بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الأعراف — Surah Araf
آیت نمبر 34
کل آیات: 206
قرآن کریم الأعراف آیت 34
آیت نمبر: 34 — سورۃ الأعراف islamicurdubooks.com ↗
وَ لِکُلِّ اُمَّۃٍ اَجَلٌ ۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُہُمۡ لَا یَسۡتَاۡخِرُوۡنَ سَاعَۃً وَّ لَا یَسۡتَقۡدِمُوۡنَ ﴿۳۴﴾
ہر قوم کے لیے مہلت کی ایک مدت مقرر ہے، پھر جب کسی قوم کی مدت آن پوری ہوتی ہے تو ایک گھڑی بھر کی تاخیر و تقدیم بھی نہیں ہوتی
اور ہر گروه کے لئے ایک میعاد معین ہے سو جس وقت ان کی میعاد معین آجائے گی اس وقت ایک ساعت نہ پیچھے ہٹ سکیں گے اور نہ آگے بڑھ سکیں گے
اور ہر گروہ کا ایک وعدہ ہے تو جب ان کا وعدہ آئے گا ایک گھڑی نہ پیچھے ہو نہ آگے،
اور ہر امت (قوم) کے لئے ایک وقت مقرر ہوتا ہے۔ پس جب وہ مقررہ وقت آجاتا ہے تو نہ وہ ایک ساعت کے لیے پیچھے ہٹ سکتے ہیں اور نہ ایک ساعت آگے بڑھ سکتے ہیں۔
اور ہر امت کے لیے ایک وقت ہے، پھر جب ان کا وقت آجاتا ہے تو وہ ایک گھڑی نہ پیچھے ہوتے ہیں اور نہ آگے ہوتے ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

موت کی ساعت طے شدہ اور اٹل ہے ٭٭

ہر زمانے اور ہر زمانے والوں کے لیے اللہ کی طرف سے انتہائی مدت مقرر ہے جو کسی طرح ٹل نہیں سکتی۔ ناممکن ہے کہ اس سے ایک منٹ کی تاخیر ہو یا ایک لمحے کی جلدی ہو۔ انسانوں کو ڈراتا ہے کہ جب وہ رسولوں سے ڈرانا اور رغبت دلانا سنیں تو بدکاریوں کو ترک کر دیں اور اللہ کی اطاعت کی طرف جھک جائیں۔ جب وہ یہ کریں گے تو وہ ہر کھٹکے، ہر ڈر سے، ہر خوف اور ناامیدی سے محفوظ ہو جائیں گے اور اگر اس کے خلاف کیا۔ نہ دل سے مانا، نہ عمل کیا تو وہ دوزخ میں جائیں گے اور وہیں پڑے جھلستے رہیں گے۔

📖 احسن البیان

34۔ 1 میعاد معین سے مراد وہ مہلت عمل ہے جو اللہ و تبارک و تعالیٰ ہر گروہ کو آزمانے کے لئے عطا فرماتا ہے کہ وہ اس مہلت سے فائدہ اٹھا کر اللہ کو راضی کرنے کی کوشش کرتا ہے یا اس کی بغاوت و سرکشی میں مزید اضافہ ہوتا ہے یہ مہلت بعض دفعہ ان کی پوری زندگیوں تک محدود ہوتی ہے۔ یعنی دینوی زندگی میں وہ گرفت نہیں فرماتا بلکہ صرف آخرت میں ہی سزا دے گا ان کی اجل مسمی قیامت کا دن ہی ہے اور جن کو دنیا میں وہ عذاب سے دوچار کردیتا ہے، ان کی اجل مسمٰی وہ ہے۔ جب ان کا مواخذہ فرماتا ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 34تا36){ وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ ……:} پہلی آیت میں بیان فرمایا کہ ہر ایک کے لیے ایک وقت مقرر ہے جو آگے پیچھے نہیں ہو سکتا، دوسری آیت میں بتایا کہ جو لوگ فرماں بردار ہوں گے مرنے کے بعد ان پر کسی قسم کا خوف اور حزن نہیں ہو گا، مگر جو سرکش ہوں گے وہ سخت عذاب میں گرفتار ہوں گے۔ اسی قسم کا خطاب سورۂ بقرہ میں آدم علیہ السلام کے قصے کے آخر میں بھی مذکور ہے۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (39،38)۔
← پچھلی آیت (33) پوری سورۃ اگلی آیت (35) →