بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
الأعراف
سورۃ الأعراف — 206 آیات — صفحہ 5 از 5
قرآن کریم Surah 7
اِنَّ الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا اِذَا مَسَّہُمۡ طٰٓئِفٌ مِّنَ الشَّیۡطٰنِ تَذَکَّرُوۡا فَاِذَا ہُمۡ مُّبۡصِرُوۡنَ ﴿۲۰۱﴾ۚ
سید ابو الاعلیٰ مودودی
حقیقت میں جو لو گ متقی ہیں اُن کا حال تو یہ ہوتا ہے کہ کبھی شیطان کے اثر سے کوئی برا خیال اگر انہیں چھو بھی جاتا ہے تو وہ فوراً چوکنے ہو جاتے ہیں اور پھر انہیں صاف نظر آنے لگتا ہے کہ ان کے لیے صحیح طریق کار کیا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناً جو لوگ خدا ترس ہیں جب ان کو کوئی خطره شیطان کی طرف سے آجاتا ہے تو وه یاد میں لگ جاتے ہیں، سو یکایک ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں
احمد رضا خان بریلوی
بیشک وہ جو ڈر والے ہیں جب انہیں کسی شیطانی خیال کی ٹھیس لگتی ہے ہوشیار ہوجاتے ہیں اسی وقت ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
جو لوگ پرہیزگار ہیں جب انہیں کوئی شیطانی خیال چھو بھی جائے تو وہ چوکنے ہو جاتے ہیں اور یادِ الٰہی میں لگ جاتے ہیں اور ان کی بصیرت تازہ ہو جاتی ہے (اور حقیقتِ حال کو دیکھنے لگتے ہیں)۔
عبدالسلام بن محمد
یقینا جو لوگ ڈر گئے، جب انھیں شیطان کی طرف سے کوئی (برا) خیال چھوتا ہے وہ ہوشیار ہو جاتے ہیں، پھر اچانک وہ بصیرت والے ہوتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جو اللہ سے ڈرتا ہے ، شیطان اس سے ڈرتا ہے ٭٭

طائف کی دوسری قرأت «طیف» ہے۔ یہ دونوں مشہور قرأتیں ہیں۔ دونوں کے معنی ایک ہیں۔ بعض نے لفظی تعریف بھی کی ہے۔ فرمان ہے کہ وہ لوگ جو اللہ سے ڈرنے والے ہیں، جنہیں اللہ کا ڈر ہے، جو نیکیوں کے عامل اور برائیوں سے رکنے والے ہیں، انہیں جب کبھی غصہ آ جائے، یا شیطان ان پر اپنا کوئی داؤ چلانا چاہے، یا ان کے دل میں کسی گناہ کی رغبت ڈالے، اور ان سے کوئی گناہ کرانا چاہے تو یہ اللہ کے عذاب سے بچنے میں جو ثواب ہے، یہ اسے بھی یاد کر لیتے ہیں، رب کے وعدے وعید کی یاد کرتے ہیں اور فوراً چوکنے ہو جاتے ہیں، توبہ کر لیتے ہیں، اللہ کی طرف جھک جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے شیطانی شر سے پناہ مانگنے لگتے ہیں اور اسی وقت اللہ کی جناب میں رجوع کرنے لگتے ہیں اور استقامت کے ساتھ صحت پر جم جاتے ہیں۔ ابن مردویہ میں ہے کہ ایک عورت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، جسے مرگی کا دورہ پڑا کرتا تھا، اس نے درخواست کی کہ آپ میرے لیے آپ دعا کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم چاہو تو میں دعا کروں اور اللہ تمہیں شفا بخشے اور اگر چاہو تو صبر کرو تو اللہ تم سے حساب نہ لے گا۔ اس نے کہا لی اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں صبر کرتی ہوں کہ میرا حساب معاف ہو جائے۔ سنن میں بھی یہ حدیث ہے کہ { اس عورت نے کہا تھا کہ میں گر پڑتی ہوں اور بیہوشی کی حالت میں میرا کپڑا کھل جاتا ہے جس سے بےپردگی ہوتی ہے۔ اللہ سے میری شفا کی درخواست کیجئے۔ آپ نے فرمایا: تم ان دونوں باتوں میں سے ایک کو پسند کر لو، یا تو میں دعا کروں اور تمہیں شفا ہو جائے، یا تم صبر کرو اور تمہیں جنت ملے۔ اس نے کہا: میں صبر کرتی ہوں کہ مجھے جنت ملے۔ لیکن اتنی دعا تو ضرور کیجئے کہ میں بےپردہ نہ ہو جایا کروں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی۔ چنانچہ ان کا کپڑا کیسی ہی وہ تلملاتیں، اپنی جگہ سے نہیں ہٹتا تھا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:5652] ‏‏‏‏

حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ اپنی تاریخ میں عمرو بن جامع کے حالات میں نقل کرتے ہیں کہ ایک نوجوان عابد مسجد میں رہا کرتا تھا اور اللہ کی عبادت کا بہت مشتاق تھا۔ ایک عورت نے اس پر ڈورے ڈالنے شروع کئے، یہاں تک کہ اسے بہکا لیا۔ قریب تھا کہ وہ اس کے ساتھ کوٹھڑی میں چلا جائے اچانک اسے یہ آیت «إِذَا مَسَّهُمْ طَائِفٌ مِّنَ الشَّيْطَانِ تَذَكَّرُوا فَإِذَا هُم مُّبْصِرُونَ» یاد آئی اور غش کھا کر گر پڑا۔ بہت دیر کے بعد جب اسے ہوش آیا، اس نے پھر اس آیت کو یاد کیا اور اس قدر اللہ کا خوف اس کے دل میں سمایا کہ اس کی جان نکل گئی۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس کے والد سے ہمدردی اور غم خواری کی۔ چونکہ انہیں رات ہی کو دفن کر دیا گیا تھا، آپ ان کی قبر پر گئے، آپ کے ساتھ بہت سے آدمی تھے۔ آپ نے وہاں جا کر ان کی قبر پر نماز جنازہ ادا کی اور اسے آواز دے کر فرمایا: اے نوجوان! «وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ» ۱؎ [55-الرحمن:46] ‏‏‏‏ ’ جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے کا ڈر رکھے، اس کیلئے دو دو جنتیں ہیں۔ ‘ اسی وقت قبر کے اندر سے آواز آئی کہ مجھے میرے رب عزوجل نے وہ دونوں مرتبے دو دو عطا فرما دیئے۔

یہ تو تھا حال اللہ والوں کا اور پرہیزگاروں کا کہ وہ شیطانی جھٹکوں سے بچ جاتے ہیں، اس کے فن فریب سے چھوٹ جاتے ہیں۔ اب ان کا حال بیان ہو رہا ہے جو خود شیطان کے بھائی بنے ہوئے ہیں، جیسے «إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ» ۱؎ [17-الإسراء:27] ‏‏‏‏ فضول خرچ لوگوں کو قرآن نے شیطان کے بھائی قرار دیا ہے۔ ایسے لوگ اس کی باتیں٘ سنتے ہیں، مانتے ہیں اور ان پر ہی عمل کرتے ہیں۔ شیاطین ان کے سامنے برائیاں اچھے رنگ میں پیش کرتے ہیں، ان پر وہ آسان ہو جاتی ہیں اور یہ پوری مشغولیت کے ساتھ ان میں پھنس جاتے ہیں۔ دن بدن اپنی بدکاری میں بڑھتے جاتے ہیں، جہالت اور نادانی کی حد کر دیتے ہیں۔ جیسے آیت میں ہے «أَلَمْ تَرَ أَنَّا أَرْسَلْنَا الشَّيَاطِينَ عَلَى الْكَافِرِينَ تَؤُزُّهُمْ أَزًّا» ۱؎ [19-مريم:83] ‏‏‏‏ ’ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ ہم نے شیطانوں کو کافروں پر چھوڑ رکھا ہے کہ ان کو برانگیختہ کرتے رہتے ہیں۔ ‘ نہ شیطان ان کے بہکانے میں کوتاہی برتتے ہیں، نہ یہ برائیاں کرنے میں کمی کرتے ہیں۔ یہ ان کے دلوں میں وسوسے ڈالتے رہتے ہیں اور وہ ان وسوسوں میں پھنستے رہتے ہیں، یہ انہیں بھڑکاتے رہتے ہیں اور گناہوں پر آمادہ کرتے رہتے ہیں، وہ برے عمل کئے جاتے ہیں اور برائیوں پر مداومت اور لذت کے ساتھ جمے رہتے ہیں۔
21۔ 1 اس میں اہل تقویٰ کی بابت بتلایا گیا ہے کہ وہ شیطان سے چوکنا رہتے ہیں۔ طائف یا طیف، اس تخیل کو کہتے ہیں جو دل میں آئے یا خواب میں نظر آئے۔ یہاں اسے شیطانی وسوسے کے معنی میں استعمال کیا گیا، کیونکہ وسوسہ شیطانی بھی خیالی تصورات کے مشابہ ہے۔ (فتح القدیر)
(آیت 201) {اِنَّ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّهُمْ طٰٓىِٕفٌ …: ” طٰٓىِٕفٌ”طَافَ يَطُوْفُ“} کا معنی ہے گھومنا چکر لگانا، تو {” طٰٓىِٕفٌ “} وہ خیال جو ذہن میں آتا ہے، رات خواب میں آنے والا کسی کا خیال بھی {”طَيْفٌ“ } یا{ ” طٰٓىِٕفٌ “} کہلاتا ہے۔ قاموس میں اس کا ترجمہ غضب بھی کیا گیا ہے۔ {”مَسَّ يَمَسُّ } (ع) “ کا معنی ہے چھونا، یعنی شیطان کی طرف سے آنے والے خیال یا غصے کے چھونے کے ساتھ ہی انھیں اللہ تعالیٰ کا جلال، آخرت کی جوابدہی اور شیطان کی دشمنی یاد آ جاتی ہے، جس سے فوراً ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں، ان میں بصیرت اور استقامت پیدا ہو جاتی ہے، وہ اسی وقت اللہ کو یاد کرتے ہیں اور اس سے ڈرتے ہوئے اس وسوسے، خیال یا غصے کا پیچھا چھوڑ دیتے ہیں اور اس پر عمل سے باز رہتے ہیں۔
وَ اِخۡوَانُہُمۡ یَمُدُّوۡنَہُمۡ فِی الۡغَیِّ ثُمَّ لَا یُقۡصِرُوۡنَ ﴿۲۰۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
رہے ان کے (یعنی شیاطین کے) بھائی بند، تو وہ انہیں ان کی کج روی میں کھینچے لیے چلے جاتے ہیں اور انہیں بھٹکانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جو شیاطین کے تابع ہیں وه ان کو گمراہی میں کھینچے لے جاتے ہیں پس وه باز نہیں آتے
احمد رضا خان بریلوی
اور وہ جو شیطانوں کے بھائی ہیں شیطان انہیں گمراہی میں کھینچتے ہیں پھر کمی نہیں کرتے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو شیطانوں کے بھائی بند ہیں تو وہ (شیاطینِ انسی و جنی) ان کو گمراہی میں کھینچتے لئے جاتے ہیں اور (انہیں گمراہ کرتے ہیں) کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جو ان (شیطانوں) کے بھائی ہیں وہ انھیں گمراہی میں بڑھاتے رہتے ہیں، پھر وہ کمی نہیں کرتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جو اللہ سے ڈرتا ہے ، شیطان اس سے ڈرتا ہے ٭٭

طائف کی دوسری قرأت «طیف» ہے۔ یہ دونوں مشہور قرأتیں ہیں۔ دونوں کے معنی ایک ہیں۔ بعض نے لفظی تعریف بھی کی ہے۔ فرمان ہے کہ وہ لوگ جو اللہ سے ڈرنے والے ہیں، جنہیں اللہ کا ڈر ہے، جو نیکیوں کے عامل اور برائیوں سے رکنے والے ہیں، انہیں جب کبھی غصہ آ جائے، یا شیطان ان پر اپنا کوئی داؤ چلانا چاہے، یا ان کے دل میں کسی گناہ کی رغبت ڈالے، اور ان سے کوئی گناہ کرانا چاہے تو یہ اللہ کے عذاب سے بچنے میں جو ثواب ہے، یہ اسے بھی یاد کر لیتے ہیں، رب کے وعدے وعید کی یاد کرتے ہیں اور فوراً چوکنے ہو جاتے ہیں، توبہ کر لیتے ہیں، اللہ کی طرف جھک جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے شیطانی شر سے پناہ مانگنے لگتے ہیں اور اسی وقت اللہ کی جناب میں رجوع کرنے لگتے ہیں اور استقامت کے ساتھ صحت پر جم جاتے ہیں۔ ابن مردویہ میں ہے کہ ایک عورت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، جسے مرگی کا دورہ پڑا کرتا تھا، اس نے درخواست کی کہ آپ میرے لیے آپ دعا کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم چاہو تو میں دعا کروں اور اللہ تمہیں شفا بخشے اور اگر چاہو تو صبر کرو تو اللہ تم سے حساب نہ لے گا۔ اس نے کہا لی اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں صبر کرتی ہوں کہ میرا حساب معاف ہو جائے۔ سنن میں بھی یہ حدیث ہے کہ { اس عورت نے کہا تھا کہ میں گر پڑتی ہوں اور بیہوشی کی حالت میں میرا کپڑا کھل جاتا ہے جس سے بےپردگی ہوتی ہے۔ اللہ سے میری شفا کی درخواست کیجئے۔ آپ نے فرمایا: تم ان دونوں باتوں میں سے ایک کو پسند کر لو، یا تو میں دعا کروں اور تمہیں شفا ہو جائے، یا تم صبر کرو اور تمہیں جنت ملے۔ اس نے کہا: میں صبر کرتی ہوں کہ مجھے جنت ملے۔ لیکن اتنی دعا تو ضرور کیجئے کہ میں بےپردہ نہ ہو جایا کروں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی۔ چنانچہ ان کا کپڑا کیسی ہی وہ تلملاتیں، اپنی جگہ سے نہیں ہٹتا تھا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:5652] ‏‏‏‏

حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ اپنی تاریخ میں عمرو بن جامع کے حالات میں نقل کرتے ہیں کہ ایک نوجوان عابد مسجد میں رہا کرتا تھا اور اللہ کی عبادت کا بہت مشتاق تھا۔ ایک عورت نے اس پر ڈورے ڈالنے شروع کئے، یہاں تک کہ اسے بہکا لیا۔ قریب تھا کہ وہ اس کے ساتھ کوٹھڑی میں چلا جائے اچانک اسے یہ آیت «إِذَا مَسَّهُمْ طَائِفٌ مِّنَ الشَّيْطَانِ تَذَكَّرُوا فَإِذَا هُم مُّبْصِرُونَ» یاد آئی اور غش کھا کر گر پڑا۔ بہت دیر کے بعد جب اسے ہوش آیا، اس نے پھر اس آیت کو یاد کیا اور اس قدر اللہ کا خوف اس کے دل میں سمایا کہ اس کی جان نکل گئی۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس کے والد سے ہمدردی اور غم خواری کی۔ چونکہ انہیں رات ہی کو دفن کر دیا گیا تھا، آپ ان کی قبر پر گئے، آپ کے ساتھ بہت سے آدمی تھے۔ آپ نے وہاں جا کر ان کی قبر پر نماز جنازہ ادا کی اور اسے آواز دے کر فرمایا: اے نوجوان! «وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ» ۱؎ [55-الرحمن:46] ‏‏‏‏ ’ جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے کا ڈر رکھے، اس کیلئے دو دو جنتیں ہیں۔ ‘ اسی وقت قبر کے اندر سے آواز آئی کہ مجھے میرے رب عزوجل نے وہ دونوں مرتبے دو دو عطا فرما دیئے۔

یہ تو تھا حال اللہ والوں کا اور پرہیزگاروں کا کہ وہ شیطانی جھٹکوں سے بچ جاتے ہیں، اس کے فن فریب سے چھوٹ جاتے ہیں۔ اب ان کا حال بیان ہو رہا ہے جو خود شیطان کے بھائی بنے ہوئے ہیں، جیسے «إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ» ۱؎ [17-الإسراء:27] ‏‏‏‏ فضول خرچ لوگوں کو قرآن نے شیطان کے بھائی قرار دیا ہے۔ ایسے لوگ اس کی باتیں٘ سنتے ہیں، مانتے ہیں اور ان پر ہی عمل کرتے ہیں۔ شیاطین ان کے سامنے برائیاں اچھے رنگ میں پیش کرتے ہیں، ان پر وہ آسان ہو جاتی ہیں اور یہ پوری مشغولیت کے ساتھ ان میں پھنس جاتے ہیں۔ دن بدن اپنی بدکاری میں بڑھتے جاتے ہیں، جہالت اور نادانی کی حد کر دیتے ہیں۔ جیسے آیت میں ہے «أَلَمْ تَرَ أَنَّا أَرْسَلْنَا الشَّيَاطِينَ عَلَى الْكَافِرِينَ تَؤُزُّهُمْ أَزًّا» ۱؎ [19-مريم:83] ‏‏‏‏ ’ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ ہم نے شیطانوں کو کافروں پر چھوڑ رکھا ہے کہ ان کو برانگیختہ کرتے رہتے ہیں۔ ‘ نہ شیطان ان کے بہکانے میں کوتاہی برتتے ہیں، نہ یہ برائیاں کرنے میں کمی کرتے ہیں۔ یہ ان کے دلوں میں وسوسے ڈالتے رہتے ہیں اور وہ ان وسوسوں میں پھنستے رہتے ہیں، یہ انہیں بھڑکاتے رہتے ہیں اور گناہوں پر آمادہ کرتے رہتے ہیں، وہ برے عمل کئے جاتے ہیں اور برائیوں پر مداومت اور لذت کے ساتھ جمے رہتے ہیں۔
22۔ 1 یعنی شیطان کافروں کو گمراہی کی طرف کھینچ لے جاتے ہیں، پھر وہ کافر (گمراہی کی طرف جانے میں) یا شیطان انکو لے جانے میں کوتاہی میں کمی نہیں کرتے۔ یعنی لَا یَقْصِرُوْنَ کا فاعل کافر بھی بن سکتے ہیں اور اِخْوَان الْکُفَّاِرِ شیاطین بھی۔
(آیت 202) {وَ اِخْوَانُهُمْ يَمُدُّوْنَهُمْ فِي الْغَيِّ …:} یعنی اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والوں کے مقابلے میں ان کفار و منافقین کا جو اپنی شرارت اور خباثت نفس میں شیاطین کے بھائی ہیں، یہ حال ہے کہ ان کے بھائی شیاطین انھیں گمراہی میں بڑھاتے اور گھسیٹتے ہی لیے جاتے ہیں اور انھیں بھٹکانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔ (ابن کثیر)
وَ اِذَا لَمۡ تَاۡتِہِمۡ بِاٰیَۃٍ قَالُوۡا لَوۡ لَا اجۡتَبَیۡتَہَا ؕ قُلۡ اِنَّمَاۤ اَتَّبِعُ مَا یُوۡحٰۤی اِلَیَّ مِنۡ رَّبِّیۡ ۚ ہٰذَا بَصَآئِرُ مِنۡ رَّبِّکُمۡ وَ ہُدًی وَّ رَحۡمَۃٌ لِّقَوۡمٍ یُّؤۡمِنُوۡنَ ﴿۲۰۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے نبیؐ، جب تم اِن لوگوں کے سامنے کوئی نشانی (یعنی معجزہ) پیش نہیں کرتے تو یہ کہتے ہیں کہ تم نے اپنے لیے کوئی نشانی کیوں نہ انتخاب کر لی؟ ان سے کہو "میں تو صرف اُس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے رب نے میری طرف بھیجی ہے یہ بصیرت کی روشنیاں ہیں تمہارے رب کی طرف سے اور ہدایت اور رحمت ہے اُن لوگوں کے لیے جو اِسے قبول کریں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جب آپ کوئی معجزه ان کے سامنے ﻇاہر نہیں کرتے تو وه لوگ کہتے ہیں کہ آپ یہ معجزه کیوں نہ ﻻئے؟ آپ فرما دیجئے! کہ میں اس کا اتباع کرتا ہوں جو مجھ پر میرے رب کی طرف سے حکم بھیجا گیا ہے یہ گویا بہت سی دلیلیں ہیں تمہارے رب کی طرف سے اور ہدایت اور رحمت ہے ان لوگوں کے لئے جو ایمان رکھتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور اے محبوب! جب تم ان کے پاس کوئی آیت نہ لاؤ تو کہتے ہیں تم نے دل سے کیوں نہ بنائی تم فرما ؤ میں تو اسی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف میرے رب سے وحی ہوتی ہے یہ تمہارے رب کی طرف سے آنکھیں کھولنا ہے اور ہدایت اور رحمت مسلمانوں کے لیے،
علامہ محمد حسین نجفی
(اے پیغمبر(ص)) جب تم ان کے سامنے (ان کا کوئی مطلوبہ) معجزہ لے کر نہ جاؤ تو وہ کہتے ہیں کہ تم نے خود کوئی معجزہ کیوں نہ منتخب کر لیا؟ (یعنی اپنی مرضی سے کیوں نہ بنا لیا؟) کہہ دیجیے کہ میں تو صرف اسی وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میرا پروردگار مجھے کرتا ہے (اس میں میری پسند کا کیا دخل؟) یہ (قرآن) تمہارے پروردگار کی طرف سے سامانِ ہدایت اور سراسر رحمت ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب تو ان کے پاس کوئی نشانی نہ لائے تو کہتے ہیں تو خود اس کا انتخاب کرکے کیوں نہیں لے آیا؟ کہہ دے میں تو اسی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے رب کی جانب سے میری طرف وحی کی جاتی ہے۔ یہ تمھارے رب کی طرف سے سمجھ کی باتیں ہیں اور ان لوگوں کے لیے سراسر ہدایت اور رحمت ہے جو ایمان رکھتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سب سے بڑا معجزہ قرآن کریم ہے ٭٭

یہ لوگ کوئی معجزہ مانگتے اور آپ اسے پیش نہ کرتے تو کہتے کہ نبی ہوتا تو ایسا کر لیتا، بنا لیتا، اللہ سے مانگ لیتا، اپنے آپ گھڑ لیتا، آسمان سے گھسیٹ لاتا۔ الغرض معجزہ طلب کرتے اور وہ طلب بھی سرکشی اور عناد کے ساتھ ہوتی۔ جیسے فرمان قرآن ہے «اِنْ نَّشَاْ نُنَزِّلْ عَلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَاءِ اٰيَةً فَظَلَّتْ اَعْنَاقُهُمْ لَهَا خٰضِعِيْنَ» ۱؎ [26-الشعراء:4] ‏‏‏‏ ’ اگر ہم چاہتے تو کوئی نشان ان پر آسمان سے اتارتے جس سے ان کی گردنین جھک جاتیں۔ ‘ وہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتے رہتے تھے کہ جو ہم مانگتے ہیں، وہ معجزہ اپنے رب سے طلب کر کے ہمیں ضرور دکھا دیجئے۔ تو حکم دیا کہ ان سے فرما دیجئے کہ میں تو اللہ کی باتیں ماننے والا اور ان پر عمل کرنے والا وحی الٰہی کا تابع ہوں، میں اس کی جناب میں کوئی گستاخی نہیں کر سکتا، آگے نہیں بڑھ سکتا۔ جو حکم دے، صرف اسے بجا لاتا ہوں۔ اگر کوئی معجزہ وہ عطا فرمائے، دکھا دوں۔ جو وہ ظاہر نہ فرمائے، اسے میں لا نہیں سکتا۔ میرے بس میں کچھ نہیں۔ میں اس سے معجزہ طلب نہیں کیا کرتا، مجھ میں اتنی جرات نہیں، ہاں اس کی اجازت پا لیتا ہوں تو اس سے دعا کرتا ہوں۔ وہ حکمتوں والا اور علم والا ہے۔ میرے پاس تو میرے رب کا سب سے بڑا معجزہ قرآن کریم ہے جو سب سے زیادہ واضح دلیل، سب سے زیادہ سچی حجت اور سب سے زیادہ روشن برہان ہے۔ جو حکمت، ہدایت اور رحمت سے پر ہے۔ اگر دل میں ایمان ہے تو اس اچھے، سچے، عمدہ اور اعلیٰ معجزے کے بعد دوسرے معجزے کی طلب باقی ہی نہیں رہتی۔
23۔ 1 مراد ایسا معجزہ جو ان کے کہنے پر ان کی خواہش کے مطابق دکھایا جائے۔ جیسے ان کے بعض مطا بات سورة بنی اسرائیل، آیت 90۔ 93 میں بیان کئے گئے ہیں۔ 23۔ 2 لَوْلَا اَجْتَبْیتَھَا کے معنی ہیں، تو اپنے پاس سے ہی کیوں نہیں بنا لاتا؟ اس کے جواب میں بتایا گیا کہ آپ فرما دیں، معجزات پیش کرنا میرے اختیار میں نہیں ہے میں تو صرف وحی الٰہی کا پیروکار ہوں۔ ہاں البتہ یہ قرآن جو میرے پاس آیا ہے۔ یہ بجائے خود ایک بہت بڑا معجزہ ہے، اس میں تمہارے رب کی طرف سے بصائر (دلائل وبراہین) اور ہدایت و رحمت ہے۔ بشرطیکہ کوئی ایمان لائے۔
(آیت 203) ➊ {وَ اِذَا لَمْ تَاْتِهِمْ بِاٰيَةٍ …:} اس آیت میں شیاطین کے بھائیوں کی گمراہی اور بے جا ضد کی ایک مثال بیان فرمائی ہے، یعنی وہ پیغمبر سے ازراہ عناد کہتے ہیں کہ تم اپنے پاس ہی سے کوئی آیت (معجزہ) کیوں نہیں لے آتے۔ فرمایا میں تو صرف وحی الٰہی کا تابع ہوں اور اپنی طرف سے کوئی معجزہ پیش نہیں کر سکتا۔ دیکھیے سورۂ یونس(۱۵ تا ۱۷)۔ ➋ { هٰذَا بَصَآىِٕرُ مِنْ رَّبِّكُمْ …:} اس میں اشارہ ہے کہ قرآن کریم ہی بڑا کافی معجزہ ہے، اس کے ہوتے ہوئے مزید معجزوں کی طلب محض نہ ماننے کا بہانہ ہے۔ دیکھیے سورۂ عنکبوت (۵۰، ۵۱) پھر یہاں قرآن کے تین بڑے اوصاف بیان فرمائے ہیں، جو صرف اس معجزے کی خصوصیت ہیں۔
وَ اِذَا قُرِیَٔ الۡقُرۡاٰنُ فَاسۡتَمِعُوۡا لَہٗ وَ اَنۡصِتُوۡا لَعَلَّکُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ ﴿۲۰۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جب قرآن تمہارے سامنے پڑھا جائے تو اسے توجہ سے سنو اور خاموش رہو، شاید کہ تم پر بھی رحمت ہو جائے"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جب قرآن پڑھا جایا کرے تو اس کی طرف کان لگا دیا کرو اور خاموش رہا کرو امید ہے کہ تم پر رحمت ہو
احمد رضا خان بریلوی
اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے کان لگا کر سنو اور خاموش رہو کہ تم پر رحم ہو
علامہ محمد حسین نجفی
اور (اے مسلمانو) جب قرآن پڑھا جائے تو کان لگا کر (توجہ سے) سنو اور خاموش ہو جاؤ تاکہ تم پر رحمت کی جائے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے کان لگا کر سنو اور چپ رہو، تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سورہ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی ٭٭

چونکہ اوپر کی آیت میں بیان تھا کہ یہ قرآن لوگوں کے لیے بصیرت و بصارت ہے اور ساتھ ہی ہدایت اور رحمت ہے۔ اس لیے اس آیت میں اللہ تعالیٰ جل و علا حکم فرماتا ہے کہ اس کی عظمت اور احترام کے طور پر اس کی تلاوت کے وقت کان لگا کر اسے سنو۔ ایسا نہ کرو جیسا کفار قریش نے کیا کہ وہ کہتے تھے «وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَا تَسْمَعُوْا لِھٰذَا الْقُرْاٰنِ وَالْـغَوْا فِيْهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُوْنَ» ۱؎ [41-فصلت:26] ‏‏‏‏ ’ اس قران کو نہ سنو اور اس کے پڑھے جانے کے وقت شور و غل مچا دو۔ ‘ اس کی اور زیادہ تاکید ہو جاتی ہے جبکہ فرض نماز میں امام با آواز بلند قرأت پڑھتا ہو۔ جیسے کہ صحیح مسلم شریف میں سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ { امام اقتداء کئے جانے کیلئے مقرر کیا گیا ہے۔ جب وہ تکبیر کہے، تم تکبیر کہو اور جب وہ پڑھے، تم خاموش رہو۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:404] ‏‏‏‏ اسی طرح سنن میں بھی یہ حدیث بروایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مروی ہے۔ امام مسلم بن حجاج رحمہ اللہ نے بھی اسے صحیح کہا ہے اور اپنی کتاب میں نہیں لائے ـ (‏‏‏‏یہ یاد رہے کہ اس حدیث میں جو خاموش رہنے کا حکم ہے، یہ صرف اس قرأت کے لئے ہے جو الحمد (‏‏‏‏سورۃ الفاتحہ) کے سوا ہو)۔ جیسے کہ طبرانی کبیر میں صحیح حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: «مَنْ صَلَّی خَلْفَ اَلاِمَاْم فَلیَقَرَْا بِفَاتِحَۃ الکِتَْابِ» یعنی جو شخص امام کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہو، وہ سورۃ فاتحہ ضرور پڑھ لے۔ پس سورۃ فاتحہ پڑھنے کا حکم ہے اور قرأت کے وقت خاموشی کا حکم ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ (‏‏‏‏مترجم) اس آیت کے شان نزول کے متعلق سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ لوگ پہلے نماز پڑھتے ہوئے باتیں بھی کر لیا کرتے تھے، تب یہ آیت اتری۔ اور دوسری آیت میں چپ رہنے کا حکم کیا گیا۔

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نماز پڑھتے ہوئے ہم آپس میں ایک دوسرے کو سلام کیا کرتے تھے، پس یہ آیت اتری۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:15593:ضعیف] ‏‏‏‏ آپ نے ایک مرتبہ نماز میں لوگوں کو امام کے ساتھ ہی ساتھ پڑھتے ہوئے سن کر فارغ ہو کر فرمایا کہ تم اب تک اس با کو سمجھ نہیں سکے، جب قرآن پڑھا جائے تو اسے سنو اور چپ رہو۔ جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:15592:ضعیف] ‏‏‏‏ (‏‏‏‏واضح رہے کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی رائے میں اس سے مراد امام کے با آواز بلند الحمد کے سوا دوسری قرأت کے وقت مقتدی کا خاموش رہنا ہے، نہ کہ پست آواز کی قرأت والی نماز میں، اور بلند آواز کی قرأت والی نماز میں الحمد سے خاموشی (‏‏‏‏نہیں مراد، کیونکہ) امام کے پیچھے الحمد تو خود آپ بھی پڑھا کرتے تھے۔ جیسے کہ جزاء القراۃ بخاری میں ہے: «انہ قرا فی العصر خلف الا مام فی الرکعتین الاولیین بام القران و سورۃ» یعنی آپ نے امام کے پیچھے عصر کی نماز کی پہلی دو رکعتوں میں سورۃ الحمد بھی پڑھی اور دوسری سورت بھی ملائی۔ پس آپ کے مندرجہ بالا فرمان کا مطلب صرف اسی قدر ہے کہ جب امام اونچی آواز سے قرأت کرے تو مقتدی الحمد کے سوا دوسری قرأت کے وقت سنے اور چپ رہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ مترجم) زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت اس انصاری نوجوان کے بارے میں نازل ہوئی ہے جس کی عادت تھی کہ جب کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن سے کچھ پڑھتے، یہ بھی اسے پڑھتا۔ پس یہ آیت اتری۔

مسند احمد اور سنن میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس نماز سے فارغ ہو کر پلٹے جس میں آپ نے باآواز بلند قرأت پڑھی تھی۔ پھر پوچھا کہ کیا تم میں سے کسی نے میرے ساتھ پڑھا تھا؟ ایک شخص نے کہا: ہاں یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں کہہ رہا تھا کہ یہ کیا بات ہے کہ مجھ سے قرآن کی چھینٹا جھپٹی ہو رہی ہے؟ } ۱؎ [سنن ابوداود:826،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ راوی کا کہنا ہے کہ اس کے بعد لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان نمازوں میں جن میں آپ اونچی آواز سے قرأت پڑھا کرتے تھے، قرأت سے رک گئے جبکہ انہوں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا۔ امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن کہتے ہیں اور ابوحاتم رازی اس کی تصحیح کرتے ہیں۔ (‏‏‏‏مطلب اس حدیث کا بھی یہی ہے کہ امام جب پکار کر قرأت پڑھے، اس وقت مقتدی سوائے الحمد کے کچھ نہ پڑھے کیونکہ ایسی ہی روایت ابوداؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، موطا امام مالک، مسند احمد وغیرہ میں ہے، جس میں ہے کہ جب آپ کے سوال کے جواب میں یہ کہا گیا ہے کہ ہم پڑھتے ہیں تو آپ نے فرمایا «لا تفعلوا الا بفاتحۃ فانہ لاصلوۃ لمن لم یقراء بھا» یعنی ایسا نہ کیا کرو، صرف سورۃ فاتحہ پڑھو کیونکہ جو اسے نہیں پڑھتا، اس کی نماز نہیں ہوتی۔ پس لوگ اونچی آواز والی قرأت کی نماز میں جس قرأت سے رک گئے، وہ الحمد کے علاوہ تھی کیونکہ اسی سے روکا تھا، اسی سے صحابہ رضی اللہ عنہم رک گئے۔ الحمد تو پڑھنے کا حکم دیا تھا، بلکہ ساتھ ہی فرما دیا تھا کہ اس کے بغیر نماز ہی نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ مترجم)

زہری کا قول ہے کہ امام جب اونچی آواز سے قرأت پڑھے تو انہیں امام کی قرأت کافی ہے، امام کے پیچھے والے نہ پڑھیں۔ گو انہیں امام کی آواز سنائی بھی نہ دے۔ ہاں! البتہ جب امام آہستہ آواز سے پڑھ رہا ہو، اس وقت مقتدی بھی آہستہ پڑھ لیا کریں اور کسی کو لائق نہیں کہ اس کے ساتھ ساتھ پڑھے، خواہ جہری نماز ہو خواہ سری۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ”جب قرآن پڑھا جائے تو تم اسے سنو اور چپ رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔“ علماء کے ایک گروہ کا مذہب ہے کہ جب امام اونچی آواز سے قرأت کرے تو مقتدی پر نہ سورۃ فاتحہ پڑھنا واجب ہے، نہ کچھ اور۔ امام شافعی رحمہ اللہ کے دو اقوال جن میں سے ایک قول یہ بھی ہے لیکن یہ ان کا پہلا قول ہے جیسے کہ امام مالک رحمہ اللہ کا مذہب۔ ایک اور روایت میں امام احمد کا بہ سبب ان دلائل کے جن کا ذکر گزر چکا۔ یعنی نیا دوسرا قول آپ کا یہ ہے: مقتدی صرف سورۃ فاتحہ امام کے سکتوں کے درمیان پڑھ لے جبکہ صحابہ رضی اللہ عنہم، تابعین رحمۃ اللہ علیہم اور ان کے بعد والے گروہ کا بھی یہی فرمان ہے۔ امام ابوحنیفہ اور امام احمد فرماتے ہیں: مقتدی پر مطلقاً قرأت واجب نہیں، نہ اس نماز میں جس میں امام آہستہ قرأت پڑھے اور نہ اس میں جس میں بلند آواز سے قرأت پڑھے۔ اس لیے کہ حدیث میں ہے: { امام کی قرأت مقتدیوں کی بھی قرأت ہے۔ } ۱؎ [سنن ابن ماجه:850، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ اسے امام احمد نے اپنی مسند میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے۔

یہی حدیث موطا امام مالک میں موقوفاً مروی ہے اور یہی صحیح ہے یعنی یہ قول سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا ہونا زیادہ صحیح ہے، نہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان (‏‏‏‏لیکن یہ بھی یاد رہے کہ خود سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے ابن ماجہ میں مروی ہے کہ «کنا نقرا فی الظھر والعصر خلف الامام فی الرکعتین الاولیین بفاتحۃ الکتاب وسورۃ وفی الاخریین بفاتحۃ الکتاب» یعنی ہم ظہر اور عصر کی نماز میں امام کے پیچھے پہلی دو رکعتوں میں سورۃ فاتحہ بھی پڑھتے تھے اور کوئی اور سورت بھی اور پچھلی دو رکعتوں میں صرف سورۃ فاتحہ پڑھا کرتے تھے۔ پس معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے جو فرمایا کہ امام کی قرأت اسے کافی ہے، اس سے مراد سورۃ الفاتحی کے علاوہ قرأت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ مترجم) یہ مسئلہ اور جگہ نہایت تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ اسی خاص مسئلے پر امام ابوعبداللہ بخاری رحمہ اللہ نے ایک مستقل رسالہ لکھا ہے اور اس میں ثابت کیا ہے کہ ہر نماز میں خواہ اس میں قرأت اونچی پڑھی جاتی ہو یا آہستہ، مقتدیوں پر سورۃ فاتحہ کا پڑھنا فرض ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”یہ آیت فرض نماز کے بارے میں ہے۔“ طلحہ کا بیان ہے کہ عبید بن عمر اور عطاء بن ابی رباح کو میں نے دیکھا کہ واعظ وعظ کہہ رہا تھا اور وہ آپس میں باتیں کر رہے تھے تو میں نے کہا: تم اس وعظ کو نہیں سنتے اور وعید کے قابل ہو رہے ہو؟ انہوں نے میری طرف دیکھا، پھر باتوں میں مشغول ہو گئے۔ میں نے پھر یہی کہا، انہوں نے پھر میری طرف دیکھا اور پھر باتوں میں مشغول ہو گئے۔ میں نے پھر یہی کہا، انہوں نے پھر میری طرف دیکھا اور پھر اپنی باتوں میں لگ گئے، میں نے پھر تیسری مرتبہ ان سے یہی کہا۔ تیسری بار انہوں نے میری طرف دیکھ کر فرمایا: یہ نماز کے بارے میں ہے۔

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”نماز کے سوا جب کوئی قرآن کریم پڑھ رہا ہو تو کلام کرنے میں کوئی حرج نہیں۔“ اور بھی بہت سے بزرگوں کا فرمان ہے کہ مراد اس سے نماز میں ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ یہ آیت نماز اور جمعہ کے خطبے کے بارے میں ہے۔ عطاء رحمہ اللہ سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”نماز میں اور ذکر کے وقت۔“ سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عید الاضحیٰ، عید الفطر، جمعہ کے دن اور جن نمازوں میں امام اونچی قرأت پڑھے۔ ابن جریر رحمہ اللہ کا فیصلہ بھی یہی ہے کہ مراد اس سے نماز میں اور خطبے میں چپ رہنا ہے جیسے کہ حکم ہوا ہے۔ امام کے پیچھے خطبے کی حالت میں چپ رہو۔

مجاہد رحمہ اللہ نے اسے مکروہ سمجھا کہ جب امام خوف کی آیت یا رحمت کی آیت تلاوت کرے تو اس کے پیچھے سے کوئی شخص کچھ کہے بلکہ خاموشی کے لیے کہا۔ (‏‏‏‏حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی کسی خوف کی آیت سے گزرتے تو پناہ مانگتے اور جب کبھی کسی رحمت کے بیان والی آیت سے گزرتے تو اللہ سے سوال کرتے۔ مترجم) حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”جب تو قرآن سننے بیٹھے تو اس کے احترام میں خاموش رہا کر۔“ مسند احمد میں فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ { جو شخص کان لگا کر کتاب اللہ کی کسی آیت کو سنے تو اس کے لیے کثرت سے بڑھنے والی نیکی لکھی جاتی ہے اور اگر اسے پڑھے تو اس کے لیے قیامت کے دن نور ہو گا۔ } ۱؎ [مسند احمد:341/2:ضعیف] ‏‏‏‏
24۔ 1 یہ ان کافروں کو کہا جارہا ہے، جو قرآن کی تلاوت کرتے وقت شور کرتے تھے اور اپنے ساتھیوں سے کہتے تھے (لَا تَسْمَعُوْا لِھٰذَا الْقُرْاٰنِ وَالْـغَوْا فِيْهِ) 41۔ فصلت:26) یہ قرآن مت سنو اور شور کرو، ان سے کہا گیا کہ اس کی بجائے تم اگر غور سے سنو اور خاموش رہو تو شاید اللہ تعالیٰ تمہیں ہدایت سے نواز دے۔ اور یوں تم رحمت الٰہی کے مستحق بن جاؤ۔
(آیت 204) {وَ اِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ …:} قرآن کی عظمت بیان کرنے کے بعد اب اس سے فائدہ اٹھانے کے آداب کی طرف اشارہ فرمایا جا رہا ہے کہ اس کے پڑھے جانے کے وقت استماع اور انصات ضروری ہے، سو توجہ اور خاموشی سے سنو، تاکہ تم پر اللہ تعالیٰ کا رحم ہو جائے۔ یہ ان ضد اور عناد کے مارے ہوئے کفار کو نصیحت ہے جن کا ذکر مسلسل چلا آ رہا ہے اور جو ہمیشہ نئے سے نئے معجزے کا مطالبہ کرتے اور جب قرآن پڑھا جاتا تو شور مچا کر دوسروں کو بھی سننے سے روکتے اور اس بے ہودہ طریقے سے غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے تھے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۂ حم السجدہ (۲۶) میں فرمایا: ”اور ان لوگوں نے کہا جنھوں نے کفر کیا، اس قرآن کو مت سنو اور اس میں شور کرو، تاکہ تم غالب رہو۔“ اس آیت میں تین باتیں بیان کی گئی ہیں جو کفار نے کہیں، پہلی یہ کہ اس قرآن کو مت سنو، دوسری یہ کہ اس میں شور کرو، تیسری یہ کہ تاکہ تم غالب رہو، اس کے جواب میں سورۂ اعراف کی زیر تفسیر آیت: «{ وَ اِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ }» میں تین باتوں کی تلقین فرمائی، چنانچہ {” لَا تَسْمَعُوْا لِهٰذَا الْقُرْاٰنِ “} کے جواب میں{” فَاسْتَمِعُوْا “} فرمایا، یعنی کان لگا کر سنو اور{” وَ الْغَوْا فِيْهِ “} یعنی شوروغل کرو کے جواب میں {” اَنْصِتُوْا “} یعنی خاموش رہو فرمایا اور {” لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُوْنَ “} کے جواب میں فرمایا {” لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ “} تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ مطلب یہ ہے کہ جب تمھیں قرآن سنایا جائے تو شوروغل کے بجائے کان لگا کر خاموشی سے سنو۔ یہ حکم عام ہے، کافر ہوں یا مسلمان، سب کو قرآن مجید توجہ سے سننا چاہیے۔ خصوصاً نماز اور خطبہ جمعہ میں تو خاموش رہنا فرض ہے، جس کے دلائل حدیث میں موجود ہیں۔ ہاں، اگر کوئی اپنے طور پر قرآن پڑھ رہا ہے تو سب کچھ چھوڑ کر اسے سننا ضروری نہیں، ورنہ ایک مسجد کے سپیکر سے قرآن کی تلاوت پوری بستی کو خاموش کرانے کے لیے کافی ہو گی۔ بعض لوگ اس آیت سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ نہیں پڑھنی چاہیے، مگر یہ استدلال بالکل بے محل ہے، کیونکہ یہ آیت مکی ہے اور ماقبل سے مشرکین سے خطاب چلا آ رہا ہے، اس لیے نظم قرآن کا تقاضا یہ ہے کہ یہاں بھی مشرکین ہی مخاطب ہوں، اگر اس آیت کو عام بھی مان لیا جائے تو اصولِ فقہ کی رو سے حدیث [لاَ صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ] (جسے امام بخاری نے متواتر قرار دیا ہے) کے ساتھ سورۂ فاتحہ کی تخصیص ہو جائے گی، کیونکہ اس کے بغیر امام، منفرد، مقتدی کسی کی بھی نماز نہیں ہوتی۔ مقتدی آواز کے بغیر پڑھے تو خاموشی کے خلاف بھی نہیں۔ جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ جمعہ میں خاموش رہ کر غور سے سننے کا حکم دیا، اس کے باوجود صحیح مسلم (۵۹؍۸۷۵) میں جابر رضی اللہ عنہ سے آپ کا یہ حکم مروی ہے: ”تم میں سے کوئی شخص جمعہ کے دن آئے اور امام خطبہ دے رہا ہو تو وہ دو رکعتیں پڑھے اور انھیں مختصر پڑھے۔“ اب ظاہر ہے کہ اس کا دو رکعتیں پڑھنا خاموشی کے خلاف نہیں، ورنہ اس صحیح حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ کے دوران میں ہر آنے والے شخص کو دو رکعتیں پڑھنے کا حکم نہ دیتے، مگر آپ کے حکم کی وجہ سے خطبہ کے دوران میں آنے پر دو رکعتیں پڑھنا ہوں گی، اسی طرح امام کے پیچھے فاتحہ بھی پڑھنی ہو گی اور خاموشی بھی قائم رہے گی۔ تعجب اس بات پر ہے کہ بعض لوگ اس وقت بھی مقتدی کو کچھ نہ پڑھنے کا حکم دیتے ہیں جب امام بلند آواز سے قراء ت نہ کر رہا ہو۔ فرمائیے! اس کے ساتھ اس آیت کا کیا تعلق ہے؟ پھر ہمارے بعض بھائی امام کی قراء ت سنتے ہوئے صبح کی سنتیں پڑھتے رہتے ہیں، مگر انھیں اس وقت یہ آیت یاد نہیں آتی اور سب سے زیادہ تعجب تو ان کی اس بات پر ہے کہ ان کے ہاں سورۂ فاتحہ امام، منفرد، یا مقتدی کسی کے لیے بھی نماز میں فرض نہیں۔ قرآن کی کوئی بھی ایک آیت پڑھ لینے سے نماز ہو جائے گی۔ بتائیے! پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ ”جو سورۂ فاتحہ نہ پڑھے اس کی نماز نہیں“ یہ امام، منفرد یا مقتدی میں سے کسی کے لیے نہیں تو اس کا مخاطب کون ہو گا؟
وَ اذۡکُرۡ رَّبَّکَ فِیۡ نَفۡسِکَ تَضَرُّعًا وَّ خِیۡفَۃً وَّ دُوۡنَ الۡجَہۡرِ مِنَ الۡقَوۡلِ بِالۡغُدُوِّ وَ الۡاٰصَالِ وَ لَا تَکُنۡ مِّنَ الۡغٰفِلِیۡنَ ﴿۲۰۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے نبیؐ، اپنے رب کو صبح و شام یاد کیا کرو دل ہی دل میں زاری اور خوف کے ساتھ اور زبان سے بھی ہلکی آواز کے ساتھ تم ان لوگوں میں سے نہ ہو جاؤ جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اے شخص! اپنے رب کی یاد کیا کر اپنے دل میں عاجزی کے ساتھ اور خوف کے ساتھ اور زور کی آواز کی نسبت کم آواز کے ساتھ صبح اور شام اور اہل غفلت میں سے مت ہونا
احمد رضا خان بریلوی
اور اپنے رب کو اپن ے دل میں یاد کرو زاری اور ڈر سے اور بے آواز نکلے زبان سے صبح اور شام اور غافلوں میں نہ ہونا،
علامہ محمد حسین نجفی
اور (اے پیغمبر(ص)) صبح و شام اپنے پروردگار کو یاد کرو۔ اپنے دل میں عجز و انکساری اور خوف و ہراس کے ساتھ۔ اور زبان سے بھی چِلائے بغیر (یعنی دھیمی آواز کے ساتھ) اور (یادِ خدا سے) غفلت کرنے والوں میں سے نہ ہو جاؤ۔
عبدالسلام بن محمد
اور اپنے رب کو اپنے دل میں عاجزی سے اور خوف سے اور بلند آواز کے بغیر الفاظ سے صبح و شام یاد کر اور غافلوں سے نہ ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ کی یاد بکثرت کرو مگر خاموشی سے ٭٭

اللہ تعالیٰ یہاں حکم فرماتا ہے کہ صبح شام اس کو بکثرت یاد کر۔ اور جگہ بھی ہے «وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوبِ» ۱؎ [50-ق:39] ‏‏‏‏ یعنی ’ اپنے رب کی تسبیح اور حمد بیان کیا کرو، سورج طلوع اور سورج غروب ہونے سے پہلے۔ ‘ یہ آیت مکیہ ہے اور یہ حکم معراج سے پہلے کا ہے۔ «غدو» کہتے ہیں دن کے ابتدائی حصے کو۔ «اصال» جمع ہے «اصیل» کی، جیسے کہ ایمان جمع ہے یمین کی۔ حکم دیا کہ رغبت، لالچ اور ڈر خوف کے ساتھ اللہ کی یاد اپنے دل میں، اپنی زبان سے کرتے رہو۔ چیخنے چلانے کی ضرورت نہیں۔ اسی لیے مستحب یہی ہے کہ پکار کے ساتھ اور چلا چلا کر اللہ کا ذکر نہ کیا جائے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ ہمارا رب قریب ہے کہ ہم اس سے سرگوشی چپکے چپکے کر لیا کریں یا دور ہے کہ ہم پکار پکار کر آوازیں دیں؟ تو اللہ تعالیٰ جل و علا نے یہ آیت اتاری «وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ» ۱؎ [2-البقرة:186] ‏‏‏‏ ’ جب میرے بندے تجھ سے میری بابت سوال کریں تو جواب دے کہ میں بہت ہی نزدیک ہوں۔ دعا کرنے والے کی دعا کو جب بھی وہ مجھ سے دعا کرے، قبول فرما لیا کرتا ہوں۔ ‘ بخاری و مسلم میں ہے کہ { لوگوں نے ایک سفر میں باآواز بلند دعائیں کرنی شروع کیں تو آپ نے فرمایا: لوگو! اپنی جانوں پر ترس کھاؤ۔ تم کسی بہرے کو، یا کسی غائب کو نہیں پکار رہے۔ جسے تم پکارتے ہو، وہ تو بہت ہی پست آواز سننے والا اور بہت ہی قریب ہے۔ تمہاری سواری کی گردن جتنی تم سے قریب ہے، اس سے بھی زیادہ وہ تم سے نزدیک ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:6610] ‏‏‏‏ ہو سکتا ہے کہ مراد اس آیت سے بھی وہی ہو جو آیت «وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذَٰلِكَ سَبِيلًا» ۱؎ [17-الإسراء:110] ‏‏‏‏ یعنی ’ اور نماز نہ بلند آواز سے پڑھو اور نہ آہستہ بلکہ اس کے بیچ کا طریقہ اختیار کرو۔ ‘ سے ہے۔

مشرکین قرآن سن کر قرآن کو، جبرئیل کو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور خود اللہ تعالیٰ کو گالیاں دینے لگتے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ نہ تو آپ اس قدر بلند آواز سے پڑھیں کہ مشرکین چڑ کر بکنے جھکنے لگیں، نہ اس قدر پست آواز سے پڑھیں کہ آپ کے صحابہ بھی نہ سن سکیں بلکہ اس کے درمیان کا راستہ ڈھونڈ نکالیں یعنی نہ بہت بلند، نہ بہت آہستہ۔ یہاں بھی فرمایا کہ بہت بلند آواز سے نہ ہو اور غافل نہ بننا۔ امام ابن جریر اور ان سے پہلے عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم رحمہما اللہ نے فرمایا ہے کہ مراد اس سے یہ ہے کہ اوپر کی آیت میں قرآن کے سننے والے کو جو خاموشی کا حکم تھا، اسی کو دہرایا جا رہا ہے کہ اللہ کا ذکر اپنی زبان سے اپنے دل میں کیا کرو۔ لیکن یہ بعید ہے اور انصاف کے منافی ہے جس کا حکم فرمایا گیا ہے اور مراد اس سے یا تو نماز میں ہے، یا نماز اور خطبے میں۔ اور یہ ظاہر ہے کہ اس وقت خاموشی بہ نسبت ذکر ربانی کے افضل ہے خواہ وہ پوشیدہ ہو خواہ ظاہر، پس ان دونوں کی متابعت نہیں کی گئی۔ اس لیے مراد اس سے بندوں کو صبح شام ذکر کی کثرت کی رغبت دلانا ہے تاکہ وہ غافلوں میں سے نہ ہو جائیں۔ (‏‏‏‏ان دونوں بزرگوں کے علاوہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کا بھی یہی فرمان ہے۔ تفسیر بیضاوی وغیرہ میں بھی یہی ہے اور دونوں آیات کے ظاہری ربط کا تقاضا بھی یہی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» )

اسی لیے فرشتوں کی تعریف بیان ہوئی کہ وہ دن رات اللہ کی تسبیح میں لگے رہتے ہیں، بالکل تھکتے نہیں۔ پس فرماتا ہے کہ جو تیرے رب کے پاس ہیں، وہ اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے۔ ان کا ذکر اس لیے کیا کہ اس کثرت عبادت و اطاعت میں ان کی اقتدا کی جائے، اسی لیے ہمارے لیے بھی شریعت نے سجدہ مقرر کیا، فرشتے بھی سجدہ کرتے رہتے ہیں۔ حدیث شریف میں ہے: { تم اسی طرح صفیں کیوں نہیں باندھتے جیسے کہ فرشتے اپنے رب کے پاس صفیں باندھتے ہیں کہ وہ پہلے اول صف کو پورا کرتے ہیں اور صفوں میں ذرا سی بھی گنجائش اور جگہ باقی نہیں چھوڑتے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:430] ‏‏‏‏ اس آیت پر اجماع کے ساتھ سجدہ واجب ہے۔ پڑھنے والے پر بھی اور سننے والے پر بھی۔ قرآن میں تلاوت کا پہلا سجدہ یہی ہے۔ ابن ماجہ میں حدیث ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کو سجدے کی آیات میں شمار کیا ہے۔ } ۱؎ [سنن ابن ماجه:1056، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ الحمدللہ! تفسیر سورۃ الاعراف ختم ہوئی۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 205) {وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ فِيْ نَفْسِكَ …: ” بِالْغُدُوِّ “} سے مراد فجرسے لے کر سورج طلوع ہونے تک کا وقت ہے اور {” الْاٰصَالِ “} {”اَصِيْلٌ“} کی جمع ہے، جیسے {”اَيْمَانٌ“ ”يَمِيْنٌ“} کی جمع ہے، اس سے مراد عصر سے لے کر مغرب تک کا وقت ہے۔ ان اوقات میں دل کی حاضری کے ساتھ اللہ کا ذکر غفلت دور کرنے میں بے حد مفید ہے۔ بعض اوقات صبح و شام بول کر ہر وقت بھی مراد لیا جاتا ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے ذکر کی تاکید اور اس کے آداب بیان ہوئے ہیں: (1) {” فِيْ نَفْسِكَ “} ذکر دل کے ساتھ کرے، صرف زبان چل رہی ہو اور دل حاضر نہ ہو تو خاص فائدہ نہیں۔ (2) {” تَضَرُّعًا “} ذکر خوب عاجزی کے ساتھ اور گڑ گڑا کر کیا جائے۔ (3) {” خِيْفَةً “} اللہ کا خوف دل پر طاری ہو اور اپنی عملی کوتاہی اور اللہ تعالیٰ کی گرفت کا ڈر ہو۔ (4) {” دُوْنَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ “} اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں، ایک تو یہ کہ آواز کے بغیر ہو، کیونکہ یہ اخلاص سے قریب اور ریا سے دور ہے۔ دوسرا یہ کہ ذکر اور قرآن کی تلاوت نہ بالکل آہستہ ہو نہ بہت بلند آواز سے، بلکہ درمیانی آواز کے ساتھ پڑھا جائے۔ دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل (۱۱۰) اور جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ تہجد میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کو آواز کچھ بلند کرنے اور عمر رضی اللہ عنہ کو کچھ پست کرنے کا حکم دیا تھا۔ [ أبوداوٗد، التطوع، باب فی رفع الصوت…: ۱۳۲۹ ] دونوں صورتوں میں دل کی حاضری کے ساتھ زبان سے الفاظ کا ادا ہونا بھی ضروری ہے، صرف دل میں ذکر کو فکر کہتے ہیں، ذکر نہیں۔ اگر کوئی شخص نماز صرف دل سے پڑھتا جائے، زبان سے الفاظ ادا نہ کرے تو اس کی نماز نہیں ہو گی۔ (5) {” وَ لَا تَكُنْ مِّنَ الْغٰفِلِيْنَ “} ذکر ہر وقت جاری رہے، خصوصاً صبح و شام کے اوقات میں اور کبھی بھی اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل نہ ہو۔
اِنَّ الَّذِیۡنَ عِنۡدَ رَبِّکَ لَا یَسۡتَکۡبِرُوۡنَ عَنۡ عِبَادَتِہٖ وَ یُسَبِّحُوۡنَہٗ وَ لَہٗ یَسۡجُدُوۡنَ ﴿۲۰۶﴾٪ٛ
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جو فرشتے تمہارے رب کے حضور تقرب کا مقام رکھتے ہیں وہ کبھی اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں آ کر اس کی عبادت سے منہ نہیں موڑتے اور اس کی تسبیح کرتے ہیں، اور اس کے آگے جھکے رہتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناً جو تیرے رب کے نزدیک ہیں وه اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے اور اس کی پاکی بیان کرتے ہیں اور اس کو سجده کرتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
بیشک وہ جو تیرے رب کے پاس ہیں اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے اور اس کی پاکی بولتے اور اسی کو سجدہ کرتے ہیں السجدة ۔۵
علامہ محمد حسین نجفی
جو تمہارے پروردگار کے خاص مقرب ہیں وہ کبھی اس کی عبادت سے سرکشی نہیں کرتے اور اس کی تسبیح و تقدیس کرتے ہیں (اس کی پاکی بیان کرتے ہیں)اور اس کی بارگاہ میں سر بسجود ہوتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک جو لوگ تیرے رب کے پاس ہیں، وہ اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے اور اس کی تسبیح کرتے ہیں اور اسی کو سجدہ کرتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ کی یاد بکثرت کرو مگر خاموشی سے ٭٭

اللہ تعالیٰ یہاں حکم فرماتا ہے کہ صبح شام اس کو بکثرت یاد کر۔ اور جگہ بھی ہے «وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوبِ» ۱؎ [50-ق:39] ‏‏‏‏ یعنی ’ اپنے رب کی تسبیح اور حمد بیان کیا کرو، سورج طلوع اور سورج غروب ہونے سے پہلے۔ ‘ یہ آیت مکیہ ہے اور یہ حکم معراج سے پہلے کا ہے۔ «غدو» کہتے ہیں دن کے ابتدائی حصے کو۔ «اصال» جمع ہے «اصیل» کی، جیسے کہ ایمان جمع ہے یمین کی۔ حکم دیا کہ رغبت، لالچ اور ڈر خوف کے ساتھ اللہ کی یاد اپنے دل میں، اپنی زبان سے کرتے رہو۔ چیخنے چلانے کی ضرورت نہیں۔ اسی لیے مستحب یہی ہے کہ پکار کے ساتھ اور چلا چلا کر اللہ کا ذکر نہ کیا جائے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ ہمارا رب قریب ہے کہ ہم اس سے سرگوشی چپکے چپکے کر لیا کریں یا دور ہے کہ ہم پکار پکار کر آوازیں دیں؟ تو اللہ تعالیٰ جل و علا نے یہ آیت اتاری «وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ» ۱؎ [2-البقرة:186] ‏‏‏‏ ’ جب میرے بندے تجھ سے میری بابت سوال کریں تو جواب دے کہ میں بہت ہی نزدیک ہوں۔ دعا کرنے والے کی دعا کو جب بھی وہ مجھ سے دعا کرے، قبول فرما لیا کرتا ہوں۔ ‘ بخاری و مسلم میں ہے کہ { لوگوں نے ایک سفر میں باآواز بلند دعائیں کرنی شروع کیں تو آپ نے فرمایا: لوگو! اپنی جانوں پر ترس کھاؤ۔ تم کسی بہرے کو، یا کسی غائب کو نہیں پکار رہے۔ جسے تم پکارتے ہو، وہ تو بہت ہی پست آواز سننے والا اور بہت ہی قریب ہے۔ تمہاری سواری کی گردن جتنی تم سے قریب ہے، اس سے بھی زیادہ وہ تم سے نزدیک ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:6610] ‏‏‏‏ ہو سکتا ہے کہ مراد اس آیت سے بھی وہی ہو جو آیت «وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذَٰلِكَ سَبِيلًا» ۱؎ [17-الإسراء:110] ‏‏‏‏ یعنی ’ اور نماز نہ بلند آواز سے پڑھو اور نہ آہستہ بلکہ اس کے بیچ کا طریقہ اختیار کرو۔ ‘ سے ہے۔

مشرکین قرآن سن کر قرآن کو، جبرئیل کو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور خود اللہ تعالیٰ کو گالیاں دینے لگتے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ نہ تو آپ اس قدر بلند آواز سے پڑھیں کہ مشرکین چڑ کر بکنے جھکنے لگیں، نہ اس قدر پست آواز سے پڑھیں کہ آپ کے صحابہ بھی نہ سن سکیں بلکہ اس کے درمیان کا راستہ ڈھونڈ نکالیں یعنی نہ بہت بلند، نہ بہت آہستہ۔ یہاں بھی فرمایا کہ بہت بلند آواز سے نہ ہو اور غافل نہ بننا۔ امام ابن جریر اور ان سے پہلے عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم رحمہما اللہ نے فرمایا ہے کہ مراد اس سے یہ ہے کہ اوپر کی آیت میں قرآن کے سننے والے کو جو خاموشی کا حکم تھا، اسی کو دہرایا جا رہا ہے کہ اللہ کا ذکر اپنی زبان سے اپنے دل میں کیا کرو۔ لیکن یہ بعید ہے اور انصاف کے منافی ہے جس کا حکم فرمایا گیا ہے اور مراد اس سے یا تو نماز میں ہے، یا نماز اور خطبے میں۔ اور یہ ظاہر ہے کہ اس وقت خاموشی بہ نسبت ذکر ربانی کے افضل ہے خواہ وہ پوشیدہ ہو خواہ ظاہر، پس ان دونوں کی متابعت نہیں کی گئی۔ اس لیے مراد اس سے بندوں کو صبح شام ذکر کی کثرت کی رغبت دلانا ہے تاکہ وہ غافلوں میں سے نہ ہو جائیں۔ (‏‏‏‏ان دونوں بزرگوں کے علاوہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کا بھی یہی فرمان ہے۔ تفسیر بیضاوی وغیرہ میں بھی یہی ہے اور دونوں آیات کے ظاہری ربط کا تقاضا بھی یہی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» )

اسی لیے فرشتوں کی تعریف بیان ہوئی کہ وہ دن رات اللہ کی تسبیح میں لگے رہتے ہیں، بالکل تھکتے نہیں۔ پس فرماتا ہے کہ جو تیرے رب کے پاس ہیں، وہ اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے۔ ان کا ذکر اس لیے کیا کہ اس کثرت عبادت و اطاعت میں ان کی اقتدا کی جائے، اسی لیے ہمارے لیے بھی شریعت نے سجدہ مقرر کیا، فرشتے بھی سجدہ کرتے رہتے ہیں۔ حدیث شریف میں ہے: { تم اسی طرح صفیں کیوں نہیں باندھتے جیسے کہ فرشتے اپنے رب کے پاس صفیں باندھتے ہیں کہ وہ پہلے اول صف کو پورا کرتے ہیں اور صفوں میں ذرا سی بھی گنجائش اور جگہ باقی نہیں چھوڑتے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:430] ‏‏‏‏ اس آیت پر اجماع کے ساتھ سجدہ واجب ہے۔ پڑھنے والے پر بھی اور سننے والے پر بھی۔ قرآن میں تلاوت کا پہلا سجدہ یہی ہے۔ ابن ماجہ میں حدیث ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کو سجدے کی آیات میں شمار کیا ہے۔ } ۱؎ [سنن ابن ماجه:1056، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ الحمدللہ! تفسیر سورۃ الاعراف ختم ہوئی۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 206) {اِنَّ الَّذِيْنَ عِنْدَ رَبِّكَ لَا يَسْتَكْبِرُوْنَ:} شاہ عبد القادر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”جب مقرب فرشتے بھی اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں تو انسان کو چاہیے کہ اس کے سوا اور کسی کو سجدہ نہ کرے۔“ (موضح)