بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الأعراف — Surah Araf
آیت نمبر 184
کل آیات: 206
قرآن کریم الأعراف آیت 184
آیت نمبر: 184 — سورۃ الأعراف islamicurdubooks.com ↗
اَوَ لَمۡ یَتَفَکَّرُوۡا ٜ مَا بِصَاحِبِہِمۡ مِّنۡ جِنَّۃٍ ؕ اِنۡ ہُوَ اِلَّا نَذِیۡرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۱۸۴﴾
اور کیا اِن لوگوں نے کبھی سوچا نہیں؟ اِن کے رفیق پر جنون کا کوئی اثر نہیں ہے وہ تو ایک خبردار ہے جو (برا انجام سامنے آنے سے پہلے) صاف صاف متنبہ کر رہا ہے
کیا ان لوگوں نے اس بات پر غور نہ کیا کہ ان کے ساتھی کو ذرا بھی جنون نہیں وه تو صرف ایک صاف صاف ڈرانے والے ہیں
کیا سوچتے نہیں کہ ان کے صاحب کو جنوں سے کچھ علاقہ نہیں، وہ تو صا ف ڈر سنانے والے ہیں
کیا ان لوگوں نے اتنا بھی نہیں سوچا کہ ان کے ساتھی (پیغمبر اسلام(ص)) میں ذرا بھی جنون نہیں ہے۔ وہ تو بس کھلم کھلا (خدا کے عذاب سے) ڈرانے والا ہے۔
اور کیا انھوں نے غور نہیں کیا کہ ان کے ساتھی میں جنون کی کون سی چیز ہے؟ وہ تو ایک کھلم کھلا ڈرانے والے کے سوا کچھ نہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

صداقت رسالت پر اللہ کی گواہی ٭٭

کیا ان کافروں نے کبھی اس بات پر غور کیا کہ «وَمَا صَاحِبُكُم بِمَجْنُونٍ» ۱؎ [81-التكوير:22] ‏‏‏‏ ’ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں جنون کی کوئی بات بھی ہے؟ ‘ جیسے فرمان ہے «قُلْ إِنَّمَا أَعِظُكُم بِوَاحِدَةٍ أَن تَقُومُوا لِلَّـهِ مَثْنَىٰ وَفُرَادَىٰ ثُمَّ تَتَفَكَّرُوا مَا بِصَاحِبِكُم مِّن جِنَّةٍ إِنْ هُوَ إِلَّا نَذِيرٌ لَّكُم بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيدٍ» ۱؎ [34-سبأ:46] ‏‏‏‏ ’ آؤ میری ایک بات تو مان لو، ذرا سی دیر خلوص کے ساتھ اللہ کو حاضر جان کر اکیلے وکیلے غور تو کرو کہ مجھ میں کون سا دیوانہ پن ہے؟ میں تو تمہیں آنے والے سخت خطرے کی اطلاع دے رہا ہوں کہ اس سے ہوشیار رہو۔ ‘ جب تم یہ کرو گے تو خود اس نتیجے پر پہنچ جاؤ گے کہ میں مجنون نہیں بلکہ اللہ کا پیغام دے کر تم میں بھیجا گیا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ صفا پہاڑ پر چڑھ کر قریشیوں کے ایک ایک قبیلے کا الگ الگ نام لے کر انہیں اللہ کے عذابوں سے ڈرایا اور اسی طرح صبح کر دی تو بعض کہنے لگے کہ دیوانہ ہو گیا ہے۔ اس پر یہ آیت اتری۔

📖 احسن البیان

184۔ 1 صَاحِب سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی ہے جن کی بابت مشرکین کبھی ساحر اور کبھی مجنون (نعوذ باللہ) کہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ تمہارے عدم تفکر کا نتیجہ ہے وہ تو تمہارا پیغمبر ہے جو ہمارے احکام پہنچانے والا اور ان سے غفلت اور اعراض کرنے والوں کو ڈرانے والا ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 184) {اَوَ لَمْ يَتَفَكَّرُوْا مَا بِصَاحِبِهِمْ مِّنْ جِنَّةٍ......:} اوپر کی آیات میں ان کی غفلت اور بے رخی پر تنبیہ تھی، اب یہاں سے نبوت پر ان کے شبہات کی تردید ہو رہی ہے۔ کفار قریش آپ کو مجنون (پاگل) قرار دیتے تھے، دیکھیے سورۂ حجر (۶) اور دخان (۱۳، ۱۴) اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اس کے دو جواب دیے، ایک یہ کہ کبھی تم نے سوچا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی اور جگہ سے نہیں آئے، تمھارے ساتھی ہیں، تمھی میں رہتے ہیں، تم ان سے خوب واقف ہو، انھوں نے چالیس برس تم میں گزارے ہیں، کچھ غور تو کرو، کیا پاگل ایسے ہوتے ہیں؟ {” صَاحِبُكُمْ “} (تمھارے ساتھی) کے لفظ میں یہی جواب دیا گیا ہے۔ دیکھیے سورۂ یونس (۱۶) دوسرا یہ کہ ان لوگوں نے کبھی یہ سوچا بھی ہے کہ جن باتوں کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم حکم دیتے ہیں، مثلاً توحید، نماز، صدقہ، صلہ رحمی، پاک دامنی اور صدق وغیرہ ان میں سے کون سی چیز جنون ہے، یا آپ کے عادات و خصائل میں کون سی چیز ہے جسے جنون کہا جا سکے، آپ تو محض اللہ تعالیٰ اور اس کے عذاب سے کھلم کھلا ڈرانے والے ہیں۔ [ديكهيے سورهٔ سبا ۴۶]
← پچھلی آیت (183) پوری سورۃ اگلی آیت (185) →