بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الأعراف — Surah Araf
آیت نمبر 96
کل آیات: 206
قرآن کریم الأعراف آیت 96
آیت نمبر: 96 — سورۃ الأعراف islamicurdubooks.com ↗
وَ لَوۡ اَنَّ اَہۡلَ الۡقُرٰۤی اٰمَنُوۡا وَ اتَّقَوۡا لَفَتَحۡنَا عَلَیۡہِمۡ بَرَکٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الۡاَرۡضِ وَ لٰکِنۡ کَذَّبُوۡا فَاَخَذۡنٰہُمۡ بِمَا کَانُوۡا یَکۡسِبُوۡنَ ﴿۹۶﴾
اگر بستیوں کے لوگ ایمان لاتے اور تقویٰ کی روش اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتوں کے دروازے کھو ل دیتے، مگر اُنہوں نے تو جھٹلایا، لہٰذا ہم نے اُس بری کمائی کے حساب میں انہیں پکڑ لیا جو وہ سمیٹ رہے تھے
اور اگر ان بستیوں کے رہنے والے ایمان لے آتے اور پرہیزگاری اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکتیں کھول دیتے لیکن انہوں نے تکذیب کی تو ہم نے ان کے اعمال کی وجہ سے ان کو پکڑ لیا
اور اگر بستیو ں والے ایمان لاتے اور ڈرتے تو ضرور ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتیں کھول دیتے مگر انہوں نے تو جھٹلایا تو ہم نے انہیں ان کے کیے پر گرفتار کیا
اور اگر ان بستیوں کے باشندے ایمان لاتے اور پرہیزگاری اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان و زمین کی برکتوں کے دروازے کھول دیتے۔ لیکن انہوں نے جھٹلایا۔ لہٰذا ہم نے ان کو ان کے کرتوتوں کی پاداش میں پکڑ لیا۔
اور اگر بستیوں والے ایمان لے آتے اور بچ کر چلتے تو ہم ضرور ان پر آسمان اور زمین سے بہت سی برکتیں کھول دیتے اور لیکن انھوں نے جھٹلایا تو ہم نے انھیں اس کی وجہ سے پکڑ لیا جو وہ کمایا کرتے تھے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

عوام کی فطرت ٭٭

لوگوں سے عام طور پر جو غلطی ہو رہی ہے، اس کا ذکر ہے کہ عموماً ایمان سے اور نیک کاموں سے بھاگتے رہتے ہیں۔ صرف یونس علیہ السلام کی پوری بستی ایمان لائی تھی اور وہ بھی اس وقت جبکہ عذابوں کو دیکھ لیا اور یہ بھی صرف ان کے ساتھ ہی ہوا کہ آئے ہوئے عذاب واپس کر دیئے گئے اور دنیا و آخرت کی رسوائی سے بچ گئے۔ ’ یہ لوگ ایک لاکھ بلکہ زائد تھے۔ اپنی پوری عمر تک پہنچے اور دنیوی فائدے بھی حاصل کرتے رہے۔ ‘ ۱؎ [37-الصافات:147-148] ‏‏‏‏ تو فرماتا ہے کہ اگر نبیوں کے آنے پر ان کے امتی صدق دل سے ان کی تابعداری کرتے، برائیوں سے رک جاتے اور نیکیاں کرنے لگتے تو ہم ان پر کشادہ طور پر بارشیں برساتے اور زمین سے پیداوار اگاتے۔ لیکن انہوں نے رسولوں کی نہ مانی بلکہ انہیں جھوٹا سمجھا اور روبرو جھوٹا کہا۔ برائیوں سے، حرام کاریوں سے ایک انچ نہ ہٹے۔ اس وجہ سے تباہ کر دیے گئے۔ کیا کافروں کو اس بات کا خوف نہیں کہ راتوں رات ان کی بےخبری میں ان کے سوتے ہوئے عذاب الٰہی آ جائے اور یہ سوئے کے سوئے رہ جائیں؟ کیا انہیں ڈر نہیں لگتا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ دن دہاڑے ان کے کھیل کود اور غفلت کی حالت میں اللہ جل جلالہ کا عذاب آ جائے؟ اللہ کے عذابوں سے، اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے۔ اس کی بےپایاں قدرت کے اندازے سے غافل وہی ہوتے ہیں جو اپنے آپ بربادی کی طرف بڑھے چلے جاتے ہوں۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ کا قول ہے کہ مومن نیکیاں کرتا ہے اور پھر ڈرتا رہتا ہے اور فاسق، فاجر شخص برائیاں کرتا ہے اور بےخوف رہتا ہے۔ نتیجے میں مومن امن پاتا ہے اور فاجر پیس دیا جاتا ہے۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 96) ➊ {وَ لَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰۤى اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا …:} اگر واقعی بستیوں والے ایمان لاتے اور اللہ کی حدود کی پابندی کرتے تو اس ایمان اور تقویٰ کا نتیجہ ان انعامات کی شکل میں پاتے کہ…! اور ایمان اور تقویٰ اختیار نہ کرنے کا نتیجہ عذاب الٰہی کی صورت میں نکلتا ہے کہ وہ برکات سے محروم ہو کر عذاب سے دو چار ہوتے ہیں۔ ➋ {لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكٰتٍ:بَرَكٰتٍ “ ” بَرَكَةٌ “} کی جمع ہے، کسی چیز میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے خیر ہونا۔ اصل میں {” بِرْكَةٌ “} حوض کو کہتے ہیں، جس طرح حوض میں پانی جمع ہوتا ہے، اسی طرح کسی چیز میں بہت سی خیر موجود ہونا {” بَرَكَةٌ “} کہلاتا ہے۔ راغب نے فرمایا: ”چونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے خیر اس طرح آتی ہے کہ آتے ہوئے نہ اس کا احساس ہوتا ہے اور نہ اس کا کوئی شمار ہوتا ہے، اس لیے اگر کسی شخص یا چیز میں محسوس نہ ہونے والی بہتری کا مشاہدہ ہو رہا ہوتوکہتے ہیں کہ وہ مبارک ہے اور اس میں برکت ہے۔“ (طنطاوی) ”برکتیں کھول دیتے“ یہ استعارہ ہے کہ جس طرح دروازہ کھل جاتا ہے اس طرح ان پر برکات کا نزول ہوتا، یعنی آسمان سے بارش اور رحمتوں کی صورت میں اور زمین سے پانی زرعی اجناس (غلے اور پھل) اور زمین سے نکلنے والی بے شمار نعمتوں، مثلاً پٹرول، گیس، سونا، چاندی اور جواہرات وغیرہ کی صورت میں۔
← پچھلی آیت (95) پوری سورۃ اگلی آیت (97) →