اور «قد» تحقیق کے لئے ہے۔ اس کے جواب میں مشرکین ندامت سے کہیں گے کہ ہاں! ہم نے بھی اپنے رب کے ان وعدوں کو جو ہم سے تھے ٹھیک پایا۔ جیسا سورۃ الصافات میں فرمان ہے کہ ’ اہل جنت میں سے ایک کہے گا کہ میرا ساتھی تھا جو مجھ سے تعجب کے ساتھ سوال کیا کرتا تھا کہ کیا تو بھی ان لوگوں میں سے ہے جو قیامت کے قائل ہیں؟ جب ہم مر کر مٹی ہو جائیں گے اور ہڈیاں ہو کر رہ جائیں گے، کیا واقعی ہم دوبارہ زندہ کئے جائیں گے؟ اور ہمیں بدلے دیئے جائیں گے؟ یہ جنتی کہے گا کہ کیا تم بھی میرے ساتھ ہو کر اسے جھانک کر دیکھنا چاہتے ہو؟ یہ کہہ کر وہ اوپر سے جھانک کر دیکھے گا تو اپنے اس ساتھی کو بیچ جہنم میں پائے گا۔ کہے گا: قسم اللہ کی! تو تو مجھے بھی تباہ کرنے ہی کو تھا، اگر میرے رب کا فضل شامل حال نہ ہوتا تو میں بھی آج گرفتار عذاب ہوتا۔ ‘ ۱؎ [37-الصافات:51-57] ‏‏‏‏ اب بتاؤ! دنیا میں جو کہا کرتا تھا، کیا سچا تھا کہ ہم مر کر جینے والے اور بدلہ بھگتنے والے ہی نہیں؟ اس وقت فرشتے کہیں گے: یہی وہ جہنم ہے جسے تم جھوٹا مان رہے تھے۔ اب بتاؤ! کیا یہ جادو ہے؟ یا تمہاری آنکھیں نہیں ہیں؟ اب یہاں پڑے جلتے بھنتے رہو۔ صبر اور بے صبری دونوں نتیجے کے اعتبار سے تمہارے لیے یکساں ہے۔ تمہیں اپنے کئے کا بدلہ پانا ہی ہے۔ اسی طرح { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار قریش کے ان مقتولوں کو جو بدر میں کام آئے تھے اور جن کی لاشیں ایک کھائی میں تھیں، ڈانٹا تھا اور یہ فرمایا تھا کہ اے ابوجہل بن ہشام، اے عتبہ بن ربیعہ، اے شیبہ بن ربیعہ! اور دوسرے سرداروں کا بھی نام لیا اور فرمایا: کیا تم نے اپنے رب کے وعدے کو سچا پایا؟ میں نے تو اپنے رب کے وہ وعدے دیکھ لیے جو اس نے مجھ سے کئے تھے۔

{ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ ان سے باتیں کر رہے ہیں جو مر کر مردار ہو گئے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ میری بات کو تم بھی ان سے زیادہ نہیں سن رہے لیکن وہ جواب نہیں دے سکتے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3976] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے کہ اسی وقت ایک منادی ندا کر کے معلوم کرا دے گا کہ ظالموں پر رب کی ابدی لعنت واقع ہو چکی۔ جو لوگوں کو راہ حق اور شریعت ہدیٰ سے روکتے تھے اور چاہتے تھے کہ اللہ کی شریعت ٹیڑھی کر دیں تاکہ اس پر کوئی عمل نہ کرے۔ آخرت پر بھی انہیں یقین نہ تھا، اللہ کی ملاقات کو نہیں مانتے تھے اسی لیے بےپرواہی سے برائیاں کرتے تھے۔ حساب کا ڈر نہ تھا، اس لیے سب سے زیادہ بدزبان اور بداعمال تھے۔
44۔ 1 یہی بات نبی نے جنگ بدر میں جو کافر مارے گئے تھے اور ان کی لاشیں ایک کنوئیں میں پھینک دی گئیں تھیں۔ انہیں خطاب کرتے ہوئے کہی تھی، جس پر حضرت عمر نے کہا تھا ' آپ ایسے لوگوں سے خطاب فرما رہے ہیں جو ہلاک ہوچکے ہیں ' آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کی قسم، میں انہیں جو کچھ کہ رہا ہوں، وہ تم سے زیادہ سن رہے ہیں، لیکن اب وہ جواب دینے کی طاقت نہیں رکھتے (صحیح مسلم)
(آیت 44) {وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ ……:} جنتی جہنمیوں کی حسرت و ندامت بڑھانے کے لیے اور اپنے دل کو ٹھنڈا کرنے اور انتقام لینے کے لیے ان سے یہ باتیں کہیں گے: «فَالْيَوْمَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنَ الْكُفَّارِ يَضْحَكُوْنَ(34)عَلَى الْاَرَآىِٕكِ يَنْظُرُوْنَ(35)هَلْ ثُوِّبَ الْكُفَّارُ مَا كَانُوْا يَفْعَلُوْنَ» ‏‏‏‏ [ المطففین: ۳۴ تا ۳۶ ] ”سو آج وہ لوگ جو ایمان لائے، کافروں پر ہنس رہے ہیں، تختوں پر (بیٹھے) نظارہ کر رہے ہیں، کیا کافروں کو اس کا بدلہ دیا گیا جو وہ کیا کرتے تھے؟ “ بالکل یہی الفاظ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے مشرک مقتولین سے کہے تھے، چنانچہ انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے دن قریش کے چوبیس سرداروں کے متعلق حکم دیا، تو انھیں بدر کے ایک نہایت گندے کنویں میں پھینک دیا گیا۔ تیسرے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم اونٹنی پر سوار ہو کر اس کی طرف چلے، کنویں کے کنارے پر جا کھڑے ہوئے، آپ کے صحابہ بھی ساتھ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں ایک ایک کا نام لے کر پکارنا شروع کیا: ”اے فلاں بن فلاں! اے فلاں بن فلاں! کیا تمھیں پسند ہے کہ تم نے اﷲ اور اس کے رسول کی بات مانی ہوتی؟ کیونکہ ہم نے تو جو ہمارے رب نے ہم سے وعدہ کیا سچا پا لیا، تو کیا تم نے بھی جو وعدہ تمھارے رب نے کیا تھا سچا پا لیا؟“ تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”آپ ایسی لاشوں سے بات کر رہے ہیں جن میں جان ہی نہیں۔“ فرمایا: ”تم ان سے زیادہ وہ بات نہیں سن رہے جو میں انھیں کہہ رہا ہوں۔“ قتادہ نے کہا کہ اﷲ نے انھیں زندگی دی، یہاں تک کہ انھیں آپ کی بات ڈانٹنے، ذلیل کرنے، انتقام اور حسرت و ندامت کے لیے سنوا دی۔ [بخاری، المغازی، باب قتل أبی جہل: ۳۹۷۶ ]
الَّذِیۡنَ یَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ یَبۡغُوۡنَہَا عِوَجًا ۚ وَ ہُمۡ بِالۡاٰخِرَۃِ کٰفِرُوۡنَ ﴿ۘ۴۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جو اللہ کے راستے سے لوگوں کو روکتے اور اسے ٹیڑھا کرنا چاہتے تھے اور آخرت کے منکر تھے"
مولانا محمد جوناگڑھی
جو اللہ کی راه سے اعراض کرتے تھے اور اس میں کجی تلاش کرتے تھے اور وه لوگ آخرت کے بھی منکر تھے
احمد رضا خان بریلوی
جو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں اور اسے کجی چاہتے ہیں اور آخرت کا انکار رکھتے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
جو اللہ کے راہ سے (لوگوں کو) روکتے رہے ہیں اور اس میں کجی تلاش کرتے رہے ہیں۔ اور وہ آخرت کا انکار کرتے رہے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
جو اللہ کے راستے سے روکتے اور اس میں کجی ڈھونڈتے ہیں اور وہ آخرت کے منکر ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جنتیوں اور دوزخیوں میں مکالمہ ٭٭

جنتی جب جنت میں جا کر امن چین سے بیٹھ جائیں گے تو دوزخیوں کو شرمندہ کرنے کے لئے ان سے دریافت فرمائیں گے کہ ہم نے تو اپنے رب کے ان وعدوں کو جو ہم سے کئے گئے تھے، صحیح پایا۔ تم اپنی کہو! «ان» یہاں پر مفسرہ ہے قول محذوف کا اور «قد» تحقیق کے لئے ہے۔ اس کے جواب میں مشرکین ندامت سے کہیں گے کہ ہاں! ہم نے بھی اپنے رب کے ان وعدوں کو جو ہم سے تھے ٹھیک پایا۔ جیسا سورۃ الصافات میں فرمان ہے کہ ’ اہل جنت میں سے ایک کہے گا کہ میرا ساتھی تھا جو مجھ سے تعجب کے ساتھ سوال کیا کرتا تھا کہ کیا تو بھی ان لوگوں میں سے ہے جو قیامت کے قائل ہیں؟ جب ہم مر کر مٹی ہو جائیں گے اور ہڈیاں ہو کر رہ جائیں گے، کیا واقعی ہم دوبارہ زندہ کئے جائیں گے؟ اور ہمیں بدلے دیئے جائیں گے؟ یہ جنتی کہے گا کہ کیا تم بھی میرے ساتھ ہو کر اسے جھانک کر دیکھنا چاہتے ہو؟ یہ کہہ کر وہ اوپر سے جھانک کر دیکھے گا تو اپنے اس ساتھی کو بیچ جہنم میں پائے گا۔ کہے گا: قسم اللہ کی! تو تو مجھے بھی تباہ کرنے ہی کو تھا، اگر میرے رب کا فضل شامل حال نہ ہوتا تو میں بھی آج گرفتار عذاب ہوتا۔ ‘ ۱؎ [37-الصافات:51-57] ‏‏‏‏ اب بتاؤ! دنیا میں جو کہا کرتا تھا، کیا سچا تھا کہ ہم مر کر جینے والے اور بدلہ بھگتنے والے ہی نہیں؟ اس وقت فرشتے کہیں گے: یہی وہ جہنم ہے جسے تم جھوٹا مان رہے تھے۔ اب بتاؤ! کیا یہ جادو ہے؟ یا تمہاری آنکھیں نہیں ہیں؟ اب یہاں پڑے جلتے بھنتے رہو۔ صبر اور بے صبری دونوں نتیجے کے اعتبار سے تمہارے لیے یکساں ہے۔ تمہیں اپنے کئے کا بدلہ پانا ہی ہے۔ اسی طرح { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار قریش کے ان مقتولوں کو جو بدر میں کام آئے تھے اور جن کی لاشیں ایک کھائی میں تھیں، ڈانٹا تھا اور یہ فرمایا تھا کہ اے ابوجہل بن ہشام، اے عتبہ بن ربیعہ، اے شیبہ بن ربیعہ! اور دوسرے سرداروں کا بھی نام لیا اور فرمایا: کیا تم نے اپنے رب کے وعدے کو سچا پایا؟ میں نے تو اپنے رب کے وہ وعدے دیکھ لیے جو اس نے مجھ سے کئے تھے۔

{ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ ان سے باتیں کر رہے ہیں جو مر کر مردار ہو گئے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ میری بات کو تم بھی ان سے زیادہ نہیں سن رہے لیکن وہ جواب نہیں دے سکتے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3976] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے کہ اسی وقت ایک منادی ندا کر کے معلوم کرا دے گا کہ ظالموں پر رب کی ابدی لعنت واقع ہو چکی۔ جو لوگوں کو راہ حق اور شریعت ہدیٰ سے روکتے تھے اور چاہتے تھے کہ اللہ کی شریعت ٹیڑھی کر دیں تاکہ اس پر کوئی عمل نہ کرے۔ آخرت پر بھی انہیں یقین نہ تھا، اللہ کی ملاقات کو نہیں مانتے تھے اسی لیے بےپرواہی سے برائیاں کرتے تھے۔ حساب کا ڈر نہ تھا، اس لیے سب سے زیادہ بدزبان اور بداعمال تھے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 45) ➊ { الَّذِيْنَ يَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ……:} یعنی اﷲ کے راستے (اسلام) میں کجی تلاش کرتے ہیں اور اس میں شکوک و شبہات پیدا کر کے لوگوں کو اس سے نفرت دلاتے ہیں، یا لوگوں کو دھمکی دے کر راہِ حق سے روکتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ یہ راہ سیدھی راہ نہیں، صحیح راہ وہ ہے جس پر ہم چل رہے ہیں۔ ➋ { وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ كٰفِرُوْنَ:} یعنی وہ ظالم جن میں یہ تین صفات ہوں گی کہ وہ اﷲ کی راہ سے روکتے ہیں، اﷲ کی راہ میں کجی تلاش کرتے ہیں، اور آخرت کا انکار کرتے ہیں ان پر لعنت کی ہے، ورنہ ہر فاسق پر لعنت نہیں۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حق تعالیٰ نے قرآن شریف میں بے انصاف(ظالم) فرمایا اکثر گناہوں پر لیکن لعنت نہیں کی مگر ایسوں پر۔ (موضح) مطلب یہ ہے کہ وہ بے دریغ ہر قسم کے برے اقوال و اعمال کا ارتکاب اس لیے کر رہے ہیں کہ وہ آخرت کے منکر ہیں۔
وَ بَیۡنَہُمَا حِجَابٌ ۚ وَ عَلَی الۡاَعۡرَافِ رِجَالٌ یَّعۡرِفُوۡنَ کُلًّۢا بِسِیۡمٰہُمۡ ۚ وَ نَادَوۡا اَصۡحٰبَ الۡجَنَّۃِ اَنۡ سَلٰمٌ عَلَیۡکُمۡ ۟ لَمۡ یَدۡخُلُوۡہَا وَ ہُمۡ یَطۡمَعُوۡنَ ﴿۴۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ان دونوں گروہوں کے درمیان ایک اوٹ حائل ہوگی جس کی بلندیوں (اعراف) پر کچھ اور لوگ ہوں گے یہ ہر ایک کو اس کے قیافہ سے پہچانیں گے اور جنت والوں سے پکار کر کہیں گے کہ "سلامتی ہو تم پر" یہ لوگ جنت میں داخل تو نہیں ہوئے مگر اس کے امیدوار ہونگے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ان دونوں کے درمیان ایک آڑ ہوگی اور اعراف کے اوپر بہت سے آدمی ہوں گے وه لوگ، ہر ایک کو ان کے قیافہ سے پہچانیں گے اور اہل جنت کو پکار کر کہیں گے، السلام علیکم! ابھی یہ اہل اعراف جنت میں داخل نہیں ہوئے ہوں گے اور اس کے امیدوار ہوں گے
احمد رضا خان بریلوی
اور جنت و دوزخ کے بیچ میں ایک پردہ ہے اور اعراف پر کچھ مرد ہوں گے کہ دونوں فریق کو ان کی پیشانیوں سے پہچانیں گے اور وہ جنتیوں کو پکاریں گے کہ سلام تم پر یہ جنت میں نہ گئے اور اس کی طمع رکھتے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ان دونوں (بہشت و دوزخ) کے درمیان پردہ ہے (حدِ فاصل ہے) اور اعراف پر کچھ لوگ ہوں گے جو ہر ایک کو اس کی علامت سے پہچان لیں گے۔ اور وہ بہشت والوں کو پکار کر کہیں گے کہ تم پر سلام ہو اور یہ لوگ (ابھی) اس میں داخل نہیں ہوئے ہوں گے۔ حالانکہ وہ اس کی خواہش رکھتے ہوں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ان دونوں کے درمیان ایک آڑ ہوگی اور (اس کی) بلندیوں پر کچھ مرد ہوں گے، جو سب کو ان کی نشانی سے پہچانیں گے اور وہ جنت والوں کو آواز دیں گے کہ تم پر سلام ہے۔ وہ اس میں داخل نہ ہوئے ہوں گے اور وہ طمع رکھتے ہوں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جنت اور جہنم میں دیوار اور اعراف والے ٭٭

جنتیوں اور دوزخیوں کی بات بیان فرما کر ارشاد ہوتا ہے کہ جنت دوزخ کے درمیان ایک حجاب، حد فاصل اور دیوار ہے کہ دوزخیوں کو جنت سے فاصلے پر رکھے۔ اسی دیوار کا ذکر آیت «فَضُرِبَ بَيْنَهُمْ بِسُوْرٍ لَّهٗ بَابٌ بَاطِنُهٗ فِيْهِ الرَّحْمَةُ وَظَاهِرُهٗ مِنْ قِبَلِهِ الْعَذَاب» ۱؎ [57-الحديد:13] ‏‏‏‏ میں ہے یعنی ’ ان کے درمیان ایک دیوار حائل کر دی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہے۔ اس کے اندر رحمت ہے اور باہر عذاب ہے۔ ‘ اسی کا نام «الْأَعْرَافِ» ہے۔ «الْأَعْرَاف» «عرف» کی جمع ہے، ہر اونچی زمین کو عرب میں «عرفہ» کہتے ہیں۔ اسی لیے مرغ کے سر کی کلنگ کو بھی عرب میں «عرف الدیک» کہا جاتا ہے کیونکہ اونچی جگہ ہوتا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”یہ ایک اونچی جگہ ہے، جنت دوزخ کے درمیان جہاں کچھ لوگ روک دیئے جائیں گے۔“

سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کا نام «اعراف» اس لیے رکھا گیا ہے کہ یہاں کے لوگ اور لوگوں کو جانتے پہچانتے ہیں۔ یہاں کون لوگ ہوں گے؟ اس میں بہت سے اقوال ہیں۔ سب کا حاصل یہ ہے کہ وہ یہ لوگ ہوں گے جن کے گناہ اور نیکیاں برابر ہوں گی، بعض سلف سے بھی یہی منقول ہے۔ سیدنا حذیفہ، سیدنا ابن عباس، سیدنا سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہم نے یہی فرمایا ہے۔ یہی بعد والے مفسرین کا قول ہے۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی ہے لیکن سنداً وہ حدیث غریب ہے۔ اور سند سے مروی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جب ان لوگوں کی بابت جن کی نیکیاں بدیاں برابر ہوں اور جو اعراف والے ہیں، سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: یہ وہ نافرمان لوگ ہیں جو اپنے باپ کی اجازت کے بغیر نکلے پھر اللہ کی راہ میں قتل کر دیئے گئے۔ } ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:164/3:ضعیف] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ { یہ لوگ اللہ کی راہ میں قتل کئے گئے اور اپنے والدین کے نافرمان تھے تو جنت میں جانے سے باپ کی نافرمانی نے روک دیا اور جہنم میں جانے سے شہادت نے روک دیا۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:14713:ضعیف] ‏‏‏‏ ابن ماجہ وغیرہ میں بھی یہ روایتیں ہیں۔ اب اللہ ہی کو ان کی صحت کا علم ہے۔ بہت ممکن ہے، یہ موقوف روایتیں ہوں گی۔ بہر صورت ان سے اصحاب اعراف کا حال معلوم ہو رہا ہے۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے جب ان کی بابت سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں جن کی نیکیاں بدیاں برابر برابر تھیں۔ برائیوں کی وجہ سے جنت میں نہ جا سکے اور نیکیوں کی وجہ سے جہنم سے بچ گئے۔ یہاں آڑ میں روک دیئے جائیں گے، یہاں تک کہ اللہ کا فیصلہ ان کے بارے میں سرزد ہو۔

اور آیت میں آپ سے مروی ہے کہ یہ دوزخیوں کو دیکھ دیکھ کر ڈر رہے ہوں گے اور اللہ سے نجات طلب کر رہے ہوں گے کہ ناگاہ انکا رب ان کی طرف دیکھے گا اور فرمائے گا: جاؤ جنت میں داخل ہو جاؤ، میں نے تمہیں بخشا۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: قیامت کے دن لوگوں کا حساب ہو گا۔ ایک نیکی بھی اگر برائیوں سے بڑھ گئی تو داخل جنت ہو گا اور ایک برائی بھی اگر نیکیوں سے زیادہ ہو گی تو دوزخ میں جائے گا۔ پھر آپ نے «فَمَن ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِينُهُ فَأُولَـٰئِكَ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنفُسَهُمْ فِي جَهَنَّمَ خَالِدُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:102-103] ‏‏‏‏ سے دو آیتوں تک تلاوت کیں اور فرمایا: ایک رائی کے دانے کے برابر کی کمی زیادتی سے میزان کا پلڑا ہلکا بھاری ہو جاتا ہے اور جن کی نیکیاں بدیاں برابر ہوئیں، یہ اعراف والے ہیں۔ یہ ٹھہرا لیے جائیں گے اور جنتی دوزخی مشہور ہو جائیں گے۔ یہ جنت کو دیکھیں گے تو اہل جنت پر سلام کریں گے اور جب جہنم کو دیکھیں گے تو اللہ سے پناہ طلب کریں گے۔ نیک لوگوں کو نور ملے گا جو ان کے آگے اور ان کے داہنے موجود رہے گا۔ ہر انسان کو وہ مرد ہوں خواہ عورتیں ہوں، ایک نور ملے گا لیکن پل صراط پر منافقوں کا نور چھین لیا جائے گا۔ اس وقت سچے مومن اللہ سے اپنے نور کے باقی رہنے کی دعائیں کریں گے۔ اعراف والوں کا نور چھینا نہیں جائے گا وہ ان کے آگے آگے موجود ہو گا، انہیں جنت میں جانے کی طمع ہو گی، لوگو! ایک نیکی دس گنا کر کے لکھی جاتی ہے اور برائی اتنی ہی لکھی جاتی ہے، جتنی ہو۔ افسوس ان پر جن کی اکائیاں دہائیوں پر غالب آ جائیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ اعراف ایک دیوار ہے جو جنت دوزخ کے درمیان ہے، اصحاب اعراف وہیں ہوں گے۔ جب انہیں عافیت دینے کا اللہ کا ارادہ ہو گا تو حکم ملے گا: انہیں نہر حیات کی طرف لے جاؤ۔ اس کے دونوں کناروں پر سونے کے خیمے ہوں گے جو موتیوں سے مرصع ہوں گے، اس کی مٹی مشک خالص ہو گی، اس میں غوطہٰ لگاتے ہی ان کی رنگتیں نکھر جائیں گی اور ان کی گردنوں پر ایک سفید چمکیلا نشان ہو جائے گا جس سے وہ پہچان لیے جائیں گے۔ یہ اللہ کے سامنے لائے جائیں گے،

اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جو چاہو، مانگو۔ یہ مانگیں گے یہاں تک کہ ان کی تمام تمنائیں اللہ تعالیٰ پوری کر دے گا۔ پھر فرمائے گا: ان جیسی ستر گنا اور نعمتیں بھی میں نے تمہیں دیں۔ پھر یہ جنت میں جائیں گے، وہ علامت ان پر موجود ہو گی۔ جنت میں ان کا نام مساکین اہل جنت ہو گا۔ یہی روایت مجاہد کے اپنے قول سے بھی مروی ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ ایک حسن سند کی مرسل حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اعراف والوں کی نسبت دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ ان کا فیصلہ سب سے آخر میں ہو گا۔ رب العالمین جب اپنے بندوں کے فیصلے کر چکے گا تو ان سے فرمائے گا کہ تم لوگوں کو تمہاری نیکیوں نے دوزخ سے تو محفوظ کر لیا لیکن تم جنت میں جانے کے حقدار ثابت نہیں ہوئے۔ اب تم کو میں اپنی طرف سے آزاد کرتا ہوں۔ جاؤ! جنت میں رہو سہو اور جہاں چاہو کھاؤ پیو۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:14723:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ زنا کی اولاد ہیں۔

ابن عساکر میں فرمان نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ { مومن جنوں کو ثواب ہے اور ان میں سے جو برے ہیں، انہیں عذاب بھی ہو گا۔ ہم نے ان کے ثواب اور ان کے ایمانداروں کے بابت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا: وہ اعراف پر ہوں گے، جنت میں میری امت کے ساتھ نہ ہوں گے۔ ہم نے پوچھا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اعراف کیا ہے؟ فرمایا: جنت کا ایک باغ جہاں نہریں جاری ہیں اور پھل پک رہے ہیں۔ } ۱؎ [بیہقی فی البعث:117:ضعیف جداً] ‏‏‏‏ (‏‏‏‏بیہقی) مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”یہ صالح دیندار فقہاء علما لوگ ہوں گے۔“ ابومجاز رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”یہ فرشتے ہیں، جنت دوزخ والوں کو جانتے ہیں پھر آپ نے ان آیتوں کی تلاوت کی اور فرمایا: سب جنتی جنت میں جانے لگیں گے تو کہا جائے گا کہ تم امن و امان کے ساتھ بےخوف و خطر ہو کر جنت میں جاؤ۔“ اس کی سند گو ٹھیک ہے لیکن یہ قول بہت غریب ہے بلکہ روانی عبارت بھی اس کے خلاف ہے اور جمہور کا قول ہی مقدم ہے۔ کیونکہ آیت کے ظاہری الفاظ کے مطابق ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ کا قول بھی جو اوپر بیان ہوا، غرابت سے خالی نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

قرطبی رحمہ اللہ نے اس میں بارہ قول نقل کئے ہیں۔ صلحاء، انبیاء، ملائکہ وغیرہ۔ یہ جنتیوں کو ان کے چہرے کی رونق اور سفیدی سے اور دوزخیوں کو ان کے چہرے کی سیاہی سے پہچان لیں گے۔ یہ یہاں اسی لیے ہیں کہ ہر ایک کا امتیاز کر لیں اور سب کو پہچان لیں۔ یہ جنتیوں سے سلام کریں گے، جنتیوں کو دیکھ دیکھ کر اللہ کی پناہ چائیں گے اور طمع رکھیں گے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے انہیں بھی بہشت بریں میں پہنچا دے۔ یہ طمع ان کے دل میں اللہ نے اسی لیے ڈالا ہے کہ اس کا ارادہ انہیں جنت میں لے جانے کا ہو چکا ہے۔ جب وہ اہل دوزخ کو دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ پروردگار! ہمیں ظالموں سے نہ کر۔ جب کوئی جماعت جہنم میں پہنچائی جاتی ہے تو یہ اپنے بچاؤ کی دعائیں کرنے لگتے ہیں۔ جہنم سے ان کے چہرے کوئلے جیسے ہو جائیں گے لیکن جب جنت والوں کو دیکھیں گے تو یہ چیز چہروں سے دور ہو جائے گی۔ جنتیوں کے چہروں کی پہچان نورانیت ہو گی اور دوزخیوں کے چہروں پر سیاہی اور آنکھوں میں بھینگا پن ہو گا۔
46۔ 1 ' ان دونوں کے درمیان ' سے مراد جنت دوزخ کے درمیان یا کافروں اور مومنوں کے درمیان ہے۔ حِجَاب، ُ (آڑ) سے وہ فصیل (دیوار) مراد ہے جس کا ذکر سورة حدید میں ہے: (فَضُرِبَ بَيْنَهُمْ بِسُوْرٍ لَّهٗ بَابٌ) 57۔ الحدید:13) پس ان کے درمیان ایک دیوار کھڑی کردی جائے گی، جس میں ایک دروازہ ہوگا یہی اعراف کی دیوار ہے۔ 46۔ 2 یہ کون ہونگے؟ ان کی تعین میں مفسرین کے درمیان خاصا اختلاف ہے۔ اکثر مفسرین کے نزدیک یہ وہ لوگ ہونگے جن کی نیکیاں اور برائیاں برابر ہوں گی۔ ان کی نیکیاں جہنم میں جانے سے اور برائیاں جنت میں جانے سے مانع ہونگی اور یوں اللہ تعالیٰ کی طرف سے قطعی فیصلہ ہونے تک وہ درمیان میں معلق رہیں گے۔ 46۔ 3 سیماء کے معنی علامت کے ہیں جنتیوں کے چہرے روشن اور جہنمیوں کے چہرے سیاہ اور آنکھیں نیلی ہونگی۔ اس طرح وہ دونوں قسم کے لوگوں کو پہچان لیں گے۔ 46۔ 4 یہاں یَطْمَعُوْنَ کے معنی بعض لوگوں نے یَعْلَمُوْن کے کئے ہیں یعنی ان کو علم ہوگا کہ وہ عنقریب جنت میں داخل کر دئے جائیں گے۔
(آیت 46) ➊ {وَ بَيْنَهُمَا حِجَابٌ:} جو جنت اور جہنم کے درمیان ایک دیوار ہو گی، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا: «فَضُرِبَ بَيْنَهُمْ بِسُوْرٍ» ‏‏‏‏ [ الحدید: ۱۳ ] یعنی جنتیوں اور جہنمیوں کے درمیان ایک دیوار بنا دی جائے گی، جس کے اندر کی طرف اﷲ کی رحمت ہو گی اور باہر کی طرف عذاب۔ شاہ ولی اﷲ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”وآں مسمی باعراف است۔“ یعنی اس دیوار کو ”اعراف“ کہا جاتا ہے۔ (فتح الرحمن) ➋ { وَ عَلَى الْاَعْرَافِ رِجَالٌ:الْاَعْرَافِ “} یہ {” عُرْفٌ“} کی جمع ہے اور لغت میں {”عَرَفَ يَعْرِفُ مَعْرِفَةً“} پہچاننے کو اور {” عُرْفٌ“} بلند جگہ کو کہتے ہیں، کیونکہ بلند چیز ممتاز ہونے کی وجہ سے آسانی سے پہچانی جاتی ہے، اسی سے مرغ کی کلغی اور گھوڑے کی گردن کے بلند حصے کے بالوں کو {” عُرْفٌ“} کہتے ہیں، کیونکہ بلندی کی وجہ سے وہ پہچان میں ممتاز ہوتے ہیں، لہٰذا {” الْاَعْرَافِ “} سے مراد جنتیوں اور جہنمیوں کے درمیان دیوار کی بلندیاں ہیں، جہاں ٹھہرنے والوں کو ایک طرف جنتی اور دوسری طرف جہنمی لوگ نظر آئیں گے، اکثر مفسرین یہی فرماتے ہیں۔ ➌ {يَعْرِفُوْنَ كُلًّۢا بِسِيْمٰىهُمْ:سِيْمَا “} کا معنی نشانی ہے، مثلاً جنتیوں کے چہرے سفید اور نورانی ہوں گے اور جہنمیوں کے کالے سیاہ، یا امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے اعضاء چمک رہے ہوں گے۔ {” الْاَعْرَافِ “} میں کون لوگ ہوں گے، اس بارے میں مفسرین کے متعدد اقوال ہیں۔ قرطبی نے دس قول ذکر کیے ہیں، ان میں سب سے مشہور قول جسے جمہور مفسرین نے کثرت روایات کی بنا پر ترجیح دی ہے، یہ ہے کہ یہ وہ لوگ ہوں گے جن کی نیکیاں اور برائیاں برابر ہوں گی، اس لیے وہ بیچ میں دیوار پر ہوں گے۔ اس کا ایک قرینہ یہ جملہ بھی ہے: «لَمْ يَدْخُلُوْهَا وَ هُمْ يَطْمَعُوْنَ» ‏‏‏‏ ”وہ ابھی جنت میں داخل نہیں ہوئے ہوں گے اور اس کی طمع رکھتے ہوں گے۔“ ➍ { وَ هُمْ يَطْمَعُوْنَ:} یعنی جنت میں جانے کی امید رکھتے ہوں گے، اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ اعراف والے ابھی جنت میں داخل نہیں ہوئے ہوں گے، مگر امید رکھتے ہوں گے کہ انھیں آئندہ جنت نصیب ہو گی۔ دوسرے یہ کہ اعراف والے ان لوگوں کو پکاریں گے جن کا جنتی ہونا ان کی علامات دیکھ کر معلوم ہو جائے گا، حالانکہ وہ ابھی حساب کتاب میں مشغول ہونے کی وجہ سے جنت میں داخل نہیں ہوئے ہوں گے۔ (ابن کثیر) ➎ ابن کثیر میں ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے اصحاب الاعراف کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ وہ لوگ ہیں جو نافرمانی کرتے ہوئے ماں باپ کی اجازت کے بغیر چلے گئے اور اﷲ کی راہ میں قتل ہو گئے، اب انھیں جنت میں داخلے سے ماں باپ کی نافرمانی نے روک دیا اور آگ میں داخل ہونے سے انھیں اﷲ کی راہ میں قتل ہونے نے روک دیا۔“ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے ان روایات کے غیر معتبر ہونے کی طرف یہ کہہ کر اشارہ فرمایا کہ مرفوع روایات کی صحت اﷲ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے اور ابن کثیر کی تخریج ” ہدایۃ المستنیر“ میں ان تمام روایات کا غیر معتبر ہونا تفصیل سے بیان کر دیا گیا ہے۔
وَ اِذَا صُرِفَتۡ اَبۡصَارُہُمۡ تِلۡقَآءَ اَصۡحٰبِ النَّارِ ۙ قَالُوۡا رَبَّنَا لَا تَجۡعَلۡنَا مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿٪۴۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور جب ان کی نگاہیں دوزخ والوں کی طرف پھریں گی تو کہیں گے، "اے رب! ہمیں اِن ظالم لوگوں میں شامل نہ کیجیو"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جب ان کی نگاہیں اہل دوزخ کی طرف پھریں گی تو کہیں گے اے ہمارے رب! ہم کو ان ﻇالم لوگوں کے ساتھ شامل نہ کر
احمد رضا خان بریلوی
اور جب ان کی آنکھیں دوزخیوں کی طرف پھریں گی کہیں گے اے ہمارے رب! ظالموں کے ساتھ نہ کر،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جب ان کی نگاہیں دوزخ والوں کی طرف پھریں گی تو کہیں گے اے ہمارے پروردگار! ہمیں ظالم لوگوں کے ساتھ شامل نہ کر۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب ان کی نگاہیں آگ والوں کی طرف پھیری جائیں گی تو کہیں گے اے ہمارے رب! ہمیں ظالم لوگوں کے ساتھ مت کر۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جنت اور جہنم میں دیوار اور اعراف والے ٭٭

جنتیوں اور دوزخیوں کی بات بیان فرما کر ارشاد ہوتا ہے کہ جنت دوزخ کے درمیان ایک حجاب، حد فاصل اور دیوار ہے کہ دوزخیوں کو جنت سے فاصلے پر رکھے۔ اسی دیوار کا ذکر آیت «فَضُرِبَ بَيْنَهُمْ بِسُوْرٍ لَّهٗ بَابٌ بَاطِنُهٗ فِيْهِ الرَّحْمَةُ وَظَاهِرُهٗ مِنْ قِبَلِهِ الْعَذَاب» ۱؎ [57-الحديد:13] ‏‏‏‏ میں ہے یعنی ’ ان کے درمیان ایک دیوار حائل کر دی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہے۔ اس کے اندر رحمت ہے اور باہر عذاب ہے۔ ‘ اسی کا نام «الْأَعْرَافِ» ہے۔ «الْأَعْرَاف» «عرف» کی جمع ہے، ہر اونچی زمین کو عرب میں «عرفہ» کہتے ہیں۔ اسی لیے مرغ کے سر کی کلنگ کو بھی عرب میں «عرف الدیک» کہا جاتا ہے کیونکہ اونچی جگہ ہوتا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”یہ ایک اونچی جگہ ہے، جنت دوزخ کے درمیان جہاں کچھ لوگ روک دیئے جائیں گے۔“

سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کا نام «اعراف» اس لیے رکھا گیا ہے کہ یہاں کے لوگ اور لوگوں کو جانتے پہچانتے ہیں۔ یہاں کون لوگ ہوں گے؟ اس میں بہت سے اقوال ہیں۔ سب کا حاصل یہ ہے کہ وہ یہ لوگ ہوں گے جن کے گناہ اور نیکیاں برابر ہوں گی، بعض سلف سے بھی یہی منقول ہے۔ سیدنا حذیفہ، سیدنا ابن عباس، سیدنا سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہم نے یہی فرمایا ہے۔ یہی بعد والے مفسرین کا قول ہے۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی ہے لیکن سنداً وہ حدیث غریب ہے۔ اور سند سے مروی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جب ان لوگوں کی بابت جن کی نیکیاں بدیاں برابر ہوں اور جو اعراف والے ہیں، سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: یہ وہ نافرمان لوگ ہیں جو اپنے باپ کی اجازت کے بغیر نکلے پھر اللہ کی راہ میں قتل کر دیئے گئے۔ } ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:164/3:ضعیف] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ { یہ لوگ اللہ کی راہ میں قتل کئے گئے اور اپنے والدین کے نافرمان تھے تو جنت میں جانے سے باپ کی نافرمانی نے روک دیا اور جہنم میں جانے سے شہادت نے روک دیا۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:14713:ضعیف] ‏‏‏‏ ابن ماجہ وغیرہ میں بھی یہ روایتیں ہیں۔ اب اللہ ہی کو ان کی صحت کا علم ہے۔ بہت ممکن ہے، یہ موقوف روایتیں ہوں گی۔ بہر صورت ان سے اصحاب اعراف کا حال معلوم ہو رہا ہے۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے جب ان کی بابت سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں جن کی نیکیاں بدیاں برابر برابر تھیں۔ برائیوں کی وجہ سے جنت میں نہ جا سکے اور نیکیوں کی وجہ سے جہنم سے بچ گئے۔ یہاں آڑ میں روک دیئے جائیں گے، یہاں تک کہ اللہ کا فیصلہ ان کے بارے میں سرزد ہو۔

اور آیت میں آپ سے مروی ہے کہ یہ دوزخیوں کو دیکھ دیکھ کر ڈر رہے ہوں گے اور اللہ سے نجات طلب کر رہے ہوں گے کہ ناگاہ انکا رب ان کی طرف دیکھے گا اور فرمائے گا: جاؤ جنت میں داخل ہو جاؤ، میں نے تمہیں بخشا۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: قیامت کے دن لوگوں کا حساب ہو گا۔ ایک نیکی بھی اگر برائیوں سے بڑھ گئی تو داخل جنت ہو گا اور ایک برائی بھی اگر نیکیوں سے زیادہ ہو گی تو دوزخ میں جائے گا۔ پھر آپ نے «فَمَن ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِينُهُ فَأُولَـٰئِكَ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنفُسَهُمْ فِي جَهَنَّمَ خَالِدُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:102-103] ‏‏‏‏ سے دو آیتوں تک تلاوت کیں اور فرمایا: ایک رائی کے دانے کے برابر کی کمی زیادتی سے میزان کا پلڑا ہلکا بھاری ہو جاتا ہے اور جن کی نیکیاں بدیاں برابر ہوئیں، یہ اعراف والے ہیں۔ یہ ٹھہرا لیے جائیں گے اور جنتی دوزخی مشہور ہو جائیں گے۔ یہ جنت کو دیکھیں گے تو اہل جنت پر سلام کریں گے اور جب جہنم کو دیکھیں گے تو اللہ سے پناہ طلب کریں گے۔ نیک لوگوں کو نور ملے گا جو ان کے آگے اور ان کے داہنے موجود رہے گا۔ ہر انسان کو وہ مرد ہوں خواہ عورتیں ہوں، ایک نور ملے گا لیکن پل صراط پر منافقوں کا نور چھین لیا جائے گا۔ اس وقت سچے مومن اللہ سے اپنے نور کے باقی رہنے کی دعائیں کریں گے۔ اعراف والوں کا نور چھینا نہیں جائے گا وہ ان کے آگے آگے موجود ہو گا، انہیں جنت میں جانے کی طمع ہو گی، لوگو! ایک نیکی دس گنا کر کے لکھی جاتی ہے اور برائی اتنی ہی لکھی جاتی ہے، جتنی ہو۔ افسوس ان پر جن کی اکائیاں دہائیوں پر غالب آ جائیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ اعراف ایک دیوار ہے جو جنت دوزخ کے درمیان ہے، اصحاب اعراف وہیں ہوں گے۔ جب انہیں عافیت دینے کا اللہ کا ارادہ ہو گا تو حکم ملے گا: انہیں نہر حیات کی طرف لے جاؤ۔ اس کے دونوں کناروں پر سونے کے خیمے ہوں گے جو موتیوں سے مرصع ہوں گے، اس کی مٹی مشک خالص ہو گی، اس میں غوطہٰ لگاتے ہی ان کی رنگتیں نکھر جائیں گی اور ان کی گردنوں پر ایک سفید چمکیلا نشان ہو جائے گا جس سے وہ پہچان لیے جائیں گے۔ یہ اللہ کے سامنے لائے جائیں گے،

اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جو چاہو، مانگو۔ یہ مانگیں گے یہاں تک کہ ان کی تمام تمنائیں اللہ تعالیٰ پوری کر دے گا۔ پھر فرمائے گا: ان جیسی ستر گنا اور نعمتیں بھی میں نے تمہیں دیں۔ پھر یہ جنت میں جائیں گے، وہ علامت ان پر موجود ہو گی۔ جنت میں ان کا نام مساکین اہل جنت ہو گا۔ یہی روایت مجاہد کے اپنے قول سے بھی مروی ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ ایک حسن سند کی مرسل حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اعراف والوں کی نسبت دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ ان کا فیصلہ سب سے آخر میں ہو گا۔ رب العالمین جب اپنے بندوں کے فیصلے کر چکے گا تو ان سے فرمائے گا کہ تم لوگوں کو تمہاری نیکیوں نے دوزخ سے تو محفوظ کر لیا لیکن تم جنت میں جانے کے حقدار ثابت نہیں ہوئے۔ اب تم کو میں اپنی طرف سے آزاد کرتا ہوں۔ جاؤ! جنت میں رہو سہو اور جہاں چاہو کھاؤ پیو۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:14723:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ زنا کی اولاد ہیں۔

ابن عساکر میں فرمان نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ { مومن جنوں کو ثواب ہے اور ان میں سے جو برے ہیں، انہیں عذاب بھی ہو گا۔ ہم نے ان کے ثواب اور ان کے ایمانداروں کے بابت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا: وہ اعراف پر ہوں گے، جنت میں میری امت کے ساتھ نہ ہوں گے۔ ہم نے پوچھا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اعراف کیا ہے؟ فرمایا: جنت کا ایک باغ جہاں نہریں جاری ہیں اور پھل پک رہے ہیں۔ } ۱؎ [بیہقی فی البعث:117:ضعیف جداً] ‏‏‏‏ (‏‏‏‏بیہقی) مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”یہ صالح دیندار فقہاء علما لوگ ہوں گے۔“ ابومجاز رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”یہ فرشتے ہیں، جنت دوزخ والوں کو جانتے ہیں پھر آپ نے ان آیتوں کی تلاوت کی اور فرمایا: سب جنتی جنت میں جانے لگیں گے تو کہا جائے گا کہ تم امن و امان کے ساتھ بےخوف و خطر ہو کر جنت میں جاؤ۔“ اس کی سند گو ٹھیک ہے لیکن یہ قول بہت غریب ہے بلکہ روانی عبارت بھی اس کے خلاف ہے اور جمہور کا قول ہی مقدم ہے۔ کیونکہ آیت کے ظاہری الفاظ کے مطابق ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ کا قول بھی جو اوپر بیان ہوا، غرابت سے خالی نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

قرطبی رحمہ اللہ نے اس میں بارہ قول نقل کئے ہیں۔ صلحاء، انبیاء، ملائکہ وغیرہ۔ یہ جنتیوں کو ان کے چہرے کی رونق اور سفیدی سے اور دوزخیوں کو ان کے چہرے کی سیاہی سے پہچان لیں گے۔ یہ یہاں اسی لیے ہیں کہ ہر ایک کا امتیاز کر لیں اور سب کو پہچان لیں۔ یہ جنتیوں سے سلام کریں گے، جنتیوں کو دیکھ دیکھ کر اللہ کی پناہ چائیں گے اور طمع رکھیں گے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے انہیں بھی بہشت بریں میں پہنچا دے۔ یہ طمع ان کے دل میں اللہ نے اسی لیے ڈالا ہے کہ اس کا ارادہ انہیں جنت میں لے جانے کا ہو چکا ہے۔ جب وہ اہل دوزخ کو دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ پروردگار! ہمیں ظالموں سے نہ کر۔ جب کوئی جماعت جہنم میں پہنچائی جاتی ہے تو یہ اپنے بچاؤ کی دعائیں کرنے لگتے ہیں۔ جہنم سے ان کے چہرے کوئلے جیسے ہو جائیں گے لیکن جب جنت والوں کو دیکھیں گے تو یہ چیز چہروں سے دور ہو جائے گی۔ جنتیوں کے چہروں کی پہچان نورانیت ہو گی اور دوزخیوں کے چہروں پر سیاہی اور آنکھوں میں بھینگا پن ہو گا۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 47) ➊ {وَ اِذَا صُرِفَتْ اَبْصَارُهُمْ:صُرِفَتْ “} مجہول کا صیغہ ہے جس میں اس طرف اشارہ ہے کہ اعراف والے جنتیوں کی طرف تو شوق اور رغبت سے دیکھیں گے اور انھیں سلام کریں گے، مگر جہنمیوں کی طرف خود نگاہ اٹھانا بھی پسند نہیں کریں گے، بلکہ ان کی نگاہیں ان کی طرف پھیری جائیں گی تاکہ انھیں عافیت کی قدر معلوم ہو۔ (المنار) ➋ { مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ:} یعنی جہاں وہ اب ہیں یا آئندہ ہوں گے۔
وَ نَادٰۤی اَصۡحٰبُ الۡاَعۡرَافِ رِجَالًا یَّعۡرِفُوۡنَہُمۡ بِسِیۡمٰہُمۡ قَالُوۡا مَاۤ اَغۡنٰی عَنۡکُمۡ جَمۡعُکُمۡ وَ مَا کُنۡتُمۡ تَسۡتَکۡبِرُوۡنَ ﴿۴۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر یہ اعراف کے لوگ دوزخ کی چند بڑی بڑی شخصیتوں کو ان کی علامتوں سے پہچان کر پکاریں گے کہ "دیکھ لیا تم نے، آج نہ تمہارے جتھے تمہارے کسی کام آئے اور نہ وہ ساز و سامان جن کو تم بڑی چیز سمجھتے تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اہل اعراف بہت سے آدمیوں کو جن کو کہ ان کے قیافہ سے پہچانیں گے پکاریں گے کہیں گے کہ تمہاری جماعت اور تمہارا اپنے کو بڑا سمجھنا تمہارے کچھ کام نہ آیا
احمد رضا خان بریلوی
اور اعراف والے کچھ مردوں کو پکاریں گے جنہیں ان کی پیشانی سے پہچانتے ہیں کہیں گے تمہیں کیا کام آیا تمہارا جتھا اور وہ جو تم غرور کرتے تھے
علامہ محمد حسین نجفی
اور پھر اعراف والے لوگ (دوزخ والے چند آدمیوں کو) آواز دیں گے جنہیں وہ علامتوں سے پہچانتے ہوں گے۔ کہ آج تمہاری جمعیت اور تمہارا غرور و پندار کچھ کام نہ آیا اور تمہیں کوئی فائدہ نہ پہنچایا۔
عبدالسلام بن محمد
اور ان بلندیوں والے کچھ مردوں کو آواز دیں گے، جنھیں وہ ان کی نشانی سے پہچانتے ہوں گے، کہیں گے تمھارے کام نہ تمھاری جماعت آئی اور نہ جو تم بڑے بنتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کفر کے ستون اور ان کا حشر ٭٭

کفر کے جن ستونوں کو، کافروں کے جن سرداروں کو اعراف والے ان کے چہروں سے پہچان لیں گے، انہیں ڈانٹ ڈپٹ کر کے پوچھیں گے کہ آج تمہاری اکثریت جمعیت کہاں گئی؟ اس نے تو تمہیں مطلقاً فائدہ نہ پہنچایا۔ آج وہ تمہاری اکڑفوں کیا ہوئی؟ تم تو بری طرح عذابوں میں جکڑ دیئے گئے۔ اس کے بعد ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں فرمایا جائے گا کہ بدبختو! انہی کی نسبت تم کہا کرتے تھے کہ اللہ انہیں کوئی راحت نہیں دے گا۔ اے اعراف والو! میں تمہیں اجازت دیتا ہوں کہ جاؤ با آرام، بے کھٹکے جنت میں جاؤ۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اعراف والوں کے اعمال صالحہ اس قابل نہ نکلے کہ انہیں جنت میں پہنچائیں لیکن اتنی برائیاں بھی ان کی نہ تھیں کہ دوزخ میں جائیں تو یہ اعراف پر ہی روک دیئے گئے، لوگوں کو ان کے اندازے سے پہچانتے ہوں گے۔

جب اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں فیصلے کر چکے گا، شفاعت کی اجازت دے گا۔ لوگ سیدنا آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ اے آدم علیہ السلام! آپ ہمارے باپ ہیں، ہماری شفاعت اللہ تعالیٰ کی جناب میں کیجئے۔ آپ جواب دیں گے: کیا تم نہیں جانتے ہو کہ میرے سوا کسی کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا ہو، اپنی روح اس میں پھونکی ہو، اپنی رحمت اس پر اپنے غضب سے پہلے پہنچائی ہو، اپنے فرشتوں سے اسے سجدہ کرایا ہو؟ سب جواب دیں گے: نہیں، ایسا آپ کے سوا نہیں۔ آپ فرمائیں گے: میں اس کی حقیقت سے بےخبر ہوں، میں تمہاری شفاعت نہیں کر سکتا۔ ہاں! تم میرے لڑکے ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ اب سب لوگ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے پاس پہنچیں گے اور ان سے شفاعت کرنے کی درخواست کریں گے۔ آپ جواب دیں گے کہ کیا تم جانتے ہو کہ میرے سوا اور کوئی خلیل اللہ ہوا ہو؟ یا اللہ کے بارے میں اس کی قوم نے آگ میں پھینکا ہو؟ سب کہیں گے: آپ کے سوا اور کوئی نہیں۔ فرمائیں گے: مجھے اس کی حقیقت معلوم نہیں، میں تمہاری درخواست شفاعت نہیں لے جا سکتا، تم میرے لڑکے موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ موسیٰ علیہ السلام جواب دیں گے کہ بتاؤ میرے سوا اللہ نے کسی کو اپنا کلیم اللہ بنایا، اپنی سرگوشیوں کے لیے نزدیکی عطا فرمائی؟ جواب دیں گے کہ نہیں۔ فرمائیں گے: میں اس کی حقیقت سے بےخبر ہوں، میں تمہاری سفارش کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ ہاں! تم عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ لوگ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے، ان سے شفاعت طلبی کا تقاضا کریں گے۔ یہ جواب دیں گے کہ کیا تم جانتے ہو کہ میرے سوا کسی کو اللہ نے بے باپ کے پیدا کیا ہو؟ جواب ملے گا کہ نہیں۔ پوچھیں گے: جانتے ہو کہ کوئی مادر زاد اندھوں اور کوڑھیوں کو بحکم اللہ میرے سوا اچھا کرتا ہو یا کوئی مردہ کو بحکم اللہ زندہ کر دیتا ہو؟ کہیں گے کہ کوئی نہیں۔ فرمائیں گے کہ میں تو آج اپنے نفس کے بچاؤ میں ہوں، میں اس کی حقیقت سے بےخبر ہوں۔ مجھ میں اتنی طاقت کہاں کہ تمہاری سفارش کر سکوں، ہاں! تم سب کے سب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ۔ چنانچہ سب لوگ میرے پاس آئیں گے، میں اپنا سینہ ٹھونک کر کہوں گا کہ ہاں ہاں! میں اسی لیے موجود ہوں، پھر میں چل کر اللہ کے عرش کے سامنے ٹھہر جاؤں گا۔ اپنے رب عزوجل کے پاس پہنچ جاؤں گا اور ایسی ایسی اس کی تعریفیں بیان کروں گا کہ کسی سننے والے نے کبھی نہ سنی ہوں۔ پھر سجدے میں گر پڑوں گا، پھر مجھ سے فرمایا جائے گا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اپنا سر اٹھاؤ، مانگو دیا جائے گا۔ شفاعت کرو، قبول کی جائے گی۔

پس میں اپنا سر اٹھا کر کہوں گا: میرے رب! میری امت۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: وہ سب تیرے ہی ہے۔ پھر تو ہر ہر پیغمبر اور ہر ایک فرشتہ رشک کرنے لگے گا۔ یہی مقام، مقام محمود ہے۔ پھر میں ان سب کو لے کر جنت کی طرف آؤں گا۔ جنت کا دروازہ کھلواؤں گا اور وہ میرے لیے اور ان کے لئے کھول دیا جائے گا۔ پھر انہیں ایک نہر کی طرف لے جائیں گے جس کا نام نہر الحیوان ہے، اس کے دونوں کناروں پر سونے کے محل ہیں جو یاقوت سے جڑاؤ کئے گئے ہیں، اس میں غسل کریں گے جس سے جنتی رنگ اور جنتی خوشبو ان میں پیدا ہو جائے گی اور چمکتے ہوئے ستاروں جیسے وہ نورانی ہو جائیں گے۔ ہاں! ان کے سینوں پر سفید نشان باقی رہ جائیں گے جس سے وہ پہچانے جائیں گے۔ انہیں مساکین اہل جنت کہا جائے گا۔
48۔ 1 یہ اہل دوزخ ہونگے جن کو اصحاب الاعراف ان کی علامتوں سے پہچان لیں گے اور وہ اپنے جتھے اور دوسری چیزوں پر جو گھمنڈ کرتے تھے اس کے حال سے انہیں یاد دلائیں گے کہ یہ چیزیں تمہارے کچھ کام نہ آئیں۔
(آیت 48) ➊ { يَعْرِفُوْنَهُمْ بِسِيْمٰىهُمْ:} کہ یہ جہنمی ہیں، یا جن کو وہ دنیا میں پہچانتے ہوں گے۔ ➋ { مَاۤ اَغْنٰى عَنْكُمْ جَمْعُكُمْ:} رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن اہل نار میں سے اس شخص کو لایا جائے گا جو دنیا میں سب سے زیادہ خوش حال تھا، پھر اسے آگ میں ایک غوطہ دیا جائے گا، پھر کہا جائے گا: ”اے ابن آدم! تو نے کبھی کوئی آرام دیکھا تھا؟“ وہ کہے گا: ”نہیں، اﷲ کی قسم! اے میرے رب!“ [ مسلم، صفات المنافقین واحکامہم، باب صبغ أنعم أہل الدنیا فی النار……: ۲۸۰۷ ]
اَہٰۤؤُلَآءِ الَّذِیۡنَ اَقۡسَمۡتُمۡ لَا یَنَالُہُمُ اللّٰہُ بِرَحۡمَۃٍ ؕ اُدۡخُلُوا الۡجَنَّۃَ لَا خَوۡفٌ عَلَیۡکُمۡ وَ لَاۤ اَنۡتُمۡ تَحۡزَنُوۡنَ ﴿۴۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور کیا یہ اہل جنت وہی لوگ نہیں ہیں جن کے متعلق تم قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ اِن کو تو خدا پنی رحمت میں سے کچھ بھی نہ دے گا؟ آج انہی سے کہا گیا کہ داخل ہو جاؤ جنت میں، تمہارے لیے نہ خوف ہے نہ رنج"
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا یہ وہی ہیں جن کی نسبت تم قسمیں کھا کھا کر کہا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان پر رحمت نہ کرے گا، ان کو یوں حکم ہوگا کہ جاؤ جنت میں تم پر نہ کچھ خوف ہے اور نہ تم مغموم ہوگے
احمد رضا خان بریلوی
کیا یہ ہیں وہ لوگ جن پر تم قسمیں کھاتے تھے کہ اللہ ان پر اپنی رحمت کچھ نہ کرے گا ان سے تو کہا گیا کہ جنت میں جاؤ نہ تم کو اندیشہ نہ کچھ غم،
علامہ محمد حسین نجفی
(پھر کچھ مستحقین جنت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہیں گے) کیا یہی وہ لوگ ہیں جن کے متعلق تم قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ اللہ ان تک اپنی کچھ بھی رحمت نہیں پہنچائے گا۔ (پھر ان مستحقین جنت سے کہیں گے) تم بہشت میں داخل ہو جاؤ۔ نہ تم پر کوئی خوف ہے اور نہ ہی تم مغموم ہوگے۔
عبدالسلام بن محمد
کیا یہی وہ لوگ ہیں جن کے متعلق تم نے قسمیں کھائی تھیں کہ اللہ انھیں کوئی رحمت نہیں پہنچائے گا؟ جنت میں داخل ہو جاؤ، نہ تم پر کوئی خوف ہے اور نہ تم غمگین ہوگے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کفر کے ستون اور ان کا حشر ٭٭

کفر کے جن ستونوں کو، کافروں کے جن سرداروں کو اعراف والے ان کے چہروں سے پہچان لیں گے، انہیں ڈانٹ ڈپٹ کر کے پوچھیں گے کہ آج تمہاری اکثریت جمعیت کہاں گئی؟ اس نے تو تمہیں مطلقاً فائدہ نہ پہنچایا۔ آج وہ تمہاری اکڑفوں کیا ہوئی؟ تم تو بری طرح عذابوں میں جکڑ دیئے گئے۔ اس کے بعد ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں فرمایا جائے گا کہ بدبختو! انہی کی نسبت تم کہا کرتے تھے کہ اللہ انہیں کوئی راحت نہیں دے گا۔ اے اعراف والو! میں تمہیں اجازت دیتا ہوں کہ جاؤ با آرام، بے کھٹکے جنت میں جاؤ۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اعراف والوں کے اعمال صالحہ اس قابل نہ نکلے کہ انہیں جنت میں پہنچائیں لیکن اتنی برائیاں بھی ان کی نہ تھیں کہ دوزخ میں جائیں تو یہ اعراف پر ہی روک دیئے گئے، لوگوں کو ان کے اندازے سے پہچانتے ہوں گے۔

جب اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں فیصلے کر چکے گا، شفاعت کی اجازت دے گا۔ لوگ سیدنا آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ اے آدم علیہ السلام! آپ ہمارے باپ ہیں، ہماری شفاعت اللہ تعالیٰ کی جناب میں کیجئے۔ آپ جواب دیں گے: کیا تم نہیں جانتے ہو کہ میرے سوا کسی کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا ہو، اپنی روح اس میں پھونکی ہو، اپنی رحمت اس پر اپنے غضب سے پہلے پہنچائی ہو، اپنے فرشتوں سے اسے سجدہ کرایا ہو؟ سب جواب دیں گے: نہیں، ایسا آپ کے سوا نہیں۔ آپ فرمائیں گے: میں اس کی حقیقت سے بےخبر ہوں، میں تمہاری شفاعت نہیں کر سکتا۔ ہاں! تم میرے لڑکے ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ اب سب لوگ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے پاس پہنچیں گے اور ان سے شفاعت کرنے کی درخواست کریں گے۔ آپ جواب دیں گے کہ کیا تم جانتے ہو کہ میرے سوا اور کوئی خلیل اللہ ہوا ہو؟ یا اللہ کے بارے میں اس کی قوم نے آگ میں پھینکا ہو؟ سب کہیں گے: آپ کے سوا اور کوئی نہیں۔ فرمائیں گے: مجھے اس کی حقیقت معلوم نہیں، میں تمہاری درخواست شفاعت نہیں لے جا سکتا، تم میرے لڑکے موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ موسیٰ علیہ السلام جواب دیں گے کہ بتاؤ میرے سوا اللہ نے کسی کو اپنا کلیم اللہ بنایا، اپنی سرگوشیوں کے لیے نزدیکی عطا فرمائی؟ جواب دیں گے کہ نہیں۔ فرمائیں گے: میں اس کی حقیقت سے بےخبر ہوں، میں تمہاری سفارش کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ ہاں! تم عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ لوگ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے، ان سے شفاعت طلبی کا تقاضا کریں گے۔ یہ جواب دیں گے کہ کیا تم جانتے ہو کہ میرے سوا کسی کو اللہ نے بے باپ کے پیدا کیا ہو؟ جواب ملے گا کہ نہیں۔ پوچھیں گے: جانتے ہو کہ کوئی مادر زاد اندھوں اور کوڑھیوں کو بحکم اللہ میرے سوا اچھا کرتا ہو یا کوئی مردہ کو بحکم اللہ زندہ کر دیتا ہو؟ کہیں گے کہ کوئی نہیں۔ فرمائیں گے کہ میں تو آج اپنے نفس کے بچاؤ میں ہوں، میں اس کی حقیقت سے بےخبر ہوں۔ مجھ میں اتنی طاقت کہاں کہ تمہاری سفارش کر سکوں، ہاں! تم سب کے سب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ۔ چنانچہ سب لوگ میرے پاس آئیں گے، میں اپنا سینہ ٹھونک کر کہوں گا کہ ہاں ہاں! میں اسی لیے موجود ہوں، پھر میں چل کر اللہ کے عرش کے سامنے ٹھہر جاؤں گا۔ اپنے رب عزوجل کے پاس پہنچ جاؤں گا اور ایسی ایسی اس کی تعریفیں بیان کروں گا کہ کسی سننے والے نے کبھی نہ سنی ہوں۔ پھر سجدے میں گر پڑوں گا، پھر مجھ سے فرمایا جائے گا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اپنا سر اٹھاؤ، مانگو دیا جائے گا۔ شفاعت کرو، قبول کی جائے گی۔

پس میں اپنا سر اٹھا کر کہوں گا: میرے رب! میری امت۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: وہ سب تیرے ہی ہے۔ پھر تو ہر ہر پیغمبر اور ہر ایک فرشتہ رشک کرنے لگے گا۔ یہی مقام، مقام محمود ہے۔ پھر میں ان سب کو لے کر جنت کی طرف آؤں گا۔ جنت کا دروازہ کھلواؤں گا اور وہ میرے لیے اور ان کے لئے کھول دیا جائے گا۔ پھر انہیں ایک نہر کی طرف لے جائیں گے جس کا نام نہر الحیوان ہے، اس کے دونوں کناروں پر سونے کے محل ہیں جو یاقوت سے جڑاؤ کئے گئے ہیں، اس میں غسل کریں گے جس سے جنتی رنگ اور جنتی خوشبو ان میں پیدا ہو جائے گی اور چمکتے ہوئے ستاروں جیسے وہ نورانی ہو جائیں گے۔ ہاں! ان کے سینوں پر سفید نشان باقی رہ جائیں گے جس سے وہ پہچانے جائیں گے۔ انہیں مساکین اہل جنت کہا جائے گا۔
49۔ 1 اس سے مراد وہ اہل ایمان ہیں جو دنیا میں غریب و مسکین اور مفلس و نادار قسم کے تھے جن کا مذاق مذکورہ منکرین اڑایا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے اگر یہ اللہ کے محبوب ہوتے تو ان کا دنیا میں یہ حال نہ ہوتا؟ پھر مزید جسارت کرتے ہوئے دعویٰ کرتے کہ قیامت والے دن بھی اللہ کی رحمت ہم پر ہوگی نہ کہ ان پر (ابن کثیر) بعض نے اس کا قائل اصحاب الاعراف کو بتلایا ہے اور بعض کہتے ہیں جب اصحاب الاعراف جہنمیوں کو یہ کہیں گے کہ تمہارا جتھہ اور تمہارا اپنے کو بڑا سمجھنا تمہارے کچھ کام نہ آیا۔ تو اس وقت اللہ کی طرف سے جنتیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا جائے گا یہ وہی لوگ ہیں جن کے بارے میں تم قسمیں کھاتے تھے کہ ان پر اللہ کی رحمت نہیں ہوگی۔
(آیت 49){ اَهٰۤؤُلَآءِ الَّذِيْنَ اَقْسَمْتُمْ:} قریش کے کھاتے پیتے لوگ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غریب و نادار مسلمانوں کو دیکھتے تو قسمیں کھا کھا کر کہتے کہ ان لوگوں کی یہ حیثیت نہیں ہے کہ اﷲ تعالیٰ انھیں اپنی رحمت سے نوازے۔ اب اعراف والے جہنم میں ان لوگوں کو پہچان کر جو نادار مسلمانوں سے اس قسم کی باتیں کیا کرتے تھے، کہیں گے کہ دیکھو یہ وہی لوگ ہیں جن کے متعلق تم قسمیں کھا کر کہا کرتے تھے کہ اﷲ تعالیٰ انھیں کوئی رحمت نہیں پہنچائے گا، دیکھ لو! اب یہ وہی ہیں جنھیں کہا گیا کہ جنت میں داخل ہو جاؤ، نہ تم پر کوئی خوف ہے اور نہ تم غمگین ہو گے۔
وَ نَادٰۤی اَصۡحٰبُ النَّارِ اَصۡحٰبَ الۡجَنَّۃِ اَنۡ اَفِیۡضُوۡا عَلَیۡنَا مِنَ الۡمَآءِ اَوۡ مِمَّا رَزَقَکُمُ اللّٰہُ ؕ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰہَ حَرَّمَہُمَا عَلَی الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿ۙ۵۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور دوزخ کے لوگ جنت والوں کو پکاریں گے کہ کچھ تھوڑا سا پانی ہم پر ڈال دو یا جو رزق اللہ نے تمہیں دیا ہے اُسی میں سے کچھ پھینک دو وہ جواب دیں گے کہ "اللہ نے یہ دونوں چیزیں اُن منکرین حق پر حرام کر دی ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور دوزخ والے جنت والوں کو پکاریں گے، کہ ہمارےاوپر تھوڑا پانی ہی ڈال دو یا اور ہی کچھ دے دو، جو اللہ نے تم کو دے رکھا ہے۔ جنت والے کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے دونوں چیزوں کی کافروں کے لئے بندش کردی ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور دوزخی بہشتیوں کو پکاریں گے کہ ہمیں اپنے پانی کا فیض دو یا اس کھانے کا جو اللہ نے تمہیں دیا کہیں گے بیشک اللہ نے ان دونوں کو کافروں پر حرام کیا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اور دوزخ والے بہشت والوں کو پکاریں گے کہ تھوڑا سا پانی یا جو کچھ اللہ تعالیٰ نے تمہیں کھانے کو عطا فرمایا ہے اس میں سے کچھ ہماری طرف انڈیل دو وہ (جواب میں) کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ دونوں چیزیں کافروں پر حرام کر دی ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور آگ والے جنت والوں کو آواز دیں گے کہ ہم پر کچھ پانی بہا دو، یا اس میں سے کچھ جو اللہ نے تمھیں رزق دیا ہے۔ وہ کہیں گے بے شک اللہ نے یہ دونوں چیزیں کافروں پر حرام کر دی ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جیسی کرنی ویسی بھرنی ٭٭

دوزخیوں کی ذلت و خواری اور ان کا بھیک مانگنا اور ڈانٹ دیا جانا بیان ہو رہا ہے کہ وہ جنتیوں سے پانی یا کھانا مانگیں گے۔ اپنے نزدیک کے رشتے، کنبے والے جیسے باپ، بیٹے، بھائی، بہن وغیرہ سے کہیں گے کہ ہم جل بھن رہے ہیں، بھوکے پیاسے ہیں، ہمیں ایک گھونٹ پانی یا ایک لقمہ کھانا دے دو۔ وہ بحکم الٰہی انہیں جواب دیں گے کہ یہ سب کچھ کفار پر حرام ہے۔ { سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال ہوتا ہے کہ کس چیز کا صدقہ افضل ہے؟ فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ سب سے افضل خیرات پانی ہے۔ دیکھو جہنمی اہل جنت سے اسی کا سوال کریں گے۔ } ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:2673:اسنادہ فیه جهالة] ‏‏‏‏ مروی ہے کہ { جب ابوطالب موت کی بیماری میں مبتلا ہوا تو قریشیوں نے اس سے کہا: کسی کو بھیج کر اپنے بھتیجے سے کہلواؤ کہ وہ تمہارے پاس جنتی انگور کا ایک خوشہ بھجوا دے تاکہ تیری بیماری جاتی رہے۔ جس وقت قاصد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا ہے، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آپ کے پاس موجود تھے۔ سنتے ہی فرمانے لگے: اللہ نے جنت کی کھانے پینے کی چیزیں کافروں پر حرام کر دی ہیں۔ } ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:166/3:مرسل] ‏‏‏‏ پھر ان کی بدکرداری بیان فرمائی کہ یہ لوگ دین حق کو ایک ہنسی کھیل سمجھے ہوئے تھے۔ دنیا کی زینت اور اس کے بناؤ چناؤ میں ہی عمر بھر مشغول رہے۔ یہ چونکہ اس دن کو بھول بسر گئے تھے۔ اس کے بدلے ہم بھی ان کے ساتھ ایسا معاملہ کریں گے جو کسی بھول جانے والے کا معاملہ ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ بھولنے سے پاک ہے، اس کے علم سے کوئی چیز نکل نہیں سکتی۔ فرماتا ہے: «لَا يَضِلُّ رَبِّيْ وَلَا يَنْسَى» ۱؎ [20-طه:52] ‏‏‏‏ ’ نہ وہ بہکے، نہ بھولے۔ ‘

یہاں جو فرمایا: یہ صرف مقابلہ کیلئے ہے۔ جیسے فرمان ہے: «نَسُوا اللَّـهَ فَنَسِيَهُمْ» ۱؎ [9-التوبة:67] ‏‏‏‏ اور جیسے دوسری آیت میں ہے «قَالَ كَذٰلِكَ اَتَتْكَ اٰيٰتُنَا فَنَسِيْتَهَا وَكَذٰلِكَ الْيَوْمَ تُنْسٰى» ۱؎ [20-طه:126] ‏‏‏‏ فرمان ہے «وَقِيلَ الْيَوْمَ نَنسَاكُمْ كَمَا نَسِيتُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ هَـٰذَا» ۱؎ [45-الجاثية:34] ‏‏‏‏ ’ تیرے پاس ہماری نشانیاں آئی تھیں جنہیں تو بھلا بیٹھا تھا اسی طرح آج تجھے بھی بھلا دیا جائے گا۔ ‘ وغیرہ۔ پس یہ بھلائیوں سے بالقصد بھلا دیئے جائیں گے۔ ہاں برائیاں اور عذاب برابر ہوتے رہیں گے۔ انہوں نے اس دن کی ملاقات کو بھلایا، ہم نے انہیں آگ میں چھوڑا، رحمت سے دور کیا جیسے یہ عمل سے دور تھے۔ صحیح حدیث میں ہے: { قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بندے سے فرمائے گا: کیا میں نے تجھے بیوی بچے نہیں دیئے تھے؟ یا عزت آبرو نہیں دی تھی؟ کیا گھوڑے اور اونٹ تیرے مطیع نہیں کئے تھے؟ اور کیا تجھے قسم قسم کی راحتوں میں آزاد نہیں رکھا تھا؟ بندہ جواب دے گا کہ ہاں پروردگار! بیشک تو نے ایسا ہی کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: پھر کیا تو میری ملاقات پر ایمان رکھتا تھا؟ وہ جواب دے گا کہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: پس میں بھی آج تجھے ایسا ہی بھول جاؤں گا جیسے تو مجھے بھول گیا تھا۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2968] ‏‏‏‏
50۔ 1 جس طرح پہلے گزر چکا ہے کہ کھانے پینے کی نعمتیں قیامت والے دن صرف اہل ایمان کے لئے ہونگی (خَالِصَةً يَّوْمَ الْقِيٰمَةِ) 7۔ الاعرف:32) یہاں اس کی مزید وضاحت جنتیوں کی زبان سے کردی گئی ہے۔
(آیت 50){ اِنَّ اللّٰهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الْكٰفِرِيْنَ:} جیسا کہ پہلے آیت (132) میں گزرا کہ جنت کی نعمتیں اہل ایمان کے لیے خالص ہوں گی، جنتی انھیں جواب دیں گے کہ جنت کا پانی اور رزق اﷲ تعالیٰ نے کافروں پر حرام کر دیا ہے، لہٰذا ہم تم سے کوئی ہمدردی کا سلوک کر کے اس کی نافرمانی نہیں کریں گے۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ اصحاب اعراف کے جنت میں داخل ہونے کے بعد کفار، یعنی جہنمی لوگ یہ فریاد کریں گے۔ (شوکانی)