بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الأعراف — Surah Araf
آیت نمبر 15
کل آیات: 206
قرآن کریم الأعراف آیت 15
آیت نمبر: 15 — سورۃ الأعراف islamicurdubooks.com ↗
قَالَ اِنَّکَ مِنَ الۡمُنۡظَرِیۡنَ ﴿۱۵﴾
فرمایا، "تجھے مہلت ہے"
اللہ تعالیٰ نے فرمایا تجھ کو مہلت دی گئی
فرمایا تجھے مہلت ہے
فرمایا: اچھا تو ان میں سے ہے جنہیں مہلت دی گئی ہے۔
فرمایا بے شک تو مہلت دیے جانے والوں سے ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

نافرمانی کی سزا ٭٭

ابلیس کو اسی وقت حکم ملا کہ ”میری نافرمانی اور میری اطاعت سے رکنے کے باعث اب تو یہاں جنت میں رہ نہیں سکتا، یہاں سے اتر جا کیونکہ یہ جگہ تکبر کرنے کی نہیں۔“ بعض نے کہا ہے: «فیھا» کی ضمیر کا مرجع منزلت ہے یعنی جن ملکوت اعلی میں تو ہے، اس مرتبے میں کوئی سرکش رہ نہیں سکتا۔ جا یہاں سے چلا جا۔ تو اپنی سرکشی کے بدلے ذلیل و خوار ہستیوں میں شامل کر دیا گیا۔ تیری ضد اور ہٹ دھرمی کی یہی سزا ہے۔ اب لعین گھبرایا اور اللہ سے مہلت چاہنے لگا کہ مجھے قیامت تک کی ڈھیل دی جائے۔ چونکہ جناب باری جل جلالہ کی اس میں مصلحتیں اور حکمتیں تھیں، بھلے بروں کو دنیا میں ظاہر کرنا تھا اور اپنی حجت پوری کرنا تھی۔ اس ملعون کی اس درخواست کو منظور فرما لیا۔ اس حاکم پر کسی کی حکومت نہیں، اس کے سامنے بولنے کی کسی کو مجال نہیں، کوئی نہیں جو اس کے ارادے کو ٹال سکے، کوئی نہیں جو اس کے حکم کو بدل سکے۔ وہ سریع الحساب ہے۔

📖 احسن البیان

15۔ 1 اللہ تعالیٰ نے اس کی خواہش کے مطابق اسے مہلت عطا فرما دی جو اس کی حکمت، ارادے اور مشیت کے مطابق تھی جس کا پورا علم اسی کو ہے۔ تاہم ایک حکمت یہ نظر آتی ہے کہ اس طرح اپنے بندوں کی آزمائش کرسکے گا کہ کون رحمان کا بندہ بنتا ہے اور کون شیطان کا پجاری۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 15){قَالَ اِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِيْنَ:} شیطان نے مہلت تو قیامت تک کی مانگی مگر اﷲ تعالیٰ نے اسے اپنے علم میں طے شدہ وقت تک مہلت دی۔ دیکھیے سورۂ حجر (۳۸) اور سورۂ ص (۸۱) قیامت تک مہلت کی کہیں تصریح نہیں ہے۔ شیطان کو مہلت دینے سے مقصود بندوں کا امتحان ہے کہ وہ رحمان کی راہ پر چلتے ہیں یا شیطان کی۔
← پچھلی آیت (14) پوری سورۃ اگلی آیت (16) →