بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
الأعراف
سورۃ الأعراف — 206 آیات — صفحہ 2 از 5
قرآن کریم Surah 7
الَّذِیۡنَ اتَّخَذُوۡا دِیۡنَہُمۡ لَہۡوًا وَّ لَعِبًا وَّ غَرَّتۡہُمُ الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَا ۚ فَالۡیَوۡمَ نَنۡسٰہُمۡ کَمَا نَسُوۡا لِقَآءَ یَوۡمِہِمۡ ہٰذَا ۙ وَ مَا کَانُوۡا بِاٰیٰتِنَا یَجۡحَدُوۡنَ ﴿۵۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جنہوں نے اپنے دین کو کھیل اور تفریح بنا لیا تھا اور جنہیں دنیا کی زندگی نے فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اللہ فرماتا ہے کہ آج ہم بھی انہیں اسی طرح بھلا دیں گے جس طرح وہ اِس دن کی ملاقات کو بھولے رہے اور ہماری آیتوں کا انکار کرتے رہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
جنہوں نے دنیا میں اپنے دین کو لہو ولعب بنا رکھا تھا اور جن کو دنیاوی زندگی نے دھوکہ میں ڈال رکھا تھا۔ سو ہم (بھی) آج کے روز ان کا نام بھول جائیں گے جیسا کہ وه اس دن کو بھول گئے اور جیسا یہ ہماری آیتوں کا انکار کرتے تھے
احمد رضا خان بریلوی
جنہوں نے اپنے دین کو کھیل تماشا بنایا اور دنیا کی زیست نے انہیں فریب دیا تو آج ہم انہیں چھوڑ دیں گے جیسا انہوں نے اس دن کے ملنے کا خیال چھوڑا تھا اور جیسا ہماری آیتوں سے انکار کرتے تھے،
علامہ محمد حسین نجفی
جنہوں نے اپنے دین کو کھیل تماشہ بنا لیا تھا اور جنہیں زندگانئ دنیا نے دھوکہ دیا تھا آج ہم بھی انہیں اسی طرح بھلا دیں گے جس طرح انہوں نے آج کے اس دن کی حاضری کو بھلا دیا تھا۔ اور جیسے وہ ہماری آیتوں کو برابر جھٹلاتے رہے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
وہ جنھوں نے اپنے دین کو دل لگی اور کھیل بنا لیا اور انھیں دنیا کی زندگی نے دھوکا دیا تو آج ہم انھیں بھلا دیں گے، جیسے وہ اپنے اس دن کی ملاقات کو بھول گئے اور جیسے وہ ہماری آیات کا انکار کیا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جیسی کرنی ویسی بھرنی ٭٭

دوزخیوں کی ذلت و خواری اور ان کا بھیک مانگنا اور ڈانٹ دیا جانا بیان ہو رہا ہے کہ وہ جنتیوں سے پانی یا کھانا مانگیں گے۔ اپنے نزدیک کے رشتے، کنبے والے جیسے باپ، بیٹے، بھائی، بہن وغیرہ سے کہیں گے کہ ہم جل بھن رہے ہیں، بھوکے پیاسے ہیں، ہمیں ایک گھونٹ پانی یا ایک لقمہ کھانا دے دو۔ وہ بحکم الٰہی انہیں جواب دیں گے کہ یہ سب کچھ کفار پر حرام ہے۔ { سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال ہوتا ہے کہ کس چیز کا صدقہ افضل ہے؟ فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ سب سے افضل خیرات پانی ہے۔ دیکھو جہنمی اہل جنت سے اسی کا سوال کریں گے۔ } ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:2673:اسنادہ فیه جهالة] ‏‏‏‏ مروی ہے کہ { جب ابوطالب موت کی بیماری میں مبتلا ہوا تو قریشیوں نے اس سے کہا: کسی کو بھیج کر اپنے بھتیجے سے کہلواؤ کہ وہ تمہارے پاس جنتی انگور کا ایک خوشہ بھجوا دے تاکہ تیری بیماری جاتی رہے۔ جس وقت قاصد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا ہے، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آپ کے پاس موجود تھے۔ سنتے ہی فرمانے لگے: اللہ نے جنت کی کھانے پینے کی چیزیں کافروں پر حرام کر دی ہیں۔ } ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:166/3:مرسل] ‏‏‏‏ پھر ان کی بدکرداری بیان فرمائی کہ یہ لوگ دین حق کو ایک ہنسی کھیل سمجھے ہوئے تھے۔ دنیا کی زینت اور اس کے بناؤ چناؤ میں ہی عمر بھر مشغول رہے۔ یہ چونکہ اس دن کو بھول بسر گئے تھے۔ اس کے بدلے ہم بھی ان کے ساتھ ایسا معاملہ کریں گے جو کسی بھول جانے والے کا معاملہ ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ بھولنے سے پاک ہے، اس کے علم سے کوئی چیز نکل نہیں سکتی۔ فرماتا ہے: «لَا يَضِلُّ رَبِّيْ وَلَا يَنْسَى» ۱؎ [20-طه:52] ‏‏‏‏ ’ نہ وہ بہکے، نہ بھولے۔ ‘

یہاں جو فرمایا: یہ صرف مقابلہ کیلئے ہے۔ جیسے فرمان ہے: «نَسُوا اللَّـهَ فَنَسِيَهُمْ» ۱؎ [9-التوبة:67] ‏‏‏‏ اور جیسے دوسری آیت میں ہے «قَالَ كَذٰلِكَ اَتَتْكَ اٰيٰتُنَا فَنَسِيْتَهَا وَكَذٰلِكَ الْيَوْمَ تُنْسٰى» ۱؎ [20-طه:126] ‏‏‏‏ فرمان ہے «وَقِيلَ الْيَوْمَ نَنسَاكُمْ كَمَا نَسِيتُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ هَـٰذَا» ۱؎ [45-الجاثية:34] ‏‏‏‏ ’ تیرے پاس ہماری نشانیاں آئی تھیں جنہیں تو بھلا بیٹھا تھا اسی طرح آج تجھے بھی بھلا دیا جائے گا۔ ‘ وغیرہ۔ پس یہ بھلائیوں سے بالقصد بھلا دیئے جائیں گے۔ ہاں برائیاں اور عذاب برابر ہوتے رہیں گے۔ انہوں نے اس دن کی ملاقات کو بھلایا، ہم نے انہیں آگ میں چھوڑا، رحمت سے دور کیا جیسے یہ عمل سے دور تھے۔ صحیح حدیث میں ہے: { قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بندے سے فرمائے گا: کیا میں نے تجھے بیوی بچے نہیں دیئے تھے؟ یا عزت آبرو نہیں دی تھی؟ کیا گھوڑے اور اونٹ تیرے مطیع نہیں کئے تھے؟ اور کیا تجھے قسم قسم کی راحتوں میں آزاد نہیں رکھا تھا؟ بندہ جواب دے گا کہ ہاں پروردگار! بیشک تو نے ایسا ہی کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: پھر کیا تو میری ملاقات پر ایمان رکھتا تھا؟ وہ جواب دے گا کہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: پس میں بھی آج تجھے ایسا ہی بھول جاؤں گا جیسے تو مجھے بھول گیا تھا۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2968] ‏‏‏‏
51۔ 1 حدیث میں آتا ہے کہ قیامت والے دن اللہ تعالیٰ اس قسم کے بندے سے پوچھے گا کیا میں نے تمہیں بیوی بچے نہیں دیئے تھے؟ تمہیں عزت اور اکرام سے نہیں نوازا تھا اور کیا اونٹ اور گھوڑے تیرے تابع نہیں کردیئے تھے؟ کیا تو سرداری کرتے ہوئے لوگوں سے چونگی وصول نہیں کرتا تھا؟ وہ کہے گا کیوں نہیں؟ یا اللہ یہ سب باتیں صحیح ہیں، اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا، کیا تو میری ملاقات کا یقین رکھتا تھا؟ وہ کہے گا نہیں، اللہ تعالیٰ فرمائے گا ' پس جس طرح تو مجھے بھولا رہا آج میں بھی تمہیں بھول جاتا ہوں (صحیح مسلم) قرآن کریم کی اس آیت سے معلوم ہوا کہ دین کو لہو و لعب بنانے والے وہی ہوتے ہیں جو دنیا کے فریب میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے دلوں سے چونکہ آخرت کی فکر اور اللہ کا خوف نکل جاتا ہے۔ اس لئے وہ دین میں بھی اپنی طرف سے جو چاہتے ہیں اضافہ کرلیتے ہیں احکام اور فرائض پر عمل کی اہمیت ختم ہوجاتی ہے۔
(آیت 51) ➊ {فَالْيَوْمَ نَنْسٰىهُمْ ……:} آیت کے شروع میں کافروں کی علامات بیان کی گئی ہیں جنھوں نے اپنے دین کو دل لگی اور کھیل بنا لیا اور انھیں دنیوی زندگی کی فراوانی اور خوشحالی نے آخرت کے بارے میں دھوکے میں رکھا اور انھوں نے آخرت کو بھلا دیا اور اسی نسیان کے نتیجے میں انھیں نظر انداز کر دیا گیا۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن اﷲ تعالیٰ بندے سے ملے گا اور فرمائے گا: ”اے فلاں! کیا میں نے یہ نہیں کیا کہ تجھے عزت بخشی؟ تجھے سردار بنایا؟ تیری شادی کی؟ تیرے لیے گھوڑے اور اونٹ تابع کر دیے اور تجھے کھلا چھوڑ دیا کہ لوگوں کا سردار بنے اور ان کی آمدنی کا چوتھا حصہ ٹیکس لے؟“ وہ کہے گا: ”کیوں نہیں، اے میرے رب!“ اﷲ تعالیٰ فرمائے گا: ”تو تو نے یقین کیا کہ تو مجھ سے ملنے والا ہے؟“ وہ کہے گا: ”نہیں!“ اﷲ تعالیٰ فرمائے گا: ”پھر میں بھی تجھے بھلا رہا ہوں جیسے تو نے مجھے بھلا دیا۔“ [ مسلم، الزہد والرقائق، باب الدنیا سجن المؤمن وجنۃ الکافر: ۲۹۲۸، عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ ] یہاں نسیان کا معنی چھوڑ دینا ہے، کیونکہ اﷲ تعالیٰ تو بھولتا ہی نہیں، فرمایا: «لَا يَضِلُّ رَبِّيْ وَ لَا يَنْسَى» [ طٰہٰ: ۵۲ ] ” میرا رب نہ بھٹکتا ہے اور نہ بھولتا ہے۔“ یعنی اﷲ تعالیٰ انھیں جہنم میں ڈال کر ان کی کوئی خبر نہیں لیں گے۔ یہاں بھلانے کے بدلے کو بھلانا فرمایا ہے، یعنی خواہ کتنا ہی پکاریں ان پر رحم نہیں کیا جائے گا۔ ➋ { كَمَا نَسُوْا لِقَآءَ يَوْمِهِمْ هٰذَا:} معلوم ہوا کہ دین کو لہو و لعب بنانے والے اور آیاتِ الٰہی کا انکار کرنے والے وہی ہوتے ہیں جو آخرت اور اﷲ تعالیٰ کی ملاقات کو بھول جاتے ہیں اور دنیا کی زندگی ہی کو سب کچھ سمجھ لیتے ہیں۔
وَ لَقَدۡ جِئۡنٰہُمۡ بِکِتٰبٍ فَصَّلۡنٰہُ عَلٰی عِلۡمٍ ہُدًی وَّ رَحۡمَۃً لِّقَوۡمٍ یُّؤۡمِنُوۡنَ ﴿۵۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہم اِن لوگوں کے پاس ایک ایسی کتاب لے آئے ہیں جس کو ہم نے علم کی بنا پر مفصل بنایا ہے اور جو ایمان لانے والوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہم نے ان لوگوں کے پاس ایک ایسی کتاب پہنچادی ہے جس کو ہم نے اپنے علم کامل سے بہت واضح کر کے بیان کردیا ہے، وه ذریعہ ہدایت اور رحمت ان لوگوں کے لئے ہے جو ایمان ﻻئے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک ہم ان کے پاس ایک کتاب لائے جسے ہم نے ایک بڑے علم سے مفصل کیا ہدایت و رحمت ایمان والوں کے لیے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور بے شک ہم ان کے پاس ایک ایسی کتاب لائے ہیں جسے ہم نے پورے علم کے ساتھ خوب واضح کر دیا ہے اور جو ایمان لانے والوں کے لئے برابر ہدایت و رحمت ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ یقینا ہم ان کے پاس ایسی کتاب لائے ہیں جسے ہم نے علم کی بنا پر خوب کھول کر بیان کیا ہے، ان لوگوں کے لیے ہدایت اور رحمت بنا کر جو ایمان رکھتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آخری حقیقت جنت اور دوزخ کا مشاہدہ ٭٭

اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کے کل عذر ختم کر دیئے تھے۔ اپنے رسولوں کی معرفت، اپنی کتاب بھیجی جو مفصل اور واضح تھی۔ جیسے فرمان ہے «الرٰ كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰيٰتُهٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِيْمٍ خَبِيْرٍ» ۱؎ [11-هود:1] ‏‏‏‏ ’ اس قرآن کی آیتیں مضبوط اور تفصیل وار ہیں۔ ‘ اس کی جو تفصیل ہے، وہ بھی علم پر ہے۔ جیسے فرمان ہے «أَنزَلَهُ بِعِلْمِهِ» ۱؎ [4-النساء:166] ‏‏‏‏ ’ اسے اپنے علم کے ساتھ اتارا ہے۔ ‘ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ آیت اسی آیت پر جاتی ہے، جس میں فرمان ہے «كِتٰبٌ اُنْزِلَ اِلَيْكَ فَلَا يَكُنْ فِيْ صَدْرِكَ حَرَجٌ مِّنْهُ لِتُنْذِرَ بِهٖ وَذِكْرٰي لِلْمُؤْمِنِيْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:2] ‏‏‏‏ ’ یہ کتاب تیری طرف نازل فرمائی گئی ہے۔ پس اس سے تیرے سینے میں کوئی حرج نہ ہونا چاہیئے۔ ‘ یہاں فرمایا «وَلَقَدْ جِئْنَاهُم بِكِتَابٍ فَصَّلْنَاهُ عَلَىٰ عِلْمٍ هُدًى وَرَحْمَةً لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ» لیکن یہ محل نظر ہے اس لیے کہ فاصلہ بہت ہے اور یہ قول بے دلیل ہے۔ درحقیقت جب ان کے اس خسارے کا ذکر ہوا جو انہیں آخرت میں ہو گا تو بیان فرمایا کہ دنیا میں ہی ہم نے تو اپنا پیغام پہنچا دیا تھا۔ رسول بھی، کتاب بھی۔ جیسے ارشاد ہے کہ ”جب تک ہم رسول نہ بھیج دیں، عذاب نہیں کرتے۔“ اسی لیے اس کے بعد ہی فرمایا: ”انہیں تو اب جنت دوزخ کے اپنے سامنے آنے کا انتظار ہے۔“ یا یہ مطلب کہ اس کی حقیقت یکے بعد دیگرے روشن ہوتی رہے گی۔ یہاں تک کہ آخری حقیقت یعنی جنت دوزخ ہی سامنے آ جائیں گی اور ہر ایک اپنے لائق مقام میں پہنچ جائے گا۔ قیامت والے دن یہ واقعات رونما ہو جائیں گے۔ اب جو سن رہے ہیں، اس وقت دیکھ لیں گے۔ اس وقت اسے فراموش کر کے بیٹھ رہنے والے عمل سے کورے لوگ مان لیں گے کہ بیشک اللہ کے انبیاء علیہم السلام سچے تھے، رب کی کتابیں برحق تھیں۔ کاش اب کوئی ہمارا سفارشی کھڑا ہو اور ہمیں اس ہلاکت سے نجات دلائے یا ایسا ہو کہ ہم پھر سے دنیا کی طرف لوٹا دیئے جائیں تو جو کام کئے تھے اب ان کے خلاف کریں۔

جیسے فرمان ہے «وَلَوْ تَرٰٓي اِذْ وُقِفُوْا عَلَي النَّارِ فَقَالُوْا يٰلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِاٰيٰتِ رَبِّنَا وَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ بَلْ بَدَا لَهُم مَّا كَانُوا يُخْفُونَ مِن قَبْلُ وَلَوْ رُدُّوا لَعَادُوا لِمَا نُهُوا عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ» ۱؎ [6-الأنعام:27] ‏‏‏‏ ’ کاش کہ ہم پھر دنیا میں لوٹائے جاتے، اپنے رب کی آیتوں کو نہ جھٹلاتے اور مومن بن جاتے۔ اس سے پہلے جو وہ چھپا رہے تھے، اب ظاہر ہو گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر یہ دوبارہ دنیا میں بھیجے بھی جائیں تو جس چیز سے روکے جائیں گے، وہی دوبارہ کریں گے اور جھوٹے ثابت ہوں۔ ‘ انہوں نے آپ ہی اپنا برا کیا۔ اللہ کے سوا اوروں سے امیدیں رکھتے رہے۔ آج سب باطل ہو گئیں۔ نہ کوئی ان کا سفارشی، نہ حمایتی۔
52۔ 1 یہ اللہ تعالیٰ جہنمیوں کے ضمن میں ہی فرما رہا ہے کہ ہم نے تو اپنے علم کامل کے مطابق ایسی کتاب بھیج دی تھی جس میں ہر چیز کو کھول کر بیان کردیا تھا۔ ان لوگوں نے اس سے فائدہ نہیں اٹھایا، تو ان کی بدقسمتی، ورنہ جو لوگ اس کتاب پر ایمان لے آئے، وہ ہدایت و رحمت الٰہی سے فیض یاب ہوئے گویا ہم نے تو (وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا) 17۔ الاسراء:15) جب تک ہم رسول بھیج کر اتمام حجت نہیں کردیتے، ہم عذاب نہیں دیتے ' کے مطابق اہتمام کردیا تھا۔
(آیت 52){ وَ لَقَدْ جِئْنٰهُمْ بِكِتٰبٍ ……:} یعنی یہ کفار یہ عذر نہیں کر سکتے کہ ہمیں معلوم نہ تھا، کیونکہ ہم نے ان کی طرف یہ کتاب بھیج کر ہر بات کھول کر بیان کر دی تھی اور ہمارا طریقہ ہی نہیں کہ پیغام پہنچائے بغیر عذاب دیں، فرمایا: «وَ مَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا» ‏‏‏‏ [ بنی إسرائیل: ۱۵ ] ” اور ہم کبھی عذاب دینے والے نہیں، یہاں تک کہ کوئی پیغام پہنچانے والا بھیجیں۔“
ہَلۡ یَنۡظُرُوۡنَ اِلَّا تَاۡوِیۡلَہٗ ؕ یَوۡمَ یَاۡتِیۡ تَاۡوِیۡلُہٗ یَقُوۡلُ الَّذِیۡنَ نَسُوۡہُ مِنۡ قَبۡلُ قَدۡ جَآءَتۡ رُسُلُ رَبِّنَا بِالۡحَقِّ ۚ فَہَلۡ لَّنَا مِنۡ شُفَعَآءَ فَیَشۡفَعُوۡا لَنَاۤ اَوۡ نُرَدُّ فَنَعۡمَلَ غَیۡرَ الَّذِیۡ کُنَّا نَعۡمَلُ ؕ قَدۡ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ وَ ضَلَّ عَنۡہُمۡ مَّا کَانُوۡا یَفۡتَرُوۡنَ ﴿٪۵۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اب کیا یہ لوگ اِس کے سوا کسی اور بات کے منتظر ہیں کہ وہ انجام سامنے آ جائے جس کی یہ کتاب خبر دے رہی ہے؟ جس روز وہ انجام سامنے آ گیا وہی لوگ جنہوں نے اسے نظر انداز کر دیا تھا کہیں گے کہ "واقعی ہمارے رب کے رسول حق لے کر آئے تھے، پھر کیا اب ہمیں کچھ سفارشی ملیں گے جو ہمارے حق میں سفارش کریں؟ یا ہمیں دوبارہ واپس ہی بھیج دیا جائے تاکہ جو کچھ ہم پہلے کرتے تھے اس کے بجائے اب دوسرے طریقے پر کام کر کے دکھائیں" انہوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈال دیا اور وہ سارے جھوٹ جو انہوں نے تصنیف کر رکھے تھے آج ان سے گم ہو گئے
مولانا محمد جوناگڑھی
ان لوگوں کو اور کسی بات کا انتظار نہیں صرف اس کے اخیر نتیجہ کا انتظار ہے، جس روز اس کا اخیر نتیجہ پیش آئے گا اور اس روز جو لوگ اس کو پہلے سے بھولے ہوئے تھے یوں کہیں گے کہ واقعی ہمارے رب کے پیغمبر سچی سچی باتیں ﻻئے تھے، سو اب کیا کوئی ہمارا سفارشی ہے کہ وه ہماری سفارش کردے یا کیا ہم پھر واپس بھیجے جاسکتے ہیں تاکہ ہم لوگ ان اعمال کے، جن کو ہم کیا کرتے تھے برخلاف دوسرے اعمال کریں۔ بےشک ان لوگوں نے اپنے آپ کو خساره میں ڈال دیا اور یہ جو جو باتیں تراشتے تھے سب گم ہوگئیں
احمد رضا خان بریلوی
کاہے کی راہ دیکھتے ہیں مگر اس کی کہ اس کتاب کا کہا ہوا انجام سامنے آئے جس دن اس کا بتایا انجام واقع ہوگا بول اٹھیں گے وہ جو اسے پہلے سے بھلائے بیٹھے تھے کہ بیشک ہمارے رب کے رسول حق لائے تھے تو ہیں کوئی ہمارے سفارشی جو ہماری شفاعت کریں یا ہم واپس بھیجے جائیں کہ پہلے کاموں کے خلاف کام کریں بیشک انہوں نے اپنی جانیں نقصان میں ڈالیں اور ان سے کھوئے گئے جو بہتان اٹھاتے تھے
علامہ محمد حسین نجفی
کیا یہ لوگ اس (قرآن کی دھمکی) کے انجام کا انتظار کر رہے ہیں؟ (کہ سامنے آئے) حالانکہ جس دن اس کا انجام (سامنے) آئے گا تو وہی لوگ جنہوں نے پہلے اس کو بھلایا ہوگا کہیں گے بے شک ہمارے پروردگار کے رسول ہمارے پاس سچائی کے ساتھ آئے تھے تو کیا آج ہمارے لئے کچھ سفارشی ہیں؟ جو ہماری سفارش کریں یا (یہ ممکن ہے کہ) ہمیں دوبارہ واپس بھیج دیا جائے تاکہ جو کچھ ہم (پہلے) کیا کرتے تھے اس کے خلاف کچھ اور (نیک عمل) کریں؟ یقینا انہوں نے اپنے آپ کو خسارہ میں ڈال دیا اور وہ افترا پردازیاں جو وہ کیا کرتے تھے آج ان سے گم ہوگئیں۔
عبدالسلام بن محمد
وہ اس کے انجام کے سوا کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں؟ جس دن اس کا انجام آ پہنچے گا تو وہ لوگ جنھوں نے اس سے پہلے اسے بھلا دیا تھا، کہیں گے یقینا ہمارے رب کے رسول حق لے کر آئے، تو کیا ہمارے لیے کوئی سفارش کرنے والے ہیں کہ وہ ہمارے لیے سفارش کریں، یا ہمیں واپس بھیجا جائے تو ہم اس کے بر خلاف عمل کریں جو ہم کیا کرتے تھے۔ بلاشبہ انھوں نے اپنی جانوں کو خسارے میں ڈالا اور ان سے گم ہوگیا جو وہ جھوٹ باندھا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آخری حقیقت جنت اور دوزخ کا مشاہدہ ٭٭

اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کے کل عذر ختم کر دیئے تھے۔ اپنے رسولوں کی معرفت، اپنی کتاب بھیجی جو مفصل اور واضح تھی۔ جیسے فرمان ہے «الرٰ كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰيٰتُهٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِيْمٍ خَبِيْرٍ» ۱؎ [11-هود:1] ‏‏‏‏ ’ اس قرآن کی آیتیں مضبوط اور تفصیل وار ہیں۔ ‘ اس کی جو تفصیل ہے، وہ بھی علم پر ہے۔ جیسے فرمان ہے «أَنزَلَهُ بِعِلْمِهِ» ۱؎ [4-النساء:166] ‏‏‏‏ ’ اسے اپنے علم کے ساتھ اتارا ہے۔ ‘ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ آیت اسی آیت پر جاتی ہے، جس میں فرمان ہے «كِتٰبٌ اُنْزِلَ اِلَيْكَ فَلَا يَكُنْ فِيْ صَدْرِكَ حَرَجٌ مِّنْهُ لِتُنْذِرَ بِهٖ وَذِكْرٰي لِلْمُؤْمِنِيْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:2] ‏‏‏‏ ’ یہ کتاب تیری طرف نازل فرمائی گئی ہے۔ پس اس سے تیرے سینے میں کوئی حرج نہ ہونا چاہیئے۔ ‘ یہاں فرمایا «وَلَقَدْ جِئْنَاهُم بِكِتَابٍ فَصَّلْنَاهُ عَلَىٰ عِلْمٍ هُدًى وَرَحْمَةً لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ» لیکن یہ محل نظر ہے اس لیے کہ فاصلہ بہت ہے اور یہ قول بے دلیل ہے۔ درحقیقت جب ان کے اس خسارے کا ذکر ہوا جو انہیں آخرت میں ہو گا تو بیان فرمایا کہ دنیا میں ہی ہم نے تو اپنا پیغام پہنچا دیا تھا۔ رسول بھی، کتاب بھی۔ جیسے ارشاد ہے کہ ”جب تک ہم رسول نہ بھیج دیں، عذاب نہیں کرتے۔“ اسی لیے اس کے بعد ہی فرمایا: ”انہیں تو اب جنت دوزخ کے اپنے سامنے آنے کا انتظار ہے۔“ یا یہ مطلب کہ اس کی حقیقت یکے بعد دیگرے روشن ہوتی رہے گی۔ یہاں تک کہ آخری حقیقت یعنی جنت دوزخ ہی سامنے آ جائیں گی اور ہر ایک اپنے لائق مقام میں پہنچ جائے گا۔ قیامت والے دن یہ واقعات رونما ہو جائیں گے۔ اب جو سن رہے ہیں، اس وقت دیکھ لیں گے۔ اس وقت اسے فراموش کر کے بیٹھ رہنے والے عمل سے کورے لوگ مان لیں گے کہ بیشک اللہ کے انبیاء علیہم السلام سچے تھے، رب کی کتابیں برحق تھیں۔ کاش اب کوئی ہمارا سفارشی کھڑا ہو اور ہمیں اس ہلاکت سے نجات دلائے یا ایسا ہو کہ ہم پھر سے دنیا کی طرف لوٹا دیئے جائیں تو جو کام کئے تھے اب ان کے خلاف کریں۔

جیسے فرمان ہے «وَلَوْ تَرٰٓي اِذْ وُقِفُوْا عَلَي النَّارِ فَقَالُوْا يٰلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِاٰيٰتِ رَبِّنَا وَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ بَلْ بَدَا لَهُم مَّا كَانُوا يُخْفُونَ مِن قَبْلُ وَلَوْ رُدُّوا لَعَادُوا لِمَا نُهُوا عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ» ۱؎ [6-الأنعام:27] ‏‏‏‏ ’ کاش کہ ہم پھر دنیا میں لوٹائے جاتے، اپنے رب کی آیتوں کو نہ جھٹلاتے اور مومن بن جاتے۔ اس سے پہلے جو وہ چھپا رہے تھے، اب ظاہر ہو گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر یہ دوبارہ دنیا میں بھیجے بھی جائیں تو جس چیز سے روکے جائیں گے، وہی دوبارہ کریں گے اور جھوٹے ثابت ہوں۔ ‘ انہوں نے آپ ہی اپنا برا کیا۔ اللہ کے سوا اوروں سے امیدیں رکھتے رہے۔ آج سب باطل ہو گئیں۔ نہ کوئی ان کا سفارشی، نہ حمایتی۔
53۔ 1 تاویل کا مطلب ہے کسی چیز کی اصل حقیقت۔ یعنی کتاب الٰہی کے ذریعے سے وعدے، وعید اور جنت و دوزخ وغیرہ کا بیان تو کردیا تھا، لیکن یہ اس دنیا کا انجام اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے منتظر تھے، سو اب وہ انجام ان کے سامنے آگیا۔ 53۔ 2 یعنی جس انجام کے منتظر تھے اس کے سامنے آجانے کے بعد اعتراف حق کرنے یا دوبارہ دنیا میں بھیجے جانے کی آرزو اور کسی سفارش کی تلاش، یہ سب بےفائدہ ہونگی۔ وہ معبود بھی ان سے گم ہوجائیں گے جن کی وہ اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے تھے، وہ ان کی مدد کرسکیں گے نہ سفارش اور نہ عذاب جہنم سے چھڑا ہی سکیں گے۔
(آیت 53) ➊ {هَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّا تَاْوِيْلَهٗ:} تاویل کا معنی کسی چیز کی اصل حقیقت یا اس کا انجام ہے۔ اس میں جھٹلانے والوں کو تنبیہ فرمائی ہے کہ قرآن میں جس عذاب (دنیوی یا اخروی) کا ان سے وعدہ کیا گیا ہےکیا وہ اس کے پیش آنے کا انتظار کر رہے ہیں؟ ➋ {يَوْمَ يَاْتِيْ تَاْوِيْلُهٗ ……: } شاہ عبد القادر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”یعنی کافر راہ دیکھتے ہیں کہ اس کتاب میں خبر ہے عذاب کی۔ ہم دیکھ لیں کہ ٹھیک پڑے (درست نکلے) تب قبول کر لیں۔ سو جب ٹھیک پڑے گی تو خلاصی کہاں ملے گی۔ خبر اس لیے ہے کہ آگے (پہلے) سے بچاؤ پکڑیں۔“ (موضح) یعنی جس انجام کے یہ منتظر تھے اس کے سامنے آ جانے کے بعد حق کا اعتراف یا دوبارہ دنیا میں بھیجے جانے کی آرزو اور کسی سفارشی کی تلاش، یہ سب چیزیں بے فائدہ ہوں گی، وہ معبود بھی ان سے گم ہو جائیں گے جن کی وہ اﷲ کو چھوڑ کر عبادت کرتے تھے، وہ ان کی مدد کر سکیں گے نہ سفارش اور نہ جہنم کے عذاب سے چھڑا سکیں گے۔
اِنَّ رَبَّکُمُ اللّٰہُ الَّذِیۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ فِیۡ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسۡتَوٰی عَلَی الۡعَرۡشِ ۟ یُغۡشِی الَّیۡلَ النَّہَارَ یَطۡلُبُہٗ حَثِیۡثًا ۙ وَّ الشَّمۡسَ وَ الۡقَمَرَ وَ النُّجُوۡمَ مُسَخَّرٰتٍۭ بِاَمۡرِہٖ ؕ اَلَا لَہُ الۡخَلۡقُ وَ الۡاَمۡرُ ؕ تَبٰرَکَ اللّٰہُ رَبُّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۵۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
در حقیقت تمہارا رب اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا، پھر اپنے تخت سلطنت پر جلوہ فرما ہوا جو رات کو دن پر ڈھانک دیتا ہے اور پھر دن رات کے پیچھے دوڑا چلا آتا ہے جس نے سورج اور چاند اور تارے پیدا کیے سب اس کے فرمان کے تابع ہیں خبردار رہو! اُسی کی خلق ہے اور اسی کا امر ہے بڑا با برکت ہے اللہ، سارے جہانوں کا مالک و پروردگار
مولانا محمد جوناگڑھی
بے شک تمہارا رب اللہ ہی ہے جس نے سب آسمانوں اور زمین کو چھ روز میں پیدا کیا ہے، پھر عرش پر قائم ہوا۔ وه شب سے دن کو ایسے طور پر چھپا دیتا ہے کہ وه شب اس دن کو جلدی سے آ لیتی ہے اور سورج اور چاند اور دوسرے ستاروں کو پیدا کیا ایسے طور پر کہ سب اس کے حکم کے تابع ہیں۔ یاد رکھو اللہ ہی کے لئے خاص ہے خالق ہونا اور حاکم ہونا، بڑی خوبیوں سے بھرا ہوا ہے اللہ جو تمام عالم کا پروردگار ہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک تمہارا رب اللہ ہے جس نے آسمان اور زمین چھ دن میں بنائے پھر عرش پر استواء فرمایا جیسا اس کی شان کے لائق ہے رات دن کو ایک دوسرے سے ڈھانکتا ہے کہ جلد اس کے پیچھے لگا آتا ہے اور سورج اور چاند اور تاروں کو بنایا سب اس کے حکم کے دبے ہوئے، سن لو اسی کے ہاتھ ہے پیدا کرنا اور حکم دینا، بڑی برکت والا ہے اللہ رب سارے جہان کا،
علامہ محمد حسین نجفی
بے شک تمہارا پروردگار وہی اللہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا۔ پھر عرش کی جانب متوجہ ہوا (اور کائنات کے اقتدارِ اعلیٰ پر قابض ہوا) جو رات سے دن کو ڈھانپ لیتا ہے۔ کہ اسے تیزی کے ساتھ جا پکڑتی ہے۔ اور جس نے سورج، چاند اور ستاروں کو پیدا کیا۔ کہ وہ سب طبعی طور پر اس کے حکم کے تابع ہیں خبردار! پیدا کرنا اور حکم دینا اس سے مخصوص ہے۔ بابرکت ہے اللہ جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک تمھارا رب اللہ ہے، جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا، پھر وہ عرش پر بلند ہوا، رات کو دن پر اوڑھا دیتا ہے، جو تیز چلتا ہوا اس کے پیچھے چلا آتا ہے اور سورج اور چاند اور ستارے (پیدا کیے) اس حال میں کہ اس کے حکم سے تابع کیے ہوئے ہیں، سن لو! پیدا کرنا اور حکم دینا اسی کا کام ہے، بہت برکت والا ہے اللہ جو سارے جہانوں کا رب ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا ٭٭

بہت سی آیتوں میں یہ بیان ہوا ہے کہ آسمان و زمین اور کل مخلوق اللہ تعالیٰ نے چھ دن میں بنائی ہے یعنی اتوار سے جمعہ تک۔ جمعہ کے دن ساری مخلوق پیدا ہو چکی۔ اسی دن سیدنا آدم علیہ السلام پیدا ہوئے یا تو یہ دن دنیا کے معمول کے دنوں کے برابر ہی تھے جیسے کہ آیت کے ظاہری الفاظ سے فی الفور سمجھا جاتا ہے یا ہر دن ایک ہزار سال کا تھا جیسے کہ مجاہد رحمہ اللہ کا قول ہے اور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا فرمان ہے اور بروایت ضحاک ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے۔ ہفتہ کے دن کوئی مخلوق پیدا نہیں ہوئی۔ اسی لیے اس کا نام عربی میں «یوم السبت» ہے۔ «سبت» کے معنی ”قطع کرنے، ختم کرنے“ کے ہیں۔

ہاں مسند احمد، نسائی اور صحیح مسلم میں جو حدیث ہے کہ { اللہ نے مٹی کو ہفتہ کے دن پیدا کیا اور پہاڑوں کو اتوار کے دن اور درختوں کو پیر کے دن اور برائیوں کو منگل کے دن اور نور کو بدھ کے دن اور جانوروں کو جمعرات کے دن اور آدم علیہ السلام کو جمعہ کے دن، عصر کے بعد دن کی آخری گھڑی میں عصر سے لے کر مغرب تک۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر یہ گنوایا۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2789] ‏‏‏‏ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سات دن تک پیدائش کا سلسلہ جاری رہا حالانکہ قرآن میں موجود ہے کہ چھ دن میں پیدائش ختم ہوئی۔ اسی وجہ سے امام بخاری رحمہ اللہ وغیرہ زبردست حفاظ حدیث نے اس حدیث پر کلام کیا ہے اور فرمایا ہے کہ یہ عبارت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کعب احبار رحمہ اللہ سے لی ہے۔ فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم نہیں ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

پھر فرماتا ہے کہ وہ اپنے عرش پر مستوی ہوا۔ اس پر لوگوں نے بہت کچھ چہ میگوئیاں کی ہیں، جنہیں تفصیل سے بیان کرنے کی یہ جگہ نہیں۔ مناسب یہی ہے کہ اس مقام میں سلف صالحین کی روش اختیار کی جائے۔ جیسے امام مالک، امام اوزاعی، امام ثوری، امام لیث بن سعد، امام شافعی، امام احمد، امام اسحاق بن راہویہ وغیرہ وغیرہ ائمہ سلف و خلف رحمۃ اللہ علیہم۔ ان سب بزرگان دین کا مذہب یہی تھا کہ جیسی یہ آیت ہے، اسی طرح اسے رکھا جائے۔ بغیر کیفیت کے، بغیر تشبیہ کے اور بغیر مہمل چھوڑنے کے۔ ہاں مشبہین کے ذہنوں میں جو چیز آ رہی ہے، اس سے اللہ تعالیٰ پاک اور بہت دور ہے۔ اللہ کے مشابہ اس کی مخلوق میں سے کوئی نہیں۔ فرمان ہے «لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ» ۱؎ [42-الشورى:11] ‏‏‏‏ ’ اس کے مثل کوئی نہیں اور وہ سننے، دیکھنے والا ہے۔ ‘ بلکہ حقیقت یہی ہے جو ائمہ کرام رحمۃ اللہ علیہم نے فرمائی ہے۔ انہی میں سے نعیم بن حماد خزاعی رحمہ اللہ ہیں۔ آپ امام بخاری رحمہ اللہ کے استاد ہیں۔ فرماتے ہیں: ”جو شخص اللہ کو مخلوق سے تشبیہ دے، وہ کافر ہے اور جو شخص اللہ کے اس وصف سے انکار کرے جو اس نے اپنی ذات پاک کیلئے بیان فرمایا ہے، وہ بھی کافر ہے۔“ خود اللہ تعالیٰ نے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو اوصاف ذات باری تعالیٰ جل شانہ کے بیان فرمائے ہیں، ان میں ہرگز تشبیہ نہیں۔ پس صحیح ہدایت کے راستے پر وہی ہے جو آثار صحیحہ اور اخبار صریحہ سے جو اوصاف رب العزت وحدہ لاشریک لہ کے ثابت ہیں، انہیں اسی طرح جانے۔ جو اللہ کی جلالت شان کے شایان ہے اور ہر عیب و نقصان سے اپنے رب کو پاک اور مبرا و منزہ سمجھے۔

پھر فرمان ہے کہ رات کا اندھیرا دن کے اجالے سے اور دن کا اجالا رات کے اندھیرے سے دور ہو جاتا ہے۔ ہر ایک دوسرے کے پیچھے لپکا چلا آتا ہے۔ یہ گیا وہ آیا، وہ گیا یہ آیا۔ جیسے فرمایا «وَآيَةٌ لَّهُمُ اللَّيْلُ نَسْلَخُ مِنْهُ النَّهَارَ فَإِذَا هُم مُّظْلِمُونَ وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ وَالْقَمَرَ قَدَّرْنَاهُ مَنَازِلَ حَتَّىٰ عَادَ كَالْعُرْجُونِ الْقَدِيمِ لَا الشَّمْسُ يَنبَغِي لَهَا أَن تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَلَا اللَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ» ۱؎ [36-يس:37-40] ‏‏‏‏ ’ ان کے سمجھنے کے لئے ہماری ایک نشانی رات ہے کہ اس میں سے ہم دن کو نکالتے ہیں جس سے یہ اندھیرے میں آ جاتے ہیں۔ سورج اپنے ٹھکانے کی طرف برابر جا رہا ہے۔ یہ ہے اندازہ اللہ کا مقرر کیا ہوا جو غالب اور باعلم ہے۔ ہم نے چاند کی بھی منزلیں ٹھہرا دی ہیں یہاں تک کہ وہ کھجور کی پرانی ٹہنی جیسا ہو کر رہ جاتا ہے۔ نہ آفتاب ماہتاب سے آگے نکل سکتا ہے، نہ رات دن سے پہلے آ سکتی ہے۔ سب کے سب اپنے اپنے مدار میں تیرتے پھرتے ہیں۔ رات دن میں کوئی فاصلہ نہیں، ایک کا جانا ہی دوسرے کا آ جانا ہے۔ ہر ایک دوسرے کے برابر پیچھے ہے۔ ‘ «وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَاتٍ بِأَمْرِهِ» ۱؎ [7-الأعراف:54] ‏‏‏‏ کو بعض نے پیش سے بھی پڑھا ہے۔ معنی مطلب دونوں صورتوں میں قریب قریب برابر ہے۔ یہ سب اللہ کے زیر فرمان، اس کے ماتحت اور اس کے ارادے میں ہیں۔ ملک اور تصرف اسی کا ہے۔ وہ برکتوں والا اور تمام جہان کا پالنے والا ہے۔ فرمان ہے «تَبٰرَكَ الَّذِيْ جَعَلَ فِي السَّمَاءِ بُرُوْجًا وَّجَعَلَ فِيْهَا سِرٰجًا وَّقَمَرًا مُّنِيْرً» ۱؎ [25-الفرقان:61] ‏‏‏‏ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: { جس کسی نے کسی نیکی پر اللہ کی حمد نہ کی بلکہ اپنے نفس کو سراہا، اس نے کفر کیا اور اس کے اعمال غارت ہوئے اور جس نے یہ عقیدہ رکھا کہ اللہ نے کچھ اختیارات اپنے بندوں کو بھی دیئے ہیں، اس نے اس کے ساتھ کفر کیا جو اللہ نے اپنے نبیوں پر نازل فرمایا ہے کیونکہ اس کا فرمان ہے «اَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ تَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ» } (‏‏‏‏ابن جریر) ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:14784:ضعیف جداً] ‏‏‏‏

ایک منقول دعا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بھی مروی ہے کہ { آپ فرماتے تھے «اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ كُلُّهُ وَلَكَ الْمُلْكُ كُلُّهُ وَإِلَيْكَ يَرْجِعُ الأَمْرُ كُلُّهُ أَسْأَلُكَ مِنَ الْخَيْرِ كُلِّهِ عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ، مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّرِّ كُلِّهِ» ۱؎ [بیهقی فی شعب الایمان:4400:ضعیف] ‏‏‏‏ یااللہ! سارا ملک تیرا ہی ہے، سب حمد تیرے لیے ہی ہے، سب کام تیری ہی طرف لوٹتے ہیں، میں تجھ سے تمام بھلائیاں طلب کرتا ہوں اور ساری برائیوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ }
54۔ 1 یہ چھ دن اتوار، پیر، منگل، بدھ، جمعرات اور جمعہ ہیں۔ جمعہ کے دن ہی حضرت آدم ؑ کی تخلیق ہوئی، ہفتے والے دن کہتے ہیں کوئی تخلیق نہیں ہوئی، اسی لئے اس کو یوم البست کہا جاتا ہے، کیونکہ سبت کے معنی ہیں قطع (کاٹنے) کے ہیں یعنی اس دن تخلیق کا کام قطع ہوگیا۔ پھر اس دن سے کیا مراد ہے؟ ہماری دنیا کا دن، جو طلوع شمس سے شروع ہوتا ہے اور غروب شمس پر ختم ہوجاتا ہے۔ یا یہ دن ہزار سال کے برابر ہے؟ جس طرح کہ اللہ کے یہاں کے دن کی گنتی ہے، یا جس طرح قیامت کے دن کے بارے میں آتا ہے۔ بظاہر یہ دوسری بات زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے۔ کیونکہ ایک تو اس وقت سورج چاند کا یہ نظام ہی نہیں تھا، آسمان اور زمین کی تخلیق کے بعد ہی یہ نظام قائم ہوا دوسرے یہ عالم بالا کا واقعہ ہے جس کو دنیا سے کوئی نسبت نہیں ہے، اس لئے اس دن کی اصل حقیقت اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے، ہم قطعیت کے ساتھ کوئی بات نہیں کہہ سکتے۔ علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ تو کُنْ سے سب کچھ پیدا کرسکتا تھا، اس کے باوجود اس نے ہر چیز کو الگ الگ درجہ بدرجہ سلسلہ وار بنایا اس کی بھی اصل حکمت اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے تاہم بعض علماء نے اس کی ایک حکمت لوگوں کو آرام، وقار اور تدریج (سلسلہ وار) کے ساتھ کام کرنے کا سبق دینا بتلائی ہے۔ وَا للّٰہُ اَعْلَم 54۔ 2 یعنی اللہ تعالیٰ عرش پر مستقر (ّٹھہرا) ہے۔ لیکن کس طرح، کس کیفیت کے ساتھ، اسے ہم بیان نہیں کرسکتے کسی کے ساتھ تشبیہ ہی دے سکتے ہیں۔ نعیم بن حماد کا قول ہے ' جو اللہ کی تخلیق کے ساتھ تشبیہ دے اس نے بھی کفر کیا اور جس نے اللہ کی اپنے بارے میں بیان کردہ کسی بات کا انکار کیا، اس نے بھی کفر کیا ' اور اللہ کے بارے میں اس کی یا اس کے رسول کی بیان بات کو بیان کرنا، تشبیہ نہیں ہے۔ اس لئے جو باتیں اللہ تعالیٰ کے بارے میں نص (قطعی حکم) سے ثابت ہیں، ان پر بلا تاویل اور بلا کیف و تشبیہ پر ایمان رکھنا ضروری ہے۔ (ابن کثیر) 54۔ 3 حثیثا کے معنی ہیں نہایت تیزی سے اور مطلب ہے کہ ایک کے بعد دوسرا فورا آجاتا ہے یعنی دن کی روشنی آتی ہے تو رات کی تاریکی فوراً غائب ہوجاتی ہے اور رات آتی ہے تو دن کا اجالا ختم ہوجاتا ہے اور سب دور و نزدیک سیاہی چھا جاتی ہے۔
(آیت 54) ➊ {اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ ……:} ان چھ دنوں سے مراد دنیا کے چھ دن تو ہو نہیں سکتے، کیونکہ ان کا وجود سورج اور زمین سے ہے اور اس وقت سورج تھا نہ زمین۔ اب یا تو مراد ہزار سال کا وہ دن ہے جس کا ذکر اﷲ تعالیٰ نے اس آیت میں کہا: «وَ اِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ» ‏‏‏‏ [ الحج: ۴۷ ] ” اور ایک دن تیرے رب کے ہاں ہزار سال کے برابر ہے، اس گنتی سے جو تم شمار کرتے ہو“ یا چھ ادوار مراد ہیں۔ قرآن مجید کی مختلف آیات پر غور کرنے سے یہ بھی معلوم ہو سکتا ہے کہ ہر دور میں کون سی چیز بنائی گئی۔ دیکھیے سورۂ حم السجدہ (۱۰)۔ صحیح احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یوم الاحد (اتوار) سے خلق کی ابتدا ہوئی اور جمعہ کے دن پوری ہو گئی۔ (ابن کثیر۔ المنار) اﷲ تعالیٰ چاہتا تو لفظ {” كُنْ “} سے ایک لمحے میں سب کچھ پیدا فرما دیتا، مگر اس کی حکمت کا تقاضا اسی طرح کرنے کا تھا جو اس نے کیا۔ بعض اہل علم نے اس سے اپنے کام بالتدریج کرنے کا استنباط فرمایا ہے۔ ➋ { ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ:} آیت کا یہ جملہ قرآن میں چھ مقامات پر آیا ہے۔ساتوں جگہ سورۂ طہ (۵) میں «اَلرَّحْمٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوٰى» ہے۔ اس کے معنی عرش پر بلند ہونے کے ہیں۔ سلف صالحین نے بلا تاویل اﷲ تعالیٰ کو عرش پر تسلیم کیا ہے، چنانچہ منقول ہے کہ ”استواء“ کے معنی تو معلوم ہیں، مگر اس کی کیفیت ہماری عقل سے بالا ہے، اس کا اقرار عین ایمان ہے اور انکار کفر ہے۔ یہی مذہب چاروں اماموں کا ہے۔ پس صحیح عقیدہ یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ ساری مخلوق سے الگ عرش پر ہے، تاہم اس کا علم و قدرت سب پر حاوی ہے۔ اہل السنہ کا یہی عقیدہ ہے اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ اﷲ تعالیٰ کا عرش آسمان و زمین پر محیط ہے۔ (ابن کثیر۔ شوکانی) ➌ { يَطْلُبُهٗ حَثِيْثًا:} یعنی رات کے بعد دن تیزی سے پہنچ جاتا ہے، کوئی وقفہ نہیں ہوتا۔ ➍ { مُسَخَّرٰتٍۭ بِاَمْرِهٖ:} یعنی اﷲ تعالیٰ نے جو وقت اور راستہ ان کے لیے مقرر فرمایا ہے وہ اسی پر چلتے رہتے ہیں اور بال برابر اس سے ادھر ادھر نہیں ہوتے۔ ➎ { اَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَ الْاَمْرُ:} یعنی جس طرح خلق (پیدا کرنے) میں اس کا کوئی شریک نہیں اسی طرح حکم بھی اسی کا ہے، کوئی دوسرا اس میں شریک نہیں، خواہ تکوینی حکم ہو جو ساری کائنات میں چلتا ہے، یا تشریعی، یعنی شریعت کا قانون جو اس نے اپنے بندوں کو ایک حد تک اختیار دے کر دیا ہے اور جس پر عمل کے مطابق جنت یا جہنم کی جزا یا سزا ملے گی۔
اُدۡعُوۡا رَبَّکُمۡ تَضَرُّعًا وَّ خُفۡیَۃً ؕ اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الۡمُعۡتَدِیۡنَ ﴿ۚ۵۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ا پنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے، یقیناً و ہ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا
مولانا محمد جوناگڑھی
تم لوگ اپنے پروردگار سے دعا کیا کرو گڑگڑا کر کے بھی اور چپکے چپکے بھی۔ واقعی اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ناپسند کرتا ہے جو حد سے نکل جائیں
احمد رضا خان بریلوی
اپنے رب سے دعا کرو گڑگڑاتے اور آہستہ، بیشک حد سے بڑھنے والے اسے پسند نہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اپنے پروردگار سے گڑگڑا کر اور چپکے چپکے دعا کرو۔ بے شک وہ حد سے تجاوز کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔
عبدالسلام بن محمد
اپنے رب کو گڑ گڑا کر اور خفیہ طور پر پکارو، بے شک وہ حد سے بڑھنے والوں سے محبت نہیں کرتا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انسان دعا مانگے قبول ہو گی ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دعا کی ہدایت کرتا ہے جس میں ان کی دنیا اور آخرت کی بھلائی ہے۔ فرماتا ہے کہ اپنے پروردگار کو عاجزی، مسکینی اور آہستگی سے پکارو۔ جیسے فرمان ہے «وَاذْكُر رَّبَّكَ فِي نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَخِيفَةً وَدُونَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ وَلَا تَكُن مِّنَ الْغَافِلِينَ» ۱؎ [7-الأعراف:205] ‏‏‏‏ ’ اپنے رب کو اپنے نفس میں یاد کر۔ ‘ بخاری و مسلم میں { سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لوگوں نے دعا میں اپنی آوازیں بہت بلند کر دیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! اپنی جانوں پر رحم کرو۔ تم کسی بہرے کو یا غائب کو نہیں پکار رہے۔ جسے تم پکار رہے ہو، وہ بہت سننے والا اور بہت نزدیک ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:2992] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ پوشیدگی مراد ہے۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ” «تَضَرُّعًا» کے معنی ذلت مسکینی اور اطاعت گزاری کے ہیں اور «خُفْيَةً» کے معنی دلوں کے خشوع خضوع سے، یقین کی صحت سے، اس کی وحدانیت اور ربوبیت کا، اس کے اور اپنے درمیان یقین رکھتے ہوئے پکارو۔ نہ کہ ریا کاری کے ساتھ، بہت بلند آواز سے۔“ حسن رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ لوگ حافظ قرآن ہوتے تھے اور کسی کو معلوم بھی نہیں ہوتا تھا، لوگ بڑے فقیہہ ہو جاتے تھے اور کوئی جانتا بھی نہ تھا۔ لوگ لمبی لمبی نمازیں اپنے گھروں میں پڑھتے تھے اور مہمانوں کو بھی پتہ نہ چلتا تھا۔ یہ وہ لوگ تھے کہ جہاں تک ان کے بس میں ہوتا تھا، اپنی کسی نیکی کو لوگوں پر ظاہر نہیں ہونے دیتے تھے۔ پوری کوشش سے دعائیں کرتے تھے لیکن اس طرح جیسے کوئی سرگوشی کر رہا ہو۔ یہ نہیں کہ چیخیں چلائیں۔ یہی فرمان رب ہے کہ اپنے رب کو عاجزی اور آہستگی سے پکارو۔ دیکھو اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک نیک بندے کا ذکر کیا جس سے وہ خوش تھا کہ اس نے اپنے رب کو خفیہ طور پر پکارا۔ امام ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”دعا میں بلند آواز، ندا اور چیخنے کو مکروہ سمجھا جاتا تھا بلکہ گریہ وزاری اور آہستگی کا حکم دیا جاتا تھا۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”دعا وغیرہ میں حد سے گزر جانے والوں کو اللہ دوست نہیں رکھتا۔“

ابومجاز رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”مثلاً اپنے لیے نبی بن جانے کی دعا کرنا وغیرہ۔“ { سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے سنا کہ ان کا لڑکا اپنی دعا میں کہہ رہا ہے کہ اے اللہ! میں تجھ سے جنت اور اس کی نعمتیں اور اس کے ریشم و حریر وغیرہ وغیرہ طلب کرتا ہوں اور جہنم سے، اس کی زنجیروں اور اس کے طوق وغیرہ سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ تو آپ نے فرمایا: تو نے اللہ سے بہت سی بھلائیاں طلب کیں اور بہت سی برائیوں سے پناہ چاہی۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ فرماتے تھے کہ عنقریب کچھ لوگ ہوں گے جو دعا میں حد سے گزر جایا کریں گے۔ } ۱؎ [مسند احمد:172/1-183:حسن لغیرہ] ‏‏‏‏ ایک سند سے مروی ہے کہ { وہ دعا مانگنے میں اور وضو کرنے میں حد سے نکل جائیں گے۔ پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی اور فرمایا: تجھے اپنی دعا میں یہی کہنا کافی ہے کہ اے اللہ! میں تجھ سے جنت اور جنت سے قریب کرنے والے قول و فعل کی توفیق طلب کرتا ہوں اور جہنم اور اس سے نزدیک کرنے والے قول و فعل سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:1480، قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] ‏‏‏‏ (‏‏‏‏ابوداؤد)

ابن ماجہ وغیرہ میں ہے: { ان کے صاحبزادے اپنی دعا میں کہہ رہے تھے کہ یااللہ! جنت میں داخل ہونے کے بعد جنت کی دائیں جانب کا سفید رنگ کا عالیشان محل میں تجھ سے طلب کرتا ہوں۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:96، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ پھر زمین پر امن و امان کے بعد فساد کرنے کو منع فرما رہا ہے کیونکہ اس وقت کا فساد خصوصیت سے زیادہ برائیاں پیدا کرتا ہے۔ پس اللہ اسے حرام قرار دیتا ہے اور اپنی عبادت کرنے کا، دعا کرنے کا، مسکینی اور عاجزی کرنے کا حکم دیتا ہے کہ اللہ کو اس کے عذابوں سے ڈر کر اور اس کی نعمتوں کے امیدوار بن کر پکارو۔ اللہ کی رحمت نیکو کاروں کے سروں پر منڈلا رہی ہے۔ جو اس کے احکام بجا لاتے ہیں، اس کے منع کردہ کاموں سے باز رہتے ہیں۔ جیسے فرمایا «وَرَحْمَتِيْ وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَاَكْتُبُهَا لِلَّذِيْنَ يَتَّقُوْنَ وَيُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَالَّذِيْنَ هُمْ بِاٰيٰتِنَا يُؤْمِنُوْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:156] ‏‏‏‏ ’ یوں تو میری رحمت تمام چیزوں کو گھیرے ہوئے ہے لیکن میں اسے مخصوص کر دوں گا پرہیزگار لوگوں کے لیے۔ ‘ چونکہ رحمت ثواب کی ضامن ہوتی ہے، اس لیے «قَرِیْبٌ» کہا، «قَرِیْبَةٌ» نہ کہا یا اس لیے کہ وہ اللہ کی طرف مضاف ہے۔ انہوں نے اللہ کے وعدوں کا سہارا لیا۔ اللہ نے اپنا فیصلہ کر دیا کہ اس کی رحمت بالکل قریب ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 56،55) ➊ {اُدْعُوْا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَّ خُفْيَةً:} ان دو آیات میں چار حکم ہیں، پہلا یہ کہ دعا عاجزی سے گڑ گڑا کر اور خشوع سے ہونی چاہیے اور دعا تنہائی میں کرنا مستحب اور بہتر ہے، کیونکہ اس سے ریا کو راستہ نہیں ملتا اور اخلاص میں خلل نہیں آتا۔ ➋ { اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِيْنَ:} دوسرا یہ کہ حدسے بڑھنا اﷲ تعالیٰ کو کسی صورت پسند نہیں۔ اس میں اﷲ کے ساتھ شرک کرنا یا کسی پر ظلم کرنا بھی شامل ہے اور ایسی چیز کی دعا کرنا جو نا ممکن ہو، مثلاً میں ہمیشہ زندہ رہوں، یا مجھے آخرت میں انبیاء کا مرتبہ حاصل ہو جائے، یا ایسی چیز کی دعا کرنا جس کے متعلق علم نہ ہو کہ اﷲ تعالیٰ کو اس کا مانگنا پسند ہے، جیسے نوح علیہ السلام کی اپنے بیٹے کے لیے دعا بھی حد سے تجاوز تھا۔ اسی طرح چیخنا چلانا اور مسنون دعائیں چھوڑ کر مقفی و مسجع کلام اور اشعار وغیرہ بھی حد سے تجاوز میں شامل ہیں۔ (شوکانی) ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ سفر کے دوران میں ہماری آوازیں تکبیر اور لا الٰہ الا اﷲ کے ساتھ بلند ہوئیں تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگو! اپنے آپ پر نرمی کرو (یعنی ذرا آہستہ پکارو)، کیونکہ تم کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکار رہے، بلکہ جسے پکار رہے ہو وہ سننے والا ہے اور قریب بھی۔“ [ بخاری، الجہاد والسیر، باب ما یکرہ من رفع الصوت فی التکبیر: ۲۹۹۲، ۶۳۸۹ ] ➌ {وَ لَا تُفْسِدُوْا فِي الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا:} تیسرا یہ کہ زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد مت کرو، یعنی اﷲ تعالیٰ کی نافرمانی اور شرک کے کام مت کرو، کیونکہ اﷲ تعالیٰ کے ساتھ کفر اور گناہوں کا ارتکاب ہی ”فساد فی الارض“ ہے، فرمایا: «ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَيْدِي النَّاسِ» ‏‏‏‏ [ الروم: ۴۱ ] ”خشکی اور سمندر میں فساد ظاہر ہو گیا اس کی وجہ سے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمایا۔“ ➍ {وَ ادْعُوْهُ خَوْفًا وَّ طَمَعًا:} چوتھا یہ کہ دعا کرتے وقت اﷲ تعالیٰ کا خوف بھی ہو اور دل میں دعا کی قبولیت کی طمع بھی، اسی طرح جہنم سے خوف بھی ہو اور جنت کی طمع بھی۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ” یعنی اﷲ پر دلیر مت ہو اور نا امید بھی مت ہو۔“ طمع میں یہ چیز بھی داخل ہے کہ انسان دعا کے بعد مایوس نہ ہو، جیسا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کسی کی دعا اس وقت تک قبول ہوتی ہے جب تک وہ جلدی نہ کرے اور جلدی یہ ہے کہ کہے میں نے اپنے رب سے دعا کی، مگر اس نے قبول نہ کی۔“ [ بخاری، الدعوات، باب یستجاب للعبد ما لم یعجل: ۶۳۴۰ ] ➎ کئی صوفیا کہتے ہیں کہ دعا کسی طمع اور خوف کے بغیر محض رب کی رضا کے لیے ہونی چاہیے، حتیٰ کہ ان میں سے بعض نے کہا کہ میرا دل چاہتا ہے کہ جنت کو جلا دوں اور جہنم کو بجھا دوں، تاکہ لوگ کسی خوف اور طمع کے بغیر اﷲ کو یاد کریں۔ بعض کہتے ہیں کہ بس اﷲ تعالیٰ مجھ پر راضی ہو جائے، پھر خواہ مجھے جنت میں بھیج دے یا جہنم میں پھینک دے۔ یہ بات کتاب و سنت کے خلاف ہے۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اﷲ تعالیٰ سے جنت کی دعا مانگتے اور جہنم سے پناہ مانگتے تھے۔ زیر تفسیر آیت بھی اس نظریے کے خلاف ہے اور دیگر بہت سی آیات بھی، مثلاً: «يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّ طَمَعًا» ‏‏‏‏ [ السجدۃ: ۱۶ ] ”وہ اپنے رب کو خوف اور طمع کے ساتھ پکارتے ہیں۔“ درحقیقت یہ بات اسلام کا لبادہ اوڑھنے والے بعض لوگوں نے جنت اور جہنم کو بے وقعت ٹھہرانے کے لیے بنائی ہے۔ جنت کی طمع اور جہنم سے خوف کوئی الگ چیز نہیں ہے، بلکہ جنت اﷲ کی رضا ہی سے حاصل ہو گی اور جہنم بھی اسی کے غضب کا نتیجہ ہے جس سے بچنا بھی اس کی رضا ہی سے ممکن ہو گا۔ ➏ {اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِيْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِيْنَ: } اس میں ترغیب ہے کہ اﷲ تعالیٰ کی رحمت کے اصل حق دار وہی ہیں جو احسان کرنے والے ہیں یعنی اﷲ تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری بہتر سے بہتر انداز میں بجا لانے کی کوشش کرتے ہیں اور اعمالِ صالحہ پر دوام کرتے ہیں اور {” قَرِيْبٌ “} یہ {” فَعِيْلٌ“ } کے وزن پر ہے، جب یہ مسافت کے لیے آئے تو اس میں تذکیر و تانیث برابر ہوتی ہے اور اگر نسب کے لیے ہو تو بلا اختلاف {” قَرِيْبَةٌ “} بولا جاتا ہے۔ یعنی مذکر اور مؤنث میں تاء کے ساتھ فرق کیا جاتا ہے۔ (شوکانی)
وَ لَا تُفۡسِدُوۡا فِی الۡاَرۡضِ بَعۡدَ اِصۡلَاحِہَا وَ ادۡعُوۡہُ خَوۡفًا وَّ طَمَعًا ؕ اِنَّ رَحۡمَتَ اللّٰہِ قَرِیۡبٌ مِّنَ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۵۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
زمین میں فساد برپا نہ کرو جبکہ اس کی اصلاح ہو چکی ہے اور خدا ہی کو پکارو خوف کے ساتھ اور طمع کے ساتھ، یقیناً اللہ کی رحمت نیک کردار لوگوں سے قریب ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور دنیا میں اس کے بعد کہ اس کی درستی کردی گئی ہے، فساد مت پھیلاؤ اور تم اللہ کی عبادت کرو اس سے ڈرتے ہوئے اور امیدوار رہتے ہوئے۔ بے شک اللہ تعالیٰ کی رحمت نیک کام کرنے والوں کے نزدیک ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ اس کے سنورنے کے بعد اور اس سے دعا کرو ڈرتے اور طمع کرتے، بیشک اللہ کی رحمت نیکوں سے قریب ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد برپا نہ کرو۔ اور خدا سے خوف اور امید کے ساتھ دعا کرو۔ بے شک اللہ کی رحمت نیکوکاروں سے قریب ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد مت پھیلائو اور اسے خوف اور طمع سے پکارو، بے شک اللہ کی رحمت نیکی کرنے والوں کے قریب ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انسان دعا مانگے قبول ہو گی ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دعا کی ہدایت کرتا ہے جس میں ان کی دنیا اور آخرت کی بھلائی ہے۔ فرماتا ہے کہ اپنے پروردگار کو عاجزی، مسکینی اور آہستگی سے پکارو۔ جیسے فرمان ہے «وَاذْكُر رَّبَّكَ فِي نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَخِيفَةً وَدُونَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ وَلَا تَكُن مِّنَ الْغَافِلِينَ» ۱؎ [7-الأعراف:205] ‏‏‏‏ ’ اپنے رب کو اپنے نفس میں یاد کر۔ ‘ بخاری و مسلم میں { سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لوگوں نے دعا میں اپنی آوازیں بہت بلند کر دیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! اپنی جانوں پر رحم کرو۔ تم کسی بہرے کو یا غائب کو نہیں پکار رہے۔ جسے تم پکار رہے ہو، وہ بہت سننے والا اور بہت نزدیک ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:2992] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ پوشیدگی مراد ہے۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ” «تَضَرُّعًا» کے معنی ذلت مسکینی اور اطاعت گزاری کے ہیں اور «خُفْيَةً» کے معنی دلوں کے خشوع خضوع سے، یقین کی صحت سے، اس کی وحدانیت اور ربوبیت کا، اس کے اور اپنے درمیان یقین رکھتے ہوئے پکارو۔ نہ کہ ریا کاری کے ساتھ، بہت بلند آواز سے۔“ حسن رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ لوگ حافظ قرآن ہوتے تھے اور کسی کو معلوم بھی نہیں ہوتا تھا، لوگ بڑے فقیہہ ہو جاتے تھے اور کوئی جانتا بھی نہ تھا۔ لوگ لمبی لمبی نمازیں اپنے گھروں میں پڑھتے تھے اور مہمانوں کو بھی پتہ نہ چلتا تھا۔ یہ وہ لوگ تھے کہ جہاں تک ان کے بس میں ہوتا تھا، اپنی کسی نیکی کو لوگوں پر ظاہر نہیں ہونے دیتے تھے۔ پوری کوشش سے دعائیں کرتے تھے لیکن اس طرح جیسے کوئی سرگوشی کر رہا ہو۔ یہ نہیں کہ چیخیں چلائیں۔ یہی فرمان رب ہے کہ اپنے رب کو عاجزی اور آہستگی سے پکارو۔ دیکھو اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک نیک بندے کا ذکر کیا جس سے وہ خوش تھا کہ اس نے اپنے رب کو خفیہ طور پر پکارا۔ امام ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”دعا میں بلند آواز، ندا اور چیخنے کو مکروہ سمجھا جاتا تھا بلکہ گریہ وزاری اور آہستگی کا حکم دیا جاتا تھا۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”دعا وغیرہ میں حد سے گزر جانے والوں کو اللہ دوست نہیں رکھتا۔“

ابومجاز رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”مثلاً اپنے لیے نبی بن جانے کی دعا کرنا وغیرہ۔“ { سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے سنا کہ ان کا لڑکا اپنی دعا میں کہہ رہا ہے کہ اے اللہ! میں تجھ سے جنت اور اس کی نعمتیں اور اس کے ریشم و حریر وغیرہ وغیرہ طلب کرتا ہوں اور جہنم سے، اس کی زنجیروں اور اس کے طوق وغیرہ سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ تو آپ نے فرمایا: تو نے اللہ سے بہت سی بھلائیاں طلب کیں اور بہت سی برائیوں سے پناہ چاہی۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ فرماتے تھے کہ عنقریب کچھ لوگ ہوں گے جو دعا میں حد سے گزر جایا کریں گے۔ } ۱؎ [مسند احمد:172/1-183:حسن لغیرہ] ‏‏‏‏ ایک سند سے مروی ہے کہ { وہ دعا مانگنے میں اور وضو کرنے میں حد سے نکل جائیں گے۔ پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی اور فرمایا: تجھے اپنی دعا میں یہی کہنا کافی ہے کہ اے اللہ! میں تجھ سے جنت اور جنت سے قریب کرنے والے قول و فعل کی توفیق طلب کرتا ہوں اور جہنم اور اس سے نزدیک کرنے والے قول و فعل سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:1480، قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] ‏‏‏‏ (‏‏‏‏ابوداؤد)

ابن ماجہ وغیرہ میں ہے: { ان کے صاحبزادے اپنی دعا میں کہہ رہے تھے کہ یااللہ! جنت میں داخل ہونے کے بعد جنت کی دائیں جانب کا سفید رنگ کا عالیشان محل میں تجھ سے طلب کرتا ہوں۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:96، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ پھر زمین پر امن و امان کے بعد فساد کرنے کو منع فرما رہا ہے کیونکہ اس وقت کا فساد خصوصیت سے زیادہ برائیاں پیدا کرتا ہے۔ پس اللہ اسے حرام قرار دیتا ہے اور اپنی عبادت کرنے کا، دعا کرنے کا، مسکینی اور عاجزی کرنے کا حکم دیتا ہے کہ اللہ کو اس کے عذابوں سے ڈر کر اور اس کی نعمتوں کے امیدوار بن کر پکارو۔ اللہ کی رحمت نیکو کاروں کے سروں پر منڈلا رہی ہے۔ جو اس کے احکام بجا لاتے ہیں، اس کے منع کردہ کاموں سے باز رہتے ہیں۔ جیسے فرمایا «وَرَحْمَتِيْ وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَاَكْتُبُهَا لِلَّذِيْنَ يَتَّقُوْنَ وَيُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَالَّذِيْنَ هُمْ بِاٰيٰتِنَا يُؤْمِنُوْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:156] ‏‏‏‏ ’ یوں تو میری رحمت تمام چیزوں کو گھیرے ہوئے ہے لیکن میں اسے مخصوص کر دوں گا پرہیزگار لوگوں کے لیے۔ ‘ چونکہ رحمت ثواب کی ضامن ہوتی ہے، اس لیے «قَرِیْبٌ» کہا، «قَرِیْبَةٌ» نہ کہا یا اس لیے کہ وہ اللہ کی طرف مضاف ہے۔ انہوں نے اللہ کے وعدوں کا سہارا لیا۔ اللہ نے اپنا فیصلہ کر دیا کہ اس کی رحمت بالکل قریب ہے۔
56۔ 1 ان آیات میں چار چیزوں کی تلقین کی گئی ہے 1۔ اللہ تعالیٰ سے آہ زاری اور خفیہ طریقے سے دعا کی جائے، جس طرح کہ حدیث میں آتا ہے ' لوگو! اپنے نفس کے ساتھ نرمی کرو (یعنی آواز پست رکھو) تم جس کو پکار رہے ہو، وہ بہرا نہ غائب، وہ تمہاری دعائیں سننے والا اور قریب ہے (صحیح بخاری) 2۔ دعا میں زیادتی نہ کی جائے یعنی اپنی حیثیت اور مرتبے سے بڑھ کر دعا نہ کی جائے۔ 3۔ اصلاح کے بعد فساد نہ پھیلایا جائے یعنی اللہ کی نافرمانیاں کر کے فساد پھیلانے میں حصہ نہ لیا جائے۔ 4۔ اس کے عذاب کا ڈر بھی دل میں ہو اور اس کی رحمت کی امید بھی ہو۔ اس طریقے سے دعا کرنے والے محسنین ہیں۔ یقینا اللہ کی رحمت ان کے قریب ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَ ہُوَ الَّذِیۡ یُرۡسِلُ الرِّیٰحَ بُشۡرًۢا بَیۡنَ یَدَیۡ رَحۡمَتِہٖ ؕ حَتّٰۤی اِذَاۤ اَقَلَّتۡ سَحَابًا ثِقَالًا سُقۡنٰہُ لِبَلَدٍ مَّیِّتٍ فَاَنۡزَلۡنَا بِہِ الۡمَآءَ فَاَخۡرَجۡنَا بِہٖ مِنۡ کُلِّ الثَّمَرٰتِ ؕ کَذٰلِکَ نُخۡرِجُ الۡمَوۡتٰی لَعَلَّکُمۡ تَذَکَّرُوۡنَ ﴿۵۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور وہ اللہ ہی ہے جو ہواؤں کو اپنی رحمت کے آگے آگے خوشخبری لیے ہوئے بھیجتا ہے، پھر جب وہ پانی سے لدے ہوئے بادل اٹھا لیتی ہیں تو انہیں کسی مردہ سر زمین کی طرف حرکت دیتا ہے، اور وہاں مینہ برسا کر (اُسی مری ہوئی زمین سے) طرح طرح کے پھل نکال لاتا ہے دیکھو، اس طرح ہم مُردوں کو حالت موت سے نکالتے ہیں، شاید کہ تم اس مشاہدے سے سبق لو
مولانا محمد جوناگڑھی
اور وه ایسا ہے کہ اپنی باران رحمت سے پہلے ہواؤں کو بھیجتا ہے کہ وه خوش کر دیتی ہیں، یہاں تک کہ جب وه ہوائیں بھاری بادلوں کو اٹھا لیتی ہیں، تو ہم اس بادل کو کسی خشک سرزمین کی طرف ہانک لے جاتے ہیں، پھر اس بادل سے پانی برساتے ہیں پھر اس پانی سے ہر قسم کے پھل نکالتے ہیں۔ یوں ہی ہم مردوں کو نکال کھڑا کریں گے تاکہ تم سمجھو
احمد رضا خان بریلوی
اور وہی ہے کہ ہوائیں بھیجتا ہے اس کی رحمت کے آگے مژدہ سناتی یہاں تک کہ جب اٹھا لائیں بھاری بادل ہم نے اسے کسی مردہ شہر کی طرف چلایا پھر اس سے پانی اتارا پھر اس سے طرح طرح کے پھل نکالے اسی طرح ہم مُردوں کو نکالیں گے کہیں تم نصیحت مانو،
علامہ محمد حسین نجفی
وہ وہی (خدا) ہے جو اپنی رحمت (بارش) سے پہلے ہواؤں کو خوشخبری کے لئے بھیجتا ہے یہاں تک کہ جب وہ بھاری بادلوں کو اٹھا لیتی ہیں تو ہم انہیں کسی مردہ بستی کی طرف ہانک کر لے جاتے ہیں اور پھر وہاں پانی برسا دیتے ہیں۔ اور پھر ہم اس کے ذریعہ سے طرح طرح کے پھل نکالتے ہیں اسی طرح ہم مردوں کو (بھی زندہ کرکے) باہر نکالیں گے شاید کہ تم عبرت اور نصیحت حاصل کرو۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہی ہے جو ہوائوں کو اپنی رحمت سے پہلے بھیجتا ہے، اس حال میں کہ خوش خبری دینے والی ہیں، یہاں تک کہ جب وہ بھاری بادل اٹھاتی ہیں تو ہم اسے کسی مردہ شہر کی طرف ہانکتے ہیں، پھر اس سے پانی اتارتے ہیں، پھر اس کے ساتھ ہر قسم کے کچھ پھل پیدا کرتے ہیں۔ اسی طرح ہم مُردوں کو نکالیں گے، تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تمام مظاہر قدرت اس کی شان کے مظہر ہیں ٭٭

اوپر بیان ہوا کہ زمین و آسمان کا خالق اللہ ہے۔ سب پر قبضہ رکھنے والا، حاکم، تدبیر کرنے والا، مطیع اور فرمانبردار رکھنے والا اللہ ہی ہے۔ پھر دعائیں کرنے کا حکم دیا کیونکہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اب یہاں بیان ہو رہا ہے کہ رزاق بھی وہی ہے اور قیامت کے دن مردوں کو زندہ کر دینے والا بھی وہی ہے۔ پس فرمایا کہ بارش سے پہلے بھینی بھینی خوش گوار ہوائیں وہی چلاتا ہے۔ «بُشْرًا» کی دوسری قرأت «مُـبَـشِّـَراتٍ» بھی ہے۔ رحمت سے مراد یہاں بارش ہے۔ جیسے فرمان ہے «وَهُوَ الَّذِيْ يُنَزِّلُ الْغَيْثَ مِنْ بَعْدِ مَا قَنَطُوْا وَيَنْشُرُ رَحْمَتَهٗ وَهُوَ الْوَلِيُّ الْحَمِيْدُ» ۱؎ [42-الشورى:28] ‏‏‏‏ ’ وہ ہے جو لوگوں کی ناامیدی کے بعد بارش اتارتا ہے اور اپنی رحمت کی ریل پیل کر دیتا ہے۔ وہ والی ہے اور قابل تعریف۔ ‘ ایک اور آیت میں ہے: ’ رحمت رب کے آثار دیکھو کہ کس طرح مردہ زمین کو وہ جلا دیتا ہے، وہی مردہ انسانوں کو زندہ کرنے والا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ ‘ ۱؎ [30-الروم:50] ‏‏‏‏ بادل جو پانی کی وجہ سے بوجھل ہو رہے ہیں، انہیں یہ ہوائیں اٹھالے چلتی ہیں۔ یہ زمین سے بہت قریب ہوتے ہیں اور سیاہ ہوتے ہیں۔

چنانچہ زید بن عمرو بن نفیل رحمہ اللہ کے شعروں میں ہے: میں اس کا مطیع ہوں جس کے اطاعت گزار میٹھے اور صاف پانی کے بھرے ہوئے بادل ہیں اور جس کے تابع فرمان بھاری بوجھل پہاڑوں والی زمین ہے۔ پھر ہم ان بادلوں کو مردہ زمین کی طرف لے چلتے ہیں جس میں کوئی سبزہ نہیں، خشک اور بنجر ہے۔ جیسے آیت «وَآيَةٌ لَّهُمُ الْأَرْضُ الْمَيْتَةُ أَحْيَيْنَاهَا وَأَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبًّا فَمِنْهُ يَأْكُلُونَ» ۱؎ [36-يس:33] ‏‏‏‏ میں بیان ہوا ہے۔ پھر اس سے پانی برسا کر اسی غیر آباد زمین کو سرسبز بنا دیتے ہیں۔ اسی طرح ہم مردوں کو زندہ کر دیں گے۔ حالانکہ وہ بوسیدہ ہڈیاں اور پھر ریزہ ریزہ ہو کر مٹی میں مل گئے ہوں گے۔ قیامت کے دن ان پر اللہ عزوجل بارش برسائے گا، چالیس دن تک برابر برستی رہے گی جس سے جسم قبروں میں اگنے لگیں گے جیسے دانہ زمین پر اگتا ہے۔ یہ بیان قرآن کریم میں کئی جگہ ہے۔ قیامت کی مثال بارش کی پیداوار سے دی جاتی ہے۔ پھر فرمایا: یہ تمہاری نصیحت کے لیے ہے۔ اچھی زمین میں سے پیداوار عمدہ بھی نکلتی ہے اور جلدی بھی۔ جیسے فرمان ہے «فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُولٍ حَسَنٍ وَأَنبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا» ۱؎ [3-آل عمران:37] ‏‏‏‏ اور جو زمین خراب ہے جیسے سنگلاخ زمین، شور زمین وغیرہ، اس کی پیداوار بھی ویسی ہی ہوتی ہے۔ یہی مثال مومن و کافر کی ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: { جس علم و ہدایت کے ساتھ اللہ نے مجھے بھیجا ہے، اس کی مثال ایسی ہے جیسے زمین پر بہت زیادہ بارش ہوئی۔ زمین کے ایک صاف عمدہ ٹکڑے نے تو پانی قبول کیا، گھاس اور چارہ بہت سا اس میں سے نکلا۔ ان میں بعض ٹکڑے ایسے بھی تھے جن میں پانی جمع ہو گیا اور وہاں رک گیا۔ پس اس سے بھی لوگوں نے فائدہ اٹھایا، پیا اور پلایا۔ کھیتیاں، باغات تازہ کئے، زمین کے جو چٹیل سنگلاخ ٹکڑے تھے، ان پر بھی وہ پانی برسا لیکن نہ تو وہاں رکا، نہ وہاں کچھ اگا۔ یہی مثال اس کی ہے جس نے دین کی سمجھ پیدا کی اور میری بعثت سے اس نے فائدہ اٹھایا، خود سیکھا اور دوسروں کو سکھایا اور ایسے بھی ہیں کہ انہوں نے سر ہی نہ اٹھایا اور اللہ کی وہ ہدایت ہی نہ کی جو میری معرفت بھیجی گئی۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:79] ‏‏‏‏ (‏‏‏‏مسلم و نسائی)
57۔ 1 اپنی الوہیت و ربوبیت کے اثبات میں اللہ تعالیٰ مزید دلائل بیان فرما کر پھر اس سے احیاء موتی کا اثبات فرما رہا ہے۔ بشرا بشیر کی جمع ہے، رحمۃ سے مراد یہاں مطر بارش ہے یعنی بارش سے پہلے وہ ٹھنڈی ہوائیں چلاتا ہے جو بارش کی نوید ہوتی ہیں۔ 157۔ 2 بھاری بادل سے مراد پانی سے بھرے ہوئے بادل ہیں۔ 57۔ 3 ہر قسم کے پھل، جو رنگوں میں، ذائقوں میں، خوشبوؤں میں اور شکل و صورت میں ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ 57۔ 4 جس طرح ہم پانی کے ذریعے مردہ زمین روئیدگی پیدا کردیتے ہیں اور وہ انواع و اقسام کے غلہ اور پھل پیدا کرتی ہے۔ اسی طرح قیامت والے دن تمام انسانوں کو، جو مٹی میں مل کر مٹی ہوچکے ہونگے ہم دوبارہ زندہ کریں گے اور پھر ان کا حساب لیں گے۔
(آیت 57) ➊ {وَ هُوَ الَّذِيْ يُرْسِلُ الرِّيٰحَ بُشْرًۢا......:بُشْرًۢا“} یہ {” بَشِيْرٌ “ } کی جمع ہے، یہ وزن مذکر و مؤنث دونوں کے لیے آتا ہے، یعنی {” مُبَشِّرَاتٌ “} خوش خبری دینے والیاں۔ {” رَحْمَتِهٖ “} سے مراد یہاں بارش ہے۔ دیکھیے سورۂ شوریٰ (۲۸) اور سورۂ روم(۴۶) {” ثِقَالًا “} یہ{” ثَقِيْلٌ “} کی جمع ہے، یعنی پانی کی کثرت سے بھاری۔{ ” لِبَلَدٍ مَّيِّتٍ “ } مردہ شہر، یعنی جس زمین میں کوئی پودا نہیں اور نہ چرنے ہی کی کوئی چیز ہے۔ ➋ { كَذٰلِكَ نُخْرِجُ الْمَوْتٰى ……:} بارش کے ساتھ مردہ زمین کی زندگی کو آخرت میں مردوں کو زندہ کرنے کی دلیل کے طور پر پیش فرمایا ہے، یعنی جس ذات پاک نے مردہ زمین کو دم بھر میں زندہ کر دیا وہ انسانوں کو بھی ان کے مر جانے کے بعد دوبارہ زندہ کر سکتی ہے۔ اس سے اﷲ تعالیٰ کی عظمت و قدرت کا اندازہ ہوتا ہے۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اﷲ تعالیٰ آسمان سے بارش نازل فرمائے گا جس سے لوگوں کے جسم اس طرح (زمین سے) اگ پڑیں گے جس طرح سبزی اگتی ہے۔“ [ مسلم، الفتن و أشراط الساعۃ، باب ما بین النفختین: ۲۹۵۵، عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ ]
وَ الۡبَلَدُ الطَّیِّبُ یَخۡرُجُ نَبَاتُہٗ بِاِذۡنِ رَبِّہٖ ۚ وَ الَّذِیۡ خَبُثَ لَا یَخۡرُجُ اِلَّا نَکِدًا ؕ کَذٰلِکَ نُصَرِّفُ الۡاٰیٰتِ لِقَوۡمٍ یَّشۡکُرُوۡنَ ﴿٪۵۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جو زمین اچھی ہوتی ہے وہ اپنے رب کے حکم سے خوب پھل پھول لاتی ہے اور جو زمین خراب ہوتی ہے ا س سے ناقص پیداوار کے سوا کچھ نہیں نکلتا اس طرح ہم نشانیوں کو بار بار پیش کرتے ہیں اُن لوگوں کے لیے جو شکر گزار ہونے والے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جو ستھری سرزمین ہوتی ہے اس کی پیداوار تو اللہ کے حکم سے خوب نکلتی ہے اور جو خراب ہے اس کی پیداوار بہت کم نکلتی ہے، اسی طرح ہم دﻻئل کو طرح طرح سے بیان کرتے ہیں، ان لوگوں کے لئے جو شکر کرتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور جو اچھی زمین ہے اس کا سبزہ اللہ کے حکم سے نکلتا ہے اور جو خراب ہے اس میں نہیں نکلتا مگر تھوڑا بمشکل ہم یونہی طرح طرح سے آیتیں بیان کرتے ہیں ان کے لیے جو احسان مانیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو زمین عمدہ و پاکیزہ ہوتی ہے خدا کے حکم سے اس کی نبات (پیداوار) خوب نکلتی ہے اور جو خراب اور ناکارہ ہوتی ہے تو اس کی پیداوار بھی خراب اور بہت کم نکلتی ہے ہم اسی طرح شکر گزار قوم کے لیے اپنی نشانیاں الٹ پھیر کر بیان کرتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور جو شہر پاکیزہ ہے اس کی کھیتی اس کے رب کے حکم سے نکلتی ہے اور جو خراب ہے (اس کی کھیتی) ناقص کے سوا نہیں نکلتی۔ اس طرح ہم آیات کو ان لوگوں کے لیے پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں جو شکر کرتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تمام مظاہر قدرت اس کی شان کے مظہر ہیں ٭٭

اوپر بیان ہوا کہ زمین و آسمان کا خالق اللہ ہے۔ سب پر قبضہ رکھنے والا، حاکم، تدبیر کرنے والا، مطیع اور فرمانبردار رکھنے والا اللہ ہی ہے۔ پھر دعائیں کرنے کا حکم دیا کیونکہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اب یہاں بیان ہو رہا ہے کہ رزاق بھی وہی ہے اور قیامت کے دن مردوں کو زندہ کر دینے والا بھی وہی ہے۔ پس فرمایا کہ بارش سے پہلے بھینی بھینی خوش گوار ہوائیں وہی چلاتا ہے۔ «بُشْرًا» کی دوسری قرأت «مُـبَـشِّـَراتٍ» بھی ہے۔ رحمت سے مراد یہاں بارش ہے۔ جیسے فرمان ہے «وَهُوَ الَّذِيْ يُنَزِّلُ الْغَيْثَ مِنْ بَعْدِ مَا قَنَطُوْا وَيَنْشُرُ رَحْمَتَهٗ وَهُوَ الْوَلِيُّ الْحَمِيْدُ» ۱؎ [42-الشورى:28] ‏‏‏‏ ’ وہ ہے جو لوگوں کی ناامیدی کے بعد بارش اتارتا ہے اور اپنی رحمت کی ریل پیل کر دیتا ہے۔ وہ والی ہے اور قابل تعریف۔ ‘ ایک اور آیت میں ہے: ’ رحمت رب کے آثار دیکھو کہ کس طرح مردہ زمین کو وہ جلا دیتا ہے، وہی مردہ انسانوں کو زندہ کرنے والا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ ‘ ۱؎ [30-الروم:50] ‏‏‏‏ بادل جو پانی کی وجہ سے بوجھل ہو رہے ہیں، انہیں یہ ہوائیں اٹھالے چلتی ہیں۔ یہ زمین سے بہت قریب ہوتے ہیں اور سیاہ ہوتے ہیں۔

چنانچہ زید بن عمرو بن نفیل رحمہ اللہ کے شعروں میں ہے: میں اس کا مطیع ہوں جس کے اطاعت گزار میٹھے اور صاف پانی کے بھرے ہوئے بادل ہیں اور جس کے تابع فرمان بھاری بوجھل پہاڑوں والی زمین ہے۔ پھر ہم ان بادلوں کو مردہ زمین کی طرف لے چلتے ہیں جس میں کوئی سبزہ نہیں، خشک اور بنجر ہے۔ جیسے آیت «وَآيَةٌ لَّهُمُ الْأَرْضُ الْمَيْتَةُ أَحْيَيْنَاهَا وَأَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبًّا فَمِنْهُ يَأْكُلُونَ» ۱؎ [36-يس:33] ‏‏‏‏ میں بیان ہوا ہے۔ پھر اس سے پانی برسا کر اسی غیر آباد زمین کو سرسبز بنا دیتے ہیں۔ اسی طرح ہم مردوں کو زندہ کر دیں گے۔ حالانکہ وہ بوسیدہ ہڈیاں اور پھر ریزہ ریزہ ہو کر مٹی میں مل گئے ہوں گے۔ قیامت کے دن ان پر اللہ عزوجل بارش برسائے گا، چالیس دن تک برابر برستی رہے گی جس سے جسم قبروں میں اگنے لگیں گے جیسے دانہ زمین پر اگتا ہے۔ یہ بیان قرآن کریم میں کئی جگہ ہے۔ قیامت کی مثال بارش کی پیداوار سے دی جاتی ہے۔ پھر فرمایا: یہ تمہاری نصیحت کے لیے ہے۔ اچھی زمین میں سے پیداوار عمدہ بھی نکلتی ہے اور جلدی بھی۔ جیسے فرمان ہے «فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُولٍ حَسَنٍ وَأَنبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا» ۱؎ [3-آل عمران:37] ‏‏‏‏ اور جو زمین خراب ہے جیسے سنگلاخ زمین، شور زمین وغیرہ، اس کی پیداوار بھی ویسی ہی ہوتی ہے۔ یہی مثال مومن و کافر کی ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: { جس علم و ہدایت کے ساتھ اللہ نے مجھے بھیجا ہے، اس کی مثال ایسی ہے جیسے زمین پر بہت زیادہ بارش ہوئی۔ زمین کے ایک صاف عمدہ ٹکڑے نے تو پانی قبول کیا، گھاس اور چارہ بہت سا اس میں سے نکلا۔ ان میں بعض ٹکڑے ایسے بھی تھے جن میں پانی جمع ہو گیا اور وہاں رک گیا۔ پس اس سے بھی لوگوں نے فائدہ اٹھایا، پیا اور پلایا۔ کھیتیاں، باغات تازہ کئے، زمین کے جو چٹیل سنگلاخ ٹکڑے تھے، ان پر بھی وہ پانی برسا لیکن نہ تو وہاں رکا، نہ وہاں کچھ اگا۔ یہی مثال اس کی ہے جس نے دین کی سمجھ پیدا کی اور میری بعثت سے اس نے فائدہ اٹھایا، خود سیکھا اور دوسروں کو سکھایا اور ایسے بھی ہیں کہ انہوں نے سر ہی نہ اٹھایا اور اللہ کی وہ ہدایت ہی نہ کی جو میری معرفت بھیجی گئی۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:79] ‏‏‏‏ (‏‏‏‏مسلم و نسائی)
58۔ 1 علاوہ ازیں یہ تمثیل بھی ہوسکتی ہے۔ اَلْبَلَدُ الطَّیِّبُ سے مراد سریع الفہم اور اَلْبَلَدُ الطَّیِّبُ سے کند ذہن، وعظ و نصیحت قبول کرنے والا دل اور اس کے برعکس دل۔ قلب مومن یا قلب منافق یا پاکیزہ انسان اور ناپاک انسان مومن، پاکیزہ انسان اور وعظ و نصحت قبول کرنے والا دل بارش کو قبول کرنے والی زمین کی طرح، آیات الٰہی کو سن کر ایمان و عمل صالح میں مزید پختہ ہوتا ہے اور دوسرا دل اس کے برعکس زمین شور کی طرح ہے جو بارش کا پانی قبول ہی نہیں کرتی یا کرتی ہے تو برائے نام جس سے پیداوار بھی نکمی اور برائے نام ہوتی ہے۔ اسی کو ایک حدیث میں اس طرح بیان کیا گیا ہے۔ رسول اللہ نے بیان فرمایا کہ ' مجھے اللہ تعالیٰ نے علم ہدایت دے کر بھیجا ہے، اس کی مثال اس موسلا دھار بارش کی طرح ہے جو زمین پر برسی۔ اس کے جو حصے زرخیز تھے انہوں نے پانی کو اپنے اندر جذب کرکے چارہ اور گھاس خوب اگایا (یعنی بھرپور پیداوار دی) اور اس کے بعض حصے سخت تھے جنہوں نے پانی کو روک لیا (اندر جذب نہیں ہوا ' تاہم اس سے بھی لوگوں نے فائدہ اٹھایا، خود بھی پیا۔ کھیتوں کو بھی سیراب کیا اور کاشتکاری کی اور زمین کا کچھ حصہ بالکل چٹیل تھا، جس نے پانی روکا اور نہ کچھ کیا۔ پس یہ اس شخص کی مثال ہے جس نے اللہ کی دین میں سمجھ حاصل کی اور اللہ نے مجھے جس چیز کے ساتھ بھیجا اس سے اس نے نفع اٹھایا، پس خود بھی علم حاصل کیا اور دوسروں کو بھی سکھلایا اور مثال اس شخص کی بھی ہے جس نے کچھ نہیں سیکھا اور نہ وہ ہدایت ہی قبول کی جس کے ساتھ مجھے بھیجا گیا (صحیح بخاری)
(آیت 58) ➊ {وَ الْبَلَدُ الطَّيِّبُ يَخْرُجُ نَبَاتُهٗ ……:} یہی مثال مومن اور کافر و منافق کے دل کی ہے، جیسا کہ تابعین سے مروی ہے۔ (شوکانی) ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اﷲ تعالیٰ نے مجھے جو علم و ہدایت دے کر بھیجا ہے اس کی مثال رحمت کی اس بارش کی ہے جو ایک زمین پر برسی، اس کے جو حصے زرخیز تھے انھوں نے پانی کو جذب کر لیا اور خوب گھاس اور چارا اگایا، بعض حصے سخت تھے، انھوں نے پانی کو روک لیا تو اﷲ تعالیٰ نے اس کے ساتھ لوگوں کو نفع دیا، چنانچہ انھوں نے خود پیا اور پلایا اور کھیتوں کو سیراب کیا اور اس کا ایک حصہ ایک اور ٹکڑے پر برسا جو محض چٹیل میدان تھے، انھوں نے نہ پانی روکا اور نہ کوئی سبزہ اگایا، یہی مثال اس شخص کی ہے جس نے اﷲ کے دین کو سمجھ کر اس سے دوسروں کو فائدہ پہنچایا اور اس شخص کی جس نے نہ اس کے ساتھ سر ہی اٹھایا (نہ خود سمجھا) اور نہ اﷲ کی وہ ہدایت قبول کی جو دے کر مجھے بھیجا گیا ہے۔“ [ بخاری، العلم، باب فضل من علم و علّم: ۷۹ ] ➋ { لِقَوْمٍ يَّشْكُرُوْنَ:} اﷲ تعالیٰ نے پچھلی آیت میں بارش کے ساتھ زمین کو زندہ کرنے کی مثال مردوں کو زندہ کرنے کے لیے بیان فرمائی، اس سے مقصود نصیحت حاصل کرنا ہے، اس لیے وہاں {” لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ “} فرمایا۔ اس آیت کا موضوع وحی الٰہی کا علم، اس پر عمل اور دعوت کا فائدہ اٹھانا ہے جس پر شکر لازم ٹھہرتا ہے، اس لیے یہاں {” لِقَوْمٍ يَّشْكُرُوْنَ “} فرمایا۔
لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا اِلٰی قَوۡمِہٖ فَقَالَ یٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰہَ مَا لَکُمۡ مِّنۡ اِلٰہٍ غَیۡرُہٗ ؕ اِنِّیۡۤ اَخَافُ عَلَیۡکُمۡ عَذَابَ یَوۡمٍ عَظِیۡمٍ ﴿۵۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہم نے نوحؑ کو اُس کی قوم کی طرف بھیجا اس نے کہا "اے برادران قوم، اللہ کی بندگی کرو، اُس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے میں تمہارے حق میں ایک ہولناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں"
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف بھیجا توانہوں نے فرمایا اے میری قوم! تم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا کوئی تمہارا معبود ہونے کے قابل نہیں، مجھ کو تمہارے لئے ایک بڑے دن کے عذاب کا اندیشہ ہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا تو اس نے کہا میری قوم اللہ کو پوجو اسکے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں بیشک مجھے تم پر بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے
علامہ محمد حسین نجفی
ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف (رسول بنا کر) بھیجا۔ تو انہوں نے کہا اے میری قوم اللہ کی عبادت کرو اس کے علاوہ تمہارا کوئی اللہ نہیں ہے۔ یقینا مجھے تمہاری نسبت ایک بڑے سخت دن (قیامت) کے عذاب کا اندیشہ ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بلاشبہ یقینا ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا تو اس نے کہا اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں، بے شک میں تم پر ایک بہت بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر تذکرہ انبیاء ٭٭

چونکہ سورت کے شروع میں سیدنا آدم علیہ السلام کا قصہ بیان ہوا تھا۔ پھر اس کے متعلقات بیان ہوئے اور اس کے متصل اور بیانات فرما کر اب پھر اور انبیاء علیہم السلام کے واقعات کے بیان کا آغاز ہوا اور پے در پے ان کے بیانات ہوئے۔ سب سے پہلے نوح علیہ السلام کا ذکر ہوا کیونکہ سیدنا آدم علیہ السلام کے بعد سب سے پہلے پیغمبر اہل زمین کی طرف آپ ہی آئے تھے۔ آپ نوح بن لامک بن متوشلخ بن اخنوخ (‏‏‏‏یعنی ادریس علیہ السلام یہی پہلے وہ شخص ہیں جنہوں نے قلم سے لکھا) بن برد بن مہلیل بن قنین بن یانشن بن شیث بن آدم علیہ السلام۔

ائمہ نسب امام محمد بن اسحاق رحمہ اللہ وغیرہ نے آپ کا نسب نامہ اسی طرح بیان فرمایا ہے۔ امام صاحب فرماتے ہیں: نوح علیہ السلام جیسا کوئی اور نبی امت کی طرف سے ستایا نہیں گیا۔ ہاں انبیاء قتل ضرور کئے گئے۔ انہیں نوح اسی لیے کہا گیا کہ یہ اپنے نفس کا رونا بہت روتے تھے۔ آدم اور نوح علیہم السلام کے درمیان دس زمانے تھے جو اسلام پر گزرے تھے۔ اصنام پرستی کا رواج اس طرح شروع ہوا کہ جب اولیاء اللہ فوت ہو گئے تو ان کی قوم نے ان کی قبروں پر مسجدیں بنا لیں اور ان میں ان بزرگوں کی تصویریں بنا لیں تاکہ ان کا حال اور ان کی عبادت کا نقشہ سامنے رہے اور اپنے آپ کو ان جیسا بنانے کی کوشش کریں لیکن کچھ زمانے کے بعد ان تصویروں کے مجسمے بنا لیے۔ کچھ اور زمانے کے بعد انہی بتوں کی پوجا کرنے لگے اور ان کے نام انہی اولیاء اللہ کے ناموں پر رکھ لیے۔ ود، سواع، یغوث، یعوق، نسر وغیرہ۔ جب بت پرستی کا رواج ہو گیا، اللہ نے اپنے رسول نوح علیہ السلام کو بھیجا۔ آپ نے انہیں اللہ واحد کی عبادت کی تلقین کی اور کہا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ مجھے تو ڈر ہے کہ کہیں قیامت کے دن تمہیں عذاب نہ ہو۔ قوم نوح کے بڑوں نے، ان کے سرداروں نے اور ان کے چودھریوں نے نوح علیہ السلام کو جواب دیا کہ تم تو بہک گئے ہو، ہمیں اپنے باپ دادوں کے دین سے ہٹا رہے ہو۔ ہر بد شخص نیک لوگوں کو گمراہ سمجھا کرتا ہے۔ قرآن میں ہے کہ جب یہ بدکار ان نیک کاروں کو دیکھتے ہیں، کہتے ہیں کہ یہ تو بہکے ہوئے ہیں۔ کہا کرتے تھے کہ اگر یہ دین اچھا ہوتا تو ان سے پہلے ہم نہ مان لیتے؟ یہ تو بات ہی غلط اور جھوٹ ہے۔

نوح علیہ السلام نے جواب دیا کہ میں بہکا ہوا نہیں ہوں بلکہ میں اللہ کا رسول ہوں، تمہیں پیغام رب پہنچا رہا ہوں۔ تمہارا خیرخواہ ہوں اور اللہ کی وہ باتیں جانتا ہوں جنہیں تم نہیں جانتے۔ ہر رسول مبلغ، فصیح، بلیغ، ناصح، خیرخواہ اور عالم باللہ ہوتا ہے۔ ان صفات میں اور کوئی ان کی ہمسری اور برابری نہیں کر سکتا۔ صحیح مسلم شریف میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفے کے دن اپنے اصحاب سے فرمایا جبکہ وہ بہت بڑی تعداد میں بہت زیادہ تھے کہ اے لوگو! میری بابت اللہ کے ہاں پوچھے جاؤ گے تو بتاؤ کیا جواب دو گے؟ سب نے کہا: ہم کہیں گے کہ آپ نے تبلیغ کر دی تھی اور حق رسالت ادا کر دیا تھا اور پوری خیر خواہی کی تھی۔ پس آپ نے اپنی انگلی آسمان کی طرف اٹھائی اور پھر نیچے زمین کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا یااللہ! تو گواہ رہ، اے اللہ! تو شاہد رہ، یااللہ! تو گواہ رہ۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:1218] ‏‏‏‏
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 59) { لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ:} اوپر بیان فرمایا ہے کہ ہدایتِ الٰہی اور اس کی برکات سے فائدہ اٹھانے یا نہ اٹھانے میں لوگوں کی دو قسمیں ہیں، ایک پاکیزہ فطرت (طیب) جو ہدایتِ الٰہی اور اس کی برکات سے خود بھی فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کے علم و عمل سے دوسروں کو بھی فائدہ پہنچتا ہے، دوسرے وہ جو شرارت پسند اور بد فطرت ہوتے ہیں، یہ لوگ ہدایت کی بارش سے فائدہ اٹھانے کے بجائے الٹے جھاڑیاں اور کانٹے بن کر نکل آتے ہیں اور ان کے دلوں کی زمین چونکہ شور ہوتی ہے، اس لیے ان پر رحمت کی بارش اتنی فائدہ بخش نہیں ہو سکتی۔ اس کے بعد اب یہاں سے تاریخی شواہد کے طور پر پہلی قوموں کے واقعات بیان کر کے گویا تاریخی ثبوت پیش کیا ہے کہ ہمیشہ سے لوگ دو قسم کے چلے آئے ہیں۔ (کبیر) نوح علیہ السلام چونکہ سب سے پہلے نبی مرسل تھے جو مشرک قوم کی طرف بھیجے گئے، جیسا کہ حدیث شفاعتِ کبریٰ (بخاری: ۴۷۱۲) اور بعض دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے، اس لیے اﷲ تعالیٰ نے سب سے پہلے انھی کا قصہ بیان فرمایا ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ (سورۂ نوح میں مذکور بت) ود، سواع، یغوث، یعوق اور نسر نیک لوگوں کے نام تھے، جب وہ فوت ہو گئے تو شیطان نے ان کے دلوں میں یہ بات ڈالی کہ ان کی مجالس میں، جن میں وہ بیٹھا کرتے تھے، ان کے مجسمے نصب کر دو اور ان کے نام پر ان کے نام رکھ دو، یہاں تک کہ جب وہ نسل فوت ہو گئی اور علم مٹ گیا تو ان کی عبادت شروع ہو گئی۔ [ بخاری، التفسیر، باب: { ودا ولا سواعا ولا يغوث و يعوق}: ۴۹۲۰ ] تاریخ کی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ قوم نوح عراق میں آباد تھی، ان کا زمانہ ۳۸۰۰ تا ۲۸۰۰ قبل مسیح ہے، مگر اس زمانے کی صحت کی کوئی دلیل نہیں۔
قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِہٖۤ اِنَّا لَنَرٰىکَ فِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۶۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اس کی قوم کے سرداروں نے جواب دیا "ہم کو تو یہ نظر آتا ہے کہ تم صریح گمراہی میں مبتلا ہو"
مولانا محمد جوناگڑھی
ان کی قوم کے بڑے لوگوں نے کہا کہ ہم تم کو صریح غلطی میں دیکھتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اس کی قوم کے سردار بولے بیشک ہم تمہیں کھلی گمراہی میں دیکھتے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
ان کی قوم کے سرداروں نے کہا۔ ہم تو تم کو کھلی ہوئی گمراہی میں دیکھتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اس کی قوم میں سے سرداروں نے کہا بے شک ہم یقینا تجھے کھلی گمراہی میں دیکھ رہے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر تذکرہ انبیاء ٭٭

چونکہ سورت کے شروع میں سیدنا آدم علیہ السلام کا قصہ بیان ہوا تھا۔ پھر اس کے متعلقات بیان ہوئے اور اس کے متصل اور بیانات فرما کر اب پھر اور انبیاء علیہم السلام کے واقعات کے بیان کا آغاز ہوا اور پے در پے ان کے بیانات ہوئے۔ سب سے پہلے نوح علیہ السلام کا ذکر ہوا کیونکہ سیدنا آدم علیہ السلام کے بعد سب سے پہلے پیغمبر اہل زمین کی طرف آپ ہی آئے تھے۔ آپ نوح بن لامک بن متوشلخ بن اخنوخ (‏‏‏‏یعنی ادریس علیہ السلام یہی پہلے وہ شخص ہیں جنہوں نے قلم سے لکھا) بن برد بن مہلیل بن قنین بن یانشن بن شیث بن آدم علیہ السلام۔

ائمہ نسب امام محمد بن اسحاق رحمہ اللہ وغیرہ نے آپ کا نسب نامہ اسی طرح بیان فرمایا ہے۔ امام صاحب فرماتے ہیں: نوح علیہ السلام جیسا کوئی اور نبی امت کی طرف سے ستایا نہیں گیا۔ ہاں انبیاء قتل ضرور کئے گئے۔ انہیں نوح اسی لیے کہا گیا کہ یہ اپنے نفس کا رونا بہت روتے تھے۔ آدم اور نوح علیہم السلام کے درمیان دس زمانے تھے جو اسلام پر گزرے تھے۔ اصنام پرستی کا رواج اس طرح شروع ہوا کہ جب اولیاء اللہ فوت ہو گئے تو ان کی قوم نے ان کی قبروں پر مسجدیں بنا لیں اور ان میں ان بزرگوں کی تصویریں بنا لیں تاکہ ان کا حال اور ان کی عبادت کا نقشہ سامنے رہے اور اپنے آپ کو ان جیسا بنانے کی کوشش کریں لیکن کچھ زمانے کے بعد ان تصویروں کے مجسمے بنا لیے۔ کچھ اور زمانے کے بعد انہی بتوں کی پوجا کرنے لگے اور ان کے نام انہی اولیاء اللہ کے ناموں پر رکھ لیے۔ ود، سواع، یغوث، یعوق، نسر وغیرہ۔ جب بت پرستی کا رواج ہو گیا، اللہ نے اپنے رسول نوح علیہ السلام کو بھیجا۔ آپ نے انہیں اللہ واحد کی عبادت کی تلقین کی اور کہا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ مجھے تو ڈر ہے کہ کہیں قیامت کے دن تمہیں عذاب نہ ہو۔ قوم نوح کے بڑوں نے، ان کے سرداروں نے اور ان کے چودھریوں نے نوح علیہ السلام کو جواب دیا کہ تم تو بہک گئے ہو، ہمیں اپنے باپ دادوں کے دین سے ہٹا رہے ہو۔ ہر بد شخص نیک لوگوں کو گمراہ سمجھا کرتا ہے۔ قرآن میں ہے کہ جب یہ بدکار ان نیک کاروں کو دیکھتے ہیں، کہتے ہیں کہ یہ تو بہکے ہوئے ہیں۔ کہا کرتے تھے کہ اگر یہ دین اچھا ہوتا تو ان سے پہلے ہم نہ مان لیتے؟ یہ تو بات ہی غلط اور جھوٹ ہے۔

نوح علیہ السلام نے جواب دیا کہ میں بہکا ہوا نہیں ہوں بلکہ میں اللہ کا رسول ہوں، تمہیں پیغام رب پہنچا رہا ہوں۔ تمہارا خیرخواہ ہوں اور اللہ کی وہ باتیں جانتا ہوں جنہیں تم نہیں جانتے۔ ہر رسول مبلغ، فصیح، بلیغ، ناصح، خیرخواہ اور عالم باللہ ہوتا ہے۔ ان صفات میں اور کوئی ان کی ہمسری اور برابری نہیں کر سکتا۔ صحیح مسلم شریف میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفے کے دن اپنے اصحاب سے فرمایا جبکہ وہ بہت بڑی تعداد میں بہت زیادہ تھے کہ اے لوگو! میری بابت اللہ کے ہاں پوچھے جاؤ گے تو بتاؤ کیا جواب دو گے؟ سب نے کہا: ہم کہیں گے کہ آپ نے تبلیغ کر دی تھی اور حق رسالت ادا کر دیا تھا اور پوری خیر خواہی کی تھی۔ پس آپ نے اپنی انگلی آسمان کی طرف اٹھائی اور پھر نیچے زمین کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا یااللہ! تو گواہ رہ، اے اللہ! تو شاہد رہ، یااللہ! تو گواہ رہ۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:1218] ‏‏‏‏
60۔ 1 شرک اس طرح انسانی عقل کو ماؤف کردیتا ہے کہ انسان کو ہدایت، گمراہی اور گمراہی۔ ہدایت نظریاتی ہے۔ چناچہ قوم نوح کی بھی یہی قلبی ماہیت ہوئی، ان کو حضرت نوح ؑ، جو اللہ کی توحید کی طرف اپنی قوم کو دعوت دے رہے تھے، نعوذباللہ گمراہ نظر آتے تھے۔: تھا جو ناخوب، بتدریج وہی خوب ہوا۔ کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر۔
(آیت 60){ قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِهٖۤ ……:} کھلی گمراہی میں اس لیے کہ اپنے آبائی دین کو چھوڑ کر ہمیں ایک نئے دین (توحید) کی طرف کھینچنا چاہتا ہے۔ انبیاء علیہم السلام کے واقعات میں یہ بات قرآن نے نمایاں طور پر بیان فرمائی ہے کہ ان کی دعوتِ توحید کی مخالفت کرنے والوں میں امراء کا طبقہ ہر زمانے میں پیش پیش رہا ہے، کیونکہ انقلابی دعوت کا پہلا نشانہ یہی لوگ بنتے ہیں۔
قَالَ یٰقَوۡمِ لَیۡسَ بِیۡ ضَلٰلَۃٌ وَّ لٰکِنِّیۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۶۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
نوحؑ نے کہا "اے برادران قوم، میں کسی گمراہی میں نہیں پڑا ہو ں بلکہ، میں رب العالمین کا رسول ہوں
مولانا محمد جوناگڑھی
انہوں نے فرمایا کہ اے میری قوم! مجھ میں تو ذرا بھی گمراہی نہیں لیکن میں پروردگار عالم کا رسول ہوں
احمد رضا خان بریلوی
کہا اے میری قوم مجھ میں گمراہی کچھ نہیں میں تو رب العالمین کا رسول ہوں،
علامہ محمد حسین نجفی
نوح نے کہا اے میری قوم! مجھ میں کوئی گمراہی نہیں ہے بلکہ میں تو سارے جہانوں کے پروردگار کا رسول ہوں۔
عبدالسلام بن محمد
اس نے کہا اے میری قوم! مجھ میں کوئی گمراہی نہیں اور لیکن میں جہانوں کے رب کی طرف سے بھیجا ہوا ہوں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر تذکرہ انبیاء ٭٭

چونکہ سورت کے شروع میں سیدنا آدم علیہ السلام کا قصہ بیان ہوا تھا۔ پھر اس کے متعلقات بیان ہوئے اور اس کے متصل اور بیانات فرما کر اب پھر اور انبیاء علیہم السلام کے واقعات کے بیان کا آغاز ہوا اور پے در پے ان کے بیانات ہوئے۔ سب سے پہلے نوح علیہ السلام کا ذکر ہوا کیونکہ سیدنا آدم علیہ السلام کے بعد سب سے پہلے پیغمبر اہل زمین کی طرف آپ ہی آئے تھے۔ آپ نوح بن لامک بن متوشلخ بن اخنوخ (‏‏‏‏یعنی ادریس علیہ السلام یہی پہلے وہ شخص ہیں جنہوں نے قلم سے لکھا) بن برد بن مہلیل بن قنین بن یانشن بن شیث بن آدم علیہ السلام۔

ائمہ نسب امام محمد بن اسحاق رحمہ اللہ وغیرہ نے آپ کا نسب نامہ اسی طرح بیان فرمایا ہے۔ امام صاحب فرماتے ہیں: نوح علیہ السلام جیسا کوئی اور نبی امت کی طرف سے ستایا نہیں گیا۔ ہاں انبیاء قتل ضرور کئے گئے۔ انہیں نوح اسی لیے کہا گیا کہ یہ اپنے نفس کا رونا بہت روتے تھے۔ آدم اور نوح علیہم السلام کے درمیان دس زمانے تھے جو اسلام پر گزرے تھے۔ اصنام پرستی کا رواج اس طرح شروع ہوا کہ جب اولیاء اللہ فوت ہو گئے تو ان کی قوم نے ان کی قبروں پر مسجدیں بنا لیں اور ان میں ان بزرگوں کی تصویریں بنا لیں تاکہ ان کا حال اور ان کی عبادت کا نقشہ سامنے رہے اور اپنے آپ کو ان جیسا بنانے کی کوشش کریں لیکن کچھ زمانے کے بعد ان تصویروں کے مجسمے بنا لیے۔ کچھ اور زمانے کے بعد انہی بتوں کی پوجا کرنے لگے اور ان کے نام انہی اولیاء اللہ کے ناموں پر رکھ لیے۔ ود، سواع، یغوث، یعوق، نسر وغیرہ۔ جب بت پرستی کا رواج ہو گیا، اللہ نے اپنے رسول نوح علیہ السلام کو بھیجا۔ آپ نے انہیں اللہ واحد کی عبادت کی تلقین کی اور کہا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ مجھے تو ڈر ہے کہ کہیں قیامت کے دن تمہیں عذاب نہ ہو۔ قوم نوح کے بڑوں نے، ان کے سرداروں نے اور ان کے چودھریوں نے نوح علیہ السلام کو جواب دیا کہ تم تو بہک گئے ہو، ہمیں اپنے باپ دادوں کے دین سے ہٹا رہے ہو۔ ہر بد شخص نیک لوگوں کو گمراہ سمجھا کرتا ہے۔ قرآن میں ہے کہ جب یہ بدکار ان نیک کاروں کو دیکھتے ہیں، کہتے ہیں کہ یہ تو بہکے ہوئے ہیں۔ کہا کرتے تھے کہ اگر یہ دین اچھا ہوتا تو ان سے پہلے ہم نہ مان لیتے؟ یہ تو بات ہی غلط اور جھوٹ ہے۔

نوح علیہ السلام نے جواب دیا کہ میں بہکا ہوا نہیں ہوں بلکہ میں اللہ کا رسول ہوں، تمہیں پیغام رب پہنچا رہا ہوں۔ تمہارا خیرخواہ ہوں اور اللہ کی وہ باتیں جانتا ہوں جنہیں تم نہیں جانتے۔ ہر رسول مبلغ، فصیح، بلیغ، ناصح، خیرخواہ اور عالم باللہ ہوتا ہے۔ ان صفات میں اور کوئی ان کی ہمسری اور برابری نہیں کر سکتا۔ صحیح مسلم شریف میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفے کے دن اپنے اصحاب سے فرمایا جبکہ وہ بہت بڑی تعداد میں بہت زیادہ تھے کہ اے لوگو! میری بابت اللہ کے ہاں پوچھے جاؤ گے تو بتاؤ کیا جواب دو گے؟ سب نے کہا: ہم کہیں گے کہ آپ نے تبلیغ کر دی تھی اور حق رسالت ادا کر دیا تھا اور پوری خیر خواہی کی تھی۔ پس آپ نے اپنی انگلی آسمان کی طرف اٹھائی اور پھر نیچے زمین کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا یااللہ! تو گواہ رہ، اے اللہ! تو شاہد رہ، یااللہ! تو گواہ رہ۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:1218] ‏‏‏‏
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اُبَلِّغُکُمۡ رِسٰلٰتِ رَبِّیۡ وَ اَنۡصَحُ لَکُمۡ وَ اَعۡلَمُ مِنَ اللّٰہِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۶۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تمہیں اپنے رب کے پیغامات پہنچاتا ہوں، تمہارا خیر خواہ ہوں اور مجھے اللہ کی طرف سے وہ کچھ معلوم ہے جو تمھیں معلوم نہیں ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
تم کو اپنے پروردگار کے پیغام پہنچاتا ہوں اور تمہاری خیر خواہی کرتا ہوں اور میں اللہ کی طرف سے ان امور کی خبر رکھتا ہوں جن کی تم کو خبر نہیں
احمد رضا خان بریلوی
تمہیں اپنے رب کی رسالتیں پہنچاتا اور تمہارا بھلا چاہتا اور میں اللہ کی طرف سے وہ علم رکھتا ہوں جو تم نہیں رکھتے،
علامہ محمد حسین نجفی
تمہیں اپنے پروردگار کے پیغامات پہنچاتا ہوں (اور تمہاری خیر خواہی کے لیے) تمہیں نصیحت کرتا ہوں۔ اور اللہ کی طرف سے وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔
عبدالسلام بن محمد
میں تمھیں اپنے رب کے پیغامات پہنچاتا ہوں اور تمھاری خیرخواہی کرتا ہوں اور اللہ کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر تذکرہ انبیاء ٭٭

چونکہ سورت کے شروع میں سیدنا آدم علیہ السلام کا قصہ بیان ہوا تھا۔ پھر اس کے متعلقات بیان ہوئے اور اس کے متصل اور بیانات فرما کر اب پھر اور انبیاء علیہم السلام کے واقعات کے بیان کا آغاز ہوا اور پے در پے ان کے بیانات ہوئے۔ سب سے پہلے نوح علیہ السلام کا ذکر ہوا کیونکہ سیدنا آدم علیہ السلام کے بعد سب سے پہلے پیغمبر اہل زمین کی طرف آپ ہی آئے تھے۔ آپ نوح بن لامک بن متوشلخ بن اخنوخ (‏‏‏‏یعنی ادریس علیہ السلام یہی پہلے وہ شخص ہیں جنہوں نے قلم سے لکھا) بن برد بن مہلیل بن قنین بن یانشن بن شیث بن آدم علیہ السلام۔

ائمہ نسب امام محمد بن اسحاق رحمہ اللہ وغیرہ نے آپ کا نسب نامہ اسی طرح بیان فرمایا ہے۔ امام صاحب فرماتے ہیں: نوح علیہ السلام جیسا کوئی اور نبی امت کی طرف سے ستایا نہیں گیا۔ ہاں انبیاء قتل ضرور کئے گئے۔ انہیں نوح اسی لیے کہا گیا کہ یہ اپنے نفس کا رونا بہت روتے تھے۔ آدم اور نوح علیہم السلام کے درمیان دس زمانے تھے جو اسلام پر گزرے تھے۔ اصنام پرستی کا رواج اس طرح شروع ہوا کہ جب اولیاء اللہ فوت ہو گئے تو ان کی قوم نے ان کی قبروں پر مسجدیں بنا لیں اور ان میں ان بزرگوں کی تصویریں بنا لیں تاکہ ان کا حال اور ان کی عبادت کا نقشہ سامنے رہے اور اپنے آپ کو ان جیسا بنانے کی کوشش کریں لیکن کچھ زمانے کے بعد ان تصویروں کے مجسمے بنا لیے۔ کچھ اور زمانے کے بعد انہی بتوں کی پوجا کرنے لگے اور ان کے نام انہی اولیاء اللہ کے ناموں پر رکھ لیے۔ ود، سواع، یغوث، یعوق، نسر وغیرہ۔ جب بت پرستی کا رواج ہو گیا، اللہ نے اپنے رسول نوح علیہ السلام کو بھیجا۔ آپ نے انہیں اللہ واحد کی عبادت کی تلقین کی اور کہا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ مجھے تو ڈر ہے کہ کہیں قیامت کے دن تمہیں عذاب نہ ہو۔ قوم نوح کے بڑوں نے، ان کے سرداروں نے اور ان کے چودھریوں نے نوح علیہ السلام کو جواب دیا کہ تم تو بہک گئے ہو، ہمیں اپنے باپ دادوں کے دین سے ہٹا رہے ہو۔ ہر بد شخص نیک لوگوں کو گمراہ سمجھا کرتا ہے۔ قرآن میں ہے کہ جب یہ بدکار ان نیک کاروں کو دیکھتے ہیں، کہتے ہیں کہ یہ تو بہکے ہوئے ہیں۔ کہا کرتے تھے کہ اگر یہ دین اچھا ہوتا تو ان سے پہلے ہم نہ مان لیتے؟ یہ تو بات ہی غلط اور جھوٹ ہے۔

نوح علیہ السلام نے جواب دیا کہ میں بہکا ہوا نہیں ہوں بلکہ میں اللہ کا رسول ہوں، تمہیں پیغام رب پہنچا رہا ہوں۔ تمہارا خیرخواہ ہوں اور اللہ کی وہ باتیں جانتا ہوں جنہیں تم نہیں جانتے۔ ہر رسول مبلغ، فصیح، بلیغ، ناصح، خیرخواہ اور عالم باللہ ہوتا ہے۔ ان صفات میں اور کوئی ان کی ہمسری اور برابری نہیں کر سکتا۔ صحیح مسلم شریف میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفے کے دن اپنے اصحاب سے فرمایا جبکہ وہ بہت بڑی تعداد میں بہت زیادہ تھے کہ اے لوگو! میری بابت اللہ کے ہاں پوچھے جاؤ گے تو بتاؤ کیا جواب دو گے؟ سب نے کہا: ہم کہیں گے کہ آپ نے تبلیغ کر دی تھی اور حق رسالت ادا کر دیا تھا اور پوری خیر خواہی کی تھی۔ پس آپ نے اپنی انگلی آسمان کی طرف اٹھائی اور پھر نیچے زمین کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا یااللہ! تو گواہ رہ، اے اللہ! تو شاہد رہ، یااللہ! تو گواہ رہ۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:1218] ‏‏‏‏
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 62){ وَ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ:} کیونکہ میری طرف وحی آتی ہے اور تمھاری طرف وحی نہیں آتی۔ (شوکانی)
اَوَ عَجِبۡتُمۡ اَنۡ جَآءَکُمۡ ذِکۡرٌ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ عَلٰی رَجُلٍ مِّنۡکُمۡ لِیُنۡذِرَکُمۡ وَ لِتَتَّقُوۡا وَ لَعَلَّکُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ ﴿۶۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کیا تمہیں اس بات پر تعجب ہوا کہ تمہارے پاس خود تمہاری اپنی قوم کے ایک آدمی کے ذریعہ سے تمہارے رب کی یاد دہانی آئی تاکہ تمہیں خبردار کرے اور تم غلط روی سے بچ جاؤ اور تم پر رحم کیا جائے؟"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور کیا تم اس بات سے تعجب کرتے ہو کہ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس ایک ایسے شخص کی معرفت، جو تمہاری ہی جنس کا ہے، کوئی نصیحت کی بات آگئی تاکہ وه شخص تم کو ڈرائے اور تاکہ تم ڈرجاؤ اور تاکہ تم پر رحم کیا جائے
احمد رضا خان بریلوی
اور کیا تمہیں اس کا اچنبا ہوا کہ تمہارے پاس رب کی طرف سے ایک نصیحت آئی تم میں کے ایک مرد کی معرفت کہ وہ تمہیں ڈرائے اور تم ڈرو اور کہیں تم پر رحم ہو،
علامہ محمد حسین نجفی
کیا تمہیں اس بات پر تعجب ہے کہ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہاری اپنی قوم کے ایک شخص کے پاس وعظ و نصیحت کا پیغام آیا ہے۔ تاکہ وہ تمہیں (خدا کے عذاب سے) ڈرائے! اور تاکہ تم پرہیزگار بنو۔ اور تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔
عبدالسلام بن محمد
اور کیا تم نے عجیب سمجھا کہ تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے تم میں سے ایک آدمی پر ایک عظیم الشان نصیحت آئی، تاکہ وہ تمھیں ڈرائے اور تاکہ تم بچ جائو اور تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نوح علیہ السلام پر کیا گزری؟ ٭٭

نوح علیہ السلام اپنی قوم سے فرما رہے ہیں کہ تم اس بات کو انوکھا اور تعجب والا نہ سمجھو کہ اللہ تعالیٰ اپنے لطف و کرم سے کسی انسان پر اپنی وحی نازل فرمائے اور اسے اپنی پیغمبری سے ممتاز کر دے تاکہ وہ تمہیں ہو شیار کر دے۔ پھر تم شرک و کفر سے الگ ہو کر عذاب الٰہی سے نجات پا لو اور تم پر گو نا گوں رحمتیں نازل ہوں۔ نوح علیہ السلام کی ان دلیلوں اور وعظوں سے ان سنگدلوں پر کوئی اثر نہ ہوا۔ یہ انہیں جھٹلاتے رہے، مخالفت سے باز نہ آئے، ایمان قبول نہ کیا۔ صرف چند لوگ سنور گئے۔ پس ہم نے ان لوگوں کو اپنے نبی علیہ السلام کے ساتھ کشتی میں بٹھا کر طوفان سے نجات دی اور باقی لوگوں کو تہ آب غرق کر دیا۔ جیسے سورۃ نوح میں فرمایا ہے کہ وہ اپنے گناہوں کے باعث غرق کر دیئے گئے۔ پھر دوزخ میں ڈال دیئے گئے اور کوئی ایسا نہیں تھا جو ان کی کسی قسم کی مدد کرتا۔ یہ لوگ حق سے آنکھیں بند کئے ہوئے تھے، نابینا ہو گئے تھے، راہ حق انہیں آخر تک سجھائی نہ دی۔ پس اللہ نے اپنے نبی علیہ السلام کو، اپنے دوستوں کو نجات دی۔ اپنے اور ان کے دشمنوں کو تہ آب برباد کر دیا۔ جیسے اس کا وعدہ ہے کہ ہم اپنے رسولوں کی اور ایمانداروں کی ضرور مدد فرمایا کرتے ہیں، دنیا میں ہی نہیں بلکہ آخرت میں بھی وہ ان کی امداد کرتا ہے۔ ان پرہیزگاروں کے لئے ہی عافیت ہے۔ انجام کار غالب اور مظفر و منصور یہی رہتے ہیں جیسے کہ نوح علیہ السلام آخر کار غالب رہے اور کفار ناکام و نامراد ہوئے۔ یہ لوگ تنگ پکڑ میں آ گئے اور غارت کر دئیے گئے۔ صرف اللہ کے رسول علیہ السلام کے اسی (‏‏‏‏۸۰) آدمیوں نے نجات پائی۔ ان ہی میں ایک صاحب جرہم نامی تھے جن کی زبان عربی تھی۔ ابن ابی حاتم میں یہ روایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے متصلاً مروی ہے۔
63۔ 1 حضرت نوح ؑ اور حضرت آدم ؑ کے درمیان دس قرنوں یا دس پشتوں کا فاصلہ ہے، حضرت نوح ؑ کے کچھ پہلے تک تمام لوگ اسلام پر قائم چلے آرہے تھے پھر سب سے پہلے توحید سے انحراف اس طرح آیا کہ اس قوم کے صالحین فوت ہوگئے تو ان کے عقیدت مندوں نے ان پر سجدہ گاہیں (عبادت خانے) قائم کردیں اور ان کی تصویریں بھی وہاں لٹکا دیں، مقصد ان کا یہ تھا کہ اس طرح ان کی یاد سے وہ بھی اللہ کا ذکر کریں گے اور ذکر الٰہی میں ان کی مشابہت اختیار کریں گے۔ جب کچھ وقت گزرا تو انہوں نے تصویروں کے مجسمے بنا دیئے اور پھر کچھ عرصہ گزرنے کے بعد یہ مجسمے بتوں کی شکل اختیار کر گئے اور ان کی پوجا پاٹ شروع ہوگئی اور قوم نوح کے یہ صالحین معبود بن گئے۔ ان حالات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح ؑ کو ان میں نبی بنا کر بھیجا جنہوں نے ساڑھے نو سو سال تبلیغ کی۔ لیکن تھوڑے سے لوگوں کے سوا، کسی نے آپ کی تبلیغ کا اثر قبول نہیں کیا بالآخر اہل ایمان کے سوا سب کو غرق کردیا گیا۔ اس آیت میں بتلایا جارہا ہے کہ قوم نوح نے اس بات پر تعجب کا اظہار کیا کہ ان ہی میں کا ایک آدمی نبی بن کر آگیا جو انہیں اللہ کے عذاب سے ڈرا رہا ہے؟ یعنی ان کے خیال میں نبوت کے لئے انسان موزوں نہیں۔
(آیت 63) ➊ { اَوَ عَجِبْتُمْ اَنْ جَآءَكُمْ ذِكْرٌ ……:} تمام کافر اقوام کا اعتراض یہی تھا کہ ہمیں میں سے ایک شخص یعنی کوئی انسان رسول کیسے ہو سکتا ہے؟ جیسا کہ آج کل کے کئی کلمہ گو کہتے ہیں کہ جو نبی ہو وہ انسان کیسے ہو سکتا ہے؟ دونوں کی اصل مشکل ایک ہی ہے۔ نوح علیہ السلام کا جواب یہ تھا کہ اس میں تعجب کی کیا بات ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے تم میں سے ایک آدمی کے ذریعے سے تمھاری طرف نصیحت بھیجی، تاکہ وہ نمونہ بنے، تمھیں خبردار کرے اور تم اﷲ سے ڈرو اور تم پر رحم ہو جائے۔ فرشتے یا کسی اور مخلوق کو بھیجنے سے یہ مقصد کبھی حاصل نہ ہوتا۔ ➋ {وَ لِتَتَّقُوْا وَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ:} اشارہ فرمایا کہ انبیاء کی دعوت قبول کر لینے سے دلوں میں تقویٰ پیدا ہوتا ہے اور یہی تقویٰ آخرت میں رحمت کا سبب بنے گا۔ (رازی)
فَکَذَّبُوۡہُ فَاَنۡجَیۡنٰہُ وَ الَّذِیۡنَ مَعَہٗ فِی الۡفُلۡکِ وَ اَغۡرَقۡنَا الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا ؕ اِنَّہُمۡ کَانُوۡا قَوۡمًا عَمِیۡنَ ﴿٪۶۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
مگر انہوں نے اس کو جھٹلا دیا آخر کار ہم نے اسے اور اس کے ساتھیوں کو ایک کشتی میں نجات دی اور اُن لوگوں کو ڈبو دیا جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا تھا، یقیناً وہ اندھے لوگ تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
سو وه لوگ ان کی تکذیب ہی کرتے رہے تو ہم نے نوح (علیہ السلام) کو اور ان کو جو ان کےساتھ کشتی میں تھے، بچالیا اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا ان کو ہم نے غرق کردیا۔ بے شک وه لوگ اندھے ہورہے تھے
احمد رضا خان بریلوی
تو انہوں نے اسے جھٹلایا تو ہم نے اسے اور جو اس کے ساتھ کشتی میں تھے نجات دی اور اپنی آیتیں جھٹلانے والوں کو ڈبو دیا، بیشک وہ اندھا گروہ تھا
علامہ محمد حسین نجفی
(مگر) ان لوگوں نے انہیں جھٹلایا۔ (جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ) ہم نے انہیں اور جو کشتی میں ان کے ساتھ تھے ان کو نجات دی اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا ان کو غرق کر دیا بے شک وہ اندھے (بے بصیرت) لوگ تھے۔
عبدالسلام بن محمد
پھر انھوں نے اسے جھٹلا دیا تو ہم نے اسے اور ان لوگوں کو جو کشتی میں اس کے ساتھ تھے، بچا لیا اور ان لوگوں کو غرق کر دیا جنھوں نے ہماری آیا ت کو جھٹلایا۔ یقینا وہ اندھے لوگ تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نوح علیہ السلام پر کیا گزری؟ ٭٭

نوح علیہ السلام اپنی قوم سے فرما رہے ہیں کہ تم اس بات کو انوکھا اور تعجب والا نہ سمجھو کہ اللہ تعالیٰ اپنے لطف و کرم سے کسی انسان پر اپنی وحی نازل فرمائے اور اسے اپنی پیغمبری سے ممتاز کر دے تاکہ وہ تمہیں ہو شیار کر دے۔ پھر تم شرک و کفر سے الگ ہو کر عذاب الٰہی سے نجات پا لو اور تم پر گو نا گوں رحمتیں نازل ہوں۔ نوح علیہ السلام کی ان دلیلوں اور وعظوں سے ان سنگدلوں پر کوئی اثر نہ ہوا۔ یہ انہیں جھٹلاتے رہے، مخالفت سے باز نہ آئے، ایمان قبول نہ کیا۔ صرف چند لوگ سنور گئے۔ پس ہم نے ان لوگوں کو اپنے نبی علیہ السلام کے ساتھ کشتی میں بٹھا کر طوفان سے نجات دی اور باقی لوگوں کو تہ آب غرق کر دیا۔ جیسے سورۃ نوح میں فرمایا ہے کہ وہ اپنے گناہوں کے باعث غرق کر دیئے گئے۔ پھر دوزخ میں ڈال دیئے گئے اور کوئی ایسا نہیں تھا جو ان کی کسی قسم کی مدد کرتا۔ یہ لوگ حق سے آنکھیں بند کئے ہوئے تھے، نابینا ہو گئے تھے، راہ حق انہیں آخر تک سجھائی نہ دی۔ پس اللہ نے اپنے نبی علیہ السلام کو، اپنے دوستوں کو نجات دی۔ اپنے اور ان کے دشمنوں کو تہ آب برباد کر دیا۔ جیسے اس کا وعدہ ہے کہ ہم اپنے رسولوں کی اور ایمانداروں کی ضرور مدد فرمایا کرتے ہیں، دنیا میں ہی نہیں بلکہ آخرت میں بھی وہ ان کی امداد کرتا ہے۔ ان پرہیزگاروں کے لئے ہی عافیت ہے۔ انجام کار غالب اور مظفر و منصور یہی رہتے ہیں جیسے کہ نوح علیہ السلام آخر کار غالب رہے اور کفار ناکام و نامراد ہوئے۔ یہ لوگ تنگ پکڑ میں آ گئے اور غارت کر دئیے گئے۔ صرف اللہ کے رسول علیہ السلام کے اسی (‏‏‏‏۸۰) آدمیوں نے نجات پائی۔ ان ہی میں ایک صاحب جرہم نامی تھے جن کی زبان عربی تھی۔ ابن ابی حاتم میں یہ روایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے متصلاً مروی ہے۔
64۔ 1 یعنی حق سے حق کو دیکھتے تھے نہ اس کو اپنانے کے لئے تیار تھے۔
(آیت 64) {فَاَنْجَيْنٰهُ وَ الَّذِيْنَ مَعَهٗ ……:} آخر مومنوں کو سفینے(بحری جہاز) میں اﷲ تعالیٰ نے نجات دی اور مخالفین طوفان سے ہلاک ہو گئے۔ اہل تاریخ کا کہنا ہے کہ طوفان نوح کا تخمینی سال ۳۲۰۰ قبل مسیح ہے۔ بیان کرتے ہیں کہ نوح علیہ السلام کا یہ سفینہ تین منزلہ تھا، طول۳۰۰ ہاتھ، عرض۵۰ ہاتھ اور اونچائی ۳۰ ہاتھ، لیکن ان باتوں کی کوئی دلیل نہیں۔ تورات کے بیان کے مطابق یہ جہاز تقریباً پانچ ماہ چلتا رہا، مگر ہمارے پاس اس کی تصدیق یا تکذیب کا کوئی ذریعہ نہیں۔ دنیا کے مختلف خطوں میں اور مختلف پہاڑوں پر ایک قدیم اور زبردست طوفان کے آثار اب بھی پائے جاتے ہیں۔ قصۂ نوح کی تفصیل سورۂ نوح اور سورۂ ہود وغیرہ میں ہے۔ ان کا اندھا پن یہ تھا کہ حق نہ دیکھتے تھے اور نہ قبول کرنے کے لیے تیار تھے۔
وَ اِلٰی عَادٍ اَخَاہُمۡ ہُوۡدًا ؕ قَالَ یٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰہَ مَا لَکُمۡ مِّنۡ اِلٰہٍ غَیۡرُہٗ ؕ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴿۶۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور عاد کی طرف ہم نے ان کے بھائی ہودؑ کو بھیجا اس نے کہا "اے برادران قو م، اللہ کی بندگی کرو، اُس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے پھر کیا تم غلط روی سے پرہیز نہ کرو گے؟"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہم نے قوم عاد کی طرف ان کے بھائی ہود (علیہ السلام) کو بھیجا۔ انہوں نے فرمایا اے میری قوم! تم اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا کوئی تمہارا معبود نہیں، سو کیا تم نہیں ڈرتے
احمد رضا خان بریلوی
اور عاد کی طرف ان کی برادری سے ہود کو بھیجا کہا اے میری قوم اللہ کی بندگی کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، تو کیا تمہیں ڈر نہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے قومِ عاد کی طرف ان کے (قومی) بھائی ہود کو بھیجا۔ انہوں نے کہا! اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ آخر تم پرہیزگاری کیوں اختیار نہیں کرتے؟
عبدالسلام بن محمد
اور عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو (بھیجا)، اس نے کہا اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں، تو کیا تم نہیں ڈرتے؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہود علیہ السلام اور ان کا رویہ! ٭٭

فرماتا ہے کہ جیسے قوم نوح کی طرف نوح علیہ السلام کو ہم نے بھیجا تھا، قوم عاد کی طرف ہود علیہ السلام کو ہم نے نبی بنا کر بھیجا، یہ لوگ عاد بن ارم بن عوص بن سام بن نوح کی اولاد تھے۔ یہ عاد اولیٰ ہیں۔ یہ جنگل میں ستونوں میں رہتے تھے۔ فرمان ہے «أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ الَّتِي لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ» [89-الفجر:6-8] ‏‏‏‏ یعنی ’ کیا تو نے نہیں دیکھا کہ عاد، ارم کے ساتھ تیرے رب نے کیا کیا؟ جو بلند قامت تھے۔ دوسرے شہروں میں جن کی مانند لوگ پیدا ہی نہیں کئے گئے۔ ‘ یہ لوگ بڑے قوی، طاقتور اور لمبے چوڑے قد کے تھے۔ جیسے فرمان ہے کہ عادیوں نے زمین میں ناحق تکبر کیا اور نعرہ لگایا کہ ہم سے زیادہ قوی کون ہے؟ کیا انہیں اتنی بھی تمیز نہیں کہ ان کا پیدا کرنے والا یقیناً ان سے زیادہ قوت و طاقت والا ہے۔ وہ ہماری آیتوں سے انکار کر بیٹھے۔ ان کے شہر یمن میں احقاف تھے، یہ ریتلے پہاڑ تھے۔

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے حضر موت کے ایک شخص سے کہا کہ تو نے ایک سرخ ٹیلہ دیکھا ہو گا جس میں سرخ رنگ کی راکھ جیسی مٹی ہے۔ اس کے آس پاس پیلو اور بیری کے درخت بکثرت ہیں، وہ ٹیلہ فلاں جگہ حضر موت میں ہے۔ اس نے کہا: امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ آپ تو اس طرح کے نشان بتا رہے ہیں گویا آپ نے بچشم خود دیکھا ہے۔ آپ نے فرمایا: نہیں دیکھا تو نہیں لیکن ہاں مجھ تک حدیث پہنچی ہے کہ وہیں ہود علیہ السلام کی قبر ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان لوگوں کی بستیاں یمن میں تھیں۔ اس لیے ان کے پیغمبر وہیں مدفون ہیں۔ آپ ان سب میں شریف قبیلے کے تھے۔ اس لیے کہ انبیاء ہمیشہ حسب نسب کے اعتبار سے عالی خاندان میں ہی ہوتے رہے ہیں لیکن آپ کی قوم جس طرح جسمانی طور سے سخت اور زوردار تھی، اسی طرح دلوں کے اعتبار سے بھی بہت سخت تھی۔ جب اپنے نبی کی زبانی اللہ کی عبادت اور تقویٰ کی نصیحت سنی تو لوگوں کی بھاری اکثریت اور ان کے سردار اور بڑے بول اٹھے کہ تو تو پاگل ہو گیا ہے، ہمیں اپنے بتوں کی ان خوبصورت تصویروں کی عبادت سے ہٹا کر اللہ واحد کی عبادت کی طرف بلا رہا ہے۔ یہی تعجب قریش کو ہوا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس نے سارے معبودوں کو عبادت سے ہٹا کر ایک کی دعوت کیوں دی؟

ہود علیہ السلام نے انہیں جواب دیا کہ مجھ میں تو بیوقوفی کی بفضلہ کوئی بات نہیں۔ میں جو کہہ رہا ہوں وہ اللہ کا فرمودہ ہے۔ اس لیے کہ میں رسول اللہ ہوں۔ رب کی طرف سے حق لایا ہوں۔ وہ رب ہر چیز کا مالک، سب کا خالق ہے۔ میں تو تمہیں کلام اللہ پہنچا رہا ہوں، تمہاری خیر خواہی کرتا ہوں اور امانت داری سے حق رسالت ادا کر رہا ہوں۔ یہی وہ صفتیں ہیں جو تمام رسولوں میں یکساں ہوتی ہیں یعنی پیغام حق پہنچانا، لوگوں کی بھلائی چاہنا اور امانت داری کا نمونہ بننا۔ تم میری رسالت پر تعجب نہ کرو بلکہ اللہ کا شکر بجا لاؤ کہ اس نے تم میں سے ایک فرد کو اپنا پیغمبر بنایا کہ وہ تمہیں عذاب الٰہی سے ڈرا دے۔ تمہیں رب کے اس احسان کو بھی فراموش نہ کرنا چاہیئے کہ اس نے تمہیں ہلاک ہونے والوں کے بقایا میں سے بنایا، تمہیں باقی رکھا۔ اتنا ہی نہیں بلکہ تمہیں قوی ہیکل، مضبوط اور طاقتور کر دیا۔ یہی نعمت طالوت پر تھی کہ انہیں جسمانی اور علمی کشادگی دی گئی تھی۔ ۱؎ [2-البقرة:247] ‏‏‏‏ تم اللہ کی نعمتوں کو یاد رکھو تاکہ نجات حاصل کر سکو۔
65۔ 1 یہ قوم عاد، عاد اولیٰ ہے جن کی رہائش یمن میں ریتلے پہاڑوں پر تھی اور اپنی قوت و طاقت میں بےمثال تھی۔ ان کی طرف حضرت ہود علیہ السلام، جو اسی قوم کے ایک فرد تھے نبی بن کر آئے۔
(آیت 65){ وَ اِلٰى عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا:} عاد عرب کی ایک قدیم ترین قوم تھی جو جنوبی عرب میں آباد تھی۔ قرآن کے بیان کے مطابق ان کا مسکن ” احقاف“ کا علاقہ تھا جو حجاز، یمن اور عمان کے درمیان واقع ہے اور اب ” ربع خالی“ کے نام سے مشہور ہے۔ یمن کا شہر حضر موت ان کا پایۂ تخت تھا۔ ان کا نسب یوں بیان کیا جاتا ہے: عاد بن عوض بن ارم بن سام بن نوح۔ (ابن کثیر) مگر اس کی صحت اﷲ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ ہود علیہ السلام کی قومِ عاد قرآن میں عادِ ارم یا عادِ اولیٰ کے نام سے مذکور ہے۔ حضر موت کے نزدیک ایک مقام پر ہود علیہ السلام کی قبر بتائی جاتی ہے۔ (المنار) مگر ملا علی قاری نے الموضوعات میں لکھا ہے کہ انبیاء میں سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ میں سے ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما کی قبروں کے سوا کسی نبی یا صحابی کی قبر کا کوئی صحیح علم نہیں ہے۔
قَالَ الۡمَلَاُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِہٖۤ اِنَّا لَنَرٰىکَ فِیۡ سَفَاہَۃٍ وَّ اِنَّا لَنَظُنُّکَ مِنَ الۡکٰذِبِیۡنَ ﴿۶۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اس کی قوم کے سرداروں نے، جو اس کی بات ماننے سے انکار کر رہے تھے، جواب میں کہا "ہم تو تمہیں بے عقلی میں مبتلا سمجھتے ہیں اور ہمیں گمان ہے کہ تم جھوٹے ہو"
مولانا محمد جوناگڑھی
ان کی قوم میں جو بڑے لوگ کافر تھے انہوں نے کہا ہم تم کو کم عقلی میں دیکھتے ہیں۔ اور ہم بے شک تم کو جھوٹے لوگوں میں سمجھتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اس کی قوم کے سردار بولے بیشک ہم تمہیں بیوقوف سمجھتے ہیں اور بیشک ہم تمہیں جھوٹوں میں گمان کرتے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
ان کی قوم کے کافر سرداروں نے کہا ہم تمہیں حماقت میں مبتلا دیکھتے ہیں اور ہم تمہیں جھوٹا خیال کرتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اس کی قوم میں سے ان سرداروں نے جنھوں نے کفرکیا، کہا بے شک ہم یقینا تجھے بہت بڑی بے وقوفی میں (مبتلا) دیکھ رہے ہیں اور بے شک ہم یقینا تجھے جھوٹوں میں سے گمان کرتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہود علیہ السلام اور ان کا رویہ! ٭٭

فرماتا ہے کہ جیسے قوم نوح کی طرف نوح علیہ السلام کو ہم نے بھیجا تھا، قوم عاد کی طرف ہود علیہ السلام کو ہم نے نبی بنا کر بھیجا، یہ لوگ عاد بن ارم بن عوص بن سام بن نوح کی اولاد تھے۔ یہ عاد اولیٰ ہیں۔ یہ جنگل میں ستونوں میں رہتے تھے۔ فرمان ہے «أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ الَّتِي لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ» [89-الفجر:6-8] ‏‏‏‏ یعنی ’ کیا تو نے نہیں دیکھا کہ عاد، ارم کے ساتھ تیرے رب نے کیا کیا؟ جو بلند قامت تھے۔ دوسرے شہروں میں جن کی مانند لوگ پیدا ہی نہیں کئے گئے۔ ‘ یہ لوگ بڑے قوی، طاقتور اور لمبے چوڑے قد کے تھے۔ جیسے فرمان ہے کہ عادیوں نے زمین میں ناحق تکبر کیا اور نعرہ لگایا کہ ہم سے زیادہ قوی کون ہے؟ کیا انہیں اتنی بھی تمیز نہیں کہ ان کا پیدا کرنے والا یقیناً ان سے زیادہ قوت و طاقت والا ہے۔ وہ ہماری آیتوں سے انکار کر بیٹھے۔ ان کے شہر یمن میں احقاف تھے، یہ ریتلے پہاڑ تھے۔

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے حضر موت کے ایک شخص سے کہا کہ تو نے ایک سرخ ٹیلہ دیکھا ہو گا جس میں سرخ رنگ کی راکھ جیسی مٹی ہے۔ اس کے آس پاس پیلو اور بیری کے درخت بکثرت ہیں، وہ ٹیلہ فلاں جگہ حضر موت میں ہے۔ اس نے کہا: امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ آپ تو اس طرح کے نشان بتا رہے ہیں گویا آپ نے بچشم خود دیکھا ہے۔ آپ نے فرمایا: نہیں دیکھا تو نہیں لیکن ہاں مجھ تک حدیث پہنچی ہے کہ وہیں ہود علیہ السلام کی قبر ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان لوگوں کی بستیاں یمن میں تھیں۔ اس لیے ان کے پیغمبر وہیں مدفون ہیں۔ آپ ان سب میں شریف قبیلے کے تھے۔ اس لیے کہ انبیاء ہمیشہ حسب نسب کے اعتبار سے عالی خاندان میں ہی ہوتے رہے ہیں لیکن آپ کی قوم جس طرح جسمانی طور سے سخت اور زوردار تھی، اسی طرح دلوں کے اعتبار سے بھی بہت سخت تھی۔ جب اپنے نبی کی زبانی اللہ کی عبادت اور تقویٰ کی نصیحت سنی تو لوگوں کی بھاری اکثریت اور ان کے سردار اور بڑے بول اٹھے کہ تو تو پاگل ہو گیا ہے، ہمیں اپنے بتوں کی ان خوبصورت تصویروں کی عبادت سے ہٹا کر اللہ واحد کی عبادت کی طرف بلا رہا ہے۔ یہی تعجب قریش کو ہوا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس نے سارے معبودوں کو عبادت سے ہٹا کر ایک کی دعوت کیوں دی؟

ہود علیہ السلام نے انہیں جواب دیا کہ مجھ میں تو بیوقوفی کی بفضلہ کوئی بات نہیں۔ میں جو کہہ رہا ہوں وہ اللہ کا فرمودہ ہے۔ اس لیے کہ میں رسول اللہ ہوں۔ رب کی طرف سے حق لایا ہوں۔ وہ رب ہر چیز کا مالک، سب کا خالق ہے۔ میں تو تمہیں کلام اللہ پہنچا رہا ہوں، تمہاری خیر خواہی کرتا ہوں اور امانت داری سے حق رسالت ادا کر رہا ہوں۔ یہی وہ صفتیں ہیں جو تمام رسولوں میں یکساں ہوتی ہیں یعنی پیغام حق پہنچانا، لوگوں کی بھلائی چاہنا اور امانت داری کا نمونہ بننا۔ تم میری رسالت پر تعجب نہ کرو بلکہ اللہ کا شکر بجا لاؤ کہ اس نے تم میں سے ایک فرد کو اپنا پیغمبر بنایا کہ وہ تمہیں عذاب الٰہی سے ڈرا دے۔ تمہیں رب کے اس احسان کو بھی فراموش نہ کرنا چاہیئے کہ اس نے تمہیں ہلاک ہونے والوں کے بقایا میں سے بنایا، تمہیں باقی رکھا۔ اتنا ہی نہیں بلکہ تمہیں قوی ہیکل، مضبوط اور طاقتور کر دیا۔ یہی نعمت طالوت پر تھی کہ انہیں جسمانی اور علمی کشادگی دی گئی تھی۔ ۱؎ [2-البقرة:247] ‏‏‏‏ تم اللہ کی نعمتوں کو یاد رکھو تاکہ نجات حاصل کر سکو۔
66۔ 1 یہ کم عقلی ان کے نزدیک یہ تھی کہ بتوں کو چھوڑ کر، جن کی عبادت ان کے آباواجداد سے ہوتی آرہی تھی۔ اللہ واحد کی عبادت کی طرف دعوت دی جا رہی ہے۔
(آیت 66){ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِيْ سَفَاهَةٍ:} ان کے نزدیک آباء کی تقلید میں شرک کرنا اور دوسری خرافات اختیار کرنا عین عقل مندی اور اس کی مخالفت بے وقوفی تھی۔
قَالَ یٰقَوۡمِ لَیۡسَ بِیۡ سَفَاہَۃٌ وَّ لٰکِنِّیۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۶۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اس نے کہا "اے برادران قوم، میں بے عقلی میں مبتلا نہیں ہوں بلکہ میں رب العالمین کا رسول ہوں
مولانا محمد جوناگڑھی
انہوں نے فرمایا کہ اے میری قوم! مجھ میں ذرا بھی کم عقلی نہیں لیکن میں پروردگار عالم کا بھیجا ہوا پیغمبر ہوں
احمد رضا خان بریلوی
کہا اے میری قوم مجھے بے وقوفی سے کیا علاقہ میں تو پروردگار عالم کا رسول ہوں،
علامہ محمد حسین نجفی
ہود نے کہا! اے میری قوم، مجھ میں کوئی حماقت نہیں ہے بلکہ میں تو سارے جہانوں کے پروردگار کا رسول ہوں۔
عبدالسلام بن محمد
اس نے کہا اے میری قوم! مجھ میں کوئی بے وقوفی نہیں اور لیکن میں سارے جہانوں کے رب کی طرف سے بھیجا ہوا ہوں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہود علیہ السلام اور ان کا رویہ! ٭٭

فرماتا ہے کہ جیسے قوم نوح کی طرف نوح علیہ السلام کو ہم نے بھیجا تھا، قوم عاد کی طرف ہود علیہ السلام کو ہم نے نبی بنا کر بھیجا، یہ لوگ عاد بن ارم بن عوص بن سام بن نوح کی اولاد تھے۔ یہ عاد اولیٰ ہیں۔ یہ جنگل میں ستونوں میں رہتے تھے۔ فرمان ہے «أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ الَّتِي لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ» [89-الفجر:6-8] ‏‏‏‏ یعنی ’ کیا تو نے نہیں دیکھا کہ عاد، ارم کے ساتھ تیرے رب نے کیا کیا؟ جو بلند قامت تھے۔ دوسرے شہروں میں جن کی مانند لوگ پیدا ہی نہیں کئے گئے۔ ‘ یہ لوگ بڑے قوی، طاقتور اور لمبے چوڑے قد کے تھے۔ جیسے فرمان ہے کہ عادیوں نے زمین میں ناحق تکبر کیا اور نعرہ لگایا کہ ہم سے زیادہ قوی کون ہے؟ کیا انہیں اتنی بھی تمیز نہیں کہ ان کا پیدا کرنے والا یقیناً ان سے زیادہ قوت و طاقت والا ہے۔ وہ ہماری آیتوں سے انکار کر بیٹھے۔ ان کے شہر یمن میں احقاف تھے، یہ ریتلے پہاڑ تھے۔

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے حضر موت کے ایک شخص سے کہا کہ تو نے ایک سرخ ٹیلہ دیکھا ہو گا جس میں سرخ رنگ کی راکھ جیسی مٹی ہے۔ اس کے آس پاس پیلو اور بیری کے درخت بکثرت ہیں، وہ ٹیلہ فلاں جگہ حضر موت میں ہے۔ اس نے کہا: امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ آپ تو اس طرح کے نشان بتا رہے ہیں گویا آپ نے بچشم خود دیکھا ہے۔ آپ نے فرمایا: نہیں دیکھا تو نہیں لیکن ہاں مجھ تک حدیث پہنچی ہے کہ وہیں ہود علیہ السلام کی قبر ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان لوگوں کی بستیاں یمن میں تھیں۔ اس لیے ان کے پیغمبر وہیں مدفون ہیں۔ آپ ان سب میں شریف قبیلے کے تھے۔ اس لیے کہ انبیاء ہمیشہ حسب نسب کے اعتبار سے عالی خاندان میں ہی ہوتے رہے ہیں لیکن آپ کی قوم جس طرح جسمانی طور سے سخت اور زوردار تھی، اسی طرح دلوں کے اعتبار سے بھی بہت سخت تھی۔ جب اپنے نبی کی زبانی اللہ کی عبادت اور تقویٰ کی نصیحت سنی تو لوگوں کی بھاری اکثریت اور ان کے سردار اور بڑے بول اٹھے کہ تو تو پاگل ہو گیا ہے، ہمیں اپنے بتوں کی ان خوبصورت تصویروں کی عبادت سے ہٹا کر اللہ واحد کی عبادت کی طرف بلا رہا ہے۔ یہی تعجب قریش کو ہوا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس نے سارے معبودوں کو عبادت سے ہٹا کر ایک کی دعوت کیوں دی؟

ہود علیہ السلام نے انہیں جواب دیا کہ مجھ میں تو بیوقوفی کی بفضلہ کوئی بات نہیں۔ میں جو کہہ رہا ہوں وہ اللہ کا فرمودہ ہے۔ اس لیے کہ میں رسول اللہ ہوں۔ رب کی طرف سے حق لایا ہوں۔ وہ رب ہر چیز کا مالک، سب کا خالق ہے۔ میں تو تمہیں کلام اللہ پہنچا رہا ہوں، تمہاری خیر خواہی کرتا ہوں اور امانت داری سے حق رسالت ادا کر رہا ہوں۔ یہی وہ صفتیں ہیں جو تمام رسولوں میں یکساں ہوتی ہیں یعنی پیغام حق پہنچانا، لوگوں کی بھلائی چاہنا اور امانت داری کا نمونہ بننا۔ تم میری رسالت پر تعجب نہ کرو بلکہ اللہ کا شکر بجا لاؤ کہ اس نے تم میں سے ایک فرد کو اپنا پیغمبر بنایا کہ وہ تمہیں عذاب الٰہی سے ڈرا دے۔ تمہیں رب کے اس احسان کو بھی فراموش نہ کرنا چاہیئے کہ اس نے تمہیں ہلاک ہونے والوں کے بقایا میں سے بنایا، تمہیں باقی رکھا۔ اتنا ہی نہیں بلکہ تمہیں قوی ہیکل، مضبوط اور طاقتور کر دیا۔ یہی نعمت طالوت پر تھی کہ انہیں جسمانی اور علمی کشادگی دی گئی تھی۔ ۱؎ [2-البقرة:247] ‏‏‏‏ تم اللہ کی نعمتوں کو یاد رکھو تاکہ نجات حاصل کر سکو۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اُبَلِّغُکُمۡ رِسٰلٰتِ رَبِّیۡ وَ اَنَا لَکُمۡ نَاصِحٌ اَمِیۡنٌ ﴿۶۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تم کو اپنے رب کے پیغامات پہنچاتا ہوں، اور تمہارا ایسا خیر خواہ ہوں جس پر بھروسہ کیا جاسکتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
تم کو اپنے پروردگار کے پیغام پہنچاتا ہوں اور میں تمہارا امانتدار خیرخواه ہوں
احمد رضا خان بریلوی
تمہیں اپنے رب کی رسالتیں پہنچاتا ہوں اور تمہارا معتمد خیرخواہ ہوں
علامہ محمد حسین نجفی
تمہارے پروردگار کے پیغامات پہنچاتا ہوں۔ اور تمہارا امانتدار ناصح ہوں۔
عبدالسلام بن محمد
میں تمھیں اپنے رب کے پیغامات پہنچاتا ہوں اور میں تمھارے لیے ایک امانت دار، خیر خواہ ہوں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہود علیہ السلام اور ان کا رویہ! ٭٭

فرماتا ہے کہ جیسے قوم نوح کی طرف نوح علیہ السلام کو ہم نے بھیجا تھا، قوم عاد کی طرف ہود علیہ السلام کو ہم نے نبی بنا کر بھیجا، یہ لوگ عاد بن ارم بن عوص بن سام بن نوح کی اولاد تھے۔ یہ عاد اولیٰ ہیں۔ یہ جنگل میں ستونوں میں رہتے تھے۔ فرمان ہے «أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ الَّتِي لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ» [89-الفجر:6-8] ‏‏‏‏ یعنی ’ کیا تو نے نہیں دیکھا کہ عاد، ارم کے ساتھ تیرے رب نے کیا کیا؟ جو بلند قامت تھے۔ دوسرے شہروں میں جن کی مانند لوگ پیدا ہی نہیں کئے گئے۔ ‘ یہ لوگ بڑے قوی، طاقتور اور لمبے چوڑے قد کے تھے۔ جیسے فرمان ہے کہ عادیوں نے زمین میں ناحق تکبر کیا اور نعرہ لگایا کہ ہم سے زیادہ قوی کون ہے؟ کیا انہیں اتنی بھی تمیز نہیں کہ ان کا پیدا کرنے والا یقیناً ان سے زیادہ قوت و طاقت والا ہے۔ وہ ہماری آیتوں سے انکار کر بیٹھے۔ ان کے شہر یمن میں احقاف تھے، یہ ریتلے پہاڑ تھے۔

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے حضر موت کے ایک شخص سے کہا کہ تو نے ایک سرخ ٹیلہ دیکھا ہو گا جس میں سرخ رنگ کی راکھ جیسی مٹی ہے۔ اس کے آس پاس پیلو اور بیری کے درخت بکثرت ہیں، وہ ٹیلہ فلاں جگہ حضر موت میں ہے۔ اس نے کہا: امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ آپ تو اس طرح کے نشان بتا رہے ہیں گویا آپ نے بچشم خود دیکھا ہے۔ آپ نے فرمایا: نہیں دیکھا تو نہیں لیکن ہاں مجھ تک حدیث پہنچی ہے کہ وہیں ہود علیہ السلام کی قبر ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان لوگوں کی بستیاں یمن میں تھیں۔ اس لیے ان کے پیغمبر وہیں مدفون ہیں۔ آپ ان سب میں شریف قبیلے کے تھے۔ اس لیے کہ انبیاء ہمیشہ حسب نسب کے اعتبار سے عالی خاندان میں ہی ہوتے رہے ہیں لیکن آپ کی قوم جس طرح جسمانی طور سے سخت اور زوردار تھی، اسی طرح دلوں کے اعتبار سے بھی بہت سخت تھی۔ جب اپنے نبی کی زبانی اللہ کی عبادت اور تقویٰ کی نصیحت سنی تو لوگوں کی بھاری اکثریت اور ان کے سردار اور بڑے بول اٹھے کہ تو تو پاگل ہو گیا ہے، ہمیں اپنے بتوں کی ان خوبصورت تصویروں کی عبادت سے ہٹا کر اللہ واحد کی عبادت کی طرف بلا رہا ہے۔ یہی تعجب قریش کو ہوا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس نے سارے معبودوں کو عبادت سے ہٹا کر ایک کی دعوت کیوں دی؟

ہود علیہ السلام نے انہیں جواب دیا کہ مجھ میں تو بیوقوفی کی بفضلہ کوئی بات نہیں۔ میں جو کہہ رہا ہوں وہ اللہ کا فرمودہ ہے۔ اس لیے کہ میں رسول اللہ ہوں۔ رب کی طرف سے حق لایا ہوں۔ وہ رب ہر چیز کا مالک، سب کا خالق ہے۔ میں تو تمہیں کلام اللہ پہنچا رہا ہوں، تمہاری خیر خواہی کرتا ہوں اور امانت داری سے حق رسالت ادا کر رہا ہوں۔ یہی وہ صفتیں ہیں جو تمام رسولوں میں یکساں ہوتی ہیں یعنی پیغام حق پہنچانا، لوگوں کی بھلائی چاہنا اور امانت داری کا نمونہ بننا۔ تم میری رسالت پر تعجب نہ کرو بلکہ اللہ کا شکر بجا لاؤ کہ اس نے تم میں سے ایک فرد کو اپنا پیغمبر بنایا کہ وہ تمہیں عذاب الٰہی سے ڈرا دے۔ تمہیں رب کے اس احسان کو بھی فراموش نہ کرنا چاہیئے کہ اس نے تمہیں ہلاک ہونے والوں کے بقایا میں سے بنایا، تمہیں باقی رکھا۔ اتنا ہی نہیں بلکہ تمہیں قوی ہیکل، مضبوط اور طاقتور کر دیا۔ یہی نعمت طالوت پر تھی کہ انہیں جسمانی اور علمی کشادگی دی گئی تھی۔ ۱؎ [2-البقرة:247] ‏‏‏‏ تم اللہ کی نعمتوں کو یاد رکھو تاکہ نجات حاصل کر سکو۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اَوَ عَجِبۡتُمۡ اَنۡ جَآءَکُمۡ ذِکۡرٌ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ عَلٰی رَجُلٍ مِّنۡکُمۡ لِیُنۡذِرَکُمۡ ؕ وَ اذۡکُرُوۡۤا اِذۡ جَعَلَکُمۡ خُلَفَآءَ مِنۡۢ بَعۡدِ قَوۡمِ نُوۡحٍ وَّ زَادَکُمۡ فِی الۡخَلۡقِ بَصۜۡطَۃً ۚ فَاذۡکُرُوۡۤا اٰلَآءَ اللّٰہِ لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ ﴿۶۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کیا تمہیں اس بات پر تعجب ہوا کہ تمہارے پاس خود تمہاری اپنی قوم کے ایک آدمی کے ذریعہ سے تمہارے رب کی یاد دہانی آئی تاکہ وہ تمھیں خبردار کرے؟ بھول نہ جاؤ کہ تمہارے رب نے نوحؑ کی قوم کے بعد تم کو اُس کا جانشین بنایا اور تمہیں خوب تنو مند کیا، پس اللہ کی قدرت کے کرشموں کو یاد رکھو، امید ہے کہ فلاح پاؤ گے"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور کیا تم اس بات سے تعجب کرتے ہو کہ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس ایک ایسے شخص کی معرفت، جو تمہاری ہی جنس کاہے کوئی نصیحت کی بات آگئی تاکہ وه شخص تم کو ڈرائے اور تم یہ حالت یاد کرو کہ اللہ نے تم کو قوم نوح کے بعد جانشین بنایا اور ڈیل ڈول میں تم کو پھیلاؤ زیاده دیا، سو اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو تاکہ تم کو فلاح ہو
احمد رضا خان بریلوی
اور کیا تمہیں اس کا اچنبا ہوا کہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک نصیحت آئی تم میں سے ایک مرد کی معرفت کہ وہ تمہیں ڈرائے اور یاد کرو جب اس نے تمہیں قوم نوح کا جانشین کیا اور تمہارے بدن کا پھیلاؤ بڑھایا تو اللہ کی نعمتیں یاد کرو کہ کہیں تمہارا بھلا ہو،
علامہ محمد حسین نجفی
کیا تمہیں اس بات پر تعجب ہے کہ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہاری اپنی قوم کے ایک شخص کے پاس وعظ و نصیحت کا پیغام آیا ہے تاکہ وہ تمہیں (خدا کے عذاب سے) ڈرائے اور یاد کرو (خدا کے اس احسان کو) کہ اس نے تمہیں قومِ نوح کے بعد ان کا جانشین بنایا۔ اور (تمہاری) خلقت میں یعنی قوت و طاقت اور قد و قامت میں زیادتی اور وسعت عطا کی پس اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو تاکہ تم (ہر طرح) فلاح پاؤ۔
عبدالسلام بن محمد
اور کیا تم نے عجیب سمجھا کہ تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے تم میںسے ایک آدمی پر عظیم الشان نصیحت آئی، تاکہ وہ تمھیں ڈرائے اور یاد کرو جب اس نے تمھیں نوح کی قوم کے بعد جانشین بنایا اور تمھیں قد و قامت میں زیادہ پھیلاؤ دیا۔ سو اللہ کی نعمتیں یاد کرو، تاکہ تم فلاح پاؤ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہود علیہ السلام اور ان کا رویہ! ٭٭

فرماتا ہے کہ جیسے قوم نوح کی طرف نوح علیہ السلام کو ہم نے بھیجا تھا، قوم عاد کی طرف ہود علیہ السلام کو ہم نے نبی بنا کر بھیجا، یہ لوگ عاد بن ارم بن عوص بن سام بن نوح کی اولاد تھے۔ یہ عاد اولیٰ ہیں۔ یہ جنگل میں ستونوں میں رہتے تھے۔ فرمان ہے «أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ الَّتِي لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ» [89-الفجر:6-8] ‏‏‏‏ یعنی ’ کیا تو نے نہیں دیکھا کہ عاد، ارم کے ساتھ تیرے رب نے کیا کیا؟ جو بلند قامت تھے۔ دوسرے شہروں میں جن کی مانند لوگ پیدا ہی نہیں کئے گئے۔ ‘ یہ لوگ بڑے قوی، طاقتور اور لمبے چوڑے قد کے تھے۔ جیسے فرمان ہے کہ عادیوں نے زمین میں ناحق تکبر کیا اور نعرہ لگایا کہ ہم سے زیادہ قوی کون ہے؟ کیا انہیں اتنی بھی تمیز نہیں کہ ان کا پیدا کرنے والا یقیناً ان سے زیادہ قوت و طاقت والا ہے۔ وہ ہماری آیتوں سے انکار کر بیٹھے۔ ان کے شہر یمن میں احقاف تھے، یہ ریتلے پہاڑ تھے۔

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے حضر موت کے ایک شخص سے کہا کہ تو نے ایک سرخ ٹیلہ دیکھا ہو گا جس میں سرخ رنگ کی راکھ جیسی مٹی ہے۔ اس کے آس پاس پیلو اور بیری کے درخت بکثرت ہیں، وہ ٹیلہ فلاں جگہ حضر موت میں ہے۔ اس نے کہا: امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ آپ تو اس طرح کے نشان بتا رہے ہیں گویا آپ نے بچشم خود دیکھا ہے۔ آپ نے فرمایا: نہیں دیکھا تو نہیں لیکن ہاں مجھ تک حدیث پہنچی ہے کہ وہیں ہود علیہ السلام کی قبر ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان لوگوں کی بستیاں یمن میں تھیں۔ اس لیے ان کے پیغمبر وہیں مدفون ہیں۔ آپ ان سب میں شریف قبیلے کے تھے۔ اس لیے کہ انبیاء ہمیشہ حسب نسب کے اعتبار سے عالی خاندان میں ہی ہوتے رہے ہیں لیکن آپ کی قوم جس طرح جسمانی طور سے سخت اور زوردار تھی، اسی طرح دلوں کے اعتبار سے بھی بہت سخت تھی۔ جب اپنے نبی کی زبانی اللہ کی عبادت اور تقویٰ کی نصیحت سنی تو لوگوں کی بھاری اکثریت اور ان کے سردار اور بڑے بول اٹھے کہ تو تو پاگل ہو گیا ہے، ہمیں اپنے بتوں کی ان خوبصورت تصویروں کی عبادت سے ہٹا کر اللہ واحد کی عبادت کی طرف بلا رہا ہے۔ یہی تعجب قریش کو ہوا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس نے سارے معبودوں کو عبادت سے ہٹا کر ایک کی دعوت کیوں دی؟

ہود علیہ السلام نے انہیں جواب دیا کہ مجھ میں تو بیوقوفی کی بفضلہ کوئی بات نہیں۔ میں جو کہہ رہا ہوں وہ اللہ کا فرمودہ ہے۔ اس لیے کہ میں رسول اللہ ہوں۔ رب کی طرف سے حق لایا ہوں۔ وہ رب ہر چیز کا مالک، سب کا خالق ہے۔ میں تو تمہیں کلام اللہ پہنچا رہا ہوں، تمہاری خیر خواہی کرتا ہوں اور امانت داری سے حق رسالت ادا کر رہا ہوں۔ یہی وہ صفتیں ہیں جو تمام رسولوں میں یکساں ہوتی ہیں یعنی پیغام حق پہنچانا، لوگوں کی بھلائی چاہنا اور امانت داری کا نمونہ بننا۔ تم میری رسالت پر تعجب نہ کرو بلکہ اللہ کا شکر بجا لاؤ کہ اس نے تم میں سے ایک فرد کو اپنا پیغمبر بنایا کہ وہ تمہیں عذاب الٰہی سے ڈرا دے۔ تمہیں رب کے اس احسان کو بھی فراموش نہ کرنا چاہیئے کہ اس نے تمہیں ہلاک ہونے والوں کے بقایا میں سے بنایا، تمہیں باقی رکھا۔ اتنا ہی نہیں بلکہ تمہیں قوی ہیکل، مضبوط اور طاقتور کر دیا۔ یہی نعمت طالوت پر تھی کہ انہیں جسمانی اور علمی کشادگی دی گئی تھی۔ ۱؎ [2-البقرة:247] ‏‏‏‏ تم اللہ کی نعمتوں کو یاد رکھو تاکہ نجات حاصل کر سکو۔
69۔ 1 ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے ان کی بابت فرمایا ' اس جیسی قوت والی قوم پیدا نہیں کی گئی ' اپنی اس قوت کے گھمنڈ میں مبتلا ہو کر اس نے کہا مَنْ اَ شَدُّ مِنَّا قُوَّۃً ہم سے زیادہ طاقتور کون ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ' جس نے انہیں پیدا کیا وہ ان سے زیادہ قوت والا ہے ' (حٰم سجدہ۔ 15)
(آیت 69) {وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنْۢ بَعْدِ قَوْمِ ……:} یعنی تمھیں قوی اور زبردست بنایا اور قوم نوح کے بعد ایک زبردست قوم کی حیثیت سے تمھیں زمین میں آباد کیا۔ یہاں {” خُلَفَآءَ “} سے یہی معنی مراد ہے، یہ مطلب نہیں کہ قوم نوح کے وطن عراق میں ان کا جانشین بنایا۔ (قرطبی) قومِ عاد کے قد و قامت میں پھیلاؤ کے متعلق اﷲ تعالیٰ نے خود شہادت دی ہے، فرمایا: «الَّتِيْ لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ» [ الفجر: ۸ ] یعنی ان جیسا کوئی شہروں میں پیدا نہیں کیا گیا اور یہ کہ عذاب کے بعد وہ یوں گرے ہوئے تھے جیسے کھجوروں کے گرے ہوئے تنے۔ دیکھیے سورۂ حاقہ (۷)۔ بعض علمائے تفسیر نے قوم عاد کی جسمانی قوت اور ان کے قدو قامت کی لمبائی کے بارے میں عجیب و غریب روایات نقل کی ہیں، مثلاً یہ کہ قوم عاد کا لمبا آدمی سو ہاتھ کا اور سب سے چھوٹے قد کا ساٹھ ہاتھ کا ہوتا تھا اور بعض روایات میں ہے کہ اس کا ایک آدمی اتنے بڑے پتھر کو اٹھا لیتا تھا جسے ہمارے زمانے کے پانچ سو آدمی بھی نہیں اٹھا سکتے وغیرہ۔ مگر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اﷲ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو اس کی صورت پر پیدا فرمایا کہ اس کا طول ساٹھ ہاتھ تھا…… پھر اس کے بعد سے اب تک یہ مخلوق گھٹتی رہی ہے۔“ [ بخاری، الاستئذان، باب بدء السلام: ۶۲۲۷ ] اس لیے قوم عاد سے متعلق اس قسم کی کہانیوں پر اعتماد جائز نہیں۔ البتہ یہ بات اپنی جگہ صحیح ہے کہ عاد کے لوگ غیر معمولی جسمانی قوت اور قد و قامت رکھتے تھے، اونچی اونچی عمارتیں بنانے والے اور نہایت سخت گیر تھے، جیسا کہ سورۂ شعراء (۱۲۳ تا ۱۳۴) اور حم السجدہ (۱۵) میں مذکور ہے۔
قَالُوۡۤا اَجِئۡتَنَا لِنَعۡبُدَ اللّٰہَ وَحۡدَہٗ وَ نَذَرَ مَا کَانَ یَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَا ۚ فَاۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ کُنۡتَ مِنَ الصّٰدِقِیۡنَ ﴿۷۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
انہوں نے جواب دیا "کیا تو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ ہم اکیلے اللہ ہی کی عبادت کریں اور اُنہیں چھوڑ دیں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے آئے ہیں؟ اچھا تو لے آ وہ عذاب جس کی تو ہمیں دھمکی دیتا ہے اگر تو سچا ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
انہوں نے کہا کہ کیا آپ ہمارے پاس اس واسطے آئے ہیں کہ ہم صرف اللہ ہی کی عبادت کریں اور جن کو ہمارے باپ دادا پوجتے تھے ان کو چھوڑ دیں، پس ہم کو جس عذاب کی دھمکی دیتے ہو اس کو ہمارے پاس منگوا دو اگر تم سچے ہو
احمد رضا خان بریلوی
بولے کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ ہم ایک اللہ کو پوجیں اور جو ہمارے باپ دادا پوجتے تھے، انہیں چھوڑ دیں تو لاؤ جس کا ہمیں وعدہ دے رہے ہو اگر سچے ہو،
علامہ محمد حسین نجفی
انہوں نے کہا (اے ہود (ع)) کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ ہم ایک اللہ کی عبادت کریں اور ان (معبودوں) کو چھوڑ دیں جن کی ہمارے باپ دادا عبادت کرتے چلے آئے ہیں اگر تم سچے ہو تو۔ ہمارے پاس لاؤ وہ (عذاب) جس کی تم ہمیں دھمکی دیتے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
انھوں نے کہا کیا تو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ ہم اس اکیلے اللہ کی عبادت کریں اور انھیں چھوڑ دیں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے تھے؟ تو جس کی دھمکی تو ہمیں دیتا ہے وہ ہم پر لے آ، اگر تو سچوں میں سے ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قوم عاد کا باغیانہ رویہ ٭٭

قوم عاد کی سرکشی، تکبر، ضد اور عناد کا بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے ہود علیہ السلام سے کہا کہ کیا آپ کی تشریف آوری کا مقصد یہی ہے کہ ہم اللہ واحد کے پرستار بن جائیں اور باپ دادوں کے پرانے معبودوں سے روگردانی کر لیں؟ سنو! اگر یہی مقصود ہے تو اس کا پورا ہونا محال ہے۔ ہم تیار ہیں اگر تم سچے ہو تو اپنے اللہ سے ہمارے لیے عذاب طلب کرو۔ یہی کفار مکہ نے کہا تھا۔ کہنے لگے کہ ’ یااللہ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا کہا حق ہے اور واقعی تیرا کلام ہے اور ہم نہیں مانتے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا کوئی اور سخت المناک عذاب ہمیں کر۔ ‘ ۱؎ [8-الأنفال:32] ‏‏‏‏ قوم عاد کے بتوں کے نام یہ ہیں: صمد، صمودھبا۔ ان کی اس ڈھٹائی کے مقابلے میں اللہ کے پیغمبر علیہ السلام نے فرمایا کہ تمہاری ین باتوں سے بےشک تم پر اللہ کا عذاب اور اس کا غضب ثابت ہو گیا۔ «رِجْسٌ» سے مراد «رجز» یعنی عذاب ہے۔ ناراضی اور غصے کے معنی یہی ہیں۔

پھر فرمایا کہ تم ان بتوں کی بابت مجھ سے جھگڑ رہے ہو جن کے نام بھی تم نے خود رکھے ہیں یا تمہارے بڑوں نے اور خواہ مخواہ بےوجہ انہیں معبود سمجھ بیٹھے ہو، یہ پتھر کے ٹکڑے محض بےضرر اور بےنفع ہیں۔ نہ اللہ نے ان کی عبادت کی کوئی دلیل اتاری ہے۔ ہاں اگر مقابلے پر اتر ہی آئے ہو تو منتظر رہو، میں بھی منتظر ہوں۔ ابھی معلوم ہو جائے گا کہ مقبول بارگاہ رب کون ہے اور مردود بارگاہ کون ہے؟ کون مستحق عذاب ہے اور کون قابل ثواب ہے؟ آخر ہم نے اپنے نبی علیہ السلام کو اور ان کے ایماندار ساتھیوں کو نجات دی اور کافروں کی جڑیں کاٹ دیں۔ قرآن کریم کے کئی مقامات پر جناب باری عزوجل نے ان کی تباہی کی صورت بیان فرمائی ہے کہ ان پر خیر سے خالی، تند اور تیز ہوائیں بھیجی گئیں جس نے انہیں اور ان کی تمام چیزوں کو غارت اور برباد کر دیا۔ عاد لوگ بڑے زناٹے کی سخت آندھی سے ہلاک کر دیئے گئے جو ان پر برابر سات رات اور آٹھ دن چلتی رہی۔ سارے کے سارے اس طرح ہو گئے جیسے کھجور کے درختوں کے تنے الگ ہوں اور شاخیں الگ ہوں۔ دیکھ لے! ان میں سے ایک بھی اب نظر آ رہا ہے؟ ان کی سرکشی کی سزا میں سرکش ہوا ان پر مسلط کر دی گئی جو ان میں سے ایک ایک کو اٹھا کر آسمان کی بلندی کی طرف لے جاتی اور وہاں سے گراتی جس سے سر الگ ہو جاتا، دھڑ الگ گر جاتا۔ یہ لوگ یمن کے ملک میں، عمان اور حضر موت میں رہتے تھے۔ ادھر ادھر نکلتے، لوگوں کو مار پیٹ کی جبراً و قہراً ان کے ملک و مال پر غاصبانہ قبضہ کر لیتے۔ سارے کے سارے بت پرست تھے۔ ہود علیہ السلام جو ان کے شریف خاندانی شخص تھے، ان کے پاس رب کی رسالت لے کر آئے۔ اللہ کی توحید کا حکم دیا، شرک سے روکا، لوگوں پر ظلم کرنے کی برائی سمجھائی لیکن انہوں نے اس نصیحت کو قبول نہ کیا۔ مقابلے پر تن گئے اور اپنی قوت سے حق کو دبانے لگے۔

گو بعض لوگ ایمان لائے تھے لیکن وہ بھی بےچارے جان کے خوف سے پوشیدہ رکھے ہوئے تھے۔ باقی لوگ بدستور اپنی بےایمانی اور ناانصافی پر جمے رہے، خواہ مخواہ فوقیت ظاہر کرنے لگے، بے کار عمارتیں بناتے اور پھولے نہ سماتے۔ ان کاموں کو اللہ کے رسول ناپسند فرماتے، انہیں روکتے۔ تقویٰ کی، اطاعت کی ہدایت کرتے لیکن یہ کبھی تو انہیں بےدلیل بتاتے، کبھی انہیں مجنون کہتے۔ آپ اپنی برات ظاہر کرتے اور ان سے صاف فرماتے کہ مجھے تمہاری قوت طاقت کا مطلقاً خوف نہیں۔ جاؤ تم سے جو ہو سکے، کر لو۔ میرا بھروسہ اللہ پر ہے۔ اس کے سوا نہ کوئی بھروسے کے لائق، نہ عبادت کے قابل۔ ساری مخلوق اس کے سامنے عاجز، پست اور لاچار ہے۔ سچی راہ اللہ کی راہ ہے۔ آخر جب یہ اپنی برائیوں سے باز نہ آئے تو ان پر بارش نہ برسائی گئی، تین سال تک قحط سالی رہی۔ زچ ہو گئے، تنگ آ گئے۔ آخر یہ سوچا کہ چند آدمیوں کو بیت اللہ شریف بھیجیں۔ وہ وہاں جا کر اللہ سے دعائیں کریں۔ یہی ان کا دستور تھا کہ جب کسی مصیبت میں پھنس جاتے تو وہاں وفد بھیجتے۔ اس وقت ان کا قبیلہ عمالیق حرم شریف میں بھی رہتا تھا۔ یہ لوگ عملیق بن لاوذ بن سام بن نوح کی نسل میں سے تھے۔ ان کا سردار اس زمانے میں معاویہ بن بکر تھا۔ اس کی ماں قوم عاد سے تھی جس کا نام کلھدہ بنت خبیری تھا۔

عادیوں نے اپنے ہاں سے ستر شخصوں کو منتخب کر کے بطور وفد مکے شریف کو روانہ کیا۔ یہاں آ کر یہ معاویہ کے مہمان بنے۔ پرتکلف دعوتوں کے اڑانے، شراب خوری کرنے اور معاویہ کی دو لونڈیوں کا گانا سننے میں اس بےخودی سے مشغول ہو گئے کہ کامل ایک مہینہ گزر گیا۔ انہیں اپنے کام کی طرف مطلق توجہ نہ ہوئی۔ معاویہ ان کی یہ روش دیکھ کر اور اپنی قوم کی بری حالت سامنے رکھ کر بہت کڑھتا تھا لیکن یہ مہمان نوازی کے خلاف تھا کہ خود ان سے کہتا کہ جاؤ۔ اس لیے اس نے کچھ اشعار لکھے اور ان ہی دونوں کنیزوں کو یاد کرائے کہ وہ یہی گا کر انہیں سنائیں۔ ان شعروں کا مضمون یہ تھا کہ اے لوگو! جو قوم کی طرف سے اللہ سے دعائیں کرنے کے لیے بھیجے گئے ہو کہ اللہ عادیوں پر بارش برسائے جو آج قحط سالی کی وجہ سے تباہ ہو گئے ہیں۔ بھوکے پیاسے مر رہے ہیں۔ بڈھے، بچے، مرد، عورتیں تباہ حال پھر رہے ہیں۔ یہاں تک کہ بولنا چالنا ان پر دو بھر ہو گیا ہے۔ جنگلی جانور ان کی آبادیوں میں پھر رہے ہیں کیونکہ کسی آدمی میں اتنی قوت کہاں کہ وہ تیر چلا سکے۔ لیکن افسوس کہ تم یہاں اپنے من مانے مشغلوں میں منہمک ہو گئے اور بےفائدہ وقت ضائع کرنے لگے۔ تم سے زیادہ برا وفد دنیا میں کوئی نہ ہو گا۔ یاد رکھو! اگر اب بھی تم نے مستعدی سے قومی خدمت نہ کی تو تم برباد اور غارت ہو جاؤ گے۔ یہ سن کر ان کے کان کھڑے ہوئے۔ یہ حرم میں گئے اور دعائیں مانگنا شروع کیں۔ اللہ تعالیٰ نے تین بادل ان کے سامنے پیش کئے۔ ایک سفید، ایک سیاہ، ایک سرخ۔ اور ایک آواز آئی کہ ان میں سے کسی ایک کو اختیار کر لو۔ اس نے سیاہ بادل پسند کیا۔ آوز آئی کہ تو نے سیاہ بادل پسند کیا، جو عادیوں میں سے کسی کو بھی باقی نہ چھوڑے گا۔ نہ باپ کو، نہ بیٹے کو۔ سب کو غارت کر دے گا سوائے بنی لوذید کے۔ یہ بنی لوذید بھی عادیوں کا ایک قبیلہ تھا جو مکہ میں مقیم تھے۔ ان پر وہ عذاب نہیں آئے تھے۔ یہی باقی رہے اور انہی میں سے عاد اخریٰ ہوئے۔ اس وفد کے سردار نے سیاہ بادل پسند کیا تھا جو اسی وقت عادیوں کی طرف چلا۔ اس شخص کا نام قیل بن غز تھا۔ جب یہ بادل عادیوں کے میدان میں پہنچا جس کا نام مغیث تھا تو اسے دیکھ کر لوگ خوشیاں منانے لگے کہ اس ابر سے پانی ضرور برسے گا حالانکہ یہ وہ تھا جس کی یہ لوگ نبی کے مقابلہ میں جلدی مچا رہے تھے جس میں المناک عذاب تھا جو تمام چیزوں کو فنا کر دینے والا تھا۔ سب سے پہلے اس عذاب الٰہی کو ایک عورت نے دیکھا جس کا نام ممید تھا۔ یہ چیخ مار کر بےہوش ہو گئی۔ جب ہوش آئی تو لوگوں نے اس سے پوچھا کہ تو نے کیا دیکھا؟ اس نے کہا: آگ کا بگولہ جو بصورت ہوا کے تھا جسے فرشتے گھسیٹے لیے چلے آتے تھے۔ برابر سات راتیں اور آٹھ دن تک یہ آگ والی ہوا ان پر چلتی رہی اور عذاب کا بادل ان پر برستا رہا۔ تمام عادیوں کا ستیاناس ہو گیا۔

ہود علیہ السلام اور آپ کے مومن ساتھی ایک باغیچے میں چلے گئے۔ وہاں اللہ نے انہیں محفوظ رکھا۔ وہی ہوا ٹھنڈی اور بھینی بھینی ہو کر ان کے جسموں کو لگتی رہی جس سے روح کو تازگی اور آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچتی رہی۔ ہاں عادیوں پر اس ہوا نے سنگباری شروع کر دی، ان کے دماغ پھٹ گئے۔ آخر انہیں اٹھا اٹھا کر دے پٹخا، سر الگ ہو گئے، دھڑ الگ جا پڑے۔ یہ ہوا سوار کو سواری سمیت ادھر اٹھا لیتی تھی اور بہت اونچے لے جا کر اسے اوندھا دے پٹختی تھی الخ۔ یہ سیاق بہت غریب ہے اور اس میں بہت سے فوائد ہیں۔ عذاب الٰہی کے آ جانے سے ہود علیہ السلام کو اور مومنوں کو نجات مل گئی۔ رحمت حق ان کے شامل حال رہی اور باقی کفار اس بدترین سزا میں گرفتار ہوئے۔

مسند احمد میں ہے، { حارث بکری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں اپنے ہاں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں علا بن حضرمی کی شکایت لے کر چلا جب میں ربذہ میں پہنچا تو بنو تمیم کی ایک بڑھیا لاچار ہو کر بیٹھی ہوئی ملی۔ مجھ سے کہنے لگی: اے اللہ کے بندے! مجھے سرکار رسالت مآب میں پہنچنا ہے۔ کیا تو میرے ساتھ اتنا سلوک کرے گا کہ مجھے دربار رسالت میں پہنچا دے؟ میں نے کہا: آؤ۔ چنانچہ میں نے اسے اپنے اونٹ پر بٹھا لیا اور مدینے پہنچا۔ دیکھا کہ مسجد لوگوں سے بھری ہوئی ہے۔ سیاہ جھنڈے لہرا رہے ہیں اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تلوار لٹکائے کھڑے ہیں۔ میں نے پوچھا: کیا بات ہے؟ لوگوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی ماتحتی میں کہیں لشکر بھیجنے والے ہیں۔ میں تھوری دیر بیٹھا رہا۔ اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی منزل میں تشریف لے گئے۔ میں آپ کے پیچھے ہی گیا۔ اجازت طلب کی۔ اجازت ملی، جب میں نے اندر جا کر سلام کیا تو آپ نے مجھ سے دریافت کیا: تم میں اور بنو تمیم میں کچھ چشمک ہے؟ میں نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ذمہ دار وہی ہیں۔ میں اب حاضر خدمت ہو رہا تھا تو راستے میں قبیلہ تمیم کی ایک بڑھیا عورت مل گئی جس کے پاس سواری وغیرہ نہ تھی۔ اس نے مجھ سے درخواست کی اور میں اسے اپنی سواری پر بٹھا کر یہاں لایا ہوں۔ وہ دروازے پر بیٹھی ہے۔ آپ نے اسے بھی اندر آنے کی اجازت دی۔

{ میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم میں اور بنو تمیم میں کوئی روک کر دیجئے۔ اس پر بڑھیا تیز ہو کر بولی: اگر آپ نے ایسا کر دیا تو آپ کے ہاں کے بےبس کہاں پناہ لیں گے؟ میں نے کہا: سبحان اللہ! تیری اور میری تو وہی مثل ہوئی کہ بکری اپنی موت کو آپ اٹھا کر لے گئی۔ میں نے ہی تجھے یہاں پہنچایا ہے، مجھے اس کے انجام کی کیا خبر تھی؟ اللہ نہ کرے کہ میں عادی قبیلے کے وفد کی طرح ہو جاؤں۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا کہ بھئی عادیوں کے وفد کا قصہ کیا ہے؟ باوجود یہ کہ آپ کو مجھ سے زیادہ اس کا علم تھا لیکن یہ سمجھ کر کہ اس وقت آپ باتیں کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے قصہ شروع کر دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت عادیوں میں قحط سالی نمودار ہوئی تو انہوں نے قیل نامی ایک شخص کو بطور اپنے قاصد کے بیت اللہ شریف دعا وغیرہ کرنے کے لئے بھیجا۔ یہ معاویہ بن بکر کے ہاں آ کر مہمان بنا۔ یہاں شراب و کباب اور راگ رنگ میں ایسا مشغول ہوا کہ مہینے بھر تک جام لنڈھاتا رہا اور معاویہ کی دو لونڈیوں کے گانے سنتا رہا، ان کا نام جرادہ تھا۔ مہینے بھر کے بعد مہرہ کے پہاڑوں پر گیا اور اللہ سے دعا مانگنے لگا کہ باری تعالیٰ! میں کسی بیمار کی دوا کے لیے یا کسی قیدی کے فدیئے کے لیے نہیں آیا۔ یااللہ! عادیوں کو تو وہ پلا جو پلایا کرتا تھا۔ اتنے میں وہ دیکھتا ہے کہ چند سیاہ رنگ کے بادل اس کے سر پر منڈلا رہے ہیں۔ ان میں سے ایک غیبی صدا آئی کہ ان میں سے جو تجھے پسند ہو، قبول کر لے۔ اس نے سخت سیاہ بادل کو اختیار کیا۔ اسی وقت دوسری آواز آئی کہ لے لے خاک راکھ جو عادیوں میں سے ایک کو بھی نہ چھوڑے۔ عادیوں پر ہوا کے خزانے میں سے صرف بقدر انگوٹھی کے حلقے کے ہوا چھوڑی گئی تھی جس نے سب کو غارت اور تہ و بالا کر دیا۔ ابووائل کہتے ہیں: یہ واقعہ سارے عرب میں ضرب المثل ہو گیا تھا جب لوگ کسی کو بطور وفد کے بھیجتے تھے تو کہہ دیا کرتے تھے کہ عادیوں کے وفد کی طرح نہ ہو جانا۔ } ۱؎ [مسند احمد:482/3:حسن] ‏‏‏‏ اسی طرح مسند احمد میں بھی یہ روایت موجود ہے۔ سنن کی اور کتابوں میں بھی یہ واقعہ موجود ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
70۔ 1 آباؤ اجداد کی تقلیدِ ہر دور میں گمراہی کی بنیاد رہی ہے۔ قوم عاد نے بھی یہی ' دلیل ' پیش کی اور شرک کو چھوڑ کر، توحید کا راستہ اختیار کرنے پر آمادہ نہیں ہوئے۔ بدقسمتی سے مسلمانوں میں بھی اپنے بڑوں کی تقلید کی یہ بیماری عام ہے۔ 70۔ 2 جس طرح قریش مکہ نے بھی رسول اللہ کی دعوت توحید کے جواب میں کہا تھا ' اے اللہ! اگر یہ حق ہے تیری طرف سے تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش برسا یا کوئی اور دردناک عذاب ہم پر بھیج دے '۔ یعنی شرک کرتے کرتے مشرک کی مت بھی ماری جاتی ہے۔ حالانکہ عقل مندی کا تقاضا یہ تھا کہ یہ کہا جاتا یا اللہ اگر یہ سچ ہے اور تیری ہی طرف سے ہے تو ہمیں اسے قبول کرنے کی توفیق عطا فرما۔ بہرحال قوم عاد نے اپنے پیغمبر حضرت ہود ؑ سے کہہ دیا، کہ اگر تو سچا ہے تو اپنے اللہ سے کہہ جس عذاب سے وہ ڈراتا ہے، بھیج دے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
قَالَ قَدۡ وَقَعَ عَلَیۡکُمۡ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ رِجۡسٌ وَّ غَضَبٌ ؕ اَتُجَادِلُوۡنَنِیۡ فِیۡۤ اَسۡمَآءٍ سَمَّیۡتُمُوۡہَاۤ اَنۡتُمۡ وَ اٰبَآؤُکُمۡ مَّا نَزَّلَ اللّٰہُ بِہَا مِنۡ سُلۡطٰنٍ ؕ فَانۡتَظِرُوۡۤا اِنِّیۡ مَعَکُمۡ مِّنَ الۡمُنۡتَظِرِیۡنَ ﴿۷۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اس نے کہا "تمہارے رب کی پھٹکار تم پر پڑ گئی اور اس کا غضب ٹوٹ پڑا کیا تم مجھ سے اُن ناموں پر جھگڑتے ہو جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں، جن کے لیے اللہ نے کوئی سند نازل نہیں کی ہے اچھا تو تم بھی انتظار کرو اور میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں"
مولانا محمد جوناگڑھی
انہوں نے فرمایا کہ بس اب تم پر اللہ کی طرف سے عذاب اور غضب آیا ہی چاہتا ہے کیا تم مجھ سے ایسے ناموں کے باب میں جھگڑتے ہو جن کو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے ٹھہرالیا ہے؟ ان کے معبود ہونے کی اللہ نے کوئی دلیل نہیں بھیجی۔ سو تم منتظر رہو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کر رہا ہوں
احمد رضا خان بریلوی
کہا ضرور تم پر تمہارے رب کا عذاب اور غضب پڑ گیا کیا مجھ سے خالی ان ناموں میں جھگڑ رہے ہو جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لیے اللہ نے ان کی کوئی سند نہ اتاری، تو راستہ دیکھو میں بھی تمہارے ساتھ دیکھتا ہوں،
علامہ محمد حسین نجفی
اس (ہود) نے کہا (سمجھ لو کہ) تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر عذاب اور غضب نازل ہوگیا ہے کیا تم مجھ سے ایسے ناموں کے بارے میں جھگڑتے ہو جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے (از خود) رکھ لئے ہیں۔ جن کے متعلق اللہ نے کوئی سند نازل نہیں کی۔ اچھا تو پھر تم (خدا کے عذاب کا) انتظار کرو مَیں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں۔
عبدالسلام بن محمد
اس نے کہا یقینا تم پر تمھارے رب کی طرف سے بھاری عذاب اور غضب آپڑا ہے، کیا تم مجھ سے ان ناموں کے بارے میں جھگڑتے ہو جو تم نے اور تمھارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں، جن کی کوئی دلیل اللہ نے نازل نہیں فرمائی۔ تو انتظار کرو، بے شک میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قوم عاد کا باغیانہ رویہ ٭٭

قوم عاد کی سرکشی، تکبر، ضد اور عناد کا بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے ہود علیہ السلام سے کہا کہ کیا آپ کی تشریف آوری کا مقصد یہی ہے کہ ہم اللہ واحد کے پرستار بن جائیں اور باپ دادوں کے پرانے معبودوں سے روگردانی کر لیں؟ سنو! اگر یہی مقصود ہے تو اس کا پورا ہونا محال ہے۔ ہم تیار ہیں اگر تم سچے ہو تو اپنے اللہ سے ہمارے لیے عذاب طلب کرو۔ یہی کفار مکہ نے کہا تھا۔ کہنے لگے کہ ’ یااللہ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا کہا حق ہے اور واقعی تیرا کلام ہے اور ہم نہیں مانتے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا کوئی اور سخت المناک عذاب ہمیں کر۔ ‘ ۱؎ [8-الأنفال:32] ‏‏‏‏ قوم عاد کے بتوں کے نام یہ ہیں: صمد، صمودھبا۔ ان کی اس ڈھٹائی کے مقابلے میں اللہ کے پیغمبر علیہ السلام نے فرمایا کہ تمہاری ین باتوں سے بےشک تم پر اللہ کا عذاب اور اس کا غضب ثابت ہو گیا۔ «رِجْسٌ» سے مراد «رجز» یعنی عذاب ہے۔ ناراضی اور غصے کے معنی یہی ہیں۔

پھر فرمایا کہ تم ان بتوں کی بابت مجھ سے جھگڑ رہے ہو جن کے نام بھی تم نے خود رکھے ہیں یا تمہارے بڑوں نے اور خواہ مخواہ بےوجہ انہیں معبود سمجھ بیٹھے ہو، یہ پتھر کے ٹکڑے محض بےضرر اور بےنفع ہیں۔ نہ اللہ نے ان کی عبادت کی کوئی دلیل اتاری ہے۔ ہاں اگر مقابلے پر اتر ہی آئے ہو تو منتظر رہو، میں بھی منتظر ہوں۔ ابھی معلوم ہو جائے گا کہ مقبول بارگاہ رب کون ہے اور مردود بارگاہ کون ہے؟ کون مستحق عذاب ہے اور کون قابل ثواب ہے؟ آخر ہم نے اپنے نبی علیہ السلام کو اور ان کے ایماندار ساتھیوں کو نجات دی اور کافروں کی جڑیں کاٹ دیں۔ قرآن کریم کے کئی مقامات پر جناب باری عزوجل نے ان کی تباہی کی صورت بیان فرمائی ہے کہ ان پر خیر سے خالی، تند اور تیز ہوائیں بھیجی گئیں جس نے انہیں اور ان کی تمام چیزوں کو غارت اور برباد کر دیا۔ عاد لوگ بڑے زناٹے کی سخت آندھی سے ہلاک کر دیئے گئے جو ان پر برابر سات رات اور آٹھ دن چلتی رہی۔ سارے کے سارے اس طرح ہو گئے جیسے کھجور کے درختوں کے تنے الگ ہوں اور شاخیں الگ ہوں۔ دیکھ لے! ان میں سے ایک بھی اب نظر آ رہا ہے؟ ان کی سرکشی کی سزا میں سرکش ہوا ان پر مسلط کر دی گئی جو ان میں سے ایک ایک کو اٹھا کر آسمان کی بلندی کی طرف لے جاتی اور وہاں سے گراتی جس سے سر الگ ہو جاتا، دھڑ الگ گر جاتا۔ یہ لوگ یمن کے ملک میں، عمان اور حضر موت میں رہتے تھے۔ ادھر ادھر نکلتے، لوگوں کو مار پیٹ کی جبراً و قہراً ان کے ملک و مال پر غاصبانہ قبضہ کر لیتے۔ سارے کے سارے بت پرست تھے۔ ہود علیہ السلام جو ان کے شریف خاندانی شخص تھے، ان کے پاس رب کی رسالت لے کر آئے۔ اللہ کی توحید کا حکم دیا، شرک سے روکا، لوگوں پر ظلم کرنے کی برائی سمجھائی لیکن انہوں نے اس نصیحت کو قبول نہ کیا۔ مقابلے پر تن گئے اور اپنی قوت سے حق کو دبانے لگے۔

گو بعض لوگ ایمان لائے تھے لیکن وہ بھی بےچارے جان کے خوف سے پوشیدہ رکھے ہوئے تھے۔ باقی لوگ بدستور اپنی بےایمانی اور ناانصافی پر جمے رہے، خواہ مخواہ فوقیت ظاہر کرنے لگے، بے کار عمارتیں بناتے اور پھولے نہ سماتے۔ ان کاموں کو اللہ کے رسول ناپسند فرماتے، انہیں روکتے۔ تقویٰ کی، اطاعت کی ہدایت کرتے لیکن یہ کبھی تو انہیں بےدلیل بتاتے، کبھی انہیں مجنون کہتے۔ آپ اپنی برات ظاہر کرتے اور ان سے صاف فرماتے کہ مجھے تمہاری قوت طاقت کا مطلقاً خوف نہیں۔ جاؤ تم سے جو ہو سکے، کر لو۔ میرا بھروسہ اللہ پر ہے۔ اس کے سوا نہ کوئی بھروسے کے لائق، نہ عبادت کے قابل۔ ساری مخلوق اس کے سامنے عاجز، پست اور لاچار ہے۔ سچی راہ اللہ کی راہ ہے۔ آخر جب یہ اپنی برائیوں سے باز نہ آئے تو ان پر بارش نہ برسائی گئی، تین سال تک قحط سالی رہی۔ زچ ہو گئے، تنگ آ گئے۔ آخر یہ سوچا کہ چند آدمیوں کو بیت اللہ شریف بھیجیں۔ وہ وہاں جا کر اللہ سے دعائیں کریں۔ یہی ان کا دستور تھا کہ جب کسی مصیبت میں پھنس جاتے تو وہاں وفد بھیجتے۔ اس وقت ان کا قبیلہ عمالیق حرم شریف میں بھی رہتا تھا۔ یہ لوگ عملیق بن لاوذ بن سام بن نوح کی نسل میں سے تھے۔ ان کا سردار اس زمانے میں معاویہ بن بکر تھا۔ اس کی ماں قوم عاد سے تھی جس کا نام کلھدہ بنت خبیری تھا۔

عادیوں نے اپنے ہاں سے ستر شخصوں کو منتخب کر کے بطور وفد مکے شریف کو روانہ کیا۔ یہاں آ کر یہ معاویہ کے مہمان بنے۔ پرتکلف دعوتوں کے اڑانے، شراب خوری کرنے اور معاویہ کی دو لونڈیوں کا گانا سننے میں اس بےخودی سے مشغول ہو گئے کہ کامل ایک مہینہ گزر گیا۔ انہیں اپنے کام کی طرف مطلق توجہ نہ ہوئی۔ معاویہ ان کی یہ روش دیکھ کر اور اپنی قوم کی بری حالت سامنے رکھ کر بہت کڑھتا تھا لیکن یہ مہمان نوازی کے خلاف تھا کہ خود ان سے کہتا کہ جاؤ۔ اس لیے اس نے کچھ اشعار لکھے اور ان ہی دونوں کنیزوں کو یاد کرائے کہ وہ یہی گا کر انہیں سنائیں۔ ان شعروں کا مضمون یہ تھا کہ اے لوگو! جو قوم کی طرف سے اللہ سے دعائیں کرنے کے لیے بھیجے گئے ہو کہ اللہ عادیوں پر بارش برسائے جو آج قحط سالی کی وجہ سے تباہ ہو گئے ہیں۔ بھوکے پیاسے مر رہے ہیں۔ بڈھے، بچے، مرد، عورتیں تباہ حال پھر رہے ہیں۔ یہاں تک کہ بولنا چالنا ان پر دو بھر ہو گیا ہے۔ جنگلی جانور ان کی آبادیوں میں پھر رہے ہیں کیونکہ کسی آدمی میں اتنی قوت کہاں کہ وہ تیر چلا سکے۔ لیکن افسوس کہ تم یہاں اپنے من مانے مشغلوں میں منہمک ہو گئے اور بےفائدہ وقت ضائع کرنے لگے۔ تم سے زیادہ برا وفد دنیا میں کوئی نہ ہو گا۔ یاد رکھو! اگر اب بھی تم نے مستعدی سے قومی خدمت نہ کی تو تم برباد اور غارت ہو جاؤ گے۔ یہ سن کر ان کے کان کھڑے ہوئے۔ یہ حرم میں گئے اور دعائیں مانگنا شروع کیں۔ اللہ تعالیٰ نے تین بادل ان کے سامنے پیش کئے۔ ایک سفید، ایک سیاہ، ایک سرخ۔ اور ایک آواز آئی کہ ان میں سے کسی ایک کو اختیار کر لو۔ اس نے سیاہ بادل پسند کیا۔ آوز آئی کہ تو نے سیاہ بادل پسند کیا، جو عادیوں میں سے کسی کو بھی باقی نہ چھوڑے گا۔ نہ باپ کو، نہ بیٹے کو۔ سب کو غارت کر دے گا سوائے بنی لوذید کے۔ یہ بنی لوذید بھی عادیوں کا ایک قبیلہ تھا جو مکہ میں مقیم تھے۔ ان پر وہ عذاب نہیں آئے تھے۔ یہی باقی رہے اور انہی میں سے عاد اخریٰ ہوئے۔ اس وفد کے سردار نے سیاہ بادل پسند کیا تھا جو اسی وقت عادیوں کی طرف چلا۔ اس شخص کا نام قیل بن غز تھا۔ جب یہ بادل عادیوں کے میدان میں پہنچا جس کا نام مغیث تھا تو اسے دیکھ کر لوگ خوشیاں منانے لگے کہ اس ابر سے پانی ضرور برسے گا حالانکہ یہ وہ تھا جس کی یہ لوگ نبی کے مقابلہ میں جلدی مچا رہے تھے جس میں المناک عذاب تھا جو تمام چیزوں کو فنا کر دینے والا تھا۔ سب سے پہلے اس عذاب الٰہی کو ایک عورت نے دیکھا جس کا نام ممید تھا۔ یہ چیخ مار کر بےہوش ہو گئی۔ جب ہوش آئی تو لوگوں نے اس سے پوچھا کہ تو نے کیا دیکھا؟ اس نے کہا: آگ کا بگولہ جو بصورت ہوا کے تھا جسے فرشتے گھسیٹے لیے چلے آتے تھے۔ برابر سات راتیں اور آٹھ دن تک یہ آگ والی ہوا ان پر چلتی رہی اور عذاب کا بادل ان پر برستا رہا۔ تمام عادیوں کا ستیاناس ہو گیا۔

ہود علیہ السلام اور آپ کے مومن ساتھی ایک باغیچے میں چلے گئے۔ وہاں اللہ نے انہیں محفوظ رکھا۔ وہی ہوا ٹھنڈی اور بھینی بھینی ہو کر ان کے جسموں کو لگتی رہی جس سے روح کو تازگی اور آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچتی رہی۔ ہاں عادیوں پر اس ہوا نے سنگباری شروع کر دی، ان کے دماغ پھٹ گئے۔ آخر انہیں اٹھا اٹھا کر دے پٹخا، سر الگ ہو گئے، دھڑ الگ جا پڑے۔ یہ ہوا سوار کو سواری سمیت ادھر اٹھا لیتی تھی اور بہت اونچے لے جا کر اسے اوندھا دے پٹختی تھی الخ۔ یہ سیاق بہت غریب ہے اور اس میں بہت سے فوائد ہیں۔ عذاب الٰہی کے آ جانے سے ہود علیہ السلام کو اور مومنوں کو نجات مل گئی۔ رحمت حق ان کے شامل حال رہی اور باقی کفار اس بدترین سزا میں گرفتار ہوئے۔

مسند احمد میں ہے، { حارث بکری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں اپنے ہاں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں علا بن حضرمی کی شکایت لے کر چلا جب میں ربذہ میں پہنچا تو بنو تمیم کی ایک بڑھیا لاچار ہو کر بیٹھی ہوئی ملی۔ مجھ سے کہنے لگی: اے اللہ کے بندے! مجھے سرکار رسالت مآب میں پہنچنا ہے۔ کیا تو میرے ساتھ اتنا سلوک کرے گا کہ مجھے دربار رسالت میں پہنچا دے؟ میں نے کہا: آؤ۔ چنانچہ میں نے اسے اپنے اونٹ پر بٹھا لیا اور مدینے پہنچا۔ دیکھا کہ مسجد لوگوں سے بھری ہوئی ہے۔ سیاہ جھنڈے لہرا رہے ہیں اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تلوار لٹکائے کھڑے ہیں۔ میں نے پوچھا: کیا بات ہے؟ لوگوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی ماتحتی میں کہیں لشکر بھیجنے والے ہیں۔ میں تھوری دیر بیٹھا رہا۔ اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی منزل میں تشریف لے گئے۔ میں آپ کے پیچھے ہی گیا۔ اجازت طلب کی۔ اجازت ملی، جب میں نے اندر جا کر سلام کیا تو آپ نے مجھ سے دریافت کیا: تم میں اور بنو تمیم میں کچھ چشمک ہے؟ میں نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ذمہ دار وہی ہیں۔ میں اب حاضر خدمت ہو رہا تھا تو راستے میں قبیلہ تمیم کی ایک بڑھیا عورت مل گئی جس کے پاس سواری وغیرہ نہ تھی۔ اس نے مجھ سے درخواست کی اور میں اسے اپنی سواری پر بٹھا کر یہاں لایا ہوں۔ وہ دروازے پر بیٹھی ہے۔ آپ نے اسے بھی اندر آنے کی اجازت دی۔

{ میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم میں اور بنو تمیم میں کوئی روک کر دیجئے۔ اس پر بڑھیا تیز ہو کر بولی: اگر آپ نے ایسا کر دیا تو آپ کے ہاں کے بےبس کہاں پناہ لیں گے؟ میں نے کہا: سبحان اللہ! تیری اور میری تو وہی مثل ہوئی کہ بکری اپنی موت کو آپ اٹھا کر لے گئی۔ میں نے ہی تجھے یہاں پہنچایا ہے، مجھے اس کے انجام کی کیا خبر تھی؟ اللہ نہ کرے کہ میں عادی قبیلے کے وفد کی طرح ہو جاؤں۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا کہ بھئی عادیوں کے وفد کا قصہ کیا ہے؟ باوجود یہ کہ آپ کو مجھ سے زیادہ اس کا علم تھا لیکن یہ سمجھ کر کہ اس وقت آپ باتیں کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے قصہ شروع کر دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت عادیوں میں قحط سالی نمودار ہوئی تو انہوں نے قیل نامی ایک شخص کو بطور اپنے قاصد کے بیت اللہ شریف دعا وغیرہ کرنے کے لئے بھیجا۔ یہ معاویہ بن بکر کے ہاں آ کر مہمان بنا۔ یہاں شراب و کباب اور راگ رنگ میں ایسا مشغول ہوا کہ مہینے بھر تک جام لنڈھاتا رہا اور معاویہ کی دو لونڈیوں کے گانے سنتا رہا، ان کا نام جرادہ تھا۔ مہینے بھر کے بعد مہرہ کے پہاڑوں پر گیا اور اللہ سے دعا مانگنے لگا کہ باری تعالیٰ! میں کسی بیمار کی دوا کے لیے یا کسی قیدی کے فدیئے کے لیے نہیں آیا۔ یااللہ! عادیوں کو تو وہ پلا جو پلایا کرتا تھا۔ اتنے میں وہ دیکھتا ہے کہ چند سیاہ رنگ کے بادل اس کے سر پر منڈلا رہے ہیں۔ ان میں سے ایک غیبی صدا آئی کہ ان میں سے جو تجھے پسند ہو، قبول کر لے۔ اس نے سخت سیاہ بادل کو اختیار کیا۔ اسی وقت دوسری آواز آئی کہ لے لے خاک راکھ جو عادیوں میں سے ایک کو بھی نہ چھوڑے۔ عادیوں پر ہوا کے خزانے میں سے صرف بقدر انگوٹھی کے حلقے کے ہوا چھوڑی گئی تھی جس نے سب کو غارت اور تہ و بالا کر دیا۔ ابووائل کہتے ہیں: یہ واقعہ سارے عرب میں ضرب المثل ہو گیا تھا جب لوگ کسی کو بطور وفد کے بھیجتے تھے تو کہہ دیا کرتے تھے کہ عادیوں کے وفد کی طرح نہ ہو جانا۔ } ۱؎ [مسند احمد:482/3:حسن] ‏‏‏‏ اسی طرح مسند احمد میں بھی یہ روایت موجود ہے۔ سنن کی اور کتابوں میں بھی یہ واقعہ موجود ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
71۔ 1 ' رِجْس، ُ ' کے معنی پلیدی کے ہیں۔ لیکن یہاں یہ مقلوب (بدلا ہوا) ہے رِجْز، ُ سے جس کے معنی عذاب کے ہیں۔ یا پھر رِجْسُ، ُ یہاں نارضگی اور غضب کے معنی میں ہے (ابن کثیر) 71۔ 2 اس سے مراد وہ نام ہیں جو انہوں نے اپنے معبودوں کے رکھے ہوئے تھے مثلًا صدا، صمود، ھبا۔ وغیرہ جیسے قوم نوح کے پانچ بت تھے جن کے نام اللہ نے قرآن میں ذکر کئے ہیں جیسے مشرکین عرب کے بتوں کے نام تھے۔ لا ت، عزَّیٰ، مَنَات ھُبَل وغیرہ۔ یا جیسے آج کل کے مشرکانہ عقائد واعمال میں ملوث لوگوں نے نام رکھے ہوئے ہیں۔ مثلا داتا گنج بخش، خواجہ غریب نواز، بابا فرید شکر گنج، مشکل کشا وغیرہ جن کے معبود یا مشکل کشا وگنج بخش وغیرہ ہونے کی کوئی دلیل ان لوگوں کے پاس نہیں ہے۔
(آیت 71) ➊ { اَتُجَادِلُوْنَنِيْ فِيْۤ اَسْمَآءٍ سَمَّيْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ:} کسی کو بارش کا، کسی کو ہوا کا، کسی کو دولت کا اور کسی کو بیماری کا خدا کہتے ہو، حالانکہ ان میں سے کوئی بھی در حقیقت کسی چیز کا خدا نہیں ہے، یہ صرف نام ہی نام ہیں، ان کے پیچھے کوئی حقیقت نہیں۔ ➋ {مَا نَزَّلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ:} یعنی اس نے کہیں یہ نہیں فرمایا کہ میں نے اپنی خدائی کے اس قسم کے اختیارات فلاں کی طرف منتقل کر دیے ہیں اور فلاں کو مشکل کشا، فلاں کو گنج بخش، فلاں کو غوث، فلاں کو دستگیر اور فلاں کو داتا بنایا ہے، یہ اور اس قسم کے القاب لوگوں نے گھڑ کر ان بزرگوں کی طرف منسوب کر دیے ہیں جو شرک کا موجب بنے ہیں۔
فَاَنۡجَیۡنٰہُ وَ الَّذِیۡنَ مَعَہٗ بِرَحۡمَۃٍ مِّنَّا وَ قَطَعۡنَا دَابِرَ الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا وَ مَا کَانُوۡا مُؤۡمِنِیۡنَ ﴿٪۷۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
آخر کار ہم نے اپنی مہربانی سے ہودؑ اور اس کے ساتھیوں کو بچا لیا اور اُن لوگوں کی جڑ کاٹ دی جو ہماری آیات کو جھٹلا چکے تھے اور ایمان لانے والے نہ تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
غرض ہم نے ان کو اور ان کے ساتھیوں کو اپنی رحمت سے بچالیا اور ان لوگوں کی جڑ کاٹ دی، جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا اور وه ایمان ﻻنے والے نہ تھے
احمد رضا خان بریلوی
تو ہم نے اسے اور اس کے ساتھ والوں کو اپنی ایک بڑی رحمت فرماکر نجات دی اور جو ہماری آیتیں جھٹلاتے تھے ان کی جڑ کاٹ دی اور وہ ایمان والے نہ تھے،
علامہ محمد حسین نجفی
پس (آخرکار) ہم نے اپنی رحمت سے انہیں اور ان کے ساتھیوں کو نجات دی (بچا لیا) اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا اور وہ ایمان لانے والے نہیں تھے ان کی جڑ ہی کاٹ دی۔
عبدالسلام بن محمد
توہم نے اسے اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، اپنی عظیم رحمت سے نجات دی اور ان لوگوں کی جڑ کاٹ دی جنھوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور وہ ایمان والے نہ تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قوم عاد کا باغیانہ رویہ ٭٭

قوم عاد کی سرکشی، تکبر، ضد اور عناد کا بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے ہود علیہ السلام سے کہا کہ کیا آپ کی تشریف آوری کا مقصد یہی ہے کہ ہم اللہ واحد کے پرستار بن جائیں اور باپ دادوں کے پرانے معبودوں سے روگردانی کر لیں؟ سنو! اگر یہی مقصود ہے تو اس کا پورا ہونا محال ہے۔ ہم تیار ہیں اگر تم سچے ہو تو اپنے اللہ سے ہمارے لیے عذاب طلب کرو۔ یہی کفار مکہ نے کہا تھا۔ کہنے لگے کہ ’ یااللہ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا کہا حق ہے اور واقعی تیرا کلام ہے اور ہم نہیں مانتے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا کوئی اور سخت المناک عذاب ہمیں کر۔ ‘ ۱؎ [8-الأنفال:32] ‏‏‏‏ قوم عاد کے بتوں کے نام یہ ہیں: صمد، صمودھبا۔ ان کی اس ڈھٹائی کے مقابلے میں اللہ کے پیغمبر علیہ السلام نے فرمایا کہ تمہاری ین باتوں سے بےشک تم پر اللہ کا عذاب اور اس کا غضب ثابت ہو گیا۔ «رِجْسٌ» سے مراد «رجز» یعنی عذاب ہے۔ ناراضی اور غصے کے معنی یہی ہیں۔

پھر فرمایا کہ تم ان بتوں کی بابت مجھ سے جھگڑ رہے ہو جن کے نام بھی تم نے خود رکھے ہیں یا تمہارے بڑوں نے اور خواہ مخواہ بےوجہ انہیں معبود سمجھ بیٹھے ہو، یہ پتھر کے ٹکڑے محض بےضرر اور بےنفع ہیں۔ نہ اللہ نے ان کی عبادت کی کوئی دلیل اتاری ہے۔ ہاں اگر مقابلے پر اتر ہی آئے ہو تو منتظر رہو، میں بھی منتظر ہوں۔ ابھی معلوم ہو جائے گا کہ مقبول بارگاہ رب کون ہے اور مردود بارگاہ کون ہے؟ کون مستحق عذاب ہے اور کون قابل ثواب ہے؟ آخر ہم نے اپنے نبی علیہ السلام کو اور ان کے ایماندار ساتھیوں کو نجات دی اور کافروں کی جڑیں کاٹ دیں۔ قرآن کریم کے کئی مقامات پر جناب باری عزوجل نے ان کی تباہی کی صورت بیان فرمائی ہے کہ ان پر خیر سے خالی، تند اور تیز ہوائیں بھیجی گئیں جس نے انہیں اور ان کی تمام چیزوں کو غارت اور برباد کر دیا۔ عاد لوگ بڑے زناٹے کی سخت آندھی سے ہلاک کر دیئے گئے جو ان پر برابر سات رات اور آٹھ دن چلتی رہی۔ سارے کے سارے اس طرح ہو گئے جیسے کھجور کے درختوں کے تنے الگ ہوں اور شاخیں الگ ہوں۔ دیکھ لے! ان میں سے ایک بھی اب نظر آ رہا ہے؟ ان کی سرکشی کی سزا میں سرکش ہوا ان پر مسلط کر دی گئی جو ان میں سے ایک ایک کو اٹھا کر آسمان کی بلندی کی طرف لے جاتی اور وہاں سے گراتی جس سے سر الگ ہو جاتا، دھڑ الگ گر جاتا۔ یہ لوگ یمن کے ملک میں، عمان اور حضر موت میں رہتے تھے۔ ادھر ادھر نکلتے، لوگوں کو مار پیٹ کی جبراً و قہراً ان کے ملک و مال پر غاصبانہ قبضہ کر لیتے۔ سارے کے سارے بت پرست تھے۔ ہود علیہ السلام جو ان کے شریف خاندانی شخص تھے، ان کے پاس رب کی رسالت لے کر آئے۔ اللہ کی توحید کا حکم دیا، شرک سے روکا، لوگوں پر ظلم کرنے کی برائی سمجھائی لیکن انہوں نے اس نصیحت کو قبول نہ کیا۔ مقابلے پر تن گئے اور اپنی قوت سے حق کو دبانے لگے۔

گو بعض لوگ ایمان لائے تھے لیکن وہ بھی بےچارے جان کے خوف سے پوشیدہ رکھے ہوئے تھے۔ باقی لوگ بدستور اپنی بےایمانی اور ناانصافی پر جمے رہے، خواہ مخواہ فوقیت ظاہر کرنے لگے، بے کار عمارتیں بناتے اور پھولے نہ سماتے۔ ان کاموں کو اللہ کے رسول ناپسند فرماتے، انہیں روکتے۔ تقویٰ کی، اطاعت کی ہدایت کرتے لیکن یہ کبھی تو انہیں بےدلیل بتاتے، کبھی انہیں مجنون کہتے۔ آپ اپنی برات ظاہر کرتے اور ان سے صاف فرماتے کہ مجھے تمہاری قوت طاقت کا مطلقاً خوف نہیں۔ جاؤ تم سے جو ہو سکے، کر لو۔ میرا بھروسہ اللہ پر ہے۔ اس کے سوا نہ کوئی بھروسے کے لائق، نہ عبادت کے قابل۔ ساری مخلوق اس کے سامنے عاجز، پست اور لاچار ہے۔ سچی راہ اللہ کی راہ ہے۔ آخر جب یہ اپنی برائیوں سے باز نہ آئے تو ان پر بارش نہ برسائی گئی، تین سال تک قحط سالی رہی۔ زچ ہو گئے، تنگ آ گئے۔ آخر یہ سوچا کہ چند آدمیوں کو بیت اللہ شریف بھیجیں۔ وہ وہاں جا کر اللہ سے دعائیں کریں۔ یہی ان کا دستور تھا کہ جب کسی مصیبت میں پھنس جاتے تو وہاں وفد بھیجتے۔ اس وقت ان کا قبیلہ عمالیق حرم شریف میں بھی رہتا تھا۔ یہ لوگ عملیق بن لاوذ بن سام بن نوح کی نسل میں سے تھے۔ ان کا سردار اس زمانے میں معاویہ بن بکر تھا۔ اس کی ماں قوم عاد سے تھی جس کا نام کلھدہ بنت خبیری تھا۔

عادیوں نے اپنے ہاں سے ستر شخصوں کو منتخب کر کے بطور وفد مکے شریف کو روانہ کیا۔ یہاں آ کر یہ معاویہ کے مہمان بنے۔ پرتکلف دعوتوں کے اڑانے، شراب خوری کرنے اور معاویہ کی دو لونڈیوں کا گانا سننے میں اس بےخودی سے مشغول ہو گئے کہ کامل ایک مہینہ گزر گیا۔ انہیں اپنے کام کی طرف مطلق توجہ نہ ہوئی۔ معاویہ ان کی یہ روش دیکھ کر اور اپنی قوم کی بری حالت سامنے رکھ کر بہت کڑھتا تھا لیکن یہ مہمان نوازی کے خلاف تھا کہ خود ان سے کہتا کہ جاؤ۔ اس لیے اس نے کچھ اشعار لکھے اور ان ہی دونوں کنیزوں کو یاد کرائے کہ وہ یہی گا کر انہیں سنائیں۔ ان شعروں کا مضمون یہ تھا کہ اے لوگو! جو قوم کی طرف سے اللہ سے دعائیں کرنے کے لیے بھیجے گئے ہو کہ اللہ عادیوں پر بارش برسائے جو آج قحط سالی کی وجہ سے تباہ ہو گئے ہیں۔ بھوکے پیاسے مر رہے ہیں۔ بڈھے، بچے، مرد، عورتیں تباہ حال پھر رہے ہیں۔ یہاں تک کہ بولنا چالنا ان پر دو بھر ہو گیا ہے۔ جنگلی جانور ان کی آبادیوں میں پھر رہے ہیں کیونکہ کسی آدمی میں اتنی قوت کہاں کہ وہ تیر چلا سکے۔ لیکن افسوس کہ تم یہاں اپنے من مانے مشغلوں میں منہمک ہو گئے اور بےفائدہ وقت ضائع کرنے لگے۔ تم سے زیادہ برا وفد دنیا میں کوئی نہ ہو گا۔ یاد رکھو! اگر اب بھی تم نے مستعدی سے قومی خدمت نہ کی تو تم برباد اور غارت ہو جاؤ گے۔ یہ سن کر ان کے کان کھڑے ہوئے۔ یہ حرم میں گئے اور دعائیں مانگنا شروع کیں۔ اللہ تعالیٰ نے تین بادل ان کے سامنے پیش کئے۔ ایک سفید، ایک سیاہ، ایک سرخ۔ اور ایک آواز آئی کہ ان میں سے کسی ایک کو اختیار کر لو۔ اس نے سیاہ بادل پسند کیا۔ آوز آئی کہ تو نے سیاہ بادل پسند کیا، جو عادیوں میں سے کسی کو بھی باقی نہ چھوڑے گا۔ نہ باپ کو، نہ بیٹے کو۔ سب کو غارت کر دے گا سوائے بنی لوذید کے۔ یہ بنی لوذید بھی عادیوں کا ایک قبیلہ تھا جو مکہ میں مقیم تھے۔ ان پر وہ عذاب نہیں آئے تھے۔ یہی باقی رہے اور انہی میں سے عاد اخریٰ ہوئے۔ اس وفد کے سردار نے سیاہ بادل پسند کیا تھا جو اسی وقت عادیوں کی طرف چلا۔ اس شخص کا نام قیل بن غز تھا۔ جب یہ بادل عادیوں کے میدان میں پہنچا جس کا نام مغیث تھا تو اسے دیکھ کر لوگ خوشیاں منانے لگے کہ اس ابر سے پانی ضرور برسے گا حالانکہ یہ وہ تھا جس کی یہ لوگ نبی کے مقابلہ میں جلدی مچا رہے تھے جس میں المناک عذاب تھا جو تمام چیزوں کو فنا کر دینے والا تھا۔ سب سے پہلے اس عذاب الٰہی کو ایک عورت نے دیکھا جس کا نام ممید تھا۔ یہ چیخ مار کر بےہوش ہو گئی۔ جب ہوش آئی تو لوگوں نے اس سے پوچھا کہ تو نے کیا دیکھا؟ اس نے کہا: آگ کا بگولہ جو بصورت ہوا کے تھا جسے فرشتے گھسیٹے لیے چلے آتے تھے۔ برابر سات راتیں اور آٹھ دن تک یہ آگ والی ہوا ان پر چلتی رہی اور عذاب کا بادل ان پر برستا رہا۔ تمام عادیوں کا ستیاناس ہو گیا۔

ہود علیہ السلام اور آپ کے مومن ساتھی ایک باغیچے میں چلے گئے۔ وہاں اللہ نے انہیں محفوظ رکھا۔ وہی ہوا ٹھنڈی اور بھینی بھینی ہو کر ان کے جسموں کو لگتی رہی جس سے روح کو تازگی اور آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچتی رہی۔ ہاں عادیوں پر اس ہوا نے سنگباری شروع کر دی، ان کے دماغ پھٹ گئے۔ آخر انہیں اٹھا اٹھا کر دے پٹخا، سر الگ ہو گئے، دھڑ الگ جا پڑے۔ یہ ہوا سوار کو سواری سمیت ادھر اٹھا لیتی تھی اور بہت اونچے لے جا کر اسے اوندھا دے پٹختی تھی الخ۔ یہ سیاق بہت غریب ہے اور اس میں بہت سے فوائد ہیں۔ عذاب الٰہی کے آ جانے سے ہود علیہ السلام کو اور مومنوں کو نجات مل گئی۔ رحمت حق ان کے شامل حال رہی اور باقی کفار اس بدترین سزا میں گرفتار ہوئے۔

مسند احمد میں ہے، { حارث بکری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں اپنے ہاں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں علا بن حضرمی کی شکایت لے کر چلا جب میں ربذہ میں پہنچا تو بنو تمیم کی ایک بڑھیا لاچار ہو کر بیٹھی ہوئی ملی۔ مجھ سے کہنے لگی: اے اللہ کے بندے! مجھے سرکار رسالت مآب میں پہنچنا ہے۔ کیا تو میرے ساتھ اتنا سلوک کرے گا کہ مجھے دربار رسالت میں پہنچا دے؟ میں نے کہا: آؤ۔ چنانچہ میں نے اسے اپنے اونٹ پر بٹھا لیا اور مدینے پہنچا۔ دیکھا کہ مسجد لوگوں سے بھری ہوئی ہے۔ سیاہ جھنڈے لہرا رہے ہیں اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تلوار لٹکائے کھڑے ہیں۔ میں نے پوچھا: کیا بات ہے؟ لوگوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی ماتحتی میں کہیں لشکر بھیجنے والے ہیں۔ میں تھوری دیر بیٹھا رہا۔ اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی منزل میں تشریف لے گئے۔ میں آپ کے پیچھے ہی گیا۔ اجازت طلب کی۔ اجازت ملی، جب میں نے اندر جا کر سلام کیا تو آپ نے مجھ سے دریافت کیا: تم میں اور بنو تمیم میں کچھ چشمک ہے؟ میں نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ذمہ دار وہی ہیں۔ میں اب حاضر خدمت ہو رہا تھا تو راستے میں قبیلہ تمیم کی ایک بڑھیا عورت مل گئی جس کے پاس سواری وغیرہ نہ تھی۔ اس نے مجھ سے درخواست کی اور میں اسے اپنی سواری پر بٹھا کر یہاں لایا ہوں۔ وہ دروازے پر بیٹھی ہے۔ آپ نے اسے بھی اندر آنے کی اجازت دی۔

{ میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم میں اور بنو تمیم میں کوئی روک کر دیجئے۔ اس پر بڑھیا تیز ہو کر بولی: اگر آپ نے ایسا کر دیا تو آپ کے ہاں کے بےبس کہاں پناہ لیں گے؟ میں نے کہا: سبحان اللہ! تیری اور میری تو وہی مثل ہوئی کہ بکری اپنی موت کو آپ اٹھا کر لے گئی۔ میں نے ہی تجھے یہاں پہنچایا ہے، مجھے اس کے انجام کی کیا خبر تھی؟ اللہ نہ کرے کہ میں عادی قبیلے کے وفد کی طرح ہو جاؤں۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا کہ بھئی عادیوں کے وفد کا قصہ کیا ہے؟ باوجود یہ کہ آپ کو مجھ سے زیادہ اس کا علم تھا لیکن یہ سمجھ کر کہ اس وقت آپ باتیں کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے قصہ شروع کر دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت عادیوں میں قحط سالی نمودار ہوئی تو انہوں نے قیل نامی ایک شخص کو بطور اپنے قاصد کے بیت اللہ شریف دعا وغیرہ کرنے کے لئے بھیجا۔ یہ معاویہ بن بکر کے ہاں آ کر مہمان بنا۔ یہاں شراب و کباب اور راگ رنگ میں ایسا مشغول ہوا کہ مہینے بھر تک جام لنڈھاتا رہا اور معاویہ کی دو لونڈیوں کے گانے سنتا رہا، ان کا نام جرادہ تھا۔ مہینے بھر کے بعد مہرہ کے پہاڑوں پر گیا اور اللہ سے دعا مانگنے لگا کہ باری تعالیٰ! میں کسی بیمار کی دوا کے لیے یا کسی قیدی کے فدیئے کے لیے نہیں آیا۔ یااللہ! عادیوں کو تو وہ پلا جو پلایا کرتا تھا۔ اتنے میں وہ دیکھتا ہے کہ چند سیاہ رنگ کے بادل اس کے سر پر منڈلا رہے ہیں۔ ان میں سے ایک غیبی صدا آئی کہ ان میں سے جو تجھے پسند ہو، قبول کر لے۔ اس نے سخت سیاہ بادل کو اختیار کیا۔ اسی وقت دوسری آواز آئی کہ لے لے خاک راکھ جو عادیوں میں سے ایک کو بھی نہ چھوڑے۔ عادیوں پر ہوا کے خزانے میں سے صرف بقدر انگوٹھی کے حلقے کے ہوا چھوڑی گئی تھی جس نے سب کو غارت اور تہ و بالا کر دیا۔ ابووائل کہتے ہیں: یہ واقعہ سارے عرب میں ضرب المثل ہو گیا تھا جب لوگ کسی کو بطور وفد کے بھیجتے تھے تو کہہ دیا کرتے تھے کہ عادیوں کے وفد کی طرح نہ ہو جانا۔ } ۱؎ [مسند احمد:482/3:حسن] ‏‏‏‏ اسی طرح مسند احمد میں بھی یہ روایت موجود ہے۔ سنن کی اور کتابوں میں بھی یہ واقعہ موجود ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
72۔ 1 اس قوم پر باد تند کا عذاب آیا جو سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل جاری رہا جس نے ہر چیز کو تہس نہس کر کے رکھ دیا اور یہ قوم عاد کے لوگ، جنہیں اپنی قوت پر بڑا ناز تھا، ان کے لاشے کھجور کے کٹے ہوئے تنوں کی طرح زمین پر پڑے نظر آتے تھے (دیکھئے سورة الحاقہ 6۔ 8 سورة ھود۔ 53۔ 56 سورة احقاف 42۔ 25 آیات)
(آیت 72) {وَ قَطَعْنَا دَابِرَ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا ……:} اﷲ تعالیٰ نے قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر ان کے تباہ کیے جانے کی کیفیت تفصیل سے بیان فرمائی ہے، مثلاً سورۂ قمر (۱۸تا۲۰)، سورۂ ذاریات (42،41) اور سورۂ حاقہ (۶تا۸) میں مذکور ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے ان پر طوفان خیز آندھی چلائی جو مسلسل سات راتیں اور آٹھ دن چلتی رہی، وہ آندھی اس قدر تند و تیز تھی کہ جس چیز پر سے گزرتی اسے چورا کر ڈالتی، حتیٰ کہ اس نے انھیں پٹخ پٹخ کر ہلاک کر ڈالا، ان کی لاشیں اس طرح دکھائی دیتیں جیسے کھجور کے کھوکھلے تنے ہیں۔ قرآن نے یہاں اور دوسرے مقامات پر بھی تصریح فرمائی ہے کہ عاد اولیٰ کا نام و نشان تک باقی نہ چھوڑا، فرمایا: «فَهَلْ تَرٰى لَهُمْ مِّنْۢ بَاقِيَةٍ» ‏‏‏‏ [ الحاقۃ: ۸ ] ”تو کیا تو ان میں سے کوئی بھی باقی رہنے والا دیکھتا ہے۔“ عرب مؤرخین نے بھی بالاتفاق ان کو عرب بائدہ (ہلاک ہو جانے والوں) میں شمار کیا ہے۔ صرف ہود علیہ السلام اور ان کے متبعین اس عذاب سے محفوظ رہے اور بقول بعض ان کی نسل ”عادِ ثانیہ“ کے نام سے مشہور ہے۔ بعض آثارِ قدیمہ سے ان کے متعلق معلومات بھی ملتی ہیں۔
وَ اِلٰی ثَمُوۡدَ اَخَاہُمۡ صٰلِحًا ۘ قَالَ یٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰہَ مَا لَکُمۡ مِّنۡ اِلٰہٍ غَیۡرُہٗ ؕ قَدۡ جَآءَتۡکُمۡ بَیِّنَۃٌ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ ؕ ہٰذِہٖ نَاقَۃُ اللّٰہِ لَکُمۡ اٰیَۃً فَذَرُوۡہَا تَاۡکُلۡ فِیۡۤ اَرۡضِ اللّٰہِ وَ لَا تَمَسُّوۡہَا بِسُوۡٓءٍ فَیَاۡخُذَکُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۷۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور ثمود کی طرف ہم نے اُن کے بھائی صالحؑ کو بھیجا اس نے کہا "اے برادران قوم، اللہ کی بندگی کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے تمہارے پاس تمہارے رب کی کھلی دلیل آ گئی ہے یہ اللہ کی اونٹنی تمہارے لیے ایک نشانی کے طور پر ہے، لہٰذا اسے چھوڑ دو کہ خدا کی زمین میں چرتی پھرے اس کو کسی برے ارادے سے ہاتھ نہ لگانا ورنہ ایک درد ناک عذاب تمہیں آ لے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہم نے ﺛمود کی طرف ان کے بھائی صالح (علیہ السلام) کو بھیجا۔ انہوں نے فرمایا اے میری قوم! تم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا کوئی تمہارا معبود نہیں۔ تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک واضح دلیل آچکی ہے۔ یہ اونٹنی ہے اللہ کی جو تمہارے لئے دلیل ہے سو اس کو چھوڑ دو کہ اللہ تعالیٰ کی زمین میں کھاتی پھرے اور اس کو برائی کے ساتھ ہاتھ بھی مت لگانا کہ کہیں تم کو دردناک عذاب آپکڑے
احمد رضا خان بریلوی
اور ثمود کی طرف ان کی برادری سے صالح کو بھیجا کہا اے میری قوم اللہ کو پوجو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، بیشک تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے روشن دلیل آئی یہ اللہ کا ناقہ ہے تمہارے لیے نشانی، تو اسے چھوڑ دو کہ اللہ کی زمین میں کھائے اور اسے برائی سے ہاتھ نہ لگاؤ کہ تمہیں درد ناک عذاب آئے گا،
علامہ محمد حسین نجفی
اور قومِ ثمود کی طرف ان کے (قومی) بھائی صالح کو بھیجا۔ انہوں نے کہا اے میری قوم! اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارے پروردگار کی طرف سے (میری صداقت کا) ایک خاص معجزہ آچکا ہے جو یہ اللہ کی خاص اونٹنی ہے جو تمہارے لئے ایک (قدرتی) نشانی (معجزہ) ہے اسے کھلا چھوڑ دو کہ خدا کی زمین میں چَرتی پھرے۔ اور (خبردار) اسے برے ارادے سے ہاتھ نہ لگانا (اسے تکلیف نہ پہنچانا) ورنہ دردناک عذاب تمہیں اپنی گرفت میں لے لے گا۔
عبدالسلام بن محمد
اور ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو (بھیجا)، اس نے کہا اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں۔ بے شک تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے ایک واضح دلیل آ چکی۔ یہ اللہ کی اونٹنی تمھارے لیے ایک نشانی کے طور پر ہے، سو اسے چھوڑ دو کہ اللہ کی زمین میں کھاتی پھرے اور اسے کسی برے طریقے سے ہاتھ نہ لگانا، ورنہ تمھیں ایک درد ناک عذاب پکڑ لے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ثمود کی قوم اور اس کا عبرت ناک انجام ٭٭

علمائے نسب نے بیان کیا ہے کہ ثمود بن عامر بن ارم بن سام بن نوح , یہ بھائی تھا جدیس بن عامر کا۔ اسی طرح قبیلہ طسم یہ سب خالص عرب تھے۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام سے پہلے ثمودی عادیوں کے بعد ہوئے ہیں۔ ان کے شہر حجاز اور شام کے درمیان وادی القری اور اس کے اردگرد مشہور ہیں۔ سنہ ٩ھ میں تبوک جاتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی اجاڑ بستیوں میں سے گزرے تھے۔ مسند احمد میں ہے کہ { جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تبوک کے میدان میں اترے۔ لوگوں نے ثمودیوں کے گھروں کے پاس ڈیرے ڈالے اور انہی کے کنوؤں کے پانی سے آٹے گوندھے، ہانڈیاں چڑھائیں تو آپ نے حکم دیا کہ سب ہانڈیاں الٹ دی جائیں اور گندھے ہوئے آٹے اونٹوں کو کھلا دیئے جائیں۔ پھر فرمایا: یہاں سے کوچ کرو اور اس کنوئیں کے پاس ٹھہرو جس سے صالح علیہ السلام کی اونٹنی پانی پیتی تھی اور فرمایا: آئندہ عذاب والی بستیوں میں پڑاؤ نہ کیا کرو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اسی عذاب کے شکار تم بھی بن جاؤ۔ } ۱؎ [مسند احمد:117/2:صحیح] ‏‏‏‏

ایک روایت میں ہے کہ { ان کی بستیوں سے روتے اور ڈرتے ہوئے گزرو کہ مبادا وہی عذاب تم پر آ جائیں جو ان پر آئے تھے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4420] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے: { غزوہ تبوک میں لوگ بہ عجلت ہجر کے لوگوں کے گھروں کی طرف لپکے۔ آپ نے اسی وقت یہ آواز بلند کرنے کا کہا: «اَلصَلٰوۃُ جَامِعةٌ» جب لوگ جمع ہو گئے تو آپ نے فرمایا کہ ان لوگوں کے گھروں میں کیوں گھسے جا رہے ہو جن پر غضب الٰہی نازل ہوا۔ راوی حدیث ابوکبشہ انماری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک نیزہ تھا۔ میں نے یہ سن کر عرض کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم تو صرف تعجب کے طور پر انہیں دیکھنے چلے گئے تھے۔ آپ نے فرمایا: میں تمہیں اس سے بھی تعجب خیز چیز بتا رہا ہوں۔ تم میں سے ہی ایک شخص ہے جو تمہیں وہ چیز بتا رہا ہے جو گزر چکیں اور وہ خبریں دے رہا ہے جو تمہارے سامنے ہیں اور جو تمہارے بعد ہونے والی ہیں۔ پس تم ٹھیک ٹھاک رہو اور سیدھے چلے جاؤ۔ تمہیں عذاب کرتے ہوئے بھی اللہ تعالیٰ کو کوئی پرواہ نہیں۔ یاد رکھو! ایسے لوگ آئیں گے جو اپنی جانوں سے کسی چیز کو دفع نہ کر سکیں گے۔ } ۱؎ [مسند احمد:231/4:حسن] ‏‏‏‏ سیدنا ابوکبشہ رضی اللہ عنہ کا نام عمر بن سعد ہے اور کہا گیا ہے کہ عامر بن سعد ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ ایک روایت میں ہے کہ { ہجر کی بستی کے پاس آتے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معجزے نہ طلب کرو۔ دیکھو! قوم صالح نے معجزہ طلب کیا جو ظاہر ہوا یعنی اونٹنی جو اس راستے سے آتی تھی اور اس راستے سے جاتی تھی لیکن ان لوگوں نے اپنے رب کے حکم سے سرتابی کی اور اونٹنی کی کوچیں کاٹ دیں۔ ایک دن اونٹنی ان کا پانی پیتی تھی اور ایک دن یہ سب اس کا دودھ پیتے تھے۔ اس اونٹنی کو مار ڈالنے پر ان پر ایک چیخ آئی اور یہ جتنے بھی تھے، سب کے سب ڈھیر ہو گئے۔ بجز اس ایک شخص کے جو حرم شریف میں تھا۔ لوگوں نے پوچھا: اس کا نام کیا تھا؟ فرمایا: ابورغال، یہ بھی جب حد حرم سے باہر آیا تو اسے بھی وہی عذاب ہوا۔ } ۱؎ [مسند احمد:296/3:حسن] ‏‏‏‏ یہ حدیث صحاح ستہ میں تو نہیں لیکن ہے مسلم شریف کی شرط پر۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ ثمودی قبیلے کی طرف سے ان کے بھائی صالح علیہ السلام کو نبی بنا کر بھیجا گیا۔ تمام نبیوں کی طرح آپ نے بھی اپنی امت کو سب سے پہلے توحید الٰہی سکھائی کہ فقط اس کی عبادت کریں۔ اس کے سوا اور کوئی لائق عبادت نہیں۔ اللہ کا فرمان ہے: جتنے بھی رسول آئے سب کی طرف یہی وحی کی جاتی رہی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، صرف میری ہی عبادت کرو۔ اور ارشاد ہے: ہم نے ہر امت میں رسول بھیجے کہ اللہ ہی کی عبادت کرو اور اس کے سوا اوروں کی عبادت سے بچو۔

صالح علیہ السلام فرماتے ہیں: لوگو! تمہارے پاس دلیل الٰہی آ چکی جس میں میری سچائی ظاہر ہے۔ ان لوگوں نے صالح علیہ السلام سے معجزہ طلب کیا تھا کہ ایک سنگلاخ چٹان جو ان کی بستی کے ایک کنارے پڑی تھی جس کا نام کاتبہ تھا، اس سے آپ ایک اونٹنی نکالیں جو گابھن ہو (‏‏‏‏دودھ دینے والی اونٹنی جو دس ماہ کی حاملہ ہو) صالح علیہ السلام نے ان سے فرمایا کہ اگر ایسا ہو جائے تو تم ایمان قبول کر لو گے؟ انہوں نے پختہ وعدے کئے اور مضبوط عہد و پیمان کئے۔ صالح علیہ السلام نے نماز پڑھی، دعا کی۔ ان سب کے دیکھتے ہی چٹان نے ہلنا شروع کیا اور چٹخ گئی۔ اس کے پیچھے سے ایک اونٹنی نمودار ہوئی۔ اسے دیکھتے ہی ان کے سردار جندع بن عمرو نے تو اسلام قبول کر لیا اور اس کے ساتھیوں نے بھی۔ باقی جو اور سردار تھے وہ ایمان لانے کیلئے تیار تھے مگر ذواب بن عمرو بن لبید نے اور حباب نے جو بتوں کا مجاور تھا اور رباب بن صمعر بن جلھس وغیرہ نے انہیں روک دیا۔ جندع کا بھتیجا شہاب نامی، یہ ثمودیوں کا بڑا عالم فاضل اور شریف شخص تھا۔ اس نے بھی ایمان لانے کا ارادہ کر لیا۔ انہی بدبختوں نے اسے بھی روکا جس پر ایک مومن ثمودی مہوش بن عثمہ نے کہا کہ آل عمرو نے شہاب کو دین حق کی دعوت دی۔ قریب تھا کہ وہ مشرف بہ اسلام ہو جائے اور اگر ہو جاتا تو اس کی عزت سو اور ہو جاتی مگر بدبختوں نے اسے روک دیا اور نیکی سے ہٹا کر بدی پر لگا دیا۔ اس حاملہ اونٹنی کو اس وقت بچہ ہوا۔ ایک مدت تک دونوں ان میں رہے۔ ایک دن اونٹنی ان کا پانی پیتی، اس دن اس قدر دودھ دیتی کہ یہ لوگ اپنے سب برتن بھر لیتے۔ دوسرے دن نی پیتی اور ثمودیوں کے اور جانور پی لیتے۔جیسے قرآن میں ہے آیت «وَنَبِّئْهُمْ اَنَّ الْمَاءَ قِسْمَةٌ بَيْنَهُمْ كُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ» ۱؎ [54-القمر:28] ‏‏‏‏ اور آیت میں ہے «قَالَ هٰذِهٖ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَّلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ» ۱؎ [26-الشعراء:155] ‏‏‏‏ ’ یہ ہے اونٹنی، اس کے اور تمہارے پانی پینے کے دن تقسیم شدہ اور مقررہ ہیں۔ ‘ یہ اونٹنی ثمودیوں کی بستی حجر کے اردگرد چرتی چگتی تھی۔ ایک راہ جاتی، دوسری راہ آتی۔ یہ بہت ہی موٹی تازی اور ہیبت والی اونٹنی تھی۔ جس راہ سے گزرتی سب جانور ادھر ادھر ہو جاتے۔ کچھ زمانہ گزرنے کے بعد ان اوباشوں نے ارادہ کیا کہ اس کو مار ڈالیں تاکہ ہر دن ان کے جانور برابر پانی پی سکیں۔ ان اوباشوں کے ارادوں پر سب نے اتفاق کیا۔ یہاں تک کہ عورتوں اور بچوں نے بھی ان کی ہاں میں ہاں ملائی اور انہیں شہ دی کہ ہاں اس پاپ کو کاٹ دو۔ اس اونٹنی کو مار ڈالو۔

چنانچہ قرآن کریم میں ہے «فَكَذَّبُوْهُ فَعَقَرُوْهَا ١ فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُمْ بِذَنْبِهِمْ فَسَوّٰىهَا» ۱؎ [91-الشمس:14] ‏‏‏‏ ’ قوم صالح نے اپنے نبی کو جھٹلایا اور اونٹنی کی کوچیں کاٹ کر اسے مار ڈالا تو ان کے پروردگار نے ان کے گناہوں کے بدلے ان پر ہلاکت نازل فرمائی اور ان سب کو یکساں کر دیا۔ ‘ اور آیت میں ہے کہ ہم نے ثمودیوں کو اونٹنی دی جو ان کے لیے پوری سمجھ بوجھ کی چیز تھی لیکن انہوں نے اس پر ظلم کیا یہاں بھی فرمایا کہ انہوں نے اس اونٹنی کو مار ڈالا۔ پس اس فعل کی اسناد سارے ہی قبیلے کی طرف ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ چھوٹے بڑے سب اس امر پر متفق تھے۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ وغیرہ کا فرمان ہے کہ اس کے قتل کی وجہ یہ ہوئی کہ عنیزہ بنت مجلز جو ایک بڑھیا کافرہ تھی اور صالح علیہ السلام سے بڑی دشمنی رکھتی تھی، اس کی لڑکیاں بہت خوبصورت تھیں اور تھی بھی یہ عورت مالدار۔ اس کے خاوند کا نام ذواب بن عمرو تھا جو ثمودیوں کا ایک سردار تھا یہ بھی کافر تھا۔ اسی طرح ایک اور عورت تھی جس کا نام صدوف بنت محیا بن مختار تھا۔ یہ بھی حسن کے علاوہ مال اور حسب نسب میں بڑھی ہوئی تھی، اس کے خاوند مسلمان ہو گئے تھے رضی اللہ عنہ۔ اس سرکش عورت نے ان کو چھوڑ دیا۔ اب یہ دونوں عورتیں لوگوں کو اکساتی تھیں کہ کوئی آمادہ ہو جائے اور صالح علیہ السلام کی اونٹنی کو قتل کر دے۔ صدوف نامی عورت نے ایک شخص حباب کو بلایا اور اس سے کہا کہ میں تیرے گھر آ جاؤں گی، اگر تو اس اونٹنی کو قتل کر دے لیکن اس نے انکار کر دیا۔ اس پر اس نے مصدع بن مہرج بن محیاء کو بلایا جو اس کے چچا کا لڑکا تھا اور اسے بھی اسی بات پر آمادہ کیا۔ یہ خبیث اس کے حسن و جمال کا مفتون تھا، اس برائی پر آمادہ ہو گیا۔ ادھر عنیزہ نے قدار بن سالف بن جذع کو بلا کر اس سے کہا کہ میری ان خوبصورت نوجوان لڑکیوں میں سے جسے تو پسند کرے، اسے میں تجھے دے دوں گی، اسی شرط پر کہ تو اس اونٹنی کی کوچیں کاٹ ڈال۔ یہ خبیث بھی آمادہ ہو گیا۔ یہ تھا بھی زناکاری کا بچہ، سالف کی اولاد میں نہ تھا۔ صھیاد نامی ایک شخص سے اس کی بدکار ماں نے زناکاری کی تھی، اسی سے یہ پیدا ہوا تھا۔ اب دونوں چلے اور اہل ثمود اور دوسرے شریروں کو بھی اس پر آمادہ کیا۔ چنانچہ سات شخص اور بھی اس پر آمادہ ہو گئے اور یہ نو فسادی شخص اس بد ارادے پر تل گئے۔ جیسے قرآن کریم میں ہے «وَكَانَ فِي الْمَدِيْنَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ يُّفْسِدُوْنَ فِي الْاَرْضِ وَلَا يُصْلِحُوْنَ» ۱؎ [27-النمل:49-50] ‏‏‏‏ اس شہر میں نو شخص تھے جن میں اصلاح کا مادہ ہی نہ تھا، سراسر فسادی ہی تھے۔ چونکہ یہ لوگ قوم کے سردار تھے۔ ان کے کہنے سننے سے تمام کفار بھی اس پر راضی ہو گئے اور اونٹنی کے واپس آنے کے راستے میں یہ دونوں شریر اپنی اپنی کمین گاہوں میں بیٹھ گئے۔ جب اونٹنی نکلی تو پہلے مصدع نے اسے تیر مارا جو اس کی ران کی ہڈی میں پیوست ہو گیا۔ اسی وقت عنیزہ نے اپنی خوبصورت لڑکی کو کھلے منہ قدار کے پاس بھیجا۔ اس نے کہا: قدار کیا دیکھتے ہو؟ اٹھو اور اس کا کام تمام کر دو۔ یہ اس کا منہ دیکھتے ہی دوڑا اور اس کے دونوں پچھلے پاؤں کاٹ دیئے۔ اونٹنی چکرا کر گری اور ایک آواز نکالی جس سے اس کا بچہ ہوشیار ہو گیا اور اس راستے کو چھوڑ کر پہاڑی پر چلا گیا۔ یہاں قدار نے اونٹنی کا گلا کاٹ دیا اور وہ مر گئی۔ اس کا بچہ پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ کر تین مربتہ بلبلایا۔

حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس نے اللہ کے سامنے اپنی ماں کے قتل کی فریاد کی۔ پھر جس چٹان سے نکلا تھا، اسی میں سما گیا۔ یہ روایت بھی ہے کہ اسے بھی اس کی ماں کے ساتھ ہی ذبح کر دیا گیا تھا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ صالح علیہ السلام کو جب یہ خبر پہنچی تو آپ گھبرائے ہوئے موقعہ پر پہنچے۔ دیکھا کہ اونٹنی بےجان پڑی ہے۔ آپ کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے اور فرمایا بس اب تین دن میں تم ہلاک کر دیئے جاؤ گے، ہوا بھی یہی۔ بدھ کے دن ان لوگوں نے اونٹنی کو قتل کیا تھا اور چونکہ کوئی عذاب نہ آیا۔ اس لیے اترا گئے اور ان مفسدوں نے ارادہ کر لیا کہ آج شام کو صالح علیہ السلام کو بھی مار ڈالو۔ اگر واقعی ہم ہلاک ہونے والے ہی ہیں تو پھر یہ کیوں بچا رہے؟ اگر ہم پر عذاب نہیں آتا تو بھی آؤ، روز روز کے اس جھنجھٹ سے پاک ہو جائیں۔

چنانچہ قرآن کریم کا بیان ہے کہ ان لوگوں نے مل کر مشورہ کیا اور پھر قسمیں کھا کر اقرار کیا کہ رات کو صالح کے گھر پر چھاپہ مارو اور اسے اور اس کے گھرانے کو تہہ تیغ کرو اور صاف انکار کر دو کہ ہمیں کیا خبر کہ کس نے مارا؟ اللہ تعالیٰ فرماتے ہے: ان کے اس مکر کے مقابل ہم نے بھی مکر کیا اور یہ ہمارے مکر سے بالکل بےخبر رہے۔ اب انجام دیکھ لو کہ کیا ہوا؟ رات کو یہ اپنی بد نیتی سے صالح علیہ السلام کے گھر کی طرف چلے۔ آپ کا گھر پہاڑ کی بلندی پر تھا۔ ابھی یہ اوپر چڑھ ہی رہے تھے جو اوپر سے ایک چٹان پتھر کی لڑھکتی ہوئی آئی اور سب کو ہی پیس ڈالا۔ ان کا تو یہ حشر ہوا۔ ادھر جمعرات کے دن تمام ثمودیوں کے چہرے زرد پڑ گئے۔ جمعہ کے دن ان کے چہرے آگ جیسے سرخ ہو گئے اور ہفتہ کے دن جو مہلت کا آخری دن تھا، ان کے منہ سیاہ ہو گئے۔ تین دن جب گزر گئے تو چوتھا دن اتوار صبح ہی صبح سورج کے روشن ہوتے ہی اوپر آسمان سے سخت کڑاکا ہوا جس کی ہولناک، دہشت انگیز چنگھاڑ نے ان کے کلیجے پھاڑ دیئے، ساتھ ہی نیچے سے زبردست زلزلہ آیا۔ ایک ہی ساعت میں ایک ساتھ ہی ان سب کا ڈھیر ہو گیا۔ مردوں سے مکانات، بازار، گلی، کوچے بھر گئے۔ مرد، عورت، بچے، بوڑھے اول سے آخر تک سارے کے سارے تباہ ہو گئے۔ شان رب دیکھئیے کہ اس واقعہ کی خبر دنیا کو پہنچانے کے لیے ایک کافرہ عورت بچا دی گئی۔ یہ بھی بڑی خبیثہ تھی، صالح علیہ السلام کی عداوت کی آگ سے بھری ہوئی تھی، اس کی دونوں ٹانگیں نہیں تھیں لیکن ادھر عذاب آیا، ادھر اس کے پاؤں کھل گئے، اپنی بستی سے سرپٹ بھاگی اور تیز دوڑتی ہوئی دوسرے شہر میں پہنچی اور وہاں جا کر ان سب کے سامنے سارا واقعہ بیان کر ہی چکنے کے بعد ان سے پانی مانگا۔ ابھی پوری پیاس بھی بجھی نہ تھی کہ عذاب الٰہی آ پڑا اور وہیں ڈھیر ہو کر رہ گئی۔ ہاں ابورغال نامی ایک شخص اور بچ گیا تھا۔ یہ یہاں نہ تھا حرم کی پاک زمین میں تھا لیکن کچھ دنوں کے بعد جب یہ اپنے کسی کام کی غرض سے حد حرم سے باہر آیا، اسی وقت آسمان سے پتھر آیا اور اسے بھی جہنم واصل کیا۔ ثمودیوں میں سے سوائے صالح علیہ السلام اور ان کے مومن صحابہ رضی اللہ عنہم کے اور کوئی بھی نہ بچا۔ ابورغال کا واقعہ اس سے پہلے حدیث سے بیان ہو چکا ہے۔ قبیلہ ثقیف جو طائف میں ہے، مذکور ہے کہ یہ اسی نسل میں سے ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:14823/12:معضل ضعیف] ‏‏‏‏ عبدالرزاق میں ہے کہ اس کی قبر کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب گزرے تو فرمایا: جانتے ہو یہ کس کی قبر ہے؟ لوگوں نے جواب دیا کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ علم ہے۔ آپ نے فرمایا: یہ ابورغال کی قبر ہے۔ یہ ایک ثمودی شخص تھا، اپنی قوم کے عذاب کے وقت حرم میں تھا۔ اس وجہ سے عذاب الٰہی سے بچ رہا لیکن حرم شریف سے نکلا تو اسی وقت اپنی قوم کے عذاب سے یہ بھی ہلاک ہوا اور یہیں دفن کیا گیا اور اس کے ساتھ اس کی سونے کی لکڑی بھی دفنا دی گئی۔ چنانچہ لوگوں نے اس گڑھے کو کھود کر اس میں سے وہ لکڑی نکال لی۔

اور حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا تھا: ثقیف قبیلہ اسی کی اولاد ہے۔ ایک مرسل حدیث میں بھی یہ ذکر موجود ہے۔ یہ بھی ہے کہ آپ نے فرمایا تھا: { اس کے ساتھ سونے کی شاخ دفن کر دی گئی ہے۔ یہی نشان اس کی قبر کا ہے، اگر تم اسے کھودو تو وہ شاخ ضرور نکل آئے گی چنانچہ بعض لوگوں نے اسے کھودا اور وہ شاخ نکال لی۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:3088، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ ابوداؤد میں بھی یہ روایت ہے اور حسن عزیز ہے لیکن میں کہتا ہوں: اس حدیث کے وصل کا صرف ایک طریقہ بجیر بن ابی بحیر کا ہے اور یہ صرف اسی حدیث کے ساتھ معروف ہے۔ اور بقول امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ سوائے اسماعیل بن امیہ کے، اس سے اور کسی نے روایت نہیں کیا۔ احتمال ہے کہ کہیں اس حدیث کے مرفوع کرنے میں خطا نہ ہو۔ یہ عبداللہ بن عمرو ہی کا قول ہو اور پھر اس صورت میں یہ بھی ممکنات سے ہے کہ انہوں نے اسے ان دو دفتروں سے لے لیا ہو جو انہیں جنگ یرموک میں ملے تھے۔ میرے استاد شیخ ابوالحجاج رحمہ اللہ اس روایت کو پہلے تو حسن عزیز کہتے تھے لیکن جب میں نے ان کے سامنے یہ حجت پیش کی تو آپ نے فرمایا: بیشک ان امور کا اس میں احتمال ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
73۔ 1 یہ ثمود، حجاز اور شام کے درمیان وادی القریٰ میں رہائش پذیر تھے 9 ہجری میں تبوک جاتے ہوئے رسول اللہ اور آپ کے صحابہ کا ان کے مساکن اور وادی سے گزر ہوا، جس پر آپ نے صحابہ سے فرمایا کہ معذب قوموں کے علاقے سے گزرو تو روتے ہوئے، یعنی عذاب الٰہی سے پناہ مانگتے ہوئے گزرو (صحیح بخاری) ان کی طرف حضرت صالح ؑ نبی بنا کر بھیجے گئے۔ یہ عاد کے بعد کا واقعہ ہے۔ انہوں نے اپنے پیغمبر سے مطالبہ کیا کہ پتھر کی چٹان سے ایک اونٹنی نکال کر دکھا، جسے ہم نکلتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھیں۔ حضرت صالح ؑ نے ان سے عہد لیا کہ اس کے بعد اگر ایمان نہ لائے تو وہ ہلاک کردیئے جائیں گے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کے مطالبے پر اونٹنی ظاہر فرما دی۔ اس اونٹنی کے متعلق انہیں تاکید کردی گئی کہ اسے بری نیت سے کوئی ہاتھ نہ لگائے ورنہ عذاب الٰہی کی گرفت میں آجاؤ گے۔ لیکن ان ظالموں نے اس اونٹنی کو بھی قتل کر ڈالا، جس کے تین دن بعد انہیں چنگھاڑ (صَیْحَۃ، سخت چیخ اور رَجْفَۃ، زلزلہ) کے عذاب سے ہلاک کردیا گیا، جس سے وہ اپنے گھروں میں اوندھے کے اوندھے پڑے رہ گئے۔
(آیت 73) ➊ { وَ اِلٰى ثَمُوْدَ:} ثمود کا شمار بھی عرب کی قدیم ترین قوموں میں ہوتا ہے، عاد کے بعد سب سے مشہور قوم یہی ہے، اسی بنا پر بعض نے اسے ” عادِ ثانیہ“ بھی لکھ دیا ہے۔ ان کا مسکن شمال مغربی عرب کا وہ علاقہ تھا جو آج بھی ” الحجر“ کے نام سے معروف ہے۔ دیکھیے سورۂ حجر (۸۰) (ابن کثیر) بعض علماء کا کہنا ہے کہ ان کے علاقے میں پانی کی کمی کی وجہ سے ان کا نام ثمود پڑا، کیونکہ ” ثمد“ قلیل پانی کو کہتے ہیں۔ مدینہ اور تبوک کے درمیان شام کو جانے والی شاہراہ پر ایک شہر مدائن صالح کے نام سے مشہور ہے، یہی قوم ثمود کا صدر مقام تھا۔ سورۂ شعراء (۱۴۶ تا ۱۴۹) میں اﷲ تعالیٰ نے ان کی تعمیری اور زرعی مہارت کا ذکر فرمایا ہے۔ وہاں اب بھی اچھی خاصی تعداد میں وہ عمارتیں پائی جاتی ہیں جو ثمود نے پہاڑوں کو تراش کر بنائی تھیں اور ان کے ارد گرد بڑا وسیع میدان ہے جہاں وہ کھیتی باڑی کرتے تھے۔ عبد اﷲ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم جب تبوک کے پاس رکے تو آپ صحابہ کے ساتھ حجر میں ثمود کے گھروں کے پاس ٹھہرے، لوگوں نے ان کنوؤں سے پانی پیا جہاں سے ثمود پیتے تھے، اسی پانی کے ساتھ آٹا بھی گوندھا اور ہانڈیاں بھی پکا لیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو انھوں نے ہانڈیاں گرا دیں اور آٹا اونٹوں کو کھلا دیا، پھر آپ وہاں سے روانہ ہوئے اور اس کنویں کے پاس پڑاؤ ڈالا جس سے (صالح علیہ السلام کی) اونٹنی پانی پیتی تھی۔ آپ نے ان لوگوں کے گھروں میں جانے سے منع فرما دیا جن پر عذاب نازل ہوا تھا اور فرمایا: ”ان لوگوں کے گھروں میں داخل نہ ہو جنھوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا مگر یہ کہ تم رونے والے ہو، میں ڈرتا ہوں کہ کہیں تم پر بھی وہ عذاب نہ آ جائے جو ان پر نازل ہوا تھا۔ “ [ أحمد: 117/2، ح: ۵۹۸۹۔ مسلم: ۲۹۸۰ ] وہ کنواں اب بھی موجود ہے، مگر خشک ہو چکا ہے۔ (ابن کثیر) جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ایک لمبی حدیث ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم جب حجر میں اترے تو خطبہ دیا، فرمایا: ”لوگو! اپنے نبی سے آیات (معجزات) طلب مت کیا کرو، دیکھو صالح علیہ السلام کی قوم نے اپنے نبی سے سوال کیا کہ ان کے لیے اونٹنی بھیجے تو وہ اس پہاڑی درے سے آتی اور ان کا پانی پیتی جس دن اس کے پینے کی باری ہوتی اور وہ اس کا دودھ اتنا حاصل کرتے جتنا پانی سے سیراب ہوتے تھے۔“ [ مستدرک حاکم: 340/2، ح ۳۳۰۴۔ صححہ الحاکم ووافقہ الذہبی ] بعض سیاحت ناموں میں مذکور ہے کہ جس پہاڑی سے وہ اونٹنی بطور معجزہ بر آمد ہوئی تھی اس میں اب تک شگاف موجود ہے۔ ابن کثیر نے اس چٹان کا نام ”الکاتبہ“ لکھا ہے۔ (البدایہ) مگر ہزاروں برس گزرنے کے بعد کسی پختہ دلیل کے بغیر کسی شگاف کو اونٹنی بر آمد ہونے کی جگہ قرار دینا اندھیرے میں تیر چلانے سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ ➋ { اَخَاهُمْ صٰلِحًا:} حافظ بغوی رحمہ اللہ نے ان کا نسب نامہ یوں بیان کیا ہے، صالح بن عبید بن آسف بن ماشح بن عبید بن حاذر بن ثمود۔ (بغوی) اس سے آگے مزید بیان کیا جاتا ہے، عاثر بن ارم بن سام بن نوح۔ ثمود کے دو بھائی اور تھے جن کے نام پر طسم اور جدیس دو قبیلے مشہور ہیں۔ (ابن کثیر) مگر اس زمانے کے انساب کا درست ہونا یقینی نہیں، کیونکہ اس کا کوئی معتبر ذریعہ ہمارے پاس نہیں۔ بعض نے لکھا ہے کہ جزیرہ نمائے سینا کے مشرقی کنارے پر صالح علیہ السلام کی قبر موجود ہے جو آج بھی زیارت گاہِ خلائق ہے اور اسی جزیرے میں جبل موسیٰ کے قریب صالح علیہ السلام کی اونٹنی کا نقش قدم معروف ہے، مگر جیسا کہ میں نے آیت(۶۵) میں ملا علی قاری سے نقل کیا ہے کہ ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی نبی کی قبر معلوم نہیں اور نقش قدم بنانے میں تو دیر ہی نہیں لگتی، ہاں کوئی پختہ ذریعۂ علم ہو تو الگ بات ہے اور وہ یہاں موجود نہیں۔ ➌ {هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ:} سورۂ شعراء (۱۴۸ تا ۱۵۹) میں مذکور ہے کہ صالح علیہ السلام نے اپنی قوم کو اﷲ تعالیٰ کی توحید، اپنی رسالت و اطاعت اور فساد فی الارض سے بچنے کی دعوت دی تو انھوں نے آپ کو جادو زدہ اور اپنے جیسا انسان کہہ کر جھٹلا دیا اور انھیں نبی تسلیم کرنے کے لیے کوئی معجزہ پیش کرنے کا مطالبہ کیا۔ صالح علیہ السلام نے اﷲ تعالیٰ سے دعا کی تو اﷲ تعالیٰ نے ایک اونٹنی بھیج دی جو عجیب معجزہ تھی کہ ایک دن وہ ان کا سارا پانی پیتی اور دوسرے دن ان کی اور ان کے جانوروں کی باری ہوتی۔ قرآن و حدیث میں یہ تفصیل نہیں کہ وہ اونٹنی کیسے نمودار ہوئی، مگر تواریخ و تفاسیر میں ہے کہ پہاڑی چٹان پھٹی اور اس میں سے وہ اونٹنی برآمد ہوئی۔ صالح علیہ السلام نے انھیں آگاہ کیا کہ اگر تم نے اس اونٹنی کو کوئی نقصان پہنچایا تو تمھیں بہت بڑا اور دردناک عذاب پکڑ لے گا، پھر ان کے ۹ بدمعاشوں نے صالح علیہ السلام اور ان کے اہل خانہ کو شب خون مار کر شہید کرنے کا منصوبہ بنایا، جس کی تفصیل سورۂ نمل (۴۸تا۵۳) میں ہے۔ آخر کار انھوں نے اونٹنی کو کاٹ ہی ڈالا، پھر ان پر عذاب آ گیا جس کی تفصیل اس مقام پر اور سورۂ ہود، شعراء، نمل اور شمس وغیرہ میں مذکور ہے اور اپنے اپنے مقام پر آ رہی ہے۔ {” نَاقَةُ اللّٰهِ “} اگرچہ تمام اونٹنیاں بلکہ ساری کائنات ہی اﷲ مالک الملک کی ہے، مگر اس اونٹنی کو خاص طور پر ” اﷲ کی اونٹنی“ قرار دے کر اس کی عظمت اور معجزانہ شان کی طرف اشارہ فرمایا ہے، جیسے تمام گھر اﷲ کی ملکیت ہونے کے باوجود {”بيت اﷲ“} اسی کو کہا ہے جو مکہ میں ہے۔ ➍ { وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَيَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ:} یعنی اگر اسے ستاؤ گے یا زخمی کرو گے تو اﷲ تعالیٰ کا عذاب تم پر نازل ہو جائے گا۔
وَ اذۡکُرُوۡۤا اِذۡ جَعَلَکُمۡ خُلَفَآءَ مِنۡۢ بَعۡدِ عَادٍ وَّ بَوَّاَکُمۡ فِی الۡاَرۡضِ تَتَّخِذُوۡنَ مِنۡ سُہُوۡلِہَا قُصُوۡرًا وَّ تَنۡحِتُوۡنَ الۡجِبَالَ بُیُوۡتًا ۚ فَاذۡکُرُوۡۤا اٰلَآءَ اللّٰہِ وَ لَا تَعۡثَوۡا فِی الۡاَرۡضِ مُفۡسِدِیۡنَ ﴿۷۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یاد کرو وہ وقت جب اللہ نے قوم عاد کے بعد تمہیں اس کا جانشین بنایا اور تم کو زمین میں یہ منزلت بخشی کہ تم اُس کے ہموار میدانوں میں عالی شان محل بناتے اور اس کے پہاڑوں کو مکانات کی شکل میں تراشتے ہو پس اس کی قدرت کے کرشموں سے غافل نہ ہو جاؤ اور زمین میں فساد برپا نہ کرو"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور تم یہ حالت یاد کرو کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو عاد کے بعد جانشین بنایا اور تم کو زمین پر رہنے کا ٹھکانا دیا کہ نرم زمین پر محل بناتے ہو اور پہاڑوں کو تراش تراش کر ان میں گھر بناتے ہو، سو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد کرو اور زمین میں فساد مت پھیلاؤ
احمد رضا خان بریلوی
اور یاد کرو جب تم کو عاد کا جانشین کیا اور ملک میں جگہ دی کہ نرم زمین میں محل بناتے ہو اور پہاڑوں میں مکان تراشتے ہو تو اللہ کی نعمتیں یاد کرو اور زمین میں فساد مچاتے نہ پھرو،
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ وقت یاد کرو جب اللہ نے تمہیں قومِ عاد کا جانشین بنایا۔ اور تمہیں زمین میں رہنے کے لئے ٹھکانا دیا کہ تم نرم اور ہموار زمین میں محلات بناتے ہو اور پہاڑوں کو تراش کر مکانات بناتے ہو۔ سو اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو۔ اور زمین میں فساد مت پھیلاتے پھرو۔
عبدالسلام بن محمد
اور یاد کرو جب اس نے تمھیں عاد کے بعد جانشین بنایا اور تمھیں زمین میں جگہ دی، تم اس کے میدانوں میں محل بناتے ہو اور پہاڑوں کو مکانوں کی صورت میں تراشتے ہو۔ سو اللہ کی نعمتیں یاد کرو اور زمین میں فساد کرتے ہوئے دنگا نہ مچاؤ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ثمود کی قوم اور اس کا عبرت ناک انجام ٭٭

علمائے نسب نے بیان کیا ہے کہ ثمود بن عامر بن ارم بن سام بن نوح , یہ بھائی تھا جدیس بن عامر کا۔ اسی طرح قبیلہ طسم یہ سب خالص عرب تھے۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام سے پہلے ثمودی عادیوں کے بعد ہوئے ہیں۔ ان کے شہر حجاز اور شام کے درمیان وادی القری اور اس کے اردگرد مشہور ہیں۔ سنہ ٩ھ میں تبوک جاتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی اجاڑ بستیوں میں سے گزرے تھے۔ مسند احمد میں ہے کہ { جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تبوک کے میدان میں اترے۔ لوگوں نے ثمودیوں کے گھروں کے پاس ڈیرے ڈالے اور انہی کے کنوؤں کے پانی سے آٹے گوندھے، ہانڈیاں چڑھائیں تو آپ نے حکم دیا کہ سب ہانڈیاں الٹ دی جائیں اور گندھے ہوئے آٹے اونٹوں کو کھلا دیئے جائیں۔ پھر فرمایا: یہاں سے کوچ کرو اور اس کنوئیں کے پاس ٹھہرو جس سے صالح علیہ السلام کی اونٹنی پانی پیتی تھی اور فرمایا: آئندہ عذاب والی بستیوں میں پڑاؤ نہ کیا کرو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اسی عذاب کے شکار تم بھی بن جاؤ۔ } ۱؎ [مسند احمد:117/2:صحیح] ‏‏‏‏

ایک روایت میں ہے کہ { ان کی بستیوں سے روتے اور ڈرتے ہوئے گزرو کہ مبادا وہی عذاب تم پر آ جائیں جو ان پر آئے تھے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4420] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے: { غزوہ تبوک میں لوگ بہ عجلت ہجر کے لوگوں کے گھروں کی طرف لپکے۔ آپ نے اسی وقت یہ آواز بلند کرنے کا کہا: «اَلصَلٰوۃُ جَامِعةٌ» جب لوگ جمع ہو گئے تو آپ نے فرمایا کہ ان لوگوں کے گھروں میں کیوں گھسے جا رہے ہو جن پر غضب الٰہی نازل ہوا۔ راوی حدیث ابوکبشہ انماری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک نیزہ تھا۔ میں نے یہ سن کر عرض کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم تو صرف تعجب کے طور پر انہیں دیکھنے چلے گئے تھے۔ آپ نے فرمایا: میں تمہیں اس سے بھی تعجب خیز چیز بتا رہا ہوں۔ تم میں سے ہی ایک شخص ہے جو تمہیں وہ چیز بتا رہا ہے جو گزر چکیں اور وہ خبریں دے رہا ہے جو تمہارے سامنے ہیں اور جو تمہارے بعد ہونے والی ہیں۔ پس تم ٹھیک ٹھاک رہو اور سیدھے چلے جاؤ۔ تمہیں عذاب کرتے ہوئے بھی اللہ تعالیٰ کو کوئی پرواہ نہیں۔ یاد رکھو! ایسے لوگ آئیں گے جو اپنی جانوں سے کسی چیز کو دفع نہ کر سکیں گے۔ } ۱؎ [مسند احمد:231/4:حسن] ‏‏‏‏ سیدنا ابوکبشہ رضی اللہ عنہ کا نام عمر بن سعد ہے اور کہا گیا ہے کہ عامر بن سعد ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ ایک روایت میں ہے کہ { ہجر کی بستی کے پاس آتے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معجزے نہ طلب کرو۔ دیکھو! قوم صالح نے معجزہ طلب کیا جو ظاہر ہوا یعنی اونٹنی جو اس راستے سے آتی تھی اور اس راستے سے جاتی تھی لیکن ان لوگوں نے اپنے رب کے حکم سے سرتابی کی اور اونٹنی کی کوچیں کاٹ دیں۔ ایک دن اونٹنی ان کا پانی پیتی تھی اور ایک دن یہ سب اس کا دودھ پیتے تھے۔ اس اونٹنی کو مار ڈالنے پر ان پر ایک چیخ آئی اور یہ جتنے بھی تھے، سب کے سب ڈھیر ہو گئے۔ بجز اس ایک شخص کے جو حرم شریف میں تھا۔ لوگوں نے پوچھا: اس کا نام کیا تھا؟ فرمایا: ابورغال، یہ بھی جب حد حرم سے باہر آیا تو اسے بھی وہی عذاب ہوا۔ } ۱؎ [مسند احمد:296/3:حسن] ‏‏‏‏ یہ حدیث صحاح ستہ میں تو نہیں لیکن ہے مسلم شریف کی شرط پر۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ ثمودی قبیلے کی طرف سے ان کے بھائی صالح علیہ السلام کو نبی بنا کر بھیجا گیا۔ تمام نبیوں کی طرح آپ نے بھی اپنی امت کو سب سے پہلے توحید الٰہی سکھائی کہ فقط اس کی عبادت کریں۔ اس کے سوا اور کوئی لائق عبادت نہیں۔ اللہ کا فرمان ہے: جتنے بھی رسول آئے سب کی طرف یہی وحی کی جاتی رہی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، صرف میری ہی عبادت کرو۔ اور ارشاد ہے: ہم نے ہر امت میں رسول بھیجے کہ اللہ ہی کی عبادت کرو اور اس کے سوا اوروں کی عبادت سے بچو۔

صالح علیہ السلام فرماتے ہیں: لوگو! تمہارے پاس دلیل الٰہی آ چکی جس میں میری سچائی ظاہر ہے۔ ان لوگوں نے صالح علیہ السلام سے معجزہ طلب کیا تھا کہ ایک سنگلاخ چٹان جو ان کی بستی کے ایک کنارے پڑی تھی جس کا نام کاتبہ تھا، اس سے آپ ایک اونٹنی نکالیں جو گابھن ہو (‏‏‏‏دودھ دینے والی اونٹنی جو دس ماہ کی حاملہ ہو) صالح علیہ السلام نے ان سے فرمایا کہ اگر ایسا ہو جائے تو تم ایمان قبول کر لو گے؟ انہوں نے پختہ وعدے کئے اور مضبوط عہد و پیمان کئے۔ صالح علیہ السلام نے نماز پڑھی، دعا کی۔ ان سب کے دیکھتے ہی چٹان نے ہلنا شروع کیا اور چٹخ گئی۔ اس کے پیچھے سے ایک اونٹنی نمودار ہوئی۔ اسے دیکھتے ہی ان کے سردار جندع بن عمرو نے تو اسلام قبول کر لیا اور اس کے ساتھیوں نے بھی۔ باقی جو اور سردار تھے وہ ایمان لانے کیلئے تیار تھے مگر ذواب بن عمرو بن لبید نے اور حباب نے جو بتوں کا مجاور تھا اور رباب بن صمعر بن جلھس وغیرہ نے انہیں روک دیا۔ جندع کا بھتیجا شہاب نامی، یہ ثمودیوں کا بڑا عالم فاضل اور شریف شخص تھا۔ اس نے بھی ایمان لانے کا ارادہ کر لیا۔ انہی بدبختوں نے اسے بھی روکا جس پر ایک مومن ثمودی مہوش بن عثمہ نے کہا کہ آل عمرو نے شہاب کو دین حق کی دعوت دی۔ قریب تھا کہ وہ مشرف بہ اسلام ہو جائے اور اگر ہو جاتا تو اس کی عزت سو اور ہو جاتی مگر بدبختوں نے اسے روک دیا اور نیکی سے ہٹا کر بدی پر لگا دیا۔ اس حاملہ اونٹنی کو اس وقت بچہ ہوا۔ ایک مدت تک دونوں ان میں رہے۔ ایک دن اونٹنی ان کا پانی پیتی، اس دن اس قدر دودھ دیتی کہ یہ لوگ اپنے سب برتن بھر لیتے۔ دوسرے دن نی پیتی اور ثمودیوں کے اور جانور پی لیتے۔جیسے قرآن میں ہے آیت «وَنَبِّئْهُمْ اَنَّ الْمَاءَ قِسْمَةٌ بَيْنَهُمْ كُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ» ۱؎ [54-القمر:28] ‏‏‏‏ اور آیت میں ہے «قَالَ هٰذِهٖ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَّلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ» ۱؎ [26-الشعراء:155] ‏‏‏‏ ’ یہ ہے اونٹنی، اس کے اور تمہارے پانی پینے کے دن تقسیم شدہ اور مقررہ ہیں۔ ‘ یہ اونٹنی ثمودیوں کی بستی حجر کے اردگرد چرتی چگتی تھی۔ ایک راہ جاتی، دوسری راہ آتی۔ یہ بہت ہی موٹی تازی اور ہیبت والی اونٹنی تھی۔ جس راہ سے گزرتی سب جانور ادھر ادھر ہو جاتے۔ کچھ زمانہ گزرنے کے بعد ان اوباشوں نے ارادہ کیا کہ اس کو مار ڈالیں تاکہ ہر دن ان کے جانور برابر پانی پی سکیں۔ ان اوباشوں کے ارادوں پر سب نے اتفاق کیا۔ یہاں تک کہ عورتوں اور بچوں نے بھی ان کی ہاں میں ہاں ملائی اور انہیں شہ دی کہ ہاں اس پاپ کو کاٹ دو۔ اس اونٹنی کو مار ڈالو۔

چنانچہ قرآن کریم میں ہے «فَكَذَّبُوْهُ فَعَقَرُوْهَا ١ فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُمْ بِذَنْبِهِمْ فَسَوّٰىهَا» ۱؎ [91-الشمس:14] ‏‏‏‏ ’ قوم صالح نے اپنے نبی کو جھٹلایا اور اونٹنی کی کوچیں کاٹ کر اسے مار ڈالا تو ان کے پروردگار نے ان کے گناہوں کے بدلے ان پر ہلاکت نازل فرمائی اور ان سب کو یکساں کر دیا۔ ‘ اور آیت میں ہے کہ ہم نے ثمودیوں کو اونٹنی دی جو ان کے لیے پوری سمجھ بوجھ کی چیز تھی لیکن انہوں نے اس پر ظلم کیا یہاں بھی فرمایا کہ انہوں نے اس اونٹنی کو مار ڈالا۔ پس اس فعل کی اسناد سارے ہی قبیلے کی طرف ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ چھوٹے بڑے سب اس امر پر متفق تھے۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ وغیرہ کا فرمان ہے کہ اس کے قتل کی وجہ یہ ہوئی کہ عنیزہ بنت مجلز جو ایک بڑھیا کافرہ تھی اور صالح علیہ السلام سے بڑی دشمنی رکھتی تھی، اس کی لڑکیاں بہت خوبصورت تھیں اور تھی بھی یہ عورت مالدار۔ اس کے خاوند کا نام ذواب بن عمرو تھا جو ثمودیوں کا ایک سردار تھا یہ بھی کافر تھا۔ اسی طرح ایک اور عورت تھی جس کا نام صدوف بنت محیا بن مختار تھا۔ یہ بھی حسن کے علاوہ مال اور حسب نسب میں بڑھی ہوئی تھی، اس کے خاوند مسلمان ہو گئے تھے رضی اللہ عنہ۔ اس سرکش عورت نے ان کو چھوڑ دیا۔ اب یہ دونوں عورتیں لوگوں کو اکساتی تھیں کہ کوئی آمادہ ہو جائے اور صالح علیہ السلام کی اونٹنی کو قتل کر دے۔ صدوف نامی عورت نے ایک شخص حباب کو بلایا اور اس سے کہا کہ میں تیرے گھر آ جاؤں گی، اگر تو اس اونٹنی کو قتل کر دے لیکن اس نے انکار کر دیا۔ اس پر اس نے مصدع بن مہرج بن محیاء کو بلایا جو اس کے چچا کا لڑکا تھا اور اسے بھی اسی بات پر آمادہ کیا۔ یہ خبیث اس کے حسن و جمال کا مفتون تھا، اس برائی پر آمادہ ہو گیا۔ ادھر عنیزہ نے قدار بن سالف بن جذع کو بلا کر اس سے کہا کہ میری ان خوبصورت نوجوان لڑکیوں میں سے جسے تو پسند کرے، اسے میں تجھے دے دوں گی، اسی شرط پر کہ تو اس اونٹنی کی کوچیں کاٹ ڈال۔ یہ خبیث بھی آمادہ ہو گیا۔ یہ تھا بھی زناکاری کا بچہ، سالف کی اولاد میں نہ تھا۔ صھیاد نامی ایک شخص سے اس کی بدکار ماں نے زناکاری کی تھی، اسی سے یہ پیدا ہوا تھا۔ اب دونوں چلے اور اہل ثمود اور دوسرے شریروں کو بھی اس پر آمادہ کیا۔ چنانچہ سات شخص اور بھی اس پر آمادہ ہو گئے اور یہ نو فسادی شخص اس بد ارادے پر تل گئے۔ جیسے قرآن کریم میں ہے «وَكَانَ فِي الْمَدِيْنَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ يُّفْسِدُوْنَ فِي الْاَرْضِ وَلَا يُصْلِحُوْنَ» ۱؎ [27-النمل:49-50] ‏‏‏‏ اس شہر میں نو شخص تھے جن میں اصلاح کا مادہ ہی نہ تھا، سراسر فسادی ہی تھے۔ چونکہ یہ لوگ قوم کے سردار تھے۔ ان کے کہنے سننے سے تمام کفار بھی اس پر راضی ہو گئے اور اونٹنی کے واپس آنے کے راستے میں یہ دونوں شریر اپنی اپنی کمین گاہوں میں بیٹھ گئے۔ جب اونٹنی نکلی تو پہلے مصدع نے اسے تیر مارا جو اس کی ران کی ہڈی میں پیوست ہو گیا۔ اسی وقت عنیزہ نے اپنی خوبصورت لڑکی کو کھلے منہ قدار کے پاس بھیجا۔ اس نے کہا: قدار کیا دیکھتے ہو؟ اٹھو اور اس کا کام تمام کر دو۔ یہ اس کا منہ دیکھتے ہی دوڑا اور اس کے دونوں پچھلے پاؤں کاٹ دیئے۔ اونٹنی چکرا کر گری اور ایک آواز نکالی جس سے اس کا بچہ ہوشیار ہو گیا اور اس راستے کو چھوڑ کر پہاڑی پر چلا گیا۔ یہاں قدار نے اونٹنی کا گلا کاٹ دیا اور وہ مر گئی۔ اس کا بچہ پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ کر تین مربتہ بلبلایا۔

حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس نے اللہ کے سامنے اپنی ماں کے قتل کی فریاد کی۔ پھر جس چٹان سے نکلا تھا، اسی میں سما گیا۔ یہ روایت بھی ہے کہ اسے بھی اس کی ماں کے ساتھ ہی ذبح کر دیا گیا تھا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ صالح علیہ السلام کو جب یہ خبر پہنچی تو آپ گھبرائے ہوئے موقعہ پر پہنچے۔ دیکھا کہ اونٹنی بےجان پڑی ہے۔ آپ کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے اور فرمایا بس اب تین دن میں تم ہلاک کر دیئے جاؤ گے، ہوا بھی یہی۔ بدھ کے دن ان لوگوں نے اونٹنی کو قتل کیا تھا اور چونکہ کوئی عذاب نہ آیا۔ اس لیے اترا گئے اور ان مفسدوں نے ارادہ کر لیا کہ آج شام کو صالح علیہ السلام کو بھی مار ڈالو۔ اگر واقعی ہم ہلاک ہونے والے ہی ہیں تو پھر یہ کیوں بچا رہے؟ اگر ہم پر عذاب نہیں آتا تو بھی آؤ، روز روز کے اس جھنجھٹ سے پاک ہو جائیں۔

چنانچہ قرآن کریم کا بیان ہے کہ ان لوگوں نے مل کر مشورہ کیا اور پھر قسمیں کھا کر اقرار کیا کہ رات کو صالح کے گھر پر چھاپہ مارو اور اسے اور اس کے گھرانے کو تہہ تیغ کرو اور صاف انکار کر دو کہ ہمیں کیا خبر کہ کس نے مارا؟ اللہ تعالیٰ فرماتے ہے: ان کے اس مکر کے مقابل ہم نے بھی مکر کیا اور یہ ہمارے مکر سے بالکل بےخبر رہے۔ اب انجام دیکھ لو کہ کیا ہوا؟ رات کو یہ اپنی بد نیتی سے صالح علیہ السلام کے گھر کی طرف چلے۔ آپ کا گھر پہاڑ کی بلندی پر تھا۔ ابھی یہ اوپر چڑھ ہی رہے تھے جو اوپر سے ایک چٹان پتھر کی لڑھکتی ہوئی آئی اور سب کو ہی پیس ڈالا۔ ان کا تو یہ حشر ہوا۔ ادھر جمعرات کے دن تمام ثمودیوں کے چہرے زرد پڑ گئے۔ جمعہ کے دن ان کے چہرے آگ جیسے سرخ ہو گئے اور ہفتہ کے دن جو مہلت کا آخری دن تھا، ان کے منہ سیاہ ہو گئے۔ تین دن جب گزر گئے تو چوتھا دن اتوار صبح ہی صبح سورج کے روشن ہوتے ہی اوپر آسمان سے سخت کڑاکا ہوا جس کی ہولناک، دہشت انگیز چنگھاڑ نے ان کے کلیجے پھاڑ دیئے، ساتھ ہی نیچے سے زبردست زلزلہ آیا۔ ایک ہی ساعت میں ایک ساتھ ہی ان سب کا ڈھیر ہو گیا۔ مردوں سے مکانات، بازار، گلی، کوچے بھر گئے۔ مرد، عورت، بچے، بوڑھے اول سے آخر تک سارے کے سارے تباہ ہو گئے۔ شان رب دیکھئیے کہ اس واقعہ کی خبر دنیا کو پہنچانے کے لیے ایک کافرہ عورت بچا دی گئی۔ یہ بھی بڑی خبیثہ تھی، صالح علیہ السلام کی عداوت کی آگ سے بھری ہوئی تھی، اس کی دونوں ٹانگیں نہیں تھیں لیکن ادھر عذاب آیا، ادھر اس کے پاؤں کھل گئے، اپنی بستی سے سرپٹ بھاگی اور تیز دوڑتی ہوئی دوسرے شہر میں پہنچی اور وہاں جا کر ان سب کے سامنے سارا واقعہ بیان کر ہی چکنے کے بعد ان سے پانی مانگا۔ ابھی پوری پیاس بھی بجھی نہ تھی کہ عذاب الٰہی آ پڑا اور وہیں ڈھیر ہو کر رہ گئی۔ ہاں ابورغال نامی ایک شخص اور بچ گیا تھا۔ یہ یہاں نہ تھا حرم کی پاک زمین میں تھا لیکن کچھ دنوں کے بعد جب یہ اپنے کسی کام کی غرض سے حد حرم سے باہر آیا، اسی وقت آسمان سے پتھر آیا اور اسے بھی جہنم واصل کیا۔ ثمودیوں میں سے سوائے صالح علیہ السلام اور ان کے مومن صحابہ رضی اللہ عنہم کے اور کوئی بھی نہ بچا۔ ابورغال کا واقعہ اس سے پہلے حدیث سے بیان ہو چکا ہے۔ قبیلہ ثقیف جو طائف میں ہے، مذکور ہے کہ یہ اسی نسل میں سے ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:14823/12:معضل ضعیف] ‏‏‏‏ عبدالرزاق میں ہے کہ اس کی قبر کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب گزرے تو فرمایا: جانتے ہو یہ کس کی قبر ہے؟ لوگوں نے جواب دیا کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ علم ہے۔ آپ نے فرمایا: یہ ابورغال کی قبر ہے۔ یہ ایک ثمودی شخص تھا، اپنی قوم کے عذاب کے وقت حرم میں تھا۔ اس وجہ سے عذاب الٰہی سے بچ رہا لیکن حرم شریف سے نکلا تو اسی وقت اپنی قوم کے عذاب سے یہ بھی ہلاک ہوا اور یہیں دفن کیا گیا اور اس کے ساتھ اس کی سونے کی لکڑی بھی دفنا دی گئی۔ چنانچہ لوگوں نے اس گڑھے کو کھود کر اس میں سے وہ لکڑی نکال لی۔

اور حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا تھا: ثقیف قبیلہ اسی کی اولاد ہے۔ ایک مرسل حدیث میں بھی یہ ذکر موجود ہے۔ یہ بھی ہے کہ آپ نے فرمایا تھا: { اس کے ساتھ سونے کی شاخ دفن کر دی گئی ہے۔ یہی نشان اس کی قبر کا ہے، اگر تم اسے کھودو تو وہ شاخ ضرور نکل آئے گی چنانچہ بعض لوگوں نے اسے کھودا اور وہ شاخ نکال لی۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:3088، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ ابوداؤد میں بھی یہ روایت ہے اور حسن عزیز ہے لیکن میں کہتا ہوں: اس حدیث کے وصل کا صرف ایک طریقہ بجیر بن ابی بحیر کا ہے اور یہ صرف اسی حدیث کے ساتھ معروف ہے۔ اور بقول امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ سوائے اسماعیل بن امیہ کے، اس سے اور کسی نے روایت نہیں کیا۔ احتمال ہے کہ کہیں اس حدیث کے مرفوع کرنے میں خطا نہ ہو۔ یہ عبداللہ بن عمرو ہی کا قول ہو اور پھر اس صورت میں یہ بھی ممکنات سے ہے کہ انہوں نے اسے ان دو دفتروں سے لے لیا ہو جو انہیں جنگ یرموک میں ملے تھے۔ میرے استاد شیخ ابوالحجاج رحمہ اللہ اس روایت کو پہلے تو حسن عزیز کہتے تھے لیکن جب میں نے ان کے سامنے یہ حجت پیش کی تو آپ نے فرمایا: بیشک ان امور کا اس میں احتمال ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
74۔ 1 اس کا مطلب ہے کہ نرم زمین سے مٹی لے لے کر اینٹیں تیار کرتے ہو اور اینٹوں سے محل، جیسے آج بھی بھٹوں پر اسی طرح مٹی سے اینٹیں تیار کی جاتی ہیں۔ 74۔ 2 یہ ان کی قوت، صلاحیت اور مہارت فن کا اظہار ہے۔ 74۔ 3 یعنی ان نعمتوں پر اللہ کا شکر کرو اور اس کی اطاعت کا راستہ اختیار کرو، نہ کہ کفران نعمت اور معصیت کا ارتکاب کرکے فساد پھیلاؤ۔
(آیت 74) ➊ { تَتَّخِذُوْنَ مِنْ سُهُوْلِهَا قُصُوْرًا ……:} یعنی ہموار علاقہ ہو تو اینٹوں سے عالی شان محل بنا لیتے ہو اور پہاڑ ہوں تو انھیں کھود اور تراش کر سردی، گرمی اور طوفان سے محفوظ مکان بنا لیتے ہو۔ ➋ {” اٰلَآءَ “} یہ {” اِلًي“} کی جمع ہے جو اصل میں {”اِلَيٌ “} تھا، جیسے{ اَمْعَاءٌ} (انتڑیاں) {”مِعًي“} کی جمع ہے۔ {” وَ لَا تَعْثَوْا “} یہ {”عَثِيَ يَعْثَي“} (س) سے نہی کا صیغہ ہے، اس کا معنی سخت فساد کرنا ہوتا ہے، {” مُفْسِدِيْنَ “} تاکید کے لیے حال ہے، اس لیے ترجمہ میں{ ” وَ لَا تَعْثَوْا “} کا معنی ”دنگا نہ مچاؤ “ اور {” مُفْسِدِيْنَ “} کا معنی ”فساد کرتے ہوئے “ کیا ہے۔
قَالَ الۡمَلَاُ الَّذِیۡنَ اسۡتَکۡبَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِہٖ لِلَّذِیۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا لِمَنۡ اٰمَنَ مِنۡہُمۡ اَتَعۡلَمُوۡنَ اَنَّ صٰلِحًا مُّرۡسَلٌ مِّنۡ رَّبِّہٖ ؕ قَالُوۡۤا اِنَّا بِمَاۤ اُرۡسِلَ بِہٖ مُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۷۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اُس کی قوم کے سرداروں نے جو بڑے بنے ہوئے تھے، کمزور طبقہ کے اُن لوگوں سے جو ایمان لے آئے تھے کہا "کیا تم واقعی یہ جانتے ہو کہ صالحؑ اپنے رب کا پیغمبر ہے؟" انہوں نے جواب دیا "بے شک جس پیغام کے ساتھ وہ بھیجا گیا ہے اُسے ہم مانتے ہیں"
مولانا محمد جوناگڑھی
ان کی قوم میں جو متکبر سردار تھے انہوں نے غریب لوگوں سے جو کہ ان میں سے ایمان لے آئے تھے پوچھا، کیا تم کواس بات کا یقین ہے کہ صالح (علیہ السلام) اپنے رب کی طرف سے بھیجے ہوئے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ بےشک ہم تو اس پر پورا یقین رکھتے ہیں جو ان کو دے کر بھیجا گیا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اس کی قوم کے تکبر والے کمزور مسلمانوں سے بولے کیا تم جانتے ہو کہ صالح اپنے رب کے رسول ہیں، بولے وہ جو کچھ لے کے بھیجے گئے ہم اس پر ایمان رکھتے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
قوم کے بڑے لوگوں نے جو متکبر تھے۔ ان کمزور لوگوں سے کہا جو ایمان لائے تھے۔ کیا تم جانتے ہو صالح واقعی اپنے پروردگار کی طرف سے بھیجے ہوئے (رسول) ہیں انہوں نے کہا بے شک ہم تو اس (پیغام) پر ایمان لائے جسے دے کر ان کو بھیجا گیا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اس کی قوم میں سے ان سرداروں نے جو بڑے بنے ہوئے تھے، ان لوگوں سے کہا جو کمزور گنے جاتے تھے، ان میں سے انھیں (کہا) جو ایمان لے آئے تھے، کیا تم جانتے ہو کہ صالح اپنے رب کی طرف سے بھیجا ہوا ہے؟ انھوں نے کہا بے شک ہم جو کچھ دے کر اسے بھیجا گیا ہے اس پر ایمان لانے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ثمود کی قوم اور اس کا عبرت ناک انجام ٭٭

علمائے نسب نے بیان کیا ہے کہ ثمود بن عامر بن ارم بن سام بن نوح , یہ بھائی تھا جدیس بن عامر کا۔ اسی طرح قبیلہ طسم یہ سب خالص عرب تھے۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام سے پہلے ثمودی عادیوں کے بعد ہوئے ہیں۔ ان کے شہر حجاز اور شام کے درمیان وادی القری اور اس کے اردگرد مشہور ہیں۔ سنہ ٩ھ میں تبوک جاتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی اجاڑ بستیوں میں سے گزرے تھے۔ مسند احمد میں ہے کہ { جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تبوک کے میدان میں اترے۔ لوگوں نے ثمودیوں کے گھروں کے پاس ڈیرے ڈالے اور انہی کے کنوؤں کے پانی سے آٹے گوندھے، ہانڈیاں چڑھائیں تو آپ نے حکم دیا کہ سب ہانڈیاں الٹ دی جائیں اور گندھے ہوئے آٹے اونٹوں کو کھلا دیئے جائیں۔ پھر فرمایا: یہاں سے کوچ کرو اور اس کنوئیں کے پاس ٹھہرو جس سے صالح علیہ السلام کی اونٹنی پانی پیتی تھی اور فرمایا: آئندہ عذاب والی بستیوں میں پڑاؤ نہ کیا کرو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اسی عذاب کے شکار تم بھی بن جاؤ۔ } ۱؎ [مسند احمد:117/2:صحیح] ‏‏‏‏

ایک روایت میں ہے کہ { ان کی بستیوں سے روتے اور ڈرتے ہوئے گزرو کہ مبادا وہی عذاب تم پر آ جائیں جو ان پر آئے تھے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4420] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے: { غزوہ تبوک میں لوگ بہ عجلت ہجر کے لوگوں کے گھروں کی طرف لپکے۔ آپ نے اسی وقت یہ آواز بلند کرنے کا کہا: «اَلصَلٰوۃُ جَامِعةٌ» جب لوگ جمع ہو گئے تو آپ نے فرمایا کہ ان لوگوں کے گھروں میں کیوں گھسے جا رہے ہو جن پر غضب الٰہی نازل ہوا۔ راوی حدیث ابوکبشہ انماری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک نیزہ تھا۔ میں نے یہ سن کر عرض کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم تو صرف تعجب کے طور پر انہیں دیکھنے چلے گئے تھے۔ آپ نے فرمایا: میں تمہیں اس سے بھی تعجب خیز چیز بتا رہا ہوں۔ تم میں سے ہی ایک شخص ہے جو تمہیں وہ چیز بتا رہا ہے جو گزر چکیں اور وہ خبریں دے رہا ہے جو تمہارے سامنے ہیں اور جو تمہارے بعد ہونے والی ہیں۔ پس تم ٹھیک ٹھاک رہو اور سیدھے چلے جاؤ۔ تمہیں عذاب کرتے ہوئے بھی اللہ تعالیٰ کو کوئی پرواہ نہیں۔ یاد رکھو! ایسے لوگ آئیں گے جو اپنی جانوں سے کسی چیز کو دفع نہ کر سکیں گے۔ } ۱؎ [مسند احمد:231/4:حسن] ‏‏‏‏ سیدنا ابوکبشہ رضی اللہ عنہ کا نام عمر بن سعد ہے اور کہا گیا ہے کہ عامر بن سعد ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ ایک روایت میں ہے کہ { ہجر کی بستی کے پاس آتے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معجزے نہ طلب کرو۔ دیکھو! قوم صالح نے معجزہ طلب کیا جو ظاہر ہوا یعنی اونٹنی جو اس راستے سے آتی تھی اور اس راستے سے جاتی تھی لیکن ان لوگوں نے اپنے رب کے حکم سے سرتابی کی اور اونٹنی کی کوچیں کاٹ دیں۔ ایک دن اونٹنی ان کا پانی پیتی تھی اور ایک دن یہ سب اس کا دودھ پیتے تھے۔ اس اونٹنی کو مار ڈالنے پر ان پر ایک چیخ آئی اور یہ جتنے بھی تھے، سب کے سب ڈھیر ہو گئے۔ بجز اس ایک شخص کے جو حرم شریف میں تھا۔ لوگوں نے پوچھا: اس کا نام کیا تھا؟ فرمایا: ابورغال، یہ بھی جب حد حرم سے باہر آیا تو اسے بھی وہی عذاب ہوا۔ } ۱؎ [مسند احمد:296/3:حسن] ‏‏‏‏ یہ حدیث صحاح ستہ میں تو نہیں لیکن ہے مسلم شریف کی شرط پر۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ ثمودی قبیلے کی طرف سے ان کے بھائی صالح علیہ السلام کو نبی بنا کر بھیجا گیا۔ تمام نبیوں کی طرح آپ نے بھی اپنی امت کو سب سے پہلے توحید الٰہی سکھائی کہ فقط اس کی عبادت کریں۔ اس کے سوا اور کوئی لائق عبادت نہیں۔ اللہ کا فرمان ہے: جتنے بھی رسول آئے سب کی طرف یہی وحی کی جاتی رہی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، صرف میری ہی عبادت کرو۔ اور ارشاد ہے: ہم نے ہر امت میں رسول بھیجے کہ اللہ ہی کی عبادت کرو اور اس کے سوا اوروں کی عبادت سے بچو۔

صالح علیہ السلام فرماتے ہیں: لوگو! تمہارے پاس دلیل الٰہی آ چکی جس میں میری سچائی ظاہر ہے۔ ان لوگوں نے صالح علیہ السلام سے معجزہ طلب کیا تھا کہ ایک سنگلاخ چٹان جو ان کی بستی کے ایک کنارے پڑی تھی جس کا نام کاتبہ تھا، اس سے آپ ایک اونٹنی نکالیں جو گابھن ہو (‏‏‏‏دودھ دینے والی اونٹنی جو دس ماہ کی حاملہ ہو) صالح علیہ السلام نے ان سے فرمایا کہ اگر ایسا ہو جائے تو تم ایمان قبول کر لو گے؟ انہوں نے پختہ وعدے کئے اور مضبوط عہد و پیمان کئے۔ صالح علیہ السلام نے نماز پڑھی، دعا کی۔ ان سب کے دیکھتے ہی چٹان نے ہلنا شروع کیا اور چٹخ گئی۔ اس کے پیچھے سے ایک اونٹنی نمودار ہوئی۔ اسے دیکھتے ہی ان کے سردار جندع بن عمرو نے تو اسلام قبول کر لیا اور اس کے ساتھیوں نے بھی۔ باقی جو اور سردار تھے وہ ایمان لانے کیلئے تیار تھے مگر ذواب بن عمرو بن لبید نے اور حباب نے جو بتوں کا مجاور تھا اور رباب بن صمعر بن جلھس وغیرہ نے انہیں روک دیا۔ جندع کا بھتیجا شہاب نامی، یہ ثمودیوں کا بڑا عالم فاضل اور شریف شخص تھا۔ اس نے بھی ایمان لانے کا ارادہ کر لیا۔ انہی بدبختوں نے اسے بھی روکا جس پر ایک مومن ثمودی مہوش بن عثمہ نے کہا کہ آل عمرو نے شہاب کو دین حق کی دعوت دی۔ قریب تھا کہ وہ مشرف بہ اسلام ہو جائے اور اگر ہو جاتا تو اس کی عزت سو اور ہو جاتی مگر بدبختوں نے اسے روک دیا اور نیکی سے ہٹا کر بدی پر لگا دیا۔ اس حاملہ اونٹنی کو اس وقت بچہ ہوا۔ ایک مدت تک دونوں ان میں رہے۔ ایک دن اونٹنی ان کا پانی پیتی، اس دن اس قدر دودھ دیتی کہ یہ لوگ اپنے سب برتن بھر لیتے۔ دوسرے دن نی پیتی اور ثمودیوں کے اور جانور پی لیتے۔جیسے قرآن میں ہے آیت «وَنَبِّئْهُمْ اَنَّ الْمَاءَ قِسْمَةٌ بَيْنَهُمْ كُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ» ۱؎ [54-القمر:28] ‏‏‏‏ اور آیت میں ہے «قَالَ هٰذِهٖ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَّلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ» ۱؎ [26-الشعراء:155] ‏‏‏‏ ’ یہ ہے اونٹنی، اس کے اور تمہارے پانی پینے کے دن تقسیم شدہ اور مقررہ ہیں۔ ‘ یہ اونٹنی ثمودیوں کی بستی حجر کے اردگرد چرتی چگتی تھی۔ ایک راہ جاتی، دوسری راہ آتی۔ یہ بہت ہی موٹی تازی اور ہیبت والی اونٹنی تھی۔ جس راہ سے گزرتی سب جانور ادھر ادھر ہو جاتے۔ کچھ زمانہ گزرنے کے بعد ان اوباشوں نے ارادہ کیا کہ اس کو مار ڈالیں تاکہ ہر دن ان کے جانور برابر پانی پی سکیں۔ ان اوباشوں کے ارادوں پر سب نے اتفاق کیا۔ یہاں تک کہ عورتوں اور بچوں نے بھی ان کی ہاں میں ہاں ملائی اور انہیں شہ دی کہ ہاں اس پاپ کو کاٹ دو۔ اس اونٹنی کو مار ڈالو۔

چنانچہ قرآن کریم میں ہے «فَكَذَّبُوْهُ فَعَقَرُوْهَا ١ فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُمْ بِذَنْبِهِمْ فَسَوّٰىهَا» ۱؎ [91-الشمس:14] ‏‏‏‏ ’ قوم صالح نے اپنے نبی کو جھٹلایا اور اونٹنی کی کوچیں کاٹ کر اسے مار ڈالا تو ان کے پروردگار نے ان کے گناہوں کے بدلے ان پر ہلاکت نازل فرمائی اور ان سب کو یکساں کر دیا۔ ‘ اور آیت میں ہے کہ ہم نے ثمودیوں کو اونٹنی دی جو ان کے لیے پوری سمجھ بوجھ کی چیز تھی لیکن انہوں نے اس پر ظلم کیا یہاں بھی فرمایا کہ انہوں نے اس اونٹنی کو مار ڈالا۔ پس اس فعل کی اسناد سارے ہی قبیلے کی طرف ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ چھوٹے بڑے سب اس امر پر متفق تھے۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ وغیرہ کا فرمان ہے کہ اس کے قتل کی وجہ یہ ہوئی کہ عنیزہ بنت مجلز جو ایک بڑھیا کافرہ تھی اور صالح علیہ السلام سے بڑی دشمنی رکھتی تھی، اس کی لڑکیاں بہت خوبصورت تھیں اور تھی بھی یہ عورت مالدار۔ اس کے خاوند کا نام ذواب بن عمرو تھا جو ثمودیوں کا ایک سردار تھا یہ بھی کافر تھا۔ اسی طرح ایک اور عورت تھی جس کا نام صدوف بنت محیا بن مختار تھا۔ یہ بھی حسن کے علاوہ مال اور حسب نسب میں بڑھی ہوئی تھی، اس کے خاوند مسلمان ہو گئے تھے رضی اللہ عنہ۔ اس سرکش عورت نے ان کو چھوڑ دیا۔ اب یہ دونوں عورتیں لوگوں کو اکساتی تھیں کہ کوئی آمادہ ہو جائے اور صالح علیہ السلام کی اونٹنی کو قتل کر دے۔ صدوف نامی عورت نے ایک شخص حباب کو بلایا اور اس سے کہا کہ میں تیرے گھر آ جاؤں گی، اگر تو اس اونٹنی کو قتل کر دے لیکن اس نے انکار کر دیا۔ اس پر اس نے مصدع بن مہرج بن محیاء کو بلایا جو اس کے چچا کا لڑکا تھا اور اسے بھی اسی بات پر آمادہ کیا۔ یہ خبیث اس کے حسن و جمال کا مفتون تھا، اس برائی پر آمادہ ہو گیا۔ ادھر عنیزہ نے قدار بن سالف بن جذع کو بلا کر اس سے کہا کہ میری ان خوبصورت نوجوان لڑکیوں میں سے جسے تو پسند کرے، اسے میں تجھے دے دوں گی، اسی شرط پر کہ تو اس اونٹنی کی کوچیں کاٹ ڈال۔ یہ خبیث بھی آمادہ ہو گیا۔ یہ تھا بھی زناکاری کا بچہ، سالف کی اولاد میں نہ تھا۔ صھیاد نامی ایک شخص سے اس کی بدکار ماں نے زناکاری کی تھی، اسی سے یہ پیدا ہوا تھا۔ اب دونوں چلے اور اہل ثمود اور دوسرے شریروں کو بھی اس پر آمادہ کیا۔ چنانچہ سات شخص اور بھی اس پر آمادہ ہو گئے اور یہ نو فسادی شخص اس بد ارادے پر تل گئے۔ جیسے قرآن کریم میں ہے «وَكَانَ فِي الْمَدِيْنَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ يُّفْسِدُوْنَ فِي الْاَرْضِ وَلَا يُصْلِحُوْنَ» ۱؎ [27-النمل:49-50] ‏‏‏‏ اس شہر میں نو شخص تھے جن میں اصلاح کا مادہ ہی نہ تھا، سراسر فسادی ہی تھے۔ چونکہ یہ لوگ قوم کے سردار تھے۔ ان کے کہنے سننے سے تمام کفار بھی اس پر راضی ہو گئے اور اونٹنی کے واپس آنے کے راستے میں یہ دونوں شریر اپنی اپنی کمین گاہوں میں بیٹھ گئے۔ جب اونٹنی نکلی تو پہلے مصدع نے اسے تیر مارا جو اس کی ران کی ہڈی میں پیوست ہو گیا۔ اسی وقت عنیزہ نے اپنی خوبصورت لڑکی کو کھلے منہ قدار کے پاس بھیجا۔ اس نے کہا: قدار کیا دیکھتے ہو؟ اٹھو اور اس کا کام تمام کر دو۔ یہ اس کا منہ دیکھتے ہی دوڑا اور اس کے دونوں پچھلے پاؤں کاٹ دیئے۔ اونٹنی چکرا کر گری اور ایک آواز نکالی جس سے اس کا بچہ ہوشیار ہو گیا اور اس راستے کو چھوڑ کر پہاڑی پر چلا گیا۔ یہاں قدار نے اونٹنی کا گلا کاٹ دیا اور وہ مر گئی۔ اس کا بچہ پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ کر تین مربتہ بلبلایا۔

حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس نے اللہ کے سامنے اپنی ماں کے قتل کی فریاد کی۔ پھر جس چٹان سے نکلا تھا، اسی میں سما گیا۔ یہ روایت بھی ہے کہ اسے بھی اس کی ماں کے ساتھ ہی ذبح کر دیا گیا تھا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ صالح علیہ السلام کو جب یہ خبر پہنچی تو آپ گھبرائے ہوئے موقعہ پر پہنچے۔ دیکھا کہ اونٹنی بےجان پڑی ہے۔ آپ کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے اور فرمایا بس اب تین دن میں تم ہلاک کر دیئے جاؤ گے، ہوا بھی یہی۔ بدھ کے دن ان لوگوں نے اونٹنی کو قتل کیا تھا اور چونکہ کوئی عذاب نہ آیا۔ اس لیے اترا گئے اور ان مفسدوں نے ارادہ کر لیا کہ آج شام کو صالح علیہ السلام کو بھی مار ڈالو۔ اگر واقعی ہم ہلاک ہونے والے ہی ہیں تو پھر یہ کیوں بچا رہے؟ اگر ہم پر عذاب نہیں آتا تو بھی آؤ، روز روز کے اس جھنجھٹ سے پاک ہو جائیں۔

چنانچہ قرآن کریم کا بیان ہے کہ ان لوگوں نے مل کر مشورہ کیا اور پھر قسمیں کھا کر اقرار کیا کہ رات کو صالح کے گھر پر چھاپہ مارو اور اسے اور اس کے گھرانے کو تہہ تیغ کرو اور صاف انکار کر دو کہ ہمیں کیا خبر کہ کس نے مارا؟ اللہ تعالیٰ فرماتے ہے: ان کے اس مکر کے مقابل ہم نے بھی مکر کیا اور یہ ہمارے مکر سے بالکل بےخبر رہے۔ اب انجام دیکھ لو کہ کیا ہوا؟ رات کو یہ اپنی بد نیتی سے صالح علیہ السلام کے گھر کی طرف چلے۔ آپ کا گھر پہاڑ کی بلندی پر تھا۔ ابھی یہ اوپر چڑھ ہی رہے تھے جو اوپر سے ایک چٹان پتھر کی لڑھکتی ہوئی آئی اور سب کو ہی پیس ڈالا۔ ان کا تو یہ حشر ہوا۔ ادھر جمعرات کے دن تمام ثمودیوں کے چہرے زرد پڑ گئے۔ جمعہ کے دن ان کے چہرے آگ جیسے سرخ ہو گئے اور ہفتہ کے دن جو مہلت کا آخری دن تھا، ان کے منہ سیاہ ہو گئے۔ تین دن جب گزر گئے تو چوتھا دن اتوار صبح ہی صبح سورج کے روشن ہوتے ہی اوپر آسمان سے سخت کڑاکا ہوا جس کی ہولناک، دہشت انگیز چنگھاڑ نے ان کے کلیجے پھاڑ دیئے، ساتھ ہی نیچے سے زبردست زلزلہ آیا۔ ایک ہی ساعت میں ایک ساتھ ہی ان سب کا ڈھیر ہو گیا۔ مردوں سے مکانات، بازار، گلی، کوچے بھر گئے۔ مرد، عورت، بچے، بوڑھے اول سے آخر تک سارے کے سارے تباہ ہو گئے۔ شان رب دیکھئیے کہ اس واقعہ کی خبر دنیا کو پہنچانے کے لیے ایک کافرہ عورت بچا دی گئی۔ یہ بھی بڑی خبیثہ تھی، صالح علیہ السلام کی عداوت کی آگ سے بھری ہوئی تھی، اس کی دونوں ٹانگیں نہیں تھیں لیکن ادھر عذاب آیا، ادھر اس کے پاؤں کھل گئے، اپنی بستی سے سرپٹ بھاگی اور تیز دوڑتی ہوئی دوسرے شہر میں پہنچی اور وہاں جا کر ان سب کے سامنے سارا واقعہ بیان کر ہی چکنے کے بعد ان سے پانی مانگا۔ ابھی پوری پیاس بھی بجھی نہ تھی کہ عذاب الٰہی آ پڑا اور وہیں ڈھیر ہو کر رہ گئی۔ ہاں ابورغال نامی ایک شخص اور بچ گیا تھا۔ یہ یہاں نہ تھا حرم کی پاک زمین میں تھا لیکن کچھ دنوں کے بعد جب یہ اپنے کسی کام کی غرض سے حد حرم سے باہر آیا، اسی وقت آسمان سے پتھر آیا اور اسے بھی جہنم واصل کیا۔ ثمودیوں میں سے سوائے صالح علیہ السلام اور ان کے مومن صحابہ رضی اللہ عنہم کے اور کوئی بھی نہ بچا۔ ابورغال کا واقعہ اس سے پہلے حدیث سے بیان ہو چکا ہے۔ قبیلہ ثقیف جو طائف میں ہے، مذکور ہے کہ یہ اسی نسل میں سے ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:14823/12:معضل ضعیف] ‏‏‏‏ عبدالرزاق میں ہے کہ اس کی قبر کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب گزرے تو فرمایا: جانتے ہو یہ کس کی قبر ہے؟ لوگوں نے جواب دیا کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ علم ہے۔ آپ نے فرمایا: یہ ابورغال کی قبر ہے۔ یہ ایک ثمودی شخص تھا، اپنی قوم کے عذاب کے وقت حرم میں تھا۔ اس وجہ سے عذاب الٰہی سے بچ رہا لیکن حرم شریف سے نکلا تو اسی وقت اپنی قوم کے عذاب سے یہ بھی ہلاک ہوا اور یہیں دفن کیا گیا اور اس کے ساتھ اس کی سونے کی لکڑی بھی دفنا دی گئی۔ چنانچہ لوگوں نے اس گڑھے کو کھود کر اس میں سے وہ لکڑی نکال لی۔

اور حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا تھا: ثقیف قبیلہ اسی کی اولاد ہے۔ ایک مرسل حدیث میں بھی یہ ذکر موجود ہے۔ یہ بھی ہے کہ آپ نے فرمایا تھا: { اس کے ساتھ سونے کی شاخ دفن کر دی گئی ہے۔ یہی نشان اس کی قبر کا ہے، اگر تم اسے کھودو تو وہ شاخ ضرور نکل آئے گی چنانچہ بعض لوگوں نے اسے کھودا اور وہ شاخ نکال لی۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:3088، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ ابوداؤد میں بھی یہ روایت ہے اور حسن عزیز ہے لیکن میں کہتا ہوں: اس حدیث کے وصل کا صرف ایک طریقہ بجیر بن ابی بحیر کا ہے اور یہ صرف اسی حدیث کے ساتھ معروف ہے۔ اور بقول امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ سوائے اسماعیل بن امیہ کے، اس سے اور کسی نے روایت نہیں کیا۔ احتمال ہے کہ کہیں اس حدیث کے مرفوع کرنے میں خطا نہ ہو۔ یہ عبداللہ بن عمرو ہی کا قول ہو اور پھر اس صورت میں یہ بھی ممکنات سے ہے کہ انہوں نے اسے ان دو دفتروں سے لے لیا ہو جو انہیں جنگ یرموک میں ملے تھے۔ میرے استاد شیخ ابوالحجاج رحمہ اللہ اس روایت کو پہلے تو حسن عزیز کہتے تھے لیکن جب میں نے ان کے سامنے یہ حجت پیش کی تو آپ نے فرمایا: بیشک ان امور کا اس میں احتمال ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
75۔ 1 یعنی جو دعوت توحید وہ لے کر آئے ہیں، وہ چونکہ فطرت کی آواز ہے، ہم تو اس پر ایمان لے آئے ہیں، باقی رہی یہ بات کہ صالح واقعی اللہ کے رسول ہیں؟ جو ان کا سوال تھا اس سے ان اہل ایمان نے مزاحمت ہی نہیں کی کیونکہ ان کے رسول من اللہ ہونے کو وہ بحث کے قابل ہی نہیں سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک ان کی رسالت ایک مسلمہ حقیقت و صداقت تھی۔ جیسا کہ فی الواقع تھی۔
(آیت 75) ➊ { اَتَعْلَمُوْنَ اَنَّ صٰلِحًا مُّرْسَلٌ مِّنْ رَّبِّهٖ:} ان کا یہ پوچھنا اپنے تکبر کے اظہار اور طنز کے لیے تھا۔ ➋ { اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلَ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ:} یعنی ہمیں نہ صرف ان کے رسول ہونے پر یقین ہے، بلکہ ان کے دیے ہوئے ایک ایک حکم کے صحیح ہونے پر بھی یقین ہے۔
قَالَ الَّذِیۡنَ اسۡتَکۡبَرُوۡۤا اِنَّا بِالَّذِیۡۤ اٰمَنۡتُمۡ بِہٖ کٰفِرُوۡنَ ﴿۷۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اُن برائی کے مدعیوں نے کہا جس چیز کو تم نے مانا ہے ہم اس کے منکر ہیں"
مولانا محمد جوناگڑھی
وه متکبر لوگ کہنے لگے کہ تم جس بات پر یقین ﻻئے ہوئے ہو، ہم تو اس کے منکر ہیں
احمد رضا خان بریلوی
متکبر بولے جس پر تم ایمان لائے ہمیں اس سے انکار ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
(یہ سن کر) متکبر مزاج بڑے کہنے لگے کہ جس چیز پر تم ایمان لائے ہو ہم اس کے کافر و منکر ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
وہ لوگ جو بڑے بنے ہوئے تھے، انھوں نے کہا بے شک ہم جس پر تم ایمان لائے ہو، اس کے منکر ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ثمود کی قوم اور اس کا عبرت ناک انجام ٭٭

علمائے نسب نے بیان کیا ہے کہ ثمود بن عامر بن ارم بن سام بن نوح , یہ بھائی تھا جدیس بن عامر کا۔ اسی طرح قبیلہ طسم یہ سب خالص عرب تھے۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام سے پہلے ثمودی عادیوں کے بعد ہوئے ہیں۔ ان کے شہر حجاز اور شام کے درمیان وادی القری اور اس کے اردگرد مشہور ہیں۔ سنہ ٩ھ میں تبوک جاتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی اجاڑ بستیوں میں سے گزرے تھے۔ مسند احمد میں ہے کہ { جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تبوک کے میدان میں اترے۔ لوگوں نے ثمودیوں کے گھروں کے پاس ڈیرے ڈالے اور انہی کے کنوؤں کے پانی سے آٹے گوندھے، ہانڈیاں چڑھائیں تو آپ نے حکم دیا کہ سب ہانڈیاں الٹ دی جائیں اور گندھے ہوئے آٹے اونٹوں کو کھلا دیئے جائیں۔ پھر فرمایا: یہاں سے کوچ کرو اور اس کنوئیں کے پاس ٹھہرو جس سے صالح علیہ السلام کی اونٹنی پانی پیتی تھی اور فرمایا: آئندہ عذاب والی بستیوں میں پڑاؤ نہ کیا کرو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اسی عذاب کے شکار تم بھی بن جاؤ۔ } ۱؎ [مسند احمد:117/2:صحیح] ‏‏‏‏

ایک روایت میں ہے کہ { ان کی بستیوں سے روتے اور ڈرتے ہوئے گزرو کہ مبادا وہی عذاب تم پر آ جائیں جو ان پر آئے تھے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4420] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے: { غزوہ تبوک میں لوگ بہ عجلت ہجر کے لوگوں کے گھروں کی طرف لپکے۔ آپ نے اسی وقت یہ آواز بلند کرنے کا کہا: «اَلصَلٰوۃُ جَامِعةٌ» جب لوگ جمع ہو گئے تو آپ نے فرمایا کہ ان لوگوں کے گھروں میں کیوں گھسے جا رہے ہو جن پر غضب الٰہی نازل ہوا۔ راوی حدیث ابوکبشہ انماری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک نیزہ تھا۔ میں نے یہ سن کر عرض کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم تو صرف تعجب کے طور پر انہیں دیکھنے چلے گئے تھے۔ آپ نے فرمایا: میں تمہیں اس سے بھی تعجب خیز چیز بتا رہا ہوں۔ تم میں سے ہی ایک شخص ہے جو تمہیں وہ چیز بتا رہا ہے جو گزر چکیں اور وہ خبریں دے رہا ہے جو تمہارے سامنے ہیں اور جو تمہارے بعد ہونے والی ہیں۔ پس تم ٹھیک ٹھاک رہو اور سیدھے چلے جاؤ۔ تمہیں عذاب کرتے ہوئے بھی اللہ تعالیٰ کو کوئی پرواہ نہیں۔ یاد رکھو! ایسے لوگ آئیں گے جو اپنی جانوں سے کسی چیز کو دفع نہ کر سکیں گے۔ } ۱؎ [مسند احمد:231/4:حسن] ‏‏‏‏ سیدنا ابوکبشہ رضی اللہ عنہ کا نام عمر بن سعد ہے اور کہا گیا ہے کہ عامر بن سعد ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ ایک روایت میں ہے کہ { ہجر کی بستی کے پاس آتے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معجزے نہ طلب کرو۔ دیکھو! قوم صالح نے معجزہ طلب کیا جو ظاہر ہوا یعنی اونٹنی جو اس راستے سے آتی تھی اور اس راستے سے جاتی تھی لیکن ان لوگوں نے اپنے رب کے حکم سے سرتابی کی اور اونٹنی کی کوچیں کاٹ دیں۔ ایک دن اونٹنی ان کا پانی پیتی تھی اور ایک دن یہ سب اس کا دودھ پیتے تھے۔ اس اونٹنی کو مار ڈالنے پر ان پر ایک چیخ آئی اور یہ جتنے بھی تھے، سب کے سب ڈھیر ہو گئے۔ بجز اس ایک شخص کے جو حرم شریف میں تھا۔ لوگوں نے پوچھا: اس کا نام کیا تھا؟ فرمایا: ابورغال، یہ بھی جب حد حرم سے باہر آیا تو اسے بھی وہی عذاب ہوا۔ } ۱؎ [مسند احمد:296/3:حسن] ‏‏‏‏ یہ حدیث صحاح ستہ میں تو نہیں لیکن ہے مسلم شریف کی شرط پر۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ ثمودی قبیلے کی طرف سے ان کے بھائی صالح علیہ السلام کو نبی بنا کر بھیجا گیا۔ تمام نبیوں کی طرح آپ نے بھی اپنی امت کو سب سے پہلے توحید الٰہی سکھائی کہ فقط اس کی عبادت کریں۔ اس کے سوا اور کوئی لائق عبادت نہیں۔ اللہ کا فرمان ہے: جتنے بھی رسول آئے سب کی طرف یہی وحی کی جاتی رہی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، صرف میری ہی عبادت کرو۔ اور ارشاد ہے: ہم نے ہر امت میں رسول بھیجے کہ اللہ ہی کی عبادت کرو اور اس کے سوا اوروں کی عبادت سے بچو۔

صالح علیہ السلام فرماتے ہیں: لوگو! تمہارے پاس دلیل الٰہی آ چکی جس میں میری سچائی ظاہر ہے۔ ان لوگوں نے صالح علیہ السلام سے معجزہ طلب کیا تھا کہ ایک سنگلاخ چٹان جو ان کی بستی کے ایک کنارے پڑی تھی جس کا نام کاتبہ تھا، اس سے آپ ایک اونٹنی نکالیں جو گابھن ہو (‏‏‏‏دودھ دینے والی اونٹنی جو دس ماہ کی حاملہ ہو) صالح علیہ السلام نے ان سے فرمایا کہ اگر ایسا ہو جائے تو تم ایمان قبول کر لو گے؟ انہوں نے پختہ وعدے کئے اور مضبوط عہد و پیمان کئے۔ صالح علیہ السلام نے نماز پڑھی، دعا کی۔ ان سب کے دیکھتے ہی چٹان نے ہلنا شروع کیا اور چٹخ گئی۔ اس کے پیچھے سے ایک اونٹنی نمودار ہوئی۔ اسے دیکھتے ہی ان کے سردار جندع بن عمرو نے تو اسلام قبول کر لیا اور اس کے ساتھیوں نے بھی۔ باقی جو اور سردار تھے وہ ایمان لانے کیلئے تیار تھے مگر ذواب بن عمرو بن لبید نے اور حباب نے جو بتوں کا مجاور تھا اور رباب بن صمعر بن جلھس وغیرہ نے انہیں روک دیا۔ جندع کا بھتیجا شہاب نامی، یہ ثمودیوں کا بڑا عالم فاضل اور شریف شخص تھا۔ اس نے بھی ایمان لانے کا ارادہ کر لیا۔ انہی بدبختوں نے اسے بھی روکا جس پر ایک مومن ثمودی مہوش بن عثمہ نے کہا کہ آل عمرو نے شہاب کو دین حق کی دعوت دی۔ قریب تھا کہ وہ مشرف بہ اسلام ہو جائے اور اگر ہو جاتا تو اس کی عزت سو اور ہو جاتی مگر بدبختوں نے اسے روک دیا اور نیکی سے ہٹا کر بدی پر لگا دیا۔ اس حاملہ اونٹنی کو اس وقت بچہ ہوا۔ ایک مدت تک دونوں ان میں رہے۔ ایک دن اونٹنی ان کا پانی پیتی، اس دن اس قدر دودھ دیتی کہ یہ لوگ اپنے سب برتن بھر لیتے۔ دوسرے دن نی پیتی اور ثمودیوں کے اور جانور پی لیتے۔جیسے قرآن میں ہے آیت «وَنَبِّئْهُمْ اَنَّ الْمَاءَ قِسْمَةٌ بَيْنَهُمْ كُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ» ۱؎ [54-القمر:28] ‏‏‏‏ اور آیت میں ہے «قَالَ هٰذِهٖ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَّلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ» ۱؎ [26-الشعراء:155] ‏‏‏‏ ’ یہ ہے اونٹنی، اس کے اور تمہارے پانی پینے کے دن تقسیم شدہ اور مقررہ ہیں۔ ‘ یہ اونٹنی ثمودیوں کی بستی حجر کے اردگرد چرتی چگتی تھی۔ ایک راہ جاتی، دوسری راہ آتی۔ یہ بہت ہی موٹی تازی اور ہیبت والی اونٹنی تھی۔ جس راہ سے گزرتی سب جانور ادھر ادھر ہو جاتے۔ کچھ زمانہ گزرنے کے بعد ان اوباشوں نے ارادہ کیا کہ اس کو مار ڈالیں تاکہ ہر دن ان کے جانور برابر پانی پی سکیں۔ ان اوباشوں کے ارادوں پر سب نے اتفاق کیا۔ یہاں تک کہ عورتوں اور بچوں نے بھی ان کی ہاں میں ہاں ملائی اور انہیں شہ دی کہ ہاں اس پاپ کو کاٹ دو۔ اس اونٹنی کو مار ڈالو۔

چنانچہ قرآن کریم میں ہے «فَكَذَّبُوْهُ فَعَقَرُوْهَا ١ فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُمْ بِذَنْبِهِمْ فَسَوّٰىهَا» ۱؎ [91-الشمس:14] ‏‏‏‏ ’ قوم صالح نے اپنے نبی کو جھٹلایا اور اونٹنی کی کوچیں کاٹ کر اسے مار ڈالا تو ان کے پروردگار نے ان کے گناہوں کے بدلے ان پر ہلاکت نازل فرمائی اور ان سب کو یکساں کر دیا۔ ‘ اور آیت میں ہے کہ ہم نے ثمودیوں کو اونٹنی دی جو ان کے لیے پوری سمجھ بوجھ کی چیز تھی لیکن انہوں نے اس پر ظلم کیا یہاں بھی فرمایا کہ انہوں نے اس اونٹنی کو مار ڈالا۔ پس اس فعل کی اسناد سارے ہی قبیلے کی طرف ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ چھوٹے بڑے سب اس امر پر متفق تھے۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ وغیرہ کا فرمان ہے کہ اس کے قتل کی وجہ یہ ہوئی کہ عنیزہ بنت مجلز جو ایک بڑھیا کافرہ تھی اور صالح علیہ السلام سے بڑی دشمنی رکھتی تھی، اس کی لڑکیاں بہت خوبصورت تھیں اور تھی بھی یہ عورت مالدار۔ اس کے خاوند کا نام ذواب بن عمرو تھا جو ثمودیوں کا ایک سردار تھا یہ بھی کافر تھا۔ اسی طرح ایک اور عورت تھی جس کا نام صدوف بنت محیا بن مختار تھا۔ یہ بھی حسن کے علاوہ مال اور حسب نسب میں بڑھی ہوئی تھی، اس کے خاوند مسلمان ہو گئے تھے رضی اللہ عنہ۔ اس سرکش عورت نے ان کو چھوڑ دیا۔ اب یہ دونوں عورتیں لوگوں کو اکساتی تھیں کہ کوئی آمادہ ہو جائے اور صالح علیہ السلام کی اونٹنی کو قتل کر دے۔ صدوف نامی عورت نے ایک شخص حباب کو بلایا اور اس سے کہا کہ میں تیرے گھر آ جاؤں گی، اگر تو اس اونٹنی کو قتل کر دے لیکن اس نے انکار کر دیا۔ اس پر اس نے مصدع بن مہرج بن محیاء کو بلایا جو اس کے چچا کا لڑکا تھا اور اسے بھی اسی بات پر آمادہ کیا۔ یہ خبیث اس کے حسن و جمال کا مفتون تھا، اس برائی پر آمادہ ہو گیا۔ ادھر عنیزہ نے قدار بن سالف بن جذع کو بلا کر اس سے کہا کہ میری ان خوبصورت نوجوان لڑکیوں میں سے جسے تو پسند کرے، اسے میں تجھے دے دوں گی، اسی شرط پر کہ تو اس اونٹنی کی کوچیں کاٹ ڈال۔ یہ خبیث بھی آمادہ ہو گیا۔ یہ تھا بھی زناکاری کا بچہ، سالف کی اولاد میں نہ تھا۔ صھیاد نامی ایک شخص سے اس کی بدکار ماں نے زناکاری کی تھی، اسی سے یہ پیدا ہوا تھا۔ اب دونوں چلے اور اہل ثمود اور دوسرے شریروں کو بھی اس پر آمادہ کیا۔ چنانچہ سات شخص اور بھی اس پر آمادہ ہو گئے اور یہ نو فسادی شخص اس بد ارادے پر تل گئے۔ جیسے قرآن کریم میں ہے «وَكَانَ فِي الْمَدِيْنَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ يُّفْسِدُوْنَ فِي الْاَرْضِ وَلَا يُصْلِحُوْنَ» ۱؎ [27-النمل:49-50] ‏‏‏‏ اس شہر میں نو شخص تھے جن میں اصلاح کا مادہ ہی نہ تھا، سراسر فسادی ہی تھے۔ چونکہ یہ لوگ قوم کے سردار تھے۔ ان کے کہنے سننے سے تمام کفار بھی اس پر راضی ہو گئے اور اونٹنی کے واپس آنے کے راستے میں یہ دونوں شریر اپنی اپنی کمین گاہوں میں بیٹھ گئے۔ جب اونٹنی نکلی تو پہلے مصدع نے اسے تیر مارا جو اس کی ران کی ہڈی میں پیوست ہو گیا۔ اسی وقت عنیزہ نے اپنی خوبصورت لڑکی کو کھلے منہ قدار کے پاس بھیجا۔ اس نے کہا: قدار کیا دیکھتے ہو؟ اٹھو اور اس کا کام تمام کر دو۔ یہ اس کا منہ دیکھتے ہی دوڑا اور اس کے دونوں پچھلے پاؤں کاٹ دیئے۔ اونٹنی چکرا کر گری اور ایک آواز نکالی جس سے اس کا بچہ ہوشیار ہو گیا اور اس راستے کو چھوڑ کر پہاڑی پر چلا گیا۔ یہاں قدار نے اونٹنی کا گلا کاٹ دیا اور وہ مر گئی۔ اس کا بچہ پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ کر تین مربتہ بلبلایا۔

حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس نے اللہ کے سامنے اپنی ماں کے قتل کی فریاد کی۔ پھر جس چٹان سے نکلا تھا، اسی میں سما گیا۔ یہ روایت بھی ہے کہ اسے بھی اس کی ماں کے ساتھ ہی ذبح کر دیا گیا تھا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ صالح علیہ السلام کو جب یہ خبر پہنچی تو آپ گھبرائے ہوئے موقعہ پر پہنچے۔ دیکھا کہ اونٹنی بےجان پڑی ہے۔ آپ کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے اور فرمایا بس اب تین دن میں تم ہلاک کر دیئے جاؤ گے، ہوا بھی یہی۔ بدھ کے دن ان لوگوں نے اونٹنی کو قتل کیا تھا اور چونکہ کوئی عذاب نہ آیا۔ اس لیے اترا گئے اور ان مفسدوں نے ارادہ کر لیا کہ آج شام کو صالح علیہ السلام کو بھی مار ڈالو۔ اگر واقعی ہم ہلاک ہونے والے ہی ہیں تو پھر یہ کیوں بچا رہے؟ اگر ہم پر عذاب نہیں آتا تو بھی آؤ، روز روز کے اس جھنجھٹ سے پاک ہو جائیں۔

چنانچہ قرآن کریم کا بیان ہے کہ ان لوگوں نے مل کر مشورہ کیا اور پھر قسمیں کھا کر اقرار کیا کہ رات کو صالح کے گھر پر چھاپہ مارو اور اسے اور اس کے گھرانے کو تہہ تیغ کرو اور صاف انکار کر دو کہ ہمیں کیا خبر کہ کس نے مارا؟ اللہ تعالیٰ فرماتے ہے: ان کے اس مکر کے مقابل ہم نے بھی مکر کیا اور یہ ہمارے مکر سے بالکل بےخبر رہے۔ اب انجام دیکھ لو کہ کیا ہوا؟ رات کو یہ اپنی بد نیتی سے صالح علیہ السلام کے گھر کی طرف چلے۔ آپ کا گھر پہاڑ کی بلندی پر تھا۔ ابھی یہ اوپر چڑھ ہی رہے تھے جو اوپر سے ایک چٹان پتھر کی لڑھکتی ہوئی آئی اور سب کو ہی پیس ڈالا۔ ان کا تو یہ حشر ہوا۔ ادھر جمعرات کے دن تمام ثمودیوں کے چہرے زرد پڑ گئے۔ جمعہ کے دن ان کے چہرے آگ جیسے سرخ ہو گئے اور ہفتہ کے دن جو مہلت کا آخری دن تھا، ان کے منہ سیاہ ہو گئے۔ تین دن جب گزر گئے تو چوتھا دن اتوار صبح ہی صبح سورج کے روشن ہوتے ہی اوپر آسمان سے سخت کڑاکا ہوا جس کی ہولناک، دہشت انگیز چنگھاڑ نے ان کے کلیجے پھاڑ دیئے، ساتھ ہی نیچے سے زبردست زلزلہ آیا۔ ایک ہی ساعت میں ایک ساتھ ہی ان سب کا ڈھیر ہو گیا۔ مردوں سے مکانات، بازار، گلی، کوچے بھر گئے۔ مرد، عورت، بچے، بوڑھے اول سے آخر تک سارے کے سارے تباہ ہو گئے۔ شان رب دیکھئیے کہ اس واقعہ کی خبر دنیا کو پہنچانے کے لیے ایک کافرہ عورت بچا دی گئی۔ یہ بھی بڑی خبیثہ تھی، صالح علیہ السلام کی عداوت کی آگ سے بھری ہوئی تھی، اس کی دونوں ٹانگیں نہیں تھیں لیکن ادھر عذاب آیا، ادھر اس کے پاؤں کھل گئے، اپنی بستی سے سرپٹ بھاگی اور تیز دوڑتی ہوئی دوسرے شہر میں پہنچی اور وہاں جا کر ان سب کے سامنے سارا واقعہ بیان کر ہی چکنے کے بعد ان سے پانی مانگا۔ ابھی پوری پیاس بھی بجھی نہ تھی کہ عذاب الٰہی آ پڑا اور وہیں ڈھیر ہو کر رہ گئی۔ ہاں ابورغال نامی ایک شخص اور بچ گیا تھا۔ یہ یہاں نہ تھا حرم کی پاک زمین میں تھا لیکن کچھ دنوں کے بعد جب یہ اپنے کسی کام کی غرض سے حد حرم سے باہر آیا، اسی وقت آسمان سے پتھر آیا اور اسے بھی جہنم واصل کیا۔ ثمودیوں میں سے سوائے صالح علیہ السلام اور ان کے مومن صحابہ رضی اللہ عنہم کے اور کوئی بھی نہ بچا۔ ابورغال کا واقعہ اس سے پہلے حدیث سے بیان ہو چکا ہے۔ قبیلہ ثقیف جو طائف میں ہے، مذکور ہے کہ یہ اسی نسل میں سے ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:14823/12:معضل ضعیف] ‏‏‏‏ عبدالرزاق میں ہے کہ اس کی قبر کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب گزرے تو فرمایا: جانتے ہو یہ کس کی قبر ہے؟ لوگوں نے جواب دیا کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ علم ہے۔ آپ نے فرمایا: یہ ابورغال کی قبر ہے۔ یہ ایک ثمودی شخص تھا، اپنی قوم کے عذاب کے وقت حرم میں تھا۔ اس وجہ سے عذاب الٰہی سے بچ رہا لیکن حرم شریف سے نکلا تو اسی وقت اپنی قوم کے عذاب سے یہ بھی ہلاک ہوا اور یہیں دفن کیا گیا اور اس کے ساتھ اس کی سونے کی لکڑی بھی دفنا دی گئی۔ چنانچہ لوگوں نے اس گڑھے کو کھود کر اس میں سے وہ لکڑی نکال لی۔

اور حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا تھا: ثقیف قبیلہ اسی کی اولاد ہے۔ ایک مرسل حدیث میں بھی یہ ذکر موجود ہے۔ یہ بھی ہے کہ آپ نے فرمایا تھا: { اس کے ساتھ سونے کی شاخ دفن کر دی گئی ہے۔ یہی نشان اس کی قبر کا ہے، اگر تم اسے کھودو تو وہ شاخ ضرور نکل آئے گی چنانچہ بعض لوگوں نے اسے کھودا اور وہ شاخ نکال لی۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:3088، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ ابوداؤد میں بھی یہ روایت ہے اور حسن عزیز ہے لیکن میں کہتا ہوں: اس حدیث کے وصل کا صرف ایک طریقہ بجیر بن ابی بحیر کا ہے اور یہ صرف اسی حدیث کے ساتھ معروف ہے۔ اور بقول امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ سوائے اسماعیل بن امیہ کے، اس سے اور کسی نے روایت نہیں کیا۔ احتمال ہے کہ کہیں اس حدیث کے مرفوع کرنے میں خطا نہ ہو۔ یہ عبداللہ بن عمرو ہی کا قول ہو اور پھر اس صورت میں یہ بھی ممکنات سے ہے کہ انہوں نے اسے ان دو دفتروں سے لے لیا ہو جو انہیں جنگ یرموک میں ملے تھے۔ میرے استاد شیخ ابوالحجاج رحمہ اللہ اس روایت کو پہلے تو حسن عزیز کہتے تھے لیکن جب میں نے ان کے سامنے یہ حجت پیش کی تو آپ نے فرمایا: بیشک ان امور کا اس میں احتمال ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
76۔ 1 اس معقول جواب کے باوجود وہ اپنے استکبار اور انکار پر اڑے رہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
فَعَقَرُوا النَّاقَۃَ وَ عَتَوۡا عَنۡ اَمۡرِ رَبِّہِمۡ وَ قَالُوۡا یٰصٰلِحُ ائۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ کُنۡتَ مِنَ الۡمُرۡسَلِیۡنَ ﴿۷۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر انہوں نے اس اونٹنی کو مار ڈالا اور پورے تمرد کے ساتھ اپنے رب کے حکم کی خلاف ورزی کر گزرے، اور صالحؑ سے کہہ دیا کہ لے آ وہ عذاب جس کی تو ہمیں دھمکی دیتا ہے اگر تو واقعی پیغمبروں میں سے ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
پس انہوں نے اس اونٹنی کو مار ڈاﻻ اور اپنے پروردگار کے حکم سے سرکشی کی اور کہنے لگے کہ اے صالح! جس کی آپ ہم کو دھمکی دیتے تھے اس کو منگوائیے اگر آپ پیغمبر ہیں
احمد رضا خان بریلوی
پس ناقہ کی کُوچیں کاٹ دیں اور اپنے رب کے حکم سے سرکشی کی اور بولے اے صالح! ہم پر لے آؤ جس کا تم سے وعد دے رہے ہو اگر تم رسول ہو،
علامہ محمد حسین نجفی
پھر انہوں نے اس اونٹنی کو پئے کر دیا (اس کی کونچیں کاٹ دیں) اور اپنے پروردگار کے حکم سے سرکشی و سرتابی کی اور کہا اے صالح! اگر تم رسولوں میں سے ہو تو پھر ہمارے پاس لاؤ وہ (عذاب) جس کی ہمیں دھمکی دیتے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
تو انھوں نے اونٹنی کو کاٹ ڈالا اور اپنے رب کے حکم سے سرکش ہوگئے اور انھوں نے کہا اے صالح! لے آ ہم پر جس کی تو ہمیں دھمکی دیتا ہے، اگر تو رسولوں سے ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ثمود کی قوم اور اس کا عبرت ناک انجام ٭٭

علمائے نسب نے بیان کیا ہے کہ ثمود بن عامر بن ارم بن سام بن نوح , یہ بھائی تھا جدیس بن عامر کا۔ اسی طرح قبیلہ طسم یہ سب خالص عرب تھے۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام سے پہلے ثمودی عادیوں کے بعد ہوئے ہیں۔ ان کے شہر حجاز اور شام کے درمیان وادی القری اور اس کے اردگرد مشہور ہیں۔ سنہ ٩ھ میں تبوک جاتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی اجاڑ بستیوں میں سے گزرے تھے۔ مسند احمد میں ہے کہ { جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تبوک کے میدان میں اترے۔ لوگوں نے ثمودیوں کے گھروں کے پاس ڈیرے ڈالے اور انہی کے کنوؤں کے پانی سے آٹے گوندھے، ہانڈیاں چڑھائیں تو آپ نے حکم دیا کہ سب ہانڈیاں الٹ دی جائیں اور گندھے ہوئے آٹے اونٹوں کو کھلا دیئے جائیں۔ پھر فرمایا: یہاں سے کوچ کرو اور اس کنوئیں کے پاس ٹھہرو جس سے صالح علیہ السلام کی اونٹنی پانی پیتی تھی اور فرمایا: آئندہ عذاب والی بستیوں میں پڑاؤ نہ کیا کرو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اسی عذاب کے شکار تم بھی بن جاؤ۔ } ۱؎ [مسند احمد:117/2:صحیح] ‏‏‏‏

ایک روایت میں ہے کہ { ان کی بستیوں سے روتے اور ڈرتے ہوئے گزرو کہ مبادا وہی عذاب تم پر آ جائیں جو ان پر آئے تھے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4420] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے: { غزوہ تبوک میں لوگ بہ عجلت ہجر کے لوگوں کے گھروں کی طرف لپکے۔ آپ نے اسی وقت یہ آواز بلند کرنے کا کہا: «اَلصَلٰوۃُ جَامِعةٌ» جب لوگ جمع ہو گئے تو آپ نے فرمایا کہ ان لوگوں کے گھروں میں کیوں گھسے جا رہے ہو جن پر غضب الٰہی نازل ہوا۔ راوی حدیث ابوکبشہ انماری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک نیزہ تھا۔ میں نے یہ سن کر عرض کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم تو صرف تعجب کے طور پر انہیں دیکھنے چلے گئے تھے۔ آپ نے فرمایا: میں تمہیں اس سے بھی تعجب خیز چیز بتا رہا ہوں۔ تم میں سے ہی ایک شخص ہے جو تمہیں وہ چیز بتا رہا ہے جو گزر چکیں اور وہ خبریں دے رہا ہے جو تمہارے سامنے ہیں اور جو تمہارے بعد ہونے والی ہیں۔ پس تم ٹھیک ٹھاک رہو اور سیدھے چلے جاؤ۔ تمہیں عذاب کرتے ہوئے بھی اللہ تعالیٰ کو کوئی پرواہ نہیں۔ یاد رکھو! ایسے لوگ آئیں گے جو اپنی جانوں سے کسی چیز کو دفع نہ کر سکیں گے۔ } ۱؎ [مسند احمد:231/4:حسن] ‏‏‏‏ سیدنا ابوکبشہ رضی اللہ عنہ کا نام عمر بن سعد ہے اور کہا گیا ہے کہ عامر بن سعد ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ ایک روایت میں ہے کہ { ہجر کی بستی کے پاس آتے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معجزے نہ طلب کرو۔ دیکھو! قوم صالح نے معجزہ طلب کیا جو ظاہر ہوا یعنی اونٹنی جو اس راستے سے آتی تھی اور اس راستے سے جاتی تھی لیکن ان لوگوں نے اپنے رب کے حکم سے سرتابی کی اور اونٹنی کی کوچیں کاٹ دیں۔ ایک دن اونٹنی ان کا پانی پیتی تھی اور ایک دن یہ سب اس کا دودھ پیتے تھے۔ اس اونٹنی کو مار ڈالنے پر ان پر ایک چیخ آئی اور یہ جتنے بھی تھے، سب کے سب ڈھیر ہو گئے۔ بجز اس ایک شخص کے جو حرم شریف میں تھا۔ لوگوں نے پوچھا: اس کا نام کیا تھا؟ فرمایا: ابورغال، یہ بھی جب حد حرم سے باہر آیا تو اسے بھی وہی عذاب ہوا۔ } ۱؎ [مسند احمد:296/3:حسن] ‏‏‏‏ یہ حدیث صحاح ستہ میں تو نہیں لیکن ہے مسلم شریف کی شرط پر۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ ثمودی قبیلے کی طرف سے ان کے بھائی صالح علیہ السلام کو نبی بنا کر بھیجا گیا۔ تمام نبیوں کی طرح آپ نے بھی اپنی امت کو سب سے پہلے توحید الٰہی سکھائی کہ فقط اس کی عبادت کریں۔ اس کے سوا اور کوئی لائق عبادت نہیں۔ اللہ کا فرمان ہے: جتنے بھی رسول آئے سب کی طرف یہی وحی کی جاتی رہی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، صرف میری ہی عبادت کرو۔ اور ارشاد ہے: ہم نے ہر امت میں رسول بھیجے کہ اللہ ہی کی عبادت کرو اور اس کے سوا اوروں کی عبادت سے بچو۔

صالح علیہ السلام فرماتے ہیں: لوگو! تمہارے پاس دلیل الٰہی آ چکی جس میں میری سچائی ظاہر ہے۔ ان لوگوں نے صالح علیہ السلام سے معجزہ طلب کیا تھا کہ ایک سنگلاخ چٹان جو ان کی بستی کے ایک کنارے پڑی تھی جس کا نام کاتبہ تھا، اس سے آپ ایک اونٹنی نکالیں جو گابھن ہو (‏‏‏‏دودھ دینے والی اونٹنی جو دس ماہ کی حاملہ ہو) صالح علیہ السلام نے ان سے فرمایا کہ اگر ایسا ہو جائے تو تم ایمان قبول کر لو گے؟ انہوں نے پختہ وعدے کئے اور مضبوط عہد و پیمان کئے۔ صالح علیہ السلام نے نماز پڑھی، دعا کی۔ ان سب کے دیکھتے ہی چٹان نے ہلنا شروع کیا اور چٹخ گئی۔ اس کے پیچھے سے ایک اونٹنی نمودار ہوئی۔ اسے دیکھتے ہی ان کے سردار جندع بن عمرو نے تو اسلام قبول کر لیا اور اس کے ساتھیوں نے بھی۔ باقی جو اور سردار تھے وہ ایمان لانے کیلئے تیار تھے مگر ذواب بن عمرو بن لبید نے اور حباب نے جو بتوں کا مجاور تھا اور رباب بن صمعر بن جلھس وغیرہ نے انہیں روک دیا۔ جندع کا بھتیجا شہاب نامی، یہ ثمودیوں کا بڑا عالم فاضل اور شریف شخص تھا۔ اس نے بھی ایمان لانے کا ارادہ کر لیا۔ انہی بدبختوں نے اسے بھی روکا جس پر ایک مومن ثمودی مہوش بن عثمہ نے کہا کہ آل عمرو نے شہاب کو دین حق کی دعوت دی۔ قریب تھا کہ وہ مشرف بہ اسلام ہو جائے اور اگر ہو جاتا تو اس کی عزت سو اور ہو جاتی مگر بدبختوں نے اسے روک دیا اور نیکی سے ہٹا کر بدی پر لگا دیا۔ اس حاملہ اونٹنی کو اس وقت بچہ ہوا۔ ایک مدت تک دونوں ان میں رہے۔ ایک دن اونٹنی ان کا پانی پیتی، اس دن اس قدر دودھ دیتی کہ یہ لوگ اپنے سب برتن بھر لیتے۔ دوسرے دن نی پیتی اور ثمودیوں کے اور جانور پی لیتے۔جیسے قرآن میں ہے آیت «وَنَبِّئْهُمْ اَنَّ الْمَاءَ قِسْمَةٌ بَيْنَهُمْ كُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ» ۱؎ [54-القمر:28] ‏‏‏‏ اور آیت میں ہے «قَالَ هٰذِهٖ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَّلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ» ۱؎ [26-الشعراء:155] ‏‏‏‏ ’ یہ ہے اونٹنی، اس کے اور تمہارے پانی پینے کے دن تقسیم شدہ اور مقررہ ہیں۔ ‘ یہ اونٹنی ثمودیوں کی بستی حجر کے اردگرد چرتی چگتی تھی۔ ایک راہ جاتی، دوسری راہ آتی۔ یہ بہت ہی موٹی تازی اور ہیبت والی اونٹنی تھی۔ جس راہ سے گزرتی سب جانور ادھر ادھر ہو جاتے۔ کچھ زمانہ گزرنے کے بعد ان اوباشوں نے ارادہ کیا کہ اس کو مار ڈالیں تاکہ ہر دن ان کے جانور برابر پانی پی سکیں۔ ان اوباشوں کے ارادوں پر سب نے اتفاق کیا۔ یہاں تک کہ عورتوں اور بچوں نے بھی ان کی ہاں میں ہاں ملائی اور انہیں شہ دی کہ ہاں اس پاپ کو کاٹ دو۔ اس اونٹنی کو مار ڈالو۔

چنانچہ قرآن کریم میں ہے «فَكَذَّبُوْهُ فَعَقَرُوْهَا ١ فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُمْ بِذَنْبِهِمْ فَسَوّٰىهَا» ۱؎ [91-الشمس:14] ‏‏‏‏ ’ قوم صالح نے اپنے نبی کو جھٹلایا اور اونٹنی کی کوچیں کاٹ کر اسے مار ڈالا تو ان کے پروردگار نے ان کے گناہوں کے بدلے ان پر ہلاکت نازل فرمائی اور ان سب کو یکساں کر دیا۔ ‘ اور آیت میں ہے کہ ہم نے ثمودیوں کو اونٹنی دی جو ان کے لیے پوری سمجھ بوجھ کی چیز تھی لیکن انہوں نے اس پر ظلم کیا یہاں بھی فرمایا کہ انہوں نے اس اونٹنی کو مار ڈالا۔ پس اس فعل کی اسناد سارے ہی قبیلے کی طرف ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ چھوٹے بڑے سب اس امر پر متفق تھے۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ وغیرہ کا فرمان ہے کہ اس کے قتل کی وجہ یہ ہوئی کہ عنیزہ بنت مجلز جو ایک بڑھیا کافرہ تھی اور صالح علیہ السلام سے بڑی دشمنی رکھتی تھی، اس کی لڑکیاں بہت خوبصورت تھیں اور تھی بھی یہ عورت مالدار۔ اس کے خاوند کا نام ذواب بن عمرو تھا جو ثمودیوں کا ایک سردار تھا یہ بھی کافر تھا۔ اسی طرح ایک اور عورت تھی جس کا نام صدوف بنت محیا بن مختار تھا۔ یہ بھی حسن کے علاوہ مال اور حسب نسب میں بڑھی ہوئی تھی، اس کے خاوند مسلمان ہو گئے تھے رضی اللہ عنہ۔ اس سرکش عورت نے ان کو چھوڑ دیا۔ اب یہ دونوں عورتیں لوگوں کو اکساتی تھیں کہ کوئی آمادہ ہو جائے اور صالح علیہ السلام کی اونٹنی کو قتل کر دے۔ صدوف نامی عورت نے ایک شخص حباب کو بلایا اور اس سے کہا کہ میں تیرے گھر آ جاؤں گی، اگر تو اس اونٹنی کو قتل کر دے لیکن اس نے انکار کر دیا۔ اس پر اس نے مصدع بن مہرج بن محیاء کو بلایا جو اس کے چچا کا لڑکا تھا اور اسے بھی اسی بات پر آمادہ کیا۔ یہ خبیث اس کے حسن و جمال کا مفتون تھا، اس برائی پر آمادہ ہو گیا۔ ادھر عنیزہ نے قدار بن سالف بن جذع کو بلا کر اس سے کہا کہ میری ان خوبصورت نوجوان لڑکیوں میں سے جسے تو پسند کرے، اسے میں تجھے دے دوں گی، اسی شرط پر کہ تو اس اونٹنی کی کوچیں کاٹ ڈال۔ یہ خبیث بھی آمادہ ہو گیا۔ یہ تھا بھی زناکاری کا بچہ، سالف کی اولاد میں نہ تھا۔ صھیاد نامی ایک شخص سے اس کی بدکار ماں نے زناکاری کی تھی، اسی سے یہ پیدا ہوا تھا۔ اب دونوں چلے اور اہل ثمود اور دوسرے شریروں کو بھی اس پر آمادہ کیا۔ چنانچہ سات شخص اور بھی اس پر آمادہ ہو گئے اور یہ نو فسادی شخص اس بد ارادے پر تل گئے۔ جیسے قرآن کریم میں ہے «وَكَانَ فِي الْمَدِيْنَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ يُّفْسِدُوْنَ فِي الْاَرْضِ وَلَا يُصْلِحُوْنَ» ۱؎ [27-النمل:49-50] ‏‏‏‏ اس شہر میں نو شخص تھے جن میں اصلاح کا مادہ ہی نہ تھا، سراسر فسادی ہی تھے۔ چونکہ یہ لوگ قوم کے سردار تھے۔ ان کے کہنے سننے سے تمام کفار بھی اس پر راضی ہو گئے اور اونٹنی کے واپس آنے کے راستے میں یہ دونوں شریر اپنی اپنی کمین گاہوں میں بیٹھ گئے۔ جب اونٹنی نکلی تو پہلے مصدع نے اسے تیر مارا جو اس کی ران کی ہڈی میں پیوست ہو گیا۔ اسی وقت عنیزہ نے اپنی خوبصورت لڑکی کو کھلے منہ قدار کے پاس بھیجا۔ اس نے کہا: قدار کیا دیکھتے ہو؟ اٹھو اور اس کا کام تمام کر دو۔ یہ اس کا منہ دیکھتے ہی دوڑا اور اس کے دونوں پچھلے پاؤں کاٹ دیئے۔ اونٹنی چکرا کر گری اور ایک آواز نکالی جس سے اس کا بچہ ہوشیار ہو گیا اور اس راستے کو چھوڑ کر پہاڑی پر چلا گیا۔ یہاں قدار نے اونٹنی کا گلا کاٹ دیا اور وہ مر گئی۔ اس کا بچہ پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ کر تین مربتہ بلبلایا۔

حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس نے اللہ کے سامنے اپنی ماں کے قتل کی فریاد کی۔ پھر جس چٹان سے نکلا تھا، اسی میں سما گیا۔ یہ روایت بھی ہے کہ اسے بھی اس کی ماں کے ساتھ ہی ذبح کر دیا گیا تھا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ صالح علیہ السلام کو جب یہ خبر پہنچی تو آپ گھبرائے ہوئے موقعہ پر پہنچے۔ دیکھا کہ اونٹنی بےجان پڑی ہے۔ آپ کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے اور فرمایا بس اب تین دن میں تم ہلاک کر دیئے جاؤ گے، ہوا بھی یہی۔ بدھ کے دن ان لوگوں نے اونٹنی کو قتل کیا تھا اور چونکہ کوئی عذاب نہ آیا۔ اس لیے اترا گئے اور ان مفسدوں نے ارادہ کر لیا کہ آج شام کو صالح علیہ السلام کو بھی مار ڈالو۔ اگر واقعی ہم ہلاک ہونے والے ہی ہیں تو پھر یہ کیوں بچا رہے؟ اگر ہم پر عذاب نہیں آتا تو بھی آؤ، روز روز کے اس جھنجھٹ سے پاک ہو جائیں۔

چنانچہ قرآن کریم کا بیان ہے کہ ان لوگوں نے مل کر مشورہ کیا اور پھر قسمیں کھا کر اقرار کیا کہ رات کو صالح کے گھر پر چھاپہ مارو اور اسے اور اس کے گھرانے کو تہہ تیغ کرو اور صاف انکار کر دو کہ ہمیں کیا خبر کہ کس نے مارا؟ اللہ تعالیٰ فرماتے ہے: ان کے اس مکر کے مقابل ہم نے بھی مکر کیا اور یہ ہمارے مکر سے بالکل بےخبر رہے۔ اب انجام دیکھ لو کہ کیا ہوا؟ رات کو یہ اپنی بد نیتی سے صالح علیہ السلام کے گھر کی طرف چلے۔ آپ کا گھر پہاڑ کی بلندی پر تھا۔ ابھی یہ اوپر چڑھ ہی رہے تھے جو اوپر سے ایک چٹان پتھر کی لڑھکتی ہوئی آئی اور سب کو ہی پیس ڈالا۔ ان کا تو یہ حشر ہوا۔ ادھر جمعرات کے دن تمام ثمودیوں کے چہرے زرد پڑ گئے۔ جمعہ کے دن ان کے چہرے آگ جیسے سرخ ہو گئے اور ہفتہ کے دن جو مہلت کا آخری دن تھا، ان کے منہ سیاہ ہو گئے۔ تین دن جب گزر گئے تو چوتھا دن اتوار صبح ہی صبح سورج کے روشن ہوتے ہی اوپر آسمان سے سخت کڑاکا ہوا جس کی ہولناک، دہشت انگیز چنگھاڑ نے ان کے کلیجے پھاڑ دیئے، ساتھ ہی نیچے سے زبردست زلزلہ آیا۔ ایک ہی ساعت میں ایک ساتھ ہی ان سب کا ڈھیر ہو گیا۔ مردوں سے مکانات، بازار، گلی، کوچے بھر گئے۔ مرد، عورت، بچے، بوڑھے اول سے آخر تک سارے کے سارے تباہ ہو گئے۔ شان رب دیکھئیے کہ اس واقعہ کی خبر دنیا کو پہنچانے کے لیے ایک کافرہ عورت بچا دی گئی۔ یہ بھی بڑی خبیثہ تھی، صالح علیہ السلام کی عداوت کی آگ سے بھری ہوئی تھی، اس کی دونوں ٹانگیں نہیں تھیں لیکن ادھر عذاب آیا، ادھر اس کے پاؤں کھل گئے، اپنی بستی سے سرپٹ بھاگی اور تیز دوڑتی ہوئی دوسرے شہر میں پہنچی اور وہاں جا کر ان سب کے سامنے سارا واقعہ بیان کر ہی چکنے کے بعد ان سے پانی مانگا۔ ابھی پوری پیاس بھی بجھی نہ تھی کہ عذاب الٰہی آ پڑا اور وہیں ڈھیر ہو کر رہ گئی۔ ہاں ابورغال نامی ایک شخص اور بچ گیا تھا۔ یہ یہاں نہ تھا حرم کی پاک زمین میں تھا لیکن کچھ دنوں کے بعد جب یہ اپنے کسی کام کی غرض سے حد حرم سے باہر آیا، اسی وقت آسمان سے پتھر آیا اور اسے بھی جہنم واصل کیا۔ ثمودیوں میں سے سوائے صالح علیہ السلام اور ان کے مومن صحابہ رضی اللہ عنہم کے اور کوئی بھی نہ بچا۔ ابورغال کا واقعہ اس سے پہلے حدیث سے بیان ہو چکا ہے۔ قبیلہ ثقیف جو طائف میں ہے، مذکور ہے کہ یہ اسی نسل میں سے ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:14823/12:معضل ضعیف] ‏‏‏‏ عبدالرزاق میں ہے کہ اس کی قبر کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب گزرے تو فرمایا: جانتے ہو یہ کس کی قبر ہے؟ لوگوں نے جواب دیا کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ علم ہے۔ آپ نے فرمایا: یہ ابورغال کی قبر ہے۔ یہ ایک ثمودی شخص تھا، اپنی قوم کے عذاب کے وقت حرم میں تھا۔ اس وجہ سے عذاب الٰہی سے بچ رہا لیکن حرم شریف سے نکلا تو اسی وقت اپنی قوم کے عذاب سے یہ بھی ہلاک ہوا اور یہیں دفن کیا گیا اور اس کے ساتھ اس کی سونے کی لکڑی بھی دفنا دی گئی۔ چنانچہ لوگوں نے اس گڑھے کو کھود کر اس میں سے وہ لکڑی نکال لی۔

اور حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا تھا: ثقیف قبیلہ اسی کی اولاد ہے۔ ایک مرسل حدیث میں بھی یہ ذکر موجود ہے۔ یہ بھی ہے کہ آپ نے فرمایا تھا: { اس کے ساتھ سونے کی شاخ دفن کر دی گئی ہے۔ یہی نشان اس کی قبر کا ہے، اگر تم اسے کھودو تو وہ شاخ ضرور نکل آئے گی چنانچہ بعض لوگوں نے اسے کھودا اور وہ شاخ نکال لی۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:3088، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ ابوداؤد میں بھی یہ روایت ہے اور حسن عزیز ہے لیکن میں کہتا ہوں: اس حدیث کے وصل کا صرف ایک طریقہ بجیر بن ابی بحیر کا ہے اور یہ صرف اسی حدیث کے ساتھ معروف ہے۔ اور بقول امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ سوائے اسماعیل بن امیہ کے، اس سے اور کسی نے روایت نہیں کیا۔ احتمال ہے کہ کہیں اس حدیث کے مرفوع کرنے میں خطا نہ ہو۔ یہ عبداللہ بن عمرو ہی کا قول ہو اور پھر اس صورت میں یہ بھی ممکنات سے ہے کہ انہوں نے اسے ان دو دفتروں سے لے لیا ہو جو انہیں جنگ یرموک میں ملے تھے۔ میرے استاد شیخ ابوالحجاج رحمہ اللہ اس روایت کو پہلے تو حسن عزیز کہتے تھے لیکن جب میں نے ان کے سامنے یہ حجت پیش کی تو آپ نے فرمایا: بیشک ان امور کا اس میں احتمال ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 77) ➊ {فَعَقَرُوا النَّاقَةَ ……:} اگرچہ اونٹنی کو ایک ہی شخص نے کاٹا تھا مگر چونکہ ان سب نے اسے مقرر کیا تھا اور وہ سب اس کی پشت پناہی کر رہے تھے، اس لیے سب ہی مجرم ٹھہرے اور سبھی پر عذاب آیا۔ سورۂ قمر میں ہے: «فَنَادَوْا صَاحِبَهُمْ فَتَعَاطٰى فَعَقَرَ» ‏‏‏‏ [ القمر: ۲۹ ] ”تو انھوں نے اپنے ساتھی کو پکارا، سو اس نے (اسے) پکڑا، پس (اس کی) کونچیں کاٹ دیں۔“ علمائے تفسیر نے اس اشقیٰ ”سب سے بڑے بد بخت “ (شمس: ۱۲) کا نام قُدار بن سالف لکھا ہے۔ (واﷲ اعلم) ➋ { وَ قَالُوْا يٰصٰلِحُ ائْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ ……:} یعنی تو کہتا تھا کہ دیکھنا اس اونٹنی کو کسی برائی کے ساتھ ہاتھ نہ لگا بیٹھنا، ورنہ اﷲ کے عذاب میں گرفتار ہو جاؤ گے۔ اب اگر واقعی رسول ہو تو وہ عذاب لے آؤ۔
فَاَخَذَتۡہُمُ الرَّجۡفَۃُ فَاَصۡبَحُوۡا فِیۡ دَارِہِمۡ جٰثِمِیۡنَ ﴿۷۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
آخر کا ر ایک دہلا دینے والی آفت نے اُنہیں آ لیا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے کے پڑے رہ گئے
مولانا محمد جوناگڑھی
پس ان کو زلزلہ نے آپکڑا اور وه اپنے گھروں میں اوندھے کے اوندھے پڑے ره گئے
احمد رضا خان بریلوی
تو انہیں زلزلے نے ا ٓلیا تو صبح کو اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے،
علامہ محمد حسین نجفی
پس انہیں زلزلہ نے آپکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔
عبدالسلام بن محمد
تو انھیں زلزلے نے پکڑ لیا تو انھوں نے اس حال میں صبح کی کہ اپنے گھر میں گرے پڑے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ثمود کی قوم اور اس کا عبرت ناک انجام ٭٭

علمائے نسب نے بیان کیا ہے کہ ثمود بن عامر بن ارم بن سام بن نوح , یہ بھائی تھا جدیس بن عامر کا۔ اسی طرح قبیلہ طسم یہ سب خالص عرب تھے۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام سے پہلے ثمودی عادیوں کے بعد ہوئے ہیں۔ ان کے شہر حجاز اور شام کے درمیان وادی القری اور اس کے اردگرد مشہور ہیں۔ سنہ ٩ھ میں تبوک جاتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی اجاڑ بستیوں میں سے گزرے تھے۔ مسند احمد میں ہے کہ { جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تبوک کے میدان میں اترے۔ لوگوں نے ثمودیوں کے گھروں کے پاس ڈیرے ڈالے اور انہی کے کنوؤں کے پانی سے آٹے گوندھے، ہانڈیاں چڑھائیں تو آپ نے حکم دیا کہ سب ہانڈیاں الٹ دی جائیں اور گندھے ہوئے آٹے اونٹوں کو کھلا دیئے جائیں۔ پھر فرمایا: یہاں سے کوچ کرو اور اس کنوئیں کے پاس ٹھہرو جس سے صالح علیہ السلام کی اونٹنی پانی پیتی تھی اور فرمایا: آئندہ عذاب والی بستیوں میں پڑاؤ نہ کیا کرو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اسی عذاب کے شکار تم بھی بن جاؤ۔ } ۱؎ [مسند احمد:117/2:صحیح] ‏‏‏‏

ایک روایت میں ہے کہ { ان کی بستیوں سے روتے اور ڈرتے ہوئے گزرو کہ مبادا وہی عذاب تم پر آ جائیں جو ان پر آئے تھے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4420] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے: { غزوہ تبوک میں لوگ بہ عجلت ہجر کے لوگوں کے گھروں کی طرف لپکے۔ آپ نے اسی وقت یہ آواز بلند کرنے کا کہا: «اَلصَلٰوۃُ جَامِعةٌ» جب لوگ جمع ہو گئے تو آپ نے فرمایا کہ ان لوگوں کے گھروں میں کیوں گھسے جا رہے ہو جن پر غضب الٰہی نازل ہوا۔ راوی حدیث ابوکبشہ انماری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک نیزہ تھا۔ میں نے یہ سن کر عرض کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم تو صرف تعجب کے طور پر انہیں دیکھنے چلے گئے تھے۔ آپ نے فرمایا: میں تمہیں اس سے بھی تعجب خیز چیز بتا رہا ہوں۔ تم میں سے ہی ایک شخص ہے جو تمہیں وہ چیز بتا رہا ہے جو گزر چکیں اور وہ خبریں دے رہا ہے جو تمہارے سامنے ہیں اور جو تمہارے بعد ہونے والی ہیں۔ پس تم ٹھیک ٹھاک رہو اور سیدھے چلے جاؤ۔ تمہیں عذاب کرتے ہوئے بھی اللہ تعالیٰ کو کوئی پرواہ نہیں۔ یاد رکھو! ایسے لوگ آئیں گے جو اپنی جانوں سے کسی چیز کو دفع نہ کر سکیں گے۔ } ۱؎ [مسند احمد:231/4:حسن] ‏‏‏‏ سیدنا ابوکبشہ رضی اللہ عنہ کا نام عمر بن سعد ہے اور کہا گیا ہے کہ عامر بن سعد ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ ایک روایت میں ہے کہ { ہجر کی بستی کے پاس آتے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معجزے نہ طلب کرو۔ دیکھو! قوم صالح نے معجزہ طلب کیا جو ظاہر ہوا یعنی اونٹنی جو اس راستے سے آتی تھی اور اس راستے سے جاتی تھی لیکن ان لوگوں نے اپنے رب کے حکم سے سرتابی کی اور اونٹنی کی کوچیں کاٹ دیں۔ ایک دن اونٹنی ان کا پانی پیتی تھی اور ایک دن یہ سب اس کا دودھ پیتے تھے۔ اس اونٹنی کو مار ڈالنے پر ان پر ایک چیخ آئی اور یہ جتنے بھی تھے، سب کے سب ڈھیر ہو گئے۔ بجز اس ایک شخص کے جو حرم شریف میں تھا۔ لوگوں نے پوچھا: اس کا نام کیا تھا؟ فرمایا: ابورغال، یہ بھی جب حد حرم سے باہر آیا تو اسے بھی وہی عذاب ہوا۔ } ۱؎ [مسند احمد:296/3:حسن] ‏‏‏‏ یہ حدیث صحاح ستہ میں تو نہیں لیکن ہے مسلم شریف کی شرط پر۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ ثمودی قبیلے کی طرف سے ان کے بھائی صالح علیہ السلام کو نبی بنا کر بھیجا گیا۔ تمام نبیوں کی طرح آپ نے بھی اپنی امت کو سب سے پہلے توحید الٰہی سکھائی کہ فقط اس کی عبادت کریں۔ اس کے سوا اور کوئی لائق عبادت نہیں۔ اللہ کا فرمان ہے: جتنے بھی رسول آئے سب کی طرف یہی وحی کی جاتی رہی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، صرف میری ہی عبادت کرو۔ اور ارشاد ہے: ہم نے ہر امت میں رسول بھیجے کہ اللہ ہی کی عبادت کرو اور اس کے سوا اوروں کی عبادت سے بچو۔

صالح علیہ السلام فرماتے ہیں: لوگو! تمہارے پاس دلیل الٰہی آ چکی جس میں میری سچائی ظاہر ہے۔ ان لوگوں نے صالح علیہ السلام سے معجزہ طلب کیا تھا کہ ایک سنگلاخ چٹان جو ان کی بستی کے ایک کنارے پڑی تھی جس کا نام کاتبہ تھا، اس سے آپ ایک اونٹنی نکالیں جو گابھن ہو (‏‏‏‏دودھ دینے والی اونٹنی جو دس ماہ کی حاملہ ہو) صالح علیہ السلام نے ان سے فرمایا کہ اگر ایسا ہو جائے تو تم ایمان قبول کر لو گے؟ انہوں نے پختہ وعدے کئے اور مضبوط عہد و پیمان کئے۔ صالح علیہ السلام نے نماز پڑھی، دعا کی۔ ان سب کے دیکھتے ہی چٹان نے ہلنا شروع کیا اور چٹخ گئی۔ اس کے پیچھے سے ایک اونٹنی نمودار ہوئی۔ اسے دیکھتے ہی ان کے سردار جندع بن عمرو نے تو اسلام قبول کر لیا اور اس کے ساتھیوں نے بھی۔ باقی جو اور سردار تھے وہ ایمان لانے کیلئے تیار تھے مگر ذواب بن عمرو بن لبید نے اور حباب نے جو بتوں کا مجاور تھا اور رباب بن صمعر بن جلھس وغیرہ نے انہیں روک دیا۔ جندع کا بھتیجا شہاب نامی، یہ ثمودیوں کا بڑا عالم فاضل اور شریف شخص تھا۔ اس نے بھی ایمان لانے کا ارادہ کر لیا۔ انہی بدبختوں نے اسے بھی روکا جس پر ایک مومن ثمودی مہوش بن عثمہ نے کہا کہ آل عمرو نے شہاب کو دین حق کی دعوت دی۔ قریب تھا کہ وہ مشرف بہ اسلام ہو جائے اور اگر ہو جاتا تو اس کی عزت سو اور ہو جاتی مگر بدبختوں نے اسے روک دیا اور نیکی سے ہٹا کر بدی پر لگا دیا۔ اس حاملہ اونٹنی کو اس وقت بچہ ہوا۔ ایک مدت تک دونوں ان میں رہے۔ ایک دن اونٹنی ان کا پانی پیتی، اس دن اس قدر دودھ دیتی کہ یہ لوگ اپنے سب برتن بھر لیتے۔ دوسرے دن نی پیتی اور ثمودیوں کے اور جانور پی لیتے۔جیسے قرآن میں ہے آیت «وَنَبِّئْهُمْ اَنَّ الْمَاءَ قِسْمَةٌ بَيْنَهُمْ كُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ» ۱؎ [54-القمر:28] ‏‏‏‏ اور آیت میں ہے «قَالَ هٰذِهٖ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَّلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ» ۱؎ [26-الشعراء:155] ‏‏‏‏ ’ یہ ہے اونٹنی، اس کے اور تمہارے پانی پینے کے دن تقسیم شدہ اور مقررہ ہیں۔ ‘ یہ اونٹنی ثمودیوں کی بستی حجر کے اردگرد چرتی چگتی تھی۔ ایک راہ جاتی، دوسری راہ آتی۔ یہ بہت ہی موٹی تازی اور ہیبت والی اونٹنی تھی۔ جس راہ سے گزرتی سب جانور ادھر ادھر ہو جاتے۔ کچھ زمانہ گزرنے کے بعد ان اوباشوں نے ارادہ کیا کہ اس کو مار ڈالیں تاکہ ہر دن ان کے جانور برابر پانی پی سکیں۔ ان اوباشوں کے ارادوں پر سب نے اتفاق کیا۔ یہاں تک کہ عورتوں اور بچوں نے بھی ان کی ہاں میں ہاں ملائی اور انہیں شہ دی کہ ہاں اس پاپ کو کاٹ دو۔ اس اونٹنی کو مار ڈالو۔

چنانچہ قرآن کریم میں ہے «فَكَذَّبُوْهُ فَعَقَرُوْهَا ١ فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُمْ بِذَنْبِهِمْ فَسَوّٰىهَا» ۱؎ [91-الشمس:14] ‏‏‏‏ ’ قوم صالح نے اپنے نبی کو جھٹلایا اور اونٹنی کی کوچیں کاٹ کر اسے مار ڈالا تو ان کے پروردگار نے ان کے گناہوں کے بدلے ان پر ہلاکت نازل فرمائی اور ان سب کو یکساں کر دیا۔ ‘ اور آیت میں ہے کہ ہم نے ثمودیوں کو اونٹنی دی جو ان کے لیے پوری سمجھ بوجھ کی چیز تھی لیکن انہوں نے اس پر ظلم کیا یہاں بھی فرمایا کہ انہوں نے اس اونٹنی کو مار ڈالا۔ پس اس فعل کی اسناد سارے ہی قبیلے کی طرف ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ چھوٹے بڑے سب اس امر پر متفق تھے۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ وغیرہ کا فرمان ہے کہ اس کے قتل کی وجہ یہ ہوئی کہ عنیزہ بنت مجلز جو ایک بڑھیا کافرہ تھی اور صالح علیہ السلام سے بڑی دشمنی رکھتی تھی، اس کی لڑکیاں بہت خوبصورت تھیں اور تھی بھی یہ عورت مالدار۔ اس کے خاوند کا نام ذواب بن عمرو تھا جو ثمودیوں کا ایک سردار تھا یہ بھی کافر تھا۔ اسی طرح ایک اور عورت تھی جس کا نام صدوف بنت محیا بن مختار تھا۔ یہ بھی حسن کے علاوہ مال اور حسب نسب میں بڑھی ہوئی تھی، اس کے خاوند مسلمان ہو گئے تھے رضی اللہ عنہ۔ اس سرکش عورت نے ان کو چھوڑ دیا۔ اب یہ دونوں عورتیں لوگوں کو اکساتی تھیں کہ کوئی آمادہ ہو جائے اور صالح علیہ السلام کی اونٹنی کو قتل کر دے۔ صدوف نامی عورت نے ایک شخص حباب کو بلایا اور اس سے کہا کہ میں تیرے گھر آ جاؤں گی، اگر تو اس اونٹنی کو قتل کر دے لیکن اس نے انکار کر دیا۔ اس پر اس نے مصدع بن مہرج بن محیاء کو بلایا جو اس کے چچا کا لڑکا تھا اور اسے بھی اسی بات پر آمادہ کیا۔ یہ خبیث اس کے حسن و جمال کا مفتون تھا، اس برائی پر آمادہ ہو گیا۔ ادھر عنیزہ نے قدار بن سالف بن جذع کو بلا کر اس سے کہا کہ میری ان خوبصورت نوجوان لڑکیوں میں سے جسے تو پسند کرے، اسے میں تجھے دے دوں گی، اسی شرط پر کہ تو اس اونٹنی کی کوچیں کاٹ ڈال۔ یہ خبیث بھی آمادہ ہو گیا۔ یہ تھا بھی زناکاری کا بچہ، سالف کی اولاد میں نہ تھا۔ صھیاد نامی ایک شخص سے اس کی بدکار ماں نے زناکاری کی تھی، اسی سے یہ پیدا ہوا تھا۔ اب دونوں چلے اور اہل ثمود اور دوسرے شریروں کو بھی اس پر آمادہ کیا۔ چنانچہ سات شخص اور بھی اس پر آمادہ ہو گئے اور یہ نو فسادی شخص اس بد ارادے پر تل گئے۔ جیسے قرآن کریم میں ہے «وَكَانَ فِي الْمَدِيْنَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ يُّفْسِدُوْنَ فِي الْاَرْضِ وَلَا يُصْلِحُوْنَ» ۱؎ [27-النمل:49-50] ‏‏‏‏ اس شہر میں نو شخص تھے جن میں اصلاح کا مادہ ہی نہ تھا، سراسر فسادی ہی تھے۔ چونکہ یہ لوگ قوم کے سردار تھے۔ ان کے کہنے سننے سے تمام کفار بھی اس پر راضی ہو گئے اور اونٹنی کے واپس آنے کے راستے میں یہ دونوں شریر اپنی اپنی کمین گاہوں میں بیٹھ گئے۔ جب اونٹنی نکلی تو پہلے مصدع نے اسے تیر مارا جو اس کی ران کی ہڈی میں پیوست ہو گیا۔ اسی وقت عنیزہ نے اپنی خوبصورت لڑکی کو کھلے منہ قدار کے پاس بھیجا۔ اس نے کہا: قدار کیا دیکھتے ہو؟ اٹھو اور اس کا کام تمام کر دو۔ یہ اس کا منہ دیکھتے ہی دوڑا اور اس کے دونوں پچھلے پاؤں کاٹ دیئے۔ اونٹنی چکرا کر گری اور ایک آواز نکالی جس سے اس کا بچہ ہوشیار ہو گیا اور اس راستے کو چھوڑ کر پہاڑی پر چلا گیا۔ یہاں قدار نے اونٹنی کا گلا کاٹ دیا اور وہ مر گئی۔ اس کا بچہ پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ کر تین مربتہ بلبلایا۔

حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس نے اللہ کے سامنے اپنی ماں کے قتل کی فریاد کی۔ پھر جس چٹان سے نکلا تھا، اسی میں سما گیا۔ یہ روایت بھی ہے کہ اسے بھی اس کی ماں کے ساتھ ہی ذبح کر دیا گیا تھا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ صالح علیہ السلام کو جب یہ خبر پہنچی تو آپ گھبرائے ہوئے موقعہ پر پہنچے۔ دیکھا کہ اونٹنی بےجان پڑی ہے۔ آپ کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے اور فرمایا بس اب تین دن میں تم ہلاک کر دیئے جاؤ گے، ہوا بھی یہی۔ بدھ کے دن ان لوگوں نے اونٹنی کو قتل کیا تھا اور چونکہ کوئی عذاب نہ آیا۔ اس لیے اترا گئے اور ان مفسدوں نے ارادہ کر لیا کہ آج شام کو صالح علیہ السلام کو بھی مار ڈالو۔ اگر واقعی ہم ہلاک ہونے والے ہی ہیں تو پھر یہ کیوں بچا رہے؟ اگر ہم پر عذاب نہیں آتا تو بھی آؤ، روز روز کے اس جھنجھٹ سے پاک ہو جائیں۔

چنانچہ قرآن کریم کا بیان ہے کہ ان لوگوں نے مل کر مشورہ کیا اور پھر قسمیں کھا کر اقرار کیا کہ رات کو صالح کے گھر پر چھاپہ مارو اور اسے اور اس کے گھرانے کو تہہ تیغ کرو اور صاف انکار کر دو کہ ہمیں کیا خبر کہ کس نے مارا؟ اللہ تعالیٰ فرماتے ہے: ان کے اس مکر کے مقابل ہم نے بھی مکر کیا اور یہ ہمارے مکر سے بالکل بےخبر رہے۔ اب انجام دیکھ لو کہ کیا ہوا؟ رات کو یہ اپنی بد نیتی سے صالح علیہ السلام کے گھر کی طرف چلے۔ آپ کا گھر پہاڑ کی بلندی پر تھا۔ ابھی یہ اوپر چڑھ ہی رہے تھے جو اوپر سے ایک چٹان پتھر کی لڑھکتی ہوئی آئی اور سب کو ہی پیس ڈالا۔ ان کا تو یہ حشر ہوا۔ ادھر جمعرات کے دن تمام ثمودیوں کے چہرے زرد پڑ گئے۔ جمعہ کے دن ان کے چہرے آگ جیسے سرخ ہو گئے اور ہفتہ کے دن جو مہلت کا آخری دن تھا، ان کے منہ سیاہ ہو گئے۔ تین دن جب گزر گئے تو چوتھا دن اتوار صبح ہی صبح سورج کے روشن ہوتے ہی اوپر آسمان سے سخت کڑاکا ہوا جس کی ہولناک، دہشت انگیز چنگھاڑ نے ان کے کلیجے پھاڑ دیئے، ساتھ ہی نیچے سے زبردست زلزلہ آیا۔ ایک ہی ساعت میں ایک ساتھ ہی ان سب کا ڈھیر ہو گیا۔ مردوں سے مکانات، بازار، گلی، کوچے بھر گئے۔ مرد، عورت، بچے، بوڑھے اول سے آخر تک سارے کے سارے تباہ ہو گئے۔ شان رب دیکھئیے کہ اس واقعہ کی خبر دنیا کو پہنچانے کے لیے ایک کافرہ عورت بچا دی گئی۔ یہ بھی بڑی خبیثہ تھی، صالح علیہ السلام کی عداوت کی آگ سے بھری ہوئی تھی، اس کی دونوں ٹانگیں نہیں تھیں لیکن ادھر عذاب آیا، ادھر اس کے پاؤں کھل گئے، اپنی بستی سے سرپٹ بھاگی اور تیز دوڑتی ہوئی دوسرے شہر میں پہنچی اور وہاں جا کر ان سب کے سامنے سارا واقعہ بیان کر ہی چکنے کے بعد ان سے پانی مانگا۔ ابھی پوری پیاس بھی بجھی نہ تھی کہ عذاب الٰہی آ پڑا اور وہیں ڈھیر ہو کر رہ گئی۔ ہاں ابورغال نامی ایک شخص اور بچ گیا تھا۔ یہ یہاں نہ تھا حرم کی پاک زمین میں تھا لیکن کچھ دنوں کے بعد جب یہ اپنے کسی کام کی غرض سے حد حرم سے باہر آیا، اسی وقت آسمان سے پتھر آیا اور اسے بھی جہنم واصل کیا۔ ثمودیوں میں سے سوائے صالح علیہ السلام اور ان کے مومن صحابہ رضی اللہ عنہم کے اور کوئی بھی نہ بچا۔ ابورغال کا واقعہ اس سے پہلے حدیث سے بیان ہو چکا ہے۔ قبیلہ ثقیف جو طائف میں ہے، مذکور ہے کہ یہ اسی نسل میں سے ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:14823/12:معضل ضعیف] ‏‏‏‏ عبدالرزاق میں ہے کہ اس کی قبر کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب گزرے تو فرمایا: جانتے ہو یہ کس کی قبر ہے؟ لوگوں نے جواب دیا کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ علم ہے۔ آپ نے فرمایا: یہ ابورغال کی قبر ہے۔ یہ ایک ثمودی شخص تھا، اپنی قوم کے عذاب کے وقت حرم میں تھا۔ اس وجہ سے عذاب الٰہی سے بچ رہا لیکن حرم شریف سے نکلا تو اسی وقت اپنی قوم کے عذاب سے یہ بھی ہلاک ہوا اور یہیں دفن کیا گیا اور اس کے ساتھ اس کی سونے کی لکڑی بھی دفنا دی گئی۔ چنانچہ لوگوں نے اس گڑھے کو کھود کر اس میں سے وہ لکڑی نکال لی۔

اور حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا تھا: ثقیف قبیلہ اسی کی اولاد ہے۔ ایک مرسل حدیث میں بھی یہ ذکر موجود ہے۔ یہ بھی ہے کہ آپ نے فرمایا تھا: { اس کے ساتھ سونے کی شاخ دفن کر دی گئی ہے۔ یہی نشان اس کی قبر کا ہے، اگر تم اسے کھودو تو وہ شاخ ضرور نکل آئے گی چنانچہ بعض لوگوں نے اسے کھودا اور وہ شاخ نکال لی۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:3088، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ ابوداؤد میں بھی یہ روایت ہے اور حسن عزیز ہے لیکن میں کہتا ہوں: اس حدیث کے وصل کا صرف ایک طریقہ بجیر بن ابی بحیر کا ہے اور یہ صرف اسی حدیث کے ساتھ معروف ہے۔ اور بقول امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ سوائے اسماعیل بن امیہ کے، اس سے اور کسی نے روایت نہیں کیا۔ احتمال ہے کہ کہیں اس حدیث کے مرفوع کرنے میں خطا نہ ہو۔ یہ عبداللہ بن عمرو ہی کا قول ہو اور پھر اس صورت میں یہ بھی ممکنات سے ہے کہ انہوں نے اسے ان دو دفتروں سے لے لیا ہو جو انہیں جنگ یرموک میں ملے تھے۔ میرے استاد شیخ ابوالحجاج رحمہ اللہ اس روایت کو پہلے تو حسن عزیز کہتے تھے لیکن جب میں نے ان کے سامنے یہ حجت پیش کی تو آپ نے فرمایا: بیشک ان امور کا اس میں احتمال ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
78۔ 1 یہاں رَجْفَہ، ُ (زلزلے) کا ذکر ہے۔ دوسرے مقام پر صَیْحَۃ، ُ، ُ (چیخ) کا۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں قسم کا عذاب ان پر آیا۔ اوپر سے سخت چیخ اور نیچے سے زلزلہ۔ ان دونوں عذابوں نے انہیں تہس نہس کرکے رکھ دیا۔
(آیت 78) ➊ {فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ ……:} سورۂ ہود (۶۵، ۶۶) میں ہے کہ صالح علیہ السلام نے جب دیکھا کہ انھوں نے اونٹنی کو کاٹ ڈالا ہے تو انھیں تین دن کی مہلت دی، جب یہ مہلت پوری ہو گئی تو ان پر عذاب نازل ہوا اور اﷲ تعالیٰ نے صالح علیہ السلام اور آپ کے اہل ایمان ساتھیوں کو بچا لیا، ان کے سوا ساری قوم ہلاک ہو گئی۔ تفاسیر و احادیث میں ہے کہ ان میں سے صرف ایک شخص ابو رغال ان دنوں حرم میں مقیم تھا، وہ عذاب سے محفوظ رہا، لیکن جب وہ حرم چھوڑ کر طائف کی طرف روانہ ہوا تو وہ بھی ہلاک ہو گیا اور راستے میں دفن کر دیا گیا۔ امیر المومنین عمر رضی اللہ عنہ نے ذکر فرمایا کہ راستے سے گزرنے والے اس کی قبر پر سنگ باری کرتے تھے۔ [ ابن حبان: ۴۶۳ ] جابر بن عبد اﷲ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اﷲ تعالیٰ نے آسمان کے نیچے ان سب کو ہلاک کر دیا، صرف ایک شخص بچا جو حرم میں تھا۔“ پوچھا گیا: ”وہ کون تھا؟“ تو آپ نے فرمایا: ”وہ ابو رغال تھا، لیکن جیسے ہی وہ حرم سے نکلا عذاب نے اسے بھی پکڑ لیا۔“ [ مستدرک حاکم: 320/2، ح: ۳۲۴۸۔ أحمد: 296/3، ح: ۱۴۱۶۰ ] شعیب ارنؤوط اور ان کے ساتھیوں نے اس حدیث کو قوی کہا ہے۔ یہاں {” الرَّجْفَةُ “} (زلزلے) کا ذکر ہے، سورۂ ہود (۶۷) میں{ ” الصَّيْحَةُ “} (چیخ) کا ذکر ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس قوم پر دو طرح کا عذاب آیا، اوپر سے صیحہ (چیخ) اور نیچے سے زلزلہ، یا وہ خوف ناک آواز یعنی چیخ زلزلے ہی کی تھی، جیسا کہ دیکھا گیا ہے کہ زلزلے کے ساتھ خوف ناک آواز بھی ہوتی ہے۔ ➋ { ” جٰثِمِيْنَ “ } یہ {”جُثُوْمٌ “} سے اسم فاعل ہے، یہ انسان اور پرندوں کے لیے انھی معنوں میں استعمال ہوتا ہے جن میں اونٹوں کے لیے {” بُرُوْكٌ “} ہوتا ہے، یعنی سینے کے بل گرنے والے یا اپنی جگہ سے نہ ہل سکنے والے۔ یعنی وہ اپنے گھٹنوں پر منہ کے بل گرے ہوئے تھے، ان میں کوئی حرکت باقی نہ رہی۔ (طنطاوی)
فَتَوَلّٰی عَنۡہُمۡ وَ قَالَ یٰقَوۡمِ لَقَدۡ اَبۡلَغۡتُکُمۡ رِسَالَۃَ رَبِّیۡ وَ نَصَحۡتُ لَکُمۡ وَ لٰکِنۡ لَّا تُحِبُّوۡنَ النّٰصِحِیۡنَ ﴿۷۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور صالحؑ یہ کہتا ہوا ان کی بستیوں سے نکل گیا کہ "اے میری قوم، میں نے اپنے رب کا پیغام تجھے پہنچا دیا اور میں نے تیری بہت خیر خواہی کی، مگر میں کیا کروں کہ تجھے اپنے خیر خواہ پسند ہی نہیں ہیں"
مولانا محمد جوناگڑھی
اس وقت (صالح علیہ السلام) ان سے منھ موڑ کر چلے، اور فرمانے لگے کہ اے میری قوم! میں نے تو تم کو اپنے پروردگار کا حکم پہنچادیا تھا اور میں نے تمہاری خیرخواہی کی لیکن تم لوگ خیرخواہوں کو پسند نہیں کرتے
احمد رضا خان بریلوی
تو صالح نے ان سے منہ پھیرا اور کہا اے میری قوم! بیشک میں نے تمہیں اپنے رب کی رسالت پہنچادی اور تمہارا بھلا چاہا مگر تم خیر خواہوں کے غرضی (پسند کرنے والے) ہی نہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
پس وہ (صالح) یہ کہتے ہوئے وہاں سے منہ موڑ کر نکل گئے اے میری قوم! میں نے تمہیں اپنے پروردگار کا پیغام پہنچا دیا اور تم کو نصیحت کی مگر تم نصیحت کرنے والے خیر خواہوں کو پسند ہی نہیں کرتے۔
عبدالسلام بن محمد
تو وہ ان سے واپس لوٹا اور اس نے کہا اے میری قوم! بلاشبہ یقینا میں نے تمھیں اپنے رب کا پیغام پہنچا دیا اور میں نے تمھاری خیرخواہی کی اور لیکن تم خیرخواہوں کو پسند نہیں کرتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
صالح علیہ السلام ہلاکت کے اسباب کی نشاندہی کرتے ہیں ٭٭

قوم کی ہلاکت دیکھ کر افسوس و حسرت اور آخری ڈانٹ ڈپٹ کے طور پر پیغمبر حق صالح علیہ السلام فرماتے ہیں کہ نہ تمہیں رب کی رسالت نے فائدہ پہنچایا، نہ میری خیر خواہی ٹھکانے لگی۔ تم اپنی بےسمجھی سے دوست کو دشمن سمجھ بیٹھے اور آخر اس روز بد کو دعوت دے لی۔ چنانچہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی جب بدری کفار پر غالب آئے، وہیں تین دن تک ٹھہرے رہے۔ پھر رات کے آخری وقت اونٹنی پر زین کس کر آپ تشریف لے چلے اور جب اس گھاٹی کے پاس پہنچے جہاں ان کافروں کی لاشیں ڈالی گئی تھیں تو آپ ٹھہر گئے اور فرمانے لگے: اے ابوجہل، اے عتبہ، اے شیبہ، اے فلاں، اے فلاں! بتاؤ رب کے وعدے تم نے درست پائے؟ میں نے تو اپنے رب کے فرمان کی صداقت اپنی آنکھوں دیکھ لی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ ان جسموں سے باتیں کر رہے ہیں جو مردار ہو گئے؟ آپ نے فرمایا: اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ میں جو کچھ ان سے کہہ رہا ہوں، اسے یہ تم سے زیادہ سن رہے ہیں لیکن جواب کی طاقت نہیں۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3976] ‏‏‏‏ سیرت کی کتابوں میں ہے کہ { آپ نے فرمایا: تم نے میرا خاندان ہونے کے باوجود میرے ساتھ وہ برائی کی کہ کسی خاندان نے اپنے پیغمبر کے ساتھ نہ کی۔ تم نے میرے ہم قبیلہ ہونے کے باوجود مجھے جھٹلایا اور دوسرے لوگوں نے مجھے سچا سمجھا۔ تم نے رشتہ داری کے باوجود مجھے دیس سے نکال دیا اور دوسرں نے مجھے اپنے ہاں جگہ دی۔ افسوس! تم اپنے ہو کر مجھ سے برسر جنگ رہے اور دوسروں نے میری امداد کی۔ پس تم اپنے نبی کے بدترین قبیلے ہو۔ } ۱؎ [سیرة ابن هشام:212/2:معضل ضعیف] ‏‏‏‏ یہی صالح علیہ السلام اپنی قوم سے فرما رہے ہیں کہ میں نے تو ہمدردی کی انتہا کر دی، اللہ کے پیغام کی تبلیغ میں تمہاری خیر خواہی میں کوئی کوتاہی نہیں کی لیکن آہ! نہ تم نے اس سے کوئی فائدہ اٹھایا، نہ حق کی پیروی کی، نہ اپنے خیرخواہ کی مانی۔ بلکہ اسے اپنا دشمن سمجھا۔ بعض مفسرین کا قول ہے کہ ہر نبی جب دیکھتا کہ اب میری امت پر عام عذاب آنے والا ہے، انہیں چھوڑ کر نکل کھڑا ہوتا اور حرم مکہ میں پناہ لیتا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

مسند احمد میں ہے کہ { حج کے موقعہ پر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وادی عسفان پہنچے تو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا کہ یہ کون سی وادی ہے؟ آپ نے جواب دیا: وادی عسفان۔ فرمایا: میرے سامنے سے ہود اور صالح علیہما السلام ابھی ابھی گزرے، اونٹنیوں پر سوار تھے جن کی نکیلیں کھجور کے پتوں کی تھیں۔ کمبلوں کے تہ بند بندھے ہوئے اور موٹی چادریں اوڑھے ہوئے تھے۔ لبیک پکارتے ہوئے بیت اللہ شریف کی طرف تشریف لے جا رہے تھے۔ } ۱؎ [مسند احمد:232/1:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ حدیث غریب ہے۔ صحاح ستہ میں نہیں۔
79۔ 1 یہ یا تو ہلاکت سے قبل کا خطاب ہے یا پھر ہلاکت کے بعد اسی طرح کا خطاب ہے، جس طرح رسول اللہ نے جنگ بدر ختم ہونے کے بعد جنگ بدر میں مشرکین کی لاشوں سے خطاب فرمایا تھا۔
(آیت 79){ فَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ يٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ......:} یہ اسی قسم کا خطاب تھا جیسا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے مشرک مقتولین سے کیا تھا۔ دیکھیے اسی سورت کی آیت (۴۳) کی تفسیر۔ دوسرے تمام انبیاء کے ذکر میں {”رِسٰلٰتِ رَبِّيْ “} جمع کا لفظ ہے اور یہاں{ ” رِسَالَةَ رَبِّيْ “} واحد ہے۔ بقاعی نے فرمایا، اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا ایک ہی معجزہ تھا، یعنی اونٹنی۔(نظم الدرر) (واﷲ اعلم)
وَ لُوۡطًا اِذۡ قَالَ لِقَوۡمِہٖۤ اَتَاۡتُوۡنَ الۡفَاحِشَۃَ مَا سَبَقَکُمۡ بِہَا مِنۡ اَحَدٍ مِّنَ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۸۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور لوطؑ کو ہم نے پیغمبر بنا کر بھیجا، پھر یاد کرو جب اُس نے اپنی قوم سے کہا "کیا تم ایسے بے حیا ہو گئے ہو، کہ وہ فحش کام کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا میں کسی نے نہیں کیا؟
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہم نے لوط (علیہ السلام) کو بھیجا جبکہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم ایسا فحش کام کرتے ہو جس کو تم سے پہلے کسی نے دنیا جہان والوں میں سے نہیں کیا
احمد رضا خان بریلوی
اور لوط کو بھیجا جب اس نے اپنی قوم سے کہا کیا وہ بے حیائی کرتے ہو جو تم سے پہلے جہان میں کسی نے نہ کی،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے لوط کو بھیجا انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ تم ایسا بے حیائی کا کام کرتے ہو کہ ایسا کام تم سے پہلے دنیا والوں میں سے کسی نے نہیں کیا۔
عبدالسلام بن محمد
اور لوط کو (بھیجا)، جب اس نے اپنی قوم سے کہا کیا تم اس بے حیائی کا ارتکاب کرتے ہو جو تم سے پہلے جہانوں میں سے کسی نے نہیں کی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
لوط علیہ السلام کی بدنصیب قوم ٭٭

فرمان ہے کہ لوط علیہ السلام کو بھی ہم نے ان کی قوم کی طرف اپنا رسول بنا کر بھیجا۔ تو ان کے واقعہ کو بھی یاد کر۔ لوط علیہ السلام ہاران بن آزر کے بیٹے تھے، ابراہیم علیہ السلام کے بھتیجے تھے۔ آپ ہی کے ہاتھ پر ایمان قبول کیا تھا اور آپ ہی کے ساتھ شام کی طرف ہجرت کی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنا نبی بنا کر سدوم نامی بستی کی طرف بھیجا۔ آپ نے انہیں اور آس پاس کے لوگوں کو اللہ کی توحید اور اپنی اطاعت کی طرف بلایا۔ نیکیوں کے کرنے، برائیوں کو چھوڑنے کا حکم دیا۔ جن میں ایک برائی اغلام بازی تھی جو ان سے پہلے دنیا سے مفقود تھی۔ اس بدکاری کے موجد یہی ملعون لوگ تھے۔ عمرو بن دینار رحمہ اللہ یہی فرماتے ہیں۔ جامع دمشق کے بانی خلیفہ ولید بن عبدالملک کہتے ہیں: اگر یہ خبر قرآن میں نہ ہوتی تو اس بات کو کبھی نہ مانتا کہ مرد مرد سے حاجت روائی کر لے۔ اسی لیے لوط علیہ السلام نے ان حرام کاروں سے فرمایا کہ تم سے پہلے تو یہ ناپاک اور خبیث فعل کسی نے نہیں کیا۔ عورتوں کو جو اس کام کے لئے تھیں، چھوڑ کر تم مردوں پر ریجھ رہے ہو؟ اس سے بڑھ کر اسراف اور جہالت اور کیا ہو گی؟ چنانچہ اور آیت میں ہے کہ آپ نے فرمایا: ’ یہ ہیں میری بچیاں یعنی تمہاری قوم کی عورتیں۔ ‘ ۱؎ [15-الحجر:71] ‏‏‏‏ لیکن انہوں نے جواب دیا کہ ہمیں ان کی چاہت نہیں۔ ہم تو تمہارے ان مہمان لڑکوں کے خواہاں ہیں۔ مفسرین فرماتے ہیں: جس طرح مرد مردوں میں مشغول تھے، عورتیں عورتوں میں پھنسی ہوئی تھیں۔
80۔ 1 یہ حضرت لوط ؑ حضرت ابراہیم ؑ کے بھتیجے تھے اور حضرت ابراہیم ؑ پر ایمان لانے والوں میں سے تھے پھر ان کو بھی اللہ تعالیٰ نے ایک علاقے میں نبی بنا کر بھیجا۔ یہ علاقہ اردن اور بیت المقدس کے درمیان تھا جسے سدوم کہا جاتا ہے، یہ زمین سرسبز اور شاداب تھی اور یہاں ہر طرح کے غلے اور پھلوں کی کثرت تھی قرآن نے اس جگہ کو مُئْوتَفِکَۃ، ُ یا مؤْتَفِکَات، ُ کے الفاظ سے ذکر کیا ہے۔ حضرت لوط ؑ نے غالبًا سب سے پہلے یا دعوت توحید کے ساتھ ہی، (جو ہر نبی کی بنیادی دعوت تھی اور سب سے پہلے وہ اس کی دعوت اپنی قوم کو دیتے تھے۔ جیسا کہ پچھلے نبیوں کے حوالے میں، جن کا ذکر ابھی گزرا ہے، دیکھا جاسکتا ہے۔) دوسری بڑی خرابی مردوں کے ساتھ بدفعلی، قوم لوط میں تھی، اس کی شناخت و قباحت بیان فرمائی۔ اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ ایک ایسا گناہ ہے جسے دنیا میں سب سے پہلے اسی قوم لوط نے کیا، اس گناہ کا نام ہی لواطت پڑگیا۔ اس لئے مناسب سمجھا گیا کہ پہلے قوم کو اس جرم کی خطرناکی سے آگاہ کیا جائے۔ علاوہ ازیں حضرت ابراہیم ؑ کے ذریعے دعوت توحید بھی یہاں پہنچ چکی ہوگی، لواطت کی سزا میں ائمہ کے درمیان اختلاف ہے، بعض ائمہ کے نزدیک اس کی وہی سزا ہے جو زنا کی ہے یعنی مجرم اگر شادی شدہ ہو تو رجم، غیر شادی شدہ ہو تو سو کوڑے۔ بعض کے نزدیک اس کی سزا ہی رجم ہے چاہے مجرم کیسا بھی ہو اور بعض کے نزدیک فاعل اور مفعول دونوں کو قتل کردینا چاہئے۔ البتہ امام ابوحنیفہ صرف تعزیری سزا کے قائل ہیں، حد کے نہیں۔
(آیت 80) ➊ { وَ لُوْطًا:} ابراہیم علیہ السلام جب آگ سے بحفاظت نکل آئے تو لوط علیہ السلام ان پر ایمان لے آئے۔ ابراہیم علیہ السلام نے اتنا بڑا معجزہ دیکھنے کے باوجود قوم کے ایمان نہ لانے پر عراق سے ہجرت اختیار فرمائی۔ دیکھیے سورۂ عنکبوت (۲۶) ان کے ساتھ ان کی بیوی سارہ اور لوط علیہما السلام بھی تھے۔ اﷲ تعالیٰ نے لوط علیہ السلام کو سدوم والوں کی طرف مبعوث فرمایا۔ جو بحیرہ مردار کے قریب کسی جگہ واقع تھا اور نہایت آباد اور زرخیز تھا۔ ➋ { اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ:} اہل سدوم کو لوط علیہ السلام کی قوم اس لیے کہا گیا ہے کہ وہ ان کی طرف مبعوث تھے، ورنہ وہ تو عراق سے آئے تھے، یا شاید ان کا ان سے سسرالی رشتہ ہوگا، کیونکہ اگر وہاں ان کا کوئی نسبی رشتہ ہوتا تو وہ اس بے چارگی کا اظہار نہ فرماتے جس کا ذکر سورۂ ہود (۸۰) میں ہے۔
اِنَّکُمۡ لَتَاۡتُوۡنَ الرِّجَالَ شَہۡوَۃً مِّنۡ دُوۡنِ النِّسَآءِ ؕ بَلۡ اَنۡتُمۡ قَوۡمٌ مُّسۡرِفُوۡنَ ﴿۸۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے اپنی خواہش پوری کرتے ہو حقیقت یہ ہے کہ تم بالکل ہی حد سے گزر جانے والے لوگ ہو"
مولانا محمد جوناگڑھی
تم مردوں کے ساتھ شہوت رانی کرتے ہو عورتوں کو چھوڑ کر، بلکہ تم تو حد ہی سے گزر گئے ہو
احمد رضا خان بریلوی
تم تو مردوں کے پاس شہوت سے جاتے ہو عورتیں چھوڑ کر، بلکہ تم لوگ حد سے گزر گئے
علامہ محمد حسین نجفی
یعنی تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے ساتھ شہوت رانی کرتے ہو؟ تم بڑے حد سے گزرے ہوئے لوگ ہو۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک تم تو عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے پاس شہوت سے آتے ہو، بلکہ تم حد سے گزرنے والے لوگ ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
لوط علیہ السلام کی بدنصیب قوم ٭٭

فرمان ہے کہ لوط علیہ السلام کو بھی ہم نے ان کی قوم کی طرف اپنا رسول بنا کر بھیجا۔ تو ان کے واقعہ کو بھی یاد کر۔ لوط علیہ السلام ہاران بن آزر کے بیٹے تھے، ابراہیم علیہ السلام کے بھتیجے تھے۔ آپ ہی کے ہاتھ پر ایمان قبول کیا تھا اور آپ ہی کے ساتھ شام کی طرف ہجرت کی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنا نبی بنا کر سدوم نامی بستی کی طرف بھیجا۔ آپ نے انہیں اور آس پاس کے لوگوں کو اللہ کی توحید اور اپنی اطاعت کی طرف بلایا۔ نیکیوں کے کرنے، برائیوں کو چھوڑنے کا حکم دیا۔ جن میں ایک برائی اغلام بازی تھی جو ان سے پہلے دنیا سے مفقود تھی۔ اس بدکاری کے موجد یہی ملعون لوگ تھے۔ عمرو بن دینار رحمہ اللہ یہی فرماتے ہیں۔ جامع دمشق کے بانی خلیفہ ولید بن عبدالملک کہتے ہیں: اگر یہ خبر قرآن میں نہ ہوتی تو اس بات کو کبھی نہ مانتا کہ مرد مرد سے حاجت روائی کر لے۔ اسی لیے لوط علیہ السلام نے ان حرام کاروں سے فرمایا کہ تم سے پہلے تو یہ ناپاک اور خبیث فعل کسی نے نہیں کیا۔ عورتوں کو جو اس کام کے لئے تھیں، چھوڑ کر تم مردوں پر ریجھ رہے ہو؟ اس سے بڑھ کر اسراف اور جہالت اور کیا ہو گی؟ چنانچہ اور آیت میں ہے کہ آپ نے فرمایا: ’ یہ ہیں میری بچیاں یعنی تمہاری قوم کی عورتیں۔ ‘ ۱؎ [15-الحجر:71] ‏‏‏‏ لیکن انہوں نے جواب دیا کہ ہمیں ان کی چاہت نہیں۔ ہم تو تمہارے ان مہمان لڑکوں کے خواہاں ہیں۔ مفسرین فرماتے ہیں: جس طرح مرد مردوں میں مشغول تھے، عورتیں عورتوں میں پھنسی ہوئی تھیں۔
81۔ 1 یعنی مردوں کے پاس تم اس بےحیائی کے کام کے لئے محض شہوت رانی کی غرض سے آتے ہو، اس کے علاوہ تمہاری اور کوئی غرض ایسی نہیں ہوتی جو موافق عقل ہو۔ اس لحاظ سے جاہلوں کی طرح تھے یا محض شہوت رانی کے لئے ایک دوسرے پر چڑھتے ہیں۔ 181۔ 2 جو قضائے شہوت کا اصل محل اور حصول لذت کی اصل جگہ ہے۔ یہ ان کی فطرت کے مسخ ہونے کی طرف اشارہ ہے، یعنی اللہ نے مرد کی جنسی لذت کی تسکین کے لئے عورت کی شرم گاہ کو اس کا محل اور موضع بنایا ہے اور ان ظالموں نے اس سے تجاوز کرکے مرد کی دبر کو اس کے لئے استعمال کرنا شروع کردیا۔ 81۔ 3 لیکن اب یہ فطرت صحیحہ سے انحراف اور حدود الٰہی سے تجاوز کو مغرب کی ' مہذب ' قوموں نے اختیار کرلیا ہے تو یہ انسان کا بنیادی حق قرار پا گیا ہے، جس سے روکنے کا کسی کو حق حاصل نہیں ہے۔ چناچہ اب وہاں لواطت کو قانونی تحفظ حاصل ہوگیا ہے۔ اور یہ سرے سے جرم ہی نہیں رہا۔
(آیت 81) ➊ {اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ:} چھوٹے یا بے ریش لڑکوں کے بجائے مردوں کا لفظ ان کے فعل کی قباحت کے مزید اظہار کے لیے استعمال کیا ہے۔ فرمایا کہ یہ فعل بد تم سے پہلے دنیا میں کسی نے نہیں کیا، جیسا کہ اس سے پہلی آیت میں ہے: «مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِيْنَ» ‏‏‏‏ یعنی تم دوہرے مجرم ہو، ایک اس فعل بد کی وجہ سے، دوسرے اس فعل بد کا آغاز کرنے کی وجہ سے۔ اب قیامت تک اس جرم کے ہر مرتکب کا گناہ اس کے ساتھ ساتھ قوم لوط کی گردن پر بھی ہوتا ہے۔ ➋ { شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِ:} یہ تیسرا جرم ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے تمھاری خواہش نفس پوری کرنے کے لیے جو بیویاں بنائی ہیں انھیں چھوڑ کر مردوں سے خواہش نفس پوری کرتے ہو، یہ تمھاری فطرت مسخ ہونے کی دلیل ہے، پھر بیویوں سے حاجت پوری کرنے میں خواہش نفس پوری کرنے کے ساتھ بہت سی حکمتیں وابستہ ہیں، اولاد کی طلب، گھر کی رونق، دلی سکون، میاں بیوی کی باہمی دوستی کے ساتھ ایک دوسرے پر رحم اور شفقت۔ دیکھیے سورۂ روم(۲۱)۔ جبکہ تمھارا مردوں کے پاس جانا صرف خواہش نفس پوری کرنے کے لیے ہے جو نہایت کمینگی کی بات ہے۔ ➌ { مِنْ دُوْنِ النِّسَآءِ:} سورۂ شعراء میں فرمایا: «وَ تَذَرُوْنَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ عٰدُوْنَ» [الشعراء: ۱۶۶ ] ”اور انھیں چھوڑ دیتے ہو جو تمھارے رب نے تمھارے لیے تمھاری بیویاں پیدا کی ہیں، بلکہ تم حد سے گزرنے والے لوگ ہو۔“ یعنی تم نے اس خبیث فعل کی وجہ سے بیویوں کو چھوڑ رکھا ہے، تم اپنے آپ پر بھی زیادتی کر رہے ہو اور ان مردوں پر بھی جن سے یہ فعل کرتے ہو اور ان عورتوں پر بھی جو تمھاری بیویاں ہیں۔ ذرا غور کرو کہ اس عمل کا نتیجہ تمھاری بیویوں پر کیا مرتب ہو گا؟ ان کی کچھ اور زیادتیوں کا ذکر سورۂ عنکبوت (۲۹) میں بھی کیا گیا ہے۔ اس وقت امریکہ اور یورپ کی اقوام نے ہم جنس پرستی کو جائز قرار دے کر مرد کی مرد اور عورت کی عورت کے ساتھ شادی کو قانونی تحفظ دے رکھا ہے، اب ان کی کوشش یہ ہے کہ مسلم معاشرے میں بھی اس فعل کو جرم نہ سمجھا جائے اور اس کے لیے وہ اپنے تمام وسائل استعمال کر رہے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ مسلمانوں کو حق پر قائم رہنے کی اور جہاد فی سبیل اﷲ کے ذریعے سے کفار کی اﷲ تعالیٰ سے علانیہ بغاوت کو کچلنے کی توفیق عطا فرمائے، کیونکہ اب اﷲ تعالیٰ کا قانون آسمانی عذاب کے بجائے مسلمانوں کے ہاتھوں سزا دینا ہے، فرمایا: «قَاتِلُوْهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَيْدِيْكُمْ» ‏‏‏‏ [ التوبۃ: ۱۴ ] ”ان سے لڑو، اﷲ انھیں تمھارے ہاتھوں سے عذاب دے گا۔“
وَ مَا کَانَ جَوَابَ قَوۡمِہٖۤ اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوۡۤا اَخۡرِجُوۡہُمۡ مِّنۡ قَرۡیَتِکُمۡ ۚ اِنَّہُمۡ اُنَاسٌ یَّتَطَہَّرُوۡنَ ﴿۸۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
مگر اس کی قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ "نکالو اِن لوگوں کو اپنی بستیوں سے، بڑے پاکباز بنتے ہیں یہ"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ان کی قوم سے کوئی جواب نہ بن پڑا، بجز اس کے کہ آپس میں کہنے لگے کہ ان لوگوں کو اپنی بستی سے نکال دو۔ یہ لوگ بڑے پاک صاف بنتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور اس کی قوم کا کچھ جواب نہ تھا مگر یہی کہنا کہ ان کو اپنی بستی سے نکال دو، یہ لوگ تو پاکیزگی چاہتے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
ان کی قوم کا اس کے سوا کوئی جواب نہ تھا کہ آپس میں کہنے لگے کہ انہیں اس بستی سے نکال دو۔ یہ لوگ بڑے پاکباز بنتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور اس کی قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ انھوں نے کہا انھیں اپنی بستی سے نکال دو، بے شک یہ ایسے لوگ ہیں جو بہت پاک بنتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قوم لوط پر بھی نبی کی نصیحت کار گر نہ ہوئی بلکہ الٹا دشمنی کرنے لگے اور دیس سے نکال دینے پر تل گئے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو مع ایمانداروں کے وہاں سے صحیح سالم بچا لیا اور تمام بستی والوں کو ذلت و پستی کے ساتھ تباہ و غارت کر دیا۔ ان کا یہ کہنا کہ یہ بڑے پاکباز لوگ ہیں، بطور طعنے کے تھا اور یہ بھی مطلب تھا کہ یہ اس کام سے جو ہم کرتے ہیں، دور ہیں۔ پھر ان کا ہم میں کیا کام؟ مجاہد رحمہ اللہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کا یہی قول ہے۔
82۔ 1 یہ حضرت لوط کو بستی سے نکالنے کی علت ہے۔ باقی ان کی پاکیزگی کا اظہار یا تو حقیقت کے طور پر ہے اور مقصد ان کا یہ ہوا کہ یہ لوگ اس برائی سے بچنا چاہتے ہیں، اس لیئے بہتر ہے کہ یہ ہمارے ساتھ ہماری بستی میں ہی نہ رہیں اور تمسخر کے طور پر انہوں نے ایسا کیا۔
(آیت 82) {اِنَّهُمْ اُنَاسٌ يَّتَطَهَّرُوْنَ:} یعنی ان پاک باز لوگوں کا ہم گناہ گار و نا پاک لوگوں میں کیا کام؟ یہ بات انھوں نے طنز اور تمسخر سے کہی اور ان کا جرم کیا بتایا کہ وہ گندگی میں آلودہ ہونے کا جرم کیوں نہیں کرتے، انھیں اپنی بستی سے نکال دو۔ {”يَّتَطَهَّرُوْنَ“ } باب تفعل سے ہے جس کا ایک معنی تکلف بھی ہے، اس صورت میں ان کا کہنا طنز کے ساتھ بہتان بھی ہے کہ یہ لوگ پاک باز بنتے ہیں جبکہ حقیقت میں وہ پاک باز نہیں ہیں۔
فَاَنۡجَیۡنٰہُ وَ اَہۡلَہٗۤ اِلَّا امۡرَاَتَہٗ ۫ۖ کَانَتۡ مِنَ الۡغٰبِرِیۡنَ ﴿۸۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
آخر کار ہم نے لوطؑ اوراس کے گھر والوں کو بجز اس کی بیوی کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں تھی
مولانا محمد جوناگڑھی
سو ہم نے لوط (علیہ السلام) کو اور ان کے گھر والوں کو بچا لیا بجز ان کی بیوی کے کہ وه ان ہی لوگوں میں رہی جو عذاب میں ره گئے تھے
احمد رضا خان بریلوی
تو ہم نے اسے اور اس کے گھر والوں کو نجات دی مگر اس کی عورت وہ رہ جانے والوں میں ہوئی
علامہ محمد حسین نجفی
تو ہم نے انہیں اور ان کے گھر والوں کو سوا ان کی بیوی کے نجات دی (بچا لیا) ہاں البتہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے تھی۔
عبدالسلام بن محمد
تو ہم نے اسے اور اس کے گھر والوں کو بچا لیا مگر اس کی بیوی، وہ پیچھے رہنے والوں میں سے تھی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
لوطی تباہ ہو گئے ٭٭

لوط علیہ السلام اور ان کا گھرانا اللہ کے ان عذابوں سے بچ گیا جو لوطیوں پر نازل ہوئے۔ بجز آپ کے گھرانے کے اور کوئی آپ پر ایمان نہ لایا۔ جیسے فرمان رب ہے «فَأَخْرَجْنَا مَن كَانَ فِيهَا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فَمَا وَجَدْنَا فِيهَا غَيْرَ بَيْتٍ مِّنَ الْمُسْلِمِينَ» ۱؎ [51-الذاريات:35-36] ‏‏‏‏ یعنی ’ وہاں جتنے مومن تھے، ہم نے سب کو نکال دیا لیکن بجز ایک گھر والوں کے، وہاں ہم نے کسی مسلمان کو پایا ہی نہیں۔ ‘ بلکہ خاندان لوط میں سے بھی خود لوط علیہ السلام کی بیوی ہلاک ہوئی کیونکہ یہ بد نصیب کافرہ ہی تھی بلکہ قوم کے کافروں کی طرف دار تھی۔ اگر کوئی مہمان آتا تو اشاروں سے قوم کو خبر پہنچا دیتی۔ اسی لیے لوط علیہ السلام سے کہہ دیا گیا تھا کہ اسے اپنے ساتھ نہ لے جانا بلکہ اسے خبر بھی نہ کرنا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ ساتھ تو چلی لیکن جب قوم پر عذاب آیا تو اس کے دل میں ان کی محبت آ گئی اور رحم کی نگاہ سے انہیں دیکھنے لگی۔ وہیں اسی وقت وہی عذاب اس بد نصیب پر بھی آ گیا لیکن زیادہ قوی پہلا ہی ہے یعنی نہ اسے لوط علیہ السلام نے عذاب کی خبر کی، نہ اسے اپنے ساتھ لے گئے۔ یہ یہیں باقی رہ گئی اور پھر ہلاک ہو گئی۔ «غابرین» کے معنی بھی باقی رہ جانے والے ہیں۔ جن بزرگوں نے اس کے معنی ہلاک ہونے والے کے کئے ہیں، وہ بطور لزوم کے ہیں۔ کیونکہ جو باقی تھے، وہ ہلاک ہونے والے ہی تھے۔ لوط علیہ السلام اور ان کے مسلمان صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے شہر سے نکلتے ہی عذاب الٰہی ان پر بارش کی طرح برس پڑا۔ وہ بارش پتھروں اور ڈھیلوں کی تھی جو ہر ایک پر بالخصوص نشان زدہ اسی کے لئے آسمان سے اتر رہے تھے۔ گو اللہ کے عذاب کو بےانصاف لوگ دور سمجھ رہے ہوں لیکن حقیقتاً ایسا نہیں۔ اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ خود دیکھ لیجئے کہ اللہ کی نافرمایوں اور رسول کی تکذیب کرنے والوں کا کیا انجام ہوتا ہے؟ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”لوطی فعل کرنے والے کو اونچی دیوار سے گرا دیا جائے، پھر اوپر سے پتھراؤ کر کے اسے مار ڈالنا چاہیئے۔ کیونکہ لوطیوں کو اللہ کی طرف سے یہی سزا دی گئی۔“ اور علماء کرام کا فرمان ہے کہ ”اسے رجم کر دیا جائے خواہ وہ شادی شدہ ہو یا بےشادی شدہ ہو۔“

امام شافعی رحمہ اللہ کے دو قول میں سے ایک یہی ہے۔ اس کی دلیل مسند احمد، ابوداؤد، ترمذی اور ابن ماجہ کی یہ حدیث ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم لوطی فعل کرتے پاؤ، اسے اور اس کے نیچے والے دونوں کو قتل کر دو۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:4462،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ علماء کی ایک جماعت کا قول ہے: ”یہ بھی مثل زناکاری کے ہے۔ شادی شدہ ہوں تو رجم ورنہ سو کوڑے۔“ امام شافعی رحمہ اللہ کا دوسرا قول بھی یہی ہے۔ عورتوں سے اس قسم کی حرکت کرنا بھی چھوٹی لواطت ہے اور بہ اجماع امت حرام ہے۔ بجز ایک شاذ قول کے اور بہت سی احادیث میں اس کی حرمت موجود ہے۔ اس کا پورا بیان سورۃ البقرہ کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔
83۔ 1 یعنی وہ ان لوگوں میں باقی رہ گئی۔ جن پر اللہ کا عذاب آیا۔ کیونکہ وہ بھی مسلمان نہیں تھی اور اس کی ہمدردیاں بھی مجرمین کے ساتھ تھیں بعض نے اس کا ترجمہ ' ہلاک ہونے والوں میں سے ' کیا ہے۔ لیکن یہ لازمی معنی ہیں، اصل معنی وہی ہیں۔
(آیت 83) ➊ {فَاَنْجَيْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ:} یعنی ہم نے لوط علیہ السلام اور اس کے گھر والوں کو عذاب سے بچا لیا، کیونکہ اس بستی میں یہی ایک گھر مسلم تھا۔ دیکھیے سورۂ ذاریات (۳۶)۔ ➋ { اِلَّا امْرَاَتَهٗ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِيْنَ:} اﷲ تعالیٰ نے لوط علیہ السلام کو پہلے ہی آگاہ کر دیا تھا کہ ہم نے تمھاری بیوی کی خیانت و کفر کی وجہ سے اس کا پیچھے رہنا طے کر دیا ہے۔ دیکھیے سورۂ نمل(۵۷) اور سورۂ تحریم (۱۰) چنانچہ وہ ان لوگوں میں رہ گئی جو لوط علیہ السلام کے ساتھ نہیں نکلے، بلکہ اپنے علاقے ہی میں رہے، ان پر عذاب نازل ہوا تو وہ بھی ان کے ساتھ تباہ ہو گئی۔
وَ اَمۡطَرۡنَا عَلَیۡہِمۡ مَّطَرًا ؕ فَانۡظُرۡ کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الۡمُجۡرِمِیۡنَ ﴿٪۸۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
بچا کر نکال دیا اور اس قوم پر برسائی ایک بارش، پھر دیکھو کہ اُن مجرموں کا کیا انجام ہوا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہم نے ان پر خاص طرح کا مینہ برسایا پس دیکھو تو سہی ان مجرموں کا انجام کیسا ہوا؟
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم نے ان پر ایک مینھ برسایا تو دیکھو کیسا انجام ہوا مجرموں کا
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے ان پر (پتھروں) کی بارش برسائی تو دیکھو مجرموں کا کیسا انجام ہوا؟
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے ان پر بارش برسائی، ایک زبردست بارش۔ پس دیکھ مجرموں کا انجام کیسا ہوا؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
لوطی تباہ ہو گئے ٭٭

لوط علیہ السلام اور ان کا گھرانا اللہ کے ان عذابوں سے بچ گیا جو لوطیوں پر نازل ہوئے۔ بجز آپ کے گھرانے کے اور کوئی آپ پر ایمان نہ لایا۔ جیسے فرمان رب ہے «فَأَخْرَجْنَا مَن كَانَ فِيهَا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فَمَا وَجَدْنَا فِيهَا غَيْرَ بَيْتٍ مِّنَ الْمُسْلِمِينَ» ۱؎ [51-الذاريات:35-36] ‏‏‏‏ یعنی ’ وہاں جتنے مومن تھے، ہم نے سب کو نکال دیا لیکن بجز ایک گھر والوں کے، وہاں ہم نے کسی مسلمان کو پایا ہی نہیں۔ ‘ بلکہ خاندان لوط میں سے بھی خود لوط علیہ السلام کی بیوی ہلاک ہوئی کیونکہ یہ بد نصیب کافرہ ہی تھی بلکہ قوم کے کافروں کی طرف دار تھی۔ اگر کوئی مہمان آتا تو اشاروں سے قوم کو خبر پہنچا دیتی۔ اسی لیے لوط علیہ السلام سے کہہ دیا گیا تھا کہ اسے اپنے ساتھ نہ لے جانا بلکہ اسے خبر بھی نہ کرنا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ ساتھ تو چلی لیکن جب قوم پر عذاب آیا تو اس کے دل میں ان کی محبت آ گئی اور رحم کی نگاہ سے انہیں دیکھنے لگی۔ وہیں اسی وقت وہی عذاب اس بد نصیب پر بھی آ گیا لیکن زیادہ قوی پہلا ہی ہے یعنی نہ اسے لوط علیہ السلام نے عذاب کی خبر کی، نہ اسے اپنے ساتھ لے گئے۔ یہ یہیں باقی رہ گئی اور پھر ہلاک ہو گئی۔ «غابرین» کے معنی بھی باقی رہ جانے والے ہیں۔ جن بزرگوں نے اس کے معنی ہلاک ہونے والے کے کئے ہیں، وہ بطور لزوم کے ہیں۔ کیونکہ جو باقی تھے، وہ ہلاک ہونے والے ہی تھے۔ لوط علیہ السلام اور ان کے مسلمان صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے شہر سے نکلتے ہی عذاب الٰہی ان پر بارش کی طرح برس پڑا۔ وہ بارش پتھروں اور ڈھیلوں کی تھی جو ہر ایک پر بالخصوص نشان زدہ اسی کے لئے آسمان سے اتر رہے تھے۔ گو اللہ کے عذاب کو بےانصاف لوگ دور سمجھ رہے ہوں لیکن حقیقتاً ایسا نہیں۔ اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ خود دیکھ لیجئے کہ اللہ کی نافرمایوں اور رسول کی تکذیب کرنے والوں کا کیا انجام ہوتا ہے؟ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”لوطی فعل کرنے والے کو اونچی دیوار سے گرا دیا جائے، پھر اوپر سے پتھراؤ کر کے اسے مار ڈالنا چاہیئے۔ کیونکہ لوطیوں کو اللہ کی طرف سے یہی سزا دی گئی۔“ اور علماء کرام کا فرمان ہے کہ ”اسے رجم کر دیا جائے خواہ وہ شادی شدہ ہو یا بےشادی شدہ ہو۔“

امام شافعی رحمہ اللہ کے دو قول میں سے ایک یہی ہے۔ اس کی دلیل مسند احمد، ابوداؤد، ترمذی اور ابن ماجہ کی یہ حدیث ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم لوطی فعل کرتے پاؤ، اسے اور اس کے نیچے والے دونوں کو قتل کر دو۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:4462،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ علماء کی ایک جماعت کا قول ہے: ”یہ بھی مثل زناکاری کے ہے۔ شادی شدہ ہوں تو رجم ورنہ سو کوڑے۔“ امام شافعی رحمہ اللہ کا دوسرا قول بھی یہی ہے۔ عورتوں سے اس قسم کی حرکت کرنا بھی چھوٹی لواطت ہے اور بہ اجماع امت حرام ہے۔ بجز ایک شاذ قول کے اور بہت سی احادیث میں اس کی حرمت موجود ہے۔ اس کا پورا بیان سورۃ البقرہ کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔
84۔ 1 یہ خاص طرح کا مینہ کیا تھا؟ پتھروں کا مینہ جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا، ہم نے ان پر تہ بہ تہ پتھروں کی بارش برسائی اس سے پہلے فرمایا ہم نے اس بستی کو الٹ کر نیچے اوپر کردیا۔ 84۔ 2 یعنی اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم دیکھئے تو سہی جو لوگ اعلانیہ اللہ کی معاصی کا ارتکاب اور پیغمبروں کی تکذیب کرتے ہیں، ان کا انجام کیا ہوتا ہے۔
(آیت 84){ وَ اَمْطَرْنَا عَلَيْهِمْ مَّطَرًا ……: ” مَطَرًا “} یہ {” اَمْطَرْنَا “} کی تاکید ہے اور تنوین اس کی ہولناکی کے بیان کے لیے ہے، یعنی ایک زبردست بارش۔ اﷲ تعالیٰ نے ان کی بستی الٹ دی، اس لیے قرآن میں اس بستی اور اس کے ارد گرد کی بستیوں کو {” الْمُؤْتَفِكَةَ “} (نجم: ۵۳) یعنی الٹنے والی اور {” الْمُؤْتَفِكٰتِ “} (توبہ: ۷۰) کہا گیا ہے، پھر ان پر کھنگر والے تہ در تہ پتھروں کی بارش برسائی۔ (دیکھیے ہود: ۸۲) اور وہ علاقہ ایسا تباہ ہوا کہ اب تک آباد نہیں ہو سکا۔ ان پر عذاب کا باعث ان کے فعل بد اور اس پر اصرار کے ساتھ ساتھ پیغمبر کے ساتھ کفر اور استہزا تھا۔
وَ اِلٰی مَدۡیَنَ اَخَاہُمۡ شُعَیۡبًا ؕ قَالَ یٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰہَ مَا لَکُمۡ مِّنۡ اِلٰہٍ غَیۡرُہٗ ؕ قَدۡ جَآءَتۡکُمۡ بَیِّنَۃٌ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ فَاَوۡفُوا الۡکَیۡلَ وَ الۡمِیۡزَانَ وَ لَا تَبۡخَسُوا النَّاسَ اَشۡیَآءَہُمۡ وَ لَا تُفۡسِدُوۡا فِی الۡاَرۡضِ بَعۡدَ اِصۡلَاحِہَا ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿ۚ۸۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور مدین والوں کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیبؑ کو بھیجا اس نے کہا "اے برادران قوم، اللہ کی بندگی کرو، اُس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے تمہارے پاس تمہارے رب کی صاف رہنمائی آ گئی ہے، لہٰذا وزن اور پیمانے پورے کرو، لوگوں کو اُن کی چیزوں میں گھاٹا نہ دو، اور زمین میں فساد برپا نہ کرو جب کہ اس کی اصلاح ہو چکی ہے، اسی میں تمہاری بھلائی ہے اگر تم واقعی مومن ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہم نے مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب (علیہ السلام) کو بھیجا۔ انہوں نے فرمایا اے میری قوم! تم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا کوئی تمہارا معبود نہیں، تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے واضح دلیل آچکی ہے۔ پس تم ناپ اور تول پورا پورا کیا کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم کرکے مت دو اور روئے زمین میں، اس کے بعد کہ اس کی درستی کردی گئی، فساد مت پھیلاؤ، یہ تمہارے لئے نافع ہے اگر تم تصدیق کرو
احمد رضا خان بریلوی
اور مدین کی طرف ان کی برادری سے شعیب کو بھیجا کہا اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، بے شک تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے روشن دلیل آئی تو ناپ اور تول پوری کرو اور لوگوں کی چیزیں گھٹا کر نہ دو اور زمین میں انتظام کے بعد فساد نہ پھیلاؤ، یہ تمہارا بھلا ہے اگر ایمان لاؤ،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے مدین کی طرف ان کے (قومی) بھائی شعیب کو بھیجا۔ انہوں نے کہا اے میری قوم! اللہ ہی کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ یقینا تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے کھلا نشان بھی آچکا ہے۔ پس ناپ تول پوری کیا کرو اور لوگوں کو ان کی (خرید کردہ) چیزیں کم نہ دیا کرو۔ اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد نہ پھیلاؤ۔ یہ بات تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم ایمان والے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
اور مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو (بھیجا)، اس نے کہا اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں، بے شک تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے ایک واضح دلیل آچکی۔ پس ماپ اور تول پورا کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دو اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد نہ پھیلائو، یہ تمھارے لیے بہتر ہے، اگر تم مومن ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
خطیب الانبیاء شعیب علیہ اسلام ٭٭

مشہور مؤرخ امام محمد بن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ لوگ مدین بن ابراہیم کی نسل سے ہیں۔ شعیب علیہ السلام میکیل بن یشجر کے لڑکے تھے، ان کا نام سریانی زبان میں یژون تھا۔ یہ یاد رہے کہ قبیلے کا نام بھی مدین تھا اور اس بستی کا نام بھی یہی تھا۔ یہ شہر معان سے ہوتے ہوئے حجاز جانے والے راستے میں آتا ہے۔ آیت قرآن «وَلَمَّا وَرَدَ مَاءَ مَدْيَنَ وَجَدَ عَلَيْهِ أُمَّةً مِّنَ النَّاسِ يَسْقُونَ» ۱؎ [28-القصص:23] ‏‏‏‏ میں شہر مدین کے کنویں کا ذکر موجود ہے۔ اس سے مراد ایکہ والے ہیں۔ جیسا کہ ان شاء اللہ بیان کریں گے۔ آپ نے بھی تمام رسولوں کی طرح انہیں توحید کی اور شرک سے بچنے کی دعوت دی اور فرمایا کہ اللہ کی طرف سے میری نبوت کی دلیلیں تمہارے سامنے آ چکی ہیں۔ خالق کا حق بتا کر پھر مخلوق کے حق کی ادائیگی کی طرف رہبری کی اور فرمایا کہ ناپ تول میں کمی کی عادت چھوڑو، لوگوں کے حقوق نہ مارو۔ کہو کچھ اور، کرو کچھ، یہ خیانت ہے۔ فرمان ہے «وَيْلٌ لِّلْمُطَفِّفِينَ» ۱؎ [83-المطففين:1-4] ‏‏‏‏ ’ ان ناپ تول میں کمی کرنے والوں کیلئے «ویل» ہے الخ۔ اللہ اس بدخصلت سے ہر ایک کو بچائے۔ پھر شعیب علیہ السلام کا اور وعظ بیان ہوتا ہے۔ آپ کو بہ سبب فصاحت عبارت اور عمدگی وعظ کے خطیب الانبیاء کہا جاتا تھا۔ علیہ الصلٰوۃ والسلام۔
85۔ 1 مدین حضرت ابراہیم ؑ کے بیٹے یا پوتے کا نام تھا پھر انہیں کی نسل پر مبنی قبیلے کا نام مدین اور جس بستی میں یہ رہائش پذیر تھے اس کا نام بھی مدین پڑگیا۔ یوں اس کا اطلاق قبیلے اور بستی دونوں پر ہوتا ہے۔ یہ بستی حجاز کے راستے میں معان کے قریب انہی کو قرآن میں دوسرے مقام پر اَصْحَابُ الأیْکَۃِ (بن کے رہنے والے) بھی کہا گیا ہے۔ ان کی طرف حضرت شعیب ؑ نبی بنا کر بھیجے گئے (دیکھئے الشعرا۔ 176 کا حاشیہ) ملحوظہ: ہر نبی کو اس قوم کا بھائی کہا گیا ہے، جس کا مطلب اسی قوم اور قبیلے کا فرد ہے جس کو بعض جگہ رسول منھم یا من انفسہم سے بھی تعبیر کی گیا ہے، اور مطلب ان سب کا یہ ہے کہ رسول اور نبی انسانوں میں سے ہی ایک انسان ہوتا ہے جسے اللہ تعالیٰ لوگوں کی ہدایت کے لیے چن لیتا ہے اور وحی کے ذریعے سے اس پر اپنی کتاب اور احکام نازل فرماتا ہے۔ 85۔ 2 دعوت توحید کے بعد اس قوم میں ناپ تول کی بڑی خرابی تھی، اس سے انہیں منع فرمایا اور پورا پورا ناپ اور تول کردینے کی تلقین کی۔ یہ کوتاہی بھی بڑی خطرناک ہے جس سے اس قوم کا اخلاق پستی اور گراوٹ کا پتہ چلتا ہے جس کے اندر یہ ہو۔ یہ بدترین خیانت ہے کہ پیسے پورے لئے جائیں اور چیز کم دی جائے۔ اس لئے سورة مُطَفِّفِیْن میں ایسے لوگوں کی ہلاکت کی خبر دی گئی ہے۔
(آیت 85) ➊ {وَ اِلٰى مَدْيَنَ اَخَاهُمْ شُعَيْبًا:} مدین کا علاقہ حجاز کے شمال مغرب اور فلسطین کے جنوب میں بحر احمر اور خلیج عقبہ کے کنارے پر واقع تھا اور آج بھی اس علاقے میں ایک جگہ اسی نام سے مشہور ہے۔ شعیب علیہ السلام کا نسب نامہ امام نووی رحمہ اللہ نے یوں بیان کیا ہے، شعیب بن میکائیل بن یشجر بن مدین بن ابراہیم۔ (المنار) مگر اس کے صحیح ہونے کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ شعیب علیہ السلام کو اہل مدین کا بھائی قرار دیا، کیونکہ وہ اس قوم سے تھے اور ان کا قبیلہ بہت زبردست تھا جس کی وجہ سے ان کے کفار آپ کو نقصان پہنچانے سے ڈرتے تھے، اس لیے انھوں نے کہا تھا: «وَ لَوْ لَا رَهْطُكَ لَرَجَمْنٰكَ» [ہود: ۹۱ ] ”اور اگر تیری برادری نہ ہوتی تو ہم ضرور تمھیں سنگسار کر دیتے۔“ شعیب علیہ السلام ہی کو اصحاب الایکہ کی طرف بھیجا گیا، مگر وہاں انھیں ان کا بھائی نہیں کہا گیا، فرمایا: «كَذَّبَ اَصْحٰبُ لْـَٔيْكَةِ الْمُرْسَلِيْنَ(176) اِذْ قَالَ لَهُمْ شُعَيْبٌ اَلَا تَتَّقُوْنَ» [ الشعراء: ۱۷۶، ۱۷۷ ] ”ایکہ والوں نے رسولوں کو جھٹلایا، جب ان سے شعیب نے کہا کیا تم ڈرتے نہیں ہو؟“ اب بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ دونوں ایک ہی قوم کے نام ہیں اور ان پر دو قسم کے عذاب آئے، ایک {”عَذَابُ يَوْمِ الظُّلَّةِ “} (شعراء: ۱۸۹) اور ایک {”الرَّجْفَةُ “ } (اعراف: ۹۱) اور بعض کا کہنا ہے کہ یہ دو الگ الگ قومیں تھیں، اصحاب مدین پر {”الرَّجْفَةُ “} (زلزلے) کا عذاب آیا اور اصحاب ایکہ پر {”يَوْمِ الظُّلَّةِ “} کا عذاب آیا۔ (واﷲ اعلم) ➋ {قَالَ يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ ……: } مدین والوں کا سب سے بڑا جرم اﷲ کے ساتھ شرک تھا، شعیب علیہ السلام نے سب سے پہلے انھیں اس سے باز رہنے کی تاکید فرمائی اور ہر پیغمبر کی پہلی دعوت یہی تھی: «وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْۤ اِلَيْهِ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ» ‏‏‏‏ [ الأنبیاء: ۲۵ ] ”اور ہم نے تجھ سے پہلے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس کی طرف یہ وحی کرتے تھے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، سو میری عبادت کرو۔“ ➌ { قَدْ جَآءَتْكُمْ بَيِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ:} یعنی میرے سچا ہونے کی واضح دلیل تم دیکھ چکے ہو، لہٰذا ضروری ہے کہ جو بات میں کہتا ہوں اسے صحیح سمجھو۔ رازی نے فرمایا کہ یہاں {” بَيِّنَةٌ “} (واضح دلیل) سے مراد معجزہ ہے۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی کو کوئی نہ کوئی ایسا معجزہ دے کر بھیجا گیا جسے دیکھ کر لوگ اس پر ایمان لائے اور مجھے جو (معجزہ) دیا گیا وہ وحی (قرآن و سنت) ہے جو اﷲ تعالیٰ نے میری طرف فرمائی اور مجھے امید ہے کہ قیامت کے دن میرے پیروکار سب سے زیادہ ہوں گے۔“ [ بخاری، فضائل القرآن، باب کیف نزل الوحی و أول ما أنزل: ۴۹۸۱۔ مسلم: ۱۵۲، عن أبی ہریرۃ رضی اللہ عنہ ] مگر شعیب علیہ السلام کے معجزے کا قرآن کریم میں ذکر نہیں۔ زمخشری لکھتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام کے پاس جو عصا یعنی لاٹھی تھی وہ شعیب علیہ السلام ہی نے انھیں عطا فرمائی تھی اور وہ دراصل شعیب علیہ السلام ہی کا معجزہ تھا۔ (کشاف) مگر موسیٰ علیہ السلام مدین کے جس بزرگ کے پاس ٹھہرے اور ان کے داماد بنے تھے، ان کے شعیب علیہ السلام ہونے کی کوئی دلیل نہیں، نہ ہی مدین کے کسی بزرگ کا ذکر کرنے پر بلا دلیل یہ سمجھ لینا درست ہے کہ وہ لازماً اﷲ کے رسول شعیب علیہ السلام ہی تھے۔ قرآن مجید میں نہ ہر پیغمبر کا نام مذکور ہے نہ ہر نبی کا معجزہ۔ اتنا ہی کافی ہے کہ یقینا شعیب علیہ السلام کوئی معجزہ لے کر آئے تھے، زیادہ کریدنے سے کچھ حاصل نہیں۔ ➍ {فَاَوْفُوا الْكَيْلَ ……:} اس سے معلوم ہوا کہ اس قوم میں شرک کے ساتھ دوسری خرابی ماپ تول میں لیتے وقت زیادتی اور دیتے وقت کمی تھی، اگر کوئی ان کی اس زیادتی کے خلاف احتجاج کرتا تو مل کر اس کی بے عزتی کرتے اور اسے مارتے پیٹتے، جیسا کہ آج کل بھی عموماً ریڑھیوں والے ایسے موقع پر گاہک کے خلاف ایکا کر لیتے ہیں، اس لیے شعیب علیہ السلام نے انھیں سمجھایا کہ ماپ تول ہر حال میں پورا کرو اور انبیاء اور صالحین کی محنت سے دنیا میں جو اصلاح ہوئی ہے اس کے بعد شرک اور بد دیانتی اور ان کے ساتھ پیدا ہونے والی برائیوں کے ذریعے سے اس میں فساد مت پھیلاؤ، کیونکہ ان دونوں سے اﷲ تعالیٰ کے حقوق بھی تلف ہوتے ہیں اور لوگوں کے بھی۔ ➎ { اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ:} یعنی اگر تم مجھ پر ایمان لا کر شرک اور بد دیانتی ترک کرو تو یہ تمھارے لیے بہتر ہے، کیونکہ کافر رہتے ہوئے یہ چیزیں چھوڑ بھی دو تو قیامت کے دن اس کا کچھ فائدہ نہیں۔
وَ لَا تَقۡعُدُوۡا بِکُلِّ صِرَاطٍ تُوۡعِدُوۡنَ وَ تَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ مَنۡ اٰمَنَ بِہٖ وَ تَبۡغُوۡنَہَا عِوَجًا ۚ وَ اذۡکُرُوۡۤا اِذۡ کُنۡتُمۡ قَلِیۡلًا فَکَثَّرَکُمۡ ۪ وَ انۡظُرُوۡا کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الۡمُفۡسِدِیۡنَ ﴿۸۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور (زندگی کے) ہر راستے پر رہزن بن کر نہ بیٹھ جاؤ کہ لوگوں کو خوف زدہ کرنے اور ایمان لانے والوں کو خدا کے راستے سے روکنے لگو اور سیدھی راہ کو ٹیڑھا کرنے کے درپے ہو جاؤ یاد کرو وہ زمانہ جبکہ تم تھوڑے تھے پھر اللہ نے تمہیں بہت کر دیا، اور آنکھیں کھول کر دیکھو کہ دنیا میں مفسدوں کا کیا انجام ہوا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور تم سڑکوں پر اس غرض سے مت بیٹھا کرو کہ اللہ پر ایمان ﻻنے والے کو دھمکیاں دو اور اللہ کی راه سے روکو اور اس میں کجی کی تلاش میں لگے رہو۔ اور اس حالت کو یاد کرو جب کہ تم کم تھے پھر اللہ نے تم کو زیاده کردیا اور دیکھو کہ کیسا انجام ہوا فساد کرنے والوں کا
احمد رضا خان بریلوی
اور ہر راستہ پر یوں نہ بیٹھو کہ راہگیروں کو ڈراؤ اور اللہ کی راہ سے انہیں روکو جو اس پر ایمان لائے اور اس میں کجی چاہو، اور یاد کرو جب تم تھوڑے تھے اس نے تمہیں بڑھادیا اور دیکھو فسادیوں کا کیسا انجام ہوا،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہر راستے پر اس طرح نہ بیٹھو کہ تم (راہ گیروں) کو ڈراؤ دھمکاؤ اور ایمان لانے والوں کو اللہ کی راہ سے روکو۔ اور اس راہ میں کجی تلاش کرو۔ اور وہ وقت یاد کرو۔ جب تم تھوڑے تھے تو اس (خدا) نے تمہیں بڑھا دیا اور دیکھو کہ فساد پھیلانے والوں کا انجام کیسا ہوتا رہا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہر راستے پر نہ بیٹھو کہ دھمکاتے ہو اور اللہ کے راستے سے روکتے ہو ہر اس شخص کو جو اس پر ایمان لائے اور اس میں کجی ڈھونڈتے ہو۔ اور یاد کرو جب تم بہت کم تھے تو اس نے تمھیں زیادہ کر دیا اور دیکھو فساد کرنے والوں کا انجام کیسا ہوا؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قوم شعیب کی بداعمالیاں ٭٭

فرماتے ہیں کہ مسافروں کے راستے میں دہشت گردی نہ پھیلاؤ، ڈاکہ نہ ڈالو اور انہیں ڈرا دھمکا کر ان کا مال زبردستی نہ چھینو۔ میرے پاس ہدایت حاصل کرنے کے لئے جو آنا چاہتا ہے، اسے خوفزدہ کر کے روک دیتے ہو؟ ایمانداروں کو اللہ کی راہ پر چلنے میں روڑے اٹکاتے ہو؟ راہ حق کو ٹیڑھا کر دینا چاہتے ہو؟ ان تمام برائیوں سے بچو۔ یہ بھی ہو سکتا ہے بلکہ زیادہ ظاہر ہے کہ ہر راستے پر نہ بیٹھنے کی ہدایت تو قتل و غارت سے روک کے لیے ہو جو ان کی عادت تھی اور پھر راہ حق سے مومنوں کو نہ روکنے کی ہدایت پھر کی ہو۔ تم اللہ کے اس احسان کو یاد کرو کہ گنتی میں، قوت میں تم کچھ نہ تھے، بہت ہی کم تھے۔ اس نے اپنی مہربانی سے تمہاری تعداد بڑھا دی اور تمہیں زور آور کر دیا۔ رب کی اس نعمت کا شکریہ ادا کرو۔ عبرت کی آنکھوں سے ان کا انجام دیکھ لو جو تم سے پہلے ابھی ابھی گزرے ہیں جن کے ظلم و جبر کی وجہ سے، جن کی بد امنی اور فساد کی وجہ سے رب کے عذاب ان پر ٹوٹ پڑے۔ وہ اللہ کی نافرمانیوں میں رسولوں کے جھٹلانے میں مشغول رہے، دلیر بن گئے جس کے بدلے اللہ کی پکڑ ان پر نازل ہوئی۔ آج ان کی ایک آنکھ جھپکتی ہوئی باقی نہیں رہی۔ نیست و نابود ہو گئے، مر مٹ گئے۔ دیکھو! میں تمہیں صاف بے لاگ ایک بات بتا دوں۔ تم میں سے ایک گروہ مجھ پر ایمان لا چکا ہے اور ایک گروہ نے میرا انکار اور بری طرح مجھ سے کفر کیا۔ اب تم خود دیکھ لو گے کہ مدد ربانی کس کا ساتھ دیتی ہے اور اللہ کی نظروں سے کون گر جاتا ہے؟ تم رب کے فیصلے کے منتظر رہو۔ وہ سب فیصلہ کرنے والوں سے اچھا اور سچا فیصلہ کرنے والا ہے۔ تم خود دیکھ لو کہ اللہ والے با مراد ہوں گے اور دشمنان اللہ نامراد ہوں گے۔
86۔ 1 اللہ کے راستے سے روکنے کے لئے اللہ کے راستے میں کجیاں تلاش کرنا۔ یہ ہر دور کے نافرمانوں کا محبوب مشغلہ رہا ہے جس کے نمونے آجکل کے متجدین اور فرنگیت زدہ لوگوں میں نظر آتے ہیں۔ مثلاً لوگوں کو ستانے کے لئے بیٹھنا، جیسے عام طور پر اوباش قسم کے لوگوں کا شیوا ہے۔ یا حضرت شعیب ؑ کی طرف جانے والے راستوں پر بیٹھنا اور اس راہ پر چلنے والوں کو روکنا۔ یوں لوٹ مار کی غرض سے ناکوں پر بیٹھنا تاکہ آنے جانے والوں کا مال سلب کرلیں، یا بعض کے نزدیک محصول اور چونگی وصول کرنے کے لئے ان کے راستوں پر بیٹھنا۔ امام شوکانی فرماتے ہیں کہ سارے ہی مفہوم صحیح ہوسکتے ہیں کیونکہ ممکن ہے کہ وہ سب ہی کچھ کرتے ہوں۔ (فتح القدیر)
(آیت 86){ وَ لَا تَقْعُدُوْا بِكُلِّ صِرَاطٍ ……:} یہ لوگ راستوں پر ناکے لگا کر لوگوں سے زبردستی ٹیکس وصول کرتے، کبھی ڈرا دھمکا کر ان کی بے عزتی کرتے اور ان کا سب کچھ ہی چھین لیتے۔ اگر کوئی شعیب علیہ السلام پر ایمان لانے کی طرف مائل نظر آتا تو اسے ہر طرح سے روکنے کی کوشش کرتے اور اسلام کے احکام میں طرح طرح کی خرابیاں نکال کر اور شبہات پیدا کرکے ثابت کرنے کی کوشش کرتے کہ یہ سیدھا نہیں بلکہ غلط راستہ ہے، جیسا کہ آج کل بھی نام کے وہ مسلمان دانش ور، صحافی، پروفیسر اور حکمران جو کفار سے مرعوب ہیں اسلام کے احکام کو وحشیانہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ شعیب علیہ السلام نے انھیں ان برائیوں سے روکا اور اﷲ تعالیٰ کا احسان یاد دلایا کہ اس نے تمھاری تھوڑی سی نسل کو کس قدر بڑھایا اور انھیں مفسدین کے انجامِ بد سے عبرت حاصل کرنے کی تلقین فرمائی۔
وَ اِنۡ کَانَ طَآئِفَۃٌ مِّنۡکُمۡ اٰمَنُوۡا بِالَّذِیۡۤ اُرۡسِلۡتُ بِہٖ وَ طَآئِفَۃٌ لَّمۡ یُؤۡمِنُوۡا فَاصۡبِرُوۡا حَتّٰی یَحۡکُمَ اللّٰہُ بَیۡنَنَا ۚ وَ ہُوَ خَیۡرُ الۡحٰکِمِیۡنَ ﴿۸۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اگر تم میں سے ایک گروہ اس تعلیم پر جس کے ساتھ میں بھیجا گیا ہوں، ایمان لاتا ہے اور دوسرا ایمان نہیں لاتا، تو صبر کے ساتھ دیکھتے رہو یہاں تک کہ اللہ ہمارے درمیان فیصلہ کر دے، اور وہی سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اگر تم میں سے کچھ لوگ اس حکم پر، جس کو دے کر مجھ کو بھیجا گیا، ایمان لے آئے ہیں اور کچھ ایمان نہیں ﻻئے ہیں تو ذرا ٹھہر جاؤ! یہاں تک کہ ہمارے درمیان اللہ فیصلہ کئے دیتا ہے اور وه سب فیصلہ کرنے والوں سے بہتر ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور اگر تم میں ایک گروہ اس پر ایمان لایا جو میں لے کر بھیجا گیا اور ایک گروہ نے نہ مانا تو ٹھہرے رہو یہاں تک کہ اللہ ہم میں فیصلہ کرے اور اللہ کا فیصلہ سب سے بہتر
علامہ محمد حسین نجفی
اور اگر تم میں سے ایک گروہ اس پر ایمان نہیں لایا تو صبر کرو۔ یہاں تک کہ اللہ ہمارے درمیان فیصلہ کرے اور وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اگر تم میں سے کچھ لوگ اس پر ایمان لے آئے ہیں جو دے کر مجھے بھیجا گیا ہے اور کچھ لوگ ایمان نہیں لائے تو صبر کرو، یہاں تک کہ اللہ ہمارے درمیان فیصلہ کر دے اور وہ سب فیصلہ کرنے والوں سے بہتر ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قوم شعیب کی بداعمالیاں ٭٭

فرماتے ہیں کہ مسافروں کے راستے میں دہشت گردی نہ پھیلاؤ، ڈاکہ نہ ڈالو اور انہیں ڈرا دھمکا کر ان کا مال زبردستی نہ چھینو۔ میرے پاس ہدایت حاصل کرنے کے لئے جو آنا چاہتا ہے، اسے خوفزدہ کر کے روک دیتے ہو؟ ایمانداروں کو اللہ کی راہ پر چلنے میں روڑے اٹکاتے ہو؟ راہ حق کو ٹیڑھا کر دینا چاہتے ہو؟ ان تمام برائیوں سے بچو۔ یہ بھی ہو سکتا ہے بلکہ زیادہ ظاہر ہے کہ ہر راستے پر نہ بیٹھنے کی ہدایت تو قتل و غارت سے روک کے لیے ہو جو ان کی عادت تھی اور پھر راہ حق سے مومنوں کو نہ روکنے کی ہدایت پھر کی ہو۔ تم اللہ کے اس احسان کو یاد کرو کہ گنتی میں، قوت میں تم کچھ نہ تھے، بہت ہی کم تھے۔ اس نے اپنی مہربانی سے تمہاری تعداد بڑھا دی اور تمہیں زور آور کر دیا۔ رب کی اس نعمت کا شکریہ ادا کرو۔ عبرت کی آنکھوں سے ان کا انجام دیکھ لو جو تم سے پہلے ابھی ابھی گزرے ہیں جن کے ظلم و جبر کی وجہ سے، جن کی بد امنی اور فساد کی وجہ سے رب کے عذاب ان پر ٹوٹ پڑے۔ وہ اللہ کی نافرمانیوں میں رسولوں کے جھٹلانے میں مشغول رہے، دلیر بن گئے جس کے بدلے اللہ کی پکڑ ان پر نازل ہوئی۔ آج ان کی ایک آنکھ جھپکتی ہوئی باقی نہیں رہی۔ نیست و نابود ہو گئے، مر مٹ گئے۔ دیکھو! میں تمہیں صاف بے لاگ ایک بات بتا دوں۔ تم میں سے ایک گروہ مجھ پر ایمان لا چکا ہے اور ایک گروہ نے میرا انکار اور بری طرح مجھ سے کفر کیا۔ اب تم خود دیکھ لو گے کہ مدد ربانی کس کا ساتھ دیتی ہے اور اللہ کی نظروں سے کون گر جاتا ہے؟ تم رب کے فیصلے کے منتظر رہو۔ وہ سب فیصلہ کرنے والوں سے اچھا اور سچا فیصلہ کرنے والا ہے۔ تم خود دیکھ لو کہ اللہ والے با مراد ہوں گے اور دشمنان اللہ نامراد ہوں گے۔
87۔ 1 کفر پر صبر کرنے کا حکم نہیں ہے بلکہ اس کے لئے تہدید اور سخت وعید ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ اہل حق کا اہل باطل پر فتح و غلبہ ہی ہوتا ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے دوسرے مقام پر فرمایا (فَتَرَبَّصُوْٓا اِنَّا مَعَكُمْ مُّتَرَبِّصُوْنَ) 9۔ التوبہ:52)
(آیت 87){ فَاصْبِرُوْا حَتّٰى يَحْكُمَ اللّٰهُ:} یہ انھیں کفر پر صبر کا حکم نہیں بلکہ انھیں اﷲ کے عذاب سے ڈرایا ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا: «فَتَرَبَّصُوْۤا اِنَّا مَعَكُمْ مُّتَرَبِّصُوْنَ۠» [ التوبۃ: ۵۲ ] ”سو انتظار کرو، بے شک ہم (بھی) تمھارے ساتھ انتظار کرنے والے ہیں۔“
قَالَ الۡمَلَاُ الَّذِیۡنَ اسۡتَکۡبَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِہٖ لَنُخۡرِجَنَّکَ یٰشُعَیۡبُ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَکَ مِنۡ قَرۡیَتِنَاۤ اَوۡ لَتَعُوۡدُنَّ فِیۡ مِلَّتِنَا ؕ قَالَ اَوَ لَوۡ کُنَّا کٰرِہِیۡنَ ﴿۟۸۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اس کی قوم کے سرداروں نے، جو اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں مبتلا تھے، ا س سے کہا کہ "اے شعیبؑ، ہم تجھے اور اُن لوگوں کو جو تیرے ساتھ ایمان لائے ہیں اپنی بستی سے نکال دیں گے ورنہ تم لوگوں کو ہماری ملت میں واپس آنا ہوگا" شعیبؑ نے جواب دیا "کیا زبردستی ہمیں پھیرا جائے گا خواہ ہم راضی نہ ہوں؟
مولانا محمد جوناگڑھی
ان کی قوم کے متکبر سرداروں نے کہا کہ اے شعیب! ہم آپ کو اور جو آپ کے ہمراه ایمان والے ہیں ان کو اپنی بستی سے نکال دیں گے الّا یہ کہ تم ہمارے مذہب میں پھر آجاؤ۔ شعیب (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ کیا ہم تمہارے مذہب میں آجائیں گو ہم اس کو مکروه ہی سمجھتے ہوں
احمد رضا خان بریلوی
اس کی قوم کے متکبر سردار بولے، اے شعیب قسم ہے کہ ہم تمہیں اور تمہارے ساتھ والے مسلمانوں کو اپنی بستی سے نکا ل دیں گے یا تم ہمارے دین میں ا ٓجا ؤ کہا کیا اگرچہ ہم بیزار ہوں
علامہ محمد حسین نجفی
اور ان کی قوم کے متکبر سرداروں نے کہا۔ اے شعیب ہم تم کو اور جو لوگ تمہارے ساتھ ایمان لائے ہیں ان کو اپنی بستی سے نکال دیں گے یا یہ کہ تم لوگ ہمارے مذہب میں واپس آجاؤ۔ شعیب نے کہا اگرچہ ہم اسے ناپسند ہی کرتے ہوں؟
عبدالسلام بن محمد
اس کی قوم میں سے ان سرداروں نے کہا جو بڑے بنے ہوئے تھے، اے شعیب! ہم تجھے اور ان لوگوں کو جو تیرے ہمراہ ایمان لائے ہیں، اپنی بستی سے ضرور ہی نکال دیں گے، یا ہر صورت تم ہمارے دین میں واپس آئو گے۔ اس نے کہا اور کیا اگرچہ ہم ناپسند کرنے والے ہوں؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شعیب علیہ السلام کی قوم نے اپنی بربادی کو آواز دی ٭٭

شعیب علیہ السلام کی قوم نے آپ کی تمام نصیحتیں سن کر جو جواب دیا، اس کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ ہوا یہ کہ دلیلوں سے ہار کر یہ لوگ اپنی قوت جتانے پر اتر آئے اور کہنے لگے: اب تجھے اور تیرے ساتھیوں کو ہم دو باتوں میں سے ایک کا اختیار دیتے ہیں یا تو جلا وطنی قبول کرو یا ہمارے مذہب میں آ جاؤ۔ جس پر آپ نے فرمایا کہ ہم تو دل سے تمہارے ان مشرکانہ کاموں سے بیزار ہیں۔ انہیں سخت ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ پھر تمہارے اس دباؤ اور اس خواہش کے کیا معنی؟ اگر اللہ نہ کرے، ہم پھر سے تمہارے کفر میں شامل ہو جائیں تو ہم سے بڑھ کر گناہگار کون ہو گا؟ اس کے تو صاف معنی یہ ہیں کہ ہم نے دو گھڑی پہلے محض ایک ڈھونگ رچایا تھا۔ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ اور بہتان باندھ کر نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ خیال فرمائیے کہ اس جواب میں اللہ کے نبی علیہ السلام نے ایمان داروں کو مرتد ہونے سے کس طرح دھمکایا ہے؟ لیکن چونکہ انسان کمزور ہے۔ نہ معلوم کس کا دل کیسا ہے اور آگے چل کر کیا ظاہر ہونے والا ہے؟ اس لیے فرمایا کہ اللہ کے ہاتھ سب کچھ ہے۔ اگر وہی کسی کے خیالات الٹ دے تو میرا زور نہیں۔ ہر چیز کے آغاز، انجام کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ ہمارا توکل اور بھروسہ اپنے تمام کاموں میں صرف اسی کی ذات پاک پر ہے۔ اے اللہ! تو ہم میں اور ہماری قوم میں فیصلہ فرما۔ ہماری مدد فرما۔ تو سب حاکموں کا حاکم ہے، سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے، عادل ہے، ظالم نہیں۔
88۔ 1 ان سرداروں کے تکبر اور سرکشی کا اندازہ کیجئے کہ انہوں نے ایمان اور توحید کی دعوت کو ہی رد نہیں کیا بلکہ اس سے بھی تجاوز کرکے اللہ کے پیغمبر اور اس پر ایمان لانے والوں کو دھمکی دی یا تو اپنے آبائی مذہب میں واپس آجاؤ نہیں تو ہم تمہیں یہاں سے نکال دیں گے۔ اہل ایمان کے لئے اپنے سابق مذہب کی طرف واپسی کی بات تو قابل فہم ہے کیونکہ انہوں نے کفر چھوڑ کر ایمان اختیار کیا تھا۔ لیکن حضرت شعیب ؑ کو بھی ملت ابائی کی طرف لوٹنے کی دعوت اس لحاظ سے تھی کہ وہ انہیں بھی نبوت اور تبلیغ ودعوت سے پہلے اپنا مذہب ہی سمجھتے تھے کو حقیقتا ایسا نہ ہو۔ یا بطور تغلیب انہیں بھی شامل کرلیا ہو۔ (2) یہ سوال مقدر کا جواب ہے اور ہمزہ انکار کے لئے اور واو حالیہ ہے۔ یعنی کیا تم ہمیں اپنے مذہب کی طرف لوٹاؤ گے یا ہمیں اپنی بستی سے نکال دوگے دراں حالیکہ ہم اس مذہب کی طرف لوٹنا اور اس بستی سے نکلنا پسند نہ کرتے ہوں؟ مطلب یہ ہے کہ تمہارے لیے یہ بات مناسب نہیں ہے کہ تم ہمیں ان میں سے کسی ایک بات کے اختیار کرنے پر مجبور کرو۔
(آیت 88) ➊ {قَالَ الْمَلَاُ الَّذِيْنَ اسْتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ:اسْتَكْبَرُوْا “} باب استفعال سے ہے، جس کا معنی عموماً طلب ہوتا ہے، یعنی وہ سردار بڑا بننے کے بہت خواہش مند تھے، گویا ان کی طلب ہی یہ تھی۔ ➋ {لَنُخْرِجَنَّكَ يٰشُعَيْبُ:} یعنی انھوں نے صرف جھٹلانے پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ نہایت بدتمیزی سے نام کے ساتھ مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تمھیں ہر صورت دو باتوں میں سے ایک اختیار کرنا ہو گی، یا ہم تمھیں اپنی بستی سے نکال دیں گے، یا تمھیں پھر سے ہماری ملت، یعنی کفر و شرک میں پلٹنا ہو گا۔ اب تم سوچ لو کہ اپنے لیے ان میں سے کون سی بات پسند کرتے ہو؟ ➌ {وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَكَ مِنْ قَرْيَتِنَاۤ:مَعَكَ “} کے دو مطلب ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ اس کا تعلق {” اٰمَنُوْا “} سے ہو، یعنی جو تیرے ساتھ ایمان لائے ہیں، دوسرا یہ کہ اس کا تعلق {” لَنُخْرِجَنَّكَ يٰشُعَيْبُ “} کے ساتھ ہو، یعنی تجھے اور تیرے ساتھ ان لوگوں کو بھی نکال دیں گے جو ایمان لائے ہیں۔ ہمارے استاذ محمد عبدہ رحمہ اللہ نے اس کا تعلق {” لَنُخْرِجَنَّكَ “} کے ساتھ قرار دیا ہے۔ ➍ { اَوْلَتَعُوْدُنَّ فِيْ مِلَّتِنَا: ”عَادَ يَعُوْدُ عَوْدًا“} کے معنی کسی چیز کی طرف لوٹ آنے کے ہیں۔ شعیب علیہ السلام خود تو کبھی کفر و شرک میں مبتلا نہیں رہے، پھر ان کے دین میں لوٹ آنے کے کیا معنی ہوں گے؟ اگلی آیت میں شعیب علیہ السلام کے قول {” اِنْ عُدْنَا “} (اگر ہم تمھاری ملت میں پھر آ جائیں) اور{” اَنْ نَّعُوْدَ فِيْهَاۤ “} سے یہ اشکال اور قوی ہو جاتا ہے۔ علماء نے اس کے مختلف جواب دیے ہیں، ایک یہ کہ نبوت سے پہلے شعیب علیہ السلام اگرچہ کفر و شرک سے اور نبوت کے منصب کے منافی ناپسندیدہ کاموں سے محفوظ تھے، مگر نبوت عطا ہونے سے پہلے عام طور طریقے میں اپنی قوم ہی کے ساتھ تھے۔ البتہ کفر، شرک اور گندے کاموں سے اجتناب کے باوجود مبعوث نہ ہونے کی وجہ سے خاموش رہتے تھے۔ جس سے ان کی قوم کے لوگ سمجھتے تھے کہ یہ ہمارے ہی دین پر ہیں۔ اس لیے انھوں نے {” اَوْ لَتَعُوْدُنَّ “} کہہ دیا، ورنہ حقیقت یہ نہیں تھی۔ یا ان کا مطلب یہ تھا کہ پہلے کی طرح اب بھی خاموش ہو جاؤ، تو ہم تمھیں اپنا ہی سمجھ لیں گے۔ فرمایا، اب ہم پہلے کی طرح نہیں ہو سکتے۔ دوسرا یہ کہ ان کے اکثر ساتھی چونکہ کفر سے نکل کر اسلام میں داخل ہوئے تھے، اس لیے انھوں نے ان سب کے ساتھ شعیب علیہ السلام کو بھی شامل کر دیا۔ اسے تغلیب کہتے ہیں، یعنی سب پر وہی الفاظ بول دیے جو اکثر پر صادق آتے تھے۔ شعیب علیہ السلام نے بھی انھی کے لہجہ میں {” اِنْ عُدْنَا “} اور {” اَنْ نَّعُوْدَ “} فرما دیا۔ تیسرا یہ کہ {”عَادَ يَعُوْدُ“} بعض اوقات {”صَارَ يَصِيْرُ“} کے معنی میں بھی آتا ہے، اسے {”صَيْرُوْرَةٌ“} کہتے ہیں، یعنی ابتداءً (پہلی بار) کسی چیز کو اختیار کرنا، معنی یہ کہ تم ہمارا دین اختیار کر لو گے۔ ➎ { اَوَ لَوْ كُنَّا كٰرِهِيْنَ:} یعنی اگر ہمیں دونوں باتیں ہی گوارا نہ ہوں تو کیا پھر بھی ہم ایک ضرور اختیار کریں گے، یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ یہ سوال درحقیقت انکار کے لیے ہے۔
قَدِ افۡتَرَیۡنَا عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اِنۡ عُدۡنَا فِیۡ مِلَّتِکُمۡ بَعۡدَ اِذۡ نَجّٰنَا اللّٰہُ مِنۡہَا ؕ وَ مَا یَکُوۡنُ لَنَاۤ اَنۡ نَّعُوۡدَ فِیۡہَاۤ اِلَّاۤ اَنۡ یَّشَآءَ اللّٰہُ رَبُّنَا ؕ وَسِعَ رَبُّنَا کُلَّ شَیۡءٍ عِلۡمًا ؕ عَلَی اللّٰہِ تَوَکَّلۡنَا ؕ رَبَّنَا افۡتَحۡ بَیۡنَنَا وَ بَیۡنَ قَوۡمِنَا بِالۡحَقِّ وَ اَنۡتَ خَیۡرُ الۡفٰتِحِیۡنَ ﴿۸۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہم اللہ پر جھوٹ گھڑنے والے ہوں گے اگر تمہاری ملت میں پلٹ آئیں جبکہ اللہ ہمیں اس سے نجات دے چکا ہے ہمارے لیے تو اس کی طرف پلٹنا اب کسی طرح ممکن نہیں الا یہ کہ خدا ہمارا رب ہی ایسا چاہے ہمارے رب کا علم ہر چیز پر حاوی ہے، اُسی پر ہم نے اعتماد کر لیا اے رب، ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کر دے اور تو بہترین فیصلہ کرنے والا ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم تو اللہ تعالیٰ پر بڑی جھوٹی تہمت لگانے والے ہو جائیں گے اگر ہم تمہارے دین میں آجائیں اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ہم کو اس سے نجات دی اور ہم سے ممکن نہیں کہ تمہارے مذہب میں پھر آجائیں، لیکن ہاں یہ کہ اللہ ہی نے جو ہمارا مالک ہے مقدر کیا ہو۔ ہمارے رب کا علم ہر چیز کو محیط ہے، ہم اللہ ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ اے ہمارے پروردگار! ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان حق کے موافق فیصلہ کر دے اور تو سب سے اچھا فیصلہ کرنے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
ضرور ہم اللہ پر جھوٹ باندھیں گے اگر تمہارے دین میں آجائیں بعد اس کے کہ اللہ نے ہمیں اس سے بچایا ہے اور ہم مسلمانوں میں کسی کا کام نہیں کہ تمہارے دین میں آئے مگر یہ کہ اللہ چاہے جو ہمارا رب ہے، ہمارے رب کا علم ہر چیز کو محیط ہے، اللہ ہی پر بھروسہ کیا اے ہمارے رب! ہم میں اور ہماری قوم میں حق فیصلہ کر اور تیرا فیصلہ سب سے بہتر ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
جب اللہ نے ہمیں تمہارے مذہب سے نجات دے دی ہے۔ اگر اس کے بعد بھی ہم تمہارے مذہب میں واپس آجائیں تو پھر تو ہم نے اللہ پر جھوٹا بہتان باندھا۔ اور ہمارے لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ ہم لوٹ آئیں مگر یہ کہ اللہ جو ہمارا پروردگار ہے چاہے ہمارا پروردگار اپنے علم سے ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ ہمارا اللہ ہی پر بھروسہ ہے۔ اے ہمارے پروردگار! تو ہی ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کر دے۔ اور تو بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
یقینا ہم نے اللہ پر جھوٹ باندھا اگر ہم تمھاری ملت میں پھر آجائیں،اس کے بعد کہ اللہ نے ہمیں اس سے نجات دی اور ہمارے لیے ممکن نہیں کہ اس میں پھر آجائیں مگر یہ کہ اللہ چاہے، جو ہمارا رب ہے، ہمارے رب نے ہر چیز کا علم سے احاطہ کر رکھا ہے، ہم نے اللہ ہی پر بھروسا کیا، اے ہمارے رب! ہمارے درمیان اور ہماری قوم کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کر دے اور تو سب فیصلہ کرنے والوں سے بہتر ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شعیب علیہ السلام کی قوم نے اپنی بربادی کو آواز دی ٭٭

شعیب علیہ السلام کی قوم نے آپ کی تمام نصیحتیں سن کر جو جواب دیا، اس کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ ہوا یہ کہ دلیلوں سے ہار کر یہ لوگ اپنی قوت جتانے پر اتر آئے اور کہنے لگے: اب تجھے اور تیرے ساتھیوں کو ہم دو باتوں میں سے ایک کا اختیار دیتے ہیں یا تو جلا وطنی قبول کرو یا ہمارے مذہب میں آ جاؤ۔ جس پر آپ نے فرمایا کہ ہم تو دل سے تمہارے ان مشرکانہ کاموں سے بیزار ہیں۔ انہیں سخت ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ پھر تمہارے اس دباؤ اور اس خواہش کے کیا معنی؟ اگر اللہ نہ کرے، ہم پھر سے تمہارے کفر میں شامل ہو جائیں تو ہم سے بڑھ کر گناہگار کون ہو گا؟ اس کے تو صاف معنی یہ ہیں کہ ہم نے دو گھڑی پہلے محض ایک ڈھونگ رچایا تھا۔ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ اور بہتان باندھ کر نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ خیال فرمائیے کہ اس جواب میں اللہ کے نبی علیہ السلام نے ایمان داروں کو مرتد ہونے سے کس طرح دھمکایا ہے؟ لیکن چونکہ انسان کمزور ہے۔ نہ معلوم کس کا دل کیسا ہے اور آگے چل کر کیا ظاہر ہونے والا ہے؟ اس لیے فرمایا کہ اللہ کے ہاتھ سب کچھ ہے۔ اگر وہی کسی کے خیالات الٹ دے تو میرا زور نہیں۔ ہر چیز کے آغاز، انجام کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ ہمارا توکل اور بھروسہ اپنے تمام کاموں میں صرف اسی کی ذات پاک پر ہے۔ اے اللہ! تو ہم میں اور ہماری قوم میں فیصلہ فرما۔ ہماری مدد فرما۔ تو سب حاکموں کا حاکم ہے، سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے، عادل ہے، ظالم نہیں۔
89۔ 1 یعنی اگر ہم دوبارہ اس دین آبائی کی طرف لوٹ آئے، جس سے اللہ نے ہمیں نجات دی، تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم نے ایمان و توحید کی دعوت دے کر اللہ پر جھوٹ باندھا تھا؟ مطلب یہ تھا کہ یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ ہماری طرف سے ایسا ہو۔ 98۔ 2 اپنا عزم ظاہر کرنے کے بعد معاملہ اللہ کی مشیت کے سپرد کردیا۔ یعنی ہم نے اپنی رضامندی سے اب کفر کی طرف نہیں لوٹ سکتے۔ ہاں اگر اللہ چاہے تو بات اور ہے۔ 89۔ 3 کہ وہ ہمیں ایمان پر ثابت رکھے گا اور ہمارے اور کفر و اہل کفر کے درمیان حائل رہے گا، ہم پر اپنی نعمت کا اتمام فرمائے گا اور اپنے عذاب سے محفوظ رکھے گا۔
(آیت 89) ➊ {قَدِ افْتَرَيْنَا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا …:} یہ ایک دوسرے طریقے سے جواب ہے، شعیب علیہ السلام عرب تھے اور عربوں میں شروع ہی سے جھوٹ سے شدید نفرت رہی ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وہ نبی جو تمام دنیا کی طرف اور قیامت تک کے لیے تھا عربوں میں مبعوث کرنا اس لیے طے فرمایا کہ عرب اپنی تمام برائیوں کے باوجود کچھ اوصاف حمیدہ رکھتے تھے، دوسری قومیں ان کی طرح نہیں تھیں، ان میں سے ایک وصف سچ سے محبت اور جھوٹ سے نفرت تھی۔ اسی لیے ابوسفیان نے ہرقل کے دربار میں جھوٹ نہیں بولا کہ مکہ میں جا کر کوئی یہ نہ کہے کہ سردار نے جھوٹ بولا۔ اس لیے شعیب علیہ السلام نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جب ہمیں تمھارے دین سے بچا کر توحید کا اعلان کرنے کی توفیق بخشی تو اب ہم پھر تمھارا دین اختیار کریں تو مطلب یہ ہوا کہ ہم نے جھوٹ باندھا تھا اور وہ بھی اللہ تعالیٰ پر! یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ ➋ {وَ مَا يَكُوْنُ لَنَاۤ اَنْ نَّعُوْدَ فِيْهَاۤ …:} یعنی ہمارے لیے تمھارے دین کو اختیار کرنا ممکن ہی نہیں، مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ چاہے، اس لیے کہ وہ جو چاہے کر سکتا ہے، چنانچہ اب ہم جو یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ دوبارہ تمھارا دین اختیار نہیں کریں گے، وہ بھی اپنے بل بوتے پر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی توفیق کی بنا پر کر رہے ہیں، کیونکہ ارادہ خواہ کتنا ہی نیک کیوں نہ ہو اس کا پورا ہونا اللہ تعالیٰ ہی کی مشیت پر موقوف ہے۔ اس استثنا سے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ شعیب علیہ السلام کو اپنے خاتمہ بالخیر میں شک تھا، بلکہ انھوں نے یہ بات صرف اپنی عاجزی کے اظہار اور اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کرنے کے لیے کہی ہے اور اس میں دوسرے مومنوں کو بھی شامل رکھا ہے۔ واحدی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ انبیاء علیھم السلام اور امت کے اکابر ہمیشہ ہی برے انجام سے پناہ مانگتے رہے۔ خلیل اللہ علیہ السلام کی دعا ہے: «{ وَ اجْنُبْنِيْ وَ بَنِيَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَ }» [ إبراہیم: ۳۵ ] ”اور مجھے اور میرے بیٹوں کو بچا کہ ہم بتوں کی عبادت کریں۔“ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اکثر دعا یہ تھی: [ يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قَلْبِيْ عَلٰی دِيْنِكَ ] ”اے دلوں کو پھیرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھ۔“ [ ترمذي، الدعوات، باب یا مقلب القلوب …: ۳۵۲۲، عن أم سلمۃرضی اللہ عنھا و صححہ الألبانی ] اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ جملہ بطور فرض ہو، یعنی تمھارے جبر و اکراہ سے تو ہم کفر اختیار نہیں کر سکتے، ہاں! (بالفرض) اللہ تعالیٰ کی مشیت ہی یہ ہو تو دوسری بات ہے۔ ➌ {عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا:} یعنی ہم ایمان پر استقامت کے لیے اپنی قوت پر نہیں بلکہ صرف اللہ پر بھروسا کرتے ہیں۔{ ” عَلَى اللّٰهِ “} کو پہلے لانے سے حصر کا معنی پیدا ہو گیا۔ ➍ {رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا …: ”فَتَحَ“} کا معنی واضح فیصلہ ہے، ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ تو اپنے ماننے والوں ہی کے حق میں ہو گا، یعنی انکار اور ضد پر اڑے ہوئے ان مشرکین کے مقابلے میں ہماری مدد فرما کر ہمارے حق پر ہونے اور ان کے باطل پر ہونے کو خوب واضح کر دے۔
وَ قَالَ الۡمَلَاُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِہٖ لَئِنِ اتَّبَعۡتُمۡ شُعَیۡبًا اِنَّکُمۡ اِذًا لَّخٰسِرُوۡنَ ﴿۹۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اس کی قوم کے سرداروں نے، جو اس کی بات ماننے سے انکار کر چکے تھے، آپس میں کہا "اگر تم نے شعیبؑ کی پیروی قبول کر لی تو برباد ہو جاؤ گے"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ان کی قوم کے کافر سرداروں نے کہا کہ اگر تم شعیب (علیہ السلام) کی راه پر چلو گے تو بےشک بڑا نقصان اٹھاؤ گے
احمد رضا خان بریلوی
اور اسکی قوم کے کافر سردار بولے کہ اگر تم شعیب کے تابع ہوئے تو ضرور نقصان میں رہو گے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ان کی قوم کے ان سرداروں نے جو کافر تھے آپس میں کہا کہ اگر تم شعیب کی پیروی کروگے تو نقصان اٹھاؤگے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اس کی قوم میں سے ان سرداروں نے کہا جنھوں نے کفر کیا بے شک اگر تم شعیب کے پیچھے چلے تو بے شک تم اس وقت ضرور خسارہ اٹھانے والے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قوم شعیب کا شوق تباہی پورا ہوا ٭٭

اس قوم کی سرکشی، بد باطنی ملاحظہ ہو کر مسلمانوں کو اسلام سے ہٹانے کے لئے انہیں یقین دلا رہے ہیں کہ شعیب علیہ السلام کی اطاعت تمہیں غارت کر دے گی اور تم بڑے نقصان میں اتر جاؤ گے۔ ان مومنوں کے دلوں کو ڈرانے کا نتیجہ یہ ہوا کہ آسمانی عذاب بصورت زلزلہ زمین سے آیا اور انہیں سچ مچ لرزا دیا اور غارت و برباد ہو کر خود ہی نقصان میں پھنس گئے۔ یہاں اس طرح بیان ہوا۔ سورۃ ہود میں بیان ہے کہ آسمانی کڑاکے کی آواز سے یہ ہلاک کئے گئے۔ ۱؎ [11-هود:94] ‏‏‏‏ یہ اس لیے وہاں بیان ہے کہ انہوں نے اپنے وطن سے نکل جانے کی ڈانٹ ایمان داروں کو دی تھی تو آسمانی ڈانٹ کی آواز نے ان کی آواز پست کر دی اور ہمیشہ کے لئے یہ خاموش کر دیئے گئے۔ سورۃ الشعراء میں بیان ہے کہ بادل ان پر عذاب بن کر برسا۔ کیونکہ وہیں ذکر ہے کہ خود انہوں نے اپنے نبی علیہ السلام سے کہا تھا کہ ’ اگر سچے ہو تو ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دو الخ۔ ‘ ۱؎ [26-الشعراء:187] ‏‏‏‏ واقعہ یہ ہے کہ یہ تینوں عذاب ان پر ایک ساتھ آئے۔ ادھر ابر اٹھا جس سے شعلہ باری ہونے لگی، آگ برسنے لگی۔ ادھر تند اور سخت کڑاکے کی آواز آئی، ادھر زمین پر زلزلہ آیا۔ نیچے اوپر کے عذابوں سے دیکھتے ہی دیکھتے تہ و بالا کر دیئے گئے، اپنی اپنی جگہ ڈھیر ہو گئے۔ یا وہ وقت تھا کہ یہاں سے مومنوں کو نکالنا چاہتے تھے یا یہ وقت ہے کہ یہ بھی نہیں معلوم ہوتا کہ کسی وقت یہاں یہ لوگ آباد بھی تھے، مسلمانوں سے کہہ رہے تھے کہ تم نقصان میں اترو گے یا یہ ہے کہ خود برباد ہو گئے۔
90۔ 1 اپنے آبائی مذہب کو چھوڑنا اور ناپ تول میں کمی نہ کرنا، یہ ان کے نزدیک خسارے والی بات تھی درآنحالیکہ ان دونوں باتوں میں ان ہی کا فائدہ تھا، لیکن دنیا والوں کی نظر میں نفع عاجل (دنیا میں فوراً حاصل ہونے والا نفع) ہی سب کچھ ہوتا ہے، جو ناپ تول میں ڈنڈی مار کر انہیں حاصل ہو رہا تھا، وہ اہل ایمان کی طرح آخرت کے نفع آجل (دیر میں ملنے والا نفع) کے لئے اسے کیوں چھوڑتے۔
(آیت 90) {اِنَّكُمْ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ:} یعنی شعیب علیہ السلام کی پیروی کی صورت میں تم یقینا خسارہ اٹھاؤ گے کہ اپنے آبائی دین سے بھی ہاتھ دھو بیٹھو گے اور جن ناجائز ذرائع سے دولت کما رہے ہو ان کو بھی ترک کرنا پڑے گا۔ یہ بات شعیب علیہ السلام کی قوم کے سرداروں تک محدود نہیں بلکہ ہر زمانے میں دنیا پرستوں نے اخلاق و دیانت کے اصولوں کی پابندی سے یہی خطرہ محسوس کیا ہے اور ان کا ہمیشہ یہ خیال رہا ہے کہ تجارت اور دیگر بنیادی معاملات بددیانتی، دغا بازی اور سود خوری کے بغیر نہیں چل سکتے اور سمجھتے رہے ہیں کہ سچی اور صاف بات کہنے سے کاروبار تباہ ہو جاتے ہیں۔
فَاَخَذَتۡہُمُ الرَّجۡفَۃُ فَاَصۡبَحُوۡا فِیۡ دَارِہِمۡ جٰثِمِیۡنَ ﴿ۚۖۛ۹۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
مگر ہوا یہ کہ ایک دہلا دینے والی آفت نے اُن کو آ لیا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے کے پڑے رہ گئے
مولانا محمد جوناگڑھی
پس ان کو زلزلے نے آپکڑا سو وه اپنے گھروں میں اوندھے کے اوندھے پڑے ره گئے
احمد رضا خان بریلوی
تو انہیں زلز لہ نے ا ٓ لیا تو صبح اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے
علامہ محمد حسین نجفی
سو زلزلہ نے انہیں آپکڑا جس کے بعد وہ اپنے گھروں میں اوندھے منہ پڑے رہ گئے۔
عبدالسلام بن محمد
تو انھیں زلزلے نے پکڑ لیا، تو انھوں نے اس حال میں صبح کی کہ اپنے گھر میں گرے پڑے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قوم شعیب کا شوق تباہی پورا ہوا ٭٭

اس قوم کی سرکشی، بد باطنی ملاحظہ ہو کر مسلمانوں کو اسلام سے ہٹانے کے لئے انہیں یقین دلا رہے ہیں کہ شعیب علیہ السلام کی اطاعت تمہیں غارت کر دے گی اور تم بڑے نقصان میں اتر جاؤ گے۔ ان مومنوں کے دلوں کو ڈرانے کا نتیجہ یہ ہوا کہ آسمانی عذاب بصورت زلزلہ زمین سے آیا اور انہیں سچ مچ لرزا دیا اور غارت و برباد ہو کر خود ہی نقصان میں پھنس گئے۔ یہاں اس طرح بیان ہوا۔ سورۃ ہود میں بیان ہے کہ آسمانی کڑاکے کی آواز سے یہ ہلاک کئے گئے۔ ۱؎ [11-هود:94] ‏‏‏‏ یہ اس لیے وہاں بیان ہے کہ انہوں نے اپنے وطن سے نکل جانے کی ڈانٹ ایمان داروں کو دی تھی تو آسمانی ڈانٹ کی آواز نے ان کی آواز پست کر دی اور ہمیشہ کے لئے یہ خاموش کر دیئے گئے۔ سورۃ الشعراء میں بیان ہے کہ بادل ان پر عذاب بن کر برسا۔ کیونکہ وہیں ذکر ہے کہ خود انہوں نے اپنے نبی علیہ السلام سے کہا تھا کہ ’ اگر سچے ہو تو ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دو الخ۔ ‘ ۱؎ [26-الشعراء:187] ‏‏‏‏ واقعہ یہ ہے کہ یہ تینوں عذاب ان پر ایک ساتھ آئے۔ ادھر ابر اٹھا جس سے شعلہ باری ہونے لگی، آگ برسنے لگی۔ ادھر تند اور سخت کڑاکے کی آواز آئی، ادھر زمین پر زلزلہ آیا۔ نیچے اوپر کے عذابوں سے دیکھتے ہی دیکھتے تہ و بالا کر دیئے گئے، اپنی اپنی جگہ ڈھیر ہو گئے۔ یا وہ وقت تھا کہ یہاں سے مومنوں کو نکالنا چاہتے تھے یا یہ وقت ہے کہ یہ بھی نہیں معلوم ہوتا کہ کسی وقت یہاں یہ لوگ آباد بھی تھے، مسلمانوں سے کہہ رہے تھے کہ تم نقصان میں اترو گے یا یہ ہے کہ خود برباد ہو گئے۔
91۔ 1 امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ عذاب میں ساری ہی چیزوں کا اجتماع ہوا پہلے بادل نے ان پر سایہ کیا جس میں شعلے چنگاریاں اور آگ کے بھبھوکے تھے، پھر آسمان سے سخت چیخ آئی اور زمین سے بھونچال، جس سے ان کی روحیں پرواز کر گئیں اور بےجان لاشے ہو کر پرندوں کی طرح گھٹنوں میں منہ دے کر اوندھے کے اوندھے پڑے رہ گئے
(آیت 91) {فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ …:} ان پر عذاب دونوں طرح سے آیا، یعنی{ ” الرَّجْفَةُ “} (زلزلہ) بھی، جیسے یہاں مذکور ہے اور{” الصَّيْحَةُ “} (چیخ) بھی، جیسا کہ سورۂ ہود (۹۴) میں ہے۔ {” الرَّجْفَةُ “} کے لیے دیکھیے اسی سورت کی آیت (۷۸) کے حواشی۔
الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا شُعَیۡبًا کَاَنۡ لَّمۡ یَغۡنَوۡا فِیۡہَا ۚۛ اَلَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا شُعَیۡبًا کَانُوۡا ہُمُ الۡخٰسِرِیۡنَ ﴿۹۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جن لوگوں نے شعیبؑ کو جھٹلایا وہ ایسے مٹے کہ گویا کبھی ان گھروں میں بسے ہی نہ تھے شعیبؑ کے جھٹلانے والے ہی آخر کار برباد ہو کر رہے
مولانا محمد جوناگڑھی
جنہوں نے شعیب (علیہ السلام) کی تکذیب کی تھی ان کی یہ حالت ہوگئی جیسے ان گھروں میں کبھی بسے ہی نہ تھے۔ جنہوں نے شعیب (علیہ السلام) کی تکذیب کی تھی وہی خسارے میں پڑ گئے
احمد رضا خان بریلوی
شعیب کو جھٹلانے والے گویا ان گھروں میں کبھی رہے ہی نہ تھے، شعیب کو جھٹلانے والے ہی تباہی میں پڑے،
علامہ محمد حسین نجفی
جن لوگوں نے شعیب کو جھٹلایا تھا وہ (اس طرح برباد ہوئے کہ) گویا کبھی ان گھروں میں بستے ہی نہ تھے۔ جنہوں نے شعیب کو جھٹلایا تھا وہی نقصان اٹھانے والے ثابت ہوئے۔
عبدالسلام بن محمد
وہ لوگ جنھوں نے شعیب کو جھٹلایا گویا وہ اس میں بسے ہی نہ تھے، وہ لوگ جنھوں نے شعیب کو جھٹلایا وہی خسارہ اٹھانے والے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قوم شعیب کا شوق تباہی پورا ہوا ٭٭

اس قوم کی سرکشی، بد باطنی ملاحظہ ہو کر مسلمانوں کو اسلام سے ہٹانے کے لئے انہیں یقین دلا رہے ہیں کہ شعیب علیہ السلام کی اطاعت تمہیں غارت کر دے گی اور تم بڑے نقصان میں اتر جاؤ گے۔ ان مومنوں کے دلوں کو ڈرانے کا نتیجہ یہ ہوا کہ آسمانی عذاب بصورت زلزلہ زمین سے آیا اور انہیں سچ مچ لرزا دیا اور غارت و برباد ہو کر خود ہی نقصان میں پھنس گئے۔ یہاں اس طرح بیان ہوا۔ سورۃ ہود میں بیان ہے کہ آسمانی کڑاکے کی آواز سے یہ ہلاک کئے گئے۔ ۱؎ [11-هود:94] ‏‏‏‏ یہ اس لیے وہاں بیان ہے کہ انہوں نے اپنے وطن سے نکل جانے کی ڈانٹ ایمان داروں کو دی تھی تو آسمانی ڈانٹ کی آواز نے ان کی آواز پست کر دی اور ہمیشہ کے لئے یہ خاموش کر دیئے گئے۔ سورۃ الشعراء میں بیان ہے کہ بادل ان پر عذاب بن کر برسا۔ کیونکہ وہیں ذکر ہے کہ خود انہوں نے اپنے نبی علیہ السلام سے کہا تھا کہ ’ اگر سچے ہو تو ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دو الخ۔ ‘ ۱؎ [26-الشعراء:187] ‏‏‏‏ واقعہ یہ ہے کہ یہ تینوں عذاب ان پر ایک ساتھ آئے۔ ادھر ابر اٹھا جس سے شعلہ باری ہونے لگی، آگ برسنے لگی۔ ادھر تند اور سخت کڑاکے کی آواز آئی، ادھر زمین پر زلزلہ آیا۔ نیچے اوپر کے عذابوں سے دیکھتے ہی دیکھتے تہ و بالا کر دیئے گئے، اپنی اپنی جگہ ڈھیر ہو گئے۔ یا وہ وقت تھا کہ یہاں سے مومنوں کو نکالنا چاہتے تھے یا یہ وقت ہے کہ یہ بھی نہیں معلوم ہوتا کہ کسی وقت یہاں یہ لوگ آباد بھی تھے، مسلمانوں سے کہہ رہے تھے کہ تم نقصان میں اترو گے یا یہ ہے کہ خود برباد ہو گئے۔
92۔ 1 یعنی جس بستی سے یہ اللہ کے رسول اور ان کے پیروکاروں کو نکالنے پر تلے ہوئے تھے اللہ کی طرف سے عذاب نازل ہونے کے بعد ایسے ہوگئے جیسے وہ یہاں رہتے ہی نہ تھے۔ 92۔ 2 یعنی خسارے میں وہی لوگ رہے جنہوں نے پیغمبر کی تکذیب کی، نہ کہ پیغمبر اور ان پر ایمان لانے والے۔ اور خسارہ بھی دونوں جہانوں میں۔ دنیا میں بھی ذلت کا عذاب چکھا اور آخرت میں اس سے کہیں زیادہ عذاب شدید ان کے لئے تیار ہے۔
(آیت 92) {كَاَنْ لَّمْ يَغْنَوْا فِيْهَا: ”غَنِيَ يَغْنَي} (س)“کا معنی ہے کسی جگہ رہنا، یعنی وہ جو شعیب علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کو بستی سے نکالنے کے درپے تھے وہ خود اس طرح ہو گئے جیسے وہ کبھی اس میں رہے ہی نہیں تھے اور انھیں خسارے سے ڈرانے والے خود ہی خسارا اٹھانے والے ہو گئے۔
فَتَوَلّٰی عَنۡہُمۡ وَ قَالَ یٰقَوۡمِ لَقَدۡ اَبۡلَغۡتُکُمۡ رِسٰلٰتِ رَبِّیۡ وَ نَصَحۡتُ لَکُمۡ ۚ فَکَیۡفَ اٰسٰی عَلٰی قَوۡمٍ کٰفِرِیۡنَ ﴿٪۹۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور شعیبؑ یہ کہہ کر ان کی بستیوں سے نکل گیا کہ "اے برادران قوم، میں نے اپنے رب کے پیغامات تمہیں پہنچا دیے اور تمہاری خیر خواہی کا حق ادا کر دیا اب میں اُس قوم پر کیسے افسوس کروں جو قبول حق سے انکار کرتی ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
اس وقت شعیب (علیہ السلام) ان سے منھ موڑ کر چلے اور فرمانے لگے کہ اے میری قوم! میں نے تم کو اپنے پروردگار کے احکام پہنچا دیئے تھے اور میں نے تمہاری خیر خواہی کی۔ پھر میں ان کافر لوگوں پر کیوں رنج کروں
احمد رضا خان بریلوی
تو شعیب نے ان سے منہ پھیرا اور کہا اے میری قوم! میں تمہیں رب کی رسالت پہنچا چکا اور تمہارے بھلے کو نصیحت کی تو کیونکر غم کروں کافروں کا،
علامہ محمد حسین نجفی
(اس وقت) وہ ان سے منہ موڑ کر چلے اور کہا اے میری قوم! میں نے تو یقیناً اپنے پروردگار کے پیغامات تمہیں پہنچا دیئے تھے اور تمہیں نصیحت بھی کی تھی تو (اب) کافر قوم (کے عبرتناک انجام) پر کیونکر افسوس کروں؟
عبدالسلام بن محمد
پھر وہ ان سے واپس لوٹا اور اس نے کہا اے میری قوم! بلاشبہ یقینا میں نے تمھیں اپنے رب کے پیغامات پہنچا دیے اور میں نے تمھاری خیرخواہی کی، تو میں نہ ماننے والے لوگوں پر کیسے غم کروں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قوم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آ چکنے کے بعد شعیب علیہ السلام وہاں سے چلے اور بطور ڈانٹ ڈپٹ کے فرمایا کہ میں سبکدوش ہو چکا ہوں۔ اللہ کا پیغام سنا چکا، سمجھا بجھا چکا، غم خواری، ہمدردی کر چکا۔ لیکن تم کافر کے کافر ہی رہے۔ اب مجھے کیا پڑی کہ تمہارے افسوس میں اپنی جان ہلکان کروں؟
93۔ 1 عذاب و تباہی کے بعد جب وہ وہاں سے چلے، تو انہوں نے وفور جذبات میں باتیں کیں۔ اور ساتھ کہا کہ جب میں نے حق تبلیغ ادا کردیا اور اللہ کا پیغام ان تک پہنچا دیا، تو اب میں ایسے لوگوں پر افسوس کروں تو کیوں کروں؟ جو اس کے باوجود اپنے کفر اور شرک پر ڈٹے رہے۔
(آیت 93) {فَكَيْفَ اٰسٰى عَلٰى قَوْمٍ كٰفِرِيْنَ:} یعنی بے شک تم میرے عزیز تھے، مگر جب تم نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا تو کافروں کی ہلاکت پر میں کیسے غم کروں۔ دیکھیے اسی سورت کی آیت (۷۹) کے حواشی۔
وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَا فِیۡ قَرۡیَۃٍ مِّنۡ نَّبِیٍّ اِلَّاۤ اَخَذۡنَاۤ اَہۡلَہَا بِالۡبَاۡسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ لَعَلَّہُمۡ یَضَّرَّعُوۡنَ ﴿۹۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ہم نے کسی بستی میں نبی بھیجا ہو اور اُس بستی کے لوگوں کو پہلے تنگی اور سختی میں مبتلا نہ کیا ہو اس خیال سے کہ شاید وہ عاجزی پر اتر آئیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہم نے کسی بستی میں کوئی نبی نہیں بھیجا کہ وہاں کے رہنے والوں کو ہم نے سختی اور تکلیف میں نہ پکڑا ہو، تاکہ وه گڑ گڑائیں
احمد رضا خان بریلوی
اور نہ بھیجا ہم نے کسی بستی میں کوئی نبی مگر یہ کہ اس کے لوگوں کو سختی اور تکلیف میں پکڑا کہ وہ کسی طرح زاری کریں
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے کبھی کسی بستی میں کوئی نبی نہیں بھیجا مگر یہ کہ اس کے باشندوں کو (ان کی تکذیب پر پہلے) سختی اور تکلیف میں مبتلا کیا تاکہ وہ تضرع و زاری کریں۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے کسی بستی میں کوئی نبی نہیں بھیجا مگر اس کے رہنے والوں کو تنگی اور تکلیف کے ساتھ پکڑا، تاکہ وہ گڑ گڑائیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ادوار ماضی ٭٭

اگلی امتوں میں بھی اللہ تعالیٰ کے رسول آئے اور ان کے انکار پر وہ امتیں مختلف بلاؤں میں مبتلا کی گئیں مثلاً بیماریاں، فقیری، مفلسی، تنگی وغیرہ تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے اکڑنا چھوڑ دیں اور اس کے سامنے جھک جائیں، مصیبتوں کے ٹالنے کی دعائیں کریں اور اس کے رسول کی مان لیں۔ لیکن انہوں نے اس موقعہ کو ہاتھ سے نکال دیا۔ باوجود بری حالت ہونے کے دل کا کفر نہ ٹوتا، اپنی ضد سے نہ ہٹے تو ہم نے دوسری طرح پھر ایک موقعہ دیا۔ سختی کو نرمی سے، برائی کو بھلائی سے، بیماری کو تندرستی سے، فقیری کو امیری سے بدل دیا تاکہ شکر کریں اور ہماری حکمرانی کے قائل ہو جائیں لیکن انہوں نے اس موقعہ سے بھی فائدہ نہ اٹھایا۔ جیسے جیسے ڈھیل دیے گئے، ویسے ویسے کفر میں پھنسے، بد مستی میں اور بڑھے اور مغرور ہو گئے اور کہنے لگے کہ یہ زمانہ کے اتفاقات ہیں۔ پہلے سے یہی ہوتا چلا آیا ہے۔ کبھی دن بڑے، کبھی راتیں۔ زمانہ ہمیشہ ایک حالت پر نہیں رہتا۔ الغرض اتفاق پر محمول کر کے معمولی سی بات سمجھ کر دونوں موقعے ٹال دیئے۔ ایمان والے دونوں حالتوں میں عبرت پکڑتے ہیں۔ مصیبت پر صبر، راحت پر شکر ان کا شیوہ ہوتا ہے۔ بخاری و مسلم میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: { مومن پر تعجب ہے۔ اس کی دونوں حالتیں انجام کے لحاظ سے اس کے لئے بہتر ہوتی ہیں۔ یہ دکھ پر صبر کرتا ہے، انجام بہتر ہوتا ہے۔ سکھ پر شکر کرتا ہے، نیکیاں پاتا ہے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2999] ‏‏‏‏ پس مومن رنج و راحت دونوں میں اپنی آزمائش کو سمجھ لیتا ہے۔ ایک اور حدیث میں ہے: { بلاؤں کی وجہ سے مومن کے گناہ بالکل دور ہو جاتے ہیں اور پاک صاف ہو جاتا ہے۔ ہاں منافق کی مثال گدھے جیسی ہے جسے نہیں معلوم کہ کیوں باندھا گیا اور کیوں کھولا گیا؟ } ۱؎ [مسند احمد:287/2:حسن] ‏‏‏‏ «اَوْ کَمَا قَالَ» پس ان لوگوں کو اس کے بعد اللہ کے عذاب نے اچانک آ پکڑا۔ یہ محض بےخبر تھے، اپنی خرمستیوں میں لگے ہوئے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { اچانک موت مومن کے لیے رحمت ہے اور کافروں کے لیے حسرت ہے۔ } ۱؎ [مسند احمد:136/6:ضعیف] ‏‏‏‏
94۔ 1 مطلب یہ کہ جس کسی بستی میں بھی ہم نے رسول بھیجا انہوں اس کی تکذیب کی جس کی پاداش میں ہم نے ان کو بیماری اور محتاجی میں مبتلا کردیا جس سے مقصد یہ تھا کہ اللہ کی طرف رجوع کریں اور اس کی بارگا میں گڑگڑائیں۔
(آیت 94) ➊ { وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا فِيْ قَرْيَةٍ مِّنْ نَّبِيٍّ …:} اس سے پہلے بعض انبیاء، نوح، ہود، صالح، لوط اور شعیب علیھم السلام کے اپنی اقوام کے ساتھ گزرے ہوئے چند واقعات کے ذکر کے بعد اور آگے موسیٰ علیہ السلام کے فرعون اور بنی اسرائیل کے ساتھ پیش آنے والے مفصل واقعات سے پہلے درمیان میں مختصر طور پر تمام انبیاء اور ان کی اقوام کا ذکر فرمایا۔ مقصود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دینا اور کفار کو خبردار کرنا ہے۔ ➋ {بِالْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ:بِالْبَاْسَآءِ “} سے مراد اموال میں پہنچنے والی مصیبت، مثلاً فقر و فاقہ اور قحط وغیرہ اور{ ” الضَّرَّآءِ “ } سے مراد انسانی بدن کو نقصان پہنچانے والی اشیاء، مثلاً بیماری، مصائب اور جنگ وغیرہ۔ ➌ {لَعَلَّهُمْ يَضَّرَّعُوْنَ:} یعنی جب بھی ہم نے کسی بستی کی طرف کوئی نبی بھیجا اور وہ اس پر ایمان نہ لائے تو ہم نے ان کی نصیحت کے لیے بڑے عذاب سے پہلے کم تر عذاب بھیجے جو جنگ، تنگ دستی، قحط یا بیماری اور دوسرے مصائب کی صورت میں تھے۔ مقصد یہ تھا کہ وہ اپنی شامتِ اعمال سے آگاہ ہو کر ہمارے سامنے عجز کا اظہار کریں اور سیدھی راہ پر آ جائیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ وَ لَنُذِيْقَنَّهُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰى دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ }» [ السجدۃ: ۲۱] ”اور یقینا ہم انھیں قریب عذاب کا کچھ حصہ سب سے بڑے عذاب سے پہلے ضرور چکھائیں گے، تاکہ وہ پلٹ آئیں۔“
ثُمَّ بَدَّلۡنَا مَکَانَ السَّیِّئَۃِ الۡحَسَنَۃَ حَتّٰی عَفَوۡا وَّ قَالُوۡا قَدۡ مَسَّ اٰبَآءَنَا الضَّرَّآءُ وَ السَّرَّآءُ فَاَخَذۡنٰہُمۡ بَغۡتَۃً وَّ ہُمۡ لَا یَشۡعُرُوۡنَ ﴿۹۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر ہم نے ان کی بدحالی کو خوش حالی سے بدل دیا یہاں تک کہ وہ خوب پھلے پھولے اور کہنے لگے کہ "ہمارے اسلاف پر بھی اچھے اور برے دن آتے ہی رہے ہیں" آخر کار ہم نے انہیں اچانک پکڑ لیا اور انہیں خبر تک نہ ہوئی
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر ہم نے اس بدحالی کی جگہ خوش حالی بدل دی، یہاں تک کہ ان کو خوب ترقی ہوئی اور کہنے لگے کہ ہمارے آباواجداد کو بھی تنگی اور راحت پیش آئی تھی تو ہم نے ان کو دفعتاً پکڑ لیا اور ان کو خبر بھی نہ تھی
احمد رضا خان بریلوی
پھر ہم نے برائی کی جگہ بھلائی بدل دی یہاں تک کہ وہ بہت ہوگئے اور بولے بیشک ہمارے باپ دادا کو رنج و راحت پہنچے تھے تو ہم نے انہیں اچانک ان کی غفلت میں پکڑ لیا
علامہ محمد حسین نجفی
پھر ہم نے ان کی بدحالی کو خوش حالی سے بدل دیا یہاں تک کہ وہ خوب بڑھے (اور پھلے پھولے) اور کہنے لگے کہ ہمارے باپ دادا کو بھی کبھی تکلیف اور کبھی راحت یونہی پہنچتی رہی ہے۔ تو ایک دم ہم نے ان کو اس طرح پکڑ لیا کہ انہیں اس کا شعور بھی نہ ہو سکا۔
عبدالسلام بن محمد
پھر ہم نے اس بدحالی کی جگہ خوشحالی بدل کر دے دی، یہاں تک کہ وہ خوب بڑھ گئے اور انھوں نے کہا یہ تکلیف اور خوشی تو ہمارے باپ دادا کو (بھی) پہنچی تھی۔ تو ہم نے انھیں اچانک اس حال میں پکڑ لیا کہ وہ سوچتے نہ تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ادوار ماضی ٭٭

اگلی امتوں میں بھی اللہ تعالیٰ کے رسول آئے اور ان کے انکار پر وہ امتیں مختلف بلاؤں میں مبتلا کی گئیں مثلاً بیماریاں، فقیری، مفلسی، تنگی وغیرہ تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے اکڑنا چھوڑ دیں اور اس کے سامنے جھک جائیں، مصیبتوں کے ٹالنے کی دعائیں کریں اور اس کے رسول کی مان لیں۔ لیکن انہوں نے اس موقعہ کو ہاتھ سے نکال دیا۔ باوجود بری حالت ہونے کے دل کا کفر نہ ٹوتا، اپنی ضد سے نہ ہٹے تو ہم نے دوسری طرح پھر ایک موقعہ دیا۔ سختی کو نرمی سے، برائی کو بھلائی سے، بیماری کو تندرستی سے، فقیری کو امیری سے بدل دیا تاکہ شکر کریں اور ہماری حکمرانی کے قائل ہو جائیں لیکن انہوں نے اس موقعہ سے بھی فائدہ نہ اٹھایا۔ جیسے جیسے ڈھیل دیے گئے، ویسے ویسے کفر میں پھنسے، بد مستی میں اور بڑھے اور مغرور ہو گئے اور کہنے لگے کہ یہ زمانہ کے اتفاقات ہیں۔ پہلے سے یہی ہوتا چلا آیا ہے۔ کبھی دن بڑے، کبھی راتیں۔ زمانہ ہمیشہ ایک حالت پر نہیں رہتا۔ الغرض اتفاق پر محمول کر کے معمولی سی بات سمجھ کر دونوں موقعے ٹال دیئے۔ ایمان والے دونوں حالتوں میں عبرت پکڑتے ہیں۔ مصیبت پر صبر، راحت پر شکر ان کا شیوہ ہوتا ہے۔ بخاری و مسلم میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: { مومن پر تعجب ہے۔ اس کی دونوں حالتیں انجام کے لحاظ سے اس کے لئے بہتر ہوتی ہیں۔ یہ دکھ پر صبر کرتا ہے، انجام بہتر ہوتا ہے۔ سکھ پر شکر کرتا ہے، نیکیاں پاتا ہے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2999] ‏‏‏‏ پس مومن رنج و راحت دونوں میں اپنی آزمائش کو سمجھ لیتا ہے۔ ایک اور حدیث میں ہے: { بلاؤں کی وجہ سے مومن کے گناہ بالکل دور ہو جاتے ہیں اور پاک صاف ہو جاتا ہے۔ ہاں منافق کی مثال گدھے جیسی ہے جسے نہیں معلوم کہ کیوں باندھا گیا اور کیوں کھولا گیا؟ } ۱؎ [مسند احمد:287/2:حسن] ‏‏‏‏ «اَوْ کَمَا قَالَ» پس ان لوگوں کو اس کے بعد اللہ کے عذاب نے اچانک آ پکڑا۔ یہ محض بےخبر تھے، اپنی خرمستیوں میں لگے ہوئے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { اچانک موت مومن کے لیے رحمت ہے اور کافروں کے لیے حسرت ہے۔ } ۱؎ [مسند احمد:136/6:ضعیف] ‏‏‏‏
95۔ 1 یعنی فقر و بیماری کو صحت و عافیت سے بدل دیا جب کے ان کے اندر رجوع الی اللہ کا داعیہ پیدا نہیں ہوا تو ہم نے ان کو تنگ دستی کو خوش حالی سے اور بیماری کو صحت عافیت سے بدل دیا تاکہ وہ اس پر اللہ کا شکر کریں۔ لیکن اس انقلاب حال سے بھی ان کے اندر کوئی تبدیلی نہیں آئی اور انہوں نے کہا یہ تو ہمیشہ سے ہوتا چلا آرہا ہے تو پھر ہم نے اچانک اپنے عذاب کی گرفت میں لے لیا۔ اسی لیے حدیث مومنوں کا معاملہ اس کے برعکس بیان فرمایا گیا ہے۔ کہ وہ ارام وراحت ملنے پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں اور تکلیف پہنچنے پر صبر سے کام لیتے ہیں یوں دونوں ہی حالتیں ان کے لیے خیر اور اجر کا باعث ہوتی ہیں۔
(آیت 95) ➊ {ثُمَّ بَدَّلْنَا مَكَانَ السَّيِّئَةِ الْحَسَنَةَ …: ” عَفَوْا “ } یہ {”عَفَا يَعْفُوْ“} سے ماضی معلوم جمع مذکر غائب ہے، معنی ہے” بڑھ گئے۔“ باب افعال کا معنی ”بڑھانا“ ہے، جیسا کہ فرمایا: [ أَعْفُوا اللِّحَی ] [ بخاری، اللباس، باب إعفاء اللحی: ۵۸۹۳] ”ڈاڑھیوں کو بڑھاؤ۔“ مگر جب انھوں نے ایسا نہ کیا تو ہم نے بدحالی کی جگہ انھیں خوش حالی دے کر واپس پلٹنے کا موقع دیا، انھیں قحط کے بجائے ارزانی اور بیماری کے بجائے تندرستی عطا فرمائی، آبادی ان کی خوب بڑھ گئی اور مال و دولت کی ریل پیل ہو گئی، تو ان نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہوئے اپنے رب کے رسول پر ایمان لے آنے کے بجائے پہلی سختی کو بھول گئے اور ان نعمتوں کی بھی قدر نہ کی اور کہنے لگے، اگر ہم قحط اور دوسری مصیبتوں میں مبتلا ہوئے تو محض زمانے کی گردش کی وجہ سے ہوئے ہیں نہ کہ اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے۔ دنیا میں ایسے ہوتا ہی رہتا ہے، موسم کے تغیر سے حالات بدلتے رہتے ہیں، کبھی بیماری اور کبھی تندرستی، کبھی خوش حالی اور کبھی بدحالی وغیرہ۔ یہ حالات ہمیں کو نہیں بلکہ ہمارے باپ دادا کو بھی پیش آتے رہے ہیں، مگر جلد ہی ٹلتے بھی رہے ہیں، اس قسم کے حالات پیش آنے میں انسانوں کے اعمال کا کوئی دخل نہیں ہے۔ ایسی توجیہات اب بعض مسلمان بھی کرنے لگے ہیں۔ ➋ {فَاَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ:} یعنی جب اللہ تعالیٰ کو اس طرح فراموش کر بیٹھے تو یکایک اللہ کا غضب نازل ہوا اور ایسا عذاب آیا کہ آن کی آن میں سب نیست و نابود ہو گئے۔ ان قوموں کے بعد فرعون اور موسیٰ علیہ السلام کا ذکر آ رہا ہے، فرعون کی قوم پر تنگی اور تکلیف کی گرفت متعدد بار آئی، مثلاً طوفان، جراد اور قمل وغیرہ، مگر انھوں نے اپنا رویہ نہ بدلا تو پہلی قوموں کی طرح اچانک عذاب آیا اور سمندر میں غرق کر دیے گئے۔ اس کے برعکس مومنین خوش حالی میں شکر اور تنگ دستی میں صبر کرتے ہیں، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کا معاملہ بھی خوب ہے، کیونکہ اس کا سارا معاملہ بہترین ہے اور یہ چیز مومن کے سوا کسی کو حاصل نہیں، اگر اسے خوشی پہنچتی ہے تو شکر کرتا ہے تو وہ اس کے لیے بہتر ہوتا ہے اور اگر اسے تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتا ہے تو وہ بھی اس کے لیے بہتر ہوتا ہے۔“ [ مسلم، الزھد، باب المؤمن أمرہ کلہ خیر: ۲۹۹۹ ] اس آیت کی تشریح میں شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”بندے کو دنیا میں گناہ کی سزا پہنچتی ہے تو امید ہے توبہ کرے اور جب گناہ راست (موافق) آگیا تو یہ اللہ تعالیٰ کا بھلاوا ہے، پھر ڈر ہے ہلاک (ہونے) کا، جیسے زہر کھایا، اگل دے تو امید ہے اور اگر پچ گیا (ہضم ہوگیا) تو کام آخر ہوا۔“ (موضح)
وَ لَوۡ اَنَّ اَہۡلَ الۡقُرٰۤی اٰمَنُوۡا وَ اتَّقَوۡا لَفَتَحۡنَا عَلَیۡہِمۡ بَرَکٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الۡاَرۡضِ وَ لٰکِنۡ کَذَّبُوۡا فَاَخَذۡنٰہُمۡ بِمَا کَانُوۡا یَکۡسِبُوۡنَ ﴿۹۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اگر بستیوں کے لوگ ایمان لاتے اور تقویٰ کی روش اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتوں کے دروازے کھو ل دیتے، مگر اُنہوں نے تو جھٹلایا، لہٰذا ہم نے اُس بری کمائی کے حساب میں انہیں پکڑ لیا جو وہ سمیٹ رہے تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اگر ان بستیوں کے رہنے والے ایمان لے آتے اور پرہیزگاری اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکتیں کھول دیتے لیکن انہوں نے تکذیب کی تو ہم نے ان کے اعمال کی وجہ سے ان کو پکڑ لیا
احمد رضا خان بریلوی
اور اگر بستیو ں والے ایمان لاتے اور ڈرتے تو ضرور ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتیں کھول دیتے مگر انہوں نے تو جھٹلایا تو ہم نے انہیں ان کے کیے پر گرفتار کیا
علامہ محمد حسین نجفی
اور اگر ان بستیوں کے باشندے ایمان لاتے اور پرہیزگاری اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان و زمین کی برکتوں کے دروازے کھول دیتے۔ لیکن انہوں نے جھٹلایا۔ لہٰذا ہم نے ان کو ان کے کرتوتوں کی پاداش میں پکڑ لیا۔
عبدالسلام بن محمد
اور اگر بستیوں والے ایمان لے آتے اور بچ کر چلتے تو ہم ضرور ان پر آسمان اور زمین سے بہت سی برکتیں کھول دیتے اور لیکن انھوں نے جھٹلایا تو ہم نے انھیں اس کی وجہ سے پکڑ لیا جو وہ کمایا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عوام کی فطرت ٭٭

لوگوں سے عام طور پر جو غلطی ہو رہی ہے، اس کا ذکر ہے کہ عموماً ایمان سے اور نیک کاموں سے بھاگتے رہتے ہیں۔ صرف یونس علیہ السلام کی پوری بستی ایمان لائی تھی اور وہ بھی اس وقت جبکہ عذابوں کو دیکھ لیا اور یہ بھی صرف ان کے ساتھ ہی ہوا کہ آئے ہوئے عذاب واپس کر دیئے گئے اور دنیا و آخرت کی رسوائی سے بچ گئے۔ ’ یہ لوگ ایک لاکھ بلکہ زائد تھے۔ اپنی پوری عمر تک پہنچے اور دنیوی فائدے بھی حاصل کرتے رہے۔ ‘ ۱؎ [37-الصافات:147-148] ‏‏‏‏ تو فرماتا ہے کہ اگر نبیوں کے آنے پر ان کے امتی صدق دل سے ان کی تابعداری کرتے، برائیوں سے رک جاتے اور نیکیاں کرنے لگتے تو ہم ان پر کشادہ طور پر بارشیں برساتے اور زمین سے پیداوار اگاتے۔ لیکن انہوں نے رسولوں کی نہ مانی بلکہ انہیں جھوٹا سمجھا اور روبرو جھوٹا کہا۔ برائیوں سے، حرام کاریوں سے ایک انچ نہ ہٹے۔ اس وجہ سے تباہ کر دیے گئے۔ کیا کافروں کو اس بات کا خوف نہیں کہ راتوں رات ان کی بےخبری میں ان کے سوتے ہوئے عذاب الٰہی آ جائے اور یہ سوئے کے سوئے رہ جائیں؟ کیا انہیں ڈر نہیں لگتا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ دن دہاڑے ان کے کھیل کود اور غفلت کی حالت میں اللہ جل جلالہ کا عذاب آ جائے؟ اللہ کے عذابوں سے، اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے۔ اس کی بےپایاں قدرت کے اندازے سے غافل وہی ہوتے ہیں جو اپنے آپ بربادی کی طرف بڑھے چلے جاتے ہوں۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ کا قول ہے کہ مومن نیکیاں کرتا ہے اور پھر ڈرتا رہتا ہے اور فاسق، فاجر شخص برائیاں کرتا ہے اور بےخوف رہتا ہے۔ نتیجے میں مومن امن پاتا ہے اور فاجر پیس دیا جاتا ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 96) ➊ {وَ لَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰۤى اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا …:} اگر واقعی بستیوں والے ایمان لاتے اور اللہ کی حدود کی پابندی کرتے تو اس ایمان اور تقویٰ کا نتیجہ ان انعامات کی شکل میں پاتے کہ…! اور ایمان اور تقویٰ اختیار نہ کرنے کا نتیجہ عذاب الٰہی کی صورت میں نکلتا ہے کہ وہ برکات سے محروم ہو کر عذاب سے دو چار ہوتے ہیں۔ ➋ {لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكٰتٍ:بَرَكٰتٍ “ ” بَرَكَةٌ “} کی جمع ہے، کسی چیز میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے خیر ہونا۔ اصل میں {” بِرْكَةٌ “} حوض کو کہتے ہیں، جس طرح حوض میں پانی جمع ہوتا ہے، اسی طرح کسی چیز میں بہت سی خیر موجود ہونا {” بَرَكَةٌ “} کہلاتا ہے۔ راغب نے فرمایا: ”چونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے خیر اس طرح آتی ہے کہ آتے ہوئے نہ اس کا احساس ہوتا ہے اور نہ اس کا کوئی شمار ہوتا ہے، اس لیے اگر کسی شخص یا چیز میں محسوس نہ ہونے والی بہتری کا مشاہدہ ہو رہا ہوتوکہتے ہیں کہ وہ مبارک ہے اور اس میں برکت ہے۔“ (طنطاوی) ”برکتیں کھول دیتے“ یہ استعارہ ہے کہ جس طرح دروازہ کھل جاتا ہے اس طرح ان پر برکات کا نزول ہوتا، یعنی آسمان سے بارش اور رحمتوں کی صورت میں اور زمین سے پانی زرعی اجناس (غلے اور پھل) اور زمین سے نکلنے والی بے شمار نعمتوں، مثلاً پٹرول، گیس، سونا، چاندی اور جواہرات وغیرہ کی صورت میں۔
اَفَاَمِنَ اَہۡلُ الۡقُرٰۤی اَنۡ یَّاۡتِیَہُمۡ بَاۡسُنَا بَیَاتًا وَّ ہُمۡ نَآئِمُوۡنَ ﴿ؕ۹۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر کیا بستیوں کے لوگ اب اس سے بے خوف ہو گئے ہیں کہ ہماری گرفت کبھی اچانک اُن پر رات کے وقت نہ آ جائے گی جب کہ وہ سوتے پڑے ہوں؟
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا پھر بھی ان بستیوں کے رہنے والے اس بات سے بے فکر ہوگئے ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب شب کے وقت آپڑے جس وقت وه سوتے ہوں
احمد رضا خان بریلوی
کیا بستیوں والے نہیں ڈرتے کہ ان پر ہمارا عذاب رات کو آئے جب وہ سوتے ہوں
علامہ محمد حسین نجفی
آیا ان بستیوں والے اس سے بے خوف ہوگئے ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب راتوں رات آجائے جبکہ وہ سو رہے ہوں؟
عبدالسلام بن محمد
تو کیا بستیوں والے بے خوف ہوگئے کہ ہمارا عذاب ان پر راتوں رات آجائے اور وہ سوئے ہوئے ہوں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
گناہوں میں ڈوبے لوگ؟ ٭٭

ارشاد ہے کہ ایک گروہ نے ہمارا مقابلہ کیا اور ہم نے انہیں تاخت و تاراج کیا۔ دوسرا گروہ ان کے قائم مقام ہوا تو کیا اس پر بھی یہ بات واضح نہیں ہوتی کہ اگر وہ بداعمالیاں کریں گے تو اپنے سے اگلوں کی طرح کھو دیئے جائیں گے؟ جیسے فرمان ہے «أَفَلَمْ يَهْدِ لَهُمْ كَمْ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنَ الْقُرُونِ يَمْشُونَ فِى مَسَـكِنِهِمْ» ۱؎ [20-طه:128] ‏‏‏‏ یعنی ’ کیا انہیں اب تک سمجھ نہیں آئی کہ ہم نے ان سے پہلے بہت سی آباد بستیاں اجاڑ کر رکھ دیں جن کے مکانوں میں اب یہ رہتے سہتے ہیں۔ اگر یہ عقل مند ہوتے تو ان کے لیے بہت سی عبرتیں تھیں۔ ‘ اور اس بیان کے بعد کی آیت میں ہے کہ اس میں بہت سی نشانیاں ہیں۔ کیا یہ سن نہیں رہے؟ ایک آیت میں فرمایا: ”تم اس سے پہلے پورے یقین سے کہتے تھے کہ تمہیں زوال آئے گا ہی نہیں۔ حالانکہ تم جن کے گھروں میں تھے، وہ خود بھی اپنے مظالم کے سبب تباہ کر دیئے گئے تھے۔ خالی گھر رہ گئے۔“ ایک اور آیت میں ہے «وَكَمْ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُم مِّن قَرْنٍ هَلْ تُحِسُّ مِنْهُم مِّنْ أَحَدٍ أَوْ تَسْمَعُ لَهُمْ رِكْزًا» ۱؎ [19-مريم:98] ‏‏‏‏ ’ ان سے پہلے ہم نے بہت سی بستیاں تباہ کر دیں۔ نہ ان میں سے اب کوئی نظر آئے، نہ کسی کی آواز سنائی دے۔ ‘ اور آیت میں ہے کہ وہ لوگ تو ان سے زیادہ مست تھے، مال دار تھے، عیش و عشرت میں تھے، راحت و آرام میں تھے، اوپر سے ابر برستا تھا، نیچے سے چشمے بہتے تھے لیکن گناہوں میں ڈوبے رہے کہ آخر تہس نہس ہو گئے اور دوسرے لوگ ان کے قائم مقام آئے۔

عادیوں کی ہلاکت کا بیان فرما کر ارشاد ہوا کہ ایسے عذاب اچانک آ گئے کہ ان کے وجود کی دھجیاں اڑ گئیں، کھنڈر کھڑے رہ گئے اور کسی چیز کا نام و نشان نہ بچا۔ مجرموں کا یہی حال ہوتا ہے۔ ’ حالانکہ دنیوی وجاہت بھی ان کے پاس تھی۔ آنکھ، کان، دل سب تھا لیکن اللہ جل شانہ کی باتوں کا تمسخر کرنے پر اور ان کے انکار پر جب عذاب آیا تو حیران و ششدر رہ گئے۔ نہ عقل آئی، نہ اسباب بچے۔ اپنے آس پاس کی ویران بستیاں دیکھ کر عبرت حاصل کرو۔ اگلوں نے جھٹلایا تو دیکھ لو کہ کس طرح برباد ہوئے؟ ‘ ۱؎ [46-الأحقاف:25-27] ‏‏‏‏ ’ تم تو ابھی تک ان کے دسویں حصے کو بھی نہیں پہنچے۔ تم سے پہلے کے منکروں پر میرے عذاب آئے، انہیں غور سے سنو۔ ‘ ۱؎ [34-سبأ:45] ‏‏‏‏ ’ ظالموں کی بستیاں میں نے الٹ دیں اور ان کے محلات کھنڈر بنا دیئے۔ زمین میں چل پھر کر، آنکھیں کھول کر، کان لگا کر ذرا عبرت حاصل کرو۔ جس کی آنکھیں نہ ہوں، وہی اندھا نہیں بلکہ سچ مچ اندھا وہ ہے جس کی دلی آنکھیں بےکار ہوں۔ ‘ ۱؎ [22-الحج:45-46] ‏‏‏‏ اگلے نبیوں کے ساتھ بھی مذاق اڑائے گئے لیکن نتیجہ یہی ہوا کہ ایسے مذاق کرنے والوں کا نشان مٹ گیا۔ ایسے گھیرے گئے کہ ایک بھی نہ بچا۔ اللہ تعالیٰ کی باتیں سچی ہیں، اس کے وعدے اٹل ہیں۔ وہ ضرور اپنے دوستوں کی مدد کرتا ہے اور اپنے دشمنوں کو نیچا دکھاتا ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 98،97){ اَفَاَمِنَ اَهْلُ الْقُرٰۤى …: } یعنی اللہ کا عذاب ان کے بے خبر سونے کی حالت میں بھی آ سکتا ہے اور عین دوپہر جاگتے ہوئے مصروفیت کی صورت میں بھی آ سکتا ہے، کوئی یہ نہ سمجھے کہ دن ہو تو اس کا مقابلہ کر لیں گے۔ (بقاعی)
اَوَ اَمِنَ اَہۡلُ الۡقُرٰۤی اَنۡ یَّاۡتِیَہُمۡ بَاۡسُنَا ضُحًی وَّ ہُمۡ یَلۡعَبُوۡنَ ﴿۹۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یا انہیں اطمینان ہو گیا ہے کہ ہمارا مضبوط ہاتھ کبھی یکایک ان پر دن کے وقت نہ پڑے گا جب کہ وہ کھیل رہے ہوں؟
مولانا محمد جوناگڑھی
اور کیا ان بستیوں کے رہنے والے اس بات سے بےفکر ہوگئے ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب دن چڑھے آپڑے جس وقت کہ وه اپنے کھیلوں میں مشغول ہوں
احمد رضا خان بریلوی
یا بستیوں والے نہیں ڈرتے کہ ان پر ہمارا عذاب دن چڑھے آئے جب وہ کھیل رہے ہوں
علامہ محمد حسین نجفی
یا کیا بستیوں والے اس سے بے خوف ہوگئے ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب دن چڑھے (چاشت کے وقت) آجائے جبکہ وہ کھیل کود رہے ہوں؟
عبدالسلام بن محمد
اور کیا بستیوں والے بے خوف ہوگئے کہ ہمارا عذاب ان پر دن چڑھے آجائے اور وہ کھیل رہے ہوں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
گناہوں میں ڈوبے لوگ؟ ٭٭

ارشاد ہے کہ ایک گروہ نے ہمارا مقابلہ کیا اور ہم نے انہیں تاخت و تاراج کیا۔ دوسرا گروہ ان کے قائم مقام ہوا تو کیا اس پر بھی یہ بات واضح نہیں ہوتی کہ اگر وہ بداعمالیاں کریں گے تو اپنے سے اگلوں کی طرح کھو دیئے جائیں گے؟ جیسے فرمان ہے «أَفَلَمْ يَهْدِ لَهُمْ كَمْ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنَ الْقُرُونِ يَمْشُونَ فِى مَسَـكِنِهِمْ» ۱؎ [20-طه:128] ‏‏‏‏ یعنی ’ کیا انہیں اب تک سمجھ نہیں آئی کہ ہم نے ان سے پہلے بہت سی آباد بستیاں اجاڑ کر رکھ دیں جن کے مکانوں میں اب یہ رہتے سہتے ہیں۔ اگر یہ عقل مند ہوتے تو ان کے لیے بہت سی عبرتیں تھیں۔ ‘ اور اس بیان کے بعد کی آیت میں ہے کہ اس میں بہت سی نشانیاں ہیں۔ کیا یہ سن نہیں رہے؟ ایک آیت میں فرمایا: ”تم اس سے پہلے پورے یقین سے کہتے تھے کہ تمہیں زوال آئے گا ہی نہیں۔ حالانکہ تم جن کے گھروں میں تھے، وہ خود بھی اپنے مظالم کے سبب تباہ کر دیئے گئے تھے۔ خالی گھر رہ گئے۔“ ایک اور آیت میں ہے «وَكَمْ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُم مِّن قَرْنٍ هَلْ تُحِسُّ مِنْهُم مِّنْ أَحَدٍ أَوْ تَسْمَعُ لَهُمْ رِكْزًا» ۱؎ [19-مريم:98] ‏‏‏‏ ’ ان سے پہلے ہم نے بہت سی بستیاں تباہ کر دیں۔ نہ ان میں سے اب کوئی نظر آئے، نہ کسی کی آواز سنائی دے۔ ‘ اور آیت میں ہے کہ وہ لوگ تو ان سے زیادہ مست تھے، مال دار تھے، عیش و عشرت میں تھے، راحت و آرام میں تھے، اوپر سے ابر برستا تھا، نیچے سے چشمے بہتے تھے لیکن گناہوں میں ڈوبے رہے کہ آخر تہس نہس ہو گئے اور دوسرے لوگ ان کے قائم مقام آئے۔

عادیوں کی ہلاکت کا بیان فرما کر ارشاد ہوا کہ ایسے عذاب اچانک آ گئے کہ ان کے وجود کی دھجیاں اڑ گئیں، کھنڈر کھڑے رہ گئے اور کسی چیز کا نام و نشان نہ بچا۔ مجرموں کا یہی حال ہوتا ہے۔ ’ حالانکہ دنیوی وجاہت بھی ان کے پاس تھی۔ آنکھ، کان، دل سب تھا لیکن اللہ جل شانہ کی باتوں کا تمسخر کرنے پر اور ان کے انکار پر جب عذاب آیا تو حیران و ششدر رہ گئے۔ نہ عقل آئی، نہ اسباب بچے۔ اپنے آس پاس کی ویران بستیاں دیکھ کر عبرت حاصل کرو۔ اگلوں نے جھٹلایا تو دیکھ لو کہ کس طرح برباد ہوئے؟ ‘ ۱؎ [46-الأحقاف:25-27] ‏‏‏‏ ’ تم تو ابھی تک ان کے دسویں حصے کو بھی نہیں پہنچے۔ تم سے پہلے کے منکروں پر میرے عذاب آئے، انہیں غور سے سنو۔ ‘ ۱؎ [34-سبأ:45] ‏‏‏‏ ’ ظالموں کی بستیاں میں نے الٹ دیں اور ان کے محلات کھنڈر بنا دیئے۔ زمین میں چل پھر کر، آنکھیں کھول کر، کان لگا کر ذرا عبرت حاصل کرو۔ جس کی آنکھیں نہ ہوں، وہی اندھا نہیں بلکہ سچ مچ اندھا وہ ہے جس کی دلی آنکھیں بےکار ہوں۔ ‘ ۱؎ [22-الحج:45-46] ‏‏‏‏ اگلے نبیوں کے ساتھ بھی مذاق اڑائے گئے لیکن نتیجہ یہی ہوا کہ ایسے مذاق کرنے والوں کا نشان مٹ گیا۔ ایسے گھیرے گئے کہ ایک بھی نہ بچا۔ اللہ تعالیٰ کی باتیں سچی ہیں، اس کے وعدے اٹل ہیں۔ وہ ضرور اپنے دوستوں کی مدد کرتا ہے اور اپنے دشمنوں کو نیچا دکھاتا ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اَفَاَمِنُوۡا مَکۡرَ اللّٰہِ ۚ فَلَا یَاۡمَنُ مَکۡرَ اللّٰہِ اِلَّا الۡقَوۡمُ الۡخٰسِرُوۡنَ ﴿٪۹۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کیا یہ لوگ اللہ کی چال سے بے خوف ہیں؟ حالانکہ اللہ کی چال سے وہی قوم بے خوف ہوتی ہے جو تباہ ہونے والی ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا پس وه اللہ کی اس پکڑ سے بےفکر ہوگئے۔ سو اللہ کی پکڑ سے بجز ان کے جن کی شامت ہی آگئی ہو اور کوئی بےفکر نہیں ہوتا
احمد رضا خان بریلوی
کیا اللہ کی خفی تدبیر سے بے خبر ہیں تو اللہ کی خفی تدبیر سے نذر نہیں ہوتے مگر تباہی والے
علامہ محمد حسین نجفی
کیا یہ لوگ اللہ کے عذاب یا اس کی خفیہ تدبیر سے بے خوف ہوگئے ہیں۔ حالانکہ اللہ کے عذاب یا اس کی خفیہ تدبیر سے وہی لوگ بے خوف ہوتے ہیں جو گھاٹا اٹھانے والے ہوں۔
عبدالسلام بن محمد
پھر کیا وہ اللہ کی خفیہ تدبیر سے بے خوف ہوگئے ہیں، تو اللہ کی خفیہ تدبیر سے بے خوف نہیں ہوتے مگر وہی لوگ جو خسارہ اٹھانے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
گناہوں میں ڈوبے لوگ؟ ٭٭

ارشاد ہے کہ ایک گروہ نے ہمارا مقابلہ کیا اور ہم نے انہیں تاخت و تاراج کیا۔ دوسرا گروہ ان کے قائم مقام ہوا تو کیا اس پر بھی یہ بات واضح نہیں ہوتی کہ اگر وہ بداعمالیاں کریں گے تو اپنے سے اگلوں کی طرح کھو دیئے جائیں گے؟ جیسے فرمان ہے «أَفَلَمْ يَهْدِ لَهُمْ كَمْ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنَ الْقُرُونِ يَمْشُونَ فِى مَسَـكِنِهِمْ» ۱؎ [20-طه:128] ‏‏‏‏ یعنی ’ کیا انہیں اب تک سمجھ نہیں آئی کہ ہم نے ان سے پہلے بہت سی آباد بستیاں اجاڑ کر رکھ دیں جن کے مکانوں میں اب یہ رہتے سہتے ہیں۔ اگر یہ عقل مند ہوتے تو ان کے لیے بہت سی عبرتیں تھیں۔ ‘ اور اس بیان کے بعد کی آیت میں ہے کہ اس میں بہت سی نشانیاں ہیں۔ کیا یہ سن نہیں رہے؟ ایک آیت میں فرمایا: ”تم اس سے پہلے پورے یقین سے کہتے تھے کہ تمہیں زوال آئے گا ہی نہیں۔ حالانکہ تم جن کے گھروں میں تھے، وہ خود بھی اپنے مظالم کے سبب تباہ کر دیئے گئے تھے۔ خالی گھر رہ گئے۔“ ایک اور آیت میں ہے «وَكَمْ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُم مِّن قَرْنٍ هَلْ تُحِسُّ مِنْهُم مِّنْ أَحَدٍ أَوْ تَسْمَعُ لَهُمْ رِكْزًا» ۱؎ [19-مريم:98] ‏‏‏‏ ’ ان سے پہلے ہم نے بہت سی بستیاں تباہ کر دیں۔ نہ ان میں سے اب کوئی نظر آئے، نہ کسی کی آواز سنائی دے۔ ‘ اور آیت میں ہے کہ وہ لوگ تو ان سے زیادہ مست تھے، مال دار تھے، عیش و عشرت میں تھے، راحت و آرام میں تھے، اوپر سے ابر برستا تھا، نیچے سے چشمے بہتے تھے لیکن گناہوں میں ڈوبے رہے کہ آخر تہس نہس ہو گئے اور دوسرے لوگ ان کے قائم مقام آئے۔

عادیوں کی ہلاکت کا بیان فرما کر ارشاد ہوا کہ ایسے عذاب اچانک آ گئے کہ ان کے وجود کی دھجیاں اڑ گئیں، کھنڈر کھڑے رہ گئے اور کسی چیز کا نام و نشان نہ بچا۔ مجرموں کا یہی حال ہوتا ہے۔ ’ حالانکہ دنیوی وجاہت بھی ان کے پاس تھی۔ آنکھ، کان، دل سب تھا لیکن اللہ جل شانہ کی باتوں کا تمسخر کرنے پر اور ان کے انکار پر جب عذاب آیا تو حیران و ششدر رہ گئے۔ نہ عقل آئی، نہ اسباب بچے۔ اپنے آس پاس کی ویران بستیاں دیکھ کر عبرت حاصل کرو۔ اگلوں نے جھٹلایا تو دیکھ لو کہ کس طرح برباد ہوئے؟ ‘ ۱؎ [46-الأحقاف:25-27] ‏‏‏‏ ’ تم تو ابھی تک ان کے دسویں حصے کو بھی نہیں پہنچے۔ تم سے پہلے کے منکروں پر میرے عذاب آئے، انہیں غور سے سنو۔ ‘ ۱؎ [34-سبأ:45] ‏‏‏‏ ’ ظالموں کی بستیاں میں نے الٹ دیں اور ان کے محلات کھنڈر بنا دیئے۔ زمین میں چل پھر کر، آنکھیں کھول کر، کان لگا کر ذرا عبرت حاصل کرو۔ جس کی آنکھیں نہ ہوں، وہی اندھا نہیں بلکہ سچ مچ اندھا وہ ہے جس کی دلی آنکھیں بےکار ہوں۔ ‘ ۱؎ [22-الحج:45-46] ‏‏‏‏ اگلے نبیوں کے ساتھ بھی مذاق اڑائے گئے لیکن نتیجہ یہی ہوا کہ ایسے مذاق کرنے والوں کا نشان مٹ گیا۔ ایسے گھیرے گئے کہ ایک بھی نہ بچا۔ اللہ تعالیٰ کی باتیں سچی ہیں، اس کے وعدے اٹل ہیں۔ وہ ضرور اپنے دوستوں کی مدد کرتا ہے اور اپنے دشمنوں کو نیچا دکھاتا ہے۔
99۔ 1 ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے پہلے یہ بیان فرمایا کہ ایمان وتقویٰ ایسی چیز ہے کہ جس بستی کے لوگ اسے اپنالیں تو ان پر اللہ تعالیٰ آسمان و زمین کی برکتوں کے دروازے کھول دیتا ہے یعنی حسب ضرورت انہیں آسمان سے بارش مہیا فرماتا ہے اور زمین اس سے سیراب ہو کر خوب پیداوار دیتی جس سے خوش حالی و فروانی ان کا مقدر بن جاتی ہے لیکن اس کے برعکس تکذیب اور کفر کا راست اختیار کرنے پر قومیں اللہ کے عذاب کی مستحق ٹھہر جاتی ہیں، پھر پتہ نہیں ہوتا کہ شب و روز کی کس گھڑی میں عذاب آجائے اور ہنستی کھیلتی بستیوں کو آن واحد میں کھنڈرات بنا کر رکھ دیے اس لئے اللہ کی ان تدبیروں سے بےخوف نہیں ہونا چاہیئے۔ اس بےخوفی کا نتیجہ سوائے خسارے اور کچھ نیں۔ مَکْر، ُ کے مفہوم کی وضاحت کے لئے دیکھئے سورة آل عمران آیت، 54 کا حاشیہ۔
(آیت 99) {فَلَا يَاْمَنُ مَكْرَ اللّٰهِ …:} اللہ تعالیٰ کے مکر (خفیہ تدبیر) سے مراد کسی شخص کے خلاف ایسی خفیہ تدبیر کرنا ہے کہ جب تک وہ عین اس کے سر پر نہ پہنچ جائے اسے کوئی ہوش نہ آئے اور نہ کچھ پتا ہی چلے کہ اس کی شامت آنے والی ہے، یہ خفیہ تدبیر چونکہ کافروں کے مکر و فریب کے جواب میں ہوتی ہے یا اس کی سزا دینے کے لیے کی جاتی ہے، اس لیے اسے بھی بطور مجانست ”مکر“ کہہ دیا ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۵)۔
اَوَ لَمۡ یَہۡدِ لِلَّذِیۡنَ یَرِثُوۡنَ الۡاَرۡضَ مِنۡۢ بَعۡدِ اَہۡلِہَاۤ اَنۡ لَّوۡ نَشَآءُ اَصَبۡنٰہُمۡ بِذُنُوۡبِہِمۡ ۚ وَ نَطۡبَعُ عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ فَہُمۡ لَا یَسۡمَعُوۡنَ ﴿۱۰۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور کیا اُن لوگوں کو جو سابق اہل زمین کے بعد زمین کے وارث ہوتے ہیں، اِس امر واقعی نے کچھ سبق نہیں دیا کہ اگر ہم چاہیں تو ان کے قصوروں پر انہیں پکڑ سکتے ہیں؟ (مگر وہ سبق آموز حقائق سے تغافل برتتے ہیں) اور ہم ان کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں، پھر وہ کچھ نہیں سنتے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور کیا ان لوگوں کو جو زمین کے وارث ہوئے وہاں کے لوگوں کی ہلاکت کے بعد (ان واقعات مذکوره نے) یہ بات نہیں بتلائی کہ اگر ہم چاہیں تو ان کے جرائم کے سبب ان کو ہلاک کر ڈالیں اور ہم ان کے دلوں پر بند لگا دیں، پس وه نہ سن سکیں
احمد رضا خان بریلوی
اور کیا وہ جو زمین کے ما لکوں کے بعد اس کے وارث ہوئے انہیں اتنی ہدایت نہ ملی کہ ہم چاہیں تو انہیں ان کے گناہوں پر آ فت پہنچائیں اور ہم ان کے دلوں پر مہر کرتے ہیں کہ وہ کچھ نہیں سنتے
علامہ محمد حسین نجفی
کیا ان لوگوں پر جو پہلے اہل زمین کی تباہی کے بعد زمین کے وارث بنے ہیں یہ بات واضح نہیں ہوئی ہے کہ اگر ہم چاہتے تو ان کو گناہوں کی وجہ سے کسی مصیبت میں مبتلا کر دیتے اور ان کے دلوں پر ایسی مہر لگا دیتے کہ وہ سن (سمجھ) نہ سکیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور کیا اس بات نے ان لوگوں کی رہنمائی نہیں کی جو زمین کے وارث اس کے رہنے والوں کے بعد بنتے ہیں کہ اگر ہم چاہیں تو ان کے گناہوں کی وجہ سے انھیں سزا دیں اور ہم ان کے دلوں پر مہر کر دیتے ہیں تو وہ نہیں سنتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
گناہوں میں ڈوبے لوگ؟ ٭٭

ارشاد ہے کہ ایک گروہ نے ہمارا مقابلہ کیا اور ہم نے انہیں تاخت و تاراج کیا۔ دوسرا گروہ ان کے قائم مقام ہوا تو کیا اس پر بھی یہ بات واضح نہیں ہوتی کہ اگر وہ بداعمالیاں کریں گے تو اپنے سے اگلوں کی طرح کھو دیئے جائیں گے؟ جیسے فرمان ہے «أَفَلَمْ يَهْدِ لَهُمْ كَمْ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنَ الْقُرُونِ يَمْشُونَ فِى مَسَـكِنِهِمْ» ۱؎ [20-طه:128] ‏‏‏‏ یعنی ’ کیا انہیں اب تک سمجھ نہیں آئی کہ ہم نے ان سے پہلے بہت سی آباد بستیاں اجاڑ کر رکھ دیں جن کے مکانوں میں اب یہ رہتے سہتے ہیں۔ اگر یہ عقل مند ہوتے تو ان کے لیے بہت سی عبرتیں تھیں۔ ‘ اور اس بیان کے بعد کی آیت میں ہے کہ اس میں بہت سی نشانیاں ہیں۔ کیا یہ سن نہیں رہے؟ ایک آیت میں فرمایا: ”تم اس سے پہلے پورے یقین سے کہتے تھے کہ تمہیں زوال آئے گا ہی نہیں۔ حالانکہ تم جن کے گھروں میں تھے، وہ خود بھی اپنے مظالم کے سبب تباہ کر دیئے گئے تھے۔ خالی گھر رہ گئے۔“ ایک اور آیت میں ہے «وَكَمْ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُم مِّن قَرْنٍ هَلْ تُحِسُّ مِنْهُم مِّنْ أَحَدٍ أَوْ تَسْمَعُ لَهُمْ رِكْزًا» ۱؎ [19-مريم:98] ‏‏‏‏ ’ ان سے پہلے ہم نے بہت سی بستیاں تباہ کر دیں۔ نہ ان میں سے اب کوئی نظر آئے، نہ کسی کی آواز سنائی دے۔ ‘ اور آیت میں ہے کہ وہ لوگ تو ان سے زیادہ مست تھے، مال دار تھے، عیش و عشرت میں تھے، راحت و آرام میں تھے، اوپر سے ابر برستا تھا، نیچے سے چشمے بہتے تھے لیکن گناہوں میں ڈوبے رہے کہ آخر تہس نہس ہو گئے اور دوسرے لوگ ان کے قائم مقام آئے۔

عادیوں کی ہلاکت کا بیان فرما کر ارشاد ہوا کہ ایسے عذاب اچانک آ گئے کہ ان کے وجود کی دھجیاں اڑ گئیں، کھنڈر کھڑے رہ گئے اور کسی چیز کا نام و نشان نہ بچا۔ مجرموں کا یہی حال ہوتا ہے۔ ’ حالانکہ دنیوی وجاہت بھی ان کے پاس تھی۔ آنکھ، کان، دل سب تھا لیکن اللہ جل شانہ کی باتوں کا تمسخر کرنے پر اور ان کے انکار پر جب عذاب آیا تو حیران و ششدر رہ گئے۔ نہ عقل آئی، نہ اسباب بچے۔ اپنے آس پاس کی ویران بستیاں دیکھ کر عبرت حاصل کرو۔ اگلوں نے جھٹلایا تو دیکھ لو کہ کس طرح برباد ہوئے؟ ‘ ۱؎ [46-الأحقاف:25-27] ‏‏‏‏ ’ تم تو ابھی تک ان کے دسویں حصے کو بھی نہیں پہنچے۔ تم سے پہلے کے منکروں پر میرے عذاب آئے، انہیں غور سے سنو۔ ‘ ۱؎ [34-سبأ:45] ‏‏‏‏ ’ ظالموں کی بستیاں میں نے الٹ دیں اور ان کے محلات کھنڈر بنا دیئے۔ زمین میں چل پھر کر، آنکھیں کھول کر، کان لگا کر ذرا عبرت حاصل کرو۔ جس کی آنکھیں نہ ہوں، وہی اندھا نہیں بلکہ سچ مچ اندھا وہ ہے جس کی دلی آنکھیں بےکار ہوں۔ ‘ ۱؎ [22-الحج:45-46] ‏‏‏‏ اگلے نبیوں کے ساتھ بھی مذاق اڑائے گئے لیکن نتیجہ یہی ہوا کہ ایسے مذاق کرنے والوں کا نشان مٹ گیا۔ ایسے گھیرے گئے کہ ایک بھی نہ بچا۔ اللہ تعالیٰ کی باتیں سچی ہیں، اس کے وعدے اٹل ہیں۔ وہ ضرور اپنے دوستوں کی مدد کرتا ہے اور اپنے دشمنوں کو نیچا دکھاتا ہے۔
10۔ 1 یعنی گناہوں کے نتیجے میں عذاب ہی نہیں آتا، دلوں پر قفل لگ جاتے ہیں، پر بڑے بڑے عذاب بھی انہیں خواب غفلت سے بیدار نہیں کر پاتے، دیگر بعض مقامات کی طرح یہاں بھی اللہ تعالیٰ نے ایک تو یہ بیان فرمایا ہے کہ جس طرح گزشتہ قوموں کو ہم نے ان کے گناہوں کی پاداش میں ہلاک کیا ہم چاہیں تو تمہیں بھی تمہارے کرتوتوں کی وجہ سے ہلاک کردیں اور دوسری بات یہ بیان فرمائی کہ مسلسل گناہوں کے ارتکاب کی وجہ سے لوگوں کے دلوں پر مہر لگا دی جاتی ہے، جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کی حق کی آواز کے لئے ان کے کان بھی بند ہوجاتے ہیں پھر واعظ و نصیحت ان کے لئے بیکار ہوجاتے ہیں۔ آیت میں ہدایت تبیین (وضاحت) کے معنی میں ہے اسی لیے لام کے ساتھ متعدی ہے اَوَلَمْ يَهْدِ لِلَّذِينَ یعنی کیا ان پر یہ بات واضح نہیں ہوئی۔
(آیت 100) ➊ {اَوَ لَمْ يَهْدِ لِلَّذِيْنَ يَرِثُوْنَ الْاَرْضَ …:} یعنی کیا بعد میں آنے والوں کو پہلوں کے حالات سن اور دیکھ کر یہ بات واضح طور پر معلوم نہیں ہوئی اور انھیں اس سے رہنمائی حاصل نہیں ہوئی کہ ہم چاہیں تو ان کی طرح ان کو بھی ان کے گناہوں میں پکڑ لیں۔ ➋ {وَ نَطْبَعُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا يَسْمَعُوْنَ:} یعنی ہم ان کے گناہوں کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر کر دیتے ہیں تو وہ نصیحت کی کوئی بات نہیں سنتے، آخر کار اللہ کا عذاب آتا ہے اور وہ بھی تباہ کر دیے جاتے ہیں۔ ہمارے استاذ شیخ محمد عبدہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ اس فقرے کا یہ ترجمہ اس صورت میں ہو گا جب اسے {” اَصَبْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ “} پر معطوف نہ مانا جائے (بلکہ نیا کلام مانا جائے) اور اگر اسے{”اَصَبْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ “} پر معطوف مانا جائے (اور ہمارے خیال میں زیادہ صحیح یہی ہے) تو ترجمہ یوں ہوگا:”اور ہم ان کے دلوں پر مہر لگا دیں کہ پھر وہ نصیحت کی کوئی بات نہ سن سکیں۔“ مگر ابن عاشور صاحبِ ”التحریر والتنویر“ اور محیی الدین الدرویش صاحبِ ”اعراب القرآن“ نے اس معنی کی تردید کی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ اگر اس کا عطف {” اَصَبْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ “} پر مانا جائے تو معنی یہ ہو گا کہ اگر ہم چاہیں تو ان کے دل پر مہر کر دیں۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے ابھی تک مہر نہیں لگائی، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ان کے دلوں پر مہر لگ چکی ہے، اس لیے {” وَ نَطْبَعُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ “} نیا کلام ہے، اس کا عطف {” بِذُنُوْبِهِمْ “} پر درست نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ اپنی زمین کے کسی حصے میں آباد فرماتا ہے انھیں ہر آن اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا چاہیے اور یہ جانتے ہوئے اپنی زندگی گزارنی چاہیے کہ اگر ظلم و فساد کا ارتکاب کریں گے تو اللہ تعالیٰ انھیں بھی اسی طرح تباہ کر دے گا جس طرح اس نے پہلی امتوں کو تباہ کر دیا۔ پہلی امتوں پر جو تباہی آئی وہ ناگہانی حادثہ نہ تھی بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ سزا تھی۔