بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
الأعراف
سورۃ الأعراف — 206 آیات — صفحہ 4 از 5
قرآن کریم Surah 7
قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِیۡ وَ لِاَخِیۡ وَ اَدۡخِلۡنَا فِیۡ رَحۡمَتِکَ ۫ۖ وَ اَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰحِمِیۡنَ ﴿۱۵۱﴾٪
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تب موسیٰؑ نے کہا "اے رب، مجھے اور میرے بھائی کو معاف کر اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل فرما، تو سب سے بڑھ کر رحیم ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ اے میرے رب! میری خطا معاف فرما اور میرے بھائی کی بھی اور ہم دونوں کو اپنی رحمت میں داخل فرما اور تو سب رحم کرنے والوں سے زیاده رحم کرنے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
عرض کی اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے اور ہمیں اپنی رحمت کے اندر لے لے اور تو سب مہر والوں سے بڑھ کر مہر والا
علامہ محمد حسین نجفی
تب موسیٰ نے کہا۔ پروردگار! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل فرما اور تو سب رحم کرنے والوں میں سے بڑا رحم کرنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اس نے کہا اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر لے اور تو سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
موسیٰ علیہ السلام کی کوہ طور سے واپسی ٭٭

موسیٰ علیہ السلام کو چونکہ طور پر ہی اپنی قوم کا یہ کفر معلوم ہو چکا تھا، اس لیے سخت غضبناک ہو کر واپس آئے اور فرمانے لگے کہ تم نے تو میرے بعد سخت نالائقی کی۔ تم نے میرا انتظار بھی نہ کیا، میری ذرا سی تاخیر میں یہ ظلم ڈھایا۔ غصے کے مارے تختیاں ہاتھ سے پھینک دیں۔ کہا گیا ہے کہ یہ زمرد یا یاقوت یا کسی اور چیز کی تھیں۔ سچ ہے، جو حدیث میں ہے کہ { دیکھنا سننا برابر نہیں۔ } ۱؎ [مستدرک حاکم:321/2] ‏‏‏‏ اپنی قوم پر غصے ہو کر الواح ہاتھ سے گرا دیں۔ ٹھیک بات یہی ہے اور جمہور سلف کا قول بھی یہی ہے لیکن ابن جریر نے قتادہ سے ایک عجیب قول نقل کیا ہے جس کی سند بھی صحیح نہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:15142-15143:باطل] ‏‏‏‏ ابن عطیہ وغیرہ نے اس کی بہت تردید کی ہے اور وہ واقعی تردید کے قابل بھی ہے۔ بہت ممکن ہے کہ قتادہ نے یہ اہل کتاب سے لیا ہو اور ان کا کیا اعتبار ہے؟ ان میں جھوٹے، بناوٹ کرنے والے، گھڑ لینے والے، بددین، بےدین طرح کے لوگ ہیں۔ اس خوف سے کہ کہیں ہارون علیہ السلام نے انہیں باز رکھنے کی پوری کوشش نہ کی ہو، آپ نے ان کے سر کے بالوں کے بل انہیں گھسیٹ لیا اور فرمانے لگے: انہیں گمراہ ہوتے ہوئے دیکھ کر بھی تو نے میری ماتحتی میں انہیں کیوں نہ روکا؟ کیا تو بھی میرے فرمان کا منکر بن گیا؟

اس پر ہارون علیہ السلام نے جواب دیا کہ بھائی جان! میرے سر کے اور داڑھی کے بال نہ پکڑیں۔ میں نے تو ہر ممکن طریقے سے انہیں روکا، زیادہ اس لیے نہ الجھا کہ کہیں آپ یہ نہ فرما دیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفریق ڈال دی؟ تو نے میرا انتظار کیوں نہ کیا؟ ورنہ میں تو ان گمراہوں سے اب تک زمین کو پاک کر چکا ہوتا۔ انہوں نے تو مجھے کچھ بھی نہ سمجھا بلکہ میرے قتل کے درپے ہو گئے۔ آپ مجھے ان ہی کی طرح نہ سمجھیں، نہ ان میں ملائیں۔ ہارون علیہ السلام کا یہ فرمانا کہ اے میرے ماں جائے بھائی! یہ صرف اس لیے تھا کہ موسیٰ علیہ السلام کو رحم آ جائے، ماں باپ دونوں کے ایک ہی تھے۔ جب آپ کو اپنے بھائی ہارون کی برات کی تحقیق ہو گئی اور اللہ کی طرف سے بھی ان کی پاک دامنی اور بےقصوری معلوم ہو گئی کہ انہوں نے اپنی قوم سے پہلے ہی یہ فرما دیا تھا کہ افسوس! تم فتنے میں پڑ گئے، اب بھی کچھ نہیں بگڑا۔ پروردگار بڑا ہی رحیم و کریم ہے، تم میری مان لو اور پھر سے میرے تابع دار بن جاؤ تو آپ اللہ سے دعائیں کرنے لگے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { اللہ تعالیٰ موسیٰ علیہ السلام پر رحم کرے، واقعی دیکھنے والے میں اور خبر سننے والے میں بہت فرق ہوتا ہے۔ قوم کی گمراہی کی خبر سنی تو تختیاں ہاتھ سے نہ گرائیں لیکن اسی منظر کو دیکھ کر قابو میں نہ رہے، تختیاں پھینک دیں۔ } ۱؎ [مسند احمد:271/1:صحیح] ‏‏‏‏
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 151) {قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِيْ وَ لِاَخِيْ:} ہارون علیہ السلام کے حلیمانہ وعاجزانہ لہجے اور عذر سے موسیٰ علیہ السلام نرم ہو گئے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ میری اس زیادتی کو معاف فرما جو مجھ سے غصہ کی حالت میں ہارون علیہ السلام کو ڈانٹنے میں ہوئی اور ہارون علیہ السلام کی اس کوتاہی سے درگزر فرما جو ممکن ہے لوگوں کو باز رکھنے میں ان سے ہوئی ہو۔
اِنَّ الَّذِیۡنَ اتَّخَذُوا الۡعِجۡلَ سَیَنَالُہُمۡ غَضَبٌ مِّنۡ رَّبِّہِمۡ وَ ذِلَّۃٌ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ؕ وَ کَذٰلِکَ نَجۡزِی الۡمُفۡتَرِیۡنَ ﴿۱۵۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
(جواب میں ارشاد ہوا کہ) "جن لوگوں نے بچھڑے کو معبود بنایا وہ ضرور اپنے رب کے غضب میں گرفتار ہو کر رہیں گے اور دنیا کی زندگی میں ذلیل ہوں گے جھوٹ گھڑنے والوں کو ہم ایسی ہی سزا دیتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
بےشک جن لوگوں نے گوسالہ پرستی کی ہے ان پر بہت جلد ان کے رب کی طرف سے غضب اور ذلت اس دنیوی زندگی ہی میں پڑے گی اور ہم افترا پردازوں کو ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
بیشک وہ جو بچھڑا لے بیٹھے عنقریب انہیں ان کے رب کا غضب اور ذلت پہنچناہے دنیا کی زندگی میں، اور ہم ایسی ہی بدلہ دیتے ہیں بہتان ہایوں (باندھنے والوں) کو،
علامہ محمد حسین نجفی
بے شک جن لوگوں نے گو سالہ کو (اپنا معبود) بنایا۔ عنقریب ان پر ان کے پروردگار کا غضب نازل ہوگا۔ اور وہ دنیاوی زندگی میں ذلیل و رسوا ہوں گے اور ہم بہتان باندھنے والوں کو اسی طرح سزا دیا کرتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک وہ لوگ جنھوں نے بچھڑا بنا لیا عنقریب انھیں ان کے رب کی طرف سے بھاری غضب پہنچے گا اور بڑی رسوائی دنیا کی زندگی میں اور ہم جھوٹ باندھنے والوں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
باہم قتل کی سزا ٭٭

ان گوسالہ پرستوں پر اللہ کا غضب نازل ہوا۔ جب تک ان لوگوں نے آپس میں ایک دوسرے کو قتل نہ کر لیا، ان کی توبہ قبول نہ ہوئی۔ جیسے کہ سورۃ البقرہ کی تفسیر میں تفصیل وار بیان ہو چکا ہے کہ انہیں حکم ہوا تھا کہ اپنے خالق سے توبہ کرو اور آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرو۔ یہی تمہارے حق میں ٹھیک ہے پھر وہ تمہاری توبہ قبول فرمائے گا۔ وہ توبہ قبول کرنے والا اور رحم و کرم والا ہے۔ اسی طرح دنیا میں بھی ان یہودیوں پر ذلت نازل ہوئی۔ ہر بدعتی کی جو اللہ کے دین میں جھوٹا طوفان اٹھائے، یہی سزا ہے۔ رسول کی مخالفت اور بدعت کا بوجھ اس کے دل سے نکل کر اس کے کندھوں پر آ پڑتا ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”گو وہ دنیوی ٹھاٹھ رکھتا ہو لیکن ذلت اس کے چہرے پر برستی ہے۔ قیامت تک یہی سزا ہر جھوٹے، افترا باز کی اللہ کی طرف سے مقرر ہے۔“ سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”ہر بدعتی ذلیل ہے۔“

پھر فرماتا ہے کہ اللہ توبہ قبول کرنے والا ہے خواہ کیسا ہی گناہ ہو لیکن توبہ کے بعد وہ معاف فرما دیتا ہے، گو کفر و شرک اور نفاق و شفاق ہی کیوں نہ ہو۔ فرمان ہے کہ جو لوگ برائیوں کے بعد توبہ کر لیں اور ایمان لائیں تو اے رسول رحمت اور اے نبی کریم! تیرا رب اس فعل کے بعد بھی غفور و رحیم ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا کہ اگر کوئی شخص کسی عورت سے زناکاری کرے۔ پھر اس سے نکاح کر لے؟ تو آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔ کوئی دس مرتبہ اسے تلاوت کیا اور کوئی حکم یا منع نہیں کیا۔
152۔ 1 اللہ کا غضب یہ تھا کہ توبہ کے لئے قتل ضروری قرار پایا۔ اور اس سے قبل جب تک جیتے رہے، ذلت اور رسوائی کے مستحق قرار پائے۔ 152۔ 2 اور یہ سزا ان ہی کے لئے خاص نہیں ہے، جو بھی اللہ پر افترا (بہتان) کرتا ہے، اس کو ہم یہی سزا دیتے ہیں۔
(آیت 152) ➊ {سَيَنَالُهُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ ذِلَّةٌ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا:} اللہ تعالیٰ کا ان پر غضب یہ ہوا کہ جب تک ان میں سے بعض نے بعض کو قتل نہیں کیا ان کی توبہ قبول نہیں ہوئی۔ (دیکھیے بقرہ: ۵۴) بنی اسرائیل میں جس طرح قتل عمد کی حد قتل تھی اسی طرح شرک کی حد بھی قتل ہی تھی اور یہ اس {”اِصْرٌ“} یعنی بوجھ میں شامل تھی جو پہلی امتوں پر ڈالے گئے۔ ہماری امت میں یہ تخفیف ہوئی کہ شرک کی حد اب قتل نہیں بلکہ صدق دل سے توبہ ہی سے معافی ہو جاتی ہے۔ البتہ اگر شرک پر اصرار کرے تو وہ مرتد ہے اور اسے قتل کیا جائے گا۔ ➋ { وَ كَذٰلِكَ نَجْزِي الْمُفْتَرِيْنَ:} ابو قلابہ رحمہ اللہ نے یہ آیت تلاوت کی اور فرمایا: ”قیامت تک ہر مفتری کی یہی سزا ہے (خواہ دین میں شرکیہ کام ایجاد کرے یا کوئی اور)۔“ کیونکہ کوئی بھی نئی چیز دین میں داخل کرنے والا مفتری ہے اور بدعت بدترین جھوٹ ہے جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے لگایا جاتا ہے۔ امام مالک اور سفیان بن عیینہ رحمھما اللہ نے کہا ہے کہ ”مفترین“ کے معنی ”مبتدعین“ یعنی اہل بدعت کے ہیں اور ہر بدعتی قیامت تک ذلیل و خوار ہو تا رہے گا۔ (قرطبی، بغوی)
وَ الَّذِیۡنَ عَمِلُوا السَّیِّاٰتِ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۡۢ بَعۡدِہَا وَ اٰمَنُوۡۤا ۫ اِنَّ رَبَّکَ مِنۡۢ بَعۡدِہَا لَغَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۵۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور جو لوگ برے عمل کریں پھر توبہ کر لیں اور ایمان لے آئیں تو یقیناً اِس توبہ و ایمان کے بعد تیرا رب درگزر اور رحم فرمانے والا ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جن لوگوں نے گناه کے کام کئے پھر وه ان کے بعد توبہ کر لیں اور ایمان لے آئیں تو تمہارا رب اس توبہ کے بعد گناه معاف کر دینے واﻻ، رحمت کرنے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور جنہوں نے برائیاں کیں اور ان کے بعد توبہ کی اور ایمان لائے تو اس کے بعد تمہارا رب بخشنے والا مہربان ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو لوگ برے کام کریں اور پھر توبہ کر لیں۔ اور ایمان لے آئیں تو یقینا تمہارا پروردگار اس (توبہ و ایمان) کے بعد بڑا بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جن لوگوں نے برے اعمال کیے، پھر ان کے بعد توبہ کر لی اور ایمان لے آئے، بے شک تیرا رب اس کے بعد ضرور بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
باہم قتل کی سزا ٭٭

ان گوسالہ پرستوں پر اللہ کا غضب نازل ہوا۔ جب تک ان لوگوں نے آپس میں ایک دوسرے کو قتل نہ کر لیا، ان کی توبہ قبول نہ ہوئی۔ جیسے کہ سورۃ البقرہ کی تفسیر میں تفصیل وار بیان ہو چکا ہے کہ انہیں حکم ہوا تھا کہ اپنے خالق سے توبہ کرو اور آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرو۔ یہی تمہارے حق میں ٹھیک ہے پھر وہ تمہاری توبہ قبول فرمائے گا۔ وہ توبہ قبول کرنے والا اور رحم و کرم والا ہے۔ اسی طرح دنیا میں بھی ان یہودیوں پر ذلت نازل ہوئی۔ ہر بدعتی کی جو اللہ کے دین میں جھوٹا طوفان اٹھائے، یہی سزا ہے۔ رسول کی مخالفت اور بدعت کا بوجھ اس کے دل سے نکل کر اس کے کندھوں پر آ پڑتا ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”گو وہ دنیوی ٹھاٹھ رکھتا ہو لیکن ذلت اس کے چہرے پر برستی ہے۔ قیامت تک یہی سزا ہر جھوٹے، افترا باز کی اللہ کی طرف سے مقرر ہے۔“ سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”ہر بدعتی ذلیل ہے۔“

پھر فرماتا ہے کہ اللہ توبہ قبول کرنے والا ہے خواہ کیسا ہی گناہ ہو لیکن توبہ کے بعد وہ معاف فرما دیتا ہے، گو کفر و شرک اور نفاق و شفاق ہی کیوں نہ ہو۔ فرمان ہے کہ جو لوگ برائیوں کے بعد توبہ کر لیں اور ایمان لائیں تو اے رسول رحمت اور اے نبی کریم! تیرا رب اس فعل کے بعد بھی غفور و رحیم ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا کہ اگر کوئی شخص کسی عورت سے زناکاری کرے۔ پھر اس سے نکاح کر لے؟ تو آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔ کوئی دس مرتبہ اسے تلاوت کیا اور کوئی حکم یا منع نہیں کیا۔
153۔ 1 جنہوں نے توبہ کرلی ان کے لئے اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے۔ معلوم ہوا کہ توبہ سے ہر گناہ معاف ہوجاتا ہے بشرطیکہ خالص توبہ ہو۔
(آیت 153) {وَ الَّذِيْنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ …: } معلوم ہوا خالص توبہ کے بعد ایمان و اصلاح کے ساتھ زندگی گزارنے سے ہر گناہ معاف ہو جاتا ہے، وہ چھوٹا ہو یا بڑا، جس توبہ کے بعد عمل کی اصلاح نہ ہو اس کا اعتبار نہیں۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۶۰)، آل عمران (۸۹) اور سورۂ نحل(۱۱۹)۔
وَ لَمَّا سَکَتَ عَنۡ مُّوۡسَی الۡغَضَبُ اَخَذَ الۡاَلۡوَاحَ ۚۖ وَ فِیۡ نُسۡخَتِہَا ہُدًی وَّ رَحۡمَۃٌ لِّلَّذِیۡنَ ہُمۡ لِرَبِّہِمۡ یَرۡہَبُوۡنَ ﴿۱۵۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر جب موسیٰؑ کا غصہ ٹھنڈا ہوا تو اس نے وہ تختیاں اٹھا لیں جن کی تحریر میں ہدایت اور رحمت تھی اُن لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جب موسیٰ (علیہ السلام) کا غصہ فرد ہوا تو ان تختیوں کو اٹھا لیا اور ان کے مضامین میں ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے تھے ہدایت اور رحمت تھی
احمد رضا خان بریلوی
اور جب موسیٰ کا غصہ تھما تختیاں اٹھالیں اور ان کی تحریر میں ہدایت اور رحمت ہے ان کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جب موسیٰ کا غصہ فرو ہوا۔ تو انہوں نے تختیاں اٹھا لیں تو ان کی کتابت (تحریر) میں اپنے پروردگار سے ڈرنے والوں کے لیے ہدایت اور رحمت تھی۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب موسیٰ سے غصہ خاموش ہو گیا تو اس نے تختیوں کو اٹھا لیا اور ان کی تحریر میں ان لوگوں کے لیے ہدایت اور رحمت تھی جو صرف اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
موسیٰ علیہ السلام کو اپنی قوم پر جو غصہ تھا جب وہ جاتا رہا تو سخت غصے کی حالت میں جن تختیوں کو انہوں نے زمین پر ڈال دیا تھا، اب اٹھا لیں۔ یہ غصہ صرف اللہ کی راہ میں تھا کیونکہ آپ کی قوم نے بچھڑے کی پوجا کی تھی۔ ان تختیوں میں ہدایت و رحمت تھی۔ کہتے ہیں کہ جب کلیم اللہ نے تختیاں زمین پر ڈال دیں تو وہ ٹوٹ گئیں، پھر انہیں جمع کیا۔ تو ان میں رہبری اور رحم پایا اور تفصیل اٹھا لی گئی تھی۔ کہتے ہیں کہ ان تختیوں کے ٹکڑے شاہی خزانوں میں بنی اسرائیل کے پاس دولت اسلامیہ کے ابتدائی زمانے تک محفوظ رہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اس کی صحت کا کوئی پتہ نہیں حالانکہ یہ بات مشہور ہے کہ وہ تختیاں جنتی جوہر کی تھیں اور اس آیت میں ہے کہ پھر موسیٰ علیہ السلام نے خود ہی انہیں اٹھا لیا اور ان میں رحمت و ہدایت پائی چونکہ رہبت متضمن ہے خشوع و خضوع کو، اس لیے اسے لام سے متعدی کیا۔ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”ان میں آپ نے لکھا دیکھا کہ ایک امت تمام امتوں سے بہتر ہو گی جو لوگوں کے لیے قائم کی جائے گی جو بھلی باتوں کا حکم کرے گی اور برائیوں سے روکے گی تو موسیٰ علیہ السلام نے دعا کی کہ اے اللہ! میری امت کو یہی امت بنا دے۔ جواب ملا کہ یہ امت امت احمد ہے صلی اللہ علیہ وسلم ۔ پھر پڑھا کہ ایک امت ہو گی جو دنیا میں سب سے آخر آئے گی اور جنت میں سب سے پہلے جائے گی تو بھی آپ نے یہی درخواست کی اور یہی جواب پایا۔ پھر پڑھا کہ ایک امت ہو گی جن کی کتاب ان کے سینوں میں ہو گی جس کی وہ تلاوت کریں گے یعنی حفظ کریں گے اور دوسرے لوگ دیکھ کر پڑھتے ہیں۔

اگر ان کی کتابیں اٹھ جائیں تو علم جاتا رہے کیونکہ انہیں حفظ نہیں۔ اس طرح کا حافظہ اسی امت کے لئے مخصوص ہے، کسی اور امت کو نہیں ملا۔ اس پر بھی آپ نے یہی درخواست کی اور یہی جواب پایا۔ پھر دیکھا کہ اس میں لکھا ہوا ہے کہ ایک امت ہو گی جو اگلی پچھلی تمام کتابوں پر ایمان لائے گی اور گمراہوں سے جہاد کرے گی یہاں تک کہ کانے دجال سے جہاد کرے گی۔ اس پر بھی آپ نے یہی دعا کی اور یہی جواب پایا۔ پھر دیکھا کہ ایک امت ہو گی جو اپنے صدقے آپ کھائے گی اور اجر بھی پائے گی حالانکہ اور امتیں جو صدقہ کرتی رہیں، اگر قبول ہوا تو آگ آ کر اسے کھا گئی اور اگر نامقبول ہوا تو اسے درندوں پرندوں نے کھا لیا۔ اللہ نے تمہارے صدقے تمہارے مالداروں سے تمہارے مفلسوں کے لیے لیے ہیں۔ اس پر بھی کلیم اللہ نے یہی دعا کی اور یہی جواب ملا۔ پھر پڑھا کہ ایک امت ہو گی جو اگر نیکی کا ارادہ کر لے پھر نہ کرے تو بھی نیکی لکھ لی جائے گی اور اگر کر بھی لی تو دس نیکیاں لکھی جائیں گی، سات سو تک اسی طرح بڑھتی چلی جائیں گی اس پر بھی آپ نے یہی دعا کی اور یہی جواب پایا۔ پھر ان تختیوں میں آپ نے پڑھا کہ ایک امت ہو گی جو خود بھی شفاعت کرے گی اور ان کی شفاعت دوسرے بھی کریں گے۔ آپ نے پھر یہی دعا کی کہ اے اللہ! یہ مرتبہ میری امت کو دے۔ جواب ملا: یہ امت امت احمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ اس پر آپ نے تختیاں لے لیں اور کہنے لگے: اے اللہ! مجھے امت احمد میں کر دے۔“
154۔ 1 یہاں نسخہ سے مراد یا تو وہ اصل الواح ہیں جن پر تورات لکھی گئی تھی یا اس سے مراد وہ دوسرا نسخہ ہے جو تختیوں کو زور سے پھنکنے کی وجہ سے ٹوٹ جانے کے بعد اس سے نقل کر کے تیار کیا گیا تھا تاہم بات پہلی ہی لگتی ہے۔ کیونکہ آگے چل کر آتا ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ نے ان تختیوں کو اٹھا لیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ تختیاں ٹوٹی نہیں تھیں۔ بہرحال اس کا مرادی مفہوم ' مضامین ' ہے جو ترجمہ میں اختیار کیا گیا ہے۔ 154۔ 2 تورات کو بھی قرآن کریم کی طرح، انہیں لوگوں کے لئے ہدایت اور رحمت قرار دیا گیا ہے، جو اللہ سے ڈرنے والے ہیں، کیونکہ اصل فائدہ آسمانی کتابوں سے ایسے ہی لوگوں کو ہوتا ہے۔ دوسرے لوگ تو چونکہ اپنے کانوں کو حق کے سننے سے، آنکھوں کو حق کے دیکھنے سے بند کئے ہوئے ہوتے ہیں، اس چشمہ فیض سے وہ بالعموم محروم ہی رہتے ہیں۔
(آیت 154) ➊ {وَ لَمَّا سَكَتَ عَنْ مُّوْسَى الْغَضَبُ:سَكَتَ “} کا لفظی معنی ”خاموش ہونا“ہے۔ یہ ایک پر لطف استعارہ ہے، گویا یہاں غصے کو ایسے آدمی سے تشبیہ دی ہے جو مسلسل موسیٰ علیہ السلام کو بھڑکا رہا تھا، جب وہ انھیں بھڑکانے سے خاموش ہو گیا تو موسیٰ علیہ السلام بھی ٹھنڈے پڑ گئے۔ قرآن مجید میں جو لطف یہاں{ ” سَكَتَ “} کا لفظ دے رہا ہے کوئی دوسرا لفظ، مثلاً {”سَكَنَ “} (ساکن ہو گیا) وغیرہ کبھی یہ لطف نہ دیتا۔ ➋ {اَخَذَ الْاَلْوَاحَ:} غصہ ٹھنڈا ہونے پر موسیٰ علیہ السلام نے وہ تختیاں اٹھائیں جو اگرچہ گرنے کی وجہ سے کچھ ٹوٹ گئی تھیں، جیسا کہ اس سے پہلے آیت (۱۵۰) کے حاشیہ(۳) میں صحیح حدیث سے نقل ہوا، مگر اس آیت سے معلوم ہوا کہ وہ ٹوٹنا معمولی تھا، ایسا نہ تھا کہ تختیاں اٹھائی نہ جا سکتیں، یا انھیں پڑھنا اور ان سے فائدہ اٹھانا ممکن نہ ہوتا۔ ➌ {وَ فِيْ نُسْخَتِهَا:نُسْخَةٌ “ ” فُعْلَةٌ “} کے وزن پر مفعول کے معنی میں ہے۔ {”نَسَخَ يَنْسَخُ } (ف)“ کے معنی اگرچہ پہلے حکم کو دوسرے حکم کے ساتھ ختم کرنے کے بھی آتے ہیں، مگر اس کا معنی ”لکھنا“ بھی آتا ہے۔ {”اِسْتَنْسَخَ“ } بھی اسی معنی میں ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ اِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ }» [ الجاثیۃ: ۲۹ ] ”بے شک ہم لکھواتے جاتے تھے جو تم عمل کرتے تھے۔“ {” نُسْخَةٌ “} اس اصل کو بھی کہتے ہیں جس سے نقل کیا جائے اور نقل شدہ کو بھی {”نُسْخَةٌ“ } کہا جاتا ہے۔ ➍ { لِّلَّذِيْنَ هُمْ لِرَبِّهِمْ يَرْهَبُوْنَ:} آسمانی کتابوں سے فائدہ اور ہدایت انھی کو حاصل ہوتی ہے جو صرف اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔ ديكهيے سورهٔ بقره (۳)۔
وَ اخۡتَارَ مُوۡسٰی قَوۡمَہٗ سَبۡعِیۡنَ رَجُلًا لِّمِیۡقَاتِنَا ۚ فَلَمَّاۤ اَخَذَتۡہُمُ الرَّجۡفَۃُ قَالَ رَبِّ لَوۡ شِئۡتَ اَہۡلَکۡتَہُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ وَ اِیَّایَ ؕ اَتُہۡلِکُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَہَآءُ مِنَّا ۚ اِنۡ ہِیَ اِلَّا فِتۡنَتُکَ ؕ تُضِلُّ بِہَا مَنۡ تَشَآءُ وَ تَہۡدِیۡ مَنۡ تَشَآءُ ؕ اَنۡتَ وَلِیُّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَ ارۡحَمۡنَا وَ اَنۡتَ خَیۡرُ الۡغٰفِرِیۡنَ ﴿۱۵۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور اُس نے اپنی قوم کے ستر آدمیوں کو منتخب کیا تاکہ وہ (اُس کے ساتھ) ہمارے مقرر کیے ہوئے وقت پر حاضر ہوں جب اِن لوگوں کو ایک سخت زلزلے نے آ پکڑا تو موسیٰؑ نے عرض کیا "اے میرے سرکار، آپ چاہتے تو پہلے ہی اِن کو اور مجھے ہلاک کرسکتے تھے کیا آپ اُس قصور میں جو ہم میں سے چند نادانوں نے کیا تھا ہم سب کو ہلاک کر دیں گے؟ یہ تو آپ کی ڈالی ہوئی ایک آزمائش تھی جس کے ذریعہ سے آپ جسے چاہتے ہیں گمراہی میں مبتلا کر دیتے ہیں اور جسے چاہتے ہیں ہدایت بخش دیتے ہیں ہمارے سر پرست تو آپ ہی ہیں پس ہمیں معاف کر دیجیے اور ہم پر رحم فرمائیے، آپ سب سے بڑھ کر معاف فرمانے والے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور موسیٰ (علیہ السلام) نے ستر آدمی اپنی قوم میں سے ہمارے وقت معین کے لیے منتخب کئے، سو جب ان کو زلزلہ نے آپکڑا تو موسیٰ (علیہ السلام) عرض کرنے لگے کہ اے میرے پروردگار! اگر تجھ کو یہ منظور ہوتا تو اس سے قبل ہی ان کو اور مجھ کو ہلاک کر دیتا۔ کیا تو ہم میں سے چند بے وقوفوں کی حرکت پر سب کو ہلاک کردے گا؟ یہ واقعہ محض تیری طرف سے ایک امتحان ہے، ایسے امتحانات سے جس کو تو چاہے گمراہی میں ڈال دے اور جس کو چاہے ہدایت پر قائم رکھے۔ تو ہی تو ہمارا کارساز ہے پس ہم پر مغفرت اور رحمت فرما اور تو سب معافی دینے والوں سے زیاده اچھا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور موسیٰ نے اپنی قوم سے سترّ ۷۰، مرد ہمارے وعدہ کے لیے چنے پھر جب انہیں زلزلہ نے لیا موسیٰ نے عرض کی اے رب میرے! تو چاہتا تو پہلے ہی انہیں اور مجھے ہلاک کردیتا کیا تو ہمیں اس کام پر ہلاک فرمائے گا جو ہمارے بے عقلوں نے کیا وہ نہیں مگر تیرا آزمانا، تو اس سے بہکائے جسے چاہے اور راہ دکھائے جسے چاہے تو ہمارا مولیٰ ہے تو ہمیں بخش دے اور ہم پر مہر کر اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
ہمارے مقرر کردہ وقت پر حاضر ہونے کے لیے موسیٰ نے اپنی قوم کے ستر آدمیوں کو منتخب کیا پھر جب ایک سخت زلزلہ نے انہیں آپکڑا (اور وہ ہلاک ہوگئے) تو موسیٰ نے کہا اے میرے پروردگار اگر تو چاہتا تو ان سب کو پہلے ہی ہلاک کر دیتا اور مجھے بھی۔ کیا تو ایسی بات کی وجہ سے جو ہمارے چند احمقوں نے کی ہے ہم سب کو ہلاک کرتا ہے؟ یہ نہیں ہے مگر تیری طرف سے ایک آزمائش! اس کی وجہ سے تو جسے چاہتا ہے (توفیق سلب کرکے) گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے تو ہی ہمارا ولی و سرپرست ہے۔ ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو بہترین مغفرت کرنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور موسیٰ نے اپنی قوم میں سے ستر آدمی ہمارے مقررہ وقت کے لیے چنے، پھر جب انھیں زلزلے نے آ پکڑا تو اس نے کہا اے میرے رب! اگر تو چاہتا تو انھیں اس سے پہلے ہلاک کر دیتا اور مجھے بھی، کیا تو ہمیں اس کی وجہ سے ہلاک کرتا ہے جو ہم میں سے بے وقوفوں نے کیا ہے؟ یہ نہیں ہے مگر تیری آزمائش، جس کے ساتھ تو گمراہ کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور ہدایت بخشتا ہے جسے چاہتا ہے، تو ہی ہمارا یارو مدد گار ہے، سو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم کر اور تو بخشنے والوں میں سب سے بہتر ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
موسیٰ علیہ السلام کی کوہ طور سے واپسی ٭٭

موسیٰ علیہ السلام نے حسب فرمان الٰہی اپنی قوم میں سے ستر شخصوں کو منتخب کیا اور جناب باری سے دعائیں مانگنا شروع کیں۔ لیکن یہ لوگ اپنی دعا میں حد سے تجاوز کر گئے۔ کہنے لگے: اللہ تو ہمیں وہ دے جو نہ ہم سے پہلے کسی کو دیا ہو، نہ ہمارے بعد کسی کو دے۔ یہ دعا اللہ تعالیٰ کو ناپسند آئی اور ان پر بھونچال آ گیا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:74/6] ‏‏‏‏ جس سے گھبرا کر موسیٰ علیہ السلام اللہ سے دعائیں کرنے لگے۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”انہیں لے کر آپ اللہ تعالیٰ سے بنی اسرائیل کی گوسالہ پرستی کی معذرت کرنے کے لئے گئے تھے۔ یہاں جب وہ پہنچے تو کہنے لگے: ہم تو جب تک خود اللہ تعالیٰ کو کھلم کھلا اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں، ایمان نہ لائیں گے۔ ہم کلام سن رہے ہیں لیکن دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس پر کڑاکے کی آواز ہوئی اور یہ سب مر کھپ گئے۔ موسیٰ علیہ السلام نے رونا شروع کیا کہ میں بنی اسرائیل کو کیا منہ دکھاؤں گا؟ ان کے یہ بہترین لوگ تھے۔ اگر یہی منشاء تھی تو اس سے پہلے ہی ہمیں ہلاک کر دیا ہوتا۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:73/6] ‏‏‏‏ امام محمد بن اسحاق کا قول ہے کہ انہیں اس بت پرستی سے توبہ کرنے کیلئے بطور وفد کے آپ لے چلے تھے۔ ان سے فرما دیا تھا کہ پاک صاف ہو جاؤ، پاک کپڑے پہن لو اور روزے سے چلو۔ یہ اللہ کے بتائے ہوئے وقت پر طور سینا پہنچے۔ مناجات میں مشعول ہوئے تو انہوں نے خواہش کی کہ اللہ سے دعا کیجئے کہ ہم بھی اللہ کا کلام سنیں۔ آپ نے دعا کی، جب حسب عادت بادل آیا اور موسیٰ علیہ السلام آگے بڑھ گئے اور بادل میں چھپ گئے۔ قوم سے فرمایا: تم بھی قریب آ جاؤ، یہ بھی اندر چلے گئے اور حسب عادت موسیٰ علیہ السلام کی پیشانی پر ایک نور چمکنے لگا جو اللہ کے کلام کے وقت برابر چمکتا رہتا تھا۔ اس وقت کوئی انسان آپ کے چہرے پر نگاہ نہیں ڈال سکتا تھا۔ آپ نے حجاب کر لیا، لوگ سب سجدے میں گر پڑے اور اللہ کا کلام شروع ہوا جو یہ لوگ بھی سن رہے تھے کہ فرمان ہو رہا ہے، یہ نہ کر وغیرہ۔

جب باتیں ہو چکیں اور ابر اٹھ گیا تو ان لوگوں نے کہا: ہم تو جب تک اللہ کو خوب ظاہر نہ دیکھ لیں، ایمان نہیں لائیں گے تو ان پر کڑاکا نازل ہوا اور سب کے سب ایک ساتھ مر گئے۔ موسیٰ علیہ السلام بہت گھبرائے اور مناجات شروع کر دی۔ اس میں یہاں تک کہا کہ اگر ہلاک ہی کرنا تھا تو اس سے پہلے ہلاک کیا ہوتا۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ { موسیٰ علیہ السلام، ہارون علیہ السلام کو اور شبر، شبیر کو لے کر پہار کی گھاٹی میں گئے۔ ہارون ایک بلند جگہ کھڑے تھے کہ ان کی روح قبض کر لی گئی۔ جب آپ واپس بنی اسرائیل کے پاس پہنچے تو انہوں نے کہا کہ چونکہ آپ کے بھائی بڑے ملنسار اور نرم آدمی تھے آپ نے ہی انہیں الگ لے جا کر قتل کر دیا۔ اس پر آپ نے فرمایا: اچھا تم اپنے میں سے ستر آدمی چھانٹ کر میرے ساتھ کر دو۔ انہوں نے کر دیئے جنہیں لے کر آپ گئے اور ہارون علیہ السلام کی لاش سے پوچھا کہ آپ کو کس نے قتل کیا؟ اللہ کی قدرت سے وہ بولے: کسی نے نہیں بلکہ میں اپنی موت مرا ہوں۔ انہوں نے کہا: بس موسیٰ علیہ السلام، اب سے آپ کی نافرمانی ہرگز نہ کی جائے گی۔ اسی وقت زلزلہ آیا جس سے وہ سب مر گئے۔ اب تو موسیٰ علیہ السلام بہت گھبرائے، دائیں بائیں گھومنے لگے اور وہ عرض کرنے لگے جو قرآن میں مذکور ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے آپ کی التجا قبول کر لی۔ ان سب کو زندہ کر دیا اور بعد میں وہ سب انبیاء بنے۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:74/6] ‏‏‏‏ لیکن یہ اثر بہت ہی غریب ہے۔ اس کا ایک راوی عمارہ بن عبد غیر معروف ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ ان پر اس زلزلے کے آنے کی وجہ یہ تھی کہ یہ بچھڑے کی پرستش کے وقت خاموش تھے۔ ان پجاریوں کو روکتے نہ تھے۔ اس قول کی دلیل میں موسیٰ علیہ السلام کا یہ فرمان بالکل ٹھیک اترتا ہے کہ اے اللہ! ہم میں سے چند بیوقوفوں کے فعل کی وجہ سے تو ہمیں ہلاک کر رہا ہے؟ پھر فرماتے ہیں: یہ تو تیری طرف کی آزمائش ہی ہے، تیرا حکم چلتا ہے اور تیری ہی چاہت کامیاب ہے۔

ہدایت و ضلالت تیرے ہی ساتھ ہے . جس کو تو ہدایت دے , اسے کوئی بہکا نہیں سکتا اور جسے تو بہکائے , اس کی کوئی رہبری نہیں کر سکتا۔ تو جس سے روک لے , اسے کوئی دے نہیں سکتا اور جسے دے دے، اس سے کوئی چھین نہیں سکتا۔ ملک کا مالک تو اکیلا، حکم کا حاکم صرف تو ہی۔ خلق و امر تیرا ہی ہے، تو ہمارا ولی ہے۔ ہمیں بخش، ہم پر رحم فرما، تو سب سے اچھا معاف فرمانے والا ہے۔ غفر کے معنی ہیں: چھپا دینا اور پکڑ نہ کرنا۔ جب رحمت بھی اس کے ساتھ مل جائے تو یہ مطلب ہوتا ہے کہ آئندہ اس گناہ سے بچاؤ ہو جائے۔ گناہوں کا بخش دینے والا صرف تو ہی ہے۔ پس جس چیز سے ڈر تھا، اس کا بچاؤ طلب کرنے کے بعد اب مقصود حاصل کرنے کے لئے دعا کی جاتی ہے کہ ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما۔ اسے ہمارے نام لکھ دے۔ واجب و ثابت کر دے۔ «حسنہ» کی تفسیر سورۃ البقرہ میں گزر چکی ہے۔ ہم تیری طرف رجوع کرتے ہیں، رغبت ہماری تیری ہی جانب ہے، ہماری توبہ اور عاجزی تیری طرف ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”چونکہ انہوں نے «ھُدْنَا» کہا تھا، اس لیے انہیں یہودی کہا گیا ہے۔“ لیکن اس روایت کی سند میں جابر بن یزید جعفی ہیں جو ضعیف ہیں۔
155۔ 1 ان ستر آدمیوں کی تفصیل اگلے حاشیے میں آرہی ہے۔ یہاں یہ بتایا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ نے اپنی قوم کے ستر آدمی چنے اور انہیں کوہ طور پر لے گئے، جہاں بطور عذاب انہیں ہلاک کردیا گیا، جس پر حضرت موسیٰ ؑ نے کہا۔ 155۔ 2 بنی اسرائیل کے یہ ستر آدمی کون تھے؟ اس میں مفسرین کا اختلاف ہے۔ ایک رائے یہ ہے کہ جب حضرت موسیٰ ؑ نے تورات کے احکام انہیں سنائے تو انہوں نے کہا کہ ہم کیسے یقین کرلیں کہ یہ کتاب واقع اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی نازل شدہ ہے؟ ہم تو جب تک خود اللہ تعالیٰ کو کلام کرتے ہوئے نہ سن لیں اسے نہیں مانیں گے۔ چناچہ انہوں نے ستر برگزیدہ آدمیوں کا انتخاب کیا اور انہیں کوہ طور پر لے گئے۔ وہاں اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ ؑ سے ہمکلام ہوئے جسے ان لوگوں نے بھی سنا۔ لیکن وہاں انہوں نے ایک نیا مطالبہ کردیا کہ ہم جب تک اللہ کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ لیں گے، ایمان نہیں لائیں گے۔ دوسری رائے یہ ہے کہ یہ ستر آدمی وہ ہیں جو پوری قوم کی طرف سے بچھڑے کی عبادت کے جرم عظیم کی توبہ کی اور معذرت کے لئے کوہ طور پر لے جائے گئے تھے اور وہاں جاکر انہوں نے اللہ کو دیکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ تیسری رائے یہ ہے کہ یہ ستر آدمی وہ ہیں جنہوں نے اسرائیل کو بچھڑے کی عبادت کرتے ہوئے دیکھا لیکن انہیں منع نہیں کیا۔ ایک چوتھی رائے یہ ہے کہ یہ ستر آدمی وہ ہیں جنہیں اللہ کے حکم سے کوہ طور پر لے جانے کے لئے چنا گیا تھا، وہاں جاکر انہوں نے اللہ سے دعائیں کیں۔ جن میں ایک دعا یہ بھی تھی کہ ' یا اللہ ہمیں تو وہ کچھ عطا فرما، جو اس سے قبل تو نے کسی کو عطا نہ کیا اور نہ آئندہ کسی کو عطا کرنا ' اللہ تعالیٰ کو یہ دعا پسند نہ آئی، جس پر وہ زلزلے کے ذریعے سے ہلاک کردیئے گئے۔ زیادہ مفسرین دوسری رائے کے قائل ہیں اور انہوں نے وہی واقعہ قرار دیا جس کا ذکر سورة بقرہ آیت 56 میں آیا ہے۔ جہاں ان پر صاعقہ (بجلی کی کڑک) سے موت وارد ہونے کا ذکر ہے۔ اور یہاں رجفہ (زلزلے) سے موت کا ذکر ہے۔ اس کی توجیہ میں کہا گیا ہے کہ ممکن ہے دونوں ہی عذاب آوے ہوں اوپر سے بجلی کی کڑک اور نیچے سے زلزلہ۔ بہرحال حضرت موسیٰ ؑ کی اس دعا والتجا کے بعد کہ اگر ان کو ہلاک ہی کرنا تھا تو اس سے قبل اس وقت ہلاک کرتا جب یہ بچھڑے کی عبادت میں مصروف تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں زندہ کردیا۔
(آیت 155) ➊ {وَ اخْتَارَ مُوْسٰى قَوْمَهٗ …: } موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر شدہ وقت پر اپنے ساتھ لے جانے کے لیے اپنی قوم میں سے ستر آدمیوں کا انتخاب فرمایا، ظاہر ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے ان میں سے بہترین آدمیوں ہی کا انتخاب کیا ہو گا، مگر وہاں جا کر ان پر اللہ کا ایسا غضب ہوا کہ وہ سب زلزلے سے مر گئے۔ اس عذاب کا باعث کیا تھا؟ مفسرین نے مختلف وجوہ بیان کی ہیں، جن میں سے سب سے راجح وہی بات ہے جو سورۂ بقرہ (۵۵) میں ذکر ہوئی ہے کہ انھوں نے کہا تھا: ”اے موسیٰ! جب تک ہم اللہ کو کھلم کھلا دیکھ نہ لیں تیرا یقین ہر گز نہیں کریں گے۔“ اس گستاخی پر ان پر بجلی گری جس سے وہ سب مر گئے۔ یہاں {” الرَّجْفَةُ “} (زلزلے) کا ذکر ہے۔ ظاہر ہے کہ بجلی کی کڑک سے، خصوصاً جب وہ بصورت عذاب ہو، زلزلہ آنا معمول کی بات ہے۔ ➋ { قَالَ رَبِّ لَوْ شِئْتَ اَهْلَكْتَهُمْ مِّنْ قَبْلُ وَ اِيَّايَ:} یعنی اگر تو چاہتا تو ان ستر آدمیوں کو بنی اسرائیل سے نکلنے سے پہلے وہیں ہلاک کر دیتا، تاکہ بنی اسرائیل ان کی ہلاکت اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتے اور مجھ پر الزام نہ رکھ سکتے کہ میں نے انھیں ہلاک کر دیا ہے اور تو چاہتا تو میری قوم کی گستاخی کی پاداش میں مجھے بھی ہلاک کر دیتا، تو نے جب اس وقت ہم پر رحم کرتے ہوئے ایسا نہیں کیا تو اب بھی ہمیں بخش دے، ہم پر رحم فرما اور انھیں ہلاک نہ کر۔ ➌ { اَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا:} بے وقوفوں کے فعل سے مراد بچھڑے کی عبادت بھی ہو سکتی ہے، مگر زیادہ واضح بے وقوفی موسیٰ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ کو صاف دکھانے کا مطالبہ اور شرط ہے کہ ہم اس کے بغیر تیری بات کا یقین ہی نہیں کریں گے۔ ➍ {بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا:} معلوم ہوا کہ نہ بچھڑے کی عبادت تمام بنی اسرائیل نے کی تھی اور نہ اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کا مطالبہ ستر کے ستر نے کیا تھا۔ یہ ان کے جاہل اور بے وقوف لوگوں کا فعل تھا۔ موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا کہ پروردگارا! کیا تو ہم میں سے بے وقوف لوگوں کے فعل کی وجہ سے سب کو ہلاک کر دے گا۔ ➎ { اِنْ هِيَ اِلَّا فِتْنَتُكَ:} یعنی جنھوں نے بچھڑے کی پوجا کی یا تجھے آنکھوں سے دیکھنے کا مطالبہ کیا، حقیقت میں یہ سب کام تیری طرف سے ایک آزمائش تھے، تو جس طرح چاہتا ہے امتحان لیتا ہے، پھر اس کے ذریعے سے جسے چاہتا ہے گمراہ کر دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دے دیتا ہے۔ (ابن کثیر) اس دعا کے بعد اللہ تعالیٰ نے انھیں دوبارہ زندہ کر دیا۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۵۶)۔
وَ اکۡتُبۡ لَنَا فِیۡ ہٰذِہِ الدُّنۡیَا حَسَنَۃً وَّ فِی الۡاٰخِرَۃِ اِنَّا ہُدۡنَاۤ اِلَیۡکَ ؕ قَالَ عَذَابِیۡۤ اُصِیۡبُ بِہٖ مَنۡ اَشَآءُ ۚ وَ رَحۡمَتِیۡ وَسِعَتۡ کُلَّ شَیۡءٍ ؕ فَسَاَکۡتُبُہَا لِلَّذِیۡنَ یَتَّقُوۡنَ وَ یُؤۡتُوۡنَ الزَّکٰوۃَ وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ بِاٰیٰتِنَا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۱۵۶﴾ۚ
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور ہمارے لیے اس دنیا کی بھلائی بھی لکھ دیجیے اور آخرت کی بھی، ہم نے آپ کی طرف رجوع کر لیا" جواب میں ارشاد ہوا "سزا تو میں جسے چاہتا ہوں دیتا ہوں، مگر میری رحمت ہر چیز پر چھائی ہوئی ہے، اور اُسے میں اُن لوگوں کے حق میں لکھوں گا جو نافرمانی سے پرہیز کریں گے، زکوٰۃ دیں گے اور میری آیات پر ایمان لائیں گے"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہم لوگوں کے نام دنیا میں بھی نیک حالی لکھ دے اور آخرت میں بھی، ہم تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں اپنا عذاب اسی پر واقع کرتا ہوں جس پر چاہتا ہوں اور میری رحمت تمام اشیا پر محیط ہے۔ تو وه رحمت ان لوگوں کے نام ضرور لکھوں گا جو اللہ سے ڈرتے ہیں اور زکوٰة دیتے ہیں اور جو ہماری آیتوں پر ایمان ﻻتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی لکھ اور آخرت میں بیشک ہم تیری طرف رجوع لائے، فرمایا میرا عذاب میں جسے چاہوں دوں اور میری رحمت ہر چیز کو گھیرے ہے تو عنقریب میں نعمتوں کو ان کے لیے لکھ دوں گا جو ڈرتے اور زکوٰة دیتے ہیں اور وہ ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہمارے لئے اس دنیا میں بھی بھلائی لکھ دے اور آخرت میں بھی ہم تیری ہی طرف رجوع کرتے ہیں (ہم نے تجھ سے لو لگائی ہے) ارشاد ہوا (میرے عذاب کا یہ حال ہے کہ) جس کو چاہتا ہوں دیتا ہوں اور میری رحمت (کا یہ حال ہے کہ وہ) ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے۔ پس میں رحمت ان لوگوں کے لیے لکھ دوں گا جو پرہیزگاری کریں گے (برائیوں سے بچیں گے) اور زکوٰۃ ادا کریں گے اور ہماری آیتوں (نشانیوں) پر ایمان لے آئیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی لکھ دے اور آخرت میں بھی، بے شک ہم نے تیری طرف رجوع کیا۔ فرمایا میرا عذاب، میں اسے پہنچاتا ہوں جسے چاہتا ہوں اور میری رحمت نے ہر چیز کو گھیر رکھا ہے سو میں اسے ان لوگوں کے لیے ضرور لکھ دوں گا جو ڈرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور (ان کے لیے) جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالٰی کی رحمت اور انسان ٭٭

چونکہ کلیم اللہ علیہ السلام نے اپنی دعا میں کہا تھا کہ یہ محض تیری طرف سے آزمائش ہے۔ اس کے جواب میں فرمایا جا رہا ہے کہ عذاب تو صرف گنہگاروں کو ہی ہوتا ہے اور گنہگاروں میں سے بھی انہی کو جو میری نگاہ میں گنہگار ہیں، نہ کہ ہر گنہگار کو۔ میں اپنی حکمت، عدل اور پورے علم کے ذریعے سے جانتا ہوں کہ مستحق عذاب کون ہے؟ صرف اسی کو عذاب پہنچاتا ہوں۔ ہاں البتہ میری رحمت بڑی وسیع چیز ہے جو سب کو شامل، سب پر حاوی اور سب پر محیط ہے۔ چنانچہ عرش کے اٹھانے والے اور اس کے اردگرد رہنے والے فرشتے فرماتے رہتے ہیں کہ اے رب! تو نے اپنی رحمت اور اپنے علم سے تمام چیزوں کو گھیر رکھا ہے۔ مسند امام احمد میں ہے کہ { ایک اعرابی آیا۔ اونٹ بٹھا کر، اسے باندھ کر نماز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑا ہو گیا۔ نماز سے فارغ ہو کر اونٹ کو کھول کر اس پر سوار ہو کر اونچی آواز سے دعا کرنے لگا کہ اے اللہ! مجھ پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر رحم کر اور اپنی رحمت میں کسی اور کو ہم دونوں کا شریک نہ کر۔ آپ یہ سن کر فرمانے لگے: بتاؤ یہ خود راہ گم کردہ ہونے میں بڑھا ہوا ہے یا اس کا اونٹ؟ تم نے سنا بھی، اس نے کیا کہا؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ہاں! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، سن لیا۔ آپ نے فرمایا: اے شخص! تو نے اللہ کی بہت ہی کشادہ رحمت کو بہت تنگ چیز سمجھ لیا۔ سن! اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کے سو حصے کئے جن میں سے صرف ایک حصہ مخلوق میں اتارا جو تمام مخلوق میں تقسیم ہوا یعنی انسان، حیوان، جنات سب میں اور ننانوے حصے اپنے لیے باقی رکھے۔ لوگو! بتاؤ یہ زیادہ راہ بہکا ہوا ہے یا اس کا اونٹ؟ } ۱؎ [مسند احمد:312/4:ضعیف] ‏‏‏‏ مسند کی اور حدیث میں ہے: { اللہ عز و جل نے اپنی رحمت کے سو حصے کئے جن میں سے صرف ایک ہی حصہ دنیا میں اتارا۔ اسی سے مخلوق ایک دوسرے پر ترس کھاتی ہے اور رحم کرتی ہے، اسی سے حیوان بھی اپنی اولاد کے ساتھ نرمی اور رحم کا برتاؤ کرتے ہیں۔ باقی کے ننانوے حصے تو اس کے پاس ہی ہیں جن کا اظہار قیامت کے دن ہو گا۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2753] ‏‏‏‏

اور روایت میں ہے کہ { بروز قیامت اسی حصے کے ساتھ اور ننانوے حصے جو مؤخر ہیں، ملا دیئے جایں گے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2742] ‏‏‏‏ ایک اور روایت میں ہے کہ { اسی نازل کردہ ایک حصے میں پرند بھی شریک ہیں۔ } ۱؎ [سنن ابن ماجه:4294، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ طبری میں ہے: { قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ جو اپنے دین میں فاجر ہے، جو اپنی معاش میں احمق ہے وہ بھی اس میں داخل ہے۔ اس کی قسم جو میری جان اپنے ہاتھ میں رکھتا ہے! وہ بھی جنت میں جائے گا جو مستحق جہنم ہو گا۔ اس کی قسم جس کے قبضے میں میری روح ہے! قیامت کے دن اللہ کی رحمت کے کرشمے دیکھ کر ابلیس بھی امیدوار ہو کر ہاتھ پھیلا دے گا۔ } ۱؎ [طبرانی کبیر:3022:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اس کا راوی سعد غیر معروف ہے۔ پس میں اپنی اس رحمت کو ان کے لیے واجب کر دوں گا اور یہ بھی محض اپنے فضل و کرم سے۔ جیسے فرمان ہے: ’ تمہارے رب نے اپنی ذات پر رحمت کو واجب کر لیا ہے۔ ‘ ۱؎ [6-الأنعام:12] ‏‏‏‏ پس جن پر رحمت رب واجب ہو جائے گی، ان کے جو اوصاف بیان فرمائے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مراد اس سے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے جو تقویٰ کریں یعنی شرک سے اور کبیرہ گناہوں سے بچیں، زکوٰۃ دیں یعنی اپنے ضمیر کو پاک رکھیں اور مال کی زکوٰۃ بھی ادا کریں۔ (‏‏‏‏کیونکہ یہ آیت مکی ہے) اور ہماری آیتوں کو مان لیں، ان پر ایمان لائیں اور انہیں سچ سمجھیں۔
156۔ 1 یعنی توبہ کرتے ہیں۔ 156۔ 2 یہ اس کی وسعت رحمت ہی ہے کہ دنیا میں صالح و فاسق اور مومن و کافر دونوں ہی اس کی رحمت سے فیض یاب ہو رہے ہیں۔ حدیث میں آتا ہے ' اللہ تعالیٰ کی رحمت کے 10 حصے ہیں۔ یہ اس کی رحمت کا ایک حصہ ہے کہ جس سے مخلوق ایک دوسرے پر رحم کرتی ہے اور وحشی جانور اپنے بچوں پر شفقت کرتے ہیں اور اس نے اپنی رحمت کے 99 حصے اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں۔ (صحیح مسلم)
(آیت 156) ➊ {قَالَ عَذَابِيْۤ اُصِيْبُ بِهٖ مَنْ اَشَآءُ …:} یعنی میرا عذاب تو صرف ان کافروں اور نافرمانوں کے لیے مخصوص ہے جنھیں میں ان کی نافرمانی پر سزا دینا چاہتا ہوں، کیونکہ عذاب دینا میری غالب صفت نہیں بلکہ وہ میرا ایک فعل ہے جو عدل کے تقاضے کے نتیجے میں ظاہر ہوتا ہے۔ میری اصل اور غالب صفت جس کے ساتھ کائنات کا نظام چل رہا ہے، وہ میری رحمت ہے، جس سے کائنات کی ہر چیز فیض یاب ہو رہی ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور ہم بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہو گئے، اسی اثنا میں ایک اعرابی نے نماز کی حالت میں کہہ دیا: ”اے اللہ! مجھ پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر رحم فرما اور ہمارے ساتھ کسی اور پر رحم نہ فرما۔“ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو اس اعرابی سے فرمایا: [ لَقَدْ حَجَّرْتَ وَاسِعًا ] ”تو نے اللہ تعالیٰ کی رحمت واسع کو محدود کر دیا۔“ [ بخاری، الأدب، باب رحمۃ الناس والبھائم: ۶۰۱۰ ] اگر اللہ تعالیٰ کی رحمت دنیا میں بھی خاص نیکو کاروں کے لیے ہوتی اور کفر و نافرمانی پر فوراً مؤاخذہ ہوتا تو وہ روئے زمین پر کسی چلنے والے کو نہ چھوڑتا۔ دیکھیے سورۂ نحل (۶۱) اور فاطر (۴۵) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ کی سو رحمتیں ہیںِ، اس میں سے ایک رحمت جن و انس، جانوروں اور زہریلے سانپوں اور کیڑوں میں اتاری، اسی کے ساتھ وہ ایک دوسرے پر شفقت اور ایک دوسرے پر رحم کرتے ہیں اور اسی کے ساتھ وحشی جانور اپنے بچوں پر شفقت کرتے ہیں اور ننانویں رحمتیں اللہ تعالیٰ نے مؤخر کر رکھی ہیں جن کے ساتھ وہ اپنے بندوں پر رحم فرمائے گا۔“ [ مسلم، التوبۃ، باب فی سعۃ رحمۃ اللہ تعالٰی…: ۲۷۵۲، ۲۷۵۳، عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ ] ➋ {فَسَاَكْتُبُهَا لِلَّذِيْنَ يَتَّقُوْنَ:وَ رَحْمَتِيْ وَ سِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ “ } کے الفاظ میں ابلیس اور تمام کفار بھی شامل تھے، کیونکہ {” كُلَّ شَيْءٍ “} میں یہ سب داخل ہیں، اس لیے یہ بتانے کے لیے کہ یہ سب میری رحمت سے محروم ہیں، فرمایا کہ میں اپنی رحمت صرف ان لوگوں کے لیے لکھوں گا جو ڈرتے ہیں اور ان تمام صفات کے حامل ہیں جو اس آیت اور اس سے اگلی آیت میں مذکور ہیں۔ یہ بھی وضاحت فرما دی کہ نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کے بعد اس رحمت کے مستحق صرف وہ ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے متبع ہوں گے۔ ➌ { وَ يُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ:} دوسرے ارکان و فرائض کو چھوڑ کر خاص طور پر زکوٰۃ کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ یہودیوں میں مال کی محبت بہت پائی جاتی تھی جس کی بنا پر وہ جتنی کوتاہی ادائے زکوٰۃ میں کرتے تھے کوئی اور فریضہ ادا کرنے میں نہیں کرتے تھے، حتیٰ کہ اس محبت نے زکوٰۃ دینے میں کوتاہی سے آگے بڑھ کر انھیں سود خوری پر لگا دیا۔ وہی حال اب امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے، مگر جس پر میرے رب کا خاص کرم ہو۔ ➍ { وَ الَّذِيْنَ هُمْ بِاٰيٰتِنَا يُؤْمِنُوْنَ:} یہ آیت تمام احکام شریعت پر حاوی ہے۔ تقویٰ (نافرمانی سے پرہیز)، زکوٰۃ (حقوق مالی) اور اللہ کی آیات پر ایمان میں ہر قسم کی معرفت آ جاتی ہے، یہاں موسیٰ علیہ السلام کی دعا کا جواب ختم ہو گیا، اب اگلی آیت سے موقع کی مناسبت سے یہود و نصاریٰ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی اختیار کرنے کی دعوت دی جا رہی ہے اور بتایا جا رہا ہے کہ دنیا و آخرت میں رحمتِ الٰہی کے حصول کے لیے مندرجہ بالا صفات کے علاوہ ”نبی امی“ کی پیروی بھی ضروری ہے۔
اَلَّذِیۡنَ یَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِیَّ الۡاُمِّیَّ الَّذِیۡ یَجِدُوۡنَہٗ مَکۡتُوۡبًا عِنۡدَہُمۡ فِی التَّوۡرٰىۃِ وَ الۡاِنۡجِیۡلِ ۫ یَاۡمُرُہُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ یَنۡہٰہُمۡ عَنِ الۡمُنۡکَرِ وَ یُحِلُّ لَہُمُ الطَّیِّبٰتِ وَ یُحَرِّمُ عَلَیۡہِمُ الۡخَبٰٓئِثَ وَ یَضَعُ عَنۡہُمۡ اِصۡرَہُمۡ وَ الۡاَغۡلٰلَ الَّتِیۡ کَانَتۡ عَلَیۡہِمۡ ؕ فَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِہٖ وَ عَزَّرُوۡہُ وَ نَصَرُوۡہُ وَ اتَّبَعُوا النُّوۡرَ الَّذِیۡۤ اُنۡزِلَ مَعَہٗۤ ۙ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴿۱۵۷﴾٪
سید ابو الاعلیٰ مودودی
(پس آج یہ رحمت اُن لوگوں کا حصہ ہے) جو اِس پیغمبر، نبی امی کی پیروی اختیار کریں جس کا ذکر اُنہیں اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا ملتا ہے وہ انہیں نیکی کا حکم دیتا ہے، بدی سے روکتا ہے، ان کے لیے پاک چیزیں حلال او ر ناپاک چیزیں حرام کرتا ہے، اور ان پر سے وہ بوجھ اتارتا ہے جو اُن پر لدے ہوئے تھے اور وہ بندشیں کھولتا ہے جن میں وہ جکڑے ہوئے تھے لہٰذا جو لوگ اس پر ایمان لائیں اور اس کی حمایت اور نصرت کریں اور اُس روشنی کی پیروی اختیار کریں جو اس کے ساتھ نازل کی گئی ہے، وہی فلاح پانے والے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
جو لوگ ایسے رسول نبی امی کا اتباع کرتے ہیں جن کو وه لوگ اپنے پاس تورات وانجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔ وه ان کو نیک باتوں کا حکم فرماتے ہیں اور بری باتوں سے منع کرتے ہیں اور پاکیزه چیزوں کو حلال بتاتے ہیں اور گندی چیزوں کو ان پر حرام فرماتے ہیں اور ان لوگوں پر جو بوجھ اور طوق تھے ان کو دور کرتے ہیں۔ سو جو لوگ اس نبی پر ایمان ﻻتے ہیں اور ان کی حمایت کرتے ہیں اور ان کی مدد کرتے ہیں اور اس نور کا اتباع کرتے ہیں جو ان کے ساتھ بھیجا گیا ہے، ایسے لوگ پوری فلاح پانے والے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
وہ جو غلامی کریں گے اس رسول بے پڑھے غیب کی خبریں دینے والے کی جسے لکھا ہوا پائیں گے اپنے پاس توریت اور انجیل میں وہ انہیں بھلائی کا حکم دے گا اور برائی سے منع کرے گا اور ستھری چیزیں ان کے لیے حلال فرمائے گا اور گندی چیزیں ان پر حرام کرے گا اور ان پر سے وہ بوجھ اور گلے کے پھندے جو ان پر تھے اتا رے گا، تو وہ جو اس پر ایمان لائیں اور اس کی تعظیم کریں اور اسے مدد دیں اور اس نور کی پیروی کریں جو اس کے ساتھ اترا وہی بامراد ہوئے،
علامہ محمد حسین نجفی
جو اس پیغمبر(ص) کی پیروی کریں گے جو نبیِ امی ہے جسے وہ اپنے ہاں توراۃ و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں جو انہیں نیک کاموں کا حکم دیتا ہے اور برے کاموں سے روکتا ہے جو ان کے لیے پاک و پسندیدہ چیزوں کو حلال اور گندی و ناپاک چیزوں کو حرام قرار دیتا ہے اور ان پر سے ان کے بوجھ اتارتا ہے اور وہ زنجیریں کھولتا ہے جن میں وہ جکڑے ہوئے تھے۔ پس جو لوگ اس (نبیِ امی) پر ایمان لائے اور اس کی تعظیم کی اور اس کی مدد و نصرت کی اور اس نور (روشنی) کی پیروی کی جو اس کے ساتھ نازل کیا گیا ہے یہی لوگ فوز و فلاح پانے والے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
وہ جو اس رسول کی پیروی کرتے ہیں، جو امی نبی ہے، جسے وہ اپنے پاس تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں، جو انھیں نیکی کا حکم دیتا اور انھیں برائی سے روکتا ہے اور ان کے لیے پاکیزہ چیزیں حلال کرتا اور ان پر ناپاک چیزیں حرام کرتا ہے اور ان سے ان کا بوجھ اور وہ طوق اتارتا ہے جو ان پر پڑے ہوئے تھے۔ سو وہ لوگ جو اس پر ایمان لائے اور اسے قوت دی اور اس کی مدد کی اور اس نور کی پیروی کی جو اس کے ساتھ اتارا گیا وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سابقہ کتابوں میں آخری پیغمبر خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے جو اوصاف بیان ہوئے تھے جس سے ان نبیوں کی امت آپ کو پہچان جائے , وہ بیان ہو رہے ہیں۔ سب کو حکم تھا کہ ان صفات کا پیغمبر اگر تمہارے زمانے میں ظاہر ہو تو تم سب ان کی تابعداری میں لگ جانا۔ مسند احمد میں ہے: { ایک صاحب فرماتے ہیں: میں کچھ خرید و فروخت کا سامان لے کر مدینے آیا۔ جب اپنی تجارت سے فارغ ہوا تو میں نے کہا: اس شخص سے بھی مل لوں۔ میں چلا تو دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ کہیں جا رہے ہیں۔ میں بھی پیچھے پیچھے چلنے لگا۔ آپ ایک یہودی عالم کے گھر گئے، اس کا نوجوان تنومند بیٹا نزع کی حالت میں تھا اور وہ اپنے دل کو تسکین دینے کیلئے تورات کھولے ہوئے اس کے پاس بیٹھا ہوا تلاوت کر رہا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت فرمایا کہ تجھے اس کی قسم جس نے یہ تورات نازل فرمائی ہے، کیا میری صفت اور میرے معبوث ہونے کی خبر اس میں تمہارے پاس ہے یا نہیں؟ اس نے اپنے سر کے اشارے سے انکار کیا۔ اسی وقت اس کا بچہ بول اٹھا کہ اس کی قسم جس نے تورات نازل فرمائی ہے! ہم آپ کی صفات اور آپ کے آنے کا پورا حال اس تورات میں موجود پاتے ہیں اور میری تہہ دل سے گواہی ہے کہ معبود برحق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور آپ اس کے سچے رسول ہیں۔

{ آپ نے فرمایا: اس یہودی کو اپنے بھائی کے پاس سے ہٹاؤ۔ پھر آپ ہی اس کے کفن دفن کے والی بنے اور اس کے جنازے کی نماز پڑھائی۔ } ۱؎ [مسند احمد:411/5:ضعیف] ‏‏‏‏ مستدرک حاکم میں ہے: ہشام بن عاص اموی فرماتے ہیں کہ میں اور ایک صاحب روم کے بادشاہ ہرقل کو دعوت اسلام دینے کے لئے روانہ ہوئے۔ غوطہ دمشق میں پہنچ کر ہم جبلہ بن ایہم غسانی کے گھر گئے۔ اس نے اپنا قاصد بھیجا کہ ہم اس سے باتیں کر لیں۔ ہم نے کہا: واللہ! ہم تم سے کوئی بات نہ کریں گے۔ ہم بادشاہ کے پاس بھیجے گئے ہیں، اگر وہ چاہیں تو ہم سے خود سنیں اور خود جواب دیں ورنہ ہم قاصدوں سے گفتگو کرنا نہیں چاہتے۔ قاصدوں نے یہ خبر بادشاہ کو پہنچائی، اس نے اجازت دی اور ہمیں اپنے پاس بلا لیا چنانچہ میں نے اس سے باتیں کیں اور اسلام کی دعوت دی۔ وہ اس وقت سیاہ لباس پہنے ہوئے تھا۔ کہنے لگا کہ دیکھ میں نے یہ لباس پہن رکھا ہے اور حلف اٹھایا ہے کہ جب تک تم لوگوں کو شام سے نہ نکال دوں گا، اس سیاہ لبادے کو نہ اتاروں گا۔ قاصد اسلام نے یہ سن کر پھر کہا: بادشاہ ہوش سنبھالو۔ اللہ کی قسم! یہ آپ کے تخت کی جگہ اور آپ کے بڑے بادشاہ کا پائے تخت بھی ان شاءاللہ ہم اپنے قبضے میں کر لیں گے۔ یہ کوئی ہماری ہوس نہیں بلکہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمیں یہ پختہ خبر مل چکی ہے۔ اس نے کہا: تم وہ لوگ نہیں۔ ہاں ہم سے ہمارا یہ تخت و تاج و قوم چھینے گی جو دنوں کو روزے سے رہتے ہوں اور راتوں کو تہجد پڑھتے ہوں۔

اچھا تم بتاؤ! تمہارے روزے کے احکام کیا ہیں؟ اب جو ہم نے بتائے تو اس کا منہ کالا ہو گیا۔ اس نے اسی وقت ہمارے ساتھ اپنا ایک آدمی کر دیا اور کہا: انہیں شاہ روم کے پاس لے جاؤ۔ جب ہم اس کے پائے تخت کے پاس پہنچے تو وہ کہنے لگا: تم اس حال میں تو اس شہر میں نہیں جا سکتے، اگر تم کہو تو میں تمہارے لیے عمدہ سواریاں لا دوں، ان پر سوار ہو کر تم شہر میں چلو۔ ہم نے کہا: نا ممکن ہے، ہم تو اسی حالت میں انہی سواریوں پر چلیں گے۔ انہوں نے بادشاہ سے کہلوا بھیجا۔ وہاں سے اجازت آئی کہ اچھا! انہیں اونٹوں پر ہی لے آؤ۔ ہم اپنے اونٹوں پر سوار، گلے میں تلواریں لٹکائے شاہی محل کے پاس پہنچے۔ وہاں ہم نے اپنی سواریاں بٹھائیں۔ بادشاہ دریچے میں سے ہمیں دیکھ رہا تھا، ہمارے منہ سے بےساختہ «لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَ اللہُ اَکْبَرُ» کا نعرہ نکل گیا۔ اللہ خوب جانتا ہے کہ اسی وقت شاہ روم کا محل تھرا اٹھا، اس طرح جس طرح کسی خوشے کو تیز ہوا کا جھونکا ہلا رہا ہو۔ اسی وقت محل سے شاہی قاصد دوڑتا ہوا آیا اور کہنے لگا: آپ کو یہ نہیں چاہیئے کہ اپنے دین کا اس طرح ہمارے سامنے اعلان کرو، چلو! تم کو بادشاہ سلامت یاد کر رہے ہیں۔ چنانچہ ہم اس کے ساتھ دربار میں گئے۔ دیکھا کہ چاروں طرف سرخ مخمل اور سرخ ریشم ہے۔ خود بھی سرخ لباس پہنے ہوئے ہے۔ تمام دربار پادریوں اور ارکان سلطنت سے بھرا ہوا ہے۔ جب ہم پاس پہنچ گئے تو مسکرا کر کہنے لگا: جو سلام تم میں آپس میں مروج ہے، تم نے مجھے وہ سلام کیوں نہ کیا؟ ترجمان کی معرفت ہمیں بادشاہ کا یہ سوال پہنچا تو ہم نے جواب دیا کہ جو سلام ہم میں ہے، اس کے لائق تم نہیں اور جو آداب کا دستور تم میں ہے، وہ ہمیں پسند نہیں۔ اس نے کہا: اچھا تمہارا سلام آپس میں کیا ہے؟ ہم نے کہا: السلام علیکم۔ اس نے کہا: اپنے بادشاہ کو تم کس طرح سلام کرتے ہو؟ ہم نے کہا: صرف ان ہی الفاظ سے۔

پوچھا: اچھا وہ بھی تمہیں کوئی جواب دیتے ہیں؟ ہم نے کہا: یہی الفاظ وہ کہتے ہیں۔ بادشاہ نے دریافت کیا کہ تمہارے ہاں سب سے بڑا کلمہ کون سا ہے؟ ہم نے کہا «لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَ اللہُ اَکْبَرُ» ۔ اللہ عزوجل کی قسم! ادھر ہم نے یہ کلمہ کہا، ادھر پھر سے محل میں زلزلہ پڑا۔ یہاں تک کہ سارا دربار چھت کی طرف نظریں کر کے سہم گیا۔ بادشاہ ہیبت زدہ ہو کر پوچھنے لگا: کیوں جی اپنے گھروں میں بھی جب کبھی تم یہ کلمہ پڑھتے ہو، تمہارے گھر بھی اس طرح زلزلے میں آ جاتے ہیں؟ ہم نے کہا: کبھی نہیں۔ ہم نے تو یہ بات یہیں آپ کے ہاں ہی دیکھی ہے۔ بادشاہ کہنے لگا: کاش کہ تم جب کبھی اس کلمے کو کہتے، تمام چیزیں اسی طرح ہل جاتیں اور میرا آدھا ملک ہی رہ جاتا۔ ہم نے پوچھا: یہ کیوں؟ اس نے جواب دیا اس لیے کہ یہ آسان تھا بہ نسبت اس بات کے کہ یہ امر نبوت ہو۔ پھر اس نے ہم سے ہمارا ارادہ دریافت کیا: ہم نے صاف بتایا۔ اس نے کہا: اچھا! یہ بتاؤ کہ تم نماز کس طرح پڑھتے ہو اور روزہ کس طرح رکھتے ہو؟ ہم نے دونوں باتیں بتا دیں۔ اس نے اب ہمیں رخصت کیا اور بڑے اکرام و احترام سے ہمیں شاہی معزز مہمانوں میں رکھا۔ تین دن جب گزرے تو رات کے وقت ہمیں قاصد بلانے آیا، ہم پھر دربار میں گئے تو اس نے ہم سے پھر ہمارا مطلب پوچھا: ہم نے اسے دوہرایا۔ پھر اس نے ایک حویلی کی شکل کی سونا مڑھی ہوئی ایک چیز منگوائی جس میں بہت سارے مکانات تھے اور ان کے دروازے تھے۔ اس نے اسے کنجی سے کھول کر ایک سیاہ رنگ کا ریشمی جامہ نکالا۔ ہم نے دیکھا کہ اس میں ایک شخص ہے جس کی بڑی بڑی آنکھیں ہیں، بڑی رانیں ہیں۔ بڑی لمبی اور گھنی داڑھی ہے اور سر کے بال دو حصوں میں نہایت کو خوبصورت لمبے لمبے ہیں۔ ہم سے پوچھا: انہیں جانتے ہو؟ ہم نے کہا: نہیں۔

کہا: یہ آدم علیہ السلام ہیں۔ ان کے جسم پر بال بہت ہی تھے۔ پھر دوسرا دروازہ کھول کر اس میں سے سیاہ رنگ ریشم کا پارچہ نکالا جس میں ایک سفید صورت تھی جس کے گھنگریالے بال تھے، سرخ رنگ آنکھیں تھیں، بڑے کلے کے آدمی تھے اور بڑی خوش وضع داڑھی تھی۔ ہم سے پوچھا: انہیں پہچانتے ہو؟ ہم نے انکار کیا تو کہا: یہ نوح علیہ السلام ہیں۔ پھر ایک دروازہ کھول کر اس میں سے سیاہ ریشمی کپڑا نکالا، اس میں ایک شخص تھا نہایت ہی گورا چٹا رنگ، بہت خوبصورت آنکھیں، کشادہ پیشانی، لمبے رخسار، سفید داڑھی، یہ معلوم ہوتا تھا کہ گویا وہ مسکرا رہے ہیں۔ ہم سے پوچھا: انہیں پہچانا؟ ہم نے انکار کیا تو کہا: یہ ابراہیم علیہ السلام ہیں۔ پھر ایک دروازہ کھولا، اس میں سے ایک خوبصورت سفید شکل دکھائی دی جو ہو بہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تھی۔ ہم سے پوچھا: انہیں پہچانتے ہو؟ ہم نے کہا: یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ یہ کہا اور ہمارے آنسو نکل آئے۔ بادشاہ اب تک کھڑا ہوا تھا، اب وہ بیٹھ گیا۔ اور ہم سے دوبارہ پوچھا کہ یہی شکل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے؟ ہم نے کہا: واللہ! یہی ہے۔ اسی طرح کہ گویا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں دیکھ رہا ہے۔ پس وہ تھوڑی دیر تک تو غور سے اسے دیکھتا رہا، پھر ہم سے کہنے لگا کہ یہ آخری گھر تھا لیکن میں نے اور گھروں کو چھوڑ کر اسے بیچ میں ہی کھول دیا کہ تمہیں آزما لوں کہ تم پہچان جاتے ہو یا نہیں۔ پھر ایک اور دروازہ کھول کر اس میں سے بھی سیاہ رنگ ریشمی کپڑا نکالا جس میں ایک گندم گوں نرمی والی صورت تھی۔ بال گھونگھریالے، آنکھیں گہری، نظریں تیز، تیور تیکھے، دانت پر دانت، ہونٹ موٹے ہو رہے تھے جیسے کہ غصے میں بھرے ہوئے ہیں۔ اس نے ہم سے پوچھا: انہیں پہچانا؟ ہم نے انکار کیا۔ بادشاہ نے کہا: یہ موسیٰ علیہ السلام ہیں۔ اسی کے متصل ایک اور صورت تھی جو قریب قریب اسی کی سی تھی۔ مگر ان کے سر کے بال گویا تیل لگے ہوئے تھے۔

ماتھا کشادہ تھا، آنکھوں میں کچھ فراخی تھی۔ ہم سے پوچھا: انہیں جانتے ہو؟ ہمارے انکار پر کہا: یہ ہارون بن عمران علیہ السلام ہیں۔ پھر ایک دروازہ کھول کر اس میں سے ایک سفید رنگ ریشم کا ٹکڑا نکالا جس میں ایک گندم گوں رنگ میانہ قد سیدھے بالوں والا ایک شخص تھا گویا وہ غضبناک ہے۔ پوچھا: انہیں پہچانا؟ ہم نے کہا: نہیں۔ کہا یہ لوط علیہ السلام ہیں۔ پھر ایک دروازہ کھول کر اس میں سے ایک سفید ریشمی کپڑا نکال کر دکھایا جس میں سنہرے رنگ کے ایک آدمی تھے جن کا قد طویل نہ تھا، رخسار ہلکے تھے، چہرہ خوبصورت تھا۔ اس نے ہم سے پوچھا: انہیں جانتے ہو؟ ہم نے کہا نہیں۔ کہا: یہ اسحاق علیہ السلام ہیں۔ پھر ایک اور دروازہ کھول کر اس میں سے سفید ریشمی کپڑا نکال لر ہمیں دکھایا۔ اس میں جو صورت تھی، وہ پہلی صورت کے بالکل مشابہ تھی مگر ان کے ہونٹ پر تل تھا۔ اس نے ہم سے پوچھا: اسے پہچان لیا؟ ہم نے کہا: نہیں۔ کہا: یہ یعقوب علیہ السلام ہیں۔ پھر ایک دروازہ کھول کر اس میں سے سیاہ رنگ کا ریشمی کپڑا نکالا جس میں ایک شکل تھی سفید رنگ، خوبصورت اونچی ناک والے، نورانی چہرے والے جس میں خوف الٰہی ظاہر تھا۔ رنگ سرخی مائل سفید تھا۔ پوچھا اس نے: انہیں جانتے ہو؟ ہم نے کہا: نہیں۔ کہا: یہ تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا اسماعیل علیہ السلام ہیں۔ پھر اور دروازہ کھول کر سفید ریشمی کپڑے کا ٹکڑا نکال کر دکھایا جس میں ایک صورت تھی جو آدم علیہ السلام کی صورت سے بہت ہی ملتی جلتی تھی اور چہرہ تو سورج کی طرح روشن تھا۔ اس نے پوچھا: انہیں پہچانا؟ ہم نے لاعلمی ظاہر کی تو کہا: یہ یوسف علیہ السلام ہیں۔

پھر ایک دروازہ کھول کر اس میں سے سفید ریشم کا پارچہ نکال کر ہمیں دکھایا جس میں ایک صورت تھی۔ سرخ رنگ، بھری پنڈلیاں، کشادہ آنکھیں، اونچا پیٹ، قدرے چھوٹا قد، تلوار لٹکائے ہوئے۔ اس نے پوچھا: انہیں جانتے ہو؟ ہم نے کہا: نہیں۔ کہا: یہ داؤد علیہ السلام ہیں۔ پھر اور دروازہ کھول کر سفید ریشم کا کپڑا نکالا جس میں ایک صورت تھی۔ موٹی رانوں والی، لمبے پیروں والی، گھوڑے پر سوار۔ اس نے پوچھا: انہیں پہچانا؟ ہم نے کہا: نہیں۔ کہا: یہ سلیمان علیہ السلام ہیں۔ پھر ایک اور دروازہ کھولا اور اس میں سے سیاہ رنگ حریری پارچہ نکالا جس میں ایک صورت تھی۔ سفید رنگ، نوجوان، سخت سیاہ داڑھی، بہت زیادہ بال، خوشمنا آنکھیں، خوبصورت چہرہ۔ اس نے پوچھا: انہیں جانتے ہو؟ ہم نے کہا: نہیں۔ کہا: یہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ہیں۔ ہم نے پوچھا: آپ کے پاس یہ صورتیں کہاں سے آئیں؟ یہ تو ہمیں یقین ہو گیا ہے کہ یہ تمام انبیاء کی اصلی صورتوں کے بالکل ٹھیک نمونے ہیں۔ کیونکہ ہم نے اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت کو بالکل ٹھیک اور درست پایا۔ بادشاہ نے جواب دیا: بات یہ ہے کہ آدم علیہ السلام نے رب العزت سے دعا کی کہ آپ کی اولاد میں سے جو انبیاء علیہم السلام ہیں وہ سب کو دکھائے جائیں۔ پس ان کی صورتیں آپ پر نازل ہوئیں جو آدم علیہ السلام کے خزانے میں جو سورج کے غروب ہونے کی جگہ پر تھا، محفوظ تھیں۔ ذوالقرنین نے وہاں سے لے لیں اور دانیال کو دیں۔ پھر بادشاہ کہنے لگا کہ میں تو اس پر خوش ہوں کہ اپنی بادشاہی چھوڑ دوں۔ میں اگر غلام ہوتا تو تمہارے ہاتھوں بک جاتا اور تمہاری غلامی میں اپنی پوری زندگی بسر کرتا۔ پھر اس نے ہمیں بہت کچھ تحفے تحائف دے کر اچھی طرح رخصت کیا۔

جب ہم خلیفہ المسلمین امیر المؤمنین ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دربار میں پہنچے اور یہ سارا واقعہ بیان کیا تو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ رو دیئے اور فرمانے لگے: اس مسکین کے ساتھ اللہ کی توفیق رفیق ہوتی تو یہ ایسا کر گزرتا۔ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتلایا ہے کہ نصرانی اور یہودی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف اپنی کتابوں میں برابر پاتے ہیں۔ ۱؎ [دلائل النبوۃ للبیھقی:385/1-390] ‏‏‏‏ یہ روایت امام بیہقی رحمہ اللہ کی کتاب دلائل النبوۃ میں بھی ہے۔ اس کی اسناد بھی خوف و خطر سے خالی ہے۔ { عطاء بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو صفتیں تورات میں ہوں، وہ مجھے بتاؤ تو انہوں نے فرمایا: ہاں واللہ آپ کی صفتیں تورات میں ہیں، جو قرآن میں بھی ہیں کہ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم نے آپ کو گواہ اور خوشخبری سنانے والا اور آگاہ کرنے والا اور ان پڑھوں کو گمراہی سے بچانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ آپ میرے بندے اور رسول ہیں، آپ کا نام متوکل ہے، آپ بدگو اور بدخلق نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو قبض نہ کرے گا جب تک کہ آپ کی وجہ سے لوگوں کی زبان سے «لَا اِلٰہَ اِلّاََ اللہُ» کہلوا کر ٹیڑھے دین کو درست نہ کر دے، بند دلوں کو کھول نہ دے، بہرے کانوں کو سننے والا نہ بنا دے، اندھی آنکھوں کو دیکھتی نہ کر دے۔ } یہ روایت صحیح بخاری شریف میں بھی ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4838] ‏‏‏‏

عطا رحمہ اللہ فرماتے ہیں: پھر میں کعب رحمہ اللہ سے ملا اور ان سے بھی یہی سوال کیا تو انہوں نے بھی یہی جواب دیا۔ ایک حرف کی بھی کمی بیشی دونوں صاحبوں کے بیان میں نہ تھی۔ یہ اور بات ہے کہ آپ نے اپنی لغت میں دونوں کے الفاظ بولے۔ بخاری شریف کی اس روایت میں اس ذکر کے بعد کہ آپ بدخلق نہیں، یہ بھی ہے کہ { آپ بازاروں میں شور و غل کرنے والے نہیں، آپ برائی کے بدلے برائی کرنے والے نہیں بلکہ معافی اور درگزر کرنے والے ہیں۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4838] ‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی حدیث کے ذکر کے بعد ہے کہ سلف کے کلام میں عموماً تورات کا لفظ اہل کتاب کی کتابوں پر بولا جاتا ہے۔ اس کے مشابہ اور بھی روایتیں ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ طبرانی میں { جبیر بن مطعم سے مروی ہے کہ میں تجارت کی غرض سے شام میں گیا۔ وہاں میری ملاقات اہل کتاب کے ایک عالم سے ہوئی۔ اس نے مجھ سے پوچھا کہ نبی تم میں ہوئے ہیں؟ میں نے کہا: ہاں۔ اس نے کہا: اگر تمہیں ان کی صورت دکھائیں تو تم پہچان لو گے؟ میں نے کہا: ضرور! چنانچہ وہ مجھے ایک گھر میں لے گیا جہاں بہت سی صورتیں تھیں لیکن ان میں میری نگاہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی شبیہ نہ آئی، اسی وقت ایک اور عالم آیا۔ ہم سے پوچھا: کیا بات ہے؟ جب اسے ساری بات معلوم ہوئی تو وہ ہمیں اپنے مکان لے گیا۔ وہاں جاتے ہی میری نگاہ آپ کی شبیہ پر پڑی اور میں نے دیکھا کہ گویا کوئی آپ کے پیچھے ہی آپ کو تھامے ہوئے ہے، میں نے یہ دیکھ کر اس سے پوچھا: یہ دوسرے صاحب پیچھے کیسے ہیں؟

{ اس نے جواب دیا کہ جو نبی آیا، اس کے بعد بھی نبی آیا لیکن اس نبی کے بعد کوئی نبی نہیں۔ اس کے پیچھے کا یہ شخص اس کا خلیفہ ہے۔ اب جو میں نے غور سے دیکھا تو وہ بالکل سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی شکل تھی۔ } ۱؎ [طبرانی کبیر:1537:ضعیف] ‏‏‏‏ { امیر المؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ اپنے مؤذن اقرع کو ایک پادری کے پاس بھیجا۔ آپ اسے بلا لائے، امیر المؤمنین نے اس سے پوچھا کہ بتاؤ تم میری صفت اپنی کتابوں میں پاتے ہو؟ اس نے کہا: ہاں۔ کہا کیا؟ اس نے جواب دیا کہ قرن۔ آپ نے کوڑا اٹھا کر فرمایا: قرن کیا ہے؟ اس نے کہا: گویا کہ وہ لوہے کا سینگ ہے، وہ امیر ہے، دین میں بہت سخت۔ فرمایا: اچھا میرے بعد والے کی صفت کیا ہے؟ اس نے کہا کہ خلیفہ تو وہ نیک صالح ہے لیکن اپنے قرابتداروں کو وہ دوسروں پر ترجیح دے گا۔ آپ نے فرمایا: اللہ عثمان پر رحم کرے! تین بار یہ فرمایا، پھر فرمایا: اچھا! ان کے بعد؟ اس نے کہا: لوہے کے ٹکڑے جیسا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ اپنے سر پر رکھ لیا اور افسوس کرنے لگے۔ اس نے کہا: اے امیر المؤمنین! ہوں گے تو وہ نیک خلیفہ لیکن بنائے ہی اس وقت جائیں گے جب تلوار کھچی ہوئی ہو اور خون بہہ رہا ہو۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:4656، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ (‏‏‏‏ابوداؤد) ان کتابوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صفت یہ بھی تھی کہ آپ نیکیوں کا حکم دیں گے، برائیوں سے روکیں گے۔ فی الواقع آپ ایسے ہی تھے۔ کون سی بھلائی ہے جس کا آپ نے حکم نہ دیا ہو؟ کون سی برائی ہے جس سے آپ نے نہ روکا ہو؟ جیسے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”تم جب قرآن کے یہ لفظ سنو کہ اے ایمان والو تو اسی وقت ہمہ تن گوش ہو جاؤ کیونکہ یا تو کسی خیر کا تمہیں حکم کیا جائے گا یا کسی شر سے تمہیں بچایا جائے گا۔ ان میں سب سے زیادہ تاکید اللہ کی وحدانیت کی تھی جس کا حکم برابر ہر نبی کو ہوتا رہا۔“

قرآن شاہد ہے کہ ہر امت کے رسول کو پہلا حکم یہی ملا کہ وہ لوگوں سے کہہ دیں کہ ایک اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ماسوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ مسند احمد میں فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ { جب تم میری کسی حدیث کو سنو جسے تمہارے دل پہچان لیں، تمہارے جسم اس کی قبولیت کے لیے تیار ہو جائیں اور تمہیں یہ معلوم ہو کہ وہ میرے لائق ہے تو میں اس سے بہ نسبت تمہارے زیادہ لائق ہوں اور جب تم میرے نام سے کوئی ایسی بات سنو جس سے تمہارے دل انکار کریں اور تمہارے جسم نفرت کریں اور تم دیکھو کہ وہ تم سے بہت دور ہے۔ پس میں بہ نسبت تمہارے بھی اس سے بہت دور ہوں۔ } ۱؎ [مسند احمد:425/5:حسن] ‏‏‏‏ اس کی سند بہت پکی ہے اسی کی ایک اور روایت میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ { جب تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول کوئی حدیث سنو تو اس کے ساتھ وہ خیال کرو جو خوب راہ والا بہت مبارک اور بہت پرہیزگاری والا ہو۔ } ۱؎ [مسند احمد:122/1:مرسل صحیح] ‏‏‏‏ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صفت بیان ہو رہی ہے کہ آپ کل پاک صاف اور طیب چیزوں کو حلال کرتے ہیں۔ بہت سی چیزیں ان میں ایسی تھیں جنہیں لوگوں نے از خود حرام قرار دے لیا تھا۔ جیسے جانوروں کو بتوں کے نام کر کے نشان ڈال کر انہیں حرام سمجھنا وغیرہ اور خبیث اور گندی چیزیں آپ لوگوں پر حرام کرتے ہیں۔ جیسے سور کا گوشت، سود وغیرہ اور جو حرام چیزیں لوگوں نے از خود حلال کر لی تھیں۔

بعض علماء کا فرمان ہے کہ اللہ کی حلال کردہ چیزیں کھاؤ۔ وہ دین میں بھی ترقی کرتی ہیں اور بدن میں بھی فائدہ پہنچاتی ہیں اور جو چیزیں حرام کر دی ہیں، ان سے بچو کیونکہ ان سے دین کے نقصانات کے علاوہ صحت میں بھی نقصان ہوتا ہے۔ اس آیت کریمہ سے بعض لوگوں نے استدلال کیا ہے کہ چیزوں کی اچھائی برائی دراصل عقلی ہے۔ اس کے بہت سے جواب دیئے گئے ہیں لیکن یہ جگہ اس کے بیان کی نہیں۔ اسی آیت کو زیر نظر رکھ کر بعض اور علماء نے کہا ہے کہ جن چیزوں کا حلال حرام ہونا کسی کو نہ پہنچا ہو اور کوئی آیت یا حدیث اس کے بارے میں نہ ملی ہو تو دیکھنا چاہیئے کہ عرب اسے اچھی چیز سمجھتے ہیں یا اس سے کراہت کرتے ہیں۔ اگر اسے اچھی چیز جان کر استعمال میں لاتے ہیں تو حلال ہے اور اگر بری چیز سمجھ کر نفرت کر کے اسے نہ کھاتے ہوں تو وہ حرام ہے۔ اس اصول میں بھی بہت کچھ گفتگو ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ آپ بہت صاف، آسان اور سہل دین لے کر آئیں گے۔ چنانچہ حدیث شریف میں ہے کہ { میں ایک طرف آسان دین دے کر معبوث کیا گیا ہوں۔ } ۱؎ [مسند احمد:116/6:صحیح] ‏‏‏‏ { سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یمن کا امیر بنا کر بھیجتے ہیں تو فرماتے ہیں: تم دونوں خوش خبری دینا، نفرت نہ دلانا۔ آسانی کرنا، سختی نہ کرنا۔ مل کر رہنا، اختلاف نہ کرنا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:6124] ‏‏‏‏

{ آپ کے صحابی ابوبرزہ اسلمی فرماتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا ہوں اور آپ کی آسانیوں کا خوب مشاہدہ کیا ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:1211] ‏‏‏‏ پہلی امتوں میں بہت سختیاں تھیں لیکن پروردگار عالم نے اس امت سے وہ تمام تنگیاں دور فرما دیں۔ آسان دین اور سہولت والی شریعت انہیں عطا فرمائی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: { میری امت کے دلوں میں جو وسوسے گزریں، ان پر انہیں پکڑ نہیں جب تک کہ زبان سے نہ نکالیں یا عمل نہ لائیں۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:2043] ‏‏‏‏ فرماتے ہیں: { میری امت کی بھول چوک اور غلطی سے اور جو کام ان سے جبراً کرائے جائیں، ان سے اللہ تعالیٰ نے قلم اٹھا لیا ہے۔ } ۱؎ [سنن ابن ماجه:2043، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ یہی وجہ ہے کہ اس امت کو خود اللہ تعالیٰ نے یہ تعلیم فرمائی کہ ’ کہو اے ہمارے پروردگار! تو ہماری بھول چوک پر ہماری پکڑ نہ کر۔ اے ہمارے رب! ہم پر وہ بوجھ نہ لاد جو ہم سے پہلوں پر تھا۔ اے ہمارے رب! ہمیں ہماری طاقت سے زیادہ بوجھل نہ کر۔ ہمیں معاف فرما، ہمیں بخش، ہم پر رحم فرما۔ تو ہی ہمارا کار ساز مولیٰ ہے۔ پس ہمیں کافروں پر مدد عطا فرما۔ ‘ ۱؎ [2-البقرة:286] ‏‏‏‏ صحیح مسلم شریف میں ہے کہ { جب مسلمانوں نے یہ دعائیں کیں تو ہر جملے پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے یہ قبول فرمایا۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:126] ‏‏‏‏ پس جو لوگ اس نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائیں اور آپ کا ادب، عزت کریں اور جو وحی آپ پر اتری ہے، اس نور کی پیروی کریں۔ وہی دنیا و آخرت میں فلاح پانے والے ہیں۔
157۔ 1 یہ آیت بھی اس امر کی وضاحت کے لئے آیت قطعی کی حیثیت رکھتی ہے کہ رسالت محمدیہ پر ایمان لائے بغیر نجات اخروی ممکن نہیں اور ایمان وہی معتبر ہے جس کی تفصیل محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی ہے۔ اس آیت سے بھی تصور ' دیگر مذاہب ' کی جڑ کٹ جاتی ہے۔ 157۔ 2 معروف وہ ہے جسے شریعت نے اچھا اور منکر، وہ ہے جسے شریعت نے برا قرار دیا۔ 157۔ 3 یہ بوجھ اور طوق وہ ہیں جو پچھلی شریعت میں تھے، مثلاً نفس کے بدلے نفس کا قتل ضروری تھا، (دیت یا معافی نہیں تھی۔ یا جس کپڑے کو نجاست لگ جاتی، اسے قطع کرنا ضروری تھا، شریعت اسلامیہ نے اسے صرف دھونے کا حکم دیا ہے۔ جس طرح قصاص میں دیت اور معافی کی اجازت دی وغیرہ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ' مجھے آسان دین حنیفی کے ساتھ بھیجا گیا ہے۔ 157۔ 4 ان آخری الفاظ سے بھی یہ بات واضح ہوتی ہے کہ کامیاب وہی لوگ ہونگے جو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والے اور ان کی پیروی کرنے والے ہوں گے۔ جو رسالت محمدیہ پر ایمان نہیں لائیں گے، وہ کامیاب نہیں نقصان اٹھانے والے اور ناکام ہونگے۔ علاوہ ازیں کامیابی سے مراد بھی آخرت کی کامیابی ہے۔ یہ ممکن ہے کہ کوئی قوم رسالت محمدیہ پر ایمان نہ رکھتی ہو اور اسے دنیاوی خوش حالی و فروانی حاصل ہو۔ جس طرح اس وقت مغربی اور یورپی اور دیگر بعض قوموں کا حال ہے کہ وہ عیسائی یا یہودی یا کافر مشرک ہونے کے باوجود مادی ترقی اور خوش حالی میں ممتاز ہیں، لیکن ان کی یہ ترقی عارضی بطور امتحان و خلاف معمول ہے۔ یہ انکی اخروی کامیابی کی ضمانت یا علامت نہیں۔ اسی طرح (وَاتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ مَعَهٗٓ) 7۔ الاعراف:157) سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ المائدہ کی آیت 15 میں نور سے مراد قرآن مجید ہی ہے۔ اس لیے اس ‏‏نور سے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مراد نہیں ہے۔ ہاں یہ الگ بات ہے کہ آپ کی صفات میں ایک صفت نور بھی ہے۔ جس سے کفرو شرک کی تاریکیاں دور ہوئیں۔ لیکن آپ کے نوری صفت ہونے سے آپ کا نور من نور اللہ ہونا ثابت نہیں ہوسکتا جس طرح اہل بدعت یہ ثابت کرتے ہیں۔
(آیت 157) ➊ { اَلَّذِيْنَ يَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِيَّ الْاُمِّيَّ …:} یعنی اس زمانے میں میری رحمت کے خاص طور پر مستحق وہ لوگ ہیں…۔ (قرطبی) ➋ اس آیت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نو صفات مذکور ہیں اور {الْاُمِّيَّ} (جو پڑھنا لکھنا نہ جانتا ہو) کے لفظ سے یہاں اس طرف اشارہ ہے کہ ان پڑھ ہونے کے باوجود آپ میں جو کمال علم پایا جاتا ہے وہ آپ کا بہت بڑا معجزہ ہے، جو ”علوم نبوت“ قرآن مجید اور احادیث کی شکل میں موجود ہیں انھیں پڑھ کر عرب جیسی ان پڑھ قوم دنیا کی انتہائی تعلیم یافتہ اور مہذب ترین قوموں کی راہنما بن گئی۔ ➌ { الَّذِيْ يَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا …:} اگرچہ یہود و نصاریٰ نے تورات و انجیل میں لفظی اور معنوی تحریف میں کم ہی کسر چھوڑی ہے، خصوصاً مختلف زبانوں کے تراجم میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کے بجائے اس کا ترجمہ کر دیا ہے، حالانکہ نام کا ترجمہ نہیں کیا جاتا، پھر ترجمہ بھی اپنی مرضی کے مطابق کیا ہے اور اصل زبان میں جو کتابیں تھیں وہ ملتی ہی نہیں، تاہم آج بھی تورات و انجیل میں وہ مقامات موجود ہیں جن میں بنی اسرائیل کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی بشارت دی گئی ہے۔ مثال کے طور پر دیکھیے استثناء، باب ۱۸، فقرہ ۱۵ تا ۱۹۔ باب ۳۳، فقرہ ۲۔ متی، باب ۳، فقرہ ۱ تا ۱۲۔ یوحنا، باب ۱، فقرہ ۱۹ تا ۲۲۔ باب ۱۴، فقرہ ۱۵ تا ۱۷ اور ۲۵ تا ۲۷۔ باب ۱۶، فقرہ ۱۲ تا ۱۵۔ علاوہ ازیں دیکھیے تورات کی پانچویں کتاب استثناء، باب ۱۷، فقرہ ۱۴۔ یوحنا، باب ۱۶، فقرہ ۱۲ تا ۱۴۔ ➍ {وَ يُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰتِ …:} یعنی جو طیب چیزیں ان پر ان کے گناہوں کی وجہ سے حرام کر دی گئی تھیں، یا انھوں نے خود انھیں اپنے اوپر حرام کر لیا تھا (جیسے اونٹ کا گوشت اور چربی وغیرہ) وہ انھیں حلال قرار دیتا ہے اور جن ناپاک چیزوں کو انھوں نے حلال قرار دے رکھا تھا (جیسے سور کا گوشت اور شراب وغیرہ) وہ انھیں حرام قرار دیتا ہے۔ معلوم ہوا کہ جو چیز شریعت نے حلال قرار دی ہے وہ طیب ہے اور جو حرام قرار دی ہے وہ خبیث ہے۔ ➎ {وَ يَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ …: ”اِصْرٌ“ } (بوجھ) سے مراد وہ سخت احکام ہیں جو پچھلی شریعت میں تھے، مثلاً نماز صرف عبادت خانوں ہی میں ادا کرنا، شرک کی حد قتل ہی ہونا وغیرہ اور{ ” الْاَغْلٰلَ “} (طوقوں) سے مراد وہ خود ساختہ پابندیاں ہیں جو ان کے علماء نے ان پر لگا رکھی تھیں، یا ان کے عوام نے جو رسوم خود اپنے آپ پر لازم قرار دے رکھی تھیں، مثلاً حائضہ کو کھانے پینے میں الگ کر دینا، اس کی رہائش بھی الگ کر دینا، جیسا کہ مسلمانوں میں نصرانیوں اور ہندوؤں کی دیکھا دیکھی موت کی رسوم تیجا، ساتواں، چالیسواں، پیدائش اور نکاح کی رسوم، مثلاً بچے کی پیدائش پر دروازے پر سِرَس یعنی شَرِینہ کے پتے لٹکانا، زچہ کی چارپائی پر لوہا رکھنا، کھسرے نچانا، ان پر خرچ کرنا، بے اولاد خاتون کو منحوس سمجھ کر گھر میں نہ آنے دینا، نکاح میں سہرا، گانا، مہندی، منگنی کی خود ساختہ رسمیں، اسی طرح نیوندرہ، سلامی اور جہیز وغیرہ جن سے لوگوں کی زندگی دشوار ہو چکی ہے اور جو نہ اللہ کی کتاب میں ہیں نہ سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں۔ اسی طرح اللہ بہتر جانتا ہے کہ پیغمبروں کی گستاخی کرنے والی حتیٰ کہ انھیں قتل تک کر دینے والی اس امت کے احبار و رہبان نے کتنی حلال چیزوں کو حرام اور حرام کو حلال قرار دیا ہو گا اور ختم اور میت بخشوانے وغیرہ کے نام پر لوگوں کا مال کس کس طرح کھایا ہو گا۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ تمام بوجھ اور طوق اتار کر اور وہ تمام پابندیاں توڑ کر اصل اسلام پیش فرمایا جو نہایت سادہ اور آسان ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ أَحَبُّ الدِّيْنِ إِلَی اللّٰهِ الْحَنِيْفِيَّةُ السَّمْحَةُ ] ”اللہ تعالیٰ کو سب سے محبوب آسان حنیفی دین ہے۔“ [ بخاری، الإیمان، باب الدین یسر، قبل ح: ۳۹، تعلیقًا ] اور فرمایا: [ اِنَّ الدِّيْنَ يُسْرٌ ] ”دین آسان ہے۔“ [ بخاری، الإیمان، باب الدین یسر: ۳۹ ] ایک دوسری حدیث ہے: [ لاَ ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ ] [ السلسلۃ الصحیحۃ: ۲۵۰ ] یعنی نہ ابتداءً نقصان پہنچانا جائز ہے نہ بدلے میں نقصان پہنچانا۔ نیز آپ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو ہمیشہ تلقین فرماتے: [ يَسِّرُوْا وَلَا تُعَسِّرُوْا ] ”آسانی کرو، تنگی مت کرو۔“ [ بخاری، الأدب، باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم : یسروا ولا تعسروا: ۶۱۲۵ ] افسوس! مسلمانوں نے بھی اہل کتاب کے نقش قدم پر چلتے ہوئے شریعت کے فرائض کی پابندی کرنا اور منع کر دہ چیزوں سے اجتناب چھوڑ دیا اور اپنی اور اپنے مولویوں اور جاہل عوام کی خود ساختہ رسوم و رواج کے بوجھ اور طوق اپنے اوپر ڈال کر اپنی زندگی کو مشکل میں ڈال دیا۔ وہ حج پر نہیں جاتے مگر قبروں پر عرسوں میں ہزاروں لٹا دیتے ہیں، نماز نہیں پڑھتے مگر مرشدوں کے وظائف پر گھنٹے لگا دیتے ہیں۔ زکوٰۃ و عشر نہیں دیتے مگر میت کے موقع پر دیگوں، ختموں اور مولوی صاحبان پر لاکھوں اڑا دیتے ہیں، نکاح کی رسوم پوری کرنے، جہیز بنانے کے لیے ساری عمر کے لیے مقروض ہو جاتے ہیں مگر لڑکیوں کو ورثہ دینے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ اب اس کی شکایت اللہ کے سوا کس کے سامنے کی جائے۔ ➏ { فَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِهٖ …: } وہ نور جو آپ کے ساتھ اتارا گیا وحی الٰہی ہے جو قرآن و سنت کی صورت میں قیامت تک محفوظ ہے۔ {” اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ “} سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کے بعد آپ کی آمد کا علم ہونے کے باوجود اگر کوئی شخص ایمان نہیں لاتا، خواہ یہودی ہو یا نصرانی یا کوئی اور، وہ ہر گز فلاح نہیں پا سکتا۔ دیکھیے سورۂ بقرہ کی آیت (۶۲) کا حاشیہ(۲)۔
قُلۡ یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنِّیۡ رَسُوۡلُ اللّٰہِ اِلَیۡکُمۡ جَمِیۡعَۨا الَّذِیۡ لَہٗ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ۚ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ یُحۡیٖ وَ یُمِیۡتُ ۪ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہِ النَّبِیِّ الۡاُمِّیِّ الَّذِیۡ یُؤۡمِنُ بِاللّٰہِ وَ کَلِمٰتِہٖ وَ اتَّبِعُوۡہُ لَعَلَّکُمۡ تَہۡتَدُوۡنَ ﴿۱۵۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے محمدؐ، کہو کہ "اے انسانو، میں تم سب کی طرف اُس خدا کا پیغمبر ہوں جو زمین اور آسمانوں کی بادشاہی کا مالک ہے، اُس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے، وہی زندگی بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے، پس ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے بھیجے ہوئے نبی اُمی پر جو اللہ اور اس کے ارشادات کو مانتا ہے، اور پیروی اختیار کرو اُس کی، امید ہے کہ تم راہ راست پا لو گے"
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ کہہ دیجئے کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف اس اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا ہوں، جس کی بادشاہی تمام آسمانوں اور زمین میں ہے اس کے سوا کوئی عبادت کے ﻻئق نہیں وہی زندگی دیتا ہے اور وہی موت دیتا ہے سو اللہ تعالیٰ پر ایمان لاؤ اور اس کے نبی امی پر جو کہ اللہ تعالیٰ پر اور اس کے احکام پر ایمان رکھتے ہیں اور ان کا اتباع کرو تاکہ تم راه پر آجاؤ
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ اے لوگو! میں تم سب کی طرف اس اللہ کا رسول ہوں کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اسی کو ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں جلائے اور مارے تو ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسول بے پڑھے غیب بتانے والے پر کہ اللہ اور اس کی باتوں پر ایمان لاتے ہیں اور ان کی غلامی کرو کہ تم راہ پاؤ،
علامہ محمد حسین نجفی
اے پیغمبر! (لوگوں سے) کہو اے انسانو! میں تم سب کی طرف اس اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں۔ جس کے لیے سارے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے وہی زندہ کرتا ہے وہی مارتا ہے پس اللہ پر ایمان لاؤ۔ اور اس کے نبیِ امی رسول پر۔ جو خود بھی اللہ اور اس کے کلمات (کتابوں) پر ایمان رکھتا ہے اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم ہدایت پاؤ۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے اے لوگو! بے شک میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں، وہ (اللہ) کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی صرف اس کی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے، پس تم اللہ پر اور اس کے رسول نبی امی پر ایمان لاؤ، جو اللہ اور اس کی باتوں پر ایمان رکھتا ہے اور اس کی پیروی کرو، تاکہ تم ہدایت پاؤ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
النبی العالم اور النبی الخاتم صلی اللہ علیہ وسلم ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے نبی و رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم فرماتا ہے کہ تمام عرب، عجم، گوروں، کالوں سے کہہ دو کہ میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں۔ آپ کی شرافت و عظمت ہے کہ آپ خاتم الانبیاء ہیں اور تمام دنیا کے لیے صرف آپ ہی نبی ہیں۔ جیسے فرمان قرآن ہے «قُلِ اللَّـهُ شَهِيدٌ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ وَأُوحِيَ إِلَيَّ هَـٰذَا الْقُرْآنُ لِأُنذِرَكُم بِهِ وَمَن بَلَغَ» ۱؎ [6-الأنعام:19] ‏‏‏‏ یعنی ’ اعلان کر دے کہ مجھ میں اور تم میں اللہ گواہ ہے۔ اس پاک قرآن کی وحی میری جانب اس لیے اتاری گئی ہے کہ میں اس سے تمہیں اور جن لوگوں تک یہ پہنچے سب کو ہوشیار کر دوں۔ ‘ اور آیت میں ہے «وَمَن يَكْفُرْ بِهِ مِنَ الْأَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهُ» ۱؎ [11-هود:17] ‏‏‏‏ یعنی ’ مخلوق کے مختلف گروہ میں سے جو بھی آپ کا انکار کرے، اس کی وعدہ گاہ جہنم ہے۔ ‘ اور آیت میں ہے «وَقُل لِّلَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ وَالْأُمِّيِّينَ أَأَسْلَمْتُمْ فَإِنْ أَسْلَمُوا فَقَدِ اهْتَدَوا وَّإِن تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَاغُ» ۱؎ [3-آل عمران:20] ‏‏‏‏ یعنی ’ اہل کتاب اور غیر اہل کتاب سے کہہ دو کہ کیا تم مانتے ہو؟ اگر تسلیم کر لیں، مسلمان ہو جائیں تو راہ پر ہیں ورنہ تیرے ذمے تو صرف پہنچا دینا ہی ہے۔ ‘ اس مضمون کی اور بھی قرآنی آیتیں بکثرت ہیں اور حدیثیں تو اس بارے میں بےشمار ہیں۔ دین اسلام کی ذرا سی بھی سمجھ جسے ہے، وہ بالیقین جانتا اور مانتا ہے کہ آپ تمام جہان کے لوگوں کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اس آیت کی تفسیر میں صحیح بخاری شریف میں ہے کہ { اتفاق سے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ میں کچھ چشمک ہو گئی۔ سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ نے سیدنا فاروق رضی اللہ عنہ کو ناراض کر دیا۔ سیدنا فاروق رضی اللہ عنہ اسی حالت میں چلے گئے۔ صدیق رضی اللہ عنہ نے درخواست کی کہ آپ معاف فرمائیں اور اللہ سے میرے لیے بخشش چاہیں لیکن عمر رضی اللہ عنہ راضی نہ ہوئے بلکہ کواڑ بند کر لیے۔ آپ لوٹ کر دربار محمدی صلی اللہ علیہ وسلم میں آئے اور اس وقت اور صحابہ رضی اللہ عنہم بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں موجود تھے۔ آپ نے فرمایا: تمہارے اس ساتھی نے انہیں ناراض اور غضبناک کر دیا۔

{ عمر رضی اللہ عنہ صدیق رضی اللہ عنہ کی واپسی کے بعد بہت ہی نادم ہوئے اور اسی وقت دربار رسالت مآب میں حاضر ہو کر تمام بات کہہ سنائی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سخت ناراض ہوئے۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ باربار کہتے جاتے تھے کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! زیادہ ظلم تو مجھ سے سرزد ہوا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم میرے ساتھی کو میری وجہ سے چھوڑتے نہیں؟ سنو! جب میں نے اس آواز حق کو اٹھایا کہ لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا پیغمبر بنا کر بھیجا گیا ہوں تو تم نے کہا: تو جھوٹا ہے لیکن اس ابوبکر نے کہا: آپ سچے ہیں۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4640] ‏‏‏‏ { ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے پانچ چیزیں ایسی دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں۔ یاد رہے کہ میں اسے فخراً نہیں کہتا۔ میں تمام سرخ و سیاہ لوگوں کی جانب بھیجا گیا ہوں اور میری مدد مہینے بھر کے فاصلے سے صرف رعب کے ساتھ کی گئی ہے اور میرے لیے غنیمتوں کے مال حلال کر دیئے گئے ہیں حالانکہ مجھ سے پہلے وہ کسی کے لئے حلال نہیں کئے گئے تھے اور میرے لیے ساری زمین مسجد اور وضو کے لیے حلال کر دی گئی ہے اور مجھے اپنی امت کی شفاعت عطا فرمائی گئی ہے جسے میں نے ان لوگوں کے لیے مخصوص کر رکھا ہے جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں۔ } (‏‏‏‏مسند امام احمد) ۱؎ [مسند احمد:301/1:حسن] ‏‏‏‏ { عمرو بن شعیب اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ غزوہ تبوک والے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تہجد کی نماز کے لیے کھڑے ہوئے، پس بہت سے صحابہ آپ کے پیچھے جمع ہو گئے کہ آپ کی چوکیداری کریں۔ نماز کے بعد آپ ان کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: اس رات مجھے پانچ چیزیں دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے اور کسی کو نہیں دی گئیں۔ میں تمام لوگوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں

{ مجھ سے پہلے کے تمام رسول صرف اپنی اپنی قوم کی طرف ہی نبی بنا کر بھیجے جاتے رہے، مجھے اپنے دشمنوں پر رعب کے ساتھ مدد دی گئی ہے گو وہ مجھ سے مہینے بھر کے فاصلے پر ہوں، وہیں وہ مرعوب ہو جاتے ہیں۔ میرے لیے مال غنیمت حلال کیا گیا حالانکہ مجھ سے پہلے کے لوگ ان کی بہت عظمت کرتے تھے، وہ اس مال کو جلا دیا کرتے تھے اور میرے لیے ساری زمین مسجد اور وضو کی پاک چیز بنادی گئی ہے۔ جہاں کہیں میرے امتی کو نماز کا وقت آ جائے، وہ تیمم کر لے اور نماز ادا کر لے۔ مجھ سے پہلے کے لوگ اس کی عظمت کرتے تھے، سوائے ان جگہوں کے جو نماز کے لیے مخصوص تھیں اور جگہ نماز نہیں پڑھ سکتے تھے اور پانچویں خصوصیت یہ ہے کہ مجھ سے فرمایا گیا: آپ دعا کیجئے، مانگئے کیا مانگتے ہیں؟ ہر نبی مانگ چکا ہے تو میں نے اپنے اس سوال کو قیامت پر اٹھا رکھا ہے پس وہ تم سب کے لیے ہے اور ہر اس شخص کیلئے جو «لا الٰہ الا اللہ» کی گواہی دے۔ } ۱؎ [مسند احمد:222/2:صحیح] ‏‏‏‏

اس کی اسناد بہت پختہ ہے اور مسند احمد میں یہ حدیث موجود ہے۔ مسند کی اور حدیث میں ہے کہ { میری امت میں سے جس یہودی یا نصرانی کے کان میں میرا ذکر پڑے اور وہ مجھ پر ایمان نہ لائے، وہ جنت میں نہیں جا سکتا۔ } ۱؎ [مسند احمد:398/4:صحیح لغیرہ] ‏‏‏‏ یہ حدیث اور سند سے صحیح مسلم شریف میں بھی ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:153] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے کہ { اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میرا ذکر اس امت کے جس یہودی، نصرانی کے پاس پہنچے اور وہ مجھ پر اور میری وحی پر ایمان نہ لائے اور مر جائے، وہ جہنمی ہے۔ } ۱؎ [مسند احمد:350/2:صحیح] ‏‏‏‏ مسند کی ایک اور حدیث میں آپ نے ان پانچوں چیزوں کا ذکر فرمایا جو صرف آپ کو ہی ملی ہیں۔ پھر فرمایا: { ہر نبی نے شفاعت کا سوال کر لیا ہے اور میں نے اپنے سوال کو چھپا رکھا ہے اور ان کے لیے اٹھا رکھا ہے جو میری امت میں سے توحید پر مرے۔ } ۱؎ [مسند احمد:416/4:صحیح] ‏‏‏‏ یہ حدیث سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے بخاری و مسلم میں بھی موجود ہے کہ { مجھے پانچ چیزیں دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کے انبیاء کو نہیں دی گئیں۔ مہینے بھر کی مسافت تک رعب سے امداد و نصرت، ساری زمین کا مسجد و طہور ہونا کہ میری امت کو جہاں وقت نماز آ جائے، ادا کر لے۔ غنیمتوں کا حلال کیا جانا جو پہلے کسی کے لیے حلال نہ تھیں۔ شفاعت کا دیا جانا۔ تمام لوگوں کی طرف مبعوث کیا جانا حالانکہ پہلے انبیاء صرف اپنی قوم کی طرف ہی بھیجے جاتے تھے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:335] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے کہ کہو، مجھے اس اللہ نے بھیجا ہے جو زمین و آسمان کا بادشاہ ہے، سب چیزوں کا خالق، مالک ہے۔ جس کے ہاتھ میں ملک ہے، جو مارنے، جلانے پر قادر ہے۔ جس کا حکم چلتا ہے۔ پس اے لوگو! تم اللہ پر اور اس کے رسول و نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاؤ جو ان پڑھ ہونے کے باوجود دنیا کو پڑھا رہے ہیں۔ انہی کا تم سے وعدہ تھا اور ان ہی کی بشارت تمہاری کتابوں میں بھی ہے، انہی کی صفتیں اگلی کتابوں میں ہیں۔ یہ خود اللہ کی ذات پر اور اس کے کلمات پر ایمان رکھتے ہیں۔ قول و فعل سب میں اللہ کے کلام کے مطیع ہیں۔ تم سب ان کے ماتحت اور فرمانبردار ہو جاؤ۔ انہی کے طریقے پر چلو، انہی کی فرمانبرداری کرو، تم راہ راست پر آ جاؤ گے۔
158۔ 1 یہ آیت بھی رسالت محمدیہ کی عالمگیر رسالت کے اثبات میں بالکل واضح ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہہ دیجئے کہ اے کائنات کے انسانو! میں سب کی طرف اللہ کا رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ یوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پوری بنی نوع انسانی کے نجات دہندہ اور رسول ہیں۔ اب نجات اور ہدایت نہ عیسائت میں ہے نہ یہودیت میں، نہ کسی اور مذ ہب میں، نجات اور ہدایت اگر ہے تو صرف اسلام کے اپنانے اور اسے ہی اختیار کرنے میں ہے اس آیت میں بھی اور اس سے پہلی آیت میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو النبی الأمی کہا گیا ہے۔ یہ آپ کی ایک خاص صفت ہے۔ امی کے معنی ہیں ان پڑھ۔ یعنی آپ نے کسی استاد کے سامنے زانو بطور شاگرد نہیں کئے کسی سے کسی قسم کی تعلیم حاصل نہیں کی۔ لیکن اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم پیش کیا، اس کے اعجاز و بلاغت کے سامنے دنیا بھر کے خوش بیان عالم فاضل عاجز آگئے اور آپ نے جو تعلیمات پیش کیں، ان کی صداقت و حقانیت کی ایک دنیا اعتراف کرتی ہے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ آپ واقع اللہ کے سچے رسول ہیں ورنہ ایک ان پڑھ نہ ایسا قرآن پیش کرسکتا ہے اور نہ ہی ایسی تعلیمات بیان کرسکتا ہے جو عدل و انصاف کا بہترین نمونہ اور انسانیت کی فلاح و کامرانی کے لئے ناگزیر ہیں، انہیں اپنائے بغیر دنیا حقیقی امن سکون اور راحت و عافیت سے ہمکنار نہیں ہوسکتی۔
(آیت 158) ➊ {قُلْ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعًا …:} یعنی میری رسالت تمام دنیا کے لوگوں کے لیے اور قیامت تک کے لیے ہے۔{ ” جَمِيْعًا “ } کے مفہوم میں یہ دونوں باتیں صاف ظاہر ہیں اور مجھے ہدایت کا پیغام پہنچانے کے لیے بھیجنے والا وہ ہے جو آسمان و زمین کا بادشاہ، اکیلا عبادت کا حق دار اور موت و حیات کا مالک ہے۔ اب مجھ پر ایمان نہ لانے کی صورت میں اپنا انجام سوچ لو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تاقیامت تمام قوموں کے لیے رسول ہونے کا ذکر اللہ تعالیٰ نے کئی مقامات پر کیا ہے۔ دیکھیے سورۂ سبا (۲۸)، فرقان (۱) اور احزاب (۴۰)۔ ”جہاں تک پہنچے“ کے الفاظ کے ساتھ رسالت عام ہونے کی تصریح کے لیے دیکھیے سورۂ انعام (۱۹) عرب اور اہل کتاب کی صراحت کے ساتھ دیکھیے سورۂ آل عمران (۲۰) اور دوسری آیات۔ ➋ {فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهِ …:} پچھلی آیت میں اور اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصف نبی اُمی کا خاص ذکر فرمایا ہے اور قرآن مجید میں کئی مقامات پر نبوت سے پہلے آپ کے ان پڑھ ہونے اور پہلی کتابوں اور ایمان کی حقیقت سے بالکل بے خبر ہونے کو کئی جگہ بیان فرمایا ہے، چنانچہ فرمایا: ”آپ اس سے پہلے نہ لکھنا جانتے تھے نہ پڑھنا۔“ [ العنکبوت: ۴۸ ] اور فرمایا: ”یہ غیب کی خبروں سے ہے۔ اس سے پہلے انھیں نہ آپ جانتے تھے، نہ آپ کی قوم۔“ [ ھود: ۴۹ ] اور فرمایا: ”آپ وحی سے پہلے نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور نہ یہ کہ ایمان کیا ہے۔“ [ الشوریٰ: ۵۲ ] بلکہ فرمایا: ”آپ کو امید تک نہ تھی کہ آپ کو کتاب عطا کی جائے گی۔“ [ القصص: ۸۶ ] کئی لوگوں پر تعجب ہوتا ہے کہ وہ قرآن کو مانتے ہیں پھر بھی کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہونے سے بھی پہلے ہر چیز کا علم رکھتے تھے، پھر آپ کا خاص وصف امی کیا ہوا کہ ایک بالکل ان پڑھ شخص دنیا کے تمام پڑھے لکھے، دانشور، فلسفی اور دوسرے علوم میں کمال رکھنے والوں کا استاد بن گیا۔ ➌ { يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ كَلِمٰتِهٖ:} اللہ تعالیٰ کے کلمات کے لامحدود ہونے کا تذکرہ دیکھیے سورۂ کہف (۱۰۹) اور لقمان (۲۷) میں۔ ➍ { لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ:} معلوم ہوا اب ہدایت صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے اور آپ کی پیروی میں ہے اور وہ یہ ہے کہ زندگی (انفرادی ہو یا اجتماعی اس) کے ہر گوشہ میں آپ ہی کی ہدایت اور نقش قدم پر چلا جائے، اس کے علاوہ ہدایت کا کوئی راستہ نہیں۔ دیکھیے سورۂ نجم (۳، ۴)۔
وَ مِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰۤی اُمَّۃٌ یَّہۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ وَ بِہٖ یَعۡدِلُوۡنَ ﴿۱۵۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
موسیٰؑ کی قوم میں ایک گروہ ایسا بھی تھا جو حق کے مطابق ہدایت کرتا اور حق ہی کے مطابق انصاف کرتا تھا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور قوم موسیٰ میں ایک جماعت ایسی بھی ہے جو حق کے مطابق ہدایت کرتی ہے اور اسی کے مطابق انصاف بھی کرتی ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور موسیٰ کی قوم سے ایک گروہ ہے کہ حق کی راہ بتا تا اور اسی سے انصاف کرتا،
علامہ محمد حسین نجفی
اور موسیٰ کی قوم میں سے ایک گروہ ایسا بھی ہے جو لوگوں کو حق کے راستہ پر چلاتا ہے اور حق کے ساتھ منصفانہ فیصلہ کرتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور موسیٰ کی قوم میں سے کچھ لوگ ہیں جو حق کے ساتھ رہنمائی کرتے اور اسی کے ساتھ انصاف کرتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انبیاء کا قاتل گروہ ٭٭

اللہ تعالیٰ خبر دیتے ہیں کہ امت موسیٰ میں بھی ایک گروہ حق کا ماننے والا ہے۔ جیسے فرمان ہے «مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ أُمَّةٌ قَائِمَةٌ يَتْلُونَ آيَاتِ اللَّـهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَهُمْ يَسْجُدُونَ» ۱؎ [3-آل عمران:113] ‏‏‏‏ ’ اہل کتاب میں سے ایک جماعت حق پر قائم ہے، راتوں کو اللہ کے کلام کی تلاوت کرتی رہتی ہے اور برابر سجدے کیا کرتی ہے۔ ‘ اور آیت میں ہے «وَإِنَّ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَمَن يُؤْمِنُ بِاللَّـهِ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْكُمْ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْهِمْ خَاشِعِينَ لِلَّـهِ لَا يَشْتَرُونَ بِآيَاتِ اللَّـهِ ثَمَنًا قَلِيلًا أُولَـٰئِكَ لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ إِنَّ اللَّـهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ» ۱؎ [3-آل عمران:199] ‏‏‏‏ یعنی ’ اہل کتاب میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ پر اور اس پر جو تمہاری طرف نازل کیا گیا ہے اور اس پر جو ان کی طرف اتارا گیا ہے، ایمان لاتے ہیں، اللہ سے ڈرتے رہتے ہیں۔ اللہ کی باتوں کو دنیوی نفع کی خاطر فروخت نہیں کرتے۔ ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے۔ اللہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔ ‘ اور آیت میں ہے «الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ مِن قَبْلِهِ هُم بِهِ يُؤْمِنُونَ وَإِذَا يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ قَالُوا آمَنَّا بِهِ إِنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّنَا إِنَّا كُنَّا مِن قَبْلِهِ مُسْلِمِينَ أُولَـٰئِكَ يُؤْتَوْنَ أَجْرَهُم مَّرَّتَيْنِ بِمَا صَبَرُوا وَيَدْرَءُونَ بِالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ» ۱؎ [28-القصص:52-54] ‏‏‏‏ ’ جنہیں ہم نے اس قرآن سے پہلے اپنی کتاب دی ہے، وہ اس قرآن پر ایمان لاتے ہیں اور اس کی آیتیں سن کر اپنے ایمان کا اور اس کی حقانیت کا اعلان کرتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ ام اس سے پہلے ہی مسلمان تھے۔ انہیں ان کے صبر کا اجر ہے۔ ‘ اور آیت میں ہے «الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَتْلُونَهُ حَقَّ تِلَاوَتِهِ أُولَـٰئِكَ يُؤْمِنُونَ بِهِ» ۱؎ [2-البقرة:121] ‏‏‏‏ ’ جو لوگ ہماری کتاب پائے ہوئے ہیں اور اسے حق تلاوت کی ادائیگی کے ساتھ پڑھتے ہیں وہ اس قرآن پر بھی ایمان رکھتے ہیں۔ ‘ اور فرمان ہے «قُلْ آمِنُوا بِهِ أَوْ لَا تُؤْمِنُوا إِنَّ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ مِن قَبْلِهِ إِذَا يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ يَخِرُّونَ لِلْأَذْقَانِ سُجَّدًا وَيَقُولُونَ سُبْحَانَ رَبِّنَا إِن كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُولًا وَيَخِرُّونَ لِلْأَذْقَانِ يَبْكُونَ وَيَزِيدُهُمْ خُشُوعًا ۩» ۱؎ [17-الإسراء:107-109] ‏‏‏‏ ’ جو لوگ پہلے علم دیئے گئے ہیں، وہ ہمارے پاک قرآن کی آیتیں سن کر سجدوں میں گر پڑتے ہیں۔ ہماری پاکیزگی کا اظہار کر کے ہمارے وعدوں کی سچائی بیان کرتے ہیں۔ اپنی ٹھوڑیوں کے بل روتے ہوئے سجدے کرتے ہیں اور عاجزی اور اللہ سے خوف کھانے میں سبقت لے جاتے ہیں۔ ‘ امام ابن جریر نے اپنی تفسیر میں اس جگہ ایک عجیب خبر لکھی ہے کہ ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب بنی اسرائیل نے کفر کیا اور اپنے نبیوں کو قتل کیا، ان کے بارہ گروہ تھے۔ ان میں سے ایک گروہ اس نالائق گروہ سے الگ رہا۔ اللہ تعالیٰ سے معذورت کی اور دعا کی کہ ان میں اور ان گیارہ گروہوں میں وہ تفریق کر دے۔ چنانچہ زمین میں ایک سرنگ ہو گئی۔ یہ اس میں چلے گئے اور چین کے پرلے پار نکل گئے۔ وہاں پر سچے سیدھے مسلمان انہیں ملے جو ہمارے قبلہ کی طرف نمازیں پڑھتے تھے۔ کہتے ہیں کہ آیت «وَقُلْنَا مِن بَعْدِهِ لِبَنِي إِسْرَائِيلَ اسْكُنُوا الْأَرْضَ فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ الْآخِرَةِ جِئْنَا بِكُمْ لَفِيفًا» ۱؎ [17-الإسراء:104] ‏‏‏‏ کا یہی مطلب ہے۔ اس آیت میں جس دوسرے وعدے کا ذکر ہے، یہ آخرت کا وعدہ ہے۔ کہتے ہیں: اس سرنگ میں ڈیڑھ سال تک وہ چلتے رہے۔ کہتے ہیں: اس قوم کے اور تمہارے درمیان ایک نہر ہے
159۔ 1 اس سے مراد وہی چند لوگ ہیں جو مسلمان ہوگئے تھے، عبد اللہ بن سلام وغیرہ۔
(آیت 159) {وَ مِنْ قَوْمِ مُوْسٰۤى اُمَّةٌ …:} اس سے مراد وہ یہودی ہیں جو تورات پر قائم رہے اور وہ جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد پر آپ پر ایمان لے آئے، جیسے عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی۔
وَ قَطَّعۡنٰہُمُ اثۡنَتَیۡ عَشۡرَۃَ اَسۡبَاطًا اُمَمًا ؕ وَ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلٰی مُوۡسٰۤی اِذِ اسۡتَسۡقٰىہُ قَوۡمُہٗۤ اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاکَ الۡحَجَرَ ۚ فَانۡۢبَجَسَتۡ مِنۡہُ اثۡنَتَا عَشۡرَۃَ عَیۡنًا ؕ قَدۡ عَلِمَ کُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَہُمۡ ؕ وَ ظَلَّلۡنَا عَلَیۡہِمُ الۡغَمَامَ وَ اَنۡزَلۡنَا عَلَیۡہِمُ الۡمَنَّ وَ السَّلۡوٰی ؕ کُلُوۡا مِنۡ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقۡنٰکُمۡ ؕ وَ مَا ظَلَمُوۡنَا وَ لٰکِنۡ کَانُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ یَظۡلِمُوۡنَ ﴿۱۶۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور ہم نے اس قوم کو بارہ گھرانوں میں تقسیم کر کے انہیں مستقل گروہوں کی شکل دے دی تھی اور جب موسیٰؑ سے اس کی قوم نے پانی مانگا تو ہم نے اس کو اشارہ کیا کہ فلاں چٹان پر اپنی لاٹھی مارو چنانچہ اس چٹان سے یکایک بارہ چشمے پھوٹ نکلے اور ہر گروہ نے اپنے پانی لینے کی جگہ متعین کر لی ہم نے اُن پر بادل کا سایہ کیا اور اُن پر من و سلویٰ اتارا کھاؤ وہ پاک چیزیں جو ہم نے تم کو بخشی ہیں مگر اس کے بعد انہوں نے جو کچھ کیا تو ہم پر ظلم نہیں کیا بلکہ آپ اپنے ہی اوپر ظلم کرتے رہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہم نے ان کو باره خاندانوں میں تقسیم کرکے سب کی الگ الگ جماعت مقرر کر دی اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا جب کہ ان کی قوم نے ان سے پانی مانگا کہ اپنے عصا کو فلاں پتھر پر مارو پس فوراً اس سے باره چشمے پھوٹ نکلے۔ ہر ہر شخص نے اپنے پانی پینے کا موقع معلوم کر لیا۔ اور ہم نے ان پر ابر کو سایہ فگن کیا اور ان کو من وسلوی (ترنجبین اور بٹیریں) پہنچائیں، کھاؤ نفیس چیزوں سے جو کہ ہم نے تم کو دی ہیں اور انہوں نے ہمارا کوئی نقصان نہیں کیا لیکن اپنا ہی نقصان کرتے تھے
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم نے انہیں بانٹ دیا بارہ قبیلے گروہ گروہ، اور ہم نے وحی بھیجی موسیٰ کو جب اس سے اس کی قوم نے پانی ما نگا کہ اس پتھر پر اپنا عصا مارو تو اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے ہر گروہ نے اپنا گھاٹ پہچان لیا، اور ہم نے ان پر ابر کا سائبان کیا اور ان پر من و سلویٰ اتارا، کھاؤ ہماری دی ہوئی پاک چیزیں اور انہوں نے ہمارا کچھ نقصان نہ کیا لیکن اپنی ہی جانوں کا برا کرتے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے ان (بنی اسرائیل) کو بارہ خاندانوں کے بارہ گروہوں میں تقسیم کر دیا اور ہم نے موسیٰ کو وحی کی جب ان کی قوم نے ان سے پینے کے لیے پانی مانگا کہ ایک (خاص) چٹان پر اپنی لاٹھی مارو۔ چنانچہ اس سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے۔ اور ہر گروہ نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کر لیا اور ہم نے ان پر ابر کا سایہ کیا اور (غذا کے لیے) ان پر من و سلویٰ نازل کیا (اور ان سے کہا) کھاؤ ان پاک اور پسندیدہ چیزوں میں سے جو ہم نے تمہیں عطا کی ہیں۔ انہوں نے (نافرمانی و ناشکری کرکے) ہم پر ظلم نہیں کیا بلکہ اپنے ہی اوپر ظلم و زیادتی کرتے رہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے انھیں بارہ قبیلوں میں تقسیم کر دیا، جو کئی گروہ تھے اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی، جب اس کی قوم نے اس سے پانی مانگا کہ اپنی لاٹھی اس پتھر پر مار تو اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے، بلاشبہ سب لوگوں نے اپنی پانی پینے کی جگہ معلوم کر لی اور ہم نے ان پر بادل کا سایہ کیا اور ان پر من اور سلویٰ اتارا، کھائو ان پاک چیزوں میں سے جو ہم نے تمھیں عطا کیں اور انھوں نے ہم پر ظلم نہیں کیا اور لیکن وہ اپنے آپ ہی پر ظلم کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یہ سب آیتیں سورۃ البقرہ میں گزر چکی ہیں اور وہیں ان کی پوری تفسیر بھی بحمد اللہ ہم نے بیان کر دی ہے۔ وہ سورت مدنیہ ہے اور یہ مکیہ ہے۔ ان آیتوں اور ان آیتوں کا فرق بھی مع لطافت کے، ہم نے وہیں ذکر کر دیا ہے۔ دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔
160۔ 1 اَسْبَا ط، سِبْط، ُ کی جمع ہے۔ بمعنی پوتا یہاں اسباط قبائل کے معنی میں ہیں۔ یعنی حضرت یعقوب ؑ کے بارہ بیٹوں سے بارہ قبیلے معرض وجود میں آئے ہر قبیلے میں اللہ تعالیٰ نے ایک ایک نقیب (نگران) بھی مقرر فرمادیا یہاں پر اللہ تعالیٰ ان بارہ قبیلوں کی بعض بعض صفات میں ایک دوسرے سے ممتاز ہونے کی بنا پر ان کے الگ الگ گروہ ہونے کو بطور احسان کے ذکر فرما رہا ہے۔
(آیت 160تا162) ➊ { وَ قَطَّعْنٰهُمُ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ اَسْبَاطًا اُمَمًا:اَسْبَاطًا “} یہ {” سِبْطٌ“ } کی جمع ہے جس کا معنی اولاد کی اولاد ہے۔ یعقوب علیہ السلام کے بارہ بیٹوں سے بارہ قبائل وجود میں آئے۔ اپنے الگ الگ اوصاف کی وجہ سے ہر قبیلے نے اپنا الگ وجود برقرار رکھا، اللہ تعالیٰ نے ہر قبیلے پر ایک نقیب مقرر فرمایا: «{ وَ بَعَثْنَا مِنْهُمُ اثْنَيْ عَشَرَ نَقِيْبًا }» [ المائدۃ: ۱۲ ] ”اور ہم نے ان میں سے بارہ سردارمقرر کیے۔“ {” اُمَمًا “} سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ تعداد میں بہت بڑھ گئے۔ ➋ اس آیت میں {” فَانْۢبَجَسَتْ “} اور سورۂ بقرہ میں {” فَانْفَجَرَتْ “} ہے۔ راغب اصفہانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ{ ”اِنْبَجَسَ“} اکثر اس کے متعلق کہا جاتا ہے جو تنگ چیز سے نکلے اور{ ”اِنْفَجَرَ“} اس معنی میں بھی آتا ہے اور اس کے متعلق بھی جو کھلی چیز سے نکلے۔ (مفردات) ان آیات کی مفصل تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۵۸ تا ۶۰)۔
وَ اِذۡ قِیۡلَ لَہُمُ اسۡکُنُوۡا ہٰذِہِ الۡقَرۡیَۃَ وَ کُلُوۡا مِنۡہَا حَیۡثُ شِئۡتُمۡ وَ قُوۡلُوۡا حِطَّۃٌ وَّ ادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا نَّغۡفِرۡ لَکُمۡ خَطِیۡٓـٰٔتِکُمۡ ؕ سَنَزِیۡدُ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۱۶۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یاد کرو وہ وقت جب ان سے کہا گیا تھا کہ اِس بستی میں جا کر بس جاؤ اور اس کی پیداوار سے حسب منشا روزی حاصل کرو اور حطۃ حطۃ کہتے جاؤ اور شہر کے دروازے میں سجدہ ریز ہوتے ہوئے داخل ہو، ہم تمہاری خطائیں معاف کریں گے اور نیک رویہ رکھنے والوں کو مزید فضل سے نوازیں گے"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جب ان کو حکم دیا گیا کہ تم لوگ اس آبادی میں جاکر رہو اور کھاؤ اس سے جس جگہ تم رغبت کرو اور زبان سے یہ کہتے جانا کہ توبہ ہے اور جھکے جھکے دروازه میں داخل ہونا ہم تمہاری خطائیں معاف کردیں گے۔ جو لوگ نیک کام کریں گے ان کو مزید برآں اور دیں گے
احمد رضا خان بریلوی
اور یاد کرو جب ان سے فرمایا گیا اس شہر میں بسو اور اس میں جو چاہو کھاؤ اور کہو گناہ اترے اور دروازے میں سجدہ کرتے داخل ہو ہم تمہارے گناہ بخش دیں گے، عنقریب نیکوں کو زیادہ عطا فرمائیں گے،
علامہ محمد حسین نجفی
(وہ وقت یاد کرو) جب ان (بنی اسرائیل) سے کہا گیا کہ اس گاؤں میں جاکر آباد ہو جاؤ اور وہاں جہاں سے تمہارا جی چاہے (غذا حاصل کرکے) کھاؤ اور حطۃ حطۃ کہتے ہوئے سجدہ ریز ہوکر (عاجزی سے جھکے ہوئے) شہر کے دروازہ میں داخل ہو جاؤ۔ تو ہم تمہاری خطائیں معاف کر دیں گے۔ اور جو نیک کردار ہیں ان کو مزید اجر سے نوازیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب ان سے کہا گیا اس بستی میں رہو اور اس میں سے جہاں چاہو کھائو اور کہو بخش دے اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو تو ہم تمھارے لیے تمھاری خطائیں معاف کر دیں گے، عنقریب ہم نیکی کرنے والوں کو زیادہ دیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یہ سب آیتیں سورۃ البقرہ میں گزر چکی ہیں اور وہیں ان کی پوری تفسیر بھی بحمد اللہ ہم نے بیان کر دی ہے۔ وہ سورت مدنیہ ہے اور یہ مکیہ ہے۔ ان آیتوں اور ان آیتوں کا فرق بھی مع لطافت کے، ہم نے وہیں ذکر کر دیا ہے۔ دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
فَبَدَّلَ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡہُمۡ قَوۡلًا غَیۡرَ الَّذِیۡ قِیۡلَ لَہُمۡ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَیۡہِمۡ رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا کَانُوۡا یَظۡلِمُوۡنَ ﴿۱۶۲﴾٪
سید ابو الاعلیٰ مودودی
مگر جو لوگ اُن میں سے ظالم تھے اُنہوں نے اُس بات کو جو اُن سے کہی گئی تھی بدل ڈالا، اور نتیجہ یہ ہوا کہ ہم نے ان کے ظلم کی پاداش میں ان پر آسمان سے عذاب بھیج دیا
مولانا محمد جوناگڑھی
سو بدل ڈاﻻ ان ﻇالموں نے ایک اور کلمہ جو خلاف تھا اس کلمہ کے جس کی ان سے فرمائش کی گئی تھی، اس پر ہم نے ان پر ایک آفت سماوی بھیجی اس وجہ سے کہ وه حکم کو ضائع کرتے تھے
احمد رضا خان بریلوی
تو ان میں کے ظالموں نے بات بدل دی اس کے خلاف جس کا انہیں حکم تھا تو ہم نے ان پر آسمان سے عذاب بھیجا بدلہ ان کے ظلم کا
علامہ محمد حسین نجفی
مگر ان میں سے جو ظالم تھے انہوں نے وہ کلمہ بدل دیا ایسے کلمہ سے جو مختلف تھا اس کلمہ سے جو ان سے کہا گیا تھا (اور حطۃ کی جگہ حنطہ حنطہ کہنا شروع کیا، ان کی اس روش کا نتیجہ یہ نکلا کہ) ہم نے آسمان سے ان پر عذاب بھیجا۔ اس ظلم کی وجہ سے جو وہ کیا کرتے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
تو ان میں سے جنھوں نے ظلم کیا، انھوں نے بات کو اس کے خلاف بدل دیا جو ان سے کہی گئی تھی، تو ہم نے ان پر آسمان سے ایک عذاب بھیجا، اس وجہ سے کہ وہ ظلم کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یہ سب آیتیں سورۃ البقرہ میں گزر چکی ہیں اور وہیں ان کی پوری تفسیر بھی بحمد اللہ ہم نے بیان کر دی ہے۔ وہ سورت مدنیہ ہے اور یہ مکیہ ہے۔ ان آیتوں اور ان آیتوں کا فرق بھی مع لطافت کے، ہم نے وہیں ذکر کر دیا ہے۔ دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔
162۔ 1 160 تا 162 آیات میں جو باتیں بیان کی گئی ہیں، یہ وہ ہیں جو پارہ الم، سورة بقرہ کے آغاز میں بیان کی گئی ہیں۔ وہاں ان کی تفصیل ملاحظہ فرمائی جائے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَ سۡـَٔلۡہُمۡ عَنِ الۡقَرۡیَۃِ الَّتِیۡ کَانَتۡ حَاضِرَۃَ الۡبَحۡرِ ۘ اِذۡ یَعۡدُوۡنَ فِی السَّبۡتِ اِذۡ تَاۡتِیۡہِمۡ حِیۡتَانُہُمۡ یَوۡمَ سَبۡتِہِمۡ شُرَّعًا وَّ یَوۡمَ لَا یَسۡبِتُوۡنَ ۙ لَا تَاۡتِیۡہِمۡ ۚۛ کَذٰلِکَ ۚۛ نَبۡلُوۡہُمۡ بِمَا کَانُوۡا یَفۡسُقُوۡنَ ﴿۱۶۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور ذرا اِن سے اُ س بستی کا حال بھی پوچھو جو سمندر کے کنارے واقع تھی اِنہیں یاد دلاؤ وہ واقعہ کہ وہاں کے لوگ سبت (ہفتہ) کے دن احکام الٰہی کی خلاف ورزی کرتے تھے اور یہ کہ مچھلیاں سبت ہی کے دن ابھر ابھر کر سطح پر اُن کے سامنے آتی تھیں اور سبت کے سوا باقی دنوں میں نہیں آتی تھیں یہ اس لیے ہوتا تھا کہ ہم ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے ان کو آزمائش میں ڈال رہے تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور آپ ان لوگوں سے، اس بستی والوں کا جو کہ دریائے (شور) کے قریب آباد تھے اس وقت کا حال پوچھئے! جب کہ وه ہفتہ کے بارے میں حد سے نکل رہے تھے جب کہ ان کے ہفتہ کے روز تو ان کی مچھلیاں ﻇاہر ہو ہو کر ان کے سامنے آتی تھیں، اور جب ہفتہ کا دن نہ ہوتا تو ان کے سامنے نہ آتی تھیں، ہم ان کی اس طرح پر آزمائش کرتے تھے اس سبب سے کہ وه بےحکمی کیا کرتے تھے
احمد رضا خان بریلوی
اور ان سے حال پوچھو اس بستی کا کہ دریا کنارے تھی جب وہ ہفتے کے بارے میں حد سے بڑھتے جب ہفتے کے دن ان کی مچھلیاں پانی پر تیرتی ان کے سامنے آتیں اور جو دن ہفتے کا نہ ہوتا نہ آتیں اس طرح ہم انہیں آزمانتے تھے ان کی بے حکمی کے سبب،
علامہ محمد حسین نجفی
اور (اے پیغمبر) ان سے اس بستی کا حال پوچھو جو سمندر کے کنارے واقع تھی۔ جبکہ وہ (بنی اسرائیل) ہفتہ کے دن خدا کی مقرر کردہ حد سے باہر ہو جاتے تھے۔ جبکہ ہفتہ کے دن مچھلیاں ابھر ابھر کر سطح آب پر تیرتی ہوئی آجاتی تھیں اور جس دن ہفتہ نہیں ہوتا ہے (باقی دنوں میں) تو نہیں آتی تھیں۔ ان کی نافرمانی کی وجہ سے جو وہ کیا کرتے تھے اس طرح ہم ان کی آزمائش کرتے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ان سے اس بستی کے بارے پوچھ جو سمندر کے کنارے پر تھی، جب وہ ہفتے کے دن میں حد سے تجاوز کرتے تھے، جب ان کی مچھلیاں ان کے ہفتے کے دن سر اٹھائے ہوئے ان کے پاس آتیں اور جس دن ان کا ہفتہ نہ ہوتا وہ ان کے پاس نہ آتی تھیں، اس طرح ہم ان کی آزمائش کرتے تھے، اس وجہ سے کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تصدیق رسالت سے گریزاں یھودی علماء ٭٭

پہلے آیت «وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ الَّذِينَ اعْتَدَوْا مِنكُمْ فِي السَّبْتِ فَقُلْنَا لَهُمْ كُونُوا قِرَدَةً خَاسِئِينَ» ۱؎ [2-البقرة:65] ‏‏‏‏ گزر چکی ہے، اسی واقعہ کا تفصیلی بیان اس آیت میں ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلوات اللہ و سلامہ علیہ کو حکم دیتا ہے کہ آپ اپنے زمانے کے یہودیوں سے ان کے پہلے باپ دادوں کی بابت سوال کیجئے، جنہوں نے اللہ کے فرمان کی مخالفت کی تھی۔ پس ان کی سرکشی اور حیلہ جوئی کی وجہ سے ہماری اچانک پکڑ ان پر مسلط ہوئی۔ اس واقعہ کو یاد دلا تاکہ یہ بھی میری ناگہانی سزا سے ڈر کر اپنی اس ملعون صفت کو بدل دیں اور آپ کے جو اوصاف ان کی کتابوں میں ہیں، انہیں نہ چھپائیں۔ ایسا نہ ہو کہ ان کی طرح ان پر بھی ہمارے عذاب بے خبری میں برس پڑیں۔ ان لوگوں کی یہ بستی بحر قلزم کے کنارے واقع تھی جس کا نام آیلہ تھا۔ مدین اور طور کے درمیان یہ شہر تھا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس بستی کا نام مدین تھا۔ ایک قول یہ ہے کہ اس کا نام معتا تھا۔ یہ مدین اور عینونا کے درمیان تھا۔ انہیں حکم ملا کہ یہ ہفتہ کے دن کی حرمت کریں اور اس دن شکار نہ کریں، مچھلی نہ پکڑیں۔ ادھر مچھلیوں کی بحکم الٰہی یہ حالت ہوئی کہ ہفتے والے دن تو چڑھی چلی آتیں، کھلم کھلا ہاتھ لگتیں، تیرتی پھرتیں، سب طرف سے سمٹ کر آ جاتیں اور جب ہفتہ نہ ہوتا، ایک مچھلی بھی نظر نہ آتی بلکہ تلاش پر بھی ہاتھ نہ لگتی۔ یہ ہماری آزمائش تھی کہ مچھلیاں ہیں تو شکار منع اور شکار جائز ہے تو مچھلیاں ندارد۔ چونکہ یہ لوگ فاسق اور بےحکم تھے، اس لیے ہم نے بھی ان کو اس طرح آزمایا۔ آخر ان لوگوں نے حیلہ جوئی شروع کی۔ ایسے اسباب جمع کرنے شروع کئے جو باطن میں اس حرام کام کا ذریعہ بن جائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { یہودیوں کی طرح حیلے کر کے ذرا سی دیر کے لیے اللہ کے حرام کو حلال نہ کر لینا۔ } ۱؎ [جزء فی الخلع و ابطال الحیل(‏‏‏‏ص:24)‏‏‏‏‏‏‏‏لابی عبداللہ بن بطۃ کما فی ارواء الغلیل:1535] ‏‏‏‏ اس حدیث کو امام ابو عبداللہ بن بطۃ رحمہ اللہ لائے ہیں اور اس کی سند نہایت عمدہ ہے۔ اس کے راوی احمد بن محمد بن مسلم کا ذکر امام خطیب رحمہ اللہ نے اپنی تاریخ میں کیا ہے اور انہیں ثقہ کہا ہے۔ باقی سب راوی بہت مشہور ہیں اور سب کے سب ثقہ ہیں۔ ایسی بہت سی سندوں کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے۔
163۔ 1 وسئلہم میں (ھم) ضمیر سے مراد یہود ہیں۔ یعنی ان سے پوچھئے اس میں یہودیوں کو یہ بتانا بھی مقصود ہے کہ اس واقعے کا علم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کی دلیل ہے۔ کیونکہ اللہ کی طرف سے وحی کے بغیر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعے کا علم نہیں ہوسکتا تھا۔ (2) اس بستی کی تعیین میں اختلاف ہے کوئی اس کا نام ایلہ کوئی طبریہ کوئی ایلیا اور کوئی شام کی کوئی بستی جو سمندر کے قریب تھی۔ بتلاتا ہے۔ مفسرین کا زیادہ رجحان ایلہ کی طرف ہے جو مدین اور کوہ طور کے درمیان دریائے قلزم کے ساحل پر تھی۔ (3) حیتان حوت (مچھلی کی جمع ہے۔ شرعا شارع کی جمع ہے۔ معنی ہیں پانی کے اوپر ابھر ابھر کر آنے والیاں۔ یہ یہودیوں کے اس واقعے کی طرف اشارہ ہیں جس میں انہیں ہفتے والے دن مچھلیوں کا شکار کرنے سے منع کردیا گیا تھا۔ لیکن بطور آزمائش ہفتے والے دن مچھلیاں کثرت سے آتیں اور پانی کے اوپر ظاہر ہو ہو کر انہیں دعوت شکار دیتیں۔ اور جب یہ دن گزر جاتا تو اس طرح نہ آتیں۔ بالآخر یہودیوں نے ایک حیلہ کر کے حکم الہی سے تجاوز کیا کہ گڑھے کھود لیے تاکہ مچھلیاں اس میں پھنسی رہیں اور جب ہفتے کا دن گزر جاتا تو پھر انہیں پکڑ لیتے۔
(آیت 163) ➊ {وَ سْـَٔلْهُمْ عَنِ الْقَرْيَةِ …:} اس واقعہ کا انداز بیان پچھلی آیات سے ذرا مختلف ہے، فرمایا، ان سے اس بستی کے بارے میں پوچھیے، کیونکہ تورات یا کسی کتاب میں اس کا ذکر نہیں تھا مگر یہودیوں کو یہ واقعہ خوب معلوم تھا اور وہ اپنے دوسرے عیوب کی طرح اسے بھی چھپاتے تھے۔ جب آپ پوچھیں گے تو انھیں ضرور سوچنے پر مجبور ہونا پڑے گا کہ اس واقعہ کی خبر آپ تک کیسے پہنچی، وحی کے سوا کوئی اور ذریعہ اس کے لیے ممکن نہیں، اس لیے لامحالہ انھیں آپ کے نبی الٰہی ہونے کی ایک اور شہادت مل جائے گی۔ ➋ اللہ تعالیٰ نے صرف یہ بتایا ہے کہ وہ بستی سمندر کے کنارے آباد تھی اور نصیحت کے لیے اتنا بتانا ہی کافی تھا۔ البتہ اکثر مفسرین نے کہا ہے کہ اس قریہ (شہر) سے مراد ” ایلات“ ہے جو بحر قلزم کے ساحل پر مدین اور طور کے درمیان واقع ہے۔یہ شہر بحر قلزم کے اندر خلیج عقبہ میں اس جگہ واقع تھا جہاں اب اردن کی بندرگاہ عقبہ پائی جاتی ہے، اس کے قریب خلیج عقبہ ہی میں یہودیوں نے جو نئی بندرگاہ بنائی ہے اس کا نام انھوں نے ”ایلات“ ہی رکھا ہے۔ مگر کسی یقینی دلیل کے بغیر اس شہر کی تعیین ممکن نہیں۔ ➌ { اِذْ يَعْدُوْنَ فِي السَّبْتِ:} اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہفتے کے دن ان کے لیے شکار جائز نہیں تھا۔ ➍ { اِذْ تَاْتِيْهِمْ حِيْتَانُهُمْ …: ”حِيْتَانٌ “ } یہ{ ”حُوْتٌ“ } کی جمع ہے، یعنی بڑی مچھلی۔ دوسری جگہ یونس علیہ السلام کے متعلق فرمایا: «{ فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ }» [ الصافات: ۱۴۲ ] ”پس مچھلی نے اسے نگل لیا۔“ (راغب){ ” شُرَّعًا “ ” شَارِعٌ “} کی جمع ہے، یعنی پانی سے سر نکالے ہوئے آ جاتیں۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ انھیں حکم تو یہ تھا کہ اس دن کی تعظیم کریں اور اس میں شکار وغیرہ سے باز رہیں مگر انھوں نے فریب اور حیلہ سازی سے مچھلیاں پکڑنا شروع کر دیا، چنانچہ انھوں نے سمندر کے کنارے بڑے بڑے حوض کھود لیے، ہفتہ کے دن مچھلیاں پانی کے اوپر آتیں تو ان حوضوں میں داخل ہو جاتیں، وہ سمندر کی طرف سے ان کا راستہ بند کر دیتے اور اتوار کے دن ان کو پکڑ لیتے، یا جمعہ کے دن سمندر میں جال نصب کر دیتے اور ہفتہ کے دن ان میں پھنسی ہوئی مچھلیوں کو اتوار کے دن پکڑ لیتے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کسی حرام کام کا ارتکاب کرنے کے لیے حیلہ کرنا حرام ہے۔ ہاں جائز کام کے لیے حیلہ بھی جائز ہے۔ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے امام ابوعبد اللہ بن بطہ رحمہ اللہ کی سند سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نقل فرمایا ہے: [ لَا تَرْتَكِبُوْا مَا ارْتَكَبَتِ الْيَهُوْدُ فَتَسْتَحِلُّوْا مَحَارِمَ اللّٰهِ بِأَدْنَی الْحِيَلِ ] ”وہ کام مت کرو جو یہود نے کیا، ورنہ تم اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو معمولی حیلوں سے حلال کر لو گے۔“ اور فرمایا کہ یہ سند جید ہے۔ مگر افسوس کہ بعض مسلمان فقہاء نے اسلام کے فرائض سے جان چھڑانے کے لیے کئی حیلے ایجاد کیے، مثلاً رمضان کے آخر میں دو رکعتوں کا نام قضائے عمری رکھ کر پچھلی نمازیں معاف ہونے کا فتویٰ دے دیا اور صاف لکھ دیا کہ زکوٰۃ اور شفعہ سے جان چھڑانے کے لیے حیلہ حرام تو کجا مکروہ بھی نہیں۔ قتل کے قصاص کو ختم کرنے کے لیے تیز دھار آلے سے قتل کی شرط لگا دی اور کہا کہ اگر کوئی جان بوجھ کر بھاری سے بھاری پتھر یا ہتھوڑے کے ساتھ قتل کر دے، یا ڈبو کر مار دے، یا برف کے بلاک میں رکھ کر، یا کسی چار دیواری میں بھوکا پیاسا رکھ کر مار دے تو اس سے قصاص نہیں لیا جائے گا، زیادہ سے زیادہ دیت لے سکتے ہیں۔ زنا کو حلال کرنے کے لیے اجرت پر عورت لا کر زنا کرنے سے حد ختم کر دی۔ شراب حلال کرنے کے لیے صرف انگور اور کھجور کی شراب کو حرام اور باقی سب کو حلال کہہ دیا۔ چور کی حد چوری کا جرم شہادتوں سے ثابت ہونے کے بعد صرف اتنی بات سے ختم کر دی کہ چور مسروقہ مال کا مالک ہونے کا دعویٰ کر دے، خواہ اس کی کوئی دلیل بھی پیش نہ کرے۔ بتائیے! بلا دلیل دعویٰ کرنے سے ہاتھ کٹنے سے بچ جائے تو کون سا چور یہ دعویٰ نہیں کرے گا۔ سود کو دار الحرب میں اور بہت سی خود ساختہ صورتوں میں حلال کر دیا۔ بعض نے جو شخص نماز پڑھے اور جو نہ پڑھے دونوں کا ایمان برابر قرار دے دیا۔ جب اتنے بڑے گناہ حیلے سے جائز ہو گئے تو ان کے مرتکب بھی صالح اور عادل ٹھہرے اور حکومت اور قضاء کے اہل قرار دیے گئے۔ ایسے حکام، ایسی عدالتوں اور ایسے شاہدوں اور قاضیوں کے فیصلوں کا نتیجہ اہل کتاب ہی کی طرح پہلے شدید بدعملی، پھر انتہائی ذلت کی صورت میں سب کے سامنے ہے، اس کا علاج یہی ہے کہ مسلمان ان {” الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ “} کا طریقہ چھوڑ کر کتاب و سنت کو بلاحیل و حجت مضبوطی سے تھام لیں تو اللہ تعالیٰ انھیں پھر وہی عزت و کرامت عطا فرمائے گا جو اس نے پہلے عطا فرمائی تھی۔ ➎ {كَذٰلِكَ نَبْلُوْهُمْ بِمَا كَانُوْا يَفْسُقُوْنَ:} اس سے معلوم ہوا کہ جس شخص کو حلال روزی نہ ملے اور حرام آسانی سے ملے تو لازم ہے کہ وہ اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش سمجھے، اگر حرام کا مرتکب ہو جائے گا تو وہ روزی وبال ہو گی اور اگر صبر کرے گا اور حرام سے بچ کر امتحان میں کامیاب ہو جائے گا تو انعام ملے گا۔
وَ اِذۡ قَالَتۡ اُمَّۃٌ مِّنۡہُمۡ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡمَۨا ۙ اللّٰہُ مُہۡلِکُہُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُہُمۡ عَذَابًا شَدِیۡدًا ؕ قَالُوۡا مَعۡذِرَۃً اِلٰی رَبِّکُمۡ وَ لَعَلَّہُمۡ یَتَّقُوۡنَ ﴿۱۶۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور انہیں یہ بھی یاد لاؤ کہ جب اُن میں سے ایک گروہ نے دوسرے گروہ سے کہا تھا کہ "تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جنہیں اللہ ہلاک کرنے والا یا سخت سزا دینے والا ہے " تو انہوں نے جواب دیا تھا کہ "ہم یہ سب کچھ تمہارے رب کے حضور اپنی معذرت پیش کرنے کے لیے کرتے ہیں اور اس امید پر کرتے ہیں کہ شاید یہ لوگ اس کی نافرمانی سے پرہیز کرنے لگیں"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جب کہ ان میں سے ایک جماعت نے یوں کہا کہ تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جن کو اللہ بالکل ہلاک کرنے واﻻ ہے یا ان کو سخت سزا دینے واﻻ ہے؟ انہو ں نے جواب دیا کہ تمہارے رب کے روبرو عذر کرنے کے لیے اور اس لیے کہ شاید یہ ڈر جائیں
احمد رضا خان بریلوی
اور جب ان میں سے ایک گروہ نے کہا کیوں نصیحت کرتے ہو ان لوگوں کو جنہیں اللہ ہلاک کرنے والا ہے یا انہیں سخت عذاب دینے والا، بولے تمہارے رب کے حضور معذرت کو اور شاید انہیں ڈر ہو
علامہ محمد حسین نجفی
اور (اس وقت کو یاد کرو) جب ان میں سے ایک گروہ نے کہا (ان لوگوں سے جو ہفتہ کے دن شکار کرنے والوں کو وعظ و نصیحت کرتے تھے) کہ تم ایسے لوگوں کو (بے فائدہ) کیوں نصیحت کرتے ہو۔ جن کو خدا ہلاک کرنے والا ہے یا سخت عذاب میں مبتلا کرنے والا ہے؟ انہوں نے (جواب میں) کہا کہ ہم یہ اس لیے کرتے ہیں کہ تمہارے پروردگار کے سامنے معذرت پیش کر سکیں (کہ ہم نے اپنا فریضۂ امر و نہی ادا کر دیا ہے) اور اس لئے کہ شاید یہ لوگ اس روش سے پرہیز اختیار کریں۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب ان میں سے ایک گروہ نے کہا تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جنھیں اللہ ہلاک کرنے والا ہے، یا انھیں عذاب دینے والا ہے، بہت سخت عذاب؟ انھوں نے کہا تمھارے رب کے سامنے عذر کرنے کے لیے اور اس لیے کہ شاید وہ ڈر جائیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اصحاب سبت ٭٭

جس بستی کے لوگوں کا ذکر ہو رہا ہے، ان کے تین گروہ ہو گئے تھے۔ ایک تو حرام شکار کھیلنے والا اور حیلے بہانوں سے مچھلی پکڑنے والا، دوسرا گروہ انہیں روکنے والا اور ان سے بیزاری ظاہر کر کے ان سے الگ ہو جانے والا اور تیسرا گروہ چپ چاپ رہ کر نہ اس کام کو کرنے والا، نہ اس سے روکنے والا۔ جیسا کہ سورۃ البقرہ کی تفسیر میں ہم خلاصہ وار بیان کر آئے ہیں۔ جو لوگ خاموش تھے نہ برائی کرتے تھے، نہ بروں کو برائی سے روکتے تھے انہوں نے روکنے والوں کو سمجھانا شروع کیا کہ میاں ان لوگوں کو کہنے سننے سے کیا فائدہ؟ انہوں نے تو اللہ کے عذاب مول لے لیے ہیں، رب کے غضب کیلئے تیار ہو گئے ہیں۔ اب تم ان کے پیچھے کیوں پڑے ہو؟ تو اس پاک گروہ نے جواب دیا کہ اس میں دو فائدے ہیں: ایک تو یہ کہ اللہ کے پاس ہم معذرت خواہ ہو جائیں کہ ہم اپنا فرض برابر ادا کرتے رہے، انہیں ہر وقت سمجھاتے بجھاتے رہے۔ «معذرۃ» ت کے پیش سے بھی ایک قرأت ہے تو گویا «ھذا» کا لفظ یہاں مقدر مانا یعنی انہوں نے کہا: یہ ہماری معذرت ہے اور زبر کی قرأت پر یہ مطلب ہے کہ ہم جو انہیں روک رہے ہیں، یہ کام اس لیے کر رہے ہیں کہ اللہ کے ہاں ہم پر الزام نہ آئے کیونکہ اللہ کا حکم ہے کہ ہمیشہ نیکی کا حکم کرتے رہو اور برائی سے روکتے رہو۔

دوسرا فائدہ اس میں یہ ہے کہ بہت ممکن ہے، کسی وقت نصیحت ان پر اثر کر جائے۔ یہ لوگ اپنی اس حرام کاری سے باز آ جائیں، اللہ سے توبہ کریں تو اللہ تعالیٰ بھی ان پر مہربانی کرے اور ان کے گناہ معاف فرما دے۔ آخر کار ان کی نصیحت خیر خواہی بھی بےنتیجہ ثابت ہوئی۔ ان بدکاروں نے ایک نہ مانی تو ہم نے اس مسلم گروہ کو جو برابر ان سے نالاں رہا، ان سے الگ رہا اور انہیں سمجھاتا بجھاتا رہا، نجات دے دی اور باقی کے ظالموں کو جو ہماری نافرمانیوں کے مرتکب تھے، اپنے بدترین عذابوں سے پکڑ لیا۔ عبارت کی عمدگی ملاحظہ ہو کہ روکنے والوں کو نجات کا کھلے لفظوں میں اعلان کیا، ظالموں کی ہلاکت کا بھی غیر مشتبہ الفاظ میں بیان کیا اور چپ رہنے والوں کی حالت سے سکوت کیا گیا۔ اس لئے کہ ہر عمل کی جزا اسی کی ہم جنس ہے۔ یہ لوگ نہ تو اس ظلم عظیم میں شریک تھے کہ ان کی مذمت اعلانیہ کی جائے، نہ دلیری سے روکتے تھے کہ صاف طور پر قابل تعریف ٹھہریں۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”جو گروہ ممانعت کرنے کے بعد تھک کر بیٹھ گیا تھا اور پھر روکنا چھوڑ دیا تھا، اللہ کا عذاب جب آیا تو یہ گروہ بھی اس عذاب سے بچ گیا۔ صرف وہی ہلاک ہوئے جو گناہ میں مبتلا تھے۔“ آپ کے شاگرد عکرمہ کا بیان ہے کہ پہلے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو اس میں بڑا تردد تھا کہ آیا یہ لوگ ہلاک ہوئے یا بچ گئے، یہاں تک کہ ایک روز میں آیا تو دیکھا کہ قرآن گود میں رکھے ہوئے رو رہے ہیں۔ اول اول تو میرا حوصلہ نہ پڑا کہ سامنے آؤں لیکن دیر تک جب یہی حالت رہی تو میں نے قریب آ کر سلام کیا، بیٹھ گیا اور رونے کی وجہ دریافت کی تو آپ نے فرمایا: دیکھو یہ سورۃ الاعراف ہے، اس میں ایلہ کے یہودیوں کا ذکر ہے کہ انہیں ہفتے کے روز مچھلی کے شکار کی ممانعت کر دی گئی اور ان کی آزمائش کے لیے مچھلیوں کو حکم ہوا کہ وہ صرف ہفتے کے دن ہی نکلیں، ہفتے کے دن دریا مچھلیوں سے بھرے رہتے تھے۔ تروتازہ موٹی اور عمدہ بکثرت مچھلیاں پانی کے اوپر اچھلتی کودتی رہتی تھیں اور دنوں میں سخت کوشش کے باوجود بھی نہ ملتی تھیں۔ کچھ دنوں تک تو ان کے دلوں کے اندر حکم الٰہی کی عظمت رہی اور یہ ان کے پکڑنے سے رکے رہے۔ لیکن پھر شیطان نے ان کے دل میں یہ قیاس ڈال دیا کہ اس دن منع کھانے سے ہے، تم نے آج کھانا نہیں۔ پکڑ لو اور جائز دن کھا لینا۔ سچے مسلمانوں نے انہیں اس حیلہ جوئی سے ہر چند روکا اور سمجھایا کہ دیکھو! شکار کھیلنا شروع نہ کرو۔ شکار اور کھانا دونوں منموع ہیں۔ اگلے جمعہ کے دن جو جماعت شیطانی پھندے میں پھنس چکی تھی، وہ اپنے بال بچوں سمیت شکار کو نکل کھڑی ہوئی۔

باقی کے لوگوں کی دو جماعتیں بن گئیں۔ ایک ان کے دائیں، ایک بائیں۔ دائیں جانب والی تو برابر انہیں روکتی رہی کہ اللہ سے ڈرو اور اللہ کے عذابوں کے لیے تیاری نہ کرو۔ بائیں والوں نے کہا: میاں! تمہیں کیا پڑی؟ یہ تو خراب ہونے والے ہیں۔ اب تم انہیں نصیحت کر کے کیا لو گے؟ انہوں نے جواب دیا کہ خیر! اللہ کے ہاں ہم تو چھوٹ جائیں گے اور ہمیں تو اب تک مایوسی بھی نہیں۔ کیا عجب کہ یہ لوگ سنور جائیں تو ہلاکت اور عذاب سے محفوظ رہیں، ہماری تو عین منشا یہ ہے۔ لیکن یہ بدکار اپنی بےایمانی سے باز نہ آئے اور نصیحت انہیں کارگر نہ ہوئی تو دائیں طرف کے لوگوں نے کہا: تم نے ہمارا کہا نہ مانا، اللہ کی نافرمانی کی، ارتکاب حرمت کیا۔ عجب نہیں، راتوں رات تم پر کوئی عذاب رب آئے۔ اللہ تمہیں زمین میں دھنسا دے یا تم پر پتھر برسا دے یا کسی اور طرح تمہیں سزا دے۔ رات ہم تو یہیں گزاریں گے، تمہارے ساتھ شہر میں نہیں رہیں گے۔ جب صبح ہو گئی اور شہر کے دروازے نہ کھلے تو انہوں نے کواڑ کھٹکھٹائے، آوازیں دیں لیکن کوئی جواب نہ آیا۔ آخر سیڑھی لگا کر ایک شخص کو قلعہ کی دیوار پر چڑھایا، اس نے دیکھا تو حیران ہو گیا کہ سب لوگ بندر بنا دیئے گئے۔ اس نے ان سب مسلمانوں کو خبر دی، یہ دروازے توڑ کر اندر گئے تو دیکھا کہ سب دم دار بندر بن گئے ہیں، یہ تو کسی کو پہچان نہ سکے لیکن وہ پہچان گئے۔ ہر بندر اپنے اپنے رشتے دار کے قدموں میں لوٹنے لگا، ان کے کپڑے پکڑ پکڑ کر رونے لگا تو انہوں نے کہا: دیکھو ہم تو تمہیں منع کر رہے تھے لیکن تم نے مانا ہی نہیں۔ وہ اپنا سر ہلاتے تھے کہ ہاں ٹھیک ہے، ہمارے اعمال کی شامت نے ہی ہمیں برباد کیا ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ تو قرآن میں ہے کہ روکنے والوں نجات یافتہ ہوئے لیکن یہ بیان نہیں کہ جو روکنے والوں کو منع کرتے تھے , ان کا کیا حشر ہوا؟ اب ہم بھی بہت سی خلاف شرع باتیں دیکھتے ہیں اور کچھ نہیں کر سکتے۔ عکرمہ کہتے ہیں: میں نے آپ سے یہ سن کر کہا: اللہ مجھے آپ پر نثار کر دے، آپ یہ تو دیکھئے کہ وہ لوگ ان کے اس فعل کو برا سمجھتے رہے تھے، ان کی مخالفت کرتے تھے، جانتے تھے کہ یہ ہلاک ہونے والے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ بچ گئے۔ آپ کی سمجھ میں آ گیا اور اسی وقت حکم دیا کہ مجھے دو چادریں انعام میں دی جائیں۔ الغرض اس بیچ کی جماعت کی نسبت ایک قول تو یہ ہے کہ عذاب سے بچ گئی۔ دوسرا قول یہ ہے کہ عذاب ان پر بھی آیا۔ ابن رومان فرماتے ہیں کہ ہفتے والے دن خوب مچھلیاں آتیں، پانی ان سے بھر جاتا۔ پھر بیچ کے کسی دن نظر نہ آتیں، دوسرے ہفتے کو پھر یہی حال ہوتا۔ سب سے پہلے ایک شخص نے یہ حیلہ نکالا کہ ڈور اور کانٹا تیار کیا، مچھلی کو اس میں پھنسا لیا اور پانی میں ہی چھوڑ دیا۔ اتوار کی رات کو جا کر نکال لیا، بھونا، لوگوں کو مچھلی کی خوشبو پہنچی تو سب نے گھیر لیا۔ ہر چند پوچھا لیکن اول تو یہ سختی سے انکار کرتا رہا، آخر بات بنا دی کہ دراصل ایک مچھلی کا چھلکا مجھے مل گیا تھا، میں نے اسے بھونا تھا۔ دوسرے ہفتے کے دن اس نے اسی طرح دو مچھلیاں پھانس لیں، اتوار کی رات کو نکال کر بھوننے لگا۔ لوگ آ گئے تو اس نے کہا: میں نے ایک ترکیب نکال لی ہے جس سے نافرمانی بھی نہ ہو اور کام بھی نہ رکے۔ اب جو حیلہ بیان کیا تو ان سب نے اسے پسند کیا اور بکثرت لوگ یونہی کرنے لگے۔

یہ لوگ رات کو شہر پناہ کا پھاٹک بند کر کے سوتے تھے۔ جس رات عذاب آیا، حسب دستور یہ شہر پناہ کا پھاٹک لگا کر سوئے تھے۔ صبح کو جب باہر والے شہر میں داخل ہونے کو آئے تو خلاف معمول اب تک دروازے بند پائے۔ آوازیں دیں، کوئی جواب نہ ملا۔ قلعہ پر چڑھ گئے، دیکھا تو بندر بنا دیئے گئے ہیں۔ کھول کر اندر گئے تو بندر اپنے اپنے رشتہ داروں کے قدموں میں لوٹنے لگے۔ اس سے پہلے سورۃ البقرہ کی ایسی ہی آیت کی تفسیر کے موقعہ پر بالتفصیل ان واقعات کو اچھی طرح بیان کر چکے ہیں، وہیں دیکھ لیجئے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» دوسرا قول یہ ہے کہ جو چپ رہے تھے، وہ بھی ان گنہگاروں کے ساتھ ہلاک ہوئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ پہلے ہفتہ کے دن کی تعظیم بطور بدعت خود ان لوگوں نے نکالی، اب اللہ کی طرف سے بطور آزمائش کے وہ تعظیم ان پر ضروری قرار دے دی گئی اور حکم ہو گیا کہ اس دن مچھلی کا شکار نہ کرو۔ پھر مچھلیوں کا اس دن نمایاں ہونا اور دوسرے دنوں میں نہ نکلنا وغیرہ بیان فرما کر فرمایا کہ پھر ان میں سے ایک شخص نے ایک مچھلی ہفتے کے دن پکڑی، اس کی ناک میں سوراخ کر کے ڈور باندھ کر ایک کیل کنارے گاڑ کر اس میں ڈور اٹکا کر مچھلی کو دریا میں ڈال دیا۔ دوسرے دن جا کر پانی میں سے نکال لایا اور بھون کر کھا لی۔ سوائے اس پاک باز حق گو جماعت کے لوگوں کے کسی نے نہ اسے روکا، نہ منع کیا، نہ سمجھایا لیکن ان کی نصیحت کا ان پر کوئی اثر نہ ہوا۔ اس ایک کی دیکھا دیکھی اور بھی یہی کام کرنے لگے۔ یہاں تک کہ بازاروں میں مچھلی آنے لگی اور اعلانیہ یہ کام ہونے لگا۔

ایک اور جماعت کے لوگوں نے اس حق والی جماعت سے کہا کہ تم ان لوگوں کو کیوں وعظ کرتے ہو؟ اللہ تو انہیں ہلاک کرنے والا یا سخت عذاب کرنے والا ہے تو انہوں نے یہ جواب دیا یعنی اللہ کا فرمان دہرایا۔ لیکن لوگ فرمان ربانی کو بھول بیٹھے اور عذاب رب کے خود شکار ہو گئے۔ یہ تین گروہوں میں بٹ گئے تھے: ایک تو شکار کھیلنے والا، ایک منع کرنے والا، ایک ان منع کرنے والوں سے کہنے والا کہ اب نصیحت بے کار ہے۔ بس وہ تو بچ گئے جو برابر روکتے رہے تھے اور باقی دونوں جماعتیں ہلاک کر دی گئیں۔ سند اس کی نہایت عمدہ ہے لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا عکرمہ کے قول کی طرف رجوع کرنا، اس قول کے کہنے سے اولیٰ ہے۔ اس لیے کہ اس قول کے بعد ان پر ان کے حال کی حقیقت کھل گئی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر فرمان ہے کہ ہم نے ظالموں کو سخت عذابوں سے دبوچ لیا۔ مفہوم کی دلالت تو اس بات پر ہے کہ جو باقی رہے، بچ گئے۔ «بَئِيسٍ» کی کئی ایک قرأتیں ہیں۔ اس کے معنی سخت کے، درد ناک کے، تکلیف دہ کے ہیں۔ اور سب کا مطلب قریب قریب یکساں ہے۔ ان کی سرکشی اور ان کے حد سے گزر جانے کے باعث ہم نے ان سے کہہ دیا کہ تم ذلیل، حقیر اور ناقدرے بندر بن جاؤ۔ چنانچہ وہ ایسے ہی ہو گئے۔
164۔ 1 اس جماعت سے صالحین کی وہ جماعت مراد ہے جو اس حیلے کا ارتکاب بھی نہیں کرتی تھی اور حیلہ گروں کو سمجھا سمجھا کر ان کی اصلاح سے مایوس بھی ہوگئی تھی۔ تاہم کچھ اور لوگ بھی سمجھانے والے تھے جو انہیں واعظ و نصیحت کرتے تھے۔ صالحین کی یہ جماعت انہیں یہ کہتی کہ ایسے لوگوں کو واعظ و نصیحت کا کیا فائدہ جن کی قسمت میں ہلاکت و عذاب الٰہی ہے۔ یا اس جماعت سے وہی نافرمان اور تجاوز کرنے والے مراد ہیں۔ جب انکو وعظ کرنے والے نصیحت کرتے تو یہ کہتے کہ جب تمہارے خیال میں ہلاکت یا عذاب الہی ہمارا مقدر ہے تو پھر ہمیں کیوں وعظ کرتے ہو؟ تو وہ جواب دیتے کہ ایک تو اپنے رب کے سامنے معذرت پیش کرنے کے لیے تاکہ ہم تو اللہ کی گرفت سے محفوظ رہیں۔ کیونکہ معصیت الہی کا ارتکاب ہوتے ہوئے دیکھنا اور پھر اسے روکنے کی کوشش نہ کرنا بھی جرم ہے۔ جس پر اللہ تعالیٰ کی گرفت ہوسکتی ہے۔ اور دوسرا فائدہ یہ ہے کہ شاید یہ لوگ حکم الہی سے تجاوز کرنے سے باز ہی آجائیں۔ پہلی تفسیر کی رو سے یہ تین جماعتیں ہوئیں۔ 1) نافرمان اور شکار کرنے والی جماعت (2) وہ جماعت جو بالکل کنارہ کش ہوگئی۔ نہ وہ نافرمانوں میں تھی نہ منع کرنے والوں میں (3) وہ جماعت جو نافرمان بھی نہیں تھی اور بالکل کنارہ کش بھی نہیں ہوئی تھی۔ بلکہ نافرمانوں کو منع کرتی تھی۔ دوسری تفسیر کی رو سے یہ دو جماعتیں ہوں گی۔ ایک نافرمانوں کی اور دوسری منع کرنے والوں کی۔
(آیت 164) ➊ {وَ اِذْ قَالَتْ اُمَّةٌ مِّنْهُمْ …:} یعنی اس بستی کے نیک لوگوں میں سے ایک گروہ نے ان لوگوں سے کہا جو اس حیلہ سازی سے شکار کرنے والوں کو منع کرتے تھے۔ جمہور مفسرین کا خیال ہے کہ اس بستی کے لوگ تین گروہوں میں تقسیم ہو گئے تھے، ایک وہ ظالم جو اس حیلہ سازی سے ہفتہ کے دن مچھلیوں کا شکار کرتے تھے۔ دوسرا گروہ وہ جو ان کو ایسا کرنے سے منع کرتا تھا اور تیسرا گروہ وہ جو خود اگرچہ نیک تھا لیکن دوسروں کو برائی سے منع نہیں کرتا تھا، پس یہاں {” اُمَّةٌ “} سے مراد یہی تیسرا گروہ ہے۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ یہ گروہ جو برائی سے منع کرنے والوں سے کہتا تھا کہ تم ان لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو، یہ بھی نیک لوگ تھے اور اپنی طرف سے پورا زور لگا چکے تھے کہ انھیں اس گناہ سے منع کریں مگر ان کی ہٹ دھرمی کے بعد ان سے مایوس ہو کر خاموش ہو گئے تھے اور اب ان پر عذاب آنے کے منتظر تھے۔ ➋ {لِمَ تَعِظُوْنَ قَوْمَا اللّٰهُ مُهْلِكُهُمْ …: } یعنی کیوں ان کے سمجھانے میں وقت ضائع کرتے ہو، جب کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے دنیا میں ہلاکت اور آخرت میں عذاب لکھ دیا ہے تو تم انھیں کیسے بچا لو گے؟! مطلب یہ کہ خود نیکی پر قائم رہو اور انھیں ان کے حال پر چھوڑ دو۔ ➌ {قَالُوْا مَعْذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمْ …:} برائی سے منع کرنے والوں نے اپنے عمل کی دو وجہیں بیان کیں، ایک تو یہ کہ کہیں اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اس جرم میں نہ پکڑ لے کہ تم نے انھیں نصیحت کرنا کیوں چھوڑ دیا تھا، تاکہ ہمارا عذر بن جائے کہ ہم تو منع کرتے رہے تھے اور دوسری یہ کہ ہم کسی صورت ناامید ہونے والے نہیں، شاید یہ سب یا ان میں سے کچھ لوگ اس عمل بد سے بچ جائیں، کیونکہ داعی کو ہمیشہ پر امید رہنا چاہیے۔
فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُکِّرُوۡا بِہٖۤ اَنۡجَیۡنَا الَّذِیۡنَ یَنۡہَوۡنَ عَنِ السُّوۡٓءِ وَ اَخَذۡنَا الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا بِعَذَابٍۭ بَئِیۡسٍۭ بِمَا کَانُوۡا یَفۡسُقُوۡنَ ﴿۱۶۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
آخرکارجب وہ اُن ہدایات کو بالکل ہی فراموش کر گئے جو انہیں یاد کرائی گئی تھیں تو ہم نے اُن لوگوں کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے اور باقی سب لوگوں کو جو ظالم تھے ان کی نافرمانیوں پر سخت عذاب میں پکڑ لیا
مولانا محمد جوناگڑھی
سو جب وه اس کو بھول گئے جو ان کو سمجھایا جاتا تھا تو ہم نے ان لوگوں کو تو بچا لیا جو اس بری عادت سے منع کیا کرتے تھے اور ان لوگوں کو جو کہ زیادتی کرتے تھے ایک سخت عذاب میں پکڑ لیا اس وجہ سے کہ وه بےحکمی کیا کرتے تھے
احمد رضا خان بریلوی
پھر جب بھلا بیٹھے جو نصیحت انہیں ہوئی تھی ہم نے بچالیے وہ جو برائی سے منع کرتے تھے اور ظالموں کو برے عذاب میں پکڑا بدلہ ان کی نافرمانی کا،
علامہ محمد حسین نجفی
آخرکار جب ان لوگوں نے وہ تمام نصیحتیں بھلا دیں جو ان کو کی گئی تھیں تو ہم نے ان لوگوں کو تو بچا لیا جو برائی سے روکتے رہتے تھے اور باقی سب ظالموں کو ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے سخت عذاب میں گرفتار کیا۔
عبدالسلام بن محمد
پھر جب وہ اس بات کو بھول گئے جس کی انھیں نصیحت کی گئی تھی تو ہم نے ان لوگوں کو بچا لیا جو برائی سے منع کرتے تھے، اور ان کو سخت عذاب میں پکڑ لیا جنھوں نے ظلم کیا تھا، اس وجہ سے کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اصحاب سبت ٭٭

جس بستی کے لوگوں کا ذکر ہو رہا ہے، ان کے تین گروہ ہو گئے تھے۔ ایک تو حرام شکار کھیلنے والا اور حیلے بہانوں سے مچھلی پکڑنے والا، دوسرا گروہ انہیں روکنے والا اور ان سے بیزاری ظاہر کر کے ان سے الگ ہو جانے والا اور تیسرا گروہ چپ چاپ رہ کر نہ اس کام کو کرنے والا، نہ اس سے روکنے والا۔ جیسا کہ سورۃ البقرہ کی تفسیر میں ہم خلاصہ وار بیان کر آئے ہیں۔ جو لوگ خاموش تھے نہ برائی کرتے تھے، نہ بروں کو برائی سے روکتے تھے انہوں نے روکنے والوں کو سمجھانا شروع کیا کہ میاں ان لوگوں کو کہنے سننے سے کیا فائدہ؟ انہوں نے تو اللہ کے عذاب مول لے لیے ہیں، رب کے غضب کیلئے تیار ہو گئے ہیں۔ اب تم ان کے پیچھے کیوں پڑے ہو؟ تو اس پاک گروہ نے جواب دیا کہ اس میں دو فائدے ہیں: ایک تو یہ کہ اللہ کے پاس ہم معذرت خواہ ہو جائیں کہ ہم اپنا فرض برابر ادا کرتے رہے، انہیں ہر وقت سمجھاتے بجھاتے رہے۔ «معذرۃ» ت کے پیش سے بھی ایک قرأت ہے تو گویا «ھذا» کا لفظ یہاں مقدر مانا یعنی انہوں نے کہا: یہ ہماری معذرت ہے اور زبر کی قرأت پر یہ مطلب ہے کہ ہم جو انہیں روک رہے ہیں، یہ کام اس لیے کر رہے ہیں کہ اللہ کے ہاں ہم پر الزام نہ آئے کیونکہ اللہ کا حکم ہے کہ ہمیشہ نیکی کا حکم کرتے رہو اور برائی سے روکتے رہو۔

دوسرا فائدہ اس میں یہ ہے کہ بہت ممکن ہے، کسی وقت نصیحت ان پر اثر کر جائے۔ یہ لوگ اپنی اس حرام کاری سے باز آ جائیں، اللہ سے توبہ کریں تو اللہ تعالیٰ بھی ان پر مہربانی کرے اور ان کے گناہ معاف فرما دے۔ آخر کار ان کی نصیحت خیر خواہی بھی بےنتیجہ ثابت ہوئی۔ ان بدکاروں نے ایک نہ مانی تو ہم نے اس مسلم گروہ کو جو برابر ان سے نالاں رہا، ان سے الگ رہا اور انہیں سمجھاتا بجھاتا رہا، نجات دے دی اور باقی کے ظالموں کو جو ہماری نافرمانیوں کے مرتکب تھے، اپنے بدترین عذابوں سے پکڑ لیا۔ عبارت کی عمدگی ملاحظہ ہو کہ روکنے والوں کو نجات کا کھلے لفظوں میں اعلان کیا، ظالموں کی ہلاکت کا بھی غیر مشتبہ الفاظ میں بیان کیا اور چپ رہنے والوں کی حالت سے سکوت کیا گیا۔ اس لئے کہ ہر عمل کی جزا اسی کی ہم جنس ہے۔ یہ لوگ نہ تو اس ظلم عظیم میں شریک تھے کہ ان کی مذمت اعلانیہ کی جائے، نہ دلیری سے روکتے تھے کہ صاف طور پر قابل تعریف ٹھہریں۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”جو گروہ ممانعت کرنے کے بعد تھک کر بیٹھ گیا تھا اور پھر روکنا چھوڑ دیا تھا، اللہ کا عذاب جب آیا تو یہ گروہ بھی اس عذاب سے بچ گیا۔ صرف وہی ہلاک ہوئے جو گناہ میں مبتلا تھے۔“ آپ کے شاگرد عکرمہ کا بیان ہے کہ پہلے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو اس میں بڑا تردد تھا کہ آیا یہ لوگ ہلاک ہوئے یا بچ گئے، یہاں تک کہ ایک روز میں آیا تو دیکھا کہ قرآن گود میں رکھے ہوئے رو رہے ہیں۔ اول اول تو میرا حوصلہ نہ پڑا کہ سامنے آؤں لیکن دیر تک جب یہی حالت رہی تو میں نے قریب آ کر سلام کیا، بیٹھ گیا اور رونے کی وجہ دریافت کی تو آپ نے فرمایا: دیکھو یہ سورۃ الاعراف ہے، اس میں ایلہ کے یہودیوں کا ذکر ہے کہ انہیں ہفتے کے روز مچھلی کے شکار کی ممانعت کر دی گئی اور ان کی آزمائش کے لیے مچھلیوں کو حکم ہوا کہ وہ صرف ہفتے کے دن ہی نکلیں، ہفتے کے دن دریا مچھلیوں سے بھرے رہتے تھے۔ تروتازہ موٹی اور عمدہ بکثرت مچھلیاں پانی کے اوپر اچھلتی کودتی رہتی تھیں اور دنوں میں سخت کوشش کے باوجود بھی نہ ملتی تھیں۔ کچھ دنوں تک تو ان کے دلوں کے اندر حکم الٰہی کی عظمت رہی اور یہ ان کے پکڑنے سے رکے رہے۔ لیکن پھر شیطان نے ان کے دل میں یہ قیاس ڈال دیا کہ اس دن منع کھانے سے ہے، تم نے آج کھانا نہیں۔ پکڑ لو اور جائز دن کھا لینا۔ سچے مسلمانوں نے انہیں اس حیلہ جوئی سے ہر چند روکا اور سمجھایا کہ دیکھو! شکار کھیلنا شروع نہ کرو۔ شکار اور کھانا دونوں منموع ہیں۔ اگلے جمعہ کے دن جو جماعت شیطانی پھندے میں پھنس چکی تھی، وہ اپنے بال بچوں سمیت شکار کو نکل کھڑی ہوئی۔

باقی کے لوگوں کی دو جماعتیں بن گئیں۔ ایک ان کے دائیں، ایک بائیں۔ دائیں جانب والی تو برابر انہیں روکتی رہی کہ اللہ سے ڈرو اور اللہ کے عذابوں کے لیے تیاری نہ کرو۔ بائیں والوں نے کہا: میاں! تمہیں کیا پڑی؟ یہ تو خراب ہونے والے ہیں۔ اب تم انہیں نصیحت کر کے کیا لو گے؟ انہوں نے جواب دیا کہ خیر! اللہ کے ہاں ہم تو چھوٹ جائیں گے اور ہمیں تو اب تک مایوسی بھی نہیں۔ کیا عجب کہ یہ لوگ سنور جائیں تو ہلاکت اور عذاب سے محفوظ رہیں، ہماری تو عین منشا یہ ہے۔ لیکن یہ بدکار اپنی بےایمانی سے باز نہ آئے اور نصیحت انہیں کارگر نہ ہوئی تو دائیں طرف کے لوگوں نے کہا: تم نے ہمارا کہا نہ مانا، اللہ کی نافرمانی کی، ارتکاب حرمت کیا۔ عجب نہیں، راتوں رات تم پر کوئی عذاب رب آئے۔ اللہ تمہیں زمین میں دھنسا دے یا تم پر پتھر برسا دے یا کسی اور طرح تمہیں سزا دے۔ رات ہم تو یہیں گزاریں گے، تمہارے ساتھ شہر میں نہیں رہیں گے۔ جب صبح ہو گئی اور شہر کے دروازے نہ کھلے تو انہوں نے کواڑ کھٹکھٹائے، آوازیں دیں لیکن کوئی جواب نہ آیا۔ آخر سیڑھی لگا کر ایک شخص کو قلعہ کی دیوار پر چڑھایا، اس نے دیکھا تو حیران ہو گیا کہ سب لوگ بندر بنا دیئے گئے۔ اس نے ان سب مسلمانوں کو خبر دی، یہ دروازے توڑ کر اندر گئے تو دیکھا کہ سب دم دار بندر بن گئے ہیں، یہ تو کسی کو پہچان نہ سکے لیکن وہ پہچان گئے۔ ہر بندر اپنے اپنے رشتے دار کے قدموں میں لوٹنے لگا، ان کے کپڑے پکڑ پکڑ کر رونے لگا تو انہوں نے کہا: دیکھو ہم تو تمہیں منع کر رہے تھے لیکن تم نے مانا ہی نہیں۔ وہ اپنا سر ہلاتے تھے کہ ہاں ٹھیک ہے، ہمارے اعمال کی شامت نے ہی ہمیں برباد کیا ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ تو قرآن میں ہے کہ روکنے والوں نجات یافتہ ہوئے لیکن یہ بیان نہیں کہ جو روکنے والوں کو منع کرتے تھے , ان کا کیا حشر ہوا؟ اب ہم بھی بہت سی خلاف شرع باتیں دیکھتے ہیں اور کچھ نہیں کر سکتے۔ عکرمہ کہتے ہیں: میں نے آپ سے یہ سن کر کہا: اللہ مجھے آپ پر نثار کر دے، آپ یہ تو دیکھئے کہ وہ لوگ ان کے اس فعل کو برا سمجھتے رہے تھے، ان کی مخالفت کرتے تھے، جانتے تھے کہ یہ ہلاک ہونے والے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ بچ گئے۔ آپ کی سمجھ میں آ گیا اور اسی وقت حکم دیا کہ مجھے دو چادریں انعام میں دی جائیں۔ الغرض اس بیچ کی جماعت کی نسبت ایک قول تو یہ ہے کہ عذاب سے بچ گئی۔ دوسرا قول یہ ہے کہ عذاب ان پر بھی آیا۔ ابن رومان فرماتے ہیں کہ ہفتے والے دن خوب مچھلیاں آتیں، پانی ان سے بھر جاتا۔ پھر بیچ کے کسی دن نظر نہ آتیں، دوسرے ہفتے کو پھر یہی حال ہوتا۔ سب سے پہلے ایک شخص نے یہ حیلہ نکالا کہ ڈور اور کانٹا تیار کیا، مچھلی کو اس میں پھنسا لیا اور پانی میں ہی چھوڑ دیا۔ اتوار کی رات کو جا کر نکال لیا، بھونا، لوگوں کو مچھلی کی خوشبو پہنچی تو سب نے گھیر لیا۔ ہر چند پوچھا لیکن اول تو یہ سختی سے انکار کرتا رہا، آخر بات بنا دی کہ دراصل ایک مچھلی کا چھلکا مجھے مل گیا تھا، میں نے اسے بھونا تھا۔ دوسرے ہفتے کے دن اس نے اسی طرح دو مچھلیاں پھانس لیں، اتوار کی رات کو نکال کر بھوننے لگا۔ لوگ آ گئے تو اس نے کہا: میں نے ایک ترکیب نکال لی ہے جس سے نافرمانی بھی نہ ہو اور کام بھی نہ رکے۔ اب جو حیلہ بیان کیا تو ان سب نے اسے پسند کیا اور بکثرت لوگ یونہی کرنے لگے۔

یہ لوگ رات کو شہر پناہ کا پھاٹک بند کر کے سوتے تھے۔ جس رات عذاب آیا، حسب دستور یہ شہر پناہ کا پھاٹک لگا کر سوئے تھے۔ صبح کو جب باہر والے شہر میں داخل ہونے کو آئے تو خلاف معمول اب تک دروازے بند پائے۔ آوازیں دیں، کوئی جواب نہ ملا۔ قلعہ پر چڑھ گئے، دیکھا تو بندر بنا دیئے گئے ہیں۔ کھول کر اندر گئے تو بندر اپنے اپنے رشتہ داروں کے قدموں میں لوٹنے لگے۔ اس سے پہلے سورۃ البقرہ کی ایسی ہی آیت کی تفسیر کے موقعہ پر بالتفصیل ان واقعات کو اچھی طرح بیان کر چکے ہیں، وہیں دیکھ لیجئے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» دوسرا قول یہ ہے کہ جو چپ رہے تھے، وہ بھی ان گنہگاروں کے ساتھ ہلاک ہوئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ پہلے ہفتہ کے دن کی تعظیم بطور بدعت خود ان لوگوں نے نکالی، اب اللہ کی طرف سے بطور آزمائش کے وہ تعظیم ان پر ضروری قرار دے دی گئی اور حکم ہو گیا کہ اس دن مچھلی کا شکار نہ کرو۔ پھر مچھلیوں کا اس دن نمایاں ہونا اور دوسرے دنوں میں نہ نکلنا وغیرہ بیان فرما کر فرمایا کہ پھر ان میں سے ایک شخص نے ایک مچھلی ہفتے کے دن پکڑی، اس کی ناک میں سوراخ کر کے ڈور باندھ کر ایک کیل کنارے گاڑ کر اس میں ڈور اٹکا کر مچھلی کو دریا میں ڈال دیا۔ دوسرے دن جا کر پانی میں سے نکال لایا اور بھون کر کھا لی۔ سوائے اس پاک باز حق گو جماعت کے لوگوں کے کسی نے نہ اسے روکا، نہ منع کیا، نہ سمجھایا لیکن ان کی نصیحت کا ان پر کوئی اثر نہ ہوا۔ اس ایک کی دیکھا دیکھی اور بھی یہی کام کرنے لگے۔ یہاں تک کہ بازاروں میں مچھلی آنے لگی اور اعلانیہ یہ کام ہونے لگا۔

ایک اور جماعت کے لوگوں نے اس حق والی جماعت سے کہا کہ تم ان لوگوں کو کیوں وعظ کرتے ہو؟ اللہ تو انہیں ہلاک کرنے والا یا سخت عذاب کرنے والا ہے تو انہوں نے یہ جواب دیا یعنی اللہ کا فرمان دہرایا۔ لیکن لوگ فرمان ربانی کو بھول بیٹھے اور عذاب رب کے خود شکار ہو گئے۔ یہ تین گروہوں میں بٹ گئے تھے: ایک تو شکار کھیلنے والا، ایک منع کرنے والا، ایک ان منع کرنے والوں سے کہنے والا کہ اب نصیحت بے کار ہے۔ بس وہ تو بچ گئے جو برابر روکتے رہے تھے اور باقی دونوں جماعتیں ہلاک کر دی گئیں۔ سند اس کی نہایت عمدہ ہے لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا عکرمہ کے قول کی طرف رجوع کرنا، اس قول کے کہنے سے اولیٰ ہے۔ اس لیے کہ اس قول کے بعد ان پر ان کے حال کی حقیقت کھل گئی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر فرمان ہے کہ ہم نے ظالموں کو سخت عذابوں سے دبوچ لیا۔ مفہوم کی دلالت تو اس بات پر ہے کہ جو باقی رہے، بچ گئے۔ «بَئِيسٍ» کی کئی ایک قرأتیں ہیں۔ اس کے معنی سخت کے، درد ناک کے، تکلیف دہ کے ہیں۔ اور سب کا مطلب قریب قریب یکساں ہے۔ ان کی سرکشی اور ان کے حد سے گزر جانے کے باعث ہم نے ان سے کہہ دیا کہ تم ذلیل، حقیر اور ناقدرے بندر بن جاؤ۔ چنانچہ وہ ایسے ہی ہو گئے۔
165۔ 1 یعنی واعظ و نصیحت کی انہوں نے کوئی پرواہ نہیں کی اور نافرمانی پر اڑے رہے۔ 165۔ 2 یعنی وہ ظالم بھی تھے، اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں کا ارتکاب کرکے انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور انہیں جہنم کا ایندھن بنالیا اور فاسق بھی، کہ اللہ کے حکموں سے سرتابی کو انہوں نے اپنا شیوہ اور وطیرہ بنالیا
(آیت 166،165) ➊ {فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖۤ …:} یعنی جب ہفتہ کی تعظیم کا حکم انھوں نے سرے سے بھلا ہی دیا اور حیلے سے بڑھ کر علانیہ نافرمانی شروع کر دی تو اللہ تعالیٰ نے برائی سے منع کرنے والوں کو عذاب سے بچا لیا اور ظلم کرنے والوں کو بہت سخت عذاب میں پکڑ لیا۔ اب بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ پہلے ان پر نافرمانی کی وجہ سے ایک عذاب بھیجا گیا، جیسا کہ یہاں {” بِعَذَابٍۭ بَىِٕيْسٍ“} فرمایا ہے کہ شاید وہ باز آ جائیں۔ (دیکھیے سورۂ سجدہ: ۲۱) لیکن جب اس پر بھی باز نہ آئے تو اگلی آیت میں مذکور مسخ کی سزا دی گئی اور بعض نے فرمایا کہ {” بِعَذَابٍۭ بَىِٕيْسٍ“} سے مراد یہی مسخ ہے، لیکن «{ وَ اَخَذْنَا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا }» کے بعد دوبارہ «{ فَلَمَّا عَتَوْا عَنْ مَّا نُهُوْا عَنْهُ }» سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلا عذاب تنبیہ کے لیے تھا، پھر بھی جب وہ متنبہ نہ ہوئے، بلکہ سرکشی اختیار کی تو ان سرکشوں کو بندر بنا دیا گیا۔ واللہ اعلم! ➋ {وَ اَخَذْنَا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا …:} اللہ تعالیٰ نے برائی سے منع کرنے والوں کی نجات اور ظلم کرنے والوں کو سخت عذاب، مثلاً قحط یا بیماری وغیرہ میں پکڑنے کا ذکر کیا ہے اور اس سے اگلی آیت میں سرکشی کرنے والوں کی شکلیں بدل کر بندر بنا دینے کا ذکر فرمایا ہے۔ تیسرے گروہ کا واضح ذکر نہیں فرمایا کہ ان کا کیا بنا۔ اکثر مفسرین کا کہنا یہی ہے کہ صرف اس جرم کا مسلسل ارتکاب کرنے والے ہی عذاب میں گرفتار ہوئے، جیسا کہ {” بِمَا كَانُوْا يَفْسُقُوْنَ “} کے استمرار سے معلوم ہوتا ہے کہ باقی دونوں گروہ بچ گئے۔ بعض کا کہنا ہے کہ وہ بھی برائی سے منع نہ کرنے کی وجہ سے ہلاک ہونے والوں کے ساتھ ہلاک ہو گئے۔ بعض کہتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کے انجام سے خاموشی اختیار فرمائی تو ہمیں بھی خاموشی اختیار کرنی چاہیے۔ مگر حافظ ابن کثیر اور اکثر مفسرین نے ان کے بچ جانے ہی کو ترجیح دی ہے، کیونکہ یہ لوگ سرکشی اختیار کرنے والے ہر گز نہ تھے، بلکہ جیسا کہ اسی آیت کے حاشیہ(۱) میں ذکر ہوا ہے، یہ لوگ اس برائی سے نفرت رکھنے والے تھے اور عین ممکن ہے کہ منع کرنے کے بعد تھک کر ان پر عذاب کے منتظر ہوں، مگر ان پر لازم تھا کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر جاری رکھتے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: ”کوئی بھی قوم جس میں اللہ کی نافرمانیوں پر عمل ہوتا ہو، پھر وہ اسے بدلنے کی طاقت رکھتے ہوں، پھر نہ بدلیں تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب پر اپنی طرف سے عذاب بھیج دے۔“ [ أبو داوٗد، الملاحم، باب الأمر والنھی: ۴۳۳۸۔ ترمذی: ۳۰۵۷، و قال الألبانی صحیح ] راجح بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ پہلے ان پر {”عَذَابٌ بَىِٕيْسٌ“} آیا، جو قحط یا بیماری یا خوف وغیرہ کی شکل میں تھا، اس میں شکار کرنے والے اور اس پر خاموش رہنے والے دونوں گرفتار ہوئے، کیونکہ برائی پر خاموش رہنا بھی ایک قسم کا ظلم تھا مگر جب بندر بنانے کا عذاب آیا تو یہ صرف ان پر آیا جو اس سرکشی کے مرتکب تھے اور اب کھلم کھلا بلاجھجک یہ کام کر رہے تھے۔ [ وَاللّٰہُ أَعْلَمُ وَ عِلْمُہُ أَتَمُّ ] ➌ قرآن کے الفاظ سے صاف ظاہر ہے کہ ان کی شکلیں بدل کر بندر کی بنا دی گئیں۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ان میں صرف بندروں کی خصلتیں پیدا کر دی گئیں، مگر اس تاویل کی ضرورت تب ہے جب اللہ تعالیٰ کا انھیں بندر بنانا ممکن نہ ہو، یا پہلے ان کی خصلتیں انسانوں والی ہوں اور اب بندروں والی بنا دی گئی ہوں، جبکہ ان کے تمام حیلے ایسے تھے جو سلیم الفطرت انسان کر ہی نہیں سکتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ جب کسی شے کو مسخ کرے (شکل بدل دے) تو نہ اس کے پیچھے رہنے والا کوئی ہوتا ہے اور نہ اس کی نسل ہوتی ہے۔“ [ المعجم الکبیر: ۷۴۶، و صححہ الألبانی فی صحیح الجامع: ۵۶۷۳، عن أم سلمۃ رضی اللہ عنھا۔ مسلم: ۲۶۶۳ ]
فَلَمَّا عَتَوۡا عَنۡ مَّا نُہُوۡا عَنۡہُ قُلۡنَا لَہُمۡ کُوۡنُوۡا قِرَدَۃً خٰسِئِیۡنَ ﴿۱۶۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر جب وہ پوری سرکشی کے ساتھ وہی کام کیے چلے گئے جس سے انہیں روکا گیا تھا، تو ہم نے کہا کہ بندر ہو جاؤ ذلیل اور خوار
مولانا محمد جوناگڑھی
یعنی جب وه، جس کام سے ان کو منع کیا گیا تھا اس میں حد سے نکل گئے تو ہم نے ان کو کہہ دیا تم ذلیل بندر بن جاؤ
احمد رضا خان بریلوی
پھر جب انہوں نے ممانعت کے حکم سے سرکشی کی ہم نے ان سے فرمایا ہوجاؤ بند ر دھتکارے ہوئے
علامہ محمد حسین نجفی
(جب یہ عذاب بھی ان کو سرکشی سے باز نہ رکھ سکا) اور وہ برابر سرکشی کرتے چلے گئے ان چیزوں کے بارے میں جن سے ان کو روکا گیا تھا تو ہم نے کہا بندر ہو جاؤ ذلیل اور راندے ہوئے۔
عبدالسلام بن محمد
پھر جب وہ اس بات میں حد سے بڑھ گئے جس سے انھیں منع کیا گیا تھا تو ہم نے ان سے کہہ دیا کہ ذلیل بندر بن جاؤ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اصحاب سبت ٭٭

جس بستی کے لوگوں کا ذکر ہو رہا ہے، ان کے تین گروہ ہو گئے تھے۔ ایک تو حرام شکار کھیلنے والا اور حیلے بہانوں سے مچھلی پکڑنے والا، دوسرا گروہ انہیں روکنے والا اور ان سے بیزاری ظاہر کر کے ان سے الگ ہو جانے والا اور تیسرا گروہ چپ چاپ رہ کر نہ اس کام کو کرنے والا، نہ اس سے روکنے والا۔ جیسا کہ سورۃ البقرہ کی تفسیر میں ہم خلاصہ وار بیان کر آئے ہیں۔ جو لوگ خاموش تھے نہ برائی کرتے تھے، نہ بروں کو برائی سے روکتے تھے انہوں نے روکنے والوں کو سمجھانا شروع کیا کہ میاں ان لوگوں کو کہنے سننے سے کیا فائدہ؟ انہوں نے تو اللہ کے عذاب مول لے لیے ہیں، رب کے غضب کیلئے تیار ہو گئے ہیں۔ اب تم ان کے پیچھے کیوں پڑے ہو؟ تو اس پاک گروہ نے جواب دیا کہ اس میں دو فائدے ہیں: ایک تو یہ کہ اللہ کے پاس ہم معذرت خواہ ہو جائیں کہ ہم اپنا فرض برابر ادا کرتے رہے، انہیں ہر وقت سمجھاتے بجھاتے رہے۔ «معذرۃ» ت کے پیش سے بھی ایک قرأت ہے تو گویا «ھذا» کا لفظ یہاں مقدر مانا یعنی انہوں نے کہا: یہ ہماری معذرت ہے اور زبر کی قرأت پر یہ مطلب ہے کہ ہم جو انہیں روک رہے ہیں، یہ کام اس لیے کر رہے ہیں کہ اللہ کے ہاں ہم پر الزام نہ آئے کیونکہ اللہ کا حکم ہے کہ ہمیشہ نیکی کا حکم کرتے رہو اور برائی سے روکتے رہو۔

دوسرا فائدہ اس میں یہ ہے کہ بہت ممکن ہے، کسی وقت نصیحت ان پر اثر کر جائے۔ یہ لوگ اپنی اس حرام کاری سے باز آ جائیں، اللہ سے توبہ کریں تو اللہ تعالیٰ بھی ان پر مہربانی کرے اور ان کے گناہ معاف فرما دے۔ آخر کار ان کی نصیحت خیر خواہی بھی بےنتیجہ ثابت ہوئی۔ ان بدکاروں نے ایک نہ مانی تو ہم نے اس مسلم گروہ کو جو برابر ان سے نالاں رہا، ان سے الگ رہا اور انہیں سمجھاتا بجھاتا رہا، نجات دے دی اور باقی کے ظالموں کو جو ہماری نافرمانیوں کے مرتکب تھے، اپنے بدترین عذابوں سے پکڑ لیا۔ عبارت کی عمدگی ملاحظہ ہو کہ روکنے والوں کو نجات کا کھلے لفظوں میں اعلان کیا، ظالموں کی ہلاکت کا بھی غیر مشتبہ الفاظ میں بیان کیا اور چپ رہنے والوں کی حالت سے سکوت کیا گیا۔ اس لئے کہ ہر عمل کی جزا اسی کی ہم جنس ہے۔ یہ لوگ نہ تو اس ظلم عظیم میں شریک تھے کہ ان کی مذمت اعلانیہ کی جائے، نہ دلیری سے روکتے تھے کہ صاف طور پر قابل تعریف ٹھہریں۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”جو گروہ ممانعت کرنے کے بعد تھک کر بیٹھ گیا تھا اور پھر روکنا چھوڑ دیا تھا، اللہ کا عذاب جب آیا تو یہ گروہ بھی اس عذاب سے بچ گیا۔ صرف وہی ہلاک ہوئے جو گناہ میں مبتلا تھے۔“ آپ کے شاگرد عکرمہ کا بیان ہے کہ پہلے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو اس میں بڑا تردد تھا کہ آیا یہ لوگ ہلاک ہوئے یا بچ گئے، یہاں تک کہ ایک روز میں آیا تو دیکھا کہ قرآن گود میں رکھے ہوئے رو رہے ہیں۔ اول اول تو میرا حوصلہ نہ پڑا کہ سامنے آؤں لیکن دیر تک جب یہی حالت رہی تو میں نے قریب آ کر سلام کیا، بیٹھ گیا اور رونے کی وجہ دریافت کی تو آپ نے فرمایا: دیکھو یہ سورۃ الاعراف ہے، اس میں ایلہ کے یہودیوں کا ذکر ہے کہ انہیں ہفتے کے روز مچھلی کے شکار کی ممانعت کر دی گئی اور ان کی آزمائش کے لیے مچھلیوں کو حکم ہوا کہ وہ صرف ہفتے کے دن ہی نکلیں، ہفتے کے دن دریا مچھلیوں سے بھرے رہتے تھے۔ تروتازہ موٹی اور عمدہ بکثرت مچھلیاں پانی کے اوپر اچھلتی کودتی رہتی تھیں اور دنوں میں سخت کوشش کے باوجود بھی نہ ملتی تھیں۔ کچھ دنوں تک تو ان کے دلوں کے اندر حکم الٰہی کی عظمت رہی اور یہ ان کے پکڑنے سے رکے رہے۔ لیکن پھر شیطان نے ان کے دل میں یہ قیاس ڈال دیا کہ اس دن منع کھانے سے ہے، تم نے آج کھانا نہیں۔ پکڑ لو اور جائز دن کھا لینا۔ سچے مسلمانوں نے انہیں اس حیلہ جوئی سے ہر چند روکا اور سمجھایا کہ دیکھو! شکار کھیلنا شروع نہ کرو۔ شکار اور کھانا دونوں منموع ہیں۔ اگلے جمعہ کے دن جو جماعت شیطانی پھندے میں پھنس چکی تھی، وہ اپنے بال بچوں سمیت شکار کو نکل کھڑی ہوئی۔

باقی کے لوگوں کی دو جماعتیں بن گئیں۔ ایک ان کے دائیں، ایک بائیں۔ دائیں جانب والی تو برابر انہیں روکتی رہی کہ اللہ سے ڈرو اور اللہ کے عذابوں کے لیے تیاری نہ کرو۔ بائیں والوں نے کہا: میاں! تمہیں کیا پڑی؟ یہ تو خراب ہونے والے ہیں۔ اب تم انہیں نصیحت کر کے کیا لو گے؟ انہوں نے جواب دیا کہ خیر! اللہ کے ہاں ہم تو چھوٹ جائیں گے اور ہمیں تو اب تک مایوسی بھی نہیں۔ کیا عجب کہ یہ لوگ سنور جائیں تو ہلاکت اور عذاب سے محفوظ رہیں، ہماری تو عین منشا یہ ہے۔ لیکن یہ بدکار اپنی بےایمانی سے باز نہ آئے اور نصیحت انہیں کارگر نہ ہوئی تو دائیں طرف کے لوگوں نے کہا: تم نے ہمارا کہا نہ مانا، اللہ کی نافرمانی کی، ارتکاب حرمت کیا۔ عجب نہیں، راتوں رات تم پر کوئی عذاب رب آئے۔ اللہ تمہیں زمین میں دھنسا دے یا تم پر پتھر برسا دے یا کسی اور طرح تمہیں سزا دے۔ رات ہم تو یہیں گزاریں گے، تمہارے ساتھ شہر میں نہیں رہیں گے۔ جب صبح ہو گئی اور شہر کے دروازے نہ کھلے تو انہوں نے کواڑ کھٹکھٹائے، آوازیں دیں لیکن کوئی جواب نہ آیا۔ آخر سیڑھی لگا کر ایک شخص کو قلعہ کی دیوار پر چڑھایا، اس نے دیکھا تو حیران ہو گیا کہ سب لوگ بندر بنا دیئے گئے۔ اس نے ان سب مسلمانوں کو خبر دی، یہ دروازے توڑ کر اندر گئے تو دیکھا کہ سب دم دار بندر بن گئے ہیں، یہ تو کسی کو پہچان نہ سکے لیکن وہ پہچان گئے۔ ہر بندر اپنے اپنے رشتے دار کے قدموں میں لوٹنے لگا، ان کے کپڑے پکڑ پکڑ کر رونے لگا تو انہوں نے کہا: دیکھو ہم تو تمہیں منع کر رہے تھے لیکن تم نے مانا ہی نہیں۔ وہ اپنا سر ہلاتے تھے کہ ہاں ٹھیک ہے، ہمارے اعمال کی شامت نے ہی ہمیں برباد کیا ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ تو قرآن میں ہے کہ روکنے والوں نجات یافتہ ہوئے لیکن یہ بیان نہیں کہ جو روکنے والوں کو منع کرتے تھے , ان کا کیا حشر ہوا؟ اب ہم بھی بہت سی خلاف شرع باتیں دیکھتے ہیں اور کچھ نہیں کر سکتے۔ عکرمہ کہتے ہیں: میں نے آپ سے یہ سن کر کہا: اللہ مجھے آپ پر نثار کر دے، آپ یہ تو دیکھئے کہ وہ لوگ ان کے اس فعل کو برا سمجھتے رہے تھے، ان کی مخالفت کرتے تھے، جانتے تھے کہ یہ ہلاک ہونے والے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ بچ گئے۔ آپ کی سمجھ میں آ گیا اور اسی وقت حکم دیا کہ مجھے دو چادریں انعام میں دی جائیں۔ الغرض اس بیچ کی جماعت کی نسبت ایک قول تو یہ ہے کہ عذاب سے بچ گئی۔ دوسرا قول یہ ہے کہ عذاب ان پر بھی آیا۔ ابن رومان فرماتے ہیں کہ ہفتے والے دن خوب مچھلیاں آتیں، پانی ان سے بھر جاتا۔ پھر بیچ کے کسی دن نظر نہ آتیں، دوسرے ہفتے کو پھر یہی حال ہوتا۔ سب سے پہلے ایک شخص نے یہ حیلہ نکالا کہ ڈور اور کانٹا تیار کیا، مچھلی کو اس میں پھنسا لیا اور پانی میں ہی چھوڑ دیا۔ اتوار کی رات کو جا کر نکال لیا، بھونا، لوگوں کو مچھلی کی خوشبو پہنچی تو سب نے گھیر لیا۔ ہر چند پوچھا لیکن اول تو یہ سختی سے انکار کرتا رہا، آخر بات بنا دی کہ دراصل ایک مچھلی کا چھلکا مجھے مل گیا تھا، میں نے اسے بھونا تھا۔ دوسرے ہفتے کے دن اس نے اسی طرح دو مچھلیاں پھانس لیں، اتوار کی رات کو نکال کر بھوننے لگا۔ لوگ آ گئے تو اس نے کہا: میں نے ایک ترکیب نکال لی ہے جس سے نافرمانی بھی نہ ہو اور کام بھی نہ رکے۔ اب جو حیلہ بیان کیا تو ان سب نے اسے پسند کیا اور بکثرت لوگ یونہی کرنے لگے۔

یہ لوگ رات کو شہر پناہ کا پھاٹک بند کر کے سوتے تھے۔ جس رات عذاب آیا، حسب دستور یہ شہر پناہ کا پھاٹک لگا کر سوئے تھے۔ صبح کو جب باہر والے شہر میں داخل ہونے کو آئے تو خلاف معمول اب تک دروازے بند پائے۔ آوازیں دیں، کوئی جواب نہ ملا۔ قلعہ پر چڑھ گئے، دیکھا تو بندر بنا دیئے گئے ہیں۔ کھول کر اندر گئے تو بندر اپنے اپنے رشتہ داروں کے قدموں میں لوٹنے لگے۔ اس سے پہلے سورۃ البقرہ کی ایسی ہی آیت کی تفسیر کے موقعہ پر بالتفصیل ان واقعات کو اچھی طرح بیان کر چکے ہیں، وہیں دیکھ لیجئے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» دوسرا قول یہ ہے کہ جو چپ رہے تھے، وہ بھی ان گنہگاروں کے ساتھ ہلاک ہوئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ پہلے ہفتہ کے دن کی تعظیم بطور بدعت خود ان لوگوں نے نکالی، اب اللہ کی طرف سے بطور آزمائش کے وہ تعظیم ان پر ضروری قرار دے دی گئی اور حکم ہو گیا کہ اس دن مچھلی کا شکار نہ کرو۔ پھر مچھلیوں کا اس دن نمایاں ہونا اور دوسرے دنوں میں نہ نکلنا وغیرہ بیان فرما کر فرمایا کہ پھر ان میں سے ایک شخص نے ایک مچھلی ہفتے کے دن پکڑی، اس کی ناک میں سوراخ کر کے ڈور باندھ کر ایک کیل کنارے گاڑ کر اس میں ڈور اٹکا کر مچھلی کو دریا میں ڈال دیا۔ دوسرے دن جا کر پانی میں سے نکال لایا اور بھون کر کھا لی۔ سوائے اس پاک باز حق گو جماعت کے لوگوں کے کسی نے نہ اسے روکا، نہ منع کیا، نہ سمجھایا لیکن ان کی نصیحت کا ان پر کوئی اثر نہ ہوا۔ اس ایک کی دیکھا دیکھی اور بھی یہی کام کرنے لگے۔ یہاں تک کہ بازاروں میں مچھلی آنے لگی اور اعلانیہ یہ کام ہونے لگا۔

ایک اور جماعت کے لوگوں نے اس حق والی جماعت سے کہا کہ تم ان لوگوں کو کیوں وعظ کرتے ہو؟ اللہ تو انہیں ہلاک کرنے والا یا سخت عذاب کرنے والا ہے تو انہوں نے یہ جواب دیا یعنی اللہ کا فرمان دہرایا۔ لیکن لوگ فرمان ربانی کو بھول بیٹھے اور عذاب رب کے خود شکار ہو گئے۔ یہ تین گروہوں میں بٹ گئے تھے: ایک تو شکار کھیلنے والا، ایک منع کرنے والا، ایک ان منع کرنے والوں سے کہنے والا کہ اب نصیحت بے کار ہے۔ بس وہ تو بچ گئے جو برابر روکتے رہے تھے اور باقی دونوں جماعتیں ہلاک کر دی گئیں۔ سند اس کی نہایت عمدہ ہے لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا عکرمہ کے قول کی طرف رجوع کرنا، اس قول کے کہنے سے اولیٰ ہے۔ اس لیے کہ اس قول کے بعد ان پر ان کے حال کی حقیقت کھل گئی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر فرمان ہے کہ ہم نے ظالموں کو سخت عذابوں سے دبوچ لیا۔ مفہوم کی دلالت تو اس بات پر ہے کہ جو باقی رہے، بچ گئے۔ «بَئِيسٍ» کی کئی ایک قرأتیں ہیں۔ اس کے معنی سخت کے، درد ناک کے، تکلیف دہ کے ہیں۔ اور سب کا مطلب قریب قریب یکساں ہے۔ ان کی سرکشی اور ان کے حد سے گزر جانے کے باعث ہم نے ان سے کہہ دیا کہ تم ذلیل، حقیر اور ناقدرے بندر بن جاؤ۔ چنانچہ وہ ایسے ہی ہو گئے۔
166۔ 1 عَتَوا کے معنی ہیں جنہوں نے اللہ کی نافرمانی میں حد سے تجاوز کیا۔ مفسرین کے درمیان اس امر میں اختلاف ہے کہ نجات پانے والے صرف وہی تھے، جو منع کرتے تھے اور باقی دونوں عذاب الٰہی کی زد میں آئے؟ یا زد میں آنے والے صرف معصیت کار تھے؟ باقی دو جماعتیں نجات پانے والی تھیں؟ امام ابن کثیر نے دوسری رائے کو ترجیح دی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَ اِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّکَ لَیَبۡعَثَنَّ عَلَیۡہِمۡ اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ مَنۡ یَّسُوۡمُہُمۡ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ ؕ اِنَّ رَبَّکَ لَسَرِیۡعُ الۡعِقَابِ ۚۖ وَ اِنَّہٗ لَغَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۶۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور یاد کرو جبکہ تمہارے رب نے اعلان کر دیا کہ "وہ قیامت تک برابر ایسے لوگ بنی اسرائیل پر مسلط کرتا رہے گا جو ان کو بدترین عذاب دیں گے،" یقیناً تمہارا رب سزا دینے میں تیز دست ہے اور یقیناً وہ در گزر اور رحم سے بھی کام لینے والا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور وه وقت یاد کرنا چاہیئے کہ آپ کے رب نے یہ بات بتلا دی کہ وه ان یہود پر قیامت تک ایسے شخص کو ضرور مسلط کرتا رہے گا جو ان کو سزائے شدید کی تکلیف پہنچاتا رہے گا، بلاشبہ آپ کا رب جلدی ہی سزا دے دیتا ہے اور بلاشبہ وه واقعی بڑی مغفرت اور بڑی رحمت واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور جب تمہارے رب نے حکم سنادیا کہ ضرور قیامت کے دن تک ان پر ایسے کو بھیجتا رہوں گا جو انہیں بری مار چکھائے بیشک تمہارا رب ضرور جلد عذاب والا ہے اور بیشک وہ بخشنے والا مہربان ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اور (اے پیغمبر(ص)) یاد کرو جب تمہارے پروردگار نے اعلان کر دیا تھا (کہ اگر یہ لوگ اپنی سیاہ کاریوں سے باز نہ آئے) تو خدا ان پر قیامت تک ایسے لوگ مسلط کرے گا جو انہیں بدترین عذاب میں گرفتار کریں گے یقینا تمہارا پروردگار بہت جلد سزا دینے والا ہے اور بڑا بخشنے والا اور بڑا رحم کرنے والا بھی ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب تیرے رب نے صاف اعلان کر دیا کہ وہ قیامت کے دن تک ان پر ایسا شخص ضرور بھیجتا رہے گا جو انھیں برا عذاب دے، بے شک تیرا رب یقینا بہت جلد سزا دینے والا ہے اور بے شک وہ یقینا بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالٰی کی نافرمانی کا انجام ذلت و رسوائی ٭٭

اللہ تعالیٰ نے یہود کو اطلاع کر دی کہ ان کی اس سخت نافرمانی اور باربار کی بغاوت اور ہر موقعہ پر نافرمانی، رب سے سرکشی اور اللہ کے حرام کو اپنے کام میں لانے کے لئے حیلہ جوئی کر کے اسے حلال کی جامہ پوشی کا بدلہ یہ ہے کہ قیامت تک یہ دبے رہیں گے، ذلت میں رہیں گے، لوگ ان کو پست کرتے چلے جائیں گے۔ خود موسیٰ علیہ السلام نے بھی ان پر تاوان مقرر کر دیا تھا۔ سات سال یا تیرہ سال تک یہ اسے ادا کرتے رہے، سب سے پہلے خراج کا طریقہ آپ نے ہی ایجاد کیا۔ پھر ان پر یونانیوں کی حکومت ہوئی، پھر کشدانیوں اور کلدانیوں کی، پھر نصرانیوں کی۔ سب کے زمانے میں ذلیل اور حقیر رہے، ان سے جزیہ لیا جاتا رہا اور انہیں پستی سے ابھرنے کا کوئی موقعہ نہ ملا۔ پھر اسلام آیا اور اس نے بھی انہیں پست کیا، جزیہ اور خراج برابر ان سے وصول ہوتا رہا۔ غرض یہ ذلیل رہے۔ اس امت کے ہاتھوں بھی حقارت کے گڑھے میں گرے رہے۔ بالآخر یہ دجال کے ساتھ مل جائیں گے لیکن مسلمان عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ جا کر پھر ان کی تخم ریزی کر دیں گے۔ جو بھی اللہ کی شریعت کی مخالفت کرتا ہے، اللہ کے فرمان کی تحقیر کرتا ہے، اللہ اسے جلد ہی سزا دے دیتا ہے۔ ہاں جو اس کی طرف رغبت و رجوع کرے، توبہ کرے، جھکے تو وہ بھی اس کے ساتھ بخشش و رحمت سے پیش آتا ہے۔ چونکہ ایمان نام ہے خوف اور امید کا، اسی لیے یہاں اور اکثر جگہ عذاب و ثواب، پکڑ دھکڑ اور بخشش، ڈراوا اور لالچ دونوں کا ایک ساتھ بیان ہوا ہے۔
167۔ 1 یعنی وہ وقت بھی یاد کرو! جب آپ کے رب نے ان یہودیوں کو اچھی طرح باخبر کردیا یا جتلایا تھا، یعنی قسم کھا کر نہایت تاکید کے ساتھ اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ وہ ان پر قیامت تک ایسے لوگوں کو مسلط کرتا رہے گا جو ان کو سخت عذاب میں مبتلا رکھیں گے، چناچہ یہودیوں کی پوری تاریخ اس ذلت و مسکنت اور غلامی و محکومی کی تاریخ ہے جس کی خبر اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں دی ہے۔ اسرائیل کی موجودہ حکومت قرآن کی بیان کردہ اس حقیقت کے خلاف نہیں ہے اس لئے کہ وہ قرآن ہی کے بیان کردہ استثنا وَ حَبْلٍ مِنَا النَّاسِ کی مظہر ہے جو قرآنی حقیقت کے خلاف نہیں بلکہ اس کی موید ہے۔ (تفصیل دیکھئے آل عمران۔ 112 کا حاشیہ) 167۔ 2 یعنی اگر ان میں سے کوئی توبہ کرکے مسلمان ہوجائے تو وہ ذلت و رسوائی سے بچ جائے گا۔
(آیت 167) {وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكَ لَيَبْعَثَنَّ …:} گزشتہ آیات میں یہود کی آسانی اور سختی کے ساتھ آزمائشوں اور ان کے بعض نیک و بد اعمال کا ذکر فرمایا، اب اس آیت میں بتایا کہ قیامت تک ان پر ایسے لوگ مسلط کیے جاتے رہیں گے جو انھیں بدترین عذاب چکھاتے رہیں گے۔ سورۂ آل عمران (۱۱۲) میں فرمایا کہ ان پر ذلت مسلط کر دی گئی مگر اللہ کی پناہ اور لوگوں کی پناہ کے ساتھ۔ دیکھیے آیت مذکورہ کی تفسیر۔ یہودیوں کی پوری تاریخ اس حقیقت کی زندہ شہادت ہے، وہ ہر زمانے میں جہاں بھی رہے دوسروں کے محکوم اور غلام بن کر رہے اور آئے دن ان پر ایسے حکمران مسلط ہوتے رہے جنھوں نے انھیں ظلم و ستم کا تختۂ مشق بنایا۔ دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل (۴ تا ۸) قریب زمانے میں ہٹلر نے ان سے جو سلوک کیا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں، اگر کسی جگہ عارضی طور پر انھیں امن و امان نصیب ہوا بھی اور ان کی برائے نام حکومت قائم ہوئی بھی تو وہ اپنے بل بوتے پر نہیں بلکہ سراسر دوسروں کے سہارے پر۔
وَ قَطَّعۡنٰہُمۡ فِی الۡاَرۡضِ اُمَمًا ۚ مِنۡہُمُ الصّٰلِحُوۡنَ وَ مِنۡہُمۡ دُوۡنَ ذٰلِکَ ۫ وَ بَلَوۡنٰہُمۡ بِالۡحَسَنٰتِ وَ السَّیِّاٰتِ لَعَلَّہُمۡ یَرۡجِعُوۡنَ ﴿۱۶۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہم نے ان کو زمین میں ٹکڑے ٹکڑے کر کے بہت سی قوموں میں تقسیم کر دیا کچھ لوگ ان میں نیک تھے اور کچھ ا س سے مختلف اور ہم ان کو اچھے اور برے حالات سے آزمائش میں مبتلا کرتے رہے کہ شاید یہ پلٹ آئیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہم نے دنیا میں ان کی مختلف جماعتیں کر دیں۔ بعض ان میں نیک تھے اور بعض ان میں اور طرح تھے اور ہم ان کو خوش حالیوں اور بدحالیوں سے آزماتے رہے کہ شاید باز آجائیں
احمد رضا خان بریلوی
اور انہیں ہم نے زمین میں متفرق کردیا گروہ گروہ، ان میں کچھ نیک ہیں اور کچھ اور طرح کے اور ہم نے انہیں بھلائیوں اور برائیوں سے آزمایا کہ کہیں وہ رجوع لائیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے ان کو زمین میں مختلف فرقوں کی صورت میں ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ ان میں سے ناپائیدار ہوگا کچھ لوگ تو نیک ہیں اور کچھ اس کے خلاف اور طرح کے (بدکار) ہیں۔ اور ہم ان کو اچھے اور برے حالات میں مبتلا کرکے آزماتے ہیں تاکہ وہ باز آجائیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے انھیں زمین میں مختلف گروہوں میں ٹکڑے ٹکڑے کر دیا، انھی میں سے کچھ نیک تھے اور ان میں سے کچھ اس کے علاوہ تھے اور ہم نے اچھے حالات اور برے حالات کے ساتھ ان کی آزمائش کی، تاکہ وہ باز آجائیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
رشوت خوری کا انجام ذلت و رسوائی ہے ٭٭

بنی اسرائیل مختلف فرقے اور گروہ کر کے زمین میں پھیلا دیئے گئے۔ جیسے فرمان ہے کہ ’ ہم نے بنی اسرائیل سے کہا: تم زمین میں رہو سہو۔ جب آخرت کا وعدہ آئے گا، ہم تمہیں جمع کر کے لائیں گے۔ ان میں کچھ تو نیک لوگ تھے، کچھ بد تھے۔ ‘ ۱؎ [17-الإسراء:104] ‏‏‏‏ جنات میں بھی یہی حال ہے۔ جیسے سورۃ الجن میں ان کا قول ہے کہ ’ ہم میں کچھ تو نیک ہیں اور کچھ اور طرح کے ہیں۔ ہمارے بھی مختلف فرقے ہوتے آئے ہیں۔ ‘ ۱؎ [72-الجن:11] ‏‏‏‏ پھر فرمان ہے کہ ہم نے انہیں سختی نرمی سے، لالچ اور خوف سے، عافیت اور بلا سے، غرض ہر طرح پرکھ لیا تاکہ وہ اپنے کرتوت سے ہٹ جائیں۔ جب یہ زمانہ بھی گزرا جس میں نیک و بد ہر طرح کے لوگ تھے، ان کے بعد تو ایسے ناخلف اور نالائق آئے جن میں کوئی بھلائی اور خیریت تھی ہی نہیں۔ یہ اب تورات کی تلاوت کرنے والے رہ گئے۔ ممکن ہے اس سے مراد صرف نصرانی ہوں اور ممکن ہے کہ یہ خبر عام نصرانی، غیر نصرانی سب پر مشتمل ہو۔ وہ حق بات کے بدلنے اور مٹانے کی فکر میں لگ گئے، جیب بھر دو، جو چاہو کہلوا لو۔ پس ہوس یہ ہے کہ ہے کیا؟ توبہ کر لیں گے، معاف ہو جائے گا۔ پھر موقعہ آیا پھر دنیا لے کر اللہ کی باتیں بدل دیں۔ گناہ کیا، توبہ کی۔ پھر موقعہ ملتے ہی لپک کر گناہ کر لیا۔ مقصود ان کا دنیا طلبی ہے۔ حلال سے ملے، چاہے حرام سے ملے۔ پھر بھی مغفرت کی تمنا ہے۔ یہ ہیں جو وارث رسول کہلواتے ہیں اور جن سے اللہ نے عہد لیا ہے۔ جیسے دوسری آیت میں ہے کہ ’ ان کے بعد ایسے ناخلف آئے جنہوں نے نماز تک ضائع کر دی۔ ‘ ۱؎ [19-مريم:59] ‏‏‏‏

بنی اسرائیل کا آوے کا آوا بگڑ گیا۔ آج ایک کو قاضی بناتے ہیں، وہ رشوتیں کھانے اور احکام بدلنے لگتا ہے۔ وہ اسے ہٹا کر دوسرے کو قائم مقام کرتے ہیں، اس کا بھی یہی حال ہوتا ہے۔ پوچھتے ہیں: بھئی ایسا کیوں کرتے ہو؟ جواب ملتا ہے: اللہ غفور و رحیم ہے۔ پھر وہ ان لوگوں میں سے کسی کو اس عہدے پر لاتے ہیں جو اگلے قاضیوں ح، اکموں اور ججوں کا شاکی تھا۔ لیکن وہ بھی رشوتیں لینے لگتا ہے اور ناحق فیصلے کرنے لگتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم ایسا کیوں کرتے ہو؟ حالانکہ تم سے مضبوط عہد و پیمان ہم نے لے لیا ہے کہ تم حق کو ظاہر کیا کرو، اسے نہ چھپاؤ لیکن ذلیل دنیا کے لالچ میں آ کر عذاب رب مول لے رہے ہو۔ اسی وعدے کا بیان آیت «وَإِذْ أَخَذَ اللَّـهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلَا تَكْتُمُونَهُ فَنَبَذُوهُ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ وَاشْتَرَوْا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا فَبِئْسَ مَا يَشْتَرُونَ» ۱؎ [3-آل عمران:187] ‏‏‏‏ میں ہوا ہے یعنی ’ اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاری سے عہد لیا تھا کہ وہ کتاب اللہ لوگوں کے سامنے بیان کرتے رہیں گے اور اس کی کوئی بات نہ چھپائیں گے۔ ‘ یہ بھی اس کے خلاف تھا کہ گناہ کرتے چلے جائیں، توبہ نہ کریں اور بخشش کی امید رکھیں۔ پھر اللہ تعالیٰ انہیں اپنے پاس کے اجر و ثواب کا لالچ دکھاتا ہے کہ اگر تقویٰ کیا، حرام سے بچے، خواہش نفسانی کے پیچھے نہ لگے، رب کی اطاعت کی تو آخرت کا بھلا تمہیں لے گا جو اس فانی دنیا کے ٹھاٹھ سے بہت ہی بہتر ہے۔ کیا تم میں اتنی بھی سمجھ نہیں کہ گراں بہا چیز کو چھوڑ کر ردی چیز کے پیچھے پڑے ہو؟ پھر جناب باری عزوجل ان مومنوں کی تعریف کرتا ہے جو کتاب اللہ پر قائم ہیں اور اس کتاب کی راہنمائی کے مطابق اس پیغمبر آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرتے ہیں، کلام رب پر جم کر عمل کرتے ہیں، احکام الٰہی کو دل سے مانتے ہیں اور بجا لاتے ہیں، اس کے منع کردہ کاموں سے رک گئے ہیں، نماز کو پابندی، دلچسپی، خشوع اور خضوع سے ادا کرتے ہیں۔ حقیقتاً یہی لوگ اصلاح پر ہیں اور ناممکن ہے کہ ان نیک اور پاکباز لوگوں کا بدلہ اللہ ضائع کر دے۔
168۔ 1 اس میں یہود کے مختلف گروہوں میں بٹ جانے ان میں سے بعض کے نیک ہونے کا ذکر ہے۔ اور ان دونوں طریقوں سے آزمائے جانے کا بیان ہے کہ شاید وہ اپنی حرکتوں سے باز آجائیں اور اللہ کی طرف رجوع کریں۔
(آیت 168) ➊ { وَ قَطَّعْنٰهُمْ فِي الْاَرْضِ اُمَمًا:} تاکہ ان کی کوئی اجتماعی قوت وجود میں نہ آ سکے۔ اس لیے یہودی تمام دنیا میں ٹکڑوں کی شکل میں پھیلے ہوئے ہیں اور جہاں رہتے ہیں اپنی سود خوری اور اس ملک کے خلاف سرگرمیوں اور جاسوسی کی وجہ سے نفرت کی نگاہوں کا نشانہ بنے رہتے ہیں، پھر ان کی برتری کی خواہش اور دنیا کی دولت اور حکومت کو اپنے قبضے میں لینے کی خواہش کے لیے ان کی سازشیں یہودی پروٹوکول کی صورت میں دنیا کے سامنے آ چکی ہیں۔ برطانیہ، فرانس، جرمنی اور کتنے ہی ملکوں سے انھیں نکالا گیا اور تہ تیغ کیا گیا، اب اگرچہ جرمنی سے غداری کے انعام میں برطانیہ اور امریکہ کے بل بوتے پر وہ عربوں کے قلب میں اسرائیل کے خنجر کی صورت میں پیوست ہو چکے ہیں، مگر ان کی اصل قوت امریکہ اور برطانیہ وغیرہ ہی ہیں۔ یہاں جمع ہو کر بھی وہ ظلم و ستم سے باز آنے کے بجائے فلسطینی عربوں پر ناقابل بیان مظالم ڈھا رہے ہیں، اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ ان کے مؤاخذے میں اس دیر کا انجام کیا ہوتا ہے، کیونکہ وہاں دیر ہے اندھیر نہیں۔ ➋ { مِنْهُمُ الصّٰلِحُوْنَ وَ مِنْهُمْ دُوْنَ ذٰلِكَ:} ان میں سے کچھ نیک ہیں، یعنی وہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئے، یا جیسے وہ لوگ جنھوں نے ہفتے کے روز مچھلی کے شکار سے منع کیا تھا۔ دیکھیے آل عمران (۱۱۳ تا ۱۱۵) اور کچھ ان کے علاوہ، یعنی نیک نہیں بلکہ شریر اور بدکار، جیسے سود، رشوت اور دوسرے طریقوں سے حرام کھانے والے اور انبیاء تک کو قتل کر ڈالنے والے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچاننے کے باوجود آپ کی مخالفت کرنے والے۔ ➌ { وَ بَلَوْنٰهُمْ بِالْحَسَنٰتِ وَ السَّيِّاٰتِ …: } کبھی راحت اور آرام دیا اور کبھی تکلیف میں مبتلا کر دیا، اسی طرح کبھی خوش حالی عطا فرمائی، کبھی فقر و فاقہ سے دو چار کر دیا، تاکہ وہ باز آ جائیں، یعنی اپنے گناہوں کی معافی مانگیں اور تورات کے احکام پر عمل کریں۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”یہود کی دولت برہم ہوئی تو آپس کی مخالفت سے ہر طرف نکل گئے اور مختلف مذاہب پیدا ہوئے، یہ احوال اس امت کو سنایا کہ یہ سب کچھ ان پر بھی ہو گا۔ حدیث میں فرمایا ہے کہ اس امت میں بعض بندر اور سور ہو جائیں گے۔ اللہ گمراہی سے پناہ دے۔“ (موضح) یہ حدیث بخاری میں ہے، فرمایا: [ وَ يَمْسَخُ آخَرِيْنَ قِرَدَةً وَ خَنَازِيْرَ إِلٰی يَوْمِ الْقِيَامَةِ ] [ بخاری، الأشربہ، باب ما جاء فیمن یستحل الخمر…: ۵۵۹۰ ] ”اور ان میں سے بہت سوں کو قیامت تک کے لیے بندروں اور خنزیروں کی صورت میں مسخ کر دے گا۔“
فَخَلَفَ مِنۡۢ بَعۡدِہِمۡ خَلۡفٌ وَّرِثُوا الۡکِتٰبَ یَاۡخُذُوۡنَ عَرَضَ ہٰذَا الۡاَدۡنٰی وَ یَقُوۡلُوۡنَ سَیُغۡفَرُ لَنَا ۚ وَ اِنۡ یَّاۡتِہِمۡ عَرَضٌ مِّثۡلُہٗ یَاۡخُذُوۡہُ ؕ اَلَمۡ یُؤۡخَذۡ عَلَیۡہِمۡ مِّیۡثَاقُ الۡکِتٰبِ اَنۡ لَّا یَقُوۡلُوۡا عَلَی اللّٰہِ اِلَّا الۡحَقَّ وَ دَرَسُوۡا مَا فِیۡہِ ؕ وَ الدَّارُ الۡاٰخِرَۃُ خَیۡرٌ لِّلَّذِیۡنَ یَتَّقُوۡنَ ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۱۶۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر اگلی نسلوں کے بعد ایسے نا خلف لوگ ان کے جانشین ہوئے جو کتاب الٰہی کے وارث ہو کر اِسی دنیائے دنی کے فائدے سمیٹتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ توقع ہے ہمیں معاف کر دیا جائے گا، اور اگر وہی متاع دنیا پھر سامنے آتی ہے تو پھر لپک کر اسے لے لیتے ہیں کیا ان سے کتاب کا عہد نہیں لیا جا چکا ہے کہ اللہ کے نام پر وہی بات کہیں جو حق ہو؟ اور یہ خود پڑھ چکے ہیں جو کتاب میں لکھا ہے آخرت کی قیام گاہ تو خدا ترس لوگوں کے لیے ہی بہتر ہے، کیا تم اتنی سی بات نہیں سمجھتے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر ان کے بعد ایسے لوگ ان کے جانشین ہوئے کہ کتاب کو ان سے حاصل کیا وه اس دنیائے فانی کا مال متاع لے لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہماری ضرور مغفرت ہو جائے گی حاﻻنکہ اگر ان کے پاس ویسا ہی مال متاع آنے لگے تو اس کو بھی لے لیں گے۔ کیا ان سے اس کتاب کے اس مضمون کا عہد نہیں لیا گیا کہ اللہ کی طرف بجز حق بات کے اور کسی بات کی نسبت نہ کریں، اور انہوں نے اس کتاب میں جو کچھ تھا اس کو پڑھ لیا اور آخرت واﻻ گھر ان لوگوں کے لیے بہتر ہے جو تقویٰ رکھتے ہیں، پھر کیا تم نہیں سمجھتے
احمد رضا خان بریلوی
پھر ان کی جگہ ان کے بعد وہ ناخلف آئے کہ کتاب کے وارث ہوئے اس دنیا کا مال لیتے ہیں اور کہتے اب ہماری بخشش ہوگی اور اگر ویسا ہی مال ان کے پاس اور آئے تو لے لیں کیا ان پر کتاب میں عہد نہ لیا گیا کہ اللہ کی طرف نسبت نہ کریں مگر حق اور انہوں نے اسے پڑھا اور بیشک پچھلا گھر بہتر ہے پرہیزگاروں کو تو کیا تمہیں عقل نہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
پھر ان کے بعد ایسے ناخلف لوگ ان کے جانشین ہوئے اور کتابِ الٰہی کے وارث بنے جو (دین فروشی کرکے) دنیائے دوں کے مال و متاع اور ساز و سامان جمع کرتے اور سمیٹتے ہیں اور کہتے ہیں کہ امید ہے کہ ہم بخش دیے جائیں گے اور اگر اتنا ہی اور عارضی ساز و سامان ان کے ہاتھ لگ جائے تو اسے بھی بے دریغ لے لیتے ہیں۔ کیا ان سے کتاب (توراۃ) والا یہ عہد و پیمان نہیں لیا گیا تھا کہ وہ اللہ کی نسبت حق کے سوا اور کوئی بات نہیں کہیں گے؟ اور یہ خود کتاب میں پڑھ چکے ہیں جو اس میں لکھا ہے اور آخرت والا گھر پرہیزگاروں کے لیے بہتر ہے کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟
عبدالسلام بن محمد
پھر ان کے بعد ان کی جگہ نالائق جانشین آئے، جو کتاب کے وارث بنے، وہ اس حقیر دنیا کا سامان لیتے اور کہتے ہمیں ضرور بخش دیا جائے گا اور اگر ان کے پاس اس جیسا اور سامان آ جاتا تو اسے بھی لے لیتے، کیا ان سے کتاب کا عہد نہیں لیا گیا تھا کہ اللہ پر حق کے سوا کچھ نہ کہیں گے اور انھوں نے جو کچھ اس میں تھا پڑھ بھی لیا تھا اور آخری گھر ان لوگوں کے لیے بہتر ہے جو ڈرتے ہیں، تو کیا تم نہیں سمجھتے؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
رشوت خوری کا انجام ذلت و رسوائی ہے ٭٭

بنی اسرائیل مختلف فرقے اور گروہ کر کے زمین میں پھیلا دیئے گئے۔ جیسے فرمان ہے کہ ’ ہم نے بنی اسرائیل سے کہا: تم زمین میں رہو سہو۔ جب آخرت کا وعدہ آئے گا، ہم تمہیں جمع کر کے لائیں گے۔ ان میں کچھ تو نیک لوگ تھے، کچھ بد تھے۔ ‘ ۱؎ [17-الإسراء:104] ‏‏‏‏ جنات میں بھی یہی حال ہے۔ جیسے سورۃ الجن میں ان کا قول ہے کہ ’ ہم میں کچھ تو نیک ہیں اور کچھ اور طرح کے ہیں۔ ہمارے بھی مختلف فرقے ہوتے آئے ہیں۔ ‘ ۱؎ [72-الجن:11] ‏‏‏‏ پھر فرمان ہے کہ ہم نے انہیں سختی نرمی سے، لالچ اور خوف سے، عافیت اور بلا سے، غرض ہر طرح پرکھ لیا تاکہ وہ اپنے کرتوت سے ہٹ جائیں۔ جب یہ زمانہ بھی گزرا جس میں نیک و بد ہر طرح کے لوگ تھے، ان کے بعد تو ایسے ناخلف اور نالائق آئے جن میں کوئی بھلائی اور خیریت تھی ہی نہیں۔ یہ اب تورات کی تلاوت کرنے والے رہ گئے۔ ممکن ہے اس سے مراد صرف نصرانی ہوں اور ممکن ہے کہ یہ خبر عام نصرانی، غیر نصرانی سب پر مشتمل ہو۔ وہ حق بات کے بدلنے اور مٹانے کی فکر میں لگ گئے، جیب بھر دو، جو چاہو کہلوا لو۔ پس ہوس یہ ہے کہ ہے کیا؟ توبہ کر لیں گے، معاف ہو جائے گا۔ پھر موقعہ آیا پھر دنیا لے کر اللہ کی باتیں بدل دیں۔ گناہ کیا، توبہ کی۔ پھر موقعہ ملتے ہی لپک کر گناہ کر لیا۔ مقصود ان کا دنیا طلبی ہے۔ حلال سے ملے، چاہے حرام سے ملے۔ پھر بھی مغفرت کی تمنا ہے۔ یہ ہیں جو وارث رسول کہلواتے ہیں اور جن سے اللہ نے عہد لیا ہے۔ جیسے دوسری آیت میں ہے کہ ’ ان کے بعد ایسے ناخلف آئے جنہوں نے نماز تک ضائع کر دی۔ ‘ ۱؎ [19-مريم:59] ‏‏‏‏

بنی اسرائیل کا آوے کا آوا بگڑ گیا۔ آج ایک کو قاضی بناتے ہیں، وہ رشوتیں کھانے اور احکام بدلنے لگتا ہے۔ وہ اسے ہٹا کر دوسرے کو قائم مقام کرتے ہیں، اس کا بھی یہی حال ہوتا ہے۔ پوچھتے ہیں: بھئی ایسا کیوں کرتے ہو؟ جواب ملتا ہے: اللہ غفور و رحیم ہے۔ پھر وہ ان لوگوں میں سے کسی کو اس عہدے پر لاتے ہیں جو اگلے قاضیوں ح، اکموں اور ججوں کا شاکی تھا۔ لیکن وہ بھی رشوتیں لینے لگتا ہے اور ناحق فیصلے کرنے لگتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم ایسا کیوں کرتے ہو؟ حالانکہ تم سے مضبوط عہد و پیمان ہم نے لے لیا ہے کہ تم حق کو ظاہر کیا کرو، اسے نہ چھپاؤ لیکن ذلیل دنیا کے لالچ میں آ کر عذاب رب مول لے رہے ہو۔ اسی وعدے کا بیان آیت «وَإِذْ أَخَذَ اللَّـهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلَا تَكْتُمُونَهُ فَنَبَذُوهُ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ وَاشْتَرَوْا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا فَبِئْسَ مَا يَشْتَرُونَ» ۱؎ [3-آل عمران:187] ‏‏‏‏ میں ہوا ہے یعنی ’ اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاری سے عہد لیا تھا کہ وہ کتاب اللہ لوگوں کے سامنے بیان کرتے رہیں گے اور اس کی کوئی بات نہ چھپائیں گے۔ ‘ یہ بھی اس کے خلاف تھا کہ گناہ کرتے چلے جائیں، توبہ نہ کریں اور بخشش کی امید رکھیں۔ پھر اللہ تعالیٰ انہیں اپنے پاس کے اجر و ثواب کا لالچ دکھاتا ہے کہ اگر تقویٰ کیا، حرام سے بچے، خواہش نفسانی کے پیچھے نہ لگے، رب کی اطاعت کی تو آخرت کا بھلا تمہیں لے گا جو اس فانی دنیا کے ٹھاٹھ سے بہت ہی بہتر ہے۔ کیا تم میں اتنی بھی سمجھ نہیں کہ گراں بہا چیز کو چھوڑ کر ردی چیز کے پیچھے پڑے ہو؟ پھر جناب باری عزوجل ان مومنوں کی تعریف کرتا ہے جو کتاب اللہ پر قائم ہیں اور اس کتاب کی راہنمائی کے مطابق اس پیغمبر آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرتے ہیں، کلام رب پر جم کر عمل کرتے ہیں، احکام الٰہی کو دل سے مانتے ہیں اور بجا لاتے ہیں، اس کے منع کردہ کاموں سے رک گئے ہیں، نماز کو پابندی، دلچسپی، خشوع اور خضوع سے ادا کرتے ہیں۔ حقیقتاً یہی لوگ اصلاح پر ہیں اور ناممکن ہے کہ ان نیک اور پاکباز لوگوں کا بدلہ اللہ ضائع کر دے۔
(1) خلف (لام پر فتح کیساتھ) اولاد صالح کو اور خلف (بسکون اللام) نالائق اولاد کو کہتے ہیں۔ اردو میں بھی ناخلف کی ترکیب نالائق اولاد کے معنی میں مستعمل ہے۔ 169۔ 1 أدنی دنو (قریب) سے ماخوذ ہے یعنی قریب کا مال حاصل کرتے ہیں جس سے دنیا مراد ہے یا یہ دَنَآءَۃ سے ماخوذ ہے جس سے مراد حقیر گرا پڑا مال ہے۔ مطلب دونوں سے اس دنیا کے مال متاع کے حرص کی وضاحت ہے۔ 169۔ 2 یعنی طالب دنیا ہونے کے باوجود، مغفرت کی امید رکھتے ہیں، جیسے آجکل کے مسلمانوں کا بھی حال ہے۔ 169۔ 3 اس کے باوجود وہ اللہ کی طرف جھوٹی باتیں منسوب کرنے سے باز نہیں آتے، مثلاً وہی مغفرت کی بات، جو اوپر گزری۔ 169۔ 4 اس کا ایک دوسرا مفہوم مٹانا بھی ہوسکتا ہے، جیسے دَرَسَتِ الرِّیْحُ الاَ ثَارَ (ہوا نے نشانات مٹا ڈالے) یعنی کتاب کی باتوں کو مٹا ڈالا، محو کردیا یعنی ان پر عمل ترک کردیا۔
(آیت 169) ➊ { فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ …: } قرطبی رحمہ اللہ نے فرمایا {” اَلْخَلْفُ “} لام کے سکون کے ساتھ، بمعنی اولاد، واحد جمع یکساں ہیں اور {” اَلْخَلَفُ“} لام کے فتح کے ساتھ پہلوں کی جگہ آنے والا، اولاد ہو یا اجنبی۔ ابن الاعرابی نے فرمایا، لام کے فتح کے ساتھ نیک جانشین اور لام کے سکون کے ساتھ نالائق جانشین اور دونوں الفاظ ایک دوسرے کی جگہ بھی استعمال کر لیے جاتے ہیں۔ (طنطاوی) {” عَرَضٌ “} دنیا کا سامان، کیونکہ وہ عارضی ہے۔ {” هٰذَا الْاَدْنٰى “} میں {” هٰذَا “} (اس) کے لفظ سے حقارت مراد ہے اور {” الْاَدْنٰى “} کے لفظ سے بھی دنیا کی دنایت اور حقارت مراد ہے۔ (کشاف) پھر ان کے جانشین ایسے نالائق ہوئے جو کتاب اللہ کے وارث بنے، یعنی انھوں نے اسے پڑھا، اس کا علم حاصل کیا اور اس میں مذکور حلال و حرام اور امر و نہی سے پوری طرح آگاہ ہوئے، مگر انھوں نے اس کا اثر قبول کرنے کے بجائے اس کے احکام کی مخالفت کی اور اس کے حرام کو حلال کر لیا اور شدید حرص کی وجہ سے اس حقیر دنیا کے مال کے حصول کی کوشش میں لگ گئے، حلال طریقے سے ملے یا حرام سے، سود ہو یا رشوت یا غیر کا حق۔ اس کے باوجود یہ کہتے رہے کہ ہمیں ضرور بخش دیا جائے گا۔ {” سَيُغْفَرُ لَنَا “} میں سین تاکید کے لیے ہے۔ (آلوسی) کیونکہ ہم اللہ کے بیٹے، اس کے محبوب اور اس کے انبیاء کی نسل سے ہیں، فرمایا: «{ وَ قَالَتِ الْيَهُوْدُ وَ النَّصٰرٰى نَحْنُ اَبْنٰٓؤُا اللّٰهِ وَ اَحِبَّآؤُهٗ }» [ المائدۃ: ۱۸] ”اور یہود و نصاریٰ نے کہا ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں۔“ ➋ { وَ اِنْ يَّاْتِهِمْ عَرَضٌ مِّثْلُهٗ يَاْخُذُوْهُ:} یعنی گناہ کرنے اور حرام کھانے کے بعد نہ وہ شرمندہ ہوتے ہیں اور نہ ان میں توبہ کا جذبہ پیدا ہوتا ہے، بلکہ گناہوں پر اور حرام خوری پر ان کی جرأت بڑھتی جاتی ہے، حالانکہ بخشش کے لیے تو توبہ کی ضرورت ہے، جس کا لازمی جزو گزشتہ پر ندامت اور آئندہ کے لیے وہ کام نہ کرنے کا خالص اور پختہ عزم ہے اور ان کا حال یہ ہے کہ پہلی دفعہ حرام کھانے کے بعد اسی طرح کا حرام دوبارہ مل جائے تو اسے بھی نہیں چھوڑتے۔ چنانچہ ایک مرتبہ رشوت لینے کے بعد جوں ہی انھیں دوبارہ رشوت کا موقع ملتا ہے بلا جھجک اسے قبول کر لیتے ہیں۔ یہ ان کے علماء کا حال ہے کہ لوگوں کو غلط مسئلے بتا کر حرام کھانے کے باوجود دعویٰ کرتے ہیں کہ ہماری بخشش ہو جائے گی، حالانکہ وہ غلط کام چھوڑنے کے لیے تیار نہیں، جو بخشش کی شرط اول ہے۔ ➌ {اَلَمْ يُؤْخَذْ عَلَيْهِمْ مِّيْثَاقُ الْكِتٰبِ …:} یہ عہد تفصیل کے ساتھ تورات کے علاوہ آل عمران کی آیت (۱۸۷) میں مذکور ہے۔ ➍ { وَ دَرَسُوْا مَا فِيْهِ:} اور انھوں نے جو کچھ اس میں ہے پڑھ لیا ہے، یعنی خوب جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تورات میں کہیں نہیں لکھا کہ تم جو گناہ چاہو کرتے جاؤ میں تمھیں بخش دوں گا، مگر ان کی جرأت اور بے خوفی کا یہ عالم ہے کہ گناہ بھی کیے جاتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی آیات کو بیچ کر دنیا بھی کمائے جاتے ہیں اور اللہ عزوجل کی طرف وہ باتیں بھی منسوب کیے جاتے ہیں جو اس نے کبھی نہیں کہیں۔ ➎ { وَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ خَيْرٌ لِّلَّذِيْنَ يَتَّقُوْنَ:} یعنی اللہ تعالیٰ سے ڈر کر حرام کھانے سے بچنے والوں کے لیے آخرت میں جو نعمتیں تیار ہیں وہ اس حقیر دنیا کے عارضی سازوسامان سے کہیں بہتر ہیں۔ سب کچھ جانتے ہوئے حرام کھانے والو! کیا تم یہ نہیں سمجھتے؟
وَ الَّذِیۡنَ یُمَسِّکُوۡنَ بِالۡکِتٰبِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ ؕ اِنَّا لَا نُضِیۡعُ اَجۡرَ الۡمُصۡلِحِیۡنَ ﴿۱۷۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جو لوگ کتاب کی پابندی کر تے ہیں اور جنہوں نے نماز قائم رکھی ہے، یقیناً ایسے نیک کردار لوگوں کا اجر ہم ضائع نہیں کریں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جو لوگ کتاب کے پابند ہیں اور نماز کی پابندی کرتے ہیں، ہم ایسے لوگوں کا جو اپنی اصلاح کریں ﺛواب ضائع نہ کریں گے
احمد رضا خان بریلوی
اور وہ جو کتاب کو مضبوط تھامتے ہیں اور انہوں نے نماز قائم رکھی، ہم نیکوں کا نیگ (اجر) نہیں گنواتے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو لوگ کتابِ الٰہی سے تمسک رکھتے ہیں اور نماز کو قائم کرتے ہیں۔ بے شک ہم اصلاح کرنے والوں کا اجر و ثواب ضائع نہیں کریں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جو لوگ کتاب کو مضبوطی سے پکڑتے ہیں اور انھوں نے نماز قائم کی، یقینا ہم اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
رشوت خوری کا انجام ذلت و رسوائی ہے ٭٭

بنی اسرائیل مختلف فرقے اور گروہ کر کے زمین میں پھیلا دیئے گئے۔ جیسے فرمان ہے کہ ’ ہم نے بنی اسرائیل سے کہا: تم زمین میں رہو سہو۔ جب آخرت کا وعدہ آئے گا، ہم تمہیں جمع کر کے لائیں گے۔ ان میں کچھ تو نیک لوگ تھے، کچھ بد تھے۔ ‘ ۱؎ [17-الإسراء:104] ‏‏‏‏ جنات میں بھی یہی حال ہے۔ جیسے سورۃ الجن میں ان کا قول ہے کہ ’ ہم میں کچھ تو نیک ہیں اور کچھ اور طرح کے ہیں۔ ہمارے بھی مختلف فرقے ہوتے آئے ہیں۔ ‘ ۱؎ [72-الجن:11] ‏‏‏‏ پھر فرمان ہے کہ ہم نے انہیں سختی نرمی سے، لالچ اور خوف سے، عافیت اور بلا سے، غرض ہر طرح پرکھ لیا تاکہ وہ اپنے کرتوت سے ہٹ جائیں۔ جب یہ زمانہ بھی گزرا جس میں نیک و بد ہر طرح کے لوگ تھے، ان کے بعد تو ایسے ناخلف اور نالائق آئے جن میں کوئی بھلائی اور خیریت تھی ہی نہیں۔ یہ اب تورات کی تلاوت کرنے والے رہ گئے۔ ممکن ہے اس سے مراد صرف نصرانی ہوں اور ممکن ہے کہ یہ خبر عام نصرانی، غیر نصرانی سب پر مشتمل ہو۔ وہ حق بات کے بدلنے اور مٹانے کی فکر میں لگ گئے، جیب بھر دو، جو چاہو کہلوا لو۔ پس ہوس یہ ہے کہ ہے کیا؟ توبہ کر لیں گے، معاف ہو جائے گا۔ پھر موقعہ آیا پھر دنیا لے کر اللہ کی باتیں بدل دیں۔ گناہ کیا، توبہ کی۔ پھر موقعہ ملتے ہی لپک کر گناہ کر لیا۔ مقصود ان کا دنیا طلبی ہے۔ حلال سے ملے، چاہے حرام سے ملے۔ پھر بھی مغفرت کی تمنا ہے۔ یہ ہیں جو وارث رسول کہلواتے ہیں اور جن سے اللہ نے عہد لیا ہے۔ جیسے دوسری آیت میں ہے کہ ’ ان کے بعد ایسے ناخلف آئے جنہوں نے نماز تک ضائع کر دی۔ ‘ ۱؎ [19-مريم:59] ‏‏‏‏

بنی اسرائیل کا آوے کا آوا بگڑ گیا۔ آج ایک کو قاضی بناتے ہیں، وہ رشوتیں کھانے اور احکام بدلنے لگتا ہے۔ وہ اسے ہٹا کر دوسرے کو قائم مقام کرتے ہیں، اس کا بھی یہی حال ہوتا ہے۔ پوچھتے ہیں: بھئی ایسا کیوں کرتے ہو؟ جواب ملتا ہے: اللہ غفور و رحیم ہے۔ پھر وہ ان لوگوں میں سے کسی کو اس عہدے پر لاتے ہیں جو اگلے قاضیوں ح، اکموں اور ججوں کا شاکی تھا۔ لیکن وہ بھی رشوتیں لینے لگتا ہے اور ناحق فیصلے کرنے لگتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم ایسا کیوں کرتے ہو؟ حالانکہ تم سے مضبوط عہد و پیمان ہم نے لے لیا ہے کہ تم حق کو ظاہر کیا کرو، اسے نہ چھپاؤ لیکن ذلیل دنیا کے لالچ میں آ کر عذاب رب مول لے رہے ہو۔ اسی وعدے کا بیان آیت «وَإِذْ أَخَذَ اللَّـهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلَا تَكْتُمُونَهُ فَنَبَذُوهُ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ وَاشْتَرَوْا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا فَبِئْسَ مَا يَشْتَرُونَ» ۱؎ [3-آل عمران:187] ‏‏‏‏ میں ہوا ہے یعنی ’ اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاری سے عہد لیا تھا کہ وہ کتاب اللہ لوگوں کے سامنے بیان کرتے رہیں گے اور اس کی کوئی بات نہ چھپائیں گے۔ ‘ یہ بھی اس کے خلاف تھا کہ گناہ کرتے چلے جائیں، توبہ نہ کریں اور بخشش کی امید رکھیں۔ پھر اللہ تعالیٰ انہیں اپنے پاس کے اجر و ثواب کا لالچ دکھاتا ہے کہ اگر تقویٰ کیا، حرام سے بچے، خواہش نفسانی کے پیچھے نہ لگے، رب کی اطاعت کی تو آخرت کا بھلا تمہیں لے گا جو اس فانی دنیا کے ٹھاٹھ سے بہت ہی بہتر ہے۔ کیا تم میں اتنی بھی سمجھ نہیں کہ گراں بہا چیز کو چھوڑ کر ردی چیز کے پیچھے پڑے ہو؟ پھر جناب باری عزوجل ان مومنوں کی تعریف کرتا ہے جو کتاب اللہ پر قائم ہیں اور اس کتاب کی راہنمائی کے مطابق اس پیغمبر آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرتے ہیں، کلام رب پر جم کر عمل کرتے ہیں، احکام الٰہی کو دل سے مانتے ہیں اور بجا لاتے ہیں، اس کے منع کردہ کاموں سے رک گئے ہیں، نماز کو پابندی، دلچسپی، خشوع اور خضوع سے ادا کرتے ہیں۔ حقیقتاً یہی لوگ اصلاح پر ہیں اور ناممکن ہے کہ ان نیک اور پاکباز لوگوں کا بدلہ اللہ ضائع کر دے۔
170۔ 1 ان لوگوں میں سے جو تقوٰی کا راستہ اختیار کرلیں، کتاب کو مضبوطی سے تھام لیں۔ جس سے مراد اصلی تورات ہے اور جس پر عمل کرتے ہوئے نبوت محمدی پر ایمان لے آئیں، نماز وغیرہ کی پابندی کریں، تو اللہ ایسے مصلحین کا اجر ضائع نہیں کرے گا۔ اس میں ان اہل کتاب (سیاق کلام سے یہاں بطور خاص یہود) کا ذکر ہے جو تقوٰی، تمسک یا کتاب اور اقامت صلٰوۃ کا اہتمام کریں اور ان کے لئے آخرت کی خوشخبری ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ مسلمان ہوجائیں اور رسالت محمدیہ پر ایمان لے آئیں۔ کیونکہ اب پیغمبر آخر الزماں حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے بغیر نجات اخروی ممکن نہیں۔
(آیت 170) {وَ الَّذِيْنَ يُمَسِّكُوْنَ بِالْكِتٰبِ …:} کتاب کو مضبوطی سے پکڑنے سے مراد اس پر عمل کرنا ہے اور نماز بھی اگرچہ اس میں شامل تھی مگر اس کو خصوصاً اس لیے ذکر فرمایا کہ یہ دین کا بنیادی ستون ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّ بَيْنَ الرَّجُلِ وَ بَيْنَ الشِّرْكِ وَالْكُفْرِ تَرْكَ الصَّلَاةِ ] [ مسلم، الإیمان، باب بیان اطلاق اسم الکفر…: ۸۲، عن جابر رضی اللہ عنہ ] ”یقینا آدمی کے درمیان اور شرک و کفر کے درمیان نماز کا ترک ہے۔“ گویا نماز نہیں تو کتاب سے تمسک بھی نہیں۔
وَ اِذۡ نَتَقۡنَا الۡجَبَلَ فَوۡقَہُمۡ کَاَنَّہٗ ظُلَّۃٌ وَّ ظَنُّوۡۤا اَنَّہٗ وَاقِعٌۢ بِہِمۡ ۚ خُذُوۡا مَاۤ اٰتَیۡنٰکُمۡ بِقُوَّۃٍ وَّ اذۡکُرُوۡا مَا فِیۡہِ لَعَلَّکُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴿۱۷۱﴾٪
سید ابو الاعلیٰ مودودی
انہیں وہ وقت بھی کچھ یاد ہے جبکہ ہم نے پہاڑ کو ہلا کر ان پر اس طرح چھا دیا تھا کہ گویا وہ چھتری ہے اور یہ گمان کر رہے تھے کہ وہ ان پر آ پڑے گا اور اُس وقت ہم نے ان سے کہا تھا کہ جو کتاب ہم تمہیں دے رہے ہیں اسے مضبوطی کے ساتھ تھامو اور جو کچھ اس میں لکھا ہے اسے یاد رکھو، توقع ہے کہ تم غلط روی سے بچے رہو گے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور وه وقت بھی قابل ذکر ہے جب ہم نے پہاڑ کو اٹھا کر سائبان کی طرح ان کے اوپر معلق کر دیا اور ان کو یقین ہوگیا کہ اب ان پر گرا اور کہا کہ جو کتاب ہم نے تم کو دی ہے اسے مضبوطی کے ساتھ قبول کرو اور یاد رکھو جو احکام اس میں ہیں اس سے توقع ہے کہ تم متقی بن جاؤ
احمد رضا خان بریلوی
اور جب ہم نے پہاڑ ان پر اٹھایا گویا وہ سائبان ہے اور سمجھے کہ وہ ان پر گر پڑے گا تو جو ہم نے تمہیں دیا زور سے اور یاد کرو جو اس میں ہے کہ کہیں تم پرہیزگار ہو،
علامہ محمد حسین نجفی
اور (وہ وقت یاد کرو) جب ہم نے پہاڑ کو ہلا کر (اور جڑ سے اکھاڑ کر)۔ اس طرح ان کے اوپر بلند کیا۔ کہ گویا سائبان ہے اور انہوں نے گمان کیا کہ یہ ان پر گرا ہی چاہتا ہے ( اور ان سے کہا کہ) جو کچھ (کتاب) ہم نے تمہیں عطا کی ہے اسے مضبوطی کے ساتھ لو۔ اور جو کچھ اس میں لکھا ہے اسے یاد رکھو۔ تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب ہم نے پہاڑ کو ہلا کر ان کے اوپر اٹھایا، جیسے وہ ایک سائبان ہو اور انھوں نے یقین کر لیا کہ وہ ان پر گرنے والا ہے۔ جو کچھ ہم نے تمھیں دیا ہے اسے قوت کے ساتھ پکڑو اور جو کچھ اس میں ہے اسے یاد کرو، تاکہ تم بچ جاؤ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اسی طرح کی آیت «وَرَفَعْنَا فَوْقَهُمُ الطُّورَ بِمِيثَاقِهِمْ» ۱؎ [4-النساء:154] ‏‏‏‏ ہے یعنی ’ ہم نے ان کے سروں پر طور پہاڑ لا کھڑا کیا۔ ‘ اسے فرشتے اٹھا لائے تھے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ ”جب موسیٰ علیہ السلام انہیں ارض مقدس کی طرف لے چلے اور غصہ اتر جانے کے بعد تختیاں اٹھا لیں اور ان میں جو حکم احکام تھے، وہ انہیں سنائے تو انہیں وہ سخت معلوم ہوئے اور تسلیم و تعمیل سے صاف انکار کر دیا تو بحکم الٰہی فرشتوں نے پہاڑ اٹھا کر ان کے سروں پر لا کھڑا کر دیا۔“ (‏‏‏‏نسائی) مروی ہے کہ جب کلیم اللہ علیہ السلام نے فرمایا کہ لو اللہ کی کتاب کے احکام قبول کرو تو انہوں نے جواب دیا کہ ہمیں سناؤ، اس میں کیا احکام ہیں؟ اگر آسان ہوئے تو ہم منظور کر لیں گے۔ ورنہ نہ مانیں گے۔ موسیٰ علیہ السلام کے باربار کے اصرار پر بھی یہ لوگ کہتے رہے۔ آخر اسی وقت اللہ کے حکم سے پہاڑ اپنی جگہ سے اٹھ کر ان کے سروں پر معلق کھڑا ہو گیا اور اللہ کے پیغمبر نے فرمایا: بولو اب مانتے ہو یا اللہ تعالیٰ تم پر پہاڑ گرا کر تمہیں فنا کر دے؟ اسی وقت یہ سب کے سب مارے ڈر کے سجدے میں گر پڑے لیکن بائیں آنکھ سجدے میں تھی اور دائیں سے اوپر دیکھ رہے تھے کہ کہیں پہاڑ گر نہ پڑے۔ چنانچہ یہودیوں میں اب تک سجدے کا طریقہ یہی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اسی طرح کے سجدے نے ہم پر سے عذاب الٰہی دور کر دیا ہے۔ پھر جب موسیٰ علیہ السلام نے ان تختیوں کو کھولا تو ان میں کتاب تھی جسے خود اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے لکھا تھا۔ اسی وقت تمام پہاڑ، درخت، پتھر سب کانپ اٹھے۔ آج بھی یہودی تلاوت تورات کے وقت کانپ اٹھتے ہیں اور ان کے سر جھک جاتے ہیں۔
171۔ 1 یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب حضرت موسیٰ ؑ ان کے پاس تورات لائے اور اس کے احکام ان کو سنائے، تو انہوں نے پھر حسب عادت ان پر عمل کرنے سے انکار و اعراض کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے ان پر پہاڑ کو بلند کردیا کہ تم پر گرا کر تمہیں کچل دیا جائے گا، جس سے ڈرتے ہوئے انہوں تورات پر عمل کرنے کا عہد کیا۔ بعض کہتے ہیں کہ رفع جبل کا یہ واقعہ ان کے مطالبے پر پیش آیا، جب انہوں نے کہا کہ ہم تورات پر عمل اس وقت کریں گے جب اللہ تعالیٰ پہاڑ کو ہمارے اوپر بلند کرکے دکھائے، لیکن پہلی بات زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے واللہ اعلَم۔ یہاں مطلق پہاڑ کا ذکر ہے۔ لیکن اس سے قبل سورة بقرہ آیت 63 اور آیت 93 میں دو جگہ اس واقعہ کا ذکر آیا ہے۔ وہاں اس کا نام صراحت کے ساتھ کوہ طور بتلایا گیا۔
(آیت 171) {وَ اِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَهُمْ …: ” نَتَقَ يَنْتِقُ “} کا معنی ”کسی چیز کو زور سے کھینچ کر ہلانا“ ہے۔ (راغب) یہاں پہاڑ کا ذکر ہے اور سورۂ بقرہ میں طور کا ذکر ہے، یا تو وہ طور نامی پہاڑ تھا اور یا لفظ ”طور“ عام پہاڑ کے معنی میں بھی آتا ہے، دونوں جگہ دونوں مراد ہو سکتے ہیں۔ بنی اسرائیل کی سابقہ سرکشیوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے ان سے تورات کے احکام پر عمل کا پختہ عہد لینے کے لیے اللہ تعالیٰ نے زلزلے کے ساتھ پہاڑ کو اکھاڑ کر ان کے سروں پر سایہ فگن کر دیا اور انھیں یقین ہو گیا کہ یہ ہم پر گرنے ہی والا ہے۔ مقصد یہ تھا کہ اس ہیبت ناک ماحول میں وہ اللہ سے ڈرتے ہوئے عمل کا سچا عہد کریں۔ قوت کے ساتھ پکڑنے کا مطلب اس پر عمل کرنا ہے۔
وَ اِذۡ اَخَذَ رَبُّکَ مِنۡۢ بَنِیۡۤ اٰدَمَ مِنۡ ظُہُوۡرِہِمۡ ذُرِّیَّتَہُمۡ وَ اَشۡہَدَہُمۡ عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمۡ ۚ اَلَسۡتُ بِرَبِّکُمۡ ؕ قَالُوۡا بَلٰی ۚۛ شَہِدۡنَا ۚۛ اَنۡ تَقُوۡلُوۡا یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ اِنَّا کُنَّا عَنۡ ہٰذَا غٰفِلِیۡنَ ﴿۱۷۲﴾ۙ
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور اے نبی، لوگوں کو یاد دلاؤ وہ وقت جبکہ تمہارے رب نے بنی آدم کی پشتوں سے ان کی نسل کو نکالا تھا اور انہیں خود ان کے اوپر گواہ بناتے ہوئے پوچھا تھا "کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟" انہوں نے کہا "ضرور آپ ہی ہمارے رب ہیں، ہم اس پر گواہی دیتے ہیں" یہ ہم نے اس لیے کیا کہ کہیں تم قیامت کے روز یہ نہ کہہ دو کہ "ہم تو اس بات سے بے خبر تھے،"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جب آپ کے رب نے اوﻻد آدم کی پشت سے ان کی اوﻻد کو نکالا اور ان سے ان ہی کے متعلق اقرار لیا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ سب نے جواب دیا کیوں نہیں! ہم سب گواه بنتے ہیں۔ تاکہ تم لوگ قیامت کے روز یوں نہ کہو کہ ہم تو اس سے محض بے خبر تھے
احمد رضا خان بریلوی
اور اے محبوب! یاد کرو جب تمہارے رب نے اولاد آدم کی پشت سے ان کی نسل نکالی اور انہیں خود ان پر گواہ کیا، کیا میں تمہارا رب نہیں سب بولے کیوں نہیں ہم گواہ ہوئے کہ کہیں قیامت کے دن کہو کہ ہمیں اس کی خبر نہ تھی
علامہ محمد حسین نجفی
اور (وہ وقت یاد کرو) جب تمہارے پروردگار نے بنی آدم کی پشتوں سے ان کی نسل کو نکالا (جو نسلاً بعد نسل پیدا ہونے والی تھی) اور ان کو خود ان کے اوپر گواہ بناتے ہوئے پوچھا کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں؟ سب نے جواب دیا ہاں بے شک ہم گواہی دیتے ہیں کہ تو ہمارا پروردگار ہے (یہ کاروائی اس لئے کی تھی کہ) کہیں تم قیامت کے دن یہ نہ کہہ دو کہ ہم تو اس سے بے خبر تھے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب تیرے رب نے آدم کے بیٹوں سے ان کی پشتوں میں سے ان کی اولاد کو نکالا اور انھیں خود ان کی جانوں پر گواہ بنایا، کیا میں واقعی تمھارا رب نہیں ہوں؟ انھوں نے کہا کیوں نہیں، ہم نے شہادت دی۔ (ایسا نہ ہو) کہ تم قیامت کے دن کہو بے شک ہم اس سے غافل تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہر روح نے اللہ تعالٰی کو اپنا خالق مانا ٭٭

اولاد آدم علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے ان کی نسلیں ان کی پیٹھوں سے روز اول میں نکالیں۔ پھر ان سب سے اس بات کا اقرار لیا کہ رب، خالق، مالک، معبود صرف وہی ہے۔ اسی فطرت پر پھر دنیا میں ان سب کو ان کے وقت پر اس نے پیدا کیا۔ یہی وہ فطرت ہے جس کی تبدیلی نا ممکن ہے۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ { ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:1385] ‏‏‏‏ ایک روایت میں ہے کہ { اس دین پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی، نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔ جیسے کہ بکری کا بچہ صحیح سالم پیدا ہوتا ہے لیکن پھر لوگ اس کے کان کاٹ دیتے ہیں۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4775] ‏‏‏‏ حدیث قدسی میں ہے کہ { میں نے اپنے بندوں کو موحد و مخلص پیدا کیا۔ پھر شیطان نے آ کر انہیں ان کے سچے دین سے بہکا کر میری حلال کردہ چیزیں ان پر حرام کر دیں۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2865] ‏‏‏‏ قبیلہ بنو سعد کے ایک صحابی { سیدنا اسود بن سریع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چار غزوے کئے۔ لوگوں نے لڑنے والے کفار کے قتل کے بعد ان کے بچوں کو بھی پکڑ لیا، جب آپ کو اس کا علم ہوا تو بہت ناراض ہوئے اور فرمایا: لوگ ان بچوں کو کیوں پکڑ رہے ہیں؟ کسی نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ بھی تو مشرکوں کے ہی بچے ہیں؟ فرمایا: سنو! تم میں سے بہتر لوگ مشرکین کی اولاد میں ہیں۔ یاد رکھو! ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے۔ پھر زبان چلنے پر اس کے ماں باپ یہودیت یا نصرانیت کی تعلیم دینے لگتے ہیں۔ } اس کے راوی حسن فرماتے ہیں: اسی کا ذکر اس آیت میں ہے کہ اللہ نے اولاد آدم سے اپنی توحید کا اقرار لیا ہے۔ (‏‏‏‏ابن جریر) ۱؎ [مسند احمد:435/3:ضعیف] ‏‏‏‏ اس اقرار کے بارے میں کئی ایک حدیثیں مروی ہیں۔

مسند احمد میں ہے کہ { قیامت کے دن دوزخی سے کہا جائے گا: اگر تمام دنیا تیری ہو تو کیا تو خوش ہے کہ اسے اپنے فدئیے میں دے کر میرے عذابوں سے آج بچ جائے؟ وہ کہے گا: ہاں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں نے تو اس سے بہت ہلکے درجے کی چیز تجھ سے طلب کی تھی اور اس کا وعدہ بھی تجھ سے لے لیا تھا کہ میرے سوا تو کسی اور کی عبادت نہ کرے۔ لیکن تو اسے توڑے بغیر نہ رہا اور دوسرے کو میرا شریک عبادت ٹھہرایا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3334] ‏‏‏‏ مسند میں ہے: نعمان نامی میدان میں اللہ تعالیٰ نے پشت آدم میں سے عرفے کے دن ان کی تمام اولاد ظاہر فرمائی۔ سب کو اس کے سامنے پھیلا دیا اور فرمایا: کیا میں تم سب کا رب نہیں ہوں؟ سب نے کہا: ہاں! ہم گواہ ہیں۔ پھر آپ نے «مُبْطِلُوْنَ» تک آیت تلاوت فرمائی۔ } ۱؎ [مسند احمد:272/1:صحیح] ‏‏‏‏ یہ روایت موقوف سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اس وقت لوگ چیونٹیوں کی طرح تھے اور تر زمین پر تھے۔ ضحاک بن مزاحم کے چھ دن کی عمر کے صاحبزادے کا انتقال ہو گیا تو آپ نے فرمایا: جابر اسے دفن کر کے اس کا منہ کفن سے کھول دینا اور گرہ بھی کھول دینا کیونکہ میرا یہ بچہ بٹھا دیا جائے گا اور اس سے سوال کیا جائے گا۔ جابر نے حکم کی بجا آوری کی۔ پھر میں نے پوچھا کہ آپ کے بچے سے کیا سوال ہو گا؟ اور کون سوال کرے گا؟ فرمایا: اس میثاق کے بارے میں جو صلب آدم میں لیا گیا ہے، سوال کیا جائے گا۔ میں نے پوچھا: وہ میثاق کیا ہے؟ فرمایا: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا تو جتنے انسان قیامت تک پیدا ہونے والے ہیں، سب کی روحیں آ گئیں۔ اللہ نے ان سے عہد و پیمان لیا کہ وہ اسی کی عبادت کریں گے، اس کے سوا کسی اور کو معبود نہیں مانیں گے۔ خود ان کے رزق کا کفیل بنا، پھر انہیں صلب آدم میں لوٹا دیا۔

پس یہ سب قیامت سے پہلے ہی پہلے پیدا ہوں گے۔ جس نے اس وعدے کو پورا کیا اور اپنی زندگی میں اس پر قائم رہا، اسے وہ وعدہ نفع دے گا اور جس نے اپنی زندگی میں اس کی خلاف ورزی کی، اسے پہلے کا وعدہ کچھ فائدہ نہ دے گا۔ اور جو بچپن میں ہی مر گیا، وہ میثاق اول پر اور فطرت پر مرا۔ ان آثار سے بھی بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ اوپر والی حدیث کا موقوف ہونا ہی اکثر اور زیادہ ثبوت والا ہے۔ ابن جریر رحمہ اللہ کی حدیث میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: { بنی آدم کی پیٹھ سے اللہ تعالیٰ نے ان کی نسلیں ایسے نکالیں جیسے کنگھی بالوں میں سے نکلتی ہے۔ ان سے اپنی ربوبیت کا سوال کیا، انہوں نے اقرار کیا، فرشتوں نے شہادت دی۔ اس لیے کہ یہ لوگ قیامت کے دن اس سے غفلت کا بہانہ نہ کریں۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:15365] ‏‏‏‏ { سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر پوچھی گئی تو آپ نے فرمایا: یہی سوال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوا تھا تو آپ نے میرے سنتے ہوئے فرمایا کہ اللہ عزوجل نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا۔ اپنے داہنے ہاتھ سے ان کی پیٹھ کو چھوا، اس سے اولاد نکلی۔ فرمایا: میں نے انہیں جہنم کے لئے پیدا کیا ہے، یہ جہنمیوں کے اعمال کریں گے تو آپ سے سوال ہوا کہ پھر عمل کس گنتی میں ہیں؟ آپ نے فرمایا: جو جنتی ہے، اس سے مرتے دم تک جنتیوں کے ہی اعمال سرزد ہوں گے اور جنت میں جائے گا۔ ہاں! جو جہنم کے لئے پیدا کیا گیا ہے، اس سے وہی اعمال سرزد ہوں گے، انہی پر مرے گا اور جہنم میں داخل ہو گا۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:4703،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ (‏‏‏‏ابوداؤد)

اور حدیث میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ نے اولاد آدم کو نکال کر ان کی دونوں آنکھوں کے درمیان ایک نور رکھ کر آدم علیہ السلام کے سامنے پیش کیا۔ انہوں نے پوچھا کہ یااللہ! یہ کون ہیں؟ فرمایا: یہ تیری اولاد ہے۔ ان میں سے ایک کے ماتھے کی چمک آدم علیہ السلام کو بہت اچھی لگی۔ پوچھا: یااللہ! یہ کون ہے؟ جواب ملا کہ یہ تیری اولاد میں سے بہت دور جا کر ہیں، ان کا نام داؤد ہے۔ پوچھا: ان کی عمر کیا ہے؟ فرمایا: ساٹھ سال۔ کہا: یااللہ! چالیس سال میری عمر میں سے ان کی عمر میں زیادہ کر۔ پس جب آدم علیہ السلام کی روح کو قبض کرنے کے لئے فرشتہ آیا تو آپ نے فرمایا: میری عمر میں سے تو ابھی چالیس سال باقی ہیں۔ فرشتے نے کہا: آپ کو یاد نہیں کہ آپ نے یہ چالیس سال اپنے بچے داؤد کو ہبہ کر دیئے ہیں۔ بات یہ ہے کہ چونکہ آدم علیہ السلام نے انکار کیا تو ان کی اولاد بھی انکار کی عادی ہے۔ آدم علیہ السلام خود بھول گئے، ان کی اولاد بھی بھولتی ہے۔ آدم علیہ السلام نے خطا کی، ان کی اولاد بھی خطا کرتی ہے۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:3076،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ یہ حدیث ترمذی میں ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح لکھتے ہیں۔ اور روایت میں ہے کہ { جب آدم علیہ السلام نے دیکھا کہ کوئی ان میں جذامی ہے، کوئی کوڑھی ہے، کوئی اندھا ہے، کوئی بیمار ہے تو پوچھا کہ یااللہ! اس میں کیا مصلحت ہے؟ فرمایا: یہ کہ میرا شکریہ ادا کیا جائے۔ آدم علیہ السلام نے پوچھا کہ یااللہ! ان میں سے یہ زیادہ روشن اور نورانی چہروں والے کون ہیں؟ فرمایا: یہ انبیاء ہیں الخ۔ } ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:8535/5:ضعیف] ‏‏‏‏

{ کسی شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ہم جو کچھ کرتے ہیں، یہ ہمارا ذاتی عمل ہے یا کہ فیصل شدہ ہے؟ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی اولاد کو ان کی پیٹھوں سے نکالا ہے۔ انہیں گواہ بنایا پھر اپنی دونوں مٹھیوں میں لے لیا اور فرمایا: یہ جنتی ہیں اور یہ جہنمی۔ پس اہل جنت پر تو نیک کام آسان ہوتے ہیں اور دوزخیوں پر برے کام آسان ہوتے ہیں۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:15377:حسن بالشواھد] ‏‏‏‏ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: { جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا اور قصہ ختم کیا تو جن کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال ملنے والا ہے، انہیں اپنی داہنی مٹھی میں لیا اور بائیں والوں کو بائیں مٹھی میں لیا۔ پھر فرمایا: اے دائیں طرف والو! انہوں نے کہا: «لبیک و سعدیک» ۔ فرمایا: کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ سب نے کہا: ہاں۔ پھر فرمایا: اے بائیں طرف والو! انہوں نے کہا: «لبیک و سعدیک» ۔ فرمایا: کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ سب نے کہا: ہاں۔ پھر سب کو ملا دیا۔ کسی نے پوچھا: یہ کیوں کیا؟ فرمایا: اس لیے کہ ان کے لیے اور اعمال ہیں، جنہیں یہ کرنے والے ہیں۔ یہ تو صرف اس لیے کہلوایا گیا ہے کہ انہیں یہ عذر نہ رہے کہ ہم اس سے غافل تھے۔ پھر سب کو صلب آدم علیہ السلام میں لوٹا دیا۔ } ۱؎ [طبرانی کبیر:7943:ضعیف جداً] ‏‏‏‏ ابی بن کعب فرماتے ہیں کہ اس دن سب کو جمع کیا، صورتیں دیں، بولنے کی طاقت دی، پھر عہد و میثاق لیا اور اپنے رب ہونے پر خود انہیں گواہ بنایا اور ساتوں آسمانوں، ساتوں زمینوں اور آدم علیہ السلام کو گواہ کیا کہ قیامت کے دن کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ ہمیں علم نہ تھا۔ جان لو کہ میرے سوا کوئی اور معبود نہیں، نہ میرے سوا کوئی اور مربی ہے۔ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا۔ میں اپنے رسولوں کو بھیجوں گا جو تمہیں یہ وعدہ یاد دلائیں گے۔ میں اپنی کتابیں اتاروں گا تاکہ تمہیں یہ عہد و میثاق یاد دلاتی رہیں۔ سب نے جواب میں کہا: ہم گواہی دیتے ہیں کہ تو ہی ہمارا رب ہے، تو ہی ہمارا معبود ہے، تیرے سوا ہمارا کوئی مربی نہیں۔ پس سب سے اطاعت کا وعدہ لیا۔ اب جو آدم علیہ السلام نے نظر اٹھا کر دیکھا تو امیر، غریب، خوبصورت اور اس کے سوا مختلف لوگوں پر نظر پڑی تو آپ کہنے لگے: کیا اچھا ہوتا کہ سب برابر ایک ہی حالت میں ہوتے تو جواب ملا کہ یہ اس لیے ہے کہ ہر شخص میری شکر گزاری کرے۔

آپ نے دیکھا کہ ان میں اللہ کے پیغمبر بھی ہیں، ان سے پھر علیحدہ ایک اور میثاق لیا گیا۔ جس کا بیان آیت «وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ النَّبِيِّينَ مِيثَاقَهُمْ» ۱؎ [33-الأحزاب:7] ‏‏‏‏ میں ہے۔ اسی عام میثاق کا بیان آیت «فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَتَ اللَّـهِ» ۱؎ [30-الروم:30] ‏‏‏‏ میں ہے۔ اسی لیے فرمان ہے «هَـٰذَا نَذِيرٌ مِّنَ النُّذُرِ الْأُولَىٰ» ۱؎ [53-النجم:56] ‏‏‏‏ اسی کا بیان اس آیت میں ہے «وَمَا وَجَدْنَا لِأَكْثَرِهِم مِّنْ عَهْدٍ» ۱؎ [7-الأعراف:102] ‏‏‏‏ (‏‏‏‏مسند احمد) مجاہد، عکرمہ، سعید بن جبیر، حسن، قتادہ، سدی اور بہت سے سلف رحمۃ اللہ علیہم سے ان احادیث کے مطابق اقوال مروی ہیں جن سب کے وارد کرنے سے بہت طول ہو جائے گا۔ ماحصل سب کا یہی ہے جو ہم نے بیان کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اولاد آدم کو آپ کی پیٹھ سے نکالا۔ جنتی، دوزخی الگ الگ کئے اور وہیں ان کو اپنے رب ہونے پر گواہ کر لیا۔ یہ جن دو احادیث میں ہے، وہ دونوں مرفوع نہیں بلکہ موقوف ہیں۔ اسی لیے سلف و خلف میں اس بات کے قائل گزرے ہیں کہ اس سے مراد فطرت پر پیدا کرنا ہے۔ جیسے کہ مرفوع اور صحیح احادیث میں وارد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آیت میں «مِن بَنِي آدَمَ» فرمایا اور «مِن ظُهُورِهِمْ» کہا، ورنہ «مِنْ اٰدَمَ» اور «مِنْ ظَھْرِہِ» ہوتا۔ ان کی نسلیں اس روز نکالی گئیں جو کہ یکے بعد دیگرے مختلف قرنوں میں ہونے والی تھیں۔ جیسے فرمان ہے «وَهُوَ الَّذِي جَعَلَكُمْ خَلَائِفَ الْأَرْضِ» ۱؎ [6-الأنعام:165] ‏‏‏‏ ’ اللہ ہی نے تمہیں زمین میں دوسروں کا جانشین کیا ہے۔ ‘ اور جگہ ہے: وہی تمہیں زمین کا خلیفہ بنا رہا ہے۔ اور آیت میں ہے: جیسے تمہیں دوسرے لوگوں کی اولاد میں کیا۔

الغرض حال و قال سے سب نے اللہ کے رب ہونے کا اقرار کیا۔ شہادت قولی ہوتی ہے . جیسے آیت «قَالُوا شَهِدْنَا عَلَىٰ أَنفُسِنَا» ۱؎ [6-الأنعام:130] ‏‏‏‏ میں۔ اور شہادت کبھی حال ہوتی ہے۔ جیسے آیت «مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَن يَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللَّـهِ شَاهِدِينَ عَلَىٰ أَنفُسِهِم بِالْكُفْرِ» ۱؎ [9-التوبة:17] ‏‏‏‏ میں یعنی ان کا حال ان کے کفر کی کھلی اور کافی شہادت ہے۔ اس طرح کی آیت «وَإِنَّهُ عَلَىٰ ذَٰلِكَ لَشَهِيدٌ» ۱؎ [100-العاديات:7] ‏‏‏‏ ہے۔ اسی طرح سوال بھی کبھی زبان سے ہوتا ہے، کبھی حال سے۔ جیسے فرمان ہے «وَآتَاكُم مِّن كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ» ۱؎ [14-إبراهيم:34] ‏‏‏‏ ’ اس نے تمہیں تمہارا منہ مانگا دیا۔ ‘ کہتے ہیں کہ اس بات کی دلیل بھی ہے کہ ان کے شرک کرنے پر یہ حجت ان کے خلاف پیش کی۔ پس اگر یہ واقع میں ہوا ہوتا، جیسا کہ ایک قول ہے تو چاہیئے تھا کہ ہر ایک کو یاد ہوتا تاکہ اس پر حجت رہے۔ اگر اس کا جواب یہ ہو کہ فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے خبر پا لینا کافی ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ رسولوں کو ہی نہیں مانتے، وہ رسولوں کی دی ہوئی خبروں کو کب صحیح جانتے ہیں؟ حالانکہ قرآن کریم نے رسولوں کی تکذیب کے علاوہ خود اس شہادت کو مستقل دلیل ٹھہرایا ہے۔ پس اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ اس سے مراد فطرت ربانی ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے ساری مخلوق کو پیدا کیا ہے اور وہ فطرت توحید باری تعالیٰ ہے۔ اسی لیے فرمایا ہے کہ یہ اس لیے کہ تم قیامت کے دن یہ نہ کہہ سکو کہ ہم توحید سے غافل تھے اور یہ بھی نہ کہہ سکو کہ شرک تو ہمارے اگلے باپ دادوں نے کیا تھا، ان کے اس ایجاد کردہ گناہ پر ہمیں سزا کیوں؟ پھر تفصیل وار آیات کا بیان فرمانے کا راز ظاہر کیا کہ اس کو سن کر برائیوں سے باز آ جانا ممکن ہو جاتا ہے۔
172۔ 1 یہ عہد حضرت آدم ؑ کی تخلیق کے بعد ان کی پشت سے ہونے والی تمام اولاد سے لیا گیا۔ اس کی تفصیل ایک حدیث میں اس طرح آتی ہے ' عرفہ والے دن نعمان جگہ میں اللہ تعالیٰ نے اصلاب آدم سے عہد (میثاق) لیا۔ پس آدم کی پشت سے ہونے والی تمام اولاد کو نکالا اور اس کو اپنے سامنے پھیلا دیا اور ان سے پوچھا، ' کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ ' سب نے کہا ' کیوں نہیں ' ہم سب رب ہونے کی گواہی دیتے ہیں۔ امام شوکانی اس حدیث کی بابت لکھتے ہیں واسنادہ لامطعن فیہ (فتح القدیر) اس کی سند میں کوئی طعن نہیں نیز امام شوکانی فرماتے ہیں۔ یہ عالم ذر کہلاتا ہے اس کی یہی تفسیر صحیح اور حق ہے جس سے عدول اور کسی اور مفہوم کی طرف جاناصحیح نہیں ہے کیونکہ یہ مرفوع حدیث اور آثار صحابہ سے ثابت ہے اور اسے مجاز پر بھی محمول کرنا جائز نہیں ہے۔ بہرحال اللہ کی ربوبیت کی یہ گواہی ہر انسان کی فطرت میں ودیعت ہے۔ اسی مفہوم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح بیان فرمایا ہے کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے پس اس کے ماں باپ اس کو یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنادیتے ہیں۔ جس طرح جانور کا بچہ صحیح سالم پیدا ہوتا ہے اس کا ناک کان کٹا نہیں ہوتا۔ اور صحیح مسلم کی روایت ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے اپنے بندوں کو حنیف (اللہ کی طرف یکسوئی سے متوجہ ہونے والا) پیدا کیا ہے۔ پس شیطان ان کو ان کے دین (فطری) سے گمراہ کردیتا ہے۔ الحدیث۔ یہ فطرت یا دین فطرت یہی رب کی توحید اور اس کی نازل کردہ شریعت ہے جو اب اسلام کی صورت میں محفوظ اور موجود ہے۔
(آیت 172) ➊ {وَ اِذْ اَخَذَ رَبُّكَ مِنْۢ بَنِيْۤ اٰدَمَ …:} یہاں تک رسولوں اور کتابوں کے ذریعے سے بنی آدم کی ہدایت کا جو اہتمام فرمایا اس کا ذکر تھا، اب کائنات میں اور خود انسان کی ذات ({اَنْفُسِهِمْ})میں ہدایت کی جو دلیلیں اللہ تعالیٰ نے رکھی ہیں ان کا ذکر ہے۔ اہل علم نے اس آیت کی دو تفسیریں بیان کی ہیں، ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت میں یہ بات رکھ دی ہے کہ وہ یہ جانے کہ میرا ایک رب ہے، جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور وہی مجھے روزی دیتا ہے اور یہ بات جب اللہ تعالیٰ آدم علیہ السلام کی اولاد کو نسلاً بعد نسل پیدا کرتا ہے اور بنی آدم میں سے کسی کی پشت سے اس کا نطفہ جدا کرکے ماں کے رحم میں اس کی اولاد پیدا کرتا ہے، اسی وقت اس اولاد کی فطرت میں رکھ کر اس کے نفس اور اس کی ذات میں اپنے رب ہونے کے اتنے دلائل رکھ دیتا ہے گویا خود اسے اپنے آپ پر گواہ بنا دیتا ہے کہ اس کا رب اللہ ہے۔ گویا وہ پیدا ہی اسلام پر ہوتا ہے۔ ایک بوند جو جونک بنی، پھر مضغہ بنی، پھر ہڈیاں، پھر کامل اعضا والا جان دار انسان، یہ اور بے شمار نشانیاں خود اس کی ذات اور کائنات میں اس بات کی کافی شہادت ہیں کہ اس کا ایک رب ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ سَنُرِيْهِمْ اٰيٰتِنَا فِي الْاٰفَاقِ وَ فِيْۤ اَنْفُسِهِمْ حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ اَنَّهُ الْحَقُّ }» [ حٰمٓ السجدۃ: ۵۳ ] ”عنقریب ہم انھیں اپنی نشانیاں دنیا کے کناروں اور ان کے نفسوں میں دکھلائیں گے، یہاں تک کہ ان کے لیے واضح ہو جائے کہ یقینا یہی حق ہے۔“ اور فرمایا: «{ وَ فِي الْاَرْضِ اٰيٰتٌ لِّلْمُوْقِنِيْنَ (20) وَ فِيْۤ اَنْفُسِكُمْ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ }» [ الذاریات: ۲۰، ۲۱ ] ”اور زمین میں یقین کرنے والوں کے لیے کئی نشانیاں ہیں اور تمھارے نفسوں میں بھی تو کیا تم نہیں دیکھتے؟“ اور شہادت ضروری نہیں زبان ہی سے ہو، قرآن مجید کے مطابق حالت کی بھی شہادت ہوتی ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِيْنَ اَنْ يَّعْمُرُوْا مَسٰجِدَ اللّٰهِ شٰهِدِيْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ بِالْكُفْرِ }» [ التوبۃ: ۱۷ ] ”مشرکوں کا کبھی حق نہیں کہ وہ اللہ کی مسجدیں آباد کریں، اس حال میں کہ وہ اپنے آپ پر کفر کی شہادت دینے والے ہیں۔“ اور فرمایا: «{ اِنَّ الْاِنْسَانَ لِرَبِّهٖ لَكَنُوْدٌ (6) وَ اِنَّهٗ عَلٰى ذٰلِكَ لَشَهِيْدٌ }» [ العادیات: ۶، ۷ ] ”بے شک انسان اپنے رب کا یقینا بہت ناشکرا ہے اور بے شک وہ اس بات پر یقینا خود گواہ ہے۔“ معلوم ہوا کہ انسان کی فطرت ہی توحید ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی، نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔“ [ بخاری، الجنائز، باب ما قیل فی أولاد المشرکین: ۱۳۸۵ ] اس لیے انسان کی ذات میں اور کائنات میں موجود اللہ تعالیٰ کے رب واحد ہونے کے دلائل ہی اس بات کے لیے کافی ہیں کہ انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے۔ اس لیے بعض علماء نے کہا کہ اگر کوئی بھی رسول نہ آتا تو انسان پر عقل، فطرت سلیمہ اور اپنی ذات اور کائنات میں موجود توحید کے بے شمار دلائل کی وجہ سے شرک سے بچنا لازم تھا، اگر وہ شرک کرے تو اللہ تعالیٰ کو حق ہے کہ اس سے مؤاخذہ فرمائے۔ مگر قرآن مجید سے اللہ تعالیٰ کا یہ بے حد و حساب رحم و کرم ثابت ہے کہ انسان کے نفس پر اس کی اپنی شہادت کے باوجود وہ رسولوں کے ذریعے سے حق واضح کیے بغیر عذاب نہیں دیتا، فرمایا: «{ وَ مَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا }» [ بنی إسرائیل: ۱۵ ] ”اور ہم کبھی عذاب دینے والے نہیں، یہاں تک کہ کوئی پیغام پہنچانے والا بھیجیں۔“ اس کی مثال یوں سمجھیے کہ دیکھنے کے لیے آنکھ میں نور ہونا بھی ضروری ہے اور سورج، چاند یا کسی اور چیز کے ذریعے سے روشنی ہونا بھی ضروری ہے، آنکھ میں روشنی نہ ہو یا باہر روشنی نہ ہو تو نظر نہیں آتا۔ فطرت میں رکھی ہوئی عقل اور کائنات کے دلائل رب کی پہچان کے لیے آنکھ کے نور کی طرح ہیں اور پیغمبر سورج اور چاند کی طرح اس کے لیے دلائل کو روشن کرکے سمجھانے والے ہیں۔ شیخ صالح آل الشیخ نے شرح عقیدہ طحاویہ میں فرمایا کہ اہل السنہ کے بہت سے ائمہ مثلاً شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ، ابن القیم، ابن کثیر، ابن ابی العز حنفی شارح طحاویہ، شیخ عبد الرحمان سعدی اور دوسرے کئی ائمہ رحمھم اللہ نے {”وَإِذْ اَخَذَ رَبُّكَ“} کی یہی تفسیر اختیارفرمائی ہے۔ واضح رہے کہ آنکھ اور سورج کی روشنی کی مثال ان ائمہ کی تفسیر کا حصہ نہیں۔ دوسری تفسیر وہ میثاق (عہد و پیمان) ہے جو اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی پشت سے تمام اولادِ آدم کو نکال کر ان سے لیا اور جو عموماً عہد الست سے مشہور ہے، وہ عبد اللہ بن عباس اور دوسرے صحابہ رضی اللہ عنھم سے منقول ہے۔ چنانچہ ابن عباس رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نعمان (نون کے فتحہ کے ساتھ) یعنی عرفہ میں آدم علیہ السلام کی پشت سے میثاق (عہد و پیمان) لیا، چنانچہ اس کی پشت سے تمام اولاد جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کرنی تھی نکالی اور اس کے آگے بکھیر دی، پھر ان سے آمنے سامنے بات کی، فرمایا: «{ اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ }» ”کیا میں واقعی تمھارا رب نہیں ہوں؟“ انھوں نے کہا: «{ بَلٰى }» کیوں نہیں، ہم نے شہادت دی! (ایسا نہ ہو) کہ تم قیامت کے دن کہو ہم اس سے غافل تھے۔ آخر آیات تک۔ [ أحمد: 272/1، ح: ۲۴۵۹۔ مستدرک حاکم: 544/2، ح: ۴۰۰۰ ] حاکم اور ذہبی نے اس حدیث کو صحیح فرمایا ہے، شوکانی اور بہت سے علماء نے اس تفسیر کو ترجیح دی ہے، مگر قرآن کے الفاظ اور حدیث کے الفاظ میں کئی لحاظ سے فرق ہے، ایک تو یہ کہ آیت میں «{ مِنْۢ بَنِيْۤ اٰدَمَ }» ہے {” مِنْ آدَمَ “} نہیں، دوسرا «{ مِنْ ظُهُوْرِهِمْ }» ہے {” مِنْ ظَهْرِهِ “} نہیں۔ تیسرا «{ ذُرِّيَّتَهُمْ }» ہے، {” ذُرِّيَّتَهُ“} نہیں، چوتھا یہ کہ فرمایا: «{ اَشْهَدَهُمْ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ }» گواہ کو وہ بات یاد تو ہونی چاہیے جس کی گواہی اس نے دینی ہے جبکہ وہ عہد کسی کو یاد نہیں، البتہ انسان کے نفس اور کائنات میں اللہ تعالیٰ کی ربوبیت اور توحید کے دلائل کا وہ خود فطری شاہد ہے، یہ الگ بات ہے کہ گندے عقیدوں والوں کے ساتھ مل کر اس کی فطرت پر پردہ پڑ گیا ہو۔ اگر کوئی کہے کہ بے شک آدم علیہ السلام کی پشت سے نکلتے وقت کیا ہوا عہد ہمیں یاد نہیں مگر پیغمبروں کا اس میثاق کو یاد کرا دینا ہی کافی ہے تو حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس کا جواب دیا ہے کہ مشرک تو پیغمبروں کی کوئی بات صحیح مانتے ہی نہیں تھے، ان کا یاد کرا دینا ان پر حجت کیسے بنایا جا سکتا ہے۔ (جب کہ اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن اس گواہ بنانے کو بطور حجت ذکر فرمایا ہے، جس طرح رسولوں کے بھیجنے کو بطور حجت ذکر فرمایا ہے) غرض ابن ابی العز نے شرح عقیدہ طحاویہ میں آیت اور احادیث کے درمیان دس فرق بیان کیے ہیں، اس لیے دونوں الگ الگ ہی۔ ہاں! تطبیق کے طور پر کہا جا سکتا ہے کہ بنی آدم کی پشتوں سے ان کی اولادوں کو نکالنا بھی آدم علیہ السلام کی پشت سے اس کی اولاد کو نکالنے ہی کی تفصیل ہے۔ (واللہ اعلم) ➋ {اَنْ تَقُوْلُوْا:} یہ اصل میں {” لِئَلَّا تَقُوْلُوْا “} یا {” كَرَاهَةَ اَنْ تَقُوْلُوْا “} ہے، یعنی یہ عہد تم سے اس لیے لیا کہ ایسا نہ ہو کہ تم دنیا میں شرک و نافرمانی کی روش اختیار کرو اور قیامت کے روز تم سے باز پرس کی جائے تویہ کہہ کر اپنی صفائی پیش کرنے لگو کہ ہم تو اس سے بے خبر تھے۔ (ابن کثیر)
اَوۡ تَقُوۡلُوۡۤا اِنَّمَاۤ اَشۡرَکَ اٰبَآؤُنَا مِنۡ قَبۡلُ وَ کُنَّا ذُرِّیَّۃً مِّنۡۢ بَعۡدِہِمۡ ۚ اَفَتُہۡلِکُنَا بِمَا فَعَلَ الۡمُبۡطِلُوۡنَ ﴿۱۷۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یا یہ نہ کہنے لگو کہ "شرک کی ابتدا تو ہمارے باپ دادا نے ہم سے پہلے کی تھی اور ہم بعد کو ان کی نسل سے پیدا ہوئے، پھر کیا آپ ہمیں اُس قصور میں پکڑتے ہیں جو غلط کار لوگوں نے کیا تھا"
مولانا محمد جوناگڑھی
یا یوں کہو کہ پہلے پہلے شرک تو ہمارے بڑوں نے کیا اور ہم ان کے بعد ان کی نسل میں ہوئے، سو کیا ان غلط راه والوں کے فعل پر تو ہم کو ہلاکت میں ڈال دے گا؟
احمد رضا خان بریلوی
یا کہو کہ شرک تو پہلے ہمارے باپ دادا نے کیا اور ہم ان کے بعد بچے ہوئے تو کیا تو ہمیں اس پر ہلاک فرمائے گا جو اہل باطل نے کیا
علامہ محمد حسین نجفی
یا کہو کہ (خدایا) شرک تو ہم سے پہلے ہمارے باپ دادا نے کیا تھا۔ اور ہم تو ان کے بعد ان کی نسل سے تھے (اس لئے لاچار ان کی روش پر چل پڑے) تو کیا تو ہمیں اس (شرک) کی وجہ سے ہلاک کرے گا جو باطل پرستوں نے کیا تھا۔
عبدالسلام بن محمد
یا یہ کہو کہ شرک تو ہم سے پہلے ہمارے باپ دادا ہی نے کیا تھا اور ہم تو ان کے بعد ایک نسل تھے، تو کیا تو ہمیں اس کی وجہ سے ہلاک کرتا ہے جو باطل والوں نے کیا؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہر روح نے اللہ تعالٰی کو اپنا خالق مانا ٭٭

اولاد آدم علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے ان کی نسلیں ان کی پیٹھوں سے روز اول میں نکالیں۔ پھر ان سب سے اس بات کا اقرار لیا کہ رب، خالق، مالک، معبود صرف وہی ہے۔ اسی فطرت پر پھر دنیا میں ان سب کو ان کے وقت پر اس نے پیدا کیا۔ یہی وہ فطرت ہے جس کی تبدیلی نا ممکن ہے۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ { ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:1385] ‏‏‏‏ ایک روایت میں ہے کہ { اس دین پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی، نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔ جیسے کہ بکری کا بچہ صحیح سالم پیدا ہوتا ہے لیکن پھر لوگ اس کے کان کاٹ دیتے ہیں۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4775] ‏‏‏‏ حدیث قدسی میں ہے کہ { میں نے اپنے بندوں کو موحد و مخلص پیدا کیا۔ پھر شیطان نے آ کر انہیں ان کے سچے دین سے بہکا کر میری حلال کردہ چیزیں ان پر حرام کر دیں۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2865] ‏‏‏‏ قبیلہ بنو سعد کے ایک صحابی { سیدنا اسود بن سریع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چار غزوے کئے۔ لوگوں نے لڑنے والے کفار کے قتل کے بعد ان کے بچوں کو بھی پکڑ لیا، جب آپ کو اس کا علم ہوا تو بہت ناراض ہوئے اور فرمایا: لوگ ان بچوں کو کیوں پکڑ رہے ہیں؟ کسی نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ بھی تو مشرکوں کے ہی بچے ہیں؟ فرمایا: سنو! تم میں سے بہتر لوگ مشرکین کی اولاد میں ہیں۔ یاد رکھو! ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے۔ پھر زبان چلنے پر اس کے ماں باپ یہودیت یا نصرانیت کی تعلیم دینے لگتے ہیں۔ } اس کے راوی حسن فرماتے ہیں: اسی کا ذکر اس آیت میں ہے کہ اللہ نے اولاد آدم سے اپنی توحید کا اقرار لیا ہے۔ (‏‏‏‏ابن جریر) ۱؎ [مسند احمد:435/3:ضعیف] ‏‏‏‏ اس اقرار کے بارے میں کئی ایک حدیثیں مروی ہیں۔

مسند احمد میں ہے کہ { قیامت کے دن دوزخی سے کہا جائے گا: اگر تمام دنیا تیری ہو تو کیا تو خوش ہے کہ اسے اپنے فدئیے میں دے کر میرے عذابوں سے آج بچ جائے؟ وہ کہے گا: ہاں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں نے تو اس سے بہت ہلکے درجے کی چیز تجھ سے طلب کی تھی اور اس کا وعدہ بھی تجھ سے لے لیا تھا کہ میرے سوا تو کسی اور کی عبادت نہ کرے۔ لیکن تو اسے توڑے بغیر نہ رہا اور دوسرے کو میرا شریک عبادت ٹھہرایا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3334] ‏‏‏‏ مسند میں ہے: نعمان نامی میدان میں اللہ تعالیٰ نے پشت آدم میں سے عرفے کے دن ان کی تمام اولاد ظاہر فرمائی۔ سب کو اس کے سامنے پھیلا دیا اور فرمایا: کیا میں تم سب کا رب نہیں ہوں؟ سب نے کہا: ہاں! ہم گواہ ہیں۔ پھر آپ نے «مُبْطِلُوْنَ» تک آیت تلاوت فرمائی۔ } ۱؎ [مسند احمد:272/1:صحیح] ‏‏‏‏ یہ روایت موقوف سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اس وقت لوگ چیونٹیوں کی طرح تھے اور تر زمین پر تھے۔ ضحاک بن مزاحم کے چھ دن کی عمر کے صاحبزادے کا انتقال ہو گیا تو آپ نے فرمایا: جابر اسے دفن کر کے اس کا منہ کفن سے کھول دینا اور گرہ بھی کھول دینا کیونکہ میرا یہ بچہ بٹھا دیا جائے گا اور اس سے سوال کیا جائے گا۔ جابر نے حکم کی بجا آوری کی۔ پھر میں نے پوچھا کہ آپ کے بچے سے کیا سوال ہو گا؟ اور کون سوال کرے گا؟ فرمایا: اس میثاق کے بارے میں جو صلب آدم میں لیا گیا ہے، سوال کیا جائے گا۔ میں نے پوچھا: وہ میثاق کیا ہے؟ فرمایا: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا تو جتنے انسان قیامت تک پیدا ہونے والے ہیں، سب کی روحیں آ گئیں۔ اللہ نے ان سے عہد و پیمان لیا کہ وہ اسی کی عبادت کریں گے، اس کے سوا کسی اور کو معبود نہیں مانیں گے۔ خود ان کے رزق کا کفیل بنا، پھر انہیں صلب آدم میں لوٹا دیا۔

پس یہ سب قیامت سے پہلے ہی پہلے پیدا ہوں گے۔ جس نے اس وعدے کو پورا کیا اور اپنی زندگی میں اس پر قائم رہا، اسے وہ وعدہ نفع دے گا اور جس نے اپنی زندگی میں اس کی خلاف ورزی کی، اسے پہلے کا وعدہ کچھ فائدہ نہ دے گا۔ اور جو بچپن میں ہی مر گیا، وہ میثاق اول پر اور فطرت پر مرا۔ ان آثار سے بھی بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ اوپر والی حدیث کا موقوف ہونا ہی اکثر اور زیادہ ثبوت والا ہے۔ ابن جریر رحمہ اللہ کی حدیث میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: { بنی آدم کی پیٹھ سے اللہ تعالیٰ نے ان کی نسلیں ایسے نکالیں جیسے کنگھی بالوں میں سے نکلتی ہے۔ ان سے اپنی ربوبیت کا سوال کیا، انہوں نے اقرار کیا، فرشتوں نے شہادت دی۔ اس لیے کہ یہ لوگ قیامت کے دن اس سے غفلت کا بہانہ نہ کریں۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:15365] ‏‏‏‏ { سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر پوچھی گئی تو آپ نے فرمایا: یہی سوال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوا تھا تو آپ نے میرے سنتے ہوئے فرمایا کہ اللہ عزوجل نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا۔ اپنے داہنے ہاتھ سے ان کی پیٹھ کو چھوا، اس سے اولاد نکلی۔ فرمایا: میں نے انہیں جہنم کے لئے پیدا کیا ہے، یہ جہنمیوں کے اعمال کریں گے تو آپ سے سوال ہوا کہ پھر عمل کس گنتی میں ہیں؟ آپ نے فرمایا: جو جنتی ہے، اس سے مرتے دم تک جنتیوں کے ہی اعمال سرزد ہوں گے اور جنت میں جائے گا۔ ہاں! جو جہنم کے لئے پیدا کیا گیا ہے، اس سے وہی اعمال سرزد ہوں گے، انہی پر مرے گا اور جہنم میں داخل ہو گا۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:4703،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ (‏‏‏‏ابوداؤد)

اور حدیث میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ نے اولاد آدم کو نکال کر ان کی دونوں آنکھوں کے درمیان ایک نور رکھ کر آدم علیہ السلام کے سامنے پیش کیا۔ انہوں نے پوچھا کہ یااللہ! یہ کون ہیں؟ فرمایا: یہ تیری اولاد ہے۔ ان میں سے ایک کے ماتھے کی چمک آدم علیہ السلام کو بہت اچھی لگی۔ پوچھا: یااللہ! یہ کون ہے؟ جواب ملا کہ یہ تیری اولاد میں سے بہت دور جا کر ہیں، ان کا نام داؤد ہے۔ پوچھا: ان کی عمر کیا ہے؟ فرمایا: ساٹھ سال۔ کہا: یااللہ! چالیس سال میری عمر میں سے ان کی عمر میں زیادہ کر۔ پس جب آدم علیہ السلام کی روح کو قبض کرنے کے لئے فرشتہ آیا تو آپ نے فرمایا: میری عمر میں سے تو ابھی چالیس سال باقی ہیں۔ فرشتے نے کہا: آپ کو یاد نہیں کہ آپ نے یہ چالیس سال اپنے بچے داؤد کو ہبہ کر دیئے ہیں۔ بات یہ ہے کہ چونکہ آدم علیہ السلام نے انکار کیا تو ان کی اولاد بھی انکار کی عادی ہے۔ آدم علیہ السلام خود بھول گئے، ان کی اولاد بھی بھولتی ہے۔ آدم علیہ السلام نے خطا کی، ان کی اولاد بھی خطا کرتی ہے۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:3076،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ یہ حدیث ترمذی میں ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح لکھتے ہیں۔ اور روایت میں ہے کہ { جب آدم علیہ السلام نے دیکھا کہ کوئی ان میں جذامی ہے، کوئی کوڑھی ہے، کوئی اندھا ہے، کوئی بیمار ہے تو پوچھا کہ یااللہ! اس میں کیا مصلحت ہے؟ فرمایا: یہ کہ میرا شکریہ ادا کیا جائے۔ آدم علیہ السلام نے پوچھا کہ یااللہ! ان میں سے یہ زیادہ روشن اور نورانی چہروں والے کون ہیں؟ فرمایا: یہ انبیاء ہیں الخ۔ } ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:8535/5:ضعیف] ‏‏‏‏

{ کسی شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ہم جو کچھ کرتے ہیں، یہ ہمارا ذاتی عمل ہے یا کہ فیصل شدہ ہے؟ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی اولاد کو ان کی پیٹھوں سے نکالا ہے۔ انہیں گواہ بنایا پھر اپنی دونوں مٹھیوں میں لے لیا اور فرمایا: یہ جنتی ہیں اور یہ جہنمی۔ پس اہل جنت پر تو نیک کام آسان ہوتے ہیں اور دوزخیوں پر برے کام آسان ہوتے ہیں۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:15377:حسن بالشواھد] ‏‏‏‏ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: { جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا اور قصہ ختم کیا تو جن کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال ملنے والا ہے، انہیں اپنی داہنی مٹھی میں لیا اور بائیں والوں کو بائیں مٹھی میں لیا۔ پھر فرمایا: اے دائیں طرف والو! انہوں نے کہا: «لبیک و سعدیک» ۔ فرمایا: کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ سب نے کہا: ہاں۔ پھر فرمایا: اے بائیں طرف والو! انہوں نے کہا: «لبیک و سعدیک» ۔ فرمایا: کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ سب نے کہا: ہاں۔ پھر سب کو ملا دیا۔ کسی نے پوچھا: یہ کیوں کیا؟ فرمایا: اس لیے کہ ان کے لیے اور اعمال ہیں، جنہیں یہ کرنے والے ہیں۔ یہ تو صرف اس لیے کہلوایا گیا ہے کہ انہیں یہ عذر نہ رہے کہ ہم اس سے غافل تھے۔ پھر سب کو صلب آدم علیہ السلام میں لوٹا دیا۔ } ۱؎ [طبرانی کبیر:7943:ضعیف جداً] ‏‏‏‏ ابی بن کعب فرماتے ہیں کہ اس دن سب کو جمع کیا، صورتیں دیں، بولنے کی طاقت دی، پھر عہد و میثاق لیا اور اپنے رب ہونے پر خود انہیں گواہ بنایا اور ساتوں آسمانوں، ساتوں زمینوں اور آدم علیہ السلام کو گواہ کیا کہ قیامت کے دن کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ ہمیں علم نہ تھا۔ جان لو کہ میرے سوا کوئی اور معبود نہیں، نہ میرے سوا کوئی اور مربی ہے۔ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا۔ میں اپنے رسولوں کو بھیجوں گا جو تمہیں یہ وعدہ یاد دلائیں گے۔ میں اپنی کتابیں اتاروں گا تاکہ تمہیں یہ عہد و میثاق یاد دلاتی رہیں۔ سب نے جواب میں کہا: ہم گواہی دیتے ہیں کہ تو ہی ہمارا رب ہے، تو ہی ہمارا معبود ہے، تیرے سوا ہمارا کوئی مربی نہیں۔ پس سب سے اطاعت کا وعدہ لیا۔ اب جو آدم علیہ السلام نے نظر اٹھا کر دیکھا تو امیر، غریب، خوبصورت اور اس کے سوا مختلف لوگوں پر نظر پڑی تو آپ کہنے لگے: کیا اچھا ہوتا کہ سب برابر ایک ہی حالت میں ہوتے تو جواب ملا کہ یہ اس لیے ہے کہ ہر شخص میری شکر گزاری کرے۔

آپ نے دیکھا کہ ان میں اللہ کے پیغمبر بھی ہیں، ان سے پھر علیحدہ ایک اور میثاق لیا گیا۔ جس کا بیان آیت «وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ النَّبِيِّينَ مِيثَاقَهُمْ» ۱؎ [33-الأحزاب:7] ‏‏‏‏ میں ہے۔ اسی عام میثاق کا بیان آیت «فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَتَ اللَّـهِ» ۱؎ [30-الروم:30] ‏‏‏‏ میں ہے۔ اسی لیے فرمان ہے «هَـٰذَا نَذِيرٌ مِّنَ النُّذُرِ الْأُولَىٰ» ۱؎ [53-النجم:56] ‏‏‏‏ اسی کا بیان اس آیت میں ہے «وَمَا وَجَدْنَا لِأَكْثَرِهِم مِّنْ عَهْدٍ» ۱؎ [7-الأعراف:102] ‏‏‏‏ (‏‏‏‏مسند احمد) مجاہد، عکرمہ، سعید بن جبیر، حسن، قتادہ، سدی اور بہت سے سلف رحمۃ اللہ علیہم سے ان احادیث کے مطابق اقوال مروی ہیں جن سب کے وارد کرنے سے بہت طول ہو جائے گا۔ ماحصل سب کا یہی ہے جو ہم نے بیان کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اولاد آدم کو آپ کی پیٹھ سے نکالا۔ جنتی، دوزخی الگ الگ کئے اور وہیں ان کو اپنے رب ہونے پر گواہ کر لیا۔ یہ جن دو احادیث میں ہے، وہ دونوں مرفوع نہیں بلکہ موقوف ہیں۔ اسی لیے سلف و خلف میں اس بات کے قائل گزرے ہیں کہ اس سے مراد فطرت پر پیدا کرنا ہے۔ جیسے کہ مرفوع اور صحیح احادیث میں وارد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آیت میں «مِن بَنِي آدَمَ» فرمایا اور «مِن ظُهُورِهِمْ» کہا، ورنہ «مِنْ اٰدَمَ» اور «مِنْ ظَھْرِہِ» ہوتا۔ ان کی نسلیں اس روز نکالی گئیں جو کہ یکے بعد دیگرے مختلف قرنوں میں ہونے والی تھیں۔ جیسے فرمان ہے «وَهُوَ الَّذِي جَعَلَكُمْ خَلَائِفَ الْأَرْضِ» ۱؎ [6-الأنعام:165] ‏‏‏‏ ’ اللہ ہی نے تمہیں زمین میں دوسروں کا جانشین کیا ہے۔ ‘ اور جگہ ہے: وہی تمہیں زمین کا خلیفہ بنا رہا ہے۔ اور آیت میں ہے: جیسے تمہیں دوسرے لوگوں کی اولاد میں کیا۔

الغرض حال و قال سے سب نے اللہ کے رب ہونے کا اقرار کیا۔ شہادت قولی ہوتی ہے . جیسے آیت «قَالُوا شَهِدْنَا عَلَىٰ أَنفُسِنَا» ۱؎ [6-الأنعام:130] ‏‏‏‏ میں۔ اور شہادت کبھی حال ہوتی ہے۔ جیسے آیت «مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَن يَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللَّـهِ شَاهِدِينَ عَلَىٰ أَنفُسِهِم بِالْكُفْرِ» ۱؎ [9-التوبة:17] ‏‏‏‏ میں یعنی ان کا حال ان کے کفر کی کھلی اور کافی شہادت ہے۔ اس طرح کی آیت «وَإِنَّهُ عَلَىٰ ذَٰلِكَ لَشَهِيدٌ» ۱؎ [100-العاديات:7] ‏‏‏‏ ہے۔ اسی طرح سوال بھی کبھی زبان سے ہوتا ہے، کبھی حال سے۔ جیسے فرمان ہے «وَآتَاكُم مِّن كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ» ۱؎ [14-إبراهيم:34] ‏‏‏‏ ’ اس نے تمہیں تمہارا منہ مانگا دیا۔ ‘ کہتے ہیں کہ اس بات کی دلیل بھی ہے کہ ان کے شرک کرنے پر یہ حجت ان کے خلاف پیش کی۔ پس اگر یہ واقع میں ہوا ہوتا، جیسا کہ ایک قول ہے تو چاہیئے تھا کہ ہر ایک کو یاد ہوتا تاکہ اس پر حجت رہے۔ اگر اس کا جواب یہ ہو کہ فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے خبر پا لینا کافی ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ رسولوں کو ہی نہیں مانتے، وہ رسولوں کی دی ہوئی خبروں کو کب صحیح جانتے ہیں؟ حالانکہ قرآن کریم نے رسولوں کی تکذیب کے علاوہ خود اس شہادت کو مستقل دلیل ٹھہرایا ہے۔ پس اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ اس سے مراد فطرت ربانی ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے ساری مخلوق کو پیدا کیا ہے اور وہ فطرت توحید باری تعالیٰ ہے۔ اسی لیے فرمایا ہے کہ یہ اس لیے کہ تم قیامت کے دن یہ نہ کہہ سکو کہ ہم توحید سے غافل تھے اور یہ بھی نہ کہہ سکو کہ شرک تو ہمارے اگلے باپ دادوں نے کیا تھا، ان کے اس ایجاد کردہ گناہ پر ہمیں سزا کیوں؟ پھر تفصیل وار آیات کا بیان فرمانے کا راز ظاہر کیا کہ اس کو سن کر برائیوں سے باز آ جانا ممکن ہو جاتا ہے۔
173۔ 1 یعنی ہم نے یہ اخذ عہد اپنی ربوبیت کی گواہی اس لئے لی تاکہ تم یہ عذر پیش نہ کرسکو کہ ہم تو غافل تھے یا ہمارے باپ دادا شرک کرتے تھے، یہ عذر قیامت والے دن بارگاہ الٰہی میں قبول نہیں ہونگے۔
(آیت 173) {اَوْ تَقُوْلُوْۤا اِنَّمَاۤ اَشْرَكَ …:} یا یہ عذر پیش کرو کہ ہم تو اپنے بڑوں کی دیکھا دیکھی شرک کی راہ پر چلتے رہے، ہمارا کیا قصور ہے، مطلب یہ ہے کہ شرک کے بارے میں مقلد کا کوئی عذر قبول نہیں ہو گا۔{ ” الْمُبْطِلُوْنَ “} سے مراد آبا و اجداد ہیں، یعنی یہ کہنا ہے کہ اصل مجرم وہی ہیں ہم نہیں، اس قسم کے عذر کا وہاں کوئی موقع نہیں ہو گا، کیونکہ ابتداءً ہر شخص کی فطرت میں اپنے رب کی پہچان اور اس کی توحید رکھ دی گئی ہے، پھر اس کی یاد دہانی اور تفسیر و تشریح کے لیے رسول بھیجے اور کتابیں نازل فرمائی گئی ہیں اور کائنات میں اس کے دلائل رکھ دیے گئے ہیں اور ان کے فہم کے لیے عقل بھی عنایت کی گئی ہے۔
وَ کَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الۡاٰیٰتِ وَ لَعَلَّہُمۡ یَرۡجِعُوۡنَ ﴿۱۷۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
دیکھو، اِس طرح ہم نشانیاں واضح طور پر پیش کرتے ہیں اور اس لیے کرتے ہیں کہ یہ لوگ پلٹ آئیں
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم اسی طرح آیات کو صاف صاف بیان کرتے ہیں اور تاکہ وه باز آجائیں
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم اسی طرح آیتیں رنگ رنگ سے بیان کرتے ہیں اور اس لیے کہ کہیں وہ پھر آئیں
علامہ محمد حسین نجفی
اسی طرح ہم اپنی نشانیاں تفصیل سے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ (حق کی طرف) رجوع کریں۔
عبدالسلام بن محمد
اور اسی طرح ہم آیات کو کھول کر بیان کرتے ہیں اور تاکہ وہ پلٹ آئیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہر روح نے اللہ تعالٰی کو اپنا خالق مانا ٭٭

اولاد آدم علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے ان کی نسلیں ان کی پیٹھوں سے روز اول میں نکالیں۔ پھر ان سب سے اس بات کا اقرار لیا کہ رب، خالق، مالک، معبود صرف وہی ہے۔ اسی فطرت پر پھر دنیا میں ان سب کو ان کے وقت پر اس نے پیدا کیا۔ یہی وہ فطرت ہے جس کی تبدیلی نا ممکن ہے۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ { ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:1385] ‏‏‏‏ ایک روایت میں ہے کہ { اس دین پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی، نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔ جیسے کہ بکری کا بچہ صحیح سالم پیدا ہوتا ہے لیکن پھر لوگ اس کے کان کاٹ دیتے ہیں۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4775] ‏‏‏‏ حدیث قدسی میں ہے کہ { میں نے اپنے بندوں کو موحد و مخلص پیدا کیا۔ پھر شیطان نے آ کر انہیں ان کے سچے دین سے بہکا کر میری حلال کردہ چیزیں ان پر حرام کر دیں۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2865] ‏‏‏‏ قبیلہ بنو سعد کے ایک صحابی { سیدنا اسود بن سریع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چار غزوے کئے۔ لوگوں نے لڑنے والے کفار کے قتل کے بعد ان کے بچوں کو بھی پکڑ لیا، جب آپ کو اس کا علم ہوا تو بہت ناراض ہوئے اور فرمایا: لوگ ان بچوں کو کیوں پکڑ رہے ہیں؟ کسی نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ بھی تو مشرکوں کے ہی بچے ہیں؟ فرمایا: سنو! تم میں سے بہتر لوگ مشرکین کی اولاد میں ہیں۔ یاد رکھو! ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے۔ پھر زبان چلنے پر اس کے ماں باپ یہودیت یا نصرانیت کی تعلیم دینے لگتے ہیں۔ } اس کے راوی حسن فرماتے ہیں: اسی کا ذکر اس آیت میں ہے کہ اللہ نے اولاد آدم سے اپنی توحید کا اقرار لیا ہے۔ (‏‏‏‏ابن جریر) ۱؎ [مسند احمد:435/3:ضعیف] ‏‏‏‏ اس اقرار کے بارے میں کئی ایک حدیثیں مروی ہیں۔

مسند احمد میں ہے کہ { قیامت کے دن دوزخی سے کہا جائے گا: اگر تمام دنیا تیری ہو تو کیا تو خوش ہے کہ اسے اپنے فدئیے میں دے کر میرے عذابوں سے آج بچ جائے؟ وہ کہے گا: ہاں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں نے تو اس سے بہت ہلکے درجے کی چیز تجھ سے طلب کی تھی اور اس کا وعدہ بھی تجھ سے لے لیا تھا کہ میرے سوا تو کسی اور کی عبادت نہ کرے۔ لیکن تو اسے توڑے بغیر نہ رہا اور دوسرے کو میرا شریک عبادت ٹھہرایا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3334] ‏‏‏‏ مسند میں ہے: نعمان نامی میدان میں اللہ تعالیٰ نے پشت آدم میں سے عرفے کے دن ان کی تمام اولاد ظاہر فرمائی۔ سب کو اس کے سامنے پھیلا دیا اور فرمایا: کیا میں تم سب کا رب نہیں ہوں؟ سب نے کہا: ہاں! ہم گواہ ہیں۔ پھر آپ نے «مُبْطِلُوْنَ» تک آیت تلاوت فرمائی۔ } ۱؎ [مسند احمد:272/1:صحیح] ‏‏‏‏ یہ روایت موقوف سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اس وقت لوگ چیونٹیوں کی طرح تھے اور تر زمین پر تھے۔ ضحاک بن مزاحم کے چھ دن کی عمر کے صاحبزادے کا انتقال ہو گیا تو آپ نے فرمایا: جابر اسے دفن کر کے اس کا منہ کفن سے کھول دینا اور گرہ بھی کھول دینا کیونکہ میرا یہ بچہ بٹھا دیا جائے گا اور اس سے سوال کیا جائے گا۔ جابر نے حکم کی بجا آوری کی۔ پھر میں نے پوچھا کہ آپ کے بچے سے کیا سوال ہو گا؟ اور کون سوال کرے گا؟ فرمایا: اس میثاق کے بارے میں جو صلب آدم میں لیا گیا ہے، سوال کیا جائے گا۔ میں نے پوچھا: وہ میثاق کیا ہے؟ فرمایا: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا تو جتنے انسان قیامت تک پیدا ہونے والے ہیں، سب کی روحیں آ گئیں۔ اللہ نے ان سے عہد و پیمان لیا کہ وہ اسی کی عبادت کریں گے، اس کے سوا کسی اور کو معبود نہیں مانیں گے۔ خود ان کے رزق کا کفیل بنا، پھر انہیں صلب آدم میں لوٹا دیا۔

پس یہ سب قیامت سے پہلے ہی پہلے پیدا ہوں گے۔ جس نے اس وعدے کو پورا کیا اور اپنی زندگی میں اس پر قائم رہا، اسے وہ وعدہ نفع دے گا اور جس نے اپنی زندگی میں اس کی خلاف ورزی کی، اسے پہلے کا وعدہ کچھ فائدہ نہ دے گا۔ اور جو بچپن میں ہی مر گیا، وہ میثاق اول پر اور فطرت پر مرا۔ ان آثار سے بھی بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ اوپر والی حدیث کا موقوف ہونا ہی اکثر اور زیادہ ثبوت والا ہے۔ ابن جریر رحمہ اللہ کی حدیث میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: { بنی آدم کی پیٹھ سے اللہ تعالیٰ نے ان کی نسلیں ایسے نکالیں جیسے کنگھی بالوں میں سے نکلتی ہے۔ ان سے اپنی ربوبیت کا سوال کیا، انہوں نے اقرار کیا، فرشتوں نے شہادت دی۔ اس لیے کہ یہ لوگ قیامت کے دن اس سے غفلت کا بہانہ نہ کریں۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:15365] ‏‏‏‏ { سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر پوچھی گئی تو آپ نے فرمایا: یہی سوال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوا تھا تو آپ نے میرے سنتے ہوئے فرمایا کہ اللہ عزوجل نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا۔ اپنے داہنے ہاتھ سے ان کی پیٹھ کو چھوا، اس سے اولاد نکلی۔ فرمایا: میں نے انہیں جہنم کے لئے پیدا کیا ہے، یہ جہنمیوں کے اعمال کریں گے تو آپ سے سوال ہوا کہ پھر عمل کس گنتی میں ہیں؟ آپ نے فرمایا: جو جنتی ہے، اس سے مرتے دم تک جنتیوں کے ہی اعمال سرزد ہوں گے اور جنت میں جائے گا۔ ہاں! جو جہنم کے لئے پیدا کیا گیا ہے، اس سے وہی اعمال سرزد ہوں گے، انہی پر مرے گا اور جہنم میں داخل ہو گا۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:4703،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ (‏‏‏‏ابوداؤد)

اور حدیث میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ نے اولاد آدم کو نکال کر ان کی دونوں آنکھوں کے درمیان ایک نور رکھ کر آدم علیہ السلام کے سامنے پیش کیا۔ انہوں نے پوچھا کہ یااللہ! یہ کون ہیں؟ فرمایا: یہ تیری اولاد ہے۔ ان میں سے ایک کے ماتھے کی چمک آدم علیہ السلام کو بہت اچھی لگی۔ پوچھا: یااللہ! یہ کون ہے؟ جواب ملا کہ یہ تیری اولاد میں سے بہت دور جا کر ہیں، ان کا نام داؤد ہے۔ پوچھا: ان کی عمر کیا ہے؟ فرمایا: ساٹھ سال۔ کہا: یااللہ! چالیس سال میری عمر میں سے ان کی عمر میں زیادہ کر۔ پس جب آدم علیہ السلام کی روح کو قبض کرنے کے لئے فرشتہ آیا تو آپ نے فرمایا: میری عمر میں سے تو ابھی چالیس سال باقی ہیں۔ فرشتے نے کہا: آپ کو یاد نہیں کہ آپ نے یہ چالیس سال اپنے بچے داؤد کو ہبہ کر دیئے ہیں۔ بات یہ ہے کہ چونکہ آدم علیہ السلام نے انکار کیا تو ان کی اولاد بھی انکار کی عادی ہے۔ آدم علیہ السلام خود بھول گئے، ان کی اولاد بھی بھولتی ہے۔ آدم علیہ السلام نے خطا کی، ان کی اولاد بھی خطا کرتی ہے۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:3076،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ یہ حدیث ترمذی میں ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح لکھتے ہیں۔ اور روایت میں ہے کہ { جب آدم علیہ السلام نے دیکھا کہ کوئی ان میں جذامی ہے، کوئی کوڑھی ہے، کوئی اندھا ہے، کوئی بیمار ہے تو پوچھا کہ یااللہ! اس میں کیا مصلحت ہے؟ فرمایا: یہ کہ میرا شکریہ ادا کیا جائے۔ آدم علیہ السلام نے پوچھا کہ یااللہ! ان میں سے یہ زیادہ روشن اور نورانی چہروں والے کون ہیں؟ فرمایا: یہ انبیاء ہیں الخ۔ } ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:8535/5:ضعیف] ‏‏‏‏

{ کسی شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ہم جو کچھ کرتے ہیں، یہ ہمارا ذاتی عمل ہے یا کہ فیصل شدہ ہے؟ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی اولاد کو ان کی پیٹھوں سے نکالا ہے۔ انہیں گواہ بنایا پھر اپنی دونوں مٹھیوں میں لے لیا اور فرمایا: یہ جنتی ہیں اور یہ جہنمی۔ پس اہل جنت پر تو نیک کام آسان ہوتے ہیں اور دوزخیوں پر برے کام آسان ہوتے ہیں۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:15377:حسن بالشواھد] ‏‏‏‏ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: { جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا اور قصہ ختم کیا تو جن کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال ملنے والا ہے، انہیں اپنی داہنی مٹھی میں لیا اور بائیں والوں کو بائیں مٹھی میں لیا۔ پھر فرمایا: اے دائیں طرف والو! انہوں نے کہا: «لبیک و سعدیک» ۔ فرمایا: کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ سب نے کہا: ہاں۔ پھر فرمایا: اے بائیں طرف والو! انہوں نے کہا: «لبیک و سعدیک» ۔ فرمایا: کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ سب نے کہا: ہاں۔ پھر سب کو ملا دیا۔ کسی نے پوچھا: یہ کیوں کیا؟ فرمایا: اس لیے کہ ان کے لیے اور اعمال ہیں، جنہیں یہ کرنے والے ہیں۔ یہ تو صرف اس لیے کہلوایا گیا ہے کہ انہیں یہ عذر نہ رہے کہ ہم اس سے غافل تھے۔ پھر سب کو صلب آدم علیہ السلام میں لوٹا دیا۔ } ۱؎ [طبرانی کبیر:7943:ضعیف جداً] ‏‏‏‏ ابی بن کعب فرماتے ہیں کہ اس دن سب کو جمع کیا، صورتیں دیں، بولنے کی طاقت دی، پھر عہد و میثاق لیا اور اپنے رب ہونے پر خود انہیں گواہ بنایا اور ساتوں آسمانوں، ساتوں زمینوں اور آدم علیہ السلام کو گواہ کیا کہ قیامت کے دن کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ ہمیں علم نہ تھا۔ جان لو کہ میرے سوا کوئی اور معبود نہیں، نہ میرے سوا کوئی اور مربی ہے۔ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا۔ میں اپنے رسولوں کو بھیجوں گا جو تمہیں یہ وعدہ یاد دلائیں گے۔ میں اپنی کتابیں اتاروں گا تاکہ تمہیں یہ عہد و میثاق یاد دلاتی رہیں۔ سب نے جواب میں کہا: ہم گواہی دیتے ہیں کہ تو ہی ہمارا رب ہے، تو ہی ہمارا معبود ہے، تیرے سوا ہمارا کوئی مربی نہیں۔ پس سب سے اطاعت کا وعدہ لیا۔ اب جو آدم علیہ السلام نے نظر اٹھا کر دیکھا تو امیر، غریب، خوبصورت اور اس کے سوا مختلف لوگوں پر نظر پڑی تو آپ کہنے لگے: کیا اچھا ہوتا کہ سب برابر ایک ہی حالت میں ہوتے تو جواب ملا کہ یہ اس لیے ہے کہ ہر شخص میری شکر گزاری کرے۔

آپ نے دیکھا کہ ان میں اللہ کے پیغمبر بھی ہیں، ان سے پھر علیحدہ ایک اور میثاق لیا گیا۔ جس کا بیان آیت «وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ النَّبِيِّينَ مِيثَاقَهُمْ» ۱؎ [33-الأحزاب:7] ‏‏‏‏ میں ہے۔ اسی عام میثاق کا بیان آیت «فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَتَ اللَّـهِ» ۱؎ [30-الروم:30] ‏‏‏‏ میں ہے۔ اسی لیے فرمان ہے «هَـٰذَا نَذِيرٌ مِّنَ النُّذُرِ الْأُولَىٰ» ۱؎ [53-النجم:56] ‏‏‏‏ اسی کا بیان اس آیت میں ہے «وَمَا وَجَدْنَا لِأَكْثَرِهِم مِّنْ عَهْدٍ» ۱؎ [7-الأعراف:102] ‏‏‏‏ (‏‏‏‏مسند احمد) مجاہد، عکرمہ، سعید بن جبیر، حسن، قتادہ، سدی اور بہت سے سلف رحمۃ اللہ علیہم سے ان احادیث کے مطابق اقوال مروی ہیں جن سب کے وارد کرنے سے بہت طول ہو جائے گا۔ ماحصل سب کا یہی ہے جو ہم نے بیان کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اولاد آدم کو آپ کی پیٹھ سے نکالا۔ جنتی، دوزخی الگ الگ کئے اور وہیں ان کو اپنے رب ہونے پر گواہ کر لیا۔ یہ جن دو احادیث میں ہے، وہ دونوں مرفوع نہیں بلکہ موقوف ہیں۔ اسی لیے سلف و خلف میں اس بات کے قائل گزرے ہیں کہ اس سے مراد فطرت پر پیدا کرنا ہے۔ جیسے کہ مرفوع اور صحیح احادیث میں وارد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آیت میں «مِن بَنِي آدَمَ» فرمایا اور «مِن ظُهُورِهِمْ» کہا، ورنہ «مِنْ اٰدَمَ» اور «مِنْ ظَھْرِہِ» ہوتا۔ ان کی نسلیں اس روز نکالی گئیں جو کہ یکے بعد دیگرے مختلف قرنوں میں ہونے والی تھیں۔ جیسے فرمان ہے «وَهُوَ الَّذِي جَعَلَكُمْ خَلَائِفَ الْأَرْضِ» ۱؎ [6-الأنعام:165] ‏‏‏‏ ’ اللہ ہی نے تمہیں زمین میں دوسروں کا جانشین کیا ہے۔ ‘ اور جگہ ہے: وہی تمہیں زمین کا خلیفہ بنا رہا ہے۔ اور آیت میں ہے: جیسے تمہیں دوسرے لوگوں کی اولاد میں کیا۔

الغرض حال و قال سے سب نے اللہ کے رب ہونے کا اقرار کیا۔ شہادت قولی ہوتی ہے . جیسے آیت «قَالُوا شَهِدْنَا عَلَىٰ أَنفُسِنَا» ۱؎ [6-الأنعام:130] ‏‏‏‏ میں۔ اور شہادت کبھی حال ہوتی ہے۔ جیسے آیت «مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَن يَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللَّـهِ شَاهِدِينَ عَلَىٰ أَنفُسِهِم بِالْكُفْرِ» ۱؎ [9-التوبة:17] ‏‏‏‏ میں یعنی ان کا حال ان کے کفر کی کھلی اور کافی شہادت ہے۔ اس طرح کی آیت «وَإِنَّهُ عَلَىٰ ذَٰلِكَ لَشَهِيدٌ» ۱؎ [100-العاديات:7] ‏‏‏‏ ہے۔ اسی طرح سوال بھی کبھی زبان سے ہوتا ہے، کبھی حال سے۔ جیسے فرمان ہے «وَآتَاكُم مِّن كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ» ۱؎ [14-إبراهيم:34] ‏‏‏‏ ’ اس نے تمہیں تمہارا منہ مانگا دیا۔ ‘ کہتے ہیں کہ اس بات کی دلیل بھی ہے کہ ان کے شرک کرنے پر یہ حجت ان کے خلاف پیش کی۔ پس اگر یہ واقع میں ہوا ہوتا، جیسا کہ ایک قول ہے تو چاہیئے تھا کہ ہر ایک کو یاد ہوتا تاکہ اس پر حجت رہے۔ اگر اس کا جواب یہ ہو کہ فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے خبر پا لینا کافی ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ رسولوں کو ہی نہیں مانتے، وہ رسولوں کی دی ہوئی خبروں کو کب صحیح جانتے ہیں؟ حالانکہ قرآن کریم نے رسولوں کی تکذیب کے علاوہ خود اس شہادت کو مستقل دلیل ٹھہرایا ہے۔ پس اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ اس سے مراد فطرت ربانی ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے ساری مخلوق کو پیدا کیا ہے اور وہ فطرت توحید باری تعالیٰ ہے۔ اسی لیے فرمایا ہے کہ یہ اس لیے کہ تم قیامت کے دن یہ نہ کہہ سکو کہ ہم توحید سے غافل تھے اور یہ بھی نہ کہہ سکو کہ شرک تو ہمارے اگلے باپ دادوں نے کیا تھا، ان کے اس ایجاد کردہ گناہ پر ہمیں سزا کیوں؟ پھر تفصیل وار آیات کا بیان فرمانے کا راز ظاہر کیا کہ اس کو سن کر برائیوں سے باز آ جانا ممکن ہو جاتا ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 174) {وَ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ وَ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ:} ”اور تاکہ وہ پلٹ آئیں“ اور باطل کو چھوڑ دیں۔ یہ واقعہ یہود کو سنایا، کیونکہ وہ بھی مشرکوں کی طرح اپنے عہد سے پھرے ہوئے تھے۔
وَ اتۡلُ عَلَیۡہِمۡ نَبَاَ الَّذِیۡۤ اٰتَیۡنٰہُ اٰیٰتِنَا فَانۡسَلَخَ مِنۡہَا فَاَتۡبَعَہُ الشَّیۡطٰنُ فَکَانَ مِنَ الۡغٰوِیۡنَ ﴿۱۷۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور اے محمدؐ، اِن کے سامنے اُس شخص کا حال بیان کرو جس کو ہم نے اپنی آیات کا علم عطا کیا تھا مگر وہ ان کی پابندی سے نکل بھاگا آخرکار شیطان اس کے پیچھے پڑ گیا یہاں تک کہ وہ بھٹکنے والوں میں شامل ہو کر رہا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ان لوگوں کو اس شخص کا حال پڑھ کر سنائیے کہ جس کو ہم نے اپنی آیتیں دیں پھر وه ان سے بالکل ہی نکل گیا، پھر شیطان اس کے پیچھے لگ گیا سو وه گمراه لوگوں میں شامل ہوگیا
احمد رضا خان بریلوی
اور اے محبوب! انہیں اس کا احوال سناؤ جسے ہم نے اپنی آیتیں دیں تو وہ ان سے صاف نکل گیا تو شیطان اس کے پیچھے لگا تو گمراہوں میں ہوگیا،
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول(ص)) ان لوگوں کے سامنے اس شخص کا واقعہ بیان کرو جس کو ہم نے اپنی بعض نشانیاں عطا کی تھیں مگر وہ ان سے عاری ہوگیا (وہ جامہ اتار دیا) پس شیطان اس کے پیچھے لگ گیا۔ اور آخرکار وہ گمراہوں میں سے ہوگیا۔
عبدالسلام بن محمد
اور انھیں اس شخص کی خبر پڑھ کر سنا جسے ہم نے اپنی آیات عطا کیں تو وہ ان سے صاف نکل گیا، پھر شیطان نے اسے پیچھے لگا لیا تو وہ گمراہوں میں سے ہوگیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بلعم بن باعورا ٭٭

مروی ہے کہ جس کا واقعہ ان آیتوں میں بیان ہو رہا ہے اس کا نام ”بلعم بن باعوراء“ ہے۔ یہ بھی کہ کہا گیا ہے کہ اس کا نام ”صیفی بن راہب“ تھا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ بلقاء کا ایک شخص تھا جو اسم اعظم جانتا تھا اور جبارین کے سات بیت المقدس میں رہا کرتا تھا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ یمنی شخص تھا جس نے کلام اللہ کو ترک کر دیا تھا۔ یہ شخص بنی اسرائیل کے علماء میں سے تھا، اس کی دعا مقبول ہو جایا کرتی تھی۔ بنی اسرائیل سختیوں کے وقت اسے آگے کر دیا کرتے تھے، اللہ اس کی دعا مقبول فرما لیا کرتا تھا۔ اسے موسیٰ علیہ السلام نے مدین کے بادشاہ کی طرف اللہ کے دین کی دعوت دینے کے لئے بھیجا تھا۔ اس عقلمند بادشاہ نے اسے مکر و فریب سے اپنا کر لیا، اس کے نام کئی گاؤں کر دیئے اور بہت کچھ انعام و اکرام دیا۔ یہ بد نصیب دین موسوی کو چھوڑ کر اس کے مذہب میں جا ملا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا نام ”بلعام“ تھا۔ یہ بھی ہے کہ یہ ”امیہ بن ابوصلت“ ہے۔ ممکن ہے کہ یہ کہنے والے کی یہ مراد ہو کہ یہ امیہ بھی اسی کے مشابہ تھا، اسے بھی اگلی شریعتوں کا علم تھا لیکن یہ ان سے فائدہ نہ اٹھا سکا۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کو بھی اس نے پایا، آپ کی آیات و بینات دیکھیں، معجزے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیے، ہزارہا کو دین حق میں داخل ہوتے دیکھا، لیکن مشرکین کے میل جول، ان میں امتیاز، ان میں دوستی اور وہاں کی سرداری کی ہوس نے اسے اسلام اور قبول حق سے روک دیا۔ اسی نے بدری کافروں کے ماتم میں مرثیے کہے، «لعنتہ اللہ» ۔ بعض احادیث میں وارد ہے کہ { اس کی زبان تو ایمان لا چکی تھی لیکن دل مومن نہیں ہوا تھا۔ کہتے ہیں کہ اس شخص سے اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا تھا کہ اس کی تین دعائیں جو بھی یہ کرے گا، مقبول ہوں گی۔ اس کی بیوی نے ایک مرتبہ اس سے کہا کہ ان تین دعاؤں میں سے ایک دعا میرے لیے کر۔ اس نے منظور کر لیا اور پوچھا: کیا دعا کرانا چاہتی ہو؟ اس نے کہا کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس قدر حسن و خوبصورتی عطا فرمائے کہ مجھ سے زیادہ حسین عورت بنی اسرائیل میں کوئی نہ ہو۔

{ اس نے دعا کی اور وہ ایسی ہی حسین ہو گئی۔ اب تو اس نے پر نکالے اور اپنے میاں کو محض بے حقیقت سمجھنے لگی، بڑے بڑے لوگ اس کی طرف جھکنے لگے اور یہ بھی ان کی طرف مائل ہو گئی۔ اس سے یہ بہت کڑھا اور اللہ سے دعا کی کہ یااللہ! اسے کتیا بنا دے۔ یہ بھی منظور ہوئی، وہ کتیا بن گئی۔ اب اس کے بچے آئے، انہوں نے گھیر لیا کہ آپ نے غضب کیا۔ لوگ ہمیں طعنہ دیتے ہیں اور ہم کتیا کے بچے مشہور ہو رہے ہیں۔ آپ دعا کیجئے کہ اللہ اسے اس کی اصلی حالت میں پھر سے لا دے۔ اس نے وہ تیسری دعا بھی کر لی، تینوں دعائیں یوں ہی ضائع ہو گئیں اور یہ خالی ہاتھ بےخیر رہ گیا۔ } ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:266/3:ضعیف] ‏‏‏‏ مشہور بات تو یہی ہے کہ بنی اسرائیل کے بزرگوں میں سے یہ ایک شخص تھا۔ بعض لوگوں نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ یہ نبی تھا۔ یہ محض غلط ہے، بالکل جھوٹ ہے اور کھلا افترا ہے۔ مروی ہے کہ { موسیٰ علیہ السلام جب قوم جبارین سے لڑائی کے لیے بنی اسرائیل کی ہمراہی میں گئے، انہی جبارین میں بلعام نامی یہ شخص تھا، اس کی قوم اور اس کے قرابت دار چچا وغیرہ سب اس کے پاس آئے اور کہا کہ موسیٰ علیہ السلام اور اس کی قوم کے لیے آپ بد دعا کیجئے۔ اس نے کہا: یہ نہیں ہو سکتا، اگر میں ایسا کروں گا تو میری دنیا و آخرت دونوں خراب ہو جائیں گی لیکن قوم سر ہو گئی۔ یہ بھی لحاظ مروت میں آ گیا۔ بد دعا کی، اللہ تعالیٰ نے اس سے کرامت چھین لی اور اسے اس کے مرتبے سے گرا دیا۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:122/6] ‏‏‏‏

سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب بنی اسرائیل کو وادی تیہ میں چالیس سال گزر گئے تو اللہ تعالیٰ نے یوشع بن نون علیہ السلام کو نبی بنا کر بھیجا۔ انہوں نے فرمایا کہ مجھے حکم ہوا ہے کہ میں تمہیں لے کر جاؤں اور ان جبارین سے جہاد کروں۔ یہ آمادہ ہو گئے، بیعت کر لی۔ انہی میں بلعام نامی ایک شخص تھا جو بڑا عالم تھا، اسم اعظم جانتا تھا۔ یہ بد نصیب کافر ہو گیا، قوم جبارین میں جا ملا اور ان سے کہا: تم نہ گھبراؤ۔ جب بنی اسرائیل کا لشکر آ جائے گا، میں ان پر بد دعا کروں گا تو وہ دفعتاً ہلاک ہو جائے گا۔ اس کے پاس تمام دنیوی ٹھاٹھ تھے لیکن عورتوں کی عظمت کی وجہ سے یہ ان سے نہیں ملتا تھا بلکہ ایک گدھی پال رکھی تھی۔ اسی بد قسمت کا ذکر اس آیت میں ہے۔ شیطان اس پر غالب آ گیا، اسے اپنے پھندے میں پھانس لیا۔ جو وہ کہتا تھا، یہ کرتا تھا۔ آخر ہلاک ہو گیا۔ مسند ابویعلیٰ موصلی میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تم پر سب سے زیادہ اس سے ڈرتا ہوں جو قران پڑھ لے گا، جو اسلام کی چادر اوڑھے ہوئے ہو گا اور دینی ترقی پر ہو گا کہ ایک دم اس سے ہٹ جائے گا، اسے پس پشت ڈال دے گا، اپنے پڑوسی پر تلوار لے دوڑے گا اور اسے شرک کی تہمت لگائے گا۔ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر دریافت کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مشرک ہونے کے زیادہ قابل کون ہو گا؟ یہ تہمت لگانے والا یا وہ جسے تہمت لگا رہا ہے؟ فرمایا: نہیں بلکہ تہمت دھرنے والا۔ } ۱؎ [المطالب العالیہ لابن حجر:273/4-274] ‏‏‏‏

پھر فرمایا کہ اگر ہم چاہتے تو قادر تھے کہ اسے بلند مرتبے پر پہنچائیں، دنیا کی آلائشوں سے پاک رکھیں، اپنی دی ہوئی آیتوں کی تابعداری پر قائم رکھیں لیکن وہ دنیوی لذتوں کی طرف جھک پڑا یہاں تک کہ شیطان کا پورا مرید ہو گیا، اسے سجدہ کر لیا۔ کہتے ہیں کہ اس بلعام سے لوگوں نے درخواست کی کہ آپ موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کے حق میں بد دعا کیجئے۔ اس نے کہا: اچھا! میں اللہ سے حکم لے لوں۔ جب اس نے اللہ تعالیٰ سے مناجات کی تو اسے معلوم ہوا کہ بنی اسرائیل مسلمان ہیں اور ان میں اللہ کے نبی موجود ہیں۔ اس نے سب سے کہا کہ مجھے بد دعا کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ انہوں نے بہت سارے تحفے تحائف جمع کر کے اسے دیئے، اس نے سب رکھ لیے۔ پھر دوبارہ درخواست کی کہ ہمیں ان سے بہت خوف ہے، آپ ضرور ان پر بد دعا کیجئے۔ اس نے جواب دیا کہ جب تک میں اللہ تعالیٰ سے اجازت نہ لے لوں، میں ہرگز یہ نہ کروں گا۔ اس نے پھر اللہ سے مناجات کی لیکن اسے کچھ معلوم نہ ہو سکا۔ اس نے یہی جواب انہیں دیا تو انہوں نے کہا: دیکھو! اگر منع ہی مقصود ہوتا تو آپ کو روک دیا جاتا جیسا کہ اس سے پہلے روک دیا گیا۔

اس کی بھی سمجھ میں آ گیا، اٹھ کر بد دعا شروع کی۔ اللہ کی شان سے بد دعا ان پر کرنے کے بجائے اس کی زبان سے اپنی ہی قوم کے لیے بد دعا نکلی اور جب اپنی قوم کی فتح کی دعا مانگنا چاہتا تو بنی اسرائیل کی فتح و نصرت کی دعا نکلتی۔ قوم نے کہا: آپ کیا غضب کر رہے ہیں؟ اس نے کہا: کیا کروں؟ میری زبان میرے قابو میں نہیں۔ سنو! اگر سچ مچ میری زبان سے ان کے لیے بد دعا نکلی تو قبول نہ ہو گی۔ سنو! اب میں تمہیں ایک ترکیب بتاتا ہوں، اگر تم اس میں کامیاب ہو گئے تو سمجھ لو کہ بنی اسرائیل برباد ہو جائیں گے۔ تم اپنی نوجوان لڑکیوں کو بناؤ سنگھار کرا کے ان کے لشکروں میں بھیجو اور انہیں ہدایت کر دو کہ کوئی ان کی طرف جھکے تو یہ انکار نہ کریں۔ ممکن ہے کہ بوجہ مسافرت یہ لوگ زناکاری میں مبتلا ہو جائیں۔ اگر یہ ہوا تو چونکہ حرام کاری اللہ کو سخت ناپسند ہے، اسی وقت ان پر عذاب آ جائے گا اور یہ تباہ ہو جائیں گے۔ ان بےغیرتوں نے اس بات کو مان لیا اور یہی کیا۔ خود بادشاہ کی بڑی حسین و جمیل لڑکی بھی بن ٹھن کر نکلی۔ اسے ہدایت کر دی تھی کہ سوائے موسیٰ علیہ السلام کے اور کسی کو اپنا نفس نہ سونپے۔ یہ عورتیں جب بنی اسرائیل کے لشکر میں پہنچیں تو عام لوگ بےقابو ہو گئے، حرام کاری سے بچ نہ سکے۔ شہزادی بنی اسرائیل کے ایک سردار کے پاس پہنچی، اس سردار نے اس لڑکی پر ڈورے ڈالے لیکن اس لڑکی نے انکار کیا۔ اس نے بتایا کہ میں فلاں فلاں ہوں، اس نے اپنے باپ سے یا بلعام سے پچھوایا، اس نے اجازت دی۔

یہ خبیث اپنا منہ کالا کر رہا تھا جسے ہارون علیہ السلام کی اولاد میں سے کسی صاحب نے دیکھ لیا، اپنے نیزے سے ان دونوں کو پرو دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے دست و بازی قوی کر دیئے، اس نے یونہی ان دونوں کو چھدے ہوئے اٹھا لیا۔ لوگوں نے بھی انہیں دیکھ لیا۔ اب اس لشکر پر عذاب رب بشکل طاعون آیا اور ستر ہزار آدمی فوراً ہلاک ہو گئے۔ بلعام اپنی گدھی پر سوار ہو کر چلا، وہ ایک ٹیلے پر چڑھ کر رک گئی۔ اب بلعام اسے مارتا پیٹتا ہے لیکن وہ قدم نہیں اٹھاتی۔ آخر گدھی نے اس کی طرف دیکھا اور کہا: مجھے کیوں مارتا ہے، سامنے دیکھ کون ہے؟ اس نے دیکھا تو شیطان لعین کھڑا ہوا تھا، یہ اتر پڑا اور سجدے میں گر گیا۔ الغرض ایمان سے خالی ہو گیا۔ اس کا نام یا تو بلعام تھا یا بلعم بن باعوراء یا ابن ابر یا ابن باعور بن شہتوم بن قوشتم بن مآب بن لوط بن ہاران یا ابن حران بن آزر۔ یہ بلقا کا رئیس تھا، اسم اعظم جانتا تھا لیکن اخیر میں دین حق سے ہٹ گیا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ ایک روایت میں ہے کہ قوم کے زیادہ کہنے سننے سے جب یہ اپنی گدھی پر سوار ہو کر بد دعا کے لیے چلا تو اس کی گدھی بیٹھ گئی۔ اس نے اسے مار پیٹ کر اٹھایا، کچھ دور چل کر پھر بیٹھ گئی۔ اس نے اسے پھر مار پیٹ کر اٹھایا، اسے اللہ نے زبان دی۔ اس نے کہا: تیرا ناس جائے! تو کہاں اور کیوں جا رہا ہے؟ اللہ کے مقابلے کو، اس کے رسول سے لڑنے اور مومنوں کو نقصان دلانے جا رہا ہے؟ دیکھو تو سہی! فرشتے میری راہ روکے کھڑے ہیں۔ اس نے پھر بھی کچھ خیال نہ کیا، آگے بڑھ گیا۔

حبان نامی پہاڑی پر چڑھ گیا جہاں سے بنو اسرائیل کا لشکر سامنے ہی نظر آتا تھا۔ اب ان کے لئے بد دعا اور اپنی قوم کے لیے دعائیں کرنے لگا لیکن زبان الٹ گئی، دعا کی جگہ بد دعا اور بد دعا کی جگہ دعا نکلنے لگی۔ قوم نے کہا: کیا کر رہے ہو؟ کہا بےبس ہوں۔ اسی وقت اس کی زبان نکل پڑی، سینے پر لٹکنے لگی۔ اس نے کہا: لو میری دنیا بھی خراب ہوئی اور دین تو بالکل برباد ہو گیا۔ پھر اس نے خوبصورت لڑکیاں بھیجنے کی ترکیب بتائی جیسے کہ اوپر بیان ہوا اور کہا کہ اگر ان میں سے ایک نے بھی بدکاری کر لی تو ان پر عذاب رب آ جائے گا۔ ان عورتوں میں سے ایک بہت ہی حسین عورت جو کنعانیہ تھی اور جس کا نام کسبی تھا جو صور نامی ایک رئیس کی بیٹی تھی، جب وہ بنی اسرائیل کے ایک بہت بڑے سردار زمری بن شلوم کے پاس سے گزری جو شمعون بن یعقوب کی نسل میں سے تھا، وہ اس پر فریفتہ ہو گیا۔ دلیری کے ساتھ اس کا ہاتھ تھامے ہوئے موسیٰ علیہ السلام کے پاس گیا اور کہنے لگا: آپ تو شاید کہہ دیں گے کہ یہ مجھ پر حرام ہے؟ آپ نے کہا: بیشک۔ اس نے کہا: اچھا! میں آپ کی یہ بات تو نہیں مان سکتا، اسے اپنے خیمے میں لے گیا اور اس سے منہ کالا کرنے لگا۔ وہیں اللہ تعالیٰ نے ان پر طاعون بھیج دیا۔ فنحاض بن عیزار بن ہارون اس وقت لشکر گاہ سے کہیں باہر گئے ہوئے تھے، جب آئے تو تمام حقیقت سنی تو بیتاب ہو کر غصے کے ساتھ اس بد کردار کے خیمے میں پہنچے اور اپنے نیزے میں ان دونوں کو پرو لیا اور اپنے ہاتھ میں نیزہ لیے ہوئے انہیں اوپر اٹھائے ہوئے باہر نکلے۔ کہنی کوکھ پر لگائے ہوئے کہنے لگے: یااللہ! ہمیں معاف فرما۔ ہم پر سے یہ وبا دور فرما۔ دیکھ لے، ہم تیرے نافرمانوں کے ساتھ یہ کرتے ہیں۔

ان کی دعا اور اس فعل سے طاعون اٹھ گیا لیکن اتنی دیر میں جب حساب لگایا گیا تو ستر ہزار آدمی اور ایک روایت کی رو سے بیس ہزار مر چکے تھے۔ دن کا وقت تھا اور کنعانیوں کی یہ چھوکریاں سودا بیچنے کے بہانے صرف اس لیے آئی تھیں کہ بنو اسرائیل بدکاری میں پھنس جائیں اور ان پر اللہ کے عذاب آ جائیں۔ بنو اسرائیل میں اب تک یہ دستور چلا آتا ہے کہ وہ اپنے ذبیحہ میں سے گردن اور دست اور سری اور ہر قسم کا سب سے پہلے پھل فنحاص کی اولاد کو دیا کرتے ہیں۔ اسی بلعام بن باعوراء کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔ فرمان ہے کہ اس کی مثال کتے کی سی ہے کہ خالی ہے تو ہانپتا ہے اور دھتکارا جائے تو ہانپتا رہتا ہے۔ یا تو اس مثال سے یہ مطلب ہے کہ بلعام کی زبان نیچے کو لٹک پڑی تھی جو پھر اندر کو نہ ہوئی، کتے کی طرح ہانپتا رہتا تھا اور زبان باہر لٹکائے رہتا تھا۔ یہ بھی معنی ہیں کہ اس کی ضلالت اور اس پر جمے رہنے کی مثال دی کہ اسے ایمان کی دعوت، علم کی دولت غرض کسی چیز نے برائی سے نہ ہٹایا۔ جیسے کتے کی زبان لٹکنے کی حالت برابر قائم رہتی ہے خواہ اسے پاؤں تلے روندو خواہ چھوڑ دو۔ جیسے بعض کفار مکہ کی نسبت فرمان ہے کہ ’ انہیں وعظ و پند کہنا، نہ کہنا سب برابر ہے۔ انہیں ایمان نصیب نہیں ہونے کا۔ ‘ ۱؎ [2-البقرة:6] ‏‏‏‏ اور جیسے بعض منافقوں کی نسبت فرمان ہے کہ ’ ان کے لیے تو استغفار کر یا نہ کر، اللہ انہیں نہیں بخشے گا۔ ‘ ۱؎ [9-التوبة:80] ‏‏‏‏ یہ بھی مطلب اس مثال کا بیان کیا گیا ہے کہ ان کافروں، منافقوں اور گمراہ لوگوں کے دل بودے اور ہدایت سے خالی ہیں، یہ کبھی مطمئن نہیں ہوتے۔

پھر اللہ عزوجل اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ تو انہیں پند و نصیحت کرتا رہ تاکہ ان میں سے جو عالم ہیں، وہ غور و فکر کر کے اللہ کی راہ پر آ جائیں۔ یہ سوچیں کہ بلعام ملعون کا کیا حال ہوا؟ دینی علم جیسی زبردست دولت کو جس نے دنیا کی سفلی راحت پر کھو دیا۔ آخر نہ یہ ملا نہ وہ۔ دونوں ہاتھ خالی رہ گئے۔ اسی طرح یہ علماء یہود جو اپنی کتابوں میں اللہ کی ہدایتیں پڑھ رہے ہیں، آپ کے اوصاف لکھے پاتے ہیں، انہیں چاہیئے کہ دنیا کی طمع میں پھنس کر اپنے مریدوں کو پھانس کر پھول نہ جائیں ورنہ یہ بھی اسی کی طرح دنیا میں کھو دیئے جائیں گے۔ انہیں چاہیئے کہ اپنی علمیت سے فائدہ اٹھائیں۔ سب سے پہلے تیری اطاعت کی طرف جھکیں اور اوروں پر حق کو ظاہر کریں۔ دیکھ لو کہ کفار کی کیسی بری مثالیں ہیں کہ کتوں کی طرح صرف نگلنے اگلنے اور شہوت زنی میں پڑے ہوئے ہیں۔ پس جو بھی علم و ہدایت کو چھوڑ کر خواہش نفس کے پورا کرنے میں لگ جائے، وہ بھی کتے جیسا ہی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: { ہمارے لیے بری مثالیں نہیں، اپنی ہبہ کی ہوئی چیز کو پھر لے لینے والا کتے کی طرح ہے جو قے کر کے چاٹ لیتا ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:2622] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے کہ گنہگار لوگ اللہ کا کچھ بگاڑتے نہیں، یہ تو اپنا ہی خسارہ کرتے ہیں۔ طاعت مولیٰ، اتباع ہدیٰ سے ہٹا کر خواہش کی غلامی، دنیا کی چاہت میں پڑ کر اپنے دونوں جہان خراب کرتے ہیں۔
175۔ 1 مفسرین نے اسے کسی ایک متعین شخص سے متعلق قرار دیا ہے جسے کتاب الٰہی کا علم حاصل تھا لیکن پھر وہ دنیا اور شیطان کے پیچھے لگ کر گمراہ ہوگیا۔ تاہم اس کے تعیین میں کوئی مسند بات مروی بھی نہیں۔ اس لئے اس تکلف کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ عام ہے اور ایسے افراد ہر امت اور ہر دور میں ہوتے رہے ہیں، جو بھی اس صفت کا حامل ہوگا وہ اس کا مصداق قرار پائے گا۔
(آیت 175) {وَ اتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَاَ الَّذِيْۤ …: ” سَلَخَ } (ن، ف)“ ”کھال اتارنا۔“ {”مَسْلُوْخٌ“} وہ بکری جس کی کھال اتار لی گئی۔ {”اِنْسَلَخَ الْحَيَّةُ“} ”سانپ اپنی کینچلی سے نکل گیا۔“ (قاموس) ان الفاظ سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ جس شخص کا قصہ یہاں عبرت کے لیے بیان کیا جا رہا ہے وہ ضرور کوئی خاص شخص ہے، لیکن قرآن اور صحیح حدیث میں نہ تو اس کے نام کی تصریح ہے اور نہ ہی زمانے کا ذکر ہے۔ صاحب المنار فرماتے ہیں کہ یہ ایک مثال ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اتاری جانے والی آیات کو جھٹلانے والوں کی بیان فرمائی۔ یہ اس شخص کی مثال ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی آیات کا علم عطا فرمایا، وہ ان کا عالم، ان کے قواعد کا حافظ اور اس کے احکام کو بیان کرنے اور بحث کرکے ثابت کرنے کے لائق ہو گیا مگر شیطان نے اسے اپنے پیچھے ایسا لگایا کہ وہ اس علم پر عامل نہ ہوا، بلکہ اس کا عمل اپنے علم کے سراسر مخالف رہا تو پھر اس سے ان آیات کا علم بھی چھن گیا، کیونکہ جس علم پر عمل نہ ہو وہ تھوڑی مدت ہی میں ختم ہو جاتا ہے۔ تو یہ شخص اس سانپ کی طرح ہو گیا جو اپنی کینچلی سے نکل جاتا ہے اور اسے اپنے پیچھے چھوڑ جاتا ہے، یا اپنے علم و عمل میں مخالفت کی وجہ سے اس شخص کی طرح ہو گیا جو اپنے علم سے نکل جاتا ہے اور اسے چھوڑ دیتا ہے، جیسے کوئی شخص اپنے پرانے کپڑے اتار دیتا ہے اور سانپ اپنی کینچلی سے نکل جاتا ہے کہ ان کا آپس میں کوئی تعلق نہیں رہتا۔ مثال کا خلاصہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی اپنے رسول پر نازل کردہ آیات کو جھٹلانے والے لوگ اس عالم کی طرح ہیں جو اپنے علم کے پھل سے فائدہ اٹھانے سے محروم ہو گیا ہو، کیونکہ دونوں ہی نے دلائل و آیات میں اخلاص کے ساتھ عبرت حاصل کرنے کے لیے غور نہیں کیا۔
وَ لَوۡ شِئۡنَا لَرَفَعۡنٰہُ بِہَا وَ لٰکِنَّہٗۤ اَخۡلَدَ اِلَی الۡاَرۡضِ وَ اتَّبَعَ ہَوٰىہُ ۚ فَمَثَلُہٗ کَمَثَلِ الۡکَلۡبِ ۚ اِنۡ تَحۡمِلۡ عَلَیۡہِ یَلۡہَثۡ اَوۡ تَتۡرُکۡہُ یَلۡہَثۡ ؕ ذٰلِکَ مَثَلُ الۡقَوۡمِ الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا ۚ فَاقۡصُصِ الۡقَصَصَ لَعَلَّہُمۡ یَتَفَکَّرُوۡنَ ﴿۱۷۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اگر ہم چاہتے تو اسے اُن آیتوں کے ذریعہ سے بلندی عطا کرتے، مگر وہ تو زمین ہی کی طرف جھک کر رہ گیا اور اپنی خواہش نفس ہی کے پیچھے پڑا رہا، لہٰذا اس کی حالت کتے کی سی ہو گئی کہ تم اس پر حملہ کرو تب بھی زبان لٹکائے رہے اور اسے چھوڑ دو تب بھی زبان لٹکائے رہے یہی مثال ہے اُن لوگوں کی جو ہماری آیات کو جھٹلاتے ہیں تم یہ حکایات اِن کو سناتے رہو، شاید کہ یہ کچھ غور و فکر کریں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اگر ہم چاہتے تو اس کو ان آیتوں کی بدولت بلند مرتبہ کر دیتے لیکن وه تو دنیا کی طرف مائل ہوگیا اور اپنی نفسانی خواہش کی پیروی کرنے لگا سو اس کی حالت کتے کی سی ہوگئی کہ اگر تو اس پر حملہ کرے تب بھی ہانپے یا اس کو چھوڑ دے تب بھی ہانپے، یہی حالت ان لوگوں کی ہے جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا۔ سو آپ اس حال کو بیان کر دیجئے شاید وه لوگ کچھ سوچیں
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم چاہتے تو آیتوں کے سبب اسے اٹھالیتے مگر وہ تو زمین پکڑ گیا اور اپنی خواہش کا تابع ہوا تو اس کا حال کتے کی طرح ہے تو اس پر حملہ کرے تو زبان نکالے اور چھوڑ دے تو زبان نکالے یہ حال ہے ان کا جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں تو تم نصیحت سناؤ کہ کہیں وہ دھیان کریں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اگر ہم چاہتے تو ان نشانیوں کی وجہ سے اس کا مرتبہ بلند کرتے۔ مگر وہ تو زمین (پستی) کی طرف جھک گیا۔ اور اپنی خواہشِ نفس کا پیرو ہوگیا۔ تو اب اس کی مثال کتے کی سی ہوگئی کہ اگر تم اس پر حملہ کرو تب بھی ہانپتا ہے اور یونہی چھوڑ دو تب بھی ایسا کرتا ہے۔ (زبان لٹکائے ہانپتا ہے) یہ مثال ان لوگوں کی ہے جنہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا (اے رسول) تم یہ قصص و حکایات سناتے رہو شاید وہ غور و فکر کریں۔
عبدالسلام بن محمد
اور اگر ہم چاہتے تو اسے ان کے ذریعے بلند کر دیتے، مگر وہ زمین کی طرف چمٹ گیا اور اپنی خواہش کے پیچھے لگ گیا، تو اس کی مثال کتے کی مثال کی طرح ہے کہ اگر تو اس پر حملہ کرے تو زبان نکالے ہانپتا ہے، یا اسے چھوڑ دے تو بھی زبان نکالے ہانپتا ہے، یہ ان لوگوں کی مثال ہے جنھوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا۔ سو تو یہ بیان سنا دے، تاکہ وہ غور و فکر کریں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بلعم بن باعورا ٭٭

مروی ہے کہ جس کا واقعہ ان آیتوں میں بیان ہو رہا ہے اس کا نام ”بلعم بن باعوراء“ ہے۔ یہ بھی کہ کہا گیا ہے کہ اس کا نام ”صیفی بن راہب“ تھا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ بلقاء کا ایک شخص تھا جو اسم اعظم جانتا تھا اور جبارین کے سات بیت المقدس میں رہا کرتا تھا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ یمنی شخص تھا جس نے کلام اللہ کو ترک کر دیا تھا۔ یہ شخص بنی اسرائیل کے علماء میں سے تھا، اس کی دعا مقبول ہو جایا کرتی تھی۔ بنی اسرائیل سختیوں کے وقت اسے آگے کر دیا کرتے تھے، اللہ اس کی دعا مقبول فرما لیا کرتا تھا۔ اسے موسیٰ علیہ السلام نے مدین کے بادشاہ کی طرف اللہ کے دین کی دعوت دینے کے لئے بھیجا تھا۔ اس عقلمند بادشاہ نے اسے مکر و فریب سے اپنا کر لیا، اس کے نام کئی گاؤں کر دیئے اور بہت کچھ انعام و اکرام دیا۔ یہ بد نصیب دین موسوی کو چھوڑ کر اس کے مذہب میں جا ملا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا نام ”بلعام“ تھا۔ یہ بھی ہے کہ یہ ”امیہ بن ابوصلت“ ہے۔ ممکن ہے کہ یہ کہنے والے کی یہ مراد ہو کہ یہ امیہ بھی اسی کے مشابہ تھا، اسے بھی اگلی شریعتوں کا علم تھا لیکن یہ ان سے فائدہ نہ اٹھا سکا۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کو بھی اس نے پایا، آپ کی آیات و بینات دیکھیں، معجزے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیے، ہزارہا کو دین حق میں داخل ہوتے دیکھا، لیکن مشرکین کے میل جول، ان میں امتیاز، ان میں دوستی اور وہاں کی سرداری کی ہوس نے اسے اسلام اور قبول حق سے روک دیا۔ اسی نے بدری کافروں کے ماتم میں مرثیے کہے، «لعنتہ اللہ» ۔ بعض احادیث میں وارد ہے کہ { اس کی زبان تو ایمان لا چکی تھی لیکن دل مومن نہیں ہوا تھا۔ کہتے ہیں کہ اس شخص سے اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا تھا کہ اس کی تین دعائیں جو بھی یہ کرے گا، مقبول ہوں گی۔ اس کی بیوی نے ایک مرتبہ اس سے کہا کہ ان تین دعاؤں میں سے ایک دعا میرے لیے کر۔ اس نے منظور کر لیا اور پوچھا: کیا دعا کرانا چاہتی ہو؟ اس نے کہا کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس قدر حسن و خوبصورتی عطا فرمائے کہ مجھ سے زیادہ حسین عورت بنی اسرائیل میں کوئی نہ ہو۔

{ اس نے دعا کی اور وہ ایسی ہی حسین ہو گئی۔ اب تو اس نے پر نکالے اور اپنے میاں کو محض بے حقیقت سمجھنے لگی، بڑے بڑے لوگ اس کی طرف جھکنے لگے اور یہ بھی ان کی طرف مائل ہو گئی۔ اس سے یہ بہت کڑھا اور اللہ سے دعا کی کہ یااللہ! اسے کتیا بنا دے۔ یہ بھی منظور ہوئی، وہ کتیا بن گئی۔ اب اس کے بچے آئے، انہوں نے گھیر لیا کہ آپ نے غضب کیا۔ لوگ ہمیں طعنہ دیتے ہیں اور ہم کتیا کے بچے مشہور ہو رہے ہیں۔ آپ دعا کیجئے کہ اللہ اسے اس کی اصلی حالت میں پھر سے لا دے۔ اس نے وہ تیسری دعا بھی کر لی، تینوں دعائیں یوں ہی ضائع ہو گئیں اور یہ خالی ہاتھ بےخیر رہ گیا۔ } ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:266/3:ضعیف] ‏‏‏‏ مشہور بات تو یہی ہے کہ بنی اسرائیل کے بزرگوں میں سے یہ ایک شخص تھا۔ بعض لوگوں نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ یہ نبی تھا۔ یہ محض غلط ہے، بالکل جھوٹ ہے اور کھلا افترا ہے۔ مروی ہے کہ { موسیٰ علیہ السلام جب قوم جبارین سے لڑائی کے لیے بنی اسرائیل کی ہمراہی میں گئے، انہی جبارین میں بلعام نامی یہ شخص تھا، اس کی قوم اور اس کے قرابت دار چچا وغیرہ سب اس کے پاس آئے اور کہا کہ موسیٰ علیہ السلام اور اس کی قوم کے لیے آپ بد دعا کیجئے۔ اس نے کہا: یہ نہیں ہو سکتا، اگر میں ایسا کروں گا تو میری دنیا و آخرت دونوں خراب ہو جائیں گی لیکن قوم سر ہو گئی۔ یہ بھی لحاظ مروت میں آ گیا۔ بد دعا کی، اللہ تعالیٰ نے اس سے کرامت چھین لی اور اسے اس کے مرتبے سے گرا دیا۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:122/6] ‏‏‏‏

سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب بنی اسرائیل کو وادی تیہ میں چالیس سال گزر گئے تو اللہ تعالیٰ نے یوشع بن نون علیہ السلام کو نبی بنا کر بھیجا۔ انہوں نے فرمایا کہ مجھے حکم ہوا ہے کہ میں تمہیں لے کر جاؤں اور ان جبارین سے جہاد کروں۔ یہ آمادہ ہو گئے، بیعت کر لی۔ انہی میں بلعام نامی ایک شخص تھا جو بڑا عالم تھا، اسم اعظم جانتا تھا۔ یہ بد نصیب کافر ہو گیا، قوم جبارین میں جا ملا اور ان سے کہا: تم نہ گھبراؤ۔ جب بنی اسرائیل کا لشکر آ جائے گا، میں ان پر بد دعا کروں گا تو وہ دفعتاً ہلاک ہو جائے گا۔ اس کے پاس تمام دنیوی ٹھاٹھ تھے لیکن عورتوں کی عظمت کی وجہ سے یہ ان سے نہیں ملتا تھا بلکہ ایک گدھی پال رکھی تھی۔ اسی بد قسمت کا ذکر اس آیت میں ہے۔ شیطان اس پر غالب آ گیا، اسے اپنے پھندے میں پھانس لیا۔ جو وہ کہتا تھا، یہ کرتا تھا۔ آخر ہلاک ہو گیا۔ مسند ابویعلیٰ موصلی میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تم پر سب سے زیادہ اس سے ڈرتا ہوں جو قران پڑھ لے گا، جو اسلام کی چادر اوڑھے ہوئے ہو گا اور دینی ترقی پر ہو گا کہ ایک دم اس سے ہٹ جائے گا، اسے پس پشت ڈال دے گا، اپنے پڑوسی پر تلوار لے دوڑے گا اور اسے شرک کی تہمت لگائے گا۔ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر دریافت کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مشرک ہونے کے زیادہ قابل کون ہو گا؟ یہ تہمت لگانے والا یا وہ جسے تہمت لگا رہا ہے؟ فرمایا: نہیں بلکہ تہمت دھرنے والا۔ } ۱؎ [المطالب العالیہ لابن حجر:273/4-274] ‏‏‏‏

پھر فرمایا کہ اگر ہم چاہتے تو قادر تھے کہ اسے بلند مرتبے پر پہنچائیں، دنیا کی آلائشوں سے پاک رکھیں، اپنی دی ہوئی آیتوں کی تابعداری پر قائم رکھیں لیکن وہ دنیوی لذتوں کی طرف جھک پڑا یہاں تک کہ شیطان کا پورا مرید ہو گیا، اسے سجدہ کر لیا۔ کہتے ہیں کہ اس بلعام سے لوگوں نے درخواست کی کہ آپ موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کے حق میں بد دعا کیجئے۔ اس نے کہا: اچھا! میں اللہ سے حکم لے لوں۔ جب اس نے اللہ تعالیٰ سے مناجات کی تو اسے معلوم ہوا کہ بنی اسرائیل مسلمان ہیں اور ان میں اللہ کے نبی موجود ہیں۔ اس نے سب سے کہا کہ مجھے بد دعا کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ انہوں نے بہت سارے تحفے تحائف جمع کر کے اسے دیئے، اس نے سب رکھ لیے۔ پھر دوبارہ درخواست کی کہ ہمیں ان سے بہت خوف ہے، آپ ضرور ان پر بد دعا کیجئے۔ اس نے جواب دیا کہ جب تک میں اللہ تعالیٰ سے اجازت نہ لے لوں، میں ہرگز یہ نہ کروں گا۔ اس نے پھر اللہ سے مناجات کی لیکن اسے کچھ معلوم نہ ہو سکا۔ اس نے یہی جواب انہیں دیا تو انہوں نے کہا: دیکھو! اگر منع ہی مقصود ہوتا تو آپ کو روک دیا جاتا جیسا کہ اس سے پہلے روک دیا گیا۔

اس کی بھی سمجھ میں آ گیا، اٹھ کر بد دعا شروع کی۔ اللہ کی شان سے بد دعا ان پر کرنے کے بجائے اس کی زبان سے اپنی ہی قوم کے لیے بد دعا نکلی اور جب اپنی قوم کی فتح کی دعا مانگنا چاہتا تو بنی اسرائیل کی فتح و نصرت کی دعا نکلتی۔ قوم نے کہا: آپ کیا غضب کر رہے ہیں؟ اس نے کہا: کیا کروں؟ میری زبان میرے قابو میں نہیں۔ سنو! اگر سچ مچ میری زبان سے ان کے لیے بد دعا نکلی تو قبول نہ ہو گی۔ سنو! اب میں تمہیں ایک ترکیب بتاتا ہوں، اگر تم اس میں کامیاب ہو گئے تو سمجھ لو کہ بنی اسرائیل برباد ہو جائیں گے۔ تم اپنی نوجوان لڑکیوں کو بناؤ سنگھار کرا کے ان کے لشکروں میں بھیجو اور انہیں ہدایت کر دو کہ کوئی ان کی طرف جھکے تو یہ انکار نہ کریں۔ ممکن ہے کہ بوجہ مسافرت یہ لوگ زناکاری میں مبتلا ہو جائیں۔ اگر یہ ہوا تو چونکہ حرام کاری اللہ کو سخت ناپسند ہے، اسی وقت ان پر عذاب آ جائے گا اور یہ تباہ ہو جائیں گے۔ ان بےغیرتوں نے اس بات کو مان لیا اور یہی کیا۔ خود بادشاہ کی بڑی حسین و جمیل لڑکی بھی بن ٹھن کر نکلی۔ اسے ہدایت کر دی تھی کہ سوائے موسیٰ علیہ السلام کے اور کسی کو اپنا نفس نہ سونپے۔ یہ عورتیں جب بنی اسرائیل کے لشکر میں پہنچیں تو عام لوگ بےقابو ہو گئے، حرام کاری سے بچ نہ سکے۔ شہزادی بنی اسرائیل کے ایک سردار کے پاس پہنچی، اس سردار نے اس لڑکی پر ڈورے ڈالے لیکن اس لڑکی نے انکار کیا۔ اس نے بتایا کہ میں فلاں فلاں ہوں، اس نے اپنے باپ سے یا بلعام سے پچھوایا، اس نے اجازت دی۔

یہ خبیث اپنا منہ کالا کر رہا تھا جسے ہارون علیہ السلام کی اولاد میں سے کسی صاحب نے دیکھ لیا، اپنے نیزے سے ان دونوں کو پرو دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے دست و بازی قوی کر دیئے، اس نے یونہی ان دونوں کو چھدے ہوئے اٹھا لیا۔ لوگوں نے بھی انہیں دیکھ لیا۔ اب اس لشکر پر عذاب رب بشکل طاعون آیا اور ستر ہزار آدمی فوراً ہلاک ہو گئے۔ بلعام اپنی گدھی پر سوار ہو کر چلا، وہ ایک ٹیلے پر چڑھ کر رک گئی۔ اب بلعام اسے مارتا پیٹتا ہے لیکن وہ قدم نہیں اٹھاتی۔ آخر گدھی نے اس کی طرف دیکھا اور کہا: مجھے کیوں مارتا ہے، سامنے دیکھ کون ہے؟ اس نے دیکھا تو شیطان لعین کھڑا ہوا تھا، یہ اتر پڑا اور سجدے میں گر گیا۔ الغرض ایمان سے خالی ہو گیا۔ اس کا نام یا تو بلعام تھا یا بلعم بن باعوراء یا ابن ابر یا ابن باعور بن شہتوم بن قوشتم بن مآب بن لوط بن ہاران یا ابن حران بن آزر۔ یہ بلقا کا رئیس تھا، اسم اعظم جانتا تھا لیکن اخیر میں دین حق سے ہٹ گیا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ ایک روایت میں ہے کہ قوم کے زیادہ کہنے سننے سے جب یہ اپنی گدھی پر سوار ہو کر بد دعا کے لیے چلا تو اس کی گدھی بیٹھ گئی۔ اس نے اسے مار پیٹ کر اٹھایا، کچھ دور چل کر پھر بیٹھ گئی۔ اس نے اسے پھر مار پیٹ کر اٹھایا، اسے اللہ نے زبان دی۔ اس نے کہا: تیرا ناس جائے! تو کہاں اور کیوں جا رہا ہے؟ اللہ کے مقابلے کو، اس کے رسول سے لڑنے اور مومنوں کو نقصان دلانے جا رہا ہے؟ دیکھو تو سہی! فرشتے میری راہ روکے کھڑے ہیں۔ اس نے پھر بھی کچھ خیال نہ کیا، آگے بڑھ گیا۔

حبان نامی پہاڑی پر چڑھ گیا جہاں سے بنو اسرائیل کا لشکر سامنے ہی نظر آتا تھا۔ اب ان کے لئے بد دعا اور اپنی قوم کے لیے دعائیں کرنے لگا لیکن زبان الٹ گئی، دعا کی جگہ بد دعا اور بد دعا کی جگہ دعا نکلنے لگی۔ قوم نے کہا: کیا کر رہے ہو؟ کہا بےبس ہوں۔ اسی وقت اس کی زبان نکل پڑی، سینے پر لٹکنے لگی۔ اس نے کہا: لو میری دنیا بھی خراب ہوئی اور دین تو بالکل برباد ہو گیا۔ پھر اس نے خوبصورت لڑکیاں بھیجنے کی ترکیب بتائی جیسے کہ اوپر بیان ہوا اور کہا کہ اگر ان میں سے ایک نے بھی بدکاری کر لی تو ان پر عذاب رب آ جائے گا۔ ان عورتوں میں سے ایک بہت ہی حسین عورت جو کنعانیہ تھی اور جس کا نام کسبی تھا جو صور نامی ایک رئیس کی بیٹی تھی، جب وہ بنی اسرائیل کے ایک بہت بڑے سردار زمری بن شلوم کے پاس سے گزری جو شمعون بن یعقوب کی نسل میں سے تھا، وہ اس پر فریفتہ ہو گیا۔ دلیری کے ساتھ اس کا ہاتھ تھامے ہوئے موسیٰ علیہ السلام کے پاس گیا اور کہنے لگا: آپ تو شاید کہہ دیں گے کہ یہ مجھ پر حرام ہے؟ آپ نے کہا: بیشک۔ اس نے کہا: اچھا! میں آپ کی یہ بات تو نہیں مان سکتا، اسے اپنے خیمے میں لے گیا اور اس سے منہ کالا کرنے لگا۔ وہیں اللہ تعالیٰ نے ان پر طاعون بھیج دیا۔ فنحاض بن عیزار بن ہارون اس وقت لشکر گاہ سے کہیں باہر گئے ہوئے تھے، جب آئے تو تمام حقیقت سنی تو بیتاب ہو کر غصے کے ساتھ اس بد کردار کے خیمے میں پہنچے اور اپنے نیزے میں ان دونوں کو پرو لیا اور اپنے ہاتھ میں نیزہ لیے ہوئے انہیں اوپر اٹھائے ہوئے باہر نکلے۔ کہنی کوکھ پر لگائے ہوئے کہنے لگے: یااللہ! ہمیں معاف فرما۔ ہم پر سے یہ وبا دور فرما۔ دیکھ لے، ہم تیرے نافرمانوں کے ساتھ یہ کرتے ہیں۔

ان کی دعا اور اس فعل سے طاعون اٹھ گیا لیکن اتنی دیر میں جب حساب لگایا گیا تو ستر ہزار آدمی اور ایک روایت کی رو سے بیس ہزار مر چکے تھے۔ دن کا وقت تھا اور کنعانیوں کی یہ چھوکریاں سودا بیچنے کے بہانے صرف اس لیے آئی تھیں کہ بنو اسرائیل بدکاری میں پھنس جائیں اور ان پر اللہ کے عذاب آ جائیں۔ بنو اسرائیل میں اب تک یہ دستور چلا آتا ہے کہ وہ اپنے ذبیحہ میں سے گردن اور دست اور سری اور ہر قسم کا سب سے پہلے پھل فنحاص کی اولاد کو دیا کرتے ہیں۔ اسی بلعام بن باعوراء کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔ فرمان ہے کہ اس کی مثال کتے کی سی ہے کہ خالی ہے تو ہانپتا ہے اور دھتکارا جائے تو ہانپتا رہتا ہے۔ یا تو اس مثال سے یہ مطلب ہے کہ بلعام کی زبان نیچے کو لٹک پڑی تھی جو پھر اندر کو نہ ہوئی، کتے کی طرح ہانپتا رہتا تھا اور زبان باہر لٹکائے رہتا تھا۔ یہ بھی معنی ہیں کہ اس کی ضلالت اور اس پر جمے رہنے کی مثال دی کہ اسے ایمان کی دعوت، علم کی دولت غرض کسی چیز نے برائی سے نہ ہٹایا۔ جیسے کتے کی زبان لٹکنے کی حالت برابر قائم رہتی ہے خواہ اسے پاؤں تلے روندو خواہ چھوڑ دو۔ جیسے بعض کفار مکہ کی نسبت فرمان ہے کہ ’ انہیں وعظ و پند کہنا، نہ کہنا سب برابر ہے۔ انہیں ایمان نصیب نہیں ہونے کا۔ ‘ ۱؎ [2-البقرة:6] ‏‏‏‏ اور جیسے بعض منافقوں کی نسبت فرمان ہے کہ ’ ان کے لیے تو استغفار کر یا نہ کر، اللہ انہیں نہیں بخشے گا۔ ‘ ۱؎ [9-التوبة:80] ‏‏‏‏ یہ بھی مطلب اس مثال کا بیان کیا گیا ہے کہ ان کافروں، منافقوں اور گمراہ لوگوں کے دل بودے اور ہدایت سے خالی ہیں، یہ کبھی مطمئن نہیں ہوتے۔

پھر اللہ عزوجل اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ تو انہیں پند و نصیحت کرتا رہ تاکہ ان میں سے جو عالم ہیں، وہ غور و فکر کر کے اللہ کی راہ پر آ جائیں۔ یہ سوچیں کہ بلعام ملعون کا کیا حال ہوا؟ دینی علم جیسی زبردست دولت کو جس نے دنیا کی سفلی راحت پر کھو دیا۔ آخر نہ یہ ملا نہ وہ۔ دونوں ہاتھ خالی رہ گئے۔ اسی طرح یہ علماء یہود جو اپنی کتابوں میں اللہ کی ہدایتیں پڑھ رہے ہیں، آپ کے اوصاف لکھے پاتے ہیں، انہیں چاہیئے کہ دنیا کی طمع میں پھنس کر اپنے مریدوں کو پھانس کر پھول نہ جائیں ورنہ یہ بھی اسی کی طرح دنیا میں کھو دیئے جائیں گے۔ انہیں چاہیئے کہ اپنی علمیت سے فائدہ اٹھائیں۔ سب سے پہلے تیری اطاعت کی طرف جھکیں اور اوروں پر حق کو ظاہر کریں۔ دیکھ لو کہ کفار کی کیسی بری مثالیں ہیں کہ کتوں کی طرح صرف نگلنے اگلنے اور شہوت زنی میں پڑے ہوئے ہیں۔ پس جو بھی علم و ہدایت کو چھوڑ کر خواہش نفس کے پورا کرنے میں لگ جائے، وہ بھی کتے جیسا ہی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: { ہمارے لیے بری مثالیں نہیں، اپنی ہبہ کی ہوئی چیز کو پھر لے لینے والا کتے کی طرح ہے جو قے کر کے چاٹ لیتا ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:2622] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے کہ گنہگار لوگ اللہ کا کچھ بگاڑتے نہیں، یہ تو اپنا ہی خسارہ کرتے ہیں۔ طاعت مولیٰ، اتباع ہدیٰ سے ہٹا کر خواہش کی غلامی، دنیا کی چاہت میں پڑ کر اپنے دونوں جہان خراب کرتے ہیں۔
176۔ 1 لَھَت، ُ کہتے ہیں تھکاوٹ یا پیاس وغیرہ کی وجہ سے زبان باہر نکالنے کو، کتے کی یہ عادت ہے کہ تم اسے ڈانٹو ڈپٹو یا اسکے حال پر چھوڑ دو، دونوں حالتوں میں وہ بھونکنے سے باز نہیں آتا، اسی طرح اس کی یہ عادت بھی ہے کہ وہ شکم سیر ہو یا بھوکا، تندرست ہو یا بیمار، تھکا ماندہ ہو یا توانا، ہر حال میں زبان باہر نکالے ہانپتا رہتا ہے۔ یہی حال ایسے شخص کا ہے اسے وعظ کرو یا نہ کرو، اس کا حال ایک ہی رہے گا اور دنیا کے مال و متاع کے لئے اس کی رال ٹپکتی رہے گی۔ 176۔ 2 اور اس قسم کے لوگوں سے عبرت حاصل کرکے، گمراہی سے بچیں اور حق کو اپنائیں۔
(آیت 177،176) ➊ {وَ لَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنٰهُ بِهَا …: } اگر ہم چاہتے تو اسے ان آیات پر عمل کی توفیق دے کر صالحین و ابرار کے آسمان پر بلند کر دیتے، مگر وہ زمین اور پستی (دنیا کے حقیر سازوسامان) کی طرف چمٹ ہی گیا اور اپنی خواہش نفس کے پیچھے لگ کر ہر وقت دنیا کی طلب میں لگ گیا، تو اس کی مثال ہر وقت زبان نکال کر ہانپتے ہوئے کتے کے ساتھ دی گئی۔ مفسرین میں سے بعض نے گزشتہ امتوں میں سے اس کا نام بلعم بن باعورا بتایا ہے اور بعض نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے بعض اشخاص، مثلاً امیہ بن صلت وغیرہ کا نام ذکر کیا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ سب لوگ اس آیت کے مصداق ہیں جن کا اوپر ذکر ہوا اور ان میں یہ اشخاص بھی شامل ہیں۔ ➋ {فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ الْكَلْبِ …: ” لَهَثٌ“} تھکاوٹ یا پیاس اور گرمی کی وجہ سے زبان باہر نکال کر ہانپنے کو کہتے ہیں۔ دوسرے جانوروں پر اگر حملہ کیا جائے تو دوڑنے اور پیاس اور گرمی کی وجہ سے وہ ہانپنے لگتے ہیں، لیکن اگر انھیں کچھ نہ کہا جائے تو آرام سے بیٹھے رہتے ہیں، زبان باہر نکالے ہوئے ہانپتے نہیں، مگر کتا ایسا جانور ہے کہ تازہ ہوا سہولت کے ساتھ نہ اندر کھینچ سکتا ہے نہ گرم ہوا باہر نکال سکتا ہے، اس لیے کوئی اس پر حملہ کرے اور دوڑنے کی وجہ سے اسے سانس چڑھا ہو یا وہ آرام سے بیٹھا ہو، ہر حال میں اس کی زبان لٹکی ہوئی ہو گی اور وہ ہانپ رہا ہو گا۔ دنیا کی حرص کی وجہ سے اللہ کی آیات کو جھٹلانے والے کی مثال اس کتے کی سی ہے۔ کیونکہ اگر وہ اپنے علم کے مطابق اللہ کی آیات پر ایمان لاتا اور عمل کرتا تو اپنی ضروریات اور خواہشات کو اللہ اور اس کے رسول کے مطابق حلال تک محدود کرکے باقی وقت ہر قسم کی حرص اور فکر سے آزاد ہو کر اللہ کی بندگی اور دین کی تعلیم و تعلم اور اس پر عمل میں صرف کرتا تو نہایت چین اور اطمینان کے ساتھ حیاتِ طیبہ بسر کرتا۔ مگر اسے دنیا کی ضرورت تھی یا نہ تھی، حلال وحرام ہر طریقے سے ہر وقت دنیا کے حصول کی جدوجہد میں لگا رہا، اس کتے کی طرح جس پر حملہ ہو یا نہ ہو، زبان نکالے ہانپتا رہتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارے لائق بری مثال نہیں ہے، وہ شخص جو اپنا دیا ہوا ہبہ واپس لیتا ہے اس کتے کی طرح ہے جو دوبارہ اپنی قے چاٹ لیتا ہے۔“ [ بخاری، الہبۃ و فضلھا، باب لا یحل لأحد أن یرجع فی ہبتہ: ۲۶۲۲، عن ابن عباس رضی اللہ عنھما ]
سَآءَ مَثَلَاۨ الۡقَوۡمُ الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا وَ اَنۡفُسَہُمۡ کَانُوۡا یَظۡلِمُوۡنَ ﴿۱۷۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
بڑی ہی بری مثال ہے ایسے لوگوں کی جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا، اور وہ آپ اپنے ہی اوپر ظلم کرتے رہے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
ان لوگوں کی حالت بھی بری حالت ہے جو ہماری آیات کو جھٹلاتے ہیں اور وه اپنا نقصان کرتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
کیا بری کہاوت ہے ان کی جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں اور اپنی ہی جان کا برا کرتے تھے،
علامہ محمد حسین نجفی
کیا بری مثال ہے ان لوگوں کی جنہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا۔ اور جو خود اپنے ہی اوپر ظلم کرتے رہے۔
عبدالسلام بن محمد
برے ہیں وہ لوگ مثال کی رو سے جنھوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے رہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بلعم بن باعورا ٭٭

مروی ہے کہ جس کا واقعہ ان آیتوں میں بیان ہو رہا ہے اس کا نام ”بلعم بن باعوراء“ ہے۔ یہ بھی کہ کہا گیا ہے کہ اس کا نام ”صیفی بن راہب“ تھا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ بلقاء کا ایک شخص تھا جو اسم اعظم جانتا تھا اور جبارین کے سات بیت المقدس میں رہا کرتا تھا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ یمنی شخص تھا جس نے کلام اللہ کو ترک کر دیا تھا۔ یہ شخص بنی اسرائیل کے علماء میں سے تھا، اس کی دعا مقبول ہو جایا کرتی تھی۔ بنی اسرائیل سختیوں کے وقت اسے آگے کر دیا کرتے تھے، اللہ اس کی دعا مقبول فرما لیا کرتا تھا۔ اسے موسیٰ علیہ السلام نے مدین کے بادشاہ کی طرف اللہ کے دین کی دعوت دینے کے لئے بھیجا تھا۔ اس عقلمند بادشاہ نے اسے مکر و فریب سے اپنا کر لیا، اس کے نام کئی گاؤں کر دیئے اور بہت کچھ انعام و اکرام دیا۔ یہ بد نصیب دین موسوی کو چھوڑ کر اس کے مذہب میں جا ملا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا نام ”بلعام“ تھا۔ یہ بھی ہے کہ یہ ”امیہ بن ابوصلت“ ہے۔ ممکن ہے کہ یہ کہنے والے کی یہ مراد ہو کہ یہ امیہ بھی اسی کے مشابہ تھا، اسے بھی اگلی شریعتوں کا علم تھا لیکن یہ ان سے فائدہ نہ اٹھا سکا۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کو بھی اس نے پایا، آپ کی آیات و بینات دیکھیں، معجزے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیے، ہزارہا کو دین حق میں داخل ہوتے دیکھا، لیکن مشرکین کے میل جول، ان میں امتیاز، ان میں دوستی اور وہاں کی سرداری کی ہوس نے اسے اسلام اور قبول حق سے روک دیا۔ اسی نے بدری کافروں کے ماتم میں مرثیے کہے، «لعنتہ اللہ» ۔ بعض احادیث میں وارد ہے کہ { اس کی زبان تو ایمان لا چکی تھی لیکن دل مومن نہیں ہوا تھا۔ کہتے ہیں کہ اس شخص سے اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا تھا کہ اس کی تین دعائیں جو بھی یہ کرے گا، مقبول ہوں گی۔ اس کی بیوی نے ایک مرتبہ اس سے کہا کہ ان تین دعاؤں میں سے ایک دعا میرے لیے کر۔ اس نے منظور کر لیا اور پوچھا: کیا دعا کرانا چاہتی ہو؟ اس نے کہا کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس قدر حسن و خوبصورتی عطا فرمائے کہ مجھ سے زیادہ حسین عورت بنی اسرائیل میں کوئی نہ ہو۔

{ اس نے دعا کی اور وہ ایسی ہی حسین ہو گئی۔ اب تو اس نے پر نکالے اور اپنے میاں کو محض بے حقیقت سمجھنے لگی، بڑے بڑے لوگ اس کی طرف جھکنے لگے اور یہ بھی ان کی طرف مائل ہو گئی۔ اس سے یہ بہت کڑھا اور اللہ سے دعا کی کہ یااللہ! اسے کتیا بنا دے۔ یہ بھی منظور ہوئی، وہ کتیا بن گئی۔ اب اس کے بچے آئے، انہوں نے گھیر لیا کہ آپ نے غضب کیا۔ لوگ ہمیں طعنہ دیتے ہیں اور ہم کتیا کے بچے مشہور ہو رہے ہیں۔ آپ دعا کیجئے کہ اللہ اسے اس کی اصلی حالت میں پھر سے لا دے۔ اس نے وہ تیسری دعا بھی کر لی، تینوں دعائیں یوں ہی ضائع ہو گئیں اور یہ خالی ہاتھ بےخیر رہ گیا۔ } ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:266/3:ضعیف] ‏‏‏‏ مشہور بات تو یہی ہے کہ بنی اسرائیل کے بزرگوں میں سے یہ ایک شخص تھا۔ بعض لوگوں نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ یہ نبی تھا۔ یہ محض غلط ہے، بالکل جھوٹ ہے اور کھلا افترا ہے۔ مروی ہے کہ { موسیٰ علیہ السلام جب قوم جبارین سے لڑائی کے لیے بنی اسرائیل کی ہمراہی میں گئے، انہی جبارین میں بلعام نامی یہ شخص تھا، اس کی قوم اور اس کے قرابت دار چچا وغیرہ سب اس کے پاس آئے اور کہا کہ موسیٰ علیہ السلام اور اس کی قوم کے لیے آپ بد دعا کیجئے۔ اس نے کہا: یہ نہیں ہو سکتا، اگر میں ایسا کروں گا تو میری دنیا و آخرت دونوں خراب ہو جائیں گی لیکن قوم سر ہو گئی۔ یہ بھی لحاظ مروت میں آ گیا۔ بد دعا کی، اللہ تعالیٰ نے اس سے کرامت چھین لی اور اسے اس کے مرتبے سے گرا دیا۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:122/6] ‏‏‏‏

سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب بنی اسرائیل کو وادی تیہ میں چالیس سال گزر گئے تو اللہ تعالیٰ نے یوشع بن نون علیہ السلام کو نبی بنا کر بھیجا۔ انہوں نے فرمایا کہ مجھے حکم ہوا ہے کہ میں تمہیں لے کر جاؤں اور ان جبارین سے جہاد کروں۔ یہ آمادہ ہو گئے، بیعت کر لی۔ انہی میں بلعام نامی ایک شخص تھا جو بڑا عالم تھا، اسم اعظم جانتا تھا۔ یہ بد نصیب کافر ہو گیا، قوم جبارین میں جا ملا اور ان سے کہا: تم نہ گھبراؤ۔ جب بنی اسرائیل کا لشکر آ جائے گا، میں ان پر بد دعا کروں گا تو وہ دفعتاً ہلاک ہو جائے گا۔ اس کے پاس تمام دنیوی ٹھاٹھ تھے لیکن عورتوں کی عظمت کی وجہ سے یہ ان سے نہیں ملتا تھا بلکہ ایک گدھی پال رکھی تھی۔ اسی بد قسمت کا ذکر اس آیت میں ہے۔ شیطان اس پر غالب آ گیا، اسے اپنے پھندے میں پھانس لیا۔ جو وہ کہتا تھا، یہ کرتا تھا۔ آخر ہلاک ہو گیا۔ مسند ابویعلیٰ موصلی میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تم پر سب سے زیادہ اس سے ڈرتا ہوں جو قران پڑھ لے گا، جو اسلام کی چادر اوڑھے ہوئے ہو گا اور دینی ترقی پر ہو گا کہ ایک دم اس سے ہٹ جائے گا، اسے پس پشت ڈال دے گا، اپنے پڑوسی پر تلوار لے دوڑے گا اور اسے شرک کی تہمت لگائے گا۔ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر دریافت کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مشرک ہونے کے زیادہ قابل کون ہو گا؟ یہ تہمت لگانے والا یا وہ جسے تہمت لگا رہا ہے؟ فرمایا: نہیں بلکہ تہمت دھرنے والا۔ } ۱؎ [المطالب العالیہ لابن حجر:273/4-274] ‏‏‏‏

پھر فرمایا کہ اگر ہم چاہتے تو قادر تھے کہ اسے بلند مرتبے پر پہنچائیں، دنیا کی آلائشوں سے پاک رکھیں، اپنی دی ہوئی آیتوں کی تابعداری پر قائم رکھیں لیکن وہ دنیوی لذتوں کی طرف جھک پڑا یہاں تک کہ شیطان کا پورا مرید ہو گیا، اسے سجدہ کر لیا۔ کہتے ہیں کہ اس بلعام سے لوگوں نے درخواست کی کہ آپ موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کے حق میں بد دعا کیجئے۔ اس نے کہا: اچھا! میں اللہ سے حکم لے لوں۔ جب اس نے اللہ تعالیٰ سے مناجات کی تو اسے معلوم ہوا کہ بنی اسرائیل مسلمان ہیں اور ان میں اللہ کے نبی موجود ہیں۔ اس نے سب سے کہا کہ مجھے بد دعا کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ انہوں نے بہت سارے تحفے تحائف جمع کر کے اسے دیئے، اس نے سب رکھ لیے۔ پھر دوبارہ درخواست کی کہ ہمیں ان سے بہت خوف ہے، آپ ضرور ان پر بد دعا کیجئے۔ اس نے جواب دیا کہ جب تک میں اللہ تعالیٰ سے اجازت نہ لے لوں، میں ہرگز یہ نہ کروں گا۔ اس نے پھر اللہ سے مناجات کی لیکن اسے کچھ معلوم نہ ہو سکا۔ اس نے یہی جواب انہیں دیا تو انہوں نے کہا: دیکھو! اگر منع ہی مقصود ہوتا تو آپ کو روک دیا جاتا جیسا کہ اس سے پہلے روک دیا گیا۔

اس کی بھی سمجھ میں آ گیا، اٹھ کر بد دعا شروع کی۔ اللہ کی شان سے بد دعا ان پر کرنے کے بجائے اس کی زبان سے اپنی ہی قوم کے لیے بد دعا نکلی اور جب اپنی قوم کی فتح کی دعا مانگنا چاہتا تو بنی اسرائیل کی فتح و نصرت کی دعا نکلتی۔ قوم نے کہا: آپ کیا غضب کر رہے ہیں؟ اس نے کہا: کیا کروں؟ میری زبان میرے قابو میں نہیں۔ سنو! اگر سچ مچ میری زبان سے ان کے لیے بد دعا نکلی تو قبول نہ ہو گی۔ سنو! اب میں تمہیں ایک ترکیب بتاتا ہوں، اگر تم اس میں کامیاب ہو گئے تو سمجھ لو کہ بنی اسرائیل برباد ہو جائیں گے۔ تم اپنی نوجوان لڑکیوں کو بناؤ سنگھار کرا کے ان کے لشکروں میں بھیجو اور انہیں ہدایت کر دو کہ کوئی ان کی طرف جھکے تو یہ انکار نہ کریں۔ ممکن ہے کہ بوجہ مسافرت یہ لوگ زناکاری میں مبتلا ہو جائیں۔ اگر یہ ہوا تو چونکہ حرام کاری اللہ کو سخت ناپسند ہے، اسی وقت ان پر عذاب آ جائے گا اور یہ تباہ ہو جائیں گے۔ ان بےغیرتوں نے اس بات کو مان لیا اور یہی کیا۔ خود بادشاہ کی بڑی حسین و جمیل لڑکی بھی بن ٹھن کر نکلی۔ اسے ہدایت کر دی تھی کہ سوائے موسیٰ علیہ السلام کے اور کسی کو اپنا نفس نہ سونپے۔ یہ عورتیں جب بنی اسرائیل کے لشکر میں پہنچیں تو عام لوگ بےقابو ہو گئے، حرام کاری سے بچ نہ سکے۔ شہزادی بنی اسرائیل کے ایک سردار کے پاس پہنچی، اس سردار نے اس لڑکی پر ڈورے ڈالے لیکن اس لڑکی نے انکار کیا۔ اس نے بتایا کہ میں فلاں فلاں ہوں، اس نے اپنے باپ سے یا بلعام سے پچھوایا، اس نے اجازت دی۔

یہ خبیث اپنا منہ کالا کر رہا تھا جسے ہارون علیہ السلام کی اولاد میں سے کسی صاحب نے دیکھ لیا، اپنے نیزے سے ان دونوں کو پرو دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے دست و بازی قوی کر دیئے، اس نے یونہی ان دونوں کو چھدے ہوئے اٹھا لیا۔ لوگوں نے بھی انہیں دیکھ لیا۔ اب اس لشکر پر عذاب رب بشکل طاعون آیا اور ستر ہزار آدمی فوراً ہلاک ہو گئے۔ بلعام اپنی گدھی پر سوار ہو کر چلا، وہ ایک ٹیلے پر چڑھ کر رک گئی۔ اب بلعام اسے مارتا پیٹتا ہے لیکن وہ قدم نہیں اٹھاتی۔ آخر گدھی نے اس کی طرف دیکھا اور کہا: مجھے کیوں مارتا ہے، سامنے دیکھ کون ہے؟ اس نے دیکھا تو شیطان لعین کھڑا ہوا تھا، یہ اتر پڑا اور سجدے میں گر گیا۔ الغرض ایمان سے خالی ہو گیا۔ اس کا نام یا تو بلعام تھا یا بلعم بن باعوراء یا ابن ابر یا ابن باعور بن شہتوم بن قوشتم بن مآب بن لوط بن ہاران یا ابن حران بن آزر۔ یہ بلقا کا رئیس تھا، اسم اعظم جانتا تھا لیکن اخیر میں دین حق سے ہٹ گیا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ ایک روایت میں ہے کہ قوم کے زیادہ کہنے سننے سے جب یہ اپنی گدھی پر سوار ہو کر بد دعا کے لیے چلا تو اس کی گدھی بیٹھ گئی۔ اس نے اسے مار پیٹ کر اٹھایا، کچھ دور چل کر پھر بیٹھ گئی۔ اس نے اسے پھر مار پیٹ کر اٹھایا، اسے اللہ نے زبان دی۔ اس نے کہا: تیرا ناس جائے! تو کہاں اور کیوں جا رہا ہے؟ اللہ کے مقابلے کو، اس کے رسول سے لڑنے اور مومنوں کو نقصان دلانے جا رہا ہے؟ دیکھو تو سہی! فرشتے میری راہ روکے کھڑے ہیں۔ اس نے پھر بھی کچھ خیال نہ کیا، آگے بڑھ گیا۔

حبان نامی پہاڑی پر چڑھ گیا جہاں سے بنو اسرائیل کا لشکر سامنے ہی نظر آتا تھا۔ اب ان کے لئے بد دعا اور اپنی قوم کے لیے دعائیں کرنے لگا لیکن زبان الٹ گئی، دعا کی جگہ بد دعا اور بد دعا کی جگہ دعا نکلنے لگی۔ قوم نے کہا: کیا کر رہے ہو؟ کہا بےبس ہوں۔ اسی وقت اس کی زبان نکل پڑی، سینے پر لٹکنے لگی۔ اس نے کہا: لو میری دنیا بھی خراب ہوئی اور دین تو بالکل برباد ہو گیا۔ پھر اس نے خوبصورت لڑکیاں بھیجنے کی ترکیب بتائی جیسے کہ اوپر بیان ہوا اور کہا کہ اگر ان میں سے ایک نے بھی بدکاری کر لی تو ان پر عذاب رب آ جائے گا۔ ان عورتوں میں سے ایک بہت ہی حسین عورت جو کنعانیہ تھی اور جس کا نام کسبی تھا جو صور نامی ایک رئیس کی بیٹی تھی، جب وہ بنی اسرائیل کے ایک بہت بڑے سردار زمری بن شلوم کے پاس سے گزری جو شمعون بن یعقوب کی نسل میں سے تھا، وہ اس پر فریفتہ ہو گیا۔ دلیری کے ساتھ اس کا ہاتھ تھامے ہوئے موسیٰ علیہ السلام کے پاس گیا اور کہنے لگا: آپ تو شاید کہہ دیں گے کہ یہ مجھ پر حرام ہے؟ آپ نے کہا: بیشک۔ اس نے کہا: اچھا! میں آپ کی یہ بات تو نہیں مان سکتا، اسے اپنے خیمے میں لے گیا اور اس سے منہ کالا کرنے لگا۔ وہیں اللہ تعالیٰ نے ان پر طاعون بھیج دیا۔ فنحاض بن عیزار بن ہارون اس وقت لشکر گاہ سے کہیں باہر گئے ہوئے تھے، جب آئے تو تمام حقیقت سنی تو بیتاب ہو کر غصے کے ساتھ اس بد کردار کے خیمے میں پہنچے اور اپنے نیزے میں ان دونوں کو پرو لیا اور اپنے ہاتھ میں نیزہ لیے ہوئے انہیں اوپر اٹھائے ہوئے باہر نکلے۔ کہنی کوکھ پر لگائے ہوئے کہنے لگے: یااللہ! ہمیں معاف فرما۔ ہم پر سے یہ وبا دور فرما۔ دیکھ لے، ہم تیرے نافرمانوں کے ساتھ یہ کرتے ہیں۔

ان کی دعا اور اس فعل سے طاعون اٹھ گیا لیکن اتنی دیر میں جب حساب لگایا گیا تو ستر ہزار آدمی اور ایک روایت کی رو سے بیس ہزار مر چکے تھے۔ دن کا وقت تھا اور کنعانیوں کی یہ چھوکریاں سودا بیچنے کے بہانے صرف اس لیے آئی تھیں کہ بنو اسرائیل بدکاری میں پھنس جائیں اور ان پر اللہ کے عذاب آ جائیں۔ بنو اسرائیل میں اب تک یہ دستور چلا آتا ہے کہ وہ اپنے ذبیحہ میں سے گردن اور دست اور سری اور ہر قسم کا سب سے پہلے پھل فنحاص کی اولاد کو دیا کرتے ہیں۔ اسی بلعام بن باعوراء کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔ فرمان ہے کہ اس کی مثال کتے کی سی ہے کہ خالی ہے تو ہانپتا ہے اور دھتکارا جائے تو ہانپتا رہتا ہے۔ یا تو اس مثال سے یہ مطلب ہے کہ بلعام کی زبان نیچے کو لٹک پڑی تھی جو پھر اندر کو نہ ہوئی، کتے کی طرح ہانپتا رہتا تھا اور زبان باہر لٹکائے رہتا تھا۔ یہ بھی معنی ہیں کہ اس کی ضلالت اور اس پر جمے رہنے کی مثال دی کہ اسے ایمان کی دعوت، علم کی دولت غرض کسی چیز نے برائی سے نہ ہٹایا۔ جیسے کتے کی زبان لٹکنے کی حالت برابر قائم رہتی ہے خواہ اسے پاؤں تلے روندو خواہ چھوڑ دو۔ جیسے بعض کفار مکہ کی نسبت فرمان ہے کہ ’ انہیں وعظ و پند کہنا، نہ کہنا سب برابر ہے۔ انہیں ایمان نصیب نہیں ہونے کا۔ ‘ ۱؎ [2-البقرة:6] ‏‏‏‏ اور جیسے بعض منافقوں کی نسبت فرمان ہے کہ ’ ان کے لیے تو استغفار کر یا نہ کر، اللہ انہیں نہیں بخشے گا۔ ‘ ۱؎ [9-التوبة:80] ‏‏‏‏ یہ بھی مطلب اس مثال کا بیان کیا گیا ہے کہ ان کافروں، منافقوں اور گمراہ لوگوں کے دل بودے اور ہدایت سے خالی ہیں، یہ کبھی مطمئن نہیں ہوتے۔

پھر اللہ عزوجل اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ تو انہیں پند و نصیحت کرتا رہ تاکہ ان میں سے جو عالم ہیں، وہ غور و فکر کر کے اللہ کی راہ پر آ جائیں۔ یہ سوچیں کہ بلعام ملعون کا کیا حال ہوا؟ دینی علم جیسی زبردست دولت کو جس نے دنیا کی سفلی راحت پر کھو دیا۔ آخر نہ یہ ملا نہ وہ۔ دونوں ہاتھ خالی رہ گئے۔ اسی طرح یہ علماء یہود جو اپنی کتابوں میں اللہ کی ہدایتیں پڑھ رہے ہیں، آپ کے اوصاف لکھے پاتے ہیں، انہیں چاہیئے کہ دنیا کی طمع میں پھنس کر اپنے مریدوں کو پھانس کر پھول نہ جائیں ورنہ یہ بھی اسی کی طرح دنیا میں کھو دیئے جائیں گے۔ انہیں چاہیئے کہ اپنی علمیت سے فائدہ اٹھائیں۔ سب سے پہلے تیری اطاعت کی طرف جھکیں اور اوروں پر حق کو ظاہر کریں۔ دیکھ لو کہ کفار کی کیسی بری مثالیں ہیں کہ کتوں کی طرح صرف نگلنے اگلنے اور شہوت زنی میں پڑے ہوئے ہیں۔ پس جو بھی علم و ہدایت کو چھوڑ کر خواہش نفس کے پورا کرنے میں لگ جائے، وہ بھی کتے جیسا ہی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: { ہمارے لیے بری مثالیں نہیں، اپنی ہبہ کی ہوئی چیز کو پھر لے لینے والا کتے کی طرح ہے جو قے کر کے چاٹ لیتا ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:2622] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے کہ گنہگار لوگ اللہ کا کچھ بگاڑتے نہیں، یہ تو اپنا ہی خسارہ کرتے ہیں۔ طاعت مولیٰ، اتباع ہدیٰ سے ہٹا کر خواہش کی غلامی، دنیا کی چاہت میں پڑ کر اپنے دونوں جہان خراب کرتے ہیں۔
177۔ 1 مثلاً تمییز ہے۔ اصل عبارت یوں ہوگی: ' سَاَءَ مَثَلاً! (مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا) 7۔ الاعراف:176) '
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
مَنۡ یَّہۡدِ اللّٰہُ فَہُوَ الۡمُہۡتَدِیۡ ۚ وَ مَنۡ یُّضۡلِلۡ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡخٰسِرُوۡنَ ﴿۱۷۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جسے اللہ ہدایت بخشے بس وہی راہ راست پاتا ہے اور جس کو اللہ اپنی رہنمائی سے محروم کر دے وہی ناکام و نامراد ہو کر رہتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
جس کو اللہ ہدایت کرتا ہے سو ہدایت پانے واﻻ وہی ہوتا ہے اور جس کو وه گمراه کر دے سو ایسے ہی لوگ خسارے میں پڑنے والے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
جسے اللہ راہ دکھائے تو وہی راہ پر ہے، اور جسے گمراہ کرے تو وہی نقصان میں رہے،
علامہ محمد حسین نجفی
جس کو اللہ ہدایت دے وہی ہدایت یافتہ ہے اور جسے وہ گمراہی میں چھوڑ دے وہی لوگ گھاٹا اٹھانے والے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
جسے اللہ ہدایت دے سو وہی ہدایت پانے والا ہے اور جسے وہ گمراہ کر دے سو وہی خسارہ اٹھانے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بہترین دعا ٭٭

رب جنہیں راہ دکھائے، انہیں کوئی بےراہ نہیں کر سکتا اور جسے وہی غلط راہ پر ڈال دے، اس کی شومی قسمت میں کیا شک ہے؟ اللہ کا چاہا ہوتا ہے، اس کا نہ چاہا کبھی نہیں ہو سکتا۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ { سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔ ہم اس کی حمد و ثنا بیان کرتے ہیں اور اسی سے مدد چاہتے ہیں اور اسی سے ہدایت طلب کرتے ہیں اور اسی سے بخشش مانگتے ہیں۔ ہم اپنے نفس کی شرارتوں سے اللہ کی پناہ لیتے ہیں اور اپنے اعمال کی برائیوں سے بھی۔ اللہ کے راہ دکھائے ہوئے کو کوئی بہکا نہیں سکتا اور اس کے گمراہ کئے ہوئے کو کوئی راہ راست پر لا نہیں سکتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ معبود صرف اللہ ہی ہے۔ وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور میری گواہی ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں الخ۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:2118، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ (‏‏‏‏مسند احمد وغیرہ)
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 178) {مَنْ يَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِيْ …:} ہدایت کا نور اللہ تعالیٰ کی عطا ہے، وہ اس کا مالک ہے، جسے چاہے عطا کر دے اور جسے چاہے عطا نہ کرے اور وہ ضلالت کے اندھیروں میں بھٹکتا رہے۔ یہ مسئلۂ تقدیر ہے، اس پر ایمان لانا واجب ہے اور اس پر بھی ایمان لانا واجب ہے کہ وہ کسی کو ہدایت نہ دے تو ظالم نہیں، کیونکہ مالک جسے چاہے اپنی چیز دے جسے چاہے نہ دے اور وہ تو ایسا مالک ہے جس سے کوئی پوچھنے کی جرأت بھی نہیں کر سکتا، فرمایا: «{ لَا يُسْـَٔلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَ هُمْ يُسْـَٔلُوْنَ }» [ الأنبیاء: ۲۳ ] ”اس سے نہیں پوچھا جاتا اس کے متعلق جو وہ کرے اور ان سے پوچھا جاتا ہے۔“ ہاں، یہ بات ضرور ہے کہ اس نے جو کچھ کیا ہے وہ عین عدل ہے، کیونکہ وہ ذرہ برابر ظلم نہیں کرتا، فرمایا: «{ وَ مَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيْدِ }» [ حٰمٓ السجدۃ: ۴۶ ] ”اور تیرا رب اپنے بندوں پر ہر گز کوئی ظلم کرنے والا نہیں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہر خطبہ میں حمد و ثنا کے بعد فرمایا کرتے تھے: [ مَنْ يَّهْدِهِ اللّٰهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ وَ مَنْ يُّضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ ] [ مسلم، الجمعۃ، باب تخفیف الصلاۃ والخطبۃ:۸۶۸، عن ابن عباس رضی اللہ عنھما ] ”جسے اللہ سیدھی راہ پر لگائے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے وہ گمراہ کر دے اسے کوئی سیدھی راہ پر نہیں لگا سکتا۔“
وَ لَقَدۡ ذَرَاۡنَا لِجَہَنَّمَ کَثِیۡرًا مِّنَ الۡجِنِّ وَ الۡاِنۡسِ ۫ۖ لَہُمۡ قُلُوۡبٌ لَّا یَفۡقَہُوۡنَ بِہَا ۫ وَ لَہُمۡ اَعۡیُنٌ لَّا یُبۡصِرُوۡنَ بِہَا ۫ وَ لَہُمۡ اٰذَانٌ لَّا یَسۡمَعُوۡنَ بِہَا ؕ اُولٰٓئِکَ کَالۡاَنۡعَامِ بَلۡ ہُمۡ اَضَلُّ ؕ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡغٰفِلُوۡنَ ﴿۱۷۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور یہ حقیقت ہے کہ بہت سے جن اور انسان ایسے ہیں جن کو ہم نے جہنم ہی کے لیے پیدا کیا ہے ان کے پاس دل ہیں مگر وہ ان سے سوچتے نہیں ان کے پاس آنکھیں ہیں مگر وہ ان سے دیکھتے نہیں ان کے پاس کان ہیں مگر وہ ان سے سنتے نہیں وہ جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گئے گزرے، یہ وہ لوگ ہیں جو غفلت میں کھو ئے گئے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہم نے ایسے بہت سے جن اور انسان دوزخ کے لیے پیدا کئے ہیں، جن کے دل ایسے ہیں جن سے نہیں سمجھتے اور جن کی آنکھیں ایسی ہیں جن سے نہیں دیکھتے اور جن کے کان ایسے ہیں جن سے نہیں سنتے۔ یہ لوگ چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ یہ ان سے بھی زیاده گمراه ہیں۔ یہی لوگ غافل ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک ہم نے جہنم کے لیے پیدا کیے بہت جن اور آدمی اور دل رکھتے ہیں جن میں سمجھ نہیں اور وہ آنکھیں جن سے دیکھتے نہیں اور وہ کان جن سے سنتے نہیں وہ چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بڑھ کر گمراہ وہی غفلت میں پڑے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور کتنے جن و انسان ایسے ہیں جنہیں ہم نے جہنم کے لیے پیدا کیا ہے (یعنی ان کا انجامِ کار جہنم ہے) ان کے دل و دماغ ہیں مگر سوچتے نہیں ہیں۔ ان کی آنکھیں ہیں مگر وہ ان سے دیکھتے نہیں اور ان کے کان ہیں مگر وہ ان سے سنتے نہیں ہیں۔ یہ لوگ چوپایوں کی طرح ہیں۔ بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ (اور گئے گزرے) ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو بالکل غافل و بے خبر ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ یقینا ہم نے بہت سے جن اور انسان جہنم ہی کے لیے پیدا کیے ہیں، ان کے دل ہیں جن کے ساتھ وہ سمجھتے نہیں اور ان کی آنکھیں ہیں جن کے ساتھ وہ دیکھتے نہیں اور ان کے کان ہیں جن کے ساتھ وہ سنتے نہیں، یہ لوگ چوپاؤں جیسے ہیں، بلکہ یہ زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں، یہی ہیں جو بالکل بے خبر ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالٰی عالم الغیب ہے ٭٭

بہت سے انسان اور جن جہنمی ہونے والے ہیں اور ان سے ویسے ہی اعمال سرزد ہوتے ہیں۔ مخلوق میں سے کون کیسے عمل کرے گا؟ یہ علام الغیوب کو ان کی پیدائش سے پہلے ہی معلوم ہوتا ہے، پس { اپنے علم کے مطابق اپنی کتاب میں آسمان و زمین کی پیدائش سے پچاس ہزار برس پہلے ہی لکھ لیا۔ جبکہ اس کا عرش پانی پر تھا۔ } یہ صحیح مسلم شریف کی حدیث ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2653] ‏‏‏‏ ایک اور روایت میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری نابالغ بچے کے جنازے پر بلوائے گئے تو میں نے کہا: مبارک ہو اس کو، یہ تو جنت کی چڑیا ہے۔ نہ برائی کی، نہ برائی کا وقت پایا۔ آپ نے فرمایا: کچھ اور بھی؟ سن! اللہ تعالیٰ نے جنت اور جنت والوں کو پیدا کیا ہے اور انہیں جنتی مقرر کر دیا ہے حالانکہ وہ ابھی تو اپنے باپوں کی پیٹھوں میں ہی تھے۔ اسی طرح اس نے جہنم بنائی ہے اور اس کے رہنے والے پیدا کئے ہیں۔ انہیں اسی لیے مقرر کر دیا۔ درآں حالیکہ اب تک وہ اپنے باپوں کی پشت میں ہی ہیں۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2662] ‏‏‏‏ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے: { ماں کے رحم میں اللہ تعالیٰ اپنا فرشتہ بھیجتا ہے جو اس کے حکم سے چاروں چیزوں یعنی روزی، عمل، عمر اور نیکی یا بدی لکھ لیتا ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3208] ‏‏‏‏ یہ بھی بیان گزر چکا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اولاد آدم کو پشت آدم سے نکالا تو ان کے دو حصے کر دیئے، دائیں والے اور بائیں والے۔ اور فرما دیا: یہ جنتی ہیں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں اور یہ جہنمی ہیں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں۔ اس بارے میں بہت سی حدیثیں ہیں اور تقدیر کا مسئلہ کوئی معمولی مسئلہ نہیں کہ یہاں پورا بیان ہو جائے۔ یہاں مقصد یہ ہے کہ ایسے خالی از خیر محروم قسمت لوگ کسی چیز سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔ تمام اعضاء ہوتے ہیں لیکن قوتیں سب سے چھن جاتی ہیں۔ اندھے، بہرے، گونگے بن کر زندگی گڑھے میں ہی گزار دیتے ہیں۔ اگر ان میں خیر باقی ہوتی تو اللہ اپنی باتیں انہیں سناتا بھی۔ یہ تو خیر سے بالکل خالی ہو گئے، سنتے ہیں اور ان سنی کر جاتے ہیں۔ آنکھیں ہی نہیں بلکہ دل کی آنکھیں اندھی ہو گئی ہیں۔ رحمان کے ذکر سے منہ موڑنے کی سزا یہ ملی ہے کہ شیطان کے بھائی بن گئے ہیں، راہ حق سے دور جا پڑے ہیں مگر سمجھ یہی رہے ہیں کہ ہم سچے اور صحیح راستے پر ہیں۔ ان میں اور چوپائے جانوروں میں کوئی فرق نہیں۔ نہ یہ حق کو دیکھیں، نہ ہدایت کو دیکھیں، نہ اللہ کی باتوں کو سوچیں۔

چوپائے بھی تو اپنے حواس کو دنیا کے کام میں لاتے ہیں، اسی طرح یہ بھی فکر عقبیٰ سے، ذکر رب سے، راہ مولا سے غافل، گونگے اور اندھے ہیں۔ جیسے فرمان ہے «وَمَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِمَا لَا يَسْمَعُ إِلَّا دُعَاءً وَنِدَاءً صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَعْقِلُونَ» ۱؎ [2-البقرة:171] ‏‏‏‏ یعنی ’ ان کافروں کی مثال تو اس شخص کی سی ہے جو اس کے پیچھے چلا رہا ہے جو درحقیقت سنتی ونتی خاک بھی نہیں۔ ہاں! صرف شور و غل تو اس کے کان میں پڑتا ہے۔ ‘ چوپائے آواز تو سنتے ہیں لیکن کیا کہا؟ اسے سمجھے ان کی بلا۔ پھر ترقی کر کے فرماتا ہے کہ یہ ظالم تو چوپایوں سے بھی بدترین ہیں کہ چوپائے گو نہ سمجھیں لیکن آواز پر کان تو کھڑے کر دیتے ہیں، اشاروں پر حرکت تو کرتے ہیں، یہ تو اپنے مالک کو اتنا بھی نہیں سمجھتے۔ اپنی پیدائش کی غایت کو آج تک معلوم ہی نہیں کیا، جبھی تو اللہ سے کفر کرتے ہیں اور غیر اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔ اس کے برخلاف جو اللہ کا مطیع انسان ہو، وہ اللہ کے اطاعت گزار فرشتے سے بہتر ہے اور کفار انسان سے چوپائے جانور بہتر ہیں، ایسے لوگ پورے غافل ہیں۔
179۔ 1 اس کا تعلق تقدیر سے ہے۔ یعنی ہر انسان اور جن کی بابت اللہ کو علم تھا کہ وہ دنیا میں جا کر اچھے یا برے کیا عمل کرے گا، اس کے مطابق اس نے لکھ رکھا ہے۔ یہ انہیں دوزخیوں کا ذکر ہے جنہیں اللہ کے علم کے مطابق دوزخ والے ہی کام کرنے تھے۔ آگے ان کی مزید صفات بیان کرکے بتادیا گیا ہے کہ جن لوگوں کے اندر یہ چیزیں اس انداز میں ہوں جس کا ذکر یہاں کیا گیا ہے، تو سمجھ لو کہ اس کا انجام برا ہے۔ (2) یعنی دل آنکھ کان یہ چیزیں اللہ نے اس لیے دی ہیں کہ انسان ان سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے پروردگار کو سمجھے اس کی آیات کا مشاہدہ کرے اور حق کی بات کو غور سے سنے۔ لیکن جو شحص ان مشاعر سے یہ کام نہیں لیتا وہ گویا ان سے عدم انتفاع (فائدہ نہ اٹھانے) میں چوپایوں کی طرح بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہے۔ اس لیے کہ چوپایے تو پھر بھی اپنے نفع نقصان کا کچھ شعور رکھتے ہیں اور نفع والی چیزوں سے نفع اٹھاتے اور نقصان دینے والی چیزوں سے بچ کر رہتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کی ہدایت سے اعراض کرنی والے شخص کے اندر تو یہ تمیز کرنے کی صلاحیت ہی ختم ہوجاتی ہے کہ اس کے لیے مفید چیز کون سی ہے اور مضر کون سی؟ اسی لیے اگلے جملے میں انہیں غافل بھی کہا گیا ہے۔
(آیت 179) ➊ {وَ لَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ:لِجَهَنَّمَ “} میں لام عاقبت (برائے انجام) بھی ہو سکتا ہے، یعنی اپنے حواس سے صحیح فائدہ نہ اٹھانے کی وجہ سے وہ انجام کار جہنم میں جائیں گے، گویا انھیں جہنم ہی کے لیے پیدا کیا گیا ہے اور لام غایت کا بھی ہو سکتا ہے، یعنی کائنات کو بناتے ہوئے اللہ تعالیٰ کو آئندہ کی ہر بات کا علم تھا کہ فلاں جن یا انسان نے دنیا میں جا کر دوزخیوں والے کام کرنے تھے، اسی علم کے مطابق اس نے سب کچھ لکھ دیا تھا، اس کا نام قضا و قدر ہے، آگے اہل جہنم کی صفات بیان ہوئی ہیں کہ جن میں یہ صفات ہوں وہ ہدایت قبول نہیں کیا کرتے، گو اللہ کا شریعت اور انبیاء کے بھیجنے کا مقصد یہی ہے کہ انسان اللہ کی عبادت کرے، مگر اسے پہلے ہی یہ بھی علم ہے کہ کون شریعت پر چلے گا اور کون نہیں چلے گا۔ علماء نے تقدیر میں اور انسان کے مجبور ہونے میں فرق کی وضاحت فرمائی ہے۔ ➋ { لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ بِهَا …:} یعنی اللہ تعالیٰ نے انھیں دل، آنکھیں اور کان تو اس لیے دیے ہیں کہ وہ ان سے فائدہ اٹھا کر اپنے مالک کو پہچانیں، کائنات اور اپنی ذات میں اس کی نشانیوں کا مشاہدہ کریں، حق کی بات غور سے سنیں اور اسے قبول کریں، مگر جب انھوں نے ان سے فائدہ نہیں اٹھایا تو وہ انعام (چوپاؤں) کی طرح بلکہ ان سے بھی زیادہ بھٹکے ہوئے ثابت ہوئے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے چوپاؤں کی طبیعت میں جو تقاضے رکھے ہیں اور جس مقصد کے لیے وہ پیدا ہوئے ہیں وہ بخوبی پورا کر رہے ہیں، اس کے برعکس کفار اپنے مقصدِ حیات، یعنی عبادت کے بجائے اپنے ارادہ و اختیار سے اپنے خالق کی نافرمانی کر رہے ہیں۔ ➌ {اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ:} یعنی اپنے مقصدِ حیات سے غافل ہیں اور مرنے کے بعد کی زندگی اور جواب دہی سے بے فکر ہیں۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچاننا اور ان کے احکام کو سیکھنا ہر شخص پر فرض ہے، اگر کوئی ایسا نہ کرے گا تو جہنم میں جائے گا۔“ (موضح)
وَ لِلّٰہِ الۡاَسۡمَآءُ الۡحُسۡنٰی فَادۡعُوۡہُ بِہَا ۪ وَ ذَرُوا الَّذِیۡنَ یُلۡحِدُوۡنَ فِیۡۤ اَسۡمَآئِہٖ ؕ سَیُجۡزَوۡنَ مَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۸۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اللہ اچھے ناموں کا مستحق ہے، اس کو اچھے ہی ناموں سے پکارو اور اُن لوگوں کو چھوڑ دو جو اس کے نام رکھنے میں راستی سے منحرف ہو جاتے ہیں جو کچھ وہ کرتے رہے ہیں اس کا بدلہ وہ پاکر رہیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اچھے اچھے نام اللہ ہی کے لیے ہیں سو ان ناموں سے اللہ ہی کو موسوم کیا کرو اور ایسے لوگوں سے تعلق بھی نہ رکھو جو اس کے ناموں میں کج روی کرتے ہیں، ان لوگوں کو ان کے کئے کی ضرور سزا ملے گی
احمد رضا خان بریلوی
اور اللہ ہی کے ہیں بہت اچھے نام تو اسے ان سے پکارو اور انہیں چھوڑ دو جو اس کے ناموں میں حق سے نکلتے ہیں وہ جلد اپنا کیا پائیں گے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اللہ ہی کے لیے اچھے اچھے نام ہیں اسے انہی کے ذریعہ سے پکارو اور ان لوگوں کو چھوڑ دو جو اس کے ناموں میں کجروی کرتے ہیں۔ عنقریب انہیں ان کے کئے کا بدلہ مل جائے گا۔
عبدالسلام بن محمد
اور سب سے اچھے نام اللہ ہی کے ہیں، سو اسے ان کے ساتھ پکارو اور ان لوگوں کو چھوڑ دو جو اس کے ناموں کے بارے میں سیدھے راستے سے ہٹتے ہیں، انھیں جلد ہی اس کا بدلہ دیا جائے گا جو وہ کیا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اسماء الحسنیٰ ٭٭

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: { اللہ تعالیٰ کے ایک کم ایک سو نام ہیں۔ انہیں جو محفوظ کر لے، وہ جنتی ہے۔ وہ وتر ہے، طاق کو ہی پسند فرماتا ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4610] ‏‏‏‏ (‏‏‏‏بخاری وغیرہ) ترمذی میں یہ { ننانوے نام اس طرح ہیں: «هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ، الْمَلِکُ، الْقُدُّوْسُ، السَّلَامُ، الْمُؤْمِنُ، الْمُھَیْمِنُ، الْعَزِیْزُ، الْجَبَّارُ، الْمُتَکَبِّرُ، الْخَالِقُ، الْبَارِیُٔ، الْمُصَوِّرُ، الْغَفَّارُ، الْقَھَّارُ، الْوَھَّابُ، الرَّزَّاقُ، الْفَتَّاحُ، الْعَلِیْمُ، الْقَابِضُ، الْبَاسِطُ، الْخَافِضُ، الرَّافِعُ، الْمُعِزُّ، الْمُذِلُّ، السَّمِیْعُ، الْبَصِیْرُ، الْحَکَمُ، الْعَدْلُ، اللَّطِیْفُ، الْخَبِیْرُ، الْحَلِیْمُ، الْعَظِیْمُ، الْغَفُوْرُ، الشَّکُوْرُ، الْعَلِیُّ، الْکَبِیْرُ، الْحَفِیْظُ، الْمُقِیْتُ، الْحَسِیْبُ، الْجَلِیْلُ، الْکَرِیْمُ، الرَّقِیْبُ، الْمُجِیْبُ، الْوَاسِعُ، الْحَکِیْمُ، الْوَدُوْدُ، الْمَجِیْدُ، الْبَاعِثُ، الشَّھِیْدُ، الْحَقُّ، الْوَکِیْلُ، الْقَوِیُّ، الْمَتِیْنُ، الْوَلِیُّ، الْحَمِیْدُ، الْمُحْصِی، الْمُبْدِیُٔ، الْمُعِیْدُ، الْمُحْییِ، الْمُمِیْتُ، الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ، الْوَاجِدُ، الْمَاجِدُ، الْوَاحِدُ، الصَّمَدُ، الْقَادِرُ، الْمُقْتَدِرُ، الْمُقَدِّمُ، الْمُؤَخِّرُ، الْاَوَّلُ الْاٰخِرُ، الظَّاھِرُ، الْبَاطِنُ، الْوَالِیُ، الْمُتَعَالُ، الْبَرُّ، التَّوَّابُ، الْمُنْتَقِمُ، الْعَفُوُّ، الرَّئُوْفُ، مَالِکُ، الْمُلْکِ، ذُوالْجَلَالِ وَالْاِکْرَا مِ، الْمُقْسِطُ، الْجَامِعُ، الْغَنِیُّ، الْمُغْنِی، الْمَانِعُ، الضَّآرُّ، النَّافِعُ، النُّوْرُ، الْھَادِیُ، الْبَدِیْعُ، الْبَاقِی، الْوَارِثُ، الرَّشِیْدُ، الصَّبُوْرُ» ۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:3507، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏

یہ حدیث غریب ہے۔ کچھ کمی، زیادتی کے ساتھ اسی طرح یہ نام ابن ماجہ کی حدیث میں بھی وارد ہیں۔ بعض بزرگوں کا خیال ہے کہ یہ نام راویوں نے قرآن میں چھانٹ لیے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ یہ یاد رہے کہ یہی ننانوے نام اللہ کے ہوں، اور نہ ہوں، یہ بات نہیں۔ مسند احمد میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: { جسے کبھی بھی کوئی غم و رنج پہنچے اور وہ یہ دعا کرے: «اللَّهُمَّ إنِّي عَبْدُكَ ابْنُ عَبْدِكَ ابْنُ أَمَتِكَ، نَاصِيَتِي بِيَدِكَ، مَاضٍ فِيَّ حُكْمُكَ، عَدْلٌ فِيَّ قَضَاؤُكَ، أَسْأَلُكَ بكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ، سَمَّيْتَ بهِ نَفْسَكَ، أَوْ أَنْزَلْتَهُ فِي كِتَابِكَ، أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَداً مِنْ خَلْقِكَ، أَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ: أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ العظیم رَبِيعَ قَلْبِي، وَنُورَ صَدرِي، وَجلاَءَ حزنِي، وَذَهَابَ هَمِّي» ۔ تو اللہ تعالیٰ اس کے غم و رنج کو دور کر دے گا اور اس کی جگہ راحت و خوشی عطا فرمائے گا۔ آپ سے سوال کیا گیا کہ پھر کیا ہم اسے اوروں کو بھی سکھائیں؟ آپ نے فرمایا: ہاں! بیشک جو اسے سنے، اسے چاہیئے کہ دوسروں کو بھی سکھائے۔ } ۱؎ [صحیح ابن حبان:972:صحیح بالشواھد] ‏‏‏‏ امام ابوحاتم بن حبان بستی رحمہ اللہ بھی اس روایت کو اسی طرح اپنی صحیح میں لائے ہیں۔ امام ابوبکر بن عربی رحمہ اللہ بھی اپنی کتاب الاحوذی فی شرح الترمذی میں لکھتے ہیں کہ بعض لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی کتاب و سنت سے جمع کئے ہیں جن کی تعداد ایک ہزار تک پہنچ گئی ہے، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اللہ کے ناموں سے الحاد کرنے والوں کو چھوڑ دو۔ جیسے کہ لفظ اللہ سے کافروں نے اپنے بت کا نام لات رکھا اور عزیز سے مشتق کر کے عزیٰ نام رکھا۔ یہ بھی معنی ہیں کہ جو اللہ کے ناموں میں شریک کرتے ہیں، انہیں چھوڑو۔ جو انہیں جھٹلاتے ہیں، ان سے منہ موڑ لو۔ «الحاد» کے لفظی معنی ہیں: درمیانے، سیدھے راستے سے ہٹ جانا اور گھوم جانا۔ اسی لیے بغلی قبر کو «لحد» کہتے ہیں کیونکہ سیدھی کھدائی سے ہٹا کر بنائی جاتی ہے۔
180۔ 1 حسنی احسن کی تانیث ہے۔ اللہ کے اچھے ناموں سے مراد اللہ کے وہ نام ہیں جن سے اس کی مختلف صفات، اس کی عظمت و جلالت اور اس کی قدرت و طاقت کا اظہار ہوتا ہے، صحیحین کی حدیث میں انکی تعداد 99 ایک کم 10 بتائی گئی ہے فرمایا ' جو ان کو شمار کرے گا، جنت میں داخل ہوگا اللہ تعالیٰ طاق ہے اور طاق کو پسند فرماتا ہے۔ نیز علماء نے یہ بھی وضاحت کی ہے کہ اللہ کے ناموں کی تعداد 99 میں منحصر نہیں ہے بلکہ اس سے زیادہ ہیں۔ (ابن کثیر) 180۔ 2 الحاد کے معنی ہیں کسی ایک طرف مائل ہونا، اسی سے لحد ہے جو اس قبر کو کہا جاتا ہے جو ایک طرف بنائی جاتی ہے۔ دین میں الحاد اختیار کرنے کا مطلب کج روی اور گمراہی اختیار کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ناموں میں (کج روی) الحاد کی تین صورتیں ہیں 1۔ اللہ تعالیٰ کے ناموں میں تبدیلی کردی جائے جیسے مشرکین نے کہا۔ مثلا اللہ کی اسی نام سے اپنے ایک بت کا نام لات اور اس کے صفاتی ناموں عزیز سے عُزَّا بنا لیا 2، یا اللہ کے ناموں میں اپنی طرف سے اضافہ کرلینا جس کا حکم اللہ نے نہیں دیا۔ 3۔ یا اس کے ناموں میں کمی کردی جائے مثلاً اسے ایک ہی مخصوص نام سے پکارا جائے اور دوسرے صفاتی ناموں سے پکارنے کو برا سمجھا جائے (فتح القدیر) اللہ کے ناموں میں الحاد کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ ان میں تاویل یا تعطیل یا تشبیہ سے کام لیا جائے (ایسر التفاسیر) جس طرح معتزلہ، معطلہ اور مشبہ وغیرہ گمراہ فرقوں کا طریقہ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ ان سب سے بچ کر رہو۔
(آیت 180) ➊ {وَ لِلّٰهِ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى:الْحُسْنٰى “} یہ {”اَلْأَحْسَنُ“} کی مؤنث ہے، سب سے اچھے نام۔ {” لِلّٰهِ “} خبر کو پہلے لانے سے حصر پیدا ہو گیا کہ سب سے اچھے نام اور صفات صرف اور صرف اللہ کی ہیں۔ معلوم ہوا کہ پچھلی آیت میں مذکور ضلالت اور جہنم سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ انھی ناموں کے ساتھ اسے پکارو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّ لِلّٰهِ تِسْعَةً وَّ تِسْعِيْنَ اسْمًا، مِائَةً إِلَّا وَاحِدَةً، مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ ] ” بے شک اللہ تعالیٰ کے ننانوے یعنی ایک کم سو نام ہیں، جو ان کا احصاء کر لے جنت میں داخل ہو گا۔“ [ بخاری، الشروط، باب ما یجوز من الاشتراط …: ۲۷۳۶، عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ ] احصاء کے معنی یاد کرنا، شمار کرنا اور حفاظت کرنا سبھی آتے ہیں، یعنی ان کے معانی پر ایمان لائے، برکت اور ثواب کے لیے اخلاص کے ساتھ انھیں گن گن کر پڑھے، انھیں حفظ کرے اور ان کے تقاضوں کے مطابق اپنے عمل کو ڈھالے۔ حدیث کے جو الفاظ اوپر ذکر ہوئے ہیں وہ تو بہت سی روایات میں صحیح سندوں کے ساتھ آئے ہیں، البتہ ترمذی کی ایک روایت میں ان ننانوے ناموں کی تصریح بھی کر دی گئی ہے، مگر اہل علم کا تقریباً اتفاق ہے کہ یہ نام بعض راویوں نے قرآن مجید سے ترتیب دے کر روایت میں شامل کر دیے ہیں، ورنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت روایت میں یہ نام نہیں ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان ناموں کے سوا اللہ تعالیٰ کے اور نام نہیں بلکہ قرآن و حدیث میں کئی اور نام بھی آئے ہیں۔ علماء نے اسمائے حسنیٰ پر کتابیں لکھی ہیں، بعض علماء نے قرآن و حدیث سے ہزار سے زیادہ اسمائے حسنیٰ نکالے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی صفات کا شمار نہیں تو اس کے اسماء کا شمار بھی نہیں ہو سکتا۔ صحیح حدیث میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کئی نام ایسے ہیں جو اس نے کسی کو بھی نہیں بتائے، عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کو جب بھی کوئی فکر یا غم لاحق ہو وہ یہ دعا کرے تو اللہ تعالیٰ اس کا غم و فکر دور کر دیتا ہے۔“ آپ سے عرض کیا گیا: ”یا رسول اللہ! ہم اسے سیکھ نہ لیں؟“ فرمایا: ”جو بھی اسے سنے اسے اس کو سیکھ لینا چاہیے۔“ دعا یہ ہے: [ اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ عَبْدُكَ وَ ابْنُ عَبْدِكَ وَابْنُ أَمَتِكَ نَاصِيَتِيْ بِيَدِكَ، مَاضٍ فِيَّ حُكْمُكَ، عَدْلٌ فِيَّ قَضَاءُكَ اَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ سَمَّيْتَ بِهِ نَفْسَكَ اَوْ عَلَّمْتَهُ اَحَدًا مِّنْ خَلْقِكَ أَوْ أَنْزَلْتَهُ فِيْ كِتَابِكَ اَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِيْ عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِيْعَ قَلْبِيْ وَ نُوْرَ صَدْرِيْ وَجَلَاءَ حُزْنِيْ وَ ذَهَابَ هَمِّيْ ] ”اے اللہ! بے شک میں تیرا بندہ ہوں، تیرے بندے کا بیٹا ہوں اور تیری بندی کا بیٹا ہوں، میری پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے، تیرا فیصلہ مجھ پر نافذ ہے، تیرا فیصلہ میرے بارے میں عین انصاف ہے، میں تیرے ہر نام کے وسیلے سے جسے تو نے خود اپنا نام رکھا ہے، یا اسے اپنی مخلوق میں سے کسی کو سکھایا ہے، یا اپنی کتاب میں نازل کیا ہے، یا تو نے اسے علم غیب میں اپنے پاس رکھنے کو ترجیح دی ہے، میں تجھ سے یہ سوال کرتا ہوں کہ تو قرآن کو میرے دل کی بہار، میرے سینے کا نور، میرے غم کا ازالہ اور میرے فکر کو دور کرنے کا ذریعہ بنا دے۔“ [ أحمد: 391/1، ح: ۳۷۱۱ ] ابن حبان: (۹۷۲) اور ابو یعلٰی (198/9، ۱۹۹، ح: ۵۲۹۷)میں الفاظ میں کچھ فرق ہے۔ اس مبارک دعا میں اللہ تعالیٰ کے تمام اسماء کے واسطے سے دعا کی گئی ہے اور یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نام صرف ننانوے تک محدود نہیں ہیں۔ حدیثِ شفاعت میں مذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضری کی اجازت ہو گی اور آپ سجدے میں گر جائیں گے تو اس وقت آپ اللہ تعالیٰ کی ایسی حمد و ثنا کریں گے جو صرف اسی وقت اللہ تعالیٰ آپ کو سکھائے گا۔ [ بخاری، التوحید، باب قول اللہ تعالٰی: «وجوہ یومئذ ناضرۃ…» : ۷۴۴۰۔ مسلم: ۱۹۴ ] ➋ {فَادْعُوْهُ بِهَا وَ ذَرُوا الَّذِيْنَ يُلْحِدُوْنَ فِيْۤ اَسْمَآىِٕهٖ:} اللہ کا ذاتی نام ایک ہی ہے اور وہ اللہ ہے، باقی صفاتی نام ہیں۔ فرمایا ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعا کرو اور ان لوگوں کو چھوڑ دو جو اس کے ناموں کے بارے میں کج روی اختیار کرتے، یعنی سیدھے راستے سے ہٹتے ہیں۔ سیدھے راستے سے ہٹنے کا مطلب یہ ہے کہ اپنے پاس سے اس کا کوئی نام رکھ لے، یا ایسے لفظ سے پکارے جس سے اللہ تعالیٰ کی شان میں کمی ہوتی ہو۔ بعض قوموں میں اللہ تعالیٰ کے ایسے نام رائج ہیں جو ایک سے زائد معبودوں میں سے کسی ایک پر بولے جاتے ہیں، مثلاً یزدان، بھگوان اور رام وغیرہ، ایسے نام اللہ تعالیٰ پر بولنے سے بچنا فرض ہے۔ سیدھے راستے سے ہٹنے کی ایک صورت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ناموں کو بگاڑ کر بتوں کے نام رکھے جائیں، جسے اللات، العزیٰ اور منات کہ یہ لفظ اللہ، عزیز اور منان کی بگاڑی ہوئی شکلیں ہیں۔ (ابن کثیر) شاہ عبد القادر رحمہ اللہ نے کج روی کی ایک صورت یہ بھی لکھی ہے: ”اللہ تعالیٰ کے اسماء کو ٹونے ٹوٹکوں میں استعمال کیا جائے، ایسے لوگوں کو دنیوی مطلب اگرچہ حاصل ہوجائے مگر سزا ان کو ضرور ملے گی۔“ (موضح) اللہ تعالیٰ کے ناموں میں الحاد کی ایک شکل یہ بھی ہے کہ ان کے واضح معنی سے انکار کر دیا جائے (یہ تعطیل ہے)، یا تحریف کر دی جائے اور اسے تاویل کا نام دیا جائے، یا ان کو مخلوق کے مشابہ سمجھا جائے (یہ تشبیہ ہے)، یا کہا جائے کہ معلوم ہی نہیں ان کا معنی کیا ہے (یہ تفویض ہے) بلکہ صحیح طریقہ یہ ہے کہ ان صفات پر مشتمل الفاظ کا جو معنی ہے وہ سب کو معلوم ہے، مثلاً {” سَمِيْعٌ“} کا معنی سننے والا ہے، مگر وہ اس طرح ہے جس طرح اللہ کی شان کے لائق ہے۔ رہا یہ کہ وہ کیسے ہے؟ اس کی کیفیت کیا ہے؟ یہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دی جائے۔ عربی زبان میں اللہ تعالیٰ کے کسی صفاتی نام کا اگر ترجمہ اپنی زبان میں کر دیا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں، مثلاً رب کو پروردگار، یا پالنے والا، رزاق کو روزی دینے والا کہہ دیا جائے تو یہ جائز ہے۔
وَ مِمَّنۡ خَلَقۡنَاۤ اُمَّۃٌ یَّہۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ وَ بِہٖ یَعۡدِلُوۡنَ ﴿۱۸۱﴾٪
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہماری مخلوق میں ایک گروہ ایسا بھی ہے جو ٹھیک ٹھیک حق کے مطابق ہدایت اور حق ہی کے مطابق انصاف کرتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہماری مخلوق میں ایک جماعت ایسی بھی ہے جو حق کے موافق ہدایت کرتی ہے اور اس کے موافق انصاف بھی کرتی ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور ہمارے بنائے ہوؤں میں ایک گروہ وہ ہے کہ حق بتائیں اور اس پر انصاف کریں
علامہ محمد حسین نجفی
ہماری مخلوق میں سے ایک گروہ ایسا بھی ہے جو حق کے مطابق ہدایت کرتا ہے اور اسی کے مطابق (لوگوں کا) فیصلہ کرتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ان لوگوں میں سے جنھیں ہم نے پیدا کیا کچھ لوگ ایسے ہیں جو حق کے ساتھ رہنمائی کرتے اور اسی کے ساتھ انصاف کرتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف ٭٭

یعنی بعض لوگ حق و عدل پر قائم ہیں۔ حق بات ہی زبان سے نکالتے ہیں، حق کام ہی کرتے ہیں، حق کی طرف ہی اوروں کو بلاتے ہیں، حق کے ساتھ ہی انصاف کرتے ہیں اور بعض آثار میں مروی ہے کہ اس سے مراد امت محمدیہ ہے۔ چنانچہ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے یہ روایت پہنچی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب اس آیت کی تلاوت فرماتے تو فرماتے کہ یہ تمہارے لیے ہے۔ تم سے پہلے یہ وصف قوم موسیٰ علیہ السلام کا تھا۔ } ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:272/3:ضعیف] ‏‏‏‏ ربیع بن انس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: { میری امت میں سے ایک جماعت حق پر قائم رہے گی یہاں تک کہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام اتریں، وہ خواہ کبھی بھی اتریں۔ } ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:272/3:ضعیف] ‏‏‏‏ بخاری و مسلم میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر ظاہر رہے گا۔ انہیں ان کی دشمنی کرنے والے کچھ نقصان نہ پہنچا سکیں گے یہاں تک کہ قیامت آ جائے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:1923] ‏‏‏‏ ایک اور روایت میں ہے کہ { یہاں تک کہ اللہ کا امر آ جائے گا، وہ اسی پر رہیں گے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:174] ‏‏‏‏ ایک روایت میں ہے: { (‏‏‏‏اس وقت) وہ شام میں ہوں گے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:7460] ‏‏‏‏
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 181) {وَ مِمَّنْ خَلَقْنَاۤ اُمَّةٌ يَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ......:} یہی وصف اس سے پہلے آیت (۱۵۹) میں موسیٰ علیہ السلام کی امت کے بعض اشخاص کا بیان ہوا ہے۔ یہاں مراد امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے، کیونکہ اب حق صرف اس امت کے پاس ہے۔ اس میں صحابہ کرام رضی اللہ عنھم، تابعین، سلف صالحین اور وہ تمام لوگ شامل ہیں جو کتاب و سنت کو چھوڑ کر نئے راستے اختیار نہیں کرتے، بلکہ صرف کتاب و سنت پر خود بھی عمل کرتے ہیں اور دوسرے لوگوں کی بھی اسی کی طرف رہنمائی کرتے ہیں، کیونکہ حق یہی ہے اور اسی کے مطابق تمام معاملات میں لوگوں کے درمیان انصاف کرتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے وہ اپنی آخری کوشش تک لگا دیتے ہیں، یعنی جہاد کرتے ہیں۔ معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: ”میری امت میں سے ایک گروہ اللہ تعالیٰ کے حکم پر قائم رہے گا، نہ انھیں وہ شخص نقصان پہنچا سکے گا جو انھیں چھوڑ دے اور نہ وہ جو ان کی مخالفت کرے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آئے گا اور وہ اسی پر قائم ہوں گے۔“ [ بخاری، المناقب، باب: ۳۶۴۱ ] اس جماعت کی خاص صفت کتاب و سنت پر عمل کے ساتھ کفار سے لڑنا بھی ہے۔ جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ دین ہمیشہ قائم رہے گا، مسلمانوں کی ایک جماعت اس کی خاطر لڑتی رہے گی، یہاں تک کہ قیامت قائم ہو۔“ [ مسلم، الإمارۃ، باب قولہ صلی اللہ علیہ وسلم : لاتزال طائفۃ من أمتی…: ۱۹۲۰ ]
وَ الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا سَنَسۡتَدۡرِجُہُمۡ مِّنۡ حَیۡثُ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۸۲﴾ۚۖ
سید ابو الاعلیٰ مودودی
رہے وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلا دیا ہے، تو انہیں ہم بتدریج ایسے طریقہ سے تباہی کی طرف لے جائیں گے کہ انہیں خبر تک نہ ہوگی
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جو لوگ ہماری آیات کو جھٹلاتے ہیں ہم ان کو بتدریج (گرفت میں) لئے جارہے ہیں اس طور پر کہ ان کو خبر بھی نہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں جلد ہم انہیں آہستہ آہستہ عذاب کی طرف لے جائیں گے جہاں سے انہیں خبر نہ ہوگی
علامہ محمد حسین نجفی
اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں (نشانیوں) کو جھٹلایا ہم انہیں بتدریج (آہستہ آہستہ ان کے انجام بد کی طرف) لے جائیں گے کہ انہیں اس کی خبر تک نہ ہوگی۔
عبدالسلام بن محمد
اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا ہم ضرور انھیں آہستہ آہستہ کھینچ کر لے جائیں گے، جہاں سے وہ نہیں جانتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سامان تعیش کی کثرت عتاب الٰہی بھی ہے ٭٭

اور آیت میں ہے «فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُكِّرُوا بِهِ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّىٰ إِذَا فَرِحُوا بِمَا أُوتُوا أَخَذْنَاهُم بَغْتَةً فَإِذَا هُم مُّبْلِسُونَ فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِينَ ظَلَمُوا وَالْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» ۱؎ [6-الأنعام:44-45] ‏‏‏‏ یعنی ایسے لوگوں کو روزی میں کشادی دی جائے گی، معاش کی آسانیاں ملیں گی، وہ دھوکے میں پڑ جائیں گے اور حقانیت کو بھول جائیں گے۔ جب پورے مست ہو جائیں گے اور ہماری نصیحت کو گئی گزری کر دیں گے تو ہم انہیں ہر طرح کے آرام دیں گے یہاں تک کہ وہ مست ہو جائیں گے، تب انہیں ہم ناگہانی پکڑ میں پکڑ لیں گے۔ اس وقت وہ مایوسی کے ساتھ منہ تکتے رہ جائیں گے اور ان ظالموں کی رگ کٹ جائے گی۔ حقیقتاً تعریفوں کے لائق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ انہیں میں تو ڈھیل دوں گا اور یہ میرے اس داؤ سے بےخبر ہوں گے۔ میری تدبیر کبھی ناکام نہیں ہوتی، وہ بڑی مضبوط اور مستحکم ہوتی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 182){ وَ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا سَنَسْتَدْرِجُهُمْ …:} یعنی ان پر فوری گرفت نہیں کروں گا، تاکہ وہ غفلت میں پڑے رہیں اور گناہ پر گناہ کرتے جائیں، اسی کا نام ڈھیل اور استدراج (آہستہ آہستہ کھینچ کر لے جانا) ہے، جو کفار کو ان کے گناہوں کی سزا میں دی جاتی ہے، مگر وہ اپنی حماقت سے یہ سمجھتے ہیں کہ ہم پر بڑی مہربانی ہو رہی ہے، حالانکہ انھیں آخری عذاب کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ دیکھیے سورۂ انعام (۴۴، ۴۵)۔
وَ اُمۡلِیۡ لَہُمۡ ؕ۟ اِنَّ کَیۡدِیۡ مَتِیۡنٌ ﴿۱۸۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
میں ان کو ڈھیل دے رہا ہوں، میری چال کا کوئی توڑ نہیں ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ان کو مہلت دیتا ہوں بےشک میری تدبیر بڑی مضبوط ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور میں انہیں ڈھیل دوں گا بیشک میری خفیہ تدبیر بہت پکی ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اور میں انہیں ڈھیل دیتا ہوں بے شک میری تدبیر بڑی مضبوط ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور میں انھیں مہلت دوں گا، بے شک میری خفیہ تدبیر بہت مضبوط ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سامان تعیش کی کثرت عتاب الٰہی بھی ہے ٭٭

اور آیت میں ہے «فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُكِّرُوا بِهِ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّىٰ إِذَا فَرِحُوا بِمَا أُوتُوا أَخَذْنَاهُم بَغْتَةً فَإِذَا هُم مُّبْلِسُونَ فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِينَ ظَلَمُوا وَالْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» ۱؎ [6-الأنعام:44-45] ‏‏‏‏ یعنی ایسے لوگوں کو روزی میں کشادی دی جائے گی، معاش کی آسانیاں ملیں گی، وہ دھوکے میں پڑ جائیں گے اور حقانیت کو بھول جائیں گے۔ جب پورے مست ہو جائیں گے اور ہماری نصیحت کو گئی گزری کر دیں گے تو ہم انہیں ہر طرح کے آرام دیں گے یہاں تک کہ وہ مست ہو جائیں گے، تب انہیں ہم ناگہانی پکڑ میں پکڑ لیں گے۔ اس وقت وہ مایوسی کے ساتھ منہ تکتے رہ جائیں گے اور ان ظالموں کی رگ کٹ جائے گی۔ حقیقتاً تعریفوں کے لائق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ انہیں میں تو ڈھیل دوں گا اور یہ میرے اس داؤ سے بےخبر ہوں گے۔ میری تدبیر کبھی ناکام نہیں ہوتی، وہ بڑی مضبوط اور مستحکم ہوتی ہے۔
183۔ 1 یہ وہی استدراج و امہال ہے جو بطور امتحان اللہ تعالیٰ افراد اور قوموں کو دیتا ہے۔ پھر جب اس کی مشیت مواخذہ کرنے کی ہوتی ہے تو کوئی اسے بچانے پر قادر نہیں ہوسکتا، کیونکہ اس کی تدبیر بڑی مضبوط ہے۔
(آیت 183) ➊ { وَ اُمْلِيْ لَهُمْ:اَمْلَي يُمْلِيْ اِمْلَائً “} لمبی مہلت دینے کو کہتے ہیں۔ ➋ { اِنَّ كَيْدِيْ مَتِيْنٌ:} جس کی کسی حیلہ اور تدبیر سے مدافعت نہیں کی جا سکتی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتا ہے، یہاں تک کہ جب اسے پکڑتا ہے تو اسے بھاگ کر جانے نہیں دیتا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: «{ وَ كَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الْقُرٰى }» [ ھود: ۱۰۲ ] [ بخاری، التفسیر، باب: { وکذٰلک أخذ ربک…}: ۴۶۸۶، عن أبی موسٰی رضی اللہ عنہ ]
اَوَ لَمۡ یَتَفَکَّرُوۡا ٜ مَا بِصَاحِبِہِمۡ مِّنۡ جِنَّۃٍ ؕ اِنۡ ہُوَ اِلَّا نَذِیۡرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۱۸۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور کیا اِن لوگوں نے کبھی سوچا نہیں؟ اِن کے رفیق پر جنون کا کوئی اثر نہیں ہے وہ تو ایک خبردار ہے جو (برا انجام سامنے آنے سے پہلے) صاف صاف متنبہ کر رہا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا ان لوگوں نے اس بات پر غور نہ کیا کہ ان کے ساتھی کو ذرا بھی جنون نہیں وه تو صرف ایک صاف صاف ڈرانے والے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
کیا سوچتے نہیں کہ ان کے صاحب کو جنوں سے کچھ علاقہ نہیں، وہ تو صا ف ڈر سنانے والے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
کیا ان لوگوں نے اتنا بھی نہیں سوچا کہ ان کے ساتھی (پیغمبر اسلام(ص)) میں ذرا بھی جنون نہیں ہے۔ وہ تو بس کھلم کھلا (خدا کے عذاب سے) ڈرانے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور کیا انھوں نے غور نہیں کیا کہ ان کے ساتھی میں جنون کی کون سی چیز ہے؟ وہ تو ایک کھلم کھلا ڈرانے والے کے سوا کچھ نہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
صداقت رسالت پر اللہ کی گواہی ٭٭

کیا ان کافروں نے کبھی اس بات پر غور کیا کہ «وَمَا صَاحِبُكُم بِمَجْنُونٍ» ۱؎ [81-التكوير:22] ‏‏‏‏ ’ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں جنون کی کوئی بات بھی ہے؟ ‘ جیسے فرمان ہے «قُلْ إِنَّمَا أَعِظُكُم بِوَاحِدَةٍ أَن تَقُومُوا لِلَّـهِ مَثْنَىٰ وَفُرَادَىٰ ثُمَّ تَتَفَكَّرُوا مَا بِصَاحِبِكُم مِّن جِنَّةٍ إِنْ هُوَ إِلَّا نَذِيرٌ لَّكُم بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيدٍ» ۱؎ [34-سبأ:46] ‏‏‏‏ ’ آؤ میری ایک بات تو مان لو، ذرا سی دیر خلوص کے ساتھ اللہ کو حاضر جان کر اکیلے وکیلے غور تو کرو کہ مجھ میں کون سا دیوانہ پن ہے؟ میں تو تمہیں آنے والے سخت خطرے کی اطلاع دے رہا ہوں کہ اس سے ہوشیار رہو۔ ‘ جب تم یہ کرو گے تو خود اس نتیجے پر پہنچ جاؤ گے کہ میں مجنون نہیں بلکہ اللہ کا پیغام دے کر تم میں بھیجا گیا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ صفا پہاڑ پر چڑھ کر قریشیوں کے ایک ایک قبیلے کا الگ الگ نام لے کر انہیں اللہ کے عذابوں سے ڈرایا اور اسی طرح صبح کر دی تو بعض کہنے لگے کہ دیوانہ ہو گیا ہے۔ اس پر یہ آیت اتری۔
184۔ 1 صَاحِب سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی ہے جن کی بابت مشرکین کبھی ساحر اور کبھی مجنون (نعوذ باللہ) کہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ تمہارے عدم تفکر کا نتیجہ ہے وہ تو تمہارا پیغمبر ہے جو ہمارے احکام پہنچانے والا اور ان سے غفلت اور اعراض کرنے والوں کو ڈرانے والا ہے۔
(آیت 184) {اَوَ لَمْ يَتَفَكَّرُوْا مَا بِصَاحِبِهِمْ مِّنْ جِنَّةٍ......:} اوپر کی آیات میں ان کی غفلت اور بے رخی پر تنبیہ تھی، اب یہاں سے نبوت پر ان کے شبہات کی تردید ہو رہی ہے۔ کفار قریش آپ کو مجنون (پاگل) قرار دیتے تھے، دیکھیے سورۂ حجر (۶) اور دخان (۱۳، ۱۴) اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اس کے دو جواب دیے، ایک یہ کہ کبھی تم نے سوچا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی اور جگہ سے نہیں آئے، تمھارے ساتھی ہیں، تمھی میں رہتے ہیں، تم ان سے خوب واقف ہو، انھوں نے چالیس برس تم میں گزارے ہیں، کچھ غور تو کرو، کیا پاگل ایسے ہوتے ہیں؟ {” صَاحِبُكُمْ “} (تمھارے ساتھی) کے لفظ میں یہی جواب دیا گیا ہے۔ دیکھیے سورۂ یونس (۱۶) دوسرا یہ کہ ان لوگوں نے کبھی یہ سوچا بھی ہے کہ جن باتوں کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم حکم دیتے ہیں، مثلاً توحید، نماز، صدقہ، صلہ رحمی، پاک دامنی اور صدق وغیرہ ان میں سے کون سی چیز جنون ہے، یا آپ کے عادات و خصائل میں کون سی چیز ہے جسے جنون کہا جا سکے، آپ تو محض اللہ تعالیٰ اور اس کے عذاب سے کھلم کھلا ڈرانے والے ہیں۔ [ديكهيے سورهٔ سبا ۴۶]
اَوَ لَمۡ یَنۡظُرُوۡا فِیۡ مَلَکُوۡتِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ مَا خَلَقَ اللّٰہُ مِنۡ شَیۡءٍ ۙ وَّ اَنۡ عَسٰۤی اَنۡ یَّکُوۡنَ قَدِ اقۡتَرَبَ اَجَلُہُمۡ ۚ فَبِاَیِّ حَدِیۡثٍۭ بَعۡدَہٗ یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۱۸۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کیا ان لوگوں نے آسمان و زمین کے انتظام پر کبھی غور نہیں کیا اور کسی چیز کو بھی جو خدا نے پیدا کی ہے آنکھیں کھول کر نہیں دیکھا؟ اور کیا یہ بھی انہوں نے نہیں سوچا کہ شاید اِن کی مہلت زندگی پوری ہونے کا وقت قریب آ لگا ہو؟ پھر آخر پیغمبرؐ کی اِس تنبیہ کے بعد اور کونسی بات ایسی ہو سکتی ہے جس پر یہ ایمان لائیں؟
مولانا محمد جوناگڑھی
اور کیا ان لوگوں نے غور نہیں کیا آسمانوں اور زمین کے عالم میں اور دوسری چیزوں میں جو اللہ نے پیدا کی ہیں اور اس بات میں کہ ممکن ہے کہ ان کی اجل قریب ہی آ پہنچی ہو۔ پھر قرآن کے بعد کون سی بات پر یہ لوگ ایمان ﻻئیں گے؟
احمد رضا خان بریلوی
کیا انہو ں نے نگاہ نہ کی آسمانوں اور زمین کی سلطنت میں اور جو جو چیز اللہ نے بنائی اور یہ کہ شاید ان کا وعدہ نزدیک آگیا ہو تو اس کے بعد اور کونسی بات پر یقین لائیں گے
علامہ محمد حسین نجفی
کیا ان لوگوں نے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی میں اور ان چیزوں میں جو اللہ نے پیدا کی ہیں کبھی غور و فکر نہیں کیا؟ اور کبھی نظر اٹھا کر ان کو نہیں دیکھا؟ اور اس بات پر کہ شاید ان کا (مقررہ) وقت آگیا ہو۔ تو اب وہ اس کے بعد کس بات پر ایمان لائیں گے؟
عبدالسلام بن محمد
اور کیا انھوں نے نگاہ نہیں کی آسمانوں اور زمین کی عظیم الشان سلطنت میں اور کسی بھی ایسی چیز میں جو اللہ نے پیدا کی ہے اور اس بات میں کہ شاید ان کا مقررہ وقت واقعی بہت قریب آ چکا ہو، پھر اس کے بعد وہ کس بات پر ایمان لائیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شیطانی چکر ٭٭

اللہ تعالیٰ جل شانہ کی اتنی بڑی وسیع بادشاہت میں سے اور زمین و آسمان کی ہر طرح کی مخلوق میں سے کسی ایک چیز نے بھی بعد از غور و فکر انہیں یہ توفیق نہ دی کہ یہ باایمان ہو جاتے؟ اور رب کو بےنظیر و بےشبہ واحد و فرد مان لیتے؟ اور جان لیتے کہ اتنی بڑی خلق کا خالق، اتنے بڑے ملک کا واحد مالک ہی عبادتوں کے لائق ہے؟ پھر یہ ایمان قبول کر لیتے اور اسی کی عبادتوں میں لگ جاتے اور شرک و کفر سے یکسو ہو جاتے؟ انہیں ڈر لگنے لگتا کہ کیا خبر ہماری موت کا وقت قریب ہی آ گیا ہو؟ ہم کفر پر ہی مر جائیں تو ابدی سزاؤں میں پڑ جائیں؟ جب انہیں اتنی نشانیوں کے دیکھ لینے کے بعد، اس قدر باتیں سمجھا دینے کے بعد بھی ایمان و یقین نہ آیا، اللہ کی کتاب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے آ جانے کے بعد بھی یہ راہ راست پر نہ آئے تو اب کس بات کو مانیں گے؟ مسند کی ایک حدیث میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { معراج والی رات جب میں ساتویں آسمان پر پہنچا تو میں نے دیکھا کہ گویا اوپر کی طرف بجلی کی کڑک اور کھڑکھڑاہٹ ہو رہی ہے۔ میں کچھ ایسے لوگوں کے پاس پہنچا جن کے پیٹ بڑے بڑے گھروں جتنے اونچے تھے جن میں سانپ پھر رہے تھے جو باہر سے ہی نظر آتے تھے، میں نے جبرائیل علیہ السلام سے دریافت کیا کہ یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے بتایا: یہ سود خور ہیں۔ جب میں وہاں سے اترنے لگا تو آسمان اول پر آ کر میں نے دیکھا: نیچے کی جانب دھواں، غبار اور شور و غل ہے۔ میں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ جبرائیل علیہ السلام نے کہا: یہ شیاطین ہیں جو اپنی خرمستیوں اور دھینگا مشتیوں سے لوگوں کی آنکھوں پر پردے ڈال رہے ہیں کہ وہ آسمان و زمین کی بادشاہت کی چیزوں میں غور و فکر نہ کر سکیں۔ اگر یہ بات نہ ہوتی تو وہ بڑے عجائبات دیکھتے۔ } ۱؎ [مسند احمد:353/2:ضعیف] ‏‏‏‏ اس کے ایک راوی علی بن زید بن جدعان کی بہت سی روایات منکر ہیں۔
مطلب یہ ہے کہ ان چیزوں پر بھی اگر یہ غور کریں تو یقینا یہ اللہ پر ایمان لے آئیں اس کے رسول کی تصدیق اور اس کی اطاعت اختیار کرلیں اور انہوں نے جو اللہ کے شریک بنا رکھے ہیں۔ انہیں چھوڑ دیں اور اس بات سے ڈریں کہ انہیں موت اس حال میں آجائے کہ وہ کفر پر قائم ہوں۔ 185۔ 2 حَدِ یْث، سے مراد یہاں قرآن کریم ہے۔ یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے انداز و تہدید اور قرآن کریم کے بعد بھی اگر یہ ایمان نہ لائیں تو ان سے بڑھ کر انہیں ڈرانے والی چیز کیا ہوگی جو اللہ کی طرف سے نازل ہو اور پھر یہ اس پر ایمان نہ لائیں۔
(آیت 185) ➊ {اَوَ لَمْ يَنْظُرُوْا فِيْ مَلَكُوْتِ السَّمٰوٰتِ:مَلَكُوْتِ “} یہ {” مُلْكٌ “} کے لفظ میں واؤ اور تاء کا اضافہ معنی میں وسعت کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ”عظیم الشان سلطنت“ کیا گیا ہے۔ دلائل کونیہ یعنی اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان سلطنت سے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے نبی ہونے کا ثبوت مل رہا ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس توحید کی طرف دعوت دے رہے ہیں وہ آسمان و زمین کی عظیم الشان سلطنت اور پوری کائنات کی ایک ایک چیز بلکہ ایک ایک ذرے سے ثابت ہو رہی ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے «{ وَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَيْءٍ }» کے الفاظ کے ساتھ اس سلطنت میں جو بھی بڑی سے بڑی یا چھوٹی سے چھوٹی چیز پیدا فرمائی ہے اس کی طرف نگاہ کرنے کی بھی دعوت دی ہے۔ اتنی بڑی سلطنت کا ہر ذرہ گواہی دے رہا ہے کہ مجھے کوئی پیدا کرنے والا ہے اور وہ ایک ہے کہ اس عظیم الشان سلطنت کے کسی حصے میں کوئی خرابی، کوئی ٹکراؤ یا حادثہ نہیں۔ ➋ {وَّ اَنْ عَسٰۤى اَنْ يَّكُوْنَ قَدِ اقْتَرَبَ اَجَلُهُمْ:} اور کیا انھوں نے یہ نہیں سوچا کہ ہو سکتا ہے کہ ان کا مقرر وقت بالکل قریب آپہنچا ہو، یعنی موت کا مقرر وقت تو کسی کو معلوم نہیں، انسان کو کم از کم یہی سمجھ کر اپنے عقائد و اعمال کی پڑتال کرتے رہنا چاہیے کہ شاید اس کی موت کی گھڑی قریب آ گئی ہو، مگر یہ بدبخت اتنا بھی نہیں سمجھتے۔ ➌ تفکر اور غور وفکر کی دعوت اس بات کی دلیل ہے کہ تقلید کا عذر قیامت کے دن کسی کام نہیں آئے گا۔ ➍ { فَبِاَيِّ حَدِيْثٍۭ بَعْدَهٗ يُؤْمِنُوْنَ:} یعنی قرآن سے بڑا معجزہ کیا ہو گا اور اس سے بہتر نصیحت کس کتاب میں ہو گی اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بہتر سمجھانے والا اور کون ہو گا، جس کی باتوں پر یہ ایمان لائیں گے؟ آئندہ آیت سے معلوم ہو رہا ہے کہ ان کے ایمان نہ لانے کا اصل باعث ان کا تکبر اور سرکشی ہیں جو انھیں غوروفکر کرنے ہی نہیں دیتے۔
مَنۡ یُّضۡلِلِ اللّٰہُ فَلَا ہَادِیَ لَہٗ ؕ وَ یَذَرُہُمۡ فِیۡ طُغۡیَانِہِمۡ یَعۡمَہُوۡنَ ﴿۱۸۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جس کو اللہ رہنمائی سے محروم کر دے اُس کے لیے پھر کوئی رہنما نہیں ہے، اور اللہ اِنہیں اِن کی سرکشی ہی میں بھٹکتا ہوا چھوڑے دیتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
جس کو اللہ تعالیٰ گمراه کر دے اس کو کوئی راه پر نہیں ﻻ سکتا۔ اور اللہ تعالیٰ ان کو ان کی گمراہی میں بھٹکتے ہوئے چھوڑ دیتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
جسے اللہ گمراہ کرے اسے کوئی راہ دکھانے والا نہیں اور انہیں چھوڑتا ہے کہ اپنی سرکشی میں بھٹکا کریں،
علامہ محمد حسین نجفی
جس کو اللہ گمراہی میں چھوڑ دے اس کو کوئی ہدایت نہیں کر سکتا اور وہ (خدا) انہیں چھوڑ دیتا ہے تاکہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے رہیں۔
عبدالسلام بن محمد
جسے اللہ گمراہ کر دے پھر اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں اور وہ انھیں ان کی سرکشی میں چھوڑ دیتا ہے، بھٹکتے پھرتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
میری نشانیاں اور تعلیم گمراہوں کے لئے بےسود ہیں ٭٭

جس پر گمراہی لکھ دی گئی ہے، اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ وہ چاہے ساری نشانیاں دیکھ لے لیکن بےسود۔ «وَمَن يُرِدِ اللَّـهُ فِتْنَتَهُ فَلَن تَمْلِكَ لَهُ مِنَ اللَّـهِ شَيْئًا» ۱؎ [5-المائدة:41] ‏‏‏‏’ اللہ کا ارادہ جس کے لیے فتنے کا ہو، تو اس کا کوئی اختیار نہیں رکھتا۔ ‘ «قُلِ انظُرُوا مَاذَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا تُغْنِي الْآيَاتُ وَالنُّذُرُ عَن قَوْمٍ لَّا يُؤْمِنُونَ» ۱؎ [10-يونس:101] ‏‏‏‏ میرا حکم تو یہی ہے کہ ’ آسمان و زمین کی میری بےشمار نشانیوں پر غور کرو۔ لیکن یہ ظاہر ہے کہ آیتیں اور ڈراوے بےایمانوں کے لیے سود مند نہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 186) {مَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَا هَادِيَ لَهٗ …: } ہدایت اور گمراہی اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، مگر اس کا قانون ہے کہ وہ گمراہ اس کو کرتا ہے جو نیکی کا واضح راستہ چھوڑ کر بدی کا راستہ اختیار کر لیتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ بھی اسے اس کی سرکشی میں بھٹکنے کے لیے چھوڑ دیتا ہے۔ دیکھیے سورهٔ بقره (۲۵، ۲۶) اور سورهٔ اعراف (۱۷۸، ۱۷۹)۔
یَسۡـَٔلُوۡنَکَ عَنِ السَّاعَۃِ اَیَّانَ مُرۡسٰہَا ؕ قُلۡ اِنَّمَا عِلۡمُہَا عِنۡدَ رَبِّیۡ ۚ لَا یُجَلِّیۡہَا لِوَقۡتِہَاۤ اِلَّا ہُوَ ؕۘؔ ثَقُلَتۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ لَا تَاۡتِیۡکُمۡ اِلَّا بَغۡتَۃً ؕ یَسۡـَٔلُوۡنَکَ کَاَنَّکَ حَفِیٌّ عَنۡہَا ؕ قُلۡ اِنَّمَا عِلۡمُہَا عِنۡدَ اللّٰہِ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۸۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ آخر وہ قیامت کی گھڑی کب نازل ہوگی؟ کہو "اس کا علم میرے رب ہی کے پاس ہے اُسے اپنے وقت پر وہی ظاہر کرے گا آسمانوں اور زمین میں وہ بڑا سخت وقت ہوگا وہ تم پر اچانک آ جائے گا" یہ لوگ اس کے متعلق تم سے اس طرح پوچھتے ہیں گویا کہ تم اس کی کھوج میں لگے ہوئے ہو کہو "اس کا علم تو صرف اللہ کو ہے مگر اکثر لوگ اس حقیقت سے نا واقف ہیں"
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ لوگ آپ سے قیامت کے متعلق سوال کرتے ہیں کہ اس کا وقوع کب ہوگا؟ آپ فرما دیجئے کہ اس کا علم صرف میرے رب ہی کے پاس ہے، اس کے وقت پر اس کو سوا اللہ کے کوئی اور ﻇاہر نہ کرے گا۔ وه آسمانوں اور زمین میں بڑا بھاری (حادﺛہ) ہوگا وه تم پر محض اچانک آپڑے گی۔ وه آپ سے اس طرح پوچھتے ہیں جیسے گویا آپ اس کی تحقیقات کرچکے ہیں۔ آپ فرما دیجئے کہ اس کا علم خاص اللہ ہی کے پاس ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
احمد رضا خان بریلوی
تم سے قیامت کو پوچھتے ہیں کہ وہ کب کو ٹھہری ہے تم فرماؤ اس کا علم تو میرے رب کے پاس ہے، اسے وہی اس کے وقت پر ظاہر کرے گا بھاری پڑ رہی ہے آسمانوں او رزمین میں، تم پر نہ آئے گی مگر اچانک، تم سے ایسا پوچھتے ہیں گویا تم نے اسے خوب تحقیق کر رکھا ہے، تم فرماؤ اس کا علم تو اللہ ہی کے اس ہے لیکن بہت لوگ جانتے نہیں
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول) لوگ آپ سے قیامت کی گھڑی کے متعلق سوال کرتے ہیں کہ اس کا وقوع کب ہوگا؟ کہہ دو کہ اس کا علم تو میرے پروردگار کے ہی پاس ہے اسے اس کا وقت آنے پر وہی ظاہر کرے گا۔ وہ گھڑی آسمانوں اور زمین میں بڑی بھاری ہے (وہ بڑا بھاری حادثہ ہے جو ان میں رونما ہوگا) وہ نہیں آئے گی تمہارے پاس مگر اچانک۔ لوگ اس طرح آپ سے پوچھتے ہیں جیسے آپ اس کی تحقیق اور کاوش میں لگے ہوئے ہیں؟ کہہ دو۔ کہ اس کا علم تو بس اللہ ہی کے پاس ہے۔ لیکن اکثر لوگ یہ حقیقت جانتے نہیں ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
وہ تجھ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں اس کا قیام کب ہوگا؟ کہہ دے اس کا علم تو میرے رب ہی کے پاس ہے، اسے اس کے وقت پر اس کے سوا کوئی ظاہر نہیں کرے گا، وہ آسمانوں اور زمین میں بھاری واقع ہوئی ہے، تم پر اچانک ہی آئے گی۔ تجھ سے پوچھتے ہیں جیسے تو اس کے بارے میں خوب تحقیق کرنے والا ہے۔ کہہ دے اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے، مگر اکثر لوگ نہیں جانتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قیامت کب اور کس وقت؟ ٭٭

یہ دریافت کرنے والے قریشی بھی تھے اور یہودی بھی۔ لیکن چونکہ یہ آیت مکی ہے اس لیے ٹھیک یہی ہے کہ قریشیوں کا سوال تھا چونکہ وہ قیامت کے قائل ہی نہ تھے، اس لیے اس قسم کے سوال کیا کرتے تھے کہ «وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَـٰذَا الْوَعْدُ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ» [21-الأنبياء:38] ‏‏‏‏ ’ اگر سچے ہو تو اس کا ٹھیک وقت بتا دو۔ ‘ «يَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِهَا وَالَّذِينَ آمَنُوا مُشْفِقُونَ مِنْهَا وَيَعْلَمُونَ أَنَّهَا الْحَقُّ أَلَا إِنَّ الَّذِينَ يُمَارُونَ فِي السَّاعَةِ لَفِي ضَلَالٍ بَعِيدٍ» ۱؎ [42-الشورى:18] ‏‏‏‏ ’ ادھر بےایمان اس کی جلدی مچا رہے ہیں، ادھر ایماندار اسے حق جان کر اس سے ڈر رہے ہیں۔ بات یہ ہے کہ جنہیں اس میں بھی شک ہے، دوردراز کی گمراہی میں تو وہی ہیں۔ ‘ «يَسْأَلُكَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَةِ قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِندَ اللَّـهِ وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ تَكُونُ قَرِيبًا» ۱؎ [33-الأحزاب:63] ‏‏‏‏ ’ پوچھا کرتے تھے کہ قیامت واقع کب ہو گی؟ جواب سکھایا گیا کہ اس کے صحیح وقت کا علم سوائے اللہ کے، کسی کو نہیں۔ ‘ وہی اس کے صحیح وقت سے واقف ہے، بجز اس کے، کسی کو اس کے واقع ہونے کا وقت معلوم نہیں۔ اس کا علم زمین و آسمان پر بھی بھاری ہے، ان کے رہنے والی ساری مخلوق اس علم سے خالی ہے۔ وہ جب آئے گی، سب پر ایک ہی وقت واقع ہو گی، سب کو ضرر پہنچے گا۔ آسمان پھٹ جائے گا، ستارے جھڑ جائیں گے، سورج بے نور ہو جائے گا، پہاڑ اڑنے لگیں گے۔ اسی لیے وہ ساری مخلوق پر گراں گزر رہی ہے۔ اس کے واقع ہونے کے صحیح وقت کا علم ساری مخلوق پر بھاری ہے، زمین و آسمان والے سب اس سے عاجز اور بےخبر ہیں۔ وہ تو اچانک سب کی بے خبری میں ہی آئے گی۔ کوئی بزرگ سے بزرگ فرشتہ، کوئی بڑے سے بڑا پیغمبر بھی اس کے آنے کے وقت کا عالم نہیں۔ وہ تو سب کی بے خبری میں ہی آ جائے گی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: { دنیا کے تمام کام حسب دستور ہو رہے ہوں گے، جانوروں والے اپنے جانوروں کے پانی پینے والے حوض درست کر رہے ہوں گے، تجارت والے ناپ تول میں مشغول ہوں گے، قیامت آ جائے گی۔ } صحیح بخاری شریف میں ہے کہ { قیامت قائم ہونے سے پہلے سورج مغرب کی طرف سے نکلے گا، اسے دیکھتے ہی سب لوگ ایمان قبول کر لیں گے۔ لیکن اس وقت کا ایمان ان کے لیے بےسود ہو گا۔

{ جو اس سے پہلے ایمان نہ لائے ہوں اور جنہوں نے اس سے پہلے نیکیاں نہ کی ہوں۔ قیامت اس طرح دفعتاً آ جائے گی کہ ایک شخص کپڑا پھیلائے دوسرے کو دکھا رہا ہو گا اور دوسرا دیکھ رہا ہو گا، بھاؤ تاؤ ہو رہا ہو گا کہ قیامت واقع ہو جائے گی۔ نہ یہ خرید و فروخت کر سکیں گے، نہ کپڑے کی تہہ کر سکیں گے۔ کوئی دودھ دوہ کر آ رہا ہو گا، پی نہ سکے گا کہ قیامت آ جائے گی۔ کوئی حوض درست کر رہا ہو گا، ابھی جانوروں کو پانی نہ پلا چکا ہو گا کہ قیامت آ جائے گی۔ کوئی لقمہ اٹھائے ہوئے ہو گا، ابھی منہ میں نہ ڈالا ہو گا کہ قیامت آ جائے گی۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:6506] ‏‏‏‏ صحیح مسلم شریف میں ہے: { آدمی دودھ کا کٹورا (‏‏‏‏برتن) اٹھا کر پینا چاہتا ہی ہو گا، ابھی منہ سے نہ لگا پائے گا کہ قیامت قائم ہو جائے گی۔ کپڑے کے خریدار بھی سودا نہ کر چکے ہوں گے کہ قیامت آ جائے گی۔ حوض والے بھی لیپاپوتی کر رہے ہوں گے کہ قیامت برپا ہو جائے گی۔ } تجھ سے اس طرح پوچھتے ہیں گویا تو ان کا سچا رفیق ہے، یہ تیرے پکے دوست ہیں۔ اس طرح پوچھتے ہیں گویا کہ تجھے اس کا حال معلوم ہے حالانکہ کسی مقرب فرشتے یا نبی یا رسول کو اس کا علم ہرگز نہیں۔ قریشیوں نے یہ بھی کہا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم تو آپ کے قرابت دار ہیں، ہمیں تو بتا دیجئے کہ قیامت کب اور کس دن، کس سال آئے گی؟ اس طرح پوچھا کہ گویا آپ کو معلوم ہے۔ حالانکہ اس کا علم صرف اللہ کے پاس ہی ہے۔ جیسے فرمان ہے: «إِنَّ اللَّـهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ» ۱؎ [31-لقمان:34] ‏‏‏‏ ’ قیامت کا علم صرف اللہ ہی کو ہے۔ ‘ یہی معنی زیادہ ترجیح والے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

{ جبرائیل علیہ السلام نے بھی جب اعرابی کا روپ دھار کر سائل کی شکل میں آپ کے پاس بیٹھ کر آپ سے قیامت کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف جواب دیا کہ اس کا علم نہ مجھے ہے، نہ تجھے۔ اس سے پہلے کے سوالات آپ بتا چکے تھے، اس سوال کے جواب میں اپنی لاعلمی ظاہر کر کے پھر سورۃ لقمان کی آخری آیت پڑھی کہ ان پانچ چیزوں کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ یعنی علم قیامت، بارش کا آنا، مادہ کے پیٹ کے بچے کا حال، کل کے حالات، موت کی جگہ۔ ہاں! جب انہوں نے اس کی علامتیں پوچھیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتا دیں۔ پھر آپ نے اسی آیت کو تلاوت فرمایا، جبکہ جبرائیل علیہ السلام آپ کے ہر جواب پر یہی فرماتے جاتے تھے کہ آپ نے سچ فرمایا۔ ان کے چلے جانے کے بعد صحابہ رضی اللہ عنہم نے تعجب سے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ کون صاحب تھے؟ آپ نے فرمایا: جبرائیل علیہ السلام تھے، تمہیں دین سکھانے آئے تھے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:50] ‏‏‏‏ جب کبھی وہ میرے پاس جس شکل میں بھی آئے، میں نے انہیں پہچان لیا لیکن اس مرتبہ تو میں خود اب تک نہ پہچان سکا تھا۔ (‏‏‏‏الحمداللہ میں نے اس کے تمام طریقے کل سندوں کے ساتھ پوری بحث کر کے بخاری شریف کی شرح کے اول میں ہی ذکر کر دیئے ہیں۔) { ایک اعرابی نے آ کر با آواز بلند آپ کا نام لے کر آپ کو پکارا، آپ نے اسی طرح جواب دیا۔ اس نے کہا: قیامت کب ہو گی؟

{ آپ نے فرمایا: وہ آنے والی تو قطعاً ہے۔ تو بتا، تو نے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے؟ اس نے جواب دیا کہ روزے نماز تو میرے پاس زیادہ نہیں۔ البتہ میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سے اپنے دل کو لبریز پاتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: انسان اسی کے ہمراہ ہو گا جس سے محبت رکھتا ہو۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:6567] ‏‏‏‏ مومن اس حدیث کو سن کر بہت ہی خوش ہوئے کہ اس قدر خوشی انہیں اور کسی چیز پر نہیں ہوئی تھی۔ آپ کی عادت مبارکہ تھی کہ جب کوئی آپ سے ایسا سوال کرے جس کی ضرورت نہ ہو تو آپ اسے وہ بات بتاتے جو اس سے کہیں زیادہ مفید ہو۔ اسی لیے اس سائل کو بھی فرمایا کہ وقت کا علم کیا فائدہ دے گا؟ ہو سکے تو تیاری کر لو۔ صحیح مسلم میں ہے کہ { اعراب لوگ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے جب کبھی قیامت کے بارے سوال کرتے تو آپ جو ان میں سب سے کم عمر ہوتا، اسے دیکھ کر فرماتے کہ اگر یہ اپنی طبعی عمر تک پہنچا تو اس کے بڑھاپے تک ہی تم اپنی قیامت کو پالو گے۔ اس سے مراد ان کی موت ہے جو آخرت کے برزخ میں پہنچا دیتی ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:6511] ‏‏‏‏ بعض روایات میں ان کے اس قسم کے سوال پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا علی الاطلاق یہی فرمانا بھی مروی ہے کہ اس نوعمر کے بڑھاپے تک قیامت آ جائے گی۔ یہ اطلاق بھی اسی تقلید پر مجمول ہو گا۔ یعنی مراد اس سے ان لوگوں کی موت کا وقت ہے۔ وفات سے ایک ماہ قبل آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تم مجھ سے قیامت کے بارے میں سوال کرتے ہو؟ اس کے صحیح وقت کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے، میں حلفاً بیان کرتا ہوں کہ اس وقت روئے زمین پر جتنے متنفس ہیں، ان میں سے ایک بھی سو سال تک باقی نہ رہے گا ـ } [صحیح مسلم:2538] ‏‏‏‏ (‏‏‏‏مسلم)

مطلب اس سے یہ ہے کہ سو سال تک اس زمانے کے موجود لوگوں سے یہ دنیا خالی ہو جائے گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: { معراج والی شب میری ملاقات موسیٰ اور عیسیٰ علیہما السلام سے ہوئی، وہاں قیامت کے وقت کا ذکر چلا تو ابراہیم علیہ السلام کی طرف سب نے بات کو جھکا دیا۔ آپ نے جواب دیا کہ مجھے تو اس کا علم نہیں۔ سب موسیٰ علیہ السلام کی طرف متوجہ ہوئے، یہی جواب وہاں سے ملا۔ پھر عیسیٰ علیہ السلام کی طرف متوجہ ہوئے تو آپ نے فرمایا: اس کے واقع ہونے کا وقت تو بجز اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا۔ ہاں! مجھ سے میرے رب نے فرما رکھا ہے کہ دجال نکلنے والا ہے۔ میرے ساتھ دو شاخیں ہوں گی، وہ مجھے دیکھ کر سیسے کی طرح پگھلنے لگے گا۔ آخر اللہ اسے میرے ہاتھوں ہلاک کرے گا یہاں تک کہ درخت اور پتھر بھی بولنے لگیں گے کہ اے مسلمان! یہاں میرے نیچے ایک کافر چھپا ہوا ہے، آ اور اسے قتل کر ڈال۔ جب اللہ تعالیٰ ان سب کو ہلاک کر دے گا، تب لوگ اپنے شہروں اور وطنوں کو لوٹیں گے۔ اس وقت یاجوج ماجوج نکلیں گے جو کودتے پھلانگتے چاروں طرف پھیل جائیں گے۔ جہاں سے گزریں گے، تباہی پھیلا دیں گے۔ جس پانی سے گزریں گے، سب پی جائیں گے۔ آخر لوگ تنگ آ کر مجھ سے شکایت کریں گے۔ میں اللہ سے دعا کروں گا۔ اللہ تعالیٰ سب کو ہلاک کر دے گا، ان کی لاشوں کا سڑاند پھیلے گی جس سے لوگ تنگ آ جائیں گے، اللہ تعالیٰ بارش برسائے گا جو ان کی لاشوں کو بہا کر سمندر میں ڈال آئے گی۔ پھر تو پہاڑ اڑنے لگیں گے اور زمین سکڑنے لگے گی۔ جب یہ سب کچھ ظاہر ہو گا، اس وقت قیامت ایسی قریب ہو گی جیسی پورے دن والی حاملہ عورت کے بچہ جننے کا زمانہ قریب ہوتا ہے کہ گھر کے لوگ ہوشیار رہتے ہیں کہ نہ جانے دن کو پیدا ہو جائے یا رات کو۔ } ۱؎ [سنن ابن ماجه:4081،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ (‏‏‏‏ابن ماجہ، مسند وغیرہ)

اس سے معلوم ہوا کہ قیامت کا علم کسی رسول کو بھی نہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام بھی اس کی علامات بیان فرماتے ہیں، نہ کہ مقررہ وقت۔ اس لیے کہ آپ احکام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جاری کرنے اور دجال کو قتل کرنے اور اپنی دعا کی برکت سے یاجوج ماجوج کو ہلاک کرنے کے لئے اس امت کے آخر زمانے میں نازل ہوں گے جس کا علم اللہ نے آپ کو دے دیا ہے۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قیامت کی بابت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا: اس کا علم اللہ کے پاس ہی ہے۔ سوائے اس کے اسے اور کوئی نہیں جانتا۔ ہاں! میں تمہیں اس کی شرطیں بتلاتا ہوں، اس سے پہلے بڑے بڑے فتنے اور لڑائیاں ہوں گی، لوگوں کے خون ایسے سفید ہو جائیں گے کہ گویا کوئی کسی کو جانتا پہچانتا ہی نہیں۔ } ۱؎ [مسند احمد:389/5:صحیح لغیرہ] ‏‏‏‏ (‏‏‏‏مسند) آپ اس آیت کے اترنے سے پہلے بھی اکثر قیامت کا ذکر فرماتے رہا کرتے تھے۔ پس غور کر لو کہ یہ نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم جو سید الرسل ہیں، خاتم الانبیاء ہیں، نبی الرحمہ ہیں، نبی اللہ ہیں، الملحمہ ہیں، عاقب ہیں، مقفی ہیں، حاشر ہیں جن کے قدموں پر لوگوں کا حشر ہو گا۔ جن کا فرمان ہے کہ { میں اور قیامت اس طرح آئے ہیں اور آپ نے اپنی دونوں انگلیاں جوڑ کر بتائیں یعنی شہادت کی انگلی اور اس کے پاس کی انگلی۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:6504] ‏‏‏‏ لیکن باوجود اس کے، قیامت کا علم آپ کو نہ تھا۔ آپ سے جب سوال ہوا تو یہی حکم ملا، جواب دو کہ «يَسْأَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَاهَا فِيمَ أَنتَ مِن ذِكْرَاهَا إِلَىٰ رَبِّكَ مُنتَهَاهَا» ۱؎ [79-النازعات:42] ‏‏‏‏ ’ اس کا علم صرف اللہ ہی کو ہے لیکن اکثر لوگ بےعلم ہیں۔ ‘
187۔ 1 سَاعَۃ، ُ کے معنی ہیں گھڑی (لمحہ یا پل) کے ہیں قیامت کو ساعۃ اس لئے کہا گیا ہے کہ یہ اچانک اس طرح آجائے گی کہ پل بھر میں ساری کائنات درہم برہم ہوجائے گی یا سرعت حساب کے اعتبار سے قیامت کی گھڑی کو ساعۃ سے تعبیر کیا گیا۔ 187۔ 2 اَرْسَیٰ یُرْسِیْ کے معنی اثبات و وقوع کے ہیں، یعنی کب یہ قیامت ثابت یا واقع ہوگی۔ 187۔ 3 یعنی اس کا یقینی علم نہ کسی فرشتے کو ہے نہ کسی نبی کو، اللہ کے سوا اس کا علم کسی کے پاس نہیں، وہی اس کو اپنے وقت پر ظاہر فرمائے گا۔ 187۔ 4 اس کے ایک دوسرے معنی ہیں۔ اس کا علم آسمان اور زمین والوں پر بھاری ہے، کیونکہ وہ پوشیدہ ہے اور پوشیدہ چیز لوگوں پر بھاری ہوتی ہے۔ 187۔ 5 حَفِی، ُ کہتے ہیں پیچھے پڑ کر سوال کرنے اور تحقیق کرنے کو۔ یعنی یہ آپ سے قیامت کے بارے میں اس طرح سوال کرتے ہیں کہ گویا آپ نے رب کے پیچھے پڑ کر اس کی بابت ضروری علم حاصل کر رکھا ہے۔
(آیت 187) ➊ {يَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَيَّانَ مُرْسٰىهَا:السَّاعَةِ “} ایک گھڑی، لمحہ، پل یا سیکنڈ، کیونکہ قیامت اچانک ایک ہی لمحے میں برپا ہو جائے گی۔ {” اَيَّانَ “} زیادہ صحیح یہی ہے کہ {”اَيٌّ “} سے {”فَعْلَانَ“} کا وزن ہے، ظرف زمان بمعنی {”مَتٰي“} یعنی کب۔ {” مُرْسٰىهَا “} یہ {”اَرْسٰي يُرْسِيْ“} باب افعال سے مصدر میمی ہے، لازم و متعدی دونوں معنوں میں آتا ہے، زیادہ تر بہت بھاری چیز کے ٹھہرنے، گڑ جانے، گاڑ دینے اور ٹھہرا دینے کو کہتے ہیں، جیسے فرمایا: «{ وَ الْجِبَالَ اَرْسٰىهَا }» [ النازعات: ۳۲ ] ”اور پہاڑ، اس نے انھیں گاڑ دیا۔“ {” اَرْسَتِ السَّفِيْنَةُ “} ”بحری جہاز لنگر انداز ہوا۔“ {” اَيَّانَ مُرْسٰىهَا “} کا معنی ہے {” اَيَّانَ وُقُوْعُهَا “} کہ اس کا واقع ہونا کب ہے؟ (قاموس) توحید، نبوت اور قضا و قدر کے بعد اب چوتھی چیز قیامت کے بارے میں بات ہو رہی ہے، کیونکہ قرآن میں یہ چاروں چیزیں اصل بنیاد کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ➋ {قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّيْ …: ” اِنَّمَا “} کلمۂ حصر ہے، یعنی اس کا علم صرف اللہ کے پاس ہے، اس نے یہ بات نہ کسی مقرب فرشتے کو بتائی ہے نہ کسی نبی مرسل کو۔ دیکھیے سورۂ نازعات (۴۴) اور نمل (۶۶)۔ ➌ {ثَقُلَتْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ:} اس کا ایک معنی تو یہ ہے کہ اس کی ہیبت سے زمین و آسمان لرزتے ہیں، کیونکہ وہ سب اس وقت زیر و زبر ہو جائیں گے۔ دیکھیے سورۂ تکویر، انفطار، انشقاق، قمر (۴۶) اور حج (۱، ۲) دوسرا یہ کہ اس کا علم زمین و آسمان سے بھی برداشت نہیں ہو سکتا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اسے صرف اپنے پاس رکھا ہے۔ شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ نے ”الفوز الکبیر“ میں اس کا معنی {” خَفِيَتْ “ } کیا ہے، یعنی وہ آسمانوں اور زمین میں کسی کو معلوم نہیں۔ابن جزی نے فرمایا: {” ثَقُلَتْ ثَقُلَ عِلْمُنَا اَيْ خَفِيَ“} یعنی اس کا علم مخفی ہے۔ ➍ { لَا تَاْتِيْكُمْ اِلَّا بَغْتَةً:} بے شک اس کی علاماتِ عامہ اور علاماتِ خاصہ، مثلاً دجال، دابہ، یاجوج ماجوج کا خروج اور عیسیٰ علیہ السلام کا نزول وغیرہ بتائی گئی ہیں، مگر ان واقعات میں سے بھی کوئی اس کا عین مقرر وقت نہیں کہ اس کے ساتھ ہی قیامت آ جائے، اصل وقت صرف اللہ کے پاس ہے اور وہ اچانک یک لخت آئے گا۔ ➎ { يَسْـَٔلُوْنَكَ كَاَنَّكَ حَفِيٌّ عَنْهَا:حَفِيٌّ “} اصل میں اس شخص کو کہتے ہیں جس نے کسی چیز کے متعلق بار بار پوچھ کر اچھی طرح اس کا علم حاصل کر رکھا ہو، یعنی یہ لوگ آپ سے بار بار اس طرح پوچھتے ہیں جیسے آپ نے بڑی کرید اور جستجو کے بعد اس کا پورا پورا علم حاصل کر لیا ہے۔
قُلۡ لَّاۤ اَمۡلِکُ لِنَفۡسِیۡ نَفۡعًا وَّ لَا ضَرًّا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰہُ ؕ وَ لَوۡ کُنۡتُ اَعۡلَمُ الۡغَیۡبَ لَاسۡتَکۡثَرۡتُ مِنَ الۡخَیۡرِۚۖۛ وَ مَا مَسَّنِیَ السُّوۡٓءُ ۚۛ اِنۡ اَنَا اِلَّا نَذِیۡرٌ وَّ بَشِیۡرٌ لِّقَوۡمٍ یُّؤۡمِنُوۡنَ ﴿۱۸۸﴾٪
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے محمدؐ، ان سے کہو "میں اپنی ذات کے لیے کسی نفع اور نقصان کا اختیار نہیں رکھتا، اللہ ہی جو کچھ چاہتا ہے وہ ہو تا ہے اور اگر مجھے غیب کا علم ہوتا تو میں بہت سے فائدے اپنے لیے حاصل کر لیتا اور مجھے کبھی کوئی نقصان نہ پہنچتا میں تو محض ایک خبردار کرنے والا اور خوش خبری سنانے والا ہوں اُن لوگوں کے لیے جو میری بات مانیں"
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ فرما دیجئے کہ میں خود اپنی ذات خاص کے لیے کسی نفع کا اختیار نہیں رکھتا اور نہ کسی ضرر کا، مگر اتنا ہی کہ جتنا اللہ نے چاہا ہو اور اگر میں غیب کی باتیں جانتا ہوتا تو میں بہت سے منافع حاصل کر لیتا اور کوئی نقصان مجھ کو نہ پہنچتا میں تو محض ڈرانے واﻻ اور بشارت دینے واﻻ ہوں ان لوگوں کو جو ایمان رکھتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ میں اپنی جان کے بھلے برے کا خودمختار نہیں مگر جو اللہ چاہے اور اگر میں غیب جان لیا کرتا تو یوں ہوتا کہ میں نے بہت بھلائی جمع کرلی، اور مجھے کوئی برائی نہ پہنچی میں تو یہی ڈر اور خوشی سنانے والا ہوں انہیں جو ایمان رکھتے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول(ص)) کہہ دو۔ کہ میں اپنے نفع و نقصان پر کوئی قدرت و اختیار نہیں رکھتا۔ مگر جو اللہ چاہے (وہی ہوتا ہے) اور اگر مجھے غیب کا علم ہوتا تو بہت سے فائدے حاصل کر لیتا اور (زندگی میں) مجھے کبھی کوئی نقصان نہ پہنچتا۔ میں تو بس (نافرمانوں کو) ڈرانے والا اور ایمانداروں کو خوشخبری دینے والا ہوں۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے میں اپنی جان کے لیے نہ کسی نفع کا مالک ہوں اور نہ کسی نقصان کا، مگر جو اللہ چاہے اور اگر میں غیب جانتا ہوتا تو ضرور بھلائیوں میں سے بہت زیادہ حاصل کر لیتا اور مجھے کوئی تکلیف نہ پہنچتی، میں نہیں ہوں مگر ایک ڈرانے والا اور خوشخبری دینے والا ان لوگوں کے لیے جو ایمان رکھتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو علم غیب نہیں تھا ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم فرماتا ہے کہ آپ تمام کام اللہ کے سپرد کریں اور صاف کہہ دیں کہ غیب کی کسی بات کا مجھے علم نہیں، میں تو صرف وہ جانتا ہوں جو اللہ تعالیٰ مجھے معلوم کرا دے۔ جیسے سورۃ الجن میں ہے کہ «عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَىٰ غَيْبِهِ أَحَدًا» ۱؎ [72-الجن:26] ‏‏‏‏ ’ عالم الغیب اللہ تعالیٰ ہی ہے، وہ اپنے غیب پر کسی کو آگاہ نہیں کرتا۔ ‘ مجھے اگر غیب کی اطلاع ہوتی تو میں اپنے لیے بہت سی بھلائیاں سمیٹ لیتا۔ مجاہد رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ”اگر مجھے اپنی موت کا علم ہوتا تو نیکیوں میں بھی سبقت لے جاتا۔“ لیکن یہ قول غور طلب ہے کیونکہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال دائمی تھے، جو نیکی ایک بار کرتے، پھر اسے معمول بنا لیتے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:1987] ‏‏‏‏ ساری زندگی اور زندگی کا ہر ایک دن بلکہ ہر ایک گھڑی ایک ہی طرح کی تھی۔ گویا کہ آپ کی نگاہیں ہر وقت اللہ تعالیٰ کی طرف لگتی رہتی تھیں۔ زیادہ سے زیادہ یہ بات یوں ہو سکتی ہے کہ دوسروں کو میں ان کی موت کے وقت سے خبردار کر کے انہیں اعمال نیک کی رغبت دلاتا «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اس سے زیادہ اچھا قول اس کی تفسیر میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ہے کہ ”میں مال جمع کر لیتا، مجھے معلوم ہو جاتا کہ اس چیز کے خریدنے میں نفع ہے، میں اسے خرید لیتا۔

جانتا کہ اس کی خریداری میں نقصان ہے، نہ خریدتا۔ خشک سالی کے لیے ترسالی میں ذخیرہ جمع کر لیتا، ازرانی کے وقت گرانی کے علم سے سودا جمع کر لیتا۔ کبھی کوئی برائی مجھے نہ پہنچتی کیونکہ میں علم غیب سے جان لیتا کہ یہ برائی ہے تو میں پہلے سے ہی اس سے جتن کر لیتا۔ لیکن میں علم غیب نہیں جانتا۔ اس لیے فقیری بھی مجھ پر آتی ہے، تکلیف بھی ہوتی ہے۔ مجھ میں تم یہ وصف نہ مانو۔ سنو! مجھ میں وصف یہ ہے کہ میں برے لوگوں کو عذاب الٰہی سے ڈراتا ہوں، ایمانداروں کو جنت کی خوشخبری سناتا ہوں۔“ جیسے کہ ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں «فَإِنَّمَا يَسَّرْنَاهُ بِلِسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِينَ وَتُنذِرَ بِهِ قَوْمًا لُّدًّا» ۱؎ [19-مريم:97] ‏‏‏‏ ’ ہم نے اسے تیری زبان پر آسان کر دیا ہے کہ تو پرہیزگاروں کو خوشخبری سنا دے اور بروں کو ڈرا دے۔ ‘
188۔ 1 یہ آیت اس بات میں کتنی واضح ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عالم غیب نہیں۔ عالم غیب صرف اللہ کی ذات ہے، لیکن ظلم اور جہالت کی انتہا ہے کہ اس کے باوجود اہل بدعت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عالم الغیب باور کراتے ہیں۔ حالانکہ بعض جنگوں میں آپ کے دندان مبارک بھی شہید ہوئے، آپ کا چہرہ بھی زخمی ہوا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ قوم کیسے فلاح یاب ہوگی جس نے اپنے نبی کے سر کو زخمی کردیا، کتب حدیث میں یہ واقعات بھی اور ذیل کے واقعات بھی درج ہیں۔ حضرت عائشہ ؓ پر تہمت لگی تو پورا ایک مہینہ مضطرب اور نہایت پریشان رہے۔ ایک یہودی عورت نے آپ کی دعوت کی اور کھانے میں زہر ملادیا، جسے آپ نے تناول فرمایا اور صحابہ نے بھی، حتٰی کہ بعض صحابہ تو کھانے کے زہر سے ہلاک ہی ہوگئے اور خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم عمر بھر اس زہر کے اثرات محسوس فرماتے رہے۔ یہ اور اس قسم کے متعدد واقعات ہیں جن سے واضح ہے کہ آپ کو عدم علم کی وجہ سے یہ تکلیف پہنچی، نقصان اٹھانا پڑا، جس سے قرآن کی بیان کردہ حقیقت کا اثبات ہوتا ہے ' اگر میں غیب جانتا ہوتا تو مجھے کوئی مضرت نہ پہنچتی '
(آیت 188) ➊ {قُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِيْ نَفْعًا …:} یعنی اللہ تعالیٰ کی مشیت سے جو کچھ ہونا ہے ہو رہا ہے، مجھ میں ذاتی طور پر یہ بھی قدرت و اختیار نہیں کہ میں اپنی جان سے کسی نقصان یا تکلیف کو روک سکوں، یا کچھ نفع حاصل کر سکوں۔ تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہ اختیار نہیں تو پھر وہ کون ہو گا جسے اللہ تعالیٰ نے یہ اختیار عطا فرمایا ہے۔ دیکھیے سورۂ فرقان (۳) اور یونس (۱۰۶، ۱۰۷) بعض لوگ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لیے واقعی اختیار نہیں رکھتے، مگر دوسرے سب لوگوں کے لیے نفع و ضرر کا اختیار رکھتے ہیں۔ اس کے لیے دیکھیے سورۂ جن (۲۰ تا ۲۲)۔ ➋ {وَ لَوْ كُنْتُ اَعْلَمُ الْغَيْبَ:} یعنی نہ میں غیب دان ہی ہوں، اگر ایسا ہوتا تو کتنے ہی فائدے ہیں جنھیں میں پیشگی سمیٹ لیتا اور کتنے ہی نقصانات ہیں جن سے قبل از وقت آگاہ ہونے کی بنا پر میں بچ جاتا۔ یہاں لفظ {” لَوْ “} (اگر) سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باوجود افضل المرسلین ہونے کے علم غیب نہیں رکھتے تھے، کیونکہ یہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کی صفت ہے۔ دیکھیے سورۂ نمل (۶۵) اس کے باوجود بعض نادان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عالم الغیب باور کرواتے ہیں، حالانکہ بعض جنگوں میں آپ کا چہرہ زخمی ہوا، دانت مبارک بھی شہید ہوا، چہرے میں خود کی کڑیاں چبھ گئیں، ہونٹ پھٹ گیا، گھوڑے سے گر کر زخمی ہوئے تو کتنے دن صاحبِ فراش رہے۔ عائشہ رضی اللہ عنھا پر بہتان لگا تو پورا ایک مہینا آپ پریشان رہے، ایک یہودی عورت نے کھانے میں زہر ملا دیا، جسے کھانے سے آپ کے بعض صحابہ شہید بھی ہو گئے، خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس زہر کا اثر آخر تک محسوس کرتے رہے۔ یہ سب واقعات شاہد ہیں کہ ”اگر میں غیب جانتا ہوتا تو مجھے کوئی تکلیف نہ پہنچتی۔“ اس مضمون کو تفصیل سے پڑھنے کے لیے تقویۃ الایمان شاہ اسماعیل رحمہ اللہ اور تلاش حق از ارشاد اللہ مان صاحب کا مطالعہ فرمائیں۔ ➌ { اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِيْرٌ وَّ بَشِيْرٌ لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ:} اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء اور اولیاء کو جو اللہ تعالیٰ نے سب لوگوں سے بڑا بنایا ہے، سو ان میں بڑائی یہی ہوتی ہے کہ وہ اللہ کی راہ بتاتے ہیں اور اس بات میں کچھ ان کی بڑائی نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو عالم میں تصرف کی قدرت دے دی ہو کہ موت و حیات یا نفع و نقصان ان کے اختیار میں ہو، یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو غیب دانی دے دی ہو کہ جس کے احوال جب چاہیں معلوم کر لیں۔ اس آیت سے شرک کی جڑ کٹ گئی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو تمام عالم کے سردار ہیں، اپنی جان کے نفع و نقصان کا اختیار نہ ہو، نہ غیب کی بات معلوم ہو تو کسی اور نبی یا ولی یا بزرگ یا فقیر یا جن یا فرشتے کو کیا قدرت ہے کہ کسی کو فائدہ یا نقصان پہنچائے، یا غیب کی کوئی بات بتائے، البتہ وحی کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ آپ کو جو بات بتا دیتا وہ آپ کو معلوم ہو جاتی اور آپ لوگوں کو اس کی خبر دے دیتے۔ (وحیدی)
ہُوَ الَّذِیۡ خَلَقَکُمۡ مِّنۡ نَّفۡسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّ جَعَلَ مِنۡہَا زَوۡجَہَا لِیَسۡکُنَ اِلَیۡہَا ۚ فَلَمَّا تَغَشّٰہَا حَمَلَتۡ حَمۡلًا خَفِیۡفًا فَمَرَّتۡ بِہٖ ۚ فَلَمَّاۤ اَثۡقَلَتۡ دَّعَوَا اللّٰہَ رَبَّہُمَا لَئِنۡ اٰتَیۡتَنَا صَالِحًا لَّنَکُوۡنَنَّ مِنَ الشّٰکِرِیۡنَ ﴿۱۸۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی کی جنس سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ اس کے پاس سکون حاصل کرے پھر جب مرد نے عورت کو ڈھانک لیا تو اسے ایک خفیف سا حمل رہ گیا جسے لیے لیے وہ چلتی پھرتی رہی پھر جب وہ بوجھل ہو گئی تو دونوں نے مل کر اللہ، اپنے رب سے دعا کی کہ اگر تو نے ہم کو اچھا سا بچہ دیا تو ہم تیرے شکر گزار ہوں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
وه اللہ تعالیٰ ایسا ہے جس نے تم کو ایک تن واحد سے پیدا کیا اور اسی سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ وه اس اپنے جوڑے سے انس حاصل کرے پھر جب میاں نے بیوی سے قربت کی تو اس کو حمل ره گیا ہلکا سا۔ سو وه اس کو لئے ہوئے چلتی پھرتی رہی، پھر جب وه بوجھل ہوگئی تو دونوں میاں بیوی اللہ سے جو ان کا مالک ہے دعا کرنے لگے کہ اگر تو نے ہم کو صحیح سالم اوﻻد دے دی تو ہم خوب شکر گزاری کریں گے
احمد رضا خان بریلوی
وہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی میں سے اس کا جوڑا بنایا کہ اس سے چین پائے پھر جب مرد اس پر چھایا اسے ایک ہلکا سا پیٹ رہ گیا تو اسے لیے پھراکی پھر جب بوجھل پڑی دونوں نے اپنے رب سے دعا کی ضرور اگر تو ہمیں جیسا چاہیے بچہ دے گا تو بیشک ہم شکر گزار ہوں گے،
علامہ محمد حسین نجفی
اللہ وہی ہے جس نے تمہیں ایک متنفس (جاندار) سے پیدا کیا۔ اور پھر اس کی جنس سے اس کا جوڑا (شریک حیات) بنایا۔ تاکہ وہ (اس کی رفاقت میں) سکون حاصل کرے۔ پھر جب مرد عورت کو ڈھانک لیتا ہے۔ تو اسے ہلکا سا حمل رہ جاتا ہے جسے لئے وہ چلتی پھرتی رہتی ہے اور جب وہ بوجھل ہو جاتی ہے (وضعِ حمل کا وقت آجاتا ہے) تو دونوں (میاں بیوی) اپنے اللہ سے جو ان کا پروردگار ہے دعا مانگتے ہیں کہ اگر تو نے ہمیں صحیح و سالم اولاد دے دی تو ہم تیرے بڑے شکر گزار ہوں گے۔
عبدالسلام بن محمد
وہی ہے جس نے تمھیں ایک جان سے پیدا کیا اور اس سے اس کا جوڑا بنایا، تاکہ وہ اس کی طرف (جاکر) سکون حاصل کرے، پھر جب اس نے اس (عورت) کو ڈھانکا تو اس نے ہلکا سا حمل اٹھا لیا،پس اسے لے کر چلتی پھرتی رہی، پھر جب وہ بھاری ہوگئی تو دونوں نے اللہ سے دعا کی، جو ان کا رب ہے کہ بے شک اگر تو نے ہمیں تندرست بچہ عطا کیا تو ہم ضرور ہی شکر کرنے والوں سے ہوں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ایک ہی باپ ایک ہی ماں اور تمام نسل آدم ٭٭

تمام انسانوں کو اللہ تعالیٰ نے صرف آدم علیہ السلام سے ہی پیدا کیا , انہی سے ان کی بیوی حواء کو پیدا کیا . پھر ان دونوں سے نسل انسان جاری کی۔ جیسے فرمان ہے «يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَىٰ وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّـهِ أَتْقَاكُمْ» ۱؎ [49-الحجرات:13] ‏‏‏‏ ’ لوگو! ہم نے تمہیں ایک ہی مرد و عورت سے پیدا کیا ہے , پھر تمہارے کنبے اور قبیلے بنا دیئے تاکہ آپس میں ایک وسرے کو پہچانتے رہو۔ اللہ کے ہاں سب سے زیادہ ذی عزت وہ ہے جو پرہیزگاری میں سب سے آگے ہے۔ ‘ سورۃ نساء کے شروع میں ہے «يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً» ۱؎ [4-النساء:1] ‏‏‏‏ ’ اے لوگو اپنے پروردگار سے ڈرو جس نے تم سب کو ایک ہی شخص یعنی آدم علیہ السلام سے پیدا کیا ہے۔ انہی سے ان کی بیوی کو پیدا کیا، پھر ان دونوں میاں بیوی سے بہت سے مرد و عورت پھیلا دیئے۔ ‘ یہاں فرماتا ہے کہ انہی سے ان کی بیوی کو بنایا تاکہ یہ آرام اٹھائیں۔ چنانچہ ایک اور آیت میں ہے: «وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً» ۱؎ [30-الروم:21] ‏‏‏‏ ’ لوگو! یہ بھی اللہ کی ایک مہربانی ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری بیویاں بنا دیں تاکہ تم ان سے سکون و آرام حاصل کرو اور اس نے تم میں باہم محبت و الفت پیدا کر دی۔ پس یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے چاہت ہے جو میاں بیوی میں وہ پیدا کر دیتا ہے۔ ‘ اسی لیے جادوگروں کی برائی بیان کرتے ہوئے قرآن نے فرمایا کہ وہ اپنی مکاریوں سے میاں بیوی میں جدائی ڈلوا دیتے ہیں۔ عورت مرد کے ملاپ سے بحکم الٰہی عورت کو حمل ٹھہر جاتا ہے۔ جب تک وہ نطفے، خون اور لوتھڑے کی شکل میں ہوتا ہے ہلکا سا رہتا ہے، وہ برابر اپنے کام کاج میں آمد و رفت میں لگی رہتی ہے، کوئی ایسی زیادہ تکلیف اور بار نہیں معلوم ہوتا اور اندر ہی اندر وہ برابر بڑھتا رہتا ہے۔ اسے تو یونہی کبھی کچھ وہم سا ہوتا ہے کہ شاید کچھ ہو۔ کچھ وقت یونہی گزر جانے کے بعد بوجھ معلوم ہونے لگتا ہے، حمل ظاہر ہو جاتا ہے، بچہ پیٹ میں بڑا ہو جاتا ہے، طبیعت تھکنے لگتی ہے، اب ماں باپ دونوں اللہ سے دعائیں کرنے لگتے ہیں کہ اگر وہ ہمیں صحیح سالم بیٹا عطا فرمائے تو ہم شکر گزاری کریں گے۔

ڈر لگتا ہے کہ کہیں کچھ اور بات نہ ہو جائے۔ اب جبکہ اللہ تعالیٰ نے مہربانی فرمائی اور صحیح سالم انسانی شکل و صورت کا بچہ عطا فرمایا تو اللہ کے ساتھ شرک کرنے لگتے ہیں۔ مفسرین نے اس جگہ بہت سے آثار و احادیث بیان کئے ہیں جنہیں میں یہاں نقل کرتا ہوں اور ان میں جو بات ہے، وہ بھی بیان کروں گا۔ پھر جو بات صحیح ہے، اسے بتاؤں گا۔ ان شاءاللہ۔ مسند احمد میں ہے کہ { جب حواء کو اولاد ہوئی تو ابلیس گھومنے لگا، ان کے بچے زندہ نہیں رہتے تھے۔ شیطان نے سکھایا کہ اب اس کا نام عبدالحارث رکھ دے تو یہ زندہ رہے گا چنانچہ انہوں نے یہی کیا اور یہی ہوا اور اصل میں یہ شیطانی حرکت تھی اور اسی کا حکم تھا۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:3077، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ امام ترمذی رحمہ اللہ نے بھی اسے نقل کرنے کے بعد فرمایا ہے کہ یہ حدیث حسن غریب ہے۔ میں کہتا ہوں، اس حدیث میں کئی کمزوریاں ہیں: ایک تو یہ کہ اس کے ایک راوی عمر بن ابراہیم مصری کی بابت امام ابوحاتم رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ راوی ایسا نہیں کہ اس سے حجت پکڑی جائے، گو امام ابن معین رحمہ اللہ نے اس کی توثیق کی ہے۔ لیکن ابن مردویہ رحمہ اللہ نے اسے معمر سے، اس نے اپنے باپ سے، اس نے سمرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ دوسرے یہ کہ یہی روایت موقوفاً سمرہ کے اپنے قول سے مروی ہوئی ہے جو کہ مرفوع نہیں۔ ابن جریر رضی اللہ عنہ میں خود سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کا اپنا فرمان ہے کہ ”آدم علیہ السلام نے اپنے لڑکے کا نام عبدالحارث رکھا۔“ تیسرے اس آیت کی تفسیر اس کے راوی حسن سے اس کے علاوہ بھی مروی ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر یہ مرفوع حدیث ان کی روایت کردہ ہوتی تو یہ خود اس کے خلاف تفسیر نہ کرتے۔

چنانچہ ابن جریر میں ہے , حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”آدم علیہ السلام کا واقعہ نہیں بلکہ بعض مذاہب والوں کا واقعہ ہے۔“ اور روایت میں آپ کا یہ فرمان منقول ہے کہ ”اس سے مراد بعض مشرک انسان ہیں جو ایسا کرتے ہیں،“ فرماتے ہیں کہ ”یہ یہود و نصاریٰ کا فعل بیان ہوا ہے کہ اپنی اولادوں کو اپنی روش پر ڈال لیتے ہیں۔“ یہ سب اسنادیں حسن رحمہ اللہ تک بالکل صحیح ہیں اور اس آیت کی جو کچھ تفسیر کی گئی ہے، اس میں سب سے بہتر تفسیر یہی ہے۔ خیر مقصد یہ تھا کہ اتنا بڑا متقی اور پرہیزگار آدمی ایک آیت کی تفسیر میں، ایک مرفوع حدیث قول پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم روایت کرے، پھر اس کے خلاف خود تفسیر کرے، یہ بالکل ان ہونی بات ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ حدیث مرفوع نہیں بلکہ وہ سمرہ رضی اللہ عنہ کا اپنا قول ہے۔ اس کے بعد یہ بھی خیال ہوتا ہے کہ بہت ممکن ہے کہ سمرہ رضی اللہ عنہ نے اسے اہل کتاب سے ماخوذ کیا ہو۔ جیسے کعب، وہب وغیرہ جو مسلمان ہو گئے تھے اس کا بیان بھی سنئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ”حواء علیہ السلام کے جو بچے پیدا ہوتے تھے، ان کا نام عبداللہ، عبیداللہ وغیرہ رکھتی تھیں، وہ بچے فوت ہو جاتے تھے۔ پھر ان کے پاس ابلیس آیا اور کہا: اگر تم کوئی اور نام رکھو تو تمہارے بچے زندہ رہیں گے۔ چنانچہ ان دونوں نے یہی کیا، جو بچہ پیدا ہوا، اس کا نام عبدالحارث رکھا۔“

اس کا بیان ان آیات میں ہے۔ اور روایت میں ہے کہ ان کے دو بچے اس سے پہلے مر چکے تھے، اب حالت حمل میں شیطان ان کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ تمہیں معلوم بھی ہے کہ تمہارے پیٹ میں کیا ہے؟ ممکن ہے، کوئی جانور ہی ہو۔ ممکن ہے، صحیح سالم ہو گا، زندہ رہے گا۔ یہ بھی اس کے بہکاوے میں آ گئے اور عبدالحارث نام رکھا، اسی کا بیان ان آیتوں میں ہے۔ اور روایت میں ہے کہ پہلی دفعہ حمل کے وقت یہ آیا اور انہیں ڈرایا کہ میں وہی ہوں جس نے تمہیں جنت سے نکلویا، اب یا تو تم میری اطاعت کرو، ورنہ میں اسے یہ کر ڈالوں گا، وہ کر ڈالوں گا وغیرہ۔ ہر چند ڈرایا مگر انہوں نے اس کی اطاعت نہ کی۔ اللہ کی شان وہ بچہ مردہ پیدا ہوا۔ دوبارہ حمل ٹھہرا، پھر یہ ملعون پھر آن پہنچا اور اسی طرح خوف زدہ کرنے لگا، اب بھی انہوں نے اس کی اطاعت نہ کی۔ چنانچہ یہ دوسرا بچہ بھی مردہ ہوا۔ تیسرے حمل کے وقت یہ خبیث پھر آیا، اب کی مرتبہ اولاد کی محبت میں آ کر انہوں نے اس کی مان لی اور اس کا نام عبدالحارث رکھا۔ اسی کا بیان ان آیتوں میں ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس اثر کو لے کر ان کے شاگردوں کی ایک جماعت نے بھی یہی کہا ہے۔ جیسے مجاہد، سعید بن جبیر رحمہ اللہ، عکرمہ رحمہ اللہ اور دوسرے طبقے میں سے قتادہ رحمہ اللہ، سدی رحمہ اللہ وغیرہ۔ اسی طرح سلف سے خلف تک بہت سے مفسرین نے اس آیت کی تفسیر میں یہی کہا ہے، لیکن ظاہر یہ ہے کہ یہ اثر اہل کتاب سے لیا گیا ہے۔

اس کی ایک بڑی دلیل یہ ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اسے ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں جیسے کہ ابن ابی حاتم میں ہے، پس ظاہر ہے کہ یہ اہل کتاب کے آثار سے ہے۔ جن کی بابت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { ان کی باتوں کو نہ سچی کہو نہ جھوٹی۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:3644، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ ان کی روایات تین طرح کی ہیں: ایک تو وہ جن کی صحت ہمارے ہاں کسی آیت یا حدیث سے ہوتی ہے۔ دوسرا وہ جن کی تکذیب کسی آیت یا حدیث سے ہوتی ہو۔ تیسرا وہ جس کی بابت کوئی ایسا فیصلہ ہمارے دین میں نہ ملے تو بقول نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم { اس روایت کے بیان میں تو کوئی حرج نہیں۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3461] ‏‏‏‏ لیکن تصدیق، تکذیب جائز نہیں۔ میرے نزدیک تو یہ اثر دوسری قسم کا ہے یعنی ماننے کے قابل نہیں اور جن صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہ اللہ علیہم سے یہ مروی ہے، انہوں نے اسے تیسری قسم کا سمجھ کر روایت کر دیا ہے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”مشرکوں کا اپنی اولاد کے معاملے میں اللہ کے ساتھ کرنے کا بیان ان آیتوں میں ہے نہ کہ آدم و حواء کا۔“

پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ اس شرک سے اور ان کے شریک ٹھہرانے سے بلند و بالا ہے۔ ان آیات میں یہ ذکر اور ان سے پہلے آدم و حواء کا ذکر مثل تمہید کے ہے کہ ان اصلی ماں باپ کا ذکر کر کے پھر اور ماں باپوں کا ذکر ہوا، اور ان ہی کا شرک بیان ہوا۔ ذکر شخص سے ذکر جنس کی طرف استطراد کے طور پر، جیسے آیت «وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ وَجَعَلْنَاهَا رُجُومًا لِّلشَّيَاطِينِ» ۱؎ [67-الملك:5] ‏‏‏‏ میں ہے یعنی ’ ہم نے دنیا کے آسمان کو ستاروں سے زینت دی اور انہیں شیطانوں پر انگارے برسانے والا بنایا۔ ‘ اور یہ ظاہر ہے کہ جو ستارے زینت کے ہیں، وہ جھڑتے نہیں، ان سے شیطانوں کو مار نہیں پڑتی۔ یہاں بھی استطراد تاروں کی شخصیت سے تاروں کی جنس کی طرف ہے۔ اس کی اور بھی بہت سی مثالیں قرآن کریم میں موجود ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
189۔ 1 ابتدا یعنی حضرت آدم ؑ سے۔ اسی لئے انسان اول اور ابو البشر کہا جاتا ہے۔ 189۔ 2 اس سے مراد حضرت حوا ہیں، جو حضرت آدم ؑ کی زوج بنیں۔ ان کی تخلیق حضرت آدم ؑ سے ہوئی، جس طرح کہ منھا کی ضمیر سے، جو نفس واحدۃ کی طرف راجع ہے اور واضح ہے (مزید دیکھئے سورت نساء کا حاشیہ) 189۔ 3 یعنی اس سے اطمینان و سکون حاصل کرے۔ اس لئے کہ ایک جنس اپنے ہی ہم جنس سے صحیح معنوں میں مانوس اور قریب ہوسکتی ہے جو سکون حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے۔ قربت کے بغیر یہ ممکن ہی نہیں۔ دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْٓا اِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّرَحْمَةً) 30۔ الروم:21) اللہ کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے تمہارے لئے تم ہی میں سے (یا تمہاری جنس ہی میں سے) جوڑے پیدا کئے، تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو اور تمہارے دل میں اس نے پیار محبت رکھ دی ' یعنی اللہ نے مرد اور عورت دونوں کے اندر ایک دوسرے کے جذبات اور کشش رکھی ہے، فطرت کے یہ تقاضے وہ جوڑا بن کر پورا کرتے ہیں اور ایک دوسرے سے قرب و انس حاصل کرتے ہیں۔ چناچہ یہ واقعہ ہے کہ جو باہمی پیار میاں بیوی کے درمیان ہوتا ہے وہ دنیا میں کسی اور کے ساتھ نہیں ہوتا۔ 189۔ 4 یعنی یہ نسل انسانی اس طرح بڑھی اور آگے چل کر جب ان میں سے ایک زوج یعنی میاں بیوی نے ایک دوسرے سے قربت کی۔ تَغشَّاھَا کے معنی بیوی سے ہمبستری۔ یعنی وطی کرنے کے لئے ڈھانپا۔ 189۔ 5 یعنی حمل کے ابتدائی ایام میں حتٰی کہ نطفے سے عَلَقَۃِاور عَلَقَۃ، ُ سے مُضَغَۃ، ُ بننے تک، حمل خفیف رہتا ہے محسوس نہیں ہوتا اور عورت کو زیادہ گرانی بھی نہیں ہوتی۔ 189۔ 6 بوجھل ہوجانے سے مراد بچہ پیٹ میں بڑا ہوجاتا ہے تو جوں جوں ولادت کا وقت قریب آتا جاتا ہے، والدین کے دل میں خطرات اور توہمات پیدا ہوتے جاتے ہیں (بالخصوص جب عورت کو اٹھرا کی بیماری ہو تو انسانی فطرت ہے کہ خطرات میں وہ اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے، چناچہ وہ دونوں اللہ سے دعائیں کرتے ہیں اور شکر گزاری کا عہد کرتے ہیں۔
(آیت 190،189) ➊ {هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ …:} ایک جان، یعنی آدم علیہ السلام سے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ نساء کی پہلی آیت۔ ➋ {لِيَسْكُنَ اِلَيْهَا فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا …:} معلوم ہوا میاں بیوی کے تعلق کا اصل سکون و راحت ہے۔ دیکھیے سورۂ روم (۲۱) {” فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا “} جس مقصد کے لیے قرآن مجید نے یہ الفاظ استعمال فرمائے ہیں حقیقت یہ ہے کہ ان سے بڑھ کر ادب، حیا، پردے اور پاکیزگی کے ساتھ وہ مطلب ادا کرنے والے اور لفظ ملنا مشکل ہیں۔ {” صَالِحًا “} یعنی صحیح و سالم بچہ، جس میں کوئی جسمانی نقص نہ ہو۔ اس آیت کی صحیح تفسیر جسے حافظ ابن کثیر اور دوسرے محققین نے اختیار فرمایا ہے، وہ ہے جو حسن بصری رحمہ اللہ سے صحیح سند کے ساتھ ثابت ہے کہ بے شک شروع میں بطور تمہید آدم و حوا علیھما السلام کا ذکر ہے، مگر اس کے بعد {” فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا “} سے سلسلۂ کلام ان کی اولاد میں سے مشرکین کی طرف منتقل ہو گیا ہے اور اس کی مثالیں قرآن مجید میں موجود ہیں جن میں فرد کے ذکر سے سلسلۂ کلام جنس کی طرف منتقل ہو گیا ہے۔ اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ بعد میں «{ فَتَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ }» وغیرہ یعنی تمام آیات میں آخر تک جمع کے الفاظ استعمال ہوئے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان سے جنس آدم مراد ہے۔ آدم علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے پیغمبر ہو کر شرک کا ارتکاب کیسے کر سکتے ہیں؟ بہت سے مفسرین نے ان سے مراد آدم اور حوا علیھما السلام لیے ہیں، ان کی بنیاد اس روایت پر ہے جو سمرہ رضی اللہ عنہ سے ترمذی اور حاکم وغیرہ میں مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب حوا نے بچہ جنا تو ابلیس ان کے پاس آیا، ان کا کوئی لڑکا زندہ نہیں رہتا تھا۔ ابلیس کہنے لگا: ”اس کا نام عبد الحارث رکھو تو یہ زندہ رہے گا۔“ چنانچہ انھوں نے بچے کا نام عبد الحارث رکھا اور وہ زندہ بچ گیا۔ یہ سب کچھ شیطان کے اشارے سے تھا۔“ لیکن حافظ ابن کثیر نے اس روایت کو ضعیف اور اسرائیلیات سے ماخوذ قرار دیا ہے اور اس کے ضعف کے تین اسباب بیان فرمائے ہیں، خصوصاً اس لیے بھی کہ اس میں شرک کی نسبت اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ نبی آدم علیہ السلام کی طرف کی گئی ہے۔ شیخ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ نے بھی سلسلہ ضعیفہ (۳۴۲) میں اس روایت کو ضعیف کہا ہے۔ اس روایت کی سند میں موجود ایک راوی حسن بصری رحمہ اللہ نے وہ تفسیر فرمائی جو اوپر گزری اور صحیح سند کے ساتھ ان سے تفسیر طبری وغیرہ میں مروی ہے، اگر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس روایت کو صحیح سمجھتے تو خود اس کے خلاف ہر گز تفسیر نہ فرماتے۔ اس لیے وہی تفسیر درست ہے۔ ہمارے استاذ شیخ محمد عبدہ رحمہ اللہ ابن کثیر رحمہ اللہ وغیرہ کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ اگر یہ سارا قصہ آدم و حوا علیھما السلام کے متعلق ہی تسلیم کر لیا جائے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ {” جَعَلَا لَهٗ شُرَكَآءَ “} میں استفہام انکاری ہے، یعنی جب اللہ تعالیٰ نے انھیں تندرست بچہ عطا کیا تو کیا آدم وحوا نے شرک کیا تھا؟ جیسا کہ مشرکین عرب ان کی طرف شرک کی نسبت کرتے ہیں، یعنی نہیں۔ یہ تاویل بھی درست ہے، کیونکہ یہاں تک تثنیہ کی ضمیریں ہیں، آگے جمع کے صیغے کے ساتھ مشرکین پر رد ہے۔ ➌ { فَتَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ:} اس سے مراد بالاتفاق کفار عرب ہیں، جیسا کہ بعد والی آیات سے ثابت ہو رہا ہے، یعنی جب اولاد کی امید ہوتی ہے تو مشرکین اللہ سے تندرست اولاد عطا کرنے کی دعا کرتے اور شکر گزار ہونے کا وعدہ کرتے ہیں، مگر جب ٹھیک ٹھاک تندرست اولاد عطا ہو جاتی ہے تو اسے غیر اللہ کی دین قرار دے دیتے ہیں، کوئی اسے عبد العزیٰ کہتا ہے، کوئی عبد المطلب، کوئی عبد ود اور کوئی عبد یغوث، یا کسی مردے کے نام کی نذر و نیاز دیتے ہیں، یا شکریہ ادا کرنے کے لیے بچے کو کسی قبر پر لے جا کر اس کا ماتھا وہاں ٹکاتے ہیں کہ ان کے بزرگوں کے طفیل یہ بچہ ملا ہے۔ یہ سب صورتیں اللہ کا شریک ٹھہرانے کی ہیں جو صرف مشرکین عرب ہی میں نہیں تھیں بلکہ مسلمان کہلانے والے بہت سے لوگوں میں اب بھی عام ہیں، چنانچہ وہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق اللہ کو سب سے پیارے دو نام عبد اللہ یا عبد الرحمن یا اس سے ملتے جلتے نام یا شرک سے پاک نام رکھنے کے بجائے نبی بخش، حسین بخش، پیراں دتہ، عبد النبی، عبد الرسول اور بندۂ علی وغیرہ نام رکھتے ہیں۔ پھر وہ کسی کو کسی آستانے کا فقیر بنا دیتے ہیں، کسی کو کسی قبر کا مجاور بنا دیتے ہیں۔ کوئی اپنا نام سگ دربار غوثیہ رکھ لیتا ہے، کوئی سگ رسول یا سگ مدینہ۔ [ إِنَّا لِلّٰہِ وَ إِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ ]
فَلَمَّاۤ اٰتٰہُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَہٗ شُرَکَآءَ فِیۡمَاۤ اٰتٰہُمَا ۚ فَتَعٰلَی اللّٰہُ عَمَّا یُشۡرِکُوۡنَ ﴿۱۹۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
مگر جب اللہ نے ان کو ایک صحیح و سالم بچہ دے دیا تو وہ اس کی اِس بخشش و عنایت میں دوسروں کو اس کا شریک ٹھیرانے لگے اللہ بہت بلند و برتر ہے ان مشرکانہ باتوں سے جو یہ لوگ کرتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
سو جب اللہ نے دونوں کو صحیح سالم اوﻻد دے دی تو اللہ کی دی ہوئی چیز میں وه دونوں اللہ کے شریک قرار دینے لگے، سو اللہ پاک ہے ان کے شرک سے
احمد رضا خان بریلوی
پھر جب اس نے انہیں جیسا چاہیے بچہ عطا فرمایا انہوں نے اس کی عطا میں اس کے ساجھی ٹھہرائے تو اللہ کو برتری ہے ان کے شرک سے
علامہ محمد حسین نجفی
مگر جب وہ ان دونوں کو صحیح و سالم فرزند عطا کر دیتا ہے۔ تو یہ دونوں اس کی عطا کردہ چیز (اولاد) میں دوسروں کو اس کا شریک ٹھہرانے لگتے ہیں۔ اللہ اس سے بہت برتر ہے جو مشرک کرتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
پھر جب اس نے انھیں تندرست بچہ عطا کیا تو دونوں نے اس کے لیے اس میں شریک بنا لیے جو اس نے انھیں عطا کیا تھا، پس اللہ اس سے بہت بلند ہے جو وہ شریک بناتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ایک ہی باپ ایک ہی ماں اور تمام نسل آدم ٭٭

تمام انسانوں کو اللہ تعالیٰ نے صرف آدم علیہ السلام سے ہی پیدا کیا , انہی سے ان کی بیوی حواء کو پیدا کیا . پھر ان دونوں سے نسل انسان جاری کی۔ جیسے فرمان ہے «يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَىٰ وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّـهِ أَتْقَاكُمْ» ۱؎ [49-الحجرات:13] ‏‏‏‏ ’ لوگو! ہم نے تمہیں ایک ہی مرد و عورت سے پیدا کیا ہے , پھر تمہارے کنبے اور قبیلے بنا دیئے تاکہ آپس میں ایک وسرے کو پہچانتے رہو۔ اللہ کے ہاں سب سے زیادہ ذی عزت وہ ہے جو پرہیزگاری میں سب سے آگے ہے۔ ‘ سورۃ نساء کے شروع میں ہے «يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً» ۱؎ [4-النساء:1] ‏‏‏‏ ’ اے لوگو اپنے پروردگار سے ڈرو جس نے تم سب کو ایک ہی شخص یعنی آدم علیہ السلام سے پیدا کیا ہے۔ انہی سے ان کی بیوی کو پیدا کیا، پھر ان دونوں میاں بیوی سے بہت سے مرد و عورت پھیلا دیئے۔ ‘ یہاں فرماتا ہے کہ انہی سے ان کی بیوی کو بنایا تاکہ یہ آرام اٹھائیں۔ چنانچہ ایک اور آیت میں ہے: «وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً» ۱؎ [30-الروم:21] ‏‏‏‏ ’ لوگو! یہ بھی اللہ کی ایک مہربانی ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری بیویاں بنا دیں تاکہ تم ان سے سکون و آرام حاصل کرو اور اس نے تم میں باہم محبت و الفت پیدا کر دی۔ پس یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے چاہت ہے جو میاں بیوی میں وہ پیدا کر دیتا ہے۔ ‘ اسی لیے جادوگروں کی برائی بیان کرتے ہوئے قرآن نے فرمایا کہ وہ اپنی مکاریوں سے میاں بیوی میں جدائی ڈلوا دیتے ہیں۔ عورت مرد کے ملاپ سے بحکم الٰہی عورت کو حمل ٹھہر جاتا ہے۔ جب تک وہ نطفے، خون اور لوتھڑے کی شکل میں ہوتا ہے ہلکا سا رہتا ہے، وہ برابر اپنے کام کاج میں آمد و رفت میں لگی رہتی ہے، کوئی ایسی زیادہ تکلیف اور بار نہیں معلوم ہوتا اور اندر ہی اندر وہ برابر بڑھتا رہتا ہے۔ اسے تو یونہی کبھی کچھ وہم سا ہوتا ہے کہ شاید کچھ ہو۔ کچھ وقت یونہی گزر جانے کے بعد بوجھ معلوم ہونے لگتا ہے، حمل ظاہر ہو جاتا ہے، بچہ پیٹ میں بڑا ہو جاتا ہے، طبیعت تھکنے لگتی ہے، اب ماں باپ دونوں اللہ سے دعائیں کرنے لگتے ہیں کہ اگر وہ ہمیں صحیح سالم بیٹا عطا فرمائے تو ہم شکر گزاری کریں گے۔

ڈر لگتا ہے کہ کہیں کچھ اور بات نہ ہو جائے۔ اب جبکہ اللہ تعالیٰ نے مہربانی فرمائی اور صحیح سالم انسانی شکل و صورت کا بچہ عطا فرمایا تو اللہ کے ساتھ شرک کرنے لگتے ہیں۔ مفسرین نے اس جگہ بہت سے آثار و احادیث بیان کئے ہیں جنہیں میں یہاں نقل کرتا ہوں اور ان میں جو بات ہے، وہ بھی بیان کروں گا۔ پھر جو بات صحیح ہے، اسے بتاؤں گا۔ ان شاءاللہ۔ مسند احمد میں ہے کہ { جب حواء کو اولاد ہوئی تو ابلیس گھومنے لگا، ان کے بچے زندہ نہیں رہتے تھے۔ شیطان نے سکھایا کہ اب اس کا نام عبدالحارث رکھ دے تو یہ زندہ رہے گا چنانچہ انہوں نے یہی کیا اور یہی ہوا اور اصل میں یہ شیطانی حرکت تھی اور اسی کا حکم تھا۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:3077، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ امام ترمذی رحمہ اللہ نے بھی اسے نقل کرنے کے بعد فرمایا ہے کہ یہ حدیث حسن غریب ہے۔ میں کہتا ہوں، اس حدیث میں کئی کمزوریاں ہیں: ایک تو یہ کہ اس کے ایک راوی عمر بن ابراہیم مصری کی بابت امام ابوحاتم رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ راوی ایسا نہیں کہ اس سے حجت پکڑی جائے، گو امام ابن معین رحمہ اللہ نے اس کی توثیق کی ہے۔ لیکن ابن مردویہ رحمہ اللہ نے اسے معمر سے، اس نے اپنے باپ سے، اس نے سمرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ دوسرے یہ کہ یہی روایت موقوفاً سمرہ کے اپنے قول سے مروی ہوئی ہے جو کہ مرفوع نہیں۔ ابن جریر رضی اللہ عنہ میں خود سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کا اپنا فرمان ہے کہ ”آدم علیہ السلام نے اپنے لڑکے کا نام عبدالحارث رکھا۔“ تیسرے اس آیت کی تفسیر اس کے راوی حسن سے اس کے علاوہ بھی مروی ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر یہ مرفوع حدیث ان کی روایت کردہ ہوتی تو یہ خود اس کے خلاف تفسیر نہ کرتے۔

چنانچہ ابن جریر میں ہے , حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”آدم علیہ السلام کا واقعہ نہیں بلکہ بعض مذاہب والوں کا واقعہ ہے۔“ اور روایت میں آپ کا یہ فرمان منقول ہے کہ ”اس سے مراد بعض مشرک انسان ہیں جو ایسا کرتے ہیں،“ فرماتے ہیں کہ ”یہ یہود و نصاریٰ کا فعل بیان ہوا ہے کہ اپنی اولادوں کو اپنی روش پر ڈال لیتے ہیں۔“ یہ سب اسنادیں حسن رحمہ اللہ تک بالکل صحیح ہیں اور اس آیت کی جو کچھ تفسیر کی گئی ہے، اس میں سب سے بہتر تفسیر یہی ہے۔ خیر مقصد یہ تھا کہ اتنا بڑا متقی اور پرہیزگار آدمی ایک آیت کی تفسیر میں، ایک مرفوع حدیث قول پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم روایت کرے، پھر اس کے خلاف خود تفسیر کرے، یہ بالکل ان ہونی بات ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ حدیث مرفوع نہیں بلکہ وہ سمرہ رضی اللہ عنہ کا اپنا قول ہے۔ اس کے بعد یہ بھی خیال ہوتا ہے کہ بہت ممکن ہے کہ سمرہ رضی اللہ عنہ نے اسے اہل کتاب سے ماخوذ کیا ہو۔ جیسے کعب، وہب وغیرہ جو مسلمان ہو گئے تھے اس کا بیان بھی سنئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ”حواء علیہ السلام کے جو بچے پیدا ہوتے تھے، ان کا نام عبداللہ، عبیداللہ وغیرہ رکھتی تھیں، وہ بچے فوت ہو جاتے تھے۔ پھر ان کے پاس ابلیس آیا اور کہا: اگر تم کوئی اور نام رکھو تو تمہارے بچے زندہ رہیں گے۔ چنانچہ ان دونوں نے یہی کیا، جو بچہ پیدا ہوا، اس کا نام عبدالحارث رکھا۔“

اس کا بیان ان آیات میں ہے۔ اور روایت میں ہے کہ ان کے دو بچے اس سے پہلے مر چکے تھے، اب حالت حمل میں شیطان ان کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ تمہیں معلوم بھی ہے کہ تمہارے پیٹ میں کیا ہے؟ ممکن ہے، کوئی جانور ہی ہو۔ ممکن ہے، صحیح سالم ہو گا، زندہ رہے گا۔ یہ بھی اس کے بہکاوے میں آ گئے اور عبدالحارث نام رکھا، اسی کا بیان ان آیتوں میں ہے۔ اور روایت میں ہے کہ پہلی دفعہ حمل کے وقت یہ آیا اور انہیں ڈرایا کہ میں وہی ہوں جس نے تمہیں جنت سے نکلویا، اب یا تو تم میری اطاعت کرو، ورنہ میں اسے یہ کر ڈالوں گا، وہ کر ڈالوں گا وغیرہ۔ ہر چند ڈرایا مگر انہوں نے اس کی اطاعت نہ کی۔ اللہ کی شان وہ بچہ مردہ پیدا ہوا۔ دوبارہ حمل ٹھہرا، پھر یہ ملعون پھر آن پہنچا اور اسی طرح خوف زدہ کرنے لگا، اب بھی انہوں نے اس کی اطاعت نہ کی۔ چنانچہ یہ دوسرا بچہ بھی مردہ ہوا۔ تیسرے حمل کے وقت یہ خبیث پھر آیا، اب کی مرتبہ اولاد کی محبت میں آ کر انہوں نے اس کی مان لی اور اس کا نام عبدالحارث رکھا۔ اسی کا بیان ان آیتوں میں ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس اثر کو لے کر ان کے شاگردوں کی ایک جماعت نے بھی یہی کہا ہے۔ جیسے مجاہد، سعید بن جبیر رحمہ اللہ، عکرمہ رحمہ اللہ اور دوسرے طبقے میں سے قتادہ رحمہ اللہ، سدی رحمہ اللہ وغیرہ۔ اسی طرح سلف سے خلف تک بہت سے مفسرین نے اس آیت کی تفسیر میں یہی کہا ہے، لیکن ظاہر یہ ہے کہ یہ اثر اہل کتاب سے لیا گیا ہے۔

اس کی ایک بڑی دلیل یہ ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اسے ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں جیسے کہ ابن ابی حاتم میں ہے، پس ظاہر ہے کہ یہ اہل کتاب کے آثار سے ہے۔ جن کی بابت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { ان کی باتوں کو نہ سچی کہو نہ جھوٹی۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:3644، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ ان کی روایات تین طرح کی ہیں: ایک تو وہ جن کی صحت ہمارے ہاں کسی آیت یا حدیث سے ہوتی ہے۔ دوسرا وہ جن کی تکذیب کسی آیت یا حدیث سے ہوتی ہو۔ تیسرا وہ جس کی بابت کوئی ایسا فیصلہ ہمارے دین میں نہ ملے تو بقول نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم { اس روایت کے بیان میں تو کوئی حرج نہیں۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3461] ‏‏‏‏ لیکن تصدیق، تکذیب جائز نہیں۔ میرے نزدیک تو یہ اثر دوسری قسم کا ہے یعنی ماننے کے قابل نہیں اور جن صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہ اللہ علیہم سے یہ مروی ہے، انہوں نے اسے تیسری قسم کا سمجھ کر روایت کر دیا ہے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”مشرکوں کا اپنی اولاد کے معاملے میں اللہ کے ساتھ کرنے کا بیان ان آیتوں میں ہے نہ کہ آدم و حواء کا۔“

پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ اس شرک سے اور ان کے شریک ٹھہرانے سے بلند و بالا ہے۔ ان آیات میں یہ ذکر اور ان سے پہلے آدم و حواء کا ذکر مثل تمہید کے ہے کہ ان اصلی ماں باپ کا ذکر کر کے پھر اور ماں باپوں کا ذکر ہوا، اور ان ہی کا شرک بیان ہوا۔ ذکر شخص سے ذکر جنس کی طرف استطراد کے طور پر، جیسے آیت «وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ وَجَعَلْنَاهَا رُجُومًا لِّلشَّيَاطِينِ» ۱؎ [67-الملك:5] ‏‏‏‏ میں ہے یعنی ’ ہم نے دنیا کے آسمان کو ستاروں سے زینت دی اور انہیں شیطانوں پر انگارے برسانے والا بنایا۔ ‘ اور یہ ظاہر ہے کہ جو ستارے زینت کے ہیں، وہ جھڑتے نہیں، ان سے شیطانوں کو مار نہیں پڑتی۔ یہاں بھی استطراد تاروں کی شخصیت سے تاروں کی جنس کی طرف ہے۔ اس کی اور بھی بہت سی مثالیں قرآن کریم میں موجود ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
190۔ 1 شریک قرار دینے سے مراد یا تو بچے کا نام ایسا رکھنا ہے، مثلاً امام بخش، پیراں دیتا، عبدالشمس، بندہ علی وغیرہ جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ بچہ فلاں بزرگ، فلاں پیر کی (نعوذ باللہ) نظر کرم کا نتیجہ ہے۔ یا پھر اس اپنے عقیدے کا اظہار کرکے کہ ہم فلاں بزرگ فلاں قبر پر گئے تھے جس کے نتیجہ میں بچہ پیدا ہوا ہے، جو بدقسمتی سے مسلمان عوام میں بھی عام ہیں۔ اگلی آیات میں اللہ تعالیٰ شرک کی تردید فرما رہا ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اَیُشۡرِکُوۡنَ مَا لَا یَخۡلُقُ شَیۡئًا وَّ ہُمۡ یُخۡلَقُوۡنَ ﴿۱۹۱﴾۫ۖ
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کیسے نادان ہیں یہ لوگ کہ اُن کو خدا کا شریک ٹھیراتے ہیں جو کسی چیز کو بھی پیدا نہیں کرتے بلکہ خود پیدا کیے جاتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا ایسوں کو شریک ٹھہراتے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہ کر سکیں اور وه خود ہی پیدا کئے گئے ہوں
احمد رضا خان بریلوی
کیا اسے شریک کرتے ہیں جو کچھ نہ بنائے اور وہ خود بنائے ہوئے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
آیا یہ ان کو شریک ٹھہراتے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہیں کر سکتے اور وہ خود کسی کے پیدا کئے ہوئے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
کیا وہ انھیں شریک بناتے ہیں جو کوئی چیز پیدا نہیں کرتے اور وہ خود پیدا کیے جاتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انسان کا المیہ خود ساز خدا اور اللہ سے دوری ہے ٭٭

جو لوگ اللہ کے سوا اوروں کو پوجتے ہیں، وہ سب اللہ کے ہی بنائے ہوئے ہیں، وہی ان کا پالنے والا ہے۔ وہ بالکل بے اختیار ہیں، کسی نفع نقصان کا انہیں اختیار نہیں، وہ اپنے پجاریوں کو کوئی نفع نہیں پہنچا سکتے بلکہ وہ تو ہل جل بھی نہیں سکتے، دیکھ اور سن بھی نہیں سکتے۔ ان بتوں سے تو ان کے پجاری ہی توانا، تندرست اور اچھے ہیں کہ ان کی آنکھیں بھی ہیں، کان بھی ہیں۔ یہ بےوقوف تو انہیں پوجتے ہیں جنہوں نے ساری مخلوق میں سے ایک چیز کو بھی پیدا نہیں کیا بلکہ وہ خود اللہ تعالیٰ کے پیدا کئے ہوئے ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے کہ «يَا أَيُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوا لَهُ إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ لَن يَخْلُقُوا ذُبَابًا وَلَوِ اجْتَمَعُوا لَهُ وَإِن يَسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَيْئًا لَّا يَسْتَنقِذُوهُ مِنْهُ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوبُ مَا قَدَرُوا اللَّـهَ حَقَّ قَدْرِهِ إِنَّ اللَّـهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ» ۱؎ [22-الحج:73-74] ‏‏‏‏ ’ لوگو! آؤ ایک لطیف مثال سنو، تم جنہیں پکار رہے ہو، یہ سارے ہی جمع ہو کر ایک مکھی بھی پیدا کرنا چاہیں تو ان کی طاقت سے خارج ہے۔ بلکہ ان کی کمزوری تو یہاں تک ہے کہ کوئی مکھی ان کی کسی چیز کو چھین لے جائے تو یہ اس سے واپس بھی نہیں کر سکتے، طلب کرنے والے اور جن سے طلب کی جا رہی ہے، بہت ہی بودے ہیں۔ ‘ تعجب ہے کہ اتنے کمزوروں کی عبادت کی جاتی ہے جو اپنا حق بھی ایک مکھی سے نہیں لے سکتے، وہ تمہاری روزیوں اور مدد پر کیسے قادر ہوں گے؟ خلیل اللہ علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ «قَالَ أَتَعْبُدُونَ مَا تَنْحِتُونَ» ۱؎ [37-الصافات:95] ‏‏‏‏ ’ کیا تم ان کی عبادت کرتے ہو جنہیں تم خود ہی گھڑتے اور بناتے ہو؟ ‘ وہ نہ تو اپنے پجاریوں کی مدد کر سکتے ہیں، نہ خود اپنی ہی کوئی مدد کر سکتے ہیں۔

یہاں تک کہ «فَجَعَلَهُمْ جُذَاذًا إِلَّا كَبِيرًا لَّهُمْ لَعَلَّهُمْ إِلَيْهِ يَرْجِعُونَ» ۱؎ [21-الأنبياء:58] ‏‏‏‏ ’ خلیل اللہ علیہ السلام نے انہیں توڑ توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ ‘ لیکن ان سے یہ نہ ہو سکا کہ اپنے آپ کو ان کے ہاتھ سے بچا لیتے۔ ہاتھ میں تبر لے کر سب کو چورا کر دیا اور ان معبودان باطل سے یہ بھی نہ ہو سکا کہ کسی طرح اپنا بچاؤ کر لیتے۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی سیدنا معاذ بن عمرو بن جموح اور سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما یہی کام کرتے تھے کہ رات کے وقت چپکے سے جا کر مشرکین کے بت توڑ آتے اور جو لکڑی کے ہوتے، انہیں توڑ کر بیوہ عورتوں کو دے دیتے کہ وہ اپنا ایندھن بنا لیں اور قوم کے بت پرست عبرت حاصل کریں۔ خود معاذ رضی اللہ عنہ کا باپ عمرو بن جموح بھی بت پرست تھا، یہ دونوں نوجوان دوست وہاں بھی پہنچتے اور اس بت کو پلیدی سے آلودہ کر آتے۔ جب یہ آتا تو اپنے معبود کو اس حالت میں دیکھ کر بہت پیچ و تاب کھاتا، پھر دھوتا، پھر اس پر خوشبو ملتا۔

ایک مرتبہ اس نے اس کے پاس تلوار رکھ دی اور کہا: دیکھ! آج تیرا دشمن آئے تو اس تلوار سے اس کا کام تمام کر دینا۔ یہ اس رات بھی پہنچے اور اس کی درگت کر کے پاخانے سے لیپ کر کے چلے آئے مگر تاہم اسے اثر نہ ہوا، صبح کو اسی طرح اس نے دھو دھا کر ٹھیک ٹھاک کر کے خوشبو لگا کر بیٹھا کر ڈنڈوت کی یعنی (‏‏‏‏اٹھک بیٹھک) کی۔ جب ان دونوں نے دیکھا کہ کسی طرح یہ نہیں مانتا تو ایک رات اس بت کو اٹھا لائے اور ایک کتے کا پلا جو مرا پڑا تھا، اس کے گلے میں باندھ دیا اور محلے کے ایک کنویں میں ڈال دیا۔ صبح اس نے اپنے بت کو نہ پا کر تلاش کیا تو کنویں میں اسے نظر آیا کہ کتے کے مردہ بچے کے ساتھ پڑا ہوا ہے، اب اسے بت سے اور بت پرستی سے نفرت ہو گئی۔ اور اس نے کہا: «تاللہ لو کنت الھا مستدن لم تک والکلب جمیعا فی قرن»

یعنی اگر تو سچ مچ معبود ہوتا تو کنوئیں میں کتے کے پلے کے ساتھ پڑا ہوا نہ ہوتا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور مشرف بہ اسلام ہو گئے، پھر تو اسلام میں پورے پکے ہو گئے۔ احد کی لڑائی میں شریک ہوئے اور کفار کو قتل کرتے ہوئے شہید ہو گئے ۱؎ [سیرة ابن هشام:354/1] ‏‏‏‏ «رضی اللہ عنہ وارضاہ وجعل جنت الفردوس ماوا» ۔ انہیں اگر بلایا جائے تو یہ قبول کرنا تو درکنار، سن بھی نہیں سکتے۔ محض پتھر ہیں، بےجان ہیں، بےآنکھ اور بےکان ہیں۔ جیسے کہ خلیل اللہ علیہ السلام نے فرمایا کہ ’ میرے والد! آپ ان کی عبادت کیوں کرتے ہیں، جو نہ سنیں، نہ دیکھیں، نہ تجھے کوئی نفع پہنچا سکیں، نہ تیرے کسی کام آ سکیں۔ ‘ ۱؎ [19-مريم:42] ‏‏‏‏ انہیں پکارنا اور نہ پکارنا دونوں برابر ہیں۔ یہ تو تم جیسے ہی بے بس اور اللہ کی مخلوق ہیں۔ بتاؤ تو کبھی انہوں نے تمہاری فریاد رسی کی ہے؟ یا کبھی تمہاری دعا کا جواب دیا ہے؟ حقیقت میں ان سے افضل و اعلیٰ تو تم خود ہو۔ تم سنتے، دیکھتے، چلتے پھرتے، بولتے چالتے ہو، یہ تو اتنا بھی نہیں کر سکتے۔ اچھا! تم ان سے میرا کچھ بگاڑنے کی درخواست کرو، میں اعلان کرتا ہوں کہ اگر ان سے ہو سکے تو بلاتامل اپنی پوری طاقت سے جو میرا بگاڑ سکتے ہوں، بگاڑ لیں۔ سنو! میں تو اللہ کو اپنا حمایتی اور مددگار سمجھتا ہوں، وہی میرا بچانے والا ہے اور وہ مجھے کافی وافی ہے۔ اسی پر میرا بھروسہ ہے، اسی سے میرا لگاؤ ہے۔

میں ہی نہیں، ہر نیک بندہ یہی کرتا ہے اور وہ بھی اپنے تمام سچے غلاموں کی نگہبانی اور حفاظت کرتا رہتا ہے اور کرتا رہے گا۔ میرے بعد بھی ان سب کا نگراں اور محافظ وہی ہے۔ ہود علیہ السلام سے آپ کی قوم نے کہا کہ ہمارا تو خیال ہے کہ تو جو ہمارے معبودوں پر ایمان نہیں رکھتا، اسی سبب سے انہوں نے تجھے ان مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ اس کے جواب میں اللہ کے پیغمبر نے فرمایا: سنو! تم کو اور اللہ کو گواہ کر کے علی الاعلان کہتا ہوں کہ میں اللہ کے سوا تمہارے تمام معبودوں سے بری اور بیزار اور ان سب کا دشمن ہوں، تم میرا کچھ بگاڑ سکتے ہو تو بگاڑ لو۔ تمہیں بھی قسم ہے جو ذرا سی کوتاہی کرو۔ میرا توکل اللہ کی ذات پر ہے۔ تمام جانداروں کی چوٹیاں اس کے ہاتھ ہیں، میرا رب ہی سچی راہ پر ہے۔ خلیل اللہ علیہ السلام نے بھی یہی فرمایا تھا کہ تم اور تمہارے بزرگ جن کی تم پرستش کرتے ہو، میں ان سب کا دشمن ہوں اور وہ مجھ سے دور ہیں۔ سوائے اس رب العالمین کے، جس نے مجھے پیدا کیا، وہی میری رہبری کی۔

آپ نے اپنے والد اور قوم سے بھی یہی فرمایا کہ «وَإِذْ قَالَ إِبْرَ‌اهِيمُ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ إِنَّنِي بَرَ‌اءٌ مِّمَّا تَعْبُدُونَ إِلَّا الَّذِي فَطَرَ‌نِي فَإِنَّهُ سَيَهْدِينِ وَجَعَلَهَا كَلِمَةً بَاقِيَةً فِي عَقِبِهِ لَعَلَّهُمْ يَرْ‌جِعُونَ» ۱؎ [43-الزخرف:26-28] ‏‏‏‏ ’ میں تمہارے معبودان باطل سے بری اور بیزار ہوں، سوائے اس سچے معبود کے جس نے مجھے پیدا کیا ہے، وہی میری رہبری کرے گا۔ ہم نے اسی کلمے کو اس کی نسل میں ہمیشہ کے لئے باقی رکھ دیا تاکہ لوگ اپنے باطل خیالات سے ہٹ جائیں۔ ‘ پہلے تو غائبانہ فرمایا تھا، پھر اور تاکید کے طور پر خطاب کر کے فرماتا ہے کہ جن جن کو اللہ کے سوا تم پکارتے ہو، وہ تمہاری امداد نہیں کر سکتے اور نہ وہ خود اپنا ہی کوئی نفع کر سکتے ہیں۔ یہ تو سن ہی نہیں سکتے، تجھے تو یہ آنکھوں والے دکھائی دیتے ہیں، لیکن دراصل ان کی اصلی آنکھیں ہی نہیں کہ کسی کو دیکھ سکیں۔ جیسے فرمان ہے کہ اگر تم انہیں پکارو تو وہ سنتے نہیں چونکہ وہ تصاویر اور بت ہیں، ان کی مصنوعی آنکھیں ہیں، محسوس تو یہ ہوتا ہے کہ وہ دیکھ رہے ہیں لیکن دراصل دیکھ نہیں رہے چونکہ وہ پتھر بصورت انسان ہیں، اس لیے ضمیر بھی ذی العقول کی لائے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد کفار ہیں لیکن اول ہی اولیٰ ہے، یہی امام ابن جریر اور قتادہ رحمۃ اللہ علیہم کا قول ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 192،191) { اَيُشْرِكُوْنَ مَا لَا يَخْلُقُ شَيْـًٔا …: } اس سلسلۂ کلام سے مقصود بتوں کی پرستش کی تردید ہے کہ ان میں معبود ہونے کی کوئی صفت نہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ انھوں نے کوئی چیز پیدا ہی نہیں کی، حتیٰ کہ وہ سب جمع بھی ہو جائیں تو مکھی تک بنانا بلکہ اس سے چھینی ہوئی چیز واپس لینا بھی ان کے اختیار میں نہیں۔ دیکھیے سورۂ حج (۷۳) وہ خود مخلوق ہیں، اپنے پوجنے والوں کی مدد تو درکنار اگر خود انھیں کوئی توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے تو وہ اپنے آپ کو بھی نہیں بچا سکتے، تو پھر خالق کو چھوڑ کر اس بے بس مخلوق کی پوجا کیوں؟
وَ لَا یَسۡتَطِیۡعُوۡنَ لَہُمۡ نَصۡرًا وَّ لَاۤ اَنۡفُسَہُمۡ یَنۡصُرُوۡنَ ﴿۱۹۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جو نہ ان کی مدد کر سکتے ہیں اور نہ آپ اپنی مدد ہی پر قادر ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور وه ان کو کسی قسم کی مدد نہیں دے سکتے اور وه خود بھی مدد نہیں کرسکتے
احمد رضا خان بریلوی
اور نہ وہ ان کو کوئی مدد پہنچاسکیں اور نہ اپنی جانو ں کی مدد کریں
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ نہ ان کی مدد کرنے کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ ہی اپنی مدد پر قادر ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور نہ ان کی کوئی مدد کر سکتے ہیں اور نہ خود اپنی مدد کرتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انسان کا المیہ خود ساز خدا اور اللہ سے دوری ہے ٭٭

جو لوگ اللہ کے سوا اوروں کو پوجتے ہیں، وہ سب اللہ کے ہی بنائے ہوئے ہیں، وہی ان کا پالنے والا ہے۔ وہ بالکل بے اختیار ہیں، کسی نفع نقصان کا انہیں اختیار نہیں، وہ اپنے پجاریوں کو کوئی نفع نہیں پہنچا سکتے بلکہ وہ تو ہل جل بھی نہیں سکتے، دیکھ اور سن بھی نہیں سکتے۔ ان بتوں سے تو ان کے پجاری ہی توانا، تندرست اور اچھے ہیں کہ ان کی آنکھیں بھی ہیں، کان بھی ہیں۔ یہ بےوقوف تو انہیں پوجتے ہیں جنہوں نے ساری مخلوق میں سے ایک چیز کو بھی پیدا نہیں کیا بلکہ وہ خود اللہ تعالیٰ کے پیدا کئے ہوئے ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے کہ «يَا أَيُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوا لَهُ إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ لَن يَخْلُقُوا ذُبَابًا وَلَوِ اجْتَمَعُوا لَهُ وَإِن يَسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَيْئًا لَّا يَسْتَنقِذُوهُ مِنْهُ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوبُ مَا قَدَرُوا اللَّـهَ حَقَّ قَدْرِهِ إِنَّ اللَّـهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ» ۱؎ [22-الحج:73-74] ‏‏‏‏ ’ لوگو! آؤ ایک لطیف مثال سنو، تم جنہیں پکار رہے ہو، یہ سارے ہی جمع ہو کر ایک مکھی بھی پیدا کرنا چاہیں تو ان کی طاقت سے خارج ہے۔ بلکہ ان کی کمزوری تو یہاں تک ہے کہ کوئی مکھی ان کی کسی چیز کو چھین لے جائے تو یہ اس سے واپس بھی نہیں کر سکتے، طلب کرنے والے اور جن سے طلب کی جا رہی ہے، بہت ہی بودے ہیں۔ ‘ تعجب ہے کہ اتنے کمزوروں کی عبادت کی جاتی ہے جو اپنا حق بھی ایک مکھی سے نہیں لے سکتے، وہ تمہاری روزیوں اور مدد پر کیسے قادر ہوں گے؟ خلیل اللہ علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ «قَالَ أَتَعْبُدُونَ مَا تَنْحِتُونَ» ۱؎ [37-الصافات:95] ‏‏‏‏ ’ کیا تم ان کی عبادت کرتے ہو جنہیں تم خود ہی گھڑتے اور بناتے ہو؟ ‘ وہ نہ تو اپنے پجاریوں کی مدد کر سکتے ہیں، نہ خود اپنی ہی کوئی مدد کر سکتے ہیں۔

یہاں تک کہ «فَجَعَلَهُمْ جُذَاذًا إِلَّا كَبِيرًا لَّهُمْ لَعَلَّهُمْ إِلَيْهِ يَرْجِعُونَ» ۱؎ [21-الأنبياء:58] ‏‏‏‏ ’ خلیل اللہ علیہ السلام نے انہیں توڑ توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ ‘ لیکن ان سے یہ نہ ہو سکا کہ اپنے آپ کو ان کے ہاتھ سے بچا لیتے۔ ہاتھ میں تبر لے کر سب کو چورا کر دیا اور ان معبودان باطل سے یہ بھی نہ ہو سکا کہ کسی طرح اپنا بچاؤ کر لیتے۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی سیدنا معاذ بن عمرو بن جموح اور سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما یہی کام کرتے تھے کہ رات کے وقت چپکے سے جا کر مشرکین کے بت توڑ آتے اور جو لکڑی کے ہوتے، انہیں توڑ کر بیوہ عورتوں کو دے دیتے کہ وہ اپنا ایندھن بنا لیں اور قوم کے بت پرست عبرت حاصل کریں۔ خود معاذ رضی اللہ عنہ کا باپ عمرو بن جموح بھی بت پرست تھا، یہ دونوں نوجوان دوست وہاں بھی پہنچتے اور اس بت کو پلیدی سے آلودہ کر آتے۔ جب یہ آتا تو اپنے معبود کو اس حالت میں دیکھ کر بہت پیچ و تاب کھاتا، پھر دھوتا، پھر اس پر خوشبو ملتا۔

ایک مرتبہ اس نے اس کے پاس تلوار رکھ دی اور کہا: دیکھ! آج تیرا دشمن آئے تو اس تلوار سے اس کا کام تمام کر دینا۔ یہ اس رات بھی پہنچے اور اس کی درگت کر کے پاخانے سے لیپ کر کے چلے آئے مگر تاہم اسے اثر نہ ہوا، صبح کو اسی طرح اس نے دھو دھا کر ٹھیک ٹھاک کر کے خوشبو لگا کر بیٹھا کر ڈنڈوت کی یعنی (‏‏‏‏اٹھک بیٹھک) کی۔ جب ان دونوں نے دیکھا کہ کسی طرح یہ نہیں مانتا تو ایک رات اس بت کو اٹھا لائے اور ایک کتے کا پلا جو مرا پڑا تھا، اس کے گلے میں باندھ دیا اور محلے کے ایک کنویں میں ڈال دیا۔ صبح اس نے اپنے بت کو نہ پا کر تلاش کیا تو کنویں میں اسے نظر آیا کہ کتے کے مردہ بچے کے ساتھ پڑا ہوا ہے، اب اسے بت سے اور بت پرستی سے نفرت ہو گئی۔ اور اس نے کہا: «تاللہ لو کنت الھا مستدن لم تک والکلب جمیعا فی قرن»

یعنی اگر تو سچ مچ معبود ہوتا تو کنوئیں میں کتے کے پلے کے ساتھ پڑا ہوا نہ ہوتا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور مشرف بہ اسلام ہو گئے، پھر تو اسلام میں پورے پکے ہو گئے۔ احد کی لڑائی میں شریک ہوئے اور کفار کو قتل کرتے ہوئے شہید ہو گئے ۱؎ [سیرة ابن هشام:354/1] ‏‏‏‏ «رضی اللہ عنہ وارضاہ وجعل جنت الفردوس ماوا» ۔ انہیں اگر بلایا جائے تو یہ قبول کرنا تو درکنار، سن بھی نہیں سکتے۔ محض پتھر ہیں، بےجان ہیں، بےآنکھ اور بےکان ہیں۔ جیسے کہ خلیل اللہ علیہ السلام نے فرمایا کہ ’ میرے والد! آپ ان کی عبادت کیوں کرتے ہیں، جو نہ سنیں، نہ دیکھیں، نہ تجھے کوئی نفع پہنچا سکیں، نہ تیرے کسی کام آ سکیں۔ ‘ ۱؎ [19-مريم:42] ‏‏‏‏ انہیں پکارنا اور نہ پکارنا دونوں برابر ہیں۔ یہ تو تم جیسے ہی بے بس اور اللہ کی مخلوق ہیں۔ بتاؤ تو کبھی انہوں نے تمہاری فریاد رسی کی ہے؟ یا کبھی تمہاری دعا کا جواب دیا ہے؟ حقیقت میں ان سے افضل و اعلیٰ تو تم خود ہو۔ تم سنتے، دیکھتے، چلتے پھرتے، بولتے چالتے ہو، یہ تو اتنا بھی نہیں کر سکتے۔ اچھا! تم ان سے میرا کچھ بگاڑنے کی درخواست کرو، میں اعلان کرتا ہوں کہ اگر ان سے ہو سکے تو بلاتامل اپنی پوری طاقت سے جو میرا بگاڑ سکتے ہوں، بگاڑ لیں۔ سنو! میں تو اللہ کو اپنا حمایتی اور مددگار سمجھتا ہوں، وہی میرا بچانے والا ہے اور وہ مجھے کافی وافی ہے۔ اسی پر میرا بھروسہ ہے، اسی سے میرا لگاؤ ہے۔

میں ہی نہیں، ہر نیک بندہ یہی کرتا ہے اور وہ بھی اپنے تمام سچے غلاموں کی نگہبانی اور حفاظت کرتا رہتا ہے اور کرتا رہے گا۔ میرے بعد بھی ان سب کا نگراں اور محافظ وہی ہے۔ ہود علیہ السلام سے آپ کی قوم نے کہا کہ ہمارا تو خیال ہے کہ تو جو ہمارے معبودوں پر ایمان نہیں رکھتا، اسی سبب سے انہوں نے تجھے ان مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ اس کے جواب میں اللہ کے پیغمبر نے فرمایا: سنو! تم کو اور اللہ کو گواہ کر کے علی الاعلان کہتا ہوں کہ میں اللہ کے سوا تمہارے تمام معبودوں سے بری اور بیزار اور ان سب کا دشمن ہوں، تم میرا کچھ بگاڑ سکتے ہو تو بگاڑ لو۔ تمہیں بھی قسم ہے جو ذرا سی کوتاہی کرو۔ میرا توکل اللہ کی ذات پر ہے۔ تمام جانداروں کی چوٹیاں اس کے ہاتھ ہیں، میرا رب ہی سچی راہ پر ہے۔ خلیل اللہ علیہ السلام نے بھی یہی فرمایا تھا کہ تم اور تمہارے بزرگ جن کی تم پرستش کرتے ہو، میں ان سب کا دشمن ہوں اور وہ مجھ سے دور ہیں۔ سوائے اس رب العالمین کے، جس نے مجھے پیدا کیا، وہی میری رہبری کی۔

آپ نے اپنے والد اور قوم سے بھی یہی فرمایا کہ «وَإِذْ قَالَ إِبْرَ‌اهِيمُ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ إِنَّنِي بَرَ‌اءٌ مِّمَّا تَعْبُدُونَ إِلَّا الَّذِي فَطَرَ‌نِي فَإِنَّهُ سَيَهْدِينِ وَجَعَلَهَا كَلِمَةً بَاقِيَةً فِي عَقِبِهِ لَعَلَّهُمْ يَرْ‌جِعُونَ» ۱؎ [43-الزخرف:26-28] ‏‏‏‏ ’ میں تمہارے معبودان باطل سے بری اور بیزار ہوں، سوائے اس سچے معبود کے جس نے مجھے پیدا کیا ہے، وہی میری رہبری کرے گا۔ ہم نے اسی کلمے کو اس کی نسل میں ہمیشہ کے لئے باقی رکھ دیا تاکہ لوگ اپنے باطل خیالات سے ہٹ جائیں۔ ‘ پہلے تو غائبانہ فرمایا تھا، پھر اور تاکید کے طور پر خطاب کر کے فرماتا ہے کہ جن جن کو اللہ کے سوا تم پکارتے ہو، وہ تمہاری امداد نہیں کر سکتے اور نہ وہ خود اپنا ہی کوئی نفع کر سکتے ہیں۔ یہ تو سن ہی نہیں سکتے، تجھے تو یہ آنکھوں والے دکھائی دیتے ہیں، لیکن دراصل ان کی اصلی آنکھیں ہی نہیں کہ کسی کو دیکھ سکیں۔ جیسے فرمان ہے کہ اگر تم انہیں پکارو تو وہ سنتے نہیں چونکہ وہ تصاویر اور بت ہیں، ان کی مصنوعی آنکھیں ہیں، محسوس تو یہ ہوتا ہے کہ وہ دیکھ رہے ہیں لیکن دراصل دیکھ نہیں رہے چونکہ وہ پتھر بصورت انسان ہیں، اس لیے ضمیر بھی ذی العقول کی لائے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد کفار ہیں لیکن اول ہی اولیٰ ہے، یہی امام ابن جریر اور قتادہ رحمۃ اللہ علیہم کا قول ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَ اِنۡ تَدۡعُوۡہُمۡ اِلَی الۡہُدٰی لَا یَتَّبِعُوۡکُمۡ ؕ سَوَآءٌ عَلَیۡکُمۡ اَدَعَوۡتُمُوۡہُمۡ اَمۡ اَنۡتُمۡ صَامِتُوۡنَ ﴿۱۹۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کی دعوت دو تو وہ تمہارے پیچھے نہ آئیں، تم خواہ انہیں پکارو یا خاموش رہو، دونوں صورتوں میں تمہارے لیے یکساں ہی رہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اگر تم ان کو کوئی بات بتلانے کو پکارو تو تمہارے کہنے پر نہ چلیں تمہارے اعتبار سے دونوں امر برابر ہیں خواه تم ان کو پکارو یا تم خاموش رہو
احمد رضا خان بریلوی
اور اگر تم انہیں راہ کی طرف بلاؤ تو تمہارے پیچھے نہ آئیں تم پر ایک سا ہے چاہے انہیں پکارو یا چپ رہو
علامہ محمد حسین نجفی
اور اگر تم ان کو سیدھے راستہ کی طرف بلاؤ تو وہ تمہارے پیچھے قدم نہیں اٹھا سکتے۔ تمہارے لئے برابر ہے کہ ان کو بلاؤ یا خاموش رہو (دونوں باتوں کا نتیجہ ایک ہی ہے)۔
عبدالسلام بن محمد
اور اگر تم انھیں سیدھے راستے کی طرف بلاؤ تو وہ تمھارے پیچھے نہیں آئیں گے، تم پر برابر ہے کہ تم نے انھیں بلایا ہو، یا تم خاموش ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انسان کا المیہ خود ساز خدا اور اللہ سے دوری ہے ٭٭

جو لوگ اللہ کے سوا اوروں کو پوجتے ہیں، وہ سب اللہ کے ہی بنائے ہوئے ہیں، وہی ان کا پالنے والا ہے۔ وہ بالکل بے اختیار ہیں، کسی نفع نقصان کا انہیں اختیار نہیں، وہ اپنے پجاریوں کو کوئی نفع نہیں پہنچا سکتے بلکہ وہ تو ہل جل بھی نہیں سکتے، دیکھ اور سن بھی نہیں سکتے۔ ان بتوں سے تو ان کے پجاری ہی توانا، تندرست اور اچھے ہیں کہ ان کی آنکھیں بھی ہیں، کان بھی ہیں۔ یہ بےوقوف تو انہیں پوجتے ہیں جنہوں نے ساری مخلوق میں سے ایک چیز کو بھی پیدا نہیں کیا بلکہ وہ خود اللہ تعالیٰ کے پیدا کئے ہوئے ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے کہ «يَا أَيُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوا لَهُ إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ لَن يَخْلُقُوا ذُبَابًا وَلَوِ اجْتَمَعُوا لَهُ وَإِن يَسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَيْئًا لَّا يَسْتَنقِذُوهُ مِنْهُ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوبُ مَا قَدَرُوا اللَّـهَ حَقَّ قَدْرِهِ إِنَّ اللَّـهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ» ۱؎ [22-الحج:73-74] ‏‏‏‏ ’ لوگو! آؤ ایک لطیف مثال سنو، تم جنہیں پکار رہے ہو، یہ سارے ہی جمع ہو کر ایک مکھی بھی پیدا کرنا چاہیں تو ان کی طاقت سے خارج ہے۔ بلکہ ان کی کمزوری تو یہاں تک ہے کہ کوئی مکھی ان کی کسی چیز کو چھین لے جائے تو یہ اس سے واپس بھی نہیں کر سکتے، طلب کرنے والے اور جن سے طلب کی جا رہی ہے، بہت ہی بودے ہیں۔ ‘ تعجب ہے کہ اتنے کمزوروں کی عبادت کی جاتی ہے جو اپنا حق بھی ایک مکھی سے نہیں لے سکتے، وہ تمہاری روزیوں اور مدد پر کیسے قادر ہوں گے؟ خلیل اللہ علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ «قَالَ أَتَعْبُدُونَ مَا تَنْحِتُونَ» ۱؎ [37-الصافات:95] ‏‏‏‏ ’ کیا تم ان کی عبادت کرتے ہو جنہیں تم خود ہی گھڑتے اور بناتے ہو؟ ‘ وہ نہ تو اپنے پجاریوں کی مدد کر سکتے ہیں، نہ خود اپنی ہی کوئی مدد کر سکتے ہیں۔

یہاں تک کہ «فَجَعَلَهُمْ جُذَاذًا إِلَّا كَبِيرًا لَّهُمْ لَعَلَّهُمْ إِلَيْهِ يَرْجِعُونَ» ۱؎ [21-الأنبياء:58] ‏‏‏‏ ’ خلیل اللہ علیہ السلام نے انہیں توڑ توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ ‘ لیکن ان سے یہ نہ ہو سکا کہ اپنے آپ کو ان کے ہاتھ سے بچا لیتے۔ ہاتھ میں تبر لے کر سب کو چورا کر دیا اور ان معبودان باطل سے یہ بھی نہ ہو سکا کہ کسی طرح اپنا بچاؤ کر لیتے۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی سیدنا معاذ بن عمرو بن جموح اور سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما یہی کام کرتے تھے کہ رات کے وقت چپکے سے جا کر مشرکین کے بت توڑ آتے اور جو لکڑی کے ہوتے، انہیں توڑ کر بیوہ عورتوں کو دے دیتے کہ وہ اپنا ایندھن بنا لیں اور قوم کے بت پرست عبرت حاصل کریں۔ خود معاذ رضی اللہ عنہ کا باپ عمرو بن جموح بھی بت پرست تھا، یہ دونوں نوجوان دوست وہاں بھی پہنچتے اور اس بت کو پلیدی سے آلودہ کر آتے۔ جب یہ آتا تو اپنے معبود کو اس حالت میں دیکھ کر بہت پیچ و تاب کھاتا، پھر دھوتا، پھر اس پر خوشبو ملتا۔

ایک مرتبہ اس نے اس کے پاس تلوار رکھ دی اور کہا: دیکھ! آج تیرا دشمن آئے تو اس تلوار سے اس کا کام تمام کر دینا۔ یہ اس رات بھی پہنچے اور اس کی درگت کر کے پاخانے سے لیپ کر کے چلے آئے مگر تاہم اسے اثر نہ ہوا، صبح کو اسی طرح اس نے دھو دھا کر ٹھیک ٹھاک کر کے خوشبو لگا کر بیٹھا کر ڈنڈوت کی یعنی (‏‏‏‏اٹھک بیٹھک) کی۔ جب ان دونوں نے دیکھا کہ کسی طرح یہ نہیں مانتا تو ایک رات اس بت کو اٹھا لائے اور ایک کتے کا پلا جو مرا پڑا تھا، اس کے گلے میں باندھ دیا اور محلے کے ایک کنویں میں ڈال دیا۔ صبح اس نے اپنے بت کو نہ پا کر تلاش کیا تو کنویں میں اسے نظر آیا کہ کتے کے مردہ بچے کے ساتھ پڑا ہوا ہے، اب اسے بت سے اور بت پرستی سے نفرت ہو گئی۔ اور اس نے کہا: «تاللہ لو کنت الھا مستدن لم تک والکلب جمیعا فی قرن»

یعنی اگر تو سچ مچ معبود ہوتا تو کنوئیں میں کتے کے پلے کے ساتھ پڑا ہوا نہ ہوتا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور مشرف بہ اسلام ہو گئے، پھر تو اسلام میں پورے پکے ہو گئے۔ احد کی لڑائی میں شریک ہوئے اور کفار کو قتل کرتے ہوئے شہید ہو گئے ۱؎ [سیرة ابن هشام:354/1] ‏‏‏‏ «رضی اللہ عنہ وارضاہ وجعل جنت الفردوس ماوا» ۔ انہیں اگر بلایا جائے تو یہ قبول کرنا تو درکنار، سن بھی نہیں سکتے۔ محض پتھر ہیں، بےجان ہیں، بےآنکھ اور بےکان ہیں۔ جیسے کہ خلیل اللہ علیہ السلام نے فرمایا کہ ’ میرے والد! آپ ان کی عبادت کیوں کرتے ہیں، جو نہ سنیں، نہ دیکھیں، نہ تجھے کوئی نفع پہنچا سکیں، نہ تیرے کسی کام آ سکیں۔ ‘ ۱؎ [19-مريم:42] ‏‏‏‏ انہیں پکارنا اور نہ پکارنا دونوں برابر ہیں۔ یہ تو تم جیسے ہی بے بس اور اللہ کی مخلوق ہیں۔ بتاؤ تو کبھی انہوں نے تمہاری فریاد رسی کی ہے؟ یا کبھی تمہاری دعا کا جواب دیا ہے؟ حقیقت میں ان سے افضل و اعلیٰ تو تم خود ہو۔ تم سنتے، دیکھتے، چلتے پھرتے، بولتے چالتے ہو، یہ تو اتنا بھی نہیں کر سکتے۔ اچھا! تم ان سے میرا کچھ بگاڑنے کی درخواست کرو، میں اعلان کرتا ہوں کہ اگر ان سے ہو سکے تو بلاتامل اپنی پوری طاقت سے جو میرا بگاڑ سکتے ہوں، بگاڑ لیں۔ سنو! میں تو اللہ کو اپنا حمایتی اور مددگار سمجھتا ہوں، وہی میرا بچانے والا ہے اور وہ مجھے کافی وافی ہے۔ اسی پر میرا بھروسہ ہے، اسی سے میرا لگاؤ ہے۔

میں ہی نہیں، ہر نیک بندہ یہی کرتا ہے اور وہ بھی اپنے تمام سچے غلاموں کی نگہبانی اور حفاظت کرتا رہتا ہے اور کرتا رہے گا۔ میرے بعد بھی ان سب کا نگراں اور محافظ وہی ہے۔ ہود علیہ السلام سے آپ کی قوم نے کہا کہ ہمارا تو خیال ہے کہ تو جو ہمارے معبودوں پر ایمان نہیں رکھتا، اسی سبب سے انہوں نے تجھے ان مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ اس کے جواب میں اللہ کے پیغمبر نے فرمایا: سنو! تم کو اور اللہ کو گواہ کر کے علی الاعلان کہتا ہوں کہ میں اللہ کے سوا تمہارے تمام معبودوں سے بری اور بیزار اور ان سب کا دشمن ہوں، تم میرا کچھ بگاڑ سکتے ہو تو بگاڑ لو۔ تمہیں بھی قسم ہے جو ذرا سی کوتاہی کرو۔ میرا توکل اللہ کی ذات پر ہے۔ تمام جانداروں کی چوٹیاں اس کے ہاتھ ہیں، میرا رب ہی سچی راہ پر ہے۔ خلیل اللہ علیہ السلام نے بھی یہی فرمایا تھا کہ تم اور تمہارے بزرگ جن کی تم پرستش کرتے ہو، میں ان سب کا دشمن ہوں اور وہ مجھ سے دور ہیں۔ سوائے اس رب العالمین کے، جس نے مجھے پیدا کیا، وہی میری رہبری کی۔

آپ نے اپنے والد اور قوم سے بھی یہی فرمایا کہ «وَإِذْ قَالَ إِبْرَ‌اهِيمُ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ إِنَّنِي بَرَ‌اءٌ مِّمَّا تَعْبُدُونَ إِلَّا الَّذِي فَطَرَ‌نِي فَإِنَّهُ سَيَهْدِينِ وَجَعَلَهَا كَلِمَةً بَاقِيَةً فِي عَقِبِهِ لَعَلَّهُمْ يَرْ‌جِعُونَ» ۱؎ [43-الزخرف:26-28] ‏‏‏‏ ’ میں تمہارے معبودان باطل سے بری اور بیزار ہوں، سوائے اس سچے معبود کے جس نے مجھے پیدا کیا ہے، وہی میری رہبری کرے گا۔ ہم نے اسی کلمے کو اس کی نسل میں ہمیشہ کے لئے باقی رکھ دیا تاکہ لوگ اپنے باطل خیالات سے ہٹ جائیں۔ ‘ پہلے تو غائبانہ فرمایا تھا، پھر اور تاکید کے طور پر خطاب کر کے فرماتا ہے کہ جن جن کو اللہ کے سوا تم پکارتے ہو، وہ تمہاری امداد نہیں کر سکتے اور نہ وہ خود اپنا ہی کوئی نفع کر سکتے ہیں۔ یہ تو سن ہی نہیں سکتے، تجھے تو یہ آنکھوں والے دکھائی دیتے ہیں، لیکن دراصل ان کی اصلی آنکھیں ہی نہیں کہ کسی کو دیکھ سکیں۔ جیسے فرمان ہے کہ اگر تم انہیں پکارو تو وہ سنتے نہیں چونکہ وہ تصاویر اور بت ہیں، ان کی مصنوعی آنکھیں ہیں، محسوس تو یہ ہوتا ہے کہ وہ دیکھ رہے ہیں لیکن دراصل دیکھ نہیں رہے چونکہ وہ پتھر بصورت انسان ہیں، اس لیے ضمیر بھی ذی العقول کی لائے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد کفار ہیں لیکن اول ہی اولیٰ ہے، یہی امام ابن جریر اور قتادہ رحمۃ اللہ علیہم کا قول ہے۔
193۔ 1 یعنی تمہاری بتلائی ہوئی بات پر عمل نہیں کریں گے۔ ایک دوسرا مفہوم یہ ہے اگر تم ان سے رشدو ہدایت طلب کرو تو وہ تمہاری بات نہیں مانیں گے۔ نہ تمہیں کوئی جواب دیں گے (فتح القدیر)
(آیت 193) {وَ اِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَتَّبِعُوْكُمْ …:} اوپر کی آیات میں بتوں سے ہر قسم کی قدرت کی نفی تھی، اب ان سے ہر طرح کے علم کی نفی کی گئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ بت، جن کی یہ پوجا کر رہے ہیں، ان میں نہ تو نفع و نقصان پہنچانے کی قدرت ہے، نہ سننے یا دیکھنے یا کسی اور طرح سے تمھاری حالت سے باخبر ہونے کی۔ [ديكهيے مريم: ۴۲] پھر تم کتنے احمق ہو کہ ان سے امید رکھتے ہو کہ تمھیں سیدھے راستے پر لگائیں گے، یا تم انھیں سیدھے راستے پر چلنے کی دعوت دو گے تو تمھارے پیچھے چلے آئیں گے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ نہ تم ان کے لیے کسی کام کے ہو نہ وہ تمھارے لیے۔
اِنَّ الَّذِیۡنَ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ عِبَادٌ اَمۡثَالُکُمۡ فَادۡعُوۡہُمۡ فَلۡیَسۡتَجِیۡبُوۡا لَکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۱۹۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تم لوگ خدا کو چھوڑ کر جنہیں پکارتے ہو وہ تو محض بندے ہیں جیسے تم بندے ہو ان سے دعائیں مانگ دیکھو، یہ تمہاری دعاؤں کا جواب دیں اگر ان کے بارے میں تمہارے خیالات صحیح ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
واقعی تم اللہ کو چھوڑ کر جن کی عبادت کرتے ہو وه بھی تم ہی جیسے بندے ہیں سو تم ان کو پکارو پھر ان کو چاہئے کہ تمہارا کہنا کر دیں اگر تم سچے ہو
احمد رضا خان بریلوی
بیشک وہ جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو تمہاری طرح بندے ہیں تو انہیں پکارو پھر وہ تمہیں جواب دیں اگر تم سچے ہو،
علامہ محمد حسین نجفی
(اے کافرو) یقینا وہ جنہیں تم اللہ کو چھوڑ کر (اور خدا سمجھ کر) پکارتے ہو وہ تمہاری ہی طرح (خدا کے) بندے ہیں۔ اگر تم اس دعویٰ میں سچے ہو (کہ ان میں مافوقِ بشریت طاقتیں ہیں) تو انہیں پکارو۔ پھر تو انہیں چاہیے کہ تمہاری دعا و پکار کا جواب دیں۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک جنھیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ تمھارے جیسے بندے ہیں، پس انھیں پکارو تو لازم ہے کہ وہ تمھاری دعا قبول کریں، اگر تم سچے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انسان کا المیہ خود ساز خدا اور اللہ سے دوری ہے ٭٭

جو لوگ اللہ کے سوا اوروں کو پوجتے ہیں، وہ سب اللہ کے ہی بنائے ہوئے ہیں، وہی ان کا پالنے والا ہے۔ وہ بالکل بے اختیار ہیں، کسی نفع نقصان کا انہیں اختیار نہیں، وہ اپنے پجاریوں کو کوئی نفع نہیں پہنچا سکتے بلکہ وہ تو ہل جل بھی نہیں سکتے، دیکھ اور سن بھی نہیں سکتے۔ ان بتوں سے تو ان کے پجاری ہی توانا، تندرست اور اچھے ہیں کہ ان کی آنکھیں بھی ہیں، کان بھی ہیں۔ یہ بےوقوف تو انہیں پوجتے ہیں جنہوں نے ساری مخلوق میں سے ایک چیز کو بھی پیدا نہیں کیا بلکہ وہ خود اللہ تعالیٰ کے پیدا کئے ہوئے ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے کہ «يَا أَيُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوا لَهُ إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ لَن يَخْلُقُوا ذُبَابًا وَلَوِ اجْتَمَعُوا لَهُ وَإِن يَسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَيْئًا لَّا يَسْتَنقِذُوهُ مِنْهُ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوبُ مَا قَدَرُوا اللَّـهَ حَقَّ قَدْرِهِ إِنَّ اللَّـهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ» ۱؎ [22-الحج:73-74] ‏‏‏‏ ’ لوگو! آؤ ایک لطیف مثال سنو، تم جنہیں پکار رہے ہو، یہ سارے ہی جمع ہو کر ایک مکھی بھی پیدا کرنا چاہیں تو ان کی طاقت سے خارج ہے۔ بلکہ ان کی کمزوری تو یہاں تک ہے کہ کوئی مکھی ان کی کسی چیز کو چھین لے جائے تو یہ اس سے واپس بھی نہیں کر سکتے، طلب کرنے والے اور جن سے طلب کی جا رہی ہے، بہت ہی بودے ہیں۔ ‘ تعجب ہے کہ اتنے کمزوروں کی عبادت کی جاتی ہے جو اپنا حق بھی ایک مکھی سے نہیں لے سکتے، وہ تمہاری روزیوں اور مدد پر کیسے قادر ہوں گے؟ خلیل اللہ علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ «قَالَ أَتَعْبُدُونَ مَا تَنْحِتُونَ» ۱؎ [37-الصافات:95] ‏‏‏‏ ’ کیا تم ان کی عبادت کرتے ہو جنہیں تم خود ہی گھڑتے اور بناتے ہو؟ ‘ وہ نہ تو اپنے پجاریوں کی مدد کر سکتے ہیں، نہ خود اپنی ہی کوئی مدد کر سکتے ہیں۔

یہاں تک کہ «فَجَعَلَهُمْ جُذَاذًا إِلَّا كَبِيرًا لَّهُمْ لَعَلَّهُمْ إِلَيْهِ يَرْجِعُونَ» ۱؎ [21-الأنبياء:58] ‏‏‏‏ ’ خلیل اللہ علیہ السلام نے انہیں توڑ توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ ‘ لیکن ان سے یہ نہ ہو سکا کہ اپنے آپ کو ان کے ہاتھ سے بچا لیتے۔ ہاتھ میں تبر لے کر سب کو چورا کر دیا اور ان معبودان باطل سے یہ بھی نہ ہو سکا کہ کسی طرح اپنا بچاؤ کر لیتے۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی سیدنا معاذ بن عمرو بن جموح اور سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما یہی کام کرتے تھے کہ رات کے وقت چپکے سے جا کر مشرکین کے بت توڑ آتے اور جو لکڑی کے ہوتے، انہیں توڑ کر بیوہ عورتوں کو دے دیتے کہ وہ اپنا ایندھن بنا لیں اور قوم کے بت پرست عبرت حاصل کریں۔ خود معاذ رضی اللہ عنہ کا باپ عمرو بن جموح بھی بت پرست تھا، یہ دونوں نوجوان دوست وہاں بھی پہنچتے اور اس بت کو پلیدی سے آلودہ کر آتے۔ جب یہ آتا تو اپنے معبود کو اس حالت میں دیکھ کر بہت پیچ و تاب کھاتا، پھر دھوتا، پھر اس پر خوشبو ملتا۔

ایک مرتبہ اس نے اس کے پاس تلوار رکھ دی اور کہا: دیکھ! آج تیرا دشمن آئے تو اس تلوار سے اس کا کام تمام کر دینا۔ یہ اس رات بھی پہنچے اور اس کی درگت کر کے پاخانے سے لیپ کر کے چلے آئے مگر تاہم اسے اثر نہ ہوا، صبح کو اسی طرح اس نے دھو دھا کر ٹھیک ٹھاک کر کے خوشبو لگا کر بیٹھا کر ڈنڈوت کی یعنی (‏‏‏‏اٹھک بیٹھک) کی۔ جب ان دونوں نے دیکھا کہ کسی طرح یہ نہیں مانتا تو ایک رات اس بت کو اٹھا لائے اور ایک کتے کا پلا جو مرا پڑا تھا، اس کے گلے میں باندھ دیا اور محلے کے ایک کنویں میں ڈال دیا۔ صبح اس نے اپنے بت کو نہ پا کر تلاش کیا تو کنویں میں اسے نظر آیا کہ کتے کے مردہ بچے کے ساتھ پڑا ہوا ہے، اب اسے بت سے اور بت پرستی سے نفرت ہو گئی۔ اور اس نے کہا: «تاللہ لو کنت الھا مستدن لم تک والکلب جمیعا فی قرن»

یعنی اگر تو سچ مچ معبود ہوتا تو کنوئیں میں کتے کے پلے کے ساتھ پڑا ہوا نہ ہوتا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور مشرف بہ اسلام ہو گئے، پھر تو اسلام میں پورے پکے ہو گئے۔ احد کی لڑائی میں شریک ہوئے اور کفار کو قتل کرتے ہوئے شہید ہو گئے ۱؎ [سیرة ابن هشام:354/1] ‏‏‏‏ «رضی اللہ عنہ وارضاہ وجعل جنت الفردوس ماوا» ۔ انہیں اگر بلایا جائے تو یہ قبول کرنا تو درکنار، سن بھی نہیں سکتے۔ محض پتھر ہیں، بےجان ہیں، بےآنکھ اور بےکان ہیں۔ جیسے کہ خلیل اللہ علیہ السلام نے فرمایا کہ ’ میرے والد! آپ ان کی عبادت کیوں کرتے ہیں، جو نہ سنیں، نہ دیکھیں، نہ تجھے کوئی نفع پہنچا سکیں، نہ تیرے کسی کام آ سکیں۔ ‘ ۱؎ [19-مريم:42] ‏‏‏‏ انہیں پکارنا اور نہ پکارنا دونوں برابر ہیں۔ یہ تو تم جیسے ہی بے بس اور اللہ کی مخلوق ہیں۔ بتاؤ تو کبھی انہوں نے تمہاری فریاد رسی کی ہے؟ یا کبھی تمہاری دعا کا جواب دیا ہے؟ حقیقت میں ان سے افضل و اعلیٰ تو تم خود ہو۔ تم سنتے، دیکھتے، چلتے پھرتے، بولتے چالتے ہو، یہ تو اتنا بھی نہیں کر سکتے۔ اچھا! تم ان سے میرا کچھ بگاڑنے کی درخواست کرو، میں اعلان کرتا ہوں کہ اگر ان سے ہو سکے تو بلاتامل اپنی پوری طاقت سے جو میرا بگاڑ سکتے ہوں، بگاڑ لیں۔ سنو! میں تو اللہ کو اپنا حمایتی اور مددگار سمجھتا ہوں، وہی میرا بچانے والا ہے اور وہ مجھے کافی وافی ہے۔ اسی پر میرا بھروسہ ہے، اسی سے میرا لگاؤ ہے۔

میں ہی نہیں، ہر نیک بندہ یہی کرتا ہے اور وہ بھی اپنے تمام سچے غلاموں کی نگہبانی اور حفاظت کرتا رہتا ہے اور کرتا رہے گا۔ میرے بعد بھی ان سب کا نگراں اور محافظ وہی ہے۔ ہود علیہ السلام سے آپ کی قوم نے کہا کہ ہمارا تو خیال ہے کہ تو جو ہمارے معبودوں پر ایمان نہیں رکھتا، اسی سبب سے انہوں نے تجھے ان مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ اس کے جواب میں اللہ کے پیغمبر نے فرمایا: سنو! تم کو اور اللہ کو گواہ کر کے علی الاعلان کہتا ہوں کہ میں اللہ کے سوا تمہارے تمام معبودوں سے بری اور بیزار اور ان سب کا دشمن ہوں، تم میرا کچھ بگاڑ سکتے ہو تو بگاڑ لو۔ تمہیں بھی قسم ہے جو ذرا سی کوتاہی کرو۔ میرا توکل اللہ کی ذات پر ہے۔ تمام جانداروں کی چوٹیاں اس کے ہاتھ ہیں، میرا رب ہی سچی راہ پر ہے۔ خلیل اللہ علیہ السلام نے بھی یہی فرمایا تھا کہ تم اور تمہارے بزرگ جن کی تم پرستش کرتے ہو، میں ان سب کا دشمن ہوں اور وہ مجھ سے دور ہیں۔ سوائے اس رب العالمین کے، جس نے مجھے پیدا کیا، وہی میری رہبری کی۔

آپ نے اپنے والد اور قوم سے بھی یہی فرمایا کہ «وَإِذْ قَالَ إِبْرَ‌اهِيمُ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ إِنَّنِي بَرَ‌اءٌ مِّمَّا تَعْبُدُونَ إِلَّا الَّذِي فَطَرَ‌نِي فَإِنَّهُ سَيَهْدِينِ وَجَعَلَهَا كَلِمَةً بَاقِيَةً فِي عَقِبِهِ لَعَلَّهُمْ يَرْ‌جِعُونَ» ۱؎ [43-الزخرف:26-28] ‏‏‏‏ ’ میں تمہارے معبودان باطل سے بری اور بیزار ہوں، سوائے اس سچے معبود کے جس نے مجھے پیدا کیا ہے، وہی میری رہبری کرے گا۔ ہم نے اسی کلمے کو اس کی نسل میں ہمیشہ کے لئے باقی رکھ دیا تاکہ لوگ اپنے باطل خیالات سے ہٹ جائیں۔ ‘ پہلے تو غائبانہ فرمایا تھا، پھر اور تاکید کے طور پر خطاب کر کے فرماتا ہے کہ جن جن کو اللہ کے سوا تم پکارتے ہو، وہ تمہاری امداد نہیں کر سکتے اور نہ وہ خود اپنا ہی کوئی نفع کر سکتے ہیں۔ یہ تو سن ہی نہیں سکتے، تجھے تو یہ آنکھوں والے دکھائی دیتے ہیں، لیکن دراصل ان کی اصلی آنکھیں ہی نہیں کہ کسی کو دیکھ سکیں۔ جیسے فرمان ہے کہ اگر تم انہیں پکارو تو وہ سنتے نہیں چونکہ وہ تصاویر اور بت ہیں، ان کی مصنوعی آنکھیں ہیں، محسوس تو یہ ہوتا ہے کہ وہ دیکھ رہے ہیں لیکن دراصل دیکھ نہیں رہے چونکہ وہ پتھر بصورت انسان ہیں، اس لیے ضمیر بھی ذی العقول کی لائے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد کفار ہیں لیکن اول ہی اولیٰ ہے، یہی امام ابن جریر اور قتادہ رحمۃ اللہ علیہم کا قول ہے۔
194۔ 1 یعنی جب وہ زندہ تھے، بلکہ اب تو تم خود ان سے زیادہ کامل ہو، اب وہ دیکھ نہیں سکتے، تم دیکھتے ہو، وہ سن نہیں سکتے، تم سنتے ہو۔ وہ کسی بات کو سمجھ نہیں سکتے، تم سمجھتے ہو، وہ جواب نہیں دے سکتے، تم دیتے ہو اس سے معلوم ہوا کہ مشرکین، جن کی مورتیاں بنا کر پوجتے تھے، وہ بھی پہلے اللہ کے بندے یعنی انسان ہی تھے جیسے حضرت نوح ؑ کی قوم پانچ بتوں کی بابت عقیدہ رکھتی تھی جیسا کہ صحیح بخاری میں صراحتا موجود ہے کہ وہ اللہ کے نیک بندے تھے۔
(آیت 194) {اِنَّ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمْثَالُكُمْ …:} بت پرستوں نے اللہ کے نبیوں اور نیک لوگوں کے مجسمے ہی بت بنا کر رکھے ہوئے تھے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ نوح (۲۳) اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ بتوں کی صورت میں تمھارے یہ معبود جنھیں تم پکارتے ہو، تمھارے جیسے بندے ہی ہیں۔ یہ الفاظ بھی دلیل ہیں کہ وہ لوگ صرف پتھروں کو نہیں بلکہ بتوں کی صورت میں بزرگوں کو پوجتے اور پکارتے تھے، کیونکہ پتھروں کو تمھارے جیسے بندے نہیں کہا جا سکتا۔ بزرگ خواہ بت کی صورت میں ہوں، خواہ پختہ قبر میں مدفون ہوں، بات ایک ہی ہے کہ تمھاری طرح عبد ہیں، معبود نہیں، یعنی تمھارے عقیدے کے مطابق اگر ان میں عقل و فہم مان بھی لیں، یا ان کے زندہ ہونے کے وقت کو سامنے رکھ لیں تو زیادہ سے زیادہ ان کا تمھارے جیسا بندہ ہونا ثابت ہو سکتا ہے، عبادت کے لائق ہونا نہیں، مگر یہ تو تمھاری طرح کے جاندار بھی نہیں، جیسا کہ بعد کی آیت میں {” اَمْثَالُكُمْ “} (تمھارے جیسے) ہونے کی بھی نفی کر دی ہے۔ فرمایا انھیں پکارو کہ تمھاری دعاؤں کو قبول اور تمھاری مرادوں کو پورا کریں۔ یہ بات مشرکوں کو لاجواب کرنے کے لیے فرمائی۔
اَلَہُمۡ اَرۡجُلٌ یَّمۡشُوۡنَ بِہَاۤ ۫ اَمۡ لَہُمۡ اَیۡدٍ یَّبۡطِشُوۡنَ بِہَاۤ ۫ اَمۡ لَہُمۡ اَعۡیُنٌ یُّبۡصِرُوۡنَ بِہَاۤ ۫ اَمۡ لَہُمۡ اٰذَانٌ یَّسۡمَعُوۡنَ بِہَا ؕ قُلِ ادۡعُوۡا شُرَکَآءَکُمۡ ثُمَّ کِیۡدُوۡنِ فَلَا تُنۡظِرُوۡنِ ﴿۱۹۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کیا یہ پاؤں رکھتے ہیں کہ ان سے چلیں؟ کیا یہ ہاتھ رکھتے ہیں کہ ان سے پکڑیں؟ کیا یہ آنکھیں رکھتے ہیں کہ ان سے دیکھیں؟ کیا یہ کان رکھتے ہیں کہ ان سے سنیں؟ اے محمدؐ، ان سے کہو کہ "بلا لو اپنے ٹھیرائے ہوئے شریکوں کو پھر تم سب مل کر میرے خلاف تدبیریں کرو اور مجھے ہرگز مہلت نہ دو
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا ان کے پاؤں ہیں جن سے وه چلتے ہوں یا ان کے ہاتھ ہیں جن سے وه کسی چیز کو تھام سکیں، یا ان کی آنکھیں ہیں جن سے وه دیکھتے ہوں، یا ان کے کان ہیں جن سے وه سنتے ہیں آپ کہہ دیجئے! تم اپنے سب شرکا کو بلا لو، پھر میری ضرر رسانی کی تدبیر کرو پھر مجھ کو ذرا مہلت مت دو
احمد رضا خان بریلوی
کیا ان کے پاؤں ہیں جن سے چلیں یا ان کے ہاتھ ہیں جن سے گرفت کریں یا ان کے آنکھیں ہیں جن سے دیکھیں یا ان کے کان ہیں جن سے سنیں تم فرماؤ کہ اپنے شریکوں کو پکارو اور مجھ پر داؤ چلو اور مجھے مہلت نہ دو
علامہ محمد حسین نجفی
آیا ان (بتوں) کے پاؤں ہیں کہ جن سے وہ چلتے ہوں آیا ان کے ہاتھ ہیں جن سے وہ پکڑتے ہوں کیا ان کی آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے ہوں اور کیا ان کے کان ہیں جن سے وہ سنتے ہوں۔ (اے پیغمبر(ص)) کہو کہ تم اپنے تمام شریکوں کو پکارو۔ پھر میرے خلاف سب تدبیریں کرو اور مجھے بالکل مہلت نہ دو۔
عبدالسلام بن محمد
کیا ان کے پائوں ہیں جن سے وہ چلتے ہیں، یا ان کے ہاتھ ہیں جن سے وہ پکڑتے ہیں، یا ان کی آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے ہیں، یا ان کے کان ہیں جن سے وہ سنتے ہیں؟ کہہ دے تم اپنے شریکوں کو بلا لو، پھر میرے خلاف تدبیر کرو، پس مجھے مہلت نہ دو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انسان کا المیہ خود ساز خدا اور اللہ سے دوری ہے ٭٭

جو لوگ اللہ کے سوا اوروں کو پوجتے ہیں، وہ سب اللہ کے ہی بنائے ہوئے ہیں، وہی ان کا پالنے والا ہے۔ وہ بالکل بے اختیار ہیں، کسی نفع نقصان کا انہیں اختیار نہیں، وہ اپنے پجاریوں کو کوئی نفع نہیں پہنچا سکتے بلکہ وہ تو ہل جل بھی نہیں سکتے، دیکھ اور سن بھی نہیں سکتے۔ ان بتوں سے تو ان کے پجاری ہی توانا، تندرست اور اچھے ہیں کہ ان کی آنکھیں بھی ہیں، کان بھی ہیں۔ یہ بےوقوف تو انہیں پوجتے ہیں جنہوں نے ساری مخلوق میں سے ایک چیز کو بھی پیدا نہیں کیا بلکہ وہ خود اللہ تعالیٰ کے پیدا کئے ہوئے ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے کہ «يَا أَيُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوا لَهُ إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ لَن يَخْلُقُوا ذُبَابًا وَلَوِ اجْتَمَعُوا لَهُ وَإِن يَسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَيْئًا لَّا يَسْتَنقِذُوهُ مِنْهُ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوبُ مَا قَدَرُوا اللَّـهَ حَقَّ قَدْرِهِ إِنَّ اللَّـهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ» ۱؎ [22-الحج:73-74] ‏‏‏‏ ’ لوگو! آؤ ایک لطیف مثال سنو، تم جنہیں پکار رہے ہو، یہ سارے ہی جمع ہو کر ایک مکھی بھی پیدا کرنا چاہیں تو ان کی طاقت سے خارج ہے۔ بلکہ ان کی کمزوری تو یہاں تک ہے کہ کوئی مکھی ان کی کسی چیز کو چھین لے جائے تو یہ اس سے واپس بھی نہیں کر سکتے، طلب کرنے والے اور جن سے طلب کی جا رہی ہے، بہت ہی بودے ہیں۔ ‘ تعجب ہے کہ اتنے کمزوروں کی عبادت کی جاتی ہے جو اپنا حق بھی ایک مکھی سے نہیں لے سکتے، وہ تمہاری روزیوں اور مدد پر کیسے قادر ہوں گے؟ خلیل اللہ علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ «قَالَ أَتَعْبُدُونَ مَا تَنْحِتُونَ» ۱؎ [37-الصافات:95] ‏‏‏‏ ’ کیا تم ان کی عبادت کرتے ہو جنہیں تم خود ہی گھڑتے اور بناتے ہو؟ ‘ وہ نہ تو اپنے پجاریوں کی مدد کر سکتے ہیں، نہ خود اپنی ہی کوئی مدد کر سکتے ہیں۔

یہاں تک کہ «فَجَعَلَهُمْ جُذَاذًا إِلَّا كَبِيرًا لَّهُمْ لَعَلَّهُمْ إِلَيْهِ يَرْجِعُونَ» ۱؎ [21-الأنبياء:58] ‏‏‏‏ ’ خلیل اللہ علیہ السلام نے انہیں توڑ توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ ‘ لیکن ان سے یہ نہ ہو سکا کہ اپنے آپ کو ان کے ہاتھ سے بچا لیتے۔ ہاتھ میں تبر لے کر سب کو چورا کر دیا اور ان معبودان باطل سے یہ بھی نہ ہو سکا کہ کسی طرح اپنا بچاؤ کر لیتے۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی سیدنا معاذ بن عمرو بن جموح اور سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما یہی کام کرتے تھے کہ رات کے وقت چپکے سے جا کر مشرکین کے بت توڑ آتے اور جو لکڑی کے ہوتے، انہیں توڑ کر بیوہ عورتوں کو دے دیتے کہ وہ اپنا ایندھن بنا لیں اور قوم کے بت پرست عبرت حاصل کریں۔ خود معاذ رضی اللہ عنہ کا باپ عمرو بن جموح بھی بت پرست تھا، یہ دونوں نوجوان دوست وہاں بھی پہنچتے اور اس بت کو پلیدی سے آلودہ کر آتے۔ جب یہ آتا تو اپنے معبود کو اس حالت میں دیکھ کر بہت پیچ و تاب کھاتا، پھر دھوتا، پھر اس پر خوشبو ملتا۔

ایک مرتبہ اس نے اس کے پاس تلوار رکھ دی اور کہا: دیکھ! آج تیرا دشمن آئے تو اس تلوار سے اس کا کام تمام کر دینا۔ یہ اس رات بھی پہنچے اور اس کی درگت کر کے پاخانے سے لیپ کر کے چلے آئے مگر تاہم اسے اثر نہ ہوا، صبح کو اسی طرح اس نے دھو دھا کر ٹھیک ٹھاک کر کے خوشبو لگا کر بیٹھا کر ڈنڈوت کی یعنی (‏‏‏‏اٹھک بیٹھک) کی۔ جب ان دونوں نے دیکھا کہ کسی طرح یہ نہیں مانتا تو ایک رات اس بت کو اٹھا لائے اور ایک کتے کا پلا جو مرا پڑا تھا، اس کے گلے میں باندھ دیا اور محلے کے ایک کنویں میں ڈال دیا۔ صبح اس نے اپنے بت کو نہ پا کر تلاش کیا تو کنویں میں اسے نظر آیا کہ کتے کے مردہ بچے کے ساتھ پڑا ہوا ہے، اب اسے بت سے اور بت پرستی سے نفرت ہو گئی۔ اور اس نے کہا: «تاللہ لو کنت الھا مستدن لم تک والکلب جمیعا فی قرن»

یعنی اگر تو سچ مچ معبود ہوتا تو کنوئیں میں کتے کے پلے کے ساتھ پڑا ہوا نہ ہوتا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور مشرف بہ اسلام ہو گئے، پھر تو اسلام میں پورے پکے ہو گئے۔ احد کی لڑائی میں شریک ہوئے اور کفار کو قتل کرتے ہوئے شہید ہو گئے ۱؎ [سیرة ابن هشام:354/1] ‏‏‏‏ «رضی اللہ عنہ وارضاہ وجعل جنت الفردوس ماوا» ۔ انہیں اگر بلایا جائے تو یہ قبول کرنا تو درکنار، سن بھی نہیں سکتے۔ محض پتھر ہیں، بےجان ہیں، بےآنکھ اور بےکان ہیں۔ جیسے کہ خلیل اللہ علیہ السلام نے فرمایا کہ ’ میرے والد! آپ ان کی عبادت کیوں کرتے ہیں، جو نہ سنیں، نہ دیکھیں، نہ تجھے کوئی نفع پہنچا سکیں، نہ تیرے کسی کام آ سکیں۔ ‘ ۱؎ [19-مريم:42] ‏‏‏‏ انہیں پکارنا اور نہ پکارنا دونوں برابر ہیں۔ یہ تو تم جیسے ہی بے بس اور اللہ کی مخلوق ہیں۔ بتاؤ تو کبھی انہوں نے تمہاری فریاد رسی کی ہے؟ یا کبھی تمہاری دعا کا جواب دیا ہے؟ حقیقت میں ان سے افضل و اعلیٰ تو تم خود ہو۔ تم سنتے، دیکھتے، چلتے پھرتے، بولتے چالتے ہو، یہ تو اتنا بھی نہیں کر سکتے۔ اچھا! تم ان سے میرا کچھ بگاڑنے کی درخواست کرو، میں اعلان کرتا ہوں کہ اگر ان سے ہو سکے تو بلاتامل اپنی پوری طاقت سے جو میرا بگاڑ سکتے ہوں، بگاڑ لیں۔ سنو! میں تو اللہ کو اپنا حمایتی اور مددگار سمجھتا ہوں، وہی میرا بچانے والا ہے اور وہ مجھے کافی وافی ہے۔ اسی پر میرا بھروسہ ہے، اسی سے میرا لگاؤ ہے۔

میں ہی نہیں، ہر نیک بندہ یہی کرتا ہے اور وہ بھی اپنے تمام سچے غلاموں کی نگہبانی اور حفاظت کرتا رہتا ہے اور کرتا رہے گا۔ میرے بعد بھی ان سب کا نگراں اور محافظ وہی ہے۔ ہود علیہ السلام سے آپ کی قوم نے کہا کہ ہمارا تو خیال ہے کہ تو جو ہمارے معبودوں پر ایمان نہیں رکھتا، اسی سبب سے انہوں نے تجھے ان مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ اس کے جواب میں اللہ کے پیغمبر نے فرمایا: سنو! تم کو اور اللہ کو گواہ کر کے علی الاعلان کہتا ہوں کہ میں اللہ کے سوا تمہارے تمام معبودوں سے بری اور بیزار اور ان سب کا دشمن ہوں، تم میرا کچھ بگاڑ سکتے ہو تو بگاڑ لو۔ تمہیں بھی قسم ہے جو ذرا سی کوتاہی کرو۔ میرا توکل اللہ کی ذات پر ہے۔ تمام جانداروں کی چوٹیاں اس کے ہاتھ ہیں، میرا رب ہی سچی راہ پر ہے۔ خلیل اللہ علیہ السلام نے بھی یہی فرمایا تھا کہ تم اور تمہارے بزرگ جن کی تم پرستش کرتے ہو، میں ان سب کا دشمن ہوں اور وہ مجھ سے دور ہیں۔ سوائے اس رب العالمین کے، جس نے مجھے پیدا کیا، وہی میری رہبری کی۔

آپ نے اپنے والد اور قوم سے بھی یہی فرمایا کہ «وَإِذْ قَالَ إِبْرَ‌اهِيمُ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ إِنَّنِي بَرَ‌اءٌ مِّمَّا تَعْبُدُونَ إِلَّا الَّذِي فَطَرَ‌نِي فَإِنَّهُ سَيَهْدِينِ وَجَعَلَهَا كَلِمَةً بَاقِيَةً فِي عَقِبِهِ لَعَلَّهُمْ يَرْ‌جِعُونَ» ۱؎ [43-الزخرف:26-28] ‏‏‏‏ ’ میں تمہارے معبودان باطل سے بری اور بیزار ہوں، سوائے اس سچے معبود کے جس نے مجھے پیدا کیا ہے، وہی میری رہبری کرے گا۔ ہم نے اسی کلمے کو اس کی نسل میں ہمیشہ کے لئے باقی رکھ دیا تاکہ لوگ اپنے باطل خیالات سے ہٹ جائیں۔ ‘ پہلے تو غائبانہ فرمایا تھا، پھر اور تاکید کے طور پر خطاب کر کے فرماتا ہے کہ جن جن کو اللہ کے سوا تم پکارتے ہو، وہ تمہاری امداد نہیں کر سکتے اور نہ وہ خود اپنا ہی کوئی نفع کر سکتے ہیں۔ یہ تو سن ہی نہیں سکتے، تجھے تو یہ آنکھوں والے دکھائی دیتے ہیں، لیکن دراصل ان کی اصلی آنکھیں ہی نہیں کہ کسی کو دیکھ سکیں۔ جیسے فرمان ہے کہ اگر تم انہیں پکارو تو وہ سنتے نہیں چونکہ وہ تصاویر اور بت ہیں، ان کی مصنوعی آنکھیں ہیں، محسوس تو یہ ہوتا ہے کہ وہ دیکھ رہے ہیں لیکن دراصل دیکھ نہیں رہے چونکہ وہ پتھر بصورت انسان ہیں، اس لیے ضمیر بھی ذی العقول کی لائے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد کفار ہیں لیکن اول ہی اولیٰ ہے، یہی امام ابن جریر اور قتادہ رحمۃ اللہ علیہم کا قول ہے۔
195۔ 1 یعنی اب ان میں سے کوئی چیز بھی ان کے پاس موجود نہیں۔ مرنے کے ساتھ ہی دیکھنے سننے، سمجھنے اور چلنے کی طاقت ختم ہوگئی۔ اب ان کی طرف منسوب یا تو پتھر یا لکڑی کی خود تراشیدہ مورتیاں ہیں۔ یا گنبد، قبے اور آستانے ہیں جو ان کی قبروں پر بنالیے گئے اور یوں استخواں فروشی کا کاروبار فروغ پذیر ہے۔ 195۔ 2 یعنی اگر تم دعوے میں سچے ہو کہ یہ تمہارے مددگار ہیں تو ان سے کہو کہ میرے خلاف تدبیر کریں۔
(آیت 195) ➊ {اَلَهُمْ اَرْجُلٌ يَّمْشُوْنَ بِهَاۤ …:} تو پھر تمھاری عقل کہاں چلی گئی کہ انھیں مدد کے لیے پکارتے ہو اور ان کے سامنے ماتھے رگڑتے ہو۔ اس آیت سے مقصد یہ ہے کہ بے شک تم نے ان بتوں کے ہاتھ، پاؤں، آنکھیں اور کان بنا رکھے ہیں، مگر زندہ انسان بہرحال ان بتوں سے بہتر ہے، کیونکہ ان چاروں اعضا کی وجہ سے وہ احساس بھی رکھتا ہے اور حرکت بھی کر سکتا ہے۔ رہے یہ بت، تو ان میں نہ شعور و احساس ہے نہ حس و حرکت۔ ➋ { قُلِ ادْعُوْا شُرَكَآءَكُمْ …:} یعنی اپنا جو زور میرے خلاف لگا سکتے ہو لگا لو، جو خفیہ سے خفیہ تدبیر میرے خلاف کر سکتے ہو اس میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھو۔
اِنَّ وَلِیَِّۧ اللّٰہُ الَّذِیۡ نَزَّلَ الۡکِتٰبَ ۫ۖ وَ ہُوَ یَتَوَلَّی الصّٰلِحِیۡنَ ﴿۱۹۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
میرا حامی و ناصر وہ خدا ہے جس نے یہ کتاب نازل کی ہے اور وہ نیک آدمیوں کی حمایت کرتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناً میرا مددگار اللہ تعالیٰ ہے جس نے یہ کتاب نازل فرمائی اور وه نیک بندوں کی مدد کرتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک میرا والی اللہ ہے جس نے کتاب ا تاری اور وہ نیکوں کو دوست رکھتا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
میرا ولی و سرپرست وہ اللہ ہے جس نے (یہ) کتاب نازل کی ہے اور وہ نیک بندوں کا سرپرست اور کارساز ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک میرا یار و مدد گار اللہ ہے، جس نے یہ کتاب نازل کی ہے اور وہی نیکوں کا یار و مدد گار بنتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انسان کا المیہ خود ساز خدا اور اللہ سے دوری ہے ٭٭

جو لوگ اللہ کے سوا اوروں کو پوجتے ہیں، وہ سب اللہ کے ہی بنائے ہوئے ہیں، وہی ان کا پالنے والا ہے۔ وہ بالکل بے اختیار ہیں، کسی نفع نقصان کا انہیں اختیار نہیں، وہ اپنے پجاریوں کو کوئی نفع نہیں پہنچا سکتے بلکہ وہ تو ہل جل بھی نہیں سکتے، دیکھ اور سن بھی نہیں سکتے۔ ان بتوں سے تو ان کے پجاری ہی توانا، تندرست اور اچھے ہیں کہ ان کی آنکھیں بھی ہیں، کان بھی ہیں۔ یہ بےوقوف تو انہیں پوجتے ہیں جنہوں نے ساری مخلوق میں سے ایک چیز کو بھی پیدا نہیں کیا بلکہ وہ خود اللہ تعالیٰ کے پیدا کئے ہوئے ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے کہ «يَا أَيُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوا لَهُ إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ لَن يَخْلُقُوا ذُبَابًا وَلَوِ اجْتَمَعُوا لَهُ وَإِن يَسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَيْئًا لَّا يَسْتَنقِذُوهُ مِنْهُ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوبُ مَا قَدَرُوا اللَّـهَ حَقَّ قَدْرِهِ إِنَّ اللَّـهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ» ۱؎ [22-الحج:73-74] ‏‏‏‏ ’ لوگو! آؤ ایک لطیف مثال سنو، تم جنہیں پکار رہے ہو، یہ سارے ہی جمع ہو کر ایک مکھی بھی پیدا کرنا چاہیں تو ان کی طاقت سے خارج ہے۔ بلکہ ان کی کمزوری تو یہاں تک ہے کہ کوئی مکھی ان کی کسی چیز کو چھین لے جائے تو یہ اس سے واپس بھی نہیں کر سکتے، طلب کرنے والے اور جن سے طلب کی جا رہی ہے، بہت ہی بودے ہیں۔ ‘ تعجب ہے کہ اتنے کمزوروں کی عبادت کی جاتی ہے جو اپنا حق بھی ایک مکھی سے نہیں لے سکتے، وہ تمہاری روزیوں اور مدد پر کیسے قادر ہوں گے؟ خلیل اللہ علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ «قَالَ أَتَعْبُدُونَ مَا تَنْحِتُونَ» ۱؎ [37-الصافات:95] ‏‏‏‏ ’ کیا تم ان کی عبادت کرتے ہو جنہیں تم خود ہی گھڑتے اور بناتے ہو؟ ‘ وہ نہ تو اپنے پجاریوں کی مدد کر سکتے ہیں، نہ خود اپنی ہی کوئی مدد کر سکتے ہیں۔

یہاں تک کہ «فَجَعَلَهُمْ جُذَاذًا إِلَّا كَبِيرًا لَّهُمْ لَعَلَّهُمْ إِلَيْهِ يَرْجِعُونَ» ۱؎ [21-الأنبياء:58] ‏‏‏‏ ’ خلیل اللہ علیہ السلام نے انہیں توڑ توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ ‘ لیکن ان سے یہ نہ ہو سکا کہ اپنے آپ کو ان کے ہاتھ سے بچا لیتے۔ ہاتھ میں تبر لے کر سب کو چورا کر دیا اور ان معبودان باطل سے یہ بھی نہ ہو سکا کہ کسی طرح اپنا بچاؤ کر لیتے۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی سیدنا معاذ بن عمرو بن جموح اور سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما یہی کام کرتے تھے کہ رات کے وقت چپکے سے جا کر مشرکین کے بت توڑ آتے اور جو لکڑی کے ہوتے، انہیں توڑ کر بیوہ عورتوں کو دے دیتے کہ وہ اپنا ایندھن بنا لیں اور قوم کے بت پرست عبرت حاصل کریں۔ خود معاذ رضی اللہ عنہ کا باپ عمرو بن جموح بھی بت پرست تھا، یہ دونوں نوجوان دوست وہاں بھی پہنچتے اور اس بت کو پلیدی سے آلودہ کر آتے۔ جب یہ آتا تو اپنے معبود کو اس حالت میں دیکھ کر بہت پیچ و تاب کھاتا، پھر دھوتا، پھر اس پر خوشبو ملتا۔

ایک مرتبہ اس نے اس کے پاس تلوار رکھ دی اور کہا: دیکھ! آج تیرا دشمن آئے تو اس تلوار سے اس کا کام تمام کر دینا۔ یہ اس رات بھی پہنچے اور اس کی درگت کر کے پاخانے سے لیپ کر کے چلے آئے مگر تاہم اسے اثر نہ ہوا، صبح کو اسی طرح اس نے دھو دھا کر ٹھیک ٹھاک کر کے خوشبو لگا کر بیٹھا کر ڈنڈوت کی یعنی (‏‏‏‏اٹھک بیٹھک) کی۔ جب ان دونوں نے دیکھا کہ کسی طرح یہ نہیں مانتا تو ایک رات اس بت کو اٹھا لائے اور ایک کتے کا پلا جو مرا پڑا تھا، اس کے گلے میں باندھ دیا اور محلے کے ایک کنویں میں ڈال دیا۔ صبح اس نے اپنے بت کو نہ پا کر تلاش کیا تو کنویں میں اسے نظر آیا کہ کتے کے مردہ بچے کے ساتھ پڑا ہوا ہے، اب اسے بت سے اور بت پرستی سے نفرت ہو گئی۔ اور اس نے کہا: «تاللہ لو کنت الھا مستدن لم تک والکلب جمیعا فی قرن»

یعنی اگر تو سچ مچ معبود ہوتا تو کنوئیں میں کتے کے پلے کے ساتھ پڑا ہوا نہ ہوتا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور مشرف بہ اسلام ہو گئے، پھر تو اسلام میں پورے پکے ہو گئے۔ احد کی لڑائی میں شریک ہوئے اور کفار کو قتل کرتے ہوئے شہید ہو گئے ۱؎ [سیرة ابن هشام:354/1] ‏‏‏‏ «رضی اللہ عنہ وارضاہ وجعل جنت الفردوس ماوا» ۔ انہیں اگر بلایا جائے تو یہ قبول کرنا تو درکنار، سن بھی نہیں سکتے۔ محض پتھر ہیں، بےجان ہیں، بےآنکھ اور بےکان ہیں۔ جیسے کہ خلیل اللہ علیہ السلام نے فرمایا کہ ’ میرے والد! آپ ان کی عبادت کیوں کرتے ہیں، جو نہ سنیں، نہ دیکھیں، نہ تجھے کوئی نفع پہنچا سکیں، نہ تیرے کسی کام آ سکیں۔ ‘ ۱؎ [19-مريم:42] ‏‏‏‏ انہیں پکارنا اور نہ پکارنا دونوں برابر ہیں۔ یہ تو تم جیسے ہی بے بس اور اللہ کی مخلوق ہیں۔ بتاؤ تو کبھی انہوں نے تمہاری فریاد رسی کی ہے؟ یا کبھی تمہاری دعا کا جواب دیا ہے؟ حقیقت میں ان سے افضل و اعلیٰ تو تم خود ہو۔ تم سنتے، دیکھتے، چلتے پھرتے، بولتے چالتے ہو، یہ تو اتنا بھی نہیں کر سکتے۔ اچھا! تم ان سے میرا کچھ بگاڑنے کی درخواست کرو، میں اعلان کرتا ہوں کہ اگر ان سے ہو سکے تو بلاتامل اپنی پوری طاقت سے جو میرا بگاڑ سکتے ہوں، بگاڑ لیں۔ سنو! میں تو اللہ کو اپنا حمایتی اور مددگار سمجھتا ہوں، وہی میرا بچانے والا ہے اور وہ مجھے کافی وافی ہے۔ اسی پر میرا بھروسہ ہے، اسی سے میرا لگاؤ ہے۔

میں ہی نہیں، ہر نیک بندہ یہی کرتا ہے اور وہ بھی اپنے تمام سچے غلاموں کی نگہبانی اور حفاظت کرتا رہتا ہے اور کرتا رہے گا۔ میرے بعد بھی ان سب کا نگراں اور محافظ وہی ہے۔ ہود علیہ السلام سے آپ کی قوم نے کہا کہ ہمارا تو خیال ہے کہ تو جو ہمارے معبودوں پر ایمان نہیں رکھتا، اسی سبب سے انہوں نے تجھے ان مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ اس کے جواب میں اللہ کے پیغمبر نے فرمایا: سنو! تم کو اور اللہ کو گواہ کر کے علی الاعلان کہتا ہوں کہ میں اللہ کے سوا تمہارے تمام معبودوں سے بری اور بیزار اور ان سب کا دشمن ہوں، تم میرا کچھ بگاڑ سکتے ہو تو بگاڑ لو۔ تمہیں بھی قسم ہے جو ذرا سی کوتاہی کرو۔ میرا توکل اللہ کی ذات پر ہے۔ تمام جانداروں کی چوٹیاں اس کے ہاتھ ہیں، میرا رب ہی سچی راہ پر ہے۔ خلیل اللہ علیہ السلام نے بھی یہی فرمایا تھا کہ تم اور تمہارے بزرگ جن کی تم پرستش کرتے ہو، میں ان سب کا دشمن ہوں اور وہ مجھ سے دور ہیں۔ سوائے اس رب العالمین کے، جس نے مجھے پیدا کیا، وہی میری رہبری کی۔

آپ نے اپنے والد اور قوم سے بھی یہی فرمایا کہ «وَإِذْ قَالَ إِبْرَ‌اهِيمُ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ إِنَّنِي بَرَ‌اءٌ مِّمَّا تَعْبُدُونَ إِلَّا الَّذِي فَطَرَ‌نِي فَإِنَّهُ سَيَهْدِينِ وَجَعَلَهَا كَلِمَةً بَاقِيَةً فِي عَقِبِهِ لَعَلَّهُمْ يَرْ‌جِعُونَ» ۱؎ [43-الزخرف:26-28] ‏‏‏‏ ’ میں تمہارے معبودان باطل سے بری اور بیزار ہوں، سوائے اس سچے معبود کے جس نے مجھے پیدا کیا ہے، وہی میری رہبری کرے گا۔ ہم نے اسی کلمے کو اس کی نسل میں ہمیشہ کے لئے باقی رکھ دیا تاکہ لوگ اپنے باطل خیالات سے ہٹ جائیں۔ ‘ پہلے تو غائبانہ فرمایا تھا، پھر اور تاکید کے طور پر خطاب کر کے فرماتا ہے کہ جن جن کو اللہ کے سوا تم پکارتے ہو، وہ تمہاری امداد نہیں کر سکتے اور نہ وہ خود اپنا ہی کوئی نفع کر سکتے ہیں۔ یہ تو سن ہی نہیں سکتے، تجھے تو یہ آنکھوں والے دکھائی دیتے ہیں، لیکن دراصل ان کی اصلی آنکھیں ہی نہیں کہ کسی کو دیکھ سکیں۔ جیسے فرمان ہے کہ اگر تم انہیں پکارو تو وہ سنتے نہیں چونکہ وہ تصاویر اور بت ہیں، ان کی مصنوعی آنکھیں ہیں، محسوس تو یہ ہوتا ہے کہ وہ دیکھ رہے ہیں لیکن دراصل دیکھ نہیں رہے چونکہ وہ پتھر بصورت انسان ہیں، اس لیے ضمیر بھی ذی العقول کی لائے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد کفار ہیں لیکن اول ہی اولیٰ ہے، یہی امام ابن جریر اور قتادہ رحمۃ اللہ علیہم کا قول ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 196) {اِنَّ وَلِيِّۧ اللّٰهُ الَّذِيْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ …:} یہ جواب ہے مشرکین کی ان دھمکیوں کا جو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا کرتے تھے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ تم ہمارے ان معبودوں کو برا کہنے سے باز آ جاؤ، ورنہ تم ان کے غضب میں گرفتار ہو کر تباہ ہو جاؤ گے۔ فرمایا میرا یارومددگار اللہ ہے، مجھے تمھاری دھمکیوں کی کوئی پروا نہیں۔ نیز اس میں توحید کی دعوت بھی ہے کہ جب یہ اصنام قدرت و علم سے محروم ہیں تو جو لوگ عقل و فکر رکھتے ہیں ان کو چاہیے کہ اللہ وحدہ لا شریک لہ کی عبادت کریں، جس نے انسانوں کی ہدایت کے لیے کامل کتاب نازل فرمائی اور وہ ہر طرح سے نیک لوگوں کا یارومددگار بھی ہے۔
وَ الَّذِیۡنَ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِہٖ لَا یَسۡتَطِیۡعُوۡنَ نَصۡرَکُمۡ وَ لَاۤ اَنۡفُسَہُمۡ یَنۡصُرُوۡنَ ﴿۱۹۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
بخلاف اِس کے تم جنہیں خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو وہ نہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں اور نہ خود اپنی مدد ہی کرنے کے قابل ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور تم جن لوگوں کی اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو وه تمہاری کچھ مدد نہیں کرسکتے اور نہ وه اپنی مدد کرسکتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور جنہیں اس کے سوا پوجتے ہو وہ تمہاری مدد نہیں کرسکتے، اور نہ خود اپنی مدد کریں
علامہ محمد حسین نجفی
اور جنہیں تم اللہ کے سوا خدا پکارتے ہو۔ وہ نہ تمہاری مدد کر سکتے ہیں اور نہ خود اپنی ہی مدد کر سکتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور جنھیں تم اس کے سوا پکارتے ہو وہ نہ تمھاری مدد کر سکتے ہیں اور نہ خود اپنی مدد کرتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انسان کا المیہ خود ساز خدا اور اللہ سے دوری ہے ٭٭

جو لوگ اللہ کے سوا اوروں کو پوجتے ہیں، وہ سب اللہ کے ہی بنائے ہوئے ہیں، وہی ان کا پالنے والا ہے۔ وہ بالکل بے اختیار ہیں، کسی نفع نقصان کا انہیں اختیار نہیں، وہ اپنے پجاریوں کو کوئی نفع نہیں پہنچا سکتے بلکہ وہ تو ہل جل بھی نہیں سکتے، دیکھ اور سن بھی نہیں سکتے۔ ان بتوں سے تو ان کے پجاری ہی توانا، تندرست اور اچھے ہیں کہ ان کی آنکھیں بھی ہیں، کان بھی ہیں۔ یہ بےوقوف تو انہیں پوجتے ہیں جنہوں نے ساری مخلوق میں سے ایک چیز کو بھی پیدا نہیں کیا بلکہ وہ خود اللہ تعالیٰ کے پیدا کئے ہوئے ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے کہ «يَا أَيُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوا لَهُ إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ لَن يَخْلُقُوا ذُبَابًا وَلَوِ اجْتَمَعُوا لَهُ وَإِن يَسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَيْئًا لَّا يَسْتَنقِذُوهُ مِنْهُ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوبُ مَا قَدَرُوا اللَّـهَ حَقَّ قَدْرِهِ إِنَّ اللَّـهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ» ۱؎ [22-الحج:73-74] ‏‏‏‏ ’ لوگو! آؤ ایک لطیف مثال سنو، تم جنہیں پکار رہے ہو، یہ سارے ہی جمع ہو کر ایک مکھی بھی پیدا کرنا چاہیں تو ان کی طاقت سے خارج ہے۔ بلکہ ان کی کمزوری تو یہاں تک ہے کہ کوئی مکھی ان کی کسی چیز کو چھین لے جائے تو یہ اس سے واپس بھی نہیں کر سکتے، طلب کرنے والے اور جن سے طلب کی جا رہی ہے، بہت ہی بودے ہیں۔ ‘ تعجب ہے کہ اتنے کمزوروں کی عبادت کی جاتی ہے جو اپنا حق بھی ایک مکھی سے نہیں لے سکتے، وہ تمہاری روزیوں اور مدد پر کیسے قادر ہوں گے؟ خلیل اللہ علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ «قَالَ أَتَعْبُدُونَ مَا تَنْحِتُونَ» ۱؎ [37-الصافات:95] ‏‏‏‏ ’ کیا تم ان کی عبادت کرتے ہو جنہیں تم خود ہی گھڑتے اور بناتے ہو؟ ‘ وہ نہ تو اپنے پجاریوں کی مدد کر سکتے ہیں، نہ خود اپنی ہی کوئی مدد کر سکتے ہیں۔

یہاں تک کہ «فَجَعَلَهُمْ جُذَاذًا إِلَّا كَبِيرًا لَّهُمْ لَعَلَّهُمْ إِلَيْهِ يَرْجِعُونَ» ۱؎ [21-الأنبياء:58] ‏‏‏‏ ’ خلیل اللہ علیہ السلام نے انہیں توڑ توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ ‘ لیکن ان سے یہ نہ ہو سکا کہ اپنے آپ کو ان کے ہاتھ سے بچا لیتے۔ ہاتھ میں تبر لے کر سب کو چورا کر دیا اور ان معبودان باطل سے یہ بھی نہ ہو سکا کہ کسی طرح اپنا بچاؤ کر لیتے۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی سیدنا معاذ بن عمرو بن جموح اور سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما یہی کام کرتے تھے کہ رات کے وقت چپکے سے جا کر مشرکین کے بت توڑ آتے اور جو لکڑی کے ہوتے، انہیں توڑ کر بیوہ عورتوں کو دے دیتے کہ وہ اپنا ایندھن بنا لیں اور قوم کے بت پرست عبرت حاصل کریں۔ خود معاذ رضی اللہ عنہ کا باپ عمرو بن جموح بھی بت پرست تھا، یہ دونوں نوجوان دوست وہاں بھی پہنچتے اور اس بت کو پلیدی سے آلودہ کر آتے۔ جب یہ آتا تو اپنے معبود کو اس حالت میں دیکھ کر بہت پیچ و تاب کھاتا، پھر دھوتا، پھر اس پر خوشبو ملتا۔

ایک مرتبہ اس نے اس کے پاس تلوار رکھ دی اور کہا: دیکھ! آج تیرا دشمن آئے تو اس تلوار سے اس کا کام تمام کر دینا۔ یہ اس رات بھی پہنچے اور اس کی درگت کر کے پاخانے سے لیپ کر کے چلے آئے مگر تاہم اسے اثر نہ ہوا، صبح کو اسی طرح اس نے دھو دھا کر ٹھیک ٹھاک کر کے خوشبو لگا کر بیٹھا کر ڈنڈوت کی یعنی (‏‏‏‏اٹھک بیٹھک) کی۔ جب ان دونوں نے دیکھا کہ کسی طرح یہ نہیں مانتا تو ایک رات اس بت کو اٹھا لائے اور ایک کتے کا پلا جو مرا پڑا تھا، اس کے گلے میں باندھ دیا اور محلے کے ایک کنویں میں ڈال دیا۔ صبح اس نے اپنے بت کو نہ پا کر تلاش کیا تو کنویں میں اسے نظر آیا کہ کتے کے مردہ بچے کے ساتھ پڑا ہوا ہے، اب اسے بت سے اور بت پرستی سے نفرت ہو گئی۔ اور اس نے کہا: «تاللہ لو کنت الھا مستدن لم تک والکلب جمیعا فی قرن»

یعنی اگر تو سچ مچ معبود ہوتا تو کنوئیں میں کتے کے پلے کے ساتھ پڑا ہوا نہ ہوتا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور مشرف بہ اسلام ہو گئے، پھر تو اسلام میں پورے پکے ہو گئے۔ احد کی لڑائی میں شریک ہوئے اور کفار کو قتل کرتے ہوئے شہید ہو گئے ۱؎ [سیرة ابن هشام:354/1] ‏‏‏‏ «رضی اللہ عنہ وارضاہ وجعل جنت الفردوس ماوا» ۔ انہیں اگر بلایا جائے تو یہ قبول کرنا تو درکنار، سن بھی نہیں سکتے۔ محض پتھر ہیں، بےجان ہیں، بےآنکھ اور بےکان ہیں۔ جیسے کہ خلیل اللہ علیہ السلام نے فرمایا کہ ’ میرے والد! آپ ان کی عبادت کیوں کرتے ہیں، جو نہ سنیں، نہ دیکھیں، نہ تجھے کوئی نفع پہنچا سکیں، نہ تیرے کسی کام آ سکیں۔ ‘ ۱؎ [19-مريم:42] ‏‏‏‏ انہیں پکارنا اور نہ پکارنا دونوں برابر ہیں۔ یہ تو تم جیسے ہی بے بس اور اللہ کی مخلوق ہیں۔ بتاؤ تو کبھی انہوں نے تمہاری فریاد رسی کی ہے؟ یا کبھی تمہاری دعا کا جواب دیا ہے؟ حقیقت میں ان سے افضل و اعلیٰ تو تم خود ہو۔ تم سنتے، دیکھتے، چلتے پھرتے، بولتے چالتے ہو، یہ تو اتنا بھی نہیں کر سکتے۔ اچھا! تم ان سے میرا کچھ بگاڑنے کی درخواست کرو، میں اعلان کرتا ہوں کہ اگر ان سے ہو سکے تو بلاتامل اپنی پوری طاقت سے جو میرا بگاڑ سکتے ہوں، بگاڑ لیں۔ سنو! میں تو اللہ کو اپنا حمایتی اور مددگار سمجھتا ہوں، وہی میرا بچانے والا ہے اور وہ مجھے کافی وافی ہے۔ اسی پر میرا بھروسہ ہے، اسی سے میرا لگاؤ ہے۔

میں ہی نہیں، ہر نیک بندہ یہی کرتا ہے اور وہ بھی اپنے تمام سچے غلاموں کی نگہبانی اور حفاظت کرتا رہتا ہے اور کرتا رہے گا۔ میرے بعد بھی ان سب کا نگراں اور محافظ وہی ہے۔ ہود علیہ السلام سے آپ کی قوم نے کہا کہ ہمارا تو خیال ہے کہ تو جو ہمارے معبودوں پر ایمان نہیں رکھتا، اسی سبب سے انہوں نے تجھے ان مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ اس کے جواب میں اللہ کے پیغمبر نے فرمایا: سنو! تم کو اور اللہ کو گواہ کر کے علی الاعلان کہتا ہوں کہ میں اللہ کے سوا تمہارے تمام معبودوں سے بری اور بیزار اور ان سب کا دشمن ہوں، تم میرا کچھ بگاڑ سکتے ہو تو بگاڑ لو۔ تمہیں بھی قسم ہے جو ذرا سی کوتاہی کرو۔ میرا توکل اللہ کی ذات پر ہے۔ تمام جانداروں کی چوٹیاں اس کے ہاتھ ہیں، میرا رب ہی سچی راہ پر ہے۔ خلیل اللہ علیہ السلام نے بھی یہی فرمایا تھا کہ تم اور تمہارے بزرگ جن کی تم پرستش کرتے ہو، میں ان سب کا دشمن ہوں اور وہ مجھ سے دور ہیں۔ سوائے اس رب العالمین کے، جس نے مجھے پیدا کیا، وہی میری رہبری کی۔

آپ نے اپنے والد اور قوم سے بھی یہی فرمایا کہ «وَإِذْ قَالَ إِبْرَ‌اهِيمُ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ إِنَّنِي بَرَ‌اءٌ مِّمَّا تَعْبُدُونَ إِلَّا الَّذِي فَطَرَ‌نِي فَإِنَّهُ سَيَهْدِينِ وَجَعَلَهَا كَلِمَةً بَاقِيَةً فِي عَقِبِهِ لَعَلَّهُمْ يَرْ‌جِعُونَ» ۱؎ [43-الزخرف:26-28] ‏‏‏‏ ’ میں تمہارے معبودان باطل سے بری اور بیزار ہوں، سوائے اس سچے معبود کے جس نے مجھے پیدا کیا ہے، وہی میری رہبری کرے گا۔ ہم نے اسی کلمے کو اس کی نسل میں ہمیشہ کے لئے باقی رکھ دیا تاکہ لوگ اپنے باطل خیالات سے ہٹ جائیں۔ ‘ پہلے تو غائبانہ فرمایا تھا، پھر اور تاکید کے طور پر خطاب کر کے فرماتا ہے کہ جن جن کو اللہ کے سوا تم پکارتے ہو، وہ تمہاری امداد نہیں کر سکتے اور نہ وہ خود اپنا ہی کوئی نفع کر سکتے ہیں۔ یہ تو سن ہی نہیں سکتے، تجھے تو یہ آنکھوں والے دکھائی دیتے ہیں، لیکن دراصل ان کی اصلی آنکھیں ہی نہیں کہ کسی کو دیکھ سکیں۔ جیسے فرمان ہے کہ اگر تم انہیں پکارو تو وہ سنتے نہیں چونکہ وہ تصاویر اور بت ہیں، ان کی مصنوعی آنکھیں ہیں، محسوس تو یہ ہوتا ہے کہ وہ دیکھ رہے ہیں لیکن دراصل دیکھ نہیں رہے چونکہ وہ پتھر بصورت انسان ہیں، اس لیے ضمیر بھی ذی العقول کی لائے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد کفار ہیں لیکن اول ہی اولیٰ ہے، یہی امام ابن جریر اور قتادہ رحمۃ اللہ علیہم کا قول ہے۔
197۔ 1 جو اپنی مدد آپ کرنے پر قادر نہ ہو وہ بھلا دوسروں کی مدد کیا کریں گے۔
(آیت 197){ وَ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ …:} یہ بات پہلے بھی بیان فرمائی تھی، اس کا دوبارہ تذکرہ اس لیے کیا گیا کہ ان مشرکین کی بے وقوفی خوب واضح ہو جائے۔ (شوکانی)
وَ اِنۡ تَدۡعُوۡہُمۡ اِلَی الۡہُدٰی لَا یَسۡمَعُوۡا ؕ وَ تَرٰىہُمۡ یَنۡظُرُوۡنَ اِلَیۡکَ وَ ہُمۡ لَا یُبۡصِرُوۡنَ ﴿۱۹۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
بلکہ اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کے لیے کہو تو وہ تمہاری بات سن بھی نہیں سکتے بظاہر تم کو ایسا نظر آتا ہے کہ وہ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں مگر فی الواقع وہ کچھ بھی نہیں دیکھتے"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ان کو اگر کوئی بات بتلانے کو پکارو تو اس کو نہ سنیں اور ان کو آپ دیکھتے ہیں کہ گویا وه آپ کو دیکھ رہے ہیں اور وه کچھ بھی نہیں دیکھتے
احمد رضا خان بریلوی
اور اگر تم انہیں راہ کی طرف بلاؤ تو نہ سنیں اور تو انہیں دیکھے کہ وہ تیری طرف دیکھ رہے ہیں اور انہیں کچھ بھی نہیں سوجھتا،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اگر انہیں سیدھے راستہ کی دعوت دو تو وہ تمہاری بات سنتے نہیں ہیں اور تم انہیں دیکھوگے کہ گویا وہ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں حالانکہ وہ دیکھتے نہیں ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور اگر تم انھیں سیدھے راستے کی طرف بلائو تو نہیں سنیں گے اور تو انھیں دیکھتا ہے کہ تیری طرف دیکھ رہے ہیں، حالانکہ وہ نہیں دیکھتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انسان کا المیہ خود ساز خدا اور اللہ سے دوری ہے ٭٭

جو لوگ اللہ کے سوا اوروں کو پوجتے ہیں، وہ سب اللہ کے ہی بنائے ہوئے ہیں، وہی ان کا پالنے والا ہے۔ وہ بالکل بے اختیار ہیں، کسی نفع نقصان کا انہیں اختیار نہیں، وہ اپنے پجاریوں کو کوئی نفع نہیں پہنچا سکتے بلکہ وہ تو ہل جل بھی نہیں سکتے، دیکھ اور سن بھی نہیں سکتے۔ ان بتوں سے تو ان کے پجاری ہی توانا، تندرست اور اچھے ہیں کہ ان کی آنکھیں بھی ہیں، کان بھی ہیں۔ یہ بےوقوف تو انہیں پوجتے ہیں جنہوں نے ساری مخلوق میں سے ایک چیز کو بھی پیدا نہیں کیا بلکہ وہ خود اللہ تعالیٰ کے پیدا کئے ہوئے ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے کہ «يَا أَيُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوا لَهُ إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ لَن يَخْلُقُوا ذُبَابًا وَلَوِ اجْتَمَعُوا لَهُ وَإِن يَسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَيْئًا لَّا يَسْتَنقِذُوهُ مِنْهُ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوبُ مَا قَدَرُوا اللَّـهَ حَقَّ قَدْرِهِ إِنَّ اللَّـهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ» ۱؎ [22-الحج:73-74] ‏‏‏‏ ’ لوگو! آؤ ایک لطیف مثال سنو، تم جنہیں پکار رہے ہو، یہ سارے ہی جمع ہو کر ایک مکھی بھی پیدا کرنا چاہیں تو ان کی طاقت سے خارج ہے۔ بلکہ ان کی کمزوری تو یہاں تک ہے کہ کوئی مکھی ان کی کسی چیز کو چھین لے جائے تو یہ اس سے واپس بھی نہیں کر سکتے، طلب کرنے والے اور جن سے طلب کی جا رہی ہے، بہت ہی بودے ہیں۔ ‘ تعجب ہے کہ اتنے کمزوروں کی عبادت کی جاتی ہے جو اپنا حق بھی ایک مکھی سے نہیں لے سکتے، وہ تمہاری روزیوں اور مدد پر کیسے قادر ہوں گے؟ خلیل اللہ علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ «قَالَ أَتَعْبُدُونَ مَا تَنْحِتُونَ» ۱؎ [37-الصافات:95] ‏‏‏‏ ’ کیا تم ان کی عبادت کرتے ہو جنہیں تم خود ہی گھڑتے اور بناتے ہو؟ ‘ وہ نہ تو اپنے پجاریوں کی مدد کر سکتے ہیں، نہ خود اپنی ہی کوئی مدد کر سکتے ہیں۔

یہاں تک کہ «فَجَعَلَهُمْ جُذَاذًا إِلَّا كَبِيرًا لَّهُمْ لَعَلَّهُمْ إِلَيْهِ يَرْجِعُونَ» ۱؎ [21-الأنبياء:58] ‏‏‏‏ ’ خلیل اللہ علیہ السلام نے انہیں توڑ توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ ‘ لیکن ان سے یہ نہ ہو سکا کہ اپنے آپ کو ان کے ہاتھ سے بچا لیتے۔ ہاتھ میں تبر لے کر سب کو چورا کر دیا اور ان معبودان باطل سے یہ بھی نہ ہو سکا کہ کسی طرح اپنا بچاؤ کر لیتے۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی سیدنا معاذ بن عمرو بن جموح اور سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما یہی کام کرتے تھے کہ رات کے وقت چپکے سے جا کر مشرکین کے بت توڑ آتے اور جو لکڑی کے ہوتے، انہیں توڑ کر بیوہ عورتوں کو دے دیتے کہ وہ اپنا ایندھن بنا لیں اور قوم کے بت پرست عبرت حاصل کریں۔ خود معاذ رضی اللہ عنہ کا باپ عمرو بن جموح بھی بت پرست تھا، یہ دونوں نوجوان دوست وہاں بھی پہنچتے اور اس بت کو پلیدی سے آلودہ کر آتے۔ جب یہ آتا تو اپنے معبود کو اس حالت میں دیکھ کر بہت پیچ و تاب کھاتا، پھر دھوتا، پھر اس پر خوشبو ملتا۔

ایک مرتبہ اس نے اس کے پاس تلوار رکھ دی اور کہا: دیکھ! آج تیرا دشمن آئے تو اس تلوار سے اس کا کام تمام کر دینا۔ یہ اس رات بھی پہنچے اور اس کی درگت کر کے پاخانے سے لیپ کر کے چلے آئے مگر تاہم اسے اثر نہ ہوا، صبح کو اسی طرح اس نے دھو دھا کر ٹھیک ٹھاک کر کے خوشبو لگا کر بیٹھا کر ڈنڈوت کی یعنی (‏‏‏‏اٹھک بیٹھک) کی۔ جب ان دونوں نے دیکھا کہ کسی طرح یہ نہیں مانتا تو ایک رات اس بت کو اٹھا لائے اور ایک کتے کا پلا جو مرا پڑا تھا، اس کے گلے میں باندھ دیا اور محلے کے ایک کنویں میں ڈال دیا۔ صبح اس نے اپنے بت کو نہ پا کر تلاش کیا تو کنویں میں اسے نظر آیا کہ کتے کے مردہ بچے کے ساتھ پڑا ہوا ہے، اب اسے بت سے اور بت پرستی سے نفرت ہو گئی۔ اور اس نے کہا: «تاللہ لو کنت الھا مستدن لم تک والکلب جمیعا فی قرن»

یعنی اگر تو سچ مچ معبود ہوتا تو کنوئیں میں کتے کے پلے کے ساتھ پڑا ہوا نہ ہوتا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور مشرف بہ اسلام ہو گئے، پھر تو اسلام میں پورے پکے ہو گئے۔ احد کی لڑائی میں شریک ہوئے اور کفار کو قتل کرتے ہوئے شہید ہو گئے ۱؎ [سیرة ابن هشام:354/1] ‏‏‏‏ «رضی اللہ عنہ وارضاہ وجعل جنت الفردوس ماوا» ۔ انہیں اگر بلایا جائے تو یہ قبول کرنا تو درکنار، سن بھی نہیں سکتے۔ محض پتھر ہیں، بےجان ہیں، بےآنکھ اور بےکان ہیں۔ جیسے کہ خلیل اللہ علیہ السلام نے فرمایا کہ ’ میرے والد! آپ ان کی عبادت کیوں کرتے ہیں، جو نہ سنیں، نہ دیکھیں، نہ تجھے کوئی نفع پہنچا سکیں، نہ تیرے کسی کام آ سکیں۔ ‘ ۱؎ [19-مريم:42] ‏‏‏‏ انہیں پکارنا اور نہ پکارنا دونوں برابر ہیں۔ یہ تو تم جیسے ہی بے بس اور اللہ کی مخلوق ہیں۔ بتاؤ تو کبھی انہوں نے تمہاری فریاد رسی کی ہے؟ یا کبھی تمہاری دعا کا جواب دیا ہے؟ حقیقت میں ان سے افضل و اعلیٰ تو تم خود ہو۔ تم سنتے، دیکھتے، چلتے پھرتے، بولتے چالتے ہو، یہ تو اتنا بھی نہیں کر سکتے۔ اچھا! تم ان سے میرا کچھ بگاڑنے کی درخواست کرو، میں اعلان کرتا ہوں کہ اگر ان سے ہو سکے تو بلاتامل اپنی پوری طاقت سے جو میرا بگاڑ سکتے ہوں، بگاڑ لیں۔ سنو! میں تو اللہ کو اپنا حمایتی اور مددگار سمجھتا ہوں، وہی میرا بچانے والا ہے اور وہ مجھے کافی وافی ہے۔ اسی پر میرا بھروسہ ہے، اسی سے میرا لگاؤ ہے۔

میں ہی نہیں، ہر نیک بندہ یہی کرتا ہے اور وہ بھی اپنے تمام سچے غلاموں کی نگہبانی اور حفاظت کرتا رہتا ہے اور کرتا رہے گا۔ میرے بعد بھی ان سب کا نگراں اور محافظ وہی ہے۔ ہود علیہ السلام سے آپ کی قوم نے کہا کہ ہمارا تو خیال ہے کہ تو جو ہمارے معبودوں پر ایمان نہیں رکھتا، اسی سبب سے انہوں نے تجھے ان مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ اس کے جواب میں اللہ کے پیغمبر نے فرمایا: سنو! تم کو اور اللہ کو گواہ کر کے علی الاعلان کہتا ہوں کہ میں اللہ کے سوا تمہارے تمام معبودوں سے بری اور بیزار اور ان سب کا دشمن ہوں، تم میرا کچھ بگاڑ سکتے ہو تو بگاڑ لو۔ تمہیں بھی قسم ہے جو ذرا سی کوتاہی کرو۔ میرا توکل اللہ کی ذات پر ہے۔ تمام جانداروں کی چوٹیاں اس کے ہاتھ ہیں، میرا رب ہی سچی راہ پر ہے۔ خلیل اللہ علیہ السلام نے بھی یہی فرمایا تھا کہ تم اور تمہارے بزرگ جن کی تم پرستش کرتے ہو، میں ان سب کا دشمن ہوں اور وہ مجھ سے دور ہیں۔ سوائے اس رب العالمین کے، جس نے مجھے پیدا کیا، وہی میری رہبری کی۔

آپ نے اپنے والد اور قوم سے بھی یہی فرمایا کہ «وَإِذْ قَالَ إِبْرَ‌اهِيمُ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ إِنَّنِي بَرَ‌اءٌ مِّمَّا تَعْبُدُونَ إِلَّا الَّذِي فَطَرَ‌نِي فَإِنَّهُ سَيَهْدِينِ وَجَعَلَهَا كَلِمَةً بَاقِيَةً فِي عَقِبِهِ لَعَلَّهُمْ يَرْ‌جِعُونَ» ۱؎ [43-الزخرف:26-28] ‏‏‏‏ ’ میں تمہارے معبودان باطل سے بری اور بیزار ہوں، سوائے اس سچے معبود کے جس نے مجھے پیدا کیا ہے، وہی میری رہبری کرے گا۔ ہم نے اسی کلمے کو اس کی نسل میں ہمیشہ کے لئے باقی رکھ دیا تاکہ لوگ اپنے باطل خیالات سے ہٹ جائیں۔ ‘ پہلے تو غائبانہ فرمایا تھا، پھر اور تاکید کے طور پر خطاب کر کے فرماتا ہے کہ جن جن کو اللہ کے سوا تم پکارتے ہو، وہ تمہاری امداد نہیں کر سکتے اور نہ وہ خود اپنا ہی کوئی نفع کر سکتے ہیں۔ یہ تو سن ہی نہیں سکتے، تجھے تو یہ آنکھوں والے دکھائی دیتے ہیں، لیکن دراصل ان کی اصلی آنکھیں ہی نہیں کہ کسی کو دیکھ سکیں۔ جیسے فرمان ہے کہ اگر تم انہیں پکارو تو وہ سنتے نہیں چونکہ وہ تصاویر اور بت ہیں، ان کی مصنوعی آنکھیں ہیں، محسوس تو یہ ہوتا ہے کہ وہ دیکھ رہے ہیں لیکن دراصل دیکھ نہیں رہے چونکہ وہ پتھر بصورت انسان ہیں، اس لیے ضمیر بھی ذی العقول کی لائے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد کفار ہیں لیکن اول ہی اولیٰ ہے، یہی امام ابن جریر اور قتادہ رحمۃ اللہ علیہم کا قول ہے۔
198۔ 1 اس کا وہی مفہوم ہے جو آیت 193 کا ہے۔
(آیت 198) {وَ تَرٰىهُمْ يَنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ …:} یعنی مشرکین اپنے بتوں کی صورتیں بناتے وقت ان کی آنکھیں ایسی بناتے کہ ان کی طرف دیکھنے والے کو ایسا معلوم ہو کہ وہ سچ مچ دیکھ رہے ہیں، مگر جب وہ بے جان بت ہیں تو دیکھیں گے کیسے؟ (ابن جریر) یا آیت کے معنی یہ ہیں کہ مشرکین بظاہر تو آنکھیں رکھتے ہیں مگر بصیرت کے اندھے ہیں، اس لیے کوئی بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی۔ (ابن کثیر)
خُذِ الۡعَفۡوَ وَ اۡمُرۡ بِالۡعُرۡفِ وَ اَعۡرِضۡ عَنِ الۡجٰہِلِیۡنَ ﴿۱۹۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے نبیؐ، نرمی و درگزر کا طریقہ اختیار کرو، معروف کی تلقین کیے جاؤ، اور جاہلوں سے نہ الجھو
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ درگزر کو اختیار کریں نیک کام کی تعلیم دیں اور جاہلوں سے ایک کناره ہو جائیں
احمد رضا خان بریلوی
اے محبوب! معاف کرنا اختیار کرو اور بھلائی کا حکم دو اور جاہلوں سے منہ پھیرلو،
علامہ محمد حسین نجفی
(اے نبی(ص)) عفو و درگزر سے کام لو۔ اور نیکی کا حکم دیں اور جاہلوں سے روگردانی کریں (ان سے نہ الجھیں)۔
عبدالسلام بن محمد
در گزر اختیار کر اور نیکی کا حکم دے اور جاہلوں سے کنارہ کر۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اچھے اعمال کی نشاندہی ٭٭

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”مطلب یہ ہے کہ ان سے وہ مال لے جو ان کی ضرورت سے زیادہ ہوں اور جسے یہ بخوشی اللہ کی راہ میں پیش کریں۔“ پہلے چونکہ زکوٰۃ کے احکام تفصیل کے ساتھ نہیں اترے تھے، اس لیے یہی حکم تھا۔ یہ بھی معنی کئے گئے ہیں کہ ”ضرورت سے زائد چیز اللہ کی راہ میں خرچ کر دیا کرو۔ ” یہ بھی مطلب ہے کہ ”مشرکین سے بدلہ نہ لو۔“ دس سال تک تو یہی حکم رہا کہ درگزر کرتے رہو، پھر جہاد کے احکام اترے۔ یہ بھی مطلب ہے کہ ”لوگوں کے اچھے اخلاق اور عمدہ عادات جو ظاہر ہوں، انہی پر نظریں رکھو، ان کے باطن نہ ٹٹولو، تجسس نہ کرو۔“ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما وغیرہ سے بھی یہی تفسیر مروی ہے اور یہی قول زیادہ مشہور ہے۔ حدیث میں ہے کہ { اس آیت کو سن کر جبرائیل علیہ السلام سے آپ نے دریافت کیا کہ اس کا کیا مطلب ہے؟ آپ نے فرمایا: یہ کہ جو تجھ پر ظلم کرے، تو اس سے درگزر کر۔ جو تجھے نہ دے، تو اس کے ساتھ بھی احسان و سلوک کر۔ جو تجھ سے قطع تعلق کرے، تو اس کے ساتھ بھی تعلق رکھ۔ } [تفسیر ابن جریر الطبری:15559] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے: { عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا اور آپ کا ہاتھ تھام کر درخواست کی کہ مجھے افضل اعمال بتائیے۔ آپ نے فرمایا: جو تجھ سے توڑے، تو اس سے بھی جوڑ۔ جو تجھ سے روکے، تو اسے دے، جو تجھ پر ظلم کرے، تو اس پر بھی رحم کر۔ } ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:891] ‏‏‏‏ اوپر والی روایت مرسل ہے اور یہ روایت ضعیف ہے۔ «عرف» سے مراد نیک ہے۔

صحیح بخاری شریف میں ہے کہ { عیینہ بن حصن بن حذیفہ اپنے بھائی حر بن قیس کے ہاں آ کے ٹھہرا، حر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے خاص درباریوں میں تھے، آپ کے درباری اور نزدیکی کا شرف صرف انہیں حاصل تھا جو قرآن کریم کے ماہر تھے۔ خواہ وہ جوان ہوں، خواہ بوڑھے۔ اس نے درخواست کی کہ مجھے آپ امیر المؤمنین عمر کے دربار میں حاضری کی اجازت دلوا دیجئیے۔ آپ نے وہاں جا کر ان کے لیے اجازت چاہی۔ امیر المؤمنین نے اجازت دے دی، یہ جاتے ہی کہنے لگے: اے ابن خطاب! تو ہمیں بکثرت مال بھی نہیں دیتا اور ہم میں عدل کے ساتھ فیصلے بھی نہیں کرتا۔ آپ کو یہ کلام بھی برا لگا، ممکن تھا کہ اسے اس کی اس تہمت پر سزا دیتے لیکن اسی وقت حر نے کہا: اے امیر المؤمنین! اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم فرمایا ہے کہ عفودرگزر کی عادت رکھ، اچھائیوں کا حکم کرتا رہ اور جاہلوں سے چشم پوشی کر۔ امیر المؤمنین یقین کیجئے، یہ نرا جاہل ہے۔ قرآن کریم کی اس آیت کا امیر المؤمنین کے کان میں پڑنا تھا کہ آپ کا تمام رنج و غم، غصہ و غضب جاتا رہا۔ آپ کی یہ تو عادت ہی تھی کہ ادھر اللہ کا نام سنا، ادھر گردن جھکا دی۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4642] ‏‏‏‏

امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ کے پوتے سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ کا ذکر ہے کہ آپ نے شامیوں کے ایک قافلے کو دیکھا، جس میں گھنٹی تھی تو آپ نے فرمایا: یہ گھنٹیاں منع ہیں۔ انہوں نے کہ ہم اس مسئلے کو آپ سے زیادہ جانتے ہیں۔ بڑی بڑی گھنٹیوں سے منع ہے، اس جیسی چھوٹی گھنٹیوں میں کیا حرج ہے؟ سالم نے آیت کا آخری جملہ پڑھ کر ان جاہلوں سے چشم پوشی کر لی۔ عرف، معروف، عارف، عارفہ سب کے ایک ہی معنی ہیں۔ اس میں ہر اچھی بات کی اطاعت کا ذکر آ گیا۔ پھر حکم دیا کہ جاہلوں سے منہ پھیر لیا کر۔ گو یہ حکم آپ کو ہے لیکن دراصل تمام بندوں کو یہی حکم ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تکلیف برداشت کر لیا کرو، تکلیف دہی کا خیال بھی نہ کرو۔ یہ معنی نہیں کہ دین حق کے معاملے میں جو جہالت سے پیش آئے، تم اسے کچھ نہ کہو، مسلمانوں سے جو کفر پر جم کر مقابلہ کرے، تم اسے کچھ نہ کہنا، یہ مطلب اس جملے کا نہیں۔ یہ وہ پاکیزہ اخلاق ہیں جن کا مجسم عملی نمونہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ کسی نے اسی مضمون کو اپنے شعروں میں باندھا ہے۔ «خذ العفو وامر بعرف کما امرت واعرض عن الجاھلین ولن فی الکلام بکل الانام فمستحسن من ذوی الجاھلین» یعنی درگزر کیا کر، بھلی بات بتا دیا کر، جیسے کہ تجھے حکم ہوا ہے، نادانوں سے ہٹ جایا کر، ہر ایک سے نرم کلامی سے پیش آیا کر، یاد رکھ کہ عزت و جاہ پر پہنچ کر نرم اور خوش اخلاق رہنا ہی کمال ہے۔

بعض مسلمانوں کا مقولہ ہے کہ لوگ دو طرح کے ہیں، ایک تو بھلے اور محسن جو احسان و سلوک کریں، قبول کر لے اور ان کے سر نہ ہو جا کہ ان کی وسعت سے زیادہ ان پر بوجھ ڈال دے۔ دوسرے بد اور ظالم، انہیں نیکی اور بھلائی کا حکم دے۔ پھر بھی اگر وہ اپنی جہالت پر اور بد کرداری پر اڑے رہیں اور تیرے سامنے سرکشی اختیار کریں تو، تو ان سے روگردانی کر لے۔ یہی چیز اسے اس کی برائی سے ہٹا دے گی۔ جیسے کہ اللہ کا فرمان ہے «ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ السَّيِّئَةَ نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَا يَصِفُونَ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ السَّيِّئَةَ نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَا يَصِفُونَ وَقُل رَّبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ وَأَعُوذُ بِكَ رَبِّ أَن يَحْضُرُونِ» ۱؎ [23-المؤمنون:96-98] ‏‏‏‏ اور آیت «وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا ذُو حَظٍّ عَظِيمٍ وَإِمَّا يَنزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللَّـهِ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ» ۱؎ [41-فصلت:34-36] ‏‏‏‏ بہترین طریق سے دفع کر دو تو تمہارے دشمن بھی تمہارے دوست بن جائیں گے، لیکن یہ انہی سے ہو سکتا ہے جو صابر ہوں اور نصیبوں والے ہوں۔ اس کے بعد شیطانی وسوسوں سے اللہ کی پناہ مانگنے کا حکم ہوا، اس لیے کہ وہ سخت ترین دشمن ہے اور ہے بھی احسان فراموش۔ انسانی دشمنوں سے بچاؤ تو عفوودرگزر اور سلوک و احسان سے ہو جاتا ہے۔ لیکن اس ملعون سے سوائے اللہ کی پناہ کے اور کوئی بچاؤ نہیں۔ یہ تینوں حکم جو سورۃ الاعراف کی ان تین آیات میں ہیں، یہی سورۃ مومنون میں بھی ہیں اور سورۃ حم السجدہ میں بھی ہیں۔ شیطان تو آدم علیہ السلام کے وقت سے دشمن انسان ہے۔ یہ جب غصہ دلائے، جوش میں لائے، فرمان الٰہی کے خلاف ابھارے، جاہلوں سے بدلہ لینے پر آمادہ کرے تو اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگ لیا کرو۔ وہ جاہلوں کی جہالت کو بھی جانتا ہے اور تیرے بچاؤ کی ترکیبوں کو بھی جانتا ہے۔

ساری مخلوق کا اسے علم ہے وہ تمام کاموں سے خبردار ہے۔ کہتے ہیں کہ جب اگلے تین حکم سنے تو کہا: اسے اللہ ان کاموں کے کرنے کے وقت تو شیطان ان کے خلاف بری طرح آمادہ کر دے گا اور نفس تو جوش انتقام سے پر ہوتا ہی ہے، کہیں ان کی خلاف ورزی نہ ہو جائے تو یہ پچھلی آیت نازل ہوئی کہ ایسا کرنے سے شیطانی وسوسہ دفع ہو جائے گا اور تم ان اخلاق کریمانہ پر عامل ہو جاؤ گے۔ میں نے اپنی اسی تفسیر کے شروع میں ہی «اعوذ» کی بحث میں اس حدیث کو بھی وارد کیا ہے کہ { دو شخص لڑ جھگڑ رہے تھے جن میں سے ایک سخت غضبناک تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے ایک ایسا کلمہ یاد ہے، اگر یہ کہہ لے تو ابھی یہ بات جاتی رہے۔ وہ کلمہ «اعُوذُ بِاللّہِ مِن الشِّیطانِ الرَّجِیمِ» ہے۔ کسی نے اس میں بھی ذکر کیا تو اس نے کہا کہ کیا میں کوئی دیوانہ ہو گیا ہوں؟ } ۱؎ [صحیح بخاری:3282] ‏‏‏‏ «نزغ» کے اصلی معنی فساد کے ہیں، وہ خواہ غصے سے ہو یا کسی اور وجہ سے۔ فرمان قرآن ہے کہ «وَقُل لِّعِبَادِي يَقُولُوا الَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَنزَغُ بَيْنَهُمْ» ۱؎ [17-الإسراء:53] ‏‏‏‏ ’ میرے بندوں کو آگاہ کر دو کہ وہ بھلی بات زبان سے نکالا کریں۔ شیطان ان میں فساد کی آگ بھڑکانا چاہتا ہے۔ ‘ «عیاذ» کے معنی التجا اور استناد کے ہیں اور «ملاذ» کا لفظ طلب خیر کے وقت بولا جاتا ہے جیسے حسن بن ہانی کا شعر ہے۔ «بامن الوذبہ فیما اوملہ ومن اعوذ بہ مما احاذرہ لا یجبر الناس عظما انت کاسرہ ولا یھیضون عظما انت جابرہ» یعنی اے اللہ! تو میری آرزوؤں کا مرکز ہے اور میرے بچاؤ اور پناہ کا مسکن ہے۔ مجھے یقین ہے کہ جس ہڈی کو تو توڑنا چاہے، اسے کوئی جوڑ نہیں سکتا اور جسے تو جوڑنا چاہے، اسے کوئی توڑ نہیں سکتا۔ باقی احادیث جو تعوذ (‏‏‏‏اعوذ باللہ) کے متعلق تھیں، وہ ہم اپنی اس تفسیر کے شروع میں ہی لکھ آئے ہیں۔
199۔ 1 بعض علماء نے اس کے معنی کئے ہیں ' ضرورت سے زائد مال ہو، وہ لے لو ' اور یہ زکوٰۃ کی فضیلت سے قبل کا حکم ہے، لیکن دوسرے مفسرین نے اس سے اخلاقی ہدایت یعنی عفو و درگزر مراد لیا ہے اور امام بن جری اور امام بخاری وغیرہ نے اس کو ترجیح دی ہے، چناچہ امام بخاری نے اس کی تفسیر میں حضرت عمر کا واقعہ نقل کیا ہے کہ عیینہ بن حصن حضرت عمر کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آ کر تنقید کرنے لگے کہ آپ زکوٰۃ میں نہ پوری عطاء دیتے ہیں اور نہ ہمارے درمیان انصاف کرتے ہیں جس پر حضرت عمر غضب ناک ہوئے یہ صورت حال دیکھ کر حضرت عمر کے مشیر حر بن قیس نے (جو عیینہ کے بھتیجے تھے) حضرت عمر سے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم فرمایا تھا (درگزر اختیار کیجئے اور نیکی کا حکم دیجئے اور جاہلوں سے پرہیز کیجئیے ' اور یہ بھی جاہلوں میں سے ہے۔ ' جس پر حضرت عمر نے درگزر فرمایا اس کی تائید ان احادیث سے بھی ہوتی ہے جن میں ظلم کے مقابلے میں معاف کردینے، قطع رحمی کے مقابلے میں صلہ رحمی اور برائی کے بدلے احسان کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ 199۔ 2 عُرْف، ُ سے مراد معروف یعنی نیکی ہے۔ 199۔ 3 یعنی جب آپ نیکی کا حکم دینے میں اتمام حجت کر چکیں اور پھر بھی وہ نہ مانیں تو ان سے اعراض فرمالیں اور ان کے جھگڑوں اور حماقتوں کا جواب نہ دیں۔
(آیت 199) ➊ {خُذِ الْعَفْوَ:} یعنی توحید کی دعوت کے جواب میں آپ کو مشرکوں اور جاہلوں کی طرف سے بہت تکلیف اٹھانا پڑے گی۔ دیکھیے آل عمران (۱۸۶) اور بقرہ (۱۰۹) آپ اس کے مقابلے میں درگزر سے کام لیں۔ یہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حسن اخلاق کی تعلیم دی ہے اور آپ کے واسطے سے ہر وہ شخص مخاطب ہے جو اسلام کی دعوت کا فریضہ سرانجام دے رہا ہے، جیسے فرمایا: «{ وَ جَادِلْهُمْ بِالَّتِيْ هِيَ اَحْسَنُ }» [ النحل: ۱۲۵ ] ”اور ان سے اس طریقے سے بحث کر جو سب سے اچھا ہے۔“ اور فرمایا: «{ وَ لَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيْظَ الْقَلْبِ لَا نْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِكَ }» [ آل عمران: ۱۵۹ ] ”اور اگر تو بدخلق سخت دل ہوتا تو یقینا وہ تیرے گرد سے منتشر ہو جاتے۔“ ➋ {وَ اْمُرْ بِالْعُرْفِ: ”عَرَفَ يَعْرِفُ“} سے مصدر بمعنی معروف ہے، وہ بات جس کا اچھا ہونا فطرتِ انسانی پہچانتی ہے اور شریعت اس کی تائید کرتی ہے۔ یعنی درگزر کا مطلب یہ نہیں کہ آپ انھیں نیکی کا حکم دینا چھوڑ دیں، بلکہ عفو و درگزر کا تعلق حسن اخلاق سے ہے۔ ➌ { وَ اَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِيْنَ:} اگر وہ ضد پر اڑ کر مخالفانہ رویہ اختیار کریں اور بے فائدہ تکرار کریں تو بجائے الجھنے کے آپ خاموشی اختیار کریں، خواہ وہ اس خاموشی کو کوئی معنی پہنا دیں۔ امید ہے کہ اس سے ان کے رویے میں تبدیلی پیدا ہو گی اور ان کی جارحیت کا وار خالی جائے گا۔ دیکھیے سورۂ قصص (۵۵) اور فرقان (۶۳) بعض علماء نے فرمایا کہ عفو و درگزر کا یہ حکم مکہ میں تھا، مدینہ میں جا کر قتال اور اقامتِ حدود کا حکم نازل ہوا تو یہ منسوخ ہو گیا۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۰۹) مگر اس کے بعد بھی جو لوگ مسلمانوں میں سے جہالت اختیار کریں، جیسے منافق یا وہ کفار جن سے جنگ نہیں ہو رہی، ان سے درگزر کرنے، نیکی کا حکم دینے اور ان کی جہالت سے اعراض کا حکم اب بھی ہے، بلکہ دعوت کے وقت ان چیزوں کا خیال ہمیشہ رکھنا پڑے گا۔ ہاں حدود کے مجرموں یا جنگ پر آمادہ لوگوں سے ان کے لائق معاملہ کیا جائے گا اور اس کے واضح احکام قرآن و حدیث میں موجود ہیں۔
وَ اِمَّا یَنۡزَغَنَّکَ مِنَ الشَّیۡطٰنِ نَزۡغٌ فَاسۡتَعِذۡ بِاللّٰہِ ؕ اِنَّہٗ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ ﴿۲۰۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اگر کبھی شیطان تمہیں اکسائے تو اللہ کی پناہ مانگو، وہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اگر آپ کو کوئی وسوسہ شیطان کی طرف سے آنے لگے تو اللہ کی پناه مانگ لیا کیجئے بلاشبہ وه خوب سننے واﻻ خوب جاننے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور اے سننے والے اگر شیطان تجھے کوئی کونچا دے (کسی برے کام پر اکسائے) تو اللہ کی پناہ مانگ بیشک وہی سنتا جانتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اگر شیطان کی طرف سے جوش دلانے کی کوئی کوشش ہو تو خدا سے پناہ مانگیں۔ یقینا وہ بڑا سننے والا، بڑا جاننے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اگر کبھی شیطان کی طرف سے کوئی اکساہٹ تجھے ابھار ہی دے تو اللہ کی پناہ طلب کر، بے شک وہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اچھے اعمال کی نشاندہی ٭٭

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”مطلب یہ ہے کہ ان سے وہ مال لے جو ان کی ضرورت سے زیادہ ہوں اور جسے یہ بخوشی اللہ کی راہ میں پیش کریں۔“ پہلے چونکہ زکوٰۃ کے احکام تفصیل کے ساتھ نہیں اترے تھے، اس لیے یہی حکم تھا۔ یہ بھی معنی کئے گئے ہیں کہ ”ضرورت سے زائد چیز اللہ کی راہ میں خرچ کر دیا کرو۔ ” یہ بھی مطلب ہے کہ ”مشرکین سے بدلہ نہ لو۔“ دس سال تک تو یہی حکم رہا کہ درگزر کرتے رہو، پھر جہاد کے احکام اترے۔ یہ بھی مطلب ہے کہ ”لوگوں کے اچھے اخلاق اور عمدہ عادات جو ظاہر ہوں، انہی پر نظریں رکھو، ان کے باطن نہ ٹٹولو، تجسس نہ کرو۔“ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما وغیرہ سے بھی یہی تفسیر مروی ہے اور یہی قول زیادہ مشہور ہے۔ حدیث میں ہے کہ { اس آیت کو سن کر جبرائیل علیہ السلام سے آپ نے دریافت کیا کہ اس کا کیا مطلب ہے؟ آپ نے فرمایا: یہ کہ جو تجھ پر ظلم کرے، تو اس سے درگزر کر۔ جو تجھے نہ دے، تو اس کے ساتھ بھی احسان و سلوک کر۔ جو تجھ سے قطع تعلق کرے، تو اس کے ساتھ بھی تعلق رکھ۔ } [تفسیر ابن جریر الطبری:15559] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے: { عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا اور آپ کا ہاتھ تھام کر درخواست کی کہ مجھے افضل اعمال بتائیے۔ آپ نے فرمایا: جو تجھ سے توڑے، تو اس سے بھی جوڑ۔ جو تجھ سے روکے، تو اسے دے، جو تجھ پر ظلم کرے، تو اس پر بھی رحم کر۔ } ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:891] ‏‏‏‏ اوپر والی روایت مرسل ہے اور یہ روایت ضعیف ہے۔ «عرف» سے مراد نیک ہے۔

صحیح بخاری شریف میں ہے کہ { عیینہ بن حصن بن حذیفہ اپنے بھائی حر بن قیس کے ہاں آ کے ٹھہرا، حر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے خاص درباریوں میں تھے، آپ کے درباری اور نزدیکی کا شرف صرف انہیں حاصل تھا جو قرآن کریم کے ماہر تھے۔ خواہ وہ جوان ہوں، خواہ بوڑھے۔ اس نے درخواست کی کہ مجھے آپ امیر المؤمنین عمر کے دربار میں حاضری کی اجازت دلوا دیجئیے۔ آپ نے وہاں جا کر ان کے لیے اجازت چاہی۔ امیر المؤمنین نے اجازت دے دی، یہ جاتے ہی کہنے لگے: اے ابن خطاب! تو ہمیں بکثرت مال بھی نہیں دیتا اور ہم میں عدل کے ساتھ فیصلے بھی نہیں کرتا۔ آپ کو یہ کلام بھی برا لگا، ممکن تھا کہ اسے اس کی اس تہمت پر سزا دیتے لیکن اسی وقت حر نے کہا: اے امیر المؤمنین! اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم فرمایا ہے کہ عفودرگزر کی عادت رکھ، اچھائیوں کا حکم کرتا رہ اور جاہلوں سے چشم پوشی کر۔ امیر المؤمنین یقین کیجئے، یہ نرا جاہل ہے۔ قرآن کریم کی اس آیت کا امیر المؤمنین کے کان میں پڑنا تھا کہ آپ کا تمام رنج و غم، غصہ و غضب جاتا رہا۔ آپ کی یہ تو عادت ہی تھی کہ ادھر اللہ کا نام سنا، ادھر گردن جھکا دی۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4642] ‏‏‏‏

امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ کے پوتے سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ کا ذکر ہے کہ آپ نے شامیوں کے ایک قافلے کو دیکھا، جس میں گھنٹی تھی تو آپ نے فرمایا: یہ گھنٹیاں منع ہیں۔ انہوں نے کہ ہم اس مسئلے کو آپ سے زیادہ جانتے ہیں۔ بڑی بڑی گھنٹیوں سے منع ہے، اس جیسی چھوٹی گھنٹیوں میں کیا حرج ہے؟ سالم نے آیت کا آخری جملہ پڑھ کر ان جاہلوں سے چشم پوشی کر لی۔ عرف، معروف، عارف، عارفہ سب کے ایک ہی معنی ہیں۔ اس میں ہر اچھی بات کی اطاعت کا ذکر آ گیا۔ پھر حکم دیا کہ جاہلوں سے منہ پھیر لیا کر۔ گو یہ حکم آپ کو ہے لیکن دراصل تمام بندوں کو یہی حکم ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تکلیف برداشت کر لیا کرو، تکلیف دہی کا خیال بھی نہ کرو۔ یہ معنی نہیں کہ دین حق کے معاملے میں جو جہالت سے پیش آئے، تم اسے کچھ نہ کہو، مسلمانوں سے جو کفر پر جم کر مقابلہ کرے، تم اسے کچھ نہ کہنا، یہ مطلب اس جملے کا نہیں۔ یہ وہ پاکیزہ اخلاق ہیں جن کا مجسم عملی نمونہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ کسی نے اسی مضمون کو اپنے شعروں میں باندھا ہے۔ «خذ العفو وامر بعرف کما امرت واعرض عن الجاھلین ولن فی الکلام بکل الانام فمستحسن من ذوی الجاھلین» یعنی درگزر کیا کر، بھلی بات بتا دیا کر، جیسے کہ تجھے حکم ہوا ہے، نادانوں سے ہٹ جایا کر، ہر ایک سے نرم کلامی سے پیش آیا کر، یاد رکھ کہ عزت و جاہ پر پہنچ کر نرم اور خوش اخلاق رہنا ہی کمال ہے۔

بعض مسلمانوں کا مقولہ ہے کہ لوگ دو طرح کے ہیں، ایک تو بھلے اور محسن جو احسان و سلوک کریں، قبول کر لے اور ان کے سر نہ ہو جا کہ ان کی وسعت سے زیادہ ان پر بوجھ ڈال دے۔ دوسرے بد اور ظالم، انہیں نیکی اور بھلائی کا حکم دے۔ پھر بھی اگر وہ اپنی جہالت پر اور بد کرداری پر اڑے رہیں اور تیرے سامنے سرکشی اختیار کریں تو، تو ان سے روگردانی کر لے۔ یہی چیز اسے اس کی برائی سے ہٹا دے گی۔ جیسے کہ اللہ کا فرمان ہے «ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ السَّيِّئَةَ نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَا يَصِفُونَ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ السَّيِّئَةَ نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَا يَصِفُونَ وَقُل رَّبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ وَأَعُوذُ بِكَ رَبِّ أَن يَحْضُرُونِ» ۱؎ [23-المؤمنون:96-98] ‏‏‏‏ اور آیت «وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا ذُو حَظٍّ عَظِيمٍ وَإِمَّا يَنزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللَّـهِ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ» ۱؎ [41-فصلت:34-36] ‏‏‏‏ بہترین طریق سے دفع کر دو تو تمہارے دشمن بھی تمہارے دوست بن جائیں گے، لیکن یہ انہی سے ہو سکتا ہے جو صابر ہوں اور نصیبوں والے ہوں۔ اس کے بعد شیطانی وسوسوں سے اللہ کی پناہ مانگنے کا حکم ہوا، اس لیے کہ وہ سخت ترین دشمن ہے اور ہے بھی احسان فراموش۔ انسانی دشمنوں سے بچاؤ تو عفوودرگزر اور سلوک و احسان سے ہو جاتا ہے۔ لیکن اس ملعون سے سوائے اللہ کی پناہ کے اور کوئی بچاؤ نہیں۔ یہ تینوں حکم جو سورۃ الاعراف کی ان تین آیات میں ہیں، یہی سورۃ مومنون میں بھی ہیں اور سورۃ حم السجدہ میں بھی ہیں۔ شیطان تو آدم علیہ السلام کے وقت سے دشمن انسان ہے۔ یہ جب غصہ دلائے، جوش میں لائے، فرمان الٰہی کے خلاف ابھارے، جاہلوں سے بدلہ لینے پر آمادہ کرے تو اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگ لیا کرو۔ وہ جاہلوں کی جہالت کو بھی جانتا ہے اور تیرے بچاؤ کی ترکیبوں کو بھی جانتا ہے۔

ساری مخلوق کا اسے علم ہے وہ تمام کاموں سے خبردار ہے۔ کہتے ہیں کہ جب اگلے تین حکم سنے تو کہا: اسے اللہ ان کاموں کے کرنے کے وقت تو شیطان ان کے خلاف بری طرح آمادہ کر دے گا اور نفس تو جوش انتقام سے پر ہوتا ہی ہے، کہیں ان کی خلاف ورزی نہ ہو جائے تو یہ پچھلی آیت نازل ہوئی کہ ایسا کرنے سے شیطانی وسوسہ دفع ہو جائے گا اور تم ان اخلاق کریمانہ پر عامل ہو جاؤ گے۔ میں نے اپنی اسی تفسیر کے شروع میں ہی «اعوذ» کی بحث میں اس حدیث کو بھی وارد کیا ہے کہ { دو شخص لڑ جھگڑ رہے تھے جن میں سے ایک سخت غضبناک تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے ایک ایسا کلمہ یاد ہے، اگر یہ کہہ لے تو ابھی یہ بات جاتی رہے۔ وہ کلمہ «اعُوذُ بِاللّہِ مِن الشِّیطانِ الرَّجِیمِ» ہے۔ کسی نے اس میں بھی ذکر کیا تو اس نے کہا کہ کیا میں کوئی دیوانہ ہو گیا ہوں؟ } ۱؎ [صحیح بخاری:3282] ‏‏‏‏ «نزغ» کے اصلی معنی فساد کے ہیں، وہ خواہ غصے سے ہو یا کسی اور وجہ سے۔ فرمان قرآن ہے کہ «وَقُل لِّعِبَادِي يَقُولُوا الَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَنزَغُ بَيْنَهُمْ» ۱؎ [17-الإسراء:53] ‏‏‏‏ ’ میرے بندوں کو آگاہ کر دو کہ وہ بھلی بات زبان سے نکالا کریں۔ شیطان ان میں فساد کی آگ بھڑکانا چاہتا ہے۔ ‘ «عیاذ» کے معنی التجا اور استناد کے ہیں اور «ملاذ» کا لفظ طلب خیر کے وقت بولا جاتا ہے جیسے حسن بن ہانی کا شعر ہے۔ «بامن الوذبہ فیما اوملہ ومن اعوذ بہ مما احاذرہ لا یجبر الناس عظما انت کاسرہ ولا یھیضون عظما انت جابرہ» یعنی اے اللہ! تو میری آرزوؤں کا مرکز ہے اور میرے بچاؤ اور پناہ کا مسکن ہے۔ مجھے یقین ہے کہ جس ہڈی کو تو توڑنا چاہے، اسے کوئی جوڑ نہیں سکتا اور جسے تو جوڑنا چاہے، اسے کوئی توڑ نہیں سکتا۔ باقی احادیث جو تعوذ (‏‏‏‏اعوذ باللہ) کے متعلق تھیں، وہ ہم اپنی اس تفسیر کے شروع میں ہی لکھ آئے ہیں۔
20۔ 1 اور اس موقع پر اگر آپ کو شیطان اشتعال میں لانے کی کوشش کرے تو آپ اللہ کی پناہ طلب فرمائیں۔
(آیت 200) {وَ اِمَّا يَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطٰنِ نَزْغٌ …: } قرآن میں تین مقامات پر معروف کا حکم دینے، درگزر کرنے، بہترین طریقے سے جواب دینے اور جاہلوں سے اعراض کا حکم دیا گیا ہے۔ ایک پچھلی آیت میں، دوسرا سورۂ مومنون (۹۶ تا ۹۸) میں اور تیسرا حم السجدہ (۳۴ تا ۳۶) میں اور حم السجدہ میں اس کا فائدہ یہ بتایا گیا ہے کہ دشمن بھی متاثر ہو کر دلی دوست کی طرح ہو جائے گا، مگر شیطان پر احسان کسی طرح اثر انداز نہیں ہوتا، کیونکہ وہ کھلا دشمن ہے اور ہر موقع پر انسان کو اکساتا اور غصہ دلاتا ہے۔ اس شیطانی حملے کا مقابلہ انسان کے بس کی بات نہیں، اس لیے تینوں آیات میں حکم دیا کہ اگر معلوم ہو کہ شیطان مجھے بھڑکا رہا ہے، غصے پر اکسا رہا ہے تو فوراً اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگو۔ اس پناہ کے سامنے شیطان بے بس ہے۔ قاموس میں {” نَزْغٌ “} کا معنی ”چوکا مارنا، بھڑکانا اور وسوسہ ڈالنا“ لکھا ہے۔ سلیمان بن صرد الخزاعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ دو آدمی آپس میں گالی گلوچ کرنے لگے، ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے، ان میں سے ایک سخت غصے میں اپنے ساتھی کو گالیاں دے رہا تھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ایسا کلمہ جانتا ہوں کہ اگر وہ اسے کہہ لے تو جو حالت اس کی ہے ختم ہو جائے، وہ ہے {” اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ“} لوگوں نے اس آدمی سے کہا: ”تم سنتے نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرما رہے ہیں؟“ اس نے کہا: ”میں کوئی پاگل نہیں ہوں۔“ [ بخاری، الأدب، باب الحذر من الغضب …: ۶۱۱۵۔ مسلم: ۲۶۱۰ ] اوپر جن تین آیات کے حوالے دیے گئے ہیں ان کے حواشی بھی ملاحظہ فرمائیں۔