بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الأعراف — Surah Araf
آیت نمبر 182
کل آیات: 206
قرآن کریم الأعراف آیت 182
آیت نمبر: 182 — سورۃ الأعراف islamicurdubooks.com ↗
وَ الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا سَنَسۡتَدۡرِجُہُمۡ مِّنۡ حَیۡثُ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۸۲﴾ۚۖ
رہے وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلا دیا ہے، تو انہیں ہم بتدریج ایسے طریقہ سے تباہی کی طرف لے جائیں گے کہ انہیں خبر تک نہ ہوگی
اور جو لوگ ہماری آیات کو جھٹلاتے ہیں ہم ان کو بتدریج (گرفت میں) لئے جارہے ہیں اس طور پر کہ ان کو خبر بھی نہیں
اور جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں جلد ہم انہیں آہستہ آہستہ عذاب کی طرف لے جائیں گے جہاں سے انہیں خبر نہ ہوگی
اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں (نشانیوں) کو جھٹلایا ہم انہیں بتدریج (آہستہ آہستہ ان کے انجام بد کی طرف) لے جائیں گے کہ انہیں اس کی خبر تک نہ ہوگی۔
اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا ہم ضرور انھیں آہستہ آہستہ کھینچ کر لے جائیں گے، جہاں سے وہ نہیں جانتے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

سامان تعیش کی کثرت عتاب الٰہی بھی ہے ٭٭

اور آیت میں ہے «فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُكِّرُوا بِهِ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّىٰ إِذَا فَرِحُوا بِمَا أُوتُوا أَخَذْنَاهُم بَغْتَةً فَإِذَا هُم مُّبْلِسُونَ فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِينَ ظَلَمُوا وَالْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» ۱؎ [6-الأنعام:44-45] ‏‏‏‏ یعنی ایسے لوگوں کو روزی میں کشادی دی جائے گی، معاش کی آسانیاں ملیں گی، وہ دھوکے میں پڑ جائیں گے اور حقانیت کو بھول جائیں گے۔ جب پورے مست ہو جائیں گے اور ہماری نصیحت کو گئی گزری کر دیں گے تو ہم انہیں ہر طرح کے آرام دیں گے یہاں تک کہ وہ مست ہو جائیں گے، تب انہیں ہم ناگہانی پکڑ میں پکڑ لیں گے۔ اس وقت وہ مایوسی کے ساتھ منہ تکتے رہ جائیں گے اور ان ظالموں کی رگ کٹ جائے گی۔ حقیقتاً تعریفوں کے لائق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ انہیں میں تو ڈھیل دوں گا اور یہ میرے اس داؤ سے بےخبر ہوں گے۔ میری تدبیر کبھی ناکام نہیں ہوتی، وہ بڑی مضبوط اور مستحکم ہوتی ہے۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 182){ وَ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا سَنَسْتَدْرِجُهُمْ …:} یعنی ان پر فوری گرفت نہیں کروں گا، تاکہ وہ غفلت میں پڑے رہیں اور گناہ پر گناہ کرتے جائیں، اسی کا نام ڈھیل اور استدراج (آہستہ آہستہ کھینچ کر لے جانا) ہے، جو کفار کو ان کے گناہوں کی سزا میں دی جاتی ہے، مگر وہ اپنی حماقت سے یہ سمجھتے ہیں کہ ہم پر بڑی مہربانی ہو رہی ہے، حالانکہ انھیں آخری عذاب کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ دیکھیے سورۂ انعام (۴۴، ۴۵)۔
← پچھلی آیت (181) پوری سورۃ اگلی آیت (183) →