بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الأعراف — Surah Araf
آیت نمبر 86
کل آیات: 206
قرآن کریم الأعراف آیت 86
آیت نمبر: 86 — سورۃ الأعراف islamicurdubooks.com ↗
وَ لَا تَقۡعُدُوۡا بِکُلِّ صِرَاطٍ تُوۡعِدُوۡنَ وَ تَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ مَنۡ اٰمَنَ بِہٖ وَ تَبۡغُوۡنَہَا عِوَجًا ۚ وَ اذۡکُرُوۡۤا اِذۡ کُنۡتُمۡ قَلِیۡلًا فَکَثَّرَکُمۡ ۪ وَ انۡظُرُوۡا کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الۡمُفۡسِدِیۡنَ ﴿۸۶﴾
اور (زندگی کے) ہر راستے پر رہزن بن کر نہ بیٹھ جاؤ کہ لوگوں کو خوف زدہ کرنے اور ایمان لانے والوں کو خدا کے راستے سے روکنے لگو اور سیدھی راہ کو ٹیڑھا کرنے کے درپے ہو جاؤ یاد کرو وہ زمانہ جبکہ تم تھوڑے تھے پھر اللہ نے تمہیں بہت کر دیا، اور آنکھیں کھول کر دیکھو کہ دنیا میں مفسدوں کا کیا انجام ہوا ہے
اور تم سڑکوں پر اس غرض سے مت بیٹھا کرو کہ اللہ پر ایمان ﻻنے والے کو دھمکیاں دو اور اللہ کی راه سے روکو اور اس میں کجی کی تلاش میں لگے رہو۔ اور اس حالت کو یاد کرو جب کہ تم کم تھے پھر اللہ نے تم کو زیاده کردیا اور دیکھو کہ کیسا انجام ہوا فساد کرنے والوں کا
اور ہر راستہ پر یوں نہ بیٹھو کہ راہگیروں کو ڈراؤ اور اللہ کی راہ سے انہیں روکو جو اس پر ایمان لائے اور اس میں کجی چاہو، اور یاد کرو جب تم تھوڑے تھے اس نے تمہیں بڑھادیا اور دیکھو فسادیوں کا کیسا انجام ہوا،
اور ہر راستے پر اس طرح نہ بیٹھو کہ تم (راہ گیروں) کو ڈراؤ دھمکاؤ اور ایمان لانے والوں کو اللہ کی راہ سے روکو۔ اور اس راہ میں کجی تلاش کرو۔ اور وہ وقت یاد کرو۔ جب تم تھوڑے تھے تو اس (خدا) نے تمہیں بڑھا دیا اور دیکھو کہ فساد پھیلانے والوں کا انجام کیسا ہوتا رہا ہے۔
اور ہر راستے پر نہ بیٹھو کہ دھمکاتے ہو اور اللہ کے راستے سے روکتے ہو ہر اس شخص کو جو اس پر ایمان لائے اور اس میں کجی ڈھونڈتے ہو۔ اور یاد کرو جب تم بہت کم تھے تو اس نے تمھیں زیادہ کر دیا اور دیکھو فساد کرنے والوں کا انجام کیسا ہوا؟

📖 تفسیر ابن کثیر

قوم شعیب کی بداعمالیاں ٭٭

فرماتے ہیں کہ مسافروں کے راستے میں دہشت گردی نہ پھیلاؤ، ڈاکہ نہ ڈالو اور انہیں ڈرا دھمکا کر ان کا مال زبردستی نہ چھینو۔ میرے پاس ہدایت حاصل کرنے کے لئے جو آنا چاہتا ہے، اسے خوفزدہ کر کے روک دیتے ہو؟ ایمانداروں کو اللہ کی راہ پر چلنے میں روڑے اٹکاتے ہو؟ راہ حق کو ٹیڑھا کر دینا چاہتے ہو؟ ان تمام برائیوں سے بچو۔ یہ بھی ہو سکتا ہے بلکہ زیادہ ظاہر ہے کہ ہر راستے پر نہ بیٹھنے کی ہدایت تو قتل و غارت سے روک کے لیے ہو جو ان کی عادت تھی اور پھر راہ حق سے مومنوں کو نہ روکنے کی ہدایت پھر کی ہو۔ تم اللہ کے اس احسان کو یاد کرو کہ گنتی میں، قوت میں تم کچھ نہ تھے، بہت ہی کم تھے۔ اس نے اپنی مہربانی سے تمہاری تعداد بڑھا دی اور تمہیں زور آور کر دیا۔ رب کی اس نعمت کا شکریہ ادا کرو۔ عبرت کی آنکھوں سے ان کا انجام دیکھ لو جو تم سے پہلے ابھی ابھی گزرے ہیں جن کے ظلم و جبر کی وجہ سے، جن کی بد امنی اور فساد کی وجہ سے رب کے عذاب ان پر ٹوٹ پڑے۔ وہ اللہ کی نافرمانیوں میں رسولوں کے جھٹلانے میں مشغول رہے، دلیر بن گئے جس کے بدلے اللہ کی پکڑ ان پر نازل ہوئی۔ آج ان کی ایک آنکھ جھپکتی ہوئی باقی نہیں رہی۔ نیست و نابود ہو گئے، مر مٹ گئے۔ دیکھو! میں تمہیں صاف بے لاگ ایک بات بتا دوں۔ تم میں سے ایک گروہ مجھ پر ایمان لا چکا ہے اور ایک گروہ نے میرا انکار اور بری طرح مجھ سے کفر کیا۔ اب تم خود دیکھ لو گے کہ مدد ربانی کس کا ساتھ دیتی ہے اور اللہ کی نظروں سے کون گر جاتا ہے؟ تم رب کے فیصلے کے منتظر رہو۔ وہ سب فیصلہ کرنے والوں سے اچھا اور سچا فیصلہ کرنے والا ہے۔ تم خود دیکھ لو کہ اللہ والے با مراد ہوں گے اور دشمنان اللہ نامراد ہوں گے۔

📖 احسن البیان

86۔ 1 اللہ کے راستے سے روکنے کے لئے اللہ کے راستے میں کجیاں تلاش کرنا۔ یہ ہر دور کے نافرمانوں کا محبوب مشغلہ رہا ہے جس کے نمونے آجکل کے متجدین اور فرنگیت زدہ لوگوں میں نظر آتے ہیں۔ مثلاً لوگوں کو ستانے کے لئے بیٹھنا، جیسے عام طور پر اوباش قسم کے لوگوں کا شیوا ہے۔ یا حضرت شعیب ؑ کی طرف جانے والے راستوں پر بیٹھنا اور اس راہ پر چلنے والوں کو روکنا۔ یوں لوٹ مار کی غرض سے ناکوں پر بیٹھنا تاکہ آنے جانے والوں کا مال سلب کرلیں، یا بعض کے نزدیک محصول اور چونگی وصول کرنے کے لئے ان کے راستوں پر بیٹھنا۔ امام شوکانی فرماتے ہیں کہ سارے ہی مفہوم صحیح ہوسکتے ہیں کیونکہ ممکن ہے کہ وہ سب ہی کچھ کرتے ہوں۔ (فتح القدیر)

📖 القرآن الکریم

(آیت 86){ وَ لَا تَقْعُدُوْا بِكُلِّ صِرَاطٍ ……:} یہ لوگ راستوں پر ناکے لگا کر لوگوں سے زبردستی ٹیکس وصول کرتے، کبھی ڈرا دھمکا کر ان کی بے عزتی کرتے اور ان کا سب کچھ ہی چھین لیتے۔ اگر کوئی شعیب علیہ السلام پر ایمان لانے کی طرف مائل نظر آتا تو اسے ہر طرح سے روکنے کی کوشش کرتے اور اسلام کے احکام میں طرح طرح کی خرابیاں نکال کر اور شبہات پیدا کرکے ثابت کرنے کی کوشش کرتے کہ یہ سیدھا نہیں بلکہ غلط راستہ ہے، جیسا کہ آج کل بھی نام کے وہ مسلمان دانش ور، صحافی، پروفیسر اور حکمران جو کفار سے مرعوب ہیں اسلام کے احکام کو وحشیانہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ شعیب علیہ السلام نے انھیں ان برائیوں سے روکا اور اﷲ تعالیٰ کا احسان یاد دلایا کہ اس نے تمھاری تھوڑی سی نسل کو کس قدر بڑھایا اور انھیں مفسدین کے انجامِ بد سے عبرت حاصل کرنے کی تلقین فرمائی۔
← پچھلی آیت (85) پوری سورۃ اگلی آیت (87) →