بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الأعراف — Surah Araf
آیت نمبر 100
کل آیات: 206
قرآن کریم الأعراف آیت 100
آیت نمبر: 100 — سورۃ الأعراف islamicurdubooks.com ↗
اَوَ لَمۡ یَہۡدِ لِلَّذِیۡنَ یَرِثُوۡنَ الۡاَرۡضَ مِنۡۢ بَعۡدِ اَہۡلِہَاۤ اَنۡ لَّوۡ نَشَآءُ اَصَبۡنٰہُمۡ بِذُنُوۡبِہِمۡ ۚ وَ نَطۡبَعُ عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ فَہُمۡ لَا یَسۡمَعُوۡنَ ﴿۱۰۰﴾
اور کیا اُن لوگوں کو جو سابق اہل زمین کے بعد زمین کے وارث ہوتے ہیں، اِس امر واقعی نے کچھ سبق نہیں دیا کہ اگر ہم چاہیں تو ان کے قصوروں پر انہیں پکڑ سکتے ہیں؟ (مگر وہ سبق آموز حقائق سے تغافل برتتے ہیں) اور ہم ان کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں، پھر وہ کچھ نہیں سنتے
اور کیا ان لوگوں کو جو زمین کے وارث ہوئے وہاں کے لوگوں کی ہلاکت کے بعد (ان واقعات مذکوره نے) یہ بات نہیں بتلائی کہ اگر ہم چاہیں تو ان کے جرائم کے سبب ان کو ہلاک کر ڈالیں اور ہم ان کے دلوں پر بند لگا دیں، پس وه نہ سن سکیں
اور کیا وہ جو زمین کے ما لکوں کے بعد اس کے وارث ہوئے انہیں اتنی ہدایت نہ ملی کہ ہم چاہیں تو انہیں ان کے گناہوں پر آ فت پہنچائیں اور ہم ان کے دلوں پر مہر کرتے ہیں کہ وہ کچھ نہیں سنتے
کیا ان لوگوں پر جو پہلے اہل زمین کی تباہی کے بعد زمین کے وارث بنے ہیں یہ بات واضح نہیں ہوئی ہے کہ اگر ہم چاہتے تو ان کو گناہوں کی وجہ سے کسی مصیبت میں مبتلا کر دیتے اور ان کے دلوں پر ایسی مہر لگا دیتے کہ وہ سن (سمجھ) نہ سکیں۔
اور کیا اس بات نے ان لوگوں کی رہنمائی نہیں کی جو زمین کے وارث اس کے رہنے والوں کے بعد بنتے ہیں کہ اگر ہم چاہیں تو ان کے گناہوں کی وجہ سے انھیں سزا دیں اور ہم ان کے دلوں پر مہر کر دیتے ہیں تو وہ نہیں سنتے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

گناہوں میں ڈوبے لوگ؟ ٭٭

ارشاد ہے کہ ایک گروہ نے ہمارا مقابلہ کیا اور ہم نے انہیں تاخت و تاراج کیا۔ دوسرا گروہ ان کے قائم مقام ہوا تو کیا اس پر بھی یہ بات واضح نہیں ہوتی کہ اگر وہ بداعمالیاں کریں گے تو اپنے سے اگلوں کی طرح کھو دیئے جائیں گے؟ جیسے فرمان ہے «أَفَلَمْ يَهْدِ لَهُمْ كَمْ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنَ الْقُرُونِ يَمْشُونَ فِى مَسَـكِنِهِمْ» ۱؎ [20-طه:128] ‏‏‏‏ یعنی ’ کیا انہیں اب تک سمجھ نہیں آئی کہ ہم نے ان سے پہلے بہت سی آباد بستیاں اجاڑ کر رکھ دیں جن کے مکانوں میں اب یہ رہتے سہتے ہیں۔ اگر یہ عقل مند ہوتے تو ان کے لیے بہت سی عبرتیں تھیں۔ ‘ اور اس بیان کے بعد کی آیت میں ہے کہ اس میں بہت سی نشانیاں ہیں۔ کیا یہ سن نہیں رہے؟ ایک آیت میں فرمایا: ”تم اس سے پہلے پورے یقین سے کہتے تھے کہ تمہیں زوال آئے گا ہی نہیں۔ حالانکہ تم جن کے گھروں میں تھے، وہ خود بھی اپنے مظالم کے سبب تباہ کر دیئے گئے تھے۔ خالی گھر رہ گئے۔“ ایک اور آیت میں ہے «وَكَمْ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُم مِّن قَرْنٍ هَلْ تُحِسُّ مِنْهُم مِّنْ أَحَدٍ أَوْ تَسْمَعُ لَهُمْ رِكْزًا» ۱؎ [19-مريم:98] ‏‏‏‏ ’ ان سے پہلے ہم نے بہت سی بستیاں تباہ کر دیں۔ نہ ان میں سے اب کوئی نظر آئے، نہ کسی کی آواز سنائی دے۔ ‘ اور آیت میں ہے کہ وہ لوگ تو ان سے زیادہ مست تھے، مال دار تھے، عیش و عشرت میں تھے، راحت و آرام میں تھے، اوپر سے ابر برستا تھا، نیچے سے چشمے بہتے تھے لیکن گناہوں میں ڈوبے رہے کہ آخر تہس نہس ہو گئے اور دوسرے لوگ ان کے قائم مقام آئے۔

عادیوں کی ہلاکت کا بیان فرما کر ارشاد ہوا کہ ایسے عذاب اچانک آ گئے کہ ان کے وجود کی دھجیاں اڑ گئیں، کھنڈر کھڑے رہ گئے اور کسی چیز کا نام و نشان نہ بچا۔ مجرموں کا یہی حال ہوتا ہے۔ ’ حالانکہ دنیوی وجاہت بھی ان کے پاس تھی۔ آنکھ، کان، دل سب تھا لیکن اللہ جل شانہ کی باتوں کا تمسخر کرنے پر اور ان کے انکار پر جب عذاب آیا تو حیران و ششدر رہ گئے۔ نہ عقل آئی، نہ اسباب بچے۔ اپنے آس پاس کی ویران بستیاں دیکھ کر عبرت حاصل کرو۔ اگلوں نے جھٹلایا تو دیکھ لو کہ کس طرح برباد ہوئے؟ ‘ ۱؎ [46-الأحقاف:25-27] ‏‏‏‏ ’ تم تو ابھی تک ان کے دسویں حصے کو بھی نہیں پہنچے۔ تم سے پہلے کے منکروں پر میرے عذاب آئے، انہیں غور سے سنو۔ ‘ ۱؎ [34-سبأ:45] ‏‏‏‏ ’ ظالموں کی بستیاں میں نے الٹ دیں اور ان کے محلات کھنڈر بنا دیئے۔ زمین میں چل پھر کر، آنکھیں کھول کر، کان لگا کر ذرا عبرت حاصل کرو۔ جس کی آنکھیں نہ ہوں، وہی اندھا نہیں بلکہ سچ مچ اندھا وہ ہے جس کی دلی آنکھیں بےکار ہوں۔ ‘ ۱؎ [22-الحج:45-46] ‏‏‏‏ اگلے نبیوں کے ساتھ بھی مذاق اڑائے گئے لیکن نتیجہ یہی ہوا کہ ایسے مذاق کرنے والوں کا نشان مٹ گیا۔ ایسے گھیرے گئے کہ ایک بھی نہ بچا۔ اللہ تعالیٰ کی باتیں سچی ہیں، اس کے وعدے اٹل ہیں۔ وہ ضرور اپنے دوستوں کی مدد کرتا ہے اور اپنے دشمنوں کو نیچا دکھاتا ہے۔

📖 احسن البیان

10۔ 1 یعنی گناہوں کے نتیجے میں عذاب ہی نہیں آتا، دلوں پر قفل لگ جاتے ہیں، پر بڑے بڑے عذاب بھی انہیں خواب غفلت سے بیدار نہیں کر پاتے، دیگر بعض مقامات کی طرح یہاں بھی اللہ تعالیٰ نے ایک تو یہ بیان فرمایا ہے کہ جس طرح گزشتہ قوموں کو ہم نے ان کے گناہوں کی پاداش میں ہلاک کیا ہم چاہیں تو تمہیں بھی تمہارے کرتوتوں کی وجہ سے ہلاک کردیں اور دوسری بات یہ بیان فرمائی کہ مسلسل گناہوں کے ارتکاب کی وجہ سے لوگوں کے دلوں پر مہر لگا دی جاتی ہے، جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کی حق کی آواز کے لئے ان کے کان بھی بند ہوجاتے ہیں پھر واعظ و نصیحت ان کے لئے بیکار ہوجاتے ہیں۔ آیت میں ہدایت تبیین (وضاحت) کے معنی میں ہے اسی لیے لام کے ساتھ متعدی ہے اَوَلَمْ يَهْدِ لِلَّذِينَ یعنی کیا ان پر یہ بات واضح نہیں ہوئی۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 100) ➊ {اَوَ لَمْ يَهْدِ لِلَّذِيْنَ يَرِثُوْنَ الْاَرْضَ …:} یعنی کیا بعد میں آنے والوں کو پہلوں کے حالات سن اور دیکھ کر یہ بات واضح طور پر معلوم نہیں ہوئی اور انھیں اس سے رہنمائی حاصل نہیں ہوئی کہ ہم چاہیں تو ان کی طرح ان کو بھی ان کے گناہوں میں پکڑ لیں۔ ➋ {وَ نَطْبَعُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا يَسْمَعُوْنَ:} یعنی ہم ان کے گناہوں کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر کر دیتے ہیں تو وہ نصیحت کی کوئی بات نہیں سنتے، آخر کار اللہ کا عذاب آتا ہے اور وہ بھی تباہ کر دیے جاتے ہیں۔ ہمارے استاذ شیخ محمد عبدہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ اس فقرے کا یہ ترجمہ اس صورت میں ہو گا جب اسے {” اَصَبْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ “} پر معطوف نہ مانا جائے (بلکہ نیا کلام مانا جائے) اور اگر اسے{”اَصَبْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ “} پر معطوف مانا جائے (اور ہمارے خیال میں زیادہ صحیح یہی ہے) تو ترجمہ یوں ہوگا:”اور ہم ان کے دلوں پر مہر لگا دیں کہ پھر وہ نصیحت کی کوئی بات نہ سن سکیں۔“ مگر ابن عاشور صاحبِ ”التحریر والتنویر“ اور محیی الدین الدرویش صاحبِ ”اعراب القرآن“ نے اس معنی کی تردید کی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ اگر اس کا عطف {” اَصَبْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ “} پر مانا جائے تو معنی یہ ہو گا کہ اگر ہم چاہیں تو ان کے دل پر مہر کر دیں۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے ابھی تک مہر نہیں لگائی، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ان کے دلوں پر مہر لگ چکی ہے، اس لیے {” وَ نَطْبَعُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ “} نیا کلام ہے، اس کا عطف {” بِذُنُوْبِهِمْ “} پر درست نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ اپنی زمین کے کسی حصے میں آباد فرماتا ہے انھیں ہر آن اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا چاہیے اور یہ جانتے ہوئے اپنی زندگی گزارنی چاہیے کہ اگر ظلم و فساد کا ارتکاب کریں گے تو اللہ تعالیٰ انھیں بھی اسی طرح تباہ کر دے گا جس طرح اس نے پہلی امتوں کو تباہ کر دیا۔ پہلی امتوں پر جو تباہی آئی وہ ناگہانی حادثہ نہ تھی بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ سزا تھی۔
← پچھلی آیت (99) پوری سورۃ اگلی آیت (101) →