بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الأعراف — Surah Araf
آیت نمبر 21
کل آیات: 206
قرآن کریم الأعراف آیت 21
آیت نمبر: 21 — سورۃ الأعراف islamicurdubooks.com ↗
وَ قَاسَمَہُمَاۤ اِنِّیۡ لَکُمَا لَمِنَ النّٰصِحِیۡنَ ﴿ۙ۲۱﴾
اور اس نے قسم کھا کر ان سے کہا کہ میں تمہارا سچا خیر خواہ ہوں
اور ان دونوں کے روبرو قسم کھالی کہ یقین جانیئے میں تم دونوں کا خیر خواه ہوں
اور ان سے قسم کھائی کہ میں تم دونوں کا خیر خواہ ہوں،
اور اس نے دونوں سے قسم کھائی کہ میں تمہارے سچے خیرخواہوں میں سے ہوں۔
اور اس نے دونوں سے بار بار قسم کھا کر کہا کہ بے شک میں تم دونوں کے لیے یقینا خیر خواہوں سے ہوں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

پہلا امتحان اور اسی میں لغزش اور اس کا انجام ٭٭

ابلیس کو نکال کر آدم و حواء علیہم السلام کو جنت میں پہنچا دیا گیا اور بجز ایک درخت کے، انہیں ساری جنت کی چیزیں کھانے کی رخصت دے دی گئی۔ اس کا تفصیلی بیان سورۃ البقرہ کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔ شیطان کو اس سے بڑا ہی حسد ہوا، ان کی نعمتوں کو دیکھ کر لعین جل گیا اور ٹھان لی کہ جس طرح سے ہو، انہیں بہکا کر اللہ کے خلاف کرا دوں۔ چنانچہ جھوٹ، افتراء باندھ کر ان سے کہنے لگا کہ دیکھو یہ درخت وہ ہے جس کے کھانے سے تم فرشتے بن جاؤ گے اور ہمیشہ کی زندگی اسی جنت میں پاؤ گے۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ ابلیس نے کہا: میں تمہیں ایک درخت کا پتہ دیتا ہوں جس سے تمہیں بقاء اور ہمیشگی والا ملک مل جائے گا۔ یہاں ہے کہ ان سے کہا: تمہیں اس درخت سے اس لیے روکا گیا ہے کہ کہیں تم فرشتے نہ بن جاؤ۔ جیسے فرمان ہے «يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ أَن تَضِلُّواْ» ۱؎ [4-النساء:176] ‏‏‏‏ مطلب یہ ہے کہ «أَن لَّا تَضِلُّواْ» اور آیت میں ہے «وَأَلْقَى فِى الاٌّرْضِ رَوَاسِىَ أَن تَمِيدَ بِكُمْ» ۱؎ [16-النحل:15] ‏‏‏‏ «أَن تَمِيدَ بِكُمْ» یہاں بھی یہی مطلب ہے۔ «مَلَكَيْنِ» کی دوسری قرأت «مَلِكَيْنِ» بھی ہے لیکن جمہور کی قرأت «لام» کے زبر کے ساتھ ہے۔ پھر اپنا اعتبار جمانے کیلئے قسمیں کھانے لگا کہ دیکھو میری بات کو سچ مانو، میں تمہارا خیرخواہ ہوں۔ تم سے پہلے سے ہی یہاں رہتا ہوں، ہر ایک چیز کے خواص سے واقف ہوں۔ تم اسے کھا لو، بس پھر یہیں رہو گے بلکہ فرشتے بن جاؤ گے۔ «قَاسَمَ» گو باب «مفاعلہ» سے ہے اور اس کی خاصیت طرفین کی مشارکت ہے لیکن یہاں یہ خاصیت نہیں ہے۔ ایسے اشعار بھی ہیں جہاں «قَاسَمَ» آیا ہے اور صرف ایک طرف کے لیے۔ اس قسم کی وجہ سے اس خبیث کے بہکاوے میں آدم علیہ السلام آ گئے۔ سچ ہے! مومن اس وقت دھوکا کھا جاتا ہے جب کوئی ناپاک انسان اللہ کو بیچ میں دیتا ہے۔ چنانچہ سلف کا قول ہے کہ ہم اللہ کے نام کے بعد اپنے ہتھیار ڈال دیا کرتے ہیں۔

📖 احسن البیان

21۔ 1 جنت کی جو نعمتیں اور آسائشیں حضرت آدم ؑ و حوا کو حاصل تھیں، اس کے حوالے سے شیطان نے دونوں کو بہلایا اور یہ جھوٹ بولا کہ اللہ تمہیں ہمیشہ جنت میں رکھنا نہیں چاہتا، اس لئے اس درخت کا پھل کھانے سے منع فرمایا ہے کیونکہ اس کی تاثیر ہی یہ ہے جو اسے کھا لیتا ہے، وہ فرشتہ بن جاتا ہے یا دائمی زندگی اسے حاصل ہوجاتی ہے۔ پھر قسم کھا کر اپنا خیر خواہ ہونا بھی ظاہر کیا، جس سے حضرت آدم ؑ و حوا متاثر ہوگئے اس لئے اللہ والے اللہ کے نام پر آسانی سے دھوکا کھا جاتے ہیں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 21){ وَ قَاسَمَهُمَاۤ:} باب مفاعلہ (مقاسمہ) دو طرف سے مقابلہ کے لیے ہو تا ہے۔ یہاں صرف شیطان نے قسم کھائی تھی، آدم علیہ السلام نے مقابلے میں کوئی قسم نہیں کھائی، اس لیے یہاں مبالغہ کے لیے ہے، لہٰذا ترجمہ ہے ” بار بار قسم کھائی“۔
← پچھلی آیت (20) پوری سورۃ اگلی آیت (22) →