بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الأعراف — Surah Araf
آیت نمبر 3
کل آیات: 206
قرآن کریم الأعراف آیت 3
آیت نمبر: 3 — سورۃ الأعراف islamicurdubooks.com ↗
اِتَّبِعُوۡا مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکُمۡ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ وَ لَا تَتَّبِعُوۡا مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اَوۡلِیَآءَ ؕ قَلِیۡلًا مَّا تَذَکَّرُوۡنَ ﴿۳﴾
لوگو، جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے اُس کی پیروی کرو اور اپنے رب کو چھوڑ کر دوسرے سرپرستوں کی پیروی نہ کرو مگر تم نصیحت کم ہی مانتے ہو
تم لوگ اس کا اتباع کرو جو تمہارے رب کی طرف سے آئی ہے اور اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر من گھڑت سرپرستوں کی اتباع مت کرو تم لوگ بہت ہی کم نصیحت پکڑتے ہو
اے لوگو! اس پر چلو جو تمہاری طرف تمہارے رب کے پاس سے اُترا اور اسے چھوڑ کر اور حاکموں کے پیچھے نہ جاؤ، بہت ہی کم سمجھتے ہو،
(اے لوگو) جو کچھ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہاری طرف نازل کیا گیا ہے اس کی پیروی کرو۔ اور اس (پروردگار) کو چھوڑ کر دوسرے سرپرستوں (حوالی موالی) کی پیروی نہ کرو۔ تم لوگ بہت ہی کم نصیحت قبول کرتے ہو۔
اس کے پیچھے چلو جو تمھاری طرف تمھارے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے اور اس کے سوا اور دوستوں کے پیچھے مت چلو۔ بہت کم تم نصیحت قبول کرتے ہو۔

📖 تفسیر ابن کثیر

اس سورت کی ابتداء میں جو حروف ہیں، ان کے متعلق جو کچھ بیان ہمیں کرنا تھا، اسے تفصیل کے ساتھ سورۃ البقرہ کی تفسیر کے شروع میں معہ اختلاف علماء کے ہم لکھ آئے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کے معنی میں مروی ہے کہ ”اس سے مراد «اَنَا اللهُ اُفَصِّلُ» ہے یعنی میں اللہ ہوں، میں تفصیل وار بیان فرما رہا ہوں۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:14315] ‏‏‏‏

سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے بھی یہ مروی ہے۔ ”یہ کتاب قرآن کریم تیری جانب تیرے رب کی طرف سے نازل کی گئی ہے۔ اس میں کوئی شک نہ کرنا، دل تنگ نہ ہونا، اس کے پہنچانے میں کسی سے نہ ڈرنا، نہ کسی کا لحاظ کرنا، بلکہ سابقہ اولوالعزم پیغمبروں علیہم السلام کی طرح صبر و استقامت کے ساتھ کلام اللہ کی تبلیغ مخلوق الٰہی میں کرنا۔ اس کا نزول اس لیے ہوا ہے کہ تو کافروں کو ڈرا کر ہوشیار اور چوکنا کر دے۔ یہ قرآن مومنوں کے لئے نصیحت و عبرت، وعظ و پند ہے۔“ اس کے بعد تمام دنیا کو حکم ہوتا ہے کہ ”اس نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری پیروی کرو، اس کے قدم بہ قدم چلو۔ یہ تمہارے رب کا بھیجا ہوا ہے، کلام اللہ تمہارے پاس لایا ہے۔ وہ اللہ تم سب کا خالق، مالک ہے اور تمام جان داروں کا رب ہے۔ خبردار! ہرگز ہرگز نبی سے ہٹ کر دوسرے کی تابعداری نہ کرنا ورنہ حکم عدولی پر سزا ملے گی۔ افسوس! تم بہت ہی کم نصیحت حاصل کرتے ہو۔“ جیسے فرمان ہے کہ ’ گو تم چاہو لیکن اکثر لوگ اپنی بے ایمانی پر اڑے ہی رہیں گے۔ ‘ ۱؎ [12-يوسف:103] ‏‏‏‏ اور آیت میں ہے: «وَاِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِي الْاَرْضِ يُضِلُّوْكَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ» ۱؎ [6-الأنعام:116] ‏‏‏‏ یعنی ’ اگر تو انسانوں کی کثرت کی طرف جھک جائے گا تو وہ بھی تجھے بہکا کر ہی چین لیں گے۔ ‘ سورۃ یوسف میں فرمان ہے: ’ اکثر لوگ اللہ کو مانتے ہوئے بھی شرک سے باز نہیں رہتے۔ ‘ ۱؎ [12-يوسف:106] ‏‏‏‏

📖 احسن البیان

3۔ 1 جو اللہ کی طرف سے نازل کیا گیا ہے، یعنی قرآن، اور جو رسول اللہ نے فرمایا یعنی حدیث، کیونکہ آپ نے فرمایا کہ ' میں قرآن اور اس کی مثل اس کے ساتھ دیا گیا ہوں۔ ' ان دونوں کی پیروی ضروری ہے ان کے علاوہ کسے کا اتباع (پیروی) ضروری ٰ نہیں بلکہ ان کا انکار لازمی ہے۔ جیسے کہ اگلے فقرے میں فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر دوسروں کی پیروی مت کرو۔ جس طرح زمانہء جاہلیت میں سرداروں اور نجومیوں کاہنوں کی بات کو ہی اہمیت دی جاتی تھی حتیٰ کہ حلال اور حرام میں بھی ان کو سند تسلیم کیا جاتا تھا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 3) {اِتَّبِعُوْا مَاۤ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ:} رسالت (پیغام پہنچانے) کا معاملہ تین افراد کے درمیان ہوتا ہے: {”مُرْسِلٌ “} پیغام بھیجنے والا، یعنی اﷲ تعالیٰ،{ ” مُرْسَلْ “} جسے پیغام دے کر بھیجا جائے، یعنی رسول اور {” مُرْسَلٌ اِلَيْهِ “} ”جس کی طرف پیغام بھیجا جائے، یعنی امت۔ پچھلی آیت میں رسول کو انذار (ڈرانے) اور تذکیر (نصیحت کرنے) کا حکم ہے، اس آیت میں امت کو صرف اﷲ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ احکام کی پیروی کا اور اس کے علاوہ کسی بھی دوسرے کی پیروی نہ کرنے کا حکم ہے، کیونکہ اﷲ کے نازل کردہ کے سوا کسی بھی دوسرے کی پیروی کرنا اﷲ کے مقابلے میں غیر اﷲ (من دون اﷲ) کو اولیاء بنانا ہے۔ حکم صرف اﷲ کا حق ہے، جسے پہنچانا رسول کی ذمہ داری ہے اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف قرآن اور حدیث دونوں وحی کے ذریعے سے نازل ہوئے، اس لیے رسول کا ہر حکم اﷲ کا حکم ہے، سو اسی کی پیروی کرو، قرآن و سنت کے مقابلے میں کسی کی بات مت مانو، خواہ وہ کتنا ہی بڑا امام، بزرگ، محقق یا دانش ور ہو، ہر ایک کی بات کو قرآن و حدیث کی کسوٹی پر پرکھا جائے گا۔ «اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ» ‏‏‏‏ [ المائدۃ: ۳ ] کے مطابق دین کا ہر مسئلہ قرآن و حدیث میں موجود ہے۔ اگر کوئی بات قرآن و حدیث میں صریح الفاظ میں نہ ملے تو کسی آیت یا حدیث میں اس کی طرف اشارہ ضرور ہو گا، اس کے لیے کسی بھی بڑے عالم سے پوچھ سکتے ہیں۔ کسی ایک ہی کی ہر بات کی تقلید، خواہ وہ صحیح ہو یا غلط، تو یہ {”مِنْ دُونِهِ اَوْلِيَاءَ“} کی طرف لے جائے گی، جس سے اﷲ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔
← پچھلی آیت (2) پوری سورۃ اگلی آیت (4) →