بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الأعراف — Surah Araf
آیت نمبر 178
کل آیات: 206
قرآن کریم الأعراف آیت 178
آیت نمبر: 178 — سورۃ الأعراف islamicurdubooks.com ↗
مَنۡ یَّہۡدِ اللّٰہُ فَہُوَ الۡمُہۡتَدِیۡ ۚ وَ مَنۡ یُّضۡلِلۡ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡخٰسِرُوۡنَ ﴿۱۷۸﴾
جسے اللہ ہدایت بخشے بس وہی راہ راست پاتا ہے اور جس کو اللہ اپنی رہنمائی سے محروم کر دے وہی ناکام و نامراد ہو کر رہتا ہے
جس کو اللہ ہدایت کرتا ہے سو ہدایت پانے واﻻ وہی ہوتا ہے اور جس کو وه گمراه کر دے سو ایسے ہی لوگ خسارے میں پڑنے والے ہیں
جسے اللہ راہ دکھائے تو وہی راہ پر ہے، اور جسے گمراہ کرے تو وہی نقصان میں رہے،
جس کو اللہ ہدایت دے وہی ہدایت یافتہ ہے اور جسے وہ گمراہی میں چھوڑ دے وہی لوگ گھاٹا اٹھانے والے ہیں۔
جسے اللہ ہدایت دے سو وہی ہدایت پانے والا ہے اور جسے وہ گمراہ کر دے سو وہی خسارہ اٹھانے والے ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

بہترین دعا ٭٭

رب جنہیں راہ دکھائے، انہیں کوئی بےراہ نہیں کر سکتا اور جسے وہی غلط راہ پر ڈال دے، اس کی شومی قسمت میں کیا شک ہے؟ اللہ کا چاہا ہوتا ہے، اس کا نہ چاہا کبھی نہیں ہو سکتا۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ { سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔ ہم اس کی حمد و ثنا بیان کرتے ہیں اور اسی سے مدد چاہتے ہیں اور اسی سے ہدایت طلب کرتے ہیں اور اسی سے بخشش مانگتے ہیں۔ ہم اپنے نفس کی شرارتوں سے اللہ کی پناہ لیتے ہیں اور اپنے اعمال کی برائیوں سے بھی۔ اللہ کے راہ دکھائے ہوئے کو کوئی بہکا نہیں سکتا اور اس کے گمراہ کئے ہوئے کو کوئی راہ راست پر لا نہیں سکتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ معبود صرف اللہ ہی ہے۔ وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور میری گواہی ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں الخ۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:2118، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ (‏‏‏‏مسند احمد وغیرہ)

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 178) {مَنْ يَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِيْ …:} ہدایت کا نور اللہ تعالیٰ کی عطا ہے، وہ اس کا مالک ہے، جسے چاہے عطا کر دے اور جسے چاہے عطا نہ کرے اور وہ ضلالت کے اندھیروں میں بھٹکتا رہے۔ یہ مسئلۂ تقدیر ہے، اس پر ایمان لانا واجب ہے اور اس پر بھی ایمان لانا واجب ہے کہ وہ کسی کو ہدایت نہ دے تو ظالم نہیں، کیونکہ مالک جسے چاہے اپنی چیز دے جسے چاہے نہ دے اور وہ تو ایسا مالک ہے جس سے کوئی پوچھنے کی جرأت بھی نہیں کر سکتا، فرمایا: «{ لَا يُسْـَٔلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَ هُمْ يُسْـَٔلُوْنَ }» [ الأنبیاء: ۲۳ ] ”اس سے نہیں پوچھا جاتا اس کے متعلق جو وہ کرے اور ان سے پوچھا جاتا ہے۔“ ہاں، یہ بات ضرور ہے کہ اس نے جو کچھ کیا ہے وہ عین عدل ہے، کیونکہ وہ ذرہ برابر ظلم نہیں کرتا، فرمایا: «{ وَ مَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيْدِ }» [ حٰمٓ السجدۃ: ۴۶ ] ”اور تیرا رب اپنے بندوں پر ہر گز کوئی ظلم کرنے والا نہیں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہر خطبہ میں حمد و ثنا کے بعد فرمایا کرتے تھے: [ مَنْ يَّهْدِهِ اللّٰهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ وَ مَنْ يُّضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ ] [ مسلم، الجمعۃ، باب تخفیف الصلاۃ والخطبۃ:۸۶۸، عن ابن عباس رضی اللہ عنھما ] ”جسے اللہ سیدھی راہ پر لگائے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے وہ گمراہ کر دے اسے کوئی سیدھی راہ پر نہیں لگا سکتا۔“
← پچھلی آیت (177) پوری سورۃ اگلی آیت (179) →