بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الأعراف — Surah Araf
آیت نمبر 26
کل آیات: 206
قرآن کریم الأعراف آیت 26
آیت نمبر: 26 — سورۃ الأعراف islamicurdubooks.com ↗
یٰبَنِیۡۤ اٰدَمَ قَدۡ اَنۡزَلۡنَا عَلَیۡکُمۡ لِبَاسًا یُّوَارِیۡ سَوۡاٰتِکُمۡ وَ رِیۡشًا ؕ وَ لِبَاسُ التَّقۡوٰی ۙ ذٰلِکَ خَیۡرٌ ؕ ذٰلِکَ مِنۡ اٰیٰتِ اللّٰہِ لَعَلَّہُمۡ یَذَّکَّرُوۡنَ ﴿۲۶﴾
اے اولاد آدم، ہم نے تم پر لباس نازل کیا ہے کہ تمہارے جسم کے قابل شرم حصوں کو ڈھانکے اور تمہارے لیے جسم کی حفاظت اور زینت کا ذریعہ بھی ہو، اور بہترین لباس تقویٰ کا لباس ہے یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے، شاید کہ لوگ اس سے سبق لیں
اے آدم (علیہ السلام) کی اوﻻد ہم نے تمہارے لئے لباس پیدا کیا جو تمہاری شرم گاہوں کو بھی چھپاتا ہے اور موجب زینت بھی ہے اور تقوے کا لباس، یہ اس سے بڑھ کر ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہے تاکہ یہ لوگ یاد رکھیں
اے آدم کی اولاد! بیشک ہم نے تمہاری طرف ایک لباس وہ اُتارا کہ تمہاری شرم کی چیزیں چھپائے اور ایک وہ کہ تمہاری آرائش ہو اور پرہیزگاری کا لباس وہ سب سے بھلا یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے کہ کہیں وہ نصیحت مانیں،
اے اولادِ آدم(ع)! ہم نے تمہارے لئے لباس نازل کیا ہے جو تمہارے جسم کے قابلِ ستر حصوں کو چھپاتا ہے اور (باعث) زینت بھی ہے۔ اور تقویٰ و پرہیزگاری کا لباس یہ سب سے بہتر ہے یہ (لباس بھی) اللہ کی نشانیوں میں سے ہے تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔
اے آدم کی اولاد! بے شک ہم نے تم پر لباس اتارا ہے، جو تمھاری شرم گاہوں کو چھپاتا ہے اور زینت بھی اور تقویٰ کالباس! وہ سب سے بہتر ہے۔ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے، تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

لباس اور داڑھی جمال و جلال ٭٭

یہاں اللہ تعالیٰ اپنا احسان یاد دلاتا ہے کہ اس نے لباس اتارا اور ریش بھی۔ لباس تو وہ ہے جس سے انسان اپنا ستر چھپائے اور ریش وہ ہے جو بطور زینت، رونق اور جمال کے پہنا جائے۔ اول تو ضروریات زندگی سے ہے اور ثانی زیادتی ہے۔ ریش کے معنی مال کے بھی ہیں اور ظاہری پوشاک کے بھی ہیں اور جمال، خوش لباسی کے بھی ہیں۔ سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے نیا کرتہ پہنتے ہوئے جبکہ گلے تک وہ پہن لیا فرمایا «اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ کَسَانِیْ مَا اُوَارِیْ بِہٖ عَوْرَتِیْ وَ اَتَجَمَّلُ بِہٖ فِیْ حَیَاتِیْ» پھر فرمانے لگے: میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا ہے، فرماتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: { جو شخص نیا کپڑا پہنے اور اس کے گلے تک پہنچتے ہی یہ دعا پڑھے، پھر پرانا کپڑا راہ للہ دے دے تو وہ اللہ کے ذمہ میں، اللہ کی پناہ میں اور اللہ کی حفاظت میں آ جاتا ہے۔ زندگی میں بھی اور بعد از مرگ بھی۔ } ۱؎ [سنن ابن ماجه:3557، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ (‏‏‏‏ترمذی، ابن ماجہ وغیرہ) مسند احمد میں ہے: { سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک نوجوان سے ایک کرتہ تین درہم کا خریدا اور اسے پہنا -جب پہنچوں اور ٹخنوں تک پہنچا تو آپ نے یہ دعا پڑھی «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَزَقَنِي مِنَ الرِّيَاشِ مَا أَتَجَمَّلُ بِهِ فِي النَّاسِ وَأُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي» یہ دعا سن کر آپ سے کسی نے پوچھا کہ کیا آپ نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ اسے کپڑا پہننے کے وقت پڑھتے تھے یا آپ از خود اسے پڑھ رہے ہیں؟ فرمایا: میں نے اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ } ۱؎ [مسند احمد:158/1:ضعیف] ‏‏‏‏

«لِبَاسُ التَّقْوَىٰ» کی دوسری قرأت «لِبَاسَ التَّقْوَىٰ» سین کے زبر سے بھی ہے -رفع سے پڑھنے والے اسے مبتدا کہتے ہیں اور اس کے بعد کا جملہ اس کی خبر ہے -عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اس سے مراد قیامت کے دن پرہیزگاروں کو جو لباس عطا ہو گا، وہ ہے۔“ ابن جریج کا قول ہے: ”لباس تقویٰ ایمان ہے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”عمل صالح ہے اور اسی سے ہنس مکھ ہوتا ہے۔“ عروہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”مراد اس سے مشیت ربانی ہے۔“ عبدالرحمٰن کہتے رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”اللہ کے ڈر سے اپنی ستر پوشی کرنا لباس تقویٰ ہے۔“ یہ کل اقوال آپس میں ایک دوسرے کے خلاف نہیں بلکہ مراد یہ سب کچھ ہے اور یہ سب چیزیں ملی جلی اور آپس میں ایک دوسرے کے قریب قریب ہیں۔ ایک ضعیف سند والی روایت میں حسن سے مرقوم ہے کہ { میں نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو منبر نبوی پر کھلی گھنڈیوں کا کرتا پہنے ہوئے کھڑا دیکھا۔ اس وقت آپ کتوں کے مار ڈالنے اور کبوتر بازی کی ممانعت کا حکم دے رہے تھے۔ پھر آپ نے فرمایا: لوگو اللہ سے ڈرو! خصوصاً اپنی پوشیدگیوں میں اور چپکے چپکے کانا پھوسی کرنے میں۔ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ قسم کھا کر بیان فرماتے تھے کہ جو شخص جس کام کو پوشیدہ سے پوشیدہ کرے گا، اللہ تعالیٰ اسی کی چادر اس پر اعلانیہ ڈال دے گا۔ اگر نیک ہے تو نیک اور اگر بد ہے تو بد۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:14451:ضعیف] ‏‏‏‏ اور فرمایا اس سے مراد خوش خلقی ہے۔ } ہاں صحیح حدیث میں صرف اتنا مروی ہے کہ { سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے جمعہ کے دن منبر پر کتوں کے قتل کرنے اور کبوتروں کے ذبح کرنے کا حکم دیا۔ } ۱؎ [مسند احمد:72/1:ضعیف] ‏‏‏‏

📖 احسن البیان

26۔ 1 سَوْآت، ُ، ُ جسم کے وہ حصے جنہیں چھپانا ضروری ہے جیسے شرم گاہ اور وہ لباس جو حسن و رعنائی کے لئے پہنا جائے۔ گویا لباس کی پہلی قسم ضروریات سے اور دوسری قسم تتمہ اضافہ سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں قسموں کے لباس کے لئے سامان اور مواد پیدا فرمایا۔ 26۔ 2 اس سے مراد بعض کے نزدیک وہ لباس ہے جو متقین قیامت والے دن پہنیں گے۔ بعض کے نزدیک ایمان، بعض کے نزدیک عمل صالح مشیت الٰہی وغیرہ ہیں۔ مفہوم سب کا تقریبًا ایک ہے کہ ایسالباس، جسے پہن کر انسان تکبر کرنے کی بجائے، اللہ سے ڈرے اور ایمان و عمل صالح کے تقاضوں کا اہتمام کرے۔ 26۔ 3 اس سے یہ مفہوم بھی نکلتا ہے کہ زیب وزینت اور آرائش کے لئے بھی اگرچہ لباس پہننا جائز ہے، تاہم لباس میں ایسی سادگی زیادہ پسندیدہ ہے جو انسان کے زہد اور تقوے ٰ کی مظہر ہو۔ علاوہ ازیں نیا لباس پہن کر یہ دعا بھی پڑھی جائے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دعا پڑھا کرتے تھے: (واَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّزِیْ کَسَانِی مَائْو وَارِیْ بِہٖ عَوْرَبِّی وَاَتَجَمَّلْ بِہِ فِیْ حَیَاتِیْ) تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے مجھے ایسا لباس پہنایا جس میں اپنا ستر چھپالوں اور اپنی زندگی میں اس سے زینت حاصل کروں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 26) ➊ {يٰبَنِيْۤ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا:} یعنی آسمان سے پانی اتارا، جس سے روئی اگتی ہے، ریشم اور پشم کا سامان مہیا ہوتا ہے، پھر تمھیں زراعت، شجرکاری، حیوان پروری، کپڑا بننے اور دوسری چیزیں بنانے کا طریقہ سکھا دیا۔ راغب نے فرمایا کہ یہاں {”اَنْزَلَ“} بمعنی {” خَلَقَ “} ہے، جیسے: «وَ اَنْزَلْنَا الْحَدِيْدَ» ‏‏‏‏ [ الحدید: ۲۵ ] ”اور ہم نے لوہا اتارا۔“ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”یعنی دشمن نے جنت کے کپڑے تم سے اتروائے، پھر ہم نے تم کو دنیا میں لباس کی تدبیر سکھا دی۔“ (موضح) ➋ {يُوَارِيْ سَوْاٰتِكُمْ وَ رِيْشًا:} یعنی لباس کا مقصد ستر پوشی اور زینت ہے۔ اس کے علاوہ وہ سردی، گرمی اور چوٹ وغیرہ سے بھی بچانے کے باعث بنتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «وَ جَعَلَ لَكُمْ سَرَابِيْلَ تَقِيْكُمُ الْحَرَّ وَ سَرَابِيْلَ تَقِيْكُمْ بَاْسَكُمْ» ‏‏‏‏ [ النحل: ۸۱ ] ”اور اس نے تمھارے لیے کچھ قمیصیں بنائیں جو تمھیں گرمی سے بچاتی ہیں اور کچھ قمیصیں جو تمھیں تمھاری لڑائی میں بچاتی ہیں۔“ ➌ {وَ لِبَاسُ التَّقْوٰى ذٰلِكَ خَيْرٌ:} یعنی اس ظاہری لباس کے علاوہ جس سے تم صرف بدن ڈھانکتے ہو یا زینت کا کام لیتے ہو ایک اور معنوی لباس بھی ہے جو ہر لباس سے بہتر ہے، لہٰذا تمھیں اس کا اہتمام کرنا چاہیے اور وہ ہے پرہیز گاری، یعنی اﷲ کا خوف، ایمان اور عمل صالح کا لباس۔ بعض نے کہا ہے کہ {” لِبَاسُ التَّقْوٰى “} سے مراد اون کھدر وغیرہ کی قسم کا کھردرا اور موٹا لباس ہے، جسے صوفی لوگ پہنتے ہیں، مگر یہ صحیح نہیں، خود رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اور سلف صالحین، جن کی پرہیز گاری بے مثال تھی، عمدہ لباس بھی پہنا کرتے تھے اور وسعت کے باوجود سادہ لباس بھی پہنتے تھے۔ بعض نے زرہ وغیرہ فوجی لباس مراد لیا ہے جو دشمن سے بچاؤ کا ذریعہ بنتا ہے۔ (قرطبی۔ روح المعانی) ہاں یہ ضرور ہے کہ جس لباس کی ممانعت آئی ہے وہ نہ پہنا جائے۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ اب وہی لباس پہنو جس میں پرہیز گاری ہو، یعنی مرد ریشمی (اور زعفرانی رنگ کا) لباس نہ پہنے، دامن لمبا نہ رکھے جو ٹخنوں کو ڈھانک لے اور جو منع ہوا ہے سو نہ کرے اور عورت بہت باریک (یا تنگ) لباس نہ پہنے کہ لوگوں کو بدن نظر آوے اور اپنی زینت نہ دکھائے۔ ➍ {لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُوْنَ:} تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں اور اﷲ تعالیٰ کی اس بڑی نعمت کی قدر کریں، یا نصیحت حاصل کریں اور برے کاموں سے بچیں۔
← پچھلی آیت (25) پوری سورۃ اگلی آیت (27) →