بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الأعراف — Surah Araf
آیت نمبر 10
کل آیات: 206
قرآن کریم الأعراف آیت 10
آیت نمبر: 10 — سورۃ الأعراف islamicurdubooks.com ↗
وَ لَقَدۡ مَکَّنّٰکُمۡ فِی الۡاَرۡضِ وَ جَعَلۡنَا لَکُمۡ فِیۡہَا مَعَایِشَ ؕ قَلِیۡلًا مَّا تَشۡکُرُوۡنَ ﴿٪۱۰﴾
ہم نے تمھیں زمین میں اختیارات کے ساتھ بسایا اور تمہارے لیے یہاں سامان زیست فراہم کیا، مگر تم لوگ کم ہی شکر گزار ہوتے ہو
اور بے شک ہم نے تم کو زمین پر رہنے کی جگہ دی اور ہم نے تمہارے لئے اس میں سامان رزق پیدا کیا، تم لوگ بہت ہی کم شکر کرتے ہو
اور بیشک ہم نے تمہیں زمین میں جماؤ (ٹھکانا) دیا اور تمہارے لیے اس میں زندگی کے اسباب بنائے بہت ہی کم شکر کرتے ہو
اور ہم نے تمہیں زمین میں تمکین دی (اقتدار و اختیار دیا) اور اس میں تمہارے لئے زندگی گزارنے کے سامان فراہم کئے۔ مگر تم بہت ہی کم شکر کرتے ہو۔
اور بلاشبہ یقینا ہم نے تمھیں زمین میں ٹھکانا دیا اور ہم نے تمھارے لیے اس میں زندگی کے سامان بنائے، بہت کم تم شکر کرتے ہو۔

📖 تفسیر ابن کثیر

اللہ تعالیٰ کے احسانات ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنا احسان بیان فرما رہا ہے کہ اس نے زمین اپنے بندوں کے رہنے سہنے کے لئے بنائی۔ اس میں مضبوط پہاڑ گاڑ دیئے کہ ہلے جلے نہیں، اس میں چشمے جاری کر دیئے، اس میں منزلیں اور گھر بنانے کی طاقت انسان کو عطا فرمائی اور بہت سی نفع کی چیزیں اس لیے پیدا فرمائیں۔ ابر مقرر کر کے اس میں سے پانی برسا کر ان کے لیے کھیت اور باغات پیدا کئے۔ تلاش معاش کے وسائل مہیا فرمائے۔ تجارت اور کمائی کے طریقے سکھا دیئے۔ باوجود اس کے اکثر لوگ پوری شکر گزاری نہیں کرتے۔ ایک آیت میں فرمان ہے «وَإِن تَعُدُّوا نِعْمَتَ اللَّـهِ لَا تُحْصُوهَا إِنَّ الْإِنسَانَ لَظَلُومٌ كَفَّارٌ» ۱؎ [14-إبراهيم:34] ‏‏‏‏ یعنی ’ اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گننے بیٹھو تو یہ بھی تمہارے بس کی بات نہیں لیکن انسان بڑا ہی ناانصاف اور ناشکرا ہے۔ ‘ «مَعَايِشَ» تو جمہور کی قرأت ہے لیکن عبدالرحمٰن بن ہرمز اعرج «مَعَاۤیِـْش» پڑھتے ہیں اور ٹھیک وہی ہے جس پر اکثریت ہے۔ اس لیے کہ «مَعَايِشَ» جمع ہے «مَعِیْشَتہٌ» کی۔ اس کا باب «عَاشَ یَعِیْشُ عَیْشًا» ہے۔ «مَعِیْشَتہٌ» کی اصل «مَعِیْشَتہٌ» ہے۔ کسرہ «یا» پر تقلیل تھا، نقل کر کے ماقبل کو دیا «مَعِیْشَتہٌ» ہو گیا لیکن جمع کے وقت پھر کسرہ «یا» پر آ گیا کیونکہ اب ثقل نہ رہا۔ پس «مَفَاعِلٌ» کے وزن پر «مَعَايِشَ» ہو گیا کیونکہ اس کلمہ میں «یا» اصلی ہے۔ بخلاف «مدائن» ، «صحائف» اور «بصائر» کے جو «مدینہ» ، «صحیفہ» اور «بصیرہ» کی جمع ہے باب «مدن» ، «صحف» اور «ابصر» سے۔ ان میں چونکہ «یا» زائد ہے اس لیے ہمزہ دی جاتی ہے اور «مفاعل» کے وزن پر جمع آتی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 10) {وَ لَقَدْ مَكَّنّٰكُمْ فِي الْاَرْضِ ……:} اوپر کی آیات میں انذار و تبشیر کے ساتھ لوگوں کو انبیاء کی دعوت قبول کرنے کی ترغیب دی اور ترغیب میں نعمتوں کی کثرت کی طرف اشارہ تھا، اب یہاں سے نعمتوں کے بیان کا سلسلہ شروع ہوتا ہے، ساتھ ہی شیطان کے حسد اور انسان کو اﷲ کی نعمتوں سے محروم کرنے کی جد و جہد کا ذکر ہے، تاکہ ہم اس سے بچ سکیں۔
← پچھلی آیت (9) پوری سورۃ اگلی آیت (11) →