بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الأعراف — Surah Araf
آیت نمبر 179
کل آیات: 206
قرآن کریم الأعراف آیت 179
آیت نمبر: 179 — سورۃ الأعراف islamicurdubooks.com ↗
وَ لَقَدۡ ذَرَاۡنَا لِجَہَنَّمَ کَثِیۡرًا مِّنَ الۡجِنِّ وَ الۡاِنۡسِ ۫ۖ لَہُمۡ قُلُوۡبٌ لَّا یَفۡقَہُوۡنَ بِہَا ۫ وَ لَہُمۡ اَعۡیُنٌ لَّا یُبۡصِرُوۡنَ بِہَا ۫ وَ لَہُمۡ اٰذَانٌ لَّا یَسۡمَعُوۡنَ بِہَا ؕ اُولٰٓئِکَ کَالۡاَنۡعَامِ بَلۡ ہُمۡ اَضَلُّ ؕ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡغٰفِلُوۡنَ ﴿۱۷۹﴾
اور یہ حقیقت ہے کہ بہت سے جن اور انسان ایسے ہیں جن کو ہم نے جہنم ہی کے لیے پیدا کیا ہے ان کے پاس دل ہیں مگر وہ ان سے سوچتے نہیں ان کے پاس آنکھیں ہیں مگر وہ ان سے دیکھتے نہیں ان کے پاس کان ہیں مگر وہ ان سے سنتے نہیں وہ جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گئے گزرے، یہ وہ لوگ ہیں جو غفلت میں کھو ئے گئے ہیں
اور ہم نے ایسے بہت سے جن اور انسان دوزخ کے لیے پیدا کئے ہیں، جن کے دل ایسے ہیں جن سے نہیں سمجھتے اور جن کی آنکھیں ایسی ہیں جن سے نہیں دیکھتے اور جن کے کان ایسے ہیں جن سے نہیں سنتے۔ یہ لوگ چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ یہ ان سے بھی زیاده گمراه ہیں۔ یہی لوگ غافل ہیں
اور بیشک ہم نے جہنم کے لیے پیدا کیے بہت جن اور آدمی اور دل رکھتے ہیں جن میں سمجھ نہیں اور وہ آنکھیں جن سے دیکھتے نہیں اور وہ کان جن سے سنتے نہیں وہ چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بڑھ کر گمراہ وہی غفلت میں پڑے ہیں،
اور کتنے جن و انسان ایسے ہیں جنہیں ہم نے جہنم کے لیے پیدا کیا ہے (یعنی ان کا انجامِ کار جہنم ہے) ان کے دل و دماغ ہیں مگر سوچتے نہیں ہیں۔ ان کی آنکھیں ہیں مگر وہ ان سے دیکھتے نہیں اور ان کے کان ہیں مگر وہ ان سے سنتے نہیں ہیں۔ یہ لوگ چوپایوں کی طرح ہیں۔ بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ (اور گئے گزرے) ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو بالکل غافل و بے خبر ہیں۔
اور بلاشبہ یقینا ہم نے بہت سے جن اور انسان جہنم ہی کے لیے پیدا کیے ہیں، ان کے دل ہیں جن کے ساتھ وہ سمجھتے نہیں اور ان کی آنکھیں ہیں جن کے ساتھ وہ دیکھتے نہیں اور ان کے کان ہیں جن کے ساتھ وہ سنتے نہیں، یہ لوگ چوپاؤں جیسے ہیں، بلکہ یہ زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں، یہی ہیں جو بالکل بے خبر ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

اللہ تعالٰی عالم الغیب ہے ٭٭

بہت سے انسان اور جن جہنمی ہونے والے ہیں اور ان سے ویسے ہی اعمال سرزد ہوتے ہیں۔ مخلوق میں سے کون کیسے عمل کرے گا؟ یہ علام الغیوب کو ان کی پیدائش سے پہلے ہی معلوم ہوتا ہے، پس { اپنے علم کے مطابق اپنی کتاب میں آسمان و زمین کی پیدائش سے پچاس ہزار برس پہلے ہی لکھ لیا۔ جبکہ اس کا عرش پانی پر تھا۔ } یہ صحیح مسلم شریف کی حدیث ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2653] ‏‏‏‏ ایک اور روایت میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری نابالغ بچے کے جنازے پر بلوائے گئے تو میں نے کہا: مبارک ہو اس کو، یہ تو جنت کی چڑیا ہے۔ نہ برائی کی، نہ برائی کا وقت پایا۔ آپ نے فرمایا: کچھ اور بھی؟ سن! اللہ تعالیٰ نے جنت اور جنت والوں کو پیدا کیا ہے اور انہیں جنتی مقرر کر دیا ہے حالانکہ وہ ابھی تو اپنے باپوں کی پیٹھوں میں ہی تھے۔ اسی طرح اس نے جہنم بنائی ہے اور اس کے رہنے والے پیدا کئے ہیں۔ انہیں اسی لیے مقرر کر دیا۔ درآں حالیکہ اب تک وہ اپنے باپوں کی پشت میں ہی ہیں۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2662] ‏‏‏‏ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے: { ماں کے رحم میں اللہ تعالیٰ اپنا فرشتہ بھیجتا ہے جو اس کے حکم سے چاروں چیزوں یعنی روزی، عمل، عمر اور نیکی یا بدی لکھ لیتا ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3208] ‏‏‏‏ یہ بھی بیان گزر چکا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اولاد آدم کو پشت آدم سے نکالا تو ان کے دو حصے کر دیئے، دائیں والے اور بائیں والے۔ اور فرما دیا: یہ جنتی ہیں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں اور یہ جہنمی ہیں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں۔ اس بارے میں بہت سی حدیثیں ہیں اور تقدیر کا مسئلہ کوئی معمولی مسئلہ نہیں کہ یہاں پورا بیان ہو جائے۔ یہاں مقصد یہ ہے کہ ایسے خالی از خیر محروم قسمت لوگ کسی چیز سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔ تمام اعضاء ہوتے ہیں لیکن قوتیں سب سے چھن جاتی ہیں۔ اندھے، بہرے، گونگے بن کر زندگی گڑھے میں ہی گزار دیتے ہیں۔ اگر ان میں خیر باقی ہوتی تو اللہ اپنی باتیں انہیں سناتا بھی۔ یہ تو خیر سے بالکل خالی ہو گئے، سنتے ہیں اور ان سنی کر جاتے ہیں۔ آنکھیں ہی نہیں بلکہ دل کی آنکھیں اندھی ہو گئی ہیں۔ رحمان کے ذکر سے منہ موڑنے کی سزا یہ ملی ہے کہ شیطان کے بھائی بن گئے ہیں، راہ حق سے دور جا پڑے ہیں مگر سمجھ یہی رہے ہیں کہ ہم سچے اور صحیح راستے پر ہیں۔ ان میں اور چوپائے جانوروں میں کوئی فرق نہیں۔ نہ یہ حق کو دیکھیں، نہ ہدایت کو دیکھیں، نہ اللہ کی باتوں کو سوچیں۔

چوپائے بھی تو اپنے حواس کو دنیا کے کام میں لاتے ہیں، اسی طرح یہ بھی فکر عقبیٰ سے، ذکر رب سے، راہ مولا سے غافل، گونگے اور اندھے ہیں۔ جیسے فرمان ہے «وَمَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِمَا لَا يَسْمَعُ إِلَّا دُعَاءً وَنِدَاءً صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَعْقِلُونَ» ۱؎ [2-البقرة:171] ‏‏‏‏ یعنی ’ ان کافروں کی مثال تو اس شخص کی سی ہے جو اس کے پیچھے چلا رہا ہے جو درحقیقت سنتی ونتی خاک بھی نہیں۔ ہاں! صرف شور و غل تو اس کے کان میں پڑتا ہے۔ ‘ چوپائے آواز تو سنتے ہیں لیکن کیا کہا؟ اسے سمجھے ان کی بلا۔ پھر ترقی کر کے فرماتا ہے کہ یہ ظالم تو چوپایوں سے بھی بدترین ہیں کہ چوپائے گو نہ سمجھیں لیکن آواز پر کان تو کھڑے کر دیتے ہیں، اشاروں پر حرکت تو کرتے ہیں، یہ تو اپنے مالک کو اتنا بھی نہیں سمجھتے۔ اپنی پیدائش کی غایت کو آج تک معلوم ہی نہیں کیا، جبھی تو اللہ سے کفر کرتے ہیں اور غیر اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔ اس کے برخلاف جو اللہ کا مطیع انسان ہو، وہ اللہ کے اطاعت گزار فرشتے سے بہتر ہے اور کفار انسان سے چوپائے جانور بہتر ہیں، ایسے لوگ پورے غافل ہیں۔

📖 احسن البیان

179۔ 1 اس کا تعلق تقدیر سے ہے۔ یعنی ہر انسان اور جن کی بابت اللہ کو علم تھا کہ وہ دنیا میں جا کر اچھے یا برے کیا عمل کرے گا، اس کے مطابق اس نے لکھ رکھا ہے۔ یہ انہیں دوزخیوں کا ذکر ہے جنہیں اللہ کے علم کے مطابق دوزخ والے ہی کام کرنے تھے۔ آگے ان کی مزید صفات بیان کرکے بتادیا گیا ہے کہ جن لوگوں کے اندر یہ چیزیں اس انداز میں ہوں جس کا ذکر یہاں کیا گیا ہے، تو سمجھ لو کہ اس کا انجام برا ہے۔ (2) یعنی دل آنکھ کان یہ چیزیں اللہ نے اس لیے دی ہیں کہ انسان ان سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے پروردگار کو سمجھے اس کی آیات کا مشاہدہ کرے اور حق کی بات کو غور سے سنے۔ لیکن جو شحص ان مشاعر سے یہ کام نہیں لیتا وہ گویا ان سے عدم انتفاع (فائدہ نہ اٹھانے) میں چوپایوں کی طرح بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہے۔ اس لیے کہ چوپایے تو پھر بھی اپنے نفع نقصان کا کچھ شعور رکھتے ہیں اور نفع والی چیزوں سے نفع اٹھاتے اور نقصان دینے والی چیزوں سے بچ کر رہتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کی ہدایت سے اعراض کرنی والے شخص کے اندر تو یہ تمیز کرنے کی صلاحیت ہی ختم ہوجاتی ہے کہ اس کے لیے مفید چیز کون سی ہے اور مضر کون سی؟ اسی لیے اگلے جملے میں انہیں غافل بھی کہا گیا ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 179) ➊ {وَ لَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ:لِجَهَنَّمَ “} میں لام عاقبت (برائے انجام) بھی ہو سکتا ہے، یعنی اپنے حواس سے صحیح فائدہ نہ اٹھانے کی وجہ سے وہ انجام کار جہنم میں جائیں گے، گویا انھیں جہنم ہی کے لیے پیدا کیا گیا ہے اور لام غایت کا بھی ہو سکتا ہے، یعنی کائنات کو بناتے ہوئے اللہ تعالیٰ کو آئندہ کی ہر بات کا علم تھا کہ فلاں جن یا انسان نے دنیا میں جا کر دوزخیوں والے کام کرنے تھے، اسی علم کے مطابق اس نے سب کچھ لکھ دیا تھا، اس کا نام قضا و قدر ہے، آگے اہل جہنم کی صفات بیان ہوئی ہیں کہ جن میں یہ صفات ہوں وہ ہدایت قبول نہیں کیا کرتے، گو اللہ کا شریعت اور انبیاء کے بھیجنے کا مقصد یہی ہے کہ انسان اللہ کی عبادت کرے، مگر اسے پہلے ہی یہ بھی علم ہے کہ کون شریعت پر چلے گا اور کون نہیں چلے گا۔ علماء نے تقدیر میں اور انسان کے مجبور ہونے میں فرق کی وضاحت فرمائی ہے۔ ➋ { لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ بِهَا …:} یعنی اللہ تعالیٰ نے انھیں دل، آنکھیں اور کان تو اس لیے دیے ہیں کہ وہ ان سے فائدہ اٹھا کر اپنے مالک کو پہچانیں، کائنات اور اپنی ذات میں اس کی نشانیوں کا مشاہدہ کریں، حق کی بات غور سے سنیں اور اسے قبول کریں، مگر جب انھوں نے ان سے فائدہ نہیں اٹھایا تو وہ انعام (چوپاؤں) کی طرح بلکہ ان سے بھی زیادہ بھٹکے ہوئے ثابت ہوئے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے چوپاؤں کی طبیعت میں جو تقاضے رکھے ہیں اور جس مقصد کے لیے وہ پیدا ہوئے ہیں وہ بخوبی پورا کر رہے ہیں، اس کے برعکس کفار اپنے مقصدِ حیات، یعنی عبادت کے بجائے اپنے ارادہ و اختیار سے اپنے خالق کی نافرمانی کر رہے ہیں۔ ➌ {اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ:} یعنی اپنے مقصدِ حیات سے غافل ہیں اور مرنے کے بعد کی زندگی اور جواب دہی سے بے فکر ہیں۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچاننا اور ان کے احکام کو سیکھنا ہر شخص پر فرض ہے، اگر کوئی ایسا نہ کرے گا تو جہنم میں جائے گا۔“ (موضح)
← پچھلی آیت (178) پوری سورۃ اگلی آیت (180) →