بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الأعراف — Surah Araf
آیت نمبر 20
کل آیات: 206
قرآن کریم الأعراف آیت 20
آیت نمبر: 20 — سورۃ الأعراف islamicurdubooks.com ↗
فَوَسۡوَسَ لَہُمَا الشَّیۡطٰنُ لِیُبۡدِیَ لَہُمَا مَا وٗرِیَ عَنۡہُمَا مِنۡ سَوۡاٰتِہِمَا وَ قَالَ مَا نَہٰکُمَا رَبُّکُمَا عَنۡ ہٰذِہِ الشَّجَرَۃِ اِلَّاۤ اَنۡ تَکُوۡنَا مَلَکَیۡنِ اَوۡ تَکُوۡنَا مِنَ الۡخٰلِدِیۡنَ ﴿۲۰﴾
پھر شیطان نے اُن کو بہکایا تاکہ ان کی شرمگاہیں جو ایک دوسرے سے چھپائی گئی تھیں ان کے سامنے کھول دے اس نے ان سے کہا، "تمہارے رب نے تمہیں جو اس درخت سے روکا ہے اس کی وجہ اِس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ کہیں تم فرشتے نہ بن جاؤ، یا تمہیں ہمیشگی کی زندگی حاصل نہ ہو جائے
پھر شیطان نے ان دونوں کے دلوں میں وسوسہ ڈاﻻ تاکہ ان کی شرمگاہیں جو ایک دوسرے سے پوشیده تھیں دونوں کے روبرو بے پرده کردے اور کہنے لگا کہ تمہارے رب نے تم دونوں کو اس درخت سے اور کسی سبب سے منع نہیں فرمایا، مگر محض اس وجہ سے کہ تم دونوں کہیں فرشتے ہوجاؤ یا کہیں ہمیشہ زنده رہنے والوں میں سے ہوجاؤ
پھر شیطان نے ان کے جی میں خطرہ ڈالا کہ ان پر کھول دے ان کی شرم کی چیزیں جو ان سے چھپی تھیں اور بولا تمہیں تمہارے رب نے اس پیڑ سے اسی لیے منع فرمایا ہے کہ کہیں تم دو فرشتے ہوجاؤ یا ہمیشہ جینے والے
تو شیطان نے جھوٹی قسم کھا کر ان دونوں کو وسوسہ میں ڈالا۔ تاکہ ان کے وہ ستر والے مقام جو ایک دوسرے سے پوشیدہ تھے ظاہر کر دے اور کہا کہ تمہارے پروردگار نے تمہیں صرف اس لئے اس درخت سے روکا ہے کہ کہیں فرشتے نہ بن جاؤ یا ہمیشہ زندہ رہنے والوں میں سے نہ ہو جاؤ۔
پھر شیطان نے ان دونوں کے لیے وسوسہ ڈالا، تاکہ ان کے لیے ظاہر کر دے جو کچھ ان کی شرم گاہوں میں سے ان سے چھپایا گیا تھا اور اس نے کہا تم دونوں کے رب نے تمھیں اس درخت سے منع نہیں کیا مگر اس لیے کہ کہیں تم دونوں فرشتے بن جاؤ، یا ہمیشہ رہنے والوں میں سے ہو جاؤ۔

📖 تفسیر ابن کثیر

پہلا امتحان اور اسی میں لغزش اور اس کا انجام ٭٭

ابلیس کو نکال کر آدم و حواء علیہم السلام کو جنت میں پہنچا دیا گیا اور بجز ایک درخت کے، انہیں ساری جنت کی چیزیں کھانے کی رخصت دے دی گئی۔ اس کا تفصیلی بیان سورۃ البقرہ کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔ شیطان کو اس سے بڑا ہی حسد ہوا، ان کی نعمتوں کو دیکھ کر لعین جل گیا اور ٹھان لی کہ جس طرح سے ہو، انہیں بہکا کر اللہ کے خلاف کرا دوں۔ چنانچہ جھوٹ، افتراء باندھ کر ان سے کہنے لگا کہ دیکھو یہ درخت وہ ہے جس کے کھانے سے تم فرشتے بن جاؤ گے اور ہمیشہ کی زندگی اسی جنت میں پاؤ گے۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ ابلیس نے کہا: میں تمہیں ایک درخت کا پتہ دیتا ہوں جس سے تمہیں بقاء اور ہمیشگی والا ملک مل جائے گا۔ یہاں ہے کہ ان سے کہا: تمہیں اس درخت سے اس لیے روکا گیا ہے کہ کہیں تم فرشتے نہ بن جاؤ۔ جیسے فرمان ہے «يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ أَن تَضِلُّواْ» ۱؎ [4-النساء:176] ‏‏‏‏ مطلب یہ ہے کہ «أَن لَّا تَضِلُّواْ» اور آیت میں ہے «وَأَلْقَى فِى الاٌّرْضِ رَوَاسِىَ أَن تَمِيدَ بِكُمْ» ۱؎ [16-النحل:15] ‏‏‏‏ «أَن تَمِيدَ بِكُمْ» یہاں بھی یہی مطلب ہے۔ «مَلَكَيْنِ» کی دوسری قرأت «مَلِكَيْنِ» بھی ہے لیکن جمہور کی قرأت «لام» کے زبر کے ساتھ ہے۔ پھر اپنا اعتبار جمانے کیلئے قسمیں کھانے لگا کہ دیکھو میری بات کو سچ مانو، میں تمہارا خیرخواہ ہوں۔ تم سے پہلے سے ہی یہاں رہتا ہوں، ہر ایک چیز کے خواص سے واقف ہوں۔ تم اسے کھا لو، بس پھر یہیں رہو گے بلکہ فرشتے بن جاؤ گے۔ «قَاسَمَ» گو باب «مفاعلہ» سے ہے اور اس کی خاصیت طرفین کی مشارکت ہے لیکن یہاں یہ خاصیت نہیں ہے۔ ایسے اشعار بھی ہیں جہاں «قَاسَمَ» آیا ہے اور صرف ایک طرف کے لیے۔ اس قسم کی وجہ سے اس خبیث کے بہکاوے میں آدم علیہ السلام آ گئے۔ سچ ہے! مومن اس وقت دھوکا کھا جاتا ہے جب کوئی ناپاک انسان اللہ کو بیچ میں دیتا ہے۔ چنانچہ سلف کا قول ہے کہ ہم اللہ کے نام کے بعد اپنے ہتھیار ڈال دیا کرتے ہیں۔

📖 احسن البیان

20۔ 1 وسوسہ اور وسو اس زلزلہ اور زلزال کے وزن پر ہے شیطان دل میں جو بری باتیں ڈالتا ہے، اس کو وسوسہ کہا جاتا ہے۔ 20۔ 1 یعنی شیطان کا مقصد اس بہکاوے سے حضرت آدم و حوا کو اس لباس جنت سے محروم کرکے انہیں شرمندہ کرنا تھا، جو انہیں جنت میں پہننے کے لئے دیا گیا تھا شرم گاہ کو سَوْءَۃ، ُ سے اس لئے تعبیر کیا گیا ہے کہ اس کے ظاہر ہونے کو برا سمجھا جاتا ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 20) ➊ {لِيُبْدِيَ لَهُمَا:} بعض علمائے تفسیر نے لکھا ہے کہ {” لِيُبْدِيَ “} میں ”لام“ عاقبت کا ہے، یعنی شیطان کے دل میں نہیں تھا کہ وہ ننگے ہو جائیں مگر ایسا کرنے کا انجام یہی تھا، لیکن زیادہ صحیح یہی ہے کہ یہ ”لام“ تعلیل کا ہے اور اس کی غرض یہی تھی اور اسے معلوم تھا کہ درخت کھانے کا نتیجہ کیا ہو گا۔ شرم گاہ کو {” سوء ة “} اس لیے کہتے ہیں کہ اس کا ننگا ہونا انسان کو طبعاً برا لگتا ہے اور {”سَاءَ يَسُوْءُ “} کا معنی برا لگنا ہے، گویا ان کو جنت کا جو لباس پہنایا گیا تھا، جس سے ان کی شرم گاہیں چھپی ہوئی تھیں، وہ ممنوعہ درخت کھانے سے اتر جانا تھا۔ اﷲ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پہلے ہی جنت کی چار خصوصی سہولتیں بتائی تھیں۔ جن میں سے ایک یہ تھی کہ تو جنت میں ننگا نہیں ہو گا اور ساتھ ہی بتا دیا تھا کہ ممنوعہ درخت کھانے سے یہ سہولتیں چھن جائیں گی، اس لیے یہ بات آدم علیہ السلام کو بھی معلوم تھی، مگر شیطان کے قسم کھانے سے بھول گئے۔ ان سہولتوں کے لیے دیکھیے سورۂ طٰہٰ (۱۱۸، ۱۱۹) ➋ { ” وٗرِيَ “} یہ {” وَارٰي يُوَارِيْ مُوَارَاةً “} (مفاعلہ) سے ماضی مجہول ہے۔ ➌ {وَ قَالَ مَا نَهٰىكُمَا رَبُّكُمَا ……:} شیطان نے ان دونوں کو یوں بہکایا کہ اﷲ تعالیٰ کے تمھیں اس درخت سے منع کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اس کے کھانے سے تم فرشتے بن جاؤ گے، یعنی ان کی خصوصیات اور فطری کمالات تم میں بھی پیدا ہو جائیں گی، یا ہمیشہ ہمیشہ جنت میں رہنے والوں میں شامل ہو جاؤ گے۔ جن دو چیزوں کے درمیان {” أَوْ “} کا لفظ آئے ان میں سے ایک چیز بھی ہو سکتی ہے اور دونوں بھی۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک بھی نہ ہو۔ ایک بہرحال ضرور ہو گی، دوسری بھی ممکن ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آدم علیہ السلام فرشتوں کو اﷲ کے قریب رہنے کی وجہ سے اپنے سے بہتر سمجھتے تھے، جیسا کہ فرمایا: «وَ مَنْ عِنْدَهٗ لَا يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَ لَا يَسْتَحْسِرُوْنَ» ‏‏‏‏ [ الأنبیاء: ۱۹ ] ”اور جو اس کے پاس ہیں وہ نہ اس کی عبادت سے تکبر کرتے ہیں اور نہ تھکتے ہیں۔“ مگر یہ ایک جزوی فضیلت ہے، اس سے ہر لحاظ سے فرشتوں کا انسان سے افضل ہونا ثابت نہیں ہوتا۔
← پچھلی آیت (19) پوری سورۃ اگلی آیت (21) →