بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الأعراف — Surah Araf
آیت نمبر 33
کل آیات: 206
قرآن کریم الأعراف آیت 33
آیت نمبر: 33 — سورۃ الأعراف islamicurdubooks.com ↗
قُلۡ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الۡفَوَاحِشَ مَا ظَہَرَ مِنۡہَا وَ مَا بَطَنَ وَ الۡاِثۡمَ وَ الۡبَغۡیَ بِغَیۡرِ الۡحَقِّ وَ اَنۡ تُشۡرِکُوۡا بِاللّٰہِ مَا لَمۡ یُنَزِّلۡ بِہٖ سُلۡطٰنًا وَّ اَنۡ تَقُوۡلُوۡا عَلَی اللّٰہِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۳۳﴾
اے محمدؐ، اِن سے کہو کہ میرے رب نے جو چیزیں حرام کی ہیں وہ تو یہ ہیں: بے شرمی کے کام خواہ کھلے ہوں یا چھپے اور گناہ اور حق کے خلاف زیادتی اور یہ کہ اللہ کے ساتھ تم کسی کو شریک کرو جس کے لیے اُس نے کوئی سند نازل نہیں کی اور یہ کہ اللہ کے نام پر کوئی ایسی بات کہو جس کے متعلق تمہیں علم نہ ہو کہ وہ حقیقت میں اسی نے فرمائی ہے
آپ فرمائیے کہ البتہ میرے رب نے صرف حرام کیا ہے ان تمام فحش باتوں کو جو علانیہ ہیں اور جو پوشیده ہیں اور ہر گناه کی بات کو اور ناحق کسی پر ﻇلم کرنے کو اور اس بات کو کہ تم اللہ کے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک ٹھہراؤ جس کی اللہ نے کوئی سند نازل نہیں کی اور اس بات کو کہ تم لوگ اللہ کے ذمے ایسی بات لگادو جس کو تم جانتے نہیں
تم فرماؤ میرے رب نے تو بے حیائیاں حرام فرمائی ہیں جو ان میں کھلی ہیں اور جو چھپی اور گناہ اور ناحق زیادتی اور یہ کہ اللہ کا شریک کرو جس کی اس نے سند نہ اتاری اور یہ کہ اللہ پر وہ بات کہو جس کا علم نہیں رکھتے،
تم کہہ دو! میرے پروردگار نے صرف بے حیائی و بدکاری کے کاموں کو حرام قرار دیا ہے خواہ ظاہری ہوں یا باطنی۔ اور اثم (ہر گناہ یا شراب) کو اور کسی پر ناحق زیادتی کو اور یہ کہ کسی کو اللہ کا شریک بناؤ جس کے لئے اللہ نے کوئی دلیل نہیں اتاری اور یہ کہ اللہ کے بارے میں کوئی ایسی بات کہو جس کا تمہیں علم و یقین نہ ہو۔
کہہ دے میرے رب نے تو صرف بے حیائیوں کو حرام کیا ہے، جو ان میں سے ظاہر ہیں اور جو چھپی ہوئی ہیں اور گناہ کو اور ناحق زیادتی کو اور یہ کہ تم اللہ کے ساتھ اسے شریک ٹھہرائو جس کی اس نے کوئی دلیل نہیں اتاری اور یہ کہ تم اللہ پر وہ کہو جو تم نہیں جانتے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

اثم اور بغی، کیا فرق ہے؟ ٭٭

بخاری و مسلم میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: { اللہ سے زیادہ غیرت والا کوئی نہیں۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4634] ‏‏‏‏ سورۃ الانعام میں چھپی کھلی بےحیائیوں کے متعلق پوری تفسیر گزر چکی ہے اور اللہ تعالیٰ نے ہر گناہ کو حرام کر دیا ہے اور ناحق ظلم و تعدی، سرکشی اور غرور کو بھی اس نے حرام کیا ہے۔ پس «اثم» سے مراد ہر وہ گناہ ہے جو انسان آپ کرے اور «بغی» سے مراد وہ گناہ ہے جس میں دوسرے کا نقصان کرے یا اس کی حق تلفی کرے۔ اسی طرح رب کی عبادت میں کسی کو شریک کرنا بھی حرام ہے اور ذات حق پر بہتان باندھنا بھی۔ مثلاً اس کی اولاد بتانا وغیرہ۔ خلاف واقعہ باتیں بھی جہالت کی باتیں ہیں۔ جیسے فرمان ہے «فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ» ۱؎ [22-الحج:30] ‏‏‏‏ ’ بتوں کی نجاست سے بچو۔ ‘

📖 احسن البیان

33۔ 1 1 اعلانیہ فحش باتوں سے مراد بعض کے نزدیک طوائفوں کے اڈوں پر جا کر بدکاری اور پوشیدہ سے مراد کسی ' گرل فرینڈ ' سے خصوصی تعلق قائم کرنا ہے، بعض کے نزدیک اول الذکر سے مراد محرموں سے نکاح کرنا ہے جو ممنوع ہے، اس میں ہر قسم کی ظاہری بےحیائی کو شامل ہے، جیسے فلمیں، ڈرامے، ٹیوی، وی سی آر فحش اخبارات و رسائل، رقص و سرور اور مجروں کی محفلیں، عورتوں کی بےپردگی اور مردوں سے ان کا بےباکانہ اختلاط، مہندی اور شادی کی رسموں میں بےحیائی کے کھلے عام مظاہرہ وغیرہ یہ سب فواحش ظاہرہ ہیں 33۔ 2 گناہ اللہ کی نافرمانی کا نام ہے اور ایک حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گناہ وہ ہے جو تیرے سینے میں کھٹکے اور لوگوں کے اس پر مطلع ہونے کو تو برا سمجھے، بعض کہتے ہیں گناہ وہ ہے جس کا اثر کرنے والے کی اپنی ذات تک محدود ہو اور بغی یہ ہے کہ اس کے اثرات دوسروں تک بھی پہنچیں یہاں بغی کے ساتھ بغیر الحق کا مطلب ناحق ظلم و زیادتی مثلا لوگوں کا حق غضب کرلینا، کسی کا مال ہتھیالینا ناجائز مارنا پیٹنا اور سب وشتم کر کے بےعزتی کرنا وغیرہ ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 33) {قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ ……:} اوپر کی آیت میں یہ بیان فرمایا کہ لوگوں نے اپنی طرف سے بہت سی چیزیں حرام کر رکھی تھیں، اب اس آیت میں اصل حرام چیزوں کو بیان فرما دیا۔ (رازی) {”الْفَوَاحِشَ“} یہ {”فَاحِشَةٌ “} کی جمع ہے اور انتہائی قبیح فعل کو کہتے ہیں۔ {”الْاِثْمَ“} سے تمام چھوٹے بڑے گناہ مراد ہیں اور شراب کو بھی {”اِثْمٌ “} کہہ لیتے ہیں اور {”الْبَغْيَ“} کے معنی لوگوں پر ظلم اور زیادتی کے ہیں۔ الغرض یہاں محرمات کی پانچ قسمیں بیان فرمائی ہیں اور وہ بھی {”اِنَّمَا“} کلمۂ حصر کے ساتھ۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ ان کے علاوہ اور کوئی چیز حرام نہیں ہے، حالانکہ بہت سی دوسری اشیاء کی حرمت بھی قرآن و حدیث میں مذکور ہے۔ رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دراصل جنایات (جرائم، قصور، زیادتیاں) پانچ ہی قسم کی ہیں، پہلی نسب پر جنایت ہے، اس کا سبب زنا (اور اس سے ملتی جلتی چیزیں) ہے۔ {” الْفَوَاحِشَ “} سے یہی مراد ہے۔ دوسری عقل پر جنایت جس کے دوسرے معنی شراب نوشی کے ہیں اور{” الْاِثْمَ “} میں اس کی طرف اشارہ ہے۔ تیسری عزت پر جنایت، چوتھی جان و مال پر جنایت اور {” الْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ “} میں ان دونوں کی حرمت کی طرف اشارہ ہے۔ پانچویں دین پر جنایت اور یہ دو قسم کی ہے: (1) توحید میں طعن کرنا جس کی طرف «وَ اَنْ تُشْرِكُوْا بِاللّٰهِ» ‏‏‏‏ سے اشارہ فرمایا ہے۔ (2) اور بغیر علم کے اﷲ کے ذمے بات لگانا اور فتویٰ دینا جس کی طرف «اَنْ تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ» سے اشارہ فرمایا ہے۔ غرض کہ تمام جرائم اور جنایات میں یہ پانچ چیزیں اصول کی حیثیت رکھتی ہیں اور باقی ان کی شاخیں اور ان کے تحت آنے والی چیزیں ہیں، اس بنا پر{ ” اِنَّمَا “} کے ساتھ حصر صحیح ہے اور اس پر کوئی اعتراض لازم نہیں آتا۔ (کبیر) یاد رہے کہ اﷲ کے ذمے بات لگانے میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے بات لگانا بھی شامل ہے کیونکہ وہ اﷲ ہی کی بات ہے، اسی لیے جو جان بوجھ کر ان پر جھوٹ لگائے اس کا ٹھکانا جہنم ہے۔ رازی رحمہ اللہ کے جواب کے لاجواب ہونے میں شک نہیں، مگر ایک سادہ جواب یہ ہے کہ {” الْاِثْمَ “} میں ہر گناہ آ جاتا ہے، اس لیے {” اِنَّمَا “} کے ساتھ حصر پر کوئی اعتراض لازم نہیں آتا۔
← پچھلی آیت (32) پوری سورۃ اگلی آیت (34) →