بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الأعراف — Surah Araf
آیت نمبر 201
کل آیات: 206
قرآن کریم الأعراف آیت 201
آیت نمبر: 201 — سورۃ الأعراف islamicurdubooks.com ↗
اِنَّ الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا اِذَا مَسَّہُمۡ طٰٓئِفٌ مِّنَ الشَّیۡطٰنِ تَذَکَّرُوۡا فَاِذَا ہُمۡ مُّبۡصِرُوۡنَ ﴿۲۰۱﴾ۚ
حقیقت میں جو لو گ متقی ہیں اُن کا حال تو یہ ہوتا ہے کہ کبھی شیطان کے اثر سے کوئی برا خیال اگر انہیں چھو بھی جاتا ہے تو وہ فوراً چوکنے ہو جاتے ہیں اور پھر انہیں صاف نظر آنے لگتا ہے کہ ان کے لیے صحیح طریق کار کیا ہے
یقیناً جو لوگ خدا ترس ہیں جب ان کو کوئی خطره شیطان کی طرف سے آجاتا ہے تو وه یاد میں لگ جاتے ہیں، سو یکایک ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں
بیشک وہ جو ڈر والے ہیں جب انہیں کسی شیطانی خیال کی ٹھیس لگتی ہے ہوشیار ہوجاتے ہیں اسی وقت ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں
جو لوگ پرہیزگار ہیں جب انہیں کوئی شیطانی خیال چھو بھی جائے تو وہ چوکنے ہو جاتے ہیں اور یادِ الٰہی میں لگ جاتے ہیں اور ان کی بصیرت تازہ ہو جاتی ہے (اور حقیقتِ حال کو دیکھنے لگتے ہیں)۔
یقینا جو لوگ ڈر گئے، جب انھیں شیطان کی طرف سے کوئی (برا) خیال چھوتا ہے وہ ہوشیار ہو جاتے ہیں، پھر اچانک وہ بصیرت والے ہوتے ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

جو اللہ سے ڈرتا ہے ، شیطان اس سے ڈرتا ہے ٭٭

طائف کی دوسری قرأت «طیف» ہے۔ یہ دونوں مشہور قرأتیں ہیں۔ دونوں کے معنی ایک ہیں۔ بعض نے لفظی تعریف بھی کی ہے۔ فرمان ہے کہ وہ لوگ جو اللہ سے ڈرنے والے ہیں، جنہیں اللہ کا ڈر ہے، جو نیکیوں کے عامل اور برائیوں سے رکنے والے ہیں، انہیں جب کبھی غصہ آ جائے، یا شیطان ان پر اپنا کوئی داؤ چلانا چاہے، یا ان کے دل میں کسی گناہ کی رغبت ڈالے، اور ان سے کوئی گناہ کرانا چاہے تو یہ اللہ کے عذاب سے بچنے میں جو ثواب ہے، یہ اسے بھی یاد کر لیتے ہیں، رب کے وعدے وعید کی یاد کرتے ہیں اور فوراً چوکنے ہو جاتے ہیں، توبہ کر لیتے ہیں، اللہ کی طرف جھک جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے شیطانی شر سے پناہ مانگنے لگتے ہیں اور اسی وقت اللہ کی جناب میں رجوع کرنے لگتے ہیں اور استقامت کے ساتھ صحت پر جم جاتے ہیں۔ ابن مردویہ میں ہے کہ ایک عورت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، جسے مرگی کا دورہ پڑا کرتا تھا، اس نے درخواست کی کہ آپ میرے لیے آپ دعا کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم چاہو تو میں دعا کروں اور اللہ تمہیں شفا بخشے اور اگر چاہو تو صبر کرو تو اللہ تم سے حساب نہ لے گا۔ اس نے کہا لی اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں صبر کرتی ہوں کہ میرا حساب معاف ہو جائے۔ سنن میں بھی یہ حدیث ہے کہ { اس عورت نے کہا تھا کہ میں گر پڑتی ہوں اور بیہوشی کی حالت میں میرا کپڑا کھل جاتا ہے جس سے بےپردگی ہوتی ہے۔ اللہ سے میری شفا کی درخواست کیجئے۔ آپ نے فرمایا: تم ان دونوں باتوں میں سے ایک کو پسند کر لو، یا تو میں دعا کروں اور تمہیں شفا ہو جائے، یا تم صبر کرو اور تمہیں جنت ملے۔ اس نے کہا: میں صبر کرتی ہوں کہ مجھے جنت ملے۔ لیکن اتنی دعا تو ضرور کیجئے کہ میں بےپردہ نہ ہو جایا کروں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی۔ چنانچہ ان کا کپڑا کیسی ہی وہ تلملاتیں، اپنی جگہ سے نہیں ہٹتا تھا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:5652] ‏‏‏‏

حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ اپنی تاریخ میں عمرو بن جامع کے حالات میں نقل کرتے ہیں کہ ایک نوجوان عابد مسجد میں رہا کرتا تھا اور اللہ کی عبادت کا بہت مشتاق تھا۔ ایک عورت نے اس پر ڈورے ڈالنے شروع کئے، یہاں تک کہ اسے بہکا لیا۔ قریب تھا کہ وہ اس کے ساتھ کوٹھڑی میں چلا جائے اچانک اسے یہ آیت «إِذَا مَسَّهُمْ طَائِفٌ مِّنَ الشَّيْطَانِ تَذَكَّرُوا فَإِذَا هُم مُّبْصِرُونَ» یاد آئی اور غش کھا کر گر پڑا۔ بہت دیر کے بعد جب اسے ہوش آیا، اس نے پھر اس آیت کو یاد کیا اور اس قدر اللہ کا خوف اس کے دل میں سمایا کہ اس کی جان نکل گئی۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس کے والد سے ہمدردی اور غم خواری کی۔ چونکہ انہیں رات ہی کو دفن کر دیا گیا تھا، آپ ان کی قبر پر گئے، آپ کے ساتھ بہت سے آدمی تھے۔ آپ نے وہاں جا کر ان کی قبر پر نماز جنازہ ادا کی اور اسے آواز دے کر فرمایا: اے نوجوان! «وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ» ۱؎ [55-الرحمن:46] ‏‏‏‏ ’ جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے کا ڈر رکھے، اس کیلئے دو دو جنتیں ہیں۔ ‘ اسی وقت قبر کے اندر سے آواز آئی کہ مجھے میرے رب عزوجل نے وہ دونوں مرتبے دو دو عطا فرما دیئے۔

یہ تو تھا حال اللہ والوں کا اور پرہیزگاروں کا کہ وہ شیطانی جھٹکوں سے بچ جاتے ہیں، اس کے فن فریب سے چھوٹ جاتے ہیں۔ اب ان کا حال بیان ہو رہا ہے جو خود شیطان کے بھائی بنے ہوئے ہیں، جیسے «إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ» ۱؎ [17-الإسراء:27] ‏‏‏‏ فضول خرچ لوگوں کو قرآن نے شیطان کے بھائی قرار دیا ہے۔ ایسے لوگ اس کی باتیں٘ سنتے ہیں، مانتے ہیں اور ان پر ہی عمل کرتے ہیں۔ شیاطین ان کے سامنے برائیاں اچھے رنگ میں پیش کرتے ہیں، ان پر وہ آسان ہو جاتی ہیں اور یہ پوری مشغولیت کے ساتھ ان میں پھنس جاتے ہیں۔ دن بدن اپنی بدکاری میں بڑھتے جاتے ہیں، جہالت اور نادانی کی حد کر دیتے ہیں۔ جیسے آیت میں ہے «أَلَمْ تَرَ أَنَّا أَرْسَلْنَا الشَّيَاطِينَ عَلَى الْكَافِرِينَ تَؤُزُّهُمْ أَزًّا» ۱؎ [19-مريم:83] ‏‏‏‏ ’ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ ہم نے شیطانوں کو کافروں پر چھوڑ رکھا ہے کہ ان کو برانگیختہ کرتے رہتے ہیں۔ ‘ نہ شیطان ان کے بہکانے میں کوتاہی برتتے ہیں، نہ یہ برائیاں کرنے میں کمی کرتے ہیں۔ یہ ان کے دلوں میں وسوسے ڈالتے رہتے ہیں اور وہ ان وسوسوں میں پھنستے رہتے ہیں، یہ انہیں بھڑکاتے رہتے ہیں اور گناہوں پر آمادہ کرتے رہتے ہیں، وہ برے عمل کئے جاتے ہیں اور برائیوں پر مداومت اور لذت کے ساتھ جمے رہتے ہیں۔

📖 احسن البیان

21۔ 1 اس میں اہل تقویٰ کی بابت بتلایا گیا ہے کہ وہ شیطان سے چوکنا رہتے ہیں۔ طائف یا طیف، اس تخیل کو کہتے ہیں جو دل میں آئے یا خواب میں نظر آئے۔ یہاں اسے شیطانی وسوسے کے معنی میں استعمال کیا گیا، کیونکہ وسوسہ شیطانی بھی خیالی تصورات کے مشابہ ہے۔ (فتح القدیر)

📖 القرآن الکریم

(آیت 201) {اِنَّ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّهُمْ طٰٓىِٕفٌ …: ” طٰٓىِٕفٌ”طَافَ يَطُوْفُ“} کا معنی ہے گھومنا چکر لگانا، تو {” طٰٓىِٕفٌ “} وہ خیال جو ذہن میں آتا ہے، رات خواب میں آنے والا کسی کا خیال بھی {”طَيْفٌ“ } یا{ ” طٰٓىِٕفٌ “} کہلاتا ہے۔ قاموس میں اس کا ترجمہ غضب بھی کیا گیا ہے۔ {”مَسَّ يَمَسُّ } (ع) “ کا معنی ہے چھونا، یعنی شیطان کی طرف سے آنے والے خیال یا غصے کے چھونے کے ساتھ ہی انھیں اللہ تعالیٰ کا جلال، آخرت کی جوابدہی اور شیطان کی دشمنی یاد آ جاتی ہے، جس سے فوراً ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں، ان میں بصیرت اور استقامت پیدا ہو جاتی ہے، وہ اسی وقت اللہ کو یاد کرتے ہیں اور اس سے ڈرتے ہوئے اس وسوسے، خیال یا غصے کا پیچھا چھوڑ دیتے ہیں اور اس پر عمل سے باز رہتے ہیں۔
← پچھلی آیت (200) پوری سورۃ اگلی آیت (202) →