بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الأعراف — Surah Araf
آیت نمبر 188
کل آیات: 206
قرآن کریم الأعراف آیت 188
آیت نمبر: 188 — سورۃ الأعراف islamicurdubooks.com ↗
قُلۡ لَّاۤ اَمۡلِکُ لِنَفۡسِیۡ نَفۡعًا وَّ لَا ضَرًّا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰہُ ؕ وَ لَوۡ کُنۡتُ اَعۡلَمُ الۡغَیۡبَ لَاسۡتَکۡثَرۡتُ مِنَ الۡخَیۡرِۚۖۛ وَ مَا مَسَّنِیَ السُّوۡٓءُ ۚۛ اِنۡ اَنَا اِلَّا نَذِیۡرٌ وَّ بَشِیۡرٌ لِّقَوۡمٍ یُّؤۡمِنُوۡنَ ﴿۱۸۸﴾٪
اے محمدؐ، ان سے کہو "میں اپنی ذات کے لیے کسی نفع اور نقصان کا اختیار نہیں رکھتا، اللہ ہی جو کچھ چاہتا ہے وہ ہو تا ہے اور اگر مجھے غیب کا علم ہوتا تو میں بہت سے فائدے اپنے لیے حاصل کر لیتا اور مجھے کبھی کوئی نقصان نہ پہنچتا میں تو محض ایک خبردار کرنے والا اور خوش خبری سنانے والا ہوں اُن لوگوں کے لیے جو میری بات مانیں"
آپ فرما دیجئے کہ میں خود اپنی ذات خاص کے لیے کسی نفع کا اختیار نہیں رکھتا اور نہ کسی ضرر کا، مگر اتنا ہی کہ جتنا اللہ نے چاہا ہو اور اگر میں غیب کی باتیں جانتا ہوتا تو میں بہت سے منافع حاصل کر لیتا اور کوئی نقصان مجھ کو نہ پہنچتا میں تو محض ڈرانے واﻻ اور بشارت دینے واﻻ ہوں ان لوگوں کو جو ایمان رکھتے ہیں
تم فرماؤ میں اپنی جان کے بھلے برے کا خودمختار نہیں مگر جو اللہ چاہے اور اگر میں غیب جان لیا کرتا تو یوں ہوتا کہ میں نے بہت بھلائی جمع کرلی، اور مجھے کوئی برائی نہ پہنچی میں تو یہی ڈر اور خوشی سنانے والا ہوں انہیں جو ایمان رکھتے ہیں،
(اے رسول(ص)) کہہ دو۔ کہ میں اپنے نفع و نقصان پر کوئی قدرت و اختیار نہیں رکھتا۔ مگر جو اللہ چاہے (وہی ہوتا ہے) اور اگر مجھے غیب کا علم ہوتا تو بہت سے فائدے حاصل کر لیتا اور (زندگی میں) مجھے کبھی کوئی نقصان نہ پہنچتا۔ میں تو بس (نافرمانوں کو) ڈرانے والا اور ایمانداروں کو خوشخبری دینے والا ہوں۔
کہہ دے میں اپنی جان کے لیے نہ کسی نفع کا مالک ہوں اور نہ کسی نقصان کا، مگر جو اللہ چاہے اور اگر میں غیب جانتا ہوتا تو ضرور بھلائیوں میں سے بہت زیادہ حاصل کر لیتا اور مجھے کوئی تکلیف نہ پہنچتی، میں نہیں ہوں مگر ایک ڈرانے والا اور خوشخبری دینے والا ان لوگوں کے لیے جو ایمان رکھتے ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو علم غیب نہیں تھا ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم فرماتا ہے کہ آپ تمام کام اللہ کے سپرد کریں اور صاف کہہ دیں کہ غیب کی کسی بات کا مجھے علم نہیں، میں تو صرف وہ جانتا ہوں جو اللہ تعالیٰ مجھے معلوم کرا دے۔ جیسے سورۃ الجن میں ہے کہ «عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَىٰ غَيْبِهِ أَحَدًا» ۱؎ [72-الجن:26] ‏‏‏‏ ’ عالم الغیب اللہ تعالیٰ ہی ہے، وہ اپنے غیب پر کسی کو آگاہ نہیں کرتا۔ ‘ مجھے اگر غیب کی اطلاع ہوتی تو میں اپنے لیے بہت سی بھلائیاں سمیٹ لیتا۔ مجاہد رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ”اگر مجھے اپنی موت کا علم ہوتا تو نیکیوں میں بھی سبقت لے جاتا۔“ لیکن یہ قول غور طلب ہے کیونکہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال دائمی تھے، جو نیکی ایک بار کرتے، پھر اسے معمول بنا لیتے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:1987] ‏‏‏‏ ساری زندگی اور زندگی کا ہر ایک دن بلکہ ہر ایک گھڑی ایک ہی طرح کی تھی۔ گویا کہ آپ کی نگاہیں ہر وقت اللہ تعالیٰ کی طرف لگتی رہتی تھیں۔ زیادہ سے زیادہ یہ بات یوں ہو سکتی ہے کہ دوسروں کو میں ان کی موت کے وقت سے خبردار کر کے انہیں اعمال نیک کی رغبت دلاتا «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اس سے زیادہ اچھا قول اس کی تفسیر میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ہے کہ ”میں مال جمع کر لیتا، مجھے معلوم ہو جاتا کہ اس چیز کے خریدنے میں نفع ہے، میں اسے خرید لیتا۔

جانتا کہ اس کی خریداری میں نقصان ہے، نہ خریدتا۔ خشک سالی کے لیے ترسالی میں ذخیرہ جمع کر لیتا، ازرانی کے وقت گرانی کے علم سے سودا جمع کر لیتا۔ کبھی کوئی برائی مجھے نہ پہنچتی کیونکہ میں علم غیب سے جان لیتا کہ یہ برائی ہے تو میں پہلے سے ہی اس سے جتن کر لیتا۔ لیکن میں علم غیب نہیں جانتا۔ اس لیے فقیری بھی مجھ پر آتی ہے، تکلیف بھی ہوتی ہے۔ مجھ میں تم یہ وصف نہ مانو۔ سنو! مجھ میں وصف یہ ہے کہ میں برے لوگوں کو عذاب الٰہی سے ڈراتا ہوں، ایمانداروں کو جنت کی خوشخبری سناتا ہوں۔“ جیسے کہ ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں «فَإِنَّمَا يَسَّرْنَاهُ بِلِسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِينَ وَتُنذِرَ بِهِ قَوْمًا لُّدًّا» ۱؎ [19-مريم:97] ‏‏‏‏ ’ ہم نے اسے تیری زبان پر آسان کر دیا ہے کہ تو پرہیزگاروں کو خوشخبری سنا دے اور بروں کو ڈرا دے۔ ‘

📖 احسن البیان

188۔ 1 یہ آیت اس بات میں کتنی واضح ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عالم غیب نہیں۔ عالم غیب صرف اللہ کی ذات ہے، لیکن ظلم اور جہالت کی انتہا ہے کہ اس کے باوجود اہل بدعت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عالم الغیب باور کراتے ہیں۔ حالانکہ بعض جنگوں میں آپ کے دندان مبارک بھی شہید ہوئے، آپ کا چہرہ بھی زخمی ہوا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ قوم کیسے فلاح یاب ہوگی جس نے اپنے نبی کے سر کو زخمی کردیا، کتب حدیث میں یہ واقعات بھی اور ذیل کے واقعات بھی درج ہیں۔ حضرت عائشہ ؓ پر تہمت لگی تو پورا ایک مہینہ مضطرب اور نہایت پریشان رہے۔ ایک یہودی عورت نے آپ کی دعوت کی اور کھانے میں زہر ملادیا، جسے آپ نے تناول فرمایا اور صحابہ نے بھی، حتٰی کہ بعض صحابہ تو کھانے کے زہر سے ہلاک ہی ہوگئے اور خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم عمر بھر اس زہر کے اثرات محسوس فرماتے رہے۔ یہ اور اس قسم کے متعدد واقعات ہیں جن سے واضح ہے کہ آپ کو عدم علم کی وجہ سے یہ تکلیف پہنچی، نقصان اٹھانا پڑا، جس سے قرآن کی بیان کردہ حقیقت کا اثبات ہوتا ہے ' اگر میں غیب جانتا ہوتا تو مجھے کوئی مضرت نہ پہنچتی '

📖 القرآن الکریم

(آیت 188) ➊ {قُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِيْ نَفْعًا …:} یعنی اللہ تعالیٰ کی مشیت سے جو کچھ ہونا ہے ہو رہا ہے، مجھ میں ذاتی طور پر یہ بھی قدرت و اختیار نہیں کہ میں اپنی جان سے کسی نقصان یا تکلیف کو روک سکوں، یا کچھ نفع حاصل کر سکوں۔ تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہ اختیار نہیں تو پھر وہ کون ہو گا جسے اللہ تعالیٰ نے یہ اختیار عطا فرمایا ہے۔ دیکھیے سورۂ فرقان (۳) اور یونس (۱۰۶، ۱۰۷) بعض لوگ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لیے واقعی اختیار نہیں رکھتے، مگر دوسرے سب لوگوں کے لیے نفع و ضرر کا اختیار رکھتے ہیں۔ اس کے لیے دیکھیے سورۂ جن (۲۰ تا ۲۲)۔ ➋ {وَ لَوْ كُنْتُ اَعْلَمُ الْغَيْبَ:} یعنی نہ میں غیب دان ہی ہوں، اگر ایسا ہوتا تو کتنے ہی فائدے ہیں جنھیں میں پیشگی سمیٹ لیتا اور کتنے ہی نقصانات ہیں جن سے قبل از وقت آگاہ ہونے کی بنا پر میں بچ جاتا۔ یہاں لفظ {” لَوْ “} (اگر) سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باوجود افضل المرسلین ہونے کے علم غیب نہیں رکھتے تھے، کیونکہ یہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کی صفت ہے۔ دیکھیے سورۂ نمل (۶۵) اس کے باوجود بعض نادان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عالم الغیب باور کرواتے ہیں، حالانکہ بعض جنگوں میں آپ کا چہرہ زخمی ہوا، دانت مبارک بھی شہید ہوا، چہرے میں خود کی کڑیاں چبھ گئیں، ہونٹ پھٹ گیا، گھوڑے سے گر کر زخمی ہوئے تو کتنے دن صاحبِ فراش رہے۔ عائشہ رضی اللہ عنھا پر بہتان لگا تو پورا ایک مہینا آپ پریشان رہے، ایک یہودی عورت نے کھانے میں زہر ملا دیا، جسے کھانے سے آپ کے بعض صحابہ شہید بھی ہو گئے، خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس زہر کا اثر آخر تک محسوس کرتے رہے۔ یہ سب واقعات شاہد ہیں کہ ”اگر میں غیب جانتا ہوتا تو مجھے کوئی تکلیف نہ پہنچتی۔“ اس مضمون کو تفصیل سے پڑھنے کے لیے تقویۃ الایمان شاہ اسماعیل رحمہ اللہ اور تلاش حق از ارشاد اللہ مان صاحب کا مطالعہ فرمائیں۔ ➌ { اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِيْرٌ وَّ بَشِيْرٌ لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ:} اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء اور اولیاء کو جو اللہ تعالیٰ نے سب لوگوں سے بڑا بنایا ہے، سو ان میں بڑائی یہی ہوتی ہے کہ وہ اللہ کی راہ بتاتے ہیں اور اس بات میں کچھ ان کی بڑائی نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو عالم میں تصرف کی قدرت دے دی ہو کہ موت و حیات یا نفع و نقصان ان کے اختیار میں ہو، یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو غیب دانی دے دی ہو کہ جس کے احوال جب چاہیں معلوم کر لیں۔ اس آیت سے شرک کی جڑ کٹ گئی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو تمام عالم کے سردار ہیں، اپنی جان کے نفع و نقصان کا اختیار نہ ہو، نہ غیب کی بات معلوم ہو تو کسی اور نبی یا ولی یا بزرگ یا فقیر یا جن یا فرشتے کو کیا قدرت ہے کہ کسی کو فائدہ یا نقصان پہنچائے، یا غیب کی کوئی بات بتائے، البتہ وحی کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ آپ کو جو بات بتا دیتا وہ آپ کو معلوم ہو جاتی اور آپ لوگوں کو اس کی خبر دے دیتے۔ (وحیدی)
← پچھلی آیت (187) پوری سورۃ اگلی آیت (189) →