بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الأعراف — Surah Araf
آیت نمبر 69
کل آیات: 206
قرآن کریم الأعراف آیت 69
آیت نمبر: 69 — سورۃ الأعراف islamicurdubooks.com ↗
اَوَ عَجِبۡتُمۡ اَنۡ جَآءَکُمۡ ذِکۡرٌ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ عَلٰی رَجُلٍ مِّنۡکُمۡ لِیُنۡذِرَکُمۡ ؕ وَ اذۡکُرُوۡۤا اِذۡ جَعَلَکُمۡ خُلَفَآءَ مِنۡۢ بَعۡدِ قَوۡمِ نُوۡحٍ وَّ زَادَکُمۡ فِی الۡخَلۡقِ بَصۜۡطَۃً ۚ فَاذۡکُرُوۡۤا اٰلَآءَ اللّٰہِ لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ ﴿۶۹﴾
کیا تمہیں اس بات پر تعجب ہوا کہ تمہارے پاس خود تمہاری اپنی قوم کے ایک آدمی کے ذریعہ سے تمہارے رب کی یاد دہانی آئی تاکہ وہ تمھیں خبردار کرے؟ بھول نہ جاؤ کہ تمہارے رب نے نوحؑ کی قوم کے بعد تم کو اُس کا جانشین بنایا اور تمہیں خوب تنو مند کیا، پس اللہ کی قدرت کے کرشموں کو یاد رکھو، امید ہے کہ فلاح پاؤ گے"
اور کیا تم اس بات سے تعجب کرتے ہو کہ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس ایک ایسے شخص کی معرفت، جو تمہاری ہی جنس کاہے کوئی نصیحت کی بات آگئی تاکہ وه شخص تم کو ڈرائے اور تم یہ حالت یاد کرو کہ اللہ نے تم کو قوم نوح کے بعد جانشین بنایا اور ڈیل ڈول میں تم کو پھیلاؤ زیاده دیا، سو اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو تاکہ تم کو فلاح ہو
اور کیا تمہیں اس کا اچنبا ہوا کہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک نصیحت آئی تم میں سے ایک مرد کی معرفت کہ وہ تمہیں ڈرائے اور یاد کرو جب اس نے تمہیں قوم نوح کا جانشین کیا اور تمہارے بدن کا پھیلاؤ بڑھایا تو اللہ کی نعمتیں یاد کرو کہ کہیں تمہارا بھلا ہو،
کیا تمہیں اس بات پر تعجب ہے کہ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہاری اپنی قوم کے ایک شخص کے پاس وعظ و نصیحت کا پیغام آیا ہے تاکہ وہ تمہیں (خدا کے عذاب سے) ڈرائے اور یاد کرو (خدا کے اس احسان کو) کہ اس نے تمہیں قومِ نوح کے بعد ان کا جانشین بنایا۔ اور (تمہاری) خلقت میں یعنی قوت و طاقت اور قد و قامت میں زیادتی اور وسعت عطا کی پس اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو تاکہ تم (ہر طرح) فلاح پاؤ۔
اور کیا تم نے عجیب سمجھا کہ تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے تم میںسے ایک آدمی پر عظیم الشان نصیحت آئی، تاکہ وہ تمھیں ڈرائے اور یاد کرو جب اس نے تمھیں نوح کی قوم کے بعد جانشین بنایا اور تمھیں قد و قامت میں زیادہ پھیلاؤ دیا۔ سو اللہ کی نعمتیں یاد کرو، تاکہ تم فلاح پاؤ۔

📖 تفسیر ابن کثیر

ہود علیہ السلام اور ان کا رویہ! ٭٭

فرماتا ہے کہ جیسے قوم نوح کی طرف نوح علیہ السلام کو ہم نے بھیجا تھا، قوم عاد کی طرف ہود علیہ السلام کو ہم نے نبی بنا کر بھیجا، یہ لوگ عاد بن ارم بن عوص بن سام بن نوح کی اولاد تھے۔ یہ عاد اولیٰ ہیں۔ یہ جنگل میں ستونوں میں رہتے تھے۔ فرمان ہے «أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ الَّتِي لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ» [89-الفجر:6-8] ‏‏‏‏ یعنی ’ کیا تو نے نہیں دیکھا کہ عاد، ارم کے ساتھ تیرے رب نے کیا کیا؟ جو بلند قامت تھے۔ دوسرے شہروں میں جن کی مانند لوگ پیدا ہی نہیں کئے گئے۔ ‘ یہ لوگ بڑے قوی، طاقتور اور لمبے چوڑے قد کے تھے۔ جیسے فرمان ہے کہ عادیوں نے زمین میں ناحق تکبر کیا اور نعرہ لگایا کہ ہم سے زیادہ قوی کون ہے؟ کیا انہیں اتنی بھی تمیز نہیں کہ ان کا پیدا کرنے والا یقیناً ان سے زیادہ قوت و طاقت والا ہے۔ وہ ہماری آیتوں سے انکار کر بیٹھے۔ ان کے شہر یمن میں احقاف تھے، یہ ریتلے پہاڑ تھے۔

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے حضر موت کے ایک شخص سے کہا کہ تو نے ایک سرخ ٹیلہ دیکھا ہو گا جس میں سرخ رنگ کی راکھ جیسی مٹی ہے۔ اس کے آس پاس پیلو اور بیری کے درخت بکثرت ہیں، وہ ٹیلہ فلاں جگہ حضر موت میں ہے۔ اس نے کہا: امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ آپ تو اس طرح کے نشان بتا رہے ہیں گویا آپ نے بچشم خود دیکھا ہے۔ آپ نے فرمایا: نہیں دیکھا تو نہیں لیکن ہاں مجھ تک حدیث پہنچی ہے کہ وہیں ہود علیہ السلام کی قبر ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان لوگوں کی بستیاں یمن میں تھیں۔ اس لیے ان کے پیغمبر وہیں مدفون ہیں۔ آپ ان سب میں شریف قبیلے کے تھے۔ اس لیے کہ انبیاء ہمیشہ حسب نسب کے اعتبار سے عالی خاندان میں ہی ہوتے رہے ہیں لیکن آپ کی قوم جس طرح جسمانی طور سے سخت اور زوردار تھی، اسی طرح دلوں کے اعتبار سے بھی بہت سخت تھی۔ جب اپنے نبی کی زبانی اللہ کی عبادت اور تقویٰ کی نصیحت سنی تو لوگوں کی بھاری اکثریت اور ان کے سردار اور بڑے بول اٹھے کہ تو تو پاگل ہو گیا ہے، ہمیں اپنے بتوں کی ان خوبصورت تصویروں کی عبادت سے ہٹا کر اللہ واحد کی عبادت کی طرف بلا رہا ہے۔ یہی تعجب قریش کو ہوا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس نے سارے معبودوں کو عبادت سے ہٹا کر ایک کی دعوت کیوں دی؟

ہود علیہ السلام نے انہیں جواب دیا کہ مجھ میں تو بیوقوفی کی بفضلہ کوئی بات نہیں۔ میں جو کہہ رہا ہوں وہ اللہ کا فرمودہ ہے۔ اس لیے کہ میں رسول اللہ ہوں۔ رب کی طرف سے حق لایا ہوں۔ وہ رب ہر چیز کا مالک، سب کا خالق ہے۔ میں تو تمہیں کلام اللہ پہنچا رہا ہوں، تمہاری خیر خواہی کرتا ہوں اور امانت داری سے حق رسالت ادا کر رہا ہوں۔ یہی وہ صفتیں ہیں جو تمام رسولوں میں یکساں ہوتی ہیں یعنی پیغام حق پہنچانا، لوگوں کی بھلائی چاہنا اور امانت داری کا نمونہ بننا۔ تم میری رسالت پر تعجب نہ کرو بلکہ اللہ کا شکر بجا لاؤ کہ اس نے تم میں سے ایک فرد کو اپنا پیغمبر بنایا کہ وہ تمہیں عذاب الٰہی سے ڈرا دے۔ تمہیں رب کے اس احسان کو بھی فراموش نہ کرنا چاہیئے کہ اس نے تمہیں ہلاک ہونے والوں کے بقایا میں سے بنایا، تمہیں باقی رکھا۔ اتنا ہی نہیں بلکہ تمہیں قوی ہیکل، مضبوط اور طاقتور کر دیا۔ یہی نعمت طالوت پر تھی کہ انہیں جسمانی اور علمی کشادگی دی گئی تھی۔ ۱؎ [2-البقرة:247] ‏‏‏‏ تم اللہ کی نعمتوں کو یاد رکھو تاکہ نجات حاصل کر سکو۔

📖 احسن البیان

69۔ 1 ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے ان کی بابت فرمایا ' اس جیسی قوت والی قوم پیدا نہیں کی گئی ' اپنی اس قوت کے گھمنڈ میں مبتلا ہو کر اس نے کہا مَنْ اَ شَدُّ مِنَّا قُوَّۃً ہم سے زیادہ طاقتور کون ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ' جس نے انہیں پیدا کیا وہ ان سے زیادہ قوت والا ہے ' (حٰم سجدہ۔ 15)

📖 القرآن الکریم

(آیت 69) {وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنْۢ بَعْدِ قَوْمِ ……:} یعنی تمھیں قوی اور زبردست بنایا اور قوم نوح کے بعد ایک زبردست قوم کی حیثیت سے تمھیں زمین میں آباد کیا۔ یہاں {” خُلَفَآءَ “} سے یہی معنی مراد ہے، یہ مطلب نہیں کہ قوم نوح کے وطن عراق میں ان کا جانشین بنایا۔ (قرطبی) قومِ عاد کے قد و قامت میں پھیلاؤ کے متعلق اﷲ تعالیٰ نے خود شہادت دی ہے، فرمایا: «الَّتِيْ لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ» [ الفجر: ۸ ] یعنی ان جیسا کوئی شہروں میں پیدا نہیں کیا گیا اور یہ کہ عذاب کے بعد وہ یوں گرے ہوئے تھے جیسے کھجوروں کے گرے ہوئے تنے۔ دیکھیے سورۂ حاقہ (۷)۔ بعض علمائے تفسیر نے قوم عاد کی جسمانی قوت اور ان کے قدو قامت کی لمبائی کے بارے میں عجیب و غریب روایات نقل کی ہیں، مثلاً یہ کہ قوم عاد کا لمبا آدمی سو ہاتھ کا اور سب سے چھوٹے قد کا ساٹھ ہاتھ کا ہوتا تھا اور بعض روایات میں ہے کہ اس کا ایک آدمی اتنے بڑے پتھر کو اٹھا لیتا تھا جسے ہمارے زمانے کے پانچ سو آدمی بھی نہیں اٹھا سکتے وغیرہ۔ مگر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اﷲ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو اس کی صورت پر پیدا فرمایا کہ اس کا طول ساٹھ ہاتھ تھا…… پھر اس کے بعد سے اب تک یہ مخلوق گھٹتی رہی ہے۔“ [ بخاری، الاستئذان، باب بدء السلام: ۶۲۲۷ ] اس لیے قوم عاد سے متعلق اس قسم کی کہانیوں پر اعتماد جائز نہیں۔ البتہ یہ بات اپنی جگہ صحیح ہے کہ عاد کے لوگ غیر معمولی جسمانی قوت اور قد و قامت رکھتے تھے، اونچی اونچی عمارتیں بنانے والے اور نہایت سخت گیر تھے، جیسا کہ سورۂ شعراء (۱۲۳ تا ۱۳۴) اور حم السجدہ (۱۵) میں مذکور ہے۔
← پچھلی آیت (68) پوری سورۃ اگلی آیت (70) →